Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اداکارہ، ماڈل  و گلوکارہ عائشہ عمر کا تعارف

    اداکارہ، ماڈل و گلوکارہ عائشہ عمر کا تعارف

    معروف پاکستانی اداکارہ ، گلوکارہ اور ماڈل عائشہ عمر 12 اکتوبر 1981 میں لاہور میں پیدا ہوئیں انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور گرائمر اسکول اور اس کے بعد نیشنل کالج آف آرٹس بیکن ہاؤس سے تعلیم حاصل کی ۔ 1999 میں انہوں نے اداکاری اور گلوکاری و ماڈلنگ کا آغاز کیا بطور اداکارہ، ماڈل، گلوکارہ وہ بلبلے میں خوبصورت، لیڈیز پارک میں نتاشا، زندگی گلزار ہے میں سارہ، تنائی میں آرزو اور دل اپنا اور پریت پرائی میں علینا کے کردار میں مشہور ہوئیں ۔

    انہوں نے بھرپور محنت کی بدولت خود کو پاکستان کی مقبول ترین اداکاراؤں میں سے ایک کے طور پر منوایا ہے۔ وہ پاکستانی ٹیلی ویژن کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکاراؤں کی صف میں شامل ہو چکی ہیں اور وہ پاکستان میں اسٹائل آئیکون کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔ 2019 میں، وارثی انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی طرف سے انہیں تمغہ فخر پاکستان (پرائیڈ آف پاکستان) سے نوازا گیا۔ 2012 میں، اس نے اپنا پہلا سنگل "چلتے چلتے” اور "خاموشی” ریلیز کیا، جو کہ تجارتی طور پر کامیاب رہا۔ پاکستان کو ناقدین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بریکنگ؛ اسلام آباد؛ ریڈ زون میں وزارت خارجہ بلڈنگ میں آتشزدگی
    ورلڈکپ ؛ انڈیا چھوڑنے والی زینب نے وجہ بتادی
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    عائشہ عمر نے بہترین البم کا لکس اسٹائل ایوارڈ جیتا۔ انہوں نے 2015 میں کامیاب رومانٹک کامیڈی کراچی سے لاہور کے ساتھ مرکزی کردار میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا، اس کے بعد جنگی فلم یلغار (2017) اور ڈرامہ کاف کنگنا (2019) میں معاون کردار ادا کیا۔ عائشہ عمر نے تاحال شادی نہیں کی ہے تاہم وہ اپنے جیون ساتھی کی تلاش میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد کم از کم 4سال تک کوئی پرفارمنس نہیں کریں گی ۔

  • افغان مہاجرین کی گھر واپسی

    افغان مہاجرین کی گھر واپسی

    حالیہ پیش رفت میں، پاکستانی حکومت نے تمام غیر قانونی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو یکم نومبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کیا ہے، جس کی تعمیل کرنے میں ناکام رہنے والوں کے لیے ممکنہ گرفتاریوں اور جبری ملک بدری کا انتباہ دیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں، کابل میں طالبان انتظامیہ کے ترجمان نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان شہریوں کو پاکستان کے سیکیورٹی مسائل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔

    اس فیصلے کے پیچھے محرک عوامل میں سے ایک پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہے۔ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا تھا کہ رواں برس بڑی تعداد میں خودکش بم حملے ہوئے جن میں "24 میں سے 14” افغان شہریوں کی جانب سے کیے گئے۔

    اس صورت حال کے قانونی تناظر کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان مہاجرین کی حیثیت سے متعلق 1951 کے کنونشن یا مہاجرین کی حیثیت سے متعلق 1967 کے پروٹوکول کا فریق نہیں ہے۔ نتیجتاً، پاکستان ان افراد کو غیر معینہ مدت تک پناہ دینے کا پابند نہیں ہے۔ تاہم، خیر سگالی اور ہمسائیگی کی حمایت کی علامت کے طور پر، پاکستان نے ابتدائی طور پر افغان مہاجرین کو پناہ گزینوں کا درجہ دیا [UNHCR، ‘افغانستان کی واپسی 2002’ پر 5؛ UNHCR، ‘حل کی تلاش؛ UNHCR کے 25 سال – افغان مہاجرین پر پاکستان کا تعاون، جون 2005 میں 17]۔

    اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ پناہ گزینوں کی یہ صورتحال ہمیشہ عارضی نوعیت کی رہی ہے کہ ان کے گھریلو حالات بہتر ہونے پر اسے واپس لیا جائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، UNHCR اور پاکستان کے درمیان مسلسل معاہدوں کے نتیجے میں ان کے قیام کی مدت میں توسیع ہوئی ہے، لیکن کسی بھی موقع پر ان کی موجودگی کو مستقل کرنے کا نہیں کہا گیا

    مقامی رپورٹس کے مطابق پاکستان کا اس اقدام کا مقصد تمام افغانوں بشمول قانونی حیثیت اور پاکستانی رہائشی کارڈ کے حامل افراد کو ملک چھوڑنا ہے [BBC News]۔ اس اقدام کو پاکستان کے اندر سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیوں کہ بعض مہاجرین نے مبینہ طور پر دہشتگرد افراد کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔

    یہ واضح ہے کہ پاکستان نے ابتدائی طور پر افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی، لیکن اب سیکورٹی کے بدلتے ہوئے منظر نامے نے صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا ۔ یہ ضروری ہے کہ افغان مہاجرین کی روانگی منظم طریقے سے ہونی چاہئے، اس عمل کے دوران ان کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنایا جائے۔

    جب ہم ان چیلنجوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو حضرت علی علیہ السلام کے ان الفاظ کو یاد رکھنا ضروری ہے: "جس کے ساتھ نیکی کرو اس کے شر سے بچو۔” تحفظ کے ساتھ صنفی توازن ایک پیچیدہ کام ہے، لیکن اس صورتحال میں ملوث تمام اسٹیک ہولڈرز کے خدشات کو دور کرنا ناگزیر ہے۔

  • ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    شان الحق حقی
    شاعر ابن شاعر، ماہر لسانیات، محقق و مترجم

    11 اکتوبر : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    60 سے زائد کتابوں کے مصنف ، ماہر لسانیات ، نقاد ، شاعر اور مترجم شان الحق حقی 15 ستمبر 1917 میں دہلی میں معروف شاعر اور مترجم مولانا احتشام الحق حقی المعروف ناداں دہلوی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے خانوادے کی تیرہویں پیڑھی سے تھے اور ڈپٹی نذیر احمد کے پڑ نواسے تھے۔ ان کے والد ایک عالم ، و شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے دیوان حافظ شیرازی اور رباعیات عمر خیام کا فارسی زبان سے اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ شان الحق حقی اڑھائی سال کی عمر کو پہنچے تو ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا چناں چہ انہیں ان کی پھوپھی کے پاس پشاور بھیج دیا گیا مڈل تک انہوں نے پشاور میں تعلیم حاصل کی جس کے بعد واپس دہلی لائے گئے ۔ دہلی اور علی گڑھ سے اعلی تعلیم حاصل کی ۔ لندن میں ذرائع ابلاغ کا کورس بھی مکمل کیا۔ قیام پاکستان کے فوری بعد اگست 1947 میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ دہلی سے کراچی منتقل ہو گئے ۔ وہ کراچی سے شائع ہونے والے ” ماہ نو” کے دو سال تک چیف ایڈیٹر رہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ، فلمسازی اور یونائٹڈ اشتہارات کراچی کے ڈائریکٹر اور آرٹس کونسل کی مجلس انتظامیہ کے رکن و دیگر کئی سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے سب سے اہم علمی کام آکسفرڈ ڈکشنری کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جو کہ 22 جلدوں پر مشتمل ہے جس کی اب تک 25 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔ ان کی دیگر تصانیف میں ، انتخاب کلام ظفر، انجان راہی (امریکی ناول گار جیک شیفر کے ناول SHANE کا ترجمہ) تار پیرہن(منظومات) دل کی زبان، پھول کھلے ہیں ، نکتہ راز، افسانہ در افسانہ(خود نوشت / سوانح حیات ) حرف دل رس (غزلوں کا مجموعہ)، شاخسانے، نقد و نگارش، ، آئینہ افکار غالب، درپن درپن(مختلف زبانوں کی شاعری کا ترجمہ)، لسانی مسائل و لطائف ، نوک جھونک ،سہانے ترانے، حافظ ایک مطالعہ، لسان الغیب، تیسری دنیا، صور اسرافیل(بنگالی شاعر قاضی نذرالسلام کی نظموں کا ترجمہ) ن، نوائے ساز شکن (ان کی شاعری کا آخری مجموعہ) و دیگر کتب شامل ہیں ۔ وہ اردو، عربی، فارسی، انگریزی ، ہندی ، سنسکرت ، ترکی اور فرانسیسی زبان پر عبور رکھتے تھے ۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے شان الحق حقی صاحب کو ان کی اعلی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز اور قائد اعظم ایوارڈ ایوارڈ دیا گیا جبکہ اسلام آباد میں ایک سڑک ” شان الحق حقی روڈ” کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ 11 اکتوبر 2005 میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے ایک ہسپتال میں داخل پھیپڑوں کے سرطان کے دوران علاج ان کا انتقال ہوا اس موقع پر ان کی اہلیہ سلمی Salma اور بیٹا شایان حقی وہاں پر موجود تھے ۔

    نمونہ کلام (جسے ناہید اختر نے خوب صورت آواز میں گایا ہے)
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
    زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے

    کم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
    کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتے

    کاش اے ابر بہاری ترے بہکے سے قدم
    میری امید کے صحرا میں بھی گاہے جاتے

    ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
    ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے

    لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے
    ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے

    ہے ترے فتنۂ رفتار کا شہرا کیا کیا
    گرچہ دیکھا نہ کسی نے سر راہے جاتے

    دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
    اور کچھ دن غم ہستی سے نباہے جاتے

    شان الحق حقی

  • ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز

    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز

    اس نے کہا تھا جو بھی ، مانا اسی کو سب نے
    اس کی وجہ سے اب تو شہرت بدل گئی ہے

    مسرت ناز

    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری

    اردو ، پنجابی اور انگریزی کی معروف ادیبہ و شاعرہ مسرت ناز صاحبہ کا تعلق گجرانوالہ پنجاب (پاکستان)سے ہے ۔ ان کے والد محترم کا نام عطا محمد، والدہ محترمہ کا نام صفیہ نور اور خاوند محترم کا نام بابر محمود ہے ۔ وہ 6 بہن بھائی ہیں جن میں وہ چوتھے نمبر پر ہیں ۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ ایف اے تک تعلیم حاصل کی ہے اور شادی کے بعد امور خانہ داری میں مصروف ہو گئیں ۔

    ماشاء اللہ ایک بیٹی کی ماں ہیں ۔ ان کے خاندان میں عورت کے شعر و شاعری کو معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیئے انہوں نے اپنے گھر والوں سے چھپ کر لکھنا شروع کیا۔ لکھنے کا عمل انہوں نے 13 سال کی عمر سے کیا۔شاعری میں انہوں نے پہلے علامہ ماجد الباقری صاحب اور بعد میں جان کاشمیری صاحب سے بھی اصلاح لی ۔ مسرت ناز صاحبہ حمد ، نعت، گیت، غزل، ملے نغمے ، افسانے اور بچوں کی کہانیاں لکھتی ہیں۔

    ان کے یہاں 20 کتابوں کا مواد موجود ہے جن میں سے اب تک ان کی 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1 روحانی دعائیں (اسماء الحسنی پر مشتمل)2 ۔ میری سوچ (اقوال زریں پر مشتمل)3 . من کی راکھ (شعری مجموعہ)4 . عطائے نور(نعتیہ کلام پر مشتمل) 5 ۔ گلدستہ(بچوں کی کہانیوں پر مشتمل) شامل ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی خاتون لکھاری ہیں کہ جن کی 10 کتابیں ” ون لائن” کے تحت لکھی گئی ہیں اور گیارہویں لکھ رہی ہیں ۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کی بقیہ 15 کتابوں کے مسودے تیار ہیں اور ان شاء اللہ جلد شائع ہو کر مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔ مسرت ناز بھی دیگر اکثر ادباء اور شعراء و شاعرات کی طرح پاکستان کے سرکاری ادبی اداروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں ۔ وہ مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں اس کی وجہ شاید گھریلو مصروفیات اور کتابیں لکھنے کا عمل ہے۔

    غزل

    غم کھا گئے ہیں دل کو صورت بدل گئی ہے
    دیوار پر لگی جو مورت بدل گئی ہے

    چڑیوں کے گیت سن کر گانے لگے تھے ہم بھی
    سوچا یہی تھا شاید قسمت بدل گئی ہے

    اس نے کہا تھا جو بھی مانا اسی کو سب نے
    اس کی وجہ سے اب تو شہرت بدل گئی ہے

    زخم جگر کو سی کر کرنا ہمیں کیا اب ہے
    دن رات اپنی کیسے حاجت بدل گئی ہے

    اس کو سنوار کر ہم ٹوٹے ہیں اپنے ہاتھوں
    اس کی ہماری پل میں حالت بدل گئی ہے

    ہیں انتظار کرتیں اب بھی حوائیں مل لو
    کہتے ہیں لوگ اب تو عورت بدل گئی ہے

    نظروں میں ہم تھے اس کی دنیا ہمیں سے روشن
    جو بھی جڑی تھی ہم سے راحت بدل گئی ہے

    چپ چاپ مدتوں تک نفرت چھپا کے پھرنا
    وہ تو نہیں ہیں بدلے چاہت بدل گئی ہے

    بستے ہیں پتلیوں میں اب بھی وہی جو کل تھے
    الزام دے رہے ہیں نیت بدل گئی ہے

    لالی جو چھا رہی ہے آنکھوں کے آسماں پر
    پھولوں کی جیسے ساری رنگت بدل گئی ہے

    وہ بے وفا ہے لیکن یہ مانتے نہیں وہ
    نسبت ملی جو ان کی تہمت بدل گئی ہے

    رزق حلال دیتا ہے ان کو جو نہ مانے
    خالق نہیں ہے بدلا خلقت بدل گئی ہے

    اشکوں سے دوستی کی اپنی سزا ہے نازی
    بچھڑے وہ جب کے ہم سے وقعت بدل گئی ہے

    مسرت ناز

  • پاکستان میں بنیاد پرستی کا ارتقاء

    پاکستان میں بنیاد پرستی کا ارتقاء

    انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے درمیان واضح فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیاد پرستی انتہا پسندی کا پیش خیمہ ہے۔ بہرحال یہ ممکن ہے کہ کوئی بنیاد پرست ہو لیکن انتہا پسند نہ ہو۔ لیکن ایک انتہا پسند کا بیک وقت انتہا پسند اور بنیاد پرست دونوں ہونا ضروری ہے۔ ایک بنیاد پرست فرد یا بنیاد پرست لوگوں کا گروہ انتہائی مذہبی، سیاسی اور سماجی عقیدہ تیار کرتا ہے۔ تاہم، پرتشدد انتہا پسندی بنیاد پرست لوگوں کا ایک ایسا گروہ ہے جو دھمکیوں، خوف اور دہشت گردی کا استعمال کرکے تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

    اگر ہم اسے وسیع تر معاشرتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو بنیاد پرستی کو ایسے لوگوں کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جو بہت مختلف عقائد پر یقین رکھتے ہیں لیکن "دوسروں” کی قیمت پر نظام کو تبدیل کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ یہ ایسا کرنے کے لیے پرتشدد انتہا پسندانہ طریقوں کی تلاش نہیں کرتے، دوسری طرف انتہا پسندی اپنے سیاسی ایجنڈے کو دوسروں کی قیمت پر نافذ کی جاتی ہے،

    ہم اکثر دونوں اصطلاحات کو مترادف استعمال کرتے ہیں۔ لیکن واضح طور پر، وہ ایسے نہیں ہیں.

    پاکستان میں بنیاد پرستی کی بنیاد بڑے پیمانے پر رکھی گئی تھی، [میں لفظ "بڑے پیمانے پر” استعمال کرتی ہوں] اس ایک عمل سے: پاکستان کے آئین 1973 میں قرارداد مقاصد کو شامل کرنے سے قانونی الجھنیں پیدا کرنے میں ایک سنگ میل کے طور پر کام کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں منفی سماجی اثرات مرتب ہوئے۔

    ملک کا نام جمہوریہ پاکستان سے تبدیل کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کر دیا گیا۔ قلم کی ضرب سے قوم کے کردار میں ڈرامائی تبدیلی آ گئی۔ بحث چھڑ گئی کہ پاکستان کیسا ملک ہونا چاہیے۔ نئے فریم ورک میں فٹ ہونے کے لیے سمجھوتے کیے گئے۔

    اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا (آرٹیکل 2)۔ ریاست اور مذہبی کے درمیان تعلق ایک پرانی بحث ہے۔ تاہم، کسی بھی قانونی دستاویز میں دو عناصر جنہیں ایک دوسرے کے متوازن رکھنا چاہیے وہ مساوات اور مذہب کی آزادی کے اصول ہیں

    بدقسمتی سے، ریاست اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسلام کو سیاسی طور پر استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے مختلف مذہبی تنظیموں اور مختلف فرقوں کے علماء کی حمایت کی گئی۔ ان قانونی الجھنوں اور پھیلاؤ کے اثرات نے پاکستان کو ایک جدید فعال ریاست کے طور پر کام کرنے کے لیے سخت آزمائش میں ڈالا ہے۔

    ان الجھی ہوئی گرہوں کو کھولنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے کثیر داخلی اور خارجی عوامل کی تردید نہیں کرتا، جو پیچیدہ معاملات رکھتے ہیں لیکن یہ ایک نئے دن کے لئے ایک نئی بحث ہے۔

  • جدید اردو نظم کے بانی؛  نون میم راشد کا تعارف

    جدید اردو نظم کے بانی؛ نون میم راشد کا تعارف

    کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
    سر میں اگر وہ شوق شہادت نہیں رہا
    ن م راشد

    جدید اردو نظم کے بانی اور آزاد نظم کے پہلے شعری مجموعے ” ماورا” کے خالق نذر محمد جنجوعہ المعروف ن م راشد یکم اگست 1910 میں ضلع گجرانوالہ کے قصبہ علی پور چٹھہ کے اکال گڑھ کے ایک زمیندار اور ڈپٹی انسپکٹر اسکولز راجہ فضل الاہی چشتی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و میٹرک اکال گڑھ میں بقیہ تعلیم لائل پور اور لاہور میں حاصل کی۔ 1935 میں اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کی جس کا 1961 میں انتقال ہوا جس کے بعد انہوں نے 1963 میں ایک برطانوی خاتون شیلا انجیلی سے شادی کی ۔

    ن م راشد نے تعلیم سے فراغت کے بعد کمشنر آفس ملتان میں ملازمت کی۔ اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے۔ وہ ریڈیو لکھنو اور پشاور کے اسٹیشن ڈائریکٹر رہے ۔ کچھ عرصہ فوج میں ملامت کی جس کے بعد آئی ایس پی آر میں ملازمت کی اس دوران ایران، عراق، مصر اور سری لنکا میں تعینات رہے۔ کچھ عرصہ بعد اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات میں ملازم رہے اس دوران نیو یارک، کراچی اور جکارتہ میں تعیناتی رہی ۔

    گھڑ سواری ، تیراکی اور کشتی رانی کے شوقین رہے۔ ن م راشد نے 7سال کی عمر میں ” انسپکٹر اور مکھیاں” کے عنوان سے پہلی نظم کہی جبکہ باقاعدہ شاعری کا آغاز انہوں حمدیہ اور نعتیہ شاعری سے کیا۔ 1942 میں ان کی آزاد نظموں کا شعری مجموعہ” ماورا” شائع ہوا جو کہ اردو میں آزاد نظموں کی پہلی کتاب ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں ” لا_انسان” ایران میں اجنبی اور ” گمان کا ممکن” شامل ہیں۔ 9 اکتوبر 1975 میں لندن میں ان کا انتقال ہوا وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں مذہب بیزار ہو چکے تھے چناں چہ انہوں نے اپنی نعش کو جلانے کی وصیت کر دی تھی اس لیے ان کی اہلیہ شیلا نے ان کے جسد خاکی کو نذر آتش کرا دیا تھا جبکہ ن م راشد کے بیٹے اپنے والد کی لاش کو جلانے کے حق میں نہیں تھے لیکن ان کی ماں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے آنے سے پہلے ہی اپنے شوہر کی وصیت پر عمل درآمد کر دیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حماس حملے؛ ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 800 سے بھی تجاوز کرگئی
    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی
    چین نے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا
    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی
    تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
    دل میں ترے وہ ذوقِ محبت نہیں رہا

    پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتے
    تو ہی حریفِ ذوقِ سماعت نہیں رہا

    آئیں کہاں سے آنکھ میں آتشِ چکانیاں
    دل آشنائے سوزِ محبت نہیں رہا

    گل ہائے حسنِ یار میں دامنِ کشِ نظر
    میں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا

    شاید جنوں ہے مائلِ فرزانگی مرا
    میں وہ نہیں وہ عالمِ وحشت نہیں رہا

    ممنون ہوں میں تیرا بہت مرگِ ناگہاں
    میں اب اسیر گردشِ قسمت نہیں رہا

    جلوہ گہہِ خیال میں وہ آ گئے ہیں آج
    لو میں رہین زحمتِ خلوت نہیں رہا

    کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
    سر میں اگر وہ شوقِ شہادت نہیں رہا

    ن م راشد

  • کو ن تنازعات  کو حل کروائے گا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کو ن تنازعات کو حل کروائے گا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ سمیت عالمی طاقتوں ، اقوام متحدہ ،او آئی سی ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سامنے صدیوں سے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔لاکھوں انسان موت کی آغوش میں چلے گئے۔ جنگ کا خمیازہ ہمیشہ عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان تازہ ترین جنگ میں عام لوگ ہی اس کی زد میں ہیں۔ مخلوق خدا کا خون سڑکوں ، گلیوں ، محلوں میں بہہ رہا ہے ۔ عورتوں اور بچوں کا بھی خون اور لاشیں سڑکوں پر نظر آرہی ہیں۔

    فلسطین اوراسرائیل کا تنازعہ صدیوں سے چلا آرہا ہے اگر امریکہ سمیت عالمی طاقتیں اور دیگر عالمی ادارے صدیوں پر مشتمل یہ تنازعات حل نہیں کروا سکے تو پھر کو ن تنازعات کو حل کروائے گا؟ ۔ عراق ، افغانستان ، شام ، لیبیا ، فلسلین ، کوسوو ، بو سنیا اور میانمار لاکھوں مکانوں کو شہید کردیا گیا موجودہ دور کو تاریخ کا بدترین دور کہا جا سکتا ہے ۔ ان ممالک میں سب کچھ عالمی دنیا اور عالمی اداروں اور امیر ترین مسلم ممالک کے سامنے ہو ا۔ مسلمان ممالک کی اکثریت کو یہ اُمید ہوتی ہے کہ امیر ترین عرب ممالک ان کی مدد کریں گے۔ مگر آج عرب ممالک خود اپنی پالیسیوں کی بدولت مال و دولت کے باوجود مصیبت زدہ ہیں۔ دنیا بھر کے مسلم ممالک غور کریں مسلمان ممالک دنیا کی کمزور ترین قوم کیوں ہیں؟ علم سے دوری بیشتر ممالک ، دوسری قوتوں کے رحم وکرم پر ہیں۔

    جذباتی تقریر یں نہیں عمل کی ضرورت ہے۔ علماء کرام کا عالم یہ ہے جو اپنے مائیک کی تار ٹھیک نہیں کر سکتا وہ اغیار کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں ۔ دنیا پر غالب آنے کی بات کرتے ہیں۔ مسلمان ابھی تک استنجا خانے صاف رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ رَبِ زِدنِی علماکو چھوڑ دیا ۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کو چھوڑ دیا۔ جہاں تک تازہ ترین فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعات طول پکڑ رہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھی تو عالمی دنیا کو سمجھنا چاہیئے کہ اگر غزہ میں زندگی جہنم ہو تو اسرائیل کبھی جنت نہیں ہوگا اور یہی کچھ بھارت کے لئے بھی ہے۔

  • ‎‎مارینا ایوانوونا تسوتایوا م کو  بیسویں صدی کے روسی ادب میں نمایاں مقام حاصل

    ‎‎مارینا ایوانوونا تسوتایوا م کو بیسویں صدی کے روسی ادب میں نمایاں مقام حاصل

    ‎‎مارینا ایوانوونا تسوتایوا کا شمار روس کی ممتاز شعراء میں ہوتا ہے ان کے کام کو بیسویں صدی کے روسی ادب میں نمایاں مقام حاصل ہے‎۔
    مارینا ایوانوونا تسوتایوا نے 1917 کی روسی انقلاب اور روسی خواتین کے حقوق کے بارے میں نظمیں لکھی ہیں 1919ء میں انہوں نے اپنی بچی آریادنا عفرن کو قحط سے بچانے کی غرض سے ان کو سرکاری یتیم خانے میں داخل کروایا جہاں وہ بھوک کی وجہ سے مرگئی اور صدمے کے باعث اور قحط سے بچنے کے لیے 1922ء میں اپنے خاندان کے ساتھ تسوتایوا نے روس سے پیرس کا رخ کیا اور کچھ عرصہ برلن میں بھی رہائش اختیار کی اور 1929ء میں واپس ماسکو آ گئے۔ ان کے شوہر سرگئی عفرن اور اس کی بیٹی آریادنا عفرن(عالیہ) کو 1941ء میں گرفتار کر لیا گیا اور ان کے شوہر کو پھانسی دی گئی اسی صدمے کی وجہ سے تسوتایوا نے 1941ء میں خود کشی کرلی۔ ان کی خوبصورت شاعری آج بھی ان کی یاد دلا رہی ہے۔

    مارینا ایوانوونا تسوتایوا ماسکو، روس میں پیدا ہوئیں، آپ جامعہ ماسکو میں فائن آرٹس کی پروفیسر ایون ولادمیرووچ تسویتایوف کی بیٹی ہیں جس نے بعد میں الگزینڈر سوم میوزیم کی بنیاد رکھی، تسوتایوا کی ماں ماریہ الگزینڈرونا میئن (ایون کی دوسری بیوی) جو ایک مشہور پیانو نواز تھی اور اسے جرمن اور پولش زبان پر عبور حاصل تھا۔

    تسوتایوا کی سوتیلی بیٹیوں میں والیریا اور اندریئی بھی تھیں جو ہروقت آپس میں لڑتی تھیں جس کی وجہ سے تسوتایوا کی ماں اور واوارا (ایون کی پہلی بیوی) میں ہمیشہ ان بن رہتی تھی آپ کے والد نہایت نرم خو اور نرم دل تھے، شادی سے پہلے ماریا تسوتایوا کو کسی سے عشق ہو گیا تھا اور انہوں نے اپنے عاشق کے بارے میں بے شمار رومانوِی اشعار لکھے جو بہت پسند کیے گئے۔

    ماریا تسوتایوا نے بجائے اپنی بیٹی کو شاعرہ بنانے کے پیانو نواز بنانے کی ٹھان لی اور اس فن میں انہوں نے مہارت حاصل کی۔
    1902ء میں ماریا تسوتایوا کی والدہ ٹی بی کے مہلک بیماری کے باعث بیمار ہوگئیں تو ڈاکٹروں نے انہیں کسی صحت افزا مقام پر منتقل کرنے کا مشورہ دیا تو ان کے خاندان نے کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک چلے گئے جہاں 1906ء میں ان کی والدہ کا بھی انتقال ہو گیا والدہ کے انتقال کے وقت ان کی عمر 14 سال تھی۔

    یہ جون 1904 کی بات ہے کہ جب ماریا تسوتایوا لاوسانی نامیاسکول میں داخل کروایا گیا رہائش کی تبدیلی نے بھی ماریا تسوتایوا کی زندگی پر بہت گہرے نقوش چھوڑے اور اس سفر کے دوران میں انہوں نے اٹالین، فرنچ اور جرمن زبانوں میں عبور حاصل کیا انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ ”مجھے اپنی ماں کی طرح شاعرہ بننے کا شوق تھا“۔

    1908ء میں جب ان کی عمر 16 سال تھی تو انہوں نے جامعہ پیرس، سوربون میں ادبی تاریخ کا تفصیلی مطالعہ شروع کیا اس زمانے میں روسی شاعری میں ایک انقلابی تبدیلی رونما ہو رہی تھی۔ انہوں نے چھ ڈرامے اور بے شمار اشعار تخلیق کی ہیں 1917 اور 1922 کے درمیاں انہوں نے امن کے حق میں اور جنگ کے خلاف اپنے مخصوص انداز میں اشعار لکھے جن کو بہت پسند کیا گیا۔ مئی 1922ء میں ماریہ اور اریادنا نے سویت یونین سے برلن میں عفرن کے پاس چلی گئیں بعد میں بولشیوک نے عفرن کو قتل کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری کا پہلا مجموعہ علیحدگی کے عنوان سے شائع کروایا جسے کافی پذیرائی حاصل ہوئی‎۔

    1925ء میں ان کا خاندان پیرس چلا گیا جہاں انہوں نے 14 سال گزارے‎۔ جہاں ان کو ٹی بی کی بیماری لگ گئی اور چیک حکومت نے ان کے لیے معمولی سا اعزازیہ جاری کیا جو ادیبوں اور دانشوروں کے لیے چیک حکومت کی طرف سے ایک معمولی سا اعزازیہ تھا‎۔ ‎‎ ان کے بیٹے جیوفری نے دوسری جنگ عظیم میں شرکت کی اور 1944ء میں دوران میں جنگ مارا گیا۔ اس کی بیٹی اریادنا 16 سال تک روس میں قیدو بند کی صعوبیتیں برداشت کرتی رہی اور 1955ء کو ان رہا کر دیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کا انٹیلی جنس ماہرین بھرتی کرنے کا فیصلہ
    سولرپینلز کی مزید 6 فرضی کمپنیاں بے نقاب،13 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف
    آسٹریلیا کی بھارت کے خلاف بیٹنگ جاری،8 کھلاڑی آؤٹ
    یلابوگا نامی شہر میں اب ماریا تسوتایوا کے گھر کو حکومت نے ان کی یاد میں عجائب گھر بنا دیا ہے اور ان کی لازوال شاعری کو روسی حکومت نے 19٦1ء میں دوبارہ شائع کروایا ۔ 1990 ‎میں غدنیا، پولینڈ میں روسی سائنس اکیڈمی نے ایک یادگاری جہاز بناکر ان کے اعزاز میں جاری کیا۔‎

  • میرپورخاص:مسٹر و جونیئر مسٹر باڈی بلڈنگ چیمپین شپ 2023 منعقد ہوئی

    میرپورخاص:مسٹر و جونیئر مسٹر باڈی بلڈنگ چیمپین شپ 2023 منعقد ہوئی

    میرپورخاص،باغی ٹی وی (نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ )گولڈز جیم فٹنس کلب کی جانب سے دوسرا شاہ مراد بلوچ مرحوم اوپن ڈویژن میرپورخاص باڈی بلڈنگ چیمپین شپ 2023 مسٹر سینئر و جونیئر میرپورخاص ڈویژن باڈی بلڈنگ کونٹیسٹ2021-22 مقابلے اجرک کلب میرپورخاص میں منعقد ہوئے جس میں مختلف اضلاع کے45 تن سازوں نے حصہ لیا پروگرام میں چیئرمین یونین کونسل حاجی محمدعلی راجپوت، سردار ذیشان وسان،فیصل وسان نے شرکت کی ججنگ کے فرائض عمران ناگوری اور رمیزابراہیم خان، آفاق احمدانی اورشعیب جیلانی نے انجام دئیے

    پروگرام میں جنرل سیکریٹری میرپورخاص و سندھ جمال بلوچ،ڈویژنل صدر آفتاب بلوچ، ضلعی سیکریٹری عبدالسلام بلوچ،غفار خان اور دیگر تن سازوں نے بھی شرکت کی، تن سازی کے جونیئرکلاس اے مقابلے میں پہلی پوزیشن گولڈ جیم کےاسد علی، دوسری گولڈ جیم کے یاسر،تیسری گولڈ جیم کے دانیال،چوتھی علی خان جیم کے فضیل،پانچویں زیڈ ایم جیم کے مکرم خان اورچھٹی پوزیشن آرم اسٹرونگ جیم جھڈو کے محمد رضا نے حاصل کی مسٹر جونیئر میرپورخاص ڈویژن 2021 گولڈجیم کے اسد بلوچ، مسٹر جونیئر میرپورخاص ڈویژن 2022 ایم ایچ جیم کے سیف الرحمان،مسٹر سینئر میرپورخاص ڈویژن 2021گولڈ جیم کے غلام مصطفی،مسٹرسینئر میرپورخاص ڈویژن 2022زین بن منصور، مسٹر جونیئر ماڈل فزکس میرپورخاص ڈویژن 2023 ایم ایچ جیم کے سیف الرحمان، مسٹر سینئر ماڈل فزکس میرپورخاص ڈویژن 2023 ایم ایچ جیم کے زید بن منصورنے حاصل کیا،سینئر کلاس
    بی میں پہلی پوزیشن گولڈ جیم کے حسام بلوچ، دوسری گولڈ جیم کے غلام مصطفی، تیسری گولڈ جیم کے دلاور، چوتھی گولڈ جیم کے مکیش نے حاصل کی

    سینئر کلاس اے میں پہلی پوزیشن ایم ایچ جیم کے زید بن منصور، دوسری گولڈجیم کے اویس قریشی، تیسری گولڈ جیم کے فہیم بلوچ نے حاصل کی۔ اس موقع پرچیئر مین محمد علی سردار زیشان وسان فیصل وسان غفار خان آفتاب بلوچ علی بلوچ جمال بلوچ سلام بلوچ نے پوزیشن حاصل کرنے والے تن سازوں میں ٹرافیاں تقسیم کیں۔

  • ایلزا بیتھ  بشپ کا یوم وفات

    ایلزا بیتھ بشپ کا یوم وفات

    ایلزا بیتھ بشپ (امریکی شاعرہ و کہانی نویس)
    یوم وفات : 6 اکتوبر 1979
    بیسویں صدی کی انگریزی کی معروف امریکی شاعرہ اور کہانی نویس ایلزا بیتھ بشپ 8 فروی 1911 میں وارسٹر میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والدین کے نام گرٹڈ مے بلمر اور ولیم تھامس تھا۔ انہوں نے وارسر کالج نیو یارک سے گریجویشن کیا ۔ وہ ایک روشن خیال ادیبہ اور شاعرہ تھیں ۔ ان کی ادبی نگار شات اور شاعری کی اشاعت کا آغاز امریکہ کے ایک معروف ادبی رسالے Trile Balanc میں چھپنے سے ہوا۔

    ایلزا بیتھ بشپ کی کہانیوں اور شاعری میں خواتین کے حقوق اور ان حسن و جمال کی اہمیت کا تذکرہ زیادہ تھا جس کی وجہ سے کچھ حلقوں کی جانب سے ایلزابیتھ پر ہم جنس پرستی کے الزامات بھی لگائے گئے لیکن ایلزابیتھ بشپ کی جانب سے ان الزامات کے متعلق کسی بھی قسم کی وضاحت یا تصدیق و تردید نہیں کی گئی شاید انہوں نے اس بارے میں کسی قسم کی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کی یا مناسب نہیں سمجھا۔ ایلزابیتھ نے خواتین کے حقوق کے لیے فعال کردار ادا کیا ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارتی فوجی میجر نے اپنے ہی افسران پر فائر کھول دیئے
    انڈیا میں‌پاکستانی فنکاروں کی بہت قدر کی جاتی ہے روبی انعم
    ایلزا بیتھ بشپ کا یوم وفات
    ان کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں جو کہ کہانیوں اور شاعری پر مشتمل ہیں ۔ ایلزابیتھ بشپ کی اہمیت اور حیثیت کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک معروف امریکی فلمساز بابرا ہوکر نے ان کی شخصیت پر This House on Elzabeth Bishop کے نام سے ایک فلم بنائی ۔انہیں متعدد ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا خاص طور پر 1976 میں عالمی ادبی ایوارڈ دیا گیا جبکہ وہ واشنگٹن میں شعر و ادب کے شعبے کی سرکاری مشیر کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔ امریکہ کی اس خوب صورت کہانی نویس اور شاعرہ ایلزابیتھ بشپ کا انتقال 6 اکتوبر 1979کو واشنگٹن میں ہوا۔