Baaghi TV

Category: متفرق

  • آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں،تحریر:ملک سلمان

    آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں،تحریر:ملک سلمان

    ایک اوورسیز پاکستانی ملنے آئے تو کہنے لگے کہ”پنڈ وسیا نئیں، اُچکے پہلے آگئے“ کے مترادف ابھی آئی فون 17مارکیٹ میں نہیں آیا اور فلاں سرکاری صاحب نے ڈیمانڈ کردی ہے کہ آپکا کام ہوجائے گا لیکن ستمبر میں لانچ ہونے والے آئی فون کے نئے ماڈل کے دو موبائل سب سے پہلے اسے ملنے چاہئیں۔میرے لیے یہ کوئی حیرانی والی بات نہیں تھی کیونکہ سرکاری افسران کی ایسی ڈیمانڈ روٹین ہے۔اس حوالے سے گذشتہ سال میں نے ایک کالم بھی لکھا تھا۔
    حفیظ سینٹر لاہور میں ایک دوست کی موبائل شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا تو وہ ٹیلیفونک کال پر کسی کے ترلے کررہا تھا کہ سر ایسا نہیں ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اس وقت ڈالر ریٹ کم تھا اس دفعہ آپ کا شکوہ دور ہوجاتا ہے۔دکاندار نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے سپیکر فون اوپن کردیا۔ دوسری طرف موجود شخص کہہ رہا تھا کہ فلاں لاہور پوسٹڈ ہے تو تم اسکو زیادہ ریٹ دیتے ہو، اس نے اچھی پوسٹنگ کروا لی تو وہ مجھ سے بڑا افسر نہیں ہوگیا۔ میرا دوست جواباً صفائیاں پیش کرتے ہوئے نہیں نہیں سر ایسی بات نہیں آپ کے ساتھ تو دس سال کا تعلق ہے کبھی ریٹ میں فرق نہیں کیا۔ کال ختم ہوئی تو اس نے نمبر دکھایا تو سنئیر پولیس آفیسر کی کال تھی۔

    دکاندار کا کہنا تھا کہ یہ روز کا مسئلہ ہے چند دن قبل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شکوہ کررہے تھے کہ تم پولیس والوں کو زیادہ ریٹ دیتے ہو، یاد رکھنا دکان ہم ہی سیل کرتے ہیں پولیس والے نہیں۔مذید انکشاف کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر، اے ایس پی لیول کے افسران ماہانہ پانچ سے سات جبکہ اے ڈی سی آر، ایس پی، ڈی پی او، ڈی سی، ڈی جی، آرپی او، کمشنر اور سیکرٹری لیول کے افسران بسا اوقات ایک مہینے میں پچاس سے زائد باکس پیک آئی فون بیچنے کیلئے اپنے قابل اعتبار ہول سیل ڈیلر سے رابطہ کرتے ہیں لیکن ایک بات پر حیرت ہے کہ ان کے اندر کی غربت وہیں کی وہیں رہتی ہے اور چار سے پانچ ہزار کیلئے بھی دکان بند کروانے کی دھمکیاں لگاتے ہیں۔کرپٹ افسران گفٹ ملے آئی فون ہول سیل میں بیچتے ہیں تو ایماندار افسران کیلئے سرکاری تنخواہ میں گزارے لائک انڈرائیڈ لینا بھی مشکل ہے۔

    پاکستان شدید معاشی مسائل کا شکار ہے لیکن”آگ لگے بسی میں ہم ہیں اپنی مستی میں“ کے مصداق بیوروکریسی اپنی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ پہلے پہل سول بیوروکریسی میں اچھے پڑھے لکھے اور خاندانی لوگ آیاکرتے تھے، عام سرکاری ملازمین کی نسبت سی ایس ایس اور پی ایم ایس افسران کا رویہ اور کردار قابل تقلید و تعریف ہوتا تھا۔ نئے افسران کی اکثریت سیلفی سٹار اور ٹک ٹاکرز بنے ہوئے ہیں۔وقار و سائستگی خواتین آفیسرز کی پہچان ہوتی تھی جبکہ نئی خواتین آفیسرز خاص طور پر پولیس کی خواتین ماڈلنگ میں ٹی وی اینکرز اور فلم سٹارز کو مات دے رہی ہیں۔

    وزراء اور چیف منسٹر کے درباری بنے ”باس از آلویز رائٹ اور یس باس“ کی تسبیح کرتے افسران جی حضوری کے چیمپئین ہونے کی وجہ سے ہر حکومت میں ”فٹ“ ہو جاتے ہیں اور نہ صرف من چاہی پوسٹنگ لیتے ہیں بلکہ فیصلہ سازوں کی آنکھ کا تارہ بن کر صوبے اور ڈیپارٹمنٹ کے لئے ”اچھے افسران“سلیکٹ کرنے کی ٹھیکیداری بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ ”یو آر مائی انسپائریشن“ کے نعرے لگاتے چاپلوس اور ”کنسیپٹ کلئیر“ افسران کو”ملٹی ٹاسک اچیور اور ڈوئیر“ کا نام دے کر حکمرانوں کے دربار میں پیش کرکے اہم پوزیشن دلوائی جاتی ہیں۔ اہم کام نکلوانے کیلئے چھوٹے افسران کو بڑی سیٹوں پر تعنیات کیا جاتا ہے۔ اگر کسی آفیسر کو ایمانداری کا بخار ہو تو بخار اتارنے کیلئے او ایس ڈی کردیا جاتاہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ دیانت دار افسران ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ ایماندار افسران کی اہم جگہوں پر یہ کہہ کر تقرری نہیں کی جاتی کہ”اسکو افسری نہیں آتی اسے رہنے دو“۔ ”بندہ کمپیٹنٹ ہے لیکن زیادہ ایماندار ہے سسٹم کے ساتھ چلنے والا نہیں“۔

    افسران نے بیوروکریسی کا مطلب ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔انکی نت نئی اوچھی حرکتوں سے بیوروکریٹ گالی بنتا جارہا ہے۔ شدید کرپٹ افسران کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ کال رسیو نہیں کرتے کہ کہیں کسی سفارشی کال پر مفت میں کام نہ کرنا پڑ جائے۔ باس اور طاقتور کے سامنے لیٹ جاتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے سامنے انتہائی سخت گیر۔صرف اسی کو اپنے دفتر میں ویلکم کرنا پسند کرتے ہیں جو آتے ہوئے تحائف لاتا ہو اور امراء کے گھروں میں اس لیے حاضری لگواتے ہیں کہ ان کے ڈرائنگ روم سے کونسی قیمتی چیز دیکھ کہ کہہ سکیں کہ ابھی کل ہی انٹرنیٹ پر دیکھی لیکن اس لیے آرڈر نہیں کی کہ آن لائن چیز سہی نہیں ملتی، تب تک تعریف کرتے رہتے ہیں جب تک میزبان یہ نہ کہہ دے کہ یہ چیز اٹھا کر صاحب کی گاڑی میں رکھ دو۔
    نئے افسران اپنے جیسی بچگانہ فہم و فراست کے جوانوں کے ساتھ رات گئے والی محافل میں مگن ہوتے ہیں اور وہاں یہ انتہائی تفاخر سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ تیرا دوست اے سی /اے ایس پی لگ گیا ہے جو مرضی کرے۔ واقعی جو مرضی کرتے پھر رہے ہیں بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں میں مارا ماری کررہے ہوتے ہیں۔
    افسران کے”کنسیپٹ کلئیر“ ہیں اور مائنڈ سیٹ ہے کہ پیسا ہی سب کچھ ہے اس لیے دونوں ہاتھوں سے اور جھولیاں بھر بھر کے سمیٹنا ہے۔
    اس سے قبل کہ بیوروکریٹ شہرت کی لت میں پاگل ہوجائیں، قوم کے پیسے سے سرکاری افسران کی ذاتی تشہیر اور شخصیت پرستی کو فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں کیونکہ اس غلط روایت سے سرکاری افسران سارا دن نت نئے اشتہارات بنانے اور دکھانے کے سوا کچھ نہ کرتے اور نہ سوچتے ہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ملاوٹ کی لعنت، گدھے کا گوشت ،کیا یہی تربیت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملاوٹ کی لعنت، گدھے کا گوشت ،کیا یہی تربیت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور کے بعد اسلام آباد میں گدھے کا گوشت برآمد ، شہریوں کو گدھے کا بالٹی گوشت اور تکے کھلانے کا قومی فریضہ سرانجام دینے والوں کو محکمہ فوڈ اتھارٹی نے پکڑ لیا۔ ملاوٹ تو ایک الگ موضوع ہے اب گدھے اور کتوں کاگوشت برآمد ہونے لگا۔ کیا خوبصورت تربیت کی ہے ہمارے منبرو محراب ۔ نام نہاد پیر خانوں ،گدی نشینوں نے اپنے مریدوں کی ، ہم ترقی پذیر نہیں ہم زوال پذیر قوم بنتے جا رہے ہیں۔ قرآن پاک میں ایسی قوموں پر قہر نازل ہوئے۔ بھلا ہو پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز جس نے ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف جہاد شروع کیا ہے یہ جہاد سے کم نہیں ،مخلوق خدا کو ملاوٹ شدہ خوراک ادویات ،دودھ اور دیگر روز مرہ استعمال کی چیزوں پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں نہ سیاست نظر آتی ہے اور نہ جمہوریت تاہم سیاسی گلیاروں میں ہیرو بننے کا شوق پروٹوکول ہوٹر بجانے والی گاڑیاں آگے پیچھے گھومیں ،اسی تک سیاست اور جمہوریت رہ گئی ہے۔ سیاست نے کاروباری روپ دھار لیا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے قوم بالخصوص نوجوان طبقے سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی گئی ۔شخصیت پرستی کی راہ ہموار کی گئی۔ جمہوریت کے دور حکومت اور آمریت کے دور حکومت میں ہرایک قوم کا نجات دہندہ کہلواتا رہا

    میری عمر بیت گئی کس سے نجات دہندہ کہلواتے رہے ۔ پھر قوم کاہیرو تعلیم ، صحت اور مفاد عامہ کا کوئی معیار مقرر نہیں کر سکے۔ جاگیر داروں اور سرمایہ داروں نے قوم کو یرغمال بنایا۔ عقل اور شعور کے دشمنوں نے قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا پر عاشقان عمران کو کہتے سنا جا سکتا ہے ہمیں عمران چاہیئے پاکستان نہیں یہ شرک کی انتہا اور شخصیت پرستی کی حدکراس کرنے والی باتیں ہیں۔بلاشبہ وہ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں دوسری جماعتوں کی طرح ،ملکی وفاء اور قومی سلامتی کے درمیان کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ قومی سلامتی کے ادارے ریاست کی سلامتی ، خود مختاری اور داخلی وخارجی خطرات سے حفاظت کے لئے کام کرتے ہیں ان پر سیاسی جماعتوں کو حملہ آور نہیں ہونا چاہیئے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بنیاد ہیں ،ہماری سیاسی جماعتوں کی اس سلسلے میں کارکردگی ملی جلی ہے۔ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں اندرونی اصلاحات ، شفافیت ، میرٹ اور دیگر معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص اقربا پروری ، خوراک ، ادویات ،دودھ ، دیگر روز مرہ کی استعمال ہونے والی چیزوں میں ملاوٹ کی وجہ سے ہمارے خون میں ملاوٹ پھیل چکی ہے ۔ شاید اسی وجہ سے باتوں میں بھی ملاوٹ ، سو ہر کام میں ملاوٹ ہی نظر آتی ہے۔

  • "زمین پہ آسمانی کیفیت کا نام محبت ہے”.تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    "زمین پہ آسمانی کیفیت کا نام محبت ہے”.تحریر: ظفر اقبال ظفر

    دل کی آنکھ محبت کے نزول سے ہی کھلتی ہے۔دو دلوں میں احساس و جذبات کا تبادلہ محبت کے سوا ممکن نہیں مگرجو محبت عزت کا نقصان کرئے وہ نفس کی طرف سے زلت کا جال ہے۔پتھر کی طرح جمے جمائے معاشرے میں احساس کی دراڑ ڈالنا بغیر آسمانی چیز کے ممکن نہیں اس زمین پر اگر کوئی چیز آسمانی ہے تو وہ محبت ہے۔آسمانی محبت آسمان والے کی طرف سے پسندیدہ دلوں پر ہی نازل ہوتی ہے جو تقسیم محبت میں اتنے مدہوش ہو جاتے ہیں کہ وہ آسمان سے زیادہ زمین سے محبت کرنے لگتے ہیں ان کی محبت میں شدت و پاکیزگی دیکھ کر آسمان والوں کو بھی ان کی محبت سے محبت ہو جاتی ہے۔

    دنیاوی خواہشات کے گدھے پر سوار ہو کر زندگی کے فاصلے طے کرکے موت کی منزل پر پہنچنے والے آسمانی محبت کی کمائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔محبت ایک انسان تک بھی محدود ہو تو تاثیر رکھتی ہے یہ چھوڑ جانے والے کو بددُعا نہیں دیتی مگربددُعا فقط ہاتھ اُٹھا کر منہ سے نکلے الفاظوں کا مجموعہ تو نہیں ہوتی کہ جو دی جائے تو لگ جائے،دولت بیدار کے لوگ جانتے ہیں کہ محبت کے بددیانت لوگوں کی طرف سے دی گئی بے سکونی بدحالی درد میں قید رُوح صبر میں گرفتار جسم بھی اک بددُعا ہے جو خودبخودلگ جاتی ہے۔

    وہ جو سنجیدہ و مخلص لوگوں کے جذبات کا مزاق اُڑاتے ہیں ان کی محبت و عقیدت پہ طنزیہ قہقہے لگاتے ہیں وہ تنہائی کے بستر پر بے بسی کی بیماری میں جکڑتے ہیں تو آنسوؤں سے باتیں کرنے لگتے ہیں بے قدری کی معافیاں مانگتے ہیں جہاں محبت اپنے مجرموں کا خود احتساب کرتی ہے وہاں اپنے مخلصوں پر نوازشات کی بارش بھی کرتی ہے محبت کا انتخاب غلط ہو سکتا ہے مگر محبت خود کبھی غلط نہیں ہوتی۔

    ناسمجھ لوگوں کی وجہ سے محبت کے بارے میں ناقص رائے قائم نہیں کرنی چاہیے جیسے کسی مزار کے خادمین اپنی ناسمجھی کے تناظر میں صاحب مزار کی محبت میں گرفتار عقیدت مند کو ڈانٹ دیتے ہیں تو اس میں صاحب محبت اور محبت کاکوئی قصور نہیں ہوتا۔سمندر سے بھی گہری محبت کے مستحق ہیں وہ لوگ جو نفرتوں کے خنجر کھا کر بھی محبت کا لنگر تقسیم کرنا نہیں چھوڑتے۔محبت فریب نہیں دیتی نہ کبھی بدلتی ہے لوگ بدل جاتے ہیں،جہاں اکثریت ناقابل اعتبار ہووہاں کچھ محبت کے سفیر بڑے کمال کے کردار رکھتے ہیں جن پر قدرت کے نظارے ناز کرتے ہیں ان اندر کے خوبصورت لوگوں کی ترجمانی کے لیے قدرت باہر کے منظر حسین بنا کر اپنی تعریف کی وجہ پیداکرتی ہے۔جس طرح رُوح پر جسم کے اصول لاگو نہیں ہوتے اسی طرح نفرتیں وجود محبت پہ اثر انداز نہیں ہوتیں۔

    قدرت اسی لیے سب سے قیمتی ہے کہ وہ ہر چیز سے مہنگی ہو کر مفت دستیات رہتی ہے اس مزاج کے انسان نایاب ہوتے ہیں جن کا نہ ملنا مشکل نہ اس کی محبت بوجھ پرسکون خوشگواراحساس سے لبریزجو دنیا کی طرف سے جھوٹی محبت کے دئیے گئے زخموں پر آسمانی محبت کی مرہم رکھتے ہیں تو شفا پورے وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔اگر انسان آسمانی محبت میں گرفتار نہیں تو شہ رگ سے قریب خدا ساری زندگی کے سفروں کے باوجود نہیں ملتا محبت تمہیں تمہارے وجود میں موجود خدا سے ملوانے کا معجزہ کھلی آنکھوں سے دیکھانے کی طاقت رکھتی ہے۔

  • شور کی آلودگی . خاموش قاتل، ادارے تماشائی

    شور کی آلودگی . خاموش قاتل، ادارے تماشائی

    شور کی آلودگی . خاموش قاتل، ادارے تماشائی
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    آلودگی کی کئی ایک قسمیں ہیں مگر آج ہم شور کی آلودگی کے حوالے سے کچھ بنیادی معلومات آپ تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شور کی آلودگی کوئی معمولی مسئلہ نہیں، یہ انسان کے جسم، دماغ اور رویوں پر براہ راست حملہ آور ہے۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی صحت، تعلیم اور ماحولیاتی بہتری جیسے مسائل کو ثانوی حیثیت حاصل ہے، وہاں شور کی آلودگی (Noise Pollution) ایک تیزی سے بڑھتا ہوا مگر نظر انداز کیا گیا خطرہ بن چکا ہے۔ یہ وہ آلودگی ہے جس کا اثر نظر نہیں آتا، مگر دماغ، دل، نیند، تعلیم اور انسان کی پوری شخصیت کو اندر سے گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔

    جب آواز اپنی قدرتی حد (50-70 ڈیسی بل) سے بڑھ جائے اور انسانی سماعت، سکون، یا جسمانی صحت پر منفی اثر ڈالنے لگے، تو وہ شور آلودگی کہلاتی ہے۔

    شور کی آلودگی کے بڑے ذرائع یہ ہیں،لاوڈ اسپیکر کا بے جا استعمال (مساجد، دکانیں، سیاسی جلسے)، شادی ہال، کنسرٹس، DJ اور دھماکے دار موسیقی، گاڑیوں کے غیر ضروری ہارن (خصوصاً رکشے، بسیں، ٹرک)، انڈسٹری کا شور، تعمیراتی مشینری اور فیکٹریاں، ریڑھی بانوں، ٹھیلے والوں اور مارکیٹوں کی بلند آوازیں، پٹاخے، ہوائی فائرنگ اور تہواروں پر شور شرابا۔

    شور کی آلودگی کے انسانی صحت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن میں ذہنی دباؤ، چڑچڑاپن اور بے چینی، نیند میں خلل، جسمانی کمزوری، تھکن، بچوں کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہونا، بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن کا عدم توازن، سماعت کی کمزوری یا مکمل نقصان، بزرگوں اور بیماروں کے لیے اضافی اذیت شامل ہیں۔

    یہ سب ہونے کے باوجود ہم شعوری طور پر لاشعور ہیں اور ہمارے اداروں کی کارکردگی اس حوالے سے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہاں، البتہ فائلوں میں سب اچھا کی رپورٹ ضرور ہوگی اور ماہانہ لفافے ضرور ملتے ہوں گے جو ان کی نظر میں ان کا جائز حق ہے۔ صد افسوس ہماری ترجیحات کیا ہیں۔

    شور کی آلودگی کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری محکمہ ماحولیات، بلدیاتی ادارے، ٹریفک پولیس، اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے قوانین موجود ہیں، مگر عمل ندارد۔ بڑے ہوٹل، شادی ہال یا سیاسی پروگرام "رابطوں” کے باعث کارروائی سے بچ جاتے ہیں، جبکہ چھوٹے دکاندار، رکشہ ڈرائیور یا ریڑھی بان کو چالان کر کے رپورٹ مکمل کر دی جاتی ہے۔

    ماہانہ بھتہ، سیاسی دباؤ اور رشوت کی بنیاد پر شور پھیلانے والوں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ شکایت درج کرانے والے شہریوں کو "سائل” سمجھنے کی بجائے "تنگ کرنے والا” گردانا جاتا ہے۔

    عام شہری کیوں متاثر ہو رہے ہیں؟ کیونکہ عوامی آگاہی نہیں۔ لوگوں کو اس حوالے سے سیمینار، ورکشاپ اور میڈیا کے ذریعے آگاہی دی جائے۔

    جب قانون موجود ہو، ادارے قائم ہوں، مگر نیت نہ ہو تو مسائل صرف بڑھتے ہیں۔ اگر شور کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ہم ایک بے سکون، بیمار، اور ذہنی مریض قوم میں بدل جائیں گے۔ بلکہ بدل چکے ہیں کیونکہ یہ عوام الناس کا بنیادی مسئلہ ہے اور ہم نے ہمیشہ عوامی مفادات کو ترجیح نہیں دی، جس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں، انہی میں سے ایک شور کی آلودگی بھی ہے۔

    خاموشی صحت ہے، شور تباہی . اب فیصلہ اداروں نے کرنا ہے۔

  • ٹرمپ کا ممکنہ دورہ،اسحاق ڈار کی سفارتکاری  سے بھارتی ایجنڈا زمین بوس

    ٹرمپ کا ممکنہ دورہ،اسحاق ڈار کی سفارتکاری سے بھارتی ایجنڈا زمین بوس

    نواز شریف اور ٹیم نے اس ملک کی تقدیر بدل دی،ہردور میں میگا پراجیکٹس دئیے
    معرکہ حق میں بھارت کی ذلت آمیز شکست نے پاکستان کو دنیا کا مقبول ترین ملک بنا دیا
    ٹرمپ جنوبی ایشیا آئے تو کشمیر پر ثالثی کرسکتے ہیں کیونکہ وہ اس خواہش کا اظہار کرچکے

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    امریکی صدر پاکستان آئیں گے یا نہیں ،دفتر خارجہ اور امریکی سفارتخانہ لاعلم،تاہم صدر ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان اور بھارت کو کئی زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے ، اس وقت دونوں ملکوں کے معاملات کشیدہ ہیں،امریکی صدر اپنے اس دورے میں کشمیر پر بات کر سکتے ہیں، بھارت کشمیر کو لے کر بیرونی مداخلت کو ناپسند کرتا ہے ، پاکستان ہمیشہ ثالثی کا حامی رہا ہے، دو جوہری طاقتوں کو کیا امریکی صدر جو ایک عالمی قوت ہے ،سفارتی میز پر لے آئیں گے ؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟ امریکی صدر ٹرمپ خود کو ایک ڈیل میکر کے طور پر پیش کرتے ہیں ، امریکی صدر پیچیدہ تنازعات میں قدم رکھ کر کسی بڑی پیش رفت کے دعوے کرنا پسند کرتے ہیں، یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کشمیر تنازع پر پہلے ادوار میں ثالثی کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، امریکی صدر دوبارہ کشمیر پرثالثی کی بات کر سکتے ہیں جس سے سفارتی ہلچل پیدا ہو سکتی ہے، یہاں بات ذہن میں رہے کہ خطے میں استحکام کے لئے پاکستان بہت اہم ہے، چین اور روس امریکی صدر کے ممکنہ دورے پر گہری نظر رکھے گا ، دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی ، چین کا بڑھتا ہوا اثر ، افغانستان کا موجودہ منظر نامہ ، تاہم امریکی صدر اس خطے میں ا یک مضبوط سفارتی کارڈ کھیلنے کی خواہش رکھتے ہیں، اس وقت پاکستان عالمی ممالک میں توجہ کا مرکز ہے،جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے ، پاکستان کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں،

    حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں پاک فوج نے ایک مستحکم پیشہ وارانہ اور موثر کردار ادا کیا، بروقت دفاع جوابی کارروائیاں ٹیکنالوجی پر انحصار اورایک مضبوط عسکری قیادت نے اندرون ملک اور عالمی دنیا پاکستان توجہ کا مرکز بنا ، سفارتی سطح پر بھارت نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا مگر عالمی و پاکستان کی وزارت خارجہ اور موجودہ وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار جو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں وزیر خزانہ بھی رہے ، انہوں نے بھارتی پروپیگنڈے کو زمین بوس کردیا، نواز شریف اور ان کی ٹیم کا ہی کمال ہے کہ انہوں نے پاکستان کی عوام کو موٹرویز، میٹرو بسیں،سی پیک توانائی منصوبوں کے ذریعے ترقیاتی سیاست کو فروغ دیا ، نواز شریف کو اکثر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ، نواز شریف کو ترقی اور مضبوط معیشت کا علمبردار کہا جاتا ہے

  • روپے اور پیسے کا معاشی چکر.تحریر:مبشر حسن شاہ

    روپے اور پیسے کا معاشی چکر.تحریر:مبشر حسن شاہ

    (جہاں صارف دائرے میں گھومتا ہے مگر منافع سیدھا سفر کرتا ہے)
    تحریر مبشر حسن شاہ
    سٹیٹ بینک آف پاکستان ایک روپے کی قدر سے کم کے سکے سے جاری کرنا 2013 کے بعد مکمل بند کر چکا ہے۔
    1 پیسہ 1961 سے 1994 تک
    2 پیسے 1961 سے1994 تک
    5 پیسے 1961 سے 1994 تک
    10 پیسے 1961 سے 1994 تک
    25 پیسے 1963 سے 2013 تک
    50 پیسے 1963 سے 2013 تک
    اب تو 2025 میں 1 روپے۔ دو روپے پانچ روپے کے سکے بھی نایاب ہوچکے اگرچہ قانوناً یہ سکے پاکستانی کرنسی کا حصہ ہیں اور جاری ہیں لیکن عملاً ان کا لین دین بند ہو چکا ہے ۔ وجہ مہنگائی کا بڑھنا ہے اب شائد ہی کوئی چیز ایک روپے دو روپے یا پانچ روپے کی ملے ۔ دکاندار بھی یہ سکے اب قبول نہیں کرتے کیونکہ کاروبار میں عملاً ان کا لین دین ختم ہو چکا ہے۔ سٹیٹ بینک اگرچہ یہ سکے فراہم کرتا ہے لیکن کمرشل بینک اب صارفین کو نہیں دیتے ۔ لوگ بھی ان کو لینے سے کتراتے ہیں۔ گھر میں بھی سکے بچوں کو دیے جاتے ہیں لہذا بڑی تعداد سکے گردش سے باہر ہو جاتے۔
    لیکن ہم سب سرمایہ دارانہ نظام کی ایک ایسی چال کا شکار ہیں جو غیر محسوس طریقے سے ہماری جیب سے ان گنت پیسے نکال کر اربوں روپے کمانے کا راز ہے۔ ایک ماہ میں دو مرتبہ آپ اور میں بڑی بے صبری سے خبر پڑھتے ہیں پٹرولیم مصنوعات میں 10 روپے 13 پیسے اضافہ۔ حکومت نے پٹرول سستا کر دیا فی لیٹر قیمت میں 6 روپے تیس پیسے کمی۔ اس کے بعد ہم حسب عادت حکومت کو گالیاں دے کر اور کسی کام میں لگ جاتے اب ذرا حساب کتاب کیجیے۔فروری 2025 میں اوگرا کو مقامی آئل ریفائنری نے خط لکھا جس کے مطابق ملک میں 39 دن کا ڈیزل اور 32 دن کے استعمال کا پٹرول موجود ہے مزید ذخیرہ نہ منگوایا جائے۔
    اسی تناظرمیں دستیاب ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں روزانہ پٹرول کی کھپت 2 کروڑ بیس لاکھ لیٹر اور ڈیزل کی روزانہ خریداری 2 کروڑ 79 لاکھ لیٹر ہے۔ ہمیشہ پٹرول پمپ پر وصولی کے وقت پیسوں کو اگلے روپے میں شامل کر کے وصولی کی جاتی ہے اس طرح روزانہ 4 کروڑ اور ماہانہ ایک ارب 20 کروڑ آئل کمپنیاں مفت میں کما رہی ہیں جبکہ ہم میں سے اکثر کو اس کا علم تک نہیں ۔ (اوپر کے ننانوے لاکھ مصلحت کے تحت چھوڑے کہ بعض دفعہ پچھتر پیسے، پچاس پیسے ، پچیس پیسے،بیس پیسے،دس پیسے،پانچ پیسے ہوں تو اور لیٹر جفت تو وہ اگلے روپے میں درست طور پر کنورٹ ہوجاتی)
    جب بھی پٹرول کی قیمت بڑھتی فی لیٹر قیمت ضرب دو کروڑ بیس لاکھ لیٹر پٹرول اور دو کروڑ اناسی ہزار لیٹر ڈیزل کی روزانہ مقدار ۔ یہ وہ منافع ہے جو اکثر ملتا ۔ اصولاً جب تک پٹرول کا سٹاک پرانا ہو ریٹ بھی پرانا ہی ہونا چاہیے۔ اب کچھ لوگ سوچیں گے کہ جب پٹرول سستا ہوتا ہے تو تب آئل کمپنیاں نقصان بھی تو اٹھاتی ہیں۔ ایک تو کمپنیاں منافع اتنا نکالتی کہ یہ نقصان کچھ نہیں ہے دوسرا PDC (Price Differential Claim) کے ذریعے حکومت اکثر یہ نقصان پورا کر دیتی۔ مٹی کا تیل اور دیگر مصنوعات کا بھی اندازہ کر لیجیے بگا
    یہ صرف آئل کا معاملہ نہیں موبائل کمپنیز کو لے لیں۔ بیلنس چیک کرنے پر بھی کٹوتی۔ کارڈ یا ایزی لوڈ کرانے پر ٹیکس کاٹ لیا جاتا لیکن پھر بھی کسی بھی پیکج کے لیے ایک مرتبہ پھر ٹیکس۔۔۔کالز کے ریٹ ہمیشہ روپے کے ساتھ پیسوں میں وہی پٹرول والا فارمولا کال چارجز میں پیسوں کی جگہ اگلا روپیہ چارج۔ ہر ری چارج پر ٹیکس ہر پیکج پر ٹیکس ہر کال ایس ایم ایس پر پیسوں کی کٹوتی اور کتنے لوگوں کو یہ علم ہے کہ موبائل کمپنیاں دانستہ ایک یا دو ہندسوں کے کوڈ ملانے پر جو اکثر غلطی سے بٹن پریس ہونے پر فعال ہوجاتے ایسے کئی پروگرامز جان بوجھ کر رکھتی ہیں
    VAS (Value Added Services) جیسے: خبریں، لطیفے، حب الرومانٹک quotes، اسلامک SMS وغیرہ 1 سے 10 روپے روزانہ
    Flash SMS / Push SMS
    آپ کی مرضی کے بغیر ایک پاپ اپ آتا ہے "OK” دبانے پر سروس چالو ہو جاتی ہے 3–5 روپے روزانہ
    Internet background data Mobile data آن رہنے سے apps خاموشی سے ڈیٹا استعمال کرتے ہیں MB کے حساب سے کٹوتی
    Balance Save
    سروس فعال نہ ہونا موبائل ڈیٹا آن ہوتے ہی کچھ KB استعمال سے پورا بیلنس کٹ جاتا ہے
    کال کنیکٹ ٹون / RBT "آپ جس سے رابطہ کر رہے ہیں…” والی ٹون بغیر مرضی لگ جاتی ہے 2–5 روپے روزانہ
    Internet packages auto renew
    کئی پیکجز auto-renew ہوتے ہیں جب تک بند نہ کروائیں ہفتہ وار/ماہانہ
    Free trial بعد چارجنگ پہلی بار کوئی سروس free trial دیتی ہے، پھر auto-paid version فعال ہو جاتا ہے 5–10 روپے روزانہ
    اس کے علاوہ آپ خود یا دکان دار کے ریچارج کرتے وقت غلطی سے بیلنس زیادہ لکھ دیں اور اکاونٹ میں رقم ہوتو کٹوتی ہو جاتی لیکن پیسے واپس نہیں ملتے ۔اکثر پیکجز کے نام دانستہ مبہم رکھ کر صارفین کو دھوکا دیا جاتا بعد میں غور کریں تو باریک۔ سا ایک کونے میں لکھا ہوتا رات 12 سے صبح 9 تک محدود آفر 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ آمدن 78 سے 86 ارب ماہانہ ہے الگ الگ کمپنی کی آمدن بھی پڑھیں
    Jazz (PMCL)
    31–33 ارب روپے
    Zong
    22–24 ارب روپے
    Telenor
    16–18 ارب روپے
    Ufone (PTCL Group)
    9–11 ارب روپے
    اس میں چالیس فیصد یعنی کل 86 ارب کی آمدن میں 34 ارب کالز اور پیکجز کے علاوہ سروسز کی کمائی ہے۔
    بجلی کے محکمہ میں چلتے ہیں رجسٹر کنکشن 4 کروڑ سے زائد فی یونٹ ٹیرف
    Life‑line
    100 یونٹس سے زیادہ یا کم 4.78 / 9.37*
    Protected
    (1–100) 1–100 یونٹس ≈ 8.52
    Protected
    (101–200) 101–200 یونٹس ≈ 11.51
    Non‑protected
    (201–300) 201–300 یونٹس ≈ 34.03
    Non‑protected
    (>300) 301+ یونٹس ≈ 48.46
    صرف نمونہ پیش ہے کہ پیسوں والی ہیرا پھیری ادھر بھی موجود ہے ۔
    مزید ستم یہ کہ 200 یونٹ تک جو ریٹ فی یونٹ ہے وہ 201 یونٹ ہوتے ہی ڈبل ٹرپل ہو کر سارے یونٹس پر اپلائی ہوجاتا یعنی 200 پر اور حساب ایک یونٹ اضافی یا مزید پر اصولاً صرف اضافی یونٹس کا ریٹ زیادہ ہونا چاہیے لیکن نہیں۔ چلتے ہیں دبے پاوں کہ کوئی جاگ نہ جائے
    غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے۔ ہم بس تبصرے کر سکتے اونچا اونچا بول سکتے گالیاں دے سکتے لیکن عملاً سنجیدہ کوشش نہیں کرنی ۔
    بجلی کے بل میں اتنا بل نہیں ہوتا جتنے ٹیکسسز ہوتے۔اور سارے نہیں تو آدھے مبہم ۔ جی ایس ٹی۔ فردر جی ایس ٹی ۔ویری ایبل چارجز ، فکس چارجز ، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ، جی سیس ٹی آن فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ، کواٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ، نیلم جہلم سرچارج، پرووینشل ڈیوٹی ۔ اپ کو پتا ہے یہ کیا ہے؟ مجھے بھی نہیں پتا لیکن ہم ہر ماہ ادا کرتے ۔ چلیں ایک نیلم جہلم سرچارج کی وضاحت پڑھیں۔ نیلم-جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ (969 میگاواٹ) کی تعمیر اور قرضے کی خدمات کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے 2008 میں دس پیسے فی یونٹ آپ کی جیب سے وصول ہوا ,2018 میں یہ پروجیکٹ مکمل ہوا لیکن 2021 تک کٹوتی جاری۔
    ان لایعنی ٹیکسسز سے زیادہ اپنی فہم پر رونا آتا کہ ویسے ہم کوئی بل دینے لگیں تو کارل فریڈرک گاؤس اور ایڈم سمتھ(مانا ہوا ریاضی دان کارل فریڈرک گاؤس اور ماہر معاشیات ایڈم سمتھ) کی روح ہم میں حلول کرجاتی لیکن یہاں بجلی کے بل پر سب چپ بھی اور ادا بھی کردیتے۔ ایک چھوٹی سی کرپشن کم شرارت زیادہ اور بھی ہے آپ کی بجلی کا میٹر اپنے سسٹم کو فعال رکھنے کے لیے اور چھوٹا سا سرخ بلب جلانے کے لیے ایک ماہ میں 0.076 واٹ بجلی استعمال کر لیتا ہے یہ پورے سال کی ایک یونٹ سے کم بجلی ہے سالانہ 0.8 واٹ لیکن جب کنکشن 4 کروڑ ہوں تو اوسط قیمت کم سے کم 12 روپے یونٹ کے حساب سے اس چھوٹے سے خرچ پر ڈالتے
    ماہانہ یونٹ 28 لاکھ 44 ہزار اور سالانہ 3 کروڑ۔ 44 لاکھ یونٹ
    رقم یا قیمت فی یونٹ 12 روپے کے حساب سے ماہانہ تین کروڑ چوالیس لاکھ روپے اور سالانہ 41 کروڑ 28 لاکھ جو ہم ادا کرتے مل کر ۔
    اچھا اداروں سے نکلتے ہیں ایک اور بات کرتے آج کل دکان پر کسی چیز کے روپے میں رقم راونڈ فگر نہ ہو تو ہم میر عثمان علی خان( امیر ترین ریاست دکن کا والی ریاست) کے پڑپوتے سکے واپس لینا شاہی آداب کے منافی سمجھتے . اس کا نقصان غریب دیہاڑی دار مزدور کو ہوتا جو ایسی گستاخی کرے تو دکان دار اسے کہتا تمہارے لیے میں کدھر سے لاوں سکے ۔ اس کے علاوہ اکثر 23 روپے کی چیز ہو تو تیس روپے رکھ لیے جاتے اور دو ٹافیاں ہمارے ہاتھ پر رکھ دی جاتیں جبکہ آپ کسی دن دکان دار کو بیس روپے اور دو ٹافیاں دے کر 23 دوپے کی کسی چیز کا مطالبہ کیجے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ بینک سالانہ ہمارے اے ٹی ایم کارڈ کی فیس کس خوشی میں کاٹ لیتے اور اے ٹی ایم کسی اور بینک کی مشین میں
    استعمال کرنے پر ٹیکس یا کٹوتی کی وجہ جبکہ بینک ہمارے ہی پیسے سے کاروبار الگ کر رہا ہوتا۔
    یہاں بھی چھوٹی چھوٹی ہیرا پھیری کیش میں ہوتی راونڈ فگر جے چکر میں شام تک کشئیر کے پاس معقول رقم جمع ہو چکی ہوتی جو بینک کے حساب سے الگ ہوتی۔ یہاں ایک مشہور افسانوی داستان جس پر سپر مین تھری اور آفس سپیس فلم بھی بنی پڑھیں
    بینک کے ایک کشئیر جس کے دماغ میں ایک اچھوتا آئیڈیا آیا
    اس شخص نے بینک کا سافٹ ویئر یا حساب کتاب کا نظام سمجھا
    اسے معلوم ہوا کہ جب سود، چارجز یا ٹیکس لگتے ہیں تو بعض اوقات 1 پینی کا "راؤنڈ آف” ہو جاتا ہے وہی پاکستان والا پیسوں کا چجر
    ان بے کار، نظر نہ آنے والے پینیوں کو وہ اپنے خفیہ اکاؤنٹ میں جمع کرنے لگا
    روزانہ ایک پینی ہر اکاؤنٹ سے؛ اگر 10 لاکھ اکاؤنٹ ہوں تو روزانہ £10,000 جمع ہو سکتے ہیں!
    یہ عمل 15 سال تک جاری رہا
    بالآخر ایک یہودی تاجر روز اپنی بینک سٹیٹمنٹ ایک ماہ لگاتار دیکھتا رہا تو اسے لگا کہ اس کے اکاؤنٹ سے روزانہ ایک پینی کم ہو رہی ہے وہ بینک گیا مینجیر کو ملا اور شکایت کی مینجر نے یہ سن کر قہقہ لگایا اسے ایک پاونڈ دیا اور کہا لیں آپ کا نقصان پورا۔ وہ تاجر برہم ہوا اور یہ کہہ کر چلا گیا کہ مجھے رقم کی کمی نہیں میں تم لوگوں کے سسٹم میں کسی غلطی کی نشاندہی کرنا چاہتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد مینجر کو احساس ہوا کہ یہ کتنا بڑا سکینڈل بن سکتا اس نے تحقیقات کروائیں اور 15 سال سے جاری یہ فراڈ پکڑا گیا۔ پس تحریر میں نے بھی اپنے سسٹم میں موجود خرابی کی نشاندہی کی ہے اب دیکھیں کون سنتا اور کون قہقہہ لگاتا

  • بادل پھٹا ہے… اب دل نہیں ٹوٹنے چاہییں!تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بادل پھٹا ہے… اب دل نہیں ٹوٹنے چاہییں!تحریر:اعجازالحق عثمانی

    (چکوال میں کلاؤڈ برسٹ اور ہماری اجتماعی ذمے داری)

    شام کے اس وقت جب معمول کے مطابق روز شہر کی رونق آہستہ آہستہ ماند پڑتی تھی، کل اس وقت آسمان کا ضبط ٹوٹا اور ایسا ٹوٹا کہ سب حدیں پار کر بیٹھا ہو۔
    بارش نہیں ہوئی… آسمان پھٹ پھٹ کر رو پڑا، اور پھر لوگ بھی سہم گئے۔ اور مسلسل 15 گھنٹوں سے یہی صورتحال ہے۔ اور ضلع بھر میں سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    چکوال، جو کل تک سرسبز پہاڑیوں، دھیمے موسموں اور دھوپ چھاؤں کے قصے سناتا تھا، آج ایک نئے تجربے سے گزر رہا ہے۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ بارش، 423 ملی لیٹر، یہاں ابھی تک ریکارڈ ہوئی ہے۔ یہ محض بارش نہیں، قدرت کا ایک شدید مظہر ہے جسے سائنسی زبان میں "کلاؤڈ برسٹ” کہا جاتا ہے۔ یعنی بادلوں کا پھٹ پڑنا۔

    تصور کیجیے ایک پانی سے بھرا ہوا غبارہ، جو اچانک آپ کے سر پر پھٹ جائے۔ نہ پیشگی انتباہ، نہ تیاری کا موقع، بس ایک لمحہ، اور پھر سب کچھ بھیگتا، بہتا اور بکھرتا چلا جاتا ہے۔

    یہ مظہر تب جنم لیتا ہے جب نم ہوائیں پہاڑوں سے ٹکرا کر تیزی سے بلند ہوتی ہیں اور آسمان کی ٹھنڈک سے ٹکرا کر پانی کی بھاری بوندوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ جب بادل مزید بوجھ نہیں اٹھا پاتے، تو وہ غم کے مارے پھٹ پڑتے ہیں۔ اور پانی ایک قہر کی صورت نیچے اتر آتا ہے۔

    ایسی ہنگامی صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

    1۔ اپنی جان بچانا اولین ترجیح:
    کسی بھی نشیبی علاقے سے فوراً بلند مقام پر منتقل ہو جائیں۔ بجلی کے کھمبوں، درختوں اور پانی سے بھرے گڑھوں سے دور رہیں۔

    2۔ معلومات سے باخبر رہیں:
    ریڈیو، ٹی وی یا سوشل میڈیا پر ضلعی انتظامیہ کی ہدایات سنتے رہیں۔ افواہوں پر کان نہ دھریں، صرف مصدقہ ذرائع پر اعتماد کریں۔

    3۔ دوسروں کا خیال رکھیں:
    یہ وقت صرف اپنے لیے جینے کا نہیں۔ اردگرد کے بزرگوں، بچوں اور پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیے۔ کسی کو تنہا نہ چھوڑیے۔ اگر کسی کا فون بند ہے، تو دروازہ کھٹکھٹا کر اس کی خیریت پوچھ لیجیے۔

    4۔غیر ضروری سفر سے گریز کریں:
    سڑکیں پانی سے لبریز ہیں۔ راستوں کی حالت غیر یقینی ہے۔ گھر میں رہیے، دعا کیجیے اور احتیاط برتیے۔

    5۔ذہنی سکون قائم رکھیے:
    یہ وقت حوصلے اور ہمت کا ہے۔ قدرت کا قہر جتنا اچانک آتا ہے، اتنی ہی تیزی سے تھم بھی جاتا ہے۔ بس ہمیں خود کو سنبھالے رکھنا ہے۔ ہم سب کو ایک دوسرے کا سائبان بننا ہے

    بادل تو پھٹ گیا، لیکن ہمیں اپنے دل اور رشتے محفوظ رکھنے ہیں۔ قدرت کا یہ پیغام صرف خوف کا نہیں، فکر اور اصلاح کا بھی ہے۔ ہمیں اپنے ساتھ ساتھ اردگرد کے لوگوں کا بھی خیال رکھنا ہے۔
    ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ درخت لگانا ہوں گے، پانی کا صحیح استعمال سیکھنا ہوگا، اور قدرت کے ساتھ دوبارہ دوستی کرنی ہوگی۔

    یاد رکھیے، آزمائشوں کے وقت قومیں یا تو بکھر جاتی ہیں… یا ایک نیا جنم لیتی ہیں۔
    آیئے، ہم چکوال کو صرف اپنے نقشے کا ایک ضلع نہ سمجھیں، بلکہ دلوں کا ایک روشن چراغ بنائیں۔جو بارش میں بھیگے، مگر بجھے نہیں۔

  • قلم ، قرطاس اور پہچان‚ پاکستان کی خاموش جدو جہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    قلم ، قرطاس اور پہچان‚ پاکستان کی خاموش جدو جہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اردو زبان صرف ایک ذریعہ ابلاغ نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک تمدن اور ایک جذبہ ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے غالب جیسے فلسفی، اقبال جیسے مفکر، منٹو جیسے حقیقت نگار، فیض جیسے انقلابی، اور جوش جیسے خطیب پیدا کیے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اردو کی پرورش کے دعوے تو بہت ہوتے رہے، مگر عملی کام کرنے والے ادارے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں جب پورا منظرنامہ گمنامی، غیر سنجیدگی اور بازاری معیار کی نذر ہو چکا ہو، تو "پہچان پاکستان نیوز گروپ” ایک ایسا قافلہ بن کر ابھرتا ہے جو خاموشی سے اردو ادب کے چراغ جلا رہا ہے۔
    یہ اردو ادب کی غیر مشروط خدمت ہے۔پہچان پاکستان نیوز گروپ نے خود کو محض ایک نیوز فورم یا فیس بُک گروپ تک محدود نہیں رکھا۔ یہ گروپ دراصل ایک ادبی درسگاہ، ایک تربیتی مرکز، اور ایک اصلاحی کارخانہ ہے۔ یہاں نئے لکھاریوں کو نہ صرف اظہار کا موقع دیا جاتا ہے بلکہ ان کی تحریروں کو فنی، لسانی اور ادبی لحاظ سے نکھارا جاتا ہے۔

    تحریر کا ہر پہلو، خواہ وہ املا ہو، جملوں کی ساخت ہو، ربط ہو یا اختتامیہ کی گرفت، باریک بینی سے جانچا جاتا ہے۔ "ختمہ”، "سکتہ”، "جملے کی روانی”، "پیراگراف کی ترتیب”، "عنوان کی مطابقت” جیسے عناصر پر باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو اکثر کچے لکھاریوں کے ہاں نظرانداز ہو جاتے ہیں، لیکن پہچان پاکستان ان کی ہر تحریر کو اس نہج پر لے آتا ہے جہاں وہ قارئین کی نظروں میں قابلِ اشاعت ہو جائے۔

    تحریر کی اصلاح، بغیر کسی فیس کے۔۔۔۔
    آج کے تجارتی دور میں جب قلم کو بھی کرائے پر دیا جا رہا ہے، پہچان پاکستان نیوز گروپ اپنی مثال آپ ہے، جو بلا معاوضہ اردو ادب کی خدمت کر رہا ہے۔ نہ کوئی ممبرشپ فیس، نہ کسی مقابلے کی انٹری فیس، نہ اصلاحات کیلئے پیسوں کا تقاضا—صرف اور صرف خالص جذبہ، ادب کی ترویج اور اردو سے عشق۔
    یہ گروپ دراصل ایک تربیتی ورکشاپ ہے جہاں ایک افسانے کو بہتر بنانے کیلئے کئی گھنٹے صرف کیے جاتے ہیں، ایک کالم کو شائع کرنے سے پہلے اس میں موجود خامیوں کو تلف کیا جاتا ہے، اور ایک قول یا قطعہ بھی تبھی منظوری پاتا ہے جب وہ فکری و زبانی معیار پر پورا اترے۔

    ٹیم ورک: ہر شعبے کے لیے الگ ٹیم
    پہچان پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اس کا مربوط ٹیم ورک ہے۔ یہاں ہر تحریری شعبے کیلئے علیحدہ ٹیمیں موجود ہیں۔ جیسے:
    کالموں کی ٹیم
    افسانہ و کہانی کی ٹیم
    شاعری و غزل کی ٹیم
    اصلاح و املا کی ٹیم
    تحقیق و حوالہ جاتی مواد کی ٹیم
    پوسٹنگ و گرافکس کی ٹیم
    مقابلہ جاتی تحریروں کے ججز الگ الگ ہیں۔یہ تمام ٹیمیں نہایت تربیت یافتہ، باشعور، سنجیدہ مزاج اور ادب سے والہانہ محبت رکھنے والے افراد پر مشتمل ہیں، جن میں خواتین و حضرات دونوں شامل ہیں۔ ہر ٹیم کو اپنے دائرہ کار کی مکمل ذمہ داری سونپی گئی ہے، اور تمام فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہوتے ہیں۔ کوئی ایک شخص ہر فن مولا نہیں بن رہا، بلکہ ہر شخص اپنے شعبے کا ماہر ہے۔ یہی تو پہچان پاکستان کی "پہچان” ہے۔

    تحریری مقابلے اردو ادب کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں، اور پہچان پاکستان نیوز گروپ ان مقابلوں کو صرف "رنگین پوسٹیں” بنانے کا ذریعہ نہیں بناتا بلکہ ان کے پیچھے ایک باقاعدہ نظم، انصاف اور شفافیت کا نظام ہے۔ہر مقابلے کیلئے غیر جانبدار ججز مقرر کیے جاتے ہیں جن کا گروپ انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نتائج تحریروں کے معیار، جدت، فکری گہرائی اور زبان دانی کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریری فیڈ بیک دیا جاتا ہے تاکہ ناکام لکھاریوں کو بھی سیکھنے کا موقع ملے۔

    کسی بھی زبان کا مستقبل اس کے لکھنے والوں پر منحصر ہوتا ہے، اور اگر ان لکھنے والوں کی اصلاح نہ کی جائے، ان کی حوصلہ افزائی نہ ہو، تو وہ قلم ترک کر دیتے ہیں۔ پہچان پاکستان نے ان بے ہنر مگر باہنر نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم دیا ہے جہاں وہ اپنے اندر چھپی تخلیق کو دریافت کر سکیں۔
    یہاں "فیچر رائٹنگ” سے لے کر "تنقیدی کالم نگاری”، "نثری افسانہ”، "ادب اطفال”، "طنز و مزاح” اور "نعتیہ شاعری” تک ہر صنف پر بھرپور کام ہو رہا ہے۔ یہ گروپ اردو ادب کی ایک نئی نسل کو جنم دے رہا ہے، جو مستقبل میں ادب کے افق پر جگمگائے گی۔
    پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہے،پہچان پاکستان نیوز گروپ کی سب سے متاثر کن بات یہ ہے کہ یہ اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ چاہے تحریر کسی معروف قلم کار کی ہو یا کسی نوآموز کی، معیار پر سمجھوتہ نہیں ہوتا۔ غیر معیاری یا بغیر اصلاح کی تحریر کو شائع کرنے سے بہتر سمجھا جاتا ہے کہ اسے واپس کر دیا جائے تاکہ لکھاری خود سیکھے اور آگے بڑھے۔اردو ادب کا پہرہ دار:
    یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ گروپ اردو ادب کے دروازے پر کھڑا وہ محافظ ہے جو ادب میں داخل ہونے والے ہر لفظ، ہر فقرے، اور ہر جذبے کی پہچان رکھتا ہے۔ نہ صرف پہچان رکھتا ہے بلکہ اس کی صفائی، تراش خراش اور سج دھج بھی کرتا ہے تاکہ جب وہ الفاظ قاری کے دل و دماغ میں داخل ہوں تو صرف تاثر ہی نہیں، تربیت بھی چھوڑیں۔

    پہچان پاکستان نیوز گروپ دراصل اردو زبان کا دربان ہے، ادب کا محافظ ہے، تحریر کا معمار ہے، اور نئے لکھاریوں کا دستِ شفیق ہے۔ یہ گروپ صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک تحریک ہے—تحریکِ فروغِ اردو۔
    اگر آپ لکھاری ہیں، چاہے ابتدائی درجے کے، اگر آپ میں احساس ہے، جذبہ ہے، لیکن فنی کمزوریاں آڑے آتی ہیں تو "پہچان پاکستان نیوز گروپ” آپ کی منزل ہے۔جس کے سالار قافلہ زکیر احمد بھٹی بطور چیف ایڈیٹر اور آمنہ منظور ڈپٹی چیف ایڈیٹر آپ کی رہنمائی کرتے ہوئے ملیں گے۔ یہاں الفاظ کو لکھنا سکھایا نہیں جاتا، محسوس کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہی ادب ہے، یہی تربیت ہے، یہی اردو کی اصل پہچان ہے۔۔۔۔۔۔

  • حمیرا اصغر کی موت، قومی میڈیا سے سوشل میڈیا کا کردار،تحریر:دعا مرزا

    حمیرا اصغر کی موت، قومی میڈیا سے سوشل میڈیا کا کردار،تحریر:دعا مرزا

    اس وقت حمیرا اصغر کے فون لاک کھل جانے کی خبر سب سے بڑی قومی خبر ہے، ہر گھنٹے بعد فون اٹھائے ہر کوئی انتظار کر رہا ہے کہ فون میں کیا کچھ نکلے گا دوسری طرف حمیرا کی بھابھی کو بھی اس کی موت سے سہارا مل گیا ہے کہ وہ اپنی داد رسی کیلئے ہر چینل پر نظر آرہی ہیں ۔

    یوٹیوبرز کو تھمب نیل کے فن اور ان کے آنسوؤں سے اس مہینے ڈالرز بھی ٹھیک ٹھاک آجائیں گے، عائشہ آپا کی 15 روز پرانی لاش نے اب حمیرا کی 9 ماہ پرانی لاش کی جگہ لے لی ہے، میں نے کئی لوگوں کو یہ بھی تجزیہ کرتے ہوئے سنا کہ عائشہ آپا تو چلو بوڑھی تھیں بے چاری مگر یہ تو خوبرو دوشیزہ تھی ہائے اس کا جانا نہیں بنتا تھا۔ میں ایک لمحے کیلئے یہ سوچنے لگی کہ بس اتنی سی بات ہے انسان اور انسانیت تو کہیں پیچھے رہ گئی، کسی کو یاد بھی ہے عائشہ یوسف ؟ نور مقدم ، سارہ انعام اور ایسی کئی کہانیاں جو وقت کے ساتھ مدھم ہوگئیں، ان کے ساتھ بھی تو ہم نے یہی کچھ کیا تھا، کیا اس کے بعد واقعات رونما نہیں ہوئے ؟

    اصل مدعا تو یہ ہے کہ ہم وجہ جاننا ہی نہیں چاہتے ، ہمارے اندر باہر بے حسی ہے ، ہم سراپا نقصان ہیں ، بے چین ہیں ، نفسا نفسی کا عالم ہے کہ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں، مرنے والوں پر ماتم کا ڈھونگ اور زندہ لوگوں پر زمین تنگ کرنے کا رواج عام ہوچکا ہے، اگر میں یوں کہوں کہ اب ایسے سوانح ایک خبر سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہیں تو شاید غلط نہیں ہے۔ حمیرا کی خبر سنتے ہی نیوز گروپ میں ان کی ویڈیو پر نظر پڑی تو مجھے اچانک لگا کہ یہ میں بھی ہوسکتی تھی، میں گہری سوچ میں چلی گئی میرے ساتھ بیٹھی ایک خاتون سے میں نے کہا یار میری ٹانگیں کانپ رہی ہیں پتہ نہیں کیوں اس سے پہلے ہم حمیرا پر بات کر رہے تھے اس نے بڑی لاپرواہی سے موبائل میں ریلز دیکھتے ہوئے کہا گرم سرد ہوگیا ہوگا موسم بھی ایسا ہے ناں اور پھر وہ مجھے کوئی اور قصہ سنانے لگی۔

    ایک اورخاتون کی ویڈیو کا تھمب نیل دیکھا تو بہت تکلیف ہوئی، انہوں نے اس کو زنا بالجبر کہہ دیا تھا حالانکہ انہی کو گزشتہ مہینے لاہور ہائیکورٹ نے ایسے غلیظ تھمب نیلز اور کانٹینٹ پر اچھی خاصی ڈانٹ پلائی تھی اور تحریری معافی کے ساتھ عہد بھی لیا تھا مگر ڈالرز کا نشہ ہے کیا کیجیے، بس جس کو جو ملا اس نے وہ بیچا۔پھر ایک صحافی نے سب بے بڑی خبر بریک کر کے بتایا کہ حمیرا کا فون ان لاک کر لیا گیا ہے اور قاتل کا پتہ لگا لیا گیا ہے اس کی لوکیشن میر پور خاص تھی اور پھر اس فلیٹ میں تھی، ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ200 وائس نوٹ اور 439 ویڈیوز ہیں جو دیکھنے کے قابل نہیں ہیں اس لئے ان کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

    جو رہا سہا رحم کسی کے ذہن میں آ بھی سکتا تھا وہ بھی گیا اب جب کبھی اس واقعے کا ذکر کرکے کوئی سبق حاصل کرنا بھی چاہے تو اس کو کبھی اس کے کردار اور کبھی اس کے انڈسڑی میں آنے پر اعتراض لگا کر اسکی موت پر مزاق بنایا جائے گا، وقوعہ سانحہ بننے کی بجائے موت برحق اور انجام ایسا ہی ہوتا ہے تک رہ جائے گا۔سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ رہی کہ انٹرویوز میں حمیرا اصغر کے نام کے ساتھ جمع کا صیغہ استعمال کرنے کی بجائے انتہائی بدتمیزی سے ان سے دوستوں سے ان کے بارے میں اس کہہ کر تذکرہ کیا گیا پھر ان کی لاش لینے جب ان کے بھائی پہنچے تو وہاں موجود ہر شہری اور مائیک تھامے صحافی نے ان کا ایسے احتساب کیا گویا کھلی کچہری لگی ہو بہت سوں نے تو فیصلہ بھی جاری کیا کہ ان کو لاش دینی ہی نہیں چاہیے تاہم لاش کو کراچی سے لاہور منتقل ہونے تک کئی چہ مگوئیاں سامنے آئیں۔

    ہر آدھ پونے گھنٹے بعد ایک نئی بات ان سے منسوب سامنے آتی، کسی نے قتل کی پیش گوئی کی اور کوئی ان کو نشے کا عادی کہتا رہا کسی کے مطابق ان کو زبردستی ہمبستری کا کہا گیا بس یہ کہیں کہ جس نے جہاں تک ہوا غلاظت کا سامان کیا۔پولیس کے مطابق ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی ہے جواس واقعے کی تحقیقات کر کے موت کی وجہ جاننے کی کوشش کرے گی البتہ تب تک مردہ جسم کو قبر سے نکال کر کب تک ہم تماشہ بنائیں گے اس کا تعین کرنا فی الحال مشکل ہے۔

    یہ وقت جہاں ہر شخص کو معاشرتی بگاڑ سے متعلق سنجیدہ ہو کر سوچنے کا ہے وہیں پر بے لگام کرائم رپورٹرز کو اب ذرا سنبھلنے کی ضرورت ہے کیونکہ معاشرے کی گھٹن میں کانٹینٹ سانس کا سا کام کرتا ہے ۔

  • ایران ،چین فضائی دفاعی معاہدہ: امریکی بالادستی کے لیے دھچکہ،تحریر: ناصر اسماعیل

    ایران ،چین فضائی دفاعی معاہدہ: امریکی بالادستی کے لیے دھچکہ،تحریر: ناصر اسماعیل

    ایران کی جانب سے جدید چینی فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کی حالیہ تصدیق عالمی جغرافیائی سیاست میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امریکی غلبے کو مزید چیلنج کرتی ہے اور ایک ابھرتی ہوئی کثیر قطبی عالمی ترتیب کو تقویت دیتی ہے۔ تجزیہ نگار کارل ژا، برائن برلیٹک، ڈینی ہائی فونگ اور کے جے نوہ نے اس پیش رفت کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے نہ صرف ایران کی اسٹریٹجک ازسرنو صف بندی کو اجاگر کیا بلکہ امریکی و اسرائیلی عسکری حکمت عملی کی بڑھتی ہوئی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔

    ### *ایران کے لیے ایک اسٹریٹجک سہارا*
    ایران کا فیصلہ کہ وہ چینی سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز (SAMs) حاصل کرے گا—جو بظاہر تیل کے بدلے میں فراہم کیے جائیں گے—اس وقت آیا جب اسرائیلی فضائی حملوں نے اس کی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ چین کی صنعتی صلاحیت کی بدولت فوری ترسیل ممکن ہو سکی ہے، اور اب تہران اپنے اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول مزائل لانچ سائٹس، کو بہتر طور پر محفوظ بنا سکتا ہے۔ یہ اقدام ایران کے بیجنگ اور ماسکو کی طرف جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ مغربی پابندیاں اور امریکی دشمنی نے اس کے دیگر راستے محدود کر دیے ہیں۔

    ### *امریکہ اور اسرائیل کی کمزوریاں بے نقاب*
    اس بحث میں امریکی اتحادوں کی سب سے بڑی کمزوری یعنی سپلائی چین کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ امریکہ یوکرین کے لیے بھی کافی پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے سے قاصر ہے، چہ جائیکہ وہ بیک وقت روس، ایران اور چین سے محاذ آرائی کرے۔ اسرائیل کو بھی حالیہ حماس اور حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اپنے انٹرسیپٹر ذخائر کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس، چین کی نایاب ارضی عناصر (rare earth elements) پر اجارہ داری، جو جدید اسلحے کے لیے لازم ہیں، مغربی عسکری پیداوار کے لیے طویل المدتی خطرہ بن چکی ہے، خاص طور پر جب بیجنگ نے ان کے برآمدی ضوابط کو مزید سخت کر دیا ہے۔

    ### *کثیر قطبی اتحادوں میں نیا تقسیم کار نظام*
    امریکہ کے برعکس، جو ہتھیاروں کی فروخت کے ساتھ سیاسی شرائط بھی منسلک کرتا ہے، چین کا "بے شرائط” ماڈل شراکت داری کو مضبوط بناتا ہے۔ ایران کا مہنگے لڑاکا طیاروں کے بجائے مؤثر اور کم قیمت فضائی دفاعی نظام پر توجہ دینا ایک عملی حکمت عملی ہے، جو ایک تھکا دینے والی جنگی صورتحال کے تجربے سے اخذ شدہ ہے۔ اگرچہ روس یوکرین میں مصروف ہے، وہ اب بھی ایران کا اہم پارٹنر ہے، لیکن چین کی مرکزی اسلحہ سپلائر حیثیت ایک وسیع تر ازسرنو صف بندی کی علامت ہے۔

    ### *تاریخی تسلسل اور مستقبل کی جنگیں*
    صدیوں پر محیط چین-ایران تعلقات اس جدید پارٹنرشپ کو ایک گہرائی فراہم کرتے ہیں، جو امریکی اتحادوں کی سطحی اور کاروباری نوعیت سے بالکل مختلف ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق مستقبل کی جنگیں تیز فتح کے بجائے صبر آزما مقابلے ہوں گی—ایسی صورتحال میں چین کی صنعتی طاقت اور ایران کی مزاحمتی حکمت عملی مغربی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں برتری حاصل کر سکتی ہے۔

    ### *نتیجہ: کثیر قطبی دنیا کی ناقابلِ روک پیش قدمی*
    چینی دفاعی نظام کے ساتھ ایران کی مسلح سازی صرف ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں، بلکہ یہ یک قطبی نظام کے زوال کی علامت ہے۔ امریکہ کی حد سے بڑھی ہوئی عسکری مداخلت اور کمزور ہوتی سپلائی چینز کے باعث طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ امریکی غلبے کا دور بتدریج اختتام پذیر ہے اور اب بیجنگ، ماسکو اور علاقائی طاقتیں جیسے ایران، اپنے اپنے اثرورسوخ کے علاقے قائم کر رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کثیر قطبی تبدیلی ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ واشنگٹن اسے کتنی شدت سے روکنے کی کوشش کرے گا۔

    *آخری خیال:*
    جب امریکہ اپنے مخالفین کو قابو میں لانے کی کوشش میں مصروف ہے، تو اس کا سب سے بڑا دشمن شاید چین یا ایران نہیں، بلکہ اس کا اپنا حد سے بڑھی ہوئی عسکریت پسندی اور زوال پذیر صنعتی ڈھانچہ ہے۔