Baaghi TV

Category: متفرق

  • دنیا  تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کئی عجیب و غریب خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہیں انسان کے اندر خنزیر کا دل لگا کر اس کو نئی زندگی دے دی گئی ہے۔ تو کہیں ایک ویڈیو میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ چین نے مصنوعی سورج کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے جو اصل سورج سے کئی گنا زیادہ بڑا ہے۔ کہیں خلا سے ہی سائنسدان سٹوڈنٹس کو Space science
    پر لیکچر دے رہے ہیں تو کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو کہ خلا میں جنگی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین دوربین کو خلا میں بھیجا گیا ہے تاکہ اس کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے تو دوسری طرف اڑنے والی کاروں کا بھی تجربہ کر لیا گیا ہے۔

    لیکن جو خبر اس وقت سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہی ہے وہ انسان کے اندر خنزیر کا دل لگانے کے حوالے سے ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس ٹیم میں ایک پاکستانی ڈاکٹر بھی شامل ہے جس نے یہ تجربہ کیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس تجربے کے لئے خنزیر کا دل ہی کیوں منتخب کیا گیا کسی حلال جانور کا دل کیوں نہیں استعمال کیا گیا۔اس سوال کا جواب تو بہرحال سائنس کی روشنی میں ہی مل سکتا ہے لیکن میں جس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج کل اس طرح کی عجیب و غریب خبریں اتنی زیادہ کیوں آ رہی ہیں۔اس وقت یہ تمام کام اتنی آسانی سے کیسے ہو رہے ہیں جو اب سے پہلے تک نا ممکنات میں سے تھے۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہے کہ یہ سب اس لئے ممکن ہو گیا ہے کیونکہ سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ سائنس کی یہ بے پناہ ترقی دراصل ہم انسانوں کے لئے ایک اشارہ بھی ہے کہ یہ دنیا اب بہت تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ سائنس کے یہ کرشمات دراصل وہ واقعات ہیں جن کا حوالہ ہمیں دجال کی آمد اور قیامت کی نشانیوں میں ملتا ہے۔دجال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کردے گا۔ دجال کی شعبدہ بازیاںmesmarismدھوکے وغیرہ کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہوگا لیکن دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے مسیح، پھرنبی کہے گا اور اسکے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ اور لاعلم لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کو پھانستا چلا جائے گا۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا۔۔
    جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے، اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اس کے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔
    قابل غور بات یہ بھی ہے کہ دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی ہوں گے یعنی یہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
    دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اورعورتیں ہوں گی۔۔۔
    دراصل یہودی جس مسیح کا انتظار کر رہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا جس کے پاس غیر معمولی طاقتیں ہوں گی جس سے وہ لوگوں میں شر پھیلائے گا۔
    دجال کی طاقتوں کے حوالے سے احادیث میں لکھا ہے کہ۔۔
    اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو پانی نظر آئے گا وہ آگ ہوگی۔۔۔
    اس دجال کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا۔۔ مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے۔۔۔
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟
    آپؐ نے فرمایا: جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس گدھے کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔
    اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔
    وہ ایک بدو سے کہے گا اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیے دوبارہ زندہ کروں تو تم کیا کروگے؟
    کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں؟
    بدو کہے گا۔۔ ہاں۔۔ چنانچہ دو شیاطین اس بدو کے ماں اور باپ کے روپ میں اس کے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے ہمارے بیٹے اس کا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔

    دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ میں اگر تمہارے اونٹ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے رب ہونے کی گواہی دو گے؟
    وہ کہے گا: ہاں تو دجال کے ساتھی شیاطین اس دیہاتی کے اونٹ کی شکل اختیار کر کے آ جائیں گے۔
    دجال کسی علاقے میں سے گزرے گا اور اس علاقے کے لوگ دجال کی تکذیب کردیں گے تو اس کے نتیجے میں ان کا کوئی جانور نہیں بچے گا سب ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسرے علاقے سے گزرے گا جہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے تو اس کے نتیجے میں دجال آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسانے لگے گا زمین کو حکم دے گا تو زمین خوب غلہ اگانے لگے گی ان ماننے والوں کے مویشی شام کو اس حال میں آئیں گے کہ وہ پہلے سے زیادہ بڑے اور فربہ ہوں گے ان کی کوکھ بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔
    دجال اپنے نہ ماننے والوں سے اس کا مال و متاع چھین لے گا اور اپنے ماننے والوں کو دنیا کے ہرایک ظاہری مال و دولت سے خوب نواز دے گا۔ مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کر دے گا۔ پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دے گا۔
    اس کا قبضہ ان تمام وسائل پر ہوگا جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہیں مثلا پانی آگ اور غذا پر۔۔ اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہوں گے اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلا بارش فصلیں قحط اور خشک سالی وغیرہ۔ وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ بھی اپنے ساتھ لائے گا۔
    یعنی یہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا فتنے کا دور ہوگا جس میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک بے شمار ہلاکتیں ہوں گی بھوک و پیاس کی آزمائشیں ہوں گی۔ بے انتہا سختیاں مصیبتیں پریشانیاں بیماریاں اور طرح طرح کے دھوکے ہوں گے۔ دجال کے ظاہر ہونے سے تین سال پہلے بارشوں کا سلسلہ ایسا ہوگا کہ پہلے سال آسمان سے ایک تہائی بارش رک جائے گی پھر دوسرے سال دو تہائی بارش رک جائے گی پھر تیسرے سال مکمل بارش رک جائے گی۔ اسی لیئے یہ فتنے بہت سخت ہو جائیں گے اور یہ آزمائشیں بھی سخت ہوں گی۔

    اب آپ ان تمام نشانیوں پر غور کریں تو وہ کونسا ایسا کام ہے جو اس وقت نہیں ہو رہا۔ ایک طرف انسان میں خنزیر کا دل ڈال کر زندگی اور موت کو اپنے ہاتھ میں لینے کا تجربہ ہو چکا ہے۔دوسری طرف انسانی دماغ میں چپ ڈالنے کی بات ہو رہی ھے۔چینی ساختہ ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر جسے مصنوعی سورج کا نام دیا گیا ہے اس نے 17 منٹ سے زیادہ دیر تک مسلسل سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم چلنے کے بعد بلند درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔اور اب مصنوعی سورج کے بعد وہ مصنوعی چاند پر بھی کام کررہے ہیں۔لیکن انسانی ترقی نے جہاں تیزی سے Ecosystem کو تباہ کر دیا ھے وہیں دنیا تیزی سے گلوبل وارمنگ کی تباہ کاریوں کی طرف بھی بڑھ رہی ھے سال2021 پانچواں لگاتار سال تھا جو گرم ترین رہا اور دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ آسمان سے بارشیں برسنا پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہیں اور اس سے ماحول پر جو اثر پڑ رہا ہے اس کو دور کرنے کے لئے مصنوعی طریقوں سے اب بارشیں برسائی جاتیں ہیں۔چین سال2021
    میں 55 خلائی مشنز انجام دے کردنیا میں سب سے زیادہ خلائی مشن مکمل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی چین کا ہی کارنامہ ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ اپنے خلائی اسٹیشن سے تدریسی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔اور اس
    Space classکی سب سے خاص بات یہ ہے کہ تینوں ٹیچرز زمین سے تقریبا چار سو کلومیٹر کی بلندی سے بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے اور چین کے پانچ مختلف شہروں میں قائم کئے گئے پانچ کلاس رومز میں کل 1420 سٹوڈنٹس نے ایک ساتھ اس خلائی لیکچر میں شرکت کی۔امریکہ، جرمنی، فرانس اور چین خلاء میں فوجی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ اڑنے والی گاڑیاں جو آج تک ہم نے فلموں یا کارٹونز میں دیکھیں تھیں مگر اب دبئی میں اس اڑنے والی سوپرگاڑی کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ قدرتی وسائل پر پہلے ہی چند کمپنیوں کا قبضہ ہو چکا ہے پانی جیسی نعمت بھی اب عام انسانوں کو بازار سے خرید کر پینا پڑتی ہے۔ زراعت میں بھی مختلف تجربات کرکے مصنوعی طریقوں سے اب پیداواروں کو کئی گنا زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ جانوروں کے فارم بنا کر اور مختلف Steroidsکا استعمال کرکے ان کو وقت سے پہلے کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ گائے بھینسوں کو انجیکشنز لگا کر ڈبل مقدار میں دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔جانور تو جانور انسانوں پر بھی Genetic تبدیلیوں کی طرف تیزی سے ریسرچ کرکے انسان کی ساخت میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ In shortیہ کہ وہ تمام نشانیاں جو کہ ہم دجال کی آمد کے ساتھ منسوب کرتے ہیں وہ ایک طرح سے پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ہم ان تمام فتنوں کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ احادیث میں دجال کی نشانیاں بتائے گئے ہیں۔

    لیکن جہاں ہمیں ہماری احادیث کی کتابوں میں دجال کے فتنوں کے بارے میں بتایا گیا ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دجال آئے گا لیکن اس کے لیے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجرعلاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جس کا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا دجال لوگوں سے کہے گا کہ اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں؟ تو کیا تمہیں میرے دعوی میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں۔۔ پھر دجال اسے قتل کر دے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا تب وہ آدمی کہے گا کہ اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے زیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن ایسا نہیں کرسکے گا۔ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا اور دوبارہ مارنے کی طاقت کھو بیٹھے گا۔
    ایمان والوں کا وہ کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جو سب ترقیاں ہو رہی ہیں وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہی ہیں۔ اور یہ ہم سب کے لئے آزمائش ہیں کہ ہم اس ترقی کو ہی سب کچھ نہ مان لیں بلکہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہا ہے۔

  • لوگوں کی جانیں بچانے والا”گولڈ میڈلسٹ” چوہا چل بسا

    لوگوں کی جانیں بچانے والا”گولڈ میڈلسٹ” چوہا چل بسا

    جنوب مشرقی ایشیا کے ملک کمبوڈیا میں لوگوں کو زیر زمین نصب بارودی مواد سے بچانے والا چوہا 8 سال کی عمر میں چل بسا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بیلجیئم کے خیراتی ادارے اپوپو کا تربیت یافتہ یہ چوہا اپنے ہینڈلرز کو مہلک بارودی سرنگوں سے آگاہ کرتا تھا تاکہ انہیں بحفاظت طریقے سے ہٹایا جا سکے مگاوا نامی خصوصی تربیت یافتہ چوہے نے اپنے پانچ سالہ شاندار کیریئر میں کمبوڈیا میں 100 سے زائد بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگایا۔

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر


    مگاوا، جو بارودی سرنگوں میں ایک کیمیائی مرکب کو سونگھ کر دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگاتا تھا، نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 41 ہزار مربع میٹر سے زیادہ زمین میں موجود بارودی سرنگوں کا پتہ لگایا جو کہ فٹ بال کے20 میدانوں کے برابر ہے اس رقبے میں میگاوا کی بدولت 71 بارودی سرنگیں اور38ایسےدھماکہ خیز مواد کی شناخت کی گئی جو کسی وجہ سے پھٹ نہیں سکےمیگاوا نے اپنی نوکری ایمان داری سےادا کی اور ہزاروں افراد کی جان بچانے کافریضہ سرانجام دیا۔

    انجیکشن سےخوفزدہ شہری کورونا سے ہلاک

    اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں یہ بارودی سرنگیں اور مواد کو سن 1970 اور 1980ء کی دہائیوں میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران پھیلایا گیا تھا میگاوا کی بے لوث خدمات کی بنیاد پر کمبوڈیا میں انہیں’ ہیرو چوہے‘ کا خطاب دیا گیا۔ گزشتہ سال میگاوا کو برطانیہ کے متعبر ترین اعزاز ’پی ڈی ایس اے‘ گولڈ میڈل نے بھی نوازا گیا تھا، جو کہ برطانوی شہریوں اور فوجیوں کو بہادری اور ہیروازم کا مظاہرہ کرنے والے ’ جارج کراس‘ کے برابر ہے۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی


    خیراتی ادارے اپوپو نے بتایا کہ اس مادہ چوہے نے ’گذشتہ ہفتے کا زیادہ تر حصہ اپنے معمول کے جوش و خروش کے ساتھ کھیلتے ہوئے گزارا‘ اور ہفتے کے آخر میں پر سکون انداز میں انتقال کر گیا ویک اینڈ تک مگاوا نے ’سست ہونا شروع کر دیا تھا، زیادہ سوتا تھا اور اپنے آخری دنوں میں کھانے میں دلچسپی بھی کم کر دی تھی ہم سب کو مگاوا کے جانے کا دکھ ہے اور ہم اس کے ناقابل یقین کام کے لیے شکر گزار ہیں۔‘


    انہوں نے چوہے کی ’سونگھنے کی حیرت انگیز حِس‘ کی تعریف کی جس کی وجہ سے ’کمبوڈیا میں لوگوں کو زندگی یا اعضا کھونے کے خوف کے بغیر رہنا، کام کرنا اور کھیلنا نصیب ہوا۔

    گذشتہ سال جون میں جب مگاوا ریٹائر ہوا تو اس کی ہینڈلر ملین نے کہا کہ یہ ’سست‘ ہو رہا ہے اور وہ ’اس کی ضروریات کا احترام‘ کرنا چاہتی ہیں مگاوا کی کارکردگی ناقابل شکست رہی ہے اور مجھے اس کے شانہ بشانہ کام کرنے پر فخر ہے وہ چھوٹا ہے لیکن اس نے بہت سی جانیں بچانے میں مدد کی ہے جس سے ہمیں انتہائی ضروری محفوظ زمین جلد از جلد اور کم لاگت سے اپنے لوگوں کو واپس کرنے کا موقع ملا ہے۔


    ملک میں 1998 میں ختم ہونےوالی تین دہائیوں کی خانہ جنگی کےدوران 60 لاکھ تک بارودی سرنگیں بچھائی گئیں جنکی وجہ سےہزاروں افراد ہلاک ہوئےتنزانیہ میں پرورش پانے والے مگاوا کو کمبوڈیا میں بم تلاش کرنے سے پہلے ایک سال کی تربیت سے گزرنا پڑا۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    چوہے کا وزن اور قد عام چوہوں کی نسبت قدرے زیادہ تھا مگر اس کے باوجود وہ زیر زمین دبائی گئی بارودی سرنگ کو محسوس نہیں ہوتا تھا افریقی جائنٹ پاؤچڈ ریٹ نسل کا چوہا مگاوا 70 سینٹی میٹر لمبا اور 1.2 کلوگرام وزنی تھا۔ وہ صرف 20 منٹ میں ٹینس کورٹ کے جتنے بڑے میدان کو کھوجنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جس میں عام طور پر میٹل ڈیٹیکٹر سے لیس کسی شخص کو چار دن تک لگ جاتے تھے –

    دو سال قبل مگاوا کو برطانیہ میں جانورں کے فلاحی ادارے پی ڈی ایس اے نے ’کمبوڈیا میں مہلک بارودی سرنگوں کا پتہ چلانے اور انہیں صاف کرنے میں مخلصانہ کام کرنے پر‘ گولڈ میڈل سے نوازا تھا ایوارڈ حاصل کرنے والے 30 جانوروں میں سے مگاوا یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا چوہا تھا۔

    سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

  • باغی ٹی وی ،کامیابی کے دس سال۔تحریر: ارم شہزادی

    باغی ٹی وی ،کامیابی کے دس سال۔تحریر: ارم شہزادی

    12 جنوری کو قائم ہونے والے اس ڈیجٹیل پلیٹ فارم کو آج دس سال ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی جس کا مرکزی دفتر لاہور میں ہے۔ اپنے اندر بے پناہ کامیابیاں اور کامرانیاں سمیٹیے ہوئے ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریباً 195 ممالک میں اسکی نشریات دیکھی جاتی ہے اور یہ بذات خود ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔چینل بنانے کا مقصد معاشرے میں پھیلی بدعنوانی، جہالت، ظلم اور زیادتی کے خلاف موٴثر آواز اٹھانا تھاتاکہ ان مسائل سے معاشرے کو نکال کر نئی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔ اس چینل کے ذریعے برائیوں پر جہاں آواز اٹھائی جارہی ہے وہیں معاشرے میں موجود مظلوم، محکوم لوگوں کی اواز بن کر انکے مسائل بھی حل کیے جارہے ہیں۔باغی ٹی وی کی رپورٹس پر حکام بالا نے کئی دفعہ کاروائی کرکے مطلوبہ مسائل بھی حل کیے جسکی وجہ سے لوگوں میں اسکے حق میں بہت اچھی رائے پائی جاتی ہے۔ اس چینل کے ذریعے پچھلے سال رمضان میں 24گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلا کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔

    اور یہ منفرد اعزاز باغی ٹی وی کے علاوہ کسی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے پاس نہیں ہے۔باغی ٹی وی کا ایک صوبائی دفتر کراچی میں بھی ہے جہاں سے کراچی سمیت پورے سندھ میں خبریں اور تجزیے، تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں۔ باغی کی نشریات اس وقت چار بین الاقوامی زبانوں میں جاری ہے زبانوں میں اردو کے علاوہ انگریزی، چینی، اور اب پشتو میں بھی نشریات ہورہی ہیں۔ اس کے علاوہ اسکے مزید پھیلاؤ کے لیے ہمسایہ ممالک میں انکی زبانوں میں نشریات پیش کرنے پر کام جاری ہے۔ اور ان شاء اللہ بہت جلد ہمسایہ ملک بھارت کے کونے کونے میں باغی ٹی وی کی گونج ہوگی۔ یوں تو باغی ٹی وی کی پہچان ما شاء اللہ 195 ممالک تک ہے اور اس سے محبت اور عقیدت کا اظہار بھی ہورہا ہے۔لیکن اسکو اس مقام تک پہنچانے کے لیے اگر اس ہستی کا نام نا لیا جائے تو یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔جسکی وجہ سے آج باغی ٹی وی اس مقام پر ہے۔ جی ہاں بات ہورہی ہےسنئیر جرنلسٹ، تجزیہ نگار مبشر لقمان صاحب کی جو اس وقت باغی کی سرپرستی فرما رہے ہیں۔ ایک وقت وہ بھی آیا اس، پلیٹ فارم پر جب بڑے میڈیا مالکان نے اپنے ملازمین کی نا صرف تنخواہیں ضبط کیں بلکہ نوکری سے بھی نکالا، ان حالات میں بھی مبشر لقمان نا صرف اپنے ورکرز کے ساتھ کھڑے ہوئے بلکہ انہیں ہر طرح سے حوصلہ دیا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مختلف ویب چینلز پر عریاں تصاویر اور خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں جبکہ باغی ٹی وی پر اپ ایسا کچھ نہیں دیکھتے ہیں اس کی وجہ مبشر لقمان صاحب کا وہ نظریہ ہے کہ یہ چینل عوام کی اواز اور فلاح کے لیے ہے ناکہ عریانی کو فروغ دینے کے لیے۔

    ان دس سالوں میں جب بھی کوئی مشکل آئی تو باغی ٹی وی نے اگاہی کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا۔ کورونا کی مثال ہی لیجے جب یہ مشکل وقت چین سے شروع ہوا تب سے ہی باغی ٹی وی نے آگاہی کا کام شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔ جب بہت سے ادارے مشکل کی لپیٹ میں اکر خاموشی طاری کر لی اس وقت بھی باغی ٹی وی اپنی منفرد انداز اور منیجمنٹ کے ساتھ قائم بھی رہا اور مسائل سے لڑتے ہوئے اگاہی بھی فراہم کرتا رہا۔ معاشرتی مسائل میں سگریٹ نوشی پر بہت کام کیا ہےاور باغی کے پلیٹ فارم سے بہت سیمنار ہوچکے ہیں اگاہی پروگرام اپنی آب و تاب سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مسائل پر نا صرف گہری نظر ہے بلکہ اسکے لیے کسی بھی پریشانی کو خاطر میں نالاتے ہوئے کام جاری رکھا ۔ جس کی وجہ سے کئی بار مشکلات بھی پیش آئیں لیکن عزم و استقلال میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس پلیٹ سے جب کشمیر کے مظلوم لوگوں کی اواز دنیا تک پہنچائی گئی تو اکاؤنٹ پر انتظامیہ کی جانب کی سے دباؤ بھی بڑھا لیکن دباؤ کو خاطر میں نا لاتے ہوئے کام جاری رکھا۔ اس پلیٹ فارم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ نئے لکھنے والوں کو موقع دیا کہ وہ اپنے خیالات الفاظ کے زریعے یا زبان کے زریعے عام لوگوں تک پہنچائیں۔اس پلیٹ فارم کے زریعے بہت بہترین لکھنے والوں کو موقع ملا اور آج سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں پہچان دی ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی اس میں کام کرنے والوں کا جذبہ ہے جو اس میں جان ڈال دیتا ہے۔اس وقت یہ ادارہ ایک منظم اور مربوط جڑیں لیے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ آئیے دعا کرتے ہیں اپنے ادارے کے لیے کہ یہ یونہی کام کرتا رہے محنت سے لگن سے اور دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

    سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

    ریاض: سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل کُھل گیا-

    باغی ٹی و: عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل سب کی توجہ کا مرکز بن گیاکھلے صحرا میں کورونا کی احتیاطی تدابیرکے ساتھ بنائے گئے اونٹوں کے اوپن ائیرہوٹل تتمان میں ایک رات کا کرایہ 400 ریال یا 100 ڈالرسےکچھ زیادہ ہےان پیسوں میں اونٹوں کی دھلائی، ٹرمنگ اورگرم گرم دودھ سے تواضح سب شامل ہیں۔

    سعودی عرب:250 ملین ریال انعامات کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑےاونٹ میلے کا آغاز

    سرد موسم سے بچاؤ کے لئے اونٹوں کے لئے خصوصی طورپرگرم انکلوژرز بھی بنائے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی چیک کیا جاتا ہے کہ کہیں اونٹوں کا بوٹوکس یا خوبصورتی کے لئے کوئی اورمصنوعی طریقہ تواستعمال نہیں کرایا گیا۔

    اونٹوں کے لئے لگژری ہوٹل دراصل ان اونٹوں کے لئے بنایا گیا ہے جوسعودی عرب میں ہونے والے شاہ عبدالعزیز فیسٹول میں اونٹوں کے سالانہ مقابلہ حسن میں حصہ لیتے ہیں جس کی مجموعی انعامی رقم 66.6 ملین ڈالرز ہے۔

    سعودی عرب: خوبصورتی کے انجکشن لگوانے کی وجہ سے 40 اونٹ مقابلہ حسن کی دوڑ سے باہر

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں اونٹوں کے سب سے بڑے میلے کنگ عبدالعزیز فیسٹیول میں اونٹنیوں کے مقابلہ حسن کا آغاز ہوگیاعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاض میں کنگ عبدالعزیز کیمیل فیسٹیول جاری ہے جس میں ہر سال کی طرح اس سال بھی کورونا وبا کے باوجود لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔

    فارمولا-ای کار ریس28 جنوری کو سعودی عرب کے تاریخی مقام درعیہ میں شروع ہو گی

    اس فیسٹیول کا سب سے دلچسپ حصہ اونٹنیوں کے درمیان ہونے والا مقابلہ حسن ہے۔ اس مقابلے کے فاتح اونٹنی کے مالک کو 6 کروڑ 60 لاکھ ڈالر انعام دیا جاتا ہے مقابلہ حسن میں اونٹنی کی خوبصورتی کا معیار لمبےاورلٹکے ہوئے ہونٹ، بڑی ناک اور کوہان کی شکل ہے تاہم کچھ برسوں سے مصنوعی طریقےسےحسن میں اضافہ کیےجانےکاانکشاف ہےاس لیےمنتظیمن اچھی طرح جانچ پڑتال کےبعد مقابلےمیں شرکت کی اجازت دیتے ہیں اس سال بھی 40 کے لگ بھگ اونٹنیوں کو خوبصورتی کے لیے بوٹوکس انجیکشن لگانے پر نااہل قرار دیا گیا۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030، دبئی،قطر اورابو ظہبی کیلئے چیلنج

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے”جدہ ڈاؤن ٹاؤن” جدید منصوبے کا…

    مقابلے میں شرکت کی خواہش مند اونٹنیوں کا ماہرین نے ان کی ظاہری شکل و صورت اور چلنے کے انداز کا معائنہ کیا۔ پھر جدید ایکسرے اور 3 ڈی الٹرا ساؤنڈ سے سر، گردن اور دھڑ کے عکس لیے اور جنیاتی معائنے سمیت خون کے ٹیسٹ کیے گئے۔

    واضح رہے کہ اونٹنیوں کے مقابلہ حسن کا انعقاد ہر سال کنگ عبدالعزیز فیسٹیول میں کیا جاتا ہے جو دنیا کا اونٹوں کا سب سے بڑا فیسٹیول ہے۔

    سعودی عرب: کنگ عبدالعزیزاونٹ میلے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کی شرکت

  • منڈی بہاؤالدین کے 2 پولیس کانسٹیبلز کی دھوم نے پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا

    منڈی بہاؤالدین کے 2 پولیس کانسٹیبلز کی دھوم نے پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا

    منڈی بہاؤالدین پولیس میں فرشتہ صفت انسان
    رپورٹ (کاشف تنویر) تفصیلات کے مطابق ابھی کچھ دیر پہلے ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین میں ایک غریب فیملی کے پاس ڈیڈ باڈی گھر لے جانے کے لئے خرچے کے پیسے نہیں تھے. اسی وقت ان دو پولیس کانسٹیبلز نے اپنی جیب سے پیسے دیئے اور ساتھ مل کر ڈیڈ باڈی کو لے جانے میں مدد کی. ایک بھائی کا نام یاسر ہے دوسرے کا نام احمد .
    ہمارے نمائندے کو وہاں موجود ایک فارمیسی والے نے بتایا کہ یہ دونوں پہلے بھی لوگوں کی ایسے ہی مدد کرتے ہیں اور فارمیسی والے کو کہا ہوا ہے کہ جس کے پاس دوائی لینے کے پیسے نہ ہوں ان کو دوائی دے دیا کرے اور بل ہم سے لے لیا کرے.
    ایسے فرشتہ صفت لوگوں کے متعلق ایسی پوسٹس زیادہ سے زیادہ شئیر کرنی چاہیے تا کہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور باقی لوگ بھی ایسے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں

    #haqeeqikhabar #mandinews #phalia #malakwal #pakistannews #MandiBahauddin #punjabpolice

  • جرمن نوجوان نے  ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے

    جرمن نوجوان نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے

    میونخ: جرمنی کے ایک شخص نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : دنیا میں عمومی طور پر انسان اپنی ظاہری شخصیت کے نکھار کے لیے کئی جتن کرتا ہےخود کو فٹ اور خوبصورت دلکش بنانے کے لئے طرح طرح کی ٹپس آزمات اہے لیکن جرمنی کے 28 سالہ نوجوان نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے ہیں-

    دنیا کی کم عمر خاتون زارا دنیا کے گرد چکر لگاتے ہوئے سعودی عرب پہنچ گئیں

    یہ جرمن نوجوان انسٹاگرام پر بلیک ڈپریشن کے نام سے مشہور ہے اور خوفناک دکھنے کے لیے اب تک 17 ہزار ڈالر خرچ کرچکا ہے اس نے خود کو ’انسانی پزلز‘ میں تبدیل کرنے کے لیے کئی برس صرف کردیئے ہیں اور یہ صرف جسم کے ٹیٹو نہیں ہے۔

    جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے


    بلیک ڈپریشن نے اپنے دانتوں کی دونوں قطاروں کو ٹائٹینیم میں ڈھانپنے کے ساتھ اپنی آنکھوں اور چہرے پر بھی سیاہی لگائی ہےنوجوان نےسرجری کےذریعے اپنے کان کے کارٹلیج کے ٹکڑوں کو ہٹانے کا بھی انتخاب کیا ہے جبکہ اس کے نتھنے چھیدے ہوئے ہیں۔

    بے دھیانی میں بھیجی گئی سیلفی بوائے فرینڈ کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی

    28 سالہ نوجوان نے کہا کہ میں نے 20 سال کی عمر میں جسمانی تبدیلی شروع کی تھی، میرا پہلا طریقہ میری زبان کو الگ کرنا تھا پھر میرے آدھے آدھے کان (بیرونی کان کا دکھائی دینے والا حصہ) دونوں طرف سے کاٹ دیا گیا تھا۔

    بندروں نے ایک کے بدلے 250 کتوں کو ہلاک کردیا

  • سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    برف کی موٹی تہہ میں سسکتی زندگی کی کہانی جا بجا گردش کرتی تصویری جھلکیوں سے دیکھی جا سکتی ہے مگر اس شب زندگی جینے والوں پہ کیا بیتی یہ احساس ہر ذی روح کو چھلنی کیے جارہا ہے۔ مری ہمیشہ ہی سیاحوں کا خواب رہا چاندی کی طرح آسماں سے اترتی برف کوئی جادوئی سی داستان لگتی ہے۔۔اور اس جادو کو چھونے کی خواہش میں ہر سال لاکھوں لوگ ملکہ کوہسار کا رخ کرتے ہیں اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔۔بچوں کو سردیوں کی تعطیلات ہوئیں تو کئی خاندانوں نے سیر کے لیے مری کو گاڑی موڑ دی جسکو بریک ناگہانی موت نے لگائی۔۔
    برفباری شروع ہوئی تو موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات نے خوشخبری سنائی "ملک میں سیاحت فروغ پارہی لاکھوں گاڑیاں مری گلیات نتھیا گلی پہنچی ہیں”جبکہ حقائق کا جائزہ لیا جائے تو مری میں صرف پارکنگ کے لیے پچاس ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے ٹول پلازے سے جب گاڑیاں گزرتی رہیں تو حکومتی گنتی ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر چلتی رہی مگر برتری سے غفلت تک کے سفر نے صرف ایک رات لی اور ڈھیروں گاڑیوں کے ہجوم نے ٹریفک کو تعطل کا شکار کیا۔۔۔موسم نے بھی تیور دکھائے تو یخ ہواؤں نے برف برسانا شروع کر دی جسکی پیشگی اطلاع پہلے ہی سے محکمہ موسمیات دے چکا تھا۔۔مگر سیاحوں کو نہ روکا گیا نہ رہنمائی کی گئی سیاحتی ترقی کا ڈھول پیٹا جاتا رہا۔
    مری کو جاتی سڑک پر گاڑیاں رکی تو زندگی بھی تھمنے لگی اپنی مدد آپ کے تحت کئی لوگوں نے موت سے فرار کی راہ پکڑی تو برف نے جانے نہ دیا واپس اپنی گاڑیوں میں بیٹھنا آخری حل جانا۔۔اور انتظامیہ کی راہ میں نظریں ونڈ سکرینوں پہ جمی رہیں مگر سخت سردی میں رات فیصلوں میں بیت گئی کہ کیا کیا جائے؟؟ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیشہ ہی مری کی سڑک پر ایسے موسموں میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے مگر حل کیا ہوسکتا ہے یہ ہم سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہ سوچ سکے بلکہ ایک ایسی ریاست جہاں انسانوں کی زندگیاں انکا مال حکومتوں کی امانت ہوا کرتا ہے وہاں انہیں مرنے کے لیے بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔۔
    صبح جب گاڑیوں میں بے بسی سے مر جانے والوں کی ویڈیوز سامنے آئیں تو انتظامیہ نے بھی جاگنا مناسب سمجھا پھر ایسی پھرتیاں دکھائیں جیسے اختیار میں سب تھا بس مرضی نہیں تھی۔پاک فوج کی پیدل پانچ پلاٹون کو طلب کر دیا گیا ریسکیو ٹیمیں بھیجی جانے لگیں۔۔وزیر مشیر سب بیانات داغنے لگے اور ٹوئٹر پر حادثے کے بعد کیے جانے اقدامات چمکنے دمکنے لگے وزیراعظم صاحب نے بھی اپنے ٹوئٹری پیغام میں کہیں نہ کہیں سیاحوں کو مودود الزام ٹھہرانا مناسب سمجھا تو جناب سیاحت کے لیے اب لوگ سوئٹزرلینڈ تو جانے سے رہے جائیں گے تو مری تک ہی جائیں گے ناں۔۔
    جو ہونا تھا ہوگیا ایک ایک جان کا جانا حکومت کے سر۔۔مگر اب سوچنا یہ ہوگا کہ غفلت کہاں ہوئی تاکہ کہیں تو نظام کی درستگی کی طرف قدم بڑھایا جاسکے سب سے پہلے تو ‏محکمہ موسمیات پیش گوئی کے ساتھ ساتھ ریڈالرٹ جاری کر سکتا تھا پھر انتظامیہ مقررہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی داخلہ بند کروا سکتی تھی ریسکیو آپریشن میں تاخیر بالکل نہیں برتنی چاہیے تھی این ڈی ایم اے کہاں رہی رات بھر؟ مری میں موجود آرمڈ فورسز بیسز سے امداد طلب کی جاسکتی تھی۔
    اب وقت ہے کہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا جائے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کوسول ڈیفنس کی لازمی تربیت دی جائے معلوم ہونا چاہیے کہ برف باری میں پھنسی گاڑی میں رات کیسے گزارنی چاہیے اور اگر ایسی مشکل صورتحال پیش آجائیں تو کون سے اقدامات سے جان بچائی جا سکتی ہے۔ صرف باتوں سے بات نہیں بڑھتی عملی اقدامات سے ہی ایسے حادثات کو روکا جاسکتا ہے۔
    موجودہ حکومت ہمیشہ سے ہی سیاحت کو فروغ دینے کا نعرہ لگاتی ہے مگر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے راستے آسان کیے جاتے ہیں لوگوں کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے اپنے اداروں کو ایمانداری سے فرض شناسی پہ مامور کیا جاتا ہے انفرا اسٹرکچر بہترین بنانے کے لیے عملاً اقدامات کیے جاتے ہیں حالات کہیں نازک ہونے لگیں اور سیاحوں کی جان پہ بنی ہو تو فیصلوں میں تاخیر نہیں کی جاتی سیاحت کا فروغ محض دعووں سے ممکن نہیں۔۔پوری دنیا میں برف باری ہوتی ہے گاڑیاں بھی چلتی ہیں ٹرینیں بھی خوبصورت نظاروں کی دید کا شوق لیے سیاحوں کے لیے دواں دواں رہتی ہیں کہیں معمول زندگی رک نہیں جاتا علاقے بند کر دینے سے سیاحت اپنی موت آپ مر جاتی ہے تقاضا یہ ہے کہ حالات سازگار کیے جائیں ملک بھر سے لوگ برف باری دیکھنے ہی نکلتے ہیں۔ برف میں گاڑیاں پھنسنا، رات گاڑی میں گزارنا دنیا بھر میں معمول ہے مگر ایسے حالات میں بھاری بجٹ سمیٹتے ادارے کیوں سوئے رہتے ہیں؟ ہم نہ جانے کب سوچیں گے ایسے کئی حادثے ہوتے ہیں کچھ دن سرخیوں میں رہتے ہیں پھر ہم نہ سیکھنے کی رسم دہراتے ہوئے کسی نئے حادثے کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر سے ہنستی مسکراتی زندگیوں کو موت کے حوالے کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ہم بھی ناں۔۔ ناجانے کب بڑے ہونگے۔

    Zakia nayyar

    @Nayyarzakia

  • نیا سال اور اہم پیشنگوئیاں، تحریر:عفیفہ راؤ

    نیا سال اور اہم پیشنگوئیاں، تحریر:عفیفہ راؤ

    سال 2021 اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے جو کہ کئی حوالوں سے ہم انسانوں کے لئے ایک بہت ہی مشکل سال تھا خاص کر بیماریوں اور ان سے ہونے والی اموات کے حوالے سے تو یہ سال بہت ہی مشکل تھا پھر معاشی لحاظ سے بھی جو معاملات تھے وہ کوئی بہت زیادہ بہتر نہیں تھے لیکن اب نیا سال شروع ہونے والا ہے۔ اور ہر گزرتے سال کی طرح اس سال کے بارے میں بھی بہت سے مشہور نجومیوں نے بہت اہم پیشن گوئیاں کر رکھی ہیں۔

    مشہور و معروف نوسٹرا ڈیمس اور باباونگا نے سال2022 کے بارے میں کون سی اہم پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔ لیکن پہلے میں آپ کو بتادوں کہ نوسٹرا ڈیمس ایک بہت ہی مشہورفرانسیسی ماہرعلم نجوم تھا۔ جبکہ بابا ونگا کا تعلق بلغاریہ سے تھا جس کی ایک حادثے کی وجہ سے بینائی چلی گئی تھی۔ لیکن اس کے بارے میں مشہور ہے کہ بینائی نہ ہونے کے باوجود وہ آنے والے مستقبل کو واضح طور پر محسوس کرسکتی تھی۔ اور ان دونوں نے سال 2022کے بارے میں بہت ہی خطرناک پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔نوسٹرا ڈیمس کی بات کی جائے تو اس کی پہلی پیشن گوئی کے مطابق سمندر میں ایک بہت بڑی خلائی چٹان گرے گی جس سےایک بہت بڑی سمندی لہر پیدا ہو گی۔ اور سمندری لہر سے دنیا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔ اس چٹان کے گرنے پر پہلے ایک شدید زلزلہ آئے گا اور اس کے بعد پھر یہ سونامی کا باعث بنے گا۔

    اس کے علاوہ اس کی یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ آسمان سے سیارچوں کی بارش ہوگی جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتیں ہیں۔نوسٹراڈیمس کی ایک پیشن گوئی یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی اچانک سے موت ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو یہ 2022 کی ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔لیکن نوسٹرا ڈیمس کی جو سب سے زیادہ خطرناک پیشن گوئی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں تین دن تک اندھیرا چھایا رہے گا اور اس اندھیرے کی وجہ سے دنیا میں جاری جنگ تھم جائے گی۔ یعنی اس سال میں ایک بڑی جنگ عظیم کا خطرہ ہے جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہو گی یہاں تک کہ دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے گی اور اس اندھیرے کی وجہ سے جب کوئی حل باقی نہیں رہے گا تو وہ جنگ تھم جائے گی۔اس کے علاوہ نوسٹرا ڈیمس نے فرانس اور جاپان میں قدرتی آفات آنے کی بھی پیشن گوئی اسی سال میں کی ہوئی ہے اس کے مطابق فرانس میں ایک بہت بڑا سمندری طوفان آئے گا ویسے تو دنیا کے کئی ممالک میں اس طوفان کا غلبہ ہوگا لیکن نوسٹراڈیمس نے فرانس پر کافی زور دیا ہے کہ وہاں اس طوفان سے بہت بڑی تباہی آئے گی۔جبکہ جاپان سے متعلق پیشن گوئی یہ ہے کہ وہاں دن کے وقت زلزلہ آ سکتا ہے جو کہ مالی تباہی کا باعث بنے گا البتہ جانی نقصان کا اندیشہ کم ہے۔

    اس کے علاوہ یورپی یونین کے ٹوٹ جانے کی بھی پیشن گوئی ہوئی ہے جس کی شروعات بریگزٹ یعنی برطانیہ کے انخلا سے ہوچکی ہے۔مہنگائی سے متعلق پیشن گوئی ہے کہ دنیا میں مہنگائی کا ایک سونامی آئے گا جس سے ہزاروں افراد فاکہ کشی پر مجبور ہوں گے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔یہ تو تھیں نوسٹراڈیمس کی پیشن گوئیاں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بابا ونگا نے آنے والے سال 2022کے بارے میں کیا پیشن گوئیاں کی تھیں۔اس کی پہلی پیشن گوئی یہ ہے کہ سائنسدانوں کی ٹیم ایک نیا اور انتہائی مہلک وائرس تلاش کرے گی یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلے گا اور اس وائرس سے نمٹنے میں دنیا کے تمام انتظامات ناکام ہوجائیں گے۔ اور پچھلے دو سالوں سے ہم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ کرونا وائرس اور اس کی دوسری اقسام نے پوری دنیا کا کیا حال کیا ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری کا بھٹہ بٹھا دیا ہے زیادہ تر کاروباروں کا جو ان سالوں میں دھچکا لگا ہے وہ ابھی تک Recoverنہیں کر سکے۔ آئے دن نئی سے نئی سفری پابندیاں لگیا شروع ہو جاتیں ہیں۔ کون سا ملک کب لاک ڈاون کی وجہ سے بند ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اس لئے کوئی بعید نہیں کہ واقعی کوئی نیا وائرس اس سال میں بھی پھیل جائے۔ اور اگر ایسا ہوا تو سوچ لیں کہ کتنی تباہی ہو سکتی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ بابا ونگا نے یہ بھی پیشن گوئی کی ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اس سال تباہ کن ثابت ہوگی گرمی کی وجہ سے روس کے علاقے سائبریا میں برگ پگھلنا شروع ہوجائے گی۔ اور ٹھنڈے علاقوں ک جب یہ حال ہوگا تو سوچ لیں کہ گرم علاقوں کا ٹمپریچر بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ گلوبل وارمنگ سے ہمارا ہمسایہ ملک بھارت بھی بہت زیادہ متاثر ہوگا ملک کے کئی حصوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا اور درجہ حرارت میں ہونے والے اس اضافے کی وجہ سے ٹڈی دل کی پیداواربہت زیادہ بڑھ جائے گی اور وہ کھیتوں میں موجود لاکھوں سبزہ زار پر حملہ کرکے انھیں تباہ کر دیں گے۔ جس سے ملک میں قحط کے حالات پیدا ہوں گے۔ اور یہ پیشن گوئی ہمارے لئے بھی برابر خطرناک ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان کوئی زیادہ دور نہیں ہیں اور پچھلے ایک دو سالوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی ٹڈی دل کو حملہ بھارت میں ہوتا ہے تو پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں ضرور آجاتا ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کا موسم ایک جیسا ہے اس لئے اس پیشن گوئی کے حوالے سے تو ہمیں بھی بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔نوسٹرا ڈیمس کی طرح بابا وانگا کے مطابق بھی سال2022
    میں دنیا میں زلزلے اور سونامی کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا بحر ہند میں زلزلے کے بعد ایک بڑا سونامی آئے گا جو آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک کے ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور اس سونامی میں ہزاروں لوگوں کو اپنی قیمتی جانیں گنوانی پڑسکتی ہیں۔

    بابا وانگا کے مطابق ایک طرف دنیا میں سونامی کا خطرہ ہے تو دوسری دنیا میں پانی کا بحران آنے والے سال میں بہت شدید ہو جائے گا۔ کئی شہروں میں پینے کے پانی کی قلت ہو جائے گی۔ دریاؤں کا پانی آلودہ ہو جائے گا اور جھیلیں اور تالاب سکڑ جائیں گے اور پانی کی اس کمی کی وجہ سے لوگوں کا اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر نئے علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ ظاہری بات ہے جہاں لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہوگا تو وہ اس جگہ پر کیسے رہ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سال2022کے بارے میں بابا ونگا کی ایک پیشن گوئی تو ایسی ہے جو میرے خیال میں پہلے ہی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس سال میں لوگ موبائل لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزاریں گے اور آہستہ آہستہ ان کو نشے کی حد تک ان چیزوں کی عادت پڑ جائے جس سے لوگوں کی ذہنی حالت خراب ہو جائے گی اور ان میں ذہنی امراض بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ اور یہ ہم اپنے آس پاس ہوتا دیکھ ہی رہے ہیں کہ کرونا کی وجہ سے جب لوگوں نے زیادہ ٹائم گھروں میں گزارہ بچے گھروں میں بند ہو گئے کلاسز بھی آن لائن شروع ہو گئیں تو بچوں اور بڑوں سب کا ہی واچ ٹائم بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور ذہنی امراض والی بات بھی ٹھیک ہے کہ آج کل لوگوں کے رویوں میں اتار چڑھاو دیکھنے کو ملتا ہے جس طرح لوگ ڈپریشن اور ٹینشن کے مریض بنتے جو رہے ہیں وہ پہلے نہیں ہوتا تھا۔

    لیکن آنے والے سال کے حوالے سے اتنی خطرناک پیشن گوئیوں میں ایک اچھی پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ انسانیت کو لاحق دیرینہ مرض کینسر کا مکمل علاج دریافت ہوجائے گا اور سورج سے توانائی کے حصول کے انقلابی راستے کھلیں گے۔
    یہ تھی وہ مشہور پیشن گوئیاں جو یہ دونوں ماہر نجوم نوسٹرا ڈیمس اور بابا ونگا آنے والے سال2022کے بارے میں کرکے گئے ہیں۔ لیکن ان کے حوالے سے میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ان دونوں کی ماضی میں جہاں بہت سی پیشن گوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں وہیں ان کی کئی پیشن گوئیاں پوری نہیں بھی ہوئی ہیں۔ اس لئے ہم ابھی ان کے بارے میں بالکل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آنے والے سال میں کونسی پیشن گوئی پوری ہوتی ہے اور کونسی نہیں۔لیکن یہ سب کی سب پیشن گوئیاں جتنی خطرناک ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اگرپوری ہوتی ہے تو دنیا میں کافی تباہی پھیل سکتی ہے اس لئے آنے والے نئے سال کے بارے میں ہمیں یہ ہی دعا کرنی چاہیے کہ یہ ہم تمام انسانوں اور اس پوری دنیا کے لئے خیر و سلامتی کا سال ہو۔

  • مودی سرکار میں اقلیتیں غیر محفوظ، تحریر: عفیفہ راؤ

    مودی سرکار میں اقلیتیں غیر محفوظ، تحریر: عفیفہ راؤ

    اقلیتوں کے حوالے سے بھارت میں دن بہ دن حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ آئے روز نفرت انگیز تقریر ہوتی ہیں۔ اقلیتوں پر حملے کئے جاتے ہیں ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مذہبی رسومات سے روکا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ سب کرنے والوں میں خود مودی سرکار کے اپنے لوگ شامل ہیں۔ بی جے پی سے زیادہ اس وقت انڈیا پر آر ایس ایس کا قبضہ ہے اور ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انڈیا کو صرف ہندووں کا ملک بنا دیا جائے۔ باقی اقلیتوں کو مجبورکر دیا جائے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں یا پھر ان کا مذہب تبدیل کروادیا جائے اور اگر یہ دو کام نہیں ہوتے تو ان کے پاس سب سے آسان حل یہ ہے کہ ان کو مار دیا جائے۔اور اب یہ نفرت صرف عام لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے مسلمان فنکار بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ شاہ رخ خان کے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم نے دیکھ لیا۔ ہندو تہواروں پر اشتہاری کمپئین میں اردو زبان کے استعمال پر الگ واویلا مچایا جاتا ہے۔ مسلمان فنکاروں کو جان بوجھ کر دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے ساتھ سلوک اتنا برا ہوتا جا رہا ہے کہ اب ان کی برداشت بھی جواب دے چکی ہے۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بالی وڈ کے مشہور اور سینئراداکار نصیرالدین شاہ بھی بھارت میں مذہبی منافرت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پھٹ پڑے اور یہاں تک بھی کہہ دیا کہ مودی سرکار میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنایا جا رہا ہے اور یہ ہر شعبے میں ہو رہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے۔

    دراصل جب نصیر الدین شاہ سے سوال کیا گیا کہ ان کو نریندر مودی کے بھارت میں مسلمان ہونا کیسا لگتا ہے؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے صاف صاف کہا کہ مسلمانوں کو پسماندہ اور بے کار بنایا جا رہا ہے۔ جب مسلمانوں کو اس طرح کچلا جائے گا تو ظاہری بات ہے کہ وہ لڑیں گے۔ مسلمان اپنےگھر، خاندان اور بچوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔یہاں تک کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں تو انہوں نے کھل کر بات کہ جو خون خرابے اور نسل کشی ہو رہی ہے دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ مودی کو کسی کی کوئی پروا نہیں ہے۔ مودی نسل کشی کی دھمکیاں دینے والوں کو خود ٹوئٹر پر فالو کرتا ہے۔حالانکہ نصیر الدین شاہ کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ وہ بہت ہی انصاف پسند شخص ہیں۔ وہ کسی بھی بات کو مذہب سے زیادہ ہیومن گراونڈز پر تولتے ہیں۔ اور اس بات کا اندازہ آپ اس چیز سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جب افغانستان میں طالبان کی واپسی پر بھارتی مسلمانوں نے ٹوئیٹر پر ان کی حمایت کی تو نصیر الدین شاہ نے ان کی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

    اور وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں بھارتی مسلمان ہوں جیسا کہ مرزا غالب فرما گئے ہیں میرا رشتہ اللہ سے بے حد تکلف ہے اور مجھے سیاسی مذہب کی کوئی ضروت نہیں۔ ہندوستانی اسلام ہمیشہ دنیا بھر کے اسلام سے مختلف رہا ہے، اللہ وہ وقت نہ لائے کہ ہم اسے پہچان بھی نہ سکیں۔لیکن آج وہی نصیر الدین شاہ خانہ جنگی کا اشارہ دے رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ حالات جتنے برے نظر آ رہے ہیں اصل میں اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔لیکن میں آپ کو بتاوں کہ انڈیا میں حالات صرف مسلمانوں کے لئے ہی خراب نہیں ہیں بلکہ عیسائیوں کے لئے بھی بہت زیادہ خراب ہیں۔اس کرسمس ڈے پر ایک طرف تو نریندر مودی نے خوب سیاسی بیان دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے لوگوں میں مذہبی ہم آہنگی کی درخواست کرتے ہوئے تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا۔ لیکن دوسری طرف مودی سرکار کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی انتہا پسند گروپ آر ایس ایس نے عیسائیوں کے اس مقدس دن کو بھی پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ آگرہ میں ہندو انتہا پسند عیسائیوں کے رہائشی علاقوں میں نکل آئے اور انہوں نے کرسمس کی تقریبات کو تہس نہس کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس کے غنڈے چرچوں میں داخل ہو گئے اور عیسائیوں کی مذہبی عبادات کو زبردستی بند کروادیا۔اور نہ صرف عام عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ پاسٹرز پر بھی حملے کرکے ان کو زخمی کیا گیا۔ ایک علاقے میں تو سانٹا کلاز کے خلاف بھی مظاہرہ کیا گیا نعرے بازی کی گئی اور آخر میں سانتا کلاز کے پتلے کو آگ بھی لگا دی گئی۔ ریاست کرناٹکا کے ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں کرسمس کی تقریبات جاری تھیں۔ تقریبات کو زبردستی بند کروا کے بچوں پر بھی تشدد کیا گیا۔
    حال ہی میں بنگلور سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تجسوی سریا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے پر زور دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ اسی مہینے ہری دوار میں ہونے والی ایک تقریب میں جس طرح سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور مسلمانوں کے قتل عام پر لوگوں کو اکسایا گیا کہ اگر آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں مار دیں۔ ہمیں 100 فوجیوں کی ضرورت ہے۔ میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاستدانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانے چاہیئں اور صفائی ابھیان یعنی کلین اپ کرنا چاہیے۔ کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔

    اور اب تو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں بھی یہ رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ موت کے خوف سے عیسائیوں نے خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا۔مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر تو عالمی میڈیا خاموش رہتا تھا لیکن اب جب یہ سب عیسائیوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے تو نیویارک ٹائمز کے ساتھ ساتھ اسرائیلی میڈیا میں بھی اس بات پر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں کہ
    Modi’s politics of hate now come for Indian’s Christians. اور یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے نریندرا مودی اقتدار میں آیا ہے یعنی2014 اور دوبارہ 2019 میں تب سے ہی اس کی جماعت کے عہدیدار سرعام ملک بھر میں ہندوؤں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں۔ اور کیونکہ بی جے پی کا آر ایس ایس کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ اس لیے اب آر ایس ایس پہلے سے کہیں زیادہ وحشی اور خوفناک ہوگئی ہے۔ اور جس مذہبی منافرت اور مسلمانوں کو کچلنے کی بات نصیر الدین شاہ نے کی ہے وہ محض انتہا پسند ہندوؤں کی وجہ سے نہیں ہے آپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ ایک طرف بھارتی آئین کا رٹیکل
    25 آزادی رائے اور مذہبی عقائد کے آزادانہ پرچار کا راگ الاپتا ہے تو دوسری طرف آرٹیکل48 گائے ذبح کرنے سے روکتا ہے جو اسلامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا میں جو اس وقت کوٹہ سسٹم رائج ہے اس میں بھی صرف ہندووں کو ترجیح دی جاتی ہے اور باقی قوموں کو پولیس‘ سول سروسز‘ فوج‘ تعلیم اور کھیل کے میدان میں بہت کم مواقع دیئے جاتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق اس سال صرف جولائی سے ستمبر تک تقریبا تین سو چرچوں کو پورے انڈیا میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
    درجنوں افراد کو تو انڈیا میں ہر سال صرف گائے ذبح کرنے کے شک میں ہجوم تشدد کرکے ہلاک کر دیتا ہے۔ کئی ریاستوں میں تو اب مسلمانوں کو کھلے مقامات پر اکھٹے ہو کر با جماعت نماز جمعہ تک ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور ان تمام کاروائیوں میں ہندو انتہا پسند یہ سجمھتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں اپنے مذہب کا دفاع کررہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ بھارت میں 80 فیصد ہندو بستے ہیں اور ان کے مذہب کو خطرہ ہے ۔ حالانکہ ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت میں ہندو مذہب کو ہرگز کوئی خطرہ نہیں ہے وہاں تبدیلی مذہب کے گنے چنے واقعات ہی پیش آتے ہیں۔ جسے Loveجہاد کا نام دے کر اس کے بدلے بڑی تعداد میں مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔لیکن مودی جیسے انسان سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے جس کی پوری الیکشن مہم ہی مسلمانوں کے خلاف اپنی عوام کو اکسانے پر تھی اور مسلم دشمنی کے نام پر ہی مودی نے اقتدار حاصل کیا تو پھر وہ اور اس کی جماعت انڈیا میں اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر اب یہ صورتحال خانہ جنگی تک پہنچی تو معاملات بہت زیادہ بگڑ سکتے ہیں کیونکہ اب معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا بھی ہے جس پر عالمی میڈیا بالکل بھی خاموش نہیں رہے گا اس لئے مودی سرکار کو چاہیے کہ اس بربریت کو بند کرے اور ہوش کے ناخن لے۔

  • گیس دھماکے ! تحریر:علی مجاہد

    گیس دھماکے ! تحریر:علی مجاہد

    کراچی سائٹ ایریا شیر شاہ کی یہ کہانی ہے۔ دوپہر کوئی 2 بج رہے تھے تقریباً کمپنیوں میں کھانے کا وقت تھا کوئی کھانا کھا رہے تھے اور کوئی ہوٹل پر بیٹھے چائے پی رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک زور دار آواز آتی ہے اور گیس لائن کا دھماکہ ہوتا ہے میں اور میرے دوست بھی ہوٹل پہ بیٹھے چائے پی رہے تھے تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ہلچل مچ گئی ہے ہم اپنی کمپنی کی طرف جا رہے تھے تو ایمبولینس دکھی ہمیں لگا کہ کوئی ایکسیڈنٹ ہوگیا پر پھر معلوم ہوتا ہے نالہ پر ایک بینک بنی ہوئی تھی وہاں گیس لائنیں پھٹنے کی وجہ سے دھماکہ ہوا ہے بلڈنگ زمین تلے بوس گئی اس میں لوگ بھی پھنس گئے کتنی عورتیں بچے بھی شامل تھے، کئی لوگ اس زندگی سے رخصت ہو گئے کئی ہسپتالوں میں منتقل ہو گئے لوگوں نے سنا بینک میں دھماکہ ہوا بلڈنگ گر گئی لوگ اس طرف بھاگنے لگے اس لیے نہیں کہ وہاں جا کر کسی کی مدد کی جائے ریسکیو ٹیموں کی مدد کی جائے بلکہ وہ وہاں سب پیسے بٹورنے میں لگے رہے انسان کی جان کی کوئی پرواہ نہیں پیسہ کو اہمیت دی جارہی تھی ہم نے وہاں دیکھا کچھ لوگوں کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے کسی کا سر بدن سے الگ تھا کسی کا ہاتھ تو کسی کا پائوں، اب سوال یہ ہے کہ گیس دھماکے کیسے ہوتے ہیں

    عموماً اور دوسرا یہ کہ نالہ کہ اوپر بینک کیسے بنی؟ سردیوں میں گیس کے مسائل نہاں ہوتے ہیں تو پھر عوام بھی اپنی مدد آپ کرتی ہے جیسا کہ ابھی کچھ مشینیں آئی ہیں جس سے اگر آپ کا گیس پریشر کم ہوگا تو وہ گیس کھینچتی ہے جو بہت زیادہ خطرناک ہے اور یہ کام غیر قانونی بھی ہے پر عوام مجبور ہے، کچھ لوگ سلینڈر استعمال کرتے ہیں تھوری سی لا پروائی گھر برباد ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں غیرمعیاری اور خراب گیس سلنڈروں کی وجہ سے آئے دن ہلاکت آفریں دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔یہ غیرمعیاری سلنڈرگھروں میں کھانا پکانے کے علاوہ گاڑیوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ساحلی شہرکراچی کا پاکستان کی اقتصادی پیداوار میں حصہ 60 فی صد ہے۔یہ شہر طویل عرصے سے بنیادی ڈھانچے، غیر قانونی تعمیرات، ادارہ جاتی اور حکام کی کرپشن اور ناکام میونسپل خدمات کی وجہ سے گوناگوں مسائل سے دوچار ہے۔ ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیر شاہ دھماکے کی جائے وقوعہ پر موجود سوئی سدرن گیس کی ٹیموں نے تصدیق کی ہے کہ واقعہ کی جگہ پر ادارے کی کوئی گیس پائپ لائن نہیں، علاقے میں موجود تمام گیس پائپ لائنز بالکل محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی اپنے کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں وجہ سیوریج لائن میں دھماکا بتایا ہے جو کہ دھماکے میں بری طرح سے تباہ ہونے والی عمارت کے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ امر بھی قابل غور اور توجہ طلب ہے کہ وقوعہ پر قدرتی گیس کی کوئی بو نہیں تھی اور یہاں تک کہ آگ بھی نہیں لگی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی پائپ لائن سے جوڑا نہیں جا سکتا۔سوئی گیس کا مزید کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی اپنے کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں وجہ سیوریج لائن میں دھماکا بتایا ہے جو کہ دھماکے میں بری طرح سے تباہ ہونے والی عمارت کے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ امر بھی قابل غور اور توجہ طلب ہے کہ وقوعہ پر قدرتی گیس کی کوئی بو نہیں تھی اور یہاں تک کہ آگ بھی نہیں لگی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی پائپ لائن سے جوڑا نہیں جا سکتا۔