Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معروف شاعر ظفر اقبال کا جنم دن

    معروف شاعر ظفر اقبال کا جنم دن

    یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
    کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

    ظفر اقبال

    27 ستمبر 1933: تاریخ پیدائش

    اردو کے ممتاز شاعر ،ادیب و کالم نگار ظفر اقبال 27 ستمبر 1933 میں بہاول نگر کے ایک نواحی گائوں میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بہاول نگر سے میٹرک اوکاڑہ سے ، سیکنڈ ایئر گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایل ایل بی لاء کالج اور پنجاب یونیورسٹ سے کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے اوکاڑہ میں وکالت کی پریکٹس اور صحافت شروع کر دی وہ ایک بار اوکاڑہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور دو بار اوکاڑہ پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے ۔ ظفر اقبال کا پہلا شعری مجموعہ کلام ’’آب رواں‘‘ 1962ء میں شائع ہوا جس کے شائع ہوتے ہی ظفر اقبال اردو کے صف اول کے شعرأ میں شامل ہو گئے ۔ جس کے بعد ان کے دیگر مجموعے گلافتاب، رطب و یابس، عہد زیاں،غبار آلود سمتوں کا سراغ، سر عام ، عیب و ہنر، ہے ہنومان، اطراف اور تفاوت کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی شاعری کی کلیات ’’اب تک‘‘ کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے،ان کے کالموں کا مجموعہ ’’دال دلیہ‘‘ کے نام سے شائع ہواہے۔ ظفر اقبال اردو سائنس بورڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ہے ۔ معروف کالم نگار و اینکر پرسن آفتاب اقبال ان کے فرزند اور عائشہ نور ان کی پوتی ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا
    کہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا

    چمک اٹھے ہیں جو دل کے کلس یہاں سے ابھی
    گزر ہوا ہے خیالوں کی دیو داسی کا

    گزر نہ جا یوں ہی رخ پھیر کر سلام تو لے
    ہمیں تو دیر سے دعوی ہے روشناسی کا

    خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا
    کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا

    گرے پڑے ہوئے پتوں میں شہر ڈھونڈتا ہے
    عجیب طور ہے اس جنگلوں کے باسی کا
    ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔. . . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غزل
    کچھ نہیں سمجھا ہوں اتنا مختصر پیغام تھا
    کیا ہوا تھی جس ہوا کے ہاتھ پر پیغام تھا

    اس کو آنا تھا کہ وہ مجھ کو بلاتا تھا کہیں
    رات بھر بارش تھی اس کا رات بھر پیغام تھا

    لینے والا ہی کوئی باقی نہیں تھا شہر میں
    ورنہ تو اس شام کوئی در بدر پیغام تھا

    منتظر تھی جیسے خود ہی تنکا تنکا آرزو
    خار و خس کے واسطے گویا شرر پیغام تھا

    کیا مسافر تھے کہ تھے رنج سفر سے بے نیاز
    آنے جانے کے لیے اک رہگزر پیغام تھا

    کوئی کاغذ ایک میلے سے لفافے میں تھا بند
    کھول کر دیکھا تو اس میں سر بہ سر پیغام تھا

    ہر قدم پر راستوں کے رنگ تھے بکھرے ہوئے
    چلنے والوں کے لیے اپنا سفر پیغام تھا

    کچھ صفت اس میں پرندوں اور پتوں کی بھی تھی
    کتنی شادابی تھی اور کیسا شجر پیغام تھا

    اور تو لایا نہ تھا پیغام ساتھ اپنے ظفرؔ
    جو بھی تھا اس کا یہی عیب و ہنر پیغام تھا

  • کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیاء کہتے ہیں

    اہم راہروئے دشت وفا روز اول سے
    اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے

    نوابزادہ نصر اللہ خان

    شاعر۔ سیاست دان۔ دانشور

    یوم پیدائش 13 نومبر 1916 خان گڑھ
    یوم وفات 27 ستمبر 2003 اسلام آباد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوابزادہ نصراللہ خان 13 نومبر 1916کو مظفر گڑھ پنجاب کے ایک نواحی گاؤں خان گڑھ میں ایک پٹھان نورزئی قبیلے کےط سردار نواب سیف اللہ خان کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ 1933ء میں انہوں نے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز مجلس احرار سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور 1950ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں انہوں نے حسین شہید سہروردی کے ساتھ عوامی لیگ کی بنیاد رکھی اور پھرپاکستان جمہوری پارٹی کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بھی قائم کی۔ 1964ء میں انہوں نے کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا اور اس برس منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اتحادوں کے قیام میں فعال حصہ لیا جن میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ، جمہوری مجلس عمل، یو ڈی ایف، پاکستان قومی اتحاد، ایم آر ڈی، آل پارٹیز کانفرنس، این ڈی اے اور اے آر ڈی کے نام سرفہرست تھے۔ انہیں ’’بابائے جمہوریت‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں کشمیر کمیٹی کے چیئر مین کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ وہ شائستہ گفتگو اور نرم لہجے کے مالک تھے ۔ انہوں نے اردو میں شاعری بھی کی ” ناصر” تخلص استعمال کرتے تھے ۔ 27 ستمبر 2003 میں اسلام آباد واقع اپنی رہائش گاہ میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے ۔ انہیں اپنے آبائی گاؤں خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ان کے فرزند نوابزادہ افتخار احمد خان 2018 کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

    غزل

    نوابزادہ نصر اللہ خان ناصر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کتنے بے درد ہیں صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں

    جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں
    میری مجبوری کو تسلیم و رضا کہتے ہیں

    غم نہیں گر لبِ اظہار پر پابندی ہے
    خامشی کو بھی تو اِک طرزِ نوا کہتے ہیں

    کُشتگانِ ستم و جور کو بھی دیکھ تو لیں
    اہلِ دانش جو جفاؤں کو وفا کہتے ہیں

    کل بھی حق بات جو کہنی تھی سرِ دار کہی
    آج بھی پیشِ بتاں نامِ خدا کہتے ہیں

    یوں تو محفل سے تری اُٹھ گئے سب دل والے
    ایک دیوانہ تھا وہ بھی نہ رہا کہتے ہیں

    یہ مسیحائی بھی کیا خوب مسیحائی ہے
    چارہ گر موت کو تکمیلِ شِفا کہتے ہیں

    بزمِ زنداں میں ہوا شورِ سلاسل برپا
    دہر والے اسے پائل کی صدا کہتے ہیں

    آندھیاں میرے نشیمن کو اڑانے اٹھیں
    میرے گھر آئے گا طوفانِ بلا کہتے ہیں

    اُن کے ہاتھوں پہ اگر خون کے چھینٹے دیکھیں
    مصلحت کیش اسے رنگِ حنا کہتے ہیں

    میری فریاد کو اِس عہد ہوس میں ناصر
    ایک مجذوب کی بے وقت صدا کہتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب شور سلاسل میں سرور ازلی ہے
    پھر پیش نظر سنت سجاد ولی ہے

    کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
    اور کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے

    دو حق و صداقت کی شہادت سر مقتل
    اٹھو کہ یہ وقت کا فرمان چلی ہے

    غارت گر یہ اہل ستم بھی کوئی دیکھے
    گلشن میں کوئی پھول نہ غنچہ نہ کلی ہے

    ہم راہروئے دشت وفا روز اول سے
    اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اقوام متحدہ کی 78ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس، حاصل کیا ؟

    اقوام متحدہ کی 78ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس، حاصل کیا ؟

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اکثر بحث کے لیے ایک پلیٹ فارم کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس اصطلاح سے بہت دور ہے۔ بحث و مباحثے کے بجائے، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی خصوصیت احتیاط سے تیار کی گئی تقاریر سے ہوتی ہے، جو ہر رکن ریاست کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل مسائل کو حل کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ جبکہ ان تقاریر کی وجہ سے دوسری قوموں کی طرف سے ردعمل بھی آ سکتا ہے،

    2023 میں،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا تھیم "اعتماد کی تعمیر نو اور عالمی یکجہتی کی بحالی،2030 کے ایجنڈے پر عمل کو تیز کرنا اور اس کے پائیدار ترقی کے اہداف سب کے لیے امن، خوشحالی، ترقی اور پائیداری” تھا۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے حوالے سے دو الگ الگ نقطہ نظر ہیں، ایک جو اسے رکن ممالک کے لیے اپنے مسائل کو سامنے لانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے، اور دوسرا جو اسے سیاسی تھیٹر کے لیے ایک اسٹیج کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں تقریریں اکثر گھریلو مسائل کے لیے کی جاتی ہیں۔

    مؤخر الذکر نقطہ نظر 23 ستمبر 2023 کو صبح 11:42 بجے، ہائی کورٹ کے وکیل منیب قادر کی ایک ٹویٹ میں نظر آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ "اسرائیل ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور وہ 100٪ درست ہیں۔ ایران نے فلسطین میں اسرائیل کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی اور وہ 100% درست ہیں۔ پاکستان بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور وہ 100 فیصد درست ہیں۔ بھارت نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی اور وہ 100 فیصد درست ہیں۔ تاہم، یہ سب اپنے ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جائزوں میں 100% غلط ہیں۔ مختصراً، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی محض ایک سیاسی پوائنٹ اسکورنگ فورم ہے جہاں انسانی حقوق کو ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ان کے اپنے متعلقہ ممالک،علاقوں میں جس پر وہ کنٹرول کرتے ہیں اسے برقرار رکھنے کے لیے مثالی نہیں سمجھا جاتا۔

    2022 میں، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کی بحالی اور ان کے جاری اثرات کو کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کی مدد کرنے کا عہد کیا تھا۔ بدقسمتی سے، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی جانب سے ایک قرارداد کی منظوری اور پاکستان کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے عطیہ دینے والے ممالک اور اداروں سے وسیع تعاون کے مطالبے کے باوجود، سیلاب کے اثرات آج تک برقرار ہیں۔

    اگرچہ اقوام متحدہ جرنل اسمبلی اجلاس کے دوران عملے کی نچلی سطح پر ضمنی ملاقاتیں اور بات چیت ہوتی ہے، لیکن سربراہان مملکت کے درمیان زیادہ توجہ مرکوز کرنے اور بامعنی بات چیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی شاندار تقاریر اور سیاسی انداز سے آگے بڑھ کر ایسے ٹھوس اقدامات کی طرف بڑھے جو 2023 کے لیے اس کے تھیم میں بیان کیے گئے اہم عالمی مسائل کو حل کر سکیں۔ صرف حقیقی تعاون کے ذریعے ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی امن، خوشحالی، ترقی کو فروغ دینے کے اپنے مشن کو پورا کر سکتی ہے

  • سیاسی جماعتیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے کیوں ڈرتی ہیں؟ تجزیہ شہزاد  قریشی

    سیاسی جماعتیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے کیوں ڈرتی ہیں؟ تجزیہ شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ ہائوس کو ہی جمہوریت کی فتح قرار دیتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی طرف سے قومی انتخابات آئین کے مطابق کروانے کامطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ حیرت ہے ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب جہاں بلدیاتی انتخابات کی صدا کوئی بھی سیاسی جماعت بلند نہیں کرتی۔ بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے آخر جمہوریت کی دعویدار آئین کی دعویدار جماعتیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے کیوں راہ فرار ہیں؟ کیا ملک کی سیاسی جماعتیں قوم کو بتا سکتی ہیں کہ آخر پنجاب کو بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔ بلاشبہ ملک میں مہنگائی ہے عام آدمی کا گزارا مشکل سے ہورہا ہے جبکہ دوسری طرف لاہور‘ راولپنڈی‘ اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹلز‘ بیوروکریسی‘ اشرافیہ‘ صنعتکار‘ تاجر ‘ سرمایہ دار‘ شام کا ڈنر ان مقامات پر کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ بلا شبہ پٹرول مہنگا ہے مگر سڑکوں پر قیمتی گاڑیوں سے لیکر چھوٹی گاڑیاں دوڑتی نظر آتی ہیں۔ ملک کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں شاپنگ پلازوں میں عوام کا رش نظر آتا ہے۔ آخر سوشل میڈیا‘ الیکٹرانک میڈیا‘ پرنٹ میڈیا‘ سیاسی بونے‘ اس وطن عزیز کو عالمی سطح پر غربت غربت کرکے اس ملک سے کون سے بدلہ لے رہے ہیں۔

    الیکٹرانک میڈیا اور دیگر میڈیا پاکستان کا مثبت چہرہ کیوں نہیں دکھاتا؟ غربت کے مارے لوگوں کو ضرور دکھایئے مگر خوبصورت شاپنگ پلازوں ‘ بڑے بڑے ہوٹلز‘ فوڈ اسٹریٹ‘ بڑی بڑی سڑکیں‘ خوبصورت مقامات کو بھی دکھایا جائے۔ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے گلیشیئر‘ پہاڑ‘ دریار‘ سمندر‘ ریگستان‘ گلگت کا سرد ریگستان باعث کشش ہے۔ پاکستان کی ثقافت تاریخ‘ ہنرمندی‘ خوبصورت مذہبی ہم آہنگی اور جدید پاکستان کو اجاگر کیا جائے۔ پاکستان دنیا کے چند ممالک میں ہے جہاں صحرا‘ پہاڑ‘ ریگستان‘ میدان‘ نخلستان اور چٹیل میدان موجود ہیں۔ پاکستان سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے اپنی بندرگاہیں موجود ہیں لاکھوں ایکڑ رقبے موجود ہیں۔ پاکستان کے کھانے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ پاکستان کے پھلوں کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ ملک کی کپاس بہترین کپاس ہے۔

    پاکستان کی کاٹن انڈسٹری دنیا کو لیڈ کرسکتی ہے۔ عالمی دنیا کو پاکستان کا مثبت چہرہ دکھانے کی ضرورت ہے سفارتخانے‘ بیوروکریٹ اور دیگر ادارے اگر مثبت کردار ادا کریں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نوجوانوں کی بڑی تعاد پڑھی لکھی ہے ان نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا ان پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ملک کے نوجوانوں کو صنعتی شعبے میں استعمال کرکے انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو گمراہ نہ کریں اپنے اقتدار اور اختیارات حاصل کرنے کے لئے خدارا ابھی بھی وقت ہے۔

  • ایلس فیض کا  مختصر  تعارف

    ایلس فیض کا مختصر تعارف

    ایلس فیض کا مختصر تعارف

    تحقیق و تحریر: زاہد حسین

    شاعرہ، مصنفہ، سماجی کارکن اور صحافی
    ادبی زبان: انگریزی
    پیدائش: 22 ستمبر 1914
    مقامِ پیدائش: لندن (برطانیہ)
    پیدائشی نام: ایلس جارج
    پیدائشی مذہب: مسیحی
    شادی کے وقت قبول اسلام
    اسلامی نام: کلثوم
    والد: کتب فروش
    بہن: کرسٹوبل
    بہنوئی: محمد دین تاثیر
    کرسٹوبل کا اسلامی نام: بلقیس
    شریک حیات: فیض احمد فیض
    بیٹیاں: سلیمہ ہاشمی، منیزہ ہاشمی
    فیض احمد فیض سے شادی: 28 اکتوبر 1941 شملہ
    عمومی پہچان کا نام: ایلس فیض
    مدیر (بچوں اور خواتین کے صفحات): روزنامہ پاکستان ٹائمز لاہور
    انسانی حقوق اور ذہنی مریض بچوں کیلئے خدمات
    خودنوشت سوانح حیات: Over my shoulders
    فیض احمد فیض کے نام خطوط کا مجموعہ: Dear Heart: To Faiz in Prison
    وفات: 12 مارچ 2003 لاہور
    تدفین : ماڈل ٹاؤن قبرستان لاہور

    ایلس فیض کی اپنے شریکِ حیات کے لیے ایک نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترے جانے کے بعد گیت گاؤں گی تیرے
    جب ہزار قدم کا ہو گا ہر اِک نقشِ پا
    جب لا انتہا دکھوں کا فسانہ
    کھلتے گلابوں کی خوشبو سے مہکا
    ستائش کے لفظوں میں بھیگا ہوا
    بھولی یادوں کو تازہ کر دے گا
    صدائیں دینے کا غم، موت کو چوم کر چل دیا
    پھر ترے گیت گاؤں گی میں
    نہ ہزار قدم نقش پا کے لیے
    نہ لا انتہا دکھوں کے لیے
    نہ کھلتے گلاب
    نہ تعریف کی بازگشت
    نہ صدائیں کوئی، نہ ہی اقرار ہے
    تمہارے لیے مرے گیت کا
    نہ آغاز ہے نہ انجام ہے
    اِک محبت فقط، جاوداں جاوداں

  • عمران خان میرے بغیر حکومت نہیں بناسکتے تھے. پرویزخٹک

    عمران خان میرے بغیر حکومت نہیں بناسکتے تھے. پرویزخٹک

    عمران خان کا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی حکومت نہیں بناسکتے تھے، پرویزخٹک

    سربراہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عمران خان کا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی حکومت نہیں بناسکتے تھے، پی ڈی ایم پر لوگ مزید اعتبار نہیں کرسکتے جبکہ سوات میں کارکنوں سے خطاب میں پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت میں آکر چیئرمین تحریک انصاف کا رویہ بدل گیا، سابق وزیر اعظم کی حکومت ترقی لاتی تو آج پنجاب کی یہ حالت نہ ہوتی۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹیاں عوام سے وعدے کرتی ہیں اور پھر ہمیشہ منشور پر سمجھوتا کرتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک پارٹی بنائی، پی ٹی آئی پارلیمنٹرین حقیقی جمہوری، عوامی پارٹی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    جبکہ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم نے آزمائی ہوئی پارٹی میں جانے کے بجائے اپنی پارٹی بنائی، جلد پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو صوبے کی بڑی پارٹی بنا کردم لیں گے، واضح رہے کہ پرویز خٹک کے کارکنوں سے خطاب سے قبل رہنما ن لیگ حبیب علی شاہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین میں شامل ہوئے۔

  • افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا غلط استعمال،پاکستان کی تشویش میں اضافہ

    افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا غلط استعمال،پاکستان کی تشویش میں اضافہ

    افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے کے غلط استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اسمگلر اس چینل کو استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ ڈیل کے بے جا غلط استعمال پر بجا طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور افغان حکومت کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، توقع کی جاتی ہے کہ افغان حکومت اپنی روایتی تردید کے ساتھ جواب دے سکتی ہے، جیسا کہ پاکستان کی جانب سے شکایات درج کرنے کا رجحان رہا ہے۔

    غلط استعمال میں اس اضافے میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل میں سے ایک پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے اکتوبر 2022 میں کراچی بندرگاہوں اور پورٹ قاسم پر "ان ٹرانزٹ ٹو افغانستان” کے طور پر سامان کی مہریں لگانے کا فیصلہ تھا۔ حکومت پر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی نمائندگی کرنے والے متعدد پارلیمنٹیرینز کی جانب سے اس عمل کو معطل کرنے کے لیے دباؤ تھا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق، اس معطلی نے ایک خامی پیدا کر دی ہے جہاں افغانستان کے لیے تیار کردہ مصنوعات پر پاکستان واپس بھیجے جانے پر ٹیکس اور کسٹم فیس ادا نہیں کی جاتی۔ جیسا کہ 3 مئی 2023 کو CustomsNews.pk ڈیلی نے رپورٹ کیا، ایسے الزامات لگائے گئے ہیں کہ متعدد اراکین پارلیمنٹ اور بعض سیکورٹی اہلکار سمگلنگ میں ملوث ہیں، یا پھر ان کی سرپرستی کرتے ہیں. بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔ ان عناصر نے اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرنے والے قوانین اور پالیسیوں کے نفاذ میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی ہیں۔ محسن داوڑ جیسی شخصیات نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر چیک کی کھلی مخالفت کی ہے، جس کا فائدہ سمگلروں نے پاکستان میں غیر قانونی سامان لانے کے لیے کیا۔

    ان سمگل شدہ اشیا کے مقامی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ سامان کی نقل و حمل کے لیے اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے اسمگلر اکثر جعلی افغان دستاویزات استعمال کرتے ہیں، جس سے حکام کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گڈز ڈیکلریشنز (GDs) میں درج سامان میں سے صرف 20% کو کسٹمز کے ذریعے ٹرانزٹ کارگو کی اسکیننگ کے ذریعے مؤثر طریقے سے تصدیق کیا جا سکتا ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ذریعے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت اور اسلام آباد میں کمشنر آف ریفیوجیز کے دفتر سے افغان مہاجرین کو اجازت نامے کے اجراء نے بھی اسمگلنگ کے مسئلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ طاقت کے عہدوں پر افراد کی حمایت اور انسداد سمگلنگ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو رشوت کی پیشکش اس معاملے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ موجودہ قانونی نظام، اسمگلروں اور اس عمل میں معاونت کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے اپنے طویل اور پیچیدہ عمل کی وجہ سے ایسی سرگرمیوں کو روکنے میں موثر ثابت نہیں ہوا.

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درپیش چیلنجز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درپیش چیلنجز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس عمر بندیال کے بعد پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ تاہم، انہیں بہت سے اہم مسائل ورثے میں ملے ہیں جو فوری توجہ اور حل کے طالب ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جن اہم ترین خدشات کو دور کرنے کی ضرورت ہے ان میں سے ایک وہ تاثر ہے جو ان کے پیشرو کے دور میں پیدا ہوا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بنچ بنیادی طور پر ججوں کے نظریات لے کر تشکیل دیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں متوقع نتائج نکلتے ہیں، خاص طور پر سابق وزیر اعظم خان کے معاملات میں۔ اس طرز عمل نے سپریم کورٹ کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا، اور اس کے فیصلوں کو اکثر عوام کی طرف سے شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تاثر کو تبدیل کرنے کے لیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نہ صرف بینچ کی تشکیل کو متنوع بنانا چاہیے بلکہ مزید جامع نقطہ نظر کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ ایک مثالی مثال مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کے اختیارات کو روکنے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق ایک اور قانون سازی کا جائزہ لینے کے لیے فل کورٹ کے قیام کی بار بار درخواستیں ہیں۔ پچھلی انتظامیہ کے دوران ان درخواستوں کو مسلسل مسترد کیا گیا۔

    یہ مسئلہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجرز) ایکٹ 2023 سے براہ راست جڑا ہوا ہے، جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مفاد عامہ کے کسی بھی معاملے کو تین سینئر ججوں پر مشتمل بنچ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایک قابل ذکر اقدام میں، سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ نے 13 اپریل کو اس قانون کے نفاذ کو معطل کر دیا۔

    ایک اور اہم چیلنج جس کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سامنا ہے وہ ہے 56,000 سے زائد مقدمات کا، کافی پسماندہ افراد جو حل کے منتظر ہیں۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں، یہ مقدمات اکثر سابق وزیر اعظم خان کی طرف سے سیاسی معاملات مسلسل لانے کی وجہ سے رہ گئے اور ان کے فیصلے نہ ہو سکے۔ مسٹر سے خطاب کرنے کے لئے "آدھی رات کی عدالتوں” کے تصور کا تعارف۔ خان کی شکایات نے ایک مخصوص فرد کے ساتھ ترجیحی سلوک کا تاثر پیدا کیا۔ لارڈ چیف جسٹس ہیورٹ کے الفاظ میں، "انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے” (Rex v. Sussex Justices، [1924] 1 KB 256)۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مختلف شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بند
    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    یقینا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بینچ کی تشکیل میں اصلاحات، فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا، اور کیسز کے بھاری بھرکم بوجھ کو تیزی سے حل کرنا شامل ہیں۔ ان کو اپنی مدت کے دوران دیکھتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی سالمیت اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ان چیلنجوں کو کس حد تک مؤثر طریقے سے نمٹتے ہیں۔

  • سارہ تھامس ؛ ملیالم زبان کی مصنفہ

    سارہ تھامس ؛ ملیالم زبان کی مصنفہ

    سارہ تھامس ہندوستان کے کیرالہ سے تعلق رکھنے والی ملیالم زبان کی مصنفہ ہیں اور اس کے ناول نرمادی پڈاوا نے سال 1979 میں کیرالہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ جیتا تھا۔ وہ ملیالم ادب میں مجموعی شراکت کے لیے کیرالہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کی وصول کنندہ بھی ہیں۔ سارہ تھامس نے ملیالم میں نسائی ادب کے تصور کے ارتقاء سے بہت پہلے لکھنا شروع کر دیا تھا۔

    اس نے اپنا پہلا ناول Jivitamena Nadi 34 سال کی عمر میں شائع کیا۔ وہ 1971 میں ناول مریپاڈوکل کی اشاعت کے بعد ادبی میدان میں مشہور ہوئیں۔ اس ناول میں رومن کیتھولک یتیم خانے میں پرورش پانے والے ایک نوجوان کی زندگی بیان کی گئی ہے اور بعد میں اسے اپنے ہندو آبائی گھر میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اسے ہندو مذہبی عقائد کے مطابق ہونے کے لیے نہایت مائل کیا گیا ہے۔

    تنازعات سے بھری صورتحال میں اپنی شناخت قائم کرنے کی ان کی کوششوں کو ناول میں نمٹا گیا ہے۔
    بعد میں اسے پی کے ذریعہ منی مزہکم کے طور پر فلمایا گیا۔
    اے۔ بیکر، جس نے ملیالم میں بہترین فیچر فلم کے لیے نیشنل فلم ایوارڈ اور بہترین فلم کے لیے کیرالہ اسٹیٹ فلم ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈز جیتے ہیں۔ ان کے تین اور ناول بھی ہیں، استھامیم، پاویزہموتھو اور ارچنا، جنہیں بھی فلمایا گیا ہے۔
    اس کا سب سے مشہور کام نرمنی پوٹاوا ہے جس نے 1979 میں کیرالہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ جیتا تھا۔
    اس ناول میں ایک برہمن لڑکی کی تصویر کشی کی گئی تھی جس کی قسمت یہ تھی کہ وہ اپنے باپ کی پسند کے آدمی سے شادی کرنے پر راضی ہو جائے تاکہ اس کا پرامن انجام ہو۔

    مصنف نے دو کتابوں کو اس کی پسندیدہ قرار دیا ہے وہ ہیں دائیوماکل اور گرہنم۔
    کیرالہ کے دلت ادب میں ایک سنگ میل، دائیوامکل (خدا کے بچے) ایک دلت لڑکے کی کہانی، میڈیکل کے طالب علم کے ساتھ ساتھ بعد کی زندگی میں اس کی آزمائشوں اور مصیبتوں کو بیان کرتا ہے۔
    کنجیکنن، ناول کا مرکزی کردار، ایک ایسے فرد کی علامت ہے جو اکثر ذیلی انسانی حیثیت سے توڑنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کا بہت بڑا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایشیا کپ؛ فائنل میں بننے والے ریکارڈز کا احوال
    نواز شریف دشمنی کی سوچ اصل میں پاکستان اور عوام دشمنی کی سوچ ہے،مریم نواز
    نیا آپریٹنگ سسٹم کل سے آئی فون صارفین کیلئے دستیاب ہوگا
    اس ناول کا انگریزی میں ترجمہ Sosanna Kuruvilla نے کیا تھا۔
    گرہنم (چاند گرہن) وہ دردناک تجربات بیان کرتا ہے جن سے لبنان میں ایک کیرالی لڑکا اور اس کی خاتون محبت، ایک جرمن، کو گزرنا پڑا۔

  • اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    15 ستمبر 1890. یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ کا خطاب حاصل کرنے والی دنیا کی مشہور ترین ناول نگار اگاتھا کرسٹی کا پورا نام اگاتھا میری کلیرسا کرسٹی تھا اور وہ 15 ستمبر 1890 کو برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ایک کثیر التصانیف ادیبہ تھیں اور انھوں نے 87 ناول تحریر کیے جن کا ترجمہ دنیا کی 103 زبانوں میں ہوا اور جن کی 30 کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔
    سنہ 1914 میں ان کی پہلی شادی آرچی بالڈ پیسٹی سے ہوئی مگر 1928 میں ان کی علیحدگی ہو گئی۔ پھر سنہ 1930 میں اُن کی دوسری شادی میکس میلووان سے ہوئی جو آثار قدیمہ کے شعبے سے منسلک تھے اور انھیں مشرق وسطیٰ کی قدیم تاریخ کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔
    میکس میلووان کا اولین کام میسوپوٹیمیا کی تہذیب کے دارالحکومت ’اُر‘ کو بازیافت کرنا تھا۔ وہیں ان کی ملاقات اگاتھا کرسٹی سے ہوئی تھی جن کے ساتھ بہت جلد وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ میکس میلووان کی تحقیق اور تحریر کا کام جاری رہا اور انھوں نے مشرق وسطیٰ کی بہت سارے قدیم مقامات پر تحقیقی کام کیا جن میں عراق اور شام کے بہت سے تہذیبی مراکز شامل تھے۔
    وہ عراق میں برٹش سکول آف آرکیالوجی کے ڈائریکٹر بھی رہے اور سنہ 1956 میں ان کی پہلی تصنیف ’25 ایئرز آف میسوپوٹیمین ڈسکوری’ منظر عام پر آئی۔
    آثار قدیمہ سے دلچسپی سنہ 1960 میں انھیں پاکستان کھینچ لائی۔ یہ دورہ میکس میلووان کا تھا اور جوڑے نے اس دوران کراچی، موئن جو دڑو، لاہور اور کئی دوسرے شہروں کا دورہ کیا۔ مگر اخبارات نے زیادہ اہمیت اگاتھا کرسٹی کو دی جو اس 15 روزہ دورے میں اُن کے ساتھ ساتھ رہیں۔
    اس بات کا اندازہ اس فیچر سے ہوتا ہے جو چھ مارچ 1960 کو ’السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان‘ میں شائع ہوا۔
    اگاتھا کرسٹی نے اس جریدے کے مدیر کو بتایا کہ وہ اور ان شوہر بہت عرصے سے اس خطے کی سیاحت کرنے کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے کہا: ’میں ابھی پندرہ روز تک انڈیا کا دورہ بھی کر کے آئی ہوں مگر میں نے وہ دورہ مسز میلووان کے نام سے کیا اور وہاں کسی کو میری شناخت معلوم نہ ہو سکی۔‘
    شاید یہ اس پاکستانی صحافی کی ذہانت اور حاضر دماغی کی داد دے رہی تھیں جنھوں نے مسز میلووان کا راز بھانپ لیا تھا۔
    السٹریٹڈ ویکلی میں شائع ہونے والے انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے بتایا کہ ان کے شوہر دس سال سے عراق میں میسوپوٹیمیا کی تہذیب پر کام کر رہے تھے اور اب وہ اس موضوع پر اپنی کتاب مکمل کرنے والے ہیں جس کے لیے انڈیا اور پاکستان کے قدیم مقامات اور یہاں سے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ کا جائزہ لینا بہت ضروری تھا۔

    السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان کے مدیر نے اگاتھا کرسٹی سے پوچھا کہ وہ ناول لکھنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہیں۔ اگاتھا کرسٹی نے کہا کہ وہ پہلے کہانی کا اختتام سوچتی ہیں اور پھر ناول لکھنا شروع کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ناول لکھنے میں انھیں تقریباً تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔
    وہ اپنا ناول خود ٹائپ کرتی ہیں اور اس دوران کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اس ناول کو پڑھ سکے۔ ان کے مطابق تحریر کا سب سے مناسب وقت رات کا پچھلا پہر ہے۔ اس وقت میں تحریر پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن کا پسندیدہ ناول ’اینڈ دین دیئر ور نن‘ ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ناول اگاتھا کرسٹی کی سب سے مقبول کتاب ثابت ہوئی ہے اور اس کی دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
    اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار کون ہیں تو انھوں نے مائیکل گلبرٹ اور مارجوری ایلنگھم کے نام لیے جبکہ امریکی مصنّفین میں ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار الزبتھ ڈیلی اور ارل اسٹینلے گارڈنر تھے۔ انھوں نے کہا ’ان مصنفین کی کردار سازی لاجواب ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ برطانیہ کے مشہور سراغ رساں ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ سے ان کے تعلقات کیسے ہیں۔ اس پر جواب ملا کہ وہ صرف چند مرتبہ اس ادارے کے لوگوں سے ملی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کے لوگ ان کے ناولوں کو دلچسپ ضرور تصور کرتے ہیں مگر حقیقت سے دور۔۔
    انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے کچھ قتل ایسے بھی تھے جن کی پولیس رپورٹ میں نے بڑی دلچسپی سے پڑہی مگر میں نے انھیں کبھی اپنے ناول کے قالب میں نہیں ڈھالا۔
    اس انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے اپنے مشہور کردار ہرکیول پویئرو کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مصنف کو جاسوسی ناول کا طویل سلسلہ لکھنا ہو تو اسے کچھ ’سٹاک کریکٹر‘ تخلیق کرنے پڑتے ہیں۔
    ’ہرکیول پویئرو بھی میرا ایسا ہی ایک کردار ہے۔ یہ کردار میں نے پہلی جنگ عظیم میں بلجیم سے برطانیہ ہجرت کرنے والے ایک پولیس افسر کو سامنے رکھ کر تراشا تھا۔ وہ پولیس افسر تو کب کا وفات پا چکا مگر میرا کردار اب بھی زندہ ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر وہ پولیس افسر اس وقت زندہ ہوتا تو اس کی عمر 103 سال کے لگ بھگ ہوتی۔‘
    جب اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے پس منظر میں کوئی ناول تخلیق کرنا چاہیں گی تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک کے پس منظر میں ناول لکھنا بہت مشکل ہے جسے وہ بہت کم جانتی ہیں۔ ’یہ کام صحافی تو کر سکتے ہیں مگر کوئی تخلیقی ادیب نہیں۔‘
    کہا جاتا ہے کہ سنہ 1960 کے اس دورے کے بعد اگاتھا کرسٹی ایک مرتبہ پھر پاکستان سے گزریں۔ اس بات کے راوی سہیل اقبال ہیں۔
    انھوں نے اپنے ایک مضمون میں جو، ابن صفی میگزین میں شائع ہوا تھا، لکھا ہے کہ سنہ 1965 کے لگ بھگ اگاتھا کرسٹی نے کسی اور ملک جاتے ہوئے کراچی ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاﺅنج میں کچھ دیر قیام کیا تھا۔
    ان کے اس قیام کا کچھ لوگوں کو پہلے سے علم تھا جن میں ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر رضی اختر شوق اور روزنامہ حریت سے منسلک صحافی اے آر ممتاز شامل تھے اور وہ اگاتھا کرسٹی سے ملنے ایئر پورٹ پہنچ گئے۔
    انھوں نے دوران گفتگو پاکستانی جاسوسی ادب کا ذکر کیا تو اگاتھا کرسٹی مسکرائیں اور بولیں: ’مجھے اُردو نہیں آتی لیکن برصغیر کے جاسوسی ادب سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتی ہوں۔ اردو میں صرف ایک اوریجنل رائٹر ابن صفی ہیں اور سب اس کے نقال ہیں، کسی نے بھی اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ نہیں نکالی۔‘