Baaghi TV

Category: متفرق

  • منافقت کا دوسرا نام ، تحریر: آصف گوہر

    منافقت کا دوسرا نام ، تحریر: آصف گوہر

    منافقت کا دوسرا نام Flexibility…..
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور واقعہ ہے کہ مشرکین مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا قریش کے سردار ابو طالب کے پاس آئے اور کہنے لگے اپنے بھتیجے سے کہیں کہ اپنے موقف میں تھوڑی Flexibility پیدا کریں اور ہمارے بتوں کو برا بھلا نہ کہیں ہم انکو دولت سے نواز دیں گے جس خاتون سے کہیں گے اس سے ان کا نکاح کروا دیتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر تاریخی الفاظ کہے کہ” اللہ کی قسم ! وہ میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند لا کر رکھ دیں اور یہ چاہیں کہ میں اللہ کا حکم اس کی مخلوق کو نہ پہنچاؤں، میں ہر گز اس کے لئے آمادہ نہیں ہوں۔ یہاں تک کہ اللہ کا سچا دین لوگوں میں پھیل جائے یا کم از کم میں اس جدوجہد میں اپنی جاں دے دوں‘‘
    اپنے مقصد پر ڈٹے رہنا اور سخت ترین حالات میں بھی استقامت اختیار کرنا بڑے لیڈر رہنما کے اوصاف میں سے ہے
    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جو بارہا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رول ماڈل ہیں اور دنیا کے سب سے بڑے لیڈر تھے ،
    لازمی بات ہے کہ ایسے شخص کا موقف واضح ہوگا اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ڈٹ جائے گا،
    چند روز پہلے ایک موٹیویشنل اسپکیر نے عمران خان سے ملاقات کی جس کا سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر بڑا چرچا ہوا اس نے اگلے ہی روز یہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملے ان ملاقاتوں کا احوال جاننے کے لئے نیوز اینکر نے موصوف سے سوال کیا تو گویا ہوئے کہ فلاں میں Flexibility ہے اور فلاں rigged ہے قیامت کے روز ہونے والے فیصلے کئے بیٹھے ہیں،
    اندازہ لگا لیں کہ جس شخص کو یہ بھی علم نہیں کہ
    غلط کو غلط کہنا اور اپنے عظیم مقصد کے حصول کے لیے استقامت اختیار کرنا ہی حق ہے نہ کہ اپنے موقف میں وقتی فائدے کے لیے لچک پیدا کرلینا ،اب یہ کسی طرح کی motivations اپنے سننے والوں کو فراہم کرتے ہونگے اپ خود فیصلہ کر لیں۔
    عظیم مقصد کے حصول کے لئے ڈٹ جانا ہی حق ہے اور وقتی فائدے کے لیے موقف میں Flexibility اختیار کرنا
    دو رخی اور منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
    کالم نگار ،آصف گوہر

  • پاکستان ایک زرعی ملک!!! — آصف گوہر

    پاکستان ایک زرعی ملک!!! — آصف گوہر

    ہم بچن سے مطالعہ پاکستان میں یہ پڑھتے ائے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملک کی 75 فیصد آبادی پیشہ زراعت سے وابستہ ہے
    اگر اس دعوے کو سچ مان لیا جائے تو پھر ہر 3 ماہ بعد ملک میں چینی آٹے اور پیاز ٹماٹر کے بحران کا کیوں سامنا کرنا پڑتا ہے.

    کہیں تو ابہام اور غلطی ہے جس کا خمیازہ ہم بھگتے رہے ہیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا.

    میری سمجھ میں جو بات آتی ہے وہ زمینداروں نے لالچ بری بلا کی کہانی کے مصداق روز ایک سونے کا انڈا لینے کی بجائے مرغی ہی کو ذبح کر دیا اور اپنے زرعی مربعے مرلہ کے حساب سے ہاؤسنگ سوسائٹیز مافیا کو فروخت کئے ،اگر لاہور شہر کی بات کی جائے تو ایک وقت تھا فیروز پور روڈ چونگی امرسدھو، جی ٹی روڈ شالیمار باغ، شاہدرہ ، ملتان روڈ، ٹھوکر نیاز بیگ بھیکے وال موڑ اور غازی روڈ سے سے آگے کھیت کھلیان شروع ہوجاتے تھے جو لاہور کی سبزیوں کی ضرورت کے لئے کافی تھے ، آہستہ آہستہ پراپرٹی کے کام نے زور پکڑا اور ہاؤسنگ سیکٹر مافیا سر گرم ہوا اور لاہور کے مضافات میں واقع دیہاتوں کی زرعی زمین دیکھتے ہی دیکھتے ہڑپ کر .

    ڈی ایچ اے لاہور کو ہی دیکھ لیں یہ گاؤں امرسدھو، کماہاں، جامن ،لیل گوونڈی مانوالہ اور ان گنت دیہاتوں کی زمین پر پاک بھارت بارڈر تک کی زرعی زمین نگل چکا ہے، اس کے علاوہ چھوٹے بڑے کئ ہاؤسنگ ڈویلپرز نے لاہور کے زرعی رقبہ پر بےشمار ہاؤسنگ سوسائٹیز بنا دی ہیں، یہی حال ملک کے دیگر اضلاع کا ہے.

    اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟

    نقل مکانی اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس جن کو بوتل میں بند کرنا ممکن نہیں، اب انفرادی طور پر ہم اپنے روزمرہ کی ضرورت کچن گارڈنینگ سے پوری کر سکتے، بنگالیوں نے اپنے گھروں میں خالی جگہوں پر عقب میں سبزیاں وغیرہ لگا رکھی ہوتی ہیں راقم نے سعودی عرب قیام کے دوران یہ مشاہدہ کیا کہ وہاں پر بنگالی لیبرز نے اپنے کنٹینرز نما کمروں کے پیچھے لہسن، سبز مرچیں، پالک وغیرہ لگا رکھی تھی وہ بازار سے مچھلی لاتے اور اپنے کچن گارڈن سے ضرورت کی سبزی توڑ لیتے.

    ہم بھی اپنے گھروں پر کچن گارڈنینگ کرسکتے ہیں ہماری تھوڑی سی توجہ سے ہم اپنے آپ کو مصروف بھی رکھ سکتے ہیں اور اپنی ضرورت کی سبزی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    لاہور میں ہمارے ایک دوست رانا نعیم نے اپنے گھر کی ناکار چیزوں کو استعمال کرکے گھر کی چھت پر باقاعدہ کچن گارڈن بنا رکھا ہے اور اس میں ٹماٹر، بند گوبھی بروکلی بینگن کدو لہسن اور سبز مرچیں لگا رکھی ہیں جہاں سے اپنی ضرورت کے مطابق روز کچھ نہ کچھ توڑ کر آرگینک سبزیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    اس کے علاوہ رانا نعیم نے Rooftop gardening with rana کے نام سے یوٹیوب چینل بنا رکھے ہیں جہاں وہ چھوٹے گھروں کے مکینوں کو چھت پر کچن گارڈنینگ ٹاور گارڈنینگ لگانے کی مفید معلومات اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

    آپ اگر اپنے گھر کے لان اور چھت پر کچن گارڈنینگ کا سیٹ اپ لگانا چاہتے ہیں تو ان سے رابطہ کرسکتے ہیں.

  • ڈیفالٹ اور بینکرپسی کا فرق – پاکستان میں افواہیں اور خدشات!!! — سردار غضنفر خان

    ڈیفالٹ اور بینکرپسی کا فرق – پاکستان میں افواہیں اور خدشات!!! — سردار غضنفر خان

    اکثر لوگ نام ڈیفالٹ کا لیتے ہیں اور معنی بینکرپسی یعنی قرقی کا لیتے ہیں، ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے، پہلے ہم بینکرپسی کو دیکھتے ہیں پھر ڈیفالٹ کا جائزہ لیں گے تاکہ فرق پتا چل جائے۔

    قرقی ہونے کی نوبت اس وقت پیش آتی ہے جب کیپیٹل ایکویٹی سسٹین۔ایبل نہ رہے، اس صورت میں لائبلٹی ناک۔آف کرنے کی وہ صلاحیت جاتی رہتی ہے جو نوٹ کے اوپر لکھی ہوئی ہے کہ حامل ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا، بینکرپسی کی صورت میں یہ صلاحیت زیرو ہو جاتی ہے اور اسٹیٹ اس گارینٹی سے ہاتھ اٹھا لیتی ہے، اس کے بعد اسٹیٹ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہتی، یہ امپورٹ بل سے بالکل الگ ایک چیپٹر ہے۔

    اس بات کو مزید باریکی سے سمجھنا چاہیں تو یوں سمجھ لیں کہ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی دو سو تیس روپے آتے ہیں اور ایرانی ریال کے بیالیس ہزار یونٹ آتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے پاکستانی کرنسی کی سسٹین ابیلٹی ایرانی کرنسی کے مقابلے میں ایک سو بیاسی گنا بہتر ہے۔

    اب سمجھانے کیلئے کہہ رہا ہوں کہ خدانخواستہ ان دونوں کرنسیوں پر دنبدن زوال بڑھتا جائے تو کتنا عرصہ لگے گا کہ ایران کہے جناب میں پچاس لاکھ ریال دے کر ایک ڈالر خریدنے سے قاصر ہوں لہذا ہم باہر کی دنیا سے سب ناطے توڑ رہے ہیں کیونکہ ہم کچھ بھی خریدنے کی سکت کھو چکے ہیں، پھر پاکستان کو کتنا عرصہ لگے کا یہ کہنے میں کہ جناب میں بھی ستائیس ہزار میں ایک ڈالر لینے سے قاصر ہوں۔

    اس کا جواب ایسے نکال لیں کہ روس جیسی بڑی مملکت کی اکانومی نیگیٹیو انویسٹمنٹ گریڈ میں ہے، کچھ عرصہ قبل دیکھی تھی اس وقت مائینس سی سی کرکے کچھ تھی اور پاکستان کی شائد بی پلس میں تھی، عالمی ماہرین روس میں سرمایہ کاری ریکمنڈ نہیں کرتے جبکہ وہی ادارے ایران اور پاکستان پر ایسی کوئی حرف آرائی نہیں کرتے، جس کا سب سے بڑا ثبوت سی۔پیک اور اس جیسے دیگر عالمی معاہدے ہیں۔

    خدانخواستہ ثم خدانخواستہ نااہل حکمرانوں کی وجہ اگر ڈوبیں گے تو پہلے ایران ڈوبے گا پھر دس سال بعد ہم ڈوبیں گے اور ایران اس وقت ڈوبے گا جب مائنس سی گریڈ رکھنے والے روس کو ڈوبے ہوئے دس سال ہو چکے ہوں گے اسلئے خدا کا شکر کریں اور اس نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔

    لوگ جب اس چیز کو امپورٹ بل کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو بڑا سنگین مغالطہ پیدا ہو جاتا ہے جبکہ امپورٹ بل کا رک جانا یا بیلنس آف پیمنٹ کا مینٹین رکھنا جب ممکن نہ ہو تو ڈیفالٹ کہلاتا ہے، یعنی فی الحال ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں جب ہوں گے تو خریداری کر لیں گے۔

    یہ کیفیت ہر تنخواہ دار بندے پر ہر مہینے آتی ہے، جب آخری دنوں میں اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو پھر وہ ضروریات زندگی کچھ کم کر لیتا ہے، یا تو خریداریوں کا فلو کم کر لیتا ہے یا پھر کچھ چیزوں کی خریداری نیا کیش انفلو آنے تک مؤخر کر دیتا ہے۔

    بالکل یہی صورتحال کمپنیز اور اداروں کو بھی پیش آتی ہے جب وہ پانچ تاریخ کی بجائے بیس تاریخ کو تنخواہیں ادا کرتے ہیں تو اس دوران وہ بھی ڈیفالٹ کی پوزیشن میں ہی ہوتے ہیں، جن سرکاری و غیرسرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور ٹھیکیداروں کی پیمنٹس لیٹ ہوتی ہیں بعض اوقات دو چار ماہ تک بھی ڈیلے ہو جاتی ہیں اس وقت ان کے ادارے بھی ڈیفالٹ کی پوزیشن میں ہوتے ہیں، آپ پیمنٹ مانگتے ہیں وہ کہتے ہیں فی الحال تو ہے نہیں جب ہو گی تب دے دیں گے۔

    ایسی صورتحال میں جیسے ایمپلائی کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا ایسے دنیا بھی اپنی بنی بنائی منڈی ایک دم سے اویکیوایٹ نہیں کر جاتی، انہیں پتا ہے کہ دیفالٹ ریزوم ہوجاتا ہے مگر منڈی میں دوبارہ جگہ بنانا مشکل ہوجاتا ہے۔

    اب آپ کو سمجھ آگئی ہو گی کہ سری لنکا ڈیفالٹ کرنے کے بعد دوبارہ کیسے چل گیا اور کیسے چل رہا ہے، پھر سری لنکا کے ڈیفالٹ کرنے کے بعد کونسے ملک نے اس پر جزوی یا کلی قبضہ کر لیا ہے؟

    سری لنکا میں جو بھی اودھم مچا اور جلاؤ گھیراؤ ہوا وہ ان کی اپنی قوم نے ہی کیا تھا، باہر سے کسی نے ان پر توپ نہیں چلائی تھی، یہی صورتحال اب یہاں پر ہے، کچھ باؤلے اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کہیں سے ڈیفالٹ ہونے کی آواز آجائے تو ہم بھی آگ لگانے نکلیں، سارا واویلا صرف اس بات کا ہے۔

    خدانخواستہ ڈیفالٹ ہو بھی گیا اور لوگوں نے اشرافیہ کا گھیراؤ جلاؤ کر بھی لیا جیسے سری لنکا میں ہوا تو کچھ دن بعد آؤٹ۔فلو پھر سے ریزوم ہو جائے گا اور صورتحال نارمل ہوجائے گی۔

    ڈیفالٹ کا وقتی نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعض اشیاء کی کم یابی سے انفلیشن بڑھتی ہے اور صنعتی و تجارتی پہیہ سلو ہو جاتا ہے یا رک رک کے چلتا ہے اسلئے ڈیفالٹ ہرگز ہرگز نہیں ہونا چاہئے، اس کے کچھ ڈیمیرٹس ضرور ہیں لیکن قرقی جیسی کوئی صورتحال نہیں جیسا کہ خوف مچایا ہوا ہے۔

    خدانخواستہ ایسی کوئی صورتحال پیش آجائے تو اپنی ضروریات کو شرنک کریں اور انارکی پھیلانے یا گھیرا جلاؤ کرنے سے باز رہیں، ایسے موقع پر صبروتحمل اور اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ذمہ داروں کو اس مشکل سے نکلنے کیلئے سکون سے راہ ہموار کرنے دیں۔

  • کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ملک میں جاری حالیہ آٹا بحران میں زیادہ تر لوگ حکومت کو کوس رہے ہیں۔ لیکن کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ جو گندم ہمارے ملک میں پیدا ہوتی ہے اس کا کم سے کم چالیس فیصد ہم سب مل کر ضائع کر دیتے ہیں۔ اور اس ضائع کرنے میں امیر غریب سب شامل ہیں۔ ہر گھر میں روزانہ ایک سے دو روٹی زیادہ بنتی ہے جو ضائع ہو جاتی ہے۔ مختلف تقریبات خاص طور پر شادیوں پر تو بے انتہا کھانا ضائع ہوتا ہے۔ تب زیادہ تر لوگ یہی سوچ رہے ہوتے کہ مفت کا ہے، جیسے مرضی ضائع کرو لیکن وہی ضائع کرنا آج ہمارے سامنے آ رہا ہے۔

    پھر جب ہوٹلوں میں کھاتے ہیں تب بھی ذرا سی روٹی ٹھنڈی ہونے پر نئی منگوا لیتے ہیں کہ پر ہیڈ ہی پیسے دینے ہیں تو کیوں نہ تازہ منگوائی جائے۔

    ہمارے ملک میں گندم کی پیداوارتو ایک خاص حد تک ہے۔ اب اس میں سے جو بھی روٹی ضائع کرتے ہیں تو وہ ہمارے ملک کی گندم ہی ضائع ہوتی ہے۔ اس طرح جو ہم چالیس فیصد ضائع کر دیتے ہیں وہی گندم پھر ہمیں باہر سے منگوانی پڑتی ہے اور باہر سے منگوانے کے لیے ہمیں ڈالر چاہیں جو نہیں ہوتے۔ کیونکہ ڈالر تب آنے ہیں جب ہم ملک میں سے چیزیں باہر بیچیں اور پھر ان کے بدلے دوسری چیزیں منگوائیں۔

    اب یہ تو ہم سب کر سکتے ہیں کہ جو بھی ہمارے بس میں ہو وہ روٹی ضائع نہ کریں بلکہ جو بھی بچے بڑے ، مردو خواتین ضائع کر رہے ہوں انھیں سمجھائیں۔ خواتین گھر میں روٹی بنانے سے پہلے سب گھر کے افراد سے پوچھیں کہ کس کس نے کھانی ہے اور کتنی کھانی ہے تاکہ اتنی بنائیں۔ جس دن بچ جائے اگلے دن اتنی کم بنائیں۔ جو بچ جائے وہ کوشش کریں کہ کسی غریب کو دے دیں تاکہ اس کا پیٹ بھر جائے۔

    اسی کے ساتھ کچن گارڈننگ کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ گھر میں جو بھی ممکن ہو لازمی اگائیں۔ جیسے اگر ہم خود اپنا پیاز، لہسن بھی اگا لیں تو ملک کو ان پر جو ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں وہ بچ جائیں گے۔ تو ہم تھوڑا سا بھی حصہ ڈالیں تو تھوڑا تھوڑا کر کے ہی بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

    حکمران نااہل ہیں، اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہم اپنے حصے کا کام تو کریں۔ اس سے ہی بہت زیادہ فرق پڑ سکتا ہے۔
    شئیر کریں، اگر ہم صرف پانچ فیصد ضائع ہونے والی روٹی ہی بچا لیں تو ہمارا ملک کبھی گندم کے بحران کا شکار نہ ہو۔

  • ڈالر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ — عمیر فاروق

    ڈالر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ — عمیر فاروق

    ہمارے لوگ عام طور پہ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ امریکہ نے اپنی کرنسی کا نام ڈالر رکھا تو امریکہ کی مقبولیت اور طاقت کی وجہ سے یہ نام پھیلا۔

    جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔ ڈالر نام کی کرنسی کا امریکہ سے کوئی تعلق نہ تھا اور یہ امریکہ کی دریافت سے قبل ہی مقبول عالمی کرنسی بن چکی تھی۔

    اس کا آغاز قرون وسطی کے اواخر میں یورپ میں موجود ہولی رومن ایمپائر کی ریاست بوہیمیا سے ہوا تھا۔ اس وقت سونے چاندی تانبے کے سکے ہوا کرتے تھے اور انکی قیمت انکے وزن کے حساب سے ہوتی تھی۔ اس دور میں بوہیمیا کی ریاست نے چاندی کا یہ سکہ جاری کیا جس کا نام ٹالر Thaler تھا جو بگڑ کر ڈچ اور انگلش میں ڈالر ہوا اور فرنچ سپینش اٹالین میں دالر( جو اصل مخرج کے قریب ترین تھا)؟

    اس سکے کی کامیابی کی وجہ اس کا وزن اور قیمت تھی جس کی وجہ سے یہ بین الیورپی تجارت کا کامیاب ترین سکہ بن گیا۔ ڈالر بطور سکہ کامیاب کیوں ہوا ؟ اس کی وجہ شائد یہ تھی کہ تب بڑی ریاستوں ، سپین، انگلستان فرانس اور سویڈن کے سکے بڑے تو تھے لیکن ریاستی کنٹرول تھا اور ان ریاستوں کی زیادہ تجارت ملک کے اندر ہی ہوتی تھی جبکہ ہولی رومن ایمپائر ایک ڈھیلا ڈھالا نیم وفاق تھا جس میں بے شمار ریاستیں اندرونی طور پہ آزاد تھیں اٹلی کا بھی یہی معاملہ تھا بے شمار ریاستوں میں بٹا ہوا تھا اور آج کا ہالینڈ تب لو لینڈز یا فلانڈرز تھا ان ریاستوں بشمول لکسمبرگ کی زیادہ تجارت ریاست سے باہر بین ال یورپی تھی تو یہ سکہ ان سب میں بہت کامیاب ہوا۔

    دریں اثنا امریکہ دریافت ہوا تو امریکہ کی یورپ سے تجارت بہت بڑھ گئی اور یہ تجارت بھی ڈالر میں ہونا شروع ہوگئی تو امریکہ کی سپینش کالونیز کے گورنرز نے بھی سپینش پسیتہ کی بجائے ڈالر کے سائز کا سکہ ڈھالنا شروع کیا جو سپینش ڈالر کہلایا۔ تب ارجنٹائن میں چاندی کی پیداوار اتنی زیادہ تھی کہ ملک کا نام ہی ارجنٹینا رکھ دیا گیا جس کا مطلب چاندی تھا۔ یوں چاندی کا ڈالر عالمی کرنسی بن گیا اور امریکہ کی برطانوی نوآبادیوں نے بھی برٹش پاؤنڈ کی بجائے ڈالر کی کرنسی اختیار کی کیونکہ تجارت اسی کرنسی میں ہو رہی تھی۔

    تب ہر ملک کا ڈالر اگرچہ الگ تھا لیکن وزن ایک ہی تھا۔

    یہ اٹھارویں صدی تھی اگرچہ سپین اور برطانیہ کی سلطنت بہت پھیل چکی تھی لیکن دنیا بھر میں پھیلی انکی نوآبادیات برطانوی پاؤنڈ یا سپینش پسیتہ کی بجائے ڈالر کو ہی بطور کرنسی اختیار کرنے پہ مجبور تھیں کیونکہ یہی عالمی تجارت کی کرنسی تھی دریں اثنا یورپ میں ہولی رومن ایمپائر دم توڑ گئی اور اس کی جگہ آسٹرو ہنگیرین ایمپائر نے لی جس کی کرنسی فلورین تھی۔ یوں ڈالر کا اس کی جنم بھومی میں تو خاتمہ ہوگیا لیکن یہ دنیا بھر میں پھیلی مختلف نوآبادیوں کی کرنسی تھی جس میں آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، ہانگ کانگ ، سنگاپور کے علاوہ افریقہ اور امریکہ کی نوآبادیات شامل تھین۔

    ۱۷۷۴ میں برطانیہ سے آزادی کے بعد امریکہ نے بھی ڈالر کو اپنی قومی کرنسی بنایا۔

    اس طرح دنیا انیسویں صدی میں داخل ہوئی جس میں عالمی تجارت میں اہم تبدیلیاں ہوئیں۔ اور دنیا کا محور برطانیہ بنتا چلا گیا۔ نپولین کی شکست کے بعد برطانیہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ رہی وہ پورے انڈیا کا مالک بنا بلکہ ایشیا و افریقہ میں اس کی نوآبادیات کا جال بچھ چکا تھا اب عالمی تجارت کا مرکز لندن بن گیا۔

    دوسرے برطانیہ میں صنعتی انقلاب آیا تو برطانیہ ہی سارئ دنیا کی ورکشاپ بن گیا ساری دنیا برطانیہ سے تجارت پہ مجبور تھی۔ تب برطانوی پاؤنڈ سٹرلنگ عالمی تجارت کا سکہ بن گیا۔ ڈالر کو مزید دھچکا تب لگا جب بینک آف انگلینڈ نے دھاتی سکہ کی بجائے بینک نوٹ شائع کرنا شروع کردیا تو یہ تجارت کا آسان طریقہ تھا۔ یوں ڈالر کی بجائے پاؤنڈ کو اہمیت ملنا شروع ہوگئی۔ اسی دوران جب پیپر کرنسی ہر جگہ رائج ہوئی تو ہر ملک کے ڈالر کی قیمت الگ الگ ہوتی گئی۔ اس طرح ڈالر کی قیمتیں بھی مختلف ہوتی گئیں اور عالمی تجارت کی ترجیحی کرنسی بھی نہ رہا۔

    ڈالر کو دوبارہ عروج دوسری جنگ عظیم کے بعد ملا جب برطانوی ایمپائر بھی ختم ہوگئی اور سونے چاندی کا ذخیرہ بھی لندن سے نیویارک منتقل ہوگیا تو بریٹن وڈ معائدہ کے بعد پاؤنڈ سٹرلنگ کی بجائے امریکی ڈالر پھر سے عالمی تجارت کی کرنسی بن گیا جو اب تک ہے۔

  • اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟ — خطیب احمد

    اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟ — خطیب احمد

    زیادہ عمر کے لڑکے شادی کے لیے خود سے کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے۔ اور دوسری طرف زیادہ عمر کی لڑکیاں کم عمر لڑکوں کے رشتے خود ٹھکرا دیتی ہیں کہ انہیں لگتا خاوند عمر میں بڑا ہی ہونا چاہیے۔

    اور اسی چیز کا رواج بھی ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی جگہوں پر دیکھا لڑکے والے ترلے کر رہے ہوتے مگر لڑکی اسی بات پر اڑ جاتی کہ عمر میں چھوٹے لڑکے سے شادی کسی صورت نہیں کروں گی۔

    دونوں پارٹیاں عمر کو میچ کرنے میں کئی قیمتی سال گنوا لیتی ہیں۔ جبکہ عمر میں چار پانچ سال کی اونچ نیچ دونوں طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں دونوں پارٹیاں میچور ہوں۔

    اسی طرح ایک ڈس ابیلٹی اپنی ہی ڈس ابیلٹی کو شادی کے لیے سوٹ ایبل گردانتی ہیں۔ جیسے ڈیف کی شادی ڈیف سے بلائنڈ کی شادی بلائنڈ سے اور وہیل چیئر یوزر کی دوسرے وہیل چیئر یوزر سے پولیو افیکٹڈ کے لیے پولیو افیکٹڈ یا کلب فٹ رشتہ تلاش کیا جاتا۔ اسی طرح بونوں کی شادیاں بونوں میں ہی ہوتی ہیں اور یہ پریکٹس بھی بدلنے کا نام تک نہیں لے رہی۔ کہ جو جیسے ہو رہا ہے ہم اسکو اسی روٹین میں کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اور ایک دائرے کے باہر کچھ بھی دیکھنے یا سوچنے کی صلاحیت جیسے کھو چکے ہیں۔

    ایک طلاق شدہ لڑکی ہو یا لڑکا دونوں کے لیے سیکنڈ آپشن طلاق شدہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں کو تو کنواری لڑکیاں اکثر مل جاتی ہیں۔ مگر کسی طلاق شدہ یا بیوہ لڑکی کو کنوارہ لڑکا ملنا مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ میں نے کئی طلاق شدہ لڑکیوں کو کنوارے لڑکے کی بیوی بنتے دیکھا ہے بس انہوں نے اس معاملے کو زرا سمارٹلی ہینڈل کیا ہوتا۔

    جو ہوتا آرہا ہے ہم بھی ویسا ہی کریں گے۔ ایسا ضروری نہیں ہوتا۔ سب سے پہلا کام جو کرنا ہوتا وہ خود کو ویلیو دینا ہوتی ہے۔ اور پھر آپکو ویلیو دینے والے بھی مل جاتے ہیں۔

    خود کو ویلیو یا اپنی کئیر بس شادی تک ہی نہیں کرنی ہوتی؟ بلکہ شادی کے بیس سال بعد تک تو ہر صورت کرنی ہوتی ہے۔ اور میرا مخاطب لڑکے ہیں۔ آپ جو شادی کے بعد پیٹ بلٹ سے باہر لٹکا کا جھارا پہلوان بن جاتے یہ کیا ہے؟ وزن بڑھنا تو ایک پہلو ہے ہم لڑکے کئی پہلوؤں سے اپنی کئیر کرنا اور آگے بڑھنا شادی کے بعد ختم کر دیتے ہیں۔ دوستیاں ختم ہو جاتیں ٹوور ختم ہو جاتے کئیریر وہیں کا وہیں جام ہو جاتا اور وہی ہوتا جو ہمارے ابا جی کے ساتھ ہوا تھا۔ اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟

  • ہیلتھ لیوی ، ٹیکس اوراس کی قانونی حیثیت :تحریر۔  آمنہ امان

    ہیلتھ لیوی ، ٹیکس اوراس کی قانونی حیثیت :تحریر۔ آمنہ امان

    حکومت کسی کاروبار ,پراڈکٹ ,کمپنی یا جاٸیداد پر مخصوص ٹیکس لگاۓ اور ٹیکس لگانے کا مقصد بھی واضح بیان کیا جاۓ تو اسے لیوی کہتے ہیں ۔ لیوی کی منظوری دونوں ایوانوں سے لی جاتی ہے اور اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاتا کیونکہ اسے باقاعدہ مقصد کے تحت عوامی نماٸندوں سے منظوری کے بعد نافذ کیا جاتا ہے۔ لیوی ٹیکسز لگاتے وقت حکومت باقاعدہ طور پر مقصد بتاتی ہے کہ یہ کن وجوہات کی بنإ پر نافذ کیا جارہا ہے اور بعض صورتوں میں اس کی مدت کا تعین بھی کیا جاتا ہے اور مقررہ مدت کے بعد یہ غیرمٸوثر ہوجاتا ہے۔ لیوی ٹیکس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی حکومت کی کلی صوابدید پر منحصر ہوتی ہے۔

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :
    میکسیکو، انڈیا ، آسٹریلیا ، برطانیہ سمیت دنیا کے کٸ ممالک میں شوگر یعنی چینی پر مشتمل مشروبات پر اضافی ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے جہاں ان ممالک میں ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوا ہے وہیں ذیابیطس ، ہارٹ اٹیک ،فالج اور کٸ دیگر امراض پر قابو پانے میں بھی کافی مدد ملی ہے۔ موٹاپا بھی اس وقت دنیا کے کٸ ممالک میں اہم مسٸلہ بنا ہوا ہے جو بذات خود کٸ قسم کے امراض کو دعوت دیتا ہے جس کا انجام دردناک موت ہوتا ہے۔ موٹاپے کی اہم وجہ بھی شوگری اور کاربونیٹڈ مشروبات اور جنک فوڈ ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں تمباکو اور دیگر ڈرگز پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے ان کے پھیلاٶ پر قابو پایا گیا ہے۔ نشہ آور اشیإ کے استعمال میں روک تھام اور نٸ نسل کو اس کے مضمرات سے محفوظ رکھنے میں بھاری ہیلتھ لیوی کانفاذ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تمباکو نوشی کینسر ،ٹی بی، اور دمہ کا سبب تو بنتی ہی ہے مگر اس کے عادی افراد بہت سی معاشرتی خرابیوں کا باعث بھی بنتے ہیں کیونکہ اس کا استعمال افراد کو اعصابی طور پر کمزور بنا دیتا ہے وہ چڑچڑے اور غصہ ور ہوجاتے ہیں ان کی قوت فیصلہ بھی کم ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی ایک ایسی لت ہے جسے پورا کرنے کے لیےعادی افراد چوری چکاری جیسے جراٸم بھی کرسکتا ہے۔ گویا مضر صحت اشیإ جیسے نام نہاد انرجی ڈرنکس، کاربونیٹڈ مشروبات ، فلیورڈ جوسز ، سگریٹ ، پان اور چھالیہ وغیرہ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے ملک کو دوہرا فاٸدہ ہوتا ہے۔ اک طرف ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا دوسری طرف بیماریوں کی مد میں خرچ ہونے والی رقم کی بچت ہے۔ اور لوگوں کی عمومی صحت میں بہتری کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا کے کٸ ممالک مضر صحت اشیإ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے اپنے ملک کے خزانے کو فاٸدہ پہنچا رہے ہیں ۔ اور یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ ان ممالک میں مذکورہ بالا بیماریوں کی شرح میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوٸ ہے۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کا نفاذ:
    2019 میں اک سماجی تنظیم سپارک نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہونے والے نقصانات کے متعلق آگاہ کرتے ہوۓ بتایا کہ پاکستان میں تقریبا روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی کرتے پاۓ جاتے ہیں اور ہر سال 170000 لوگ تمباکو نوشی کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر موت کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔ جن میں سرفہرست کینسر، ٹی بی اور دمہ ہیں۔
    اور اس کے علاوہ صرف تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے 615 بلین روپے کا سرکاری خزانے پر بوجھ پڑتا ہے جو ملکی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔پاکستان ذیابیطس کے مرض میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے سالانہ تقریباً 70000 لوگ اسی مرض کی پچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار یقیناً نہایت تشویش کا باعث ہیں۔ اس کے علاوہ موٹاپے کا مرض بھی پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جس سے افراد کے کام کرنے کی صلاحیت ہر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور دل کی بیماریوں فالج اور برین ہیمبرج جیسے امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ شوگری مشروبات کے باقاعدہ استعمال سے بڑوں میں 27 فیصد جبکہ بچوں میں 55فیصد وزن بڑھ جاتا ہے ۔ جو بعد میں کٸ امراض کا پیش خیمہ بنتا ہے۔

    ان تمام امراض اور ان کے باعث ہونے والی جانی ومالی نقصان سے بچنے کے لیے نقصان دہ مشروبات ، پان وچھالیہ اور سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنا لازمی امر ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس پہلو پر توجہ نہیں دی گٸ اور خاص طور پر تمباکو سگریٹ گٹکے اور انرجی ڈرنکس کے ملک میں بکثرت استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے مٸوثر قانون سازی نہیں کی گٸ۔ حالانکہ گٹکا نسوار اور پان کی لت پاکستان میں مردوں کے علاوہ خواتین میں بھی پاٸ جاتی ہے اور سالانہ لاکھوں شہری ان کی وجہ سے ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وجہ ان چیزوں کا انتہای سستے ریٹس پر بکثرت دستیاب ہونا ہے ۔ جس سے پاکستان میں کینسر ذیابیطس اور دل کے امراض میں بہت اضافہ ہوچکا ہے ۔ٹی بی اور ہیپاٹاٸٹس کے امراض بھی ملک و قوم کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان سب کی اہم وجہ حکومت کی طرف سے اس معاملے میں کوتاہی ہے ۔ تاہم اب حکومتی سطح پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ اور اس کے یقینی حصول کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گٸ ہے۔ جو کہ نہایت خوش اٸند ہےاس سے امید پیدا ہوٸ ہے کہ مستقبل میں بھاری ہیلتھ لیوی کے نفاذ سے مضرصحت اشیإ کی خریدوفرخت میں واضح کمی لاٸ جاسکے گی۔

    اگر حکومت دنیا کے دیگر ممالک کے اعداد وشمار اور طریقہ کار کے علاوہ پاکستان کے اندرونی حالات کو مدنظر رکھ کر مضر صحت اشیإ پر زیادہ سے زیادہ ہیلتھ لیوی نافذ کرے تواس کے ناصرف خزانے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ عوامی صحت میں بھی نمایاں بہتری اۓ گی۔ ہیلتھ سیکٹر پر اٹھنے والےاخراجات میں بھی کمی لاٸ جاسکے گی۔ صرف سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے حکومت سالانہ 40 ارب روپے جمع کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کاربونیٹڈ اور شوگری مشروبات پر بھی بھاری ہیلتھ لیوی کا اطلاق کافی ریونیو جمع کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور ان اشیإ کے بے تحاشا استعمال کو قابو کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ من پسند کمپنیز اور لوگوں کو چھوٹ ناں دی جاۓ بلکہ بلاتخصیص تمام مضر صحت پراڈکٹس پر ہیلتھ لیوی نافذ کی جاۓ اور اس کی شرح بھی حتی الامکان بلند رکھی جاۓ۔ اس پروگرام کو کرپشن کی نذر ہونے سے بھی بچایا جائے تاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں فاٸدہ ہوسکے اور معاشرے پر اس کے مثبت اثرات نظر آٸیں۔

  • تمباکو پرزیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر:نصیب شاہ شینواری،لنڈیکوتل

    تمباکو پرزیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر:نصیب شاہ شینواری،لنڈیکوتل

    تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر: نصیب شاہ شینواری، لنڈیکوتل
    چھوٹے بچوں کو بازاروں اور گاوں میں سیگریٹ یا نسوارلانے کے لئے کسی دوکان کو نہیں بھیجنا چاہئے اس لئے کہ سیگریٹ لانے سے یہ بچے خود بھی سیگریٹ اور دوسرے خطرناک قسم کی منشیات استعمال کرنے کے عادی بن سکتے ہیں ، یہ بات عام مشاہدے کی بھی ہے کہ یہی بچے پھر بڑے ہوکر بھی بڑی شوق سے سیگریٹ اور نسوار کا استعمال کرتے ہیں ۔ یہ مفید اورکارآمد باتیں ضلع خیبر کے تحصیل لنڈیکوتل کے ایک سماجی کارکن اختر علی شینواری کی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ آج کل سیگریٹ اور دوسرے منشیات کا استعمال عام ہورہا ہے اور معاشرے میں ہرکسی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اور جتنا ہوسکے اپنے قریبی دوستوں،رشتہ داروں کو سیگریٹ پینے و دیگر منشیات سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور لوگوں کو سگریٹ نوشی کی لعنت سے بچایں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر غریب مزدورکار اورتنخوادار طبقہ کے ہزاروں افراد بھی سیگریٹ نوشی کی لعنت میں مبتلا ہے اور کمزور مالی حالت کی وجہ سے ان کے اپنے بچوں کی کفالت پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ پاکستان کے 1973 آئین کے تحت ہرشہری کو بنیاد صحت کی سہولیات دینا ان کا قانونی حق ہے اور یہ ذمہ داری حکومت اور ریاست کی ہے کہ پاکستان کے ہرشہری کو سرکاری ہسپتال میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    پاکستان کی حکومت نے سال 2019 میں ہیلتھ لیوی بل پاس کیا لیکن اس بل کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا جاسکا۔ اس بل کے مطابق تمباکو پری لیوی ٹیکس لاگو ہوگی جس سے ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا ور سیگریٹ نوشی کو کم کیا جائے گا،اگر حکومت پاکستان یہ ٹیکس واقعی تمباکو نوشی،سگریٹ پر لاگو کریں تو اسے سے ہمارے معیشت کو بہت زیادہ فائدہ ہوگاِ، سیگریٹ پر ٹیکس زیادہ کرنے سے لوگ سگریٹ کو کم خریدیں گے اور اس طرح یہ غریب لوگوں کی پہنچ سے دور ہوجائے گی اوراس سے ان لوگوں کو ایک قسم کا مالی فایدہ بھی ہوگا۔ اخترعلی شینواری کا کہنا ہے کہ تمباکو اور سگریٹ پرحکومت کو زیادہ ٹیکس لگانا چاہئے ِ، ان کا کہنا تھا کہ اس سے ملکی معیشت اور عام لوگوں کی مالی حالت بہتر ہوگی، کم از کم غریب لوگ سگریٹ نوشی سے چھٹکارہ پائیں اور یہی پیسے جو یہ لوگ سگریٹ خریدنے کے لئے خرچ کرتے ہیں،انہی پیسوں سے بچوں کے لئے کوئی کارآمد چیز خرید سکیں گے۔ ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی سے خطرناک عادت ہے اور یہ انسان کی صحت پر بہت ہی برا اثر کرتے ہیں، موصوف کا کہنا تھا کہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتا ہے اور یہ انسانی دماغ کو بری طرح متاثر کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی مسلسل استعمال سے ان کا دماغ متاثر ہوتا ہے، پھر دماغ میں طرح طرح کے دیگر برے خیالات جنم لیتے ہیں اور انسان کسی دوسرے نشہ کا بھی استعمال شروع کرتا ہے۔انسان پر سگریٹ نوشی کا برا اثر یہ ہے کہ یہ برا عمل انسان کو خودکشی پر مجبور کرتا ہے اور یہی سگریٹ نوشی بہت سے افراد کی خودکشیوں کی سبب بھی بنی ۔ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمباکو نوشی کنٹرول ادارے کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بارہ سو افراد سیگریٹ نوشی کا استعمال شرو ع کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت خطرناک ہے اعداد و شمار ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں لوگ سیگریٹ کے عادی بن رہے ہیں۔

    سیگریٹ کن خطرناک بیماروں کا سبب ہے؟
    جب ڈاکٹر سے پوچھا گیا کہ سیگریٹ نوشی سے کن کن بیماریاں انسان کو لاحق ہوسکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کئی خطرناک قسم کی بیماریاں سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوسکتی ہے۔ منہ کینسر، حلق کینسر ِ، خوراک کی نالی کینسر، معدے کا کینسر ، پھیپھڑوں کا کینسر، بڑی انت کینسر، معدے کی کینسر، مثانہ کینسر، جنسی کمزوری ِ، عارضہ قلب جان لیوا بیماریاں ہیں جو سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان کو لگ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی ممالک جیسے انگلستان میں عام جگہوں میں کوئی سیگریٹ نہیں پی سکتا اور سیگریٹ نوشی کے لئے مخصوص جگہیں ہیں جہاں انسان سیگریٹ نوشی کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا اور مطالبہ تھا کہ حکومت پاکستان کو بھی سیگریٹ اور تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگا نا چاہے تاکہ عام لوگ سیگریٹ کو خرید نہ سکیں اور اس طرح یہ دوسرے لوگوں کو بھی بیماریوں سے بچا سکیں۔ ان کا کہنا تھا سیگریٹ نوشی سے کیی خطرناک بیماریاں لوگوں کو لاحق ہوتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت لوگوں کی صحت پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کرتی ہے، اگر سیگریٹ پر ٹیکس لگائی جایں تو اس سے معیشت مضبوط ہوگی، لو گ اسے کم خریدیں گے اور لوگ کم بیمار ہوجائیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انسان اپنی پختہ عز م ہی کی وجہ سے سیگریٹ نوشی کو ترک کرسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ورزش اور ایک انسان کی مضبوط قوت ارادی ہیں ایسے کام ہیں جن کی وجہ سے انسان سیگریٹ نوشی سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔ لنڈیکوتل کے ایک صحافی فرہاد شینواری کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عام جگہوں میں سیگریٹ نوشی پر پابندی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی فرد ایسی جگہ پر سیگریٹ نوشی کریں جہاں پر پابندی ہو تو حکومت انہیں 250 ڈالرز جرمانہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ نوشی نے لئے امریکا میں مخصوصی جگہیں ہیں جہاں اپ سیگریٹ پی سکتے ہیں۔

    بحثیت مسلمان بھی ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم سیگریٹ نوشی کے خاتمہ کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور معاشرے میں اس لعنت کے خلاف اٹھ کھڑے ہو اس لئے کہ قرآن اور سنت رسول ﷺ نے ہر نشہ اور چیز کو حرام کردیا ہے، کچھ بدقسمت اور کم علم لوگ کہتے ہیں کہ سیگریٹ نشہ اور نہیں ہے تو ان کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ مصر کے ایک مشہور عالم دین نے سال 2000 میں ایک فتوی جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ انسانی صحت پر برے اثرات کی وجہ سے دین اسلام میں سیگریٹ نوشی حرام ہے۔

    مختلف مکاتب فکر کے لوگوں اور سیگریٹ نوشی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے سربراہان کا بھی بہت عرصہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ سیگریٹ نوشی کی حوصہ شکنی کے لئے ہیلتھ ٹیکس لانا اور لاگوں کرنا چاہئے تاکہ سیگریٹ مزید مہنگی ہوسکیں اور یہ عام لوگوں کی دسترس سے دور ہو۔حال ہی میں سیگریٹ نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ نے مری میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں میڈیا انفلوینسرز اور ماہرین صحت نے شرکت کی۔
    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے مذکورہ تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو شارق محمود نے کہ پاکستان میں سیگریٹ نوشی میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آے روز بچے اور نوجوان سیگریٹ کے عادی بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ ہیلتھ لیوی کو لاگو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ پر ہیلتھ لیوی کی شکل میں ٹیکس کے نفاذ سے ملکی خزانے کو 60 ساٹھ ارب روپے کا فایدہ ہوگا۔

    ریونیو ڈویژن حکومت پاکستان کے سرکاری ویب سایٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر(فیڈرل بورڈ آف ریوینیو) نے تمباکو کے استعمال پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کے بارے میں 21 جنوری کو پریس کے کچھ حصے میں شائع ہونے والی ایک خبر پر وضاحت جاری کی ہے۔ قانونی اور آئینی ماہرین کا موقف ہے کہ صحت ایک صوبائی موضوع ہے اور وفاق تمباکو کے استعمال پر ہیلتھ ٹیکس نہیں لگا سکتا۔ اس کے نتیجے میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے سگریٹ پر تین درجے والے ٹیکس کے ڈھانچے کو ختم کر دیا اور FED کو بھی نمایاں طور پر بڑھا دیا۔

    بجٹ تقریر 2019-20 میں، اس وقت کے وزیر ریونیو نے واضح کیا کہ تمباکو کے شعبے سے حاصل ہونے والی فیڈرل ایکسائز اینڈ ڈیوٹی کا وفاقی حصہ ترجیحی طور پر وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کو دیا جائے گا جس کے نتیجے میں ہیلتھ لیوی کا مسئلہ حل ہو جایں گا۔ سابق صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ نے روزنامہ ڈان میں شائع ایک تحریر میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ (1948) نے صحت کو بنیادی حق قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا آئین بھی ”ہر انسان کے بنیادی حق کے طور پر صحت کے اعلیٰ ترین قابل حصول معیار” کا تصور کرتا ہے۔ وہ اپنی تحریر میں مزید لکھتا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی کے ہدف 3 کے تحت یونیورسل ہیلتھ کوریج (UHC) کے لیے بھی پرعزم ہے۔

  • ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    سوسائٹی فار پروٹیکشن آف رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک) کی جانب سے 16 نومبر 2022 بروز بدھ کو منعقدہ مباحثے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ مقررین نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے بچانے کے لئے لیوی عائد کرے۔پارلیمانی سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز نے تشویشناک اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ روزانہ 1200 بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور ہر سال ایک لاکھ 70 ہزار افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ وزارت صحت تمباکو نوشی کرنے والے تمام بچوں کے حق میں اقدامات کی حمایت کرنے کے لئے پرعزم ہے کیونکہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد ، جو پہلے ہی 31 ملین ہے ، میں مزید اضافہ نہ ہو۔ اور ہماری نوجوان نسل اس بڑہتے ہوئے معاشرتی فتنے سے دور رہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی کے نتائج خطرناک حد تک بڑہتے چلے جا رہے ہیں۔ اور زیادہ سے زیادہ نقصانات رونما ہو رہے ہیں۔ طلباٰء، بچے اور نوجوان نسل تمباکو نوشی کا شکار ہیں۔ بژے بڑے مافیاز اس کی اسمگلنگ کر کے، اور نوجوان نسل میں پھیلا کر پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔سال 2019 میں وفاقی کابینہ نے تمباکو کی کھپت میں کمی اور سالانہ 60 ارب روپے کمانے کے لیے ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) عائد کرنے کے بل کی منظوری دی تھی۔ تاہم بہت سے پالیسی سازوں نے بل کو مسلسل روک دیا ہے اور اس وجہ سے فی کس آمدنی میں اضافے کی وجہ سے تمباکو کی مصنوعات زیادہ سستی ہوگئی ہیں۔ کم عمر بچے اور کم آمدنی والے افراد تمباکو کی صنعت کا بنیادی ہدف ہیں۔ تاہم پارلیمنٹ کو فوری طور پر ہیلتھ لیوی بل پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ایک ایکٹ بن سکے اور اسے پورے ملک میں نافذ کیا جاسکے۔ اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

    سگریٹ اورنکوٹین پائوچز جیسی مصنوعات نوجوان نسل کے لئے تباہ کن ہیں، دنیا بھر میں تمباکو کی صنعت سے وابستہ بزنس مین ہمارے نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔اس لیے تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ افراط زر اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہو۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے تمباکو کی صنعت کی سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔تمباکو ٹیکس کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے سب سے نچلے درجے کے ممالک میں سے ایک ہے اور چونکہ تمباکو کی مصنوعات مالی نقصان کا باعث بن رہی ہیں اس لیے صنعت کو اس عدم توازن کی قیمت ادا کرنی چاہیے جو اس نے پیدا کیں ہیں۔

    ماہرین صحت کے مطابق تمباکو نوشی کے خلاف موثر آواز اٹھانی چاہیے۔ اور اس ناسور کے خاتمہ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اور اس کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہیلتھ لیوی بل کو فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ یہ ایکٹ بن کر پورے ملک میں نافذ ہو سکے اور ہماری نوجوان نسل اس فتنہ سے پاک ہو کر پاکستان کی ترقی کے لیے کوششیں کرے۔

  • "نامکمل زندگی” — ریاض علی خٹک

    "نامکمل زندگی” — ریاض علی خٹک

    شیر شاہ کراچی میں کار کی پسنجر سیٹ پر انتظار کرتے شیشے سے دیکھا ایک لمبا تڑنگا مجہول سا سادہ آدمی مجھے غور سے دیکھ رہا ہے. آنکھیں چار ہوئیں تو وہ میری طرف بڑھا. سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دماغ نے کئی تجزیے کر ڈالے. یہ خطرناک علاقہ ہے لوٹنے والا نہ ہو.؟ یہ ضرور اب کچھ مانگے گا.؟ سیل فون بٹوہ کہاں ہے؟ کیا اوپری جیب میں کچھ کھلے پیسے ہیں؟

    وہ آدمی جب پہنچا تو اس نے پوچھا باو جی خیریت تو ہے؟ کوئی مسئلہ تو نہیں. میں نے کہا نہیں بھائی سب ٹھیک ہے دوست کا انتظار کر رہا ہوں. اس نے بند مٹھی میں مکئی کے دانے پکڑے تھے جو وہ کھا رہا تھا. اس نے کچھ شرمندگی سے کہا باو جی کھاو گے.؟ میں نے کچھ دانے لئے اور کہا کیوں نہیں بس بھائی دعا کرنا میری نظر کچھ کمزور ہے.

    سچی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی ہی نظر کمزور ہیں. ہم فوری دوسروں پر دیکھ کر ایک رائے بناتے ہیں اور اپنی سوچ و رائے کو ختمی سمجھ لیتے ہیں. یہی حال اسپیشل لوگوں پر معاشرتی سوچ کا ہے. ہم ان کو معذور سمجھ کر زندگی کا بوجھ سمجھ لیتے ہیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ اللہ جس نے ہمیں اگر مکمل بنایا تو اپنے ایک دوسرے بندے کو نامکمل کیوں بنایا.؟

    اللہ رب العزت انسانیت کی تصویر مکمل کرنے کیلئے ہمیں خالی جگہیں دیتا ہے. ان خالی جگہوں پر ان اسپیشل لوگوں کو مکمل سمجھ کر جب ہم جگہ دیتے ہیں تو تصویر مکمل ہوتی ہے. معاشرے کی سوچ جب معذور ہو جائے تب یہ خالی جگہیں نامکمل رہتی ہیں اور معاشرہ ٹھوکر پر ٹھوکریں کھاتا چلا جا رہا ہوتا ہے.

    ہماری بہن حنا سرور کی کتاب نامکمل زندگی بھی ایک شاندار اسپیشل شخصیت کی یہی سمجھاتی کوشش ہے. اسے مکمل پذیرائی دے کر اپنی بینائی کا ثبوت دیں. زندگی آپ کو بڑے بڑے عالم اور لکھاری فلسفی نہیں سمجھا سکتے. زندگی ہمیشہ عام لوگوں کی عام باتوں پر سمجھ آتی ہے بس اگر آپ کی نظر ٹھیک ہو.