Baaghi TV

Category: متفرق

  • انصاف کی اندھی دیوی،تحریر:انعم شیخ

    انصاف کی اندھی دیوی،تحریر:انعم شیخ

    انصاف کی اندھی دیوی،تحریر:انعم شیخ
    کسی بھی ریاست کو کامیاب بنانے کیلئے مضبوط نظام عدل انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں انصاف سستا اور فوری ملتا ہے اس میں قانون کی بالادستی موجود ہوتی ہے۔ امیر اور غریب کیلئے حدود اور اصول برابر ہوتے ہیں۔ریاست ہر خاص و عام کیلئے ماں کا کردار ادا کرتی ہے لیکن جہاں منصف اپنے عہدے سے بے وفائی کرے، جہاں عدل کرنے والا انصاف کا قتل کرے, اُس معاشرے سے اخلاقیات، امن ، قانون اور استحکام کا خاتمہ ہوجاتا ہے، ریاستیں ٹوٹ جاتی ہے، خانہ جنگی جنم لیتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان جو ایک بڑا فرق ہے وہ مضبوط نظام عدل کا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کو تیسری دنیا سے تعبیر کرنے کی ایک بڑی وجہ کمزور اور ناقص عدالتی نظام بھی ہے اور بدقسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں آئے روز انصاف کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔
     پاکستان میں جہاں مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی ہے وہاں آٹا دال چینی کے پچاس روپے زیادہ ہونے پر تو ہم میڈیا پر اودھم مچا دیتے ہیں لیکن کسی اُس مظلوم کی آہیں اور سسکیاں ہماری سماعت تک نہیں پہنچتی جو انصاف کے لیے اپنی تمام جمع پونجی لٹا کر بھی ظالم کے خلاف ہر روز ہار جاتا ہے۔ اُس غریب کی آہ و بکا سننے والا کوئی نہیں جو طاقتور کے خلاف چیخ چیخ کر خود کو ہلکان کر لیتا ہے کیونکہ وہ ایک کمزور ہے اور اس ملک میں کمزور کی آہ و پکار طاقت کی ایوانوں تک نہیں پہنچتی کیونکہ اس کی گویائی کو منصف کے بلند منصب تک پہنچنے کے لیے مال و زَر کی اُڑان بھرنی پڑتی ہے جو اس غریب کے بس سے باہر ہے اور یہی وجہ ہے کہ انصاف کی اندھی دیوی اکثر و بیشتر ناانصافی کر جاتی ہے۔ 
    پاکستان میں عام شہری تھانے کورٹ کچہری کے نام سے بھی خوف کھاتا ہے اس لیے جرائم کے آدھے سے زیادہ واقعات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور مظلوم چپ کر کے ظلم سہنے میں ہی خیر جانتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پچاس ہزار سے زائد کیسز زیر التوا ہے جبکہ ہائی کورٹس اور دیگر میں لاکھوں مقدمات کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہزاروں مقدمات ایسے ہیں جن کا فیصلہ آنے تک یا تو مظلوم رزق خاک بن چکے ہوتے ہیں اور ان کی انگلی نسلیں پیشیاں بھگت رہی ہوتی ہیں۔

    حضرت علی کا قول ہے کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نہیں۔ ہم مغرب کی برائیوں کا تو اکثر ذکر کرتے ہیں لیکن ان باتوں پر کبھی غور نہیں کرتے جو ان تمام تر برائیوں کے باوجود مغرب کی ترقی کا راز ہے جن میں سب سے بڑا راز عدل و انصاف کی فراہمی ہے۔ قانون کی حکمرانی کے لحاظ سے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لا انڈیکس 2021 کے مطابق پاکستان 139 ممالک میں سے 130 ویں نمبر پر ہے۔ کس قدر شرم کی بات ہے کہ غیر اسلامی ممالک انصاف کی فراہمی میں اسلام کے نام پر قائم پاکستان کو مات دیتے ہیں۔ سوچئیے آخر کیوں؟ کیونکہ یہاں لا قانونیت راج کرتی ہے۔ یہاں جج صاحبان سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں یا تو بک جاتے ہیں یا بلیک میل ہوتے ہیں، یہاں وکلا ہسپتالوں پر حملے کرتے ہیں یا عام شہریوں کو سر عام تھپڑ رسید کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنے خلاف فیصلے آنے پر خود ججز پر ہی چڑھ دوڑتے ہیں، یہاں بار کونسلز اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو کر سیاست میں ملوث ہیں۔ ایسے میں غریب کا پرسان حال کون ہو گا؟

    تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں عدالتوں کی تاریخ ہمیشہ متنازع رہی ہے۔ اعلی عدلیہ کے بڑے بڑے فیصلوں پر آج بھی سوالیہ نشان کھڑے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو آج بھی جوڈیشل کلنگ کہا جاتا ہے۔جج ارشد ملک کے متنازع بیانات نے نواز شریف کو پانامہ کیس میں سزا پر آج بھی سوالیہ نشان کھڑا کیا ہوا ہے۔ حدیبیہ پیپر کیس آج بھی کئی شکوک و شبہات کی زد میں ہے جبکہ اگر ججز کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں کیسے کیسے قابو کرتی رہی ہیں۔ سابق جج افتخار چودھری کو تاریخ کا متنازع ترین جج مانا جاتا ہے۔ سابق جج ارشد ملک کا بلیک میل کر کے من پسند فیصلے کروائے جانے کا بیان بھی ہمارے سامنے ہے۔ سابق جج ملک قیوم کو شہباز شریف کی جانب سے بذریعہ فون بے نظیر بھٹو اور زرداری کے مقدمات کے فیصلے سے متعلق ہدایات دی جاتی تھی۔

    سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیانات کی روشنی میں رفیق تارڑ، سیف الرحمن، شہباز شریف اور کیپٹن صفدر ججوں سے انکے گھروں پر جا کر ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ حال ہی میں سابق جج رانا شمیم کے بیان حلفی کی سپریم کورٹ میں اڑتی ہوئی دھجیاں بھی ہمارے سامنے ہیں اور رانا شمیم کی ماضی میں نون لیگ سے سیاسی وابستگیاں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ اگر کوئی جج ان سیاستدانوں سے قابو نا ہو تو پھر اسکے ساتھ وہی ہوتا ہے جو سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ہوا جب نون لیگ نے سپریم کورٹ پر حملہ کر کے سجاد علی شاہ کو نشانہ بنایا اور پھر وہی ہوتا ہے جو سپریم کورٹ کے جج اعجاز الاحسن کے ساتھ ہوا جب ماڈل ٹاؤن میں انکے گھر پر نامعلوم افراد نے دو بار فائرنگ کی اور ان مجرموں کا سراغ آج تک نہ لگایا جا سکا اور پھر وہی ہوتا ہے جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ ہو رہا ہے، کبھی ان پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی انکے خلاف جعلی آڈیوز نکالی جاتی ہیں اور اگر ہمیں یاد ہو تو جنوری 2018 میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد کے بیٹے سعد گلزار کی گاڑی پر بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کی اور اس کے علاوہ متعدد بار معزز جج صاحبان پر نہ صرف حملے ہوئے بلکہ کئی جج ان حملوں میں شہید بھی ہوئے۔ غرض یہ کہ اس نظام عدل میں انصاف ممکن کیونکر ہو گا جہاں خود منصف ہی محفوظ نہیں؟ جہاں بیرسٹر خدیجہ صدیقی پر خنجر سے تئیس وار کرنے والے اقدام قتل کے مجرم کو ساڑھے تین سالوں میں ہی رہا کر دیا جائے، جہاں شاہ رخ جتوئی جیسے سفاک قاتل پر عدالت کو ترس آ جائے، جہاں ایان علی کی منی لانڈرنگ عیاں کرنے والے ایماندار کسٹمز انسپکٹر اعجاز کو ایمانداری کی قیمت اپنی جان دے کر چکانی پڑے، جہاں ماڈل ٹاؤن میں دن دیہاڑے ریاستی دہشت گردی میں چودہ شہدا کے لواحقین آج بھی انصاف کے متلاشی ہوں، جہاں صحافی عزیز میمن اور ناظم جوکھیو کو حق بولنے کی سزا میں قتل کر دیا جائے، جہاں ایک نہتی بیٹی اُم رباب چانڈیو ننگے پاؤں اپنے دادا، والد اور چچا کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ہر منصف کے در پر ایڑھیاں رگڑے اور چار سال گزرنے کے بعد بھی اسکو تاحال انصاف نا مل پائے جبکہ قاتل، لٹیرے اور بدمعاشوں کو عدالتوں سے رعایتیں بھی مل جائیں اور ضمانتیں بھی میسر ہوں تو اس معاشرے میں ہر نئے دن ظاہر جعفر بھی پیدا ہونگے اور عثمان مرزا بھی منظر عام پر آئیں گے۔ ریاست کو ہر طاقتور مجرم کو کچلنا ہو گا ورنہ وہ دن دور نہیں جب فیصلے سڑکوں چوکوں اور چوراہوں پر عوام خود کرے گی بالکل اسی طرح جس طرح ایک ماں پروین اختر نے عدلیہ سے مایوس ہو کر اپنے بیٹے کے مبینہ قاتلوں کو اپنی ہی عدالت میں سزائے موت سنا کر سات سال بعد قتل کر ڈالا تھا۔ اختتام بس فیض احمد فیض کے اس مصرعے پر کرنا چاہوں گی۔
     
    مِٹ‌ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
    منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں‌ نہیں‌ دیتے
     
     

  • "خاک میں مل گئے نگینے لوگ "تحریر : تابش عباسی

    "خاک میں مل گئے نگینے لوگ "تحریر : تابش عباسی

    بابا اشفاق احمد کہا کرتے تھے کہ ” پتر سب نے ہی مر جانا ، اگر ژندہ رہنا تو اس نے جو لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا” -یوں تو میں دنیا میں ہر روز ہی کئی لوگ پیدا ہوتے ہیں اور کئی مرتے ہیں پر چند ایک ہی ایسے ہوتے ہیں جن کے آنے کی خوشی اور جانے کا غم سب کو ہی ہوتا ہے ۔29 جنوری 2022 کا دن بھی ایک ایسا ہی دن تھا ، جو کہ آزاد کشمیر و ضلع کوٹلی کی عوام کے لیے بالعموم اور کھوئیرٹہ کی عوام کے لیے بالخصوص ایک ایسے نقصان اور دکھ کی خبر لے کر آیا جس کا ازالہ شاید کئی عشروں تک ممکن نہ ہو –

    کھوئیرٹہ کے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے والے راجہ اقبال سکندر خان کی وفات کی خبر جہاں جہاں بھی پہنچی ، لوگوں کو سوگوار ہی کرتی گئی ۔
    دنیا میں بہت کم لوگ ہی ایسے پیدا ہوتے ہیں جو سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوں اور عاجزی و انکساری کی اعلی مثال بھی ہوں – راجہ اقبال سکندر خان ( المعروف پہاجی) بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھے –

    ان کی تربیت ہی ایسے گھرانے میں ہوئی تھی جہاں عاجزی و انکساری ، مہمان نوازی اور دوسروں کی مدد کا جزبہ گویا بچپن سے ہی بچوں کی تربیت میں شامل ہوتا تھا -جاگیردار گھرانے کے سپوت ہونے کے باوجود راجہ اقبال سکندر خان صاحب اس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ اگر دنیا میں اور لوگوں میں ہمیشہ زندہ رہنا ہے تو اس کے لیے مال و دولت یا زمینوں کی نہیں ، بلکہ اعلی اخلاق کی ضرورت ہے –

    خواہ آپ کے دوست و ہمدرد ہوں یا سیاسی مخالفین ، سب اس بات پر اتفاق کرتے نظر آتے ہیں کہ مرحوم کی وفات کے بعد ایسا خلا بن چکا ہے جو شاید کبھی بھی پر نہ ہو۔
    1975 میں جب حکومت پاکستان نے کشمیر ڈویلپمنٹ کوآپریٹو بینک بنایا تو آپ اس میں افسر منتخب ہوئے پر یہ بینک 1977 میں حکومت پاکستان میں تبدیلی کے ساتھ ہی بند ہو گیا -اس کے بعد سال 1979 میں راجہ اقبال سکندر خان مرحوم نے سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا – 1979 میں آزاد کشمیر کے بلدیاتی انتخابات میں ممبر ضلع کونسل کا الیکشن لڑ کر ممبر منتخب ہوئے-

    1983 کا الیکشن اس حوالے سے یادگار رہا کہ اس میں راجہ محمد نثار خان صاحب آپ کے مخالف لڑے پر کامیابی نے پھر راجہ اقبال سکندر خان صاحب کے قدم چومے – تیسرا الیکشن 1987 ، جبکہ چوتھا 1992 میں لڑا اور جیت کر چیئرمین ضلع کونسل بنے -1996 تک آپ چیئرمین ضلع کونسل رہے اور یہ آخری موقع تھا جب کہ آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے -آزاد کشمیر کی سیاست میں یونیورسٹی کا درجہ رکھنے والے مرحوم سردار سکندر حیات خان بھی راجہ اقبال سکندر خان صاحب کی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔ اس کا عملی ثبوت 2006 میں دیکھنے کو ملا ، جب سردار سکندر حیات خان صاحب نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا ٹکٹ لا کر راجہ اقبال سکندر خان صاحب کو گھر دیا ، مگر راجہ اقبال سکندر خان صاحب نے 2006 کے عام انتخابات کے لیے ٹکٹ راجہ نثار علی خان صاحب کو دیا اور ان کی بھرپور حمایت بھی کی –
    جب پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت آزاد کشمیر میں بنی تو راجہ اقبال سکندر خان کا نام اس حکومت کے اہم ترین لوگوں میں ہوتا تھا -مگر چند ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر اور عوام علاقہ کے بھرپور اصرار پر 2021 کے عام انتخابات میں راجہ اقبال سکندر خان صاحب نے اپنے چھوٹے بیٹے ایڈوکیٹ راجہ شاداب سکندر خان کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑایا –
    آپ کے ایک فرزند راجہ شہریار سکندر خان اس وقت آزاد کشمیر پولیس میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں ۔
    آپ کی اولاد میں موجود عاجزی و انکساری آپ کی تربیت اور اعلی اخلاق کی بہترین مثال ہے ۔

    راقم کی راجہ اقبال سکندر خان صاحب سے دو ملاقاتیں ہوئیں ۔ ان ملاقاتوں میں پل کا کردار میرے دوست و بھائی ایڈوکیٹ راجہ تیمور علی خان صاحب (یہ راجہ اقبال سکندر خان صاحب کے بھتیجے اور راجہ قیصر صاحب کے فرزند ہیں) کا تھا ۔ جامعہ میرپور میں یونیورسٹی فیلو ہونے کی وجہ سے راجہ تیمور صاحب کے ساتھ کھوئیرٹہ جانے کا موقع ملا – پر راجہ اقبال سکندر خان صاحب سے ملاقات کر کے کبھی ایسا نہیں لگا کہ کسی روایتی "جاگیردار” کے پاس بیٹھا ہوں یا پھر یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ مرحوم راجہ اقبال سکندر خان صاحب پیدا جاگیردار گھرانے میں ہوئے تھے پر درویشی کے اعلی درجے پر فائز تھے –
    اللہ تعالیٰ سے دعا کہ اللہ تعالیٰ راجہ اقبال سکندر خان صاحب کی بخشش فرمائیں ، اور مرحوم کی انے والی تمام منازل آسان فرمائیں – اللہ تعالیٰ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائیں

  • روس اور یوکرین تنازع،عالمی جنگ کا خدشہ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    روس اور یوکرین تنازع،عالمی جنگ کا خدشہ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    اس وقت روس اور یوکرین تنازع کو بہت زیادہ ہوا دی جا رہی ہے انٹرنیشنل میڈیا اس پر زور و شور سے رپورٹنگ کر رہا ہے۔ روس نے جنگ سے متعلق خبروں کو بہت بار مسترد کیا ہے اور جہاں تک یوکرین کا تعلق ہے تو اس کے لئے ویسے ہی یہ ممکن نہیں کہ وہ خود سے جنگ میں پہل کر سکے۔ لیکن مغرب اور اس کے اتحادی جس زور و شور سے اس تنازعہ پر بیانات دے رہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ روس اور یوکرین سے زیادہ دوسرے ممالک چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ جنگ چھڑ جائے اور پھر وہ اس جنگ کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر یہ بات یہاں تک نہیں رکے گی بلکہ کئی دوسرے ممالک بھی تنازعوں کی لپیٹ میں آئیں گے اور یہ دنیا تیسری جنگ عظیم کی طرف جا سکتی ہے۔
    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی اصل صورتحال کیا ہے؟
    بارڈر پر فوجیوں اور اسلحہ کی تعداد بڑھانے کی وجہ کیا واقعی جنگ کی تیاری ہے؟
    وہ کون سے ممالک ہیں جو یہ جنگ کروانا چاہتے ہیں؟
    اس پر تو آج کی ویڈیو میں بات کریں گے ہی لیکن اگر آپ نے ابھی تک اس چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو ضرور کر لیں اور بیل آئیکون کو بھی ضرور پریس کیجئیے گا تاکہ آنے والی تمام ویڈیوز کا نوٹیفکینشن آپ کو بروقت ملتا رہے۔
    اس وقت روس اور یوکرین تنازع کو کئی ممالک کی طرف سے بہت زیادہ اچھلا جا رہا ہے حالانکہ روس شروع دن سے کہہ رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
    اس کے علاوہ یوکرین کے صدر Volodymyr Zelenskyکا بھی کہنا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے حالیہ سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ وہ ایک ملک ہے جوچاہتا ہے کہ یہ تنازع ختم ہونے کی بجائے کسی جنگ کی صورت اختیار کرلے امریکی صدر جو بائیڈن بار بار یہ اعلان کر رہے ہیں کہ یہ مخصوص امکان موجود ہے کہ اگلے ماہ روس یوکرین پر حملہ کرسکتا ہے۔ اور اگر روس یوکرین میں مداخلت کرتا ہے تو امریکہ اس کے اتحادی اور شراکت دار بروقت ردعمل دیں گے۔ جو بائیڈن نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا ہوا ہے کہ اگر روس نے حملہ کیا تو وہ ذاتی طور پر پیوٹن پر پابندیاں ضرور لگائیں گے۔اب اگر امریکہ کا روس کے خلاف یہ موقف ہے تو اس کا اہم اتحادی برطانیہ کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔ برطانوی وزرا بھی روس کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس کی حکومت نے یوکرین کے خلاف کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو اس کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یوکرین میں روسی فوجی مداخلت ایک بہت بڑی سٹریٹجک غلطی ہو گی جس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ روس کے انکار کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بار بار کیوں جنگ کی باتیں کر رہے ہیں اور روس پر یہ الزام کیوں ہے کہ وہ حملہ کرنے کی تیاری میں ہے اس نے بارڈر پر نفری کی تعداد میں کیوں اضافہ کیا ہے؟ کیوں ان دو ملکوں کے تنازع کو تیسری عالمی جنگ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے؟

    اس وقت اگر روس کے بارڈر پرتعینات فوجیوں اور اسلحہ کی بات کی جائے تو سی این این کے مطابق106000 روسی فوجی تعینات ہیں ان کے علاوہ 21000 بحریہ اور فضائیہ کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی بیان دیا ہے کہ ان کو ملنے والی خفیہ اطلاعات میں یہ واضح ہے کہ60 روسی جنگی گروپ یوکرین کی سرحد پر موجود ہیں جو روس کی کل فوج کا تقریبا ایک تہائی بنتے ہیں۔جبکہ عام حالات میں یہاں صرف35000 روسی اہلکار مستقل بنیادوں پر تعینات ہوتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود روس کی جانب سے بار بار یہی اصرارکیا جارہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے حملے کا ارادہ نہیں رکھتا۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر روس کا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو ایسی خبریں کیوں گردش کر رہی ہیں یا پھر یہ سب تیاریاں کیوں ہو رہی ہیں۔دراصل چند دن پہلے روسی وزارت دفاع نے چند تصاویر جاری کی ہیں جن میں روسی دستوں کو یوکرین کی سرحد کے قریبRoustouvکے تربیتی مرکز کی جانب گامزن دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کچھ دستے ایسے بھی ہیں جو چار ہزار میل دور مشرقی روس سے آئے ہیں۔اور اس تمام Movement
    کی وجہ یہ ہے کہ روس نے اپنے کئی ہزار فوجی مشترکہ عسکری مشقوں میں حصہ لینے کے لئے بیلا روس بھیجے ہیں۔ اور یہ سلسلہ فروری کے آخر تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔ کیونکہ 10 سے 20 فروری کے درمیان روس اپنے مزید فوجی بھی بیلا روس بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روس نے اپنے جدید ترین لڑاکا طیارےSU- 35بھی بیلاروس بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوبائیڈن نے فروری میں روس کی جانب سے حملے کی بات کی ہے۔یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں ایک یہ کہ یوکرین کا دارالحکومت بیلاروس کی سرحد سے سو میل سے بھی کم فاصلے پر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ بیلاروس کے رہنما
    Alexander Lukashenkoروسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حمایتی ہیں۔ جس کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ بیلاروس کے ساتھ جنگی مشقوں کی آڑ میں دراصل روس جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔جبکہ اگر جنگی مشقوں کی بات کی جائے تو ضروری نہیں ہے کہ یہ یوکرین پر حملے کے لئے کی جا رہی ہیں کیونکہ روس تو اسی مہینے دنیا بھر میں بحری مشقیں بھی شروع کرنے والا ہے اور یہ مشقیں بھی تقریبا فروری تک ہی چلیں گی۔ ان میں140 جنگی بحری جہاز اور سپورٹ کشتیاں،60 طیارے، اور تقریبا10000 فوجی اہلکار شامل ہوں گے۔

    جنگی ٹینک، افرادی قوت، اور بکتر بند گاڑیوں کو لے جانے کے قابل چھ روسی بحری جہاز انگلش چینل عبور کر کے عسکری مشقوں کے لیے بحیرہ روم جا رہے ہیں۔ جبکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ روس کے لئے یہ ایک مشکل چوائس ہے کہ وہ یوکرین پر بحری راستے سے آکر زمینی حملہ کرے۔ اس لئے جن مشقوں کو بنیاد بنا کر جنگ کی باتیں کی جا رہی ہیں ان میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی اور اس کے علاوہ بھی جب جنگ کرنا ہو تو فوجیوں اور اسلحے کے علاوہ بھی بہت سی تیاریاں ہوتی ہیں جو ایک ملک کوکرنا ہوتی ہیں جس کی ایک مثال موبائل فیلڈ ہسپتال بھی ہیں اور روس کی طرف سے ایسی کسی تیاری کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔دوسری جانب روس کی مشقوں اور فوجی Movementکے جواب میں امریکہ کی جانب سے چند روز پہلے یوکرین کے لیے90 ٹن کی فوجی امداد بھیجی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر جو بائیڈن نے دسمبر کے مہینے یوکرین کے لئے 20 کروڑ ڈالر کا سیکیورٹی امداد پیکج بھی منظورکیا تھا۔اور اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے جس طرح جنگ کا واویلہ مچایا جا رہا ہے تو آپ خود سوچ لیں کہ ایسی صورتحال میں روس اور اس کے اتحادی کیسے خاموش ہو سکتے ہیں۔اور اس وقت روس کو جو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے وہ چین کی ہے۔اس تنازعہ کے حوالے سے چین کا موقف یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کو اپنی سرد جنگ والی ذہنیت اور نظریاتی تعصبات چھوڑ کر امن اور استحکام کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے جائز سیکیورٹی خدشات پر مکمل غور کریں۔ دشمنی اور تصادم سے گریز کیا جائے اور باہمی احترام کی بنیاد پر مشاورت کے ذریعے اختلافات اور تنازعات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

    اگر حالات کا مکمل ایمانداری کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی جانب سے لڑائی شروع کرنے کا امکان زیادہ ہے اور اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو روس جواب دینے پر مجبور ہو جائے گا۔یہ صورتحال ویسی ہی ہے جیسی2008 کے بیجنگ اولمپکس کے دوران جارجیا میں تھی۔ روس نے اقوام متحدہ کی جانب سے اختیار کیے گئے امن معاہدے کو قبول کر لیا تھا لیکن امریکہ برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے کچھ ممالک نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ویسے بھی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے یہ دیکھا گیا ہے کہ روس زیادہ تر Defenderکے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس لئے مغربی ممالک کو روس پر اتنا دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنے دفاع میں حملہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔لیکن یہاں میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ امریکہ کے لئے یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے کہ وہ روس کے لئے کوئی مشکل کھڑی کر سکے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں بھی اندرونی طور پر ناراضگیاں پائی جاتی ہیں۔
    امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان اپنی سٹریٹجک ضروریات کے حوالے سے بنیادی اختلافات ہیں۔جرمنی اور امریکہ کی انتظامیہ کے درمیان بھی اختلافات موجود ہیں۔ اس لئے جب مغربی طاقتوں کے درمیان پہلے ہی اختلافات اور مختلف معاملات پر رسہ کشی ہو رہی ہے تو ایسی صورتحال میں اگر یوکرین اور روس کا تنازع بڑھا تو یقینا یہ بحران پھر صرف روس اور یوکرین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ امریکہ اور مختلف اتحادیوں کے درمیان موجود دراڑیں بھی سامنے آجائیں گی اور اس سے نئے بحران جنم لیں گے۔ اور اس وقت دفاعی طور پر جس طرح سے تمام ممالک اپنے آپ کو مضبوط کر رہے ہیں جس طرح کی ٹیکنالوجی حاصل کی جا چکی ہیں اس کے بعد یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ کوئی بھی تنازع کسی بھی وقت تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

  • ریستوران جہاں کھانے کے ساتھ ڈرایا بھی جاتا ہے

    ریستوران جہاں کھانے کے ساتھ ڈرایا بھی جاتا ہے

    سعودی عرب میں ایک ریستوران بنایا گیا یے جہاں کھانے کے ساتھ ڈرایا بھی جاتا ہےاس میں زومبیز اور ویمپائرز کی صحبت میں کھوپڑی اور خون کے ساتھ کھانا پیش کیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بولیوارڈ انٹرٹینٹمٹ ڈسٹرکٹ میں واقع’شیڈوز‘ نامی یہ ریستوران ڈراؤنی فلموں اور کھانے کے شوقین افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جہاں وہ اپنی پسند کے کھانوں کا مزہ بھی چکھ سکتے ہیں جب کہ مختلف کپڑوں میں ملبوس عملہ انٹرایکٹو شوز کرتا رہتا ہے۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے گا

    شیڈوز میں آنے والی 26 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ میرے سامنے جب ویٹر ایک تھالی میں کھانے کے ساتھ سیاہ رنگ کی مسکراتی کھوپڑی لے کر آیا تو میری تو بھوک ہی مر گئی” جبکہ ان کا دوست ڈاکٹر جواہر عبداللہ وہاں کھانا کھانے کے لیے بہت بے تاب تھا جبکہ ایک اداکار جس کی چھاتی سے مصنوعی خون بہہ رہا تھا کے ساتھ سیلفی لینے سے پہلے اس ماحول پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ جواہر نے کہا کہ”مجھے عام طور پر ڈراؤنی چیزیں پسند ہیں مجھے لگتا ہے کہ یہاں کا ماحول بہت مزے دار اور دلچسپ ہے۔

    8 بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والا شخص

    45 سالہ تاجر سلیمان العمری کا کہنا تھا: ’ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہاں آئیں کیوں کہ ہم ہمیشہ ریاض میں دلچسپ کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم انٹرٹینمنٹ کی تلاش میں ملک سے باہر جاتے تھےعام طور پر ریستورانوں میں جانے کا مطلب کھانا، پیٹ بھرنا، گپ شپ لگانا اور پھر گھر چلے جانا ہوتا تھا مگر اب ہم کھا بھی رہے ہوتے ہیں، اپنے وقت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور خوفزدہ بھی ہو رہے ہوتے ہیں ۔

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    شیڈوز نامی ریستوران کے مینیجر ماجد العنزی کہتے ہیں کہ ’ہم نے ان اداکاروں کی تربیت کی تھی اور ان کے انداز پر کام کیا تھا۔ ہر وہ چیز سکھائی جو گاہکوں کی تفریح کے لیے ضروری تھی۔ ڈراؤنے پن کا ان کا تجربہ نکھارا اور یقیناً کھانے کا معیار بھی۔‘ انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے ریستوران میں آئے دن لوگوں کی آمد کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

    چین میں پاکستان کے نوادرات کی نمائش

    یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ2017 میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورِ حکومت کے اندر مملکت میں بہت سی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ماضی میں، سعودی شہریوں کو تفریح کے لیے بیرون ملک سفر کرنا پڑتا تھا لیکن اب سماجی تبدیلی کے تحت سنیما گھر کھل چکے ہیں اور مختلف مقامات پر موسیقی کے پروگراموں میں مرد وزن یکسان طور پر محظوظ ہو سکتے ہیں۔

    امریکا میں 6 روز میں ایک ہی اسٹور کو تین مرتبہ لوٹنے والا ڈاکو چوتھی بار گرفتار

  • 8 بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والا شخص

    8 بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والا شخص

    ایک ہی گھرمیں 8 بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والا تھائی لینڈ کا ٹیٹو آرٹسٹ سوشل میڈیا پرمقبول ہوگیا۔

    باغی ٹی وی :یوٹیوب چینل کودیئے گئے انٹرویو میں تھائی نوجوان اونگ ڈیمنے بتایا کہ اس کی 8 بیویاں ہیں، سب ایک ہی گھر میں رہتی ہیں لیکن پھر بھی بہت ہم آہنگ، پرامن اور ایک دوسرے کے ساتھ پیا محبت سے رہتی ہیں-

    ان کی پہلی بیوی سے ایک بیٹا بھی ہےاپنی آٹھ بیویوں سے ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے نوجوان کا کہنا تھا کہ پہلی بیوی سے دوست کی شادی جبکہ دوسری سے بازارمیں ملا۔

    اونگ ڈیم کا کہنا تھا کہ تیسری بیوی سے اسپتال میں، چوتھی، پانچویں اور چھٹی بیویوں سے ملاقات انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک کے ذریعے ہوئی۔ساتویں بیوی مندرمیں اور آٹھویں بیوی سے ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ 4 بیویوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے گیا ہوا تھا۔

    اونگ نے مزید کہا کہ لوگ 8 بیویوں کی وجہ سے مجھے امیر سمجھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ میری ہربیوی اپنا خرچ خود اٹھاتی ہے اونگ کی 8 بیویوں نے اسے مہربان اورخیال رکھنے والا شخص قرار دیا۔

    سسکیٹ صوبے سے تعلق رکھنے والی اونگ ڈیمنے کی پہلی بیوی سپرائٹ نے کہا کہ کچھ عرصہ ساتھ رہنے کے بعد ناتھاپون نے اچانک اسے بتایا کہ انہیں کوئی خاتون پسند آ گئی ہیں تاہم، محترمہ اسپرائٹ ناراضگی یا حسد کا اظہار نہیں کیا بلکہ صرف نرمی سے اپنے شوہر سے پوچھا کہ گھر میں سب کے ساتھ کیسے برتاؤ کیا جائے، خاندان میں ہم آہنگی کا ماحول کیسے برقرار رکھا جائے۔ سپرائٹ نے اپنے شوہر کو دوسری عورتوں سے شادی کرنے پر اعتراض نہیں کیا۔

    دوسری بیوی، محترمہ نونگ ایل، صوبہ ناکھون پاتھوم کے ضلع کامفینگ سین سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے کہا کہ وہ اونگ ڈیمنے کی دلکشی اور مردانگی سے بہت متاثر ہیں۔ دریں اثنا، ان کی تیسری بیوی، نونگ نان نے کہا کہ مسٹر اونگ ڈیمنے ایک خیال رکھنے والے، دوستانہ آدمی ہیں جو بیویوں کو مزید مکمل بننے میں مدد کرتے ہیں۔

    اونگ کی چوتھی بیوی، سونگکھلا شہر سے تعلق رکھنے والی محترمہ نونگ میپرانگ نے بتایا کہ جب وہ اس عجیب و غریب خاندان میں داخل ہوئیں تو وہ واقعی قدرے خوفزدہ اور پریشان تھیں۔ تاہم، اس کے بعد، ان کی پچھلی بیویوں نے ان کی مہربانی سے مدد کی اور ان کی دیکھ بھال کی۔ 5ویں بیوی، نونگ پریری، ابتدا میں شادی کے اس "ماڈل” کی بہت مخالف تھی لیکن وہ زیادہ سے زیادہ پر اعتماد اور معاون ہوتی گئی۔

    نونگ موئے کی چھٹی بیوی اور ساتویں بیوی نونگ فلیم دونوں یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ مسٹر اونگ کئی بیویوں کے ساتھ رہ رہے تھے۔ تاہم، وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت دوستانہ مزاج خاندان ہے آٹھویں بیوی، نونگ مائی، نے شیئر کیا کہ بیویاں خاندان میں ایک دوسرے کے ساتھ بہنوں جیسا سلوک کرتی ہیں، بغیر کسی حسد کے۔

    گھر میں امن قائم رکھنے اور بیویوں کو ایک دوسرے سے حسد نہ کرنے میں مدد کرنے کے لیے، اونگ فیملی مینیجر ہے۔ پہلی بیوی بچوں کے ساتھ الگ کمرے میں سوتی تھی جبکہ دوسری بیویوں کے لیے الگ الگ کمرہ تھا۔ مسٹر اونگ ہمیشہ خاندان میں نظم و ضبط اور انصاف کو برقرار رکھنے کو یقینی بناتے ہیں۔ "جنسی معاملہ” کے بارے میں، ہر رات مسٹر ناتھاپون ترتیب سے بیوی کے ساتھ سو جاتے تھے۔

    اس سے پہلے مسٹر اونگ کافی مشہور تھے اور ان کے بہت سے مداح تھے۔ وہ ایک یوٹیوب کے چینل کے مالک ہیں جس میں اپنے ٹیٹو پروڈکٹس پوسٹ کرنے کرتے ہیں-

  • دنیا کا غلیظ ترین شخص کون ہے اور یہ پچھلے 67 سال سے کیوں نہیں نہایا

    دنیا کا غلیظ ترین شخص کون ہے اور یہ پچھلے 67 سال سے کیوں نہیں نہایا

    کراچی : صاف ستھرا رہنے والا انسان ہر کسی کو پسند ہوتا ہے چاہے وہ کوئی مسلمان ہو یا نا ہو۔ صفائی سے ہی انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ایک ایسا شخص بھی ہے جو پچھلے 67 سالوں سے اب تک نہیں نہایا۔

    80 سالہ ایرانی شہری آمو حاجی کو لگتا ہے کہ نہانے سے وہ بیمار ہوجائیں گے۔ اسی ڈر کی وجہ سے انہوں نے 67 سال پہلے نہانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ آدمی گندہ پانی اور مرے ہوئے جانوروں کا گوشت کھا کر اب تک زندہ ہے۔ ان کی صحت پر کسی قسم کا سائیڈ افیکٹ نہیں ہوا۔ یہ بالکل صحت مند ہے ۔

  • سانحہ مری اور ہم بطور قوم  ،ازقلم محمد عبداللہ گِل

    سانحہ مری اور ہم بطور قوم ،ازقلم محمد عبداللہ گِل

    وطن عزیز پاکستان کو رب تعالی نے بے پناہ خوبصورتی کے شاہکار سے نوازہ ھے جن میں خوبصورتی کا اعلی۔نمونہ اور ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ملکہ کوہسار مری بھی ھے۔عام حالات میں انتظامیہ نے اقدامات کیے ہوتے ہیں اور مکمل کوشش ہوتی ھے کہ سیاحوں کو سہولیات فراہم کی جائے۔لیکن سردیوں میں جب برفباری ہوتی ھے تو اس دلکش منظر سے ہر کوئی محظوظ ہونے مری کا رخ کر لیتا ھے جس سے مری کے داخلی اور خارجی راستوں پر رش ہو جاتا ھے۔سیاحوں کے کثیر تعداد اور انتظامیہ کے تیار نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک بلاک ہوئی۔اور ٹریفک کے بندش کے بعد درجہ حرارت بھی منفی تھا اور دس سال کی ریکارڈ برفباری کی وجہ سیاحوں کے لیے اپنی زندگیوں کا بچانا تقریبا نا ممکن ہو گیا تھا۔ایسے حالات میں 22 سے زائد افراد کی موت ہوئی جس میں 4 سال کے بچے میں شامل جن کے لیے ماں باپ نے سہانے خواب دیکھے ہوئے تھے اور جوان بیٹے بھی شامل جو ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا تھے اور وہ بھی شامل جو بچوں کے بچپن کے راجا تھے۔انتظامیہ نے بروقت انتظامات نہیں کیے اور اس نااہلی کی وجہ سے 22 افراد کی موت ہوئی۔جب 22 فرد اس جہان فانی سے چلے گئے تب حکومت کو بھی ہوش آیا اور آپریشن کیا گیا۔لیکن یہاں غم اور دکھ کی بات یہ ھے کہ جیسا کے سیاحوں سے معلوم ہوا کہ جب ٹریفک بند ہو گئی تو سیاحوں نے ہوٹل کا رخ کیا تو ان کو بتایا گیا کہ 1 کمرے کی قیمت 50 ہزار روپے ہیں،اگر کسی نے قضائے حاجت سے فارغ ہونا گے تو اس کو بھی پورا کمرہ بک کروانا پڑے گا اسی طرح وہاں کی تاجر برادری نے اشیا خورد نوش کی قیمتوں کو بھی آسمانوں پر پہنچا دیا مثال کے طور پر ابلا ہوا انڈا جو ویسے 20 سے 30 کا ملتا ھے مری میں 500 کا کر دیا گیا تھا۔ہائے افسوس صد افسوس!

    یہ جناح کا پاکستان ھے وہ پاکستان جس کے بننے کے لیے نے آبا نے اپنی ہر شے کو قربان کر دیا تھا آج ان کے ورثا اپنے بھائیوں کی زندگی میں بچانے میں ناکام ہو گئے بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔
    اس لیے تو کسی نے یوں کہا
    گنوا دی ہم نے آبا سے جو میراث پائی تھی
    ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
    مری کے لوگوں نے انسانیت کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ہمارے اندر آج بطور قوم حمیت کا جذبہ ختم ہو چکا ھے۔
    قارئین! ادھر نوٹ کرنے والی بات یہ بھی کہ مشکل کی اس گھڑی میں بھی افواج پاکستان نے اپنی خدمات کو پیش کیا اور سڑکوں کو کھولا اور ٹریفک کی روانی کو ممکن بنایا۔یہ وہی فوج ھے جو دنیا بھر کی افواج میں سے کم بجٹ پر چل رہی ھے۔یہ وہی فوج ھے جو غداروں کے طعنے بھی سنتی ھے اور مفی درجہ حرارت میں کبھی سیاچن کے گلیشیرز پر ملک کی سرحد کی حفاظت کرتی ھے تو کبھی پورے پاکستان جس جگہ بھی آفت آئے تو افواج پاکستان کے جوان ہی اپنی جانوں پر کھیل کر اس ملک کی اندرونی اور بیرونی آفات سے حفاظت کرتی ھے۔اسی طرح یہاں پنجاب پولیس کو بھی سلام ھے کہ وہاں کے ڈی ایس پی مری جناب اجمل سٹی صاحب کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے مسلسل 48 گھنٹوں میں اپنی خدمات کو سرانجام دیا اور خود اترے اور لوگوں کی مدد کی۔اسی طرح میجر جنرل واجد عزیز صاحب کو بھی سلام ھے کہ انھوں نے افواج پاکستان کا لوہا ایک بار دوبارہ منایا اور 1 لاکھ سیاحوں کو بحفاظت مقامات تک پہنچایا۔میجر جنرل واجد عزیز کا کہنا تھا؛-

    "جتنا مرضی درجہ حرارت کم ہو جائے اس وقت آپریشن جاری رہے گا جب تک آخری سیاح بھی محفوظ مقام تک نہیں پہنچ جاتا”
    اگر سیاسی جماعتوں کی بات کرے تو سیاسی جماعتوں نے سوائے سیاہ ست کرنے کے عملی کام کچھ نہیں کیا۔نون لیگ کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مری حلقہ ھے انھوں نے وہاں جا کر ایک ٹکے کی مدد نہیں کی۔اگر وہاں موجود تھے تو محب وطن پاکستانی تحریک اللہ اکبر کے کارکنان،الخدمت فاؤنڈیشن کے کارکنان جنھوں نے وہاں جا کر لوگوں کی مدد کی۔تحریک اللہ اکبر اسلام آباد نے انتظامیہ کے تعاون سے سب سے زیادہ خدمت کا کام کیا اور امدادی کیمپ اور امدادی سامان کو پہنچایا۔اس پر مجھے یاد آیا
    ” جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں ”
    اسی لیے ہماری سیاسی پارٹیوں کو سیاست کرنے کی بجائے عوام کو ریلیف دینے کی طرف دھیان دینا چاہیے اسی طرح مری کے مقامی عوام کو کوئی ہوش کے ناخن لینے چاہئے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    "جس نے ایک جان کو بچایا اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا”
    آج ملک پاکستان غم سے دوچار ہیں تو ہمیں بطور قوم اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہے اور اپنی اخلاقی اقدار کو بلند تر کرنا ھے
    پاکستان زندہ باد

    @Gill_Pak12

  • ہمسفر زندگی ہے، تحریر:ڈاکٹر انعم خان

    ہمسفر زندگی ہے، تحریر:ڈاکٹر انعم خان

    محبت کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے
    انسانی فطرت سے ہی انسان انسان سے مانوس ہوتا ہے
    انسانی فطرت سے ہی دوسرے انسان کیلئے احساس پیدا ہوتا ہے
    اور جب یہ احساس دونوں طرف سے ہوتا ہے تو اسے محبت کہا جاتا ہے
    محبت ہمیشہ دو (رفیقوں) دوستوں کے درمیان ہوتی ہے اور دو رفیق بنے تو محبت کہلاتی ہے
    ایسا دوست (رفیق) جسکے ساتھ گہری محبت ہو اور مرنا جینا ایک ساتھ ہوجائے ہمسفر کہلاتا ہے.
    یہ ہم سفر اپنے آس پاس کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے
    ایسا ہمسفر جسے اپنے سے بڑھ کر اپنے دوست کی فکر رہے
    خوشی و غمی میں داد و تحسین و حوصلہ جیسی نعمت کو تقسیم کرتا رہے اور اسی طرح ایسا حوصلہ اسے اپنے ہمسفر کی طرف سے واپس ملتا رہے تو ناکامی کو اس دوران کوئی جگہ نہیں مل سکتی
    ایسی صورت میں کہ جب ناکامی سر پہ ہو اور ہمسفر اسے حوصلہ دے دے تو یہ ناکامی بھی کامیابی کا سا سکون عطاء کر دیتی ہے.
    یہ ایک حقیقت ہے کہ جس چیز کو جتنا تقسیم کیا جائے وہ چیز قدرت کی طرف سے اس کیلئے اتنی ہی زیادہ بڑھا دی جاتی ہے.

    محبت تو انسانی فطرت ہے
    لیکن نفرت کرنا انسان کو سکھایا جاتا ہے یا پھر وہ خود سیکھتا ہے
    اگر نفرت سیکھتا ہے تو وہ بھی کسی اپنے قریبی شخص سے ہی سیکھتا ہے جس کے ساتھ انسان کا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا صحبت اختیار کرنا ہوتا ہے.
    انسان جیسا بھی ہو صحبت اسے بدل دیتی ہے
    اگر انسان برا ہے تو اچھوں کی صحبت اسے اچھا کر دیتی ہے اور اگر انسان اچھا ہے اور برے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس اچھے انسان کو برا بننے سے کوئی نہیں روک سکتا.
    اچھی صحبت اختیار کرنے پر بزرگان دین نے بہت زور دیا ہے.
    اور اس کی سیکنڑوں مثالیں اہل علم نے قلم بند کی ہیں
    جس میں سب سے بڑی مثال فرعون کی دی گئی ہے
    اہل علم فرماتے ہیں کہ فرعون پر ایک وقت ایسا آیا کہ جب فرعون کو اپنے ضمیر نے جھنجوڑا تو وہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہ ایمان لانے کیلئے رضامند ہوگیا.
    لیکن چونکہ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا تو اس نے اپنے مشیر (ہامان) جسکی صحبت اختیار کرکے وہ فرعون بنا تھا سے مشورہ کیا کہ میں حضرت موسیٰ پہ ایمان لانا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں.
    ہامان نے جب یہ بات سنی تو اس نے فرعون کی خوشامد کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی سچے ہیں یہ بات ہر شخص جانتا ہے
    اب اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ میں جھوٹا تھا اور موسیٰ سچے ہیں تو جو آپ کے سنے سجدہ ریز ہوتے تھے وہی آپکو برا بھلا کہیں گے اور دشمن بھی بن جائیں گے.

    ہامان (جو فرعون کا ہمسفر) تھا کے اس مشورے کے بعد فرعون نے ایمان لانے کا ارادہ ترک کردیا اور اللہ نے فرعون کو قیامت تک کے آنے والے انسانوں کیلئے نصیحت کے طورپہ پیش کردیا.
    اہل علم کا یہ گمان ہے کہ اگر فرعون کو مخلص مشورہ دیا جاتا تو وہ ایمان لے آتا.
    لیکن اسے بری صحبت نے ہلاک کیا.
    انسان جس قدر بھی جتنا بھی کسی کو ناپسند کرتا ہو یا ہر ایک سے نفرت کا عادی ہو
    پھر بھی فطرتی طورپہ اس شخص کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جس کے سامنے محبت میں وہ اپنا سر تسلیم خم کردیتا ہے.
    انسان کی یہ محبت ماں باپ بہن بھائی اور رشتہ داروں کے بعد منتقل ہوتی ہے دوست میں اور یہ ایک نیا رشتہ جڑتا ہے انسان کی زندگی کے ساتھ
    اور اگر دوست مخلص ہو تو سارے رشتے یہاں آکے ماند پڑجاتے ہیں
    انسان اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں اپنی دوست کی رائے کو مقدم رکھتا ہے
    اسے ہی ہمسفر کہتے ہیں
    ہمسفر ماں باپ بہن بھائی دوست یا پھر بیوی میں سے ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے
    جسے جدید دور کی تعلیم میں رول ماڈلز بھی کہا جاتا ہے
    یعنی انسان کسی ایک کا تابع ہوجاتا ہے اور پھر اسکے مشورے کے بغیر کوئی قدم بھی نہیں اٹھا سکتا.

    @Dr_Anam_

  • بھارت میں مادہ چیتے اور مگرمچھ کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات کی ادائیگی، تصاویر وائرل

    بھارت میں مادہ چیتے اور مگرمچھ کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات کی ادائیگی، تصاویر وائرل

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں 29 بچوں کو جنم دینے والے مادہ چیتے کی موت کے بعد اُس کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات ادا کی گئیں-

    باغی ٹی وی : مادہ چیتے کی آخری رسومات کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں بھارت میں اس مادہ چیتے کو ’سپر موم‘ کا لقب دیا گیا، جس سے محکمہ جنگلات کے افسران و ملازمین اور بھارتی شہری بہت زیادہ پیار کرتے تھے اس مادہ چیتے کو مرکزی علاقے میں قائم پینچ ٹائیگر سینٹر میں رکھا گیا تھا جہاں وہ ہفتے کے روز 16 برس کی عمر میں ضعیفی کے باعث انتقال کر گئی۔

    79 سالہ برطانوی شہری پر بطخیں پالنے پر پابندی


    محکمہ جنگلی حیات کے نمائندے اشوک نے بتایا کہ سپرموم نے اپنی زندگی میں تقریباً 29 بچوں کو جنم دیا جن میں سے 25 کی افزائش ہوئی اور اب وہ جنگلوں میں ہیں مادہ چیتے کے مرنے کی خبر پر شہری افسردہ ہوئے اور انہوں نے انتظامیہ سے اس کی آخری رسومات ہندو مذہب کے تحت ادا کرنے کی سفارش بھی کی جس کو تسلیم کیا گیا۔


    سپر موم کو انسانوں کی طرح ایک تختے پر رکھ کر جنگل منتقل کیا گیا، جہاں لکڑیوں کو آگ لگا کر اُس کے جسم کو جلایا کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سپر موم کو الوداع کہنے اور آخری رسومات کی تصاویر بھی وائرل ہوئیں۔

    لداخ میں چین پل بنا رہا ،مودی افتتاح کرنے نہ پہنچ جائے، راہول

    دوسری جانب حال ہی میں حال ہی میں بھارت کے ایک گاؤں میں تقریباً 500 لوگوں نے 100 سالہ مگر مچھ کی آخری رسومات ادا کی تھیں یہ واقعہ چھتیس گڑھ کے بیمترا ضلع کے ایک گاؤں باواموہترا میں پیش آیا، جہاں لوگ کمیونٹی تالاب کے قریب جمع ہوئے اور یہ دیکھ کر رونے لگے کہ مگرمچھ مر گیا ہے۔

    انڈیا ٹو ڈے کے مطابق گنگارام کے نام سے مشہور، تین میٹر لمبے رینگنے والے جانور کی عمر تقریباً 130 سال تھی اور اسے آخری رسومات ادا کرنے کے بعد گاؤں میں دفن کر دیا گیا مگرمچھ کا پوسٹ مارٹم تمام گاؤں والوں کے سامنے کیا گیا۔

    ٹونگا میں سونامی سے ایک خاتون ہلاک


    مگرمچھ کی موت قدرتی وجوہات سے ہوئی اور اسے پھولوں اور ہاروں سے سجا کر ٹریکٹر پر اس کی آخری رسومات میں لے جایا گیا گاؤں کے ایک ذریعے نے مگر مچھ کے دوستانہ رویے کی تعریف کی اور کہا، "یہاں تک کہ گاؤں کے بچے بھی اس کے ارد گرد تیر سکتے تھے اور گنگارام نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ ہی اس پر حملہ کیا ہے۔ اس گاؤں میں پوجا کی جاتی تھی۔”

    گاؤں کے لوگ اب تالاب کے قریب گنگارام کا مجسمہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے دوست کو یاد کر سکیں، جس نے گاؤں کو نیا نام "مگرمچھ والا گاوں” دیا تھا۔

    دوسری شادی کی خواہش، بیوی نے شوہر کی انگلیاں توڑ دیں

  • تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

    تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

    نئی دہلی: بھارت کے ایک گاؤں میں تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق چھتیس گڑھ کے گاؤں راج ناند میں تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور قدرت کے اس عجیب و غریب معجزے کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آ رہے ہیں بچھڑے کی ناک میں بھی 2 کے بجائے 4 سوراخ ہیں۔

    خاتون کے جگر میں حمل ٹھہر گیا،میڈیکل سائنس کا انتہائی منفرد واقعہ

    عجیب و غریب بچھڑے کی پیدائش نے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ بچھڑے کی تیسری آنکھ سر کے بیچ میں ہے علاقےمیں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا واقعہ پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ بچھڑے کی ناک اور کٹی ہوئی دم نے بھی لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

    مقامی گاؤں والوں نے بچھڑے کو پھول چڑھانا شروع کر دیئے ہیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد گاؤں میں آنے سے مقامی افراد کے چہروں پر بھی خوشی پھیل گئی ہے۔

    سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو…

    قبل ازیں بھارت میں کینسر کے مرض میں مبتلا شخص کے دم توڑنے کے بعد آخری رسومات سے چنفد لمحے پہلے زندہ ہو گیا ریاست گجرات میں ایک عجیب و غریبب واقعہ پیش آیا ہے مردہ شخص شمشان گھاٹ میں عین اُس وقت جی اُٹھا جب لاش کو جلانے کیے لیے ماچس جلائی گئی-

    گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    کینسرمیں مبتلا ایک ضعیف العمر شخص کواسپتال میں منتقل کیا گیامریض کی حالت بگڑنےپراسے وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا تاہم اہلخانہ وینٹی لیٹرکےاخراجات نہیں اُٹھا پا رہے تھےاہل خانہ نے اپنے مریض کو اسپتال سے لے جانے کی ضد کی مریض کو جیسے ہی وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا سانسیں بند ہوگئیں جس پر اہل خانہ مردہ سمجھ کر شمشان گھاٹ لے گئے۔

    مردہ شخص آخری رسومات سے چند لمحے پہلے زندہ ہو گیا

    شمشان گھاٹ میں مردے نے آنکھیں کھول دیں فوی طور پر ایمبولینس کو بلایا گیا اور پی آر سی کی گئی جس سے مریض مکمل طور پر جی اُٹھا جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا پولیس نے اسپتال کے خلاف غفلت برتنے پر مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا-

    پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار