Baaghi TV

Category: متفرق

  • کیا آپ کو نیند کی کمی سے ان مسائل کا سامنا ہے تحریر عبدالوحید

    کیا آپ کو نیند کی کمی سے ان مسائل کا سامنا ہے تحریر عبدالوحید

    صحت مند زندگی گزارنے کیلئے پرسکون نیند کا آنا لازمی ہے ۔ اس لیے انسان کو تروتازہ اور تندرست رہنے کے لیے روزانا سات سے آٹھ گھنٹے نیند کرنا ضروری ہے۔ نیند نہ آنا یا نیند کی کمی کا واقع ہونا ایک بیماری ہے جس کو انسومنیا کہاجاتا ہے ۔ اس دور میں سو میں سے 98٪ لوگوں کو نیند کی کمی کا سامنا ہے ۔ اس میں بڑی تعداد میں اب نوجوان طبقہ شامل ہوگیا ہے ۔ کیونکہ ٹیکنالوجی نے اب نیند کی جگہ لے لی ہے ۔ اب ہر ایک کے پاس جدید سے جدید قسم کا موبائل فون ہے ۔ اور اس میں مختلف قسم کی گیمز ڈون لوڈ ہیں اور نوجوان طبقہ دن رات اسی گیمز میں لگے رہتے ہیں ۔ اور ان گیمز کے کھیلنے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ نیند کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اور کچھ لوگ آنلائن کاروبار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ نیند پوری نہیں کر پاتے ۔ اور کچھ لوگ رات کو دیر دیر تک مختلف پارٹیوں میں شرکت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مقرر وقت پر سو نہیں پاتے اور نیند کی کمی کا شکار رہتے ہیں ۔ اگر آپ کو نیند کی کمی کا سامنا ہوگا تو دن بھر مزہ نہیں آئے گا ۔ آپ سستی کا شکار ہوں گے۔ اس دور میں تقریباً ہر ایک موبائل فون میں لگا ہوا ہے ناہی ورزش کر پاتے اور ناہی چلاک چست رہ سکتے ہیں ۔ 

    نیند کی کمی سے لاحق ہونے والی بیماریاں جس میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی واقع ہونا ، یاداشت کا کمزور ہونا ، مدافعتی نظام کا کمزور ہونا ، شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم میموری کا متاثر ہونا ، چڑچڑے پن کا شکار ہونا ، نیند کی کمی سے ذیابیطس کا شکار ہونا ، ہائی بلڈ پریشر کا بڑھنا ، مختلف دل کی بیماریوں کا شکار ہونا جن میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ لاحق ہونا ، نیند کی کمی سے وزن کا بڑھنا ، بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساسات کا ختم ہونا شامل ہیں ۔ 

    نیند کی کمی سے آپ چڑچڑے پن کا ہمیشہ شکار رہ سکتے ہیں۔ مکمل نیند نا کرنے کی وجہ سے آپ اسکول ، دفتر اور گھر میں سست رہیں گے۔ جو آپ کا موڈ خراب کرنے کی وجہ بن سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے آپ بے چینی ، ڈیپریشن جیسے مسائل سے دو چار رہ 

      سکتے ہیں اس لیے ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کیلئے نیند کی کمی کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ نیند کی کمی کو پورا نہیں کریں تو آپ کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ ایک واضع اور عیاں بات ہے اس چیز سے کسی کا انکار نہیں ہوسکتا ۔ اگر آپ یا آپ کے بچے نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان مسائل کا سامنا ہے تو آپ ان مسائل کے حل پر غور کریں۔ کہ کیا وجہ ہے جس سے ہمیں یہ مسائل درپیش ہیں۔ آپ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں ہر چیز کا ایک مقررا وقت بنائیں اس وقت اس وقت تک میں نے کھیلنا ۔ اس وقت سے اس وقت میں گھر کے کام کرنے ہیں اس وقت سے اس وقت تک موبائل فون استعمال کرنا ہے ۔ جس دن آپ نے وقت کو وقت کے مطابق ڈھالا اس دن سے آپ محسوس کریں گے واقعی میں چینج ہوں کیونکہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے ۔ سورج کا بھی

     وقت مقرر ہے صبح طلوع ہوتا ہے اور شام کو غروب ہوتا ہے اسی طرح پانچ  نمازوں کا بھی  وقت 

     متعین ہے ۔ انسان کی بڑی غلطی یہی ہے وہ وقت کی پابندی نہیں کرتا ۔ اور بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اس لیے وقت کی پابندی کریں ۔ اور نیند کی کمی کو پورا کریں ۔ نیند پوری ہوگی تو آپ ان مسائل سے بخوبی نکل آئیں گے۔

    عبدالوحید @Waheed_B

  • پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

    پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

    آج صبح سے پاکستان ٹوئٹرٹرینڈ نگ پینل پر "شلوار” ٹرینڈ کر رہا ہے جس پر صارفین شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : پاکستانی ٹوئٹر صارفین نے جب ٹاپ ٹرینڈ ’شلوار‘دیکھا تو حیرانی میں مبتلا ہوگئے کہ اب یہ ٹرینڈ کیا مواد لے کر آیا ہے جو ایک دم سے سر فہرست آ گیا تاہم بعد ازاں جب اس ٹرینڈ کو دیکھا تو پاکستانی صارفین یہ دیکھ کر سخت غم و غصے کی کیفیت میں آگئے کہ یہ ٹرینڈ ایک نازیبا ویڈیو کی بنیاد پر بنا-

    ویڈیو دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پاکستانی لڑکی بغیر شلوار پہنے چل رہی ہے۔ویڈیو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ویڈیو لڑکی کی مرضی سے بنائی جا رہی ہے جس میں وہ کسی ماڈل کی طرح کیٹ واک کرتی ہوئی کیمرہ کی طرف آرہی ہے۔

    علینا نامی اکاونٹ سے یہ ویڈیو شیئر کی گئی جس میں اس لڑکی کا کہنا تھا کہ مجھے پینٹ کے بغیر باہر جانا پسند ہے۔


  • یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید

    یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید

    یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید
    ایک کھیل تب تک ہی کھیل رھتا ہے جب تک اسے شوق پورا کرنے یا صرف وقت گذاری کےلئےکیھلا جائے اور جب وہی کھیل شوق سے بڑھ کر جنون بن جائے اور ہزار ہا لوگوں کے جذبات بھی اس سے جڑے ہوتو وہ کھلاڑی کی زندگی کا ایسا مقصد بن جاتا ہے جو اسے ہر ممکن صورت میں اپنے ملک کے عزت و وقار اور لوگوں کی خوشی کیلئے حاصل کرنا ہوتاھے۔
    یورپ میں جو مقام فٹبال کو حاصل ہے وہی مقام کرکٹ کو ایشیائی ممالک میں حاصل ہےیعنی لوگ جنون کی حد تک کرکٹ کے دلدادہ ہیں۔ پاکستان کا سب سے مشہور و مقبول اور زیادہ کھیلے جانے والا کھیل "کرکٹ”ہے

    پاکستان وقت کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ جہاں اسے اندرونی طور پر بہت سے چیلنجر کا سامنا ہے وہی دوسری طرف بیرونی طاقتیں بھی اسے ٹف ٹائم دے رہی پاکستان کے عوام لمبے عرصے سے مختلف مصائب میں گھرے ہوئے ہیں اس پریشانی کے ماحول میں ہوا کا خوشگوار جھونکا” پاکستان نیوزی لینڈ سیریز” کے طورپر آ یا نیوزی لینڈ ٹیم چونکہ لمبے عرصے بعد کرکٹ کھیلنے پاکستان آ رہی تھی یہ خبر پاکستانیوں کے لیے کسی تہوار کے آ نے سے کم نہ تھی شائقین کرکٹ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی پھر سےایک امید پیدا ہوگئی کہ انشاء اللہ نیوزی لینڈ کے اس دورے کے بعد تواتر سے انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے پاکستان کے لیے کھل جائیں گے اس خوشگوار خبر کے آ تے ہی زوروشورسے تیاریاں شروع کردیں گئیں ٹیم نیوزی لینڈ کے پاکستان آ نے سے قبل روزانہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے اداروں کی جانب سے اسلام آباد کے ایئر پورٹ سے ہوٹل اور پھر ہوٹل سے اسٹیڈیم تک گشت کیا جانے لگا ہر ممکن کوشش کی گئی کہ مہمان ٹیم ہر حوالے سے پاکستان کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات سے مطمئن ہو بلآخر وہ دن بھی آ گیا جب ٹیم نیوزی لینڈ پاکستان پہنچ گئی انہیں فل پروف سیکیورٹی کے حصار میں اسلام آباد کے ایئر پورٹ سے ہوٹل پہنچا یا گیا سب معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم نے دورے کے تین چار روز بعد ایک میل تھریٹ کی بناء پر اچانک دورہ پاکستان ملتوی کر دیا اس میل تھریٹ سے فائیو آئی نامی انٹیلیجنس ایجنسی جو کے (آسٹریلیا انگلینڈ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور امریکہ) کی انٹیلیجنس ایجنسیز پر مشتمل ہے، نےنیوزی لینڈ آفیشلز کو اس سے آگاہ کیا اور وہ مزید تفصیلات بتائے بغیر پاکستان سے روانہ ہوگئے ۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی پاکستان سے یوں اچانک واپسی پر جہاں ایک طرف ملک کو مالی طور پربھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہیں دوسری طرف شائقین کرکٹ میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اسی کے چلتے ہوئے انگلینڈ نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا

    چند ہی دنوں میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021 کا میلا سجنے والا تھا شائقینِ کرکٹ نے قومی ٹیم سے امیدیں باندھ لیں کہ بھارت جو پاکستان کا روایتی اور تگڑا حریف ہے اسے تو ہرانا ہی ہے مگر اس بار نیوزی لینڈ کو بھی چاروں شانے چت کرنا ہے قومی کھلاڑیوں کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ وہ جارحانہ کھیل پیش کر کے ہی مقابل ٹیموں اور ممالک کو یہ باور کروا سکتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑی اپنے ہوم گراؤنڈز پر کھیل کر کے ہی متحدہ عرب امارات میں عمدہ کرکٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور پاکستان ہر لحاظ سے محفوظ اور پر امن ملک ہے۔اب کرکٹ میچ میں جیت ہی ملک کے عزتوقار کو بحال کرنے کا سنہری موقع تھا۔

    پھر وہ دن بھی آ گیا جس دن پاک بھارت میچ ہونا تھا کرکٹ دیوانوں نے میچ دیکھنے کے لیے خاص اہتمام کیا،مالز اور گراؤنڈز میں بڑی اسکرینیں لگائی گئیں پاکستان قوم کی دعائیں اور قومی ٹیم کی محنت بلآخر رنگ لے آئی۔ پاک بھارت میچ میں شروع سے آخر تک پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط رہی اور اس طرح بھارت کو دس وکٹوں سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی جیت کے ساتھ پورا ملک روشنیوں میں نہا گیا لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کے آ نسو اور زبان پر رب تعالیٰ کی تعریف تھی۔ وطن سے محبت ایک بہت ہی انوکھا اور خوبصورت احساس ہے اور یہ وہ جزبہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا خواہ آ پس میں لوگ ایک دوسرے سے کتنے ہی اختلاف رکھتے ہو مخالفین ایک دوسرے پر طنز و طعنہ کے نشتر کستے ہولیکن جب بات وطن پر آ تی ہے تو سب یک زبان ہوکر پاکستان کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ایک بار پھر کرکٹ کے کھیل نے پوری قوم کو اکٹھا کر دیا تھا۔

    ورلڈ کپ کا دوسرا میچ پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ تھا یہ میچ بھی پاک بھارت میچ سے کم نہ تھا پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین مطابق کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد قومی کھلاڑیوں نے یہ اہم جیت اپنے نام کی اور اسی کے ساتھ نیوزی لینڈ سے دورہ پاکستان ادھورا چھوڑنے کا بدلہ بھی پورا ہوا

    اس کے بعدپاکستان ٹیم نے لگاتار اپنے گروپ کے تمام میچز جیتے اور اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن پر قبضہ جما لیا نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن نے کرکٹ مداحوں سے یوں دورہ پاکستان ادھورا چھوڑ کر جانے پر معافی مانگی۔انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈز نے بھی آئندہ برس پاکستان آ کر میچز کھیلنے کا اعلان کیا ہے
    گویا یہ اک کھیل نہ صرف ملک کے وقار کو بحال کر گیا بلکہ پاکستانی عوام کو پھر سے متحد کر گیا ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے یہ جیت بہت ضروری تھی اور اس موقع پربلا شبہ پاکستان کرکٹ ٹیم تعریف کے لائق ہے جن کی بدولت دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثرگیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے معیار کو گرنے نہیں دیا بلکہ کرکٹ کے حق میں بہترین فیصلے کیے اور قومی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
    شکریہ پی سی بی
    شکریہ ٹیم پاکستان

    @SuBKeHDo4

  • بھارتی مسلمانوں سے نماز کا حق بھی چھین لیا گیا،تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارتی مسلمانوں سے نماز کا حق بھی چھین لیا گیا،تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارت میں اس وقت ایک پورا چینی گاؤں آباد ہو چکا ہے۔ اور یہ بات میں یا کوئی پاکستانی میڈیا رپورٹ نہیں کر رہا بلکہ انڈیا کے حمایتی امریکہ کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ چین نے اس حد تک انڈیا کے سرحدی علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے کہ بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے پاس بھارتی علاقے میں اپنا ایک گاؤں بسا دیا ہے۔ جس پر انڈیا میں حکومت اور فوج دونوں ہی عجیب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں بھارتی فوج کچھ اور بیان دے رہی ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ الگ ہی راگ الآپ رہی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ گاؤں چین کے علاقے میں ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ اسے غیر قانونی تعمیرات کہہ رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے خود انڈین میڈیا نے بھی اس خبر کو رپورٹ کیا تھا کہ چین کا ایک گاوں بھارتی علاقے میں موجود ہے لیکن مودی سرکار اس پر خاموش رہی بلکہ اپنے میڈیا کو بھی چپ کروا دیا کہ خبردار اس پر کوئی رپورٹ نہ کرے لیکن انٹرنیشنل اداروں کو رپورٹ کرنے سے تو مودی سرکار نہیں روک سکتی اس لئے اب امریکی رپورٹ نے نہ صرف اس خبرکی تصدیق کر دی ہے بلکہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس علاقے میں سو مکانات کی ایک بستی آباد کی گئی ہے اور وہاں پر تیزی سے ایسا انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے جس میں ہر طرح کی جدید سہولیات لوگوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ جس پر انڈای کی جانب سے طرح طرح کے بیانات دئیے جا رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ارندم بگچی کا بیان آیا ہے کہ۔۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا تھا چین نے گزشتہ کئی برسوں سے سرحدی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں اور اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر اس نے دہائیوں سے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ بھارت نے نہ تو اپنی سرزمین پر ایسے غیر قانونی قبضوں کو قبول کیا ہے اور نہ ہی اس نے چین کے بلا جواز دعووں کو تسلیم کیا ہے۔ حکومت نے سفارتی ذرائع سے اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف ہمیشہ اپنا شدید احتجاج بھی درج کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ حکومت بھارت کی سلامتی پر اثر انداز ہونے والی تمام پیش رفت پر مسلسل نظر رکھتی ہے اور اپنی خود مختاری، سالمیت اور علاقائی تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات بھی کرتی رہی ہے۔

    لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے اس بات کو مسترد کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ لائن آف ایکچوؤل کنٹرول پر چینی گاؤں کی تعمیرات کا مسئلہ تو درست ہے۔ اور چین یہ گاؤں اس لیے تعمیر کر رہا ہے تاکہ ممکنہ طور پروہ اپنے شہریوں کو یا پھرمستقبل میں اپنی فوج کو سرحدی علاقوں میں بسا سکے۔ خاص طور ایل اے سی پر حالیہ کشیدگی کے بعد ۔۔ لیکن یہ جو نیا تنازعہ پیدا ہوا ہے کہ چینیوں نے ہمارے علاقے میں آ کر ایک نیا گاؤں بنایا ہے یہ درست نہیں ہے۔ وہ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ان دیہاتوں کی تعمیر ایل اے سی کے تحت اپنی سرحد کے اندر کر رہے ہیں۔ ایل اے سی کی حوالے سے جو ہمارا تصور ہے اس کے مطابق انہوں نے ہمارے علاقے میں کوئی در اندازی نہیں کی ہے۔ ہم بالکل واضح ہیں کہ لائن آف ایکچوؤل کنٹرول کہاں ہے، کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایل اے سی پر یہ آپ کی صف بندی ہے اور یہ وہ علاقہ ہے جس کا آپ سے دفاع کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔اب ان دو طرح کے بیانات اور انڈین فوج کی گزشتہ سال جس طرح چین کے فوجیوں سے پٹائی ہوتی رہی ہے اس کے بعد آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سا بیان حقیقت کے قریب ہے۔ ویسے ہو سکتا ہے بپن راوت ٹھیک کہہ رہے ہوں اپنی فوج کی پٹائی کے بعد وہ علاقہ انڈیا نے چین کو دے دیا ہو جس کے بعد اب وہاں چین کا قبضہ ہے اور پورا گاوں بھی آباد ہو گیا ہے کیونکہ خود کانگریس کا بھی بھارتی حکومت کے حوالے سے یہی کہنا ہے کہ مودی نے چین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔مودی کے سپورٹرز جو بڑکیں مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ مودی کا سینہ 56 انچ چوڑا ہے۔ ان کو نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے ٹوئیٹ بھی کی ہے کہ ہماری قومی سلامتی سے ناقابل معافی سمجھوتہ کیا گیا ہے کیونکہ بھارتی حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور مسٹر 56 انچ تو کافی خوفزدہ ہیں۔ مجھے اپنے ان فوجیوں کی فکر لاحق ہے جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں جب کہ بھارتی حکومت کے منہ سے بس جھوٹ ہی نکل رہا ہے۔

    مودی سرکار دراصل کر کیا رہی ہے۔ مودی سرکار نے ایک تو بالکل خاموشی اختیار کر رکھی ہے کیونکہ ظاہری بات ہے اس بارے میں جتنی بات کریں گے ان کے جھوٹ کہیں نہ کہیں پکڑے جائیں گے۔ اور دوسرا کام یہ کیا جا رہا ہے کہ کنگنا رناوت جیسی مودی سرکار کی ٹاوٹ کو چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ جو اس کے منہ میں آئے بولے جائے ایسے بیانات دے جس سے ہندوتوا شدت پسندی میں خوب اضافہ ہو اور لوگوں کا دھیان ایسی خبروں سے ہٹا رہے۔اور اب جو کنگنا نے آزادی حاصل کرنے کے حوالے سے بیان دیا ہے اس پر سبھی حیران ہیں۔ کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ آزادی اگر بھیک میں ملے تو کیا وہ آزادی ہو سکتی ہے؟ ساورکر، رانی لکشمی بائی، سبھاش چندر بوس۔۔ ان لوگوں کی بات کروں تو یہ لوگ جانتے تھے کہ خون بہے گا، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ہندوستانی-ہندوستانی کا خون نہ بہائے۔ انھوں نے آزادی کی قیمت چکائی، یقینا۔ لیکن وہ آزادی نہیں تھی، وہ بھیک تھی۔ جو آزادی ملی ہے وہ 2014 میں ملی ہے۔جس کے بعد انڈین عوام کی طرف مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کنگنا رناوت کو حال ہی میں جو پدماشری ایوارڈ دیا گیا تھا وہ واپس لیا جائے اور اس کو جیل بھیجا جائے۔رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے تو کنگنا پر مجاہدین آزادی کی بے عزتی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کنگنا کی اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری۔ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ۔۔ کبھی مہاتما گاندھی جی کی قربانی اور جدوجہد کی بے عزتی، کبھی ان کے قاتل کی عزت افزائی، اور اب شہید منگل پانڈے سے لے کر رانی لکشمی بائی، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور لاکھوں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی بے عزتی۔ اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری؟کانگرس کی رہنما آنند شرما نے تو اپنی ٹویٹ میں صدر رام ناتھ کووند کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ مس رناوت کو دیا گیا پدما ایوارڈ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ایسے ایوارڈ دینے سے پہلے نامزد افراد کے ذہنی اور نفسیاتی تجزیے کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسی شخصیات قوم اور اس کے ہیروز کی توہین نہ کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ ٹوئیٹر پر نہ ہونے کے باوجود بھی اس وقت کنگنا رناوت ٹوئیٹر پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ لیکن میں آپ کو سو فیصد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ یہ سب خود مودی جی کے کہنے پر تو کر رہی ہیں اور وہ مودی سرکار جس نے کنگنا کو سیکیورٹی فراہم کر رکھی ہے وہ کیوں اسے کچھ ہونے دیں گی۔
    اور کنگنا رناوت دو ہزار چودہ میں ملنے والی کس آزادی کی بات کر رہی ہیں یہ کیسی آزادی ہے کہ اتنی بڑی جمہوریت اور اتنے بڑے ملک میں خود وہاں کے مسلمان محفوظ نہیں ہیں ان کو اتنا حق بھی حاصل نہیں کہ وہ کہیں اکھٹے ہو کر با جماعت نماز پڑھ سکیں۔

    انڈیا کی ریاست ہریانہ کے گڑگاؤں شہر میں ہندو گروپس نے کھلی جگہوں پر مسلمانوں کی نماز رکوا دی ہے۔ہندو گروپس نے سیکٹر 12 اے میں واقع ایک جگہ پر قبضہ کرلیا۔ اور جب آس پاس کے لوگ اکھٹے ہوئے تو ان کو کہہ دیا گیا کہ وہ یہاں والی بال کورٹ بنا رہے ہیں۔ اور تو اورگراونڈ میں اور اس کے آس پاس کی جگہ جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں وہاں انھوں نے گوبر کے اپلے پھیلا دئیے تاکہ وہ جگہ ناپاک ہو جائے اور مسلمان وہاں نماز نہ ادا کر سکیں۔ دراصل پچھلے کئی ہفتوں سے مسلمانوں کو اس شہر میں مختلف مقامات پر نماز کی ادائیگی سے روکنے کے لئے دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن جب کوئی فرق نہ پڑا تو انہوں نے یہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دئیے حالانکہ ایک ہفتہ پہلے خود اس ہندو گروپ نے اس گراونڈ میں پوجا بھی کروائی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ یہ نماز کی جگہ نہیں ہے بلکہ عوامی مقامات ہیں۔ حالانکہ گڑگاؤں کا سیکٹر 12-Aان 29 مقامات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں 2018 میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے ایک معاہدے ہوا تحا جس میں طے کیا گیا تھا کہ یہ جگہ مسلمانوں کی نماز کے لیے مختص ہے۔لیکن نہیں ایسے لوگوں کے خلاف مودی سرکار کچھ نہیں کرے گی بلکہ ایسے واقعات تو اپنے خاص لوگوں سے جان کر کروائے جاتے ہیں تاکہ مودی سرکار کی قابلیت عوام کے سامنے نہ آجائے کہ کیسے یہ چین کے ہاتھوں مار بھی کھا رہے ہیں اور اپنے علاقے بھی ان کو دے رہے ہیں۔ لیکن اپنے ہی مسلمان شہریوں پر جگہ تنگ کی ہوئی ہے۔

  • دودھ نہ دینے پر مالک نے بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا

    دودھ نہ دینے پر مالک نے بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا

    مدھیہ پردیش: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع بھینڈ میں مالک نے دودھ نہ دینے پر اپنی ہی بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی خبررساں ادارے’انڈیا ٹو ڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق ضلع بھینڈ سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ بابو اپنی بھینس کے دودھ نہ دینے پر شدید پریشانی میں مبتلا تھے، گاؤں والوں کے مشورے پر انہوں نے اس پریشانی سے نکلنے کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔

    بھارت: گائے کے لئے پہلی ایمبولینس سروس شروع

    بابو اپنی بھینس کے ہمراہ پولیس اسٹیشن جا پہنچے جہاں انہوں نے پولیس کو بتایا کہ میری بھینس پچھلے کئی دنوں سے دودھ نہیں دے رہی، میں جب بھی دودھ نکالنے کی کوشش کرتا ہوں وہ مجھے مارنے کو آتی ہے، مجھے شبہ ہے کہ کسی نے میری بھینس پر جادو کروا دیا ہے۔

    بابو کی بھینس کو پولیس اسٹیشن لے جانے کی ویڈیو بھارت میں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی ہے بھینس کے خلاف شکایت درج کروانے کے کچھ ہی دنوں بعد بھینس نے دوبارہ سے دودھ دینا شروع کردیا جس پر بابو پولیس اسٹیشن گئے اور پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست اُتر پردیش کے وزیر لکشمی نارائن چوہدری نے بیمار گائے کے لیے پہلی ایمبولینس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے بھارتی میڈیا کے مطابق 112 ایمرجنسی سروس نمبر کی طرح نئی سروس بیمار گائے کے فوری علاج کی راہ ہموار کرے گی لکشمی نارائن چوہدری کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت 515 ایمبولینسں نئی اسکیم کے لیے تیار ہیں۔

    بھارتی وزیر نے بتایا کہ ایک ڈاکٹر اور دو معاونین کے ساتھ یہ ایمبولینس سروس 15 سے 20 منٹ کے اندر بیمار گائے کے پاس پہنچ جائے گی اسکیم کے تحت شکایات وصول کرنے کے لیے لکھنؤ میں ایک کال سینٹر قائم کیا جائے گا جو دسمبر تک شروع ہو جائے گا۔

  • تابش کی تشنگی !  تحریر : تابش عباسی

    اکتوبر 2013 کو پاکستان کی عام عوام میں ایک نئی امید روشن ہوئی کہ شاید کوئی مسیحا آ نکلا ہے جس کو اپنے آپ سے زیادہ ، عام عوام کی فکر ہے – مہنگائی ، بےروزگاری ، دہشتگردی اور اس طرح کے اور کہیں مسائل سے نبرد آزما عام عوام کو ایک امید سی ہو چکی تھی کہ گویا اب جلد ہی سب ٹھیک ہو گا ۔ پوری قوم اس لیڈر کے پیچھے چل پڑی ، محنت کا ثمر ملتے ملتے پانچ سال گزر گئے اور 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پاکستان میں قائم ہوئی۔ عام عوام کے ذہنوں میں یہ بات نقش کی گئی کہ آج سے پہلے سب حکمران ، سب حکومتیں چور تھیں اور اب "امانت دار ، نیک ، صادق و امین ” حکومت قائم ہوئی ہے – پوری قوم کی امیدیں وابستہ تھیں کہ اب ان کے لیے بھی کوئی بہتری ہو گی ۔ 

    پر گزرتا دن عام عوام کے لیے کچھ نہ کچھ تکلیف دہ خبر لے کر ہی آتا – تاریخ گواہ ہے جس جس چیز کا نوٹس لیا گیا وہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوئی اور ایک مخصوص طبقہ امیر سے امیر ترین ہوا ۔ 

    آج نومبر 2021 ، ضرورت روزمرہ اشیاء زندگی کی قیمتیں آسمان پر ہیں ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر دوسرے ہفتے بڑھتی ہیں ! والدین اپنے بچوں کو بھوک و افلاس کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہیں ، خود خود کشیاں کرتے ہیں ! متوسط طبقے کے لوگ بھی غربت کی لکیر تک پہنچ گئے ہیں – چوریاں اور ڈکیتیاں عام ہیں ، اور اکثر چور جب پکڑے جاتے ہیں اور بات کھلتی ہے معلوم پڑتا ہے کہ "پیٹ کی آگ” نے اس گناہ پر مجبور کیا – کہاں گئی وہ "ریاست مدینہ ” جو کا خواب دکھلا کر پوری قوم کو امید دکھائی گئی تھی ! کہاں وہ حکمران جو دریا دجلہ کے کنارے مرنے والی بکری پر بھی خود کو ذمہ دار سمجھتے تھے اور کہاں یہ ریاست مدینہ جس کے حکمران کو خبر ہی نہیں کہ روز غربت کتنوں کو کھا جاتی ، سانحہ ساہیوال ہو گا موٹروے کا واقعہ ! کہاں ہیں ہمارے حکمران ؟ 

    وطن عزیز کی عام عوام کی حالت یہ کر دی گئ ہے کہ اب ” یہاں سب ہی سب سے ڈرتے ہیں”۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سابقہ حکومت پر معن طعن کرنے والے اپنی حکومت کے 3 سال مکمل ہونے کے بعد بھی انصاف نہ دے پائے – 

    آپ خواہ بین الاقوامی پالیسی جتنی بھی بہترین کر لیں ، یا کبھی بھی کر لیں جب تک آپ کی حکومت غریب آدمی کو ریلیف نہیں پہنچا سکتی آپ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے – آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ” ان صادق و امین سے وہ چور حکومت ہی اچھی تھی ” جس میں مہنگائی تو اتنی نہ تھی – یہ عام آدمی کی آواز ہے اور عام آدمی کی امید اگر اس حکومت سے ٹونٹی تو شاید آیندہ یہ لوگ کسی پر امید نہ رکھ پائیں ، اس کا نقصان موجودہ حکومت کو تو ہو گا ہی پر جمہوری اقدار بھی تنزلی کا شکار ہونگے –

    حکومت وقت کو یہ بات سوچنا ہوگی کہ مہنگائی کا جن ان کی حکومت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور اگر سال بعد آمدہ انتخابات میں دوبارہ حکومت بنانے کا خواب ہے تو اس جن کو بند کر کے بوتل میں قید کریں – جیسے گزشتہ حکومتیں کرپشن و اقربا پروری کی بدولت آج اپنا بویا کاٹ رہی ہیں کل موجودہ حکومت کو مہنگائی کی بدولت نہ رونا پڑے-

    بہت سے اچھے اقدامات بھی اس حکومت میں شروع ہوئے جن میں غریب آدمی کی مدد کرنے کی کوشش کی گئی ( احساس پروگرام وغیرہ ) مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان اقدامات کا فائدہ عام آدمی کو بھی ہوا یا صرف سیاست کی بھینٹ چڑھا دی گیا اس کو بھی – کامیاب جوان سکیم پر پورے ملک سے آوازیں اٹھیں کہ اس پروگرام کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے – 

    نا امیدی کفر ہے ، امید تو ہے کہ یہ حکومت ، آخری سال میں عوام کی بہتری و فلاح پر کام تیز کرے گی ، خصوصاً مہنگائی کا جن قابو کر لیا جائے گا – 

  • نادرا ! علی مجاہد

    آپ 18 سال کے ہوتے ہیں تو آپ پر لازمی ہو جاتا ہے اپنا شناختی کارڈ بنانا کیوں کہ آپ سے ہر جگہ پھر یہ ہی مانگا جاتا ہے اب شناختی کارڈ بنانا اتنا آسان نہیں میں شام کے تقریباً ساتھ بجے اپنے دفتر سے نکلتا ہوں اور قریب ہی سیمینس  چورنگی سائٹ ایریا کراچی میں ایک نادرا کا میگا سینٹر ہے، کہا تو یہی جاتا ہے کہ میگا سینٹر ہے 24 گھنٹے کھلا ہے عوام کےلئے سہولت وغیرہ وغیرہ پر میں جب وہا اپنے کارڈ کےلئے جاتا ہوں تو ایک لمبی سی لائن دیکھ کر پہلے تو ارادہ کیا کہ واپس چلتا ہوں پھر سوچا آج نہیں تو کل بنوانا تو ہے ایک گھنٹے تک نمبر بھی آجائے گا، پر وہاں دیکھا تو ایک الگ ہی ماحول تھا صرف وہی حضرات اندر جا رہے تھے جن کی کوئی اندر جان پہچان تھی اور دوسرے وہاں میں نے ایک اور چیز دیکھی اندر سے کچھ سویپر ٹوکن لیکر آتے اور یہاں آکر بھیجتا پھر لوگ ان سے ٹوکن لیکر گارڈ کو ٹوکن دیکھا کر اندر چلے جاتے یہ بھی ایک بہت برا مافیا ایسی جگہوں پر موجود ہوتا ہے، گارڈ حضرات کہے رہے تھے کہ 10 افراد کو جانے دیا جا رہا ہے پر وہا پر ہر گھنٹے میں 3 یا 4 افراد کو جانے دیا جا رہا تھا پھر پورے چار گھنٹے بعد رات گیارہ بجے نادرا میگا سینٹر کے باہر لائن میں کھڑے ہونے کے بعد اندر جانے کا موقع ملا تو وہاں ٹوکن لینے کے بعد معلوم ہوا کے اب یہاں پر 3 سے 4 گھنٹے اور لگنے ہیں کیوں کہ وہاں کائونٹر تو 10 سے اوپر تھے پر ورکنگ میں صرف 2 تھے اب سوال یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے میگا سینٹر میں صرف دو بندے رکھے گئے ہیں؟ یا سٹاف تو موجود ہے پر صرف تنخواہیں لینے کےلئے یہاں بندہ پہلے اپنا پورا دن انتظار کرے پھر جا کر اسکو ٹوکن ملتا ہے اور پھر اپنے ٹوکن کا انتظار کریں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے ٹوکن کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں پر ہزاروں لوگوں کی خدمت کےلئے صرف دو لوگ موجود اور تنخواہیں پورا اسٹاف اٹھا رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی سرکاری محکمے میں چلے جائیں نا ان کو کوئی بات کرنے کی تمیز ہوتی ہے نا کسی کا خیال، وہ چاھتے ہیں بس کسی نا کسی طریقے سے جتنے پیسہ ہو سکے کما لیا جائے۔ نادرا میگا سینٹر کے باہر ایک بزرگ انکل کو دیکھا بہت غصے میں تھے جب پوچھا تو بولا صبح 8 بجے کا آیا ہوں اور انکو کہا بھی مجھے معلومات لینے دو پر گارڈز نے جانے نہیں دیا ابھی جب میرا نمبر آیا تو بولا فلاں چیز نہیں ہے تو کام نہیں ہوگا یہ بھی لیکر آئیے، مطلب بندہ صبح 8 سے شام 7:30 تک انتظار کرے صرف اور صرف معلومات لینے کے لیے اور ان گارڈز کو کہو کہ معلومات لینے ہے تو وہ آپ کو اپنے دوسرے گارڈ کی طرف اشارہ کرے گا اور کہے گا یہ معلومات فراہم کر رہا ہے میں نے ان سے پوچھا یار نارمل کارڈ کی کیا فیس ہے وہ کہنے لگا بھائی اندر جائو گے تو پتا چل جائے گا مختلف فیس ہیں مطلب اتنی زیادہ معلومات دے دی کہ پھر کبھی ضرورت ہی نا پرے، پھر وہاں لوگ مجبور ہوکر کہتے ہیں اس سے اچھا تھا ہم آزاد نا ہوتے یا پاکستان نہیں بنتا وغیرہ وغیرہ، یہ محکمہ خود عوام کو مجبور کرتے ہیں کہ ہم انکو ہمارے پیارے پاکستان کو برا بھلا کہیں، ہمارے سرکاری دفاتر کے حصول و ضوابط کو بہتر کرنے کےلئے ہماری حکومت کو نادرا ڈپارٹمنٹ کو اور حکومت پاکستان کو سخت توجہ کی ضرورت ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )

  • ظاہر جعفر کے ڈرامے بے نقاب، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظاہر جعفر کے ڈرامے بے نقاب، تحریر: عفیفہ راؤ

    نورمقدم کیس پر اس وقت کافی تیزی سے ٹرائل ہو رہا ہے۔ عدالت میں چار چار گھنٹے کی سماعت ہو رہی ہے۔ پہلے بتایا تھا کہ کیسے جعفر خاندان کے ملازمین کے جھوٹ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بے نقاب ہوئے تھے اور یہ بھی کہ نور نے درندے کے گھر سے ایک بار نہیں بلکہ دو بار بھاگنے کی کوشش کی تھی جو ملازمین نے ناکام بنا دی تھی۔

    عدالت میں مزید کیا کچھ ہوا سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے عدالت نے کیا فیصلہ کیا، درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کے فرانزک کا کیا بنا، ایک بار پھر عدالت سے ظاہر جعفر کو کیوں نکالا گیا، عدالت کے سامنے وہ کیا منتیں کرتا رہا اور ملازمین کے مزید جھوٹ کون سے جھوٹ سامنے آ گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج جس کو حاصل کرنے کے لئے ملزمان کے وکیل پہلے دن سے ہی بہت زور لگا رہے تھے کہ ہمیں فوٹیج دی جائے تاکہ ہمیں اپنا کیس تیار کرنے میں آسانی ہو۔ ویسے تو یہ چالیس گھنٹوں کی فوٹیج ہے لیکن اس فوٹیج میں سے کچھ اہم حصوں کو الگ کرکے بھی ایک فوٹیج تیار کی گئی ہے۔ ہر سماعت کی طرح حالیہ سماعت میں بھی ملزمان کے وکلاء نے مطالبہ کیا کہ ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج کی کاپی دی جائے جس پر شاہ خاور نے کہہ کہ کیوں نہ فوٹیج کو عدالت میں ایک بار دکھا دیا حائے اس کے بعد وکلاء کو دے دی جائے کیونکہ اس پورے کیس میں یہ فوٹیج سب سے زیادہ اہم ہے اور نور کی فیملی اور وکیل یہ نہیں چاہتے کہ عدالت میں فوٹیج چلنے سے پہلے یہ کہیں اور وائرل ہو۔ لیکن اس فوٹیج کے بارے میں آج عدالت نے بالآخر فیصلہ کر دیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی پانچ کاپیاں تیار کی جائیں اور ملزمان کے وکلاء کو دے دی جائیں اس طرح اب جمعہ کے روز فوٹیج ان سب کو مل جائے گی جس پر یہ اپنے کیس کی تیاری کریں گے اس لئے آنے والی سماعتیں اب اور بھی زیادہ اہم ہوں گی۔
    اس کے علاوہ درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اور اس پر جو موقف اختیار کیا گیا ہے جب میں نے وہ سنا تو یقین جانیں کہ میں نے تو اپنا سر پکڑ لیا تھا کہ آج کے دور میں بھی اس طرح کی بات کیسے کی جاسکتی ہے۔ ہوا یہ کہ عدالت میں بتایا گیا کہ یہ لیب ٹاپ اور فون پاسورڈ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک کھل نہیں سکے اور ان کا ڈیٹا حاصل نہیں ہو سکا۔ اور اب اگر ہم اس پر بار بار غلط پاسورڈ لگائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ڈیٹا ہی ڈیلیٹ ہو جائے۔ سوچیں ایک کیس انڈیا میں سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ہوا تھا جس میں انہوں نے واٹس ایپ کے ڈیلیٹ شدہ میسجز بھی Retrieveکروا لئے تھے۔ لیکن ہماری پولیس اور ایف آئی اے کا حال دیکھ لیں کہ انہوں نے صاف جواب ہی دے دیا ہے کہ جی یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اس طرح کے جواب پر اب تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اس درندے کے خاندان کی طرف سے اس کیس پر خوب پیسہ لگایا جا رہا ہے۔ کہ پہلے تو پولیس موقع واردات سے موبائل لینا ہی بھول گئی تھی جب موبائل لے لیا گیا تو ٹوٹی ہوئی سکرین کا کہہ کر اسے پڑا رہنے دیا حالانکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ موبائل فون کی سکرین آرام سے تبدیل ہو سکتی ہے لیکن نہیں جب تک ہم نے آواز نہیں اٹھائی اس پر کسی کو دھیان ہی نہیں گیا اور اب جب درندہ ان کے قبضے میں ہے تو اس سے یہ موبائل اور لیب ٹاپ کا پاسورڈ نہیں اگلوا سکے حالانکہ یہ پولیس والے جب اپنی کرنے پر آتے ہیں تو ملزم سے وہ گناہ بھی منوا لیتے ہیں جو اس نے نہیں کیا ہوتا لیکن حیرت ہے کہ اسلام آباد پولیس اس درندے سے ایک پاسورڈ نہیں اگلوا سکی۔ ایف آئی اے کی بھی یہ حالت ہے کہ وہ عدالت کو یہ جواب دے رہے ہیں کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

    اس کے علاوہ ایک بار پھر عدالت سے درندے کو باہر نکال دیا گیا کیونکہ وہ بار بار گواہوں کی جرح کی کاروائی میں خلل ڈال رہا تھا۔ اس سماعت میں درندے نے نیشنل فرانزک کرائم ایجنسی کے انچارج محمد عمران کی جرح کے دوران بولنا شروع کردیا اور ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی سے منت کرنی شروع کر دی۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ جناب عطاء ربانی، کیا میں آپ کے قریب آ سکتا ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ آپ میری بات سن رہے ہیں؟ اس کے بعد درندے نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولنا شروع کر دیا اور کہا کہ جج عطا ربانی، میرا راضی نامہ کروا دیں، میں عدالت کے قریب آ کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔اس دوران درندے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی بھی عدالت میں ہی موجود تھیں۔ جس نے پچھلی سماعت پر عدالت کو بہت یقین دلایا تھا کہ درندے کی طرف سے دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہو گی۔ خیر جب جج عطا ربانی کی جانب سے جب کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تو درندے نے ایک بار پھر جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جناب عطاء ربانی کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں۔ اس پر جج عطا ربانی نے ملزمان کے وکلاء سے پوچھا کیا ملزم کی کمرہ عدالت میں موجودگی ضروری ہے؟ اس کی حاضری لگوا کر بھجوا دیں۔ سوچیں آج یہ راضی نامے کی بات کر رہا ہے عدالت میں بار بار کہتا ہے میری بات سنیں۔ اب کوئی اس درندے سے پوچھے کہ جب نور اس کی اور اس کے ملازمین کی منتیں کر رہی تھی کہ اس کو جانے دیا جائے تب اس نے نور کی بات کیوں نہیں سنی کیوں اس پر تشدد کیا کیوں اسے جانے نہیں دیا۔ اس کے علاوہ محمد عمران نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ اس نے کمرے سے کیا کیا شواہد اکھٹے کئے تو اس میں چاقو، پستول جس میں ایک میگزین لگا ہوا تھا اور دوسرا میگزین بھی ساتھ میز پر رکھا تھا، ایک لوہے کا مکا تھا اور چار سگریٹ تھے جو اکٹھے کیے گئے اب ان چیزوں کی موجودگی سے آپ سوچیں اس لڑکی کو جان سے مارنے سے پہلے کتنا تشدد کیا گیا ہو گا۔ اوراس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ نورمقدم کا سر کھڑکی کے پاس سے ملا تھا اور چاقو شیلف پر رکھا ہوا تھا۔

    لیکن یہ درندہ اس کے ماں باپ ملازمین اور تھراپی ورکس والے اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔ ویسے تو اس کیس کے شروع میں ہی جو ایک کام ہوا کہ ان سب کو فورا گرفتار نہیں کیا گیا تھا اس سے ان سب کو موقع مل گیا تھا کہ یہ آپس میں پلان کرکے ایک جیسے بیانات پولیس کو دیں لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے جھوٹ آخر پکڑا ہی جاتا ہے تو جیسے جیسے کیس کی تفصیلات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیل سامنے آ رہی ہے ان کے جھوٹ بھی پکڑے جا رہے ہیں۔ سوچیں جو ملازمین یہ بھی جانتے تھے اگر دروازہ بند ہے تو کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی ہے وہاں سے درندے کے کمرے میں جایا جا سکتا ہے۔ تھراپی ورکس والوں کو سیڑھی بھی انھیں ملازمین نے لا کر دی تو کیا وہ اس لڑکی کی جان بچانے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن نہیں یہ ملازمین تو جان کر گیٹ بند کر دیتے تھے تاکہ نور بھاگ نہ پائے اور اسے پکڑ کر واپس درندے کے حوالے کر دیتے تھے اور تھراپی ورکس والے جو معصوم بن رہے ہیں کہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک نہیں تھی ہم تو مریض کو لینے گئے تھے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ مریض کو لانے کے لئے کونسی ڈاکٹرز کی ٹیم وکیل کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ کیونکہ تھراپی ورکس والوں کے ساتھ وکیل دلیپ کمار بھی تھا۔ اور اس کو ساتھ لے کر جانے کا مقصد یہ تھا کہ کیسے موقع واردات سے ثبوتوں کو مٹایا جائے، نور کی باڈی کو ٹھکانے لگایا جائے اور کیس کو خراب کیا جائے۔ تاکہ اس درندے کی جان بچ جائے۔ کیونکہ یاد کریں اس درندے نے اپنے باپ کو جب فون پر بتایا تھا کہ میں نے نور کو مار دیا ہے تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ تم پریشان نہ ہو میں سب سنبھال لوں گا۔ ٹیم آ رہی ہے وہ تمھیں یہاں سے نکال لے گی۔ اس لئے تھراپی ورکس والے اپنی پوری تیاری سے گئے تھے اور مجھے تو یقین ہے کہ امجد پر بھی جو حملہ کیا گیا وہ بھی ڈرامہ کیا گیا۔ تاکہ اس کی ذہنی حالت خراب ثابت کی جا سکے۔ ورنہ جس طرح اس کے پاس اسلحہ تھا اگر وہ مارنا چاہتا تو وہ آرام سے امجد کو مار سکتا تھا۔اور جو یہ بیان دیا گیا کہ ظاہر نے اس وقت امجد سے کہا تھا کہ میں تمھیں بھی ماروں گا اور خود بھی خودکشی کروں گا۔

    تو یہ بھی ایک ڈرامہ ہی ہے کیونکہ اگر اس نے اپنی جان لینی ہوتی تو نور کو مارنے کے فورا بعد اپنی جان لے چکا ہوتا اپنے باپ کو فون نہ کرتا کہ مجھ سے قتل ہو گیا ہے اور مجھے بچا لو۔ ابھی تک جیسے ان کے پہلے والے ڈرامے بے نقاب ہوتے رہے ہیں انشااللہ باقی کے ڈارمے بھی آنے والے دنوں میں پکڑے جائیں گے۔اب عدالت نے اگلی سماعت جو کہ سترہ نومبر کو ہوگی اس پر ہیڈ کانسٹیبل جابر، کمپیوٹر آپریٹر مدثر، اے ایس آئی دوست محمد اور ڈاکٹر شازیہ کو طلب کرلیا ہے اب ان کی گواہی اور اس پر جراح ہو گی۔ اور مزید بہت سے انکشافات اس کیس کے حوالے سے سامنے آئیں جس سے ان درندوں کے جھوٹ مزید بے نقاب ہونگے اورنور کو جلد انصاف مل سکے گا .

  • بطخ کی سرخ جوتے پہنے میراتھن ریس میں انٹری،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    بطخ کی سرخ جوتے پہنے میراتھن ریس میں انٹری،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    نیویارک :میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ساتھ ریس میں حصہ لینے والی بطخ کے سوشل میڈیا پر چرچے-

    باغی ٹی وی : میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ساتھ ریس میں حصہ لینے والی ایک بطخ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس سے صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں اور بطخ کی ریس لگاتے ہوئے ویڈیو کو خوب سراہا جا رہا ہے –

    وزیر خارجہ کا ماحولیاتی تبدیلی سے آگاہی دینے کا انوکھا طریقہ

    سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر شئیر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک چھوٹی سی رنکل نامی بطخ سُرخ جوتے پہنے نیویارک میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ہمراہ دوڑ لگاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

    یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا ہے کہ "رنکل نے نیو یارک میراتھن میں دوڑ لگائی، اگلے سال یہ اس سے بھی اچھا پرفارم کرے گی۔”

    انسٹاگرام پوسٹ میں میراتھن ریس میں حصّہ لینے پر بطخ کو سراہنے والے صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔

    "ٹائم آؤٹ ” کے مطابق اگرچہ ہم اب مشہور شخصیت کی بطخ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کا آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کافی عرصے سے جانوروں کی حرکات کو دائمی بنا رہا ہے۔

    لیکن یہ NYC میراتھن میں بطخ کی ظاہری شکل ہے جس نے واضح طور پر سب سے زیادہ توجہ مبذول کرائی ہے۔ نیویارک کے باشندے، برانڈز اور جانوروں سے محبت کرنے والوں نے رنکل کے بعد کی دوڑ کے بارے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ ہمارا پسندیدہ تبصرہ TikTok کے بشکریہ آیا، جہاں Adidas نے لکھا: "”ہم ہماری ڈیزائنر ٹیم کو بھیج رہے ہیں تاکہ بطخ کے جوتوں کے نئے مجموعہ کی درخواست کی جا سکے۔

    بطخ کے سوشل میڈیا پروفائل کے مطابق، رنکل کی ماں جسٹن ووڈ ہے جبکہ اس کے والد اس کے پیارے اسسٹنٹ کے طور پر درج ہیں۔

    میراتھن ایپی سوڈ پر ٹویٹر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کئے جا رہے ہیں-


    https://twitter.com/jwuless/status/1458487606644256777?s=20


    https://twitter.com/RunsNat/status/1458115003911966730?s=20
    https://twitter.com/gpommen/status/1457972552114999296?s=20


    علاوہ ازیں یہ بطخ بشوک فلم فیسٹیول میں ریڈ کارپٹ پر بھی اپنے جلوے بکھیر چکی ہے-

    انسانوں کی نقل کرنے والی بطخ

    واضح رہے کہ آسٹریلیا میں ایک ایسی بطخ ہے جو انسانی جملوں کو نقل کر کے دہرانے کی صلاحیت رکھتی ہےآسٹریلیا کے سائنسدان پیٹر جے فلا نے تحقیق کے دوران ایک نر بچے کو پالا جو چار سال کا ہے اسے رِپر کا نام دیا گیا ہے یہ غصے میں اول فول الفاظ ادا کرتا ہے اس کا سب سے مشہور جملہ ہے ’یو بلڈی فول‘ جو انگریزی زبان میں گالی کی طرح سمجھا جاتا ہےبطخ دروازہ بند ہونے کی آواز نکالنے کے ساتھ انسانوں کی طرح کھانسی بھی کرتی ہے، لیکن اب اس نے ایک جملہ بھی سیکھ لیا ہے اور وہ واضح انداز میں ’یوبلڈی فول‘ کہہ سکتی ہے۔

    بطخ جس کے 800 گرام پروں کی قیمت 8 لاکھ روپے

  • بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ،مودی سرکار کے ماتھے پر کلنک،تحریر: نوید شیخ

    بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ،مودی سرکار کے ماتھے پر کلنک،تحریر: نوید شیخ

    خطے میں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم ۔۔۔ ڈھکی چھپی بات نہیں ہیں ۔ حالانکہ بھارت کی اپنی حالت کافی پتلی ہے ۔ معیشت سے لے کر ہر چیز کا بٹھہ بیٹھا ہوا ہے ۔ مگر جنونی مودی کے سر پراکھنڈ بھارت کا بھوت سوار ہے ۔ اس وقت کوئی دن ایسا نہیں جا رہا جب بھارت کو اپنے بارڈرز سمیت انٹرنیشنل سطح پر ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہو۔ کبھی پاکستان تو کبھی چینی بھارتی فوجیوں کی خوب تواضع کرتے ہیں ۔ تو کبھی کشمیری ، نکسلی ، ماؤ اور دیگر بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو اب یوں لگتا ہے کہ مودی کے آنے کی وجہ سے شکست بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے میدان سے لے کر کھیل کے میدان تک بھارت کو صرف مار ہی مار پڑی رہی ہے ۔ پر انڈیا امریکی آشیرباد اور طاقت کے زعم میں اس خطہ میں جو کھیل کھیل رہا ہے۔ اسکے نتائج اس خطہ کو ہی نہیں۔ پورے کرۂ ارض کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔ اسوقت ہندوستانی قیادت پاگل ہوچکی ہے دنیا جہاں کا اسلحہ خرید رہی ہے اور بڑی تیزی سے امریکہ فرانسیسی اور اسرائیلی ساختہ اسلحہ سرحد کے ساتھ ساتھ لگایا جا رہا ہے ۔ جس میں میزائل ، ڈرون ، نئے طیارے اور پتہ نہیں کیا کیا ہے ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بھارت کسی نئی جنگ کی تیاری میں ہے ۔

    ۔ بھارت کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان نے بھارت میں ہونے والی افغان سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر کے خطے میں پیغام دے دیا ہے کہ ہمارا ریاستی موقف کیا ہے ۔ ہم بھارت بارے کیا سوچتے ہیں اور انڈیا کااصل چہرہ ہے کیا ۔۔۔ کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بغل میں آپ نے چھری رکھی اور منہ سے رام رام کہہ رہے ہوں۔ پھر بھارت افغانستان میں قیام امن کا کسی طور پر بھی سٹیک ہولڈر نہیں ہے۔ الٹا خطے میں بگاڑ اور بد امنی کی تما م راہیں ہندوستان سے نکلتی ہیں۔ ہندوستان کی جنونی سرکار کے منصوبوں کی کامیابی کی راہ میں اگر کوئی ملک سامنے کھڑا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ پاکستان اپنے پورے قد کاٹھ کے ساتھ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے آواز اٹھاتا ہے۔ اقوام متحدہ ہو یا اس کی سلامتی کونسل، یورپی یونین ہو یا عرب لیگ، ہر جگہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لئے آواز بلند کر رہا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہندوؤں نے قیام پاکستان کے روزِ اول سے ہی پاکستان کو ناکام ریاست بنانے اور ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے کبھی اثاثہ جات کی تقسیم پر، کبھی دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر، کبھی سیاچن، کبھی کارگل اور اب افغانستان کے مسئلے پر ہندوستان پاکستان کو نیچا دکھانے کی کاوشیں کر رہا ہے۔ افغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت سرکار ایک بار پھر افغانستان کے حوالے سے لیڈ لینے۔ بلکہ پنگا لینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے پر اس کی دال نہیں گلنی ۔ سیکیورٹی کانفرنس کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ پر یاد رکھیں پاکستان کی شرکت کے بغیر اس کانفرنس کی حیثیت اور ساکھ قائم نہیں ہو سکے گی پاکستان نے اس لئے اس میں شرکت سے انکار کر کے ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔

    ۔ پر آپ مودی کی دونمبریاں تو چیک کریں ایک جانب یہ افغانستان پر سیکورٹی کانفرنس کروا رہا ہے تو دوسری جانب طالبان کے ڈر کو بھارت میں الیکشنز میں خود بیچا جا رہا ہے ۔ اگر آپک یاد ہو تو چند روز پہلے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہہ تھا کہ طالبان کی حمایت کا مطلب بھارت کی مخالفت ہے۔ یہاں تک اس فراڈیے نے تو افغانستان پر فضائی بمباری تک کی دھمکی لگائی تھی ۔ تو اب بھارت کس منہ سے افغانستان پر سیکورٹی کانفرنس کروا رہا ہے ۔ چلتے چلتے میں یوگی ادتیہ کو بھارت کی اوقات بتا دوں ۔ کہ گزشتہ ایک ہزار سال سے افغانستان سے آنے والے بنا کسی طیارے ، ٹینک کے میزائل اور جدیدہتھیاروں کے کئی مرتبہ گھڑسوار اور پیدل مٹھی بھر سپاہیوں کے ساتھ بھارت کو روند چکا ہے۔ محمود غزنوی سے لیکر احمدشاہ ابدالی تک افغانستان سے آنے والے لشکروں نے راس کماری سے لے کر بنگال تک دہلی سے لے کر کرناٹک تک کو فتح کیا اور یہاں اپنی حکومت قائم کی۔ خاندان غزنوی ہو یا لودھی ، غلاماں ہوں یا خلجی، تغلق یا غوری یا مغل یہ سینکڑوں برس ہندوستان کے فاتح اور حکمران رہے۔ ۔ اگر آدتیہ یوگی اس تاریخی حقیقت سے آگاہ ہوتا تو کبھی ایسی بڑ نہ مارتا جس کے جواب میں شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنا۔ آدتیہ یوگی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس بدبخت شخص کو مسلمانوں سے اسلام سے نفرت ہے۔ یہ واقعی بہت بڑی بات ہے کہ دہلی ، آگرہ ، ڈھاکہ ، کلکتہ ، بہار، حیدر آباد ، لکھنو، بنارس ، تلنگانہ ، کیرالہ اوڑیسہ تک پھیلی کسی بھی ہندو ریاست میں یا ان کے مہاراجوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے ہی دیس میں اپنے ہی گھر میں رہتے ہوئے ہزاروں میل دور افغانستان سے آنے والے ان مٹھی بھر مسلانوں کا مقابلہ کر کے انہیں نست ونابود کر دیتے۔الٹا لاکھوں کے لشکر، ہاتھی گھوڑوں ، اونٹوں کے باوجودیہ ہندوستانی ریاستیں ہر بار مسلمانوں کے حملے میں کاغذ کی کشتی کی طرح برساتی پانی میں بہہ جاتیں۔ یوگی ڈھونگی شایدبھول رہا ہے کہ مرہٹوں جن کی طاقت پر ہندوستانیوں کو بہت گھمنڈتھا وہ بھی بار بار زیر ہوئے۔ چھپ کر مسلم حکمرانوں پر حملے کرتے رہے مگر انہیں بھی پورے ہندوستان پر کبھی حکومت کرنا نصیب نہیں ہوئی۔ وہ ڈاکوئوں کی طرح آتے اور چوروں کی طرح بھاگ جاتے رہے۔ حتیٰ کہ پانی پت کے میدان میں لاکھوں مراٹھے گاجر مولی کی طرح کاٹ کر احمد شاہ ابدالی نے مراٹھا سامراج کا خواب چکنا چور کر دیا تھا ۔ کیا یہ سب حقائق صرف فسانے ہیں ۔ کیا یو گی ڈھونگی نے کبھی تاریخ نہیں پڑھی۔ اگر پڑھی ہوتی تو ضرور اس سے سبق سیکھتے۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ایک شرانگیز ملک ہے جو امن قائم نہیں کر سکتا۔ بلکہ اس خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی کے لئے ہونے والی کسی بھی کوشش کو سبوتاژ کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے کیونکہ وہ اکھنڈ بھارت والے اپنے توسیع پسندانہ ایجنڈے کی بنیاد پر علاقے کی تھانیداری کا خواہشمند ہے جس کے لئے اسے امریکی سرپرستی حاصل ہے۔ اسی لیے بھارت کے ہمسایہ ممالک اور اس خطے کا کوئی بھی دوسرا ملک ہمیشہ بھارت کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ اس وقت بھارت اعلانیہ پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی دھمکیاں دیتا نظر آتا ہے ۔ ہندوستان نے پاکستان مخالفت کی وجہ سے ہی ماضی میں افغانستان کو سپورٹ کیا ۔ وہاں پاکستان مخالف عناصر کی مالی امداد کر کے انہیں خوب پالا پوسا مگر جب سے افغان طالبان نے حکومت سنبھالی ہے۔ بھارت کی ساری سرمایہ کاری نالی میں بہہ گئی ہے۔ اب اسے خطرہ ہے کہ اگر طالبان حکومت افغانستان میں مضبوط ہوئی تو اس کا اثر مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلمانوں کی تحریک آزادی پر بھی پڑے گا اور افغان طالبان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی اور کشمیریوں کی حمایت کریں گے۔ آپ دیکھیں پاکستان دشمنی میں مودی سرکار اس حد تک چلی گئی ہے کہ روسی وزیر کے بقول اب پاکستان کے انکار کے بعد بھارتی امریکہ کو فضائی اڈے قائم کرنے کی اجازت دینے لگے ہیں۔ جہاں سے امریکہ افغانستان میں ڈرون حملے کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ ویسے ایسا کچھ بھی کرنے سے پہلے امیدہے بھارت سرکار ماضی کے واقعات سے ضرور سبق حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ بھارت میں مسلم کش فسادات کروا کر اگر بھارتی حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو دبا دیںگے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ صرف کشمیر کی مثال ہی کافی ہے جہاں 72سالوں سے بھارت اپنی لاکھوں مسلح افواج کے بل بوتے پر ہر ممکن جبر و تشددکے باوجود ان آزادی پسند کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نہیں کچل سکا تو وہ بھلا بھارت میں پھیلے 20 کروڑ مسلمانوں کو کیا بربادکرے گا۔ اگر ایسا کرنے کی کوشش جاری رہی تو پھر یہ داستان خودبھارت کی بربادی پر ہی ختم ہو گی۔ یہ ہم نہیں کہتے زمانہ کہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے۔

    ۔ یہ بھی سچ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور دلت ہندوئوں سمیت کسی بھی اقلیت کو جان مال کا تحفظ حاصل نہیں اور ان کی مذہبی آزادیاں نہ صرف غصب کی جا چکی ہیں بلکہ انہیں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے وقت ہندو انتہاء پسندوں کے حملوں اور دوسری پرتشدد کارروائیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ ان انتہاء پسندوں کو بھارت کی مودی سرکار کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمان ہی ہند سرکار سے نفرت کرتے ہیں مودی سرکار کی ہندو توا نے دیگر اقلیتوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے سکھ، خالصتان بنانا چاہتے ہیں۔ بھارت کے 630 اضلاع میں سے 220 اضلاع پہ اس وقت آزادی پسندوں کا قبضہ ہے۔ کشمیر کے علاوہ بھارت کی درجنوں ریاستوں میں 67 علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ جن میں 17 بڑی اور 50چھوٹی تحریکیں ہیں۔ ۔ ناگالینڈ، مینرد ورام، منی پور اور آسام سے لیکر بہار،آندھرا پردیش، مغربی بنگال اس وقت بھارت کے لیے سردرد بن چکے ہیں۔ آدھا بھارت فوجی چھاونی بن چکا ہے یہاں جگہ جگہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارتی فوج کے مظالم یا بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شور مچاتی ہیں تو بھارت کی سرپرست عالمی طاقتیں انھیں خاموش کرادیتی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا کے دور میں اب کچھ بھی چھپنا ناممکن ہو چکا ہے۔ آسام میں سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے قتل پر عرب سوشل میڈیا پر انڈین مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایسی مہم چلی کہ جو پھر پھیلتی ہی چلی گئی۔ پھر مودی جس بھی ملک جاتا ہے وہاں بھارت اور اسکے خلاف احتجاج شروع ہو جاتا ہے ۔ کبھی سکھ ، تو کبھی کشمیری تو کبھی ماؤ تو کبھی نکسلی خوب بیرون ملک بھی مودی کی بینڈ بجاتے ہیں ۔ ویسے مودی کسی بھی ملک کا پہلا سربراہ ہے جسے اپنے ملک کے علاوہ بیرون ملک بھی اتنی ہی زلالت کا سامنا رہتا ہے۔ پھر ایک رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے ہندو آبادی کو خطرناک حد تک ہندوتوا ذہنیت کے نشے میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہندوتوا قوتیں مسلمانوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانا اپنا مقدس فرض سمجھتی ہیں۔ ان کی تذلیل کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ انہیں قتل کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے عروج کے دوران بھارتی مسلمانوں پر وائرس پھیلانے کا الزام لگایا گیا تاکہ بھارت میں نظام صحت کی تباہی کو چھپایا جا سکے۔ بی جے پی اور دیگر ہندو انتہاپسندوں نے تمام مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ایک مشترکہ مہم شروع کر رکھی ہے۔