Baaghi TV

Category: متفرق

  • مہنگائی عالمی مسئلہ .تحریر : فضیلت  اجالہ

    مہنگائی عالمی مسئلہ .تحریر : فضیلت اجالہ

    عالمی وبا کورونا کے باعث روز بروز بڑھتی ھوئی مہنگائی کی لپیٹ میں پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی شامل ہے۔ جہاں ایک طرف مہنگائی سے پریشان غریب عوام کے لیے اشیائےخوردونوش خریدنا ناممکنات میں شامل ھوتا جا رہا ہے وہیں بغض عمران خان میں مبتلا اپوزیشن عالمی مسلے کو حکومت کی نا اہلی قرار دیتے ہوئے زاتی مفادات کے حصول کی خاطر معصوم عوام کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کر رہی ہے۔ابو بچاو اور کرپشن چھپاوں تحریک کو مہنگائی مخالف جنگ کے لبادے مییں چھپا کر انتشار کو ہوا دی جا رہی ہے۔
    اس بات میں کوئ دو رائے نہیں کہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہی ہے لیکن ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ پاکستان پیٹرول سمیت بہت سی اشیاء خوردونوش کیلیے دوسرے ممالک پر انحصار کرتا ہے، کورونا کے باعث طلب و رسد کے واضح فرق اور نظام ترسیلات میں رکاوٹوں کے سبب ہر شعبہ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے ،انتہائی ترقی پزیر ممالک جہاں کبھی مہنگائی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا وہا ں بھی مہنگائی نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ۔

    حالیہ مہنگے ہونے والے پیٹرول کی بات کریں تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹرول میں خود کفیل نہیں ہے ،عالمی سطح پر بارہ ماہ کی قلیل مدت میں پیٹرول کی قیمت میں 88.5 روپے اضافہ ہوا جس میں بتدریج اضافے کا امکان ہے جبکہ پاکستان میں اسی عرصے میں صرف 17.55% بڑھوتری ہوئ ہے ۔حکومت پاکستان اس وقت مجموعی قیمت 138 روپے میں سے صرف 14 روپے لیوی اور سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کر رہی ھے جو کہ پاکستان کی 74 سالہ تاریخ می پیٹرول پر کم ترین ٹیکس ہے۔ نون لیگی ترجمان شاہد خاقان عباسی بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ موجودہ حکومت بہت کم ٹیکس لے رہی ہے اور یہ بھی کہ اگر نون لیگ کی حکومت ہوتی تو پیٹرول کی قیمت موجودہ قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی۔
    ۔ جو لوگ عمران خان کے ماضی میں دیے گئے بیان ‘جب پیٹرول کی قیمتوں مین اضافہ ھو تو سمجھ لو حکمران چور ہے ‘ کو لیکر تمسخر اور تنقید کر رہے ہں انہییں یاد دہانی کرواتی جائوں کہ اس وقت پیٹرول کی قیمت اگر 100 روپے تھی تو اسمیں 52 روپے صرف لیوی اور سیلز ٹیکس کے تھے جب کہ پیٹرول کی قیمت صرف 48 روپے تھی۔ یعنی نصف سے بھی زیادہ رقم صرف ٹیکس کی مد میں موصول کی جاتی رہی ہے ۔

    عالمی سطح پر گیس اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کی شرح 135 % ہے جبکہ پاکستان میں قدرتی ذخائر سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمتوں میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔

    خوردنی تیل کے حوالے سے بھی جھوٹی خبریں چلا کر پراپیگنڈہ کرنے کی بھر پور کوششیں کی گئی جبکہ در حقیقت عالمی منڈی کے خوردنی تیل کے نرخوں میں 48% اضافہ پر پاکستانی حکومت نے صرف 38% اضافہ کیا ۔

    سوشل میڈیا کے کچھ دانشور اس بات کا منجن بیچتے بھی نظر آئے کہ پیٹرول اور تیل تو باہر سے منگواتے ہیں اسلیئے مہنگا ہے تو باقی اشیاء زندگی کیوں مہنگی ہیں ؟ ان دانشوروں سے معصومانہ سوال ہے کہ گندم چاول اور کچھ دیگر اجناس کے علاوہ پاکستان کس چیز کی پیداوار میں خود کفیل ہے؟ پام آئل اور سویابین سے بناسپتی گھی بننے کہ باوجود ہمیں خوردنی تیل باہر سے منگوانا پڑتا ہے کیونکه پام آئل اور سویابین دونوں کی بہترین کاشت کا مرکز سندھ ہے جس پہ نا کسی گزشتہ وفاقی حکومت نے توجہ دینا مناسب سمجھا اور نا ہی مہنگائی پہ بھاشن دیتی بھٹو سرکار نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت کی کہ بھٹوں کو زندہ رکھتے رکھتے سندھ کی عوام بیروزگاری بھوک اور افلاس کا کفن اوڑھے زندگی سے منہ موڑ چکی ہے ۔
    وہ جماعت جو مہنگائی کی آڑ لیکر اپنی کرپشن بچانے کیلئے سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی ہے ان کے دور اقتدار کے گزشتہ دس سالوں میں مسلسل ڈی انڈسٹریلائزیشن ہوتی رہی لیکن نا تو اسحاق ڈار نے نوٹس لیا اور نا ہی نانی چار سو بیس کے دل میں عوام کا درد جاگا ۔

    خشک دودھ، پنیر ،دہی سے لیکر گرم مصالحہ جات اور دالیں تک ہم دوسرے ممالک سے خریدتے ہیں ،گزشتہ دس سالوں میں کسان کی حق تلفی کر کہ ملکی پیداوار کو تباہی کہ دہانے پر پہنچایا گیا ، ملک میں موجود کھاد پیدا کرنے کا واحد ادارہ ایف ایف بی ایل کھاد کی ملکی ضروریات پیدا کرنے سے قاصر ہے جس کی کمی باہر سے او ڈی پی کھاد منگوا کر پوری کی جاتی ہے۔موجودہ حکومت نے کسان کی بحالی کیلئے احسن اقدامات کیئے ،کسان کارڈ کا اجراء کیا اور تمام فصلوں کے ریٹ مقرر کیئے تاکہ کسان خوشحال ہو .اپوزیشن پراپگینڈا کے برعکس حقائق اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت نے پاکستانی عوام کو ہر ممکن حد تک عالمی مہنگای کے اثرات سے بچایا ہے اور مزید کوششیں جاری ہیں ۔حکومتی سطح پر خوردنی تیل کی پیداوار کے لیئے کاشتکاری شروع کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کافی حد تک خوردنی تیل کی پیداوار میں خود کفیل ہوجائے گا ۔تحریک انصاف حکومت نے ملکی صنعتوں کی بحالی کا کام بھی شروع کیا ہے تاکہ پاکستان صرف باہر سے درآمد کرنے والی قوموں کی صف سے باہر نکل سکے، اس اقدام سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی استحکام ملے گا، حکومت کی موٴثر پالیسیوں کے سبب ترسیلات زر میں اضافہ خوش آئندہ ہے غیرملکی زر مبادلہ کے زخائر بتدریج میں بہتری آرہی ہے ۔ اس کے علاوہ اگلے ماہ کی 15 تاریخ سے ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو ڈائریکٹ سبسڈی دی جائے گی،

    حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اس مہنگائی ک مقبلہ کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنا ہونگے اور زرائع آمدن کو بڑھانا ہوگا ۔عمران خان کا وژن نسل در نسل سیاست نہیں عوام کی بقا ہے، وہ ووٹ یا اقتدار کے لالچ میں وقتی فیصلے نہیں کرتے بلکہ ایسے فیصلے اور اقدامات کر رہے ہیں جن کے نتائج مثبت اور دیر پا ہونگے، مشکل حالات ہیں لیکن میرے کپتان نے کبھی حالات کے سامنے سر نہیں جھکایا انشاء اللہ وہ پاکستان اور عوام کو مایوس نہیں کریں گے اور اس مشکل وقت کو بھی شکست دیکر پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کریں گے ،لیکن وقت لگے گا ۔

    @_Ujala_R

  • جعلی ڈاکٹر اور پاکستان

    جعلی ڈاکٹر اور پاکستان

    وہ میرے پاس چیک اپ کرانے آیا میں نے اسکے دانت دیکھ کر اسکو تمام علاج اور حل بتلائے مجھے لگا کہ وہ پہلے ھی کسی اور سے علاج کروا رہا ھے قطع نظر اسکے میں نے اسکو میں نے پوری ایمانداری سے جو حل ھوسکتا وہ بتلا دیا اس نے ساری تفصیل سننے کے بعد کہا ڈاکٹر صاحب میں کسی اور سے علاج کروا رھا تھا بس تسلی لئے آپکو چیک کروالیا آپکا علاج کافی مہنگا ھے اور لمبا ھے حل تلک پہنچتے پہنچتے دیر ھوجایئگی مجھے یقین ھے کہ آپ جو حل بتا رہے وہ بالکل ٹھیک ھوگا مگر میں جہاں سے علاج کروا رھا اس نے نہایت آسان حل بتلایا ھے وہ میرا دانت نکال کر نیا لگا دیگا اور قیمت بھی آپ سے آدھی سے بھی کم لیگا

    مجھے جستجو ھوئی کہ یہ کون ڈاکٹر ھے میں نے نا چاہتے ھوئے بھی نام پوچھ ھی لیا اس مریض نے ایک جعلی ڈگری والے عطائی ڈاکٹر کا نام بتلایا اور یہ کہتے ھوئے چلا گیا کہ خدانخواستہ اگر وہ ڈاکٹر صاحب ناکام ھوگئے تو پھر آپ سے مشورہ کرنے ضرور آونگا.ناظرین وہ مریض کوی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا یا کوی ان پڑھ شخص نہیں تھا بلکہ ایک پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھنے والے اچھے متوسط طبقے کا چشم و چراغ تھا اور میں اسکی آنکھیں پڑھ چکا تھا وہ یقینا جانتا تھا کہ وہ ایک عطائی ڈاکٹر پاس جارا ھے علاج کرانے جو نا صرف علمی لحاظ سے بلکہ کلینک کی صفائی اوزاروں کی سٹیریلازیشن(sterilisation) کے اعتبار سے بھی ناقابل بھروسہ کم تر اور بیماریوں کی آماجگاہ ھوگا

    مجھے اس مریض کا مجھ پر ایک جعلی ڈاکٹر کو فوقیت دینے کا دکھ نہیں ھورا تھا بلکہ اس بات کی فکر تھی کہ کہیں یہ وہاں سے کوی نئ بیماری ھیپاٹائٹس وغیرہ نا لے آئے ،میں سوچنے پر مجبور ھوگیا کہ ایسی کیا مجبوری ھوی کہ اس نے اور اس جیسے کئ لوگ اپنی فیملیز کو اب ڈینٹل سرجنز کے بجائے جانتے بوجھتے جعلی ڈاکٹرز پاس لے جاتے یقینا اسکی ایک بڑی وجہ مہنگائ خرچوں کا آمدن سے زائد ھونا اور دانتوں کا علاج دوسری بیماریوں کی نسبتا زیادہ مہنگا ھونا ھے پھر میں نے یہ سوال سوشل میڈیا پر لوگوں کے سامنے رکھا میں اندر سے ھل سا گیا جب میں نے تقریبا تمام کمنٹس یہی پڑھے کے ڈاکٹرز مہنگے ھیں ڈاکٹرز لٹیرے ایک معروف سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ نسیم کھیڑا عرف منہ کھول پلیز نے تو یہ تک کہ دیا کہ آپ کے چھرے بہت تیز ھوتے یعنی چند روپے بچت کی خاطر عوام اس بات کو بھی پیچھے چھوڑ رہی کہ وہ زندگی بھر کی بیماریاں لے سکتے یہ جعلی ڈاکٹرز انتہائی کم پڑھے لکھے سے مکمل طور پر ان پڑھ ھوتے انکی کل قابلیت کسی ڈاکٹر ساتھ بطور اسٹنٹ کام کرنا انکے تجربے سے اور prescription پر لکھی دوائیاں سیکھنا ھوتا یہ کسی ھسپتال میں بطور ڈسپنسر لگ جاتے ڈاکٹر سرجن کے ھنر سے فائدہ لیتے ان سے کام سیکھتے اور اپنا کلینک ڈال لیتے ایک کو تو میں الیکٹریشن کی دکان تھی نہیں چلی تو ڈینٹسٹ ساتھ کچھ عرصہ کام پر لگا پھر اپنا ذاتی کلینک بنالیا اب اپنے نام ساتھ ڈاکٹر لکھ کر گھوم پھر رھا ھوتا anaesthesia کو anatesia کہنے والا یہ گروہ عوام کی مجبوریاں کا فائدہ اٹھاتا ھیلتھ کمیشن کو ماہانہ بتھا دیتا اور بیماریاں بیچتادوسری طرف کئ ڈاکٹرز نے واقعتا ناجائز فیس لینے علاج کے نام پر کمپنی کی دوائیاں بیچنے کا unethical کاروبار شروع کیا ھوا اس سارے معاملے کو تفصیل سے آئندہ کالمز میں بتاونگا اور اس پلیٹ فارم سے ان شااللہ دونوں طرف سے اچھائی لئے آواز بلند کرینگے

  • 23 سالہ نوجوان اریان خان  کی زندگی برباد ،ذمہ دارکون. تحریر: نوید شیخ

    23 سالہ نوجوان اریان خان کی زندگی برباد ،ذمہ دارکون. تحریر: نوید شیخ

    جیسا کہ میں نے اپنی بتایا تھا کہ صرف شاہ رخ خان ہی نہیں بالی وڈ کے باقی تینوں خانز کے خلاف بھی اب کاروائیاں ہوگی تو آج اس سلسلے میں باقاعدہ پہلی اسٹوری منظر عام پر آگئی ہے ۔۔ پھر اس وقت شاہ خان کے گھر پر ایک سوگ کا سماں ہے ۔ دایولی سمیت تمام اس طرح کا ایونٹس منسوخ کر دیے گئے ہیں ۔ ساتھ ہی کل شاہ رخ اپنے بیٹے اریان خان سے کیا بات چیت ہوئی اسکی بھی مکمل تفصیل سامنے آچکی ہے ۔ پھر شاہ رخ خان کے ساتھ دوستی کا دم بھرنے والی کاجول کی منافقت بھی پکڑی گئی ہے ۔ سب سے پہلے اگر بات کی جائے کہ بالی وڈ سے خانز کا کیسے قلع قمع کیا جائے تو اس سلسلے میں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما نے بالی وڈ کے سپرسٹار عامر خان کے ایک اشتہار پر سخت اعتراض کردیا ہے۔ اور ان کے خلاف باقاعدہ ایک کمپین لانچ کردی گئی ہے ۔ ۔ دراصل یہ ایک اشتہار ہے جس میں عامر خان ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر لوگوں سے پٹاخے نہ پھوڑنے کی گزارش کر رہے ہیں ۔ اس اشتہار کو ٹائر بنانے والی ایک بھارتی کمپنی (Ceat) نے جاری کیا ہے۔ بھارت میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیاں ایک بڑا مسئلہ اور دیوالی کے موقع پر پٹاخے پھوڑنے سے خاص طور پر شہروں میں فضائی آلودگی میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے۔ کمپنی نے آلودگی کی روک تھام کے لیے اپنے اشتہار میں عامر خان کو استعمال کیا ہے۔۔ عامر خان اس اشتہار میں لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ گلی کوچوں اور راستوں میں پٹاخے داغنے سے گریز کریں ۔ ۔ اس پر بی جے پی نے الزام لگا دیا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہندوؤں کے خلاف اقدام کیا گیاہے ۔ اور جان بوجھ کر ہندوؤں میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔۔ اب عامر خان اور اس ٹائر بنانے والی کمپنی کے خلاف بھارت میں ایک طوفان برپا ہے ۔ عامر خان کوتو ہندو دشمن ، بھارت دشمن ، غدار پتہ نہیں کیا کیا کہا جا رہا ہے ۔ گودی میڈیا اور ٹویٹر پر ہندوتوا برئیگیڈ بھی اس سلسلے میں پیش پیش ہے ۔ ۔ بی جے پی نے تو کمپنی کے مالک کو خط بھی ٹھوک دیا ہے اور خوب دھمکیاں بھی لگائی ہیں ۔ ۔ خط میں لکھا ہے کہ ہندو مخالف اداکاروں کا ایک گروپ ہمیشہ ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور وہ کبھی اپنی برادری کے غلط کاموں کو بے نقاب کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ پھر بی جے پی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز یا بعض دیگر مسلم تہواروں کے موقع پر نماز کے نام پر مسلمان سڑکوں کو بلاک کرنا بند کر دیں۔۔ ہر روز مساجد کے میناروں پر رکھے۔ لاؤڈ اسپیکر سے اس وقت بہت زور زور کی آواز نکلتی ہے جب اذان دی جاتی ہے اور یہ آواز جائز حد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

    جمعے کے دن تو یہ اور بھی طویل ہوتی ہے۔ اس سے آرام کے متمنّی مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد، مختلف اداروں میں کام کرنے والے لوگ اور کلاس میں پڑھانے والے اساتذہ کو بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے۔ درحقیقت، متاثرین کی یہ فہرست بہت طویل ہے اور یہاں صرف چند کا ذکر کیا گیا ہے۔۔ یوں اشتہار کی آڑ میں بی جے پی نے اپنے سیاست چمکانے شروع کر دی ہے اور اس اشتہار کو ہندو مسلم فساد میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے ۔۔ یہ عامر خان کے ساتھ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے ۔ اس سے پہلے بھی ایسے اکثر واقعات ہوچکے ہیں ۔ یوں اگر یاد ہو تو اسی سال جب عامر خان نے ترکی کا دورہ کیا تھا اور ترکی کی خاتون اول سے ملاقات کی تھی تو اس وقت بھی بھارتی میڈیا نے ان کی تصاویر کو بنیاد کر انو غدار کہنا شروع کر دیا تھا ۔ جبکہ بی جے پی کے لیڈروں نے عامر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ کیونکہ طیب ارداگان نے کشمیر کے معاملے پر بھارت کا اس کا اصل چہرہ دیکھا یا تھا ۔ ۔ چند روز قبل ہی کی بات ہے ایک اور بی جے پی رہنما نے دیوالی سے متعلق کپڑا بنانے والی ایک کمپنی ۔۔۔ فیب انڈیا ۔۔۔ کے اس اشتہار پر اعتراض کیا تھا جس میں دیوالی کے جشن کے موقع پر نئے کلیکشن کے لیے اردو الفاظ استعمال کیا گيا تھا۔ ۔ حالانکہ کمپنی نے اس بات کی وضاحت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ کمپنی کا اشتہار محبت اور روشنی کے تہوار کے استقبال کے لیے ہے اور اس کا نیا کلیکشن بھارتی ثقافت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر ہندو گروپوں نے کمپنی کے بائیکاٹ کی مہم چلا دی جس کے بعد کمپنی نے اشتہار ہٹا دیا۔۔ بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیمیں اکثر یہ کہتی ہیں کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور یہ ان کی تہذیب و ثقافت کی عکاس ہے لہذا اسے ہندوؤں کی رسومات اور ان کی تہذیب کو بیان کرنے کے لیے نہیں استعمال کرنا چاہیے۔ تاہم ایک طبقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ لفظ ہندو خود اصل میں عربی اور فارسی سے ماخوذ ہے اور اردو لفظ ہے تو کیا ہندو اس لفظ کو ترک کر سکتے ہیں؟

    ۔ اریان خان کیس کی بات کی جائے تو بالی ووڈ کنگ خان شاہ رخ خان اور ان کی فیملی نے آریان کے جیل میں ہونے کے باعث اس برس دیوالی اور سالگرہ نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ان کے گھر میں نہ تو کوئی تقریب ہوگی نہ ہی پارٹی ۔ یعنی شاہ رخ خان کا گھر اب مکمل سوگ میں ڈوب چکا ہے ۔ آریان کی رہائی میں تاخیر ’منت‘ کے رہائشیوں کیلئے اب ایک عذاب کی صورت اختیار کرگئی ہے۔۔ دوسری جانب گزشتہ روز جب پہلی بار بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان نے منشیات کیس میں گرفتار بیٹے آریان خان سے ملاقات کی۔ تو جیل میں ہونے والی اس 18 منٹ کی ملاقات میں بات چیت کا آغاز آریان نے معافی مانگ کر کیا جس پر شاہ رخ نے جواب دیا کہ مجھے تم پر بھروسہ ہے۔ جیل کے محافظوں کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ وہ کھانا صحیح سے کھا رہے ہیں کہ نہیں؟ اس پر آریان نے جواب دیا کہ انہیں جیل کا کھانا پسند نہیں آ رہا۔ اس پر شاہ رخ خان نے جیل حکام سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے بیٹے کے لیے گھر کا کھانا بھجوا سکتے ہیں۔ جواب میں افسران نے کہا کہ انہیں اس کے لیے عدالت سے اجازت لینی پڑے گی اور اگر کورٹ اجازت دیتی ہے تو انہیں گھر کا کھانا مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے کی ہمت اور حوصلہ بڑھانے کے لیے کچھ مزید باتیں کیں۔ ۔ پھر شاہ رخ کی جیل کے باہر گاڑی تک جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ۔ ویڈیو میں انہیں مداحوں کے سامنے عاجزی سے ملتے۔ بار بار ہاتھ جوڑ تے اور ہاتھ ملاتے بھی دیکھا گیا۔ پر اس دوران شاہ رخ خان نے جیل کے باہر موجود میڈیا نمائندوں کے سوالات کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔ میری نظر میں یہ بہت اچھا کیا ہے شاہ رخ خان نے کہ میڈیا کو زیادہ گھاس نہیں ڈالی کیوںکہ بھارتی میڈیا نے رپورٹ ہی کچھ اور کرنا تھا اور جو ان کو ایجنڈا مودی کی جانب سے ملاہوا ہے انھوں نے اس کو ہی پروان چڑھانا تھا اور پھر ارناب گوسوامی جیسوں نے ٹی وی پر بیٹھ کر خوب چینخنا اور چلانا تھا ۔ تو یہ تو بہت اچھا کیا ہے انھوں نے کہ بھارتی میڈیا کو منہ ہی نہیں لگایا ۔ ورنہ وہ جواب جو بھی دیتے مطلب اس کا الٹا ہی نکالاجانا تھا ۔ ۔ میں آپکو بتاوں مصیبت میں ہی پتہ چلتا ہے کہ کون آپکا دوست ہے اور کون دشمن ۔۔۔ یقیناً شاہ رخ خان اور ان کی فیملی کو بھی اس کا پتہ چل گیا ہو گا ۔ کیونکہ بہت سے ان کے قریبی اپنی زبانوں کو تالے لگائے بیٹھے ہیں ۔

    ۔ آپ دیکھیں آج اداکارہ کاجول نے اپنی فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گےکے 26 سال مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی پوسٹ شیئر کی۔ جس میں وہ اپنی محبت یعنی شاہ رخ خان سے مل جاتی ہیں۔ جو آخری سین ہے اس فلم کا ٹرین والا ۔۔۔ ۔ پر دیکھیں ان کو یہ فلم تو یاد ہے ۔ پر اس وقت جو شاہ رخ خان اور انکی فیملی ساتھ ہورہا ہے وہ دیکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ کیسی دونمبری ہے ۔۔ اُن کی اس پوسٹ پر شاہ رخ خان کے مداحوں نے اُن کی خوب بجائی بھی ہے اور کلاس بھی لی ہے ۔ کہ اس وقت آریان خان جیل میں ہیں اور کاجول اپنے دوست شاہ رخ خان کو سپورٹ کرنے کے بجائے یہاں اپنی فلم کا جشن منارہی ہیں۔۔ سوچنے کی بات ہے کہ شاہ رخ کو دوست کہنے کی دعوایدار کاجل نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں کہ ان کے دوست شاہ رخ خان کس مشکل وقت سے گُزر رہے ہیں۔ اُن کے بیٹے کو ضمانت نہیں مل رہی ہے اور یہ خوشیاں منا رہی ہیں ۔ ۔ پھر آپ دیکھیں بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں قتل سے بڑا جُرم منشیات کا استعمال کرنا ہے۔ آئے روز آپ دیکھتے ہوں گے دن دیہاڑے سڑکوں پر اقلیتوں کو پورے پورے جہتے جان سے مار دیتے ہیں مگر نہ کوئی گرفتاری ہوتی ہے نہ کوئی ہمدردی کے دو لفظ بولتا ہے ۔

    ۔ اس وقت 23 سالہ نوجوان اریان خان کی زندگی برباد کی جارہی ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ بھارتی ادارے کس طرح قانون کی پاسداری کرتی ہے جبکہ دوسری جانب بھارتی کی کئی مشہور شخصیات کے بچے معصوم لوگوں کا قتل کرنے کے باوجود بھی بچ گئے ہیں۔دور کیا جانا اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جو گجرات کا قصائی ہونے ہر فخر کرتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ پر پتہ نہیں کتنے معصوم لوگوں کا قتل ہے ۔ مگر کسی کی ہمت نہیں کہ وہ انگلی بھی اٹھائے ۔۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ بھارت میں مبینہ طور پر نوجوان لڑکیوں، عورتوں اور بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اُن کے مجرم آزاد گھومتے ہیں۔ ۔ لعنت ہے بی جے پی پر ، مودی پر ، آر ایس ایس پر اور طاقت کے اس ناجائز استعمال اور نا انصافی پر۔

  • زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تحریر : محمد عدنان شاہد

    زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تحریر : محمد عدنان شاہد

    دنیا کی ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی بھی چیز بے مقصد اور بے معنی پیدا نہیں فرمائی ہر چیز کا کوئی نہ کوئی خاص مقصد ہے اور قدرت ان سے انہیں مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ زمین کی نپلوں سے لے کر آسمان کی صورت تک کسی نہ کسی مقصد کے ساتھ منسلک ہیں۔ تخلیق کائنات کے مقصد کا سب سے روشن پہلو یہی ہے کہ اللہ تعالی نے کسی چیز کو بے مقصد نہیں بنایا۔ پھر مختلف مقاصد کو نوع بہ نوع چیزوں کا پابند کردیا کہ اس طرح وہ مقاصد پھیلتے چلے گئے جیسا کہ اللہ تعالی نے مقصد اس کائنات کو خود فرمایا کہ:

    میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا جب میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو میں نے کائنات کی تخلیق کر دی ” ( الحدیث)

    اس سے یہ بات پتا چل گئی کہ تخلیق کائنات کا سب سے بڑا اہم اور اصل مقصد اللہ تعالی کی ذات و صفات کی معرفت اور اس پر کامل ایمان رکھنا ہے۔ اور جب اللہ تعالی کا عرفان حاصل ہو جائے تو یہ مقصد پورا ہو گیا کہ آپ کائنات کی وہ شے اپنے وجود میں کامل ہو گی۔ پھر مخلوقات میں جو درجات ہیں ان میں بھی مقصد نمایاں ہے۔ پہلے اس امر پر غور کریں کہ اللہ تعالی نے مخلوق میں زی حس کو تین طرح پر پیدا فرمایا۔

    1)ایک وہ جن کو عقل دیا اور نفس سے محفوظ رکھا۔ جیسے فرشتے
    2) ایک وہ جن کو نفس دیا اور عقل سے بے بہرہ کیا۔ جیسے حیوانات
    3) ایک وہ جن کو عقل بھی دیں اور نفس بھی دیا۔ جیسے جن و انس

    ان میں ہر ایک کا مقصد جداگانہ ہے۔ فرشتوں کو بے نفس بنا کر انہیں صرف اپنی عبادت پر مامور فرما دیا اور دیگر ضروریات سے محفوظ کر دیا۔ اور تمام بشری تقاضے ان سے الگ کر دیئے۔ جانوروں کو پیدا کیا تو انہیں عقل سے خالی کرکے صرف نفس کا خوگر بنایا اب ان پر کوئی شرعی احکام یا امرونہی کا حکم نافذ نہیں۔ مگر ان سوجن کو یہی خصلت بھی دیں اور فرشتوں کا شعور بھی دیا۔ اس لئے اس کے ڈھاٹے ملکوتی خصائل سے ملتے ہیں۔ اور دوسری طرف بہمانا صفات سے۔ اس کو اس منزل پر کھڑا کیا جو انتہائی زیادہ آزمائشی ہے۔ انہیں تکلیف شرعی بھی دی اور لذت نفس بھی عطا کیا۔ اب جن و انس دونوں خصلتوں کے حامل ٹھہرے۔ اگر ملکوتی صفات غالب آجائیں تو اس وقت انسان فرشتوں کا ہم نشیں ہیں اور اگر بہمانہ خصائل غالب آجائیں تو اس وقت وہ جانور ہے۔

    رب کریم نے جن و انس کی مقصدیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    ” ہم نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا” ( زاریات، آیت 54)

    معلوم ہوا کہ مقصد انسان صرف عبادت الہی ہے۔ اسی کو مذکورہ بالا حدیث قدسی میں اپنی ذات کی معرفت سے تعبیر فرمایا۔ اب یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا مقصد حیات بڑا مبارک عظیم اور اہم ہے۔ اب چونکہ یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا مقصد بہت اہم اور مبارک ہے تو اس لیے ہر انسان کو چاہیئے کہ وہ دنیاوی کاموں سے برتر سب سے پہلے اللہ کی معرفت اور عبادت کو سب سے پہلے رکھے۔ اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور بنیادی مقصد اللہ کی عبادت ہونی چاہیے۔ کیونکہ باقی دنیاوی کام تو سب چلتے رہتے ہیں۔ اگر انسان اللہ کا قرب پا گیا تو سمجھو وہ مقصد حیات پا گیا۔

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    @RealPahore

  • آپ کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں تحریر:- ساجد علی

    آپ کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں تحریر:- ساجد علی

    آپ کے اندر ایک خوبی ہے تو آپ کامیاب ہو سکتے ہیں وہ خوبی یہ ہے کہ آپ اپنی  منزل کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں ڈٹے رہیں آپ کبھی ناکام نہیں ہوں گے کامیابی 5 چیزوں کا مجموعہ ہے .

    1-پیسہ 

    2-صحت 

    3-علم 

    4-سوچ 

    5-عادات 

    آپ کو یہ پانچ چیزیں برابر رکھنی ہے اگر ان میں سے ایک چیز بھی بہتر نہ ہوئی تو بندہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا اور کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا یہ پانچ چیزیں کامیابی کی قیمت ہیں  جب تک آپ کامیابی کی قیمت ادا نہیں کریں گے تو آپ کامیابی نہیں ہوں گے.

    سب سے پہلے ہمیں اپنا روّیہ ٹھیک کرنا ہے  رویہ وہ  ہوتا ہے جو ہمارے اندر اور ہمیں ہی نظر آتا ہے اور برتاؤ وہ ہوتا ہے جو ہمارے اندر دوسروں کو نظر آتا ہے اور ہماری کامیابی میں 99 فیصد رول ھمارے روّیے کا ہوتا ہے اگر آپ کا روّیہ برا ہے تو ساری دنیا کے فلاسفر آپ کو کامیاب کرنا چاہیں تو آپ نہیں ہو سکتے اور اگر آپ کا رویہ اچھا ہے تو ساری دنیا کےفلاسفر مل کر ناکام کرنا چاہیں تو آپ کبھی ناکام نہیں ہو سکتے اگر کسی بندے نے بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے تو اس کے اچھے رویے کی وجہ سے ۔

    چاہے ہم باہر سے جتنے پریشان ہوں لیکن اندر کا روّیہ اچھا رکھنا چاہیے جس  انسان کے دماغ کو  گندی سوچ ملی ہو گی وہ بندہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا 

    انسان اپنے دماغ کے اندر جیسے سوچے گا وہی اس کے ساتھ ہوگا اگر ہمارے دماغ میں ناکامی تیار کی ہوئی ہے تو ویسے ہی ہوگا ہمارے ساتھ باہر سے بندہ جیسا بھی ہو اندر ٹھیک ہونا چاہیے اب بندہ باہر سے کہے کہ میں  کامیاب ہو جاؤں گا لیکن اندر میں یہ سوچے کہ بہت مشکل ہے میں نہیں ہوسکتا کامیاب تو وہ بندہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا ۔

    بندے کی نیت یہ ہو کہ میں نے اگلے بندے کو لیڈر بن کے دکھانا ہے اپنے دماغ میں جیسا محسوس کرو گے ویسا ہی ہو گا  سب کچھ ہمارے اپنے کنٹرول میں ہے جیسا اندر سوچیں گے ویسا باہر بھی ہوگا اپنا بیج اچھا بوئیں تو سب کچھ اچھا ہی ہوگا ۔

    دنیا میں 80 فیصد لوگ دنیا کا 20 فیصد کماتے ہیں 

    اور دنیا کے 20 فیصد لوگ پوری دنیا کماتے ہیں 

    اگر آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ آپ غلط طریقے سے کام کرکے کامیاب ہو جائیں گے تو ایسا کبھی نہیں ہوگا یہ مومن کا عقیدہ نہیں ہے سب کچھ عقیدے کی وجہ سے ملتا ہے بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کا عقیدہ ہو کہ صحیح  کام کریں گے تو کامیابی ملے گی اس کی دنیا بھی بن جائیں گی آخرت بھی بن جائے گی ۔

    کامیابی کا بیج ایک سوچ ہے کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی سوچ کو بڑا کرو فیصلہ کرنے سے کامیابی نہیں ملتی بلکہ فیصلہ کرکے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے سے کامیابی ملتی ہے برا وقت دیکھنے کے بعد اچھا وقت بھی آتا ہے کامیاب بندہ اپنے ایک منٹ میں 60 سیکنڈ گزرنے کی قیمت بھی وصول کرتا ہے جیسے زمین ایک سیکنڈ میں 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے اور سورج ایک سیکنڈ میں 274 کلومیٹر طے کرتا ہے اسی طرح ایک کامیاب آدمی ایک سیکنڈ کی قیمت بھی وصول کرتا ہے ۔

    اگر ہم وقتی فائدہ سوچیں گے تو کامیاب نہیں ہو سکتے اچھے کپڑے پہننا تبدیلی نہیں ہے بلکہ اپنی سوچ اچھی کرنا اور اپنا رویہ اچھا کرنا تبدیلی ہے ۔

    ہماری ناکامی کی سب سے بڑی  وجہ :-

    1 حسد 

    2 نااتفاقی 

    3 تکبر

     4 بے ادبی 

    5 سُستی 

     6 صبروتحمل /غصہ

    7 برداشت 

    اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں یہ چیزیں اپنے اندر سے نکالنی پڑیں گی ورنہ ہم کبھی کامیاب نہیں ہوگی 

     انسان ہمیشہ نام سے نہیں کام سے پہچانا جاتا ہے 

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے کام سے دل لگائیں انشاءاللہ ایک دن کامیاب بن کر دکھائیں گے 

  • وہ باتیں بھی کریں تو تصویر بنا دیتے ہیں  تحریر: یاسرشہزادتنولی

    جان عالم کو دیکھ کر صحرائی پھول یاد آجاتا ہے۔ وہ حبس زدہ موسم میں اپنی شاعری سے وجود کومعطر کر دیتے ہیں ، جون ایلیا کے قبیلے سے ہیں اس لئے باتوں کو مصروں اور مصروں کو اشعار میں ڈھال لیتے ہیں۔ میرے مرشد (مرحوم) فضل اکبر کمال واقعی کمال کے انسان تھے ، کسی کو ڈانتے بھی تو نظم کا گماں ہوتا۔جان عالم بکھرے بالوں سے اپنی خواب دیدہ آنکھیں عیاں کرکے دیکھیں تو غزل کاساسماں ہو جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صنف نازک سرے سے ہی ان کی آنکھوں میں جھانکتی ہی نہیں۔ وگرنا دونوں میں سے کوئی تو عشق کے جنگل میں کھو جائے گا۔ معصوم لفظوں سے اتنی زبردست فکری اشعار کہتے ہیں کہ پڑھنے سننے والا ، آگاہی کی تلوار میان سے نکال کر سماج کے خلاف لڑنے کیلئے اٹھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ 

    سارے دریا بھی پی گیا لیکن  پیاس بجھتی نہیں سمندر کی 

    اس شعر سے ہی خیال اور قلبی واردات عیاں معلوم ہوتی اور بھی نجانے کیا کیا پوشیدہ ہے۔ سہیل احمد تہذیب کے گلدستہ کاوہ پھول ہیں جنہیں جس جانب سے بھی دیکھا جائے خوش نمائی کا احساس بہار بن کے چارسو پھیل جاتا ہے۔ غالباً ان کی روح بہت پہلے لکھنؤ کے رومی دوازے پر بہت سا وقت چلا کاٹ کر آئی ہے۔ تبھی تہذیب ان کے عادات واطوار سے چھلکتی ہیں۔ جیسے پہاڑی دوشیزہ کے شانوں پرسنہرے بال بکھرے ہوں۔ میں جب ان سے مخاطب ہوتا ہوں۔ تو یہی احساس ہوتا ہے کہ جیسے میں کتابوں کے مندر میں لفظوں کی دیوی کے سامنے موجود ہوں۔ عشق کی ناکامی سے شہزادہ گلفام بندہ بنے نابنے شاعر ضرور بن جاتا ہے تاج الدین تاج کو کبھی عشق کا مرض لاحق نہیں ہوا۔ لیکن ان کے اشعار میں عشق ، محبت ، حجر و فراق کی داستانیں بیوہ عورت کو بھی محو حیرت میں ڈال لیتی ہیں۔ مرحوم فراز سے میں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ آپ نے ک تنے عشق کیئے۔ فرازؔ نے سگریٹ کا گہرا کش لگاتے ہوئے مسکرا کے کہا میں ہفتوں ہفتوں عشق کرتا ہوں۔ کل ہی کی بات ہے ایک ڈاکٹر میرے مصروں کی اسیری سے مجھ سے بغل گیر ہو گئی تھیں۔ تاج الدین تاج  یہاں مشاہدات و تجربات، منفرد خیالات کے رنگ استعاروں کی قوس و قزح میں ڈھل کر دلوں کے آسمان پر تادیر اپنے ثمرات چھوڑ جاتے ہیں ، کبھی کبھی مجھے گماں گزرتا ہے کہ مرحوم شکیب جلالی نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا ہو۔ تبعی استعارے ان کے مصروں میں اتنے سلیقے سے پروئے ہوتے ہیں۔ جیسے دوشیزہ کے دل کی ڈائری میں یادوں کے پھول ہوں۔ تازہ خیالی اور جدت ان کے سامنے آداب بجا لاتی ہیں ۔

    وہم تھا وسوسے تھے اور سائیوں کا ہجوم  خوف دستک دے رہا تھا بارشوں کی رات میں 

    فکری خیال میں ڈوبے کسی خوش گماں کو دیکھوں تو محمد حنیف کاتصورجگمگا نے لگتا ہے۔ الفاظ آگاہی کی صورت میں مجسم بن کر دونوں ذانوں ان کے سامنے ہاتھ جوڑ ے رہتے ہیں، عشق ومحبت میں ناقدری سے پریشان لوگ جب سماج کے پھن پھیلائے حسین سانپوں سے ڈسے جائیں تو ان کے ذہن میں شاعر کی جو تصویر آتی ہے وہ حنیف صاحب جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ حنیف صاحب جز وقتی شوہر باپ اور استاد ہیں۔ہاں شاعر وہ کل وقتی ہیں۔ ا س لئے نہارمنہ قعطہ، سہ پہر نظم اور رات کو غزل ناکہیں تو نیند کی دیوی شانوں پر ہاتھ رکھنا ہی بھول جاتی ہے ۔ سادگی اور معصومیت سے خود پر اتنا ظلم کیا ہے کہ شاعروں کے شاعر بن گئے ۔ تنقید نگار خود پسندی کی عینک اتار لیں تو انہیں تسلیم کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ ان کا ایک منفرد اور زندہ رہنے والا شعر 

    نجانے کونسا آسیب ہے فضائوں میں  حواس باختہ پھرتی ہیں تتلیاں کتنی 

    نا میں ماضی کا قصیدہ گوہوں ، ناہی ماضی قریب کا مدعا سرا، ناشرائط پرجواب غزل لکھو، اچھا واہ واہ سننے کیلئے اچھا بولو۔ اگر ایسا ہے تو آپ جناب یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے۔ (یہ جز وقتی تشنہ لب نامکمل خاکے سائیبان فائونڈیشن کے چیئر مین اور کوہسار اکیڈمی کے ایم ڈی صاحبزادہ جوادکے دولت کدہ میں منعقدہ ادبی تقریب کے دوران فی البدی پڑھا گیا۔)

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • کولڈ فلو وائرس کیا ہے اور یہ پاکستان میں ہر موسم سرما میں کیوں بڑھتا ہے۔؟  تحریر:- حماد خان

    کولڈ فلو وائرس کیا ہے اور یہ پاکستان میں ہر موسم سرما میں کیوں بڑھتا ہے۔؟ تحریر:- حماد خان

    Twitter @HammadkhanTweet 

    پاکستان میں موسم سرما شروع ہو رہا ہے اور سردیوں کے موسم کے ساتھ ملک میں موسم کی تبدیلی کی وجہ سے سب سے عام بیماری کولڈ فلو میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے 

    کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ اس انفلوئنزا وائرس سے واقف نہیں ہیں ، اس لیے میڈیسن کے طالب علم کے طور پر میں نے اس بیماری ، اس کی وجہ اور اس کے علاج پر ایک مکمل مضمون لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ۔

    انفلوئنزا ایک وائرل انفیکشن ہے جو آپ کے سانس کے نظام – آپ کی ناک ، گلے اور پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے۔ انفلوئنزا کو عام طور پر فلو کہا جاتا ہے ، لیکن یہ پیٹ کے "فلو” وائرس جیسا نہیں ہے جو اسہال اور قے کا سبب بنتا ہے۔انفلوئنزا وائرس بوندوں میں ہوا کے ذریعے سفر کر سکتا ہے جب انفیکشن والا کوئی کھانسی ، چھینک یا بات کرتا ہے۔ آپ بوندوں کو براہ راست سانس لے سکتے ہیں ، یا آپ کسی چیز سے جراثیم اٹھا سکتے ہیں – جیسے ٹیلی فون یا کمپیوٹر کی بورڈ – اور پھر انہیں اپنی آنکھوں ، ناک یا منہ میں منتقل کرسکتے ہیں۔

    وائرس سے متاثرہ افراد علامات ظاہر ہونے سے تقریبا ایک دن پہلے شروع ہونے کے تقریبا پانچ دن بعد تک متعدی ہوتے ہیں۔ کمزور مدافعتی نظام والے بچے اور لوگ تھوڑی دیر تک متعدی ہو سکتے ہیں۔

    انفلوئنزا وائرس مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں ، نئے تناؤ باقاعدگی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو ماضی میں انفلوئنزا ہو چکا ہے تو ، آپ کے جسم نے پہلے ہی وائرس کے اس مخصوص تناؤ سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز بنا لی ہیں۔ اگر مستقبل میں انفلوئنزا وائرس ان سے ملتے جلتے ہیں جن کا آپ پہلے سامنا کر چکے ہیں ، یا تو بیماری لگانے سے یا ویکسین لگانے سے ، وہ اینٹی باڈیز انفیکشن کو روک سکتی ہیں یا اس کی شدت کو کم کر سکتی ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ اینٹی باڈی کی سطح کم ہو سکتی ہے۔

    نیز ، انفلوئنزا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز جن کا آپ نے ماضی میں سامنا کیا ہے وہ آپ کو نئے انفلوئنزا تناؤ سے محفوظ نہیں رکھ سکتے جو کہ آپ کے پہلے سے بہت مختلف وائرس ہوسکتے ہیں۔

    زیادہ تر لوگوں کے لیے فلو خود ہی حل ہو جاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات ، انفلوئنزا اور اس کی پیچیدگیاں مہلک ہوسکتی ہیں۔

    سب سے پہلے ، نزلہ ، چھینک اور گلے کی سوزش کے ساتھ فلو عام سردی کی طرح لگتا ہے۔ لیکن نزلہ عام طور پر آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے ، جبکہ فلو اچانک آتا ہے۔ اور اگرچہ سردی ایک پریشانی ہوسکتی ہے ، آپ عام طور پر فلو کے ساتھ بہت زیادہ خراب محسوس کرتے ہیں۔

    فلو یا اس کی پیچیدگیوں کے خطرے کو بڑھانے والے عوامل میں شامل ہیں:

    عمر۔ سیزنل انفلوئنزا 6 ماہ سے 5 سال کے بچوں اور 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔

    رہنے یا کام کرنے کے حالات۔ وہ لوگ جو بہت سے دوسرے باشندوں ، جیسے نرسنگ ہومز یا فوجی بیرکوں کے ساتھ سہولیات میں رہتے ہیں یا کام کرتے ہیں ، ان میں فلو ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ جو لوگ ہسپتال میں رہ رہے ہیں ان کو بھی زیادہ خطرہ ہے۔

    کمزور مدافعتی نظام۔ کینسر کے علاج ، اینٹی ریجیکشن ادویات ، سٹیرائڈز کا طویل مدتی استعمال ، اعضاء کی پیوند کاری ، بلڈ کینسر یا ایچ آئی وی/ایڈز مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتے ہیں۔ یہ فلو کو پکڑنا آسان بنا سکتا ہے اور پیچیدگیوں کے بڑھنے کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

    دائمی بیماریاں۔ دائمی حالات ، بشمول پھیپھڑوں کے امراض جیسے دمہ ، ذیابیطس ، دل کی بیماری ، اعصابی نظام کی بیماریاں ، میٹابولک عوارض ، ہوا کے راستے کی خرابی ، اور گردے ، جگر یا خون کی بیماری ، انفلوئنزا پیچیدگیوں کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔

    نسلی:-. مقامی پنجابی لوگوں میں انفلوئنزا کی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    19 سال سے کم عمر میں اسپرین کا استعمال۔ جو لوگ 19 سال سے کم عمر ہیں اور طویل مدتی اسپرین تھراپی حاصل کر رہے ہیں ان کو انفلوئنزا سے متاثر ہونے پر رائی سنڈروم ہونے کا خطرہ ہے۔

    حمل حاملہ خواتین میں انفلوئنزا کی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے ، خاص طور پر دوسری اور تیسری سہ ماہی میں۔ خواتین کو اپنے بچوں کی پیدائش کے بعد دو ہفتوں تک انفلوئنزا سے متعلقہ پیچیدگیاں پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

    موٹاپا 40 یا اس سے زیادہ کے باڈی ماس انڈیکس (BMI) والے افراد میں فلو کی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 

    فلو کی عام علامات اور علامات میں شامل ہیں:

    بخار

    پٹھوں میں درد۔

    ٹھنڈ اور پسینہ۔

    سر درد

    خشک ، مسلسل کھانسی۔

    سانس میں کمی

    تھکاوٹ اور کمزوری۔

    ناک بہنا یا بھری ہوئی۔

    گلے کی سوزش

    آنکھ کا درد۔

    الٹی اور اسہال ، لیکن یہ بالغوں کے مقابلے میں بچوں میں زیادہ عام ہے۔

    زیادہ تر لوگ جنہیں فلو ہوتا ہے وہ گھر میں اپنا علاج کروا سکتے ہیں اور اکثر ڈاکٹر کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

    اگر آپ کو فلو کی علامات ہیں اور پیچیدگیوں کا خطرہ ہے تو فورا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اینٹی وائرل ادویات لینے سے آپ کی بیماری کی لمبائی کم ہو سکتی ہے اور زیادہ سنگین مسائل کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    اگر آپ کو فلو کی ہنگامی علامات اور علامات ہیں تو فورا طبی امداد حاصل کریں۔ بڑوں کے لیے ، ہنگامی علامات اور علامات میں شامل ہو سکتے ہیں:

    سانس لینے میں دشواری یا سانس کی قلت۔

    سینے کا درد

    جاری چکر آنا۔

    دورے۔

    موجودہ طبی حالات کی خرابی۔

    شدید کمزوری یا پٹھوں میں درد۔

    بچوں میں ہنگامی اور خطرناک علامات شامل ہو سکتی ہیں:

    سانس لینے میں دشواری۔

    نیلے ہونٹ۔

    سینے کا درد

    پانی کی کمی

    پٹھوں میں شدید درد۔

    دورے۔

    موجودہ صحت کے حالات خراب ہونا.

    Twitter @HammadkhanTweet 

  • کیا ہم تیار ہیں; تحریر فرازرؤف 

    انسان کی تاریخ جنگوں اور لڑائیوں سے بھری پڑی ہے کبھی یہ جنگ علاقہ پر قبضہ کرنے کے لئے کی گی اور کبھی مزہب کے نام پر، فوجیں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتیں جو فوج تعداد میں زیادہ ہوتی وہ جیت جایا کرتی تھی۔

    پھر جنگوں میں جدید ہتھیار اہم ہو گئے اور ٹیکنالوجی سب پہ حاوی ہونے لگی۔ ہتھیاروں کی دوڑ کے بعد معیشت زیادہ اہم ہوئی۔ یہ سب اصطلاح کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر، سیکنڈ جنریشن وارفیئر ، تھرڈ جنریشن وار فیئر تھے۔ فورتھ جنریشن وار فیئر میں دہشت گردی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ مختلف ممالک میں دہشت گرد تنظیمیںپیدا ہوئیں یا کی گئیں اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ کچھ جگہوں پر کمزور معیشت کمزور عسکری قوت ہونے کے بعد بھی کامیابی نہ ملتی تھی اس میں قومی یکجہتی حائل ہو جاتی تھی، یکجہتی کو ختم کرنے کے لیے ففتھ جنریشن وار فیئر کی اصطلاح نکالی گئی جس سے ملکوں میں افراتفری پھیلائی جاتی اور انہیں مذہبی ثقافتی بنیادوں پر لڑایا جاتا اور ان کی قومی یکجہتی کو ختم کیا جاتا۔

    ففتھ جنریشن وار ایک خاص قسم کی جنگ ہے ، جسے آج کل کی جنگوں کا طریقہ کار بھی کہتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کو کھلی جنگ میں سیاسی طور پر بہت مزاحمت اور سفارتی سطح پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جسکی مثالیں عراق اور افغانستان ہیں جہاں انہوں نے کھلی جنگیں کیں مگر ففتھ جنریشن وار میں کسی بھی ملک کو معاشی طورپر تباہ کرنا ،سفارتی سطح پر تنہا کرنا ،سیاسی طور پر دنیا میں بدنام کرنا ،دوسروں کی نظر میں گرانا ،میڈیا اور کسی حد تک ملٹری ، انٹیلی جنس آپریشن شامل ہیں پھر فالس فلیگ آپریشنز کیے جاتے ہیں جن میں کوئی چھوٹی موٹی کارروائی کر کے دوسروں کے نام لگا دی جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے سلسلے میں ہورہا ہے ۔پاکستان میں واردات ہندوستان کرتاہے اور نام افغانستان کا لگا دیاجاتاہے

    یہ ایسی خطرناک سٹریٹجی ہے جو  آپ کو چاروں طرف سے جکڑ لیتی ہے، اس کو ففتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے، اس کے اندر میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا بہت اہم کردارا دا کرتاہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کچھ عرصہ پہلے واضح انداز میں کہا تھا کہ ہائبرڈ وار فیئر کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو مکمل طور پر تیار رہنا چاہئے اور ففتھ جنریشن وار جو بھارت کے ساتھ دیگر ممالک پاکستان پر لانچ کیے ہوئے ہیں۔ بھارت اپنے مذموم عزائم اور خطرناک منصوبوں کے ذریعے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دھشت گردی کرنے کے ساتھ ساتھ لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے جبکہ سی پیک کو محور و مرکز بنا کر اب اس کا اگلا ٹارگٹ گلگت بلتستان ہے اس وقت ہمیں ناصرف بے حد محتاط رہنا ہوگا بلکہ پاکستان کے باشعور عوام کو ارد گرد کے ماحول پر نگاہ رکھتے ہوئے اپنے ملی و قومی بیداری کے کردار کو بھرپور طور پرانجام دینا ہوگا۔

    دشمن تو ہمیشہ باہر سے وار کرتا رہے گا لیکن اندر سے وار کرنے کے لیے دشمن کو اندر سے مدد چاہیے ہوتی ہے بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ عناصر موجود ہیں جو لسانی اور مذہبی بنیادوں پر اندر سے لوگوں کو تقسیم کرنے میں لگے ہیں ہر روز ایک نیا فتنہ پیدا کیا جاتا ہے اور اس فتنے کے ختم ہونے کے بعد پھر ایک نیا فتنہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اس فتنے کو پھیلانے میں پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    آج میں فخر سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک میں موجود دفاعی ادارے اس پروپیگنڈا وار جسے  ففتھ جنریشن وار بھی کہا جاتا ہے کا مکمل ادراک رکھتے ہیں جس کی وضاحت آئی ایس پی آر کے سابقہ ڈی جی آصف غفور اپنی پریس کانفرنسیز میں کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ہم پر غیر اعلانیہ ففتھ جنریشن وار کا حملہ کیا جا چکا ہے جس کا پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو مکمل ادراک ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں ففتھ جنریشن وار کو مضبوط انداز میں لڑا اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان نے اس جنگ میں بہتر انداز میں بھارت سے سبقت حاصل کی۔

    دشمن کے ارادوں کو جانے بغیر آپ اس سے سبقت حاصل نہیں کر سکتے، ہم نے دشمن کے عزائم کو جان کر ان سے بہتر تدبیر کی اسی لئے آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہاں ہم تیار تھے اور تیار ہیں۔ ہم اپنے بیرونی دشمنوں کو پہچانتے ہیں اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنے اندرونی اختلافات اور خلفشار ختم کر دیں تاکہ ہم ایک قوم بن کر دشمن کے لیے ایک سیسہ پھلائی دیوار ثابت ہوں۔

    "پاکستان زندہ باد”

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • مادہ ہتھنیاں بغیر دانتوں کے کیوں پیدا ہو رہی ہیں حالیہ تحقیق میں انسانیت سوز انکشافات

    مادہ ہتھنیاں بغیر دانتوں کے کیوں پیدا ہو رہی ہیں حالیہ تحقیق میں انسانیت سوز انکشافات

    نیویارک: افریقی ہاتھیوں کی مادائیں اپنے خوبصورت دانتوں پر شکاریوں کے دباؤ کے تحت اب بغیر دانت کے پیدا ہورہی ہیں جس کے کئی شواہد ملے ہیں اور ان میں جینیاتی تبدیلی اور ارتقا کے مشاہدات بھی شامل ہیں حال ہی میں موزمبیق میں تحقیق کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق 1977 میں اس خطے میں شدید خانہ جنگی شروع ہوئی جو 1992 تک جاری رہی دونوں اطراف کے دھڑوں نے جنگ کے دوران ہاتھی دانت کےلئے بے زبان جانوروں کو مارنا شروع کردیا ہاتھی جیسے حساس جانور نے اس دباؤ کو محسوس کیا اور بہت ہی جلد ان میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوئیں کہ مادہ ہتھنیوں کے دانت غائب ہونے لگے ہیں گورونگوسا نیشنل پارک میں موجود ہاتھی اس کا ہدف بنے۔

    اس کے سب سے پہلے عکسی ثبوت تصاویر اور ویڈیو سے سامنے آئے جنہیں پرنسٹن یونیورسٹی شین کیمپبیل اسٹیٹن اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا اور بتایا کہ اب 19 سے 15 فیصد مادہ ہاتھی بغیر دانتوں کے پیدا ہورہی ہیں۔

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    شماریاتی تجزیہ بتاتا ہے کہ یہ تبدیلی جینیاتی انتخابی دباؤ کے بغیر ممکن نہیں ہوتی لیکن یہ آثار بھی ملے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بغیر دانت والی ہتھنیوں کی پیدائش بھی کم ہوئی ہے جبکہ جنگ کے دوران ان کی شرح زائد تھی یہ بھی معلوم ہوا کہ 1972 سے 2000 کے درمیان بغیر دانت کی ماداؤں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

    قیمتی ہاتھی دانت کے لیے افریقی ہاتھیوں کا شکار دیگر مقامات پر بھی جاری ہے مثلاً سری لنکا میں نرہاتھیوں کی صرف پانچ فیصد تعداد ہی اپنے دانتوں کے ساتھ موجود ہے حیرت انگیز طور پر تمام افریقی نر ہاتھیوں نے شدید شکار کے باوجود اپنے دانت برقرار رکھے اور اس کی وجہ جینیاتی ہے۔

    ماہرین اب تک جینیاتی تحقیق کررہے ہیں کہ آخر ماداؤں کے دانت کیوں غائب ہورہے ہیں لیکن ابتدائی تحقیق بتاتی ہے کہ غالباً اے ایم اے ایل ایکس نامی جین میں اس کی وجہ ہے جو ایکس کروموسم میں پایا جاتا ہے یہ جین دانتوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    ماہرین کا خیال ہے کہ اس جین کی تبدیلی دیگر اہم جین پر بھی اثراندازہوتی ہے۔ ماداؤں کے پاس ایکس کروموسوم کی دو نقول ہوتی ہیں اور اگر ان میں سے ایک نقل نہیں بدلتی تو اس میں موجود جین اپنا درست کام کرتا رہتا ہے لیکن مرد یا نر کے پاس اس کی ایک ہی کاپی ہوتی ہے اور اگر وہ بھی بگڑ جائے تو کئی بیماریوں بلکہ جان لیوا امراض کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

    ہاتھی دانت صرف دکھانے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ وہ ہاتھیوں کے بہت کام آتے ہیں ہاتھی کے دانت اس کا بہت قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اگرچہ بے زبان ہاتھی کےدانت تو اسمگلر لے جاتے ہیں لیکن ان کی بقیہ زندگی بہت مشکل بلکہ پرخطربھی ہوجاتی ہے۔

    مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

  • دو رنگا تاریخی شہر۔۔ تحریر ملک صداقت فرحان

    اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں بیک وقت چار چار موسم موجود ہوتے ہیں۔۔۔ جہاں ہر قسم کی سبزی ہر قسم کا پھل اور ہر قسم کی جڑی بوٹی اگتی ہے۔۔۔ جہاں دنیا کے ذہین ترین لوگ پائے جاتے ہیں۔۔۔ جہاں دنیا کے خوبصورت ترین اور دلکش سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ وطن پاکستان جہاں اللہ کی عطا کردہ تمام تعمتوں سے مالامال ہے وہیں وطن عزیز پاکستان کے چند علاقے ایسے ہیں جو اللہ کے بندوں کی لالچ، بغض اور حسد کی بھینڑ چڑگئے ہیں ان علاقوں میں بدصورتی راج کرتی ہے۔۔۔ ان بدنصیب علاقوں میں سے ایک علاقہ لاہور ہے۔

    لاہور وہ علاقہ ہے جو موجودہ دور میں پنجاب کی سیاست کا مرکز ہے اور ماضی میں برصغیر کی قدیم تاریخ کا اہم حصہ رہا ہے لاہور میں تاریخ کے کچھ ان مٹ نقوش ابھی بھی موجود ہیں جو لاہور کے تاریخی ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں مثال کے طور پر بادشاہی مسجد، شیش محل، شاہی قلع، شالیمار باغ اور مقبرہ جہانگیر وغیرہ یہ الگ بات ہے کہ ان کی دیکھ بھال اور حفاظت نہ ہونے کے برابر ہے خیر۔۔۔

    لاہور پچھلے کئ سالوں سے مختلف سیاستدانوں کی آپسی رنجش اور سیاست کی وجہ سے پس رہا ہے۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے تک لاہور کافی خوبصورت اور صاف ستھرا تھا لیکن آج کل لاہور کسی مچھلی بازار کا منظر پیش کررہا ہے لاہور میں کئی کئی گھنٹے سڑکیں بلاک رہتی ہیں (شہری بہت پریشان ہیں آئے روز سڑکیں بلاک کی وجہ سے کہیں نہ کہیں لڑائی جھگڑا ہوتا ہے شہری اپنی اپنی منزلوں پر وقت پر نہیں پہنچ پاتے)، گٹروں کا گندا پانی سڑکوں پر جمع رہتا ہے (جس کی وجہ سے ہر آنے جانے والوں کے کپڑے پلیت ہوتے ہیں اور انہیں بو الگ سونگھنی پڑتی ہے)، اکثر گاڑیاں گردو غبار اڑاتے اور دھواں چھوڑتے ہوئے گزرتی ہیں، (جس کی وجہ سے جلد کی بیماریاں نزلہ ذکام کھانسی ہوتی ہے)، پورے لاہور میں پینے کا پانی ناقابل استعمال حد تک گندا ہوچکا ہے جوکہ کئی بیماریوں کی وجہ بن رہا ہے۔

    جب الیکشن قریب آتے ہیں تو سوئے ہوئے امیدوار جو پچھلی بار عوام کے ووٹوں سے ایم این اے یا ایم پی اے منتخب ہوئے ہوتے ہیں تو قرسیوں کے مزے لوٹ کر دوبارہ ووٹ مانگنے آ کھڑے ہوتے ہیں جھوٹے لارے لگا کر عوام کو بے وقوف بناکر ووٹ لے کر منتخب ہوکر پھر اگلے پانچ سالوں کے لیے غائب ہو جاتے ہیں عوام ہر بار کی طر خجل کی خجل ہوتی رہتی ہے۔ قصور عوام کا ہے جو ہر بار ایک ہی جگہ سے ٹھڈا کھاتی مگر گزرتی پھر بھی ادھر سے ہی ہے۔۔۔

    لاہور کو شریف برادران نے سیاست میں آکر ایک نئی شکل دے دی۔۔۔ شریف برادران نے سیاست میں آکر جگہ جگہ میٹرو اور اورنج لائن میٹرو ٹرین کے فلائی اوورز، سڑکیں اور انڈر گراؤنڈ پاسز بنا دیے باقی لاہور ویسے کا ویسے ٹوٹا پھوٹا پڑا ہے اگر نواز حکومت نئے فلائی اوورز، سڑکیں اور انڈر پاسز بنانے کی بجائے لاہور پر توجہ دیتی، لاہور کے تمام مسائل ختم کرتی اور لاہور کو آلودگی سے پاک کرتی تو آج لاہور بہترین اور خوبصورت شہر کا حسین منظر پیش کر رہا ہوتا۔

    میری حکومت وقت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ لاہور پر توجہ دے لاہور کو صاف ستھرا کرے لاہور کے سیورج کا نظام ٹھیک کرے سڑکیں ٹھیک کرے فلٹریشن پلانٹس لگاکر پانی کو قابل استعمال بنائے، بڑی گاڑیوں کا داخل شہر میں ممنوع قرار دے اور ٹریفک کا ٹریفک کی روانگی کا مناسب انتظام کرے یعنی لاہور کی تمام خامیوں کو دور کرے تاکہ آئندہ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں کی فہرست میں اسلام آباد کے بعد لاہور کا نام آئے۔