Baaghi TV

Category: متفرق

  • سوڈان میں انسانی بحران: عوامل اور علاقائی تناظر کا ایک پیچیدہ جال

    سوڈان میں انسانی بحران: عوامل اور علاقائی تناظر کا ایک پیچیدہ جال

    سوڈان میں انسانی بحران عبوری حکومت کے فوج کے ہاتھوں قبضے سے بڑھ گیا ہے. اس کے نتیجے میں ملک بھر میں مظاہرے اور مسلّح جھڑپیں ہورہی ہیں۔ اس سنگین صورتحال کی وجہ سے 1.1 ملین سے زیادہ پناہ گزینوں کی نقل مکانی ہوچکی ہے، بالخصوص اریٹیریا اور جنوبی سوڈان سے، جو اس وقت مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں۔ ان بے گھر افراد کی سب سے بڑی تعداد وائٹ نیل ریاست اور خرطوم میں مقیم ہیں۔

    مسلّح جھڑپیں اور اس کے نتائج:
    سوڈان کی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی کی وجہ سے خاصا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور معاشی سرگرمیاں اس کی وجہ سے مکمل طور پر رک گئی ہیں. جس کے نتیجے میں اشیاء ضرورت، ادویات، آکسیجن اور جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، بین الاقوامی امدادی اداروں نے بھی اپنی امداد معطل کر دی ہے. اس سے پہلے سے ہی سنگین حالات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    علاقائی تناظر اوراس کے اثرات:
    امریکہ جنگ زدہ علاقوں میں کشیدگی سے بھاگنے والے شہریوں کے لیے محفوظ راہداریوں کے قیام پر توجہ دے رہا ہے۔ پڑوسی ممالک پر منفی اثرات کو روکنے کے لیے نقصان پر قابو پانا ضروری ہے۔ سوڈان کے اندر بھی 2003 سے جاری دارفور میں جاری تنازعہ کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ سوڈان کی تباہی کے مزید پھیلنے اور پڑوسی ممالک پر اثر انداز ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا. خاص طور پر جب سوڈان کی جغرافیائی اور سیاسی مقام پر غور کرتے ہیں۔
    SudaneseCrisis

    جغرافیائی اور سیاسی اہمیت:
    خطے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سوڈان کے مقام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تیل کی پائپ لائنیں اور دریائے نیل جو جنوبی سوڈان میں یونٹی آئل فیلڈ کو پورٹ سوڈان سے ملاتا ہے، پڑوسی ممالک کی قسمت سوڈان کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ سوڈان میں جاری لڑائی ممکنہ طور پر چاڈ کو بھی غیر مستحکم کر سکتی ہے. حکومت نواز سوڈانی عرب ملیشیا، جنجاوید کے نام سے مشہور ہیں. ان کے اور چاڈ کے درمیان جھڑپیں ایک معمول کا مسئلہ ہے۔ ایتھوپیا کو دو طرفہ تشویش کا سامنا ہے، ایک سرحدی تنازعہ کو حل کرنا اوردوسرا گرینڈ ایتھوپیا رینیسانس ڈیم میں اپنا دعویٰ منوانا، جو کہ تکمیل کے بلکل قریب ہے اور ملک کی پانی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    وسطی افریقی جمہوریہ اور لیبیا کے تناظر اوراس کے اثرات:
    وسطی افریقی جمہوریہ ریاست سوڈان کے جنوب مغرب میں واقع ہے.یہ فرقہ وارانہ فسادات اور بدانتظامی کی ایک مثال ہے۔ اسے پہلے ہی خوراک کے ذرائع کی قلّت کا سامنا ہے، اور سوڈان کے حالیہ بحران نے خطے میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں سوڈانی پناہ گزین لیبیا کا رخ کر سکتے ہیں. اس سے موجودہ کمزور معاشی وسائل پر بھی اضافی دباؤ پڑے گا۔
    SudaneseCrisi

    بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ:
    سوڈان میں موجود انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے کلیدی نمائندہ گروہ اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے متحد ہو کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ سوڈان کے تمام متحارب دھڑوں کے ساتھ ایک جامع بات چیت کا آغاز ہونا چاہیے. تاکہ ایک ایسا حل تلاش کیا جا سکے جو دوستانہ، جامع ہو اور اس میں شامل تمام افراد کی فلاح و بہبود کو مددنظر رکھا جائے،

    نتیجہ: سوڈان میں انسانی بحران ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو متعدد عوامل کا ملغوبہ ہے، بشمول اندرونی تنازعات، جغرافیائی اور سیاسی تحفظات، اور علاقائی تناظر اور اثرات ۔ بین الاقوامی برادری کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ یکجا ہو کر تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کریں اور ایک پائیدار حل کے لیے کام کریں. ایسا حل جو سوڈان کی عوام کے مصائب کو کم کرے اور خطے میں مزید عدم استحکام کو روکے۔

  • اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

    اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

    اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر :تحریر : الیاس حامد
    کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے وقت رخصت پر انسان تو انسان شجر و حجر بھی اشکبار ہوتے ہوں گے۔ انسان کا کسی کے ساتھ جتنا گہرا اور مبنی بر اخلاص تعلق ہو اس کے ہجر و فراق اور وصل و الصاق پر غم اور خوشی کا اثر بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔ شاذ ونادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ خونی رشتہ بھی نہیں ہے اور داغ مفارقت پر اس قدر رنجیدہ اور غمناک ہوا جائے۔
    لاریب، یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ استاد محترم حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللہ کی رحلت دور حاضر کے عظیم واقعات میں سے ایک ہے ۔ ان کی وفات کی خبر ان کے چاہنے والوں اور الفت و عقیدت کا دم بھرنے والوں پر قیامت صغریٰ بن کر گزری، مجھ پربھی ان کی وفات کی خبر نے یہی اثر چھوڑا۔ جونہی نماز عصر کے بعد ان کی رحلت کی خبر ملی تو یوں لگا جیسے سب کچھ ہی اجڑگیا ہو۔ اس درد و الم سے لبریز خبر نے گویا چند لمحوں کے لیے سکتہ طاری کر دیا یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایک مشفق و مربی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیاہے ۔اب کیا ہوگا۔ ہماری تو دنیا ہی اجڑ گئی، اس سانحے پر کیسے سروائیو کریں گے۔ اب ہمیں ہماری لغزشوں اور سستیوں پر کون متنبہ کرے گا اور اصلاح کا بیڑا اٹھائے گا۔ بس انہی خیالات میں گم کئی لمحات گزر گئے اورپاس ہونے والے حالات و واقعات کی سدھ بدھ ہی نہ رہی۔

    حافظ صاحب کا تعلق اور رشتہ بلا شبہ ہزاروں افراد سے تھا جن میں ان کے طلبا،اساتذہ کرام، جماعتی احباب، معاصرین بزرگ،رشتہ دارو دیگر افراد شامل ہیں اور ہر کسی کو ان سے جتنی بھی نسبت تھی وہ اس پر نازاں ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان سے کم سےکم قربت بھی بہت بڑے اعزاز والی بات ہے۔ اسی طرح ان کی رحلت کے بعد ہر کوئی چاہے گا کہ اس کے ساتھ جو ان کا حسن سلوک اور ہمدردی تھی اس کا اظہار کیا جائے ۔ ان کا ذکر خیر کرنا اب ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے۔
    یوں تو استاد محترم حضرت حافظ صاحب سب کے ساتھ ہی محبت واپنائیت اور خیر خواہی کا معاملہ کرتے تھے مگر جب ان کو ان کے پرانے شاگرد خصوصا جنہوں نے جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ کے ابتدائی بیجز میں فراغت حاصل کی ملتے تو حافظ صاحب کی خوشی دیدنی ہوتی ۔ اپنی مصروفیت ترک کرکے وقت نکالتے ، محبت اور اپنائیت کے ساتھ پاس بٹھاتےاور اپنے ہاتھ سے ضیافت اور مہمان نوازی کرتے اس پر اگر شاگرد از راہ ادب و احترام حائل ہوتے کہ استاد محترم آپ تکلیف نہ کریں ہم خود اشیائے اکل و شرب لے لیتے ہیں تو ایسا جواب دیتے کہ جس کے بعد مزید اسرار کی سکت نہ رہتی ۔

    حافظ صاحب کے ساتھ میری آخری ملاقات پیارے بھائی اور کلاس فیلو حافظ محمد ابراھیم صاحب کے ہمراہ ہوئی۔ حافظ صاحب تب بخاری کی شرح لکھنے میں اپنے ریسرچ روم میں ہوا کرتے تھے اور ملاقات وغیر بھی وہاں ہی ہوتی تھی، جب باہر والے گیٹ سے اندر پیغام پہچایا گیا کہ آپ کے طالب علم اور روحانی بیٹے آپ سے شرف ملاقات چاہتے ہیں تو نہ صرف اجازت دی بلکہ ہمیں لینے کے لیے باہر والے گیٹ پرخود آگئے دور ہی سے بلند آواز سے پکارنے لگے:”السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔۔۔ واہ واہ مولانا صاحبان اھلا و سھلا اور ساتھ ہی گلے لگا لیا پر تپاک انداز سے معانقہ کیا۔ ہم نے عرض کی استاد جی آپ نے تکلیف کیوں کی ہم خود حاضر ہو رہے تھے تو کہنے لگے بیٹا ایسی بات مجھے اچھی نہیں لگتی جب میں آپ جیسے اپنے شاگردوں کو دیکھتا ہوں تو میرا خون بڑھ جاتا ہے دین کے طلاب اور علما کے لیے یہ تکریم تو باعث اجر ہے۔

    کمرے میں بیٹھنے کے بعد کمرے میں موجود فریج سے ضیافت کے لیے اشیا دیکھنے لگے تو ہم نے کہا استاد جی آپ تشریف رکھیں ہم خود لے لیتے ہیں۔ آپ بتادیں تو فرمانے لگے ” میری چیزیں کہاں پڑی ہیں آپ زیادہ جانتے ہیں یا میں خود ؟” اس جواب پر ہمیں مبہوت و مسکوت ہونا پڑا۔ پھر فریج میں سے فروٹ نکال کر اپنے ہاتھوں سے پیش کرنے لگے یہ سب مناظر ہمارے لیے ایسے تھے کہ جیسے ہم بے ادبی اور عدم تکریم کے مرتکب ہو رہے ہوں لیکن استاد محترم کا سختی سے حکم تھا کہ مولوی صاحب تشریف رکھیں اٹھنا نہیں ہے۔ ان کی یہ ضیافت کی ادا ہمارے لیے اب حکم استاذ تھی جسے اب حکم عدولی کرنے کی گنجائش نہ تھی ۔اس کے بعد استاد محترم ہم دونوں سے فردا فردا گھر کے افراد کی خیریت پوچھتے رہے جیسے ایک باپ اپنے بچوں کو دیر بعد ملا ہو تو ان سے سب بچوں بارے دریافت کرے ہم حیران تھے کہ فراغت کو دو دھائیاں بیت چکی ہیں۔ استاد محترم ہمارے نجی رشتوں کو اب بھی جانتے ہیں اورخیریت دریافت کر رہے ہیں۔ پھر مصروفیت کا پوچھنے لگے کہ کیا کر رہے ہیں اور ان سب میں سے ان کا اہم سوال تھا کہ جمعہ پڑھا رہے ، درس و تدریس کا کام کر رہے ، دین کے لیے کیا کر رہے ؟ ۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔ یعنی ہمارے جانے کے بعد بھی ان کو ہمارے دین اور آخرت کی اتنی فکر تھی ۔۔ فجزاہ اللہ لذالک

    حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کی جہاں بہت سی خوبیاں تھی وہاں یہ بھی ایک خوبی تھی کہ وہ خود سے چھوٹے افراد اور اپنے شاگردوں کو بھی ‘آپ، تسیں’ صیغیہ جمع برائے ادب سے مخاطب کرتے تھے ، یا بھائی کہہ کر پکارتے تھے ۔
    حافظ صاحب مجھے فرمانے لگے الیاس بیٹاآپ کا وہ واقعہ میں اپنے درس اور تقاریر میں اکثر و بیشتر بیان کرتا ہوں جب آپ کالج چھوڑ کر گھر سے بھاگ کر مدرسے آئے تھے اور آپ کے والد صاحب جو کہ پولیس میں تھے واپس لینے مدرسے پہنچ گئے تھے ۔پھر آپ ساتھ نہیں گئے بلکہ چھپ گئے ۔ دینی تعلیم مکمل کر کے ہی گئے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے والد صاحب کو بھی اللہ نے سمجھ دے دی۔ وہ کیسے سمجھے اس کے درمیان ایک واقعہ ہے جو مجھے ابھی اچھی طرح مستحضر نہیں ہے اپنا قصہ دوبارہ سنائیں تاکہ میں بہتر انداز سے اس کو بطورتحریض اور موٹیویشن بیان کروں کہ سکول و کالج کے بچوں کے لیے ایک ترغیب ہو۔

    میں نے اختصار سے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے اپنا جامعہ میں آنے تعلیم حاصل کرنے کا واقعہ سنایا، اس میں ٹرننگ پوائنٹ یہ تھا کہ میری تعلیم کے دوران والدہ صاحب رحمہ اللہ کا روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیاتھا جس کے بعد اللہ نے انکی خدمت کرنے کا موقع دیا جس میں راتوں کو بھی جاگنا ہوتا تھا۔ اس پر اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا اور دین کی محبت دل میں ڈال دی۔
    مجھ سے میری بات سننے کے بعد حافظ صاحب فرمانے لگے میں تو اب سامعین کو کہتا ہوتا ہوں دیکھو اب وہ طالب علم اپنی تحریر و تقریر سے دین کا کام کرتا ہے لاکھوں لوگ اس کی تحریر پڑھتے ہیں، حافظ صاحب کا اشارہ جماعت کے میگزین اور جریدے کی طرف تھا کہ جس کی ادارت ایک عرصہ تک میرے ذمہ رہی۔ میرے جیسے ناچیز کے لیے اس سے بڑھ کر متاع حیات کیا ہوسکتی تھی کہ استاد محترم اپنی تقریر میں مجھے مثال کے طور پر بیان کریں، اس موقع پر دینی و ملکی مسائل بھی زیر بحث رہے جس پر استاد محترم نے ہماری ذہنی سازی کی اور دل میں موجود موہومات کو دور کرنے کا سامان پیدا کیا ، پھر ہم نے جب ان سے رخصت کی اجازت چاہی تو محترم حافظ صاحب علیہ الرحمہ ہمارے روکنے کے باوجود پھر سے ہمیں الوداع کرنے باہر والے گیٹ تک چل کر آئے اور جاتے ہوئے گلے لگا کر ڈھیروں دعائیں دے کر رخصت کیا۔
    آہ ۔۔۔ آج وہ استاذ ، وہ مربی ، وہ خیرخواہ ، وہ ہمدرد ، وہ روحانی باپ ہم میں نہیں ہے۔ ان میں علمی ، تدریسی ، تالیفی ، دعوتی، ابلاغی خوبیاں تو بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ وہ کس قدر علم کے سمندر اور حکمت و ادب کے پہاڑ تھے ، وہ اس دور کے ابن حجر تھے ایسی اور دیگر کئی خوبیاں جن کا شائد ہمیں ادراک ہی نہ ہوان سب کا حظ وافر اللہ نے انہیں ودیعت کیا تھا۔ لیکن ایک پہلو جسے میں نے محسوس کیا اور مشاہدے کی بنا پر بیان کیا ایسی خوبیاں سینکڑوں افراد نے حافظ صاحب کی ذات میں نوٹ کی ہوں گی۔ دعا ہے کہ اللہ ان کی بشری لغزشوں سے اعراض فرما کر ان کی اسلام کے لیے کاوشوں کو قبول فرما کر اعلیٰ جنتوں میں جگہ دے ہمیں اپنے استاد محترم کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ۔ ان کی دینی وراثت جو ہم تک پہنچی ہے اس کو آگے لے کر چلیں اللہ ان کے مشن پر چلنے کی توفیق دے۔

  • سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    گذشتہ دنوں مجھے سفرِ حجاز کا موقع ملا۔ اس سفر کے دوران بے شمار مشاہدات ہوئے۔ بہت سے زائرین سے ملاقات اور ان کے مسائل سے آگاہی ہوئی۔ زائرین کی پریشانیوں اور ان پریشانیوں کی وجہ بننے والے عناصر کے بارے میں جاننے کا اتفاق ہونے سمیت کافی تلخ حقائق بھی نظر سے گزرے۔

    میرے مشاہدے میں آیا کہ حرمین (مسجد الحرام اور مسجد نبوی) میں نمازیوں کی خدمت پر مامور عملہ صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے۔ شاید سعودی نجی ادارہ اس کام کیلئے کسی اور ملک کے لوگ رکھتا ہی نہیں۔ ان لوگوں کی ڈیوٹی حرمین کے عربی ملازمین سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ یہ معمولی تنخواہ کے عوض یہاں کام کر رہے ہیں۔ واٹرز کولرز کی بھرائی، حرمین کی بار بار فرشی اور واش رومز کی صفائی کرتے رہنے سمیت دیگر فرائض ہر گزرتے منٹ مسلسل ادا کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل ہیں۔ تمام ڈیوٹی کے دوران مسلسل کھڑے رہنا ان پر جیسے فرض کر دیا گیا ہے۔ سخت دھوپ میں بھی انہیں اپنے امور مسلسل نبھاتے رہنا ہے۔ اس دوران انہیں بیٹھنے کی اجازت ہے اور نہ ہی سستانے کی۔ یہ خادمین بظاہر خوش باش دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے یہ خالی ہیں۔ میں نے ان کے چہروں پر بے بسی کے واضح آثار دیکھے ہیں۔

    حرمین کے واٹر کولرز (زمزم) پر ذمہ داری ادا کرنے والے ایک ہندوستانی خادم سے میں نے کہا کہ تم فارغ ہی کھڑے ہو۔ پانی کا کولر بھی بھرا ہوا ہے اور پینے والوں کا رش بھی نہیں ہے۔ فالتو کھڑے رہنے کی بجائے تھوڑی دیر بیٹھ کیوں نہیں جاتے؟۔ جواب ملا کہ چاہے پانی پینے والا کوئی نہ ہو، واٹر کولر بھی بیشک بھرا ہو، ہمیں اپنی ڈیوٹی کے دوران بیٹھنے، آرام کی اجازت نہیں ہے…… صفائی کے فرائض سر انجام دینے والے ایک بنگلہ دیشی لڑکے نے بتایا کہ تنخواہ محدود ہے اور ڈیوٹی سخت، مگر جو ملتا ہے صبر و شکر کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

    دورانِ سفر میں نے بارہا ہوٹلوں میں زائرین کو رہائش، آمد و رفت اور ٹریولنگ ایجنسیوں سے متعلقہ دیگر امور پر خوار ہوتے دیکھا۔ انہیں اپنے الاٹ شدہ مقامی ایجنٹوں سے رابطہ میں شدید مشکل اور پریشانی کا سامنے کرتے پایا۔ کیونکہ یہاں آنے کے بعد وہ قدم قدم اُس کمپنی کے ایجنٹ کے محتاج ہوتے ہیں جس کے ذریعے وہ ویزہ لگوا کر یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں۔ مگر ایجنٹ حضرات کی جانب سے مناسب رسپانس نہ ملنے پر وہ سخت خاصی کوفت کا شکار رہتے ہیں۔

    میرے پاس قلمبند کرنے کو کئی داستانیں موجود ہیں۔زیادہ تر داستانیں پہلی بار حجاز مقدس جانے والوں کی پریشانیوں پر مشتمل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زائرین اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ ان کی سہولت کیلئے وزارت حج و عمرہ موجود ہے، جہاں وہ اپنے مسائل و مشکلات کے ازالے کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایجنٹ حضرات اس لاعلمی کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں نے مشاہدے کی غرض سے کئی ہوٹل وزٹ کئے۔ مجھے مذکورہ صورتحال سے مختلف دکھائی نہیں دی۔ صرف 3 فیصد لوگ اپنے ایجنٹوں سے مطمئن دکھائی دیئے۔ باقی 97فیصد لوگوں سے مجھے ان ٹریول سروسز اور ایجنٹس کے خلاف بددعائیں ہی سننے کو ملیں۔

    کئی پاکستانی زائرین سے گفتگو کے دوران مجھے ایک اور مشاہدہ بھی ہوا کہ حج، عمرہ کی سروسز فراہم کرنے والی اکثر کمپنیاں (ٹریولنگ ایجنٹ) غلط بیانی کر کے لوگوں کو بھیجتے ہیں۔ جو لوگ گروپ کی صورت میں جانا چاہتے تھے، انہیں یہ کہہ کر بھیجا گیا کہ آپ چلے جائیں، گروپ وہیں جا کر بنے گا۔ وہاں پہنچ کر کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون کس کمپنی یا ٹریول ایجنٹ کی طرف سے آیا ہے۔ لہذا انفرادی طور پر آنے والے زائرین کو اکیلے ہی اپنی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ آنے والوں کو تیاری کر کے آنے کے باوجود فرائض کی انجام دہی میں قدم قدم مشکل پیش آتی ہے۔

    اس کے برعکس میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے لوگ گروپس کی صورت میں آتے ہیں اور اجتماعی عبادات کرتے ہیں جس سے نہ صرف اک دوسرے کو ترویج و تحریک ملتی ہے بلکہ اس اجتماعی عمل سے دیگر افراد بھی استفادہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر پہلی مرتبہ آنے والوں کو مشترکہ سرگرمیوں کی وجہ سے کافی سہولت رہتی ہے۔ انہیں گائیڈ بھی میسر ہوتا ہے جس کی راہنمائی میں وہ عبادات میں خود کفیل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں سفر کا فائدہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    میں نے یہ عمل ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، برما، بنگلہ دیش، انڈیا، عراق، اور چند دیگر ممالک سے آنے والوں میں دیکھا۔ جو ہوٹل سے لے کر تمام عبادات اور واپسی تک اجتماعی عوامل سر انجام دے کر اک دوسرے کی راہنمائی کرتے اور قدم قدم پر مشترکہ عمل کرتے ہیں۔ جبکہ گروپس کی یہ سہولت صرف پاکستان کے چند ہی شہروں سے آنے والے زائرین کی صورت میں دکھائی دی۔ شاید پاکستان کے ٹریولنگ ایجنٹس کو یہی غرض ہوتی ہے کہ وہ سالانہ کتنے زائرین بھجوا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں کتنی کمائی ہو رہی ہے۔ زائرین کی پریشانیوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔

    دوسری جانب حرمین کے انتظامی معاملات کے حوالے سے مجھے بیشتر امور پر رائے دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میں سعودی حکام اور بالخصوص وزارت حج و عمرہ کو اس پر چند تجاویز ارسال کرنے کا متمنی ہوں، کیونکہ ان امور پر ہنگامی اقدامات وقت کا تقاضہ ہیں۔ اپنی ارسال کردہ تجاویز اور آراء میں سعودی وزارت حج و عمرہ سے یہ بھی درخواست کروں گاکہ مختلف ممالک کے شہریوں کو ویزہ جاری کرتے ہوئے عدم تعاون کے حامل مقامی ایجنٹوں کی شکایت کیلئے سہولت کا کوئی نمبر بھی جاری کیا جائے …… زائرین کی آسانی کیلئے نہ صرف ہوٹلوں میں شکایت کاؤنٹر بنائے جائیں، بلکہ ایک فعال آن لائن کمپلینٹ پورٹل بھی بنایا جائے تا کہ زائرین اپنی شکایت رجسٹرڈ کروا سکیں اور ان کی مشکل کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے …… حج کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ سعودی حکومت کو چاہئے کہ بیان کردہ صورتحال کی مانیٹرنگ اور یقینی ازالے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے، نیز اگر اپنے ویژن 2030ء میں مذکورہ امور بھی شامل کرلے تو زائرین کی سہولت اور آسانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

  • کیا ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گا ؟

    کیا ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گا ؟

    ایران اور افغانستان کے درمیان 1973 میں دو طرفہ پانی کے مطلق معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم، ایران میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے داخلی نقل مکانی کی بڑی وجہ پانی کی قلت اور بڑھتا ہوا گرم موسم کہا جاتا ہے۔ 2021 میں، تقریباً 41,000 ایرانی بوجہ جنگلات کی کٹائی، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کی وجہ سے اپنے قدرتی رہائش گاہوں سے بے گھر ہوئے۔ایرانی اور افغان کی افواج کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ، ایران دعویٰ کرتا ہے کہ افغانستان کم پانی چھوڑ رہا ہے جو کہ دوطرفہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایران کا جنوب مشرقی علاقہ جو خشک سالی سے شدید متاثر ہے، افغانستان سے آنے والے پانی پر کثیر انحصار کرتا ہے۔

    افغانستان کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ڈیم کھلنے کے باوجود بھی پانی ایران میں نہیں جائے گا۔ دو طرفہ آبی معاہدے کے مطابق افغانستان دریائے ہلمند سے سالانہ 850 ملین کیوبک میٹر پانی ایران کو فراہم کرنے کا پابند ہے۔
    ایران کا دعویٰ ہے کہ جب سے طالبان کی حکومت اقتدار میں آئی ہے، اس نے معاہدے کے تحت طے شدہ پانی میں سے صرف 4 فیصد پانی حاصل کیا ہے (حسن کاظمی قومی، ا ایرانی خصوصی نمائندہ براے افغاستان : RFE/RFL ریڈیو فاردا، 19 مئی، 2023)۔

    پانی کی قلت کی کے بڑھنے سے ایران کو اپنی عوام کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کے برعکس افغانستان میں جاری خشک سالی، جو 2021 سے 2022-2023 تک برقرار رہی، اس نے پانی کے بحران کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ 20 نومبر 2022 کی یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق، "79 فیصد گھرانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پینے، کھانا پکانے، نہانے یا طہارت جیسی اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے پانی ناقافی ہے۔ خوراک کی قلّت اور گھرداری پر تباہ کن اثر۔”

    افغانستان کے کم پانی رکھنے کے دعوے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، بلخصوص کمال خان ڈیم کی 2022 میں تکمیل کے مدنظر۔ افغان صدر غنی نے ایران کو مفت پانی کی فراہمی بند کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا تھا، اور ایران کے ساتھ پانی کے بدلے تیل کے تبادلے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس سے افغانستان کی پانی کی قلّت کے دعووں پر سوالات اٹھتے ہیں۔
    کیا کمال خان ڈیم اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے باوجود بھی افغانستان میں سابقہ خشک سالی برقرار ہے یا نہیں، اس کا اندازہ صرف آزاد ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ ان سے معاملات کی جانچ اور ایک فیصلہ تک پہنچنا ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہونا چاہئے۔

  • کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟

    کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟

    کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟
    ہاں وہ کر سکتے ہیں. اطلاعات کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے ایک سفارت کار نے اشارہ دیا ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ امریکہ ریاض کے جوہری پروگرام کے حصول پر رضامند ہو جائے اس شرط پہ کہ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں ۔ تاہم، یہ مطالبہ پہلے بھی کیا جا چکا ہے، اور ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں امریکہ اس کی تعمیل کرے گا۔ ریاض نے معاہدے پر دستخط کرنے سے ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے جب تک کہ واشنگٹن کے ساتھ قریبی دفاعی تعاون نہ ہو ۔
    سعودی عرب اور اسرائیل دونوں ہی مختلف حوالہ سے امریکہ کے لیے اہم اتحادی ہیں. حالیہ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے، اور ایران اور شام کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم، امریکہ جمال خاشقجی کے قتل کو نہیں بھولا. اس کے ساتھ ساتھ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے سعودی عرب کے عزم نے تعلقات کو متاثر کیا ہوا ہے۔

    اسی دوران، واشنگٹن میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سعودی عرب اسرائیل سے سنجیدہ سفارتی کوششوں کی بھی توقع رکھتا ہے. بالخصوص تجارت کے لیے فلسطینی کرنسی کے استعمال کے حوالے سے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ ریاض ابراہم معاہدے میں شامل نہیں ہوا۔

    اگر دونوں ملک ان مشکلات سے نمٹیں اور سفارتی تعلقات قائم کر لیں تو کافی مثبت نتائج نمودار ہوسکتے ہیں۔ اولین طور پہ، یہ مشرق وسطیٰ میں پختہ امن و استحکام کے قیام کا حصہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی مفاہمت کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی تنازعات کو حل کیا جائے، اور یہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ دوم، یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ بیشتر عرب اس وقت اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ تیسرے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا انحصار اس چیز پہ ہے کہ اس وقت اقتدار میں بادشاہ کا طرز عمل کیا ہے۔ بالاخر، یہ بات قابل غور ہے کہ اگرچہ اسرائیل اور سعودی عرب کے علاقائی مفادات بعض مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ واشنگٹن کے مفادات سے بھی ہم آہنگ ہوں۔

    اس کے باوجود بھی، اگر آخرکار تل ابیب اور ریاض کے مابین کوئی معاہدہ طے پاتا ہے، تو یہ دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم

    افتخار درانی کی نازیبا ویڈیو سامنے آئی ہے

  • گھریلو ناچاقیوں میں زبان کا کردار،تحریر: افضال احمد

    گھریلو ناچاقیوں میں زبان کا کردار،تحریر: افضال احمد

    حکیم لقمان سے ان کے آقا نے کہا ایک بکری ذبح کرکے اس کے بہترین حصے کا گوشت لے آئو‘ وہ ذبح کرکے ’’دل‘‘ اور ’’زبان‘‘ لے آئے۔ پھر کہا ایک اور بکری ذبح کرکے اس کا بدترین گوشت لے آئو وہ دوبارہ ’’دل‘‘ اور ’’زبان‘‘ لے کر آگئے۔ مطلب یہ تھا کہ یہ حصے جتنے اچھے ہیں ہماری لاپروائی سے اتنے ہی بُرے بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ’’زبان‘‘ جسم کا نازک ترین عضو ہے لیکن گوشت کے اس چھوٹے سے لوتھڑے نے دنیا میں جو قیامتیں ڈھائیں ہیں اور انقلاباتِ زمانہ کو جنم دیا ہے اس کی تاریخ بہت طویل اور حیران کن ہے۔
    زبان قوت گویائی کا وسیلہ ہے اور یہی چیز اسے ایک اشرف عضو کا درجہ دیتی ہے۔ اس کے ذریعہ ہم اپنے خیالات و احساسات دوسروں تک پہنچاتے ہیں‘ ذائقوں کا مزہ اُٹھاتے ہیں‘ یہی زبان ہمیں موت کا پیغام بھی دیتی ہے اور زندگی کی نوید بھی سناتی ہے ہمیں زخمی بھی کرتی ہے اور ہمارے زخموں کا مداوا بھی کرتی ہے۔ زبان سے آپ اچھی باتیں کر کے کسی کا دل جیت سکتے ہیں اور کسی کو گالم گلوچ اور دل دکھانے والی باتیں کرکے دل آزاری بھی کرتے ہیں۔ یہی زبان آپ کو امید دلاتی ہے اور آپ کی امیدوں کو خاک میں بھی ملاتی ہے۔

    زبان کے کرشمے اتنے گونا گوں اور وسیع ہیں کہ انہیں زندگی کے ہر ہر مرحلے پر اور ہر شعبے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ زبان کے گھائو جو تلوار کے زخم سے بھی زیادہ گہرے ہیں اور جن سے ہمارے معاشرے میں کروڑوں انسان مختلف مسائل کا شکار ہیں آپ بھی اگر کسی ’’زبان‘‘ کے زخم خوردہ ہیں تو کبھی کبھی رات کی تنہائیوں میں اس کا درد ضرور محسوس کرتے ہوں گے‘ ہماری زبان کے یہ وار معاشرے کے کئی دلچسپ پہلوئوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ کہتے ہیں زبان انسان کی بہترین دوست ہے لیکن کبھی کبھی بدترین دشمن ثابت ہوتی ہے۔ بزرگوں کا قول ہے ‘ پرانے وقت کے بزرگوں کا قول ہے :جب تک زبان آپ کے قابو میں ہے یوں سمجھیں کہ تلوار نیام میں ہے‘ جونہی آپ نے کوئی لفظ بولا یہ تلوار دوسرے کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے‘ معذرت سے آج کل کے 90 فیصد بزرگ بھی اپنی زبان کا غلط استعمال کر رہے ہیں‘ چند بزرگ تو اپنے بیٹے‘ بیٹیوں کا گھر برباد کرنے میں بہت معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
    حضرت امام غزالیؒ نے ’’منہاج العابدین‘‘ میں زبان کی آفات کے باب میں ایک حدیث کا خلاصہ نقل کیا ہے ’’جب انسان صبح کرتا ہے تو بدن کے تمام اعضاء (ایک طرح گویا ہاتھ جوڑ کر) زبان سے عرض کرتے ہیں کہ تُو ہمارے معاملے میں خیال رکھیو ہمارا صحیح استعمال تیرے صحیح استعمال پر موقوف ہو گا‘‘۔ میرا علم ناقص ہے لیکن ’’علماء کرام‘‘ بہتر جانتے ہیں۔ میرا تو مقصد صرف معاشرے کی اصلاح کرنا ہے جانے انجانے میں غلط بات بھی لکھ سکتا ہوں اپنے قارئین سے گزارش کرتا ہوں کہ میرے مضامین پر عمل ضرور کیا کریں اور ’’نماز‘‘ کے پابند ہو جائیں میں نہیں چاہتا کہ میرے قارئین دنیا تو سنوار لیں اور آخرت میں پھنس جائیں کیونکہ نماز کی معافی نہیں ہے۔ اس لئے سب بھائی‘ بہنوں اور خاص طور پر بزرگوں سے گزارش ہے کہ نماز کی پابندی کریں اور دل سے میرے لئے دعا کیا کریں‘قارئین سے کہنا چاہوں گا آپ اس اخبار کو باقاعدگی سے خریدا کریں اس اخبار نے مجھے لکھنے کیلئے معقول جگہ دی ہے انشاء اللہ یہ اخبار آپ کی اصلاح کا باعث بنے گا۔

    بات چل رہی تھی زبان کی تو میں یہاں زبان کی طاقت کیا ہے؟ اس کی ایک مثال سے وضاحت کرتا ہوں ’’میاں بیوی کے درمیان نکاح ہوتا ہے ‘میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے جائز ہو جاتے ہیں جیسے ہی شوہر اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق‘ طلاق‘ طلاق کہہ دیتا ہے تو یہ میاں بیوی چاہے برسوں سے ساتھ تھے ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں‘‘۔ ہم جانے انجانے میں روزانہ اپنی زبان سے لوگوں کا دل دکھاتے ہیں لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں‘ غیبت کرتے ہیں‘ دفاتر میں بیٹھے ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آج کل کی نوجوان نسل شادی کے بے جا رسم و رواج کیلئے پیسہ جمع نہیں کر پاتی تو وہ پھر کیا کرتے ہیں؟ فون کا غلط استعمال کرتے ہیں نوجوان لڑکے لڑکیاں آج کل فون پر جیسی زبان استعمال کر رہے ہیں ایسی زبان تو میاں بیوی کے درمیان کرنا بھی شاید جائز نہیں۔ بات فون سے حقیقت میں ملنے تک بھی آجاتی ہے اور یہ سب زبان کا غلط استعمال ہے جس سے جسم کے دوسرے اعضاء بھی گنہگار ہو جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ زبان کی طاقت صرف ’’طلاق‘‘ تک محدود نہیں باقی سب (جھوٹ ‘ غیبت‘ بات بات پر گالم گلوچ‘ فون پر غلط بات وغیرہ وغیرہ) ان سے بھی روکا گیا ہے اور جو گناہ ان چیزوں کے بارے بتائے گئے ہیں مل کر رہیں گے۔

    آج کے برق رفتار دور میں زبان کا جتنا غلط استعمال ہو رہا ہے شاید ہی کسی اور چیز کا غلط استعمال ہو رہا ہو۔ گھریلو ناچاقیاں کیا ہوتی ہے؟ یہ زبان کی وجہ سے ہی پیدا ہوا کرتی ہیں‘ ساس‘ بہو‘ نند‘ بھابی‘ دیورانی‘ جیٹھانی یا گھر میں جو بھی مرد موجود ہیں آپس میں حالات کب خراب ہوتے ہیں؟ جب انسان اپنے گھر میں غلط بات کرتا ہے یہاں سے گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اور جن گھروں میں گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اُن گھروں میں خود کشیاں یا موت کا بازار گرم رہتا ہے ‘ ہاں جب گھریلو ناچاقیوں کے باعث بہت سے لوگ خودکشیاں کر لیتے ہیں تو ان کے پیچھے جو موجود لوگ ہوتے ہیں جن کی ’’زبان‘‘ سے نکلی بات کی وجہ سے یہ خودکشی ہوتی ہے وہ ضرور پچھتاتا ہے اور کہتا ہے ’’کاش میں نے اپنی زبان‘‘ کو کنٹرول میں رکھا ہوتا تو آج یہ زندہ ہوتا۔تو بھئی! کاش کو اپنی زندگیوں سے نکال باہر پھینکوں اپنی زندگیوں کو بدلوں اپنی ’’زبان‘‘ پر کنٹرول رکھو یہ زبان ہی آپ کے گھروں کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔

    طلاقوں کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ کیا ہے؟ یہ سب کچھ زبان کے غلط استعمال کی وجہ ہے۔ ساس کو بہو نہیں بھاتی بہو کو ساس نہیں بھاتی‘ دیورانی کو جیٹھانی نہیں بھاتی ’مرد‘‘ بیچارا سارا دن لوگوں کی باتیں سن سن کر برداشت کرکے روزی روٹی کما کر گھر آئے تو آگے گھر کی خواتین اُس مرد کو ایک دوسرے کی شکایتیں لگاتی ہیں‘ ماں بیٹے کو کہتی ہے ’’تیری بیوی تو سارا دن سوتی ہے کوئی کام نہیں کرتی‘ اسے تو تیری بوڑھی ماں کی بھی فکر نہیں‘‘ بیوی شوہر کو الگ سے پورے گھر والوں کی شکایتیں لگاتی ہیں تو ایک مرد کہاں جائے؟ مرد کی کون سنتا ہے؟ عورت کو تو اقوام متحدہ تک سپورٹ حاصل ہے۔ مرد کی جب کوئی سننے والا ہے ہی نہیں نہ کوئی ایسا ادارہ قائم ہے جو اس بے چارے کی سنے آخر کار پھر مرد کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ان سب فسادات کی جڑ ’’زبان‘‘ ہے اپنے گھروں ‘بازاروں‘ دفاتر میں زبان پر قابو رکھیں کسی کا دل مت دکھائیں۔

  • لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت

    لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت

    لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت
    تحریر : وحید گل

    پاکستان گزشتہ کچھ برسوں سے لاپتہ افراد سے متعلق خبروں کی وجہ سے شہ سرخیوں کی زینت بنا رہا ہے۔ لوگوں کا لاپتہ ہونا یا اُن کی جبری گمشدگیوں کے کیسز کا سامنے آنا ، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ برسوں بعد بھی یہ معاملہ آج بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر حل طلب ہی نظر آتا ہے۔ نیشنل کرائم انفارمیشن سنٹر (NCIC) کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں 2021 میں 521,705 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی اسی طرح دی سنڈے گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر گھنٹے میں 88 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہوتے ہیں ہر روز 2,130 اور ہر ماہ 64,851 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ گو کہ یہ تعداد پاکستان میں موجود اعداد و شمار کی نسبت بہت بڑی ہے لیکن ہماری آج کی بحث پاکستان سے متعلق ہے

    2013ء میں ماما قدیر نامی ایک بلوچ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے چند بلوچوں کے ہمراہ (جن میں عورتیں بھی شامل تھیں) بلوچستان سے اسلام آباد تک 2,000 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کیا۔ علاوہ ازیں آئے دن نیوز چینلز پر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق خبریں گردش میں رہیں۔ کچھ عرصہ بعد جب کھوج لگائی گئی تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے۔ پاکستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد بھی جبری گمشدگیوں کے کھاتے میں ڈال دی گئی تھی۔ حالانکہ یہ افراد خالصتاً رضاکارانہ جذبے کے تحت غیر قانونی طور پر مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے بلوچستان جا پہنچتے تھے، تاکہ وہاں دشمن ممالک کے قائم کردہ خفیہ کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر سکیں۔ آفتاب یوسف کی اگر مثال لی جائے جو ماما قدیر کی کے ہر دھرنے میں پایا جاتا تھا اور گمشدہ لوگوں کیلئے آواز بلند کرتا تھا دراصل وہ خود بی ایل اے کیلئے کام کرتا تھا اور سینکڑوں سیکیور اہلکاروں کو شہید کرنے میں ملوث تھا جو جون 2021میں سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارا گیا جسکی تصدیق خود دہشتگرد تنظیم بی ایل نے کی۔

    چونکہ پاک افغان سرحد کی مجموعی لمبائی 2611 کلومیٹر ہے(جس میں خیبرپختونخوا کے ساتھ متصل افغان سرحد کی طوالت 1229کلومیٹر ہے) لہٰذا اُس وقت در اندازی کو روکنے والی باڑ نہ ہونے کے باعث لوگوں کا غیر قانونی پر پر آنا جانا کچھ خاص مشکل نہ تھا۔ یوں بھی یہاں سے آنے جانے والےافراد زیادہ تر یا تو جرائم پیشہ ہوتے تھے یا پھر جہالت، ذہنی پسماندگی اور دیگرمحرومیوں کے باعث شرپسند عناصر افراد کا آسان ہدف بن کر کالعدم تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لیتے تھے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر لاپتہ افراد کے معاملے میں ایکٹو اکاؤنٹس کوسپورٹ کہیں اور سے نہیں بلکہ زیادہ تر ہمسایہ ملک ہندوستان سے مل رہی ہوتی ہے۔

    ایک عام آدمی کے پاس بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے رقم ہوتی ہے جبکہ لاپتہ افراد کے لیے تگ و دو کرنے والے یہ لوگ شہروں شہروں نہیں بلکہ ملکوں ملکوں سفر کرتے ہیں، وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہ میڈیا جسے رتی بھر بھی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا میں کیا کچھ رونما ہو رہا ہے، وہ ان افراد کو بنا کچھ لیے دئیے کوریج دے رہا ہے۔ سوالات تو بہت ہیں لیکں جواب ایک بھی نہیں۔۔۔

    پاکستان میں برسوں یہی پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ جبری گمشدگی کے باعث لاکھوں افراد غائب ہیں تاہم جب بھی ان کی تفصیلات طلب کی گئیں تو پہلے بہانے سے تفصیلات کی فراہمی سے گریز کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں محض چند سو افراد کی لسٹ سامنے لائی گئی جس کے بعد متعدد افراد بازیاب بھی ہوئے لیکن باقی مبینہ گمشدہ افراد کی تفصیلات کہاں ہیں، کچھ معلوم نہیں۔

    آخر لاپتہ افراد سے متعلق آواز اٹھانے والوں سے جب سوالات کیے جاتے ہیں تو وہ جواب دینے سے کنی کیوں کترا جاتے ہیں؟ لاپتہ افراد سے متعلق ایک عالمی رپورٹ (مطبوعہ 31 دسمبر 2021) کے مطابق امریکا میں لاپتہ افراد کے 93718 فعال کیسزرپورٹ ہوئے، برطانیہ میں 241064 کیسز، جرمنی میں 11000 کیسز، ہندوستان میں 347524 کیسزجبکہ نیپال میں 10418 اور پاکستان میں 2210 کیسز تھے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد ایک عالمی مسئلہ (Global Phenomenon) ہے اور پاکستان بھی اس مسئلے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ تاہم گمشدہ افراد کی تعداد سے متعلق حد درجہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے۔ ColoED کے ساتھ رجسٹرڈ کیسز میں 9035 لاپتہ افراد کے اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں، ان میں سے بھی 70 فیصد سے زیادہ کیسز حل ہو چکے ہیں اور 25 فیصد عنقریب نمٹ جانے کو ہیں۔

    یہاں یہ بات قابلِ فہم ہے کہ جو لوگ گھریلو مسائل، ذاتی لڑائیوں یا اپنا کوئی مطالبہ منوانے کی خاطر گھر والوں کو دباؤ میں لانے کو، اپنی مرضی سے گھر سے جاتے ہیں، ان کے لاپتہ ہونے کو جبری گمشدگی سے نتھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی گمشدگی صرف اسی صورت میں "جبری گمشدگی” کہلائے گی جب ریاست نے اِن افراد کو اُٹھایا ہو مگر اُن کی گرفتاری کا اعلان نہ کر کے اسے مخفی رکھا گیا ہو۔

    پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کا شاہی قلعہ کا دورہ

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، بھارتی ٹیم لاہور پہنچ گئی

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

  • پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان کو اس وقت شدیدترین ماحولیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ جنگلات کی کٹائی، آبی آلودگی، فضائی آلودگی اور زمینی آلودگی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ جبکہ جنگلات کی کٹائی نہ صرف گلوبل وارمنگ کیلئے اہم کردار ہے بلکہ یہ کٹاؤ ساحلی سیلاب کا باعث بھی بنتتا ہے جس سے نہ صرف پودوں کو ختم کیا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ چرند، پرند اور جانوروں کے گھر بھی تباہ ہوتے ہیں.

    اگر ہم صحت کے حوالے سے اس کا جائزہ لیں تو درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اورآکسیجن فراہم کرتے ہیں جبکہ دوران سیلاب تیز پانی کے بہاؤ کو بھی روکتے ہیں علاوہ ازیں پاکستان جیسے ملک میں تو درختوں کا ہونا اس لئے بھی انتہائی ضروری ہے کہ موسمی حالات کے بدلتے وقت جیسے سردیوں میں لوگ خود کو گرم رکھنے اور کھانا وغیرہ پکانے یعنی آگ کیلئے لکڑی کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں بڑے شہروں کے علاوہ گیس کی سہولت میسر نہیں ہے.

    دوسری جانب ہمارے ملک میں آبی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ بہت سارا کیمیائی فضلہ (کچرا) پانی میں پھینکا جاتا ہے جس سے زہریلے مادے بھی پیدا ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی استعمال کے قابل نہیں رہتا ہے جبکہ اس میں کارخانوں میں استعمال کے بعد پیدا ہونے والا کچرا، اور ناقص سیوریج سسٹم بھی آبی آلودگی کا باعث بنتے ہیں،

    صوبہ پنجاب کا دارالخلافہ لاہور جو بہت بڑا شہر ہے اور سردیوں کے موسم میں اسے سموگ کا سامنا رہتا ہے ، اس سے علم ہوتا ہے کہ یہاں فضائی آلودگی کا مسئلہ ہے، علاوہ ازیں گاڑیوں میں اضافہ کے سبب دھواں، ایندھن نیز کارخانوں اور کاروں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کی اہم وجوہات ہیں ،تاہم واضح رہے کہ زمین کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے غلط نظام کے سبب زمین کے کھلے پلاٹوں میں کچرا پڑا رہتا ہے جس سے نہ صرف ناگوار بدبو، بیماریاں اور آلودگی پھیلتی ہے بلکہ ماحول بھی گندہ ہوتا ہے اور حکومت کا صرف پلاسٹک بیگز پر پابندی لگانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ کوئی جامع حکمت عملی بنانی ہوگی.

    اس موسمیاتی تبدیلی نے تباہ کن سیلاب بھی لائے جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں ، سیلاب زمینیوں سمیت زرعی کھیتوں کو تباہ کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے گلوبل انفارمیشن اینڈ ارلی وارننگ سسٹم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل نینو سمندری رجحان کی وجہ سے زیادہ بارشوں کے خطرے سے دوچار 20 ممالک میں شامل ہے۔ (ڈان نیوز)

    پاکستان کو ان ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جامع پالیسیاں اور قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے، ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ افراد، کارپوریشنز اوراداروں کو انکی وجہ سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے،حکومت کو ان مسائل کو حل کرنے موثر پالیسیاں بنانے اور ان پرعمل درآمد کرنے میں آگے بڑھنا چاہئے تا کہ پاکستان کا مستقبل پائیدار ہو.

  • آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    تحریر۔ محمد انور بھٹی

    بچپن سے یہ محاورہ سنتے آئے ہیں کہ آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا۔ یعنی ایک آفت سے نکلا تو دوسری میں پھنس گیا میں نے بچپن میں اس کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں۔ لیکن آج یہ محاورہ پھر سے میرے ذہن میں آیا تو میں نے اس کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔تو مجھے اس کا اطلاق ریلوے کے ضعیف العمر پینشنرز،بیواؤں اور یتیم بچوں پر ہوتا نظر آیا۔کیونکہ ریلوے کے یہ ریٹائرڈملازمین آج کل کچھ اسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہوئے نظر آرہےہیں۔پاکستان ریلوے ملازمین دورانِ سروس جن مشکلات،دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں شاید ہی کسی اور سرکاری ادارے کے ملازمین کو ایسی پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔یہ اپنے پیاروں سے سینکڑوں میل دور جنگلوں، تپتے صحراؤں ،ٹھٹھرتے ہوئے میدانوں اور سنگلاخ چیٹانوں کے درمیان اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ہیں ۔یہاں دورانِ سروس انہیں جن دکھوں ،تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی ایک لمبی تفصیل ہے جس پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ ان تمام پریشانیوں اور تکالیف کے باوجود بھی یہ ملازمین اپنی ڈیوٹیاں خندہ پیشانی، عزم ،حوصلہ اور ایمانداری کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔دوران سروس ہر ایک ملازم کی دو اہم ترجیحات ہوتی ہیں ۔ایک تو یہ اپنے ادارے کی ساکھ کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیتے ہیں دوسرا ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا خاندان معاشرے میں اچھے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ اور جب یہ اپنی سروس مکمل کر چکیں تو یہ اس معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ باقی مانندہ زندگی برابری کی سطع پر گزار سکیں۔ریٹائرڈ منٹ کے بعدان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اِن کے اہل خانہ کے سر پر بھی اپنی چھت ہوگی۔ یہ بھی اپنے جواں سال بیٹوں کے سروں پر سہرے سجائیں گے۔ اپنی بیٹیوں کے ماتھے پر جھومر سجاکرانکےہاتھوں پر مہندی رچاکر انکی ڈولیوں کو سجا کر اپنے گھروں کو باعزت طریقےسے روانہ کریں گے۔

    مگر انتہائی قابل افسوس امر بات ہے کہ جن محنت کشوں نے بڑی جاں فِشانی کے ساتھ اپنی زندگی کےتیس سے (30) سے چالیس (40) سال اپنے ادارے اور ملک وقوم کی خدمت میں قربان کئےاور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج ان محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ادارے اور ریاست کی جانب سے جس بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی انسانی معاشرے میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد اور دوران سروس وفات پاجانے والے ملازمین کے خاندانوں کوریاست کی جانب سے ان کے واجبات کی ادائیگی نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ ضعیف العمرریٹائرڈ ملازمین، بیوائیں اور یتیم بچے معاشی اور معاشرتی طور پر انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ معاشی بدحالی کے سبب ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہوکر یہ محنت کش مختلف قسم کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوکرمعذوری کا شکار ہوکر ویل چیئر اور چارپائیوں پر آچکے ہیں اکثیریت بیماریوں کی تاب نہ لاکر اپنی آنکھوں میں اپنے جواں سال بچوں کے ماتھے پر سہرے سجانے ،بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈولی میں بٹھانے اور اپنے بچوں کے سروں پر اپنی چھت ہونےکے خواب سجائےہوئے بے بسی اور بے کسی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس دارِ فانی سے کوچ فرماچکے ہیں۔باقی ماندہ اپنے حقوق کے حصول کی مد میں ارباب اختیار کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔مگر ان کی داد وفریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ جبکہ یہ ریاست کی اولین ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ ہے کہ وہ ان محنت کشوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اعلٰی خدمات اور قربانیوں کے صلے میں ان کےحقوق کی ادائیگی بڑی خندہ پیشانی اور جذبہ ایثار کےساتھ ادا کرتی۔

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    زیاں اور خسارہ بلا شبہ ناکامی کی علامت ہے لیکن زیاں سے بھی بڑھ کرالمیہ یہ ہے کہ فرد یا ملت کے دل ودماغ سے (احساس زیاں)بھی جاتا رہے۔ چِہ جائےکہِ ریاست کی جانب سے اِ ن محنت کشوں کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جاتی۔مگر ان کو ان کے حقوق حاصل کرنے کی مد میں اس قدر پیچیدگیاں پریشانیا ں اور مشکلات کھڑی کردی گئی ہیں ۔کہ ان محنت کشوں کو اپنے حقوق کے حصول کی خاطر اپنے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے۔ ان قانونی پیچیدگیوں اور بھول بھلیوں کے سبب ان کی عزت نفس بھی مجروح ہونے سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہے۔ باقی تمام واجبات کی ادائیگیاں تو اپنی جگہ بے حسی، لا قانونیت اور مردہ ضمیری کی یہ حد ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضع ہدایات کے باوجود ان کو انکی ماہانہ پینشن کی ادائیگی بھی بروقت نہیں کی جارہی ہے ۔

    عمر کے اس حصے میں ان ضعیف العمر پینشنرز ، بیواؤں اور یتیم بچوں کی زندگی گزارنے کا تمام تر دارمدار اس پینشن کی مد میں ملنے والی رقم پر ہے۔اس کے علاوہ ان کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔پینشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں انہیں اس معاشرے میں جن گھمبیر صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہے یہ ادارے ،ریاست اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان ریلوے کے پینشنرز کی ادائیگی کو اتنا طویل اور بوجھل بنادیا گیا ہے کہ پینشن کی ادائیگی پچھلے ایک سال سے مسلسل تاخیر کاشکار ہورہی ہے ۔وزارت ریلوے کی مالیاتی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ کیلئے ہر ماہ کی 22 تاریخ کو وزارت خزانہ کو درخواست بھیجی جاتی ہے۔التجا کی جاتی ہے ۔کہ پینشنرز کو ان کی پینشن کی ادائیگی کے لیئے فنڈ جلد مہیا کئے جائیں تاکہ ان کی پینشن کی بروقت ادائیگی کردی جائے۔ وزارت خزانہ آفس اس درخواست پر عمل درآمد کرکے اس درخواست کو ایک ہفتہ میں نمٹا دے تو اس کو پینشنرز کے لیے خوش بختی کی علامت سمجھاجائے وگرنہ دوسرا ہفتہ بھی اسی کاروائی میں گزرجاتا ہے۔ اس کے بعد اے جی پی آر کی اپنی بھول بھلیوں والا کھیل شروع ہوجاتا ہےاس کھیل کو کھیلنے کے لیئے انہیں بھی دو سے تین روز درکار ہوتے ہیں ۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد کہیں جاکراس پینشن کی مد میں درکار فنڈ کو اسٹیٹ بینک کی رونق بننانصیب ہوتاہے ۔اسٹیٹ بینک کی راہداریوں سے ہوتا ہوا یہ فنڈ اب پاکستان میں موجود مختلف کمرشل بینکوں کو بھیج دیا جاتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہانپر یہ مثال صادر آتی ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ۔ پاکستان کے کمرشل بینکوں نے اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق اپنی اپنی پالیسیاں ترتیب دی ہوئی ہیں ۔کیونکہ ان کو پینشنرز کی ترجیحات کے مقابلے میں اپنی ترجیحا ت انتہائی عزیز ہیں ۔ بظاہر تو یہ رقم پینشنرز کی امانت ہوتی ہے مگر حقیقت اس کے یکسر مختلف ہے۔یہی وجہ ہے یہ پینشنرز کی پینشن اپنی سہولت کے مطابق ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں ۔شنید ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پینشنرز کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کئی قانون اور قائدے بنائے گئے ہیں جن کے مطابق تمام کمرشل بینکوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ پینشنرز کو اولین ترجیح دیکر اُن کی پینشن کی رقم اُن کے اکاؤنٹ میں بروقت منتقل کرنے کے پابند ہونگے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ احکامات لگتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے نزدیک کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں یہ احکامات صرف کاغذ کے ٹکڑے کی زینت بننےتک محدود ہیں۔ ضعیف، لاغر ،بیمار اور معاشی حالات کےستائے ہوئے یہ پینشنرز جب اپنی پینشن کی حصولی کے لیئے بینکوں میں پہنچتے ہیں تو انہیں بینک انتظامیہ کی جانب سے جس بے توقیری اور ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کی کسی بھی انسانی معاشرے میں مثال نہیں ملتی ہے۔کمر شل بینکوں کے برتاؤ اور سخت گیر رویوں سے یوں ظاہر ہوتاہے کہ ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کا وجود ان کمرشل بینکوں پر ایک وزن کم نہیں ہے۔جبکہ کریڈٹ کارڈ سروس ، ایس ایم ایس اور باقی دوسری سہولیات کی مد میں ان کمرشل بینکوں کو پینشنرز سے لاکھوں روپے وصول ہوتے ہیں اس کے باوجوداسٹیٹ بینک سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ ان بینکوں کو منتقل ہوجانے کے بعد کمرشل بینک اس رقم کو دو تین روز تک اپنے پاس رکھنے کو اپنا حق تصور کرتے ہیں ۔ یہ پینشنرز کے ساتھ جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام چلاتے ہیں ۔ پینشنرز کی پینشن کے فنڈ ان کےپاس موجود ہونے کے باوجود یہ مختلف حیلے اور بہانے تراش کر اُن کی پینشن کی رقم کبھی بھی بروقت ان کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ان مجبور ولاچار پینشنرز کو بیماری کی حالت میں بار بار بینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں ذہنی تناؤ کے ساتھ ساتھ جسمانی تکالیف اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی تمام تر ذاتی خواہشات اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاس ملک وقوم کی خدمت اور ادارے کے وقار کی بحالی کو فوقیت دی۔ و ہ لوگ آج بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی داد رسی کرنے والا آج کوئی نہیں ہے انکی بیوائیں اور یتیم بچے جس طرح کسمپرسی اور بد حالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں آج ان کے لیئے سوموٹو لینے والا کوئی نہیں ہےان بہتری اور فلاح کے لیئے کوئی قانون سازی کرنے والا نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ جوتھوڑی بہت قانونی مراعات اِن کوتفویض کی گئی ہیں ان پر بھی عمل درآمد کرنے کی کسی میں سکت نہیں ہے۔آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاست ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے ۔اورماں بے لوث محبت، شفقت، اپنائیت، قربانی کا دوسرا نام ماں ہے۔میری اس ریاست کے مطلق اختیار رکھنے والوں سے بدستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا یہ ضعیف العمر پینشنرز اس ملک اور قوم کے لیئے ایک قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اس ملک اور قوم کے لیئےاپنی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ خداراانکی قدر کیجئے یہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر دو سال سے ادھر اُدھر مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو انکے حقوق لوٹائے جائیں۔ وہ بیوائیں اور یتیم بچے جن کو انکے ڈیوز کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب آج بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انکو ان کے رکے ہوئے ڈیوز کی فوری طورپر ادائیگی کا بندوبست کیا جائے۔ آخر میں میری گورنر اسٹیٹ بینک سے التجا ہے کہ آپ کی طرف سے پینشنرز کی سہولیات کی مد میں کمرشل بینکوں کے لئے جو قانون/ ہدایات جاری کی گئی ہیں ان پر کمرشل بینکوں کو سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا جائے۔تاکہ یہ ضعیف العمر پینشنرز، بیوائیں اور یتیم بچے بھی اس معاشرے میں باعزت اور باوقار زندگی گزار سکیں۔

    خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر

    نہ ھو درد کی چوٹ جس کے جگر پر

    کسی کے مصیبت گزر جاۓ سر پر

    پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر

    کرو مہربانی تم اہل زمین پر

    خدا مہربان ھو گا عرش بریں پر

  • اتحاد امت ….تحریر: ملک شفقت اللہ

    اتحاد امت ….تحریر: ملک شفقت اللہ

    پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے مضبوط قدم جما رکھے ہیں۔ فنون لطیفہ،حالات حاضرہ,قومی و بین الاقوامی,بین البر اعظمی,سیاسی,معاشرتی,سماجی,معاشی اور مذہبی امور,بین الکائناتی ابلاغ میں جس قدر وسعت الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے ہوئی ہے اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ اسی قدر تمام پیرایوں میں انسانیت اور کائنات کی تذلیل کی بھی مثال نہیں ملتی۔ آزادی ء اظہارِ رائے اور ذریعہ ابلاغ ہونے کی آڑ میں صرف اور صرف کاروبار کیاجا رہا ہے جس نے تمام انسانی و اخلاقی پہلوؤں کو پچھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ تماشا کرنا اور تماشا لگانا جانتے ہیں انہیں برقی ذرائع ابلاغ میں بھرپور پذیرائی حاصل ہے۔ اس کے بر عکس معاشرے کو سدھارنے والے,انسانیت کا سینے میں درد رکھنے والے اور توازن قائم رکھنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کیا ہی حیف ناک امر واقع ہوا ہے کہ دین بھی اسی کاروبار کی زد میں ہے۔ اور بیچنے والے یہی کلمہ گو مسلمان بلکہ علامہ اور مفتی کی ڈگریاں لینے والے لوگ ہیں۔
    خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

    پروفیسر حمیداللہ ہاشمی علامہ اقبال کے اس شعر کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: علامہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمان زبان سے کلمہ توحید پڑھ بھی لے اور خدا کو الٰہ مان بھی لے تو اس سے اس وقت تک کچھ حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ دل سے بھی اس کا اقرار نہ کیا جائے۔ اقرار دل سے مسلمان کی نگاہ میں بھی فرق پڑ جاتا ہے اور یہی مقصود مسلمانی ہے۔ آج کا مسلمان زبان سے تو کلمہ پڑھتا ہے لیکن اس کا دل اور اس کی نگاہ اس کلمے کے مطابق نہیں ہے۔
    پاکستان میں آغازی نشریات میں جب بہت کم نجی برقی ادارے ہوتے تھے تو اس وقت تماش بین بھی شاذ و نادر ہی میسر تھے۔ یا شاید آپ یوں کہہ لیں کہ ان اداروں کو چلانے والوں کے دلوں میں ایمان باقی تھا۔ اس وقت زیادہ تر پروگرام اسلامی,فلاحی اور تربیتی ہوا کرتے تھے۔ رمضان شریف میں قیام الیل کے وقت مسجد نبوی اور حرم میں ہونے والی عبادت کی ریکارڈنگز کو چلایا جاتا تھا۔یا قرآن کی تلاوت چلا دی جاتی تھی جو سحر تک چلتی تھی۔ اذانوں کے وقت اذانیں ہوا کرتی تھیں جہاں سے سن کر بہت سے لوگوں نے یاد کی اور اس جیسی صداکاری بھی سیکھی۔ لیکن اب ٹی وی چینلز بھی بڑھ چکے ہیں۔ تماش بین بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان کی قابلیت یا علم کا معیار کچھ معنی نہیں رکھتا۔ سوشل میڈیا پر انہیں سننے والوں کی تعداد حجم رکھتی ہے۔ یہ شاید ساتواں رمضان المبارک ہے جس میں سحر و افطار کے وقت پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں جس کا میزبان بڑا تماشا اور مہمان اس سے بھی بڑے ایکٹرہیں۔

    یہ تو شکر ہے کہ یہ پروگرام عدالت عالیہ نے ان تماش بین عورتوں سے واپس لئے ہیں جن کے سامنے اللہ کا حکم پردہ اور پاکبازی کے بارے میں سنایا جا رہا ہوتا تھا اور وہ اس حکم کو بھی کاؤنٹر کر رہی ہوتیں تھیں۔لاحولا ولاقوۃ! اور پچھلے سال ان پروگراموں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا عدالتی حکم نامہ جاری ہوا تھا۔ اس رمضان المبارک میں بھی تمام قومی چینلز پر ایسے پروگرامز منعقد ہو رہے ہیں۔ افسوس کہ ان میں شمولیت کرنے والے لوگوں کا حال علامہ اقبال کے شعر سے ہٹ کر کچھ نہیں۔ کاش یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوتے اور غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوتے کم از کم ان کے دلوں کے حالوں بارے کسی گمان یا تجسس کی گنجائش باقی نہ رہتی۔
    حال ہی میں ایک قومی ٹی وی چینل کے پروگرام میں موضوع دیا گیا کہ فرقہ واریت کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے!مجھے افسوس ہے کہ اس میں ہر مکتبہ فکر اور مسلک کے عالم لوگ بیٹھے تھے اور انہوں نے موضوع کی بجائے اپنی بین سنانی شروع کر رکھی تھی۔ یہ بھی دور جاہلیت کی ایک قسم سمجھیں جس میں ایمان حلق سے نیچے اترتا دکھائی نہیں دیتا۔ کسی نے یہ بات نہیں کی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی فرقہ یامسلک کے ساتھ منسلک ہونے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے قرآن سے اللہ کا حکم نہیں سنایا کہ ابراہیم و موسی،عیسی و مریم، ذکریا و داؤد، یعقوب و یوسف،و آدم و اسماعیل، یونس و دانیال علیہم السلام الغرض کہ دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے اور نبی اکرم محمد رسول اللہ و خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم مسلمان تھے۔ان کے ماننے والے اور اللہ پر ایمان لانے والے بھی مسلمان ہیں۔ اور اس پر بات کرنی چاہئے کہ اللہ کے نذدیک صرف ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے۔ اور اسلام کے ماننے والے مسلمان ہیں۔ قرآن کا یہ حکم کیوں نہیں سنایا گیا کہ فرقوں میں مت پڑو اللہ کی رسی یعنی قرآن کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ جو تفرقہ کرتا ہے یا فتنہ پھیلاتا ہے اس سے اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی تعلق نہیں۔یہ کونسے عالم ہیں کہاں کے عالم ہیں جو اپنی ناقص عقل کی تاویلیں پیش کرتے ہیں مگر اللہ کا حکم پیش نہیں کرتے۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جن آئمہ کی پیروکاری کا یہ دعوی کرتے ہیں انہوں نے کبھی نہیں کہا ہوگا کہ تم فرقوں میں بٹ جاؤ۔ ایسا کونسا عالم ہو سکتاہے جو ایسی بات لکھے یا ایسا فتوی جاری کرے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ساتھ ٹکرا جائے۔ اگر نہیں تو پھر انہیں شرم کرنی چاہئے,حیا کرنی چاہئے!!۔

    ایک اور نجی قومی ٹی وی چینل پر ایساہی پروگرام ہوتا ہے جس میں مختلف فروحی موضوعات پر بحث کروائی جاتی ہے۔ تمام مسالک کے علماء سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے فقہ کا کیا مؤقف ہے اور دوسرے کے فقہ کا کیا مؤقف ہے۔ یہ کہاں سے آگیا بھائی۔ سوال تو یہ بنتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس موضوع کے بارے میں کیا حکم ہے۔ کیا ان علماء کے فقہی دلائل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بڑھ کر ہیں؟؟ اور یہی حال باقی تمام چینلز کے پروگراموں کا بھی ہے۔ یہ کونسا طریق ہے جس سے امت متحد ہو سکتی ہے؟ یہ تو تقسیم کرنے کا عمل ہے۔
    اگر ٹی وی چینلز ان مذہبی موضوعات کو متنوع سمجھتے ہیں اور ان مسلکی تقسیم کرنے والوں سے ڈرتے ہیں تو انہیں ایسے پروگرامز بند کر دینے چاہئیں کیونکہ وہ پہلے ہی ثواب یا نیکی کی نیت سے نہیں بلکہ پیسوں کیلئے کر رہے ہیں۔ اور اگر ہمت کرنی ہی ہے تو صرف قرآن و حدیث کے درس تک محدود رہنا چاہئے جو صرف مستند عالم ہی دے سکتا ہے۔ عوام اور مقتدر حلقہ اس بارے میں سوچے! پاکستان کی عوام بہت زیادہ تقسیم کا شکار ہے۔ اس تقسیم کو اب روکا جانا چاہئے