Baaghi TV

Category: متفرق

  • ایک تاریخی فیصلہ

    ایک تاریخی فیصلہ

    فعال جمہوریت کے چار ستونوں میں عدلیہ کو سب سے اہم مقام حاصل ہے۔ عدلیہ کا اولین کردار قانون کی حکمرانی کا تحفظ، آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا اور قومی مفادات کا تحفظ ہے۔ جمہوریت کسی فرد یا گروہ کو طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ خود مختار عدلیہ ایک منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور آئینی طور پر مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ جج آزادانہ طور پر قانونی فیصلے کر سکتے ہیں چاہے وہ بااثر سیاست دان، سرکاری اہلکار یا عام شہری شامل ہوں۔

    پاکستان جیسی نازک جمہوریت میں، عدلیہ کو سول سوسائٹی کو تقویت دینے اور بڑے پیمانے پر عوام میں آئینی ثقافت کو مضبوط کرنے کے لیے بہت سے اہم چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کا آئین سپریم کورٹ کو آئین کے تحفظ، حفاظت اور حفاظت کی ذمہ داری تفویض کرتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 184 (3) اور 199 سپریم کورٹ آف پاکستان کو بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے احکامات دینے کا اختیار دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلا شبہ یہ کارنامہ انجام دیا ہے اور کسی بھی ادارے سے متاثر ہوئے بغیر قانون کی حکمرانی کے متوازی حکم نامے پاس کرکے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو برقرار رکھا ہے۔

    پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے درمیان، جب پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں غیر معمولی حالات دیکھنے میں آئے،تو ایک بار پھر اعلیٰ عدلیہ کو سیاسی نظام کو مستحکم کرنے اور اپنے سیاسی مفادات کے لیے کچھ سیاستدانوں کی آئین کے غلط استعمال کو روکنے کی کوشش میں مداخلت کرنا پڑی۔ 3 اپریل کو پاکستان میں آئینی اور قانونی ہلچل مچ گئی جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک کو روک دیا، جس میں مبینہ طور پر غیر ملکی سازش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عمران خان کی حکومت گرائی جائے۔ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی راہ میں رکاوٹ کے بعد، عمران خان نے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیا جو صدر کی جانب سے ایک غیر معمولی جلد بازی میں مکمل کیا گیا، جس کے نتیجے میں آئینی اور سیاسی انتشار شروع ہوا جس کے پہلے سے ہی زوال پذیر اسمبلی پر مکمل منفی اثرات مرتب ہوئے۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے اپنی آئینی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے بحران کا ازخود نوٹس لیا اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس منیب اختر پر مشتمل پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا۔ تاکہ بحران سے نمٹنے کے لیے آئین کی درست وضاحت فراہم کی جائے ۔حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے مقرر کردہ قانونی نمائندوں کے پانچ دن کی محنت سے سماعت اور دلائل کے بعد، 7 اپریل کو سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا اور 3 اپریل کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے اقدامات کو غلط قرار دیا۔اہم فیصلے نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہر وقت زیر التوا اور موجود تھی اور اب بھی زیر التوا اور موجود ہے۔ عمران خان آئین کے آرٹیکل 58 کی شق (1) کی وضاحت کے ذریعے عائد پابندی کی زد میں ہیں اور تاحال پابندیاں برقرار ہیں۔ اس لیے وہ کسی بھی وقت صدر کو اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مشورہ نہیں دے سکتے تھے جیسا کہ آرٹیکل 58 کی شق (1) کے مطابق ہے۔

    عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے جوڈیشل ایکٹوازم کی بہادری نے ایک ادارے کے طور پر ملک میں جمہوریت پسندوں اور سول سوسائٹی کو یقینی طور پر حوصلہ دیا ہے کہ ملک کا اعلیٰ قانونی ادارہ اس انداز میں تیار ہوا ہے۔ جوبغیر کسی مصلحت اور خوف کے آئین کی تائید کرتا ہے۔بعض سیاسی طبقات کی جانب سے توہین آمیز سوشل میڈیا مہمات اور جارحانہ بیانات کے ذریعے عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوششوں کے باوجود، سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے کے ذریعے ترقی پسند جذبات اور جمہوری اصولوں کی حمایت کی ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ حالیہ فیصلہ نہ صرف جمہوریت کی بہت بڑی فتح ہے بلکہ نظریہ ضرورت کو بھی ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔ اس نے عالمی ایمفی تھیٹر میں پاکستان کی ایک مثبت تصویر کو ایک ایسے ملک کے طور پر بھی پیش کیا ہے جس کے پاس ایک مضبوط، نڈر، اور جمہوریت نواز قانونی نظام ہے جو قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے پرعزم ہے۔

  • دنیا کے سات مقدس ترین پودے

    دنیا کے سات مقدس ترین پودے

    انسانیت، روحانیت اور پودوں کا تعلق قدیم ہے بہت سی مذہبی روایات میں پودوں کو روحانی علامت، شفایابی، قوت بخشی اور بعض اوقات خدائی تعلق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : موسیقارجانہوی ہیریسن نے ’مقدس نباتیات‘ کے نام سے ایک البم ترتیب دیا ہے جس میں سات قابل احترام سمجھے جانے والے پودوں کا ذکر ہے جس میں انہوں نے روشنی ڈالی ہے کہ ان مقدس پودوں میں کیا خصوصیات ہیں؟ کیا یہ پودے لوگوں کی زندگی میں ماضی کی طرح آج بھی اہمیت کے حامل ہیں؟ ان کا احترام کون لوگ کرتے ہیں؟ –

    مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    کنول کا پھول: کنول کا پودا کیچڑ میں اگتا ہے اگرچہ اس کی جڑیں کیچڑ میں ہوتی ہیں لیکن کنول کا پھول پانی کے اوپر تیرتا دکھائی دیتا ہے مشرقی روحانیت کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ کنول کا پودا کئی معانی اور بیانیوں کی پرتیں ظاہر کرتا ہے ہندوؤں کے لیے کنول کا خوبصورت پھول زندگی اور پیداوار اور بودھوں کے نزدیک یہ پاکیزگی کی علامت ہے۔

    ہندو مذہب میں کنول کی کہانی کچھ یوں ہے کہ کنول بھگوان وشنو کی ناف سے ابھرا، اور اس پھول کے درمیان برہما بیٹھا ہوا تھا۔ کچھ کا خیال ہے کہ بھگوان کے ہاتھ اور پاؤں کنول جیسے ہیں اور اس کی آنکھیں کنول کی پتیوں کی طرح اور اس کے چھونے کا احساس کنول کی کلیوں کی طرح نرم۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    امربیل: آج کل امربیل کو عموماً کرسمس کے جادو سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن اس کو علامت سمجھنے کی تاریخ قدیم سیلٹک پیشواؤں کے دور سے تعلق رکھتی ہے انھیں یقین تھا کہ امربیل سورج کے دیوتا تارنس کا جوہر ہے، اور جس درخت کی شاخوں کے ساتھ امربیل بڑھتی ہے وہ درخت بھی مقدس ہو جاتا ہے سردیوں میں روحانی پیشوا بلوط کے درخت سے امربیل کو سنہری درانتی سے کاٹتا ہے یہ خاص پودا اور اس کے پھل رسومات یا ادویات کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    ناگ پھنی: ناگ پھنی ایک چھوٹا سا گٹھلی کے بغیر کیکٹس کا پودا ہے جو امریکی ریاست ٹیکسس کی جنوب مغربی اور میکسیکو کے صحرائی علاقے میں قدرتی طور پر اگتا ہے اور اس کا استعمال مقامی افراد روحانی مقاصد کے لیے کرتے ہیں میکسیکو کے انڈینز اور شمالی امریکہ کے مقامی قبائیلیوں کا اعتقاد ہے کہ یہ مقدس پودا خدا کے ساتھ رابطے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اس کا استعمال دعائیہ تقریبات میں کیا جاتا ہے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    روحانی طاقتوں کے لیے صرف مقامی قبائل ہی اس کا استعمال نہیں کرتے1950 کی دہائی سے فنکار، موسیقار اور مصنفین بھی اس کا استعمال کر رہے ہیں کین کیسی کا دعویٰ تھا کہ ‘ون فلیو اوور دی ککوز نیسٹ’ کے ابتدائی صفحات لکھتے ہوئے وہ ناگ پھنی کے نشے میں تھے۔

    تلسی: ہندو مذہب کے مطابق دیوی ورندا نے بھگوان کرشنا اور اس کے پیروکاروں کی خدمت کرتے ہوئے وندراون کی مقدس زمین کی حفاظت کی تھی اگرچہ یہ دیوی انسانی شکل میں تھیں لیکن قدیم تحریروں کے مطابق کرشنا نے بذات خود انھیں تلسی کا پودا بننے کا کہا تھا، جس کی وجہ سے اب تلسی مقدس کہلاتی ہے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ہندو اپنے گھروں اور مندروں میں تلسی کی پوجا کرتے ہیں۔

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    صنوبر کا درخت:صنوبر کی ایک قسم یئو سدا بہار درخت ہے جسے تولید اور ابدی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس درخت کی شاخیں جھک کر دوبارہ زمین میں داخل ہو جاتی ہیں اور ان سے نئے تنے جنم لیتے ہیں اس کے علاوہ یئو پرانے درخت کے کھوکھلے تنے سے بھی اگ سکتی ہے۔ اس لیے یہ تعجب کی بات نہیں کہ اسے تولید اور زرخیزی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    بھنگ: بھنگ راستافاری فرقے کے ماننے والوں کے نزدیک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بائبل میں جسے ’زندگی کا درخت‘ کہا گیا ہے وہ بھنگ کا پودا ہے اور اس کا استعمال مقدس ہے وہ اس بارے میں بائبل سے کئی حوالے پیش کرتے ہیں اگرچہ اس پودے کو کئی نام دیئے جاتے ہیں (بھنگ، گانجا) لیکن راستافاری اسے مقدس جڑی بوٹی یا حکمت کی بوٹی کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اسے نوش کرنے سے حکمت و دانائی حاصل ہوتی ہے اس کو سگریٹ یا چلم پائپ کے ذریعے پیا جاتا ہے اور اس سے قبل خصوصی دعا کی جاتی ہے

    اوسیمم بازلیکم: اس کا سب سے زیادہ استعمال پیزا اور پاستا ساس میں ہوتا ہے لیکن آرتھوڈاکس مسیحیت اور یونانی چرچ میں یہ ایک مقدس بوٹی ہے آرتھوڈوکس مسیحیوں کا یقین ہے کہ یہ بوٹی وہاں اگی جہاں یسوع مسیح کا خون ان کے مقبرے کے نزدیک گرا تھا، اس وقت یہ اس کو صلیب کے ساتھ عبادات سے منسلک کیا جاتا ہے پادری مقدس پانی کو پاک کرنے اور لوگوں کے اجتماع پر پانی کے چھڑکاؤ‌ کے لیے اس کی شاخوں کا استعمال کرتے ہیں۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

  • برطانوی شخص جس نے 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا

    برطانوی شخص جس نے 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا

    برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ اینڈی کیوری نے دو دہائیوں یعنی 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا۔

    باغی ٹی وی : ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اینڈی ایک سپر مارکیٹ میں کام کرتے ہیں جنہیں گزشتہ 20 سالوں سے سافٹ ڈرنک پینے کی لت تھی اور وہ روزانہ 10 لیٹر کولڈ ڈرنک پی جایا کرتے تھے تاہم اب ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے صرف ایک ہیپنوتھراپی سیشن (نفسیاتی علاج) کی مدد سے اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرلیا ہے۔

    اینڈی کیوری کے مطابق وہ ایک دن میں سافٹ ڈرنک کے 30 کینز تک پیتے تھےجس پر ان کے روز کے 20 پاؤنڈز جب کہ سالانہ تقریباً 7 سے 8 ہزار پاؤنڈز (19 لاکھ سے زائد روپے) خرچہ آتا تھا انہوں نےاعتراف کیا کہ وہ اپنےپسندیدہ سافٹ ڈرنک پر خرچ ہونے والی "رقم” سے ہر سال ایک کار خرید سکتا ہے۔

    ایک انٹرویو میں اینڈی کا بتانا تھا کہ انہیں اس وقت سوفٹ ڈرنکس کی لت لگی جب وہ 20 سال کے تھے، سپر اسٹور میں ان کی نائٹ شفٹ ہوا کرتی تھی جس کے باعث انہیں چینی کی طلب پوری کرنے کے لیے سافٹ ڈرنک باآسانی مل جاتی تھی، وہ دو لیٹر والی چار سے پانچ بوتلیں ایک ہی دن استعمال کرتے تھے۔

    مسٹر کیوری نے فیصلہ کیا کہ ان کا وزن 266 پاؤنڈ تک بڑھنے کے بعد سخت کارروائی ضروری ہے اور ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ انہیں ذیابیطس ہونے کا خطرہ ہے جس کے بعد اینڈی نے اپنے علاج کا فیصلہ کیا ورزش اور خوراک کے ذریعے وہ 28 پاؤنڈ وزن کم کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن پھر بھی پیپسی پینا بند نہ کر سکے۔

    امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون کورونا کا شکار ہو گئے

    برطانوی شخص نے بتایا کہ اس کے بعد اس نے لندن میں مقیم ایک تھراپسٹ اور ہپناٹسٹ ڈیوڈ کلموری سے رابطہ کیا، جس نے کیوری کو پرہیز کرنے والے محدود خوراک کی انٹیک ڈس آرڈر(Avoidant Restrictive Food Intake Disorder (ARFID) کی تشخیص کی۔ حیرت انگیز طور پر، محض 40 منٹ کے ایک آن لائن سیشن کے فوراً بعد، مسٹر کیوری صحت یاب ہوئے اور دو دہائیوں میں پہلی بار پانی پیا۔ چار ہفتوں میں، اس نے مزید 14 پاؤنڈ وزن کم کرلیا اور وہ نمایاں طور پر زیادہ صحت مند ہے۔

    مسٹر کیوری نے دعویٰ کیا، "میں نے ایک مہینے میں انہیں (پیپسی کین) کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ ہی کوئی منصوبہ ہے۔ مجھے اب پانی پسند ہے۔ میری بیوی سارہ کہتی ہیں کہ میری جلد اچھی لگتی ہے اور میرے پاس بہت زیادہ توانائی ہے۔

    دوسری طرف مسٹر ڈیوڈ نے کہا کہ وہ "خوف زدہ” ہیں کہ 41 سالہ شخص نے اتنا سوڈا پیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ اب تک کا سب سے برا شوگر تھا جس کے بارے میں میں نے کبھی سنا ہے ہپناٹسٹ نے یہ بھی وضاحت کی کہ اس قسم کی لت "بہت خطرناک” ہے اور کسی شخص کے اہم اعضاء پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتی ہے۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

  • یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی کرائی گئی نکاح خواں نے باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا-

    باغی ٹی وی : یمن میں ایک بلی اور بلے کی شادی اور ان کا باقاعدہ نکاح خواں کے ذریعےنکاح پڑھے جانےکی ہےخبرنےلوگوں کوحیران کر دیا ہےبلی اوربلی کےنکاح اور شادی کی تقریب کا واقعہ المعلا ڈاریکٹوریٹ میں ہوا بلی اور بلے کی شادی کی تقریب میں پڑوسیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔


    یمن میں سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں بلی اور بلی کی شادی اوران کے نکاح کی تقریب دیکھی جا سکتی ہے اس ویڈیو کے پوسٹ کیے جانے کےبعد سوشل میڈیا پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے نر اور مادہ بلیوں کے درمیان نکاح کا معاہدہ پڑھتے ہوئے دکھایا گیا اور اختتام پر نکاح فارم پر دونوں کے پنجے لگوائے گئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق تقریب سے قبل شادی کے معاہدے میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت نامہ چھپایا گیا۔ دعوت نامہ اسی علاقے کے متعدد قریبی لوگوں میں تقسیم کیے گیا۔اس واقعے نے کچھ لوگوں کی مخالفت کے باوجود بہت سے لوگوں نے اس کی حمایت کی نکاح کی تقریب کے لیے ایک مجاز نکاح خواں کو دعوت دی گئی اور نکاح فارم پر بلی اور بلے کے دستخط بھی ثبت کرائے گئے۔

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا بعض صارفین نے اس نکاح پر تنقید کی جب کہ بعض نے اسے مزاحیہ واقعہ قرار دیا۔ کچھ لوگوں نے بلی اور بلے کی شادی کی تقریب منعقد کرنے پر منتظمین اور نکاح خوان کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ناقدین نے انسانوں اور حیوانوں کا موازنہ کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور نکاح پڑھنے والے مولوی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

    مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

    مصر میں ایک عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش ہوئی جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ عجیب وغریب واقعہ مصر کی غربیہ گورنری کے السنطہ سینٹر کے گاؤں رجبیہ میں سامنے آیا گاؤں میں 3 آنکھوں، دو جبڑوں، دو زبانوں، دو کان اور ایک دماغ والے بچھڑے کی پیدائش پر لوگ حیران ہیں۔

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    بچھڑے کا سر تو ایک ہی ہے مگر اس کی تین آنکھیں اور دو زبانیں ہیں پیدائش کے بعد بچھڑے کو ایک ہفتے تک نگرانی میں رکھا گیا۔ دو زبابوں کی وجہ سے اسے کوئی چیز پینے یا نگلنے میں دشواری کا سامنا تھا۔

    غربیہ میں ویٹرنری میڈیسن کے ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ کیس جنین کی غیر معمولی نشوونما کی وجہ سے ہوا ہے ماں گائے کسی بھی پیدائشی نقص کا شکار نہیں تھی اس حالت کی اصل وجوہات کا سائنسی طریقے سے پتا چلانے کے لیے الحال مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    قبل ازیں بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے راج نند گاؤں میں گائے نے تین آنکھوں والے بچھڑے کو جنم دیا تھا عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش کی خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی تھی اور لوگ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے جبکہ کچھ لوگوں نے اس کی پوجا بھی شروع کردی تھی مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ علاقہ میں ایسا واقعہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے جس میں ایک بچھڑا تین آنکھوں کے ساتھ پیدا ہوا ہے ۔

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

  • امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    نائن الیون کے واقعے نے دنیا کا سارا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا، امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکا کی قیادت میں جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا۔ افغانستان میں امریکی جنگ کی وجہ سے پاکستان کو خطے کے کسی بھی ملک سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے 80,000 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور تقریباً 150 بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ بڑی قربانیوں اور بھاری نقصان کے باوجود، امریکہ اور مغرب نے ہمیشہ ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا، جب کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے حملوں کی زد میں رہا۔

    دوسری جانب امریکا نے 2004 سے 2018 تک پاکستان کے اندر ڈرون حملے کیے ہیں جن میں سیکڑوں بے گناہ شہری مارے گئے۔ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد جب امریکا کو معلوم ہوا کہ وہ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکتے تو امریکا نے پاکستان سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی درخواست کی تھی۔ پاکستان نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دسمبر 2018 میں طالبان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کا اہتمام کیا تھا جس نے 2020 کے امن معاہدے کی راہ ہموار کی۔ اس معاہدے کے تحت، امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے اگست 2021 میں افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لی تھیں۔ پاکستان نے نہ صرف افغانستان میں امن قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے بلکہ ملک میں دو دہائیوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی حمایت بھی کی ہے۔ .

    پاکستان نے ہمیشہ کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان میں امن آئے گا۔پاکستان چین کے پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے اپنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے وسطی ایشیائی ممالک میں اقتصادی ترقی، تجارت اور رابطے چاہتا ہے جو خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اگرچہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کی طرف سے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا۔ طالبان کی جانب سے پاک افغان بین الاقوامی سرحد پر متعدد بار باڑ لگانے سے پاکستان میں غصہ پیدا ہوا ہے لیکن پاکستان نے پرسکون اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کی کوششوں میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتا۔ دوسری جانب پاکستان دنیا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے اور افغانستان کی تباہ کن صورتحال کو بچانے کے لیے افغانستان کو معاشی مدد کرے۔یہ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنائے اور افغانستان میں امن کی کوششیں جاری رکھے۔

    دسمبر 2021 میں، پاکستان نے افغانستان کے لیے عالمی تعاون حاصل کرنے کے لیے افغانستان پر ایک روزہ OIC اجلاس کی میزبانی کی، جس میں چین، امریکا، روس، اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل کے ساتھ ساتھ اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر کے خصوصی نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ. پاکستان ہمیشہ اقتصادی رابطوں اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتا ہے جو خطے بالخصوص افغانستان میں امن و سلامتی لانے کی بنیاد ہے سرد جنگ کے دور میں پاکستان امریکی بلاک میں تھا اور روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اتنے اچھے نہیں تھے۔ اب پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو اعلیٰ سطح پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے روس کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری واضح طور پر روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔

    یوکرین پر روسی حملے کے بعد مغرب نے پاکستان پر روس کی مذمت کے لیے دباؤ ڈالا لیکن پاکستان نے کسی کا ساتھ نہیں لیا اور امید ظاہر کی کہ "سفارت کاری فوجی تنازعہ کو ٹال سکتی ہے”۔ پاکستان یوکرین میں پرامن اور مذاکراتی تصفیے کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی۔ اب پاکستان دوسرے تنازعات یا جنگوں میں الجھنا نہیں چاہتا۔پاکستان امریکہ، روس، مغرب اور باقی دنیا کے ساتھ باہمی احترام اور بغیر کسی نقصان کے اپنے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی اہمیت اور افغانستان کی صورتحال کی بدلتی ہوئی متحرک صورت حال پاکستان کے لیے تمام علاقائی اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے بغیر کسی بلاک میں شامل ہوئے یا تیسرے ملک کے تنازع میں ملوث ہوئے پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کسی بین الاقوامی تنازع کا فریق نہیں بنے گا بلکہ امن میں شراکت دار بنے گا۔ پاکستان ہمیشہ بھارت کے ساتھ باہمی ،خوشگوار اور پرامن تعلقات چاہتا ہے، جیسا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بارہا کہا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھیں گے۔ لیکن یہ خواہش بھارت کے جارحانہ رویے کی وجہ سے پاکستان اپنے وعدوں تک نہ پہنچ سکی۔

    2019 میں جب پاکستان نے اپنے مگ 21 لڑاکا طیارے کو مار گرانے کے بعد ہندوستانی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو پکڑ لیا، تو اسے جذبہ خیر سگالی کے طور پر اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا۔ ہم لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے اس بڑے قدم سے امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو دیکھ سکتے ہیں جہاں لوگ اچھا وقت گزار رہے ہیں، کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری بار جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ سال 25 فروری 2021۔ 18 سالوں میں پہلی بار بین الاقوامی سرحد پر ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے ایک بار پھر 2003 میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے انتظامات کا عہد کیا تھا اور ان ‘بنیادی مسائل’ کو حل کرنے پر اتفاق کیا تھا جو "امن اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں”۔ امن اور ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششیں نئی ​​نہیں ہیں اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے 1970 کی دہائی میں چین اور امریکا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جب 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے دورہ چین کا اہتمام پاکستان نے کیا تھا۔ چین کے دورے پر 2022 کے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’’پاکستان چین اور امریکا کو ساتھ لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، کیونکہ ’’ایک اور سرد جنگ‘‘ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے جو اس نے 1970 کی دہائی میں ادا کیا تھا جب اس نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔پاکستان نے نہ صرف اپنی سابقہ ​​حکومت بلکہ موجودہ حکومت میں بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی کوشش کی ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہماری ثالثی نہیں رکی اور ہم آہستہ آہستہ ترقی کر رہے ہیں۔اب پاکستان نے 22-23 مارچ 2022 کو او آئی سی وزرائے خارجہ کی کونسل کے 48 اجلاس "اتحاد، انصاف، امن، سلامتی اور ترقی کے لیے شراکت داری” کے لیے بلائے تھے۔ پاکستان ہمیشہ OIC کو مسلم دنیا کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ او آئی سی کی اس کانفرنس میں پاکستان نے کشمیر، فلسطین اور افغان انسانی بحرانوں کے پرامن حل کے لیے حمایت کا مطالبہ کیا۔او آئی سی کانفرنس کا ایک اور پہلو ’اسلامو فوبیا‘ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنا تھا کیونکہ یہ قدم پاکستان نے اٹھایا تھا۔

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے 2018 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران یہ اقدام اٹھایا، جس کے نتیجے میں ‘اسلامو فوبیا’ کو مذہبی اور نسلی امتیاز کی ایک شکل کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ روس اور چند دیگر ممالک نے پاکستان کی کوششوں اور اس کے موقف کی تائید کی ہے۔ اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا ہے۔ پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کے کردار کو بیرون ملک اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اس کی شرکت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ہندوستان اور ایتھوپیا کے بعد اقوام متحدہ کی امن کی کوششوں میں فوجیوں کا تیسرا سب سے بڑا تعاون کرنے والا ملک ہے۔ پاکستانی فوجی اب تک 28 ممالک میں 60 مشنز میں حصہ لے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی قیام امن میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔پاکستانی افواج نے ملک میں امن قائم کرنے کے لیے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے ساتھ ایک دہائی طویل جنگ لڑی۔ امن کی خاطر، پاکستان کی حکومت نے طالبان حکومت سے پاکستانی قانون کے دائرہ کار کے تحت پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کرنے کو کہا، لیکن ٹی ٹی پی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ اگرچہ ایک عبوری جنگ بندی کی گئی تھی لیکن ان کے سخت مطالبات کی وجہ سے اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔پاکستان کی امن کے لیے کوششوں اور عزم کا اندازہ جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست کے طور پر اس کے پیشہ ورانہ رویے سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے اس اہم وقت پر بہت اچھی طرح سے حالات کو سنبھالا، جب 9 مارچ 2022 کو بھارت سے پاکستانی علاقے میاں چنوں میں ایک میزائل داغا گیا۔ جوہری فلیش پوائنٹ کئی بھارتی مصنفین اور دفاعی ماہرین نے واقعے کے بعد پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ "سوشانت سنگھ” ایک ہندوستانی مصنف ہے جس نے لکھا ہے کہ "ذرا تصور کریں کہ اگر کوئی میزائل ہندوستانی سرزمین پر گرا ہوتا اور پاکستانی فریق "حادثاتی فائرنگ” کا دعویٰ کرتا تو کیا ہندوستانی سیاسی قیادت اور میڈیا اس وضاحت کو قبول کر لیتا؟پاکستان نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں امن چاہتا ہے، امن کے لیے پاکستان اپنی صلاحیت اور بوجھ سے بڑھ کر سب کچھ کر رہا ہے۔ اب پاکستان محفوظ ہے، اور پاکستان میں سیاحت اور بین الاقوامی کرکٹ واپس آگئی ہے۔ غیر ملکی کہیں بھی جا سکتے ہیں اور بے خوف رہ سکتے ہیں۔ پاکستان کی امن کی خواہش کا مطلب پاکستان کی کمزوری نہیں ہے۔ یہ وہ خواہش ہے جو سرحد پار بسنے والے لاکھوں لوگوں کی ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے امن کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ بھاری قیمت ادا کی ہے۔

  • برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    لندن: برطانیہ میں نورفوک کے ساحل پر ڈوبنے والے جہاز ایچ ایم ایس گلوسیسٹر کوبالآخر 340 سال بعد دریافت کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ” ڈیلی میل "کے مطابق ایک شاہی جنگی جہاز کا ملبہ جو 340 سال قبل مستقبل کے بادشاہ جیمز II کو لے کر ڈوب گیا تھا اسے شوقیہ غوطہ خوروں نے دریافت کیا ہے نارفولک کے ساحل پر ایچ ایم ایس گلوسٹر کی دریافت کو 1970 کی دہائی میں میری روز کی دریافت کے بعد سب سے بڑی سمندری تلاش کے طور پر سراہا گیا ہے۔

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

    6 مئی 1682 کو یہ دیو ہیکل جہاز نورفوک میں بحیرہ نارتھ کے جنوب میں ایک ریت کے ٹیلے سے ٹکرانے کے بعد غرقاب ہوا تھاجہاز کو گریٹ یرماؤتھ کے ساحل سے 28 میل کے فاصلے سے دریافت کیا ہے جہاں یہ آدھا سمندر کی سطح میں دھنسا ہوا تھا لیکن اس تلاش کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

    ملبے کو تلاش کرنے کی کوششیں، بھائیوں جولین اور لنکن بارن ویل کی قیادت میں، 5,000 سمندری میل پر محیط چار سال کی تلاش کے بعد کامیاب ثابت ہوئی۔

    جہاز پر موجود نوادرات کی نمائش کے لیے منصوبے جاری ہیں جنہیں زمین پر لایا گیا ہے، بشمول کپڑے، شراب کی بوتلیں اور جہاز کی گھنٹی، جو حتمی طور پر اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے کہ یہ ملبہ گلوسٹر تھا۔

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    یہ نمائش جو مشترکہ طور پر یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا اور نورفولک میوزیم سروس کے ذریعہ تیار کی گئی ہے – اگلے سال موسم بہار سے نورویچ کیسل میوزیم اور آرٹ گیلری میں پانچ ماہ کے لیے منعقد کی جائے گی-

     

    جہاز خود بکھرا ہوا ہے اور اب بھی سمندری فرش پر ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال باقیات کے کسی حصے کو زمین پر لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    ایچ ایم ایس گلوسیسٹر برطانوی سیاسی تاریخ میں ایک ‘تقریباً’ لمحے کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ اس نے پروٹسٹنٹ تخت کے کیتھولک وارث کی موت کے قریب سیاسی اور مذہبی تناؤ کے وقت ہوا تھاجیمز سٹورٹ، بعد میں انگلینڈ کے جیمز II، جو برطانیہ کے آخری کیتھولک بادشاہ ہوں گے، ڈوبنے سے بچ گئے لیکن تقریباً 250 ملاح اور مسافر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس کی بڑی وجہ اس کے اعمال تھے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    جیمز بمشکل زندہ بچ سکے، آخری لمحات تک جہاز کو چھوڑنے میں تاخیر کرتے ہوئے، جہاز میں موجود 130 سے ​​250 کے درمیان لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جو پروٹوکول کی وجہ سے، رائلٹی سے پہلے جہاز کو ترک نہیں کر سکے۔

    ایچ ایم ایس گلوسیسٹر کا شمار ان ہزاروں جہازوں میں ہوتا ہے جن کا ملبہ برطانوی ساحلوں پر پھیلا ہواہے اور ان میں سے اکثریت کو صدیوں سے انسانی آنکھ نے نہیں دیکھا ہے ہِسٹارک انگلینڈ کے مطابق برطانیہ کے ساحل پر اندازاً 40 ہزار جہازوں کا ملبہ دریافت کیے جانے کے انتظار میں ہے۔

    لیکن ان میں کم از کم 90 ایسے ہیں جن کی موجودگی کے متعلق علم ہے اور ماہرین نے ان کی اصل جگہوں کا تعین کیا ہے۔ البتہ ان میں کئی جہاز ایسے ہیں جو زمین پر نہیں لائے جاسکیں گے اور آئندہ دہائیوں میں ان کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

  • 6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    کیرالہ: بھارت میں ایک مرغی نے 6 گھنٹوں کے دوران 24 انڈے دے کر سب کو حیران کر دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ کے ایک گاؤں میں پولٹری ماہرین اس وقت حیران رہ گئے، جب انہیں پتا چلا کہ ایک آٹھ ماہ کی مرغی نے 6 گھنٹے کے دوران 24 انڈے دیئے ہیں۔

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    جانور پالنے والوں خصوصا پولٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی بات ہےمرغی نے جب انڈے دینا شروع کیے تو یہ سلسلہ جاری ہی رہا اور وہ انڈے دینے کی رفتار دیکھ کر حیران رہ گئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مرغی کے مالک نے صبح کے وقت اسے لنگڑاتا دیکھ کر اس کی ٹانگوں پر تیل لگایا تھا، جس کے بعد وہ حیرت انگیز طور پر مسلسل انڈے دینے لگی یہ خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 6 گھنٹے میں 24 انڈے دینے والی مرغی اب ایک مشہور اسٹار بن چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ متعلقہ حلقوں کے علاوہ دنیا بھر میں اس کے چرچے ہیں۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی ریاست کرناٹک سے بھی ایک دلچسپ خبر سامنے آئی تھی، جس کے مطابق مرغی نے کاجو کی شکل کے انڈے دیئے تھے یہ واقعہ جنوبی کنڑ ضلع کے بیلتھنگڈی تعلقہ میں واقع لیلا گاؤں میں پیش آیا۔ مرغی نے خاص کاجو کی شکل کے دس انڈے دئیے۔

    ابتدائی طور پر جب گھر والوں نے پہلا انڈا دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔ لیکن، انہوں نے اس کے بارے میں کچھ کرنے سے پہلے ایک اور دن انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسلسل تین دن گزرنےکےبعد بھی مرغی کاجو کی شکل کے انڈے دیتی رہی بعد ازاں لوگ اس قدرتی عجوبے کو دیکھنے کے لیے جوق در جوق آنے لگے ہیں۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • ملٹری ڈپلومیسی ،تحریر: کنول زہرا

    ملٹری ڈپلومیسی ،تحریر: کنول زہرا

       حکومت کے ساتھ ملکر پاک فوج,خارجہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے موثر کردار ادا کر رہی ہے, اس لئے وقت فوقتا مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے, اس انعقاد سے دفاعی تعلقات کے ساتھ قومی، اقتصادی اور سفارتی مقاصد کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں, ان ہی کامیاب فوجی تربیت اور مشقوں کے نتیجے میں روس کے ساتھ تعلقات بھی بحال ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند بڑی مشقوں میں درج ذیل شامل ہیں:

    1.. دسمبر 2016 میں پاکستان فوج نے اردن کی فوج کے ساتھ مل کر فجر الشرق مشق کا انعقاد کیا
    2..اکتوبر 2017 اور اکتوبر 2018 میں پاکستان نے برطانیہ میں منعقدہ "مشق کیمبرین پیٹرول” میں گولڈ میڈل جیتے جس میں 31 ممالک کی 134 ٹیموں نے حصہ لیا۔
    3…جون 2017 میں پاک فوج کی ایس ایس جی نے نائجیرین اسپیشل فورسز بٹالین کے ساتھ 8 ہفتوں پر مشتمل انسداد دہشت گردی کی تربیتی مشق کی
    4… پاکستان اور روس کی افواج  کے درمیان مشترکہ مشق DRUZBA 2017 ستمبر  میں روس میں منعقد ہوئی۔
    5.. 2017 میں ہی پاک-سعودی اسپیشل فورسز کی مشترکہ مشق انسداد دہشت گردی مشق ‘الشہاب  کے نام سے ہوئی
    6… دسمبر 2018 میں پاک چین مشترکہ فوجی مشق ‘واریر -VI 2018 کے نام سے ہوئی
    7..جنوری 2020 میں پاکستان نیوی اور پی ایل اے (نیوی) کے درمیان چھٹی دو طرفہ مشق سی گارڈینز-2020 ہوئی
    8… 14 اکتوبر 2020 کو، پاکستان آرمی نے مسلسل تیسری بار برطانیہ کے سینڈہرسٹ میں رائل ملٹری اکیڈمی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی ملٹری ڈرل مقابلہ جیتا جسے پیس اسٹکنگ مقابلہ کہا جاتا ہے۔ پاک فوج نے پہلی بار 2018 میں ایونٹ میں شرکت کی تھی
    9.. پاکستان اور بحرین کی مشترکہ مشق "البدر 2020 فروری کے ماہ میں منعقد ہوئی
    10…  اتاترک-الیون 2021،  ترکی اور پاکستان کے درمیان مشترکہ اسپیشل فورسز کی مشق کا انعقاد بھی ہوچکا ہے
    11.. فروری 2021 میں  پاکستان اور مراکش کے درمیان مشترکہ مشقیں بھی ہوچکی ہیں
    12… اکتوبر 2021۔ میں 46 ممالک  نیول ایکس امن مشق 21 میں حصہ لے چکے ہیں ۔ جس میں امریکہ,  برطانیہ جیسے نیٹو اتحادی اور  روس بھی شامل تھا.
    13..مارچ 2022 میں،  پاکستان اور امریکہ کی فضائی افواج نے ایک مشترکہ مشق، فالکن ٹیلون 2022، پاکستان کے آپریشنل ایئر فورس بیس پر منعقد کی۔
    14..  پاک فوج کی ٹیم نے نیپال میں 18 سے 21 مارچ 2021 تک منعقدہ بین الاقوامی "ایڈونچر مقابلے” میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا ۔ اس مقابلے کا مقصد شرکاء کی جسمانی برداشت اور ذہنی چستی کو جانچنا تھا اور اس میں کراس کنٹری دوڑ، سائیکلنگ اور رافٹنگ شامل تھے۔
      15.. پاکستان آرمی کے زیر اہتمام لاہور میں یکم سے 7 نومبر تک بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا, اس میگا ایونٹ تیسرا بین الاقوامی فزیکل ایگیلیٹی اینڈ کامبیٹ ایفیشنسی سسٹم (PACES) میں چھ ممالک نے حصہ لیا, جن میں عراق، اردن، فلسطین، سری لنکا، ازبکستان اور یو اے ای کے 107 فوجی اہلکار شامل تھے۔ اس تقریب نے پاکستان کو ایک پرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی قوم کے طور پر پیش کرکے وطن عزیز کا حقیقی چہرہ آشکار کیا۔

    16.. 53ویں عالمی ملٹری شوٹنگ چیمپئن شپ (شاٹ گن) 2021 کی تقریب لاہور میں منعقد ہوئی جسے عرف عام میں انٹرنیشنل ملٹری اسپورٹس کونسل کہا جاتا ہے۔ یہ دوسرا موقع تھا جب پاکستان نے انٹرنیشنل ملٹری چیمپئن شپ کا انعقاد کیا۔ جس میں روس، فرانس، سری لنکا، فلسطین، کینیا کے 41 بین الاقوامی شوٹرز سمیت 50 سے زائد شرکاء نے شرکت کی , اس ایونٹ کا مقصد ‘کھیلوں کے ذریعے دوستی’ کا تھا, اس ایونٹ میں ایران آور نیپال کے حکام نے بھی شرکت کی
    17…  نو تا سات مارچ 2022 کو، پانچواں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ (PATS) مقابلہ – پہاڑی قصبے پبی میں واقع نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں منعقد ہوا۔ مقابلے میں آٹھ پاکستانی اور آٹھ بین الاقوامی ٹیموں نے حصہ لیا جن میں اردن، مراکش، نیپال، ترکی، ازبکستان، کینیا، سعودی عرب اور سری لنکا شامل تھے
    دفاعی برآمدات کو بڑھانا
    فوجی سفارت کاری نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی سفارت کاری نے قومی مقاصد کے حصول کے ساتھ  معاشی لنگر اندازی فراہم کرنے میں ریاستی اداروں کی مدد کی, کامیاب فوجی سفارت کاری سے پاکستان کی اسلحے کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا،
    منسٹری آف ڈئفنس پروڈکیشن  کے مطابق، پچھلے پانچ سالوں میں دفاعی برآمدات (تقریباً 60 بلین روپے) اور اندرون ملک سیلز (تقریباً 70 بلین روپے) میں بے مثال اضافہ ہوا ہے۔ سال 2019 میں، پاکستان ائیر کرفٹ کامرہ نے JF-17,  نائجیریا کو 184 ملین امریکی ڈالر میں برآمد کیے اور عراق کو 33.33 ملین امریکی ڈالر کے معاہدے کو حتمی شکل دی, ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے بین الاقوامی مارکیٹ کی 1/3 قیمت پر مقامی طور پر تیار کردہ الخالد ٹینکوں کو تیار کرنے کا کام کیا۔ جس کے بیرونی ممالک سودوں سے قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 6 بلین روپے کا اضافہ ہوا اس کے علاوہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں 8000 ملازمتوں کا موقع فراہم ہوا,

    قیام امن کے لئے پاک فوج کا اقوام متحدہ سے تعلق
    پاکستان امن کا پیامبر ہونے کی وجہ سے اقوام متحدہ کے قیام امن چارٹر کا داعی ہے, پاکستان نے 1960 سے  امن کے قیام کی خاطر اقوام متحدہ کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پاکستانی امن دستوں نے انسانیت کی مدد، اداروں کی تعمیر اور امن کو فروغ دینے کے لئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جسے اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں نے پذئرائی دی, 1960 سے، اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ وابستگی کے دوران، پاکستان کے 200,000 فوجیوں نے خدمات سر انجام دئیں جبکہ 163 فوجیوں نے امن کی خدمت میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔امن کے فروغ کے لیے مسلسل کوششوں کے ساتھ ساتھ، کانگو کے سیلاب میں 2,000 افراد کو بچانے کی پاکستان کی کوشش اور COVID-19 کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی خواتین امن دستوں کی خدمات کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا.پاک فوج کی کاوشوں کی وجہ سے عالمی امن کی کارروائیوں میں تعاون فراہم کرنے میں پاکستان کو پانچواں ملک کا اعزاز دلوایا، اس وقت اقوام متحدہ کے قیام من آپریشن کے تحت مختلف ممالک میں پاکستان کے 4,462 سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں, اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مشنز میں 15% خواتین اسٹاف آفیسرز کو بھی تعینات کیا ہے ۔  جولائی 2019 میں کانگو میں پاک فوج کی خواتین کی ٹیم تعینات کی گئی تھی جس میں 20 افسران شامل تھیں, 26 مئی 2022 کو، اقوام متحدہ کی طرف سے ایک تقریب میں چھ پاکستانی امن فوجیوں کو ایوارڈ دیا گیا۔ جنھنوں نے امن کے حصول کی خاطر جانیں قربان کیں, جن میں طاہر اکرام، طاہر محمود، محمد نعیم، عادل جان، محمد شفیق، اور ابرار سید کا تعلق پاک فوج سے ہے, پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ 13 اگست 2013 کو، اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسلام آباد میں سینٹر فار انٹیل پیس اسٹڈیز  کی افتتاحی تقریب میں کہا تھا کہ سو سے زائد ممالک اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے فوج اور پولیس کے تحت تعاون کرتے ہیں۔ جس میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے۔ پاکستان کی خدمات کو اجاگر کیے بغیر اقوام متحدہ کی امن کاوشیں ناممکن ہیں۔

    اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گیٹریس نے 17 فروری 2020 پاکستانی امن فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا, انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں امن کی کوششوں میں سب سے زیادہ مستقل اور قابل اعتماد تعاون کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان کے خواتین کے امن دستے دیگر ممالک کی فوج  کے لیے اعلی مثال ہیں۔امن کے فروغ اور انسداد دہشت گردی کے لئے کام کرنا پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے, جو قائداعظم محمد علی جناح کے ان الفاظ ‘ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں اور اپنے قریبی پڑوسیوں اور پوری دنیا کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا کسی کے خلاف کوئی جارحانہ منصوبہ نہیں ہے’ کی زندہ مثال ہے۔

    کرتار پور راہداری اور مذہبی سیاحت کا فروغ:
    فرينٹير وركس اورگنائریشن نے کرتارپور کوریڈور تیار کیا، جو پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کو ہندوستان میں گرودوارہ ڈیرہ بابا نانک سے جوڑتا ہے, جس کے نتیجے میں سکھ برادری کے ساتھ پاکستان کے بہتر تعلقات پروان چڑھے اور مذہبی سیاحت کو فروغ ملا۔

    قومی کرکٹ کی بحالی:
    2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا جس کی وجہ سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ پر  پابندی عائد ہوئی, جس میں بھارت کا اہم کردار تھا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان میں کبھی بین الاقوامی کرکٹ دوبارہ شروع نہیں ہو گی۔ مگر الله کے فضل سے پاک فوج کی کوششیں رنگ لائیں اور آسٹریلیا، انگلینڈ اور سری لنکا کی فوجی ٹیموں نے پاکستان آکر اعتماد کا اظہار کیا, دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام خدشات کو دور کرنے کے لیے میچز لاہور، راولپنڈی، پشاور اور حتیٰ کہ وزیرستان میں بھی کرائے گئے۔ سری لنکا پہلا ملک تھا جس نے 2019 کے آخر میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا۔
    ملٹری ڈپلومیسی کی وجہ سے وطن عزیز کو سعودی عرب اور چین سے فوری امداد ملی, چین کی جانب سے حالیہ دو ارب ڈالر کی امداد بھی فوجی سفارت کاری کی کامیابی ہے
    اسی طرح فوجی قیادت نے سعودی عرب اور چین کو اعتماد میں لیکر قرضوں کی ادائیگی پر قائل کیا ہے۔  حال ہی میں 31 مئی 2022 کو، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کہنے پرمحمد بن سلمان تین بلین کی رقم واپس لینے کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا ہے.

  • بھارت کی اسلحے کی دوڑ اور غیر محفوظ ایٹمی پروگرام

    بھارت کی اسلحے کی دوڑ اور غیر محفوظ ایٹمی پروگرام

     

    بھارت اپنی عسکری اور معاشی طاقت کے بل بوتے پر خطے میں ایک غالب طاقت بننا چاہتا ہے۔ جب کہ پاکستان اپنے پڑوسی کی دھمکیوں میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ پاکستان نے تزویراتی توازن کو بدلنے کے لیے بھارت کی کارروائی کے جواب میں ہر ممکن کوشش کی۔ 1962 میں چین بھارت جنگ کے بعد بھارت نے اپنی مسلح افواج کو جدید بنانا شروع کیا اور اسی چیز نے پاکستان کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ بھارت روس، امریکا، فرانس اور اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری میں اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اسلحے کی خریداری پر اس غیر معمولی اخراجات نے خطے میں ایک مکمل خطرے کا ماحول پیدا کر دیا ہے اور علاقائی ممالک میں خاص طور پر پاکستان کے لیے عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے۔ روس کئی دہائیوں سے بھارت کو ہتھیار فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے۔

    "اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوشن کے مطابق، 2012 سے 2016 کے درمیان، روسی اسلحے کی درآمدات ہندوستان کی کل اسلحے کی درآمدات کا 68 فیصد بنتی ہیں”۔ 2016 میں برکس سربراہی اجلاس میں، روس اور بھارت کے درمیان پانچ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری کے معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ ابتدائی طور پر، ہندوستانی حکومت نے روس کو پیشگی ادائیگی کے طور پر 800 ملین ڈالر ادا کیے ہیں اور توقع کی جارہی تھی کہ ہندوستان کو S-400 میزائل سسٹم کی پہلی کھیپ 2021 کے آخر میں ملے گی لیکن ابھی تک نہیں ملی۔ معاہدے کے مطابق تمام یونٹس کی حتمی ترسیل اپریل 2023 تک ہندوستان پہنچ جائے گی۔ S-400 ایک ایسا موبائل پلیٹ فارم ہے جو لڑاکا طیارے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ایک ساتھ آٹھ میزائل داغ سکتا ہے۔ اس کا ریڈار 600 کلومیٹر دور تک کسی طیارے کا پتہ لگا سکتا ہے اور اس کے میزائل 400 کلومیٹر آگے تک ہدف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ S-400 عملی طور پر زیادہ تر پاکستان کا احاطہ کرے گا، جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی جنگی طیارے کسی بھی بھارتی جارحیت کے خلاف زیادہ کمزور ہو جائیں گے۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ S-400 کی تین بیٹریاں پاکستان کے ساتھ اپنی مغربی سرحد پر اور دو بیٹریاں چین کے ساتھ اپنی مشرقی سرحد پر لگائیں۔ S-400 نصب کرنے کا بنیادی مقصد ہندوستان کی اہم تنصیبات جیسے جوہری پلانٹس، مواصلاتی مراکز اور اہم شہروں کی حفاظت کرنا ہے۔ روس کے ساتھ S-400 معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ‘پرانے دوست’ کے بیانیے نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔S-400 کو دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں ڈرون، میزائل، راکٹ اور یہاں تک کہ لڑاکا طیاروں سمیت تقریباً ہر قسم کے فضائی حملوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس نظام کا مقصد کسی خاص علاقے پر ڈھال کے طور پر کام کرنا ہے، جو زمین سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل سسٹم ہے۔ S-400 مداخلت کرنے والے ہوائی جہاز، بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں، کروز میزائل اور بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہر یونٹ میں دو بیٹریاں ہوتی ہیں، جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، ایک سرویلنس ریڈار، اور انگیجمنٹ ریڈار اور چار لنچ ٹرک ہوتے ہیں۔ مزید برآں، یہ بیک وقت 80 اہداف کو ٹریک کر سکتا ہے اور اسے پانچ منٹ میں آپریشنل بنایا جا سکتا ہے۔

    S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم حاصل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت خطے میں بالخصوص پاکستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ یہ ہندوستانی تسلط پسندانہ ڈیزائن نہ صرف ملکوں کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک ماحول کو بدل دے گا، جو پہلے ہی ہندوستان کے جارحانہ اور جنگجوانہ رویے کے سائے میں ہے۔ اس سے جنوبی ایشیا کی دیگر ریاستوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوگا۔ دوسری طرف S-400 کی خریداری بھارت کو پاکستان کے خلاف مزید جارحیت کرنے اور پاکستان کے خلاف بالاکوٹ قسم کے فضائی حملے کرنے پر اکسائے گی۔ اگرچہ ہند-روس S-400 معاہدہ ہند-امریکہ تعلقات میں تشویش کا ایک بڑا سبب بن گیا ہے، امریکہ کی طرف سے پابندیوں کا مقابلہ کرنے والے امریکہ کے مخالفوں کے ذریعے پابندیوں کے قانون (CAATSA) کے تحت دھمکیاں دینے کے ساتھ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکہ S-400 سسٹم کی خریداری پر بھارت پر پابندیاں نہیں لگائے گا کیونکہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں اور بھارت کے ذریعے امریکہ چین پر قابو پانا چاہتا ہے۔ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ہندوستان اپنا پیٹریاٹ میزائل سسٹم حاصل کرے لیکن S-400 نہ صرف پیٹریاٹ سے سستا ہے بلکہ ٹیکنالوجی میں بھی ترقی یافتہ ہے۔ جنوبی ایشیاء کی سلامتی کی صورتحال ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کی خصوصیت رکھتی ہے۔ ایک ریاست کے عروج کا مطلب دوسری ریاستوں کا زوال ہے۔ بھارت روس S-400 معاہدے کے پاکستان پر اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ یہ بھارت کے خلاف پاکستان کی ڈیٹرنس صلاحیت کو کم کر سکتا ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان عدم توازن بھی پیدا ہوگا۔ اس قسم کی ٹیکنالوجی حاصل کر کے یہ بھارت کے خلاف پاکستان کی ایٹمی ڈیٹرنس کو کم کر سکتا ہے۔ اب بھارت پاکستان کے خلاف خطرات بڑھا سکے گا۔

    بھارت کے آنے والے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو خطے میں طاقت کی توازن برقرار رکھنے کے لیے جوابی اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ چیز پاکستان کو S-400 صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سپرسونک اور ہائپرسونک میزائل جیسے دیگر متبادل آپشنز پر غور کرنے پر مجبور کرے گی کیونکہ وہ اس قسم کے میزائلوں کو روکنے سے قاصر ہے۔S-400 دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کو مزید بھڑکا دے گا۔ یہ بھارت کو یہ سوچنے پر بھی تنازعہ بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی قسم کے فضائی حملے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے حالات بڑے تنازع کو جنم دیں گے جس کے خطے کے لیے غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارت کا حد سے زیادہ اور غیر معقول رویہ دو جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے درمیان بڑے تنازع کو جنم دے سکتا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگا۔9 مارچ 2022 کو بھارت کی جانب سے پاکستانی علاقے میاں چنوں میں میزائل فائر ایک بے مثال واقعہ تھا جس کی ایٹمی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگرچہ اس سے عمارت کے نقصان کے علاوہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔بھارت اور دنیا ہمیشہ یہ پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے۔ اب دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ بھارت کے پاکستان پر میزائل فائر کرنے کے بعد ایٹمی پروگرام کس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہ ربڑ کی گولی نہیں میزائل ہے جو غلطی سے دوسرے ملک میں داغا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت کا ایٹمی پروگرام پیشہ ور افراد کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر میزائل داغنے کے غیر قانونی اقدام کے بعد اب دنیا کو پرسکون، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر پاکستان کی تعریف کرنی چاہیے۔دنیا کو روس سے S-400 میزائل سسٹم حاصل کرنے سے پہلے بھارت کا جارحانہ رویہ بھی دیکھنا چاہیے اور S-400 میزائل سسٹم لگانے کے بعد اس کا رویہ کیا ہوگا، یہ ایک بڑا سوال ہے؟ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ذہن سازی، جارحانہ اور جارحانہ رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ واقعہ اب ہندوستانی میزائل سسٹم کی حفاظت پر خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے۔ بھارت واقعے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ رابطہ کرے اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ مشترکہ تحقیقات کا آغاز کرے۔بھارتی حکام نے اسے "تکنیکی خرابی” قرار دیا جو کہ "انتہائی افسوسناک” ہے۔ "سوشانت سنگھ” ایک ہندوستانی مصنف ہے جس نے لکھا ہے کہ "ذرا تصور کریں کہ اگر کوئی میزائل ہندوستانی سرزمین پر گرا ہوتا اور پاکستانی فریق "حادثاتی فائرنگ” کا دعویٰ کرتا تو کیا ہندوستانی سیاسی قیادت اور جہانگیر میڈیا اس وضاحت کو قبول کرتا؟اب عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ کو اس میزائل فائر کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے اس نازک وقت میں بہت اچھی طرح سے حالات کو سنبھالا اور دونوں ایٹمی ہتھیاروں والی ریاستوں کو ایٹمی فلیش پوائنٹ سے محفوظ رکھا۔

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    شُہداء، غازیوں اوراُن سے جُڑے تمام رِشتوں کو سَلام،آئی ایس پی آر کی نئی ویڈیو جاری

    بھارت کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی،ترجمان پاک فوج کا بڑا اعلان

    فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا، بھارتی وزارت دفاع

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

    بھارتی میزائل کا پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ،چین کا تحقیقات کا مطالبہ