Baaghi TV

Category: متفرق

  • بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران،تحریر:ملک سلمان

    وزیر اعظم شہباز شریف نے میرے کالمز پر ایکشن لیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔

    وزیراعظم کے احکامات پر گذشتہ ماہ سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 میں بہت واضح انداز میں سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن اور صحافتی سرگرمیوں پر پابندی کا Statutory Regulatory Order جاری کردیا گیا۔
    اس مشن امپاسیبل کو پاسیبل کرنے کا کریڈٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان اور وفاقی سیکرٹریز کو جاتا ہے جنہوں نے سول سروس کی بے توقیری کو روکنے کیلئے سخت قوانین کے فوری اطلاق کی بھرپور حمایت کی۔
    بیوروکریسی کے سنئیر افسران کو یقین کامل ہے کہ سیکرٹری اسٹیبشمنٹ نبیل اعوان جیسے بااصول افیسر کی موجودگی میں سیلف پروجیکشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران کا احتساب ضرور ہوگا۔ سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ کا کہنا تھا کہ بہت جلد سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نا صرف قانون شکن ٹک ٹاکر افسران کے خلاف سخت کاروائی کریں گے بلکہ روٹیشن پالیسی کے تحت کئی سال سے ایک ہی صوبے اور وفاق میں تعیناتی کی بہاریں لوٹنے والوں کو بھی صوبہ بدر کریں گے۔

    کوئی بھی سرکاری افسر ذاتی سوشل میڈیا پیج یا اکاؤنٹ پر وردی، سرکاری دفتر اور آفیشل گاڑی سمیت سرکاری سرگرمیاں نہیں شئیر کرسکتا نہ ہی موٹیویشنل سپیکر اور رہمنائی کا ٹھیکیدار بن سکتا ہے۔ تمام سرکاری سرگرمیاں سرکاری پیج پر ہی شئیر کی جاسکتی ہیں، ذاتی ناموں سے قائم کردہ پیجز اور اکاؤنٹس پر سرکاری سرگرمیاں لگانا ناصرف غیر قانونی ہے بلکہ انتہائی تھڑی ہوئی اور واحیات حرکت ہے۔ سرکاری پیجز پر اگاہی پیغامات والی پوسٹ میں سرکاری افسران کی تصاویر لگانا بھی شہرت کی بھوک کیلیے ہلکان ہونے کے مترادف ہے۔ آسان سا طریقہ ہے کہ ضلعی انظامیہ، کمشنر، آرپی او آفس یا جو بھی متعلقہ آفس ہے اس کا نام لکھا جائے نہ کہ عزت ماب جانب فلاں صاحب مع تصاویر۔

    عجیب بیہودگی ہے کہ فلاں افسر کی ہدایات،فلاں افسر کی پالیسی کے تحت فلاں افسر نے عوام کیلئے یہ ریلیف پہنچانے کا حکم صادر کیا۔ بھائی تم ہو کون ہدایات دینے والے؟ بیوروکریٹ اور سرکاری افسران پالیسی میکرز نہیں ہیں۔پالیسی میکرز پارلیمینٹرین ہوتا ہے نہ کہ سرکاری ملازم۔

    وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ منتخب عوامی نمائندے اور وسائل کے امین ہیں تمام تر مثبت تشہیر کا حق صرف عوامی نمائندوں کا ہے نہ کہ سرکاری ملازمین۔

    چیف سیکرٹری پنجاب ناجانے کس مصلحت کی وجہ سے پنجاب کو بنانا ریپبک بنانے والے ٹک ٹاکر افسران کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہیں۔ چیف سیکرٹری کی ٹک ٹاکر افسران کی خلاف کاروائی نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے تمام اچھے کاموں کا کریڈیٹ افسران خود لیتے ہیں جبکہ ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ پر ڈال دیا جاتا ہے۔

    انہی حرکات کی وجہ سے آج بیوروکریسی گالی بن چکی ہے پاکستان کا ہر بچہ جوان اور بوڑھا بیوروکریسی سے نفرت کرنے لگا ہے بیوروکریسی کو وسائل پر قابض غندہ، بدمعاش اور لعین سمجھتا ہے۔گاڑی، ڈالے، دفاتر اور وردی پبلک سروس کیلئے ہے ناکہ تمہاری عیاشیوں اور سیلف پروجیکشن کیلئے۔عوام کے پیسے سے عوامی فلاح و بہبود کی بجائے افسران کی ذاتی پروجیکشن اختیارات سے تجاوز کی بدترین مثال ہے۔ایکٹنگ اور ماڈلنگ کی بات کی جائے تو ستھرا پنجاب کے ورکر سے لیکر ڈی سی اور کمشنر تک سپاہی سے لیکر ڈی پی او اور ایڈیشنل آئی جی تک وردی گاڑی اور کرسی کا فرق نہ ہو تو ایک جیسے آوارہ لونڈے لپاڑے لگتے ہیں۔اے سی، ڈی سی اور ڈی پی او تو ابھی بچے ہیں وہ شودے پن کی جہالت کا مظاہرہ کریں تو اتنی حیرت نہیں ہوتی لیکن جب کمشنر اور ڈی آئی جی لیول کے افسران سیلف پروجیکشن جیسی چھچھوری حرکتیں کرنے لگ جائیں تو پھر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے سنئیر افسران قابل تعریف ہیں جو سیلف پروجیکشن والی اس بے حیائی، بے غیرتی اور گھٹیاپن کے راستے سے اعلان لاتعلقی کرکے افسری کی Grace اور تقدس قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ماضی میں خوش لباسی اور اخلاقی اقدار بیوروکریسی کی پہچان ہوتی تھی اس لیے آج بھی لوگ سنئیر افسران کا احترام کرتے ہیں جبکہ موجودہ اے سی، ڈی سی نیکر شرٹ پہن کر گرلز سکول اور نرسنگ ہاسٹل وزٹ کرتے ہیں،خواتین کے سکول کالج وزٹ کے بہانے تلاشتے ہیں جبکہ آئے روز شہریوں سے بدتمیزی کی ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

    مجھے حیرانگی ہے ان ٹک ٹاکر افسران پر جنہوں نے افسری کی عزت کی بجائے لچوں اور لفنگوں والا ٹک ٹاکری کا راستہ اپنایا۔
    قانون شکنو تم نے سوشل میڈیا پر دفاتر کھول لیے ؟
    بے شرمو تمہیں کسی قانون کا ڈر نہیں؟
    او ظالمو تم اس قدر فسطائیت پرست ہوچکے ہو کہ اپنی ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے عوام کی پرائیویسی خراب کر رہے ہو؟
    جناب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ان ٹک ٹاکرز پر سول سرونٹ ایفیشینسی رولز اور پیڈا ایکٹ کی خلاف ورزی کی کاروائی کریں عوام کی پرائیویسی خراب کرنے پر پیکا ایکٹ کا پرچہ کٹوائیں۔
    اس میں کچھ شک نہیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مترادف سرکاری افسران اپنی کرپشن، نااہلی اور تمام قانون شکن اقدامات کو چھپانے کیلئے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا سہارا لیتے ہیں۔ جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
    پولیس اور دیگر افسران سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔بیوروکریسی کے عزت دار افسران ناصرف سیلف پروجیکشن کے شدید خلاف ہیں بلکہ خود بھی ٹک ٹاکر افسران کو لعین سمجھتے ہیں۔بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کی سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے چند افسران کو نوکریوں سے فارغ اور عہدوں سے ہٹانا ناگزیر ہے تاکہ باقی سب کو واضح پیغام دیا جائے کہ تمہارا کام عوامی خدمت اور سرکاری امور کی بروقت ادائیگی ہے نہ کہ سوشل میڈیا پر اینکرنگ اور ماڈلنگ کرکے ”افسری“ کو داغدار کرنا۔
    سرکاری ملازمین کو واضح حکم نامہ جاری کیا جانا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • پاکستان نیوی کی توسیع پذیر ساحلی دفاعی حکمتِ عملی: 300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر تک بحری دفاعی حصار،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان نیوی کی توسیع پذیر ساحلی دفاعی حکمتِ عملی: 300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر تک بحری دفاعی حصار،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید،
    دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، دفاعی جدیدکاری اور بازدارانہ حکمتِ عملی کے ماہر، نیز ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    بحیرۂ عرب کا تزویراتی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بحرِ ہند کے خطے (IOR) میں بڑھتی ہوئی بحری رقابت، بھارت کی بلیو واٹر نیوی کی توسیع پسندانہ خواہشات، اور سمندر سے حاصل ہونے والی بازدارانہ صلاحیت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے پاکستان نیوی کو اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان پیش رفتوں میں سب سے اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث موضوع پاکستان کے ساحلی دفاعی راکٹ اور میزائل نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن ہے، جسے غیر رسمی طور پر “منی نیول راکٹ فورس” بھی کہا جاتا ہے۔

    دفاعی حلقوں اور علاقائی عسکری تجزیوں کے مطابق پاکستان اپنی ساحلی دفاعی رسائی کو تقریباً 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے شمالی بحیرۂ عرب میں بحری جنگ کے عملی خدوخال تبدیل ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کے ساحلی دفاعی نظریے کا ارتقا*
    تاریخی طور پر پاکستان کی بحری حکمتِ عملی مہنگی طاقت کے اظہار (Power Projection) کے بجائے دفاعی نوعیت کے “Sea Denial” پر مبنی رہی ہے۔ بھارتی بحریہ کے مقابلے میں وسائل اور بجٹ کی محدودیت کے باعث پاکستان نے درج ذیل شعبوں پر سرمایہ کاری کی:

    * تیز رفتار حملہ آور کشتیاں
    * اینٹی شپ میزائل سسٹمز
    * آبدوزی جنگی صلاحیت
    * ساحلی میزائل بیٹریاں
    * بحری نگرانی اور انٹیگریٹڈ سرویلنس

    اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ دشمن بحری افواج کو پاکستان کے ساحل اور اہم بحری تنصیبات کے قریب آزادانہ کارروائی سے روکا جائے۔

    اس نظریے کی اہمیت مزید بڑھ گئی جب
    * بھارت نے اپنے کیریئر بیٹل گروپس میں اضافہ کیا،
    * طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے بحری طیارے تعینات کیے،
    * براہموس میزائل کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کیا،
    * اور بحرِ ہند میں بھارت اور امریکہ کے بحری تعاون میں اضافہ ہوا۔

    نتیجتاً پاکستان کو ایک ایسی کثیر پرت (Layered) اینٹی ایکسس/ایریا ڈینائل (A2/AD) صلاحیت کی ضرورت محسوس ہوئی جو دشمن بحری بیڑوں کے لیے بھاری قیمت کا باعث بن سکے۔

    300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر: اس کی اہمیت کیا ہے؟
    ساحلی حملہ آور صلاحیت کو 500 کلومیٹر تک بڑھانا جنگی ماحول کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔
    300 کلومیٹر کی حد تک ساحلی دفاع بنیادی طور پر تحفظ فراہم کرتا ہے
    * کراچی کے بحری راستوں کو،
    * گوادر کے قریب سمندری علاقوں کو،
    * اہم بندرگاہوں کو،
    * اور ساحل کے قریب موجود بحری اثاثوں کو۔

    جبکہ 500 کلومیٹر کی رسائی پاکستان کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ
    * دشمن جہازوں کو بحیرۂ عرب کے زیادہ اندر تک نشانہ بنایا جا سکے،
    * بحری بازدارانہ صلاحیت میں اضافہ ہو،
    * میزائل انگیجمنٹ زونز ایک دوسرے سے جڑ جائیں،
    * سمندری تجارتی راستوں کا بہتر تحفظ ممکن ہو،
    * اور دشمن کے کیریئر گروپس کی کارروائیاں پیچیدہ بن جائیں۔

    عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن بحری کمانڈروں کو پاکستان کی سمندری حدود کے قریب پہنچنے سے بہت پہلے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کے خطرے کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

    جدید بحری جنگ میں انضمام
    جدید بحری جنگ صرف پلیٹ فارمز کی جنگ نہیں رہی بلکہ اب یہ نیٹ ورک سینٹرک جنگ بن چکی ہے۔ آج کے ساحلی میزائل سسٹمز انحصار کرتے ہیں
    * اوور دی ہورائزن ٹارگٹنگ پر،
    * سیٹلائٹس پر،
    * میری ٹائم پیٹرول طیاروں پر،
    * ڈرونز پر،
    * الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز پر،
    * اور ریئل ٹائم ڈیٹا فیوژن پر۔

    دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون غالباً پاکستان کی مدد کر رہا ہے:
    * ہدف کے حصول میں،
    * میزائل رہنمائی کے نظام میں،
    * ساحلی ریڈار نیٹ ورکنگ میں،
    * اور مربوط بحری نگرانی میں۔

    ممکنہ مقصد ایک ایسا مربوط “Kill Chain” تشکیل دینا ہے جو درج ذیل اجزاء کو آپس میں جوڑ دے:
    1. بحری نگرانی کے ذرائع
    2. ساحلی کمانڈ مراکز
    3. میزائل لانچ بیٹریاں
    4. بحری فضائیہ
    5. آبدوزی قوت

    اس قسم کا انضمام حملہ آور صلاحیت اور بقا دونوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

    “منی نیول راکٹ فورس” کا تصور
    اگرچہ “منی نیول راکٹ فورس” کوئی سرکاری اصطلاح نہیں، لیکن تزویراتی اعتبار سے یہ ایک اہم تصور ہے۔ یہ ساحلی دفاع کے روایتی جامد نظام سے نکل کر ایک متحرک، نیٹ ورکڈ اور درست نشانہ لگانے والی قوت میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

    اس میں شامل ہو سکتے ہیں:
    * ٹرک پر نصب اینٹی شپ میزائل لانچرز،
    * طویل فاصلے تک مار کرنے والی ساحلی راکٹ آرٹلری،
    * موبائل کمانڈ گاڑیاں،
    * دھوکہ دہی (Decoy) سسٹمز،
    * اور تیز رفتار مقام کی تبدیلی کی صلاحیت۔

    متحرک لانچر اس لیے اہم ہیں کیونکہ مستقل ساحلی تنصیبات پیشگی فضائی یا میزائل حملوں کا آسان ہدف بن سکتی ہیں۔

    یہ تصور ان نظریات سے مشابہت رکھتا ہے جو
    * چین،
    * ایران،
    * اور دیگر چھوٹی بحری ریاستیں
    غیر متناسب بازدارانہ حکمتِ عملی کے طور پر اپناتی جا رہی ہیں۔

    بحیرۂ عرب پر تزویراتی اثرات
    500 کلومیٹر تک مؤثر ساحلی دفاعی صلاحیت کے کئی اہم نتائج ہو سکتے ہیں:
    1۔ گوادر کا بہتر تحفظ
    گوادر بندرگاہ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا ایک اہم ستون ہے۔ وسیع میزائل کوریج سے تحفظ ملے گا:
    * تجارتی جہاز رانی کو،
    * توانائی کی سپلائی لائنز کو،
    * بحری لاجسٹکس کو،
    * اور مستقبل کی بحری تنصیبات کو۔

    2۔ کیریئر بیٹل گروپس کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
    طیارہ بردار بحری جہاز محفوظ فاصلے سے کارروائی پر انحصار کرتے ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائل ان کی آپریشنل منصوبہ بندی کو زیادہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

    3۔ دوسری جوابی ضرب (Second Strike) کے ماحول کو مضبوطی
    پاکستان کی بحری بازدارانہ حکمتِ عملی بتدریج ایسی صلاحیتوں کی جانب بڑھ رہی ہے جو دوسری جوابی ضرب کی بقا کو یقینی بنائیں۔ ساحلی دفاعی نظام بحری اثاثوں اور سمندر میں موجود بازدارانہ قوت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

    4۔ کم لاگت میں مؤثر غیر متناسب دفاع
    طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعمیر اور دیکھ بھال انتہائی مہنگی ہے، جبکہ ساحلی میزائل سسٹمز نسبتاً کم لاگت میں بڑی بحری طاقتوں کے خلاف مؤثر بازدارانہ صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

    پاکستان کو درپیش چیلنجز
    ترقی کے باوجود کئی چیلنجز باقی ہیں
    * انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (ISR) میں خلا،
    * بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار،
    * سیٹلائٹ صلاحیتوں کی محدودیت،
    * الیکٹرانک وارفیئر کے خطرات،
    * اور مقامی میزائل پیداوار کی محدود گہرائی۔

    صرف میزائل کی رینج بڑھا دینا کافی نہیں، جب تک:
    * قابلِ اعتماد ٹارگٹنگ سسٹمز،
    * محفوظ مواصلاتی نظام،
    * اور جنگی حالات میں مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچہ
    موجود نہ ہو۔

    وسیع علاقائی تناظر

    بحرِ ہند تیزی سے عسکری نوعیت اختیار کر رہا ہے۔ اس خطے میں:
    * بھارت،
    * چین،
    * امریکہ،
    * اور خلیجی بحری قوتوں
    کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت علاقائی بحری نظریات کو نئی شکل دے رہی ہے۔

    اس ماحول میں پاکستان کی بحری جدیدکاری محض دفاعی اقدام نہیں بلکہ بحیرۂ عرب میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔

    نتیجہ
    پاکستان کی جانب سے ساحلی دفاعی رسائی کو 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی کوشش بحری بازدارانہ حکمتِ عملی میں ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔ ساحلی میزائل فورسز کی جدیدکاری، نگرانی کے مربوط نظام، اور متحرک اینٹی شپ حملہ آور صلاحیتوں کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی اکیسویں صدی کی بحری جنگ کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔

    بڑی بحری طاقتوں سے روایتی انداز میں مقابلہ کرنے کے بجائے پاکستان اپنی غیر متناسب بحری حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، جس کا مرکز سمندری انکار (Sea Denial)، بقا (Survivability) اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت ہے۔

    اگر یہ تمام صلاحیتیں ایک جامع A2/AD نظام میں مؤثر طور پر ضم کر دی جائیں تو یہ جدید ساحلی دفاعی نیٹ ورک شمالی بحیرۂ عرب میں آپریشنل توازن کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے اور آنے والے برسوں میں پاکستان کی بحری تزویراتی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

  • محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان ،تحریر: بینا علی

    محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان ،تحریر: بینا علی

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے!!
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا!!

    عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے؛ ایسے افراد کے لیے تاریخ کو مدتوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ محسنِ پاکستان، ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی بے مثال ذہانت، محنت اور حب الوطنی سے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
    آپ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1947ء میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور یہاں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یورپ کا رخ کیا جہاں آپ نے فزکس کے میدان میں اپنی علمی قابلیت کا لوہا منوایا۔ بعد ازاں آپ نے یورپ میں ہی ملازمت شروع کر دی جہاں جدید سائنسی علوم خصوصاً ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں مہارت حاصل کی۔جب بھارت نے ایٹمی تجربات کیے تو آپ یورپ ہی میں مقیم تھے، مگر وطنِ عزیز کی سلامتی آپ کے دل کے نہایت قریب تھی۔ آپ نے فوراً پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ممکن وسائل فراہم کیے۔ آپ کی شبانہ روز محنت، عزمِ صمیم اور انتھک جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان نے مختصر عرصے میں ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی۔

    بالآخر 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کیے گئے، جس کے ساتھ ہی پاکستان دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں شامل ہو گیا۔ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا اور اسے یومِ تکبیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
    ڈاکٹر عبد القدیر خان نہ صرف ایک عظیم سائنس دان تھے بلکہ ایک سچے محبِ وطن بھی تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خلوصِ نیت، محنت اور عزم کے ساتھ کوئی بھی مشکل ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج بھی قوم ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں ہمیشہ فخر و احترام کے ساتھ یاد کرتی رہے گی۔

  • ایران  امریکہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی،پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا ماحولیاتی خطرہ، تحریر: سعدیہ مقصود

    ایران امریکہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی،پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا ماحولیاتی خطرہ، تحریر: سعدیہ مقصود

    دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگیں صرف سرحدی تنازعات نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات ماحول، موسم اور انسانی زندگی کے ہر پہلو تک پہنچ چکے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا کیا ہے بلکہ اس کے اثرات اب موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں بھی واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی تنصیبات پر حملے، آئل ریفائنریوں کی تباہی، اور بڑے پیمانے پر ایندھن کے جلنے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، زہریلی گیسیں اور دھواں شامل ہو رہا ہے جو عالمی درجہ حرارت اور فضائی معیار دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جب جنگی صورتحال میں صنعتی تنصیبات، تیل کے ذخائر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف فوری آلودگی بڑھتی ہے بلکہ اس کے اثرات طویل مدت تک بارشوں کے نظام، درجہ حرارت اور موسمی توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے متاثر ہونے سے عالمی توانائی سپلائی میں خلل پڑا ہے جس کے باعث کئی ممالک مہنگے اور زیادہ آلودہ ایندھن کی طرف جا رہے ہیں، جو مزید کاربن اخراج کا سبب بن رہا ہے۔اس صورتحال کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کمزور ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

    اگر خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگی حالات اسی طرح برقرار رہتے ہیں تو پاکستان میں شدید گرمی کی لہریں، غیر متوازن مون سون بارشیں، سیلاب اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ، اور فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ موجود ہے۔اسی لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف حالات کا تماشائی نہ رہے بلکہ ایک مضبوط موسمیاتی تیاری اختیار کرے۔ سب سے پہلے پانی کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ بڑے ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام اور جدید آبپاشی کے طریقوں کو اپنانا ہوگا تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ آنے والے سالوں میں پانی پاکستان کی معیشت اور بقا دونوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔دوسرا اہم قدم شجرکاری اور جنگلات میں اضافہ ہے۔ پاکستان کے شہروں میں درختوں کی کمی گرمی اور آلودگی کو بڑھا رہی ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں، شہری علاقوں میں سبز کوریڈورز بنائے جائیں اور شہری منصوبہ بندی میں ماحول کو مرکزی حیثیت دی جائے تو درجہ حرارت میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔اگر پاکستان میں شہروں، سڑکوں اور خالی جگہوں پر نیم، پیپل، برگد، شیشم اور جامن جیسے مقامی درخت زیادہ لگائے جائیں تو یہ نہ صرف درجہ حرارت کم کرتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی بھی کم کرتے ہیں اور شہری ماحول کو زیادہ قابلِ رہائش بناتے ہیں۔تیسرا اہم شعبہ توانائی کا ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ جیسے حالات عالمی تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو فوری طور پر قابلِ تجدید توانائی یعنی شمسی توانائی، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی اور آبی توانائی کی طرف منتقل ہونا ہوگا تاکہ مہنگے تیل پر انحصار کم ہو سکے۔چوتھا پہلو شہری منصوبہ بندی ہے۔ پاکستان کے بڑے شہر تیزی سے کنکریٹ کے جنگل بنتے جا رہے ہیں جہاں گرمی جذب ہو کر حرارتی جزیرے کا اثر پیدا کرتی ہے۔ اس کے لیے سبز عمارتیں، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور ماحول دوست بنیادی ڈھانچے کی ترقی ضروری ہے۔پانچواں قدم زراعت میں مزید بہتری اور اس کی مکمل جدید کاری ہے۔

    اگرچہ پنجاب میں پہلے ہی سپر سیڈر اور جدید مشینری کے ذریعے فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کو مزید وسیع اور مؤثر بنایا جائے۔ کسانوں کو ایسے بیج فراہم کیے جائیں جو کم پانی اور زیادہ گرمی برداشت کر سکیں، اور جدید زرعی تحقیق کو عام کاشتکار تک پہنچایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمی پیشگوئی کے نظام کو مزید مضبوط کرنا ہوگا تاکہ کسان بروقت فیصلے کر سکیں اور فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔آخر میں سب سے اہم چیز آفات سے نمٹنے کی تیاری ہے۔ پاکستان کو ایسا مضبوط نظام قائم کرنا ہوگا جو سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور فضائی آلودگی جیسے خطرات کے لیے بروقت وارننگ دے سکے اور فوری ردعمل ممکن بنا سکے۔نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکہ کی جنگ صرف ایک سیاسی یا عسکری تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع تر ماحولیاتی خطرہ بن چکی ہے۔ اگر پاکستان نے آج سے سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی تو 2030 تک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدید اور خطرناک ہو سکتے ہیں، لیکن بروقت اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف ان خطرات سے بچ سکتا ہے بلکہ ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل بھی تشکیل دے سکتا ہے۔

  • تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد،تحریر:سیدہ فرحین نقی کاظمی

    تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد،تحریر:سیدہ فرحین نقی کاظمی

    کیا پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں خاموش سفارت کاری کا نیا مرکز بن رہا ہے؟
    دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ صرف دو ملکوں کو نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ، معاشی بحران اور توانائی کے طوفان میں دھکیل سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب صرف سیاسی اختلاف نہیں رہی بلکہ یہ عالمی طاقت، خلیجی سلامتی، تیل کی منڈیوں اور ایٹمی توازن کا حساس معاملہ بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام آباد کی خاموش سفارت کاری نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان ایک بار پھر عالمی مذاکرات کے پسِ پردہ اہم کردار ادا کررہاہے

    کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود تہران نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا ہوا ہے۔ شام، عراق، لبنان اور خلیج کی سیاست میں ایران کا کردار امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے، جبکہ ایران خود کو مزاحمت، خودمختاری اور اسلامی سیاسی طاقت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    امریکا اور ایران کی کشیدگی کی جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ تنازع مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ کبھی خلیج میں امریکی جنگی بحری بیڑے حرکت میں آتے ہیں، کبھی تہران پر نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور کبھی اسرائیل کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور اس کے بعد ایران کے ردِعمل نے دنیا کو کئی بار ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

    اس پورے منظرنامے میں موجودہ امریکی صدر Donald Trump کی شخصیت بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کی جارحانہ زبان، سوشل میڈیا بیانات اور طاقت کے غیر روایتی انداز نے امریکی خارجہ پالیسی کو ایک غیر یقینی رخ پر کھڑا کر دیا ہے۔ رات گئے سوشل میڈیا پوسٹس، مخالفین پر طنزیہ حملے اور ایران کو براہِ راست دھمکیاں اب عالمی سیاست کا مستقل حصہ بنتی جا رہی ہیں اے آئینی مدد سے ٹویٹ اور فوٹوز کا پوسٹ ان کی نفسیات پہ سوالیہ نشان ہے

    امریکی اداکار Robert De Niro نے ایک موقع پر ٹرمپ کو “sociopathic, psychopathic malignant narcissist” قرار دیا تھا۔ دوسری جانب بعض ماہرینِ نفسیات بھی ٹرمپ کی شخصیت پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جون کے مطابق ٹرمپ “personality disorder” کی ایک ایسی شکل کا مظہر ہیں جسے “malignant narcissism” کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کو اصل میں جرمن نژاد ماہرِ نفسیات Erich Fromm نے متعارف کرایا تھا، جو نازی جرمنی سے فرار ہو گئے تھے اور جنہوں نے Adolf Hitler کی نفسیات کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا تھا۔

    ڈاکٹر جون کا کہنا ہے کہ جب 2015 میں ٹرمپ امریکی سیاست میں ابھرے تو انہیں اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک “malignant narcissist” شخصیت اقتدار میں آنے کے بعد عالمی اقدار، سفارت کاری اور سیاسی توازن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق طاقت، انا اور غیر متوقع فیصلوں کا یہ امتزاج عالمی سطح پر بے یقینی کو بڑھاتا ہے، جبکہ حامی اسے “جارحانہ قیادت” کا نام دیتے ہیں۔

    اسی دوران پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے خطے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ پاکستانی اعلیٰ شخصیات کے بار بار ایران کے دورے، تہران اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے، اور پسِ پردہ مذاکراتی ماحول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں ایک مثبت اور متوازن کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ہے بلکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے سفارتی اور دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ یہی توازن اسلام آباد کو ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔

    پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کھلی جنگ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، سرحدی سلامتی، توانائی منصوبوں اور علاقائی استحکام پر پڑے گا۔ اسی لیے اسلام آباد اپنے میوچل انٹرسٹ کے تحت یہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آئیں اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔

    اس پورے منظرنامے میں چین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ چین کبھی کھل کر کسی ایک فریق کی مکمل گارنٹی نہیں دے گا کیونکہ بیجنگ اپنی عالمی معاشی پوزیشن اور سفارتی توازن کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ چین مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران اور امریکا کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ چین جانتا ہے کہ خلیج میں جنگ اس کی توانائی سپلائی، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں اور عالمی تجارت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔

    خطے کی جغرافیائی سیاست میں آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس اہم گزرگاہ پر ایران اور عمان کا جغرافیائی کنٹرول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے ہر مسئلے کا حل ممکن نہیں، اور خلیجی استحکام کے لیے ایران کے کردار کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے عالمی سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی راستہ کھولنے میں اسلام آباد نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، جبکہ افغان مذاکرات میں بھی پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکا۔ آج اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی آگے بڑھتی ہے تو اسلام آباد ایک قابلِ قبول اور متوازن مقام بن سکتا ہے۔

    پاکستان کی انہی سفارتی کوششوں پر پڑوسی ملک انڈیا میں بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ بھارت خود کو خطے کی بڑی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، اس لیے اگر ایران اور امریکا جیسے اہم فریق اسلام آباد کے ذریعے قریب آتے ہیں تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی تصور ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں میں اس حوالے سے سخت ردِعمل بھی دیکھنے میں آیا۔

    دنیا پہلے ہی یوکرین اور غزہ کی جنگوں سے تھک چکی ہے۔ عالمی معیشت دباؤ میں ہے، تیل کی قیمتیں غیر یقینی کا شکار ہیں اور مشرقِ وسطیٰ مسلسل بارود کے ڈھیر پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے وقت میں شاید سب سے بڑی ضرورت میزائلوں کی نہیں بلکہ مذاکرات کی ہے، دھمکیوں کی نہیں بلکہ تدبر کی سیاست کی ہے۔

    اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایران اور امریکا کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا دنیا واقعی ایک اور جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ اور اگر اسلام آباد ایک بار پھر مذاکرات کی میز سجانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو کیا پاکستان اس بار صرف ثالث نہیں بلکہ خطے میں امن کی نئی سفارتی امید کے طور پر یاد رکھا جائے گا

  • عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام: حضرت ابراہیمؑ اور بیٹے کی وہ لازوال گفتگو،تحریر:شہزاد قریشی

    عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام: حضرت ابراہیمؑ اور بیٹے کی وہ لازوال گفتگو،تحریر:شہزاد قریشی

    عیدالاضحیٰ آتی ہے تو گلیاں قربانی کے جانوروں سے آباد ہو جاتی ہیں، بازاروں میں رونق بڑھ جاتی ہے، گھروں میں تیاریوں کا شور سنائی دیتا ہے، مگر ایک سوال ہر حساس دل سے ٹکراتا ہے: کیا عیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے، یا اس کے پس منظر میں کوئی ایسا عظیم سبق پوشیدہ ہے جسے ہم نے رسموں کی دھند میں کہیں کھو دیا ہے؟-

    اگر ہم اس عید کے اصل مرکز کی طرف لوٹیں تو ہمیں ایک بوڑھا باپ نظر آتا ہے، جس کی زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے، اور ایک فرمانبردار بیٹا، جس کی جوانی اطاعت اور تسلیم و رضا کی تصویر بنی ہوئی ہے یہ محض قربانی کی داستان نہیں، یہ ایک باپ اور بیٹے کے درمیان ہونے والی ایسی گفتگو ہے جس نے قیامت تک کے انسانوں کو زندگی گزارنے کا راستہ دکھا دیا۔

    قرآن مجید میں وہ منظر کتنا ایمان افروز ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں:
    “اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تمہاری کیا رائے ہے؟”

    یہ الفاظ محض ایک حکم سنانے کے نہیں، بلکہ ایک باپ کے شفقت بھرے اندازِ تربیت کے عکاس ہیں حضرت ابراہیمؑ چاہتے تو حکم صادر کر دیتے، مگر انہوں نے اپنے بیٹے کو اعتماد دیا، اس کی رائے پوچھی، اسے اس عظیم امتحان کا شریک بنایا، گویا اسلام ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ اولاد سے مکالمہ کیا جائے، ان کے دلوں تک رسائی حاصل کی جائے، صرف حکم چلانا کافی نہیں ہوتا، محبت اور اعتماد کے ساتھ تربیت ضروری ہے۔

    پھر بیٹے کا جواب تاریخِ انسانیت کا ایک درخشاں باب بن جاتا ہے:
    “ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”

    کیا آج کے دور میں یہ جملہ صرف پڑھنے کے لیے رہ گیا ہے؟ ایک طرف والدین ہیں جو اولاد کو صرف دنیا کی دوڑ میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، دوسری طرف اولاد ہے جو والدین کی نصیحت کو بوجھ سمجھتی ہے گھر ایک چھت کے نیچے ہوتے ہوئے بھی دلوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں ایسے میں حضر ت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یہ گفتگو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد گھر کے اندر باپ اور بیٹے کے رشتے سے شروع ہوتی ہے۔
    عیدالاضحیٰ دراصل جانور کی قربانی سے پہلے اپنی انا، خواہشات، ضد، غصے اور نفس کی قربانی کا نام ہے حضرت ابراہیمؑ نے صرف بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا، انہوں نے اپنے دل کے سب سے محبوب رشتے کو اللہ کی رضا پر قربان کرنے کا عزم کیا تھا اور حضرت اسماعیلؑ نے اپنی جوانی، اپنی زندگی، اپنے خواب—سب کو اللہ کے حکم کے سامنے سرنگوں کر دیا تھا۔

    آج مسلمان اگر اس عید کا اصل فلسفہ سمجھنا چاہیں تو انہیں اس مکالمے کو اپنے گھروں میں زندہ کرنا ہوگا باپ صرف حکم دینے والا نہ ہو بلکہ رہنمائی اور محبت کا پیکر بنے، اور بیٹا صرف آزادی کا طلبگار نہ ہو بلکہ ادب، احترام اور اعتماد کا استعارہ بنے اگر گھروں میں مکالمہ، محبت اور اطاعت کی یہ فضا پیدا ہو جائے تو بہت سے معاشرتی مسائل خودبخود ختم ہو جائیں۔

    افسوس یہ ہے کہ ہم نے عیدالاضحیٰ کو گوشت تقسیم کرنے اور رسم ادا کرنے تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو نہ خون پہنچتا ہے نہ گوشت؛ اس تک صرف دل کا تقویٰ پہنچتا ہے اصل قربانی تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کے “اسماعیل” کو اللہ کے سپرد کرے اور اپنے نفس کے “بت” کو ذبح کر دے
    عیدالاضحیٰ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظمت صرف قربانی میں نہیں، بلکہ اس جذبۂ اطاعت میں ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں جھلکتا ہے یہی وہ سبق ہے جسے اگر مسلمان اپنی زندگیوں میں زندہ کر لیں تو ان کے گھر بھی امن کا گہوارہ بن سکتے ہیں اور معاشرہ بھی محبت، احترام اور ایمان کی خوشبو سے مہک اٹھے گا کیونکہ عید صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ رشتوں، اعتماد، اطاعت اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے سب سے محبوب کو قربان کرنے کے جذبے کا نام ہے۔

  • سب کے نیفے میں پسٹل چلا دیں؟خادم حسین بننا ہے یا یزید؟تحریر:ملک سلمان

    سب کے نیفے میں پسٹل چلا دیں؟خادم حسین بننا ہے یا یزید؟تحریر:ملک سلمان

    قاتل افسران کس کے پیروکار ؟

    پاکستان میں سالانہ ریپ (ذنا بالجبر) کے سات ہزار کیسز درج کرائے جاتے ہیں جبکہ بیس ہزار کے قریب واقعات عزت کے ڈر سے دبا دیے جاتے ہیں۔
    ہزاروں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا سنگین جرم کیا جاتا ہے اور کرنے والے مرد ہیں تو پھر حکومتی اور سرکاری آمرانہ سوچ کے مطابق زیادتی کی روک تھام کا واحد حل یہی ہے کہ سب کے نیفے میں پسٹل چلا کر سارے مرد نامرد کردیے جائیں، بلکہ ستھرا پنجاب کے ورکرز کے زیعے ان کو ڈائریکٹ زہر دیا جائے یا گولیاں مار کر ہلاک کردیا جائے ؟

    پاکستان میں سالانہ پانچ لاکھ روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ تیس ہزار افراد کی اموات ہوتی ہیں جبکہ ہزاروں زندگی بھر کیلئے اپاہج ہوجاتے ہیں۔ اس نقصان سے بچنے کیلئے فوری طور پر سڑکیں کھود دینی چاہئے اور ہر قسم کی ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دینی چاہئے؟پاکستان میں لڑائی جھگڑوں اور دشمنیوں میں سالانہ پندرہ ہزار افراد کا قتل کیا جاتا ہے انسان کیونکہ قتل کرکے بدامنی پھیلا سکتا ہے اس لیے تمام مرد و زن کو مار دینا چاہیے؟
    اگر چند انسانوں کی غلطی کی سزا تمام شہریوں اور انسانوں کو نہیں دی جاسکتی تو پھر کتا کاٹنے کے چند واقعات کی وجہ سے تمام کتوں کی نسل کشی کا کیا جواز ہے؟

    پاکستان میں کتا کاٹنے کے محض چند سو کیسز حقیقی ہیں جبکہ ہزاروں اور لاکھوں کی جعلی اور فرضی تعداد صرف معصوم کتوں کے ناحق قتل کو جسٹیفائڈ کرنے کیلئے بنائی جاتی ہے ۔ پنجاب خاص طور پر لاہور میں جس بے دردی اور سفاکیت سے معصوم کتوں کو مارا جا رہا ہے، حیوانیت اور فرعونیت کی انتہا ہے۔اس حیوانیت، درندگی، سفاکیت اور فاشزم کے ماحول میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین کا فیصلہ انسانیت کی جیت اور اس مقدس ہستی حسین کے نام کی لاج ہے۔

    ایک سفر کے دوران امام حسینؓ کا گزر ایک ایسے باغ کے پاس سے ہوا جہاں ایک کتا موجود تھا اور وہ پیاس کی شدت سے نڈھال تھا۔باغ میں موجود غلام نے کتے کی حالت زار دیکھی تو اسے پیاس بجھانے کے لیے پانی پیش کیا۔ غلام کی بے زبان پیاسے کتے سے ہمدردی و شفقت سے متاثر ہو کر، حضرت امام حسین نے اس غلام کے اچھے اخلاق کے صلے میں اس کے مالک سے بات کر کے اسے آزاد کروا دیا اور باغ بھی اسی غلام کے نام کروا دیا۔ معصوم جانوروں سے پیار اور رحم دلی ہی نبوی ﷺ راستہ اور حسینی سوچ ہے جبکہ ان معصوم جانوروں پر ظلم کرنے والے یزیدی سوچ اور نظریات کے پیروکار ہیں۔

    اے اللہ معصوم اور بے گناہ کتوں سمیت دیگر جانوروں پر ظلم کرنے والوں کا انجام بھی یزید کے ساتھ کرنا۔ آمین
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین سومرو نے بے گھر کتوں کو زہر دینے، گولی مارنے یا تلف کرنے پر مستقل پابندی عائد کرتے ہوئے سٹریٹ ڈاگ کی آبادی پر قابو پانے کے لیے ٹریپ، اسٹریلائز اور ویکسین اپنانے کی ہدایت کی۔ معزز جج نے جانوروں پر ظلم کی رجسٹری قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔ معزز جج کا کہنا تھا کہ جانوروں پرظلم کی روک تھام کا ایکٹ 1890 پرانا ہو چکا ہے، جانوروں پرظلم کی روک تھام کے ایکٹ میں اصلاحات اور سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔معزز جج کا کہنا تھا کہ کتے جاندار اور حساس مخلوق ہیں، ان سے بے رحمانہ سلوک نہیں کیا جاسکتا، آئین میں جانوروں کے حقوق، ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تحفظ بھی شامل ہے۔

    سپریم کورٹ، پنجاب اور دیگر صوبوں کی عدلیہ سے بھی گزارش ہے کہ قیامت کے روز حقیقی منصف کی عدالت میں سرخرو ہونا چاہتے ہو تو معصوم اور بے گناہ کتوں کی قتل و غارت اور ان پر مظالم کی فوری روک تھام کیلئے سخت احکامات صادر کیے جائیں اگر ایسا کرنے میں تاخیر ہوئی تو اس تاخیر کے نتیجے میں ظلم سہنے اور ناحق قتل ہونے والے کتے روز قیامت قاتل ضلعی انتظامیہ کے ساتھ آپ کو بھی اللہ کے سامنے کھڑا کریں گے۔ تمام پاکستانیوں نے بھی فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے ظالم کا ساتھ دینا ہے یا ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر سیدھے راستے کا انتخاب کرنا ہے۔محبت شفقت اور رحمدلی اللہ کے رسول اور امام حسین کا بتایا ہوا صراط مستقیم ہے جبکہ ظلم و بربریت اور سفاکیت یزیدیوں اور لعنتیوں کا راستہ ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • انصاف کے در پہ سسکتے والدین ،تحریر: بینا علی

    انصاف کے در پہ سسکتے والدین ،تحریر: بینا علی

    قصاص زندگی ہے۔
    سورۃ البقرہ (آیت 179) میں ہمارے رب نے فرمایا:
    وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    "اور اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، تاکہ تم ناحق قتل سے بچ سکو۔”
    قصاص ظلم نہیں، رحمت ہے۔ یہ بدلہ نہیں حفاظت ہے۔ جب ایک قاتل جان لے کہ ناحق خون کی قیمت اس کی اپنی جان ہے، تو وہ قتل کرنے سے پہلے کانپ جائے گا۔ یہی وہ خوفِ خدا ہے جو معاشرے کو زندہ رکھتا ہے۔ لیکن آج آج انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔

    دسمبر 2019 بھارہ کہو، اسلام آباد پانچ سالہ معصوم عمر راٹھور کو اغواء کیا گیا، اور سفاکیت کی انتہا کر کے قتل کر دیا گیا۔ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے عمر کے خاندان کے حق میں فیصلہ سنا دیاکہ یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔ فنگر پرنٹس ملتے ہیں، ڈی این اے بھی میچ کرتا ہے۔ملزمان خود اقرار کرتے ہیں اور عدالت دو دو بار سزائے موت سناتی ہے۔ پھر 13 مئی کو سپریم کورٹ نے وہ سزائے موت عمر قید میں بدل دی! کوئی ٹھوس وجہ؟ کوئی وضاحت؟ کچھ بھی نہیں!عمر کے والد، مختار احمد راٹھور، ٹوٹے ہوئے لہجے میں پکار رہے ہیں:
    "یہ انصاف کا قتل ہے!”
    وہ چیف جسٹس، وزیرِ اعظم، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے نظر ثانی کی درخواست دائر کرتے ہیں ۔اوریہ بھی کہتے ہیں اگر ان کی آواز نہیں سنی گئی، "اگر انصاف نہ ملا تو میں اپنی فیملی سمیت سپریم کورٹ کے سامنے خود کو آگ لگا لوں گا!” سات سال… سات سال سے ایک باپ، ایک ماں، انصاف کے لیے انتظار کی سولی پر لٹک رہے ہیں! اور دوسری طرف وہ وکیل ہیں جو چند پیسوں کے عوض، ایک معصوم بچے کے خون میں لتھڑے ہاتھوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہیں شرم نہیں آتی؟ انہیں عمر کی لاش یاد نہیں آتی؟
    انسانیت اس دن مر جاتی ہے، جس دن ظالم کا وکیل مل جاتا ہے!اب آنکھیں بند کیجیےاپنے دل پر ہاتھ رکھیے اور سوچیے: اگر وہ لاشہ آپ کے اپنے کلیجے کا ٹکڑا ہوتا تو کیا آپ معاف کر پاتے؟
    نہیں! ہرگز نہیں!
    تو پھر خاموش کیوں ہیں؟
    عمر کی آواز بنیے۔

    ہر فیس بک پوسٹ پر، ہر ٹویٹ پر، ہر اسٹیٹس پر لکھیے۔
    Justice For Umer
    یہ لڑائی اب صرف عمر کی نہیں رہی۔ وہ تو جنت کا پھول تھا، واپس چلا گیا۔ یہ لڑائی آپ کے بچے کے لیے ہے، میرے بچے کے لیے ہے. تاکہ کل کو کوئی اور عمر، کسی گھر کے باہر سے اغواء ہو کر اتنی بے دردی سے نہ مسلا جائے۔
    انصاف دو، ورنہ یہ معاشرہ مر جائے گا!

  • پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ اور ایک نسل کا مستقبل داؤ پر،تحریر:اعجاز الحق عثمانی

    پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ اور ایک نسل کا مستقبل داؤ پر،تحریر:اعجاز الحق عثمانی

    مئی 2026 کے آغازمیں حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارے UNICEF نے مشترکہ طور پر ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی جس نے طبی ماہرین، ماحولیاتی ماہرین اور (بظاہر)پالیسی سازوں کے(بھی) ہوش اڑا دیے۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، کوئٹہ اور ہری پور سمیت سات بڑے شہروں میں ایک سے تین سال کی عمر کے دو ہزار سے زائد بچوں کے خون کے نمونے لیے گئے،تقریبا چالیس فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار خطرناک حد سے زیادہ تھی۔

    یعنی پاکستان کے صنعتی شہروں میں ہر دس میں سے چار بچوں کے خون میں ایک ایسی زہریلی دھات جو بغیرکسی علامت کے ان کے دماغ، اعصاب،خون اور ہڈیوں میں جمع ہورہی ہے۔سب سے خطرناک اعداد و شمار ہری پور کے صنعتی علاقے حطار سے سامنے آئے جہاں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسہ پایا گیا۔یہ ایسی شرح ہے جو صرف پاکستان نہیں بلکہ جو عالمی سطح پر بھی بدترین شرح ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح محض ایک فیصد رہی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صنعتی آلودگی بچوں کی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

    لیڈ یعنی سیسہ ایک بھاری دھات ہے جو زمین میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ صدیوں سے یہ پائپوں، رنگوں، برتنوں، ہتھیاروں اور صنعتی مصنوعات میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک جب اس کے انسانی صحت پر تباہ کن اثرات سامنے آئے تو مغربی ممالک نے اس پر سخت پابندیاں عائد کر دیں تھیں پٹرول، رنگ اور پانی کے پائپوں سے اسے ہٹا دیا گیا۔

    مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ دھات آج بھی مختلف شکلوں میں ماحول کا حصہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے واضح کہا ہے کہ ‘خون میں سیسے کی کوئی بھی محفوظ مقدار نہیں ہوتی’۔ یعنی اس کی ذرہ برابر موجودگی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں کے لیے۔پاکستان کے صنعتی علاقوں میں گاڑیوں، جنریٹرز اور یو پی ایس کی پرانی بیٹریاں چھوٹے غیر رجسٹرڈ یونٹوں میں توڑی اور پگھلائی جاتی ہیں۔ اس عمل کے دوران سیسے کے باریک ذرات پانی اور ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں،ایک اور بڑی وجہ جسے ہم لوگ کم علمی کی وجہ سے مفید سمجھتے آرہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں صدیوں پرانی روایت کے تحت نومولود بچوں اور بڑوں کو آنکھوں میں سرمہ لگایا جاتا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بعض روایتی سرمے میں سیسے کی خاطر خواہ مقدار پائی جاتی ہے۔ آنکھ کی اندرونی جھلی سے یہ براہ راست خون میں جذب ہو جاتا ہے، اور آنکھ سے ناک کی نالی کے ذریعے نگل بھی لیا جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے یہ ایک انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

    سیسے کی سب سے بڑی سفاکی یہ ہے کہ یہ خاموشی سے نقصان پہنچاتا ہے۔ کوئی بخار نہیں، کوئی درد نہیں، کوئی فوری علامت نہیں۔ والدین دیکھتے ہیں کہ بچہ معمول کے مطابق ہنستا کھیلتا ہے، مگر اندر ہی اندر اس کا دماغ، اس کا اعصابی نظام آہستہ آہستہ متاثر ہوتا رہتا ہے۔ مگر سیسہ ایک نیوروٹاکسن ہے جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو گہرا نقصان پہنچاتا ہے۔ IQ میں کمی، یادداشت کا کمزور ہونا، سیکھنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا اور توجہ کی کمی جیسے اثرات بعد میں تعلیمی کارکردگی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔WHO کے مطابق سیسہ طویل مدت میں گردوں، دل اور دماغ کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے، اور یہ ایسا نقصان ہے جو اکثر ناقابل علاج ہوتا ہے۔

    دنیا بھر میں تقریبا 80 کروڑ بچے سیسے کی آلودگی سے متاثر ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد جنوبی ایشیا میں رہتی ہے۔ مگر پاکستان کا معاملہ خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ یہاں اس مسئلے کے متعدد ذرائع بیک وقت موجود ہیں، تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کاری، غیر رسمی ری سائیکلنگ، پرانے بنیادی ڈھانچے، کمزور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اس سے بھی بڑھ کر شعور کا فقدان یہاں سب سے بڑا دشمن ہے۔

  • کتوں کا عالم ارواح میں اللہ سے شکوہ،تحریر:ملک سلمان

    کتوں کا عالم ارواح میں اللہ سے شکوہ،تحریر:ملک سلمان

    پنجاب کے 38ڈپٹی کمشنرز،151اسسٹنٹ کمشنرز اور میونسپل کمیٹی والے ہی ہمارے قاتل نہیں، اس قتل و غارت گری کا حکم دینے والے، بربریت میں ساتھ دینے والے اور ظلم پر خاموش رہنے والے پارلیمنٹیرین اور تمام سرکاری افسران بھی مجرم ہیں جنہوں نے ظلم کو روکنے کی بجائے ظالم کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔

    اے مالک کائنات تم نے کُنْ کہنا ہے اور فَیَکونُ۔ اے اللہ تجھے تیری منصفی کا واسطہ ہم پر ظلم کرنے والوں کو تباہ و برباد کر دے۔

    بے گھر کتوں کی نسل کشی اور ان پر مظالم کی انتہا کرنے میں پنجاب پہلے، سندھ دوسرے، آزاد کشمیر تیسرے، وفاق چوتھے، خیبر پختونخوا پانچویں، بلوچستان چھٹے اور گلگت بلتستان ساتویں نمبر پر ہے۔اے رب کائنات ریاست پاکستان کے مسلمانوں سے دیگر ممالک کے غیر مسلم کہیں اچھے اور نیک ہیں، کافر ممالک میں کتوں کو گھر کا فرد سمجھا جاتا ہے ناصرف کھانا فراہم کیا جاتا ہے بلکہ گرمی سردی میں گھروں اور دفاتر میں پناہ دی جاتی ہے۔ یہ کیسا اسلامی ملک اور کیسے مسلمان ہیں جو اپنے نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی بجائے جانوروں پر ظلم کرتے ہیں۔
    اسلامی تعلیمات میں جانوروں خاص طور پر کتوں کے ساتھ حسن سلوک واحد عمل ہے جس پر کافر کو بھی جنت کی بشارت مل گئی اور جانوروں پر ظلم کے بدلے مسلمانوں کو بھی جہنم اور عذاب کی وعید کی گئی۔

    اے اللہ ہم تو بھوک سے نڈھال تھے ایسے میں انتہائی غیر معیاری اور باسی کیک کو بھی تیرا شکر ادا کرتے کھانے کو لپکے لیکن معلوم نہیں تھا کہ اس کیک پر پنجاب کی ضلعی انتظامیہ نے strychnineزہر لگایا ہوا تھا۔ اے اللہ ان ظالم انسانوں کے زہر ملے کیک سے کئی منٹ تک درد کی شدت اور تڑپ سے جو تکلیف ہوئی اس کا اندازہ شاید ان انسانوں کو نہیں ہوسکتا۔ اے رب کائنات زہر اور فائرنگ سے ایک ایک قطرہ کرکے خون نکلنے اور رگیں کٹنے سے جو تکلیف پہنچی کیا تم اس تکلیف کا بدلہ نہیں لو گے؟
    اے سب سے بڑے تخت کے مالک ہمارے خون ناحق کے بدلے ان زمینی تخت والوں کے تخت الٹا دے۔
    اے اللہ مساجد تو تیرا گھر ہیں، تیرے نبیﷺ کے دور میں مسجد نبوی میں کتے داخل ہوتے تھے مگر نہ تو صحابہ مسجد دھوتے اور نہ ہی کتوں کو مارتے۔ جن مساجد سے جانوروں کے حقوق اور ان سے صلہ رحمی کی تعلیمات دی جانی چاہئے تھیں ان مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے بدبخت ڈپٹی کمشنرز کے دھمکی آمیز اعلانات کیے جارہے ہیں کہ جہاں بھی کتا نظر آیا زہر دے کر مار دیا جائے گا۔ اے اللہ ان مولویوں نے پنجاب حکومت کے وظیفے کے بدلے یا فرعون بنے ڈی سی کے حکم کے سامنے سر جھکاتے ہوئے خلاف اسلام و انسانیت اعلان کر دیا۔
    اے اللہ تم نے ایک اونٹنی پر ظلم کے بدلے پوری قوم پر عذاب نازل کیا تھا اے اللہ ان بدبختوں کو بھی زمین میں نگل لے۔

    ایک اور کتیا زاروقطار روتے ہوئے دربار الہی میں انصاف کیلئے گرگراتے ہوئے بولی کہ اے پرودگار عالم انصاف کا تقاضہ ہے کہ میرے بچوں کو یتیم کرنے والوں کے بچوں کو بھی یتیم کر، جس درندگی سے ماؤں کے سامنے ان کے بچے مارے گئے اسی طرح ان ظالموں کو بھی اولاد کا دکھ دے۔

    اے منصف اعلیٰ یہ زمین تو ہماری تھی یہ انسان تو بعد میں آئے پہلے انہوں نے ہمارے جنگلات چھین کر کنکریٹ بچھا دیے، پھر بھی ہم ان کے ساتھ باخوشی رہتے رہے اور روٹی کے چند لقموں کیلئے گلیوں بازاروں اور کوڑے کے ڈھیڑ سے رزق اکٹھا کرتے۔ انہی انسانوں نے ہمارے کچھ ساتھیوں کو گاڑیوں کے نیچے دیگر تو کبھی پتھر مار کر زخمی کیا، زخموں کا اعلاج نہ ہونے سے جب وہ باؤلے ہو کر کاٹنے لگے تو چند باؤلے کتوں کی وجہ سے لاکھوں کو تڑپا تڑپا کر مارنا کہاں کا انصاف؟

    ہمارے نام پر بنائے گئے ادارے اور ویٹنڑی ہسپتالوں میں کرپشن تو کی جاتی ہے مگر ہمارا اعلاج نہیں۔
    اے اللہ کئی مہینوں سے جاری اس بربریت اور خون ریزی کو روکنے کیلئے کسی نے کوشش نہیں کی۔
    صحافیوں سے امید تھی کہ یہ ہماری آواز بنیں گے لیکن ان قلم فروشوں نے ہماری آواز بننے سے اس لیے انکار کردیا کہ انہوں نے سرکاری ٹھیکے اور کام نکلوانے ہوتے ہیں اس لیے یہ بھی اس قتل ناحق پر ہماری آواز نہ بنے۔

    سول سوسائٹی اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے کچھ شہریوں نے انتظامی افراد کو ہمیں پکڑنے اور مارنے سے روکنے کی کوشش کی تو ان بے ضمیر سرکاری کارندوں نے سول سوسائٹی کے ان افراد پر کار سرکار میں مداخلت کے پرچے کروا کے بند کردیا۔
    جب کبھی بین الاقواموں خبروں میں کتوں کا ذکر ہوتا تھا تو یہ سن کر بہت خوشی ہوتی کہ پاکستان کے سٹریٹ ڈاگ کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین کتوں میں ہوتا ہے۔

    اے رب کائنات ہمیں لگتا تھا کہ باقی ادارے تو کرپٹ ہیں لیکن کم از کم اس وطن عزیز کی پاک افواج جس طرح باقی شہریوں کی حفاطت کرتی ہیں ہم بھی تو اس وطن کا حصہ ہیں وہ ہمیں ضرور بچائیں گے لیکن شومئی قسمت کہ ہمارا درد، ناحق بہتا لہو اور چیخ و پکار ان تک بھی نہ پہنچ سکی۔

    سول سرکاری محکموں میں ہر طرف لٹیرے اور بے حس لوگ ہیں سوچا کہ عدلیہ تو ہمارا ساتھ دے گی لیکن وہاں بھی ایک جج صاحب نے ہماری قتل وغارت کو روکنے کے احکامات جاری کرکے دوبارہ پوچھا تک نہیں، سول افسران جو پہلے ہی عدالتی احکامات کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ زور و شور سے سرعام فائرنگ اور زہر سے خون ریزی جاری رکھی لیکن کسی جج نے نہ تو ان کو روکا اور نہ توہین عدالت کی کاروائی کی۔ اے منصف اعلیٰ تیری عدالت سے خالی ہاتھ واپس نہیں جاسکتے۔

    یا اللہ پنجاب اور وطن عزیز پاکستان میں مظالم اذیتوں اور بربریت کا شکار معصوم و بے گھر کتےخون ناحق بہانے میں ملوث ہر ظالم کے انجام کے لیے تیرے کُنْ فَیَکونُ کے منتظر ہیں۔