Baaghi TV

Category: متفرق

  • گھر میں چوری سے کیسے بچا جائے!!! —- ڈاکٹر عدنان نیازی

    گھر میں چوری سے کیسے بچا جائے!!! —- ڈاکٹر عدنان نیازی

    دو سال قبل گھر میں چوری ہوئی تھی۔ اللہ کا کرم ہوا کہ جلد ہی چور بھی پکڑ لیے اور سامان بھی برآمد کر لیا۔ اس دوران چوروں سےپوچھ گچھ کے دوران، پولیس والوں سے اور دوسرے لوگوں سے بہت کچھ سیکھا۔ جن کی بنیاد پر کچھ پوسٹس تیار کی ہیں کہ چوری سے کیسے بچا جا سکتا ہے، اگر خدانخواستہ گھر میں چوری ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔

    1) کہیں جائیں تو باہر والے دروازے کو باہر سے تالا ہرگز نہ لگائیں۔ سب سے زیادہ اسی بات سے چوروں کو معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔ اگر گھر کے ایک سے زیادہ دروازے ہیں تو کسی ایک دروازے کو باہر سے ہمیشہ تالا لگا کر رکھیں تاکہ کہیں جانا پڑے تو وہی تالاباہر سے لگا کر چلے جائیں۔ اس طرح معلوم نہیں ہو پائے گا کہ آپ گھر پر نہیں ہیں کیونکہ وہ تالا تو ہمیشہ ہی باہر سے لگا رہتا ہو گا چاہے آپ گھر پر ہوں یا نہ ہوں۔

    2) آج کل ایسی لائیٹس مل جاتی ہیں جو کہ اندھیرا ہونے پر خود جل پڑتی ہیں۔ تھوڑی بجلی کھانے والی ایسی دو تین لائٹس گھر میں ضرور لگائیں۔ لیکن اگر یہ نہ ہوں تو پھر کوئی لائٹ آن چھوڑ کر نہ جائیں کہ جو لائٹ دن رات چلتی رہے اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔

    3) اگر زیادہ دنوں کے لیے جانا ہو تو کسی نہ کسی جاننے والے کو باہر والے دروازے کی چابی دے کر جائیں کہ وہ روزانہ ایک بار گھر میں ضرور چکر لگا لیا کرے۔

    4) چائنہ والا کوئی بھی تالا نہ لگائیں۔ ان کو کھولنا بہت ہی آسان ہوتا ہے۔ اس کی بجائے دیسی تالے لگائیں جن کی چابی بڑی مشکل سے بنتی ہے۔

    5) بیرونی دروازے لکڑی کے ہرگز نہ لگوائیں۔ بیرونی دروازے لوہے کے ہونے چاہیے، ایک تو انھیں توڑنا مشکل ہوتا ہے دوسرا توڑنے کی کوشش کی جائے تو آواز بہت آتی ہے جس کی وجہ سے کوئی چور انھیں ہاتھ نہیں ڈالتا۔

    6) اگر تین چار گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے گھر سے باہر جا رہے ہوں تو جتنے بھی دروازے ہوں سب کو تالے لگا کر جائیں۔ ان کمروں کو بھی جن میں کچھ بھی خاص نہ پڑا ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ خدانخواستہ کوئی چور آ بھی جائے تو زیادہ وقت اس کا تالے توڑنے میں ہی گزر جائے۔ چور کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد چیزیں سمیٹ کر چلتا بنے۔ پھر جس کمرے کو جتنا بڑا تالا ہو چور سمجھتا ہے کہ اس میں ضرور کوئی قیمتی چیز ہو گی۔

    7) سونے چاندی اور کیش کو کم سے کم مقدار میں گھر پر رکھیں۔ اگر کبھی مجبوری کی وجہ سے گھر پر ہو تو جاتے ہوئے ساتھ لے جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی جاننے والے کے پاس رکھوا جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو یا کم وقت کے لیے کہیں جا رہے ہوں تو پھر کسی ایسی جگہ رکھ کر جائیں جہاں چوروں کا خیال بھی نہ جائے جیسے واشنگ مشین میں، دھونے والے کپڑوں میں، کسی برتن میں وغیرہ وغیرہ

    8) گھر میں کام کرنے والی عورتوں یا مردوں، دودھ والے یا کسی بھی دوسرے شخص کو یہ نہ بتائیں کہ واپسی کب ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ کل نہیں آنا، جب آپ کو بلانا ہوا کال کر دیں گے۔ ایک دن کے لیے جانا ہو تب بھی یہی کہیں، زیادہ دنوں کے لیے جانا ہو تب بھی یہی کہیں۔

    9) گھر میں سیکیورٹی کیمرے ضرور لگوائیں۔ خاص طور پر ایسے کہ جن کی ویڈیو موبائل پر دیکھی جا سکے اور جن میں Motion Detection کا فیچر لازمی ہے۔ آج کل یہ بیس تیس ہزار میں لگوائے جا سکتے ہیں۔ اگر کیمرے لگوانا ممکن نہ ہو تو پھر بازار سے ڈمی کیمرے ملتے ہیں وہ لگوا لیں دو چار سو روپے میں۔ کیمرے کے ڈر کی وجہ سے ہی بہت سے چور گھر میں نہیں گھستے۔

    10) اگر گھر میں کام کرنے والی رکھنا ناگزیر ہوتو پھر اس کا لازمی طور پر تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر فری میں اندراج کروائیں،اس کے شناختی کارڈ کی کاپی لازمی رکھیں، اس کا گھر بھی دیکھ لیں اور یہ بھی معلوم کر لیں کہ گھر اپنا ہے یا کرائے کا۔ ان کو ترجیح دیں جن کا گھر اپنا ہو۔

    اگر خدانخواستہ چوری ہو جائے تو پھر کیا کرنا چاہیے کہ چور پکڑے جائیں۔

    1) آپ کہیں باہر سے آئیں اور معلوم ہو کہ خدانخواستہ گھر میں چوری ہو گئی ہے تو سب سے پہلے 15 پر کال کریں اور ساتھ یہ بھی کہیں کہ فرینزک والی ٹیم کو لازمی بھیجیے گا جو فنگر پرنٹس لے سکے۔ یاد رکھیں کہ مقامی تھانے میں ہرگز کال نہ کریں نہ ہی وہاں جائیں۔ وہاں جانے کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہونا۔ 15 پر کی گئی کال ریکارڈ ہوتی ہے اور اس پر لازمی ایکشن لیا جاتا ہے۔ 15 پر کی گئی کال کی وجہ سے پولیس فوراً آپ کے گھر آئے گی۔

    2) جس گھر میں چوری ہوئی ہو یا گھر کے جس حصے میں چوری ہوئی ہو اس میں کسی کو بھی نہ جانے دیں، خود بھی نہ جائیں جب تک کہ فرینزک والے فنگر پرنٹس نہ لے لیں۔

    3) فنگر پرنٹس لیتے وقت پولیس کے ساتھ رہیں اور اگر کوئی چیز ایسی نظر آئے جس پر کوئی نشانات ہوں تو اس کی نشاندہی ضرور کریں۔ فنگر پرنٹس شیشے اور صاف پلاسٹک والی چیزوں پر بہت اچھے آتے ہیں۔ اگر کسی چیز پر پینٹ ہوا ہو تو اس پر بھی۔ بعد میں پولیس سے پوچھتے بھی رہیں کہ کیا فنگر پرنٹس نادرا بھجوا دیے ہیں یا نہیں۔ اور اگر بھجوا دیے ہوں تو ان کا کیا بنا۔ اگر میچ نہ ہوں تو جن پر شک ہو ان کے فنگر پرنٹس لے کر بھجوائیں۔ آج کل فنگر پرنٹس سے بہت سے چور پکڑے جا رہے ہیں۔

    4) ایک دفعہ پولیس اپنی کاروائی پوری کر لے تو پھر تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر اپنی شکایت درج کروائیں اور اس کا حوالہ نمبر حاصل کریں۔ یاد رکھیں کہ یہ ایف آئی آر نہیں ہے۔

    5) اگلے دن آفس کی ٹائمنگ میں جا کر ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کریں۔ یہ اتنی آسانی سے نہیں ہوگی مگر جتنے بھی ممکن تعلقات ہوں سب کو بروئے کار لا کر ہر حال میں ایف آئی آر درج کروائیں۔ تعلقات سے بھی نہ درج ہو تو 8787 پر کال کر کے بتائیں کہ یہ مسئلہ ہے اور ایف آئی آر درج نہیں کر رہے۔

    6) ایف آئی آر میں کم سے کم دو گواہوں کے نام ضرور لکھوائیں اور اگر کوئی موبائل وغیرہ بھی چوری ہوئے ہوں تو ان کے IMEI نمبر ضرور لکھوائیں۔ اور ان کو لازمی طور پر ٹریکنگ پر لگوائیں اور ان کا پتہ بھی کرتے رہیں سی ڈی یو برانچ سے۔

    7) ایک دفعہ ایف آئی آر درج ہو جائے تو پھر خود سے بھی کوشش کرتے رہیں اور پولیس پر بھی مختلف طریقے سے دباؤ ڈلواتے رہیں کہ وہ چوروں کو گرفتا ر کرے۔ پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ چوری کس نے کی ہے۔ آپ کوئی تگڑی سفارش لے آئیں تو فوراً گرفتار کر لیتی ہے۔

    8) یاد رکھیں کہ چوری والے معاملے میں کبھی بھی کسی بھی حال میں پولیس والوں کو پیسے نہ دیں ورنہ اتنے کی چوری نہیں ہو گی جتنے آپ پیسے لگا بیٹھیں گے اور ہاتھ بھی کچھ نہیں آنا۔ کچھ دن بعد آپ نے تنگ آ کر خود ہی جانا چھوڑ دینا ہے۔ اگر پیسے نہیں دیں گے تو آپ کئی بار چکر لگا سکتے ہیں پولیس سٹیشن کے۔

    9) اگر آپ خوش قسمت ہوں اور چور پکڑے جائیں تو پھر لازمی طور پر لسٹ بناتے جائیں کہ کس چور سے کیا برآمد ہوا ہے اور پولیس کو کہیں کہ جس سے جو بھی برآمد ہوا ہے وہ اس پر ڈالیں۔ پولیس اکثر چوروں پر نہیں ڈالتی جس سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں۔

    10) یاد رکھیں کہ مجرموں سے سامان پولیس نے ہی برآمد کروا کر دینا ہے عدالت نے نہیں۔ اس لیے پولیس کو کہیں کہ ریمانڈ لے اور چالان نہ کرے مجرموں کا۔ ایک دفعہ جیل چلے گئے تو آپ کو کچھ نہیں ملنا۔

    11) اگر مجرموں کی طرف سے کوئی آپ سے مذاکرات کرنا چاہے تو اس سے بات چیت لازمی کریں تاکہ آپ کو آپ کا سامان مل سکے۔ اور اگر کوئی مجرم پکڑا جائے تو اسے ہرگز تھانے سے باہر نہ آنے دیں جب تک کہ آپ کو سامان نہ مل جائے۔

    12) اس کے بعد کوئی وکیل کر کے مجرموں کو سزا دلوانے کی بھی پوری کوشش کریں۔

  • پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی، امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل

    پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی، امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل

    امریکی حکام کا پاکستان کا دہشتگردی کیخلاف اقدام کی حمایت کا اعلان

    پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خود کش حملہ، بنوں میں سی ٹی ڈی کی جیل پر حملہ اور اسکے بعد بلوچستان میں فورسز پر حملے، پنجاب کے شہر خانیوال میں حساس ادارے کے اہلکاروں پر حملہ انتہائی الارمنگ صورتحال بن چکی ہے، امن کے قیام کے لئے پاکستان کی مسلح افواج ،عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہزاروں افراد کی شہادتیں کبھی رائیگاں نہیں جا سکتی، پاکستان جو کلمہ کے نام پر بنا وہ امن کا گہوارہ بنے گا ،اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ سب تبھی ہو گا جب قیام امن کے لئے سب ملکر کوشش کریں گے اور ملک میں لسانیت، فرقہ واریت ،سیاسی شدت پسندی کو ترک کریں گے اور سب سے پہلے پاکستان کے نعرے پر جمع ہوں گے،

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بعد کئی ممالک نے ان واقعات کی مذمت کی ہے ، ایسے میں امریکہ جسے پاکستان میں کئی حلقے پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں لیکن امریکہ سے امداد و تعاون کے بغیر بھی نہیں رہ سکتے ، ایسے میں امریکہ نے بھی پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی پر نہ صرف تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے پاکستانی عوام نے دہشتگرد حملوں کے باعث شدید نقصان اٹھایا طالبان کو کہیں گے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں اور افغان سرزمین کو عالمی دہشتگرد حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طورپر استعمال نہ ہونے دیں طالبان کے کیے گئے فیصلوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ ان کا جواب دیا جائے گا

    افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر مسلسل حملے، قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی چند روز قبل ہوا جس میں یہ عزم مصمم کر لیا گیا کہ اب کسی سے کوئی مذاکرات نہیں کئے جائیں گے، ملکی اداروں، ریاست پر حملہ کرنیوالوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، پاکستان کا یہ اپنا فیصلہ ہے، اس میں امریکہ یا کسی اور ملک کی تائید و مدد کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان کی افواج دہشت گردی کیخلاف ایک طویل ترین اور کامیاب ترین جنگ لڑ چکی ہیں، جانیں قربان کر دینے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے، افواج پاکستان اور عوام پاکستان کی قربانیاں رنگ لائیں گی،اور وطن عزیز پاکستان ، ایٹمی پاکستان، امن کا گہوارہ دکھے گا، ان شاء اللہ

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    تمباکو کا استعمال پاکستان میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے مجموعی طور پر افراد اور معاشرے پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، ایک ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی لگائی جائے۔ ہیلتھ لیوی تمباکو کی مصنوعات پر وہ ٹیکس ہے جو ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

    سب سے پہلے، یہ تمباکو کی مصنوعات کو مزید مہنگا بنا کر ان کی مانگ کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تمباکو ایک نشہ آور مادہ ہے، اور بہت سے لوگ جو اسے استعمال کرتے ہیں وہ ایسا کرنا جاری رکھ سکتے ہیں چاہے یہ مہنگا ہو یا تکلیف دہ ہو۔ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے، صحت سے متعلق محصول لوگوں کو تمباکو کا استعمال شروع کرنے کی حوصلہ شکنی کرنے یا ان لوگوں کی تمباکو چھوڑنے پر حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کر سکتا ہے جو پہلے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔

    دوسرا، تمباکو کی مصنوعات پر صحت پر عائد ٹیکس حکومت پاکستان کے لیے اضافی آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔ اس آمدنی کا استعمال صحت عامہ کے اقدامات، جیسے تمباکو کنٹرول پروگرام، صحت و تدرستی کی تعلیمی مہمات، اور بنیادی حفظان صحت کی سہولتوں سے محروم کمیونٹیز کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی سہولتوں تک رسائی کو بہتر بنانے کی کوششوں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی سے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تمباکو کا استعمال مختلف قسم کی سنگین صحت کی حالتوں کے لیے ایک بڑا خطرناک عنصر ہے، بشمول کینسر، دل کی بیماری، اور سانس کی بیماری۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے سے، ہیلتھ لیوی ان لوگوں کی تعداد کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے جو ان حالات کو پیدا کرتے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کے متعلقہ اخراجات کو کم کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول میں ممکنہ خرابیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ لوگ یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ تمباکو کی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانا غیر منصفانہ ہے کیونکہ ان پر پہلے ہی بہت زیادہ ٹیکس عائد ہے۔ دوسرے لوگ یہ بحث کر سکتے ہیں کہ ہیلتھ لیوی غیر متناسب طور پر کم آمدنی والے افراد پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جو تمباکو کی مصنوعات استعمال کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں اور اضافی لاگت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

    ان تحفظات کے پیش نظر، حکومت پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے اقدام کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا بغور جائزہ لے۔ اگر حکومت صحت سے متعلق محصول عائد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو درج ذیل سفارشات میں سے کچھ پر غور کرنا مفید ہو سکتا ہے:

    1. لیوی کو اس سطح پر متعین کریں جو تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے کافی ہو۔

    2. ہیلتھ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو باصابطہ طور پر عوامی صحت کے ایسے اقدامات کو فنڈ دینے کے لیے استعمال کریں جو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور آبادی کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

    3. تمباکو کے استعمال اور صحت کے نتائج پر ہیلتھ لیوی کے اثرات کی نگرانی کریں، اور ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کریں۔

    4. اسٹیک ہولڈرز، بشمول صحت عامہ کے وکلاء، تمباکو کی صنعت کے نمائندوں، اور دیگر دلچسپی رکھنے والے فریقوں کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں تمام آوازیں سنی جائیں اور ان پر غور کیا جائے۔

    5. صحت سے متعلق محصول کی وجوہات اور محصول کو کس طرح استعمال کیا جائے گا کے بارے میں عوام سے واضح طور پر بات کریں۔

    ان سفارشات پر عمل کر کے، حکومت پاکستان تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکتی ہے اور اسے آبادی کی صحت کو بہتر بنانے اور تمباکو کے استعمال کے منفی نتائج کو کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

    لیکن پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کی وکالت کرنے کے لیے آپ بھی چند اقدامات اٹھا سکتے ہیں:

    اپنے آپ کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ رکھیں: اس کی وکالت کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کو سمجھنا ضروری ہے ۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے میں اس طرح کے اقدامات کی تاثیر پر شواہد کی تحقیق کریں۔

    اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں: آپ اپنے مقامی، صوبائی، یا قومی نمائندوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انہیں بتا سکتے ہیں کہ آپ تمباکو کی مصنوعات پر عائد ہیلتھ لیوی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان وجوہات کی وضاحت کریں کہ آپ اسے کیوں اہم سمجھتے ہیں اور یہ پاکستان میں صحت عامہ کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔

    انسداد تمباکو پر بنے سماجی گروپوں میں شامل ہوں: پاکستان میں ایسی تنظیمیں ہوسکتی ہیں جو پہلے ہی اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں جیسے کہ کرومیٹک اور باغی ٹی وی۔ ان گروپوں میں شامل ہونے اور ان کی تمباکو کے خلاف مہم میں حمایت کرنے سے ان کی آواز کو بڑھانے اور مہم کی کامیابی کے امکانات کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

    انسداد تمباکو پیغامات کو پھیلائیں: اپنے دوستوں، خاندان اور سوشل میڈیا کے فالوورز کے ساتھ اس اعم مسئلے کے بارے میں معلومات کا اشتراک کریں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی حمایت کریں۔

    اس مسئلے کو باعزت اور باخبر انداز میں اٹھانا اور یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دونوں طرف سے درست دلائل ہو سکتے ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔ تاہم، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی وکالت کرکے، آپ صحت عامہ کو فروغ دینے اور پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے مضر صحت اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

  • نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال پھر چپکے سے آ دھمکا ہے۔ اب وہی فارمل باتیں ہوں گی۔ دیکھا جائے تو وہ ہورہی ہیں، اور بڑے طمطراق سے ہو رہی ہیں۔ دسمبر کے آخری ہفتے سے تو کان پک گئے ہیں۔ کیا کریں جنوری کے اینڈ جنٹل تک یہی ہوگا۔ کوئی بن بلائے مہمان کی طرح ملے ہتھوڑا اور برسائے: ”نیا سال مبارک ہو”۔جواب میں ہم زچ ہوکر کہیں: ”شکریہ، آپ کو بھی نیا سال مبارک ہو۔”

    جمعہ جمعہ آٹھ دن گزریں گے تو مبارک بادیں کچھ اس انداز کی ہوں گی: ”معاف کریں موقع نہیں ملا” یا ”بھئی کئی بار فون کیا مگر بات ہی نہیں ہو سکی ” یا پھر”معاف کرنا میں گاؤں کیا تھا لہٰذا مبارک باد تاخیر سے دے رہا ہوں…بہر حال آپ کو نئے سال کی ڈھیر ساری مبارکبادیں ہوں۔” مطلب آپ کو نئے سال کی مبارک باد کہے بنا کوئی نہیں چھوڑے گا۔

    اس کے بعد گردش ایام پھر وہی ہوں گے، جو گذشتہ سال تھے، جو اس سے پچھلے سال تھے۔ یا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ کتنے نئے سالوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ یعنی میٹاڈاروں کے دھکّے، کھڑکیوں پر قطاریں، بیگم کی جھڑکیاں، کرم فرماؤں کی بھڑکیاں، ٹی وی کی جلی کٹی "خبریاں”، باس کی یک چشم گل نظر، دفاتر میں سیاست، دوستوں کے سبزی خور جوک جنہیں وہ نان ویج انداز میں سنا کر طبیعت کو اور بھی مکدّر و پُرخشم کر دیتے ہیں۔

    جب ایک شناسا نے مجھے نئے سال کی مبارک باد ماری تو میں نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا نیا سال کسی پابند سلاسل وقت کا محتاج نہیں۔ وہ تو بغیر اجازت آتا رہتا ہے۔ سال کے معنی ہیں سورج کے گرد زمین کا ایک چکّر۔ اور یہ چکّر چلتے رہتے ہیں۔ زمین جہاں اس وقت ہے وہاں وہ اب سے ٹھیک ایک سال پہلے تھی۔ اور اب ٹھیک ایک سال بعد دوبارہ پھر اس جگہ آئے گی۔ لہٰذا ہر گزرتا پل ایک نیا سال ہے۔ وہ صاحب اردو کے سات کے ہندسے کی طرح منھ کھولے میری باتیں سنتے رہے۔ اس کے بعد آنکھیں جھپکاتے ہوئے گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر بولے، ”چلئے ، آپ کو ہر نئے پل نیا سال مبارک ہو”۔ اور میں اپنا سا منھ لے کر رہ گیا۔

    جنوری کی پہلی صبح کے کُہر کے قہر میں میں نے ایک کانپتے آٹو ڈرائیور پر افلاطونیت کا نسخہ آزمانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا: ”برخوردار جانتے ہو یہ دنیا اس وقت اپنے محور پر اس قدر سست رفتار سے گھوم رہی ہے کہ اس کا ایک چکّر ایک کھرب ایک ارب ایک کروڑ ایک سو چھیاسی کے ہندسے کو اتنے ہی بڑے ہندسے سے 11 بار ضرب دے کر جو حاصلِ ضرب آئے گا اتنے سال میں پورا ہوتا ہے۔ اور پوری کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس قدر آہستہ گھومنے کے باوجود اس کے سب سے باہری سرے پر گھومنے کی رفتار ایک لاکھ کھرب میل فی سیکنڈ ہے۔ اور تم ہو کہ بڈشاہ چوک سے مہاراج گنج تک دو کلومیٹرکے دو سو روپے مانگ رہے ہو اور وہ بھی برائے نام سیٹ کے۔”

    یہ سن کر ڈرائیور بار بار آنکھیں جھپکانے لگا اور اپنے دوست سے، جو اس کے ساتھ ہی اس کی آدھی سیٹ پر براجمان تھا، کہا "صاحب سے کرایہ نہیں لیتے ہیں، لگتا ہے یہ کوئی بھٹکی ہوئی روح ہیں، لہٰذا انہیں حفاظت سے مہاراج گنج میں اتاریں گے”۔ کائنات کے اس چکّر نے مجھے پھر چکّرایا۔

    ایک "پکے” مسلمان کے طور پر میں نے سائنس نہیں پڑھی ہے۔ خلائی سائنس کی تو بات ہی نہیں کیونکہ وہ تو انکل سام کی "سازشی تھیوری” ہے۔ کوئی چیز اپنی جگہ پر ٹہری ہوئی نہیں ہے۔بلکہ سوائے کتابوں کے ہر چیز کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔ چاند زمین کے چکر میں دیوانہ ہے۔ زمین سورج کے عشق میں اس کے چکّرکاٹ رہی ہے۔سورج اپنی کہکشاں کے ساتھ گل چھرے اڑا رہا ہے۔ کہکشاں، کسی اور کہکشاں کے پیار میں فریفتہ ہے۔ اور وہ والی کہکشاں لگتا ہے کسی اور کہکشاں کے چکّر میں جھکڑ سہ رہی ہوگی۔ یہ سب دیکھ کر مجھے تو خود کائنات کے چال و چلن پر بھی شک ہے۔ یہ نیک بخت بھی یقیناً کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔

    ایک دن ایک خلائی "سائنس کار” نے میں مجھے نئی خلائی تحقیقات کی نوید نہیں بلکہ وعید سنائی۔ ہوا یوں کہ وہ یک لخت زور زور سے کمرے چکّر کاٹنے لگے اور چکّروں کے اس عمل میں خود چکّر کھا کر گر پڑے۔ میں نے گھبرا کر ان کی پُرشکن جبین پر ہاتھ رکھا۔ وہ ایک دم اٹھے، سیدھے کھڑے ہو کر ٹائی درست کی اور ہمیں تسلّی دیتے ہوئے بولے:” ڈونٹ وری، آئ ایم اوکے، بس ذرا چکّر سا آگیا تھا۔”

    میں نے اس نئے چکّر کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے: ”کوئی خاص معاملہ نہیں۔ بس مجھے اچانک یہ سوجھی کہ اس وقت جو میں تمہارے ڈرائنگ روم میں سکون سے بیٹھا ہوا ہوں توحقیقت میں سب کچھ ایک دم ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ سب گردش میں ہے، زمین، سورج، چاند، ستارے، سیارے کہکشاں، حالات، خبریں، کردار، اطوار، دن مہینے اور سال۔ بس یہ سوچتے سوچتے چکّر سا آگیا…باقی آئی ایم اوکے۔”

    یہ سن کر کچھ دیر کے لئے مجھے چکر سے لگے کیوں کہ خلائی علوم میں وہ ناسا کی بھٹکی ہوئی آتما ہے۔ خلائی سائنس تو کیا سائنس کی ابجد کے لحاظ سے میں پہنچا ہوا ناواقف ہوں۔

    بہر حال نئے سال کی مبارک بادیں بغیر مٹھائی، بریانی اور ہریسہ کے آپ وصول کرتے رہیں۔ وہ اس لیے کہ سیاسی لیڈران، مختلف شعبوں کے ہیڈز، دفتروں کے باسز، یونینوں کے رہنما اور دوست، عزیز و اقارب، گرل اور بوائے فرینڈ اور تو اور سوشل میڈیا کے نیٹی زن دوست آپ کو نئے سال کی مبارک بادیں پیش کرنے میں کڑھائی میں زندہ مچھلیوں کی طرح تڑپ رہے ہیں۔

  • ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں، تحریر: امان الرحمان

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں، تحریر: امان الرحمان

    ہیلتھ لیوی
    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:
    ہیلتھ لیوی اک اضافی ٹیکس ہے جسے مختلف ممالک جیسے بھارت ،آسٹریلیا اور میکسیکو وغیرہ میں مضر صحت اشیإ پر عاٸد کیا گیا ہے۔ اس اضافی ٹیکس کا مقصد ان اشیإ کی قیمت خرید کو بڑھاوا دے کر عام لوگوں کی پہنچ سے دور رکھنا ہوتا ہے۔ ان اشیإ میں خاص طور پر کاربونیٹڈ اور شوگری مشروبات، تمباکو پر مشتمل اشیإ جیسے سگریٹ اور شوگری فلیورڈ جوسز شامل ہیں۔ یہ تمام اشیإ مختلف بیماریوں کی بنیاد ہیں۔ ذیابیطس کا مرض دنیا میں اس قدر پھیل چکا ہے کہ ہر پانچ افراد میں سے ایک شخص اس مرض میں ضرور مبتلا ہوتا ہے ۔ مزید براں دل کے امراض ، فالج، کینسر اور دماغ کی شریان پھٹنے جیسے مہلک امراض کی وجہ بھی یہی مضر صحت مشروبات اور تمباکو نوشی ہی ہیں ۔ ان کی وجہ سے سالانہ کروڑوں لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہوتے ہیں اور لاکھوں لقمہ اجل بنتے ہیں۔ اس لیے بیشتر ممالک ان بیماریوں کے پھیلاٶ کو روکنے کیلیے ان بیماریوں کی وجوہ بننے والے محرکات کا تدارک کررہے ہیں۔ جن میں ایک اہم قدم ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہے۔ لیوی ٹیکس چونکہ عدالت وغیرہ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اس لیے یہ زیادہ مٸوثر ثابت ہوتا ہے۔ شوگری مشروبات اور سگریٹ جیسی اشیإ پر ہیلتھ لیوی کے اطلاق سے ممالک سہہ رخی فواٸد حاصل کر رہے ہیں۔ اک تو ان اشیإ کی وجہ سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے جو خزانے پر براہ راست مثبت اثرات مرتب کرتا ہے دوسرا حکومتوں کو ہیلتھ سیکٹر پر کم خرچ کرنا پڑتا ہے کیونکہ مضر صحت اشیإ کا استعمال کم ہونے سے بیماریوں کی شرح بھی کم ہوجاتی ہے ۔ اور تیسرا اہم فاٸدہ عوام کی عمومی صحت میں بہتری ہے ۔ جن ممالک میں بیماریوں کی شرح کم ہوتی ہے وہاں پیداواری شرح زیادہ دیکھی گٸ ہے کیونکہ صحت مند افراد بیمار افراد کی نسبت ہر شعبے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہیلتھ لیوی کے اطلاق سے کٸ ممالک یہ سب فواٸد حاصل کررہے ہیں ۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کا عدم نفاذ اور اس کے اثرات۔
    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لاکھوں افراد پان چھالیہ اور گٹکے کے بکثرت استعمال کی وجہ سے منہ ، گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہوچکے ہیں مگر پھر بھی ان کا بے تحاشا استعمال جاری ہے۔ کیونکہ یہ تمام اشیٕا بشمول سگریٹ نہایت ارزاں قیمتوں پر جابجا دستیاب ہیں جس کی وجہ سے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اس سلو پواٸزن کے عادی ہوۓ چلے جارہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 615 بلین روپے سالانہ صرف تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے امراض کے علاج میں حکومت خرچ کرتی ہے۔ اور روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی کرتے پاۓ جاتے ہیں ۔ پاکستان کے کسی بھی شہر حتی کہ دور دراز دیہات کا بھی سفر کریں تو آپ کو سگریٹ پان اور گھٹیا شوگری کاربونٹیڈ مشروبات بکثرت اور عام ملیں گے ان کی قیمتیں بھی انتہاٸ کم ہوتیں ہیں جن کی وجہ سے بچے اور بڑے سبھی ان کا بے دریغ استعمال کرتے دکھاٸ دیتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان شوگر کے مرض میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ ایک ایسا جان لیوا مرض ہے جو کٸ دوسرے امراض کو جم دیتا ہے جن میں فالج ، لقوہ، دل کے امراض ، شریان پھٹنا اور گردوں کافیل ہونا بھی شامل ہے ۔ ان امراض کا علاج بھی کافی پچیدہ اور مہنگا ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک ہے جہاں عوام کی صحت سے متعلق ناں تو حکومتی سطح پر مناسب آگاہی کا انتظام کیا جاتا ہے ناں مضر صحت اشیإ کے پھیلاٶ کے تدارک کیلیے عملی اقدامات اٹھاۓ جاتے ہیں۔

    2019 میں پاکستان میں پہلی دفعہ مختلف سماجی تنظیموں کے مطالبے پر تمباکو پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کا بل پاس کیا گیا۔ مگر FBR کی وجہ سے یہ بل سینیٹ ، وزارت خزانہ اور دیگر اداروں کے درمیان چکراتا رہ گیا اور اس پر عمل کی نوبت ناں آسکی۔ جبکہ اگر اس بل کا بروقت عملی اطلاق ہوجاتا تو پاکستان کو سالانہ 55 ارب روپے اضافی ٹیکس میسر آتا۔
    چند روز قبل کرومیٹک کے زیر اہتمام سوشل میڈیا انفلوٸینسرز اور ماہرین پر مشتمل ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں کرومیٹک کے سی ای او ملک عمران نے حاضرین کو اگاہ کیا کہ پاکستان ہیلتھ لیوی کے فوری نفاذ سے 60 ارب روپے کا ریونیو جمع کرسکتا ہے جو کٸ وباٸ امراض کے روک تھام پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ جو فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے پھیلتے چلے جارہے ہیں اور کٸ قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سیمینار کے تمام مقررین نے بھی حکومت وقت سے مضر صحت شوگری مشروبات اور تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ہیلتھ لیوی نافذکرنے کا یک زبان مطالبہ کیا۔ اور ہیلتھ لیوی کا فوری نفاذ اس وقت پاکستان کی اہم ضرورت ہے کیونکہ شوگری کاربونیٹڈ مشروبات اور تمباکو نوشی کے باعث پاکستان میں کروڑوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر ہسپتالوں کے چکر لگارہے ہیں جن کے علاج معالجے کے مد میں اربوں روپے سرکاری خزانے سے خرچ ہوتے جبکہ ان اشیإ کے استعمال جو کم کرکے یہ روپے بچاۓ جاسکتے ہیں اور انہیں کہیں اور مثبت مقاصد کیلیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت پاکستانی معیشت شدید زبوں حالی کا شکار ہے سگریٹ پر ٹیکس نافذ کرکے حکومت فوری طور پر اربوں روپے جمع کرسکتی ہے۔ ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے پاکستان میں سگریٹ ، پان، چھالیہ ، شوگری اور کاربونیٹڈ مشربات کے بکثرت استعمال کو کم کیا جاسکتا ہے اور انہیں بچوں کی دسترس سے بھی دور کیا جاسکتا ہے۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ایمرجنسی بنیادوں پر تمام مضر صحت اشیإ پر بلاتخصیص بھاری ہیلتھ لیوی نافذ کرے اور معاشرے کو صحیح معنوں میں مثبت راہ پر لائے۔ اب نہیں تو کب؟
    تحریر۔۔ امان الرحمن

  • ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    تمباکو نوشی اور اس سے متعلقہ دیگر مصنوعات پر یکسر پابندی کا مطالبہ کرنا ایک بات ہے جبکہ ان کی خرید و فروخت اور ترغیبات پر قدغن لگانا یا محدود کرنا ایک بات ہے, اور ان میں آخر الذکر بات حقیقت کے زیادہ قریب ترین ہے کیونکہ تمباکو نوشی پر مکمل پابندی یا اس کو صفحہ ہستی سے مٹانا وغیرہ آج کی دنیا میں ممکن نہیں کہ ادھر سماجی و سیاسی کارکنان کی محنت سے کوئی حکومت ایسا قدم اٹھانے لگے گی تو کسی کونے کھدرے سے کوئی نا کوئی انسانیت اور انسانی حقوق کا چورن منجن بیچنے والا گروہ, ادارہ یا شخصیت ٹپک پڑے گی اور نجانے کہاں سے اور کیسے تمباکو نوشی جیسی مضر صحت, مضر ماحول, مضر اخلاقیات اور مضر معیشت گھٹیا عادت اور زہریلی شہ بابت قوانین اور اصول و ضوابط لے آئیں گے کہ یہ بنیادی انسانی حق ہے بلا بلا بلا اور جو اس کا خاتمہ یا محدودیت چاہتے ہیں وہ ظالم اور انسان دشمن لوگ ہیں۔

    جبکہ ایک محتاط اندازے اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تمباکو کی سستی قیمتوں کی وجہ سے 10.7 فیصد پاکستانی نوجوان جن میں 6.6 فیصد لڑکیاں اور 13.3 فیصد لڑکے شامل ہیں، تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔

    مزید یہ کہ تقریباً 1200 پاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ کیا ایک معاشرے کے طور پر، ہمیں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو لاگو کرکے اپنے بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچانے کے لیے ایک اہم قدم نہیں اٹھانا چاہیے؟

    اور آپ کو آگاہی بہم دیتے چلیں کہ ہماری آبادی کا تقریباً نصف، مطلب 45% فیصد حصہ 18 سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل ہے۔ اور یہ کہ پاکستان میں بھی پاکستانی بچوں کے بنیادی حقوق کو مانا اور محفوظ کیا جاتا ہے بلخصوص پاکستان کی جانب سے عالمی برداری کو دلائی یقین دہانیوں اور عہد و پیمان کے تناظر میں کیونکہ تمباکو نوشی دراصل اور درحقیقت ایک وبائی بیماری ہے جو بچوں کی زندگی، بقاء اور ترقی، صحت، تعلیم اور صاف اور سرسبز عوامی مقامات تک رسائی کے حق کی براہ راست خلاف ورزی کرتی ہے۔

    فرسٹ ہینڈ سموکنگ تو بہرحال بچوں اور نوجوانوں کی زندگی تباہ و برباد کرتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جو سب سے زیادہ نقصان نان سموکر بچوں اور نوجوانوں کا ہوتا ہے اسکی بنیادی وجہ سکینڈ ہینڈ سموکنگ اور تھرڈ ہینڈ سموکنگ ہے جو کہ دراصل بلاواسطہ اثرات سے مزین ہے جو ایک تمباکو نوش کے مقابلے دگنے اور خطرناک ہیں۔

    پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری دراصل تمباکو خریدنے اور استعمال کرنے کے مختلف حربوں سے بچوں اور نوجوانوں کے کچے ذہنوں کو فتح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بچوں کو تمباکو نوشی اور اس کے مضر صحت اثرات سے بچانے کے لیے، 2019 میں، وفاقی کابینہ نے تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) لگانے کے بل کی منظوری دی تھی تاکہ کھپت کو کم کیا جا سکے اور سالانہ 60 ارب پاکستانی روپے کما کر خزانے کو فائدہ پہچایا جاسکے اور بعد میں یہی روپیہ صحت کے مسائل حل کرنے پر خرچ کیا جاسکے۔ تاہم پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے اندر تک موجود اثر و رسوخ کی بدولت بہت سے پالیسی سازوں نے اس بل کو مسلسل بلاک کر رکھا ہے جس وجہ سے پاکستان میں تمباکو نوشی کی اقتصادی لاگت 615.07 بلین روپے تک پہنچ گئی ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے لیکن تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف 20 فیصد ہے۔ پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری نے بچوں کی صحت کو داؤ پر لگا کر بلکہ بچوں کی صحت کی قیمت پر اب تک اربوں کھربوں کمائے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری اسے شرافت سے واپس کرے وگرنہ آج چند آوازیں اٹھ رہی ہیں تو کل یہ شور میں بدل جائیں گی اور پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کو جان بچا کر بھاگنا مشکل ہوجائے گا۔

    خیال رہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے ہاتھوں تباہ ہونے دینا ایک ایسے معاشرے کے لیے انتہائی شرم کی بات ہوگی جو پہلے ہی اپنے عہد و پیمانوں کو اپنے بچوں تک پہنچانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہا ہے اور ابھی تک عشر عشیر بھی کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے ایسے میں تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کے نفاذ میں تاخیر صرف بچوں کے حقوق کے حوالے سے ہمارے معاشرے کے غیر معمولی رویے کو اجاگر کرے گی اور ہماری بے حسی و خود غرضی کا نقاب اتارنے کا باعث بنے گی۔

    تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہمارے بچوں اور ہماری قوم کے مفاد میں ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) کے تحت پاکستان نے بچوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے پرو چائلڈ اقدامات کو نافذ کرنے کا عہد کیا ہے۔ جبکہ تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ ہمیں بچوں سے اپنے وعدے کو پورا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن ایف بی آر اور حکومت وقت میں بیٹھی کچھ کالی بھیڑیں اور سماج دشمن انسان مل کر اس بل کو روکے ہوئے ہیں اور ان کی درپردہ کوششیں جاری ہیں کہ اس بل کو کسی طرح کالعدم قرار دلوادیں اور پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری سے اپنی خاطر خواہ قیمت وصول لیں اور اپنی وفاداریوں پر مہر ثبت کرلیں۔

    واضح کردوں کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان سے بارہا کہا ہے کہ سگریٹ کی قیمت کم از کم 30 روپے فی پیکٹ تک بڑھا دی جائے تاکہ سگریٹ کی کھپت کو کم کیا جا سکے اور صحت کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ حکومت کو قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے اس پائیدار حل سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور بیشک یہ ہی وہ ٹیکس ہے جس کے لیے 2019 میں ٹوبیکو ہیلتھ لیوی بل منظور کروایا گیا تھا لیکن وہ تاحال سردخانے میں پڑا ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق پاکستان ٹوبیکو انڈسٹری کے جی ایم صاحب کے بھائی آج کل ہمارے وزیراعظم شہباز شریف کے قرب و جوار میں پائے جاتے ہیں اور ایک اعلی سرکاری عہدہ جس کا براہ راست تعلق وزیراعظم سے ہے پر براجمان ہیں تو یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے کہ وہ اس بل یا دیگر کسی ایسے سخت قدم پر اثر انداز نہیں ہوئے, ہورہے یا ہوں گے جو پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے خلاف ہو یا ہے۔

    قصہ مختصر کہ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ 80 ارب سیگریٹ پھونکے جاتے ہیں جس میں عمر کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں, جبکہ میرے خیال میں 80 ارب سیگریٹ تو وہ ہوئے جو رجسٹرڈ کمپنیوں کی جانب سے تیار اور فروخت ہوئے ہونگے جبکہ لگھ بگھ 20 ارب کے قریب وہ سیگریٹ بھی ہیں جو مارکیٹ میں کسی نہ کسی نام رنگ اور ہجم میں بکتے ہیں لیکن ان کا کوئی کھاتہ درج نہیں تو اس طرح پاکستان میں 100 ارب سیگریٹ سالانہ پھونک کر قوم کا پیسہ اور صحت ساتھ پھونکی جارہی ہے جس پر ہمیں سر پھروں کی طرح سوچنا اور سخت ترین اقدامات کرنے ہونگے اور ہیلتھ لیوی بل کی منظوری اور اب اس کا بے رحم نفاذ دراصل اس حوالے سے شروعات ہوگی, ہمیں صحت مند معاشرہ اور پھلتی پھولتی معیشت و معاشرت چاہیے تو ملکر اس مدعے پر جاندار اور شاندار آواز اٹھانی ہوگی وگرنہ یہ یاد رکھیں کہ آپکی آبادی کے 45% فیصد اور 65% فیصد حصے پر مشتمل بچے اور نوجوان روزانہ کی بنیاد پر تمباکو نوشی کا شکار ہورہےہیں اور یہ تعداد 1200 سے فی دن کے حساب سے جاری و ساری ہے, اب آپ سوچ لیں کہ یہ تعداد کم کرنی اور ختم کروانی ہے یا اس میں روز بروز اصافہ ہو؟

    بچےآپ کے, صحت آپ کی سو فیصلہ بھی آپ ہی کریں کہ تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ ہونا چاہیے کہ نہیں اور اگر ہونا چاہیے تو اس میں تاخیر پر آپ شور مچانے میں پیش پیش رہیں۔

  • مزدور کے حقوق — ریاض علی خٹک

    مزدور کے حقوق — ریاض علی خٹک

    کل ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں سودا سلف اکھٹا کرتے کافی وقت لگ گیا. ان بڑے سٹورز میں سب کچھ ملتا ہے. سبزی کراکری کپڑے جوتے الیکٹرانکس سے لے کر امور خانہ داری کا سب کچھ دستیاب ہوتا ہے. لیکن تھکاوٹ کم کرنے کیلئے بیٹھنے کا کوئی سٹول بینچ آپ کو نہیں ملے گا.

    اسی تھکن میں دھیان اُن سیلز گرلز اور سیلز بوائز پر گیا جو اپنے اپنے حصے کے شیلف کے ساتھ کھڑے گاہک کو سہولت دیتے ہیں. میں نے سوچا ہم جو کچھ وقت میں یہاں تھک کر سٹول بینچ ڈھونڈ رہے ہیں ان کا صبح سے شام تک کیا حال ہوگا.؟

    اللہ رب العزت نے انسانی جسم کچھ اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ نہ یہ لگاتار بیٹھنا برداشت کر سکتا ہے نہ کھڑا رہنا. میڈیکل سائنس کہتی ہے اگر آپ کا کام کرسی پر بیٹھنے کا ہے تو درمیان میں بار بار کھڑے ہوا کریں اور اگر کھڑے ہونے کا ہے تو بیٹھ جایا کریں. کیونکہ لگاتار بیٹھنے پر دل بیمار ہوتا ہے اور لگاتار گھنٹوں کھڑے رہنے سے رگوں میں سوزش ہوتی ہے اور جوڑوں کا درد ساتھی بن جائے گا.

    کرسیوں والے تو کسی بہانے کھڑے ہو ہی جائیں گے لیکن یہ کھڑے مزدور جن کو ٹائٹ کپڑے پہنا کر شیلف کے سامنے ایک ڈیکوریشن پیس بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان کے پاس تو بیٹھنے کا آپشن ہی دستیاب نہیں ہوتا. مزدور کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں. کاش ان بڑے بڑے سٹورز کی انتظامیہ اپنے ورکنگ انوائر مینٹ میں گاہک کیلئے نہ سہی لیکن اپنے مزدور کیلئے ہی ایک سٹول رکھ دیں.

  • دیوالیہ کے قریب!!! —- ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دیوالیہ کے قریب!!! —- ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان اس وقت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ کرپشن اور لوٹ مار پاکستانی معیشت کے دیوالیہ پن میں اہم ہے مگر بہت سے لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں پیسہ بنانے کا کوئی خاص طریقہ کار نہیں ہے۔ باہر کے ممالک میں بر آمدات سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی سے نئی پراڈکٹس سے کی جاتی ہیں۔سویڈن جیسے چھوٹے ملک کے معیشت پاکستان سے دوگنی ہے جبکہ وہاں کی آبادی 1.5 کروڑ سے بھی کم ہے۔ پیسہ بنانے کا عمل کاروباری ماحول اور صنعتی ترقی سے ممکن ہے۔ گنجی دھوئے گی کیا اور نچوڑے گی کیا کے مصادق۔ پاکستان کی برآمدات کی نسبت درآمدات زیادہ ہیں۔ یہاں روایتی طریقوں سے گندم، گنا اور کپاس اُگائی جاتی ہے۔ ہر سال سیلاب اور قدرتی آفات زراعت کے بڑے حصے کو نقصان پہچاتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو زرعی ہے اور جہاں 40 فیصد روزگار زراعت کے شعبے سے منسلک ہے وہاں سب سے زیادہ نظر انداز یہی شعبہ رہا ہے۔

    دوسرے ممالک کی کمپنیاں پاکستان میں کیونکر پیسہ لگائیں گی جہاں نہ کاروباری سہولیات میسر ہیں، نہ ہی سرخ فیتے کی رکاوٹیں دور کی گئی ہیں، اقربا پروری الگ، ریاست کے اندر بندوقوں والے ایک نمبر کے بدمعاش پراپرٹی ڈیلرز الگ۔ اس پر سیکورٹی، دہشتگردی، امن و امان کا نقص الگ۔اور سب سے بڑھ کر بغیر سکلز یا کم سکلز کے لوگ الگ۔ اب ایسے میں کون باہر سے آ کر یہاں فیکٹریاں لگائے گا، یہاں اپنا پیسہ جھونکے گا؟ کیا لاہور میں بیٹھے پاکستان ہی کی کاروباری شخصیات وزیرستان میں جا کر کاروبار کریں گے؟ ماسوائے اّنکے جنہیں شاید وہاں چلغوزے کے درخت نظر آتے ہوں۔

    ہماری معیشت نے دیوالیہ نہیں ہونا تھا تو اور کیا ہونا تھا؟ کیا پلاٹوں پر پلاٹ لیکر اور سوسائٹیوں پر سوسائٹیاں بنا کر ملک میں پیسہ آئے گا؟ نہ ہم نے انسانوں پر خرچ کیا نہ انسانوں کے دماغوں پر۔ پچھلی نسل کے نوجوانوں پر ریاستی تجربات کر کے انہیں جنونی بنا دیا گیا۔ یہی نظریات لیکر وہ اگلی نسلوں کو یہ وائرس منتقل کر چکے۔ جہالت ملک کے طول و عرض میں بک رہی ہے اور مزے کی بات یہ کہ وہ جو اس جہالت کے پیشِ نظر زندگی سے تنگ ہیں، وہی اسکی حفاظت پر مامور ہیں۔ اختر لاوا سے لیکر دھوکے بازی سے ہوٹلوں میں روٹی کھانے والی مزاحیہ ویڈیوز ہر شخص کی زبان پر ہیں۔ عقل کی بات کیجائے تو کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ علم سے ڈر لگتا ہے۔ ہر چیز سازش لگتی ہے۔ ذہنوں پر قفل پڑے ہیں۔ اصل سوچ کا فقدان یے۔ باہر کے ممالک انسانوں پر ، انکے دماغوں پر خرچ کر کے انہیں معاشرے اور دنیا کے لیے کارآمد انسان بناتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں دولو شاہ کے چوہوں کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔ اشرافیہ سے لیکر عوام تک، اونچے اونچے عہدوں پر بیٹھے افسران سے لیکر نیچے کلرک بابوں تک سب کے سب جدید دور کے تقاضوں، بدلتی دنیا کے رجحانات وغیرہ سے لا علم زندہ زومبیاں ہیں۔

    سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کیا جائے، مگر پچھتر سال میں جب انسانوں پر کچھ خرچ نہیں ہوا تو اب ملک محض قرضوں پر تو چل نہیں سکتا۔ سو یہ کمپنی بھی نہیں چلے گی۔ اور کیجئے تجربات ، اور دور رکھیے عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار کے مواقعوں سے۔ اور دیجیے اّنہیں کھوکھلے نعرے، روایتی جملے اور گھسے پٹے نظریات۔ کشتی جب ڈوبتی ہے تو مکمل ڈوبتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ پچھلا حصہ ڈوبا اور اگلا بچ گیا۔ بچنا کسی نے نہیں۔ باقی بابوں کی خیر ہو، اُنہوں نے ہمیں سائیں بنا کر اس حالت میں خوش ہی رکھنا ہے۔ سائنس گئی تیل لینے۔

    منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

  • ماہ و سال اور ہمارے اعمال!!! —- بلال شوکت آزاد

    ماہ و سال اور ہمارے اعمال!!! —- بلال شوکت آزاد

    اَوَ لَا یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوۡ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾ (سورہ توبہ)

    اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں ۔

    ہر سیکنڈ, ہر منٹ, ہر گھنٹہ, ہر دن, ہر ہفتہ, ہر مہینہ, ہر سال اور ہر صدی فقط اللہ کی ہے, اللہ کی جانب سے اور فقط اللہ کے لیے ہی ہے لہذا اے زمانے کو کوسنے والو۔ ۔ ۔ ماہ و سال کے گزرنے پر ان کی اچھی یا بری تخصیص اور تفریق کرنے والوں خدارا اللہ سے ڈر جاؤ اور توبہ و استغفار کی کثرت کرو کیونکہ کوئی سیکنڈ, کوئی منٹ, کوئی گھنٹہ, کوئی دن, کوئی ہفتہ, کوئی مہینہ, کوئی سال اور کوئی صدی اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ ہمارے اعمال اور اقوال کے نتائج ہیں جو ہماری اچھی یا بری تقدیر کے ذمہ دار ہیں نا کہ وقت یا کوئی مخصوص زمانہ۔

    اللہ نے وقت کی قسم لی ہے مطلب وقت خود اللہ کی ایک صفت ہے اور ایسے میں ہم وقت کے مخصوص حصے کو اپنے اعمال و اقوال سے تباہ کی ہوئی تقدیر کا ذمہ دار ٹھہرائیں تو ہم سے بڑا ظالم اور مفسد کون ہوگا؟

    اللہ کی قسم دو ہزار بیس، اکیس اور بائیس میں جو بھی مشکلات اور مصائب جھیلے اور جن بھی آزمائشوں کا شکار ہوئے وہ سب بھی منجانب اللہ اور ہمارے اعمال و اقوال کا نتیجہ تھے لہذا ان پر صبر و شکر اور استغفار کے علاوہ اور کوئی عمل یا ردعمل قطعی اللہ والوں کا شیوہ اور سنت محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم نہیں۔

    بیشک ہر شہ پر اللہ قادر ہے اور بیشک اللہ ہی رازق اور شافی ہے لہذا سال بھر ہوئی رزق کی تنگدستی اور طاری ہوئی بیماریوں کے باوجود اللہ کا شکر اور صبر ہم پر واجب ہے کہ ہم جو ان کے باوجود زندہ اور صحت مند ہیں تو اللہ کا ہم پر خاص کرم رہا اور دامے درمے سخنے ہی صحیح پر ہم اللہ کی طرف سے آئی مشکلات و مصائب کو جھیل کر نئے سال میں داخل ہورہے ہیں۔

    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام عالم اسلام اور تمام انسانیت پر رحم کرے, اس سال ہوئی ہماری کمی کوتاہیوں اور گناہوں کو درگزر کرکے نئے سال کو امن و آشتی کا گہوارہ اور تمام انسانیت کے لیے خوشحالی اور برکت کا سال بنا دے۔

    اللہ ہمارے انفرادی و اجتماعی گناہوں کو درگزر فرمائے اور ہمارے لیے زمانے میں خیر و برکت شامل فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اللہ کے فرمانبردار اور برگذیدہ بندے بن جائیں۔ آمین۔

  • ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    سب سے پہلے انسانیت ہے انسانیت کا خیال رکھنا ہمارا اولین فرض ہے
    ایسی چیزوں کی روک تھام نہایت ضروری ہے جس سے انسانیت کو نقصان پہنچے
    سگریٹ نوشی ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ایک بدترین خصلت ہے جسکو چھوٹے بڑے فیشن سمجھ کر استعمال کرنے لگ گئے ہیں ۔کچھ اسکو ٹینشن سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔کچھ اسکو فیشن کے طور پہ اپناتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں یہ انکی صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔تمباکو نوشی پہ ٹیکس لگانے سے اسکا استعمال کم کیا جا سکتا ہے لہذا اس حوالے سے 2019 میں کابینہ نے بل پاس کیا ” ہیلتھ لیوی” لیکن اسکا نفاذ ابھی تک نہ ہو سکا۔ آخر اتنی تاخیر کیوں؟؟اس بل کے پاس سے ہم نوجوان نسل کو کافی حد تک اسکا استعمال کرنے سے روک سکتے ہیں ۔ اگر اسکا استعمال آسان بنا دیا گیا تو ہر بچہ باآسانی اسکو استعمال کرلےگا اور اپنی زندگی تباہ کرلےگاجتنا جلدی ہوسکے اسکا نفاذ کیا جائے ۔انتہائ ضروری اقدام فوری طور پہ کرنے ہونگے ۔اس پہ ٹیکس سے ملک کے بیشتر کام کیے جا سکتے ہیں ۔ اس میں فائدہ تو ہے نقصان نہیں ۔ اس بل کے مطابق ٹیکس کی جو ادائیگی ہوگی اس سے ملک کو بہت فائدہ ہے حکومت اس سے سیلاب زدگان کی بھی امداد کر سکتی ہے ۔
    ایک بچہ گھر سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے اسکے ہاتھ میں اگر سگریٹ تھما دیا جائے وہ اسکا استعمال کر کے نا صرف اپنا مستقبل تباہ کرئے گا بلکہ اپنے اردگرد کی زندگیوں کو بھی متاثر کرئے گا اس میں کسی ایک کا نقصان نہیں ہونا اس معاشر ے میں موجود ہر فرد کا نقصان ہے اسلیے اسکا نفاذ فوری طور پہ کرنا اس ملک کے ہر بچے کو بچانا ہے ہر بچے کے روشن مستقبل کے لیے ہمیں یہ قدم جلد از جلد اٹھانا ہوگا ۔کیا ہم اپنی نوجوان نسل کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتے ۔ جس سے ہماری نوجوان نسل کو فائدہ ہو ہم انکو بچانے کے اقدام کریں

    تمباکو نوشی سے بہت سی ایسی بیماریاں جنم لیتی ہیں کہ جو جسم کے اندر گھر بنا لیتی ہیں اور جان لیوا ثابت ہوتی ہیں ۔
    یہ ایک ایسی دلدل ہے جدھر سے نکلنا آسان نہیں ۔ایک بار یہ لت لگ جائے جان نہیں چھوڑتی ۔احتیاط ہی بہترین حل ہے ۔ہمارا فرض ہے ہم اپنے معاشرے کو اس دلدل کا حصہ نا بننے دیں ۔ مفاد پرستی سے نکلے اور دوسروں کی جانوں کی فکر کریں ہمارا پہلا فرض ہے کہ ہم انسانیت کا احترام کریں سب سے پہلے انسانیت ہے اگر ہمارے دل میں انسانیت نہیں تو ہمارا ہونا نا ہونا بے معنی ہے ۔ اپنی زندگیوں کو اس طرح سنوارے کہ جو دوسروں کے کام آجائیں اور آخرت بھی سنور جائے
    بظاہر سگریٹ ایک چھوٹا سا ہے مگر پانچ چھ فٹ کے انسان کو قبر تک پہنچا دیتا ہے سگریٹ میں موجود کیمیائی مادے سانس کی نالیوں اور پھپڑوں سے ایسے چِپک جاتے ہیں کہ مختلف بیماریوں کی وجہ بن کر انسان کو اندر ہی اندر ختم کرنے لگتے ہیں نوجوان نسل کے لیے سگریٹ ایک معمولی شئے ہوگا کاش وہ یہ سمجھ پائیں یہ وبالِ جان ہے ۔ جان لیوا مرض خود کو نہ لگائے نا دوسروں کو لگائیں خود کو بھی بچائے اور دوسروں کو بھی ۔

    بچوں کی موجودگی میں آپکی سگریٹ نوشی اُنکی صحت بھی متاثر کر سکتی ہے آج کل لڑکیاں بھی سگریٹ نوشی کر کے اخلاقیات سے گِر گئ ہیں ۔کیا ہمارا معاشرہ یا مذہب اس چیز کی اجازت دیتا ہے ؟بہت سے گھرانے سگریٹ نوشی کی وجہ سے سکون کھو چکے ہیں ۔ کیونکہ جو افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں انکی اسکی اتنی عادت لگ چُکی ہوتی ہے انکو یہ نشہ ہر حال میں پورا کرنا ہوتا ہے اور گھر میں جھگڑے بھی معمول بن جاتے ہیں ۔جس سے گھر کا ماحول خراب تو ہوتا ہی ہے ساتھ ہی بچوں کا ذہنی سکون بھی تباہ ہوجاتا ہے اور وہ پڑھائ بھی نہیں کر پاتے اور ایک روشن مستقبل سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ہمیں آواز اٹھانی ہوگی اس جہالت کے خلاف ، اپنی نسلوں کے روشن مستقبل ، اور اچھی صحت ، اچھے ماحول کی فراہمی کے لیے۔

    ہیلتھ لیوی کی اہمیت اور افادیت اگر سب جان لیں اسکے نفاذ میں تاخیر نا ہو ۔ اسکے نفاذ سے 60 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے بہت سے بچے تمباکو نوشی سے متا ثر ہو کے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں نا جانے اور کتنے اپنی زندگی برباد کریں گے ۔ تقر یباً 31 ملین افراد سگریٹ نوشی کا شکار ہو چکے ہیں اب اس تعداد میں کمی لانی ہوگی اس بل کے نفاذ سے ہی یہ سب ممکن ہے سگریٹ نوشی ترک کرنے سےآپ بہت سے جسمانی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں ۔ بہت زیادہ سگریٹ نوشی سے آپ کو سانس اور دل کی بیماریاں،شوگر کی بیماری اورنہ صرف پھیپھرے بلکہ بہت سی دوسری اقسام کی بیماریاں ھونے کے ذیادہ امکانات ھوں گے۔ہیلتھ لیوی بل پاس تو ہوگیا ہے پر اسکا نفاذ جب تک نہیں ہوگا تب تک ہم اس کے لیے حکومت سے اسکے نفاذ کی اپیل کرتے رہیں گے کیونکہ اس کے نفاذ سے ہم بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں ۔ اس کے بہت فائدے ہیں مجھے امید ہے حکومت جلد از جلد اس پہ فوری ضروری اقدام کرئے گی ۔ اسکے علاوہ ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
    آپنے بچوں پہ نظر رکھیں انکے دوست کون ہیں وہ کس سے میل جول رکھتے ہیں اور ایسی سرگرمیوں میں شامل تو نہیں ۔
    اور ایسی جان لیوا اشیاء کا استعمال تو نہیں کرتے ہمیں باخبر رہنا ہوگا امید کرتی ہوں میں جو پیغام اپنی تحریر سے پہنچانا چاہ رہی ہوں اس پہ ہم سب اور حکومت لازمی اور فوری طور پہ عمل پیرا ہو گی ۔