Baaghi TV

Category: متفرق

  • "چولستان میں خشک سالی اور قوم کو پکار” محمد عبداللہ

    "چولستان میں خشک سالی اور قوم کو پکار” محمد عبداللہ

    صحرائے چولستان جنوبی پنجاب میں موجود صحرا ہے جو سندھ کے صحرائے تھر اور بارڈر کے دوسری طرف انڈیا کے صحرائے راجستھان سے ملتا ہے. جنوبی پنجاب میں ہی پنجاب کا دوسرا صحرا "تھل” بھی واقع تھا.

    تھل کا صحرا کہ جس کو "تھل” نہر کے پانی سے سیراب کرکے آباد کیا جاچکا ہے اور اب خوشاب، میانوالی، لیہ اور بھکر کے علاقوِں میں ریت کے ٹیلوں سے ہی یہاں صحرا کا گمان ہوتا ہے جبکہ بیشتر زمینیں کاشتکاری کے اور دیگر مقاصد کے لیے کارآمد بنائی جاچکی ہیں.

    جبکہ چولستان کا صحرا بہاولنگر کے علاقوں سے شروع ہوکر، بہاولپور سے ہوتا ہوا رحیم یارخان سے سندھ کے صحرائے تھر سے مل جاتا ہے. ماضی میں یہ دریائے ہاکڑا کی بدولت یہ علاقہ سرسبز و شاداب علاقہ تھا جو پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے صحرا بنتا چلا گیا.

    یہ صحرا بڑا اہم تجارتی روٹ تھا. اس صحراء میں موجود جابجا قلعے اسی تجارتی روٹ پر واقع تھے جن میں کچھ کی باقیات اور نشان ملتے جیسے رحیم یار خان میں بھاگلہ قلعہ وغیرہ ہیِں جبکہ کچھ اپنی حالتوں میں موجود ہیں جیسے بہاولپور میں دراوڑ قلعہ ہیں.

    گزشتہ دنوں میں پڑنے والی شدید گرمی اور بارشیں نہ ہونے کے باعث "ٹوبوں” میں موجود تالابوں وغیرہ میں پانی خشک ہوگیا جس کے باعث جانوروں کو پانی نہ ملنے سے جانوروں کے ہلاک ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سینکڑوں جانور ہلاک ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے غذائی قلت بھی پیدا ہوچکی ہے.
    اب کیفیت یہ ہے کہ مسلسل خشک سالی کے باعث جانور تو جانور انسان بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور انتہائی مجبوری کے عالم میں وہاں سے نقل مکانی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے.

    ایسے میں ہمشیہ کی طرح سے پاکستان کے رفاہی اور مددگار میدان میں آچکے ہیں اور پانی کے ٹینکرز اور خوراک کے ساتھ اللہ اکبر تحریک کے رضاکار ابتدائی امداد لے کر پہنچ چکے ہیِں گو کہ یہ بہت زبردست ہے لیکن یہ مدد فی الحال ناکافی ہے لہذا پوری قوم کو اس مشکل وقت میں چولستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے.
    محمد عبداللہ

  • 21سال مردہ بیوی کے ساتھ  زندگی گزارنے والا شہری

    21سال مردہ بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے والا شہری

    بنکاک: تھائی لینڈ کے بزرگ شہری نے 21 سال بعد اہلیہ کی آخری رسومات ادا کردیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے رہائشی 72 سالہ شخص دو دہائیوں سے اپنی مردہ بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا بزرگ تھائی شہری متعدد ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں اس کے باوجود ان کے گھر میں بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات تک موجود نہیں اور وہ انتہائی نامناسب حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    سگا باپ دو نوجوان بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کے الزام میں گرفتار

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بزرگ شخص نے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیوی کا جنازہ ایک باکس میں رکھا ہوا تھا اور جنازے سے ایسے گفتگو کرتا تھا جیسے بیوی زندہ ہو۔

    تاہم اب 72 سالہ چرن جنوٹچکل نامی شخص نےایک این جی اوکی مدد سےاپنی اہلیہ کی 30 اپریل 2022 کو تدفین کی ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ این جی او کے رضاکار چھوٹے سے کمرے سے باکس کو نکالتے ہیں جسے پلاسٹک میں لپٹا ہوتا ہے۔

    13 سال بعد "اوتار2” کا پہلا ٹیزر جاری

    رپورٹ کےمطابق بزرگ شخص کےخلاف تاحال کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی کہ انہوں نے 2001 میں اپنی اہلیہ کےانتقال کی خبر متعلقہ حکام کودرج کروائی تھی اورلیکن اس کی آخری رسومات ادا نہیں کیں-

    معمر تھائی شہری نے انکشاف کیا کہ وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھے مگر جب میں نے اپنی اہلیہ کے جنازے کو گھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا تو میرے بیٹوں سے مجھے تنہا چھوڑ دیا۔

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی صحافی شہید ، کیمرہ مین زخمی

  • پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    نئی دہلی: بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیارپورٹ کےمطابق سنہ 2016 میں راجستھان کے دارالحکومت میں ششھی کانت کا قتل ہوا تھا جس کی لاش تین دن بعد ملی تھی، بعد ازاں مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے احتجاج پر معاملہ عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہوا تھا اب جہاں ہائی کورٹ کی جانب سے کیس کا فیصلہ قریب تھا تو پولیس نے شواہد گم ہونے کا الزام بندر پر عائد کردیا ہے۔

    گجرات کے بعد اوکاڑہ کے قبرستان میں کمسن بچی کی نعش نکال کر بیحرمتی کا واقعہ

    رپورٹ کے مطابق راجستھان کی ہائی کورٹ میں ششھی کانت نامی شہری کے قتل کا کیس زیر سماعت ہے، عدالت نے پولیس سے قتل کے شواہد مانگے تو اس نے عجیب وغریب منطق پیش کی اور کہا بندر نے پولیس اسٹیشن سے تمام ثبوت چوری کرلیے ہیں جس میں قتل میں استعمال ہونے والا تیز دھار آلہ بھی شامل تھا۔

    رپورٹس کے مطابق پولیس نے عدالت میں تحریری بیان جمع کرایا جس میں لکھا ہے کہ مذکورہ کیس کے شواہد بیگ میں موجود تھے اور بیگ بندر اٹھا کر غائب ہوگئے ہیں۔

    معذور لڑکی کی نعش قبر سے نکال کر بیحرمتی،ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

  • گھر کے اندر خودکار طریقے سے سبزیاں اگانے والا سمارٹ گارڈن

    گھر کے اندر خودکار طریقے سے سبزیاں اگانے والا سمارٹ گارڈن

    کیلیفورنیا:خاتون ڈیزائنر نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جو ایک جانب تو کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے تو دوسری جانب مضر کیمیائی اجزا سے پاک روزانہ کی سبزیاں اگاتا ہے۔

    باغی ٹی وی :اسے بنانے والی کمپنی نے ’ہائیڈروآرٹ پوڈ‘ کا نام دیا ہے گھر کے اندر مکمل طور پر خود بخود سبزیاں اگانے کے لیے ایک سمارٹ گارڈن ہے، جس میں عملی طور پر کوئی وقت یا محنت درکار نہیں ہے اس کو گھر کے کسی بھی کمرے میں پینٹنگ کی طرح ٹانگا جاسکتا ہے جو صرف پانی کی بدولت ہرے پتوں والی تازہ سبزیاں کسی کیمیائی اجزا کے بغیر کاشت کرسکتا ہے۔

    اسے ایک خاتون ڈیزائنر نے تین سال کی محنت اور کامیابیوں اور ناکامیوں کے بعد بنایا ہے ان کا دعویٰ ہے کہ اب سبزیاں اگانا کافی یا چائے بنانے سے بھی زیادہ آسان ہے عموماً گھروں میں جگہ نہیں ہوتی اور اسی بنا پر پورا ہائیڈروآرٹ پوڈ کا پورا نظام تشکیل دیا گیا ہے جسے کم جگہ پر سبزیوں کا باغیچہ قرار دیا گیا ہے اپنی بہترین صلاحیت کی بنا پر یہ سارا سال تازہ سبزیاں کاشت کرتا رہتا ہے۔

    اس میں چھوٹے ٹماٹر، مرچیں، اسٹرابری، دھنیا، کھیرا، پودینہ، پالک، چولائی، کڑھی پتے اور باورچی خانے کے لیے ضروری دیگرسبزیاں آسانی سےاگائی جاسکتی ہیں افزائش کا پورا نظام ہرقسم کےکیمیکل سےپاک ہےایک مرتبہ کی سرمایہ کاری سے پورے سال سبزیوں کا خرچ بچایا جاسکتا ہے ہائیڈروآرٹ پوڈ صرف 120 واٹ بجلی صرف کرتا ہے۔

    اس کی پشت پر 10 لیٹر پانی کی ٹنکی لگی ہے جو ہر دو گھنٹے بعد خودکار انداز میں چند منٹوں کے لیے پانی سبزیوں تک پہنچاتی ہے ہائیڈروآرٹ پوڈ پر ہر سبزی کے لیے ایک چھوٹا خانہ بنایا گیا ہے جس میں پہلے بیج ڈالا جاتا ہے، پھر پودوں کو غذائیت دینے والے اجزا انڈیلے جاتے ہیں اور اس کے بعد ہائیڈروآرٹ پوڈ کا سوئچ آن کردیا جاتا ہے نظام کے اطراف پر لگی روشنیاں سبزیوں کی افزائش کو تیزتر کردیتی ہیں-

  • امریکی افواج نے  1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں چرایا گیا کیک واپس کر دیا

    امریکی افواج نے 1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں چرایا گیا کیک واپس کر دیا

    اٹلی: امریکی افواج نے 90 سالہ اطالوی خاتون کو کیک واپس کر دیا جو 1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں امریکی فوجیوں نے چراکر کھالیا تھا اس کیک کی واپسی کے لئے باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق خاتون میری مایون نے بتایا کہ ان کی عمر اس وقت صرف 13 برس تھی جب وہ ویسینزا، اٹلی کے پاس سان پیٹرو کے دیہات میں رہائش پذیر تھی یہاں جرمن اور امریکی افواج میں شدید جنگ ہورہی تھی میری کی والدہ نے اس کے لیے سالگرہ کیک تیار کیا تھا اور اسے کھڑکی کے باہر ٹھنڈا ہونے لیے رکھنے کو کہا جبکہ تھوڑی دیر بعد کیک وہاں سے غائب تھا اور محاذ پر لڑتے ہوئے امریکی فوجیوں نے اسے کھالیا تھا میری نے کیک کو ہر جگہ تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہ ملا اور یقین ہوچلا کہ کیک کسی نے چرایا ہے۔

    تاہم اب ایک لمبے عرصے بعد امریکی افواج نے باقاعدہ ایک تقریب میں یہ کیک واپس کیا ہے جمعرات کو اٹلی کے ایک گیارڈائنی سالوی پارک میں خاتون، ان کے اہلِ خانہ، امریکی فوجیوں اور دیگر شہریوں کو مدعو کیا گیا تھا اور انہیں اطالوی اور انگریزی زبان میں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی گئی تھی۔

    اس موقع پر خاتون نے فرطِ جذبات سے کہا کہ وہ یہ لمحہ بھول نہیں سکتیں کیونکہ وہ زندگی کا ایک یادگار دن بھی تھا انہوں نے کہا کہ وہ کیک کا بقیہ حصہ اپنے اہلِ خانہ کو بھی پیش کریں گی اس موقع پر امریکی سارجنٹ پیٹر ویلس نے کہا کہ اگرچہ یہ تھوڑا عجیب واقعہ ہے لیکن وہ کیک واپس کرتے ہوئے مسرت محسوس کررہے ہیں

    اس واقعے میں 19 امریکی سپاہی ہلاک ہوئے تھے جبکہ کئی ٹینک بھی راکھ ہوگئے تھے۔ اٹلی کے اس گاؤں نے امریکیوں کے لیے کھانے اور شراب بھی پیش کی تھیں تاہم کیک بنا اجازت اٹھایا گیا تھا امریکی افواج نے اس موقع پر جنگ میں ان کا ساتھ دینے پر اطالوی عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  • تپتی دھوپ میں خاتون کی گاڑی کے بونٹ پرروٹی پکانے کی ویڈیو وائرل

    تپتی دھوپ میں خاتون کی گاڑی کے بونٹ پرروٹی پکانے کی ویڈیو وائرل

    نئی دہلی: تپتی دھوپ میں خاتون کی گاڑی کے بونٹ پرروٹی پکانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : ہیٹ ویو یعنی معمول سے کہیں زیادہ گرم موسم میں ایک خاتون کی گاڑی کے بونٹ پرروٹی پکانے کی ویڈیو نے دیکھنے والوں کوحیران کردیا –


    سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں آگ برساتے سورج کے نیچے کھڑی خاتون نے گاڑی کے بونٹ پر چکلا بیلن رکھ کرروٹی بیلنے کے بعد نہایت مہارت سے گاڑی کے بونٹ پررکھ کراسے سیک رہی ہیں سورج کی تپش کے باعث روٹی ایسے پک گئی جیسے چولہے پرتیار کی گئی ہو-

    13 سال کی عمر میں ’پی ایچ ڈی‘ کی تیاری کرنے والا ننھا آئن سٹائن

    گاڑی کے بونٹ پرروٹی پکانے کی ویڈیو کوسوشل میڈیا پر اب تک ہزاروں لائیکس مل چکے ہیں اور لوگوں کی جانب سے حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    دوسری جانب شمال مغربی ہندوستان میں گرمی کی لہر جاری ہے اور اس دوران دہلی میں بدھ کو بیشتر علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں دو سے تین ڈگری سیلسیس کا اضافہ دیکھا گیا۔

    محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دہلی کے کچھ حصوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ 21 اپریل 2017 کو دارالحکومت میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43.2 ڈگری سیلسیس تھا۔ ریکارڈ کیا گیا تھا. اپریل میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 اپریل 1941 کو 45.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    آسمانی بجلی گرنے سے اونٹوں کا ریوڑ ہلاک

    بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان پر مغربی ڈسٹربنس کے اثر کی وجہ سے ابر آلود آسمان کی وجہ سے پچھلے ہفتے خطے کو کچھ مہلت ملی۔ قومی راجدھانی میں 28 اپریل سے گرمی کی لہر کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (IMD) موسم کی وارننگز کے لیے چار رنگوں کے کوڈ استعمال کرتا ہے- سبز (کوئی کارروائی کی ضرورت نہیں)، پیلا (نظر رکھیں اور اپ ڈیٹ رہیں)، نارنجی (تیار رہیں) اور سرخ (کارروائی کریں)۔

    آئی ایم ڈی نے کہا کہ اعتدال پسند’ صحت کے مسائل کمزور لوگوں جیسے کہ شیر خوار، بوڑھے، گرمی سے متاثرہ علاقوں میں دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘ان علاقوں کے لوگوں کو گرمی میں باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے، ہلکے رنگ کے، ڈھیلے سوتی کپڑے پہننا چاہیے اور سر کے پوشاک، ٹوپی یا چھتری سے اپنی حفاظت کرنی چاہیے آنے والے دنوں میں شدید گرمی کی لہر سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

    فلسطین میں محبت اور جنگ کا دیوی کا مجسمہ دریافت

  • فلسطین میں محبت اور جنگ کا دیوی کا مجسمہ دریافت

    فلسطین میں محبت اور جنگ کا دیوی کا مجسمہ دریافت

    جنگ زدہ فلسطین میں محبت کا مجسمہ دریافت ، غزہ کی پٹی میں خوبصورتی، محبت اور جنگ کی دیوی عنات کا مجسمہ دریافت ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق فلسطینی ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق کنعانی دیوی عنات کا ملنے والا سر تقریباً 4500 سال پرانا ہے عنات دیوی کا سر غزہ پٹی کے جنوبی علاقے میں ایک کسان کو اپنے کھیت میں ملا 22 سینٹی میٹر کے اس مجسمے پر موجود نقش و نگار کسی دیوی کے چہرے کی عکاس کر رہے ہیں جس نے سانپ کا تاج پہنا ہوا ہے۔

    اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک

    حالیہ برسوں کے دوران غزہ میں اسرائیل اور عسکریت پسند گروپوں کے درمیان تنازع میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ پر حماس کی حکومت ہے تاہم چونے پتھر سے بنے اس مجسمے کی دریافت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ کس طرح یہ پٹی مسلسل قدیم تہذیبوں کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کا حصہ تھی اور دراصل یہ ایک کنعانی بستی تھی۔

    مقامی کاشتکار اپنے کھیت میں کام کر رہے تھے جب انہیں یہ سر ملا تھا انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کیچڑ سے بھرا ہوا تھا ہم نے اسے پانی سے دھویا تب جا کر اس کی اصل شکل سامنے آئی انہیں لگا کہ یہ قیمتی چیز ہے پر آثار قدیمہ کا اندازہ نہیں ہوا ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں، اور ہمیں فخر ہے کہ یہ ہماری زمین، ہمارے فلسطین میں کنعانی دور سے ہے۔

    مقبوضہ بیت المقدس:مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے نوجوان شہید


    عنات کا شمار مشہور کنعانی دیوی دیوتاؤں میں ہوتا ہے مجسمہ کو اب قصر البشا یعنی فلسطین کے مشہورعجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

    منگل کو ایک پریس کانفرنس میں نوادرات کی نقاب کشائی کرتے ہوئے حماس کے زیر انتظام وزارت سیاحت اور نوادرات کے وزیر جمال ابو ردا نے کہا کہ یہ مجسمہ ’وقت کے خلاف مزاحمت‘ ہے اور ماہرین نے اس کا بغور جائزہ لیا ہے اس مجسمے نے ایک سیاسی نکتہ کی جانب توجہ دلائی ہے اس طرح کی دریافتیں ثابت کرتی ہیں کہ فلسطین کی اپنی تہذیب اور تاریخ ہے اور کوئی بھی اس تاریخ سے انکار یا اسے جھٹلا نہیں سکتا۔ یہ فلسطینی عوام اور ان کی قدیم کنعانی تہذیب ہے غزہ میں موجود تمام آثار قدیمہ کی اتنی زیادہ تعریف نہیں کی گئی ہے یا کسی نے اس سے قبل ایسی کارکردگی پیش نہیں کی ہے۔

    بھارت: یوپی میں تہواروں سے قبل مذہبی مقامات سے 11000 لاؤڈاسپیکر اتار دیئے گئے

    اس سے قبل یونانی دیوتا اپولو کا ایک قدیم انسانی سائز کا کانسی کا ایک مجسمہ سنہ 2013 میں ایک ماہی گیر نے دریافت کیا تھا لیکن بعد میں وہ پراسرار طور پر غائب ہو گیا تھا۔

    دوسری جانب رواں سال حماس نے 5 ویں صدی کے بازنطینی چرچ کی باقیات کو بحالی کے بعد دوبارہ کھول دیا ہے اسے غیر ملکی عطیہ دہندگان کی جانب سے سالوں سے جاری بحالی کے منصوبے کے لیے مالی امداد دی گئی تھی۔

  • 13 سال کی عمر میں ’پی ایچ ڈی‘ کی تیاری کرنے والا ننھا آئن سٹائن

    13 سال کی عمر میں ’پی ایچ ڈی‘ کی تیاری کرنے والا ننھا آئن سٹائن

    نیو یارک :13 سالہ امریکی طالبعلم اگلے ماہ فزکس میں بیچلر ڈگری کے ساتھ گریجویشن کرنے کے بعد اپنی پی ایچ ڈی کی تعلیم شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق ایلیوٹ نینر کے خاندان نے بتایا کہ وہ جلد ہی فزکس میں بیچلرکی ڈگری اور ریاضی کی کم عمر گریجویٹ کا مقام حاصل کرےگی اسے یونیورسٹی آف مینیسوٹا میں طبیعیات میں ڈاکٹریٹ کے پروگرام میں قبول کیا گیا ہے۔

    13 سالہ طالبعلم نے یونیورسٹی آف مینیسوٹا میں 3.78 پوائنٹس کی اوسط برقرار رکھی اور یونیورسٹی کی تحقیق میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے ساتھیوں کو بھی پڑھایا۔

    بھارت کی معروف سماجی کارکن وموٹیویشنل اسپیکرسبری مالا نے اسلام قبول کرلیا


    اس کی والدہ مشیل ٹینر نے انکشاف کیا کہ اس نے تین سال کی عمر میں ریاضی پڑھنا شروع کر دی تھی ہوم اسکولنگ کے چند سالوں اور ہائی اسکول کے نصاب کے بعد جسے مکمل ہونے میں دو سال لگے اس نے نو سال کی عمر میں کالج کی کلاسیں لینا شروع کر دیں جن لوگوں نے ایلیوٹ کی کہانی سنی ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ اب بچہ نہیں رہا یا وہ بہت تیزی سے بڑا ہوا وہ ابھی بھی بہت بچہ ہے اور فرق صرف یہ ہے کہ وہ ایک مختلف عمارت میں اسکول جاتا ہے۔

    ایلیوٹ نے اپنے کیریئر کے بارے میں بتایا کہ وہ طبیعیات کے لیے ایک حیرت انگیز جذبہ رکھتا ہیں یہ ان کی پسندیدہ چیزوں میں سے ایک ہے وہ ایک ماہر طبیعیات اور یونیورسٹی میں فزکس کی پروفیسر بننا چاہتا تاہم گریجویٹ پروگرام میں تعلیم کے اخراجات والدین کے لیے رکاوٹ تھے۔

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک ٹوئٹر کے نئے مالک بن گئے


    OneStop یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق ایلیوٹ کے خاندان کو موسم خزاں اور بہار کے سمسٹرز کے لیے تقریباً 40,600 ڈالر یا تقریباً20,300 فی سمسٹر ادا کرنا ہوں گے۔

    مشیل نے کہا کہ ہم صرف اپنےتمام آپشنز کو تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اور حتمی نتائج کے ساتھ آ رہے ہیں کسی بھی اسکالرشپ، فیلوشپس، گرانٹس کے لیے اپلائی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم کامیاب نہیں ہو سکے ہیں ہم یہ جان کر حیران رہ گئے کہ یونیورسٹی نے ایلیٹ کو مالیاتی پیکج نہیں دیا۔

    امریکہ میں آنے والے طبیعیات کے پی ایچ ڈی طلباء میں سے صرف 3 فیصد کو ٹیوشن کی چھوٹ اور/یا مالیاتی پیکج نہیں ملتا، اس لیے ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم 13 سال کی عمر میں ایلیوٹ کی تعلیم کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے جھنجھوڑ رہے ہوں گے۔’

    والدین نے رقم اکٹھا کرنے کے لیے GoFundMe مہم شروع کی اور اس کی والدہ نے کہا کہ خاندان نے گریجویٹ پروگرام میں اس کے پہلے سال کے لیے فنڈنگ حاصل کی تھی۔

    واضح ہے کہ ایلیوٹ باضابطہ طور پر 12 مئی کو فزکس اور میتھمیٹکس برانچ میں بیچلر آف سائنس کے ساتھ گریجویٹ ہوں گے۔

    پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی،بھارتی براڈ کاسٹرزکا اپنی ٹیم کی شرکت کے حوالے سے خدشات…

  • دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی جاپانی خاتون چل بسیں

    دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی جاپانی خاتون چل بسیں

    ٹوکیو: جاپان میں دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی خاتون دن کی علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملیں۔

    باغی ٹی وی : جاپانی میڈیا کے مطابق گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی کین تاناکا جاپان کی مقامی نرسنگ ہوم میں رہائش پذیر تھیں جہاں آج ان کا انتقال ہوگیا۔

    دنیا کی معمر ترین شخصیت نے 119ویں سالگرہ کوکا کولا پی کر منائی

    کین تاناکا 2 جنوری 1903 میں جاپان کے جنوب مغربی علاقے فیوکیوکا میں پیدا ہوئی تھیں وہ جوانی میں نوڈلز اور رائس کیک کی دکان چلاتی تھیں اور 1922 میں 19 برس کی عمر میں شادی کی جس سے ان کے 4 بچے ہوئے جبکہ ایک کو گود لیا۔

    ان کے خاندان کی چاول کی دکان تھی جس پر وہ 103 برس کی عمر تک کام کرتی رہیں اپنی زندگی میں انہوں نے 1918 کا ہولناک ہسپانوی فلو دیکھا اور دو عالمی جنگوں کو قریب سے محسوس کیا لیکن اب بھی وہ ماضی کی باتوں کو نہیں دوہراتیں بلکہ انہیں اس عمر میں بھی مستقبل سے لگاؤ تھا-

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے 2019 میں کین تاناکا کو 116 سال اور 66 دن کی عمر میں دنیا کی معمر ترین خاتون کے اعزاز سے نوازا تھا اور انھوں نے اس اعزاز کو اپنی زندگی کا یادگار ترین لمحہ قرار دیا تھا۔

    119 سالہ کین تاناکا صبح 6 بجے اُٹھ کر لازمی چہل قدمی کرتیں اور دوپہر میں ریاضی کی مشق کرتیں جو ان کا پسندیدہ مضمون تھا اس کے بعد کیلی گرافی بھی کرتیں ایک انٹرویو میں انھوں نے اپنی طویل العمری کا راز واک اور سادہ غذا کو قرار دیا تھا۔

    طیارے کے واش روم کے کوڑے دان سے نومولود بچہ برآمد،خاتون گرفتار

    انہوں نے اپنی لمبی عمر اور صحت کا راز بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس وقت کھانا چھوڑ دیتی ہیں جب ان کا پیٹ 80 فیصد بھر جاتا ہے جبکہ صحت بخش غذاﺅں جیسے سبز سبزیاں، جڑوں والی سبزیاں اور مچھلی کھانا پسند کرتی ہیں۔

    گنیز ورلڈ ریکارڈز کا کہنا تھا کہ کین تاناکا وقت گزارنے کے لیے اوتھیلو نامی گیم ہے جو ان کا فیورٹ ہے اور وہ کلاسک بورڈ کی ماہر بن چکی ہیں اور اکثر گھر کے دیگر افراد کو شکست دیتی ہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں شہریوں کی لمبی عمریں ہوتی ہیں اور دنیا کے معمر ترین افراد کے حوالے سے بھی مشہور ہیں کیونکہ ماضی میں کئی افراد نے معمر ترین کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

    گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق دنیا میں طویل ترین عمر پانے کا ریکارڈ فرانس کے ایک شہری جین لوئس کلمینٹ کو حاصل تھا جو1997 میں 122 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

    جڑواں بہن بھائی کی پیدائش میں پورے ایک سال کا فرق

  • ایک ہی کمپنی میں 84 سال تک ملازمت کرنےوالے 100 سالہ شخص نےنیا گنیزورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

    ایک ہی کمپنی میں 84 سال تک ملازمت کرنےوالے 100 سالہ شخص نےنیا گنیزورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

    برازیل کے جنوبی شہر برسک سے تعلق رکھنے والے ایک 100 سالہ شخص نے ایک ہی کمپنی میں 84 سال تک ملازمت کرکے نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی کے مطابق 100 سالہ والٹر آرتھ مین نے 1938 میں برسک میں ایک معمولی سی کپڑے بنانے والی فیکڑی میں ملازمت شروع کی جو آج ( RenauxView) کے نام سے کافی مشہور ہے والٹر نے اس کمپنی کے ساتھ وفاداری نبھائی اور 84 سال سے وہیں ملازمت کررہے ہیں۔

    والٹر کو پروڈکشن سے انتظامی معاملات دیکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی، بعدازاں انہیں کمپنی کے سیلز منیجر کا عہدہ دے دیا گیا ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد والٹر آرتھ مین نے نوکری کی متلاشی نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ زندگی میں وہ کریں جو آپ کو پسند ہے اور جنک فوڈ سے دور رہیں والٹر اپنی غذا کا کافی خیال رکھتے ہیں اور ساتھ ہی 100 کی عمر تک پہنچ کر بھی ورزش کرنا نہیں بھولتے-

    ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اپنے کام سے پیار کرنا ہوگا، میں نے بھی اسی خواہش اورجذبے کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے کامیابی ملتی گئی۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    دوسری جانب برطانیہ میں ایک ایسا ملازم بھی ہے جو گزشتہ تقریباً 70سال سے بیماری کے باعث چھٹی کیے بغیر ایک ہی کمپنی کیلئے کام کررہا ہے 83 سالہ برائن چورلی نے برطانیہ کی کاؤنٹی سمر سیٹ میں واقع ایک جوتے کی فیکٹری (سی اینڈ جے کلارکس) میں 1953میں کام کرنا شروع کیا ہفتے میں 45 گھنٹے کام کرنے کے بعد، برائن اپنی پہلی تنخواہ دو پاؤنڈز حاصل کرتے جس میں سے وہ ایک پاؤنڈ اپنی ماں کو دیتے۔

    برائن نے 1980 کی دہائی تک اسی فیکٹری میں کام کیا لیکن جب فیکڑی کے احاطے کو شاپنگ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا تو انہوں نے پھر بھی کمپنی کا ساتھ نہیں چھوڑا اوراسی کمپنی کیلئے کسٹمر سروسز میں کام کرنے کی دوبارہ تربیت حاصل کی اور تب سے اب تک وہ اسی کمپنی سے جڑے ہوئے ہیں۔

    برائن کا کہنا ہے کہ ان کا ریٹائرمنٹ لینے کاکوئی اراداہ نہیں ہے پورا دن کرسی میں فالتو بیٹھنا اچھا نہیں لگتا ، مجھےکام کرنے کاشوق ہے جو میں جاری رکھوں گا۔

    ب امریکا ہی میرا اصلی گھر ہے،شہزادہ ہیری