Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات
    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری، اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نمائندگی کرنے والے وکیل علی ظفر کی درخواست سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بیان بازی پر توجہ دینے کے بجائے، درست طور پر نشاندہی کی کہ 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کے تصور کو عملی تجاویزکودیکھنے کی ضرورت ہے۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے ہیں۔ بنچ جسٹس اطہر من اللہ، اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل ہے۔دوران سماعت سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل معزز ججوں کی طرف سے کچھ بہت اہم سوالات اٹھائے گئے تھے،
    جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ آئین میں یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری اگر ہو چکی ہے تو انتخابات کب ہونے چاہئیں؟
    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین نے نئی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ ہ کیا یہ آئینی شق ہے کہ انتخابات 2017 سے 2021 تک مردم شماری کے بعد ہونے چاہئیں؟ اس سوال پر عابد زبیری نے کہا کہ حالات سے قطع نظر 90 دن کے اندر انتخابات کا مطالبہ ہے۔
    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری مکمل ہونے کے بعد الیکشن کرانے کے لیے آئین میں کیا مقررہ مدت درکار ہے۔
    علی ظفرسے بھی سوال کیا گیا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بروقت مردم شماری کرائی، "مردم شماری کی منظوری میں چار سال کیوں لگے؟ لگتا ہے آپ تاخیر کا الزام کسی اور پر لگا رہے ہیں،بتائیں کہ مردم شماری میں تاخیر کا ذمہ دار کون تھا؟ اگر 2017 میں مردم شماری کی منظوری دی گئی تھی تو جلد کیوں نہیں کرائی گئی؟ آدھا سچ کیوں پیش کرتے ہیں؟ پچھلی حکومت نے مردم شماری نہیں کروائی اور جب نئی حکومت نے کرائی تو آپ اسے غلط کہتے ہیں۔ آپ نے اس وقت مردم شماری کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟” [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اگر آئینی طور پر مردم شماری کی ضرورت ہے تو اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنہوں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں بروقت ادا نہیں کیں وہ اب تاخیر، حلقہ بندیوں، اور متعلقہ مسائل پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔

    نوے دن میں انتخابات کے حوالہ سے کیس کی سماعت کے دوران یہ اٹھائے گئے چند اہم سوالات ہیں۔ ایک چیز جو ظاہر تھی وہ یہ تھی کہ عدالت کی طرف سے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی خواہش تھی ،بیان بازی پر پابندی لگانے کے بجائے "قابل عمل” پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، یہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں تاخیر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

    اندرون خانہ مسائل کو حل کرنے کے بعد حتمی تاریخ دینے کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ تاہم، نہ صرف ابھی کے لیے بلکہ مستقبل کی نظیر کے طور پر بھی، قانون کے سوالات کو طے کرنا ہے بلکہ طے کیا جائے گا۔

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مسئلے کو حل کروانے کے لئے اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ،عرب لیگ ، اقوام عالم ،او آئی اسی اور مسلم ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ جب بھی بڑی طاقتوں کے درمیان تنائو بڑھتا ہے تو یہ تمام بین الاقوامی ادارے مفلوج کیوں ہو جاتے ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے کہ جنگ کسی خطے پر ہو انسانیت کا خون بہتا ہے بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں۔شہری آبادیاں اُجڑجاتی ہیں مخلوق خدا جائے پناہ تلاش کرتی ہے۔ لیکن کیا کہا جائے دنیا اپنے مفادات ، اپنی طاقت، اپنے اقتدار بچانے کے لئے ایک صدیوں پُرانا لفظ مذمت کرتی ہے اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔

    دنیا کے تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور خدا کی مخلوق ہیں ۔ انسانیت کا رشتہ سب سے اہم رشتہ ہے اس رشتے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ انسانیت کا رشتہ بہت بڑا خزانہ ہے اسے لباس ، مذہب یا قومیت میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 سے اب تک اسرائیل ڈیڑھ لاکھ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ جس میں 33 ہزار تعداد بچوں کی ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے مقامی و ملکی اور عالمی سطح پر نہ مسلمانوں کی کوئی قیادت ہے اور نہ کوئی لائحہ عمل اور نہ اتحاد ہے ۔ مسلمان ممالک ہر شعبے ، ہر میدان میں مفلوج نظر آتا ہے ۔تاہم دعائوں اور بدعائوں سے حملہ آور ہے۔

    ملکی سیاست اور جمہوریت پر کیا تبصرہ کیا جائے ہمارے ملک میں جمہوریت کبھی آئیڈیل رہی نہیں۔ پاکستان کی سرحدیں پاک فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی وجہ سے محفوظ ہیں ۔ سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں تاہم جس جمہوریت اور الیکشن آئین اور قانون کی باتیں ہو رہی ہیں پاکستان کو اس وقت ایک ہوشیار ،ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو اپنی منفرد حیثیت سے ملک کے مسائل حل کر سکے۔

    ہسپتال پر بمباری کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے ڈاکٹر یوسف ابوریش نے ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں، اس پریس کانفرنس میں میڈیا کی بجائے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ان کے سامنے ہے،ڈائس کے ساتھ ایک والد اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھا کر دنیا کے سامنے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے،ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کے ڈاکٹر غسان کا کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میں سرجری کر رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا،یہ ایک قتل عام ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

     

  • نواز شریف کی واپسی

    نواز شریف کی واپسی

    لندن میں چار سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد نواز شریف کی لاہور واپسی پر جوش و خروش دیکھے میں آیا، نواز شریف کی آمد سے قبل انہیں تین مقدمات میں 24 اکتوبر تک ضمانت دی گئی، زیر بحث پہلا مقدمہ توشہ خانہ کیس تھا، جہاں نواز شریف پر ابھی تک باضابطہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی، لیکن قانونی کارروائی جاری تھی۔ دیگر دو مقدمات، یعنی ایون فیلڈ کیس اور العزیزیہ کیس، میں ان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

    العزیزیہ کیس میں، نواز شریف نے بیرون ملک علاج کرانے کے لیے ضمانت حاصل کی تھی، لیکن وہ وعدے کے مطابق واپس نہ آئے، ایسی صورتحال جس کے نتیجے میں عام طور پر ایک عام شہری کی فوری گرفتاری ہوتی ہے، جس کے بعد ضمانت کی درخواست دائر کی جاتی ہے۔ تاہم نواز شریف کے کیس میں یہ اصول لاگو نہیں کئے گئے،

    اگرچہ نواز شریف کی واپسی جمہوری عمل کے لیے اہمیت کی حامل ہے، لیکن یہ جس انداز میں ہوا اس کے بارے میں اہم خدشات پیدا کرتا ہے، جس سے قانون کی حکمرانی کی ممکنہ بے توقیری کا اشارہ ملتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال عوام میں پولرائیزیشن کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ عوام کا ایک اہم حصہ اب بھی پاکستان تحریک انصاف حکومت کا حامی ہے.

    نواز شریف کی پاکستان واپسی ، پی ٹی آئی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی، پی ٹی آئی کی محاذ آرائی، فوج پر مسلسل تنقید، 9 مئی کا واقعہ اور سائفر کیس جیسے کیسز میں ملوث ہونے کی وجہ سے فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان دراڑ مزید بڑھ گئی،جس نے ملک کی سفارتی کوششوں پر نقصان دہ اثر ڈالا، یہ جزوی طور پر، پی ٹی آئی کی اپنی غلطی تھی جس نے نواز شریف کے لیے سیاسی منظر نامے میں دوبارہ داخل ہونے کا راستہ پیدا کیا.

    احتساب کی بجائے معاشی بحالی کو ترجیح، نواز شریف کا بیانیہ تجزیہ کاروں کو یہ سوال کرنے پر مجبور کر رہاہے کہ کیا وہ انتخابات میں تاخیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عوامی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ یہ اقدام ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے اور پاکستانی سیاست میں مختلف اداکاروں کی جانب سے استعمال کی جانے والی حکمت عملیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ان دنوں مشرق وسطی تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے سنگین خطرہ ہے کہ یہ معرکہ جو بلاشبہ حق و باطل کا معرکہ ہے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ جنگ دو ہفتے قبل حماس کی جانب سے اسرائیل پر یک وقت 5 ہزار میزائل فائر کرنے سے شروع ہوئی مگر اس بات میں ہرگز دو آراء نہیں کہ حماس کا یہ رد عمل اسرائیل کے ان مظالم کے جواب میں سامنے آیا ہے جو اسرائیل نصف صدی سے فلسطین کے نہتے عوام پر ڈھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ طے ہے کہ اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے لیے خطرہ ہے تو کیا اقوام متحدہ کا فرض نہیں کہ وہ اس مسئلے کو اپنی ہی قراردادوں کے مطابق حل کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو پرامن زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر آسکیں ۔دوسری مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی اپیلوں یا مسلم ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے جارحیت کرنے والے کا ہاتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک پکڑنا ضروری ہے ۔ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا وہ بگڑا بچہ ہے جس نے خطے کا امن دائو پر لگا رکھا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسرائیل کے مظالم پر دنیا خاموش ہے اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو وہ بے اثر رہتی ہے ان حالات میں حماس کی جانب سے جو قدم اٹھایا گیا وہ حالات کے تناظر میں ’’ تنگ آمد جنگ آمد ‘‘ کے مترادف ہے اس پر اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا سیخ پا ہونا کسی طور پر بھی درست نہیں۔ اگر امریکہ اور برطانیہ واقعی انسانی حقوق کے علم بردار ہیں تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرائیں تاکہ یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہ سکے ۔ یہاں یہ حقیقت بھی امریکہ اور برطانیہ کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب اسرائیل مظالم کے نتیجے میں بہت سے ممالک فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہے ۔روس چین اور شمالی کوریا امریکہ کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی حمایت سے باز رہے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

    ایران اور ترکی کا موقف اس حوالے سے پہلے ہی واضح ہے چنانچہ اب جب کہ یہ جنگ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان اور شام تک پھیل چکی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا ’’ شیطان ثلاثہ ‘‘ ہوش کے ناخن لے اور جارح اسرائیل کی حمایت کرنے کے بجائے اسے راہ راست پر لانے کے لیے مثبت اقدام اٹھائے ۔ سعودی عرب جو اس خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والا اہم ملک ہے وہ بھی حالیہ تناؤ کے نتیجے میں اسرائیل پر واضح کر چکا ہے کہ اسے فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کے کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ۔ چند ماہ قبل یہ خبر زبان زد عام تھی کہ مشرق وسطی کے بعض ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں مگر حقائق نے اس خبر کو فیک ثابت کر دیا ہے ۔ اسرائیل کو جان لینا چاہئے کہ اگر اس نے تباہی کا راستہ اختیار کیا تو وہ محفوظ خود بھی نہیں رہ سکے گافلسطنینوں کی شہادتوں کے نتیجے میں وہ خود بھی کھنڈر بنے گا ۔ دنیا بھر کے امن پسندوں کو ا نہی حقائق کی روشنی میں جاری جنگ رکوانے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ رہی بات ان کی دھمکیوں کی جو اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو دے رہا ۔۔۔۔تو فلسطینی مسلمان ان دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں۔ اسلئے کہ جو سرفروش سر پر کفن باندھ کر میدان جنگ میں اترتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ اسرائیل نے غزہ پر بمباری کر کے اسے کھنڈر بنا دیا ہے اگر فلسطینی شہادت کے مرتبے پر فائز ہو رہے ہیں تو محفوظ اسرائیل بھی نہیں۔

    البتہ فرق یہ پڑا ہے کہ اب بہت سے انصاف پسند یہودی بھی اسرائیل کی صیہونی لیڈر شپ کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں ۔ امریکہ میں ہزاروں یہودیوں نے اسرائیل کی جارح صیہونی لیڈر شپ کے خلاف جلوس نکالا ۔ مظاہرین واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت میں گھس گئے ۔ مظاہرین ’’ غزہ کو جینے دو کے نعرے لگارہے تھے ‘‘ مظاہرین نے جنگ بندکرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نام پر لڑائی نہ کریں، فلسطینیوں کی نسل کشی بندکریں۔مظاہرین نے صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طاقت فلسطینیوں پر مظالم رکوانے کے لیے استعمال کریں۔ان بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں صیہونی ریاست کی قیادت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مکمل تباہی ان کا مقدر بن سکتی ہے ۔

    یہاں ایک سوال انتہائی توجہ طلب ہے کہ نصف درجن کے قریب اہم ممالک کی جانب سے فلسطین کی حمایت کے باوجود پاکستان کھل کر کیوں نہیں بات کر رہا جبکہ پاکستان کو نہ صرف اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے بلکہ جب سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے اسلام دشمن طاقتیں ہماری ایٹمی طاقت کو اسلامی بم کے نام سے تعبیر کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمزور اسلامی ممالک درپیش خطرات کے مواقع پر پاکستان کی طرف دیکھتے اور امید ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ہماری مدد کو آئے گا مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس سے جہاں کمزور مسلم مبارک مایوسی کا شکار ہوتے ہیں وہاں اسلام دشمن طاقتیں بھی اظہار مسرت کرتی ہیں ۔ گو یہ حقیقت کے قریب صورتحال ہے مگر حقائق کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ اہل پاکستان کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اہل پاکستان ہر مشکل وقت میں اہل فلسطین سے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ چنانچہ اسرائیل کو کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر تو احتجاج ہوہی رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے صرف فلسطین پر مظالم کے خلاف ہی احتجاج نہیں ہو رہا بلکہ امید ہے کہ حکومت بھی اس حوالے سے ۔ اسلئے کہ پاکستان کا بچہ بچہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے ان فرمودات کو پیش نظر رکھتا ہے جو وہ فلسطین کو تسلیم نہ کرنے کے پس منظر میں کہہ چکے ہیں۔ قائد اعظم علی جناح نے ہمیشہ فلسطینی مسلمانوں کے موقف کی دوٹوک حمایت کی تھی اور اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا تھا اس اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطینی مسلمان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ معاشی مسائل اور سیاسی مصلحتیں اپنی جگہ لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو اس حوالے سے چشم کشا رہنا چاہیے کہ امت مسلمہ جسم واحد کی مانند ہے اگر جسم کا ایک حصہ متاثر ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں عالم اسلام کا مسئلہ ہے لہذا پاکستان کو اسی تناظر میں فیصلہ کرنا ہوگا ۔اس حوالے سے کوئی بھی مصلحت وقتی تو ہو سکتی ہے مستقل نہیں ۔ جہاں تک ہمارے ہاں درپردہ اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بات ہے تو یہ عناصر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ان عناصر کو جان لینا چاہئے کہ اگر یہ اپنی مذموم روش سے باز نہ آئے تو انھیں عوام کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطی کے لمحہ بے لمحہ بدلتے حالات عالم اسلام کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ حق و باطل کے اس معرکہ میں متحد ہو جائیں اگر قبلہ اول کی آزادی کے لیے فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو پھر گزرا وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ غزہ کے محصور مسلمان مزید ظلم برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ غزہ سے اشیائے ضرورت اور ادویات تک ختم ہو چکی ہیں۔ اہل غزہ اس وقت مادی امداد کے ساتھ ساتھ افرادی اور عسکری امداد کے بھی منتظر ہیں ۔ ان حالات میں امت مسلمہ کو ہر وہ ممکن قدم اٹھانا ہوگا جس سے اہل فلسطین کے مصائب کم ہوں اور وہ نسل کشی سے محفوظ رہ سکیں ۔
    شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات !

  • غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی معروف مصنفہ، شاعرہ اور ناول نگار حبا کمال ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئیں ہیں اور حبا ابو ندا 1991 میں سعودی عرب میں مقیم بیت جرجا کے ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔


    ان کا خاندان 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران صیہونیوں کی جانب سے جبری طور پر بےگھر کیا گیا تھا۔ حبا نے غزہ یونیورسٹی سے کلینیکل نیوٹریشن میں ماسٹر کیا تھا اور یونیورسٹی سے بائیو کیمسٹری میں بھی ماسٹر ڈگری لی تھی انہوں نے اب تک شادی نہیں کی تھی ۔
    32 سالہ حبا ابو ندا نے” آکسیجن از ناٹ فار دا ڈیڈ” نامی ناول لکھا تھا۔ حبا ابو ندا نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ اگر ہم مرجائیں تو جان لیں کہ ہم ثابت قدم ہیں اور ہم سچے ہیں۔

    هبة أبو ندى کی آخری فیس بک پوسٹ
    سپریم کورٹ نے ملک ریاض نوٹس جاری کر دی
    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان
    پارلیمنٹ 2سے 3ماہ میں وجود میں آ جائے گی. خواجہ محمد آصف
    نحنُ في غزة عند الله بين شهيد وشاهد على التحرير وكلنا ننتظر أين سنكون.
    كلنا ننتظر اللهم وعدك الحق.
    جبکہ 2 روز قبل انگریزی میں پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم نہ چیخ اور چلا سکتے ہیں ہم اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں سے نہ مل سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں اور ہم موت کے دہانے پر کھڑے ہیں اور کسی بھی وقت مر سکتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نواز شریف کا نئے سیاسی سفر کا آغاز ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نواز شریف کا نئے سیاسی سفر کا آغاز ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے ملکی سیاست سے ذاتی انتقام، ذاتی چپقلش اور ہنگامہ آرائی کو دفن کر کے ایک نئے سیاسی اور جمہوری اور معاشی سفر کی طرف ملک کو گامزن کرنے اور مستحکم پاکستان کی منزل کے حصول کو اپنا ہدف قرار دیا ہے۔ دہائیوں سے ڈگمگاتی جمہوریت، ہچکولے کھاتی معیشت عوام میں بے یقینی کی کیفیت اور مہنگائی کا طوفان بلاشبہ سیاسی انتقام اور ذاتی پسند اور ناپسند کے تجربات ہی کے ثمرات ہیں جن کا خمیازہ نہ صرف عوام پاکستان اور سیاستدان بھگت رہے ہیں قوم کو ایک نئے آغاز کی ضرورت تھی ایک نئے عزم حوصلے کی ضرورت تھی نوازشریف نے وطن واپسی پر لاہور میں اپنے خطاب میں قوم کو ایک نئی منزل دکھائی۔ نوازشریف نے ملک کی سیاسی تاریخ میں اپنے ادوار میں موٹرویز ، میٹرو بس سروس، سی پیک اور دیگر ایسے میگا پراجیکٹ متعارف کروائے جن سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات پڑے اور ملکی معیشت اس وقت دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت گردانی جاتی تھی۔ ایشین ٹائیگر بننے کا خواب اپنی تعبیر کے قریب تھا نوازشریف نے اپنے خطاب میں عوام کی ضروریات اور قومی ترقی کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت اور تدبیر کے ساتھ بھانپتے ہوئے جس پاکستان کا خواب دیکھا ہے اس میں ملک کے ہر فرد پر نوجوان مرد و زن کو اس کی تکمیل کے لئے حصہ ڈالنا ہوگا وقت آ پہنچا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک دوسرے پر پوائنٹ سکورنگ سے باز رہنا چاہئے۔ سب سے پہلے پاکستان اور اپنا پاکستان مضبوط کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ بلاشبہ نوازشریف نے قید و بند کی اذیتیں اپنے اور خاندان اپنے عزیز ترین رشتوں کی جدائی کے کے غم اور ستم سہے اس کے باوجود نوازشریف اپنے خطاب میں قوم کو برداشت ، تحمل، بردباری ، صبر اور شکر کی تلقین کر گئے۔ جو قابل تعریف ہے۔

  • نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد آج پاکستان پہنچ گئے ہیں، جیل میں بیمار ہونے والے نواز شریف لندن گئے توپھر چار سال تک پاکستان نہ آئے، بھائی شہباز شریف نے پاکستان میں ڈیڑھ برس حکومت کی، نواز شریف واپس نہ آئے، عمران خان جیل گئے اور نگران حکومت بنی تو نواز شریف کا واپسی کی تاریخ کا اعلان ہوا، غیر یقینی کیفیت تھی ، عدالت میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائر ہوئیں تو عدالت نے مجرم کو ضمانتیں دے دیں،اسکے بعد نواز شریف آج پہلے اسلام آباد پہنچے وہاں سے لاہور آئے اور مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کیا

    نواز شریف سٹیج پر پہنچے تو مریم نواز آبدیدہ ہوئیں، نواز شریف بھی رو پڑے،شہباز شریف نے مختصر خطاب کیا اسکے بعد نواز شریف نے 58 منٹ خطاب کر کے ن لیگ کا نیا بیانیہ قوم کے سامنے رکھا، مینار پاکستان گراؤنڈ میں آج سٹیج سیکرٹری کے فرائض مریم نواز نے سنبھالے رکھے نواز شریف ایئر پورٹ آئے، شاہی قلعہ میں ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ ہوئی مگر مریم اپنے والد نواز شریف کو ملنے نہ گئی بلکہ سٹیج پر ہی انتظار کیا، مریم نواز شرکا کے جذبات کو گرماتی رہیں، لال سوٹ پہنے مریم کے آنکھوں سے آنسو آئے تو ساتھ کھڑی مریم اورنگزیب بھی اپنے آنسو نہ روک سکیں،نواز شریف نے اپنے خطاب میں قوم کو جو بیانیہ دیا اس میں بھارت سے دوستی، انتقام کے راستے بند، ملکی ترقی، آئین پر عملداری، اور متحد ہو کر چلنے کا ہے، نواز شریف آج اپنی تقریر کے آخر میں مولانا بن کر کارکنان کو نصیحتیں بھی کرتے رہے کہ درود شریف پڑھیں، تہجد پڑھیں اور رب سے مانگیں، نواز شریف نے اپنے خطاب میں عمران خان کا نام نہیں لیا لیکن عمران خان پر تنقید کرتے رہے، نواز شریف نے ایک بار اپنے خطاب میں خؤاتین کے بارے پوچھا کہ جلسہ گاہ میں کہاں ہیں، جب نواز شریف کو بتایا گیاکہ خواتین کا پنڈال اس طرف ہیں تو نواز شریف نے کہا کہ ہمارے جلسے میں خواتین آرام سے جلسہ سن رہی ہیں،کوئی ڈھول،ناچ گانا نہیں ہو رہا،

    نواز شریف جب اقتدار سے نکالے گئے تھے تو اس وقت نواز شریف نے نعرہ لگایا تھا کہ مجھے کیوں نکالا؟ وہ نعرہ آج بھی نواز شریف لگاتے نظر آئے، نواز شریف نے شرکاء سے روٹی، پٹرول،ڈالر کی قیمت پوچھی اور اپنے دور کی قیمتیں بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے اس لئے نکالا گیا کہ میرے دور میں روٹی سستی تھی، پٹرول سستا تھا، بجلی سستی تھی، لوڈشیڈنگ نہیں تھی،نواز شریف عوامی ہمدردی ھاصل کرنے کے لئے بجلی کا بل بھی ساتھ لائے اور اپنے دور کے بلوں کے ساتھ موازنہ کیا ،نواز شریف نے اپنے دور کی کارکردگی بتائی موٹرویز گنوائیں، تو وہیں شہباز شریف دور کی صفائیاں پیش کرتے رہے کہ جب وہ وزیراعظم تھے قیمتیں اس سے پہلے کی بڑھنا شروع ہو گئی تھیں،

    نواز شریف نے گرفتاری کے دنوں میں ہونے والے واقعات کا بھی تذکرہ کیا ،اہلیہ کی موت کی خبر کیسے ملی، مریم نواز کو کیسے بتایا، جیل سے نواز شریف کی آنکھوں کے سامنے سے مریم نواز کو کیسے گرفتار کیا، سب بتایا اور ساتھ اللہ سے دعا مانگی کہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا،نواز شریف نے عمران خان کے دور حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کوئی منصوبہ، کوئی کارنامہ انکا ہے تو سامنے لاؤ، نواز شریف نےاپنے کارکنان کو یہ بھی نصیحت کی گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، نواز شریف نے آج جلسے کے شرکا سے عہد لیا کہ ملک کی تعمیر نو کریں گے اور پاکستان کو ایک بار پھر جنت بنائیں گے،

    نواز شریف نے اپنے خطاب میں الیکشن کا ذکر نہیں کیا نہ ہی مطالبہ کیا کہ پاکستان میں الیکشن کروائے جائیں، پاکستان میں نگران حکومت ہے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ جنوری کے آخر میں الیکشن کروائیں گے تا ہم ابھی تک واضح نہیں کہ الیکشن کب ہوں گے، نواز شریف اپنے 58 منٹ کے خطاب میں انتخابات کے حوالہ سے بالکل خاموش رہے،

    نواز شریف کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے مریم نواز نے لندن سے واپس آ‌کر ن لیگ کو متحرک کیا، اجلاس کئے اور ضلعی رہنماؤں کو پابند کیا گیاکہ وہ جلسے میں بندے لائیں گے، ایک فارم جاری کیا گیا جسمیں ہرگاڑی میں سوار افراد کی تعداد لکھنی تھی اور وہ تعداد مانیٹرنگ ٹیم نے چیک کی، ایک ایپ بھی ن لیگ نے بنائی تھی جس کے ذریعے ن لیگ یہ مانیٹر کرتی رہی کہ جلسہ گاہ میں‌جو لوگ آئے ان میں سے باہر کوئی نہ جائے،

    نواز شریف کے جلسے میں لاہوریوں نےکتنی شرکت کی؟ مینار پاکستان گراؤنڈ بھرا ہوا تھا تا ہم اس میں لاہوریوں کی تعدا د نہ ہونےکے برابر تھی، ن لیگ نے لاہور میں محنت کی، تاہم عوام کو نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکی، لاہوری گھروں میں رہے، سارا لاہور کھلا رہا، مارکیٹس بند نہیں ہوئیں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا،لاہور جسے ن لیگ کا گڑھ کہا جاتا تھا اس نے آج کے جلسے سے یہ ثابت کر دیا کہ گڑھ نہیں بلکہ گڑھا ثابت ہوا ہے، جلسہ گاہ میں بیرون لاہور سے آئے افراد تو موجود تھے لیکن لاہوریوں کی تعداد انتہائی کم تھی،اگر لاہوری جلسے میں جاتے تو پھر منظر ہی کچھ اور ہونا تھا تا ہم شہباز شریف دور حکومت کی مہنگائی ،بجلی کے اضافی بل، آٹے کی قیمت میں اضافہ، چینی کے بڑھتے نرخوں نے لاہوریوں کو گھروں پر ہی رہنے کو مجبور کیا.ڈیڑھ لاکھ شرکاء کی تعداد بتائی جا رہی ہے، جس طرح استقبال کی مہم چلائی گئی، وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا، ڈی سی گاڑیاں بک کروا کر دیتے رہے،ہر ضلعے سے باقاعدہ حاضری لگوائی ،ٹکٹ ہولڈر کو پابند کیا گیا کہ بندے نہ آئے تو ٹکٹ نہیں،ایسے میں ڈیڑھ لاکھ شرکاء کی تعداد ن لیگ کی ایک طرف سے کامیابی بھی ہے اور ناکامی بھی کیونکہ یہ وہ بندے تھے جو ازخود نہیں آئے بلکہ زبردستی کہہ کہہ کر لائے گئے،

    نواز شریف کا نیا بیانیہ؟ کیا قوم اس سے متاثر ہو پائے گی؟ کبھی بھی نہیں، نواز شریف نے جلسے میں کوئی نئی بات نہیں کی ،بیانیے میں انتقام نہ لینے کی بات نئی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو گا کیونکہ ن لیگ جتنا انتقام لیتی ہے شاید اس سے زیادہ کوئی اور لیتا ہو، ماضی کھنگال کر دیکھ لیں، بینظیر کے بارے نواز شریف کیا کہتے تھے؟ خواتین کے بارے میں ن لیگی رہنما کیا کہتے رہے؟ کبھی ٹیکسی، تو کبھی ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا رہا،ایسے میں قوم کیسے یقین کرے کہ نواز شریف بدل گئے ہیں؟ نواز شریف متحد ہونے کی بات تو کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار تو ن لیگ بھی متحد نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی جو چند دن قبل لندن میں نواز شریف کو مل کر آئے وہ آج جلسے میں نظر نہ آئے، مفتاح اسماعیل پارٹی چھوڑ چکے، نواز شریف مریم کو آگے لانا چاہتے ہیں لیکن ن لیگ کے متعدد رہنما مریم نواز کو پسند نہیں کرتے ، جب ن لیگ گھر میں متحد نہیں تو وہ سیاسی جماعتوں کو، کیسے متحد کرے گی؟

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

    نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • آل راونڈر عماد وسیم نے بابر اعظم پر شدید تنقید کا اظہار کیا ہے

    آل راونڈر عماد وسیم نے بابر اعظم پر شدید تنقید کا اظہار کیا ہے

    آل راؤنڈر عماد وسیم نے ایم چناسوامی اسٹیڈیم، بنگلورو میں جمعہ کو آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 میں آسٹریلیا کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کے بعد بابر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔بابر کی قیادت والی ٹیم آسٹریلیا کی طرف سے دیے گئے 368 رنز کے ہدف کے تعاقب کی کوشش میں 62 رنز سے پیچھے رہ گئی، پاکستانی کپتان کی انفرادی کارکردگی 14 گیندوں میں صرف 18 رنز بنا کر آؤٹ ہونے کے بعد جانچ پڑتال کے تحت تھی۔ ایک مقامی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے، وسیم نے نشاندہی کی کہ اعظم نے 2019 سے کسی بڑی ٹیم کے خلاف پاکستان کے لیے فتح حاصل نہیں کی۔ عماد وسیم نے کہا کہ عالمی سطح پر دباؤ ہوتا ہے لیکن یہ وہ جگہ بھی ہے جہاں آپ اپنی قابلیت کا ثبوت دیتے ہیں۔ میرے خیال میں بابر نے آخری بار کسی بڑے میچ میں 2019 ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف پرفارم کیا تھا، جب اس نے سنچری بنائی تھی۔ لیکن اس کے بعد وہ ابھی تک پاکستان کے لیے کوئی بڑا میچ نہیں جیت پائے ہیں۔ یہ تنقید نہیں بلکہ حقیقت ہے،وسیم نے مزید روشنی ڈالی کہ، ون ڈے میں نمبر ون بلے باز کے طور پر اعظم کی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے، ٹیم کو فتوحات تک پہنچانا ان پر موروثی ذمہ داری ہے۔ ون ڈے میں نمبر ون بلے باز ہونے کے ناطے، میچ جیتنا بابر کی ذمہ داری ہے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو سوالات اٹھیں گے۔ اسے ٹیم کی ضرورت کے مطابق بیٹنگ کرنی ہوگی۔ اس کے پاس باؤلرز پر غلبہ حاصل کرنے کی صلاحیت ہے اور یہ ورلڈ کپ ایسا کرنے کی جگہ ہے۔

  • میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    سوچتی ہوں کہ ملے حلم میں گوندھا ہوا شخص
    علم اوتار سا اور لہجہ پیمبر جیسا

    شہلا شہناز

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی ایک خوب صورت پاکستانی شاعرہ اور ماہر تعلیم پروفیسر شہلا شہناز صاحبہ کا تعلق فیصل آباد پنجاب سے ہے وہ 7 اپریل 1976 میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد یونس اور والدہ محترمہ کا نام صفیہ ہے۔ وہ 4 بہن بھائی ہیں جن میں شہلا سب سے بڑی ہیں۔ انہوں نے تمام تر تعلیم اپنے پیدائشی شہر فیصل آباد میں حاصل کی جبکہ ماسٹرز پنجاب یو نیورسٹی لاہور سے کیا۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے اس کے علاوہ اردو اور انگریزی زبان پر بھی عبور رکھتی ہیں ۔ انہوں نے اسکول کے زمانے سے ہی شاعری شروع کی ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ محکمہ تعلیم پنجاب میں لیکچرر مقرر ہو گئیں اوراس وقت اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں ۔ 7 اگست 2014 میں ان کی شادی ہوئی اور ماشاء اللہ وہ ایک ہونہار بیٹے کی ماں ہیں۔ شہلا شہناز صاحبہ بہت خوب صورت شاعری کرتی ہیں لیکن درس و تدریس اور گھریلو مصروفیات کے باعث مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں اور اب تک انہوں نے اپنی شاعری کی کوئی کتاب بھی شائع نہیں کی ہے ۔ علامہ اقبال، میر تقی میر، پروین شاکر ، یاسمین حمید اور مجید امجد ان کے پسندیدہ شعراء میں شامل ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ تری قربت کہ سطر ِ خوشنما لکھنے لگی
    تُو پلٹ آیا تو میں کتنا نیا لکھنے لگی

    ایک ٹھوکر تک ہے یہ انبار ِخشت و سنگ سب
    راہ کی دیوار کو میں راستہ لکھنے لگی

    تم مجھے اس آنکھ کی پُتلی میں دیکھو گے تمام
    یہ جو میں حرف ِ ہنر کو آٸنہ لکھنے لگی

    دن کو خط بھیجا تو اُس میں چھاٶں تہہ کر کے رکھی
    رات کو مکتوب لکھا تو دیا لکھنے لگی

    کور آنکھوں کے لیے میں نے تراشے تھے نجوم
    گونگے ہونٹوں کے لٸے حرف ِ صدا لکھنے لگی

    لہر کو دریا کی مٹھی میں پڑا رہنے دیا
    اور صحراٶں کی قسمت میں گھٹا لکھنے لگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تھا کوئی شخص مرے دل میں سمندر جیسا
    اب تو سناٹا ہے ہر سو میرے اندر جیسا

    ہجر لذت سے تہی وصل بھی پھیکا پھیکا
    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    شہلا شہناز

  • نرملا دیش پانڈے؛  عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کی چمپئین

    نرملا دیش پانڈے؛ عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کی چمپئین

    پیدائش:19 اکتوبر 1929ء
    ناگپور
    وفات:01 مئی 2008ء
    نئی دہلی
    رہائش:ناگپور
    شہریت:بھارت
    برطانوی ہند
    مادر علمی:ساورتی بائی پھالے پونہ یونیورسٹی
    اعزازات:
    ستارۂ امتیاز
    پدم وبھوشن

    تحریک آزادی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نرملا دیش پانڈے بہت کم عمری میں جنگ آزادی کی تحریک سے جڑ گئی تھیں اور تیئس برس کی عمر ميں جنگ آزادی کے عظیم مجاہد ونوبھا بھاوے کی ’ بھودان تحریک‘ (رضاکارانہ طور زمین عطیہ کرنے کی تحریک) سے منسلک ہوئی ہيں اور ملک کے مختلف حصوں میں چالیس ہزار کلومیٹر کا مارچ کیا۔
    عدم تشدد کا فروغ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پانڈے نے تاعمر امن، عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کو فروغ دیا، پورے جنوبی ایشیاء میں اس کی تشہیر کی اور جنوب ایشیائی ممالک کے درمیان باہمی دوستی کو قائم کرنے کے لیے کام کیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان باہمی رشتوں میں تلخی کو کم کرنے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ غیر شادی شدہ رہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    کئی کتابوں کی مصنفہ نرملا دیش پانڈے نے ناول، ڈرامے اور سفر نامے بھی لکھے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    انہيں تین یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی۔ نرملا کو پہلے 1997ء اور پھر 2004ء میں دوسری مرتبہ راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا اور اعلٰی شہری اعزاز ’پدم وبھوشن‘ اور راجیو گاندھی سدبھاؤنا ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ یکم مئی 2008 کو 79 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ پاکستانی حکومت نے بھی ان کو اعلیٰ شہری اعزاز نشان امتیاز سے نوازا۔