نیلسن روہیلا منڈیلا، (پیدائش: 18 جولائی 1918ءترانسکی، جنوبی افریقا) جنوبی افریقا کے سابق اور پہلے جمہوری منتخب صدر ہیں جو 99-1994 تک منتخب رہے۔ صدر منتخب ہونے سے پہلے تک نیلسن منڈیلا جنوبی افریقامیں نسلی امتیاز کے کٹر مخالف اور افریقی نیشنل کانگریس کی فوجی ٹکڑی کے سربراہ بھی رہے۔ جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں سے برتے جانے والے نسلی امتیاز کے خلاف انھوں نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے ان کو مختلف جرائم جیسے توڑ پھوڑ، سول نافرمانی، نقض امن اور دوسرے جرائم کی پاداش میں قید با مشقت کی سزا سنائی۔ نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال پابند سلاسل رہے، انھیں جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔ 11 فروری 1990ء کو جب وہ رہا ہوئے تو انھوں نے پر تشدد تحریک کو خیر باد کہہ کہ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔
نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے خاتمے کے بعد نیلسن منڈیلا کی تمام دنیا میں پزیرائی ہوئی جس میں ان کے مخالفین بھی شامل تھے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو “ماڈیبا“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو منڈیلا خاندانکے لیے اعزازی خطاب ہے۔
جیل کا وہ کمرہ جہاں نیلسن منڈیلا 27 سال قید رہے آج نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ اور تمام دنیا میں ایک تحریک کا نام ہے جو اپنے طور پر بہتری کی آواز اٹھانے میں مشہور ہے۔ نیلسن منڈیلا کو ان کی چار دہائیوں پر مشتمل تحریک و خدمات کی بنیاد پر 250 سے زائد انعامات سے نوازا گیا جن میں سب سے قابلذکر 1993ءکا نوبل انعام برائے امن ہے۔ نومبر 2009ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 18 جولائی (نیلسن منڈیلا کا تاریخ پیدائش) کو نیلسن منڈیلا کی دنیا میں امن و آزادی کے پرچار کے صلے میں “یوم منڈیلا“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔نیلسن منڈیلا کی خدمات میں سے ایک اہم ترین کام آزادی کا حصول ہے ۔نیلسن منڈیلا نسلی امتیاز سے پاک تھے اور انہوں نے اسی آواز کو بلند کرنے کے جرم میں 27 سال جیل کے کمرے میں گزارے۔جس طرح نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں آزادی، نسلی تعصب سے پاک اور برابری کی آواز بلند کی ۔اسی طرح اگر دیکھا جائے تو مسلمان کشمیر کے ہو تو ان پر بھارت اپنی طاقت کی وجہ سے مسلط ہے۔ماوں کی عزتیں لوٹ رہا ہے۔معصوم بچوں کی بینائی چھین رہا ہے ۔مسلمانوں کو وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہی ہے۔جیسا کہ 22 نوجوان ایک اذان کو مکمل کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں نے شہید کر دئیے۔اسی طرح کشمیر جو کہ گلشن تھا اس میں اپنی کم و بیش 8 لاکھ آرمی داخل کر کے اسے فوجی چھاونی میں بدل دیا۔اگر کوئی پرامن احتجاج کرے تو ان پر شیلنگ کی جاتی ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کدھر گئی ۔جیسا کہ نیلسن منڈیلا کا ہی ایک قول ہے:-
*I am fundamentally an optimist. Whether that comes from nature or nurture, I cannot say. Part of being optimistic is keeping one’s head pointed toward the sun, one’s feet moving forward. There were many dark moments when my faith in humanity was sorely tested, but I would not and could not give myself up to despair. That way lays defeat and death* .
اقوام متحدہ کو چاہیے کہ کشمیر مسلمانوں کی آہیں سنے ،اس کے علاوہ فلسطین کو دیکھ لے جس پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہوا۔اسرائیل کے پاس طاقت ہے اسلحہ ہے ٹینک ہے اس لیے اس نے طاقت کی بنا پر فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے۔اسرائیلی فوج نے فلسطینی عوام کا بے پناہ خون بہایا ہے۔وہ فلسطینی بچے، کشمیری بچے ،برما کی عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کوئی قدم ہی نہی اٹھاتی۔کیا یہ اقوام متحدہ کے قوانین جو ہے یہ بھارت پر ،اسرائیل پر ،امریکہ پر ،روس پر لاگو نہی ہوتے صرف و صرف مسلمانوں پر ہی ہوتے ہیں ۔
اللہ تمام مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے نوازے
Category: بلاگ
-

نیلسن منڈیلا، حقوق انسانی اور کشمیر
-

وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟ … رضی طاہر
وضاحت : کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے، گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو آئینہ دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئی کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور اعلانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں ظلم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا بیان بھارتی موقف کی پسپائی ہے۔ جبکہ پاکستان کی بھارت کے خلاف مسلسل پانچویں فتح ہے۔
1۔ پہلی فتح : بھارتی طیارے گرانا اور بزدلانہ کاروائی کا منہ توڑ جواب
2۔ دوسری فتح : بھارتی فنڈنگ کے باوجود قبائلی علاقہ جات میں بھارت کے ہر ہتھکنڈے کو الیکشن اور بیلٹ کے ذریعے شکست دینا، پی ٹی ایم کی ناکامی
3۔ تیسری فتح : کلبھوشن کو عالمی عدالت سے رہائی نہ ملنا اور عالمی عدالت کا کلبھوشن کے دہشتگرد ہونے پر مہر ثبت کرنا
4: چوتھی فتح : بلوچستان کو لے کر بھارتی پروپیگنڈے کا اپنی موت آپ مرنا اور بی ایل اے کو عالمی دہشتگرد قرار دیئے جانا۔
5۔ پانچویں فتح: امریکی صدر کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ ماننا اور ثالثی کی پیشکش کرنا۔

رضی طاہر -

پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔۔ عثمان عبدالقیوم
2016 یا 2017 کی بات ہے حسب عادت دوست کے ساتھ اتوار کے روز ملاقات کی غرض سے اکھٹ ہوا ہنسی مزاح جگت بازی جاری تھی کہ نظریہ پاکستان پر بات شروع ہوئی اتنے میں ایک دوست کہنے لگا عثمان بھائی آپکا وقت درکار ہے میں نے پوچھا خیریت کہنے لگا بھائی آپ جیو نہیں دیکھتے یا جنگ اخبار کو نہیں پڑھتے میں نے نا میں جواب دیا اور وضاحت طلب کی تو معلوم ہوا جیو نیوز کی جانب سے ایک نیا فتنہ جو نظریہ و اساس پاکستان یا یوں کہا جائے کہ تعبیر پاکستان سے لے کر تعمیر پاکستان تک کے خلاصہ کو بڑے احسن انداز سے
"پاکستان کا مطلب کیا پڑھنا لکھنا اور کیا” کی کیمپین شروع کر چکا تھا نوجوان نسل اور ابتدائی تعلیم کی شروعات کرنے والے معصوم پھول انکا نشانہ تھے کچھ حد تک وہ کامیاب ہوتا نظر آرہا تھا
لبرل و پاکستان مخالف اس کیمپین کے حامی تو تھے ہی ہمارا اصلی دشمن بھارت بھی کیمپین کا حصہ بن رہا تھا سوشل میڈیا پر گرفت پکڑ رہا تھا خیر اسی اثناء میں سوال کیا میں کیا خدمت کر سکتا ہوں
جواب ملا کہ نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے زیر اہتمام پاکستان کی گلی گلی نگرنگر نظریہ پاکستان کو اجاگر کرنے اور
” پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” کی کیمپین شروع کی ہے آپ اس میں ساتھ دیں بس آہ بھر کر ارادہ کیا اور اس ارداہ کے ساتھ حامی بھر لی کے
ان شاء اللہ نظریہ پاکستان کو خود بھی سمجھنا ہے اور سمجھانابھی ہے اپنے شہر کے ایک کونے سے آغاز کیا لوگوں نے بھرپور ساتھ دیا پروگرام کروانے کی حامی بھری تھکاوٹ تو بہت ہوتی مگر دل خوش تھا کہ پاکستان کے لئے نا ہونے کے برابر اس تعمیر شدہ پاکستان کی تزئین و آرائش کے لئے تھوڑا سا کام کر گیا۔
واللہ حقیقت بات ہے پہلے پروگرام میں نے سفید داڑھی والے چند بزرگوں کے آنسو دیکھے کہنے لگے پتر جئے ٹائم ہے تے گل سن جا پھر ایک داستان سنائی23 مارچ 1940 کا دن بہت تاریخی تھا جب برصغیر کے مسلمانوں نے ہندو و مسلم مسئلے کا حل نکالتے ہوئے تقسیم برصغیر کے ذریعہ سے الگ ملک پاکستان کا مطالبہ کیا تھا۔یہ وہ دن تھا جب جب رنگ و نسل کے سارے بت خانے توڑ کر مخالف عقائد کے سارے ماننے والے مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے مختلف علاقائی و خاندانی ثقافتوں کے حامل تمام مسلمان ایک کلمہ توحید کی بنیاد پر پرچم پاکستان کے سائے تلے اکھٹے ہونے کا اعلان کیا۔
اس وقت کسی جٹ نے جٹستان، کسی آرائیں نے آرائیں آباد کی بات نہیں کی تھی نا پنجاب سے پنجابستان کی آواز آئی تھی نا کسی پٹھان، سندھی یا بلوچی نے اپنے نام سے منسوب ملک کئ بات کی تھی یہاں تک کہ سنی تھا یا شعیہ وہابی تھا یا دیو بند کسی نے بھی اپنے عقائد کی ترجیح کی بات نہیں کی تھی مذہبی و سیاسی طور پر انکی صفوں میں کسی قسم کا انتشار کی لہر نہیں تھی بلکہ یہ پیغام تھا
” ہماری صف بھی ایک ہے کیونکہ ہم سب کا رب ایک ہے سب ایک نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ الہ وسلم کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور انہی پر نازل کتاب قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں
کیا تھا اس یکجہتی کی آواز سے برصغیر میں موجود دشمنوں کو ایک پیغام گیا یہ سب اتفاق کی رسی میں آ چکے ہیں اب ہماری تدبیروں کا فائدہ نہیں یہ ایک صف کی شکل میں ایک آواز بن چکے ہیں اب پاکستان کا معرض وجود لازم ہو چکا ہےبتاتے بتاتے اس بات پر رو پڑے پتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وطن ِ عزیزکی بنیادیں استوارکرنے کے لئے متحدہ مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ ،گوشت گارے کی جگہ ،اورخون پانی کی جگہ استعمال ہوا ہے۔جن کی عظیم قربانیوں کے بعد 14 اگست 1947 کو وطن عزیز پاکستان کا قیام وجود عمل میں آیا۔میں سننے کی طاقت نہیں رکھتا تھا حالانکہ کہ ان حالات کی عینی شاہدین میں سے تھے بہرحال تب سے ارادہ کیا تھا جو نعرہ سن 47 میں لگا تھا
*پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ*
اس کو گلی گلی نگر نگر سمجھانا ہے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے اس نظریے کی ترویج کرنی ہے پاکستان کے لئے گمنام محافظوں کی طرح ایک مشن کے طور پر کام کرنا ہے
اسکی تعمیر میں ہم حصہ تو نا لے سکے کم از کم تعمیر شدہ پاکستان کی حفاظت تو کر سکتیں ہیںدعا ہے اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو نیست و نابود کرے۔
پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد
-

سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ
گزشتہ روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل اور چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا کہنا تھا نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کریں اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا جائے. سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جائے یا افسوس کہ بالآخر پاکستان کے آفیشلز کو مسئلہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے کردار کی اہمیت کا اندازہ ہی ہوگیا اگرچہ بہت تاخیر کے ساتھ ہی ہوا.
جناب عزت مآب ڈاکٹر محمد فیصل صاحب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان!
بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے کشمیر میں انڈین مظالم اور کشمیر کی آزادی کے حوالے سے نوجوانوں سے مدد مانگی کہ سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو اجاگر کرے. آپ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں تو ہمیں اس ایشو کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کریں.سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
جناب عالی! آپ کے اس بیان کو سن کر ہمیں خوشی بھی ہوئی اور آپ کی سادگی پر ہنسی بھی آئی کہ گزشتہ دس بارہ سالوں سے پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کشمیر کا مقدمہ سوشل میڈیا پر لڑتے رہے. ان دس بارہ سالوں میں کشمیر ایشو، نظریہ پاکستان یا بھارت کے ہندو توا پر کام کرنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس میں شاید ہی کوئی ہو جس کے بیسیوں، سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ کی طرف انڈین دباؤ میں آکر بلاک نہ کیے گئے ہوں. ہم تب سے چیخ چلا رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس میں اپنا کردار ادا کرے اگر بھارت دھونس اور دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منظور کروا سکتا تو پاکستان کیوں نہیں؟ میں کتنے ہی فعال ترین ایکٹوسٹس کو جانتا ہوں جو کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر زندہ رکھے ہوئے تھے مگر اکاؤنٹس کی مسلسل بندش کے سلسلوں اور پاکستانی انتظامیہ کی بے حسی سے تنگ آکر کچھ تو سوشل میڈیا کا استعمال ہی چھوڑ گئے اور کچھ نے دیگر مصروفیات ڈھونڈ لیں. تب پاکستان کی انتظامیہ میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہم بہت بڑا نقصان کر رہے ہیں ان ایکٹوسٹس کی مدد نہ کرکے، رہی سہی کسر کشمیر ایشو کے لیے اپنی ساری زندگی تیاگ دینے والے رہنماؤں اور جماعتوں پر لگنے والی پابندیوں اور ان پر لگنے والے دہشت گردی کی دفعات نے پوری کردی اب کوئی کشمیر کا نام سنتے ہی ہاتھ کانوں پر لگاتا ہے کہ نہ بابا میں دہشت گردی کا پرچہ نہیں کٹوانا ، کشمیر کا نام لینا ہی دہشت گردی بنا دی گئی ہے. کسی سے کہہ دو کہ آؤ کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ بات کرلیں تو وہ صاف انکار کرتا کہ بڑی مشکل سے میرے اکاؤنٹ کی کچھ "ریچ” بنی ہے آپ کیوں بلاک کروانا چاہتے ہیں. ہمارے کتنے ہی بڑے بڑے پیجز اور اکاؤنٹس کہ جن کی رسائی لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں تھی وہ پاکستان انتظامیہ کی بے حسی اور بھارتی غنڈہ کردی کی نذر ہوکر بلاک کردیئے گئے. اب جب آپ لوگوں کو نظر آیا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے موبائلوں اور سستے پیکجز سے کشمیر پر کام کرنے والے غائب ہوگئے اور کشمیر کا نام بھی سوشل میڈیا سے ختم ہوتا جا رہا ہے تو آپ نے نوجوانوں سے مدد مانگنا شروع کردی کہ آئیں اس فیلڈ میں کام کریں تو عالی جناب نوجوان تو برسوں سے اس فیلڈ میں موجود تھے مگر ان کو اس فیلڈ میں کس نے بے یارو مددگار چھوڑ کر ان کو اس میدان سے منہ پھیرلینے پر مجبور کیا؟؟؟
مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل
جناب عالی ڈاکٹر فیصل صاحب! اب آپ ہی ہمیں بتائیے کہ ہم سوشل میڈیا پر کشمیر ایشو کو کیسے اجاگر کریں، کیسے سوشل میڈیا پر بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کریں کہ بھارت پوری طرح سے اس فیلڈ میں چھایا ہوا ہے اور کسی بھی پاکستانی اکاؤنٹ یا پیج کو کشمیر پر بات کرنے کے جرم میں بلاک کردیا جاتا ہے تو ایسے میں تھوڑی سی مزید رہنمائی کردیں کہ کیسے اجاگر ہوگا یہ مسئلہ کشمیر؟ ؟؟

Muhammad Abdullah -

سمر کیمپ ضرور لگائیں مگر فیس نہیں لینی، محکمہ تعلیم پنجاب
لاہور:صوبے بھر میں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران سمر کیمپ لگانے یا نہ لگانے کا معاملہ حل ہو گیا اور بالآخر محکمہ تعلیم نے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو اپنے اسکولوں میں سمر کیمپ لگانے کی اجازت دے دی۔
یہ سمر کیمپ تمام کلاسز کے لیے نہیں بلکہ یہ صرف سمر کیمپ تمام ٹرمینل جماعتوں 5،8،9 اور دسویں کے طلبا اور طالبات کے لیے ہوگا، سمر کیمپ کا وقت صبح سات بجے سے لیکر ساڑھے دس بجے تک ہو گا۔ سمر کیمپ میں بچوں کو بلوانے کے لیے ان کے والدین کی رضا مندی ضروری ہوگی۔
یاد رہے کہ ان سمر کیمپوں کو اس لیے بند کردیا گیا تھا کہ والدین کی طرف سے شکایات کی گئیں تھیں کہ اساتذہ سمر کیمپ کی آڑ میں بہت زیادہ فیسیں وصول کرتے ہیں. تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بچوں کو اپنے ساتھ کھانے پینے کی اشیا لانے کی یقین دہانی کروائیں گے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا کہ کوئی بھی سرکاری یا نجی ادارہ سمر کیمپ کی فیس وصول نہیں کرے گا۔
-

شرم و حیا ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی
اک گانے کے بول ہیں
ملاؤ نا یوں نگاہ ہم سے
ہو نا جائے کوئی گناہ ہممطلب یہ تو مان لیا گیا ان بے حیائی کو عام کرنے والوں نے کہ نگاہ ملے گی تو گناہ ہونے کے چانس بڑھ جاتے ہیں، اور یہی نگاہ ملانے اور بے حیائی اور عزتوں کا جنازہ کیلئے بے پناہ محنت کی گئی اور اب بھی جاری ہے، موویز، گانوں، لباس کے چناؤ، بے پردہ ہو کر نکلنا، مردوں کے بے حیا ہوجانے کی صورت، اور ہر اک حربہ استعمال کیا جا رہا ہے کہ نوجوان نسل کو بے حیا کر کے دین اسلام سے دور کر دیا جائے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب حیا ختم ہوجائے تو پھر انسان جو مرضی کرتا پھرے،
اک اور اہم بات ان گانوں کے اشعار پر غور کرنا جو حقیقت سے بالکل دور اور افسانوی شاعری پر مبنی ہونگے، جس کا اصل زندگی سے کوئی واسطہ نہیں، بلکہ یہ جتنے محرم رشتے ہونگے ان سے متنفر اور باغی کرنے، خاندانی نظام کو توڑنے پر مبنی، اور خیالی دنیا میں جانے کا ساماں کرنے پر مشتمل ہونگے، اور ایسا انسان غیر ذمہ دار، رشتوں کی اہمیت کو پس پشت ڈالنے والا ہوگا، اپنے خیر خواہوں کو اپنا دشمن سمجھنے والا ہوگا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل کا شکار ہوگا۔اب رستے کا انتخاب کرنا اس شخص پر ہے جو یہ تحریر پڑھ کر ان الفاظوں کی گہرائی کو سمجھ رہا ہے۔
کہ وہ کس رستے کا انتخاب کرتا ہے۔ -

بھارت :جہاں انسان انسانوں کو قتل کرتے ہیں.وہاں کتوں نے نومولود بچی کی جان بچالی
ہریانہ: بھارت میں انسان کی انسان کو مارنے کی کوشش لیکن جانوروں نے بچالیا بھارت میں جہالت نہ گئی،بیٹی پیداہونےپرنوزائیدہ بچی کوتھیلے میں بندکرکےنالے میں پھینک دیاگیا لیکن کتوں نے تھیلے کونالے سے نکال کربچی کی جان بچالی، ویڈیوسوشل میڈیاپروائرل ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق ایک خاتون نے ایک نوزائیدہ بچی کوتھیلے میں بند کرکے نالے میں بہا دیالیکن کہتے ہیں نا جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، کتوں نے اس خاتون کی بچی کومارنے کی کوشش ناکام بنادی اوربروقت تھیلے کونالے میں سے نکال لیا۔
تھیلے کو نالے سے نکالنے کے بعد کتوں نے شورمچا کراہل علاقہ کوبھی جمع کرلیا جنہوں نے بچی کوفورا اسپتال پہنچایا جہاں اس کی جان بچ گئی۔ سارے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیاپروائرلہوگئی جس پرلوگ خاتون کے عمل کی پرزورمذمت کررہے ہیں۔
-

یو ای ٹی نے انٹری ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان کردیا
لاہور:یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے انٹری ٹیسٹ نتائج کا اعلان کردیا، 400 نمبرز میں سے 336 نمبرز لیکر لاہور کے فائق عرفان راشد پہلے، عبدالصبور 313 نمبرز کیساتھ دوسرے جبکہ ملتان کے ارحم فاروق 308 نمبر لیکر تیسرے نمبر پر رہے۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق یو ای ٹی میں داخلوں کا آغاز انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے نتائج کے بعد ہوگا، ٹیسٹ بی ایس سی انجنیئرنگ، بی ایس سی ٹیکنالوجی میں داخلے کیلئے لیا گیا تھا۔ حاصل نمبرز کاوٹیج 30 فیصد، ایف ایف سی کے نمبرز کاویٹج 70 فیصد ہے
یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ امیدواروں کو انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے نتائج کے بعد پراسپیکٹس ملنا شروع ہوں گے، پراسپیکٹس کی قیمت 1000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ داخلے کی مزید تفصیلات یو ای ٹی کی ویب سائٹ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔یو ای ٹی اور اس کے ملحقہ کیمپسز میں نشستوں کی مجموعی تعداد 2500 ہے۔
-

نوکیا موبائل فون کمپنی کا پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان
اسلام آباد: اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے لیے نوکیا نے خوشخبری سنا دی ، نوکیا موبائل فون کمپنی ایچ ڈی ایم نے پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
نوکیا فون کی قیمتوں کو کم کرنے کے حوالے سے پاکستان میں نوکیا کے ڈسٹری بیوٹر ایڈوانس ٹیلی کام نے اپنی ویب سائیٹ پر نئے اسمارٹ فونز پر 40 فیصد تک کی کمی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے ایک اعلامیہ کے مطابق نئے اسمارٹ فونز نوکیا کے تمام فرنچائزز اور ڈسٹری بیوٹرز کے پاس بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں جس سے صارفین بھرپور استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ سالوں میں نوکیا کو بین الاقومی مارکیٹ میں سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے فونز کی طلب میں بہت کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ نوکیا کی اس نئی پیشکش کو مارکیٹ میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ واپس حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ جب سے ایچ ایم ڈی کمپنی نے نوکیا کے فون بنانا شروع کر دیے ہیں دنیا بھر میں ان کے فون کی فروخت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔نوکیا کس طرح مارکیٹ میں جگہ بناتی ہے یہ پتہ چلے گا نوکیا کے فیچرز سے کہ کیا وہ صارفین کے دلوں میں جگہ بناسکتے ہیں.
-

شوہر کے موبائل سے میسجز کاپی کرنا جرم قرار،کس ملک میں جانیئے اس خبر میں
دوبئی:خاوند اور بیوی کے درمیان نفرت کو پیدا ہونے سے بچانے کے لیے عرب امارات نے شوہروں کو خاوندوں کی جاسوسی سے روک دیا . متحدہ عرب امارات میں شوہروں کی جاسوسی کرنے والی خواتین کیلئے نئی مشکل پیدا ہوگئی۔ شوہر کے موبائل سے میسجز کاپی کرنا جرم قرار دے دیا گیا ۔ خلا ف ورزی کرنے پر خواتین کو تین ہزار درہم ادا کرنا ہونگے۔
۔ شوہر کے موبائل پیغامات کو کاپی کرنے پر اگر شوہر نے بیوی کیخلاف شکایت درج کردی کہ ان کی بیگم نے موبائل ان کی بغیر اجازت سے استعمال کیا اور پرایوسی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔اس فیصلے مقصد خاوند اور بیوی کو باہمی اختلاف سے بچانا ہے جو آگے بڑھ کر بڑے مسائل پیدا کردیتے ہیں
اس فیصلے کی روشنی میں کہا گیا ہے کہ اگر بیوی نے اپنے خاوند کا موبائل سے میسج کیا یا اس کو چیک کرنے کی کوشش کی تو پھربیگم صاحبہ کو اس جرم میں تین ہزار درہم ادا کرنا ہونگے جبکہ عدالت کے مطابق خواتین کو ایک سو درہم وکالت فیس اور دیگر چارجز بھی ادا کرنے ہونگے۔