Baaghi TV

Category: متفرق

  • کامیابی کا کھویا — ابن فاضل

    کامیابی کا کھویا — ابن فاضل

    مانسہرہ سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر، قومی شاہراہ سے آٹھ دس کلومیٹر اندر دشوار گذار پہاڑی راستہ پر واقعہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے. بفہ.. یہاں ایک صاحب ایک قسم کی مٹھائی بناتے ہیں جسے یہ لوگ کھویا کہتے ہیں. دودھ کی ربڑی کو دیسی گھی میں پکانے کے بعد مناسب مقدار میں شکر شامل کرکے ایک دانے دار براؤن سی حلوہ نما یہ مٹھائی بہت ہی خوش ذائقہ ہوتی ہے.

    لوگوں میں اس کی پسندیدگی کا یہ عالم ہے کہ بغیر پیشگی بکنگ اس کی دستیابی ناممکن ہے. حالانکہ منوں کے حساب سے روزانہ بنایا جاتا ہے. ملک کے طول وعرض سے لوگ بطور سوغات اسے منگواتے ہیں بلکہ بیرون ملک بھی بجھواتے ہیں. پچھلے دنوں مانسہرہ جانا ہوا تو جی میں آئی کہ تھوڑا سا کھویا ہم بھی لیجائیں. ایک دوست کو لینے کے لئے بھیجا. معلوم ہوا کہ ایڈوانس بکنگ کے بغیر آئے ہیں اس لیے نہیں مل سکتا. بہر حال بمشکل تمام کچھ مذاکرات کے بعد کسی اور گاہک کے بڑے آرڈر میں سے کچھ ڈبے ہمارے حصہ میں آئے.

    اب دیکھیں کہ کیسی حوصلہ افزا کامیابی کی داستان ہے. کسی بھی بڑے شہر سے دور، دشوار گزار پہاڑوں کے درمیان اس صاحب ہنر نے اپنی سوچ اور محنت سے کیسا راستہ نکالا. اس مشکل کے باوجود کہ اس مٹھائی کی تیاری کےلیے دودھ بھی مقامی طور پر دستیاب نہیں، ساہیوال کے نواح سے منگوایا جاتا ہے. اس خطے میں جہاں نوے فیصد لوگ مواقع اور وسائل کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں اس صاحب عمل نے ایسی مثال قائم کردی ہے کہ ناکامی کے دیگر تمام نوحے تن آسانی اور غیر عملیت پسندی کا شاخسانہ لگنے لگے ہیں.

    پیغام بڑا سادہ اور واضح ہے. بے شک مسائل ہوتے ہیں. بے شک وسائل اور مواقع کی عدم دستیابی اور معاشرتی منفی رویوں کے سپیڈ بریکر موجود ہیں. مگر مستقل مزاجی، محنت اور حکمت سے راستہ بنانے والے منزل پا ہی لیتے ہیں. اگر آپ کی مایوسی کی وجہ بھی وسائل اور مواقع ہیں تو ازسر نو غور کی صلاح دی جاتی ہے.

  • آبی سالنامہ  2022 — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آبی سالنامہ 2022 — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ہم پاکستان کی آبی تاریخ کے شاید سب سے ظُلمی سال کو الوداع کہنے جا رہے ہیں جس کے پہلے چھ ماہ پانی کی کمی سے لوگ اور جانور مرتے رہے تو اگلے چھ ماہ بارشی سیلابی پانی کی زیادتی سے۔

    اس سال کی شروعات ہی تاریخ کی بدترین خشک سالی سے ہوئی۔تربیلا ڈیم 22 فروری کوئی ڈیڈ لیول پر آگیا تھا۔ محکمئہ موسمیات کے مطابق اس سال مارچ اور اپریل کے مہینوں میں ملک بھر یں معمول سے 62 فی صد سے لے کر 74 فی صد تک کم بارشیں ہوئیں اور یہ مہینے گزشتہ چھ دہائیوں کے اب تک کے سب سے زیادہ گرم مہینے تھے۔گرمی کی شدت کا اندازہ لگائیں کہ مئی میں ژوب کے پاس ضلع شیرانی کے ہزاروں ایکڑ پر پھیکے زیتون اور چلغوزوں کے باغات میں آگ بڑھک اٹھی جس پر کئی ہفتوں کی کوشش کے بعد ہی قابو پایا جاسکا۔ 10 کلومیٹر لمبائی کا علاقہ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ہزاروں درخت جل گئے اور اس زیادہ جنگلی حیات مر گئی۔

    مار چ اپریل میں ہی سندھ اور پنجاب جے کاشتکار پانی کی کمی کی وجہ سے سڑکوں پر آگئے تھے جب نہروں میں ضرورت کا صرف ایک چوتھائی پانی چل رہا تھا اور خریف کی فصل خصوصاً گندم پانی کی کمی کی وجہ سے تباہی سے دوچار تھی۔

    دوسری طرف مئی میں چولستان اور ڈیرہ بگٹی میں لمبی خشک سالی سے پانی کے ٹوبے ،کنڈ اور تالاب خشک ہو چکے تھے اور جانوروں کے ریوڑ کے ریوڑ پیاس سے مر رہے تھے اور ان علاقوں کی انسانی آبادی خطرے کو بھانپتے ہوئے ہجرت پر مجبور تھی۔ پیر کوہ میں تو کئی انسانی اموات بھی ہوئیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس مسئلے کے اجاگر ہونے سے ریسکیو 1122 اورکئی فلاحی تنظمیں متحرک ہوئیں اور ہنگامی بنیادوں پر ان علاقوں میں ٹینکرو سے پانی پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ پاکستان کا 17 فی صد سے زیادہ زمینی رقبہ صحرا پر مشتمل ہے جس میں صحرائے تھل، چولستان، تھر، نوشکی اور خاران کے علاقے شامل ہیں جہاں انسان اور جانور خشک سالی سے متاثر ہوئے۔

    جہاں ایک طرف خشک سالی اور گرمی کی شدت زور پر تھی وہیں محکمئہ موسمیات نے اپریل کے آخر میں اس سال ایک ظالم مون سون آنے کی پیش گوئی کر دی تھی جسے زیادہ سنجیدگی سے نہ کیا گیا۔مئی کے آخر (22مئی) میں چولستان میں تیز بارش اور ژالہ باری ہوئی اور روہیلوں نے اس کا استقبال جشن منا کر کیا۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں اس سال معمول سے زیادہ بارشیں اور 2010 سے بھی بڑا سیلاب آنے کی خبر سنا دی لیکن خشک سالی کے ماحول میں اس اعلان کو توجہ نہ دی گئی۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل مئی تک مون سون سے نپٹنے کے اپنے اپنے منصوبے بنا کر حکومت کو جمع کروا دیتے ہیں لیکن ملک میں اُس وقت جاری سیاسی سرکس کی وجہ سے معمول کا یہ کام بھی صحیح طریقے سے نہ کیا گیا۔

    جون کے آخر میں ملک سے سب بڑے شہر کراچی میں طوفانی بارشوں سے سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی۔ ہر طرف جل تھل ہو گئی اور پورے شہر کی آبادی کئی دنوں اپنے گھروں میں قید ہوگئی کیونکہ سڑکوں پر بارش کا پانی کھڑا تھا۔ انہی دنوں میں کراچی میں امان خان کاکاخیل ستون نیکی والے ابھر کر سامنے آئے جو کراچی میں بارشی پانی سے زمینی پانی کو ری چارج کرنے کے انتہائی سادہ اور کسی حد تک بالکل بنیادی مگر بے حد مفید طریقے سے خشک کنوؤں کو تر کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے تھے۔

    جب ملک کراچی کے ڈوبنے کو دیکھ رہا تھا تو جون کے آخر اور جولائی کے شروع میں میانوالی میں کوہِ نمک اور ڈی جی خان میں کوہِ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں سے پہاڑی نالوں میں آنے والے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی۔ کرک، لکی مروت اور ڈی آئی خان کے پہاڑوں کے دامن کے علاقے بھی طوفانی ریلوں کی زد میں آگئے لیکن سرکار ابھی تک بھی سوئی ہوئی تھی اور راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا تھا۔

    اس سال جولائی کے شروع ہوتے ہی شمالی بلوچستان میں مون سون شروع ہوگئی جس یں ژوب، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ ، لورا لائی، با رکھان، ہرنائی، پشین اور کوئٹہ تک میں بارشیں شروع ہو گئیں۔یہ عیدالاضحیٰ کے دن تھے۔ 6 جولائی سے شروع ہونے والی یہ بارشیں اگست تک جاری رہیں جو کہ بلوچستان کے کیے ایک غیر معمولی صورت حال تھی کیونکہ بلوچستان کے صرف مشرقی اضلاع ہی مون سون کی آخری حد ہیں جس کے بعد ان کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ تاہم اس دفعہ جنوبی بلوچستان میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی جس میں آواران اور تربت جیسے علاقے بھی شامل تھے۔کئی ڈیم اور بین الصوبائی رابطہ سڑکوں کے پُل ٹوٹ گئے۔ ہزاروں کلومیٹر سڑکیں سیلابی پانی کے ساتھ بہہ گئیں۔

    جولائی کے تیسرے ہفتے تک سندھ بھی طوفانی مون سون کی زد یں آچکا تھا اور ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔بلوچستان اور سندھ میں ہونے والی اس سال کی مون سون اس لئے مختلف تھی کہ بارش کا ایک دورانیہ ختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہوجاتا اور زمین جو پہلے ہی گیلی پڑی ہوتی اس میں پانی سینچنے کی بجائے فوراً سیلابی صورت حال اختیار کر لیتا۔ دوسرے ایک دو اسپیل کی بجائے بارش کے چھ سے سات اسپیل ہوئے اور چند دنوں میں ہی پانچ چھ سالوں کے حجم برابر مینہہ برس گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق معمول سے چھ گنا زیادہ بارشیں ہوئیں۔یہ پہلی دفعہ ہورہا تھا کہ سندھ میں دریائے کابل اور تربیلا سے چلے ہوئے سیلابی ریلے ابھی نہیں پہنچے تھے لیکن صوبے کا بڑا حصہ بارشی پانی سے زیرِآب آچکا تھا۔

    اسی دوران کوہِ سلیمان کے سیلابی ریلے تونسہ اور ڈی جی خان یں تاریخی تباہی لے کر آئے اور کئی بستیوں کو آنِ واحد میں اُجاڑ کر رکھ دیا۔جولائی کے آخر تک کراچی کے لئے پانی ذخیرہ کرنے والا حب ڈیم بھر چکا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر مون سون کی سر زمین پنجاب میں معمولی بارشیں ہورہی تھیں۔

    اگست کے آخر (26 اگست) میں مون سون نے وادئی سوات میں تباہی مچادی اور دریائے سوات اپنے کناروں سے چھلک پڑا۔ دریا کنارے بنائے گئے بیشتر سیاحتی ہوٹل تنکوں کی طرح پانی یں بہنے لگے۔ کے پی میں کوہستان کی وادئی دبیر میں پانچ بھائیوں کی سیلابی ریلے میں پھنسنے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چار بھائی سیلابی ریلے کے ساتھ مدد پہنچنے سے پہلے ہی بہہ گئے۔

    سندھ اور بلوچستان کے ملحقہ علاقوں پر 100 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر سیلابی پانی نے عارضی جھیل بنا دی جس کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری بھی غمگین ہو گئے اور انہوں نے اس سیلاب کو “a monsoon in steroids” کہا۔ حکومت بھی جاگی اور سیلابی علاقوں میں فلاحی تنظیمیں متحرک ہو گئیں۔ صرف الخدمت کی طرف سے قائم کی گئی عارضی خیمہ بستیوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی۔

    ان تباہ کن بارشوں کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دیا گیا اور عالمی سطح پر پاکستان سے ہمدردی کے جذبات دکھائے گئے کیونکہ پاکستان کا عالمی ماحول کو خراب کرنے والی گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر تھا لیکن یہ اس موسمی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا تھا۔ سیلابوں سے پاکستانی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا، تین کروڑ سے زیادہ آبادی متاثر ہوئ، 2 ہزار سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور 8 لاکھ سے زیادہ جانور ہلاک ہوئے۔

    نومبر کے پہلے ہفتے میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونیوالی عالمی ماحولیاتی کانفرنس (COP27) میں مصر نے پاکستان کو اس کی مشترکہ صدارت پیش کی ۔ پاکستان نے اس کانفرنس میں نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ G77 کی سربراہ کے طور پر شرکت کی۔پاکستانی وفد نے عمدہ طریقے سے اپنا کیس لڑا اور دریائے سندھ کی بحالی کے منصوبے کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے میں کامیاب ہوگیا۔

    تاہم اکتوبر سے دوبارہ خشک سالی والے حالات بننا شروع ہو گئے ہیں ۔ سال کے آخری تین مہینوں میں معمول سے کم بارشیں ہوئی ہیں۔ شہری علاقوں خصوصاًلاہور کی فضاسموگ سے زہر آلود ہو چکی ہے۔

    سال ختم ہونے کو ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت سندھ اور بلوچستان کے نشیبی علاقوں سے سیلابی پانی پچھلے چار مہینوں سے نہیں نکال سکی۔ کھجور، چاول اور کیلے کی فصل تو سیلاب نے پہلے ہی تباہ کردی ، اب کھڑے پانی میں گندم کی فصل بھی کاشت نہیں ہو سکتی۔ چشمہ رائٹ بنک کینال، کچھی کینال اور پٹ فیڈر کینال میں بھی سیلابی تباہی کے بعد بحالی کا کام ابھی تک نہ ہو سکنے کی وجہ سے نہری پانی نہیں چل رہا۔ کسانوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور یہ حالات ایک آنے والے دنوں میں خوراک کی قلت کا سنگین مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ آنے والا سال پاکستان کے آبی وسائل کی بہتری کا سال ہو۔

  • جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ!!! — ریاض علی خٹک

    جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ!!! — ریاض علی خٹک

    پانچ چیزیں جب آپ اپنے جسم میں محسوس کریں تو آپ کو ترازو پر کھڑا ہو جانا چاہئے.

    آپ کی کمر چالیس انچ سے نکل گئی.

    آپ کو بتایا جاتا ہے آپ رات میں خراٹے لیتے ہیں اور صبح آپ تازہ دم نہیں ہوتے.

    اکثر آپ کا دل جلتا ہے. جوڑ درد کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام بھی آپ کو تھکا دیتے ہیں. آپ ترازو پر کھڑے ہو جائیں آپ کا وزن بڑھ چکا ہے.

    اگر آپ نا اُمید مایوس چڑچڑے رہتے ہیں. دل میں ایک بے چینی اور بے زاری ہے تو بھلے اوپر درج کوئی علامت بھی آپ خود میں نہ پائیں پھر بھی آپ کا وزن بڑھ چکا ہے. بس اوپر کی علامات جسمانی وزن کی ہیں اور نیچے ذہنی اور نفسیاتی بوجھ ہے. دونوں سے چھٹکارے کا راستہ بھی تقریباً یکساں ہے. آپ کو اپنا لائف سٹائل بدلنا ہوگا.

    آل یہود ارض قدس میں ایک دیوار کے سامنے روتے ہیں. اسے دیوار گریہ کہتے ہیں. آپ کبھی اسے قریب سے دیکھیں تو اس کی ہر درز ہر دراڑ میں بہت سی پرچیاں کاغذ ٹھونسے ہوئے ہیں. یہ اُن لوگوں کی ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات و ارمان لکھ کر دیوار کے حوالے کیں اور خود ایک یقین کے ساتھ ان کو پانے کیلئے نکل گئے. لیکن جو دیوار کے سامنے رونے کو ہی حل سمجھتے ہیں وہ پھر روتے ہی رہتے ہیں.

    جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ دونوں آپ کی زندگی مشکل بناتے ہیں. جسمانی وزن میں آپ کی سانس ہانپ جاتی ہے جبکہ ذہنی بوجھ میں آپ سے وابستہ رشتوں تک کا دم گھٹنے لگتا ہے. اوور ویٹ لوگوں کا اکثریتی مسئلہ ہے کہ یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ یہ اپنی سرحدیں پار کر چکے ہیں. جسمانی وزن چند ماہ کی مشقت ہے تو ذہنی بوجھ کیلئے تو روتے ہوئے کچھ سجدے ہی بہت ہوتے ہیں.

  • پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ہفتے والے دن صبح کے وقت گیس سے چلنے والی ککنگ رینج میں کوئی مسئلہ ہوا اور گیس لیک ہونے لگی۔ گیس والے کچھ مکینکس کو کال کی۔ ایک نے کہا کہ رات ساڑھے نو کے بعد آ سکتا ہوں اور کم سے کم تیرہ سو لونگا۔ دوسرے نے کہا کہ ایک ہزار صرف آنے کا لونگااور دیکھ کر بتاؤں گا کہ مسئلہ کیا ہے اور مزید کتنا خرچ آئےگا۔ دو نے کہا کہ آج وقت ہی نہیں ہے، کل ہو سکتا ہے۔

    اس کے بعد گاڑی لے کر نکلاکہ گیس والی دکانوں پر گیا کہ کوئی مکینک ڈھونڈھ لاؤں۔ جہاں بھی گیا تو پتہ چلا کہ مکینک تو کہیں نہ کہیں کام پر گیا ہوا ہے ، سب نے فون نمبر دیا کہ بات کر کے پتہ کر لیں کب تک آ سکتا ہے۔ مزید تقریباً سب نے یہ کہا کہ اگر ادھر دکان سے ٹھیک کروانا ہے تو پھر دے جائیں اور کل مل جائے گا۔ بالآخر ایک ہماری کالونی میں ہی کسی کے گھر کام کر رہا تھا، وہ تھوڑی دیر تک آیا۔ مسئلہ دیکھا اور کہا کہ دو ہزار روپے لگیں گے، اگر کہتے ہیں تو ٹھیک کردوں ورنہ میں چلا جاؤں۔ پندرہ سو کروانے کی کوشش کی لیکن وہ بیگ اٹھا کر باہر آگیا۔ دو ہزار پر ہی اوکے کرنا پڑا کہ باقی چھ سات سے تو پہلے ہی بات ہوچکی تھی۔ اس کے بعد اس نے ککنگ رینج کھولی، صفائی کی، ایک وال لیک تھا، اسے ٹھیک کیا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ کام کیا، دو ہزار پکڑے اور چلا گیا۔ اس دوران اسے مسلسل مختلف لوگوں کے فون آرہے تھے اور وہ مختلف ٹائم دے رہا تھا۔

    ایسا ہی کچھ پلمبر، الیکٹریشن، اے سی کی سروس کرنے والے، فریج واشنگ مشین ٹھیک کرنے والے،گاڑیوں کے مکینک، کھڑکیاں دروازے لگانے والے، ویلڈنگ کرنے والے، وغیرہ کے ساتھ بھی دیکھ چکا ہوں۔

    ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بیروزگاری سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ آٹھ آٹھ سال مدارس میں لگانے والے سات سے پندرہ ہزار تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ کیا یہ ہنر سیکھنا اتنا مشکل ہے؟کیا اس کے لیے کئی سال درکار ہیں؟ کیا یہ سیکھنے کے لیے بہت زیادہ پیسہ چاہیے؟

    مشکل بھی نہیں، پیسہ بھی زیادہ نہیں چاہیے، وقت بھی اتنا نہیں چاہیے تو پھر سیکھتے کیوں نہیں؟ جتنا ایک امام صاحب پورے مہینے میں کماتے ہیں اس سے کہیں زیادہ یہ ایک دن میں کما لیتے ہیں۔ اور ایم فل کرنے کے بعد بھی ایک شخص جتنی تنخواہ لیتا ہے اتنی یہ ایک ہفتے میں کما لیتے ہیں۔

    یہاں شاید کوئی یہ کہے کہ اس میں عزت کم ہے اور جاب میں زیادہ ہے تو اس نے شاید جاب کرکے دیکھی نہیں ہے۔ اور امام صاحب کو مسجد کمیٹی اور بعض دفعہ تو نمازیوں کی طرف سے بھی بہت کچھ سننا پڑتا ہے۔

    ایک دفعہ اپنے خول سے باہر نکلیے ، انا کو سائیڈ پر رکھیے، چند دن کسی بھی ہنر مند شخص کے ساتھ لگائیے اور پھر چاہے اپنی دکان پر بیٹھ کر کام کریں، چاہے گھروں میں جا کر، باعزت روٹی کمانے والے ہو جائیے۔

  • بچے جن کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں!!! — علی منور

    بچے جن کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں!!! — علی منور

    دو بچے جن کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔

    1 وہ جو میٹرک میں ٹاپ کرتے ہیں، پھر کالج میں بڑے ارمانوں کے ساتھ ایف ایس سی پری میڈیکل کے سبجیکٹس رکھتے ہیں اور سکالر شپ پر پڑھتے ہیں۔ پورا خاندان ان پر فخر کرتا ہے اور والدین سینہ تان کر چلتے ہیں۔ پھر تین چیزیں ہوتی ہیں۔

    ایک یہ کہ بچہ محنت جاری رکھتا ہے اور انٹر کے سخت امتحان کے بعد میڈیکل کا اینٹرنس ایگزام بھی سر کر لیتا ہے اور ڈاکٹر بننے کے سفر پر چل پڑھتا ہے۔

    دوسرا یہ کہ اپنی قابلیت کے زعم میں بہت سی چیزیں انڈر ایسٹیمیٹ کر لیتا ہے اور خود کو خراب کر بیٹھتا ہے، پھر مطلوبہ نتائج نہ آنے پر سسٹم کو، میرٹ کو اور پہنچ والوں کو کوسنے دینے شروع کرتا ہے کہ ذمے دار اس کے اپنے علاوہ باقی سب ہیں جبکہ ایسے کیسز میں قصور وار والدین بھی ہوتے ہیں مگر ان کا سارا زور بھی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دینے پر ہوتا ہے۔

    تیسرے نمبر پر وہ بچے ہوتے ہیں جو میٹرک کے بعد انٹر میں بھی سخت محنت کرتے ہیں اور پھر میڈیکل کا اینٹرنس ایگزام بھی خوش اسلوبی سے دیتے ہیں مگر کسی بھی وجہ سے میرٹ سے ایک دو پوائنٹس کے فرق سے رہ جاتے ہیں۔ یہ بچے ہر لحاظ سے قابلیت کے اعلی معیار پر پورے اترتے ہیں مگر جب اپنے ہی سامنے اپنے ساتھ والوں کو سرکاری کالجز میں یا اپنے سے کمتر بچوں کو پیسے کے بل پر پرائیویٹ کالجز میں داخلہ لیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ڈپریشن کے سخت فیز میں چلے جاتے ہیں کیونکہ سرکاری داخلے کے اہل بچوں کے برابر تو محنت انہوں نے کی ہوتی ہے اور رزلٹس میں بس پوائنٹس کے فرق سے بات رہی ہوتی ہے جبکہ پرائیوٹ کالج کی فیس بھرنے کے قابل والدین نہیں ہوتے تو وہ کسی چھوٹی ڈگری کو ذہنی طور پر تسلیم نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً معاشرے کو ایک سخت رو استاد میسر آتا ہے جس کی صحیح وقت میں درست راہنمائی نہ ہونے کی صورت میں اگلی نسل کے لیے مایوسیوں کے کئی در کھلتے ہیں اور سینکڑوں پھول کھلنے سے پہلے ہی مایوسی کی زندہ مثال دیکھ کر مرجھا جاتے ہیں۔

    تباہ ہونے والے دوسری قسم کے بچے وہ ہوتے ہیں جن کے والدین ان پر پڑھائی کے لیے شیڈول سخت رکھتے ہیں۔ ان کے کھیلنے اور پڑھنے کے اوقات کار فکس ہوتے ہیں۔ دور کے رشتہ داروں کی شادیوں میں، مووی دیکھنے، یا کسی فضول فنکشن میں ان کو جانے کی اجازت نہیں ملتی کہ مبادا پڑھائی کا ہرج ہو۔ ان کے ماموں، پھوپھو، خالہ یا چاچو کے بچے جو ہمہ وقت کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں اور ہر چھوٹی بات پر سکول سے چھٹی کرتے ہیں اور والدین ان کزنز کے بارے میں ہمیشہ کہتے ہیں کہ بیٹا پڑھ لکھ کر افسر بن جاؤ ورنہ دیکھ لینا پڑھائی نہ کرنے کی وجہ سے تمہارے یہ کزن مزدوریاں کریں گے۔

    پھر ایک دن آتا ہے جب بچے اپنی مارکس شیٹیں ہاتھ میں تھامے کبھی داخلے کے لیے اور کبھی کسی اور مقصد کے لیے دفاتر میں ایڑیاں گھسا رہے ہوتے ہیں تبھی ان کے وہ نکمے کزن ٹک ٹاک پر ناچتے ہوئے وائرل ہو جاتے ہیں اور پیسوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ تب ان کو سمجھ نہیں آتا کہ انہوں نے بچپن کی ساری خوشیاں ہنگامے اور موج مستیاں کس پڑھائی کے لیے وار دیں جب ان کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت کھیل کود میں مشغول رہنے والے سوسائٹی کی آنکھ کا تارا بھی بنے اور پیسے میں بھی کھیلے۔ حد تو تب ہوتی ہے جب دوران تعلیم ان بچوں کو منہ بھی نہ لگانے والے اساتذہ کرام ناچ کر وائرل ہونے والوں کے ساتھ سیلفیاں بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں اور فخریہ بتاتے ہیں یہ فلاں ہمارا سٹوڈنٹ تھا یا تھی۔

    سمجھ نہیں آتا کہ وہ کونسی ترجیحات ہیں جس سے معاشرے میں ترقی کی راہ اپنائی جا سکتی ہے اور بچوں کو قائل کیا جا سکتا ہے کہ پڑھنا لکھنا اور باشعور و بامقصد رہنا ہی ان کے اپنے لیے اور ان کے ملک و ملت کے لیے سود مند ہے۔ ناچ گانا، ٹک ٹاک اور گیمز صرف وقتی چیزیں ہیں جن کا جز وقتی اور سستی شہرت کے سوا کچھ حاصل نہیں۔

  • ایک بے کار سا مشورہ —- ابن فاضل

    ایک بے کار سا مشورہ —- ابن فاضل

    اوپن مارکیٹ ڈالر ڈھائی سو میں بھی نہیں ملتا. اور ذہین حکومت سرکاری نرخ دوسو پچیس پر باندھ کر مطمئن ہے. باہر کے ملکوں سے پاکستان رقم بھیجنے والوں کو بینک سے ہزار ڈالر کے عوض سوا دولاکھ ملیں اور دیگر ذرائع سے بھیجیں تو ڈھائی لاکھ ملیں تو کم ہی محب وطن ایسے ہوں گے جو اتنا نقصان کرکے بھی بینک سے بھیجیں.. یہی وجہ ہے کہ ترسیلات زر پچھلے سال کے مقابلے میں بہت کم رہ رہی ہیں. یہ عمل تجارتی خسارے میں اضافے کا باعث ہے.

    صورت حال یہ ہے کہ سرکار کے پاس زرمبادلہ کی قلت کے باعث صنعت کے لیے ناگزیر سامان کی درآمد پر بھی کہیں اعلانیہ اور کہیں غیر اعلانیہ پابندی لگائی جاچکی ہے.ٹریکٹر ساز اور کاریں بنانے والے ادارے اور ان پر منحصر ساری صنعت شدید مالی بحران سے دوچار ہے. لاکھوں لوگوں بے روزگار ہونے جارہے ہیں. اور اس بحران کی مدت کتنی ہے اور حل کیا ہے کسی کونہیں معلوم. مستقبل کے حالات کا سوچ کر بھی خوف آرہا ہے.

    ایسے میں ہمارے ذہن میں ایک حل آرہا تھا سوچا آپ کے ساتھ سانجھ کرلیں شاید کوئی بہتری کی صورت نکل آئے. بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان میں چند میدانوں میں جیسے، ہاؤسنگ، فوڈ ویلیو ایڈیشن ،اور انجینئرنگ وغیرہ کی صنعت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے. ان کے لیے خصوصی سرمایہ کاری اکاؤنٹ کھولیں جاسکتے ہیں . جن میں سرمایہ بھیجنے پر انہوں مارکیٹ ریٹ سے پچیس تیس روپے فی ڈالر زیادہ رقم دی جائے.مگر شرط یہی ہوگی کہ یہ رقوم یہاں جائدادیں بنانے کے لیے نہیں بلکہ صنعتیں لگانے پر صرف ہوگی.

    دس ارب ڈالرز کے بدلے ڈھائی، تین سو ارب روپے فالتو دینا پڑیں گے جس سے شاید انفلیشن تو تھوڑا سا بڑھے گا مگر دس ارب ڈالر ایک دم آنے سے جو ملکی صورتحال میں یک دم بہتری آئے گی، غیر یقینی صورتحال کے خاتمہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے وہ اس سے کہیں زیادہ فائدہ کا باعث ہوں گے.

    لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک وقتی حل ہے. مستقل بنیادوں پرمعاشی استحکام کے لئے ہمیں سب سے پہلے غیر یقینی صورتحال کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا پڑے گا. کسی طور ساری بڑی جماعتیں کسی طاقتور گارنٹر کی موجودگی میں ایک چارٹر آو اکانومی پر متفق ہوجائیں تاکہ ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو نہ چھیڑا جاسکے. اگر یہ نہیں ہوتا تو پھر منیر نیازی کا شعر دریا کی جگہ بحران لگا کر پڑھیں.

    اک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو
    دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

  • خیالات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خیالات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خیالات پرانے یا نئے نہیں ہوتے، درست یا غلط ہوتے ہیں۔ ہر نئی چیز اچھی نہیں اور ہر پرانی چیز بری نہیں ہوتی۔ سخاوت ایک پرانا خیال سہی، مگر کردار کی عظمت کا نشان آج بھی بنتی ہے۔ بہادری کا لفظ پرانا ضرور، مگر دنیا آج بھی بہادروں کی عزت کرتی ہے۔

    چالاکی ہوشیاری مکاری جھوٹ فریب دغا، گو جدید دور میں نئے ناموں کے ساتھ لانچ کر دئیے گئے مگر آج بھی برے کے برے ہیں، دنیا نئے سیاروں پر چلی جائے، چاند پہ بسیرے کر لے، سورج پہ چھاوں تلاش کر لے، انہیں جھوٹ سے نفرت کرنا ہی پڑے گی۔ فریب پوری تاریخ بدل جانے کے باوجود فریب ہی رہے گا، گھٹیا اور بودا ہی رہے گا۔ قابل احترام لفظ نہیں بن سکتا۔ قتل نفس مظلوم جرم تھا جرم رہے گا۔

    گویا کچھ تعلق نہیں نئے پرانے کی بحث کا اچھائی برائی کے ساتھ۔

    مسئلہ توحید ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک تروتازہ ہے، اہل توحید آج بھی اجنبی اور دشمنان توحید آج بھی خود کی عقل پہ نازاں۔ قوم نوح نے پانچ بت بنائے، کئی اقوام نے معبد خانے بھر دئیے، کئی شاہوں نے اپنی خدائی کا اعلان کیا اور مشرکین مکہ کے بت ہزاروں تک پہنچ گئے، کئی تہذیبوں نے ہر جاندار چیز کو خدا مانا اور کئیوں نے خود طاقت ور ہر مخلوق کے سامنے سر جھکایا، انکار خدا پر ان کے دلائل یہی ہوا کرتے کہ وہ سامنے کیوں نہیں آتا، غریبوں کو نبی بنا کر بھیج دیا، اس کے ساتھی غریب ہی کیوں ہیں،۔ہمارے اسٹیٹس کو پرابلم ہوجاتی ہے وغیرہ !

    دور جدید میں اسی توحید کے دشمنوں نے خدا کی وحدانیت کا عقیدہ چھوڑ کر انسان کو ہی خدا باور کرویا، گویا خدا کو سمجھانا پڑا کہ قبلہ آپ خدا ہیں۔ہے نا عجیب !

    پھر ایک خدا کو چھوڑ کر لاکھوں غیر مرئی طاقتوں پر ایمان لے آئے۔ پہلے مشرکین سے کہا جاتا کہ تمہارے بت کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں تو وہ جواب دیتے، تمہارا خدا بھی تو نظر نہیں آتا۔ آج کا جدید مشرک جب جواب دیتا تو بعینہ یہی سوال اٹھاتا ہے کہ خدا نظر کیوں نہیں آتا، بلیک ہول کے بعد تو دنیا ختم، وہاں تو خدا نہیں ہے۔ ان سے پوچھیں قوانین قدرت بھی تو نظر نہیں اتے، تس پہ جواب دیتا ہے کہ ان کے آثار تو بکھرے پڑے ہیں، جواب ہمارا بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ خود تمہارے جسم کے اندر کے نظام سے سمجھ آتا ہے، اگر تم سمجھنے کی کوشش کرو، اگر کوشش ہی نا کرو تو بے شک پہاڑ الٹا دئیے جائیں، ہدائت تب ہی ملنی جب حکم خداوند قدوس کا آجانا ہے۔

  • اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    کھانا ہر انسان کی مادی ضرورت ہے ۔ ہمارے ہاں تو فون کی بیٹری، وائی فائی سگنلز کے بعد انسان کو سب سے زیادہ فکر دو وقت کی روٹی کی ہی ہوتی ہے، البتہ جو قومیں روٹی نہیں کھاتیں ، ان کے ہاں پتہ نہیں دو وقت کی ‘کیا’ کی فکر ہوتی ہوگی ۔ شاید چینی ایسا کہتے ہوں ‘بھئی اپنی تودو وقت کی نوڈلز بمشکل پوری ہوتی ہیں’ ۔ انگریز ماں شاید ایسے اپنے بچے کو دعا دیتی ہوگی ‘وے پیٹر… گاڈ کرے تجھے دو وقت کا برگر آسانی سے ملنا شروع ہو جائے ‘

    ہمارے محلہ کے عظیم ماہرِ معیشت و پکوائی ،بشیر تندور والے کا کہنا ہے کہ ستر فیصد لوگوں کی اسی فیصد تگ ودو روٹی کمانے کے لئے ہوتی ہے جبکہ ان کا نوے فیصد بجٹ ‘سالن’ کھا جاتا ہے۔ قریب یہی نسبت سیاستدانوں اور بیوروکریسی میں ہے ۔ ادھر روٹی کا بھی عجیب معاملہ ہے، اکثر لوگوں کو کہتے سنا ‘بھئی آج سالن بہت لذیذ تھا میں تین روٹیاں کھا گیا’ حیرت ہوتی ہے ۔بھئی اگر سالن لذیذ تھا تو سالن زیادہ کھائیں نا روٹی بیچاری کا کیا قصور ہے ۔

    کھانے میں، کمزور کا حق اور سرکار کے مال کے بعد شہد ، دہی اور ماں کی گالیاں سب سے زود ہضم غذائیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ جینے کے لیے کھاتے ہیں اور باقی کھانے کے لیے جیتے ہیں ۔ اسی لیے شاید کچھ لوگ بہت سلیقہ سے اور منتخب کھانا کھاتے ہیں ان کو عرفِ عام میں مہذب یا غیرملکی کہتے ہیں ۔اور دیگر کھانے پر ایسے حملہ آور ہوتے ہیں گویا کھانا کھا نہیں رہے فتح کر رہے ہوں۔ زیادہ کھانے والوں میں بھینسیں، بٹ، اہلیانِ گوجرانوالہ مولوی اور سیاستدان مشہور ہیں، جبکہ کم کھانے والوں میں، ماڈلز، چڑیاں ، ستر سی سی موٹر سائیکل اورموٹروے پولیس شہرت رکھتے ہیں۔

    کھانے کے معاملہ میں ہرایک کا انتخاب مختلف ہے ۔ کچھ قومیں صرف گوشت نہیں کھاتیں، جبکہ کچھ صرف گوشت کھانا چاہتی ہیں چاہے کسی بھی جانور ۔ خود ہمارے حلقہ احباب میں کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں گوشت ہو چاہے لگڑ بگڑ کا ہی ہو۔ ایسے لوگوں کی خواہش اور فرمائش پر ہی شاید مہربانوں نے گدھے کے گوشت کو رواج دیا۔ گو اطباء اس بات پر بضد ہیں کہ غذائی اعتبار سے گدھے کے گوشت میں کوئی کمی نہیں ، البتہ دانشورانِ ملت کا خیال ہے کہ اس کے مسلسل استعمال سے دانائی جاتی رہتی ہے ۔ قابل خرگوشوی اس انکشاف پر چنداں پریشان نہیں، فرماتے ہیں کہ ہم نے دانائی کا کرنا بھی کیا ہے، ہمیں کونسا لیپ ٹاپ اور ہوائی جہاز بنانا ہیں، آجا کے ہم نے فرقے ہی بنانے ہیں، اور وہ دانائی کے بغیر عمدہ اور کثرت سے بنتے ہیں ۔

    خود قابل خرگوشوی سے اگر پوچھا جائے کہ انہیں کھانے میں کیا پسند ہے تو کہیں گے اس کا انحصار اس بات پر ہےکہ پکا کیا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر انڈے آلوپکے ہیں تو انہیں انڈے پسند ہیں، اور اگر آلو بینگن پکے ہیں تو آلو، اور اگر بینگن اروی پکی ہو تو انہیں اچار پسند ہے ۔ چاول کے متعلق ان کی رائے ہے کہ یہ اگانے اور برآمد کرنے کی شے ہے پکانے کی نہیں ۔

    دنیا کا سب سے آسان کام کھانا ہے اور سب سے مشکل پکانا، اور اس سے بھی مشکل یہ فیصلہ کرنا کہ ‘اج کیہہ پکائیے ‘ ۔گمانِ فاضل ہے کہ خواتین میں ‘کہاں سے لیا’، اور ‘کتنے کا ہے’ کہ بعد سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ‘اج کیہہ پکائیے ‘ہی ہے۔ بلکہ ہمارے خیال میں تو خواتین کی تعلیم میں امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ ایک مضمون ‘اج کیہہ پکائیے’ بھی ہونا چاہئے ۔ بلکہ ہم اہل علم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حوالہ سے موبائل اپلیکیشن اور ویب سائٹس کا اجرا کریں جو اس دیرینہ مسئلہ پر موسم اور ماحول کے تناظر میں ان کی درست راہنمائی کرسکیں ۔

    کھانے کی ضد اور وجہ ہے بھوک ساحر لدھیانوی کہتے ہیں

    بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

    بات صرف آداب تک ہی نہیں رکتی صاحب بھوک چوریاں کروا سکتی ہے، ڈاکے پڑوا سکتی ہے، غیرت و حمیت کا سودا کروا سکتی ہے یہاں تک کہ عزتیں نیلام کروا سکتی ہے، گویا بھوک انسانوں سے کچھ بھی کرواسکتی ہے۔ قرآن پاک میں بھوکے کو کھانے کھلانے کی اتنی بار تاکید کی گئی ہے کہ ہمیں حیرت سے اسکی بابت استادِ محترم سے پوچھنا پڑا کہ ایسا کیوں ہے۔ فرمایا اس لیے کہ بھوک دن کئی بار لگتی ہے ۔ اگر قران پاک کو بغور دیکھیں تو جہاں متعدد بار کھانا کھلانے کی تاکید کی گئی وہیں پر اس بات کا حکم بھی ہے کہ اوروں کو اس جانب ترغیب دلائی جائے ۔ بلکہ سورۃ الحاقہ میں اللہ کریم جہنمیوں کے جرائم گنواتے ہوئے کہتے ہیں

    وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡن ۔

    کہ یہ شخص لوگوں کو کھانا کھلانے پر نہیں ابھارتا تھا ۔ اسی طرح سورۃ فجر میں اللہ کریم باغیوں اورسرکشوں کی نشانیاں بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    وَ لَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ۙ۱۸﴾

    اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتے .

    اور سورۃ الماعون میں تو حد ہی کردی ۔ کہ وہ شخص روزِ قیامت کا ہی منکر ہے جو نمازوں میں غفلت برتتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ سو برادرانِ اسلام یاد رہے کہ صرف غریبوں مسکینوں کو کھانا کھلانے سے ہی فرض ادا نہیں ہوتا اس کی ہمہ وقت ترغیب بھی ضروری ہے ۔اور میں نے آپ کو ترغیب دے دی ۔

  • حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    ایک طویل عرصہ پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر کے ایک تجربہ حاصل ہوا. جب سالانہ تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے تو کوئی ورکر ملازم اس شرح پر سوال نہیں کرتا جس شرح سے کمپنی تنخواہ میں اضافہ کر رہی ہوتی ہے. نہ کسی کو اس سال کمپنی کے نفع نقصان کو جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے. سارے اعتراض و خوشی ناراضگی اسی پر ہوتی ہے فلاں کا اضافہ مجھ سے زیادہ کیسے.؟ یا فلاں سے کم کیوں.؟

    ہمارا وہ کلچر ہے جہاں ہمیں ٹانگ کھینچنے کیلئے کسی پرائے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی. ہم خود ایک دوسرے کیلئے بہت ہیں. اس لئے ایک بڑی اکثریت دیہاڑی والی مزدور بن گئی ہے. صبح آو کام کرو شام کو جاتے تسلی لے لو آج کی دیہاڑی لگ گئی. بیماری اپنا گھر اور کل کے بڑھاپے میں جب دیہاڑی لگانا ممکن نہ ہوگا تب کیا ہو گا.؟ اس کیلئے جلد سے جلد بچے پیدا کرو ان کو بھی دیہاڑی پر لگاو تا کہ کل محفوظ ہو جائے.

    سوشل سیکورٹی پینشن کا حق کیا ہے.؟ کنزیومر رائٹس کیا ہیں.؟ ایک ٹرک ڈرائیور زندگی بھر سڑکوں پر رُلتا پھرتا ہے. اس کی زندگی رسہ ترپال کرتے یا پرانی گاڑی کے ٹائر بدلتے گزر جاتی ہے. تنخواہ اس کی چند ہزار ہوتی ہے. لیکن اس ذمہ داری کا صلہ اس کو کیا ملتا ہے؟ کیا ملک و قوم کل اس کی ذمہ داری اٹھائے گی.؟ کل سارے ٹرک والے ہڑتال کر دیں تو ملک و قوم کو پتہ چل جائے ان کمزور کندھوں پر کتنی ذمہ داری ہے.

    اشرافیہ نے طریقے سیکھ لئے ہیں. وہ زکوٰۃ صدقات تو شوق سے دیتے ہیں. لیکن مزدور کا حق دینا سب کو مشکل لگتا ہے. کل روز محشر ان کے سامنے اگر نیدر لینڈ ڈنمارک اسرائیل کی مثال رکھ دی گئی کہ بتاو ان کافروں نے بھلے صدقات و حیرات نہیں کی لیکن اپنے ہر حقدار کو اسکا پورا پورا حق دیا تب ان کو پتہ چلے گا نفس کی تسلی کے تماشے یہاں کر کے خود کو یہ تسلی دے سکتے ہیں لیکن یہ انصاف نہیں ہے.

    جب تک ہمیں اپنے حقوق کی سمجھ نہیں آئے گی ہم سب ایک دوسرے سے لڑیں گے. حقوق چھین لینے والے چین کی بانسری ہی بجائیں گے. ان سے تو کوئی سوال بھی نہیں کرتا کیونکہ ہمیں ایک دوسرے سے فرصت ہی نہیں.

  • بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے ٹھہراؤ اور جمود کا فرق نہیں معلوم تھا, بہت طویل عرصہ لگا ان میں فرق کو سمجھتے سمجھتے لیکن اب جبکہ اس بابت جان چکا ہوں تو متنوع المزاجی اور غیر مستقل مزاجی کے فتوے پاتا ہوں لیکن میں ذاتی حیثیت میں خوش اور مطمئن ہوں کیونکہ جمود کا شکار رہ کر ایک لمبا عرصہ میں نے بیگاریں بھگتیں اور اپنا وقت اور قابلیت کھوٹی کی لیکن ٹس سے مس نہ ہوا کہ چلو خیر ہے لیکن وہ میری غلطی بلکہ فاش غلطی تھی اب میں جمود کو خیرباد کہہ چکا ہوں اور نت نئے تجربے کرتا رہتا ہوں کہ سیکھنے کو بھی ملے اور آدم شناشی کے فن میں طاق ہوسکوں۔

    لوگ آپ کو بیوقوف سمجھیں اور آپ کا استعمال کرنا چاہیں یہ قطعی انہونی اور بری بات نہیں لیکن آپ واقعی بیوقوف بن جائیں اور لوگوں سے اسی بیوقوفی میں استعمال ہوجائیں یہ ایک خطرناک بات ہے, بس اس بات کو اصول بنالیں کہ ” میں, مجھے اور میرا” کو آپ نے فوقیت دینی ہے ناکہ مدمقابل اس انسان نے جو آپ کی بیگار چاہتا ہے۔

    اپنی کور ویلیوز کو ڈی ویلیو مت کرنے دیں کسی کو, اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ منافع بخش بنائیں خواہ اس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے یا تعلق داؤ پر لگتا ہے تو لگنے دیں لیکن مفت میں کسی کو مشورہ بھی مت دیں کیونکہ جس چیز جس کام جس انسان کی قیمت طے نہ ہو, مفت میسر ہو اس کے ساتھ من و سلوی کے ساتھ بنی اسرائیل والا سلوک ہی ہوتا ہے لہذا کوئی بھی جذبہ خدمت اور عظمت رفتہ کا چورن منجن دیکر آپ کو کسی نئے نشے کا شکار کرنا چاہے تو آپ صاف صاف اپنا معاملہ اپنی قیمت منہ سے بتادیں کیونکہ "نشے سے انکار زندگی سے پیار” ایک اچھا اصول ہے۔

    75 سالوں سے پاکستان میں یہی چل رہا ہے, بہت سی خرابیاں اور برائیاں اب سوشل نارمز بن چکیں ہیں جس میں حق تلفی, خوشامد, منافقت اور مذہب, ریاست و سیاست کے نام پر بیگار لینا عام سی چیزیں ہیں۔

    دنیا کا تو پتہ نہیں لیکن پاکستان میں کاز بلڈرز کی بہتات ہوچکی ہے کیونکہ یہاں کسی بھی کاز کا نام استعمال کرنا اور راتوں رات پیسہ و شہرت بٹورنا نہایت آسان عمل ہے جبکہ جو کاز شروع ہوتا ہے بلخصوص جن کے لیے شروع ہوتا ہے ان کو اس کا رائی برابر بھی خالص فائدہ نہیں پہنچتا اور شومئی قسمت اس میں دائیں بائیں اور وسط کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں مطلب اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔

    آپ بطور عوام ایک ٹول اور ایسٹ بن چکے ہیں, ایک بوفے سجا ہوا ہے آپ کا سر راہ, جس شاطر اور لالچی دماغ کو دور کی کچھ سوجھ جائے وہ ایک لش پش سا نام اور نعرہ لیکر آپ کے بیچ کودی مارتا ہے اور آپ کےسجے بوفے سے من پسند عوام کو اٹھا لیتا ہے, آپ آوے آوے اور جیوے جیوے کے نعرے بلند کرکے اس کو ترجیح دیتے ہیں اور اسکی جڑیں پھیلاتے اور مضبوط کرتے ہیں اور جب وہ تناور ہوجاتا ہے تو سب سے پہلےآپ کو اپنے سائے اور پھل سے محروم کرتا ہے جبکہ جو بجز سرمایہ داری کرتے ہیں وہ اس کے سائے اور پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    خیر بات لمبی ہوگئی کہ جمود کا شکار مت ہوں, ٹھہراؤ اختیار کریں کہ ایک پل ٹھہرنا اور مشاہدہ کرنا اور سیکھنا غیر منافع بخش نہیں البتہ مستقل ایک کھونٹے سے بغیر کسی معاوضے کے بندھنا نرا دنیاوی و دینوی نقصان ہے۔

    اپنے وقت, ہنر, قابلیت اور معاشرتی شناخت کا معاوضہ طے کریں اور وصولیں پھر کسی کے لیے "خدمات” کا تعین کریں۔