Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مصنوعی سیاستدان اور قیادت کا بحران،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مصنوعی سیاستدان اور قیادت کا بحران،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاست اس وقت ایک عجیب دور سے گزر رہی ہے۔ بظاہر جمہوریت موجود ہے، پارلیمنٹ قائم ہے، سیاسی جماعتیں فعال ہیں اور ہر روز بیانات اور پریس کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن اگر اس ساری سیاسی سرگرمی کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہماری سیاست میں اصل قیادت اور فکری گہرائی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پارلیمنٹ کے ایوان میں حقیقی سیاستدانوں کی جگہ مصنوعی کردار ادا کرنے والے لوگ بڑھتے جا رہے ہیں۔

    آج اگر کوئی شخص پارلیمنٹ ہاؤس کی کارروائیوں کو غور سے دیکھے تو اسے اندازہ ہوگا کہ قومی مسائل پر سنجیدہ بحث کم اور سیاسی تماشہ زیادہ نظر آتا ہے۔ ایسے ایسے بیانات سننے کو ملتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک اس وقت جن سنگین مسائل کا شکار ہے، ان پر وہ توجہ دکھائی نہیں دیتی جس کی ایک ذمہ دار قیادت سے توقع کی جاتی ہے۔

    پاکستان اس وقت مہنگائی، بے روزگاری، توانائی بحران اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، صنعتیں توانائی کی قلت سے پریشان ہیں اور نوجوان طبقہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے۔ ایسے میں قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو مسائل کو سمجھتی ہو، ان کے حل کے لیے واضح حکمت عملی رکھتی ہو اور قوم کو اعتماد دے سکے۔

    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ میں ایسے افراد کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ چند ایک لوگ ضرور موجود ہیں جو سیاسی بصیرت رکھتے ہیں، جنہیں ملکی اور عالمی حالات کا ادراک ہے اور جو سنجیدہ انداز میں بات کرتے ہیں، مگر ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ باقی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل دکھائی دیتی ہے جن کے نزدیک سیاست ایک سنجیدہ قومی ذمہ داری کے بجائے محض ایک سیاسی مشغلہ بن چکی ہے۔

    یہ صورتحال صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے اندر بھی یہی مسئلہ موجود ہے۔ جماعتوں میں نظریاتی کارکن کم ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ایسے لوگ لے رہے ہیں جن کا سیاست سے تعلق زیادہ تر اقتدار کے حصول تک محدود ہے۔ سیاسی تربیت، مطالعہ اور فکری بحث کا جو کلچر کبھی سیاست کا حصہ ہوا کرتا تھا، وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

    ان حالات میں جب قیادت کے بحران کی بات ہوتی ہے تو اکثر لوگوں کی نظر ایک ہی نام پر جا کر ٹھہرتی ہے اور وہ نام ہے نواز شریف ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں طویل عرصہ گزارا ہے اور اقتدار و اپوزیشن دونوں کے تجربات سے گزرے ہیں۔ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط سیاسی لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ مخالفین ان پر تنقید بھی کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ بات اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار اور اثر و رسوخ ایک حقیقت ہے۔

    تاہم ایک صحت مند جمہوری نظام کا تقاضا یہ ہے کہ قیادت صرف چند افراد تک محدود نہ رہے بلکہ نئی قیادت سامنے آئے۔ نوجوان سیاستدان تیار ہوں، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات مضبوط ہوں اور ایسے لوگ آگے آئیں جو ملک کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی کر سکیں۔پاکستان کی غریب عوام اس وقت سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ وہ روزانہ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی سے لڑ رہی ہے۔ ان کے لیے سیاسی بیانات یا ٹی وی ٹاک شوز کی گرما گرمی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان کی زندگی میں بہتری آئے۔اگر پاکستان کی سیاست کو واقعی مضبوط بنانا ہے تو مصنوعی سیاستدانوں کے اس ہجوم سے نکل کر حقیقی قیادت کو سامنے لانا ہوگا۔ سیاست کو دوبارہ سنجیدگی، نظریے اور قومی خدمت کے جذبے سے جوڑنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں اور تقریروں سے نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور مضبوط قیادت سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ آقاِ دو جہاں حضرت رسول اللہﷺ ہے؛

    "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد(وعورت) پر فرض ہے۔”
    (سنن ابن ماجہ)

    اسلام وہ دینِ برحق ہے جس نے عورت کو معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے تمام بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ عورت اور مرد معاشرے کے دو اہم ارکان ہیں جن کے بنا معاشرہ ارتقاء کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔ اسی لئیے اسلام نے عورت کے بنیادی حقوق کا خصوصی خیال رکھا ہے۔

    ہر قیمتی شے چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر چھپی ہوئی شے نایاب ہوتی ہے۔ پردہ اور حیا عورت کے زیور ہیں۔ پردہ عورت پہ ناصرف واجب ہے۔ بلکہ اخلاقی و روحانی و معاشرتی تقاضا بھی ہے ۔ یہ اس کے تقدس کی علامت ہے۔

    ہر سال 8 مارچ خواتین کے عالمی دن پر ان کے حقوق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔ میں اکثر کہتی ہوں کہ سب سے پہلے تو عورت کو خود اپنے مقام ،اپنے مرتبے کا شعور ہونا چاہئیے ۔آپ کسی سے اپنے حقوق کی بات تبی کر سکتے ہیں۔ جب آپ کو خود اپنے مقام کا علم ہو گا۔ خود تعلیم حاصل کریں۔ اور کسی مغربی گروہ کا شکار ہونے کی بجائے اپنے مذہب اسلام میں عورت کے حقوق کو جانیں۔

    مغرب جس کی ہمارے معاشرے کے نام نہاد لبرلز تقلید کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں ، میں عورتوں کے قانونی طور پہ برابری کے حقوق کے حصول کی پہلی آواز 1848ء میں اٹھائی گئی۔ جسے فیمی نزم کا نام دیا گیا۔ امریکہ جیسے آزاد خیال ملک میں عورت کو ووٹ ڈالنے تک کا حق حاصل نہ تھا۔ نہ وارثت میں کوئی حصہ۔ یعنی مغرب میں قانونی و معاشرتی طور پہ عورت کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اس تحریک میں ان حقوق کے حصول کے لئیے آواز اٹھائی گئی۔ جو کہ اسلام نے 1400 سال پہلے ہی عورت کو فراہم کر دیئے تھے۔ شاید مغرب والوں نے بھی اس تحریک کی شروعات سے پہلے اسلام میں عورت کے ان حقوق کا مطالعہ کیا ہو گا۔ عورت جسے قبل اسلام زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے اسے وارثت کا حق دیا، تعلیم کے حصول میں برابری کے حقوق عطا کئیے۔عبادت میں مساوی حقوق دئیے۔ حتی کہ نکاح میں اپنی مرضی کا حق دیا۔

    مغرب میں فیمی نزم تحریک ان کے معاشرے کی ضرورت تھی۔ مگر اسلام نے تو یہ ضرورت 1400 سال قبل ہی پوری کر دی۔ آج کل کا خود کو لبرلز کہنے والا سڑکوں پہ اوٹ پٹنگی حرکات کرنے والا مخصوص گروہ فیمی نزم تحریک کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط عزائم کو پروان چڑھانے کی کوشش میں ہے۔ دراصل یہ عورت کے اصل حقوق سے توجہ ہٹانے کا باعث ہے۔ عورت کے آج کل کے اصل حقوق تو یہ ہیں۔ کہ اسے تعلیم سے لے کر جاب تک برابری کے امواقع حاصل ہوں، وہ اگر باپردہ کسی جاب کی اہل ہے۔ تو پردے کو وجہ ِ رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ وہ اگر حالتِ سفر میں ہو۔ تو اسے احساس ِتحفظ رہے۔ اسے کسی فحش نظر یا جملے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور وہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

    اسلام سے بڑھ کر عورت کو مقام اور حقوق کسی اور نظام نے نہیں دیئے۔ ہمارے مذہب نے عورت کو جو مقام دیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی آئین یا قانون میں اور کہیں بھی نہیں۔ اسلام نے عورت کو عورت سے عظیم عورت بنایا ہے۔ اسلام نے بتایا کہ جنت ایک عورت یعنی ماں کے قدموں تلے ہے۔ اسلام نے ہمیں عورت کے مثالی کردار دیئے ہیں ۔ ایک شریک حیات کے روپ میں بی بی سیدہ خدیجؑہ ،ایک بیٹی کی روپ میں بنتؑ محمد ﷺ جناب بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ، ایک بہن کے روپ میں جناب بی بی سیدہ زینبؑ، اور ایک ماں کے روپ میں مادرؑ ِ حسنین کریمیںنؑ ہمارے لئیے موجبِ رہنمائی ہیں۔ عورت تو وہ ہے۔ جو نہتی بھی ہو تب بھی اپنی فکر و ہمت سےقصرِ یزید (لعین) کے در و دیوار ہلا دے ۔ عورت کو کمزور کوئی کیونکر کہے ۔ اگر وہ اپنا مقام خود جان لے۔ جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ عورت کا مقام یہ ہے۔ کہ قرآن کریم میں سورہ نساء موجود ہے۔

    عورت بہت عظیم جذبات کی مالک ہے۔وہ سفید رنگ ہے۔ جو ہر رنگ اپنے اندر سمو سکتی ہے۔اپنے عورت ہونے پہ فخر محسوس کریں۔مگر اپنے فرائض کو بھی ساتھ لے کے چلیں۔ فخر محسوس کریں۔ کہ آپ کینزِ زہرا ع اور کینزِ زینبؑ ہیں۔ آپ کے سامنے کوئی فحش گروہ نہیں بلکہ یہ عظیم ہستیاںؑ رہنمائی کے لئیے ہونے چاہئیں۔۔

    عورت کا دن تو ہر نیاء دن ہے۔ پھر صرف ایک دن ہی کیوں۔۔۔۔ میرا سلام ہے ۔ان تمام خواتین کو جو کھیتوں میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ محنت کرتی ہیں۔ اور ناصرف ان کا بازو بنتی ہیں۔ بلکہ ملکی معشیت کی مظبوطی میں بھی اپنا کردار اہم ادا کر رہی ہیں۔ ان تمام خواتین اساتذہ کو جو روز سینکڑوں اذہان کو شعور بخشنے کا سبب ہیں۔ ان تمام گھریلو خواتین کو جو گھر میں رہ کر گھر کو بخوبی چلا رہی ہیں۔ اور اپنے گھر کے ارکان کے لئیے باعث ِسکون ہیں۔ ان تمام ماؤں کو جو اپنے اولادوں کی بہترین تربیت کر رہی ہیں۔میرا سلام ہے۔ اسلام کی ہر باحیا و باپردہ بیٹی کو، جو اپنے مقام و تقدس سے آگاہ ہے۔

    آخر میں میرا خواتین کا عالمی دن میری رہنما ہستیوںؑ ، حضرت بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور سیدہ زینب الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے نام ہے۔ اللہ رحمن الرحیم سے دعا ہے۔ کہ وہ تمام بیٹیوں کو ہماری ان عظیم رہنماؤں سلام اللہ علیھا کی پیروی کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین

    میں بیٹی، میں ماں، بہن ، ہم سفر میں
    سبھی کا سکوں میں سدا چاہتی ہوں

    عطاۓ خدا ہیں مرے حوصلے بھی
    میں عنبرؔ ہمیشہ نبھا چاہتی ہوں

  • مشرق وسطیٰ جنگ، نئی مہنگائی کی لہر،عام آدمی ہی "پسے”گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرق وسطیٰ جنگ، نئی مہنگائی کی لہر،عام آدمی ہی "پسے”گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی گونج پوری دنیا کی معیشت میں سنائی دیتی ہے۔ یہ خطہ دنیا کے توانائی کے بڑے ذخائر کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی منڈیوں میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو توانائی کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام آدمی کے کندھوں پر ہی آ کر پڑتا ہے۔

    دنیا کے ترقی پذیر ممالک پہلے ہی مہنگائی، قرضوں اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، صنعت اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بالآخر ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں کمزور معیشتوں والے ممالک کے لیے عوام کو ریلیف دینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

    خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے وہ ممالک جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ بحران مزید سنگین ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلے ہی بجٹ خسارے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے یہ ممالک اگر مہنگی توانائی خریدنے پر مجبور ہوئے تو ان کی معیشتوں پر شدید دباؤ پڑے گا۔ اس کا براہِ راست اثر عوام کی زندگی پر پڑے گا جہاں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال طویل عرصے تک کشیدہ رہی تو دنیا ایک نئی مہنگائی کی لہر کا سامنا کر سکتی ہے۔ اس مہنگائی کی سب سے بڑی قیمت وہ عوام ادا کریں گے جو پہلے ہی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ جنگ چاہے کسی بھی خطے میں لڑی جائے، اس کے معاشی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

  • وزیراعظم کا قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    وزیراعظم کا قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے-

    وزیراعظم کے دفتر کی میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ورلڈ کپ کوالیفائر میں شرکت کرنے والی قومی ہاکی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے یہ اقدام نہ صرف ٹیم کی محنت اور کھیل کے لیے لگن کا اعتراف ہے بلکہ پاکستان میں ہاکی کے فروغ کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔

    قومی ہاکی ٹیم کی ورلڈ کپ کوالیفائرز میں شرکت نے شائقین کے درمیان جوش و خروش پیدا کر دیا ہے اور یہ انعام ان کی ثابت قدمی اور محنت کا واضح اعتر اف ہے۔

    6 مارچ کو اسماعلیہ، مصر میں ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائرز کے سنسنی خیز سیمی فائنل میں پاکستان نے جاپان کو 3-4 سے شکست دی،جس کے نتیجے میں نہ صرف ٹیم فائنل میں پہنچ گئی بلکہ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی بھی کر گئی میچ میں پاکستان نے شاندار واپسی کا مظاہرہ کیاپاکستان نے پہلے کوارٹر میں برتری حاصل کی، تاہم جاپان نے دوسرے کوارٹر میں اس کا مقابلہ کرتے ہوئے اسکور برابر کر دیا۔

    تیسرے کوارٹر میں جاپان نے دو گول کر کے 1-3 کی برتری حاصل کر لی، جس سے پاکستانی ٹیم پر شدید دباؤ پڑا، لیکن آخری کوارٹر میں گرین شرٹس نے زبرد ست مزاحمت دکھاتے ہوئے 3 گول کر کے میچ 3-4 سے جیت لیا،پاکستان کے لیے محمد عماد، ابو بکر محمود، سفیان خان اور افراز نے ایک ایک گول کیا۔ محمد عماد کو جاپان کے خلاف شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    میچ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے جارحانہ کھیل میں برتری حاصل کرتے ہوئے سرکل میں 28 حملے کیے جبکہ جاپان نے صرف 17، جس سے ٹیم کے جارحانہ رویے کی عکاسی ہوتی ہےاس فتح کے ساتھ پاکستان نہ صرف کوالیفائرز کے فائنل میں پہنچ گیا بلکہ ہاکی ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے کی بھی ضمانت حاصل کر لی۔

  • پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر:  میجر (ر) ہارون رشید

    پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    از میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان ایک بار پھر اُس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جسے عوام عام طور پر “پیٹرول بم” کہتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافے نے گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جو پہلے ہی مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
    ایسے وقت میں جب عوام کسی ریلیف کی توقع کر رہے تھے، اس فیصلے نے لاکھوں خاندانوں پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں روزانہ تیل کی کھپت تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار بیرل ہے، جو تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ لیٹر یومیہ بنتی ہے۔
    دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک کے پاس تقریباً 28 دن کا اسٹریٹیجک ذخیرہ موجود ہے، جو تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ 40 ہزار بیرل یعنی تقریباً 2 ارب 15 کروڑ لیٹر پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے۔
    جب اچانک 55 روپے فی لیٹر قیمت بڑھا دی جاتی ہے تو وہ ذخائر جو پہلے کم عالمی قیمتوں پر خریدے گئے تھے، فوری طور پر کاغذی طور پر بے پناہ قدر حاصل کر لیتے ہیں۔ سادہ حساب کے مطابق یہ پہلے سے موجود ذخیرے پر تقریباً 118 ارب روپے کی اضافی مالیت پیدا کر دیتا ہے۔

    عام شہری کے ذہن میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے: اس غیر متوقع فائدے کا اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟

    ایک ایسا نظام جو غیر منصفانہ دکھائی دیتا ہے،اصولی طور پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت، اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) اور نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فریم ورک کے تحت کیا جاتا ہے۔ سرکاری وضاحت عموماً عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالی دباؤ کے گرد گھومتی ہے۔
    تاہم عوامی تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ یہ نظام زیادہ تر آئل کمپنیوں، بڑے ڈسٹری بیوٹرز اور ان عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو قیمتوں میں اضافے سے پہلے ایندھن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب قیمتیں اچانک بڑھتی ہیں تو ان کے پاس موجود ذخیرہ راتوں رات قیمتی ہو جاتا ہے اور انہیں بغیر کسی اضافی معاشی سرگرمی کے بھاری منافع حاصل ہو جاتا ہے۔دوسری طرف عام شہری، جس کے پاس نہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی طاقت، صرف زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

    انسانی قیمت

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان کے نازک معاشی ڈھانچے میں پیٹرول اور ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ایک قیمت بڑھنے سے ایک سلسلہ وار ردِعمل پیدا ہوتا ہے:
    ٹرانسپورٹ کے کرائے فوراً بڑھ جاتے ہیں
    اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے
    جہاں فرنس آئل یا ڈیزل استعمال ہوتا ہے وہاں بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے
    کاروباروں کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے
    آخرکار مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہو جاتی ہے۔
    ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے گیس کے بل، بھاری ٹیکسوں اور جمود کا شکار اجرتوں سے نبرد آزما ہیں، اس کے اثرات انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ پاکستان کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور تنخواہ دار طبقہ ان جھٹکوں کو برداشت کرنے کی بہت کم صلاحیت رکھتا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریات زندگی بھی ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔

    ساختی مسئلہ
    پاکستان کی معیشت پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور بیرونی قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ مقامی صنعت کو پہلے ہی مہنگی توانائی، پالیسیوں کے عدم استحکام اور سستے قرضوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
    ایسے ماحول میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کاروبار کرنے کی لاگت کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ صنعت کی مسابقت کم ہو جاتی ہے، برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ معاشی ترقی کو فروغ دینے کے بجائے ایسی پالیسیاں ملک کو معاشی جمود کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

    انصاف کا سوال

    عام شہریوں کے لیے شاید سب سے تکلیف دہ سوال انصاف کا ہے۔
    جب عوام بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ اٹھا رہے ہوتے ہیں تو اسی وقت حکومت کے بہت سے عہدیداروں اور بیوروکریسی کے مختلف طبقات کو مفت یا بھاری سبسڈی والا پیٹرول، بجلی اور دیگر سہولیات بطور سرکاری مراعات ملتی رہتی ہیں۔
    یہ حکمرانی کے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے:
    کیا معاشی فیصلے کرنے والے خود ان فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہیں؟
    کسی بھی فعال جمہوریت میں معاشی مشکلات کا بوجھ پورے معاشرے کو، خاص طور پر اقتدار میں موجود افراد کو، مشترکہ طور پر برداشت کرنا چاہیے۔ جب پالیسی ساز خود اپنے فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں تو عوام کا اعتماد بتدریج ختم ہونے لگتا ہے۔
    قانونی اور حکمرانی کا پہلو
    پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے:
    قیمتوں میں اضافے کا اصل فارمولہ کیا ہے
    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار اور منافع کی شرح کیا ہے
    ہر لیٹر پیٹرول میں شامل ٹیکسوں کی مقدار کتنی ہے
    قومی اسٹریٹیجک ذخائر کو کس طرح منظم کیا جا رہا ہے
    پارلیمانی نگرانی اور آزادانہ آڈٹ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی وسائل بالواسطہ طور پر نجی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا رہے ہوں۔
    شفافیت کے بغیر ریگولیٹرز، آئل کمپنیوں اور بااثر حلقوں کے درمیان گٹھ جوڑ کے شبہات مزید مضبوط ہوتے جائیں گے۔

    آگے کا راستہ

    پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک ایسی پالیسیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا جو عدم مساوات کو بڑھائیں اور عوامی اعتماد کو کمزور کریں۔
    حقیقی اصلاحات میں شامل ہونا چاہیے:
    ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا شفاف نظام
    ریاستی ڈھانچے میں غیر ضروری مراعات کا خاتمہ
    کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف
    توانائی کے شعبے میں تنوع اور کارکردگی میں طویل مدتی سرمایہ کاری
    سب سے بڑھ کر حکمرانی کو قلیل مدتی مالیاتی چالوں کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دینی چاہیے۔
    پاکستان کے عوام نے دہائیوں کی معاشی مشکلات کے باوجود غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اس استقامت کو لامحدود برداشت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
    کوئی بھی قوم اس وقت ترقی نہیں کر سکتی جب اس کے شہری یہ محسوس کریں کہ نظام ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے خلاف کام کر رہا ہے۔

    اس لیے اصل سوال اب بھی یہی ہے
    کون آگے بڑھے گا، ان بگاڑوں کو درست کرے گا اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو انصاف، شفافیت اور قومی مفاد کی راہ پر ڈالے گا؟

  • ایران تاریخ کے سبق اور آج کا فیصلہ. تجزیہ : شہزاد قریشی

    ایران تاریخ کے سبق اور آج کا فیصلہ. تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات میں ایران ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔ جنگی دباؤ اور داخلی چیلنجز کے باعث ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کو اپنے مستقبل کے بارے میں ایک واضح اور حقیقت پسندانہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ عالمی طاقتیں بھی اپنے اپنے انداز میں اس صورتحال کو دیکھ رہی ہیں؛ امریکہ طاقت کے ذریعے اثر و رسوخ رکھتا ہے، اسرائیل جارحانہ حکمت عملی اپناتا ہے، جبکہ روس اور چین زیادہ تر موقع کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
    ایسے حالات میں ایران کو اپنی تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ایران پہلے ہی عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ لڑ چکا ہے جس میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا، مگر اس جنگ سے کوئی فیصلہ کن فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ طویل جنگیں اکثر قوموں کو کمزور ہی کرتی ہیں۔
    آج ایران کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے دور اندیشی سے پالیسی بنائے۔ داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور متوازن سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو ایران کو مزید بحرانوں سے بچا سکتا ہے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ طاقت صرف جنگ سے نہیں بلکہ دانشمندانہ فیصلوں سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کے آرمی چیف Syed Asim Munir کا Saudi Arabia کا دورہ عالمی اور علاقائی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ دورہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور دفاعی بنیادوں پر بھی قائم ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کو مسلم دنیا کی مضبوط اور منظم افواج میں شمار کیا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے خطے کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔

    حالیہ کشیدہ حالات میں آرمی چیف کا سعودی عرب کا دورہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پاکستان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ جنگی ماحول، فضائی راستوں کی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود اس سطح کا دورہ ایک مضبوط سفارتی اور عسکری پیغام سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پاکستان اپنے قریبی اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم اقتصادی شراکت دار ہے جبکہ دوسری طرف Iran پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ سرحدی، تجارتی اور سفارتی تعلقات بھی اہم ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے کے مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے نہ کہ جنگ کے ذریعے۔

    اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ مسلم دنیا میں ایک ممکنہ سفارتی پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان کئی علاقائی تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنے متوازن تعلقات اور سفارتی تجربے کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا براہِ راست اثر عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر پڑتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ذمہ دار ملک کا فعال اور متوازن کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر پاکستان دانشمندانہ سفارت کاری، متوازن پالیسی اور علاقائی رابطوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور مؤثر قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مستقبل کی عالمی سیاست میں ایک اہم اور باوقار مقام دلا سکتا ہے۔

  • سلواڈور آلندے کا زوال: پاکستان جیسے ممالک کے لیے تاریخ کی ایک تنبیہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    سلواڈور آلندے کا زوال: پاکستان جیسے ممالک کے لیے تاریخ کی ایک تنبیہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تحریر: میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی امور کے تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا میں عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں۔

    11 ستمبر 1973 کو چلی میں جمہوریت جیٹ طیاروں کی گرج اور ٹینکوں کی دھمک تلے دم توڑ گئی۔اس صبح چلی کے صدارتی محل لا مونیدا پیلس کو اسی ملک کی فضائیہ نے بمباری کا نشانہ بنایا۔ اس محل کے اندر ایک ایسا شخص موجود تھا جس نے عوام سے حاصل کردہ اپنے مینڈیٹ کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔
    صدر سلواڈور آلندے
    چند ہی گھنٹوں میں جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والا یہ رہنما ہلاک ہو گیا اور لاطینی امریکہ کی ایک نہایت سفاک فوجی آمریت نے جنم لیا۔
    پچاس برس سے زیادہ گزرنے کے باوجود آلندے کا زوال اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح بیرونی مداخلت، معاشی دباؤ اور خفیہ انٹیلی جنس کارروائیاں کسی ملک کے جمہوری تجربے کو تباہ کر سکتی
    ہیں۔

    پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اسباق آج بھی دردناک حد تک اہم ہیں۔
    طاقتور مفادات کو چیلنج کرنے والی حکومت

    جب سلواڈور آلندے 1970 میں صدر منتخب ہوئے تو یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ وہ مغربی نصف کرے میں جمہوری انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آنے والے پہلے مارکسی رہنما بنے۔ان کے پروگرام میں زرعی اصلاحات، سماجی فلاح اور اسٹریٹجک صنعتوں کو قومی تحویل میں لینا شامل تھا—خصوصاً چلی کے وسیع تانبے کے ذخائر۔
    لیکن ان پالیسیوں نے چلی کے اندر اور باہر موجود طاقتور مفادات کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اہم صنعتوں کو قومیانے سے غیر ملکی کمپنیوں کے مفادات متاثر ہوئے، جن میں امریکی ملٹی نیشنل کمپنی انٹرنیشنل ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف (ITT) بھی شامل تھی۔
    سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں واشنگٹن نے لاطینی امریکہ میں ایک سوشلسٹ حکومت کے ابھرنے کو شدید شک کی نگاہ سے دیکھا۔

    بعد میں منظرِ عام پر آنے والے خفیہ ریکارڈز سے تصدیق ہوئی کہ سی آئی اے کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ چلی کو سوویت بلاک کا ایک اور نظریاتی اتحادی بننے سے روکا جائے۔

    خفیہ کارروائیوں کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے۔ بعد کی تحقیقات کے مطابق تقریباً 80 لاکھ ڈالر اپوزیشن گروپوں، میڈیا مہمات، سیاسی اشتعال انگیزی اور معاشی بدحالی پیدا کرنے کے لیے خرچ کیے گئے تاکہ آلندے کی حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔

    حکمتِ عملی واضح تھی: ایسی شدید عدم استحکام پیدا کیا جائے کہ یا تو حکومت خود ہی گر جائے یا فوج مداخلت پر مجبور ہو جائے۔

    جس دن بم برسے

    1973 تک چلی شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہو چکا تھا۔ معاشی بحران، ہڑتالیں، احتجاج اور سیاسی محاذ آرائی ملک کو تباہی کے دہانے تک لے آئی تھیں۔
    11 ستمبر کی صبح چلی کی مسلح افواج نے، جنرل آگستو پینوشے کی قیادت میں، ایک مربوط بغاوت شروع کر دی۔
    سینتیاگو کے آسمان پر جنگی طیارے گرج رہے تھے۔ ٹینکوں نے صدارتی محل کو گھیر لیا۔
    لا مونیدا کے اندر آلندے نے بار بار دی جانے والی استعفیٰ کی پیشکشوں کو مسترد کر دیا۔
    اس کے بجائے انہوں نے قوم سے اپنا آخری ریڈیو خطاب کیا—ایک ایسا خطاب جس میں عزم، مزاحمت اور وقار جھلک رہا تھا۔
    انہوں نے اعلان کیا کہ تاریخ ان لوگوں کا فیصلہ کرے گی جنہوں نے جمہوریت سے غداری کی۔
    ان کے سیکیورٹی اہلکاروں اور سیاسی ساتھیوں میں سے کئی نے محل کے اندر ان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے آخری لمحے تک مزاحمت کی۔
    جب بالآخر محل پر قبضہ کر لیا گیا تو آلندے ہلاک ہو چکے تھے۔ بعد کی تحقیقات کے مطابق انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دی۔

    ان کی میت کو خاموشی سے دفن کر دیا گیا، اور کئی برسوں تک ان کی موت کی تفصیلات بھی راز میں ڈوبی رہیں۔

    خوف میں ڈوبا ہوا ایک ملک
    اس فوجی بغاوت نے صرف حکومت تبدیل نہیں کی بلکہ چلی کو خوف کی ریاست میں تبدیل کر دیا۔

    جنرل آگستو پینوشے کی آمریت کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، قتل کر دیا گیا یا وہ لاپتہ ہو گئے۔

    سیاسی قیدیوں کو اسٹیڈیمز، فوجی بیرکوں اور خفیہ حراستی مراکز میں رکھا گیا۔ بہت سے متاثرین کو مبینہ طور پر ہیلی کاپٹروں سے سمندر یا دور دراز پہاڑوں میں پھینک دیا جاتا تھا تاکہ ان کی ہلاکت کا کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔

    اس دور کی سب سے دل دہلا دینے والی کہانیوں میں سے ایک چلی کے محبوب گلوکار اور کارکن وِکٹر خارا کی ہے۔

    بغاوت کے بعد انہیں گرفتار کر کے ایک حراستی مرکز لے جایا گیا جہاں فوجیوں نے ان پر شدید تشدد کیا۔ ان کے ہاتھ—جو ایک موسیقار کی شناخت تھے—جان بوجھ کر توڑ دیے گئے۔
    چند ہی دیر بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ بعد میں ان کی لاش درجنوں گولیوں کے زخموں کے ساتھ ملی—یہ ہر اس شخص کے لیے خوفناک پیغام تھا جو نئی حکومت کی مخالفت کرنے کی ہمت کرتا۔
    تقریباً تین دہائیوں تک چلی جبر کے سائے میں زندہ رہا۔ ہزاروں خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ شخص جس نے چلی پر مطلق العنان حکمرانی کی، آخرکار عالمی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونے کے قریب پہنچ گیا۔

    اقتدار چھوڑنے کے برسوں بعد آگستو پینوشے کو 1998 میں لندن میں گرفتار کر لیا گیا، جب اسپین کی عدالتوں نے ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت وارنٹ جاری کیا۔
    اگرچہ وہ صحت کے مسائل کا جواز پیش کرتے ہوئے واپس چلی آ گئے اور 2006 میں بغیر کسی حتمی سزا کے وفات پا گئے، لیکن ان کی میراث ہمیشہ تشدد گاہوں، جبری گمشدگیوں اور سیاسی جبر سے جڑی رہے گی۔

    تاریخ نے ان کا فیصلہ عدالتوں سے کہیں زیادہ سختی سے کیا۔

    تاریخ کی تنبیہ

    سلواڈور آلندے کا زوال محض لاطینی امریکہ کی ایک تاریخی داستان نہیں ہے۔ یہ اس بات کی طاقتور یاد دہانی ہے کہ جب داخلی تقسیم بیرونی جغرافیائی سیاسی مفادات سے ٹکرا جائے تو کمزور ریاستیں کتنی غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔

    سرد جنگ کے دوران دنیا کی خفیہ ایجنسیاں—چاہے سی آئی اے ہوں یا کے جی بی—اسٹریٹجک مفادات کے حصول کے لیے کئی ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتی رہیں۔
    حکومتیں غیر مستحکم کی گئیں۔ معیشتوں کو دباؤ میں لایا گیا۔ سیاسی تحریکوں کو یا تو پیدا کیا گیا یا تباہ کر دیا گیا۔

    پاکستان جیسے ممالک کے لیے سبق واضح ہے۔
    قومی خودمختاری صرف فوجی طاقت سے محفوظ نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مضبوط ادارے، سیاسی بلوغت، قومی اتحاد اور ایسا معاشرہ درکار ہوتا ہے جو بیرونی چالوں اور سازشوں کو پہچاننے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
    جب اندرونی تقسیم گہری ہو جائے اور ادارے کمزور پڑ جائیں تو بیرونی قوتوں کو کسی ملک کی سمت متعین کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔

    آخری سبق
    لا مونیدا پر بمباری کے پچاس سال بعد بھی وہ منظر—جب سلواڈور آلندے اپنے محل کے اندر کھڑے تھے اور اوپر جنگی طیارے چکر لگا رہے تھے—جدید تاریخ میں سیاسی مزاحمت کی سب سے طاقتور علامتوں میں سے ایک ہے۔
    ان کی حکومت ایک ہی دن میں گر گئی۔
    مگر چلی کے معاشرے پر پڑنے والے زخم نسلوں تک باقی رہے۔
    آج کے ہنگامہ خیز سیاسی دور سے گزرنے والی قوموں کے لیے چلی کے اس المیے کا پیغام بالکل واضح ہے۔
    جو قوم اندر سے تقسیم ہو جائے، وہ صرف داخلی زوال ہی نہیں بلکہ پردے کے پیچھے سے واقعات کا رخ موڑنے والی طاقتوں کے لیے بھی آسان شکار بن جاتی ہے۔

  • قابل افسران کو میدان میں لانے کی ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قابل افسران کو میدان میں لانے کی ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے کرپشن اور نااہلی کا شکار ہیں، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ ہر سرکاری افسر یا ہر ادارہ بدعنوان ہے۔ پاکستان کی پولیس، سول بیوروکریسی اور دیگر ریاستی اداروں میں آج بھی ایسے بے شمار افسران موجود ہیں جو ایمانداری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قانون کی حکمرانی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فرائض کو صرف نوکری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔
    بدقسمتی سے ہمارے نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایسے قابل اور باصلاحیت افسران کو اکثر وہ جگہ نہیں دی جاتی جہاں ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ بہت سے ایسے افسران جو فیلڈ میں جا کر بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں، عوام کے مسائل حل کر سکتے ہیں اور ریاست کی رٹ مضبوط کر سکتے ہیں، انہیں دفتروں میں محدود کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی صلاحیتیں کاغذی کارروائیوں تک محدود ہو جاتی ہیں جبکہ میدانِ عمل میں وہ نتائج سامنے نہیں آتے جو آ سکتے تھے۔

    پنجاب کی مثال لی جائے تو یہاں پولیس اور سول انتظامیہ میں ایسے کئی افسران موجود ہیں جو نہ صرف دیانتدار ہیں بلکہ جدید سوچ بھی رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مسائل کے حل کے لیے منصوبے اور نئی سوچ موجود ہے۔ لیکن اگر ایسے لوگوں کو عملی میدان میں اختیار اور موقع نہ دیا جائے تو ان کی صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اچھے منصوبے صرف کاغذوں یا چند دفاتر تک محدود رہ جاتے ہیں۔

    ریاست کے ذمہ داران کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی نظام کی بہتری کے لیے صرف قوانین یا اعلانات کافی نہیں ہوتے، بلکہ درست لوگوں کو درست جگہ پر تعینات کرنا سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر قابل، ایماندار اور باصلاحیت افسران کو فیلڈ میں ذمہ داریاں دی جائیں اور ان پر اعتماد کیا جائے تو نہ صرف اداروں کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔

    یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم عمومی مایوسی اور منفی سوچ سے باہر نکلیں۔ اگر چند افراد کی وجہ سے پورے نظام کو بدنام کر دیا جائے تو اس سے ان ایماندار لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں ان اچھے افسران کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور نظام کو اس انداز میں ترتیب دینا چاہیے کہ قابلیت اور دیانتداری کو آگے آنے کا موقع ملے۔

    مختصر یہ کہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے۔ ہمارے اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں صحیح مواقع، اختیارات اور میدان دیا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ریاستی نظام کو مزید مضبوط بنا سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو اداروں کی بہتری اور ملک کی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

  • محمد مصدق کی برطرفی تیل، طاقت اور 1953 کی بغاوت،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    محمد مصدق کی برطرفی تیل، طاقت اور 1953 کی بغاوت،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    (پاکستانیوں کے لیے ایک چشم کشا حقیقت)

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدیدیت پر تخصص رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    اگست 1953 میں محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنا سرد جنگ کے دور کی سب سے اہم خفیہ مداخلتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے نے ایران کی سیاسی سمت کو بدل دیا، محمد رضا شاہ پہلوی کے تحت بادشاہت کو مضبوط کیا اور مغرب کے ساتھ ایران کے تعلقات میں عدم اعتماد کی ایسی میراث چھوڑ دی جو آج تک محسوس کی جاتی ہے۔

    مصدق کا عروج: قوم پرستی اور تیل کی خودمختاری
    1940 کی دہائی کے آخر اور 1950 کی دہائی کے آغاز میں ایران کی تیل کی صنعت پر عملاً برطانیہ کے زیرِ کنٹرول اینگلو ایرانی آئل کمپنی (AIOC) کا قبضہ تھا، جسے بعد میں بی پی (BP) کا نام دیا گیا۔1951 سے پہلے ایران کے تیل کی پیداوار اور منافع کا تقریباً 85 فیصد حصہ برطانوی مفادات کے قبضے میں تھا، جبکہ ایران کو اس آمدنی کا نسبتاً بہت کم حصہ ملتا تھا۔

    یہ عدم توازن ایرانی قوم پرستوں کے لیے ایک بڑا نعرہ بن گیا۔
    محمد مصدق، جو ایک بااثر اور کرشماتی سیاسی رہنما تھے اور جنہیں پارلیمنٹ کی مضبوط حمایت حاصل تھی، اقتصادی خودمختاری اور قومی وقار کی تحریک کی علامت بن کر سامنے آئے۔1951 میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد انہوں نے ایران کی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس اقدام نے ایرانی عوام میں زبردست جوش پیدا کیا لیکن برطانیہ کو شدید غصہ دلایا۔

    برطانوی حکومت نے اس کے جواب میں ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائیں، ایرانی تیل کا عالمی بائیکاٹ کروایا اور بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی جنگ شروع کر دی۔ان دباؤ کے باعث ایران کی معیشت متاثر ہونے لگی، مگر مصدق اپنے ملک میں غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر مقبول رہے۔

    سرد جنگ کے حساب کتاب اور مغربی خدشات
    ابتدائی طور پر برطانیہ نے مصدق کو سفارتی اور معاشی دباؤ کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن جب یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو لندن نے واشنگٹن سے مدد طلب کی۔اس وقت سرد جنگ اپنے عروج پر تھی اور سوویت یونین کے پھیلاؤ کا خوف مغربی دنیا کو مسلسل پریشان رکھتا تھا۔ اس تناظر میں ایران ایک انتہائی اہم اسٹریٹیجک ملک سمجھا جاتا تھا۔اگرچہ مصدق کمیونسٹ نہیں تھے، مگر مغربی پالیسی سازوں کو خدشہ تھا کہ سیاسی عدم استحکام سے ایران کی کمیونسٹ تودہ پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ خدشات، تیل کے مفادات اور جغرافیائی سیاسی حساب کتاب نے مل کر ایک خفیہ مداخلت کی بنیاد رکھ دی۔

    آپریشن ایجیکسOperationAjax
    (سی آئی اے اور ایم آئی سکس کی بغاوت)
    اگست 1953 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور برطانیہ کی ایم آئی سکس نے ایک مشترکہ خفیہ آپریشن شروع کیا۔ اسے تاریخ میں 1953 کا ایرانی فوجی انقلاب یا آپریشن ایجیکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس منصوبے کا مقصد مصدق کو اقتدار سے ہٹانا اور شاہ ایران کی طاقت کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔
    اس منصوبے کے اہم عناصر یہ تھے:
    ہنگامہ آرائی پیدا کرنے کے لیے سڑکوں پر احتجاج اور مظاہرے منظم کرنا
    سیاستدانوں، صحافیوں اور فوجی افسران کو رشوت دینا
    پروپیگنڈا کے ذریعے مصدق کو غیر مستحکم اور کمیونسٹ نواز ظاہر کرنا
    ایرانی فوج کے بعض حصوں کے ساتھ مل کر اہم سرکاری مقامات پر قبضہ کرنا
    ابتدائی کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ مصدق کو سازش کی خبر ہو گئی اور شاہ کو عارضی طور پر ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

    تاہم 19 اگست 1953 کو مظاہروں اور فوجی کارروائیوں کی ایک دوسری منظم لہر کامیاب ہو گئی۔ شاہ کے وفادار ٹینکوں اور مسلح دستوں نے مصدق کی رہائش گاہ کو گھیر لیا۔ شدید جھڑپوں کے بعد ان کی حکومت گر گئی۔
    شاہ ایران فاتحانہ انداز میں تہران واپس آئے اور ان کی حکمرانی اب بڑی حد تک امریکی حمایت سے جڑی ہوئی تھی۔

    مصدق کا انجام
    محمد مصدق کو گرفتار کر لیا گیا، ان پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا اور انہیں تین سال قیدِ تنہائی کی سزا سنائی گئی۔
    رہائی کے بعد انہیں ان کے آبائی گاؤں میں سخت نظر بندی میں رکھا گیا، جہاں وہ سیاسی طور پر مکمل طور پر الگ تھلگ رہے اور 1967 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

    وہ دوبارہ کبھی عوامی عہدے پر واپس نہیں آئے، لیکن ایرانی عوام کی یادداشت میں وہ ایک قومی ہیرو بن گئے—خودمختاری اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی علامت۔
    اسٹریٹیجک نتائج
    اس بغاوت کے گہرے اثرات مرتب ہوئے:

    بادشاہت کا استحکام:
    شاہ کی حکومت مزید آمرانہ ہوتی گئی اور اس نے مغربی حمایت اور خفیہ سکیورٹی اداروں پر انحصار بڑھا دیا۔

    مغرب مخالف جذبات:
    غیر ملکی مداخلت کے تاثر نے ایرانی معاشرے میں شدید مغرب مخالف جذبات کو جنم دیا، جو بعد میں 1979 کے ایرانی انقلاب کی ایک اہم وجہ بنے۔

    سرد جنگ کی مثال
    آپریشن ایجیکس بعد میں دنیا کے دیگر حصوں میں خفیہ طور پر حکومتیں تبدیل کرنے کے لیے ایک ماڈل بن گیا۔
    کئی مورخین کے مطابق 1953 کی بغاوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح اقتصادی مفادات، جغرافیائی سیاست اور خفیہ کارروائیاں مل کر کسی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔

    نتیجہ
    محمد مصدق کی کہانی صرف تیل کی نہیں بلکہ خودمختاری، طاقت کی سیاست اور غیر ملکی مداخلت کے دیرپا اثرات کی کہانی ہے۔1953 میں ان کی برطرفی نے ایران کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل دیا اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم باب بن گئی۔

    سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس بغاوت کا سایہ آج بھی علاقائی اتحادوں، اسٹریٹیجک عدم اعتماد اور خفیہ طور پر حکومتیں تبدیل کرنے کے اخلاقی و سیاسی مباحث میں نمایاں طور پر موجود ہے۔