Baaghi TV

Category: متفرق

  • انہوں نے ہمت نہ ہاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!! تحریر: محمد زمان

    انہوں نے ہمت نہ ہاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!! تحریر: محمد زمان

    درحقیقت لکھنا کچھ اور چاہتا تھا پر دسمبر نے کچھ اور نہ لکھنے دیا ضمیر نے ملال کیا کہ دسمبر آئے اور آپ ان لمحات کو یاد نہ کرو تو ان لوگوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی وہ جنہوں نے ہمت ناہاری تھی جنھوں نے پاکستانی قوم میں جرات کا ایک نیا باب کھولا تھا۔تو آج کچھ تذکرہ ان لوگوں کا جنھوں نے تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔جنھوں نے دنیا کو بتایا کامیابی کیا کچھ چاہتی ہے آپ سے۔۔۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے ! ” حوصلہ اور ہمت ہارنے والے کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ پاتے ” ۔
    اس کائنات میں کامیابی کوئی حتمی منزل و مقام نہیں اور نہ ہی ناکامی کوئی حتمی ہوتی ہے ہاں ناکامی کو مستقل بنانے میں مایو سی اور خوف انتہائی اہم کردارادا کرتے ہیں۔درحقیقت یہ صرف زندگی کا ایک لمحہ ہوا کرتا ہے جس نے گزر جانا ہوتا ہے۔ناکامی کے لیے مایوسی کو سر پر بٹھانا پڑتا ہے اور کامیابی کے لیے ذہنی اور فکری صلاحتوں کو بروے کار لانا لازم ہوا کرتا ہے ۔دنیا کا ہر انسان اپنا مقام بنانا چاہتا ہے کچھ ایسا کرنے کا خواہ ہے کہ جس سے اس کی پہچان میں اضافہ ہو اور اس کے لیے اسے کچھ ایسے لوگوں کے ایسے واقعات کے مطالعہ کی ضرورت پڑتی ہے کہ جس سے وہ ہمت و استقلال کا سبق لے سکھیں۔جیسے کے تاریخ میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں۔آپ دنیا کے کامیاب لوگوں کا ذرا مطالعہ کریں تو تمام کامیاب لوگوں میں آپ کو ایک چیز قدرے مشترک ملے گی کہ انہوں نے کامیابی کسی سے متاثر ہو کر یا کسی سخت گیر واقعہ کے تھپیڑے کھا کرحاصل کی ہوگی۔ہمارے معاشرے کا ایک المیہ ہے کہ ہم لوگ مایوسی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ اس میں محنت درکار نہیں ہوتی ۔اپنے مشکل اور مایوس کن حالات کو بدلنے کا صرف سوچتے ہیں پر ان عوامل پر عملی اقدام نہیں کرتے جن سے ہماری کامیابی کی راہیں کھل سکیں۔
    ہم میں سے اکثر لوگوں سے حالات کا پوچھا جائے تو وہ آپ کو سخت حالات کا شکوہ کرتے ملیں گے اپنی مشکلات کا رونا روئیں گے پر جب ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو انہوں نے درحقیقت ان حالات کو دعوت خود دی ہوئی ہوتی ہے ان سے نمٹنے کا ہنر نہیں سیکھا ہوتا ۔اپنی تمام تر قوت کو منفی باتوں میں ضائع کرتے رہتے ہیں۔چلیں ایک لمحہ کے لیے مان لیا جائے کہ آپ کے حالات بہت ہی زیادہ خراب ہیں آپ کے کنٹرول سے باہر ہیں ،آپ کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ،آپ نے اپنی تمام تر قوت لگادی پر بھر بھی ناکام رہے ۔۔۔۔
    پر ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا آپ کے گردنواح میں ایسے لوگ نہیں ہیں کہ جو اسطرح کے حالات سے بھی زیادہ مشکل حالات کا سامنا کر چکے ہوں اور ان کو اپنی قوت ،حکمت عملی اور جرات سے ان حالات کو شکست دی ہو؟؟؟؟؟؟؟ آپ کے ہر قسم کے عذر قبول کر لیے جائیں ۔
    کیا آپ کے حالات ان سے بھی زیادہ مایوس کن ہیں جیسے کہ 16 دسمبر 2014 کے واقعے میںآرمی پبلک سکول پشاور میں موجود اساتذہ اور طلباء کے تھے ذرا آنکھیں بند کریں اور خود سے پوچھیں …. جس کا یقینی جواب نہیں میں ملے گا تو اتنی مایوسی اور بیزاری کیوں زندگی سے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
    اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے حالات ان سے بھی زیادہ مایوسی کن ہیں۔کیا کبھی آپ کے سامنے آپ کے دوستوں اور اساتذہ کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا ؟ کیا آپ کے سامنے آپ کے دوستوں کے خون کی ندیاں بہا دی گئی ۔۔۔؟ کیا آپ نے کبھی کرسیوں کے نیچے چھپ کر موت کا انتظار کیا؟کیا کبھی آپ کرسیوں کے پیچھے چھپ کہ درندہ صفت انسان کو دیکھتے رہے؟کیا کبھی آپ کے دماغ میں مسلسل خوف نے جنم لیا کہ اگلی گولی آپ کے جسم سے آر پار ہو جائے گی؟ کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا کہ آپ کے آس پاس بیٹھے دوستوں کے جسموں سے دشمنوں کی گولیاں آرپار ہوئی ہوں؟کیا کھبی آپ کو بازوں پرگولی لگی اورآپ گر پڑے دشمن نے آپ یہ سوچ کر چھوڑ دیا ہو کہ یہ مر چکا ہے؟؟کیا آپ کی ماںنے کسی درندہ صفت انسان کے آگے دامن پھیلا کر یہ کہا کہ خدارا بچوں کو کچھ نہ کہیں پر ظالم نے سب سے پہلے آپ کی ماں کو نشانہ بنایا ہو اور آپ یہ منظر کرسیوں کے نیچے چھپ کے دیکھتے رہے؟کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا کہ آپ کی کلاس کے سامنے والی کلاس آپ کے بھائی کی ہو اور ہاں سے گولیوں کے چلنے کی آوازیں آرہی ہوں آپ اسے بھاگ کے بچانا چاہتے ہوں پر آپ کی جان کے تحفظ کے لیے آپ کو ایسا نہ کرنے دیا گیا ہو؟ نہیں ہوا نا آپ کے ساتھ ایسا، دعا ہے کبھی ہو بھی نہ ایسا ۔آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس حملہ میں زخمی ہونے والے اورخوش نصیبی سے بچ جانے والے اساتذہ اور طلباء نے امید چھوڑ دی ہوگی ،اٰن خوف ذدہ مناظر کو اپنے دماغ میں بیٹھا لیا ہو گا ، اساتذہ نے وہاں پڑھانا چھوڑ دیا ہو گا ،زخمی طلباء نے دوبارہ اس سکول کا رخ نا کیا ہو گا،زخمی طلباء کے والدین نے اپنوں بچوں کو اس سکول جانے سے روک دیا ہو گا…….. جی نہیں حضور ایسا کچھ نہیں ہوا آگے کے لمحات نے میری تو رگ رگ میں جذبہ پیدا کر دیا ۔دیکھتے ہیں آپ کے ساتھ کیا ہوتا ہے آگے آنے والے واقعات کو پڑھ کے……

    مجھ میں حیرت کی انتہا تھی جب میں نے یہ دیکھا کہ زخمی طلباء زخموں سے نجات ملتے ہی اپنا پہلا قدم اپنی کامیابی کی راہ پہ پھر سے ڈال دیتے ہیں انہیں اگلے دن سکول میں دیکھا جاتا ہے ۔ان میںسے ایک شہید کے والد نے کہا تھا کہ انہیں فخرہے اپنے شہید بیٹے پر کہ جس نے پوری کلاس کو بچا لیا، اگر یہ لوگ مایوس نہیں ہوئے ،اگر یہ لوگ اپنی منزل سے نہیں ہٹے ،اگر ان کے حوصلہ پست نہیں تو آپ کس لئے اپنے حوصلے پست کیے ہوئے ہیں آپ کس لیے ہمت ہار بیٹھے ہیں،آپ کیو نکر مایوس بیٹھے ہیں، آپ کیونکر زندگی کی ڈور سے تنگ آ چکے ہیں۔۔۔۔؟
    یاد رکھیے گا۔۔۔! ” بڑے سے بڑا واقعہ ،بڑی سی بڑی بات آپ میں ذرا بھی تبدیلی نہیں لا سکتی جب تک کہ آپ خود تبدیل نہیں ہونا چاہتے "۔
    یہ واقعات آپ میں ذرا بھی تبدیلی نہیں لا سکتے اگر آپ خود کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

    اپنے آپ کو مایوسی کی دلدل سے نکا ل لیجیے ۔اگر آپ اس دلدل سے پہلے سے نکلے ہوئے ہیں تو اپنے اطوار بدلیے اپنا طریقہ بدلیے اپنی سوچ کا پیمانہ بدلیے ، ہمت و جرات کامعیار بدلیے۔اگر آپ ایک معلم یا معلمہ ہیں تواپنی ذمہ داری ویسے داد کیجیے جیسے اس معلمہ نے ادا کی تھی جو پریپ کلاس میں موجود تھی ظالموں نے آگ لگا دی پر پھر اپنے بچوں کو یہ کہیے جاری تھی بیٹا پچھلے دروازے سے نکل جائو سب ۔اگر آپ کسی ادارے کے یا گھر کے سربراہ تو اپنی ذمہ داریاں ویسے ادا کریں جیسے اس سکول کی پرنسپل نے ادا کی تھیں۔اگر آپ کو اپنے سکول کو بچوں سے پیار ہے تو اپنا پیار ایسا بنائے جیسا اس معلمہ نے اپنا یا ہوا تھا جو خود زخمی تھی شدید پر سکول کے زخمی بچوں کو ریسکیو کرنے میں بھاگ رہی تھیں جب آرمی کے جوانوں نے ان سے کہا کہ آپ بھی ریسکیو ہونا چاہیے قربان جاوں اس محبت کے کہتی ہیں میرے سکول کے تمام زخمی بچے ریسکیو ہو جائیں میرے لیے ہی ریسکیوہے۔اگر آپ خود کو بہادر سمجھتے ہیں تو آپ ویسے بہادر بنیں جیسے اس سکول کا زخمی بچا بنا جو خود زخمی ہونے کے باوجود دوسروں کو بچانے میں لگا رہا۔اگر آپ کو تعلیم سے محبت ہے تو ویسے محبت کیجیے جیسے اس معلمہ اور اس ماں نے کی تھی جو سکول کے کھولنے کے پہلے ہی دن کہتے ہیں کہ اگر سکول میں کوئی بھی پڑھانے کو نہ آتا تو میں اکیلے ہی پڑھاتی اور اسی ماں کا اپنا جوان بیٹا بھی اس درندگی کا نشانہ بن چکا تھا۔اگر آپ ایک طالبعلم ہیں تو آپ کو اپنے تعلیمی ادارے اور تعلیم سے لگائو ایسا ہونا چاہیے جیسا ان زخمی طلباء کا تھا جو ٹھیک ہوتے ہی سکول کا رخ کرتے ہیں۔

  • مردہ شخص آخری رسومات سے چند لمحے پہلے زندہ ہو گیا

    مردہ شخص آخری رسومات سے چند لمحے پہلے زندہ ہو گیا

    بھارت میں کینسر کے مرض میں مبتلا شخص کے دم توڑنے کے بعد آخری رسومات سے چنفد لمحے پہلے زندہ ہو گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات میں ایک عجیب و غریبب واقعہ پیش آیا ہے مردہ شخص شمشان گھاٹ میں عین اُس وقت جی اُٹھا جب لاش کو جلانے کیے لیے ماچس جلائی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق کینسر میں مبتلا ایک ضعیف العمر شخص کو اسپتال میں منتقل کیا گیا مریض کی حالت بگڑنے پر اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا تاہم اہل خانہ اینٹی لیٹر کے اخراجات نہیں اُٹھا پا رہے تھےاہل خانہ نے اپنے مریض کو اسپتال سے لے جانے کی ضد کی مریض کو جیسے ہی وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا سانسیں بند ہوگئیں جس پر اہل خانہ مردہ سمجھ کر شمشان گھاٹ لے گئے۔

    خاتون کے جگر میں حمل ٹھہر گیا،میڈیکل سائنس کا انتہائی منفرد واقعہ

    شمشان گھاٹ میں مردے نے آنکھیں کھول دیں فوی طور پر ایمبولینس کو بلایا گیا اور پی آر سی کی گئی جس سے مریض مکمل طور پر جی اُٹھا جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا پولیس نے اسپتال کے خلاف غفلت برتنے پر مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔

    قبل ازیں بھارتی گاؤں میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی ایک نوزائیدہ بچی کا ایک کتیا اور اس کے بچوں نے اس کا پہرہ دیا اورمکمل برہنہ بچی کے بدن سے اپنا جسم مس کرکے اسے حرارت پہنچائی چھتیس گڑھ گاؤں میں جب ایک نوزائیدہ بچی کو کھیت میں بے آسرا چھوڑا گیا تو نہ صرف ایک کتیا نے اس کا پہرہ دیا بلکہ خود اس کے ننھے منے بچوں نے مکمل برہنہ بچی کے بدن سے اپنا جسم مس کرکے اسے حرارت پہنچاکر مرنے سے بچا لیا-

    سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو…

    چھتیس گڑھ ریاست کے ضلع مونگیلی کے ایک گاؤں سریستال کے کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی اس بچی کے تن سے آنول نال کا ایک ٹکڑا بھی جڑا تھااسے آوارہ کتوں نے بھنبھوڑنے کی بجائے بچایا صبح کو بچی کے رونے کے آوازوں سے کسان متوجہ ہوئے اور بچی تک پہنچے جو زندہ تھی اور اس پر کوئی خراش تک نہ تھی۔

    گاؤں والوں کے کا خیال تھا کہ مادہ کتیا نے رات بھر بچی کا حفاظتی پہرہ بھی دیا ہے بعد ازاں گاؤں کے بزرگوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور بچی کو مکمل تندرست بھی قرار دیا ہے پولیس افسر اے ایس آئی چنتارام بنجاور اسے فوری طور پر مقامی ہسپتال لے گیا اور طبی معائنے کے بعد اس کا نام اکنکشا رکھا گیا-

    بے دھیانی میں بھیجی گئی سیلفی بوائے فرینڈ کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی

  • دی گاڈ فادر، تحریر: عفیفہ راؤ

    دی گاڈ فادر، تحریر: عفیفہ راؤ

    پانامہ کیس کے فیصلے اور نواز شریف کی نااہلی کے بعد پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہوگا جس نے گاڈ فادر کے الفاظ نہ سنے ہوں۔ لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ گاڈ فادر کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں۔

    وہ دس Lessonsجو ہر ایک انسان اس فلم سے سیکھ سکتا ہے۔ یہ دراصل وہ دس Lessonہیں جن کو سیکھ کر ہر ایک انسان اپنی زندگی میں ایک بدلاو لا سکتا ہے۔ دی گاڈ فادر، یہ فلم نہ صرف سنیما کا ایک شاہکار ہے بلکہ شاید اب تک کی سب سے بڑیfilm trilogyہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ آج کے دن تک بھی لوگ دی گاڈ فادر کے نام سے بننے والی تینوں فلموں کو نہ صرف شوق سے دیکھتے ہیں بلکہ بار بار دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ان فلموں کو جب بھی کوئی انسان دیکھتا ہے تو وہ ہر باران سے ضرور کوئی نہ کوئی نیا سبق سیکھتا ہے۔ دراصل گاڈ فادر صرف ایک جرم یا مافیا پر بننے والی فلم نہیں ہے بلکہ اس میں CapitalismGreed Family betrayalاور بہت سے دوسرے موضوعات بھی ہیں جن کو ایڈریس کیا گیا ہے۔ اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کون ہیں یا کیا کرتے ہیں لیکن اگرآپ ان فلموں کو دیکھتے ہیں تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ ان سے بہت سی ایسی چیزیں سیکھ سکتے ہیں جو آپ کو آپکی زندگی میں بہت فائدہ دیں گی۔ ان فلموں سے آپ power, leadership and overall success کے فارمولے جان سکتے ہیں۔ چاہے آپ سرمایہ کار ہیں، ایک چھوٹا کاروبار چلا رہے ہیں یا ملٹی بلین ڈالر کی بزنس کارپوریشن۔۔ آپ کے لئے یہ فلمیں بہت ہی فائدہ مند ہوں گی اور آپ لازمی ان سے کچھ نہ کچھ سیکھیں گے۔۔۔ یہاں تک کہ اگر آپ ایک ایتھلیٹ ہیں یا کوچ ہیں تب بھی یہ آپ کے لئے فائدہ مند ہیں۔ اور ایسا اس لئے ہے کہ ان فلموں میں Human natureکی وہDark sideدکھائی گئی ہے جس کا سامنا ہر ایک انسان کو اپنی زندگی کی کسی نہ کسی سٹیج پر ضرور کرنا پڑتا ہے۔

    اس فلم سے ایک انسان جو سب سے پہلا سبق سیکھ سکتا ہے وہ یہ کہ اپنی قیادت پر زور دیں یعنی Assert your leadership
    کبھی بھی اپنے ماتحت لوگوں کو اپنے مخالف مت ہونے دیں۔جب FredoMulgreenکا دفاع کر رہا تھا تو وہ ایک طرف تو مائیکل کی اتھارٹی کو چیلنج کر رہا تھا اور دوسرا اس کی بہت زیادہ بےعزتی کی وجہ بھی بنا تھا۔ جس کا اثر اس واقع میں ملوث تمام افراد پر ہوا۔ جس کا بعد میں Hymon rothنے ناجائز فائدہ بھی اٹھایا تھا۔ اس لئے جب آپ کسی کو لیڈ کر رہے ہوں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ کے ماتحت جتنے بھی لوگ ہیں ان کی عزت ہو اور کبھی کسی Outsiderکو یہ شو نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کی ٹیم میں کوئی کسی کو بے عزت کر سکتا ہے یا اس کی اتھارٹی کو چیلنج کر سکتا ہے۔ آپ کی ٹیم متحد ہو گی تو ہی آپ کی قیادت کو لوگ تسلیم کریں گے لیکن اگر ٹیم میں ہی اختلافات ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی لیڈرشپ میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ اس سے آپ کمزور ہوں گے جس کا کوئی بھی باہر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جب آپ کوئی فیصلہ کریں تو اسے اپنی ٹیم کے ساتھ ڈسکس کریں اور کسی کے ذہن میں بھی کوئی سوال ہے تو اس کو کلئیر کریں تاکہ پوری ٹیم متحد ہو اور ایک پیج پر ہو۔ آپ کی ٹیم میں سے کوئی بھی ممبرDisconnect
    نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرا Lessonیہ ہے کہ Build Alliancesیعنی اپنے کسی بھی کام میں کامیابی کے لئے دوسروں کے ساتھ اتحاد بنائیں۔ اس فلم میں ڈان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ لوگوں کو اپنا مقروض بنا کر رکھتا تھا اور ایسے لوگوں کے ساتھ الائنس بناتا تھا جو ضرورت پڑنے پر اس کوProtectکرسکیں اور اسے فائدہ پہنچا سکیں۔ اس کے نیٹ ورک میں ہر طرح کے لوگ تھے ایک مقامی سٹور چلانے والے سے لیکرملک کے طاقتور ترین لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کمیشن کے لوگوں کو نئے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے ویٹو کی ضرورت پڑی تو اس کے لئے Virgil salazoکو صبح کے وقت اجازت کے لئے بھیجا یا تھا۔ اور ویٹو کی جو سب سے خاص خوبی تھی وہ یہ تھی کہ
    He was the man of his wordsوہ جو بھی الائنس بناتا تھا یا معاہدہ کرتا تھا اس میں وہ اس بات کو یقینی بناتا تھا کہ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ ہر قیمت پر پورا ہو۔ اس کے علاوہ وہ Voilenceکو کبھی بھی ابتدائی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرتا تھا مطلب پہلے پہل آرام سے پیار محبت سے مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے ہی ہر ایک کام نکلوانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اور ہمیشہ ایسی ڈیل بنائی جاتی تھی کہ جس میں دونوں پارٹیوں کا فائدہ ہو۔ اب اگر آج کے دور میں ہم دیکھیں تو ہر ایک انسان کے لئے نیٹ ورکنگ بہت اہم ہے خاص طور پر کاروباری لوگوں کے لئے لیکن اس میں صرف اپنا فائدہ نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ایسی ڈیل بنانی چاہیے جس میں دوسری پارٹی کو بھی فائدہ ہو اگر آپ دوسری پارٹی کا فائدہ سوچتے ہیں جس میں وقتی طور پر آپ کو کوئی خاص benefitنہ بھی ہو تو آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ مستقبل میں یہ ڈیل آپ کو کیسے فائدہ دے سکتی ہے۔ تب ہی آپ کی Deals and working relationsبھی لمبے عرصے تک چل سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ Understand Your Surroundingsیعنی اپنے ماحول کو سمجھیں کہ آپ کے آس پاس کیسے لوگ ہیں وہ کیا سوچتے ہیں۔ Corleone donsاس کام میں ماسٹر تھے۔ وہ نہ صرف اپنے دشمنوں کو بہت اچھی طرح سے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ وہ اپنے اردگرد کے ہر ایک شخص کا اچھی طرحanalyseکرتے تھے اوران کوسمجھتے تھے اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے دشمنوں کو یا ان لوگوں کو کہ جن سے آپ کا مقابلہ ہے انھیں سمجھتے ہوئے ایسا پلان بنا سکتے ہیں جس سے وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں اور آپ ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔اور ایک بہت ہی اہم بات جو ان فلموں کو دیکھ کر سمجھ آتی ہے وہ یہ کہNever Hate Your Enemiesہو سکتا ہے آُپ کو یہ سننے میں بہت عجیب لگ رہا ہو لیکن ان فلموں کو دیکھ کر سمجھ آتی ہے کہ انسان کو کبھی اپنے دشمنوں سے بہت زیادہ نفرت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے آپ کے فیصلے متاثر ہوتے ہیں۔ آج کل جس طرح سے مقابلے کا دور ہے تو اس میں ضروری ہے کہ انسان بہت زیادہ حساس نہ ہو وہ ہر ایک چیز کو Personal attackکے طور پر نہ لے۔ اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنے دشمنوں کو پسند کریں لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں اس میں اپنے Emotionsکو حاوی نہ ہونے دیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ایسے دشمنوں کا سامنے نہیں کرنا پڑتا جیسے دشمن Don vetoیا مائیکل کے تھے۔ لیکن کہیں نہ کہیں ہم سب کو ایسے لوگوں کا سامنا ضرور ہوتا ہے جو ہماری کامیابی کو برداشت نہیں کرسکتے تو ایسے لوگوں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں اپنے جذبات سے زیادہ عقل سے کام لینا چاہیے۔۔ ہوسکتا ہے کہ اگر ہم جذباتی ہو کر کوئی فیصلہ کریں تو اس سے ہمیں وقتی satisfactionتو مل جائے لیکن اگر ہم اصول کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے تو ہمیں کبھی بھی آگے چل کر اس پر پچھتانا نہیں پڑے گا۔

    اس کے علاوہHave the Right Teamجب بھی ٹیم بنائیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو اپنی ٹیم میں موجود تمام لوگوں کی خوبیوں، خامیوں اور کمزوریوں کا بہت اچھی طرح سے علم ہونا چاہیے۔ تب ہی آپ اپنی ٹیم میں موجود لوگوں کے
    Potentialکا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔Don vetoجانتا تھا کہ اس نے اپنی ٹیم کے لوگوں کو مختلف حالات میں کیسے استعمال کرنا ہے۔ اگر صرف Negociationکے لئے بھیجنا ہوتا تھا تو Tom Hegenکو بھیجا جاتا تھا۔ دوسری طرف ڈان یہ بھی جانتا تھا کہ Luca breziکا استعمال کب کرنا ہے۔ اس نے Tesseo and clamenzaجیسے لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کر رکھا تھا۔ اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا تھا کہ اہم عہدوں پر تعینات لوگ اپنے ماتحت لوگوں سے ان کی
    Skills and qualitiesکے حساب سے کام لیں تاکہ ہر ایک ٹیم ممبر میں موجود Potenial کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کی ٹیم میں مختلف خوبیوں کے لوگ ہوں لیکن ساتھ ہی وہ سب اس قابل بھی ہوں کہ وہ ایک ساتھ کام کر سکیں۔اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ Conceal Your Intentionsاپنے ارادوں کو کبھی کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور مائیکل اس کام میں بہت ماہر تھا۔ اس کے ارادوں کا صرف تب پتا چلتا تھا جب وہ ان پر عمل کرتا تھا۔ فلم دیکھنے والے آخر تک یہ ہی جاننے کی کوششوں میں ہوتے ہیں کہ مائیکل کیا سوچ رہا ہے۔ جبکہ Sonnyیہ اصول کبھی نہیں سیکھ سکا وہ ہمیشہ چیختا چلاتا رہتا ہے جس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ آنے والے وقت میں اس کا ارادہ کیا ہے سوچیں کہ اگرمائیکل جنازے کے دوران Berziniپر چیخنا چلانا شروع کردیتا تو سب کو معلوم ہو جاتا کہ مائیکل کے دماغ میں کیا ہےاور اس طرح وہ اپنے ارادے میں کبھی کامیاب نہ ہو پاتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اپنے ارادوں کو صحیح وقت آنے پر ہی لوگوں پر ظاہرکریں کیونکہ اگر آپ وقت سے پہلے اپنے پلان دوسروں کو بتا دیں گے تو ایک طرف تو وہ آپ سے پہلے ہی اپنا کوئی بڑا پلان آپ کے مقابلے میں بنا سکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ آپ کے لئے رکاوٹیں بھی کھڑی کر سکتے ہیں۔ آپ کی کمزوریوں سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ایک اور بات جس کا بہت خیال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ کہ Never Be Carelessکبھی اپنے کام میں اپنے فیصلوں میں لاپرواہی مت کریں۔ جب ڈان اپنے ساتھی مائیکل کو ڈان بننے کی ٹریننگ دے رہا ہوتا ہے تو وہ اس ایک Lessonپر سب سے زیادہ زور دیتا ہے کہ کبھی بھی لاپرواہ مت ہونا۔ کیونکہ Vetoنے اپنے اتنے سالوں کے تجربے میں یہ ہوتے ہوئے دیکھا تھا کہ بہت بڑے بڑے ذہین اور طاقتور لوگ لاپرواہی میں کی گئی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے برباد ہو گئے تھے۔ ویسے تو یہ انسانی فطرت ہے کہ بعض اوقات انسان لاپرواہ ہو جاتا ہے لیکن پھر مستقبل میں اس عادت کی وجہ سے آپ کو پچھتانا بھی پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہ چیزیں جو ہمیں ایک وقت پر بہت ہی کم اہم اور معمولی لگ رہی ہوتی ہیں اگر ہم ان سے لاپرواہی برتیں تو وہ ہماری بربادی کی وجہ بنتی ہیں۔

    ایک اور چیز جو ہم ان فلموں سے سیکھ سکتے ہیں وہ یہ کہ اپنے سامنے والے کو ہمیشہ ایسی آفر کریں کہ وہ انکار نہ کر سکے۔Make Them An Offer They Can’t Refuseاس فلم میں Vitoہمیشہ اس اصول پر کام کرتا تھا۔ اور ایسی آفر کرنے کے لئے وہ اپنے مقابل لوگوں کو پہلے اچھی طرح سمجھتا تھا ان کی ضرورتوں کے بارے میں جانتا تھا۔ انھیں سب سے زیادہ کیا پسند ہے اور کیا چیز نا پسند ہے۔ اس کے بعد وہ لوگوں کو آفر کرتا تھا جس کے بارے میں پھر اس کو پتا ہوتا تھا کہ ٹیبل کی دوسری سائیڈ پر موجود لوگ اس کی آفر کو کبھی ریجیکٹ نہیں کریں گے۔ ویسے مافیا باس ہونے کی وجہ سے اکثر
    Vitoاس کام کے لئے تشدد کا استعمال بھی کرتا تھا۔ لیکن عام زندگی میں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی آپ دوسری پارٹی کو ایک اچھی آفر دے کر بھی ساتھ ملا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ دوسروں کے ساتھ تعلقات میں خود ہمیشہ کم بولیں اور دوسروں کو زیادہ سنیں۔Listen More Than You Talkجب آپ کسی کو سن رہے ہوتے ہیں تو ایک تو آپ اس کی باتوں سے انفارمیشن لے رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی اس کی Body languageسے بھی آپ کو بہت کچھ سمجھنے کو ملتا ہے لیکن اگر آپ کسی کو سنن کی بجائے خود بولنا شروع کر دیتے ہیں اور خود زیادہ بولتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں سے انفارمیشنRecieveکرنے کی بجائے ان کو انفارمیشن Provideکر رہے ہیں۔ اس لئے جب بھی کسی ڈیل کے لئے Negotiate
    کرنا ہو تو دوسروں کو زیادہ بولنے دیں تاکہ آپ کو ان کے ارادوں کا علم ہو سکے جس سے آپ کو بہتر فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔یک آخری اورسب سے اہم Lessonیہ ہے کہ Greatness is BuiltVitoپیدا ہوا تو اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ اس کے بعد ایک وقت آیا کہ اس کے پاس جو کچھ تھا وہ اس سے چھین لیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسے سیکھنا تھا اور سب کچھ دوبارہ بنانا تھا۔ ایسی صورتحال میں اس نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا حالانکہ یہ ایک آسان آپشن تھی۔ لیکن اس نے مشکل راستے کا انتخاب کیا اور اپنے آپ کوخود بڑا بنایا۔ اگر ہم انسانی تاریخ بھی دیکھیں تو ان میں سے کوئی بھی Greatnessکے ساتھ پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ انھوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ایسی Legacyبانئی کہ جسے سینکڑوں ہزاروں سالوں تک یاد رکھا جا سکے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان تمام لوگوں میں یہ خوبی تھی کہ وہ کبھی سست نہیں پڑتے تھے اپنے حالات کے بارے میں شکایت نہیں کرتے تھے۔ بلکہ حالات سے سیکھ کر ایمانداری سے فیصلے کرتے ہیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔یہ وہ دس Lessonہیں جو ہم ان فلموں سے سیکھ کر اپنے زندگیوں پر اپلائی کر سکتے ہیں اور اپنے آس پاس کے ماحول سے بہتر طور پر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

  • خلائی ادارے ،سائنسدانوں کی بازی، تحریر:عفیفہ راؤ

    خلائی ادارے ،سائنسدانوں کی بازی، تحریر:عفیفہ راؤ

    کیسے امریکی خلائی ادارے ناسا، یورپی خلائی ادارے ایسا اور کینیڈین خلائی ادارے سی ایس اے نے دس ارب ڈالر لگا کر دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی خلائی دوربین بنا کر اس کو خلا میں ایک اہم مشن پر روانہ کیا ہے۔ اس دوربین کا نام
    James Webb Space Telescopeرکھا گیا ہے۔ اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ان تینوں اداروں میں کام کرنے والے سائنسدانوں کو اس منصوبے کو مکمل کرنے میں 30سال کاعرصہ لگا ہے اور اسے اکیسویں صدی کے سب سے بڑے سائنسی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔یہ اسپیس ٹیلی سکوپ orbitمیں اب تک بھیجے جانے والے سب سے بڑے فلکیاتی آئینے کا استعمال کرے گی جس کا قطر ساڑھے چھ میٹر ہے۔ اور دوربین کا یہ مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں حساس ترین کیمرے بھی نصب کئے گئے ہیں۔ اس کا وزن چودہ ہزار پاؤنڈ ہے اور یہ فلکیاتی آئینہ اتنا بڑا ہے کہ اسے مکمل طور پر کھلنے میں دو ہفتے تک کا وقت لگے گا۔ یہ زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہو گی جو زمین کے چاند سے فاصلے سے بھی چار گنا زیادہ ہے۔

    اس ٹیلی سکوپ کو French Guianaمیں یورپین اسپیس ایجنسی کے بیس سے صبح 7:30 بجے زمین سے چھوڑا گیا ہے جو
    Ariane 5 rocketسے لیس ہے۔ خلا تک پہنچنے کے لیے جیمز ویب نے پہلے ستائیس منٹ کی ایک طویل فلائٹ کی جو ایک کنٹرولڈ دھماکے جیسی تھی۔ جس کے بعد یہ راکٹ سے الگ ہو گئی۔ لیکن اصل کام اس کے راکٹ سے الگ ہونے کے بعد شروع ہوا ہے۔ کیونکہ اس دوربین کو بنانے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ راکٹ سے الگ ہونے کے بعد اس دوربین کو 344
    ایسے کڑے لمحات سے گزرنا ہو گا جو اس کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اور یہ ہی اس مشن میں کھیلے جانے والا اصل جوا ہے کیونکہ اگر ان لمحات میں سے کسی ایک میں بھی کوئی معمولی سی غلطی بھی ہوئی تو سمجھو کہ کھیل ختم۔۔۔
    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سائنسدانوں کو اتنا پیسہ لگا کر اتنا بڑا خطرہ مول لینے کی کیا ضروت تھی؟دراصل اس دوربین سے پہلے ناسا نے1990میں Habal telescopeکو خلا میں بھیجا تھا۔ اور ہبل دنیا کی وہ پہلی ٹیلی سکوپ تھی جس کو خلاء میں بھیجا گیا۔ اس کی وجہ سے سائنسدانوں کو اتنی اہم معلومات ملیں کہ انہوں نے ہبل کو دریافتوں کی ایک مشین کا نام دیا۔
    ہبل کے خلا میں جانے کے بعد ہی سائنسدانوں کو یہ علم ہوا تھا کہ ہماری کائنات کتنے ارب سال پرانی ہے۔ اور آج سب جانتے ہیں کہ ہماری کائنات کی عمر تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب سال ہے۔اسی دوربین کی وجہ سے یہ علم ہو سکا کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس دریافت پر نوبیل انعام بھی دیا گیا تھا۔ہبل ٹیلی سکوپ سے ہی کائنات میں موجود کہکشاؤں کے درمیان انتہائی بڑے بلیک ہولز کی موجودگی کے ثبوت ملے تھے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو سکا کہ Big bangکے چند کروڑ سال بعد ہماری کائنات کس طرح کی تھی۔اور آپ کو یہ جان کر بھی حیرانی ہوگی کہ ہبل ٹیلی سکوپ کو خلا میں بھیجے جانے سے پہلے سائنسدان سولر سسٹم سے باہر موجود کسی ایک بھی سیارے یاexoplanetکے بارے میں نہیں جانتے تھے۔

    اس لئے ہبل کی وجہ سے سائنسدانوں کو یہ یقین ہو گیا کہ اگر انہیں اس کائنات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا ہے تو اس کے لئے ان کے پاس جتنی اعلی ٹیلی سکوپ ہو گی اتنی اچھی انفورمیشن ملے گی۔اس لئے ابھی سائنسدانوں کے پاس دس یا بیس سال تک کا مزید وقت ہونے کے باوجود کہ وہ ہبل ٹیلی سکوپ سے ہی بہت سی اہم معلومات جمع کر سکتے تھے۔ انہوں نے دس ارب ڈالرز لگا کر James Webb Space Telescopeکو خلا میں بھیجا گیا۔ کیونکہ اس نئی دوربین کا فلکیاتی آئینہ ہبل سے کئی گنا بڑا ہے۔ اس میں روشنی کو جمع کرنے کی بھی زیادہ صلاحیت موجود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہبل کے مقابلے یہ ٹیلی سکوپ وقت میں زیادہ پیچھے تک سفر کر سکتی ہے۔ ویسے بھی ہبل زمین کے گرد قریبی مدار میں موجود تھی اور یہ ٹیلی سکوپ زمین سے زیادہ فاصلے ہر اور دوسری کہکشاوں کے قریب ہوگی اس لئے اس کے زریعے اور بھی زیادہ اہم معلومات مل سکیں گی اب James Webb Space Telescopeجو کہ ہبل ٹیلی سکوپ سے دس گنا زیادہ حساس ہے تو یہ دوربین یہ بھی دیکھنے کے قابل ہو گی کہ ہماری کائنات میں ابتدائی کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ
    James Webb Space Telescopeکی مدد سے وہ خلا میں ان ستاروں کو بھی ڈھونڈ پائیں گے جو ساڑھے تیرہ ارب سال پہلے کائنات میں سب سے پہلے روشن ہوئے۔اس ٹیلی سکوپ میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ یہ زمین سے کہیں دور موجود سیاروں کے ماحول اور وہاں موجود گیسوں کی جانچ کے ذریعے زندگی کے شواہد تلاش کر سکے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ دوسرے سیاروں کے ماحول میں کس قسم کے مالیکیول موجود ہیں۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوربین کہکشاں میں رہنے کے قابل سیاروں کی تلاش میں ایک بہت بڑا قدم ثابت ہو گی۔

    دراصل سائنسدان جان ہی چکے ہیں کہ ہم انسان ایک ستارے کی باقیات سے وجود میں آئے جو اربوں برس پہلے پھٹ گیا تھا۔ اس لئے اب وہ ان باقیات کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں کہ جس طرح الگ ہونے کے بعد زمین پر زندگی کا آغاز ہوا تو باقی ستاروں کے ساتھ کیا ہوا الگ ہونے کے بعد ان کے کیا حالات ہیں۔یعنی اس دوربین کی مدد سے سائنسدان کائنات کے بارے میں وہ سب جان سکیں گے جو شاید ابھی انہوں نے سوچا بھی نہیں ہے اس لئے آنے والا وقت اب Space science
    سے متعلق بہت حیران کن ہونے والا ہے۔

    لیکن اس کے لئے تھوڑا مزید انتظار بھی کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس ٹیلی سکوپ کو مکمل طور پر آپریشنل ہونے اور اس کی مدد سے پہلی تصاویر دیکھنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ کیونکہ اسے کھولنے کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک بار کھلنے کے بعد اسے ٹھنڈا ہونے اور اس میں موجود فلکیاتی آئینوں کو ترتیب میں آنے اور تمام آلات کو آن کرنے میں کئی مہینوں کا وقت لگے گا۔ اس لئے امید یہ کی جا رہی ہے کہ 2022 کے موسم گرما میں ہی سائنسدان پہلی تصاویر حاصل کر سکیں گے۔لیکن آخر میں ایک بار پھر میں آپ کو بتا دوں کہ یہ Space science کا ایک جوا ہے اور بہت ہیExpensive and complicated
    قسم کا جوا ہے کیونکہ یہ ٹیلی سکوپ کسی ٹینس کورٹ جتنی بڑی ہے اور اس کا مکمل طور پر کھل کر اپنے آپ کو پھیلانا خلائی تاریخ میں اب تک کا سب سے مشکل کام ہو گا۔ ایسے 300 سے زیادہ لمحات ہوں گے جب کچھ بھی غلط ہوا تو کھیل تمام ہو جائے گا۔ لیکن آپ کو پتا ہے کہ ایسے کاموں میں تو پھر زیادہ خطرے کا مطلب ہی زیادہ فائدہ ہے۔اور اگر یہ کامیاب ہو گئی تو پھر یہ جاننا مشکل نہیں رہے گا کہ یہ کائنات کیسے شروع ہوئی اور کیا ہم اس میں اکیلے ہیں؟اور پھر سائنسدانوں کی یہ بازی جیتی ہوئی تصور کی جائے گی۔

  • سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو کتوں نے بچا لیا

    سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو کتوں نے بچا لیا

    بھارتی گاؤں میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی ایک نوزائیدہ بچی کا ایک کتیا اور اس کے بچوں نے اس کا پہرہ دیا اورمکمل برہنہ بچی کے بدن سے اپنا جسم مس کرکے اسے حرارت پہنچائی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق چھتیس گڑھ گاؤں میں جب ایک نوزائیدہ بچی کو کھیت میں بے آسرا چھوڑا گیا تو نہ صرف ایک کتیا نے اس کا پہرہ دیا بلکہ خود اس کے ننھے منے بچوں نے مکمل برہنہ بچی کے بدن سے اپنا جسم مس کرکے اسے حرارت پہنچاکر مرنے سے بچا لیا جانور کی رحم دلی کی خبر نے دنیا کا دل بھی موم کردیا ہے-

    بندروں نے ایک کے بدلے 250 کتوں کو ہلاک کردیا


    رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ ریاست کے ضلع مونگیلی کے ایک گاؤں سریستال کے کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی اس بچی کے تن سے آنول نال کا ایک ٹکڑا بھی جڑا تھااسے آوارہ کتوں نے بھنبھوڑنے کی بجائے بچایا صبح کو بچی کے رونے کے آوازوں سے کسان متوجہ ہوئے اور بچی تک پہنچے جو زندہ تھی اور اس پر کوئی خراش تک نہ تھی۔

    خاتون کے جگر میں حمل ٹھہر گیا،میڈیکل سائنس کا انتہائی منفرد واقعہ

    90 سال کی عمر میں کاروبار شروع کرنے والی خاتون

    گاؤں والوں کے مطابق ان کا خیال ہے کہ مادہ کتیا نے رات بھر بچی کا حفاظتی پہرہ بھی دیا ہے بعد ازاں گاؤں کے بزرگوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور بچی کو مکمل تندرست بھی قرار دیا ہے۔

    پولیس افسر اے ایس آئی چنتارام بنجاور اسے فوری طور پر مقامی ہسپتال لے گیا اور طبی معائنے کے بعد اس کا نام اکنکشا رکھا گیا ہے اب پولیس نے بچی کے لواحقین کی تلاش شروع کرتے ہوئے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا ہے۔

    لعنت ہو ایسی حکومت پر، جلد ان کے برے دن آنے والے ہیں،جیا بچن کی بی جے پی پر کڑی تنقید

  • تمبا کو نوشی کے صحت پر پڑنے والے اثرات و نقصانات.تحریر:ام سلمیٰ

    تمباکو نوشی چھوڑیں اگر آپ کی صحت پر پڑنے والے اثرات کو آپ جان جائیں گے تو آپکے لیے مدد گار ہوگا کے آپ تمبا کو نوشی چھوڑ سکیں.

    تمباکو نوشی جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ان میں سے کچھ بہت زیادہ نقصان دہ اور منفی اثرات فوری طور پر ہوتے ہیں۔ اپنے جسم کے مختلف حصوں پر سگریٹ نوشی کے صحت کے اثرات کی معلومات ضرور رکھیں.

    سگریٹ سے نکلنے والی نکوٹین ہیروئن کی طرح نشہ آور ہے۔ نکوٹین کی لت کو شکست دینا مشکل ہے کیونکہ یہ آپ کے دماغ کو بدل دیتا ہے۔ دماغ تمباکو سے نیکوٹین کی بڑی مقدار کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اضافی نکوٹین ریسیپٹرز تیار کرتا ہے۔ جب دماغ نیکوٹین حاصل کرنا بند کر دیتا ہے جس کی وہ عادت تھی، نتیجہ نکوٹین کا اخراج ہوتا ہے۔ آپ فکر مند، چڑچڑے، اور نیکوٹین کی شدید خواہش محسوس کر سکتے ہیں۔
    آپکی سماعت کے لیے نقصان دہ ہے تمباکو نوشی.

    تمباکو نوشی کا ایک اثر کوکلیا کو آکسیجن کی فراہمی میں کمی ہے، جو اندرونی کان میں گھونگھے کی شکل کا عضو ہے۔ اس کے نتیجے میں کوکلیا کو مستقل نقصان آپکی سماعت کو نقصان پہنچا سکتا ہے.

    تمباکو نوشی آنکھوں میں جسمانی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے جو آپ کی بینائی کو خطرہ میں ڈال سکتی ہے۔ سگریٹ سے نکلنے والے نکوٹین کے اثرات میں سے ایک ایسے کیمیکل کی پیداوار کو محدود کرتا ہے جو آپ کو رات کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، تمباکو نوشی آپ کے موتیابند اندھے پن کا باعث بن سکتے ہیں.

    تمباکو نوشی آپ کے منہ سے ایک ٹول ٹیکس لیتی ہے. تمباکو نوشی کرنے والوں کو غیر تمباکو نوشی کرنے والوں سے زیادہ منہ کی صحت کے مسائل ہوتے ہیں، جیسے منہ کے زخم، السر اور مسوڑھوں کی بیماری۔ چھوٹی عمر میں آپ کو گہا ہونے اور دانتوں سے محروم ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ آپ کو منہ اور گلے کے کینسر ہونے کا بھی زیادہ امکان ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کی جلد کو خشک کرنے اور لچک کھونے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے جھریاں اور اسٹریچ مارکس ہو سکتے ہیں۔ آپ کی جلد کا رنگ پھیکا اور خاکستری ہو سکتا ہے۔ آپ کے 30 کی دہائی کے اوائل تک، آپ کے منہ اور آنکھوں کے گرد جھریاں آنا شروع ہو سکتی ہیں،

    تناؤ کا شکار دل
    تمباکو نوشی آپ کے بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے اور آپ کے دل پر دباؤ ڈالتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، دل پر دباؤ اسے کمزور کر سکتا ہے، جس سے یہ آپ کے جسم کے دوسرے حصوں میں خون پمپ کرنے کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ سانس لینے والے سگریٹ کے دھوئیں سے کاربن مونو آکسائیڈ بھی آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے، جس سے دل کا کام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے دل کے دورے سمیت امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کے خون کو گاڑھا اور چپچپا بنا دیتی ہے۔ خون جتنا گاڑھا ہوگا، آپ کے دل کو اسے آپ کے جسم کے ارد گرد منتقل کرنے کے لیے اتنا ہی سخت کام کرنا پڑے گا۔ گاڑھے خون کے جمنے کا بھی زیادہ امکان رکھتا ہے جو آپ کے دل، دماغ اور ٹانگوں میں خون کے بہاؤ کو روکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، گاڑھا خون آپ کی خون کی نالیوں کی نازک استر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ نقصان آپ کے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

    چربی کے ذخائر
    تمباکو نوشی خون میں گردش کرنے والے کولیسٹرول اور غیر صحت بخش چربی کو بڑھاتی ہے، جس سے غیر صحت بخش چربی کے ذخائر آپ کے جسم میں پیدا ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ، کولیسٹرول، چکنائی اور دیگر ملبہ آپ کی شریانوں کی دیواروں پر جمع ہو جاتا ہے۔ یہ بلڈ اپ شریانوں کو تنگ کرتا ہے اور دل، دماغ اور ٹانگوں میں خون کے عام بہاؤ کو روکتا ہے۔ دل یا دماغ میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بن سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کے پھیپھڑوں کے چھوٹے ایئر ویز اور ٹشوز میں سوزش کا پیدا کرتی ہے۔ آپ کی طبعیت میں گھرگھراہٹ کا سبب بن سکتی ہے یا آپ سانس لینے میں تکلیف محسوس کر سکتے ہے۔ مسلسل سوزش سے داغ کے ٹشو بنتے ہیں، جو آپ کے پھیپھڑوں اور ایئر ویز میں جسمانی تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں جو سانس لینے میں مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔ پھیپھڑوں کی جلن اور آپ کو بلغم کے ساتھ دائمی کھانسی ہو سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی پھیپھڑوں میں ہوا کے چھوٹے تھیلے یا الیوولی کو تباہ کر دیتی ہے جو آکسیجن کے تبادلے کی اجازت دیتے ہیں۔ جب آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں، تو آپ ان میں سے کچھ ہوا کے تھیلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ الیوولی واپس نہیں بڑھتے ہیں، لہذا جب آپ انہیں تباہ کرتے ہیں، تو آپ نے اپنے پھیپھڑوں کا ایک حصہ مستقل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ جب کافی مقدار میں الیوولی کو تباہ کر دیا جاتا ہے، تو بیماری ایمفیسیما تیار ہوتی ہے۔ ایمفیسیما سانس کی شدید قلت کا باعث بنتا ہے اور موت کا باعث بن سکتا ہے۔

    سیلیا اور سانس کے انفیکشن
    آپ کے ایئر ویز پر چھوٹے برش جیسے بال ہیں، جسے سیلیا کہتے ہیں۔ سیلیا بلغم اور گندگی کو صاف کرتا ہے تاکہ آپ کے پھیپھڑے صاف رہیں۔ تمباکو نوشی عارضی طور پر مفلوج کردیتی ہے اور یہاں تک کہ سیلیا کو مار دیتی ہے۔ اس سے آپ کو انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی غیر تمباکو نوشیوں کے مقابلے میں زیادہ نزلہ زکام اور سانس کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔

    آپ کا جسم ایسے خلیوں سے بنا ہے جن میں جینیاتی مواد، یا DNA ہوتا ہے، جو سیل کی نشوونما اور کام کے لیے "ہدایت دستی” کے طور پر کام کرتا ہے۔ سگریٹ کا ہر ایک پف آپ کے ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جب ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے، تو "ہدایت دستی” میں گڑبڑ ہو جاتی ہے، اور خلیہ کنٹرول سے باہر ہونا شروع کر سکتا ہے اور کینسر کا ٹیومر بنا سکتا ہے۔ آپ کا جسم اس نقصان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے جو تمباکو نوشی آپ کے ڈی این اے کو کرتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، تمباکو نوشی اس مرمت کے نظام کو ختم کر سکتی ہے اور کینسر (جیسے پھیپھڑوں کا کینسر) کا باعث بنتی ہے۔ کینسر کی تمام اموات میں سے ایک تہائی تمباکو کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    پیٹ اور ہارمونز
    پیٹ
    تمباکو نوشی آپ کے لیے خراب کیوں ہے ایک اور وجہ کی ضرورت ہے؟ بڑا پیٹ۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں بڑے پیٹ اور کم عضلات ہوتے ہیں۔ ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، چاہے وہ ہر روز سگریٹ نوشی نہ کریں۔ تمباکو نوشی بھی ذیابیطس پر قابو پانا مشکل بنا دیتی ہے جب آپ اسے پہلے سے ہی پکڑ لیتے ہیں۔ ذیابیطس ایک سنگین بیماری ہے جو اندھے پن، دل کی بیماری، گردے کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔

    ایسٹروجن کی کم سطح
    تمباکو نوشی خواتین میں ایسٹروجن کی سطح کو کم کرتی ہے۔ ایسٹروجن کی کم سطح خشک جلد، پتلے بالوں اور یادداشت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو حاملہ ہونے اور صحت مند بچہ پیدا کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تمباکو نوشی بھی جلدی رجونورتی کا باعث بن سکتی ہے، جس سے آپ کو بعض بیماریوں (جیسے دل کی بیماری) ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    چھوڑنے کے فوائد
    تمباکو نوشی چھوڑنے سے آپ کے جسم کے بیشتر بڑے حصوں میں مدد مل سکتی ہے آپ کے دماغ سے لے کر آپ کے ڈی این اے تک۔کوشش کریں گے ہمت کریں گے تو ضرور اسکو چھوڑ سکیں گے۔سوچ ضروری ہے اتنے نقصانات جاننے کے بعد کوئی کیسے تمبا کو نوشی کر سکتا ہے کون اپنے آپ کو اتنا نقصان دے سکتا ہے کوئی عقلمند انسان نہں.

    Twitter handle
    @umesalma_

  • افغانستان..مدد کا منتظر…تحریر:عفیفہ راؤ

    افغانستان..مدد کا منتظر…تحریر:عفیفہ راؤ

    بیس سال تک افغانستان میں جو طالبان، امریکہ کی جان کے دشمن تھے اس کے ساتھ جنگ لڑتے رہے اب وہ امریکہ سے ہی رحم کی اپیل کر رہے ہیں سوچیں ایسا کیا ہوا کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی؟ آخر کیوں طالبان اپنے دعوے پورے کرنے میں ناکام رہے؟ اور اب افغانستان میں اصل صورتحال کیا ہے افغان عوام اپنا گزارہ کیسے کر رہی ہے؟ اور کیوں پاکستان افغانستان کے لئے ہر ایک فورم پر آواز اٹھا رہا ہے؟ وہ کون سا ایسا خطرہ ہے جو پوری دنیا کی نوجوان نسل کے لئے ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے؟

    پاکستان میں افغانستان کی صورتحال پر غور کے لئے او۔ آئی۔ سی وزرائے خارجہ کا ایک غیرمعمولی اجلاس بھی بلایا گیا ہے جو کہ انیس دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ تاکہ افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اجتماعی کوششوں کو تیز کیا جائے عالمی برادری خاص کر کہ امریکہ کو افغانستان کی مدد پر راضی کیا جائے۔اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خود طالبان حکومت نے بھی عالمی قوتوں کو پکارنا شروع کر دیا ہے کہ لاکھوں افغان شہریوں کو انکی مدد کی ضرورت ہے اس لئے رحم اور ہمدردی کی بنیاد پران کی مدد کی جائے۔طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے اپنے ایک انٹرویو میں امریکا سے اپیل کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے دس بلین ڈالر سے زائد منجمد فنڈز کو جاری کیا جائے کیونکہ جب تک فنڈز بحال نہیں ہوں گے تو طالبان کیسے دنیا کو اپنا کام دکھا سکیں گے۔امیر اللہ متقی نے یہاں تک بھی کہا ہے کہ طالبان حکومت کا امریکا سے کوئی جھگڑا نہیں ہے وہ تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ غیر مستحکم افغانستان یا کمزور افغان حکومت کا ہونا کسی کے مفاد میں نہیں۔اب اگر طالبان حکومت کے وزیر خارجہ اس طرح کے بیان دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ہمارے اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ اگرعالمی برادری نے افغانستان پر بروقت توجہ نہ دی تو وہاں ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

    لیکن میں آپ کو بتاوں کہ افغانستان کے اندر انسانی بحران تو تصویر کا ایک رخ ہے لیکن واقعی اگر افغانستان پر اس وقت دنیا نے توجہ نہ دی تو یہ آنے والے وقت میں ایک ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے جو کہ ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کرنے کی وجہ بن سکتا ہے۔دراصل اس وقت ہو یہ رہا ہے کہ امریکہ کچھ معاملات کو لیکر افغانستان پر غصے میں ہے جس کی ایک چھوٹی سی مثال لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمتوں پرلگائی گئی پابندی ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے ساتویں اور بارہویں جماعت کی طالبات کو اسکول جانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی ہے خواتین کو ان کی ملازمتوں پر واپس جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ جس پر طالبان حکومت کا یہ کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ فی الحال بہت سی خواتین سرکاری ملازمین کو گھر میں رہنے کو کہا گیا ہے لیکن اس کی وجہ ہماری سخت گیر پالیسی نہیں بلکہ اسکولوں اور کام کی جگہوں پرشریعت کے تحت علیحدہ انتظامات کا نہ ہونا ہے۔ اور جہاں یہ انتظامات مکمل ہیں جیسے افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے دس صوبوں میں بارہویں جماعت تک لڑکیاں اسکول جا رہی ہیں۔ پرائیویٹ اسکولز بھی بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں بھی سو فیصد خواتین کام پر واپس آ گئی ہیں۔ لیکن باقی جگہوں پر انتظامات کرنے اور کارکردگی دکھانے کے لئے ضروری ہے کہ طالبان حکومت کے پاس فنڈز ہوں بغیر فنڈز کے وہ کوئی بھی کام نہیں کر سکیں گے اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ آپ ایک انسان کے ہاتھ باندھ دیں اور پھر اس کو لڑنے کا کہیں۔اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی آبادی اس وقت تقریبا تین کروڑ نوے لاکھ ہے جس میں سے آدھی آبادی پندرہ سال سے کم عمرنوجوانوں کی ہے۔ اور وہاں کی آبادی کا برا حصہ Poverty lineسے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔

    اور جب کسی ملک میں غربت پھیلنا شروع ہو جائے تو آپ کو معلوم ہے کہ وہاں ہر طرح کی برائیاں جنم لینا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ امن و امان کا پہلے ہی افغانستان میں کافی سنگین مسئلہ ہے۔اور اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ جو پوری دنیا کی آںے والی نسلوں کے لئے ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے وہ وہاں پر ہونے والی پوست کی کاشت اور ہیروئین کی برآمد ہے جو اس وقت عروج پر ہے۔ ہیروئین کے ساتھ ساتھ افغانستان میں جو ایک نئے نشے کا دھندہ شروع ہو چکا ہے وہ کرسٹل میتھ ہے۔ جس کا ایک سو کلو کا تھیلا جب افغانستان سے نکل کرکسی دور دراز ملک میں پہنچتا ہے تو اس ایک تھیلے کی قیمت دو ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔افغانستان کے جنوب مغربی ضلع میں جہاں ایفیڈرا نامی بوٹی کاشت کی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں اومان بھی کہا جاتا ہے وہاں تقریبا پانچ سو فیکٹریاں کام کر رہی ہیں جو روزانہ تین ہزار کلوگرام کرسٹل میتھ تیار کرتی ہیں۔پہلے طالبان کی جانب سے ایفیڈرا اگانے پر ٹیکس لگایا جاتا تھا۔ لیکن پھر اس کی کاشت پر پابندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس پر کوئی خاص عمل درآمد نہیں ہوسکا۔بلکہ پابندی لگنے سے وہاں کے فیکٹری مالکان کو یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ میتھ کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور ان کا کاروبار خوب چمک اٹھا ہے۔ اس طرح اب جن فیکٹری مالکان نے یہ بوٹی اپنے گوداموں میں سٹور کی ہوئی ہے وہ آنے والے دنوں میں اس بوٹی سے کرسٹل میتھ بنا کر خوب پیسہ کما سکتے ہیں۔طالبان حکومت اس پابندی پر عمل درآمد کروانے میں کیوں ناکام رہی اس کی کئی وجوہات ہیں۔ بظاہر ایک سادہ سی وجہ تو یہ بھی ہے کہ ایفیڈرا کی کاشت پر اس وقت پابندی کا اعلان کیا گیا جب کسان فصل کاٹ چکے تھے اس وجہ سے پابندی پر عمل ہوا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ اصل صورتحال اگلے سال جولائی میں سامنے آئے گی جب نئی فصل کی کاشت کا وقت ہو گا کہ اس وقت طالبان کی حکومت کاشتکاروں کو اس کی اجازت دے گی یا نہیں؟اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت افغانستان کو پیسے کی اشد ضرورت ہے اور ان کے پاس پیسہ کمانے کا صرف ایک یہ ہی آسان طریقہ ہے۔افغانستان میں پوست کی کاشت سے جو ہیروئین تیار کی جاتی ہے دنیا بھر کی ڈیمانڈ کا تقریبا80 فیصد اسی سے پورا ہوتا ہے۔ افغانساتن میں ایسی لا تعداد فیکٹریاں موجود ہیں جو افیون سے ہیروئن بناتی ہیں اور ہر فیکٹری 60-70 افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ اور دوسری طرف اب جس رفتار سے میتھ تیار کی جا رہی ہے وہ ہیروئن کی تجارت کو بھی بہت پیچھے چھوڑ جائے گی۔

    اور ایسا نہیں ہے کہ طالبان کو اس کے نقصانات کا علم نہیں ہے وہ یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ ان برے حالات میں پیسہ کیسے کمائیں؟اورایسی صورتحال میں جب امریکہ سمیت تمام عالمی اداروں نے افغانستان کے فنڈز روکے ہوئے ہیں کوئی ان کی مدد کو سامنے نہیں آرہا دوسری طرف افغانستان میں کاشتکاروں کو خشک سالی اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے تو سوچیں کہ ان کے پاس کیا حل باقی بچتا ہے۔ہو سکتا ہے آپ میں سے بہت سے لوگ سوچیں کہ وہاں کاشتکار کوئی اور فصل کیوں کاشت نہیں کر لیتے؟تو اس میں مشکل یہ ہے کہ وہاں پر کوئی اور فصل کاشت کرنے کے لیے پانی کے کنویں کھودنے پڑتے ہیں۔ اگر بھنڈی یا ٹماٹر کاشت کریں تو ان کاشتکاروں کو کنویں کی آدھی قیمت بھی وصول نہیں ہوتی۔ایسی صورتحال میں آپ سوچیں کہ طالبان حکومت پابندی پر کیسے عمل درآمد کر وا سکتی ہے۔ بلکہ اس وقت تو وہاں اتنی آسانی ہو گئی ہے کہ پابندی کے اعلان سے قیمت بھی بڑھ گئی ہے اور وہ منشیات ڈیلر جو پہلے خفیہ طور پر کرپٹ افغان اہلکاروں کو رشوت دے کر مال فروخت کرتے تھے اب کھلے عام بازاروں میں سٹال لگا کر منشیات فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔

    کابل میں طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے بھی حال ہی میں یہی بیان دیا ہے کہ اس وقت طالبان کسانوں کے لیے متبادل مواقع تلاش کر رہے ہیں اور جب تک ھم لوگوں کو کچھ متبادل فراھم نہیں کر لیتے ھم انھیں کیسے منع کر سکتے ہیں۔
    اس لئے بین الاقوامی برادری کو کچھ سوچنا چاہیے افغان لوگوں کے لئے نہ صرف جلد از جلد فنڈز ریلیز ہونے چاہیں بلکہ ان کی مدد بھی کی جانی چاہیے۔ کیونکہ اگر ان کی مدد نہ کی گئی اور منشیات کی کاشت پر بھی پابندی لگا دی تو افغان عوام بھوکے رہ جائیں گے وہ اپنے خاندانوں کو کیا کھلائیں گے اور دوسری صورت میں اگر منشیات کی کاشت کا سلسلہ اسی طرح سے چلتا رہا تو یہ پوری دنیا کے لئے ایک ایٹم بم ثابت ہوگا اور اس کی لپیٹ میں ہماری نوجوان نسل آئے گی جبکہ افغان نسل تو پہلے ہی اس کی لپیٹ میں آچکی ہے وہاں سڑک کنارے جگہ جگہ نوجوان ٹولیوں میں نشہ کرتے نظر آتے ہیں۔ طالبان اکثروبیشتر ان کو اٹھا کر Rehabilitaion centreبھی چھوڑ کرآتے ہیں لیکن وہ نوجوان پھر واپس آ جاتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت منشیات کی پیداوار اتنی زیادہ ہو رہی ہے کہ وہاں ہیروئین اور میتھ بہت زیادہ سستی بھی ہے۔ اس لئے اس ایٹم بم کو ناکارہ کرنے کے لئے امریکہ اور عالمی طاقتوں کو جلد از جلد اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہوگا تاکہ اپنی نوجوان نسلوں کو بچایا جا سکے۔

  • "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    آج سولہ دسمبر ہے سقوط ڈھاکہ اور سقوط پشاور کی یاد دلاتا یہ دن ایک ایسا گھاؤ ہے سانسوں کے بند ہونے کے بعد ہی شاید مندمل ہوسکے. شہادتوں پر افسوس نہیں ہے شہادتیں تو ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہیں.
    شہادتیں تو تحاریک اور جذبوں کو جلا بخشتی ہیں. وہ شہادتیں البدر و الشمس کے نوجوانوں کی ہوں یا آرمی پبلک اسکول کے معصوم پھولوں کی، وہ لہو بڑا ہی مقدس ہے وہ وردی پہنے نوجوان کا ہو یا کشمیر کی وادیوں میں بغیر وردیوں کے لڑنے والے مجاہدین کا…
    دکھ اور سانحہ تو اس بات کا ہے کہ آج کے دن ملک دو لخت ہوا . بھائی بھائی کا دشمن ہوا، پاکستان سے وفا کی پاداش میں ہزاروں مردوں کا خون بہا تو ہزاروں خواتین کی عصمت دری ہوئی. دشمن کو موقع ملا اور اس نے کھل کر تقسیم برصغیر کا بدلہ لیا.
    ان سب سے بڑھ کر غم انگیز بات یہ ہے کہ افواج پاکستان کو شکست ہوئی اور شکست بھی ایسی کہ ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالےگئے. اور ہزاروں پاکستانی فوجی، سرکاری عملہ، سول لوگ مکار دشمن کے قیدی بن گئے.
    اسلامی تاریخ میں یوں اسلامی فوج کا ہتھیار ڈالنا یہ بہت کم ہی ملتا ہے. یہی وجہ ہے کہ زیادہ دکھ یہی بات دیتی ہے کہ ہم تو عجب شان سے جیا کرتے ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ پاکستانی فوج نے کوئی بزدلی دکھائی بلکہ بھارتی فوج کے جرنیلوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کی فوج اپنے بیس کیمپ سے دور کم اسلحے اور سازوسامان کے باوجود بہادری اور دلیری سے لڑی.
    لیکن میدانوں کی جنگیں ہم نے اکثر ہی میزوں پر ہاری ہیں تو سیزفائر کی قرار داد کو پھاڑ کر بھٹو نے اس شکست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی وگرنہ سیز فائر کے آپشن سے اس شکست سے بھی بچا جاسکتا تھا اور ہزاروں سول و ملٹری کی شہادتوں کے بغیر بھی سیاسی حل ہوسکتا تھا.
    اکہتر کا دوش سارے کا سارا مجیب الرحمن کو دینا قطعاً ناانصافی ہے. ایوب دور اور اس سے پہلے ادوار میں مشرقی پاکستان کے لوگوں سے روا رکھی جانے والی ناانصافیوں، بیوروکریسی کوٹہ کی دھجیاں، زبان کا مسئلہ، انتہا کی غربت اور اس کوئی حل نہ ہونا، جنرل یحیٰ کے بیوقوفانہ فیصلے اور پھر جاکر بھٹو مجیب کی اقتدار کی ہوس اور اس کے لیے باہمی گٹھ جوڑ یہ وہ عوامل تھے جن کو دشمن نے استعمال کیا اور وہ دن دیکھنا پڑا کہ سر شرم سے جھکے جاتے تھے.
    بنگلہ دیشی عوام سے ہمیں کوئی گلہ نہیں ہے وہ ہمارے بھائی ہیں ہمیں ان سے آج بھی اتنی ہی محبت ہے ہم ان کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں. ہمارا دشمن مشترکہ ہے اور وہ ہے انڈیا جس کو مسلم کی ترقی و بالادستی اس خطے میں کسی بھی صورت قبول نہیں ہے.
    پاکستان اور بنگلہ دیشی عوام، سیاستدانوں اور سربراہان کو چاہیے کہ تاریخ کے غمناک ابواب سے سبق سیکھ کر لازوال دوستی کا ہاتھ تھامیں اور اس دوستی کی بنیاد پر اس خطے میں بھارت کی تنہائی کے تابوت میں کھیل ٹھونکیں…
    بھارت کی بدحواسیاں یوں ہی نہیں ہیں ان کو نظر آرہا ہے کہ امریکہ اس خطے سے شکست کھاکر دفعان ہوچکا ہے جبکہ چین بھارت کے سبھی ہمسائیہ ملکوں میں بھاری سرمایہ کاری کرکے ان کو ایک لڑی میں پرو چکا ہے. اب اس میں بڑا کردار پاکستان اور بنگلہ دیش ادا کرسکتے ہیں.
    محمد عبداللہ

  • انسانیت شرما گئی کلیاں مرجھا گئیں تحریر حنا

    انسانیت شرما گئی کلیاں مرجھا گئیں تحریر حنا

    انسانیت شرما گئی
    کلیاں مرجھا گئیں
    میری ماں سے پوچھ کتنا لاڈلا تھا میں!
    16 دسمبر 2014
    سانحہ آرمی پبلک اسکول، پشاور
    اے پی ایس کا دلخراش واقعہ 16 دسمبر 2014 کو پیش آیا تھا جب صبح علم کے حصول میں مصروف طلبہ 10 بجے کے وقت سات دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے۔ یہ وہ دن تھا جس کا سورج حسین تمناؤں اور دلفریب ارمانوں کے سنگ طلوع ہوا مگر غروب 144 معصوم و بےقصور بچوں کے لہو کے ساتھ ہوا۔
    مائیں دروازے تکتی رہ گئ ۔۔بچے سکول سے سیدھے جنت چلے گے ۔۔16 دسمبر کا دن ملک کی تاریخ کے اہم ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے ۔۔۔یہ تاریخ کے لحاظ سے پاکستان کا سیاہ ترین دن ہے ۔۔آج کا دن اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔۔کہ آج کے دن 16 دسمبر 2014 آرمی پبلک سکول میں ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 افراد زخمی ہووے تھے ۔۔آج چھ سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ المناک سانحہ لوگوں کے دلوں میں روز اول کی طرح تازہ ہے ۔۔۔اس سانحہ میں شہید ہونے والے کچھ ایسے بچے قوم کا سنہرا مستقبل تھے ۔۔یوں کہ لیجیے کہ دشمنوں نے ہمارے مستقبل کو شہید کیا تھا ۔۔۔144 خاندان اجڑ گے تھے ۔۔144 والدین کی گود خالی ہو گئ تھی ۔۔144 والدین کے سہارے ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گے تھے ۔۔144 ماوں کی آنکھوں کا نور ان سے جدا کر دیا گیا تھا ۔۔144 بچوں کو خون میں نہلایا گیا تھا ۔۔۔۔کافر اسلام کو دہشت گرد کہتے ہیں. سنو حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا. اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سختی سے) عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرما دی.‘‘مطلب کہ جنگ میں بھی عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو ۔۔۔یہ کیسے کافر تھے کیسے درندے پتھر دل لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے بچوں کو معصوم کلیوں کو شہید کیا ۔۔۔آج میں سلام پیش کرتی ہوں ان بچوں کو ان شہیدوں کو جن معصوموں نے اپنا لہو دے کر اس وطن کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کیا.میں سلام پیش کرتی ہوں ۔۔
    شہید سیف اللہ ❤ شہید نورواللہ
    دونوں سگے بھائ تھے… شہید سیف اللہ نویں جماعت اور شہید نورواللہ آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔۔۔دونوں بھائ اس سانحے میں شہید ہو گے تھے ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں ۔۔ شہید مبین آفریدی کو ۔۔جو دو بہنوں کا اکلوتا بھائ تھا ۔۔مبین دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کررہا تھا ۔۔مبین بھی اس سانحے میں شہید ہوا تھا ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں حارث نواز کو جو ساتویں کلاس کا طالب تھا ۔۔میں سلام پیش کرتی ہوں احمد نواز کو جس کے سامنے 144 بچوں کا خون بہا ۔۔اس کے بھائ کو شہید کیا گیا ۔۔وہ خود اس سانحے میں زخمی ہوا ۔۔لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری ۔اپنی منزل پانے کے لیے اپنے شہید بھائ کے خواب پورے کرنے کے لیے وہ آج بھی محنت کررہا ہے ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں
    اس استاد کو
    سعدیہ گل خٹک آرمی پبلک سکول میں انگلش پڑھاتی تھیں , وہ ایک خوش طبعیت اور ملنسار خاتون تھیں . جو 7 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پہ تھیں , انھیں دوستوں کے ساتھ باہر جانا پسند تھا . ہر شام وہ دوستوں کے ساتھ واک کے لیے نکلتیں .
    16 دسمبر 2014 کو جب سکول پہ حملہ ہوا تو انھیں وہاں پڑھاتے ہوئے ابھی 5 مہینے ہوئے تھے , حملے کے وقت وہ سٹاف روم میں موجود تھیں , انھوں نے ایک حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی جس پر انھیں گولی لگی اور وہ شہید ہو گئیں ……
    میں سلام پیش کرتی ہوں نویں کلاس کے اسامہ اور عاطف رحمان کو جن معصوموں نے اس وطن کے لیے اپنا لہو بہایا ۔۔۔144 بچوں کو میں سلام پیش کرتی ہوں ۔جن بچوں کے سامنے بے دردی سے کسی نے چھپکلی بھی نہ ماری تھی ان بچوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے ساتھیوں کو بہن بھائیوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا ۔۔۔۔ان بچوں کو زخمی کیا گیا ۔۔۔یہ ایسا غم ہے جو کبھی بھی کوی بھی نہیں بھولے گا ۔۔۔خدا کرے میری ارض پاک پر اترے ۔۔وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو ۔۔۔
    ہم تمہیں بھولے نہ ہی بھولیں گے۔۔۔!!!
    اے پی ایس پشاور کے شہداء تمھیں سلام ۔۔۔۔!!!
    اللہ پاک ان تمام شہداء کے درجات بلند فرماے آمین اور ان کے والدین کو صبر دے ۔آمین ۔۔الفاظ بہت کم ہے ۔۔۔اور سانحہ بہت بڑا تھا۔۔۔۔آج بھی لکھتے ہووے آنکھوں سے آنسو ایسے جاری ہے جیسے یہ سانحہ آج ہوا ہو ۔۔۔۔سانحے کتنے بھی پرانے ہو جائیں ۔۔لیکن ان کا غم ان کا دکھ ہمیشہ ہوا کے جھونکے کی طرح تازہ رہتا ہے ۔۔۔جب دہشت گردوں نے حملہ کیا اس وقت دہشت گردوں سے لڑنے والے
    شہزادے ہیرو کو سب جانتے ہی ہوں گے۔ اے پی ایس کے سانحہ کے وقت ایس ایس جی کے جس دستہ نے آڈیٹوریم میں گھس کر دہشتگردوں کو مارا اس دستہ کو ضرار کمپنی کے کیپٹن عابد صاحب لیڈ کر رہے تھے۔ یعنی اندر آڈیٹوریم میں جب دہشتگرد معصوم بچوں پر بہادری دکھا رہے تھے تب اللہ ہو اکبر کی صدا بلند کرکے داخل ہونے والے پہلے ولنٹیئیر کا نام کیپٹن عابد زمان خان تھا۔۔
    یہ پہلا بندا تھا جو اپنی ٹیم کو لے کر داخل ہوا اور ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے خود داخل ہوا اور پھر باقی ٹیم… اور اس طرح بزدل جہنمی کتے لڑکھڑا گئے۔۔ اس وقت کیپٹن عابد کو گولی بھی لگی جس سے وہ کافی زخمی ہوئے لیکن کمال مہارت اور بہادری سے خوارجیوں کو مار دیا اور کچھ دہشتگردوں نے ضرار ٹیم کی للکار کے ڈر کی وجہ سے خود کو اڑا دیا۔۔۔ اس طرح الحمدللہ پاک فوج کے جوانوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کئی بچوں کو بچا لیا۔۔ ورنہ اس حال میں تو شاید 400 سے اوپر بچے تھے۔۔
    کیپٹن عابد کافی دن ہسپتال رہے لیکن الحمدللہ وہ مکمل صحت یاب ہو کر دوبارہ ڈو آر ڈائی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔۔۔
    مجھے ان کا یہ جملہ کبھی نہیں بھولے گا جب انہوں نے کہا کہ ہماری پوری ٹیم یعنی ایس ایس جی ضرار کمپنی کے پاس 2 آپشن ہوتے ہیں کہ مار دو یا مر جاو۔۔ہماری ٹیم میں سب volunteer ہوتے ہیں۔۔ اور ہم آخری آپشن ہوتے ہیں ہمارے بعد کسی فورس نے نہیں آنا ہوتا۔۔۔ اور پھر بڑے فخر سے کہا الحمدللہ آج تک کوئی دہشتگرد ہمارے سامنے ٹک نہیں پایا۔
    مطلب ان کے پاس پیچھے ہٹنے یا ڈرنے دوڑنے والا کوئی آپشن ان کی ڈائری میں نہیں۔۔۔
    سنا ہے ہال میں 7 درندے تھے جن میں سے 3 کو اکیلے کیپٹن عابد نے جہنم واصل کیا تھا میں سلام پیش کرتی ہوں پاک فوج کے اس بہادر جوان کو ان کی پوری ٹیم کو ۔ ۔۔سانحے واقعات دکھ غم اس زندگی کا حصہ ہے ۔۔سانحے تو ہوتے ہیں ۔لیکن اس سانحات سے سیکھنے والی قومیں بہت کم ہوتی ہے ۔۔۔مجھے فخر ہے میری قوم نے اس سے سیکھا ۔۔۔مجھے فخر ہے کہ میری مائیں ڈری نہیں ۔۔۔مجھے فخر ہے اس باپ پر جس کے دونوں جوان بچے شہید ہووے اس کے باوجود وہ ہمت سے کہ رہا تھا کہ میرا کوی تیسرا بیٹا ہوتا تو میں اسے پڑھاتا ۔۔۔مجھے فخر ہے ان تمام والدین پر جن کے بچے آج بھی آرمی پبلک سکول میں پڑھ رہے ہیں ۔۔۔۔مجھے فخر ہے ان بچوں پر جنھوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے شہید بہن بھائیوں کے خواب پورے کرنے کے لیے محنت سے دل لگا کر پڑھ رہے ہیں ۔۔۔اللہ پاک میرے وطن کو ایسے سانحات سے محفوظ رکھے آمین ۔۔۔
    برسی پر پھول دیکھے تھے ۔آج پھولوں کی برسی ہے
    حنا سرور

  • ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ

    ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ

    ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ
    فرد ہو یا قوم، سب سے بڑی مجبوری، سب سے بڑی غلامی، معاشی غلامی ہوتی ہے۔ پاکستان کو غلامی کا ایسا پھندہ لگ گیا ہے کہ حالت یہ ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈالر اس ماہ کے آخر تک200تک پہنچ جائے گا اور اگلے بجٹ تک 220روپے تک کا ہوجائے گا ۔ پھر آئی ایم ایف کی شرائط پر جو منی بجٹ نافذ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے 360 ارب روپے کے ٹیکس اور تمام سبسڈیز کا خاتمہ وجائے گا ۔ ۔ مگر وزیراعظم روز کسی نہ کسی بہانے ٹی وی پر آکر ایک ہی راگ الپاتے ہیں کہ ۔ پاکستان سستا ترین ملک ہے ۔۔ پاکستان جلد ہی خطے کا بڑا اور لیڈر ملک بن کر ابھرے گا۔ صرف سردیاں مشکل ہیں، گرمیاں آتے ہی مہنگائی اور مشکلات کم ہو جائیں گی۔ وزیراعظم کی باتوں سے لگتا ہے انہیں آج بھی اس امر کا یقین ہے لوگ ان کی باتیں امید بھرے انداز میں سنتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ۔ کپتان کی ایسی ہر بات کے فوری بعد عوام پر مہنگائی کا کوئی نیا بم گرا دیا جاتا ہے اور ان کی رہی سہی کمر بھی ٹوٹ جاتی ہے۔

    ۔ میانوالی میں جلسے میں بھی یہ ہی گھسی پیٹی باتیں کی گئیں ۔ ۔ پر اب جو عوام ہے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے میانوالی میں بھی کپتان کی تقریر کے دوران پنڈال میں موجود ایک شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ یہ سب ” جھوٹی باتیں ہیں“۔۔ اس نوجوان کاکہنا تھاکہ چاچا عمران آپ نے مہنگائی بہت کردی، ہم بھوکے مرگئے ہیں، مہنگائی کم کرو، مہنگائی کم کرے۔ ۔ اچھا یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا ۔ مستقبل قریب کے چند واقعات آپکو سنا دیتا ہوں ۔۔ پشاور میں جلسے کے دوران بھی ایک شخص ایسے ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ ۔ اسلام آباد میں بھی پی ٹی آئی کے ایونٹ کے دوران ایک نواجوان مائیک پکڑ کر تحریک انصاف کوآئینہ دیکھا چکا ہے ۔ ۔ پھر حالیہ کے پی کے میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے دوران بھی علی امین گنڈاپور کے سامنے لوگ ڈٹ گئے تھے ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ معیشت کی بحالی کے باربار وعدوں کے باوجود حالات تشویشناک حد کو پہنچ چکے ہیں مگر حکومت کے معاشی ارسطو جلد بہتری کی اب بھی نوید سنا رہے ہیں۔ ۔ اسی جانب آج پی ٹی آئی کے اہم اتحادی ق لیگ کے پرویز الہی نے دوبارہ اشارہ کیا ہے کہ حکومت جان لے مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا تو ہر قسم کی پرفارمنس ختم ہو جائے گی۔

    ۔ دراصل عمران خان سب جانتے ہوئے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں تا کہ عوامی توجہ ان کی کارکردگی پر مرکوز نہ ہونے پائے اور لوگ ان کے بیانات کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہیں ۔ ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زیادہ تر اقتدار میں موجود لوگ خود بھی گلے گلے تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہر اس شخص کی سرپرستی کرتے ہیں جو کرپشن کیلئے تیار ہو۔ بڑے بڑے سکینڈلوں میں ملوث منفی شہرت کے حامل کو بلا بلا کر جس طرح بڑے بڑے عہدوں سے نوازا گیا ہے موجودہ نظام کی کریڈبیلٹی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ۔ قرضے لے کر ایسے اڑائے جاتے رہے جیسے مال غنیمت اڑایا جاتا ہے۔ کوئی بتائے کوئی سمجھائے 35 ہزار ارب روپے کا قرضہ آخر کہاں گیا۔ اس کا کبھی کوئی جواب نہیں ملا، بس یہ ضرور کہا جاتا رہا کہ جانے والے حکمران لوٹ کر کھا گئے۔۔ پھر موجودہ حکومت کو اپوزیشن سے بھی ایک اور بڑا خطرہ فارن فنڈنگ کیس ہے اِس حوالے سے DG Law کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہے جس میں پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ کیس میں بری الزمہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ ملوث ہونے کے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ ۔ جمعرات کو ان کیمرہ اجلاس بھی ہو چکا ہے ۔ یہ رپورٹ ایسی تلوار ہے جو پی ٹی آئی حکومت کے لیے تباہ کُن ثابت ہو سکتی ہے ۔۔ کیونکہ اس میں پی ٹی آئی کو بھارت اور اسرائیل سے فنڈنگ بارے بھی الزامات کا سامنا ہے ۔ ۔ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عمران خان اِس رپورٹ کی روشنی میں نہ صرف نااہل ہو سکتے ہیں بلکہ حکمران جماعت کے بھی کالعدم ہو نے کا امکان رَد نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ کیس کا سامنا کرنے کے بجائے تحریکِ انصاف راہ ِ فرار اختیار کرنے جیسی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔۔ پھر وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو پچاس ہزار جرمانہ ہوا ہے مگرحکمران کچھ دیکھنے یا سننے کے بجائے انتخابات میں دھاندلیوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ تو الیکشن کمیشن نے سپیکر اسد قیصر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کردیا ہے۔۔ دراصل اسپیکر اسد قیصر کی ایک آڈیو زیر گردش ہے، جس میں وہ ووٹرز کو ترقیاتی منصوبے دینے کا وعدہ کررہے ہیں۔ ۔ اب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں اسد قیصر کو 13
    دسمبر کو ساڑھے 11 بجے طلب کیا گیا ہے ۔

    ۔ مجھے تو لگ رہا ہے کہ اپوزیشن نہ اتنی جوگی ہے اور اوپر سے آپسی اختلافات کا شکار بھی ہے ۔ ہر کسی کی اپنی رائے ہے ۔ تو کہیں ۔۔۔ چن ۔۔۔ الیکشن کمیشن نہ ۔۔۔ چاڑھ ۔۔۔ دے ۔ اور بازی مار لے ۔ ۔ کیونکہ آپ دیکھیں میاں صاحب کے حوالے سے خبریں گردش میں ہیں ۔ کہ نواز شریف تو پہلے ہی ٹکا سا جواب دے چکے ہیں کہ شوق پورے کریں ۔ عمران خان چاہے پانچ سال مکمل کروائیں یا اگلے پانچ سال مزید دے دیں ۔ لاڈلے سے جتنا بیڑہ غرق کروانا ہے کروالیں ۔ انکا موقف وہ ہی ہے ۔ کہ صرف صاف شفاف اور پولیٹکل انجئرینگ کے بغیر الیکشن ہون گے تو ہم سوچیں گے ۔ کیونکہ نواز شریف عمران خان کو کچھ نہیں سمجھتے ان کی نظر میں کپتان ایک پیادہ ہے اصل پھڈا تو کپتان کو لانے والوں سے ہے ۔ ۔ اب ایاز صادق کے بارے جیسے میں نے بتایا تھا کہ وہ ایک تجویز لے کر لندن پہنچے ہوئے ہیں ۔ آج یا کل میں ان کا quartine ختم ہونے والا ہے اور پھر نواز شریف سے ملاقات ہوگی ۔ تو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر قائم رہتے ہیں یا پھر کوئی ڈیل مار لیتے ہیں ۔ فی الحال عوام کے لیے اس حکومت کا ایک ایک دن کرب کا گزر رہا ہے ۔ ۔ کیونکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ خدانخواستہ عمران خان اگر اگلے پانچ برس بھی اقتدار میں آگئے تو دن عوام کے نہیں پھریں گے انہیں مسلسل آئی ایم ایف کی سختیاں جھیلنا پڑیں گی کیونکہ انہوں نے اس کی شرائط کے آگے سر اوپر نہیں اٹھانا ۔ لہٰذا عوام چاہتی ہے کہ نیا سیاسی منظر بنے ۔ نئے چہرے جو قرضوں، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے نجات دلائیں وہ آگے آئیں ۔ ۔ پھر یاد رکھیں ایسی معیشت کے ساتھ اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آزاد ہو۔ عالمی سطح پرعزت بھی ہو۔ ہمیں کوئی دبانے کی کوشش بھی نہ کرے تو یہ دیوانے کے خواب ہی کہلائیں گے۔ ۔ اس لیے باقی سب کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوچنا ہو گا کہ ملک کو اس حال تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔ اگر مان لیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے کچھ غلطیاں بھی کی ہیں تو اب ان کا کفارہ ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔کیونکہ وزیر اعظم عمران خان بھی اپنی تمامتر باتوں کے باوجود ایک روائیتی حکمران ثابت ہوئے۔

    ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اعداد وشمار جھوٹ نہیں بولتے ۔ آپ دیکھیں کرپشن سے پاک عمران حکومت کے دور میں کرپٹ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 180 ملکوں میں 120 سے
    124ویں نمبر پر گرگیا ہے یعنی کرپشن میں مزید چار درجے اضافہ ہوا ہے۔ کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑنے اور چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں کا کڑا احتساب کرنے کے ایجنڈے پہ قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں 85.9فیصد عوام نے عمران حکومت کے احتساب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ بلکہ ان کی حکومت میں کرپشن اور بڑھ گئی ہے۔۔ آپ پولیس کو دیکھ لیں، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو دیکھیں، پاکستان ریلویز سمیت کسی بھی جگہ چلے جائیں کرپشن عام ہے۔ حتیٰ کہ ہسپتالوں میں بھی عام آدمی کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ پر وزیراعظم اور وزراء پچھلے ساڑھے تین برسوں سے دلاسے پہ دلاسہ دیئے جا رہے ہیں، جیسے جلد ہی خوشحالی کے جھکڑ چلنے لگیں گے حالانکہ ابھی تو بربادی کے جھکڑ چل رہے ہیں۔ کاش چند روز پہلے جیسے حکومت گرین لائن منصوبے کا کریڈٹ لے رہی تھی اس ملک کی تباہی کا بھی کریڈیٹ لے تو اس کے گناہوں کو کفارہ ہو جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت نے جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بولا ۔ یہ چیلنج تو اپوزیشن نے بھی کر دیا ہے کہ لنگر خانوں کے سوا عمران خان ایک منصوبہ دکھادیں۔ دیکھا جائے تو پاکستان کی تاریخ کی ناکام ترین تبدیلی حکومت محض ٹائم پاس کر رہی ہے۔ جو جتنی مرضی تنقید کرے مگر تحریک عدم اعتماد اور قبل از وقت انتخابات آئینی اور جمہوری راستہ ہے اور ملک درپیش تمام مسائل کا واحد حل نئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں۔ جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کو level playing field ملے اور جسے عوام منتخب کریں اسے حکومت بنانے دی جائے۔ کیونکہ یاد رکھیں ”تبدیلی“ کی تبدیلی اگر اب نہ ہوئی تو کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔