Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مشرقِ وسطیٰ کی آگ اور پاکستان طوفان باہر ، دیواریں اندر سے مضبوط کرنا ہوں گی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی آگ اور پاکستان طوفان باہر ، دیواریں اندر سے مضبوط کرنا ہوں گی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہرمز سے اسلام آباد تک بدلتے خطے میں پاکستان کے لیے اتحاد ہی سب سے بڑی ڈھال ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ کی سلگتی ہوئی آگ کی تپش اس کے دروازے تک محسوس کی جا سکتی ہے۔ خلیجِ فارس سے لے کر باب المندب تک پھیلی ہوئی بے یقینی، تیل کی گزرگاہوں پر منڈلاتے خطرات، اور بڑی طاقتوں کی شطرنج نے پورے خطے کو اضطراب کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور سعودی عرب کے توانائی ڈھانچے سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کا کردار محض ایک تماشائی کا نہیں بلکہ ایک ذمہ دار علاقائی ریاست کا ہے۔ پاکستان کے مغرب میں ایران، شمال مغرب میں افغانستان، مشرق میں بھارت اور جنوب میں بحیرۂ عرب واقع ہے۔ گویا جغرافیہ نے پاکستان کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ خطوں کے درمیان ایک پل بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی ہر ہلچل کے اثرات بالآخر پاکستان کی معیشت، سلامتی اور داخلی استحکام پر مرتب ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے؟ میرا جواب واضح ہے: سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی۔ جب دنیا کے گرد و نواح میں بارود کی بو پھیلی ہوئی ہو، جب عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے نئے اتحاد تشکیل دے رہی ہوں، جب توانائی کے راستے خطرات کی زد میں ہوں، تو ایسے وقت میں کسی بھی ملک کے لیے داخلی انتشار سب سے بڑا نقصان بن جاتا ہے۔ احتجاج، محاذ آرائی، الزام تراشی اور سیاسی کشمکش اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی کے تقاضے اپنی جگہ ہوتے ہیں۔ آج پاکستان کسی نئے سیاسی معرکے کا نہیں بلکہ قومی یکسوئی کا متقاضی ہے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان گزشتہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں ایک متوازن سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ روابط نے پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر ابھارا ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے کا داعی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر بیرونی خطرات کے ماحول میں اندرونی محاذ کمزور پڑ جائے تو دشمن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے، دانشور اور میڈیا سب مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیں جس کی بنیاد پاکستان کے قومی مفاد پر ہو، نہ کہ وقتی سیاسی فائدے پر۔ مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں گردش کرتے جنگی بادل پاکستان کو ایک خاموش پیغام دے رہے ہیں: "اختلاف رکھو، مگر انتشار مت پیدا کرو؛ سیاست کرو، مگر ریاست کو کمزور مت کرو۔”
    پاکستان کی بقا، ترقی اور عالمی اہمیت کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ ہم داخلی استحکام کو اپنی پہلی قومی ترجیح بنائیں۔ کیونکہ جب گرد و پیش میں طوفان اٹھ رہے ہوں تو عقل مند قومیں اپنے گھر کی دیواریں مضبوط کیا کرتی ہیں۔

  • شمسہ رانی، لفظوں کی خوشبو، احساس کی صدا،تحریر :طاہر محمود

    شمسہ رانی، لفظوں کی خوشبو، احساس کی صدا،تحریر :طاہر محمود

    ادب کی دنیا میں کچھ نام محض نام نہیں ہوتے، وہ ایک کیفیت، ایک خوشبو، ایک احساس اور ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ شمسہ رانی بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ان کے لفظ کاغذ پر اترتے نہیں، دل کی دہلیز پر دستک دیتے ہیں؛ ان کی شاعری پڑھی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے؛ اور ان کا اندازِ سخن ایسا ہے کہ سادہ سے لفظ بھی ایک نئی معنویت کے ساتھ دل میں اتر جاتے ہیں۔

    ٹیکسلا کی تاریخی و تہذیبی مٹی سے وابستہ شمسہ رانی نے اپنے علمی و ادبی سفر کو مطالعے، مشاہدے اور ریاضت سے جِلا بخشی۔ ابتدائی تعلیم یُسریٰ اسکول خان پور، میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول نمبر 4 اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے، انگلش لٹریچر اور ایم اے، تاریخ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ شاعرہ، نظم نگار، نثر نگار، ناول نویس اور قومی اخبارات کی کالم نگار کی حیثیت سے اپنی الگ ادبی شناخت رکھتی ہیں۔

    ذاتی طور پر اگر میں شمسہ رانی کی شاعری کی بات کروں تو یہ میرے لیے محض ایک تعریفی جملہ نہیں بلکہ ایک ادبی تجربے کا اعتراف ہے۔ میں نے بہت سے شعراء کو پڑھا ہے، مختلف اسالیبِ سخن سے گزرا ہوں، مگر شمسہ رانی کے کلام میں جو سادگی کے پردے میں گہرائی، لفظوں میں لطافت، احساس میں شدت اور اظہار میں انفرادیت نظر آتی ہے، وہ مجھے ایک الگ اور منفرد رنگ محسوس ہوئی۔

    ان کے ہاں محبت محض محبت نہیں رہتی، ایک مکمل کیفیت بن جاتی ہے؛ ہجر صرف جدائی نہیں رہتا، ایک خاموش موسیقی بن جاتا ہے؛ یاد محض یاد نہیں رہتی، دل میں ٹھہرا ہوا سایہ بن جاتی ہے۔

    اسی کیفیت کی ایک خوبصورت جھلک ان اشعار میں دیکھی جا سکتی ہے، جنہیں میں نے خود ان کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے "نوکِ نایاب” کے لیے منتخب کیا:

    «مجھے تم سے محبت ہے
    بے پناہ محبت
    تم میری زندگی کی وہ کمی ہو
    جو مجھے مکمل نہیں ہونے دیتی
    وہ خاموش درد ہو
    جو ہنسنے نہیں دیتا
    وہ ادھورا خواب ہو
    جو ہر رات آنکھوں میں جاگتا ہے
    کاش! میں اس لمحے کو روک سکتی۔»

    یہ چند مصرعے بظاہر محبت کا اظہار ہیں، مگر ذرا ٹھہر کر پڑھیں تو ان میں محبت، محرومی، انتظار، یاد اور ادھورے پن کی پوری کائنات آباد دکھائی دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعرہ کا لفظ قاری کا ذاتی احساس بن جاتا ہے۔

    اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ان کی شاعری پسند آئی—بہت پسند آئی۔ کیونکہ یہاں لفظوں کی نمائش نہیں، احساس کی سچائی ہے؛ مشکل تراکیب کا بوجھ نہیں، سادہ لفظوں کی تاثیر ہے؛ اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا لہجہ ہے جو بنا کسی شور کے دل تک پہنچ جاتا ہے۔

    ان شاء اللہ عنقریب ان کی شعری کتاب "سائے جو ٹھہر گئے” تقریبِ رونمائی کے بعد منظرِ عام پر آئے گی۔ یہ عنوان ہی اپنے اندر ایک مکمل داستان سمیٹے ہوئے ہے—کچھ یادیں، کچھ چہرے، کچھ لمحے اور کچھ محبتیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے گزرنے کے باوجود دل سے نہیں گزرتیں؛ وہ سائے بن کر ٹھہر جاتی ہیں۔

    مجھے یقین ہے کہ "سائے جو ٹھہر گئے” شاعری سے محبت رکھنے والے اہلِ ذوق کے لیے محض ایک کتاب نہیں بلکہ احساس کی ایک خوبصورت دستاویز، لفظوں کا ایک خوشبودار سفر اور دل کے قریب رہ جانے والا ادبی تحفہ ثابت ہوگی۔

    شمسہ رانی جب اپنا کلام اپنی مترنم اور دل نشیں آواز میں پیش کرتی ہیں تو شعر کو ایک اور زندگی مل جاتی ہے۔ لفظ آواز میں ڈھلتے ہیں، آواز احساس میں، اور احساس سامع کے دل میں اتر جاتا ہے۔

    شمسہ رانی لفظوں کی ملکہ ضرور ہیں، مگر ان کی اصل پہچان احساس کی ترجمانی ہے۔

    ان کا قلم محبت کو زبان دیتا ہے، خاموشی کو آواز دیتا ہے، عورت کے احساس کو وقار دیتا ہے اور زندگی کے معمولی لمحوں میں چھپی غیر معمولی کیفیتوں کو دریافت کرتا ہے۔

    دعا ہے کہ ان کے قلم کی یہ روشنی ہمیشہ قائم رہے، "سائے جو ٹھہر گئے” اہلِ ادب کے دلوں میں اپنی جگہ بنائے، اور شمسہ رانی کا نام ٹیکسلا کے ادبی افق سے بلند ہو کر اردو ادب کے وسیع آسمان پر اپنی الگ روشنی کے ساتھ ہمیشہ جگمگاتا رہے۔

    کچھ لفظ صرف پڑھے جاتے ہیں،
    کچھ لفظ یاد رہ جاتے ہیں،
    اور کچھ لفظ دل میں اتر کر
    عمر بھر کے لیے ایک احساس بن جاتے ہیں—
    شمسہ رانی کی شاعری بھی ایسے ہی لفظوں کا نام ہے۔

  • چٹان کا سایہ: 1965ء کے معرکے سے قومی یکجہتی تک،تحریر: نعیم خان

    چٹان کا سایہ: 1965ء کے معرکے سے قومی یکجہتی تک،تحریر: نعیم خان

    گھڑی کی ٹک ٹک شاید سست پڑ چکی تھی یا پھر وقت نے خود ڈر کے مارے سانس روک لی تھی۔ ستمبر 1965ء کی اس رات برکی کی سرحد پر عجیب سی سائیں سائیں ہو رہی تھی۔ ہولناک اندھیرے میں ہوا یوں دھیمے دھیمے چل رہی تھی جیسے موت خود اپنا لباس بدل کر چاروں طرف چکر کاٹ رہی ہو۔ دوسری جانب ہندوستان کی سرحد پر سرگوشیاں تھیں اور دلوں میں یہ گھمنڈ کہ صبح کا آفتاب طلوع ہونے سے پہلے لاہور کے جمخانہ میں فتح کے جام چھلکیں گے۔

    لیکن دشمن اس بھول میں تھا کہ بی آر بی نہر کے اس پار رات کے اس بھیانک اندھیرے میں، وطن کی مٹی پر ایک ایسا سایا خندق میں موجود تھا جس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ، اور جس کے سینے میں دل دھڑکتا نہیں ، بلکہ لاوا بن کر ابلتا تھا۔
    وہ میجر راجہ عزیز بھٹی تھے!
    جب بارود کے دھوئیں میں سانس لینا دو بھر ہو رہا تھا اور موت ہر طرف رقص کر رہی تھی تو ان کا ایک جونیئر سپاہی کانپتی آواز میں بولا "سر! دشمن کی تعداد ہم سے دس گنا زیادہ ہے ، ہم انہیں کیسے روکیں گے؟”
    عزیز بھٹی نے دھویں اور آگ کے درمیان اپنے سپاہی کے شانے پر ہاتھ رکھا ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سرخ شعلہ لپکا اور وہ گرجدار آواز میں بولے:
    "وہ گنتی کے زعم میں آ رہے ہیں، اور ہم رب کے بھروسے پر کھڑے ہیں! انہیں بتانے دو کہ وہ کتنے ٹینک لائے ہیں اور ہم انہیں بتائیں گے کہ ایک سچا مسلمان اپنے وطن کی مٹی پر کیسے جان دیتا ہے۔ جب تک راجہ عزیز بھٹی کے سینے میں دل دھڑک رہا ہے لاہور کی طرف بڑھنے والا ہر قدم میری لاش سے ہو کر گزرے گا۔

    اچانک! سناٹے کو چیرتی ہوئی ایک دھماکے کی آواز آئی اور پھر… آگ کا طوفان امڈ پڑا۔ آسمان سرخ ہو گیا ٹینکوں کے شعلے رات کی سیاہی کو چیرنے لگے اور زمین یوں کانپنے لگی جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ دشمن سوچے بیٹھا تھا کہ اس بھیانک حملے کے بعد سامنے صرف لاشیں ملیں گی۔ مگر جب دھواں چھٹا تو نہر کے کنارے وہی سایا اب بھی سینہ تان کر کھڑا تھا۔
    ایک دن… دو دن… پانچ دن اور پانچ راتیں!
    نہ عزیز بھٹی نے پلک جھپکی، نہ ان کا قدم ایک انچ پیچھے ہٹا۔ کپڑے بارود ، خون اور غبار سے اٹا ہوا تھا ، جسم تھکن سے چکنا چور ہو چکا تھا۔ مگر آنکھوں میں ایک جنون تھا "لاہور پر میرا خون گرے گا ، دشمن کا قدم نہیں!”
    وائرلیس پر کمانڈر کی پریشان آواز گونجی ” بھٹی ! تم مسلسل پانچ دن سے آگ میں ہو۔ تم انسان ہو، جاؤ کچھ دیر سو جاؤ… ہم دوسری نفری بھیج رہے ہیں۔”

    عزیز بھٹی کے لبوں پر ایک خونچکاں مسکراہٹ ابھری ! انہوں نے وائرلیس کا مائیک سنبھالا اور کہا "مجھے واپس نہ بلائیے ! میں اس مٹی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ میں لڑتے ہوئے یہی مرنا پسند کروں گا۔”
    یہ منظر کسی فلم کا نہیں تھا، یہ ایک سچے عاشقِ وطن کے جنون کی انتہا تھی۔ 12 ستمبر کی وہ منحوس گھڑی آئی۔ عزیز بھٹی ایک ٹیلا پر چڑھ کر دشمن کے ٹینکوں کی نشاندہی کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ سیدھے نشانے پر ہیں مگر جسے شہادت کی طلب ہو اسے موت کا ڈر کیسا؟ ایک زوردار دھماکہ ہوا… دشمن کے ٹینک کا چیرتا ہوا گولا عزیز بھٹی کے سینے میں جا پیوست ہوا۔
    وہ زمین پر گرے۔ ان کا گرم خون لاہور کی مٹی میں جذب ہو رہا تھا مگر ان کے گرنے سے پہلے لاہور بچ چکا تھا۔ بی آر بی نہر دشمن کی آخری آرام گاہ بن چکی تھی۔
    یہاں کہانی کا ایک حصہ مکمل ہوتا ہے اور ہیرو ہم سے رخصت ہو جاتا ہے… لیکن کہانی کا سب سے خوفناک سسپنس اور ڈرامائی موڑ تو اب شروع ہوتا ہے۔
    کیمرہ آج کے پاکستان پر گھومتا ہے۔ چالیس، پچاس سال بعد کے مناظر سامنے آتے ہیں۔

    ہم دیکھتے ہیں کہ اسی شہید کے ملک میں کچھ لوگ شاندار ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر سیاست کی چمکتی ہوئی کرسیوں پر براجمان ہو کر کہتے ہیں "فوجی تو تنخواہ کے لیے لڑتے ہیں! یہ تو ان کی ملازمت ہے!”
    ذرا سوچئے! کیا سسپنس ہے اس قوم کی قسمت میں؟ کیا دنیا کی کوئی رقم ، کوئی نوٹ ، کوئی مراعات کسی انسان کو اس بات پر راضی کر سکتی ہے کہ وہ جلتے ہوئے ٹینک کے سامنے جا کر اپنا سینہ کھول دے؟ کیا کوئی ماں اپنی گود کے پالے کو چند ہزار کی نوکری کے لیے بارود کے سپرد کر سکتی ہے؟

    یہ کیسا المیہ ہے کہ جن شہیدوں نے اپنے بچوں کو یتیم کر کے ہماری نسلوں کو آزاد کیا آج کچھ مفاد پرست سیاسی ٹھیکیدار اپنے چھوٹے چھوٹے سیاسی فائدوں کے لیے ان کی قربانیوں کا سودا کر رہے ہیں؟
    یہ سیاسی دکان داری دراصل دشمن کا وہ آخری حربہ ہے جو وہ 1965ء میں نہ کر سکا۔ دشمن جانتا ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں اس قوم کے راجہ عزیز بھٹیوں کو نہیں ہرا سکتا اسی لیے وہ ہمارے درمیان تفریق ، شک اور نفرت کا زہر گھول کر فوج اور عوام کے رشتے کو توڑنا چاہتا ہے۔
    اگر آج ہم نے اس سیاسی ڈرامے اور مفاد پرستوں کے بیانیے کو نہ روکا تو کل راجہ عزیز بھٹی کی روح ہم سے سوال کرے گی کہ "ہم نے اپنا خون کس کے لیے بہایا تھا؟”

    وقت کا ڈرامائی موڑ یہی ہے۔ اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔ہمیں اپنے محافظوں کے پیچھے ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر دیوار بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔ عوام، فوج اور سیاست دانوں کو ایک مٹھی بننا ہوگا تاکہ دشمن کو معلوم ہو کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو آج بھی راجہ عزیز بھٹی کا وہی جنون اور جذبہ جواب دے گا۔

  • میرا تعارف،ماہ جبین اظہر

    میرا تعارف،ماہ جبین اظہر

    میرا نام ماہ جبین اظہر ہے اور میرا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ میں نے آج سے بیس سال پہلے ریاضی میں بی ایس سی کیا تھا۔ بظاہر ریاضی اور اردو ادب دو مختلف دنیائیں ہیں، مگر لفظوں سے میرا رشتہ ہمیشہ سے قائم رہا۔ شاعری سے دلچسپی اور لفظوں کو برتنے کا شوق آہستہ آہستہ تحریر کی صورت اختیار کرتا گیا۔

    گورنمنٹ کالج برائے خواتین مدینہ ٹاؤن، جو اب یونیورسٹی کا درجہ پا چکا ہے، کے میگزین ’’سیماب‘‘ سے میں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ جب تک تعلیم کا سلسلہ جاری رہا، لکھنے کا سفر بھی چلتا رہا۔ پھر اکیس سال کی عمر میں شادی کے بعد گھریلو مصروفیات کی وجہ سے مجھے اپنے اس ادبی سفر کو روکنا پڑا اور لکھنے کے شوق کو پسِ پشت ڈالنا پڑا، لیکن ادب اور پڑھنے کا شوق برقرار رہا۔ جب بھی فارغ ہوتی، دینی اور اسلامی کتابیں پڑھتی یا کسی دوست کے پاس کوئی کتاب نظر آ جاتی تو اسے گھر لا کر پڑھنے کا شوق پورا کر لیتی۔

    بچوں کی پرورش کے بعد جب وہ اتنے بڑے ہو گئے کہ مجھے کچھ فارغ وقت گزارنے کا موقع ملنے لگا تو میں نے دوبارہ لکھنے کا سوچا۔ دو سال پہلے جب میرے ابو جی کی وفات ہوئی تو ان کے جانے کا دکھ لفظوں میں اتارنے لگی۔ شاید وہی دکھ تھا جس نے میرے اندر سوئے ہوئے لفظوں کو پھر سے جگا دیا۔ اسی سال اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری نصیب ہوئی۔ واپس آ کر انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت ایک فلاحی ادارے ’’رائل اسٹوڈنٹس ویلفیئر سوسائٹی‘‘ کو جوائن کر لیا۔

    اسی رفاہی ادارے کے ایک ممبر نے میرے لکھنے کے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے قلم و قرطاس انٹرنیشنل کی بانی زوبیہ حسیب سے متعارف کروایا۔ اس پلیٹ فارم پر لکھتے ہوئے مجھے اپنی پہلی انتھالوجی ’’نورِ عزم‘‘ میں افسانہ نگار کی حیثیت سے لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد لکھنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ تھم نہ سکا۔ آج میں قلم و قرطاس انٹرنیشنل میں مقابلہ انچارج کے فرائض سرانجام دے رہی ہوں۔

    ’’نورِ عزم‘‘ کی کامیاب اشاعت کے بعد میری دوسری انتھالوجی ’’فکرِ نو‘‘، جو میرے فلاحی ادارے رائل اسٹوڈنٹس ویلفیئر سوسائٹی کا پروجیکٹ ہے، زیرِ اشاعت ہے۔ میرے لیے یہ سفر صرف کتابوں اور تحریروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ میرے اس خواب کی تعبیر بھی ہے جسے میں نے برسوں اپنے دل میں سنبھال کر رکھا۔
    میرے لیے ادب محض لفظوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ دل میں اترنے والے احساسات، زندگی کے تجربات اور معاشرے کے مختلف رنگوں کو بیان کرنے کا ایک خوبصورت وسیلہ ہے۔ مجھے سادہ، رواں اور دل کو چھو لینے والا اندازِ تحریر پسند ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ جو کچھ لکھوں، اس میں زندگی کی کوئی حقیقت، کسی احساس کی ترجمانی یا کسی سوچ کی بازگشت ہو۔

    یہ ادبی سفر میرے لیے اپنی ہی ذات کے ایک نئے پہلو سے ملاقات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اچھے لفظ صرف پڑھے نہیں جاتے، محسوس بھی کیے جاتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میری تحریر بھی کسی قاری کے دل کو چھو جائے اور اسے کچھ دیر ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرے۔ یہی میرے لیے ادب کی اصل خوبصورتی ہے اور یہی میرا سادہ سا ادبی تعارف ہے۔

  • میرا تعارف، مبراء عبدالقیوم

    میرا تعارف، مبراء عبدالقیوم

    ادب صرف لفظوں کا ہنر نہیں، بلکہ یہ دل کی آواز ہوتی ہے۔ اور میں اسی آواز کی ہم سفر ہوں۔
    میرا نام مبراء عبدالقیوم ہے۔میرا تعلق فیصل آباد کے شہر ڈجکوٹ سے ہے۔ میں نے آنکھ کھولی تو لفظوں کو اپنے اردگرد بکھرا پایا۔ اور جب شعور آیا تو احساس ہوا کہ لکھنا میرے لیے شوق نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ تعلیم کے سفر کے ساتھ ساتھ ادب نے بھی میرا ہاتھ تھامے رکھا۔ کبھی کتابوں کی صورت، کبھی خیالوں کی شکل میں۔ ادب سے محبت کسی ایک دن میں نہیں ہوئی، یہ تو رفتہ رفتہ میرے دل میں اتری۔ یہ شوق مجھے میرے امی جان اور پھر جماعت اسلامی میں شمولیت سے بھی ہوا۔ پھر کہانیاں اور کتابیں پڑھتے پڑھتے، لفظوں میں خود کو پہچانتے پہچانتے ہی لکھنے کا آغاز میں نے اپنے احساسات کو سمجھنے کے لیے کیا۔ اور پھر یہ احساسات لفظ بن کر کاغذ پر اترنے لگے۔ میں سمجھتی ہوں کہ تحریر وہ آئینہ ہے جس میں لکھنے والا خود کو بھی دیکھتا ہے اور دوسروں کو بھی دکھاتا ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میری تحریر دل سے نکلے اور دل تک پہنچے۔

    وقت کے ساتھ ساتھ میرے لکھنے کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ ابتدا میں جو باتیں صرف میرے دل اور کاغذ کے درمیان رہتی تھیں، وہ آہستہ آہستہ دوسروں تک پہنچنے لگیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ لفظ صرف اپنے احساسات بیان کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی کے دل کو چھونے، کسی سوچ کو بدلنے اور کسی کے لیے امید بننے کا وسیلہ بھی بن سکتے ہیں۔

    گزشتہ ڈیڑھ برس سے میں باقاعدگی کے ساتھ لکھ رہی ہوں۔ اس دوران مختلف ادبی گروپس، رسائل اور ادبی سرگرمیوں سے وابستہ رہنے کا موقع ملا۔ افسانہ، افسانچہ، مضمون، کالم، نثری نظم، شاعری اور خطوط سمیت مختلف اصناف میں لکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ہر صنف مجھے اظہار کا ایک نیا راستہ دکھاتی ہے اور ہر تحریر مجھے خود اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔

    میری تحریروں میں عموماً انسانی جذبات، رشتے، معاشرتی مسائل، زندگی کی حقیقتیں اور اصلاحی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ میں مشکل الفاظ اور بناوٹ کے بجائے سادہ اور دل سے نکلنے والی زبان کو پسند کرتی ہوں۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ خوبصورت تحریر وہ نہیں جو صرف پڑھی جائے، بلکہ وہ ہے جو پڑھنے والے کے دل میں کچھ دیر کے لیے ٹھہر جائے۔

    میرے لیے لکھنا محض اپنی پہچان بنانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ کسی کے لیے تسلی بنیں، کسی کو سوچنے پر مجبور کریں، کسی کے اندر امید جگائیں اور جہاں ممکن ہو، معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی کا سبب بنیں۔
    ادبی سفر میں ابھی میں خود کو ایک طالبِ علم ہی سمجھتی ہوں۔ ہر نئی تحریر، ہر نیا موضوع اور ہر نیا تجربہ مجھے کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ میں اپنے لفظوں کو بہتر بنانے، اپنی خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندازِ بیان کو مزید نکھارنے کی کوشش میں رہتی ہوں، کیونکہ میرے نزدیک سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا ہے۔
    میری خواہش ہے کہ آنے والے وقت میں بھی میں اسی محبت اور اخلاص کے ساتھ لکھتی رہوں۔ اپنے قلم کو مثبت سوچ اور خوبصورت احساسات کے اظہار کا ذریعہ بناؤں اور ادب کی دنیا میں اپنی ایک ایسی پہچان قائم کروں جو میرے الفاظ سے زیادہ میرے احساس اور مقصد سے پہچانی جائے۔
    یہی میرا سفرِ قلم ہے؛ ایک ایسا سفر جو ابھی جاری ہے، اور جس کی منزل سے زیادہ مجھے اس کے راستے سے محبت ہے۔

  • معاشرتی رویے: زوالِ اخلاق اور احساس کی بازیافت،تحریر: طاہر محمود

    معاشرتی رویے: زوالِ اخلاق اور احساس کی بازیافت،تحریر: طاہر محمود

    ۱۔ خاموش دریا اور بدلتے منظر نامے
    زندگی ایک خاموش دریا کی مانند ہے جس کی روانی میں ان گنت رنگ، تہہ در تہہ لہریں اور وقت کے گہرے نقوش چھپے ہوتے ہیں۔ انسان اس بحرِ رواں کا وہ مسافر ہے جو تنہا نہیں بلکہ ایک وسیع ہجوم کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ اس ہجوم میں جب ایک انسان دوسرے انسان سے ملتا ہے، تو جو عکس ابھرتا ہے، اسے ہم معاشرتی رویے کہتے ہیں۔ یہ رویے کبھی بہار کے نرم پھول کی طرح دل و جاں کو معطر کر دیتے ہیں اور کبھی خزاں کی تیز ہوا بن کر روح کو گھائل کر جاتے۔

    آج کے اس مشینی اور پرآسائش دور میں، جہاں انسان نے سائنسی ترقی کے بل بوتے پر فاصلوں کے طلسم کو تو توڑ ڈالا ہے، وہیں دلوں کے درمیان ہزاروں میل کی سرد دیواریں کھڑی کر دی ہیں۔ وہ معاشرہ جہاں ایک دوسرے کا دکھ مشترکہ میراث سمجھا جاتا تھا، جہاں پڑوسی کی بھوک پورے محلے کا درد بنتی تھی، اور جہاں رشتوں میں تقدس اور بے لوث خلوص کی چاشنی گھلی رہتی تھی، اب وقت کی بے رحم دھوپ میں ماند پڑ چکا ہے۔ اب ہم ایک ہی چھت کے نیچے یا ایک ہی محفل میں بیٹھ کر بھی ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔ ڈیجیٹل اسکرینوں کی غلافت نے آنکھوں کی سچی چمک، مکالمے کی گرمی اور مسکراہٹوں کے اصل روپ کو چھین لیا ہے۔

    ۲. مفادات کا ترازو اور اخلاقیات کا زوال
    ہمارے اجتماعی رویوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے احساسات اور ہمدردی کو بھی مفادات کے نفع نقصان والے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ اب ہر رشتے کے پسِ پردہ کوئی نہ کوئی ان کہی غرض کا سایہ ضرور منڈلاتا ہے۔ خوشیوں کی تقریبات ہوں یا غم کے سانحے، شرکت کے پیمانے بھی اب دکھاوے، نمائش اور شان و شوکت کے محتاج ہو گئے ہیں۔
    جو انسان جتنا متمول اور کامیاب ہے، اس کے غلط رویے بھی معاشرے کی نظر میں قابلِ قبول ٹھہرتے ہیں، اور معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والا انسان اس بے رحم تماشے میں اکیلا تنہا کھڑا نظر آتا ہے۔ ہم نے اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال کر صرف ظاہری چمک دمک کو ہی زندگی کا اصل معيار مان لیا ہے، جس نے انسانی رشتوں کی روح کو زخمی کر کے رکھ دیا ہے۔

    ۳. زندہ رشتوں کا احساس اور روشنی کی تلاش
    ہمیں یہ تلخ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ معاشرہ کوئی بے جان اینٹ پتھر کی عمارت نہیں، بلکہ یہ انسانوں کے دھڑکتے دلوں، سلگتے احساسات اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے جذبوں سے بنا ہوا زندہ تانا بانا ہے۔ ایک چھوٹی سی نرم اور محبت بھری بات، کسی بے سہارا کی ڈھارس بندھانا، کسی کے آنسوؤں کو پونچھنا یا محض راہ چلتے خلوص بھری مسکراہٹ سے پیش آنا، وہ چھوٹے چھوٹے چراغ ہیں جو سماجی تاریکیوں کو مات دیتے ہیں۔ ہمارے رویے اگر رواداری، ایثار اور درگزر کی خوشبو سے مہکنے لگیں، تو یہ دھرتی ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ذات کے تنگ و تاریک خول سے باہر نکلیں۔ اپنے گریبان میں جھانک کر یہ محاسبہ کریں کہ کہیں ہمارے رویے کسی کے لیے تازیانہ تو نہیں بن رہے۔ آئیں، اس دوڑتی بھاگتی بے سکون دنیا میں کچھ لمحے ٹھہر کر اپنے اندر کے سوئے ہوئے انسان کو جگائیں، رشتوں میں خلوص کی وہ پرانی اور سچی خوشبو واپس لائیں اور معاشرتی بے حسی کے اندھیروں کو اپنائیت اور محبت کے اجالوں سے ختم کر دیں۔ کیونکہ معاشرہ کوئی الگ وجود نہیں، معاشرہ ہم خود ہیں۔

  • جوجی کی واپسی اور تین سال کا سفر،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    جوجی کی واپسی اور تین سال کا سفر،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    وہ کوئی عام بلی نہیں، بلکہ ہمارے گھر کا سب سے لاڈلا، سفید و براؤن فر والا شاہی پرشین نژاد "بِلو جوجی” ہے۔ وہ جو اگلے چند دنوں میں اپنی زندگی کے تین سال مکمل کرنے والا ہے، یعنی تین سال سے ہماری خوشیوں اور مسکراہٹوں کا مرکز! پرشین بلیاں اپنی معصومیت اور گھر کے اندر رہنے کی عادت کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، شاید اسی لیے آج کا دن ہمارے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھا۔

    صبح نہ جانے کب وہ چپکے سے گھر کا کھلا دروازہ دیکھ کر باہر نکل گیا۔ دن ڈھلا، دوپہر گزری اور پھر شام کے سائے گہرے ہونے لگے، لیکن جوجی کا کہیں پتہ نہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دل میں عجیب عجیب سے وسوسے اور خوفناک خیالات پنپنے لگے تھے۔ "وہ تو باہر کی دنیا سے واقف ہی نہیں، کسی دوسری گلی کے کتے یا بلی نے اسے نقصان نہ پہنچایا ہو؟” ان سوالوں نے جیسے سانسیں روک دی تھیں۔

    آخر کار، ہم سب اسے ڈھونڈنے باہر نکلے۔ محلے کا کونا کونا چھان مارا، اور پھر قدم ایک سنسان گلی کی جھاڑیوں کے پاس جا کر رک گئے۔ دل کی دھڑکنیں تیز تھیں۔ میں نے دھیمی اور پیار بھری آواز میں پکارا: "جوجی۔۔۔ جوجی۔۔۔”
    میری آواز سنتے ہی جھاڑیوں کے بیچ سے ایک ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی اور جوجی کی ایک جھلک نظر آئی۔ وہ ایک ڈرا ہوا، سہما ہوا بچہ بن کر وہاں چھپا بیٹھا تھا، باہر کے ماحول نے اس نازک پرشین بچے کو بری طرح ڈرا دیا تھا۔ وہ خوف کے مارے باہر ہی نہیں نکل رہا تھا۔ آخر کار، ایک ڈنڈے کی مدد سے جھاڑیوں کو ہٹا کر اسے پیار سے باہر نکالا اور گود میں اٹھا کر گھر لے آئے۔

    گھر آتے ہی جوجی سیدھا پانی کے پیالے کی طرف لپکا، جیسے صدیوں کا پیاسا ہو۔ پانی پی کر جب اس نے چکن کھایا، تو اس کی جان میں جان آئی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہ اپنی مخصوص آواز میں "میاؤں میاؤں” کرتا ہوا دوبارہ کھانے کے برتن کے پاس آ کھڑا ہوا، جیسے کہہ رہا ہو کہ پورے دن کا کوٹہ تو اب پورا کرنا ہے۔ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد، وہ اپنی تمام تھکن اور خوف بھلا کر گہری اور پرسکون نیند سو گیا، اور ہم نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ ہمارا تین سال کا ساتھی ہمارے پاس محفوظ ہے۔

  • جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس،تحریر: کاشف خان

    جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس،تحریر: کاشف خان

    ہمارے معاشرے میں صدیوں سے ایک کہاوت مشہور ہے: "جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس۔” چند الفاظ پر مشتمل یہ کہاوت دراصل ہمارے سماجی نظام کی ایک تلخ حقیقت کو بیان کرتی ہے۔ جہاں طاقتور اپنی طاقت کے بل بوتے پر فیصلے کرواتا ہے اور کمزور اپنے حق کے باوجود انصاف کے دروازے پر کھڑا رہتا ہے۔

    یہ کہاوت صرف دیہاتی زندگی یا مویشیوں کے جھگڑے تک محدود نہیں، بلکہ آج کے معاشرے میں اس کے کئی روپ نظر آتے ہیں۔ کہیں دولت طاقت بن جاتی ہے، کہیں عہدہ، کہیں سیاسی اثر و رسوخ، کہیں تعلقات اور کہیں صرف یہ یقین کہ کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جب طاقت قانون سے بالاتر محسوس ہونے لگے تو پھر حق اور باطل کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔

    ایک غریب آدمی سارا دن محنت کرتا ہے، اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتا ہے اور اپنی محنت کا جائز معاوضہ مانگتا ہے۔ لیکن اگر اس کے مقابل کوئی بااثر شخص کھڑا ہو جائے تو اکثر غریب کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس نہ سفارش ہے، نہ وسائل اور نہ ہی طاقتور لوگوں تک رسائی۔ چنانچہ وہ اپنے حق سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

    اسی طرح ہمارے اردگرد ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں کسی کمزور کی زمین، دکان، ملازمت یا حق پر طاقتور نظریں جما لیتا ہے۔ کمزور شخص قانون سے رجوع کرتا ہے، درخواستیں دیتا ہے، دفاتر کے چکر لگاتا ہے، لیکن انصاف کا سفر اتنا طویل ہو جاتا ہے کہ بعض اوقات وہ تھک کر خاموش ہو جاتا ہے۔

    یہ صورت حال صرف کمزور فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیونکہ جب لوگوں کا قانون اور انصاف پر اعتماد کم ہونے لگے تو معاشرے میں مایوسی، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔

    ایک ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیار، خزانے یا بڑے بڑے ادارے نہیں ہوتے، بلکہ اس کا انصاف کا نظام ہوتا ہے۔ اگر ایک عام شہری کو یقین ہو کہ اس کی بات بھی سنی جائے گی اور طاقتور کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا تو معاشرے میں امن پیدا ہوتا ہے۔

    ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ طاقتور ہونا حق دار ہونے کی علامت ہے۔ طاقت انسان کو اختیار دے سکتی ہے، مگر حق نہیں دیتی۔ حق دلیل، قانون، انصاف اور سچائی سے پیدا ہوتا ہے۔

    بدقسمتی سے ہم بعض اوقات خود بھی اس رویے کو فروغ دیتے ہیں۔ جب کوئی بااثر شخص غلط کام کرے تو ہم خاموش رہتے ہیں، لیکن وہی کام کوئی کمزور شخص کرے تو اسے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ہمیں اپنے اس دوہرے معیار کو ختم کرنا ہوگا۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ "جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس” کے بجائے ہمارے معاشرے کا اصول "جس کا حق، اُسے حق” ہونا چاہیے۔ قانون کی نظر میں امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور، عہدے دار اور عام شہری سب برابر ہوں۔

    یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت ہمیشہ ایک شخص کے پاس نہیں رہتی۔ وقت بدلتا ہے، عہدے بدلتے ہیں، حالات بدلتے ہیں۔ جو آج طاقتور ہے، ممکن ہے کل اسے بھی کسی ایسے انصاف کی ضرورت پڑ جائے جو آج وہ کسی کمزور کو دینے سے انکار کر رہا ہے۔

    اس لیے طاقت کے نشے کے بجائے انصاف کی طاقت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کیونکہ لاٹھی کے زور پر حاصل کیا گیا اختیار وقتی ہو سکتا ہے، مگر انصاف کی بنیاد پر قائم معاشرہ نسلوں تک قائم رہتا ہے۔

    آخرکار بھینس اُس کی نہیں ہونی چاہیے جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو، بلکہ اُس کی ہونی چاہیے جس کا حق ہو۔ یہی ایک مہذب، مضبوط اور انصاف پسند معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

  • میرا تعارف،  زینب جہانزیب

    میرا تعارف، زینب جہانزیب

    کبھی کبھی انسان اپنی زندگی میں کچھ راستے خود منتخب نہیں کرتا، راستے خود اسے منتخب کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتا رہتا ہے کہ وہ کہیں جا رہا ہے، مگر برسوں بعد پیچھے مڑ کر دیکھے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر موڑ، ہر ٹھوکر، ہر خاموشی اور ہر بچھڑنا اسے ایک ہی سمت لے جا رہا تھا۔ شاید میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

    میں نے کبھی بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ مجھے لکھاری بننا ہے۔ نہ کبھی یہ سوچا تھا کہ ایک دن میرے نام کے ساتھ شاعرہ یا کالم نگار لکھا جائے گا۔ بس بچپن سے مجھے لفظوں کے ساتھ ایک عجیب سی نسبت محسوس ہوتی تھی۔ کچھ لوگ اپنے دکھ کسی انسان سے کہتے ہیں، کچھ دعاؤں میں رکھ دیتے ہیں، اور کچھ انہیں کاغذ پر اتار دیتے ہیں۔ میں شاید انہی لوگوں میں سے تھی جو اپنے اندر کے شور کو خاموش کرنے کے لیے لفظوں کا سہارا لیتے ہیں۔

    بچپن میں جب بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں،تب کتابیں سمجھ آتی تھیں۔ جب بہت سے سوالوں کا جواب کسی انسان کے پاس نہیں ہوتا تھا، میں کتابوں کے صفحات میں انہیں تلاش کرتی تھی۔ شاید اسی لیے کتاب میرے لیے کبھی محض کتاب نہیں رہی؛ وہ ایک دروازہ رہی ہے، ایسا دروازہ جو باہر کی دنیا سے زیادہ انسان کو اس کے اپنے اندر لے جاتا ہے۔

    میرا نام زینب جہانزیب ہے اور میرا تعلق واہ کینٹ سے ہے۔ آج میں بطور شاعرہ اور کالم نگار اپنے ادبی سفر کو آگے بڑھا رہی ہوں، لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ یہ سفر کہاں سے شروع ہوا تھا تو میں کسی اخبار یا ادبی پلیٹ فارم کا نام نہیں لوں گی۔ میں شاید اپنی والدہ کی کتابوں کی الماری کی طرف اشارہ کروں گی۔

    میری فکری تشکیل میں میری والدہ کا کردار بہت گہرا رہا ہے۔ ان کی دین سے وابستگی نے میرے اندر بھی مذہب، روحانیت اور علم کے لیے ایک ایسی کشش پیدا کی جس نے وقت کے ساتھ میری پوری شخصیت کو متاثر کیا۔ میری عمر تقریباً بارہ برس تھی جب میں اپنی والدہ کی ڈھائی سو سے زائد اسلامی کتب پڑھ چکی تھی۔ اُس عمر میں شاید مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ میں کیا تلاش کر رہی ہوں، مگر آج سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنی اصل تلاش بہت پہلے شروع کر دیتا ہے، صرف اسے اس تلاش کا نام بہت بعد میں سمجھ آتا ہے۔
    کبھی میرے دل میں بھی کچھ خواب تھے، کچھ منزلیں تھیں، کچھ ارادے تھے۔ مگر زندگی ہمیشہ انسان کو اُس راستے پر نہیں لے جاتی جو وہ اپنے لیے چنتا ہے۔ شاید ہم اپنی زندگی کے نقشے بناتے ہیں، مگر اوپر کہیں ایک اور قلم ہماری سمت لکھ رہا ہوتا ہے۔ راستہ بدلا، مگر میری تلاش نہیں بدلی۔ دین، انسان اور اس کے باطن کو سمجھنے کی خواہش کہیں اندر موجود رہی، اور یہی دلچسپی مجھے نفسیات کی طرف لے گئی۔

    نفسیات میرے لیے صرف ایک تعلیمی مضمون نہیں تھی۔ اس نے مجھے انسان کو دیکھنے کا ایک نیا طریقہ دیا۔ میں نے سمجھا کہ ہر مسکراہٹ خوشی نہیں ہوتی، ہر خاموشی سکون نہیں ہوتی اور ہر سخت رویے کے پیچھے سخت دل نہیں ہوتا۔ کبھی ایک انسان اپنے اندر ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے جس کی خبر اس کے قریب ترین لوگوں کو بھی نہیں ہوتی۔
    شاید یہیں سے انسان میرے لیے ایک موضوع نہیں، ایک سوال بن گیا۔

    مجھے آج بھی لوگوں کے الفاظ سے زیادہ ان کے درمیان موجود خاموشی متوجہ کرتی ہے۔ کوئی شخص کیا کہہ رہا ہے، یہ اہم ہے؛ مگر وہ کیا نہیں کہہ پا رہا، شاید یہ اُس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ مجھے چہروں سے زیادہ چہروں کے پیچھے چھپی کہانیاں دلچسپ لگتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میری تحریروں میں انسان بار بار لوٹ کر آتا ہے؛ کبھی اپنی شکست کے ساتھ، کبھی اپنی انا کے ساتھ، کبھی محبت کے ساتھ اور کبھی اُس سوال کے ساتھ جس کا جواب اسے برسوں سے نہیں ملا۔

    میری لکھنے کی ابتدا بھی شاید اسی خاموشی سے ہوئی۔ اسکول کے زمانے میں چھوٹی چھوٹی نظمیں لکھتی تھی۔ جو بات زبان سے نہیں کہہ پاتی، وہ کاغذ پر لکھ دیتی۔ کالج تک پہنچتے پہنچتے اس شوق کو میرے اساتذہ کی حوصلہ افزائی بھی ملنے لگی۔ ادبی مقابلوں میں حصہ لیا، کامیابیاں حاصل کیں اور میرے افسانے کالج کے سالانہ کرونیکلز میں شائع ہوئے۔
    اُس وقت یہ سب چھوٹی چھوٹی خوشیاں تھیں۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو لگتا ہے، شاید زندگی اُس وقت ہی میرے ہاتھ میں قلم رکھ رہی تھی، بس مجھے اس کا احساس نہیں تھا۔
    پھر ایک وقت آیا جب قلم خاموش ہو گیا۔ اور شاید صرف قلم ہی نہیں، میں بھی۔

    زندگی کے کچھ موسم انسان سے بہت کچھ چھین لیتے ہیں۔ کبھی وقت، کبھی لوگ، کبھی یقین، اور کبھی انسان کو خود اپنا آپ اجنبی لگنے لگتا ہے۔ میرے حصے میں بھی ایک ایسا دور آیا جس نے مجھے اندر سے بدل دیا۔ کچھ تجربات انسان کو توڑتے نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود بہت سے جھوٹ توڑ دیتے ہیں۔ وہ چہرے اتار دیتے ہیں جو ہم نے دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں، خود کو یقین دلانے کے لیے پہن رکھے ہوتے ہیں۔
    مگر شاید ہر اندھیرا صرف راستہ روکنے نہیں آتا۔ کچھ اندھیرے انسان کو پہلی بار روشنی کی ضرورت کا احساس بھی دلاتے ہیں۔
    میں نے اسی دور میں اپنے اندر واپس جانا شروع کیا۔ خاموشی سے بھاگنے کے بجائے اسے سننا شروع کیا۔ خود سے سوال کیے۔ کچھ کے جواب ملے، کچھ سوال اور گہرے ہو گئے۔ اور پھر ایک عجیب بات ہوئی؛ میں نے محسوس کیا کہ جس ذات سے میں اتنا دور بھاگ رہی تھی، شاید وہیں واپس جانے کا راستہ میرے اپنے اندر سے نکلتا ہے۔
    یہیں سے میرے لکھنے کا دوسرا سفر شروع ہوا۔

    اب میں صرف واقعات نہیں لکھنا چاہتی تھی؛ میں ان کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت لکھنا چاہتی تھی۔ صرف دکھ نہیں، دکھ کے بعد انسان کے اندر ہونے والی تبدیلی لکھنا چاہتی تھی۔ صرف محبت نہیں، محبت کے بعد انسان کے اندر پیدا ہونے والی معرفت لکھنا چاہتی تھی۔ صرف تنہائی نہیں، اُس تنہائی میں انسان کی اپنے رب سے ہونے والی ملاقات لکھنا چاہتی تھی۔
    اور پھر ایک دن ایسا آیا جب مجھے لگا کہ یہ لفظ میرے نہیں رہے۔
    وہ مجھ سے لکھے جانے لگے۔
    یوں میری پہلی کتاب وجود میں آئی "آئینہ، روشنی اور فنا کا سفر”۔

    یہ کتاب میرے لیے صرف صفحات پر جمع کیے ہوئے الفاظ نہیں، بلکہ میرے اندر سے گزرنے والے ایک طویل سفر کی گواہی ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں انسان پہلے خود کو دیکھتا ہے، پھر اپنے اندر کے اندھیروں سے ملتا ہے، پھر کسی روشنی کی تلاش میں نکلتا ہے اور آخرکار اسے احساس ہوتا ہے کہ جس روشنی کو وہ باہر تلاش کر رہا تھا، اس کی ایک کرن ہمیشہ اس کے اندر موجود تھی۔
    میرے لیے آئینہ صرف چہرہ دیکھنے کا نام نہیں۔ آئینہ وہ لمحہ ہے جب انسان پہلی بار اپنے سامنے کھڑا ہو کر خود سے نظریں ملانے کی ہمت کرتا ہے اور پوچھتا ہے: میں آخر ہوں کون؟
    پھر آتی ہے روشنی۔ وہ روشنی جو آنکھوں کو نہیں، باطن کو روشن کرتی ہے۔ جو انسان کو دوسروں کی خامیاں دکھانے سے پہلے اپنی تاریکیاں دکھاتی ہے۔ جو اسے یہ سمجھاتی ہے کہ کبھی کبھی سب سے بڑا اندھیرا باہر نہیں، انسان کے اپنے اندر ہوتا ہے۔
    اور پھر فنا۔ میرے نزدیک فنا مٹ جانے کا نام نہیں۔ فنا اُس خود ساختہ ذات سے گزرنے کا نام ہے جسے ہم برسوں سے اپنا اصل سمجھتے آئے ہیں۔ انا سے گزرنا، غرور سے گزرنا، اپنی خواہشوں کے شور سے آگے نکلنا اور اُس "میں” سے آزاد ہونا جو ہر چیز کو اپنی ملکیت سمجھتی ہے۔

    اسی لیے یہ کتاب نہ ناول ہے، نہ محض شاعری کا مجموعہ اور نہ روایتی مضامین کی کتاب۔ اس میں انسانی زندگی، روحانیت، تصوف، نفسیات، محبت، خود شناسی، باطن اور انسان کے اندر چلنے والی مختلف کیفیات کو نثر میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پھر ہر مضمون کے بعد اسی خیال یا کیفیت کو ایک غزل کے ذریعے محسوس کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔
    یعنی جہاں نثر انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، وہاں غزل اسی خیال کو محسوس کروانے کی کوشش کرتی ہے۔ ایک ہی احساس، دو مختلف زبانوں میں۔
    میری شاعری بھی میرے لیے صرف شاعری نہیں۔ میں شعر میں صرف محبت کی داستان یا جذبات کی شدت بیان نہیں کرنا چاہتی۔ مجھے وہ لمحہ زیادہ دلچسپ لگتا ہے جب محبت انسان کو خود اُس کی حقیقت تک لے جائے، جب تنہائی شکایت نہیں، معرفت بن جائے، جب درد صرف رونے کی وجہ نہ رہے بلکہ انسان کو اپنے رب کے قریب لے جائے، اور جب انسان کسی دوسرے کو کھوتے کھوتے خود کو پا لے۔

    میرے کالم بھی اسی تلاش کا ایک اور رخ ہیں۔ میں کسی واقعے کو صرف واقعہ سمجھ کر نہیں لکھ پاتی۔ میرے لیے ہر واقعے کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے، اور ہر انسان کے پیچھے ایک کہانی۔ اسی لیے وقت کے ساتھ میرے قلم کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ تصوف اور باطن سے نکل کر میں نے سماجی مسائل، انسانی رویوں، حکومتی و عوامی معاملات اور عام انسان کے سوالات پر بھی لکھنا شروع کیا، کیونکہ میرے نزدیک قلم صرف اپنے اندر کی دنیا کا ترجمان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر معاشرے میں کوئی آواز دب رہی ہو تو قلم کو وہاں بھی سنائی دینا چاہیے۔
    آج میں بطور شاعرہ اور کالم نگار اپنے ادبی سفر کو آگے بڑھا رہی ہوں۔ میری تحریریں مختلف اخبارات اور ادبی پلیٹ فارمز پر شائع ہوتی رہی ہیں، اور اس سفر میں ملنے والی پذیرائی میرے لیے حوصلے کا باعث رہی ہے۔ ادبی مقابلوں میں شرکت اور کامیابیاں بھی اس سفر کا حصہ رہی ہیں، مگر میرے لیے سب سے بڑا اعزاز کوئی ٹرافی، سرٹیفکیٹ یا شہرت نہیں۔

    میرے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ لمحہ ہے جب کوئی اجنبی قاری مجھے کہتا ہے: "آپ نے جو لکھا، وہ جیسے میرے دل کی بات تھی۔” تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید میرے لفظ اپنی منزل تک پہنچ گئے۔
    میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ کسی ایسے شخص تک پہنچیں جو شاید اپنی زندگی کے مشکل دن سے گزر رہا ہو۔ کوئی ایسا دل جو ٹوٹنے کے بعد یہ سمجھ بیٹھا ہو کہ اب کچھ باقی نہیں رہا، یا کوئی ایسا شخص جو اپنے رب سے دور ہو کر بھی اندر سے اسی کو تلاش کر رہا ہو۔
    اگر میرا ایک لفظ اسے روک دے، ایک جملہ اسے سوچنے پر مجبور کر دے، ایک تحریر اسے اپنے آپ سے دوبارہ ملنے کا حوصلہ دے دے، یا ایک غزل اسے یہ احساس دلا دے کہ اس کے اندر ابھی روشنی باقی ہے، تو میرے لیے یہی کافی ہے۔

    میں نے زندگی سے ایک بات سیکھی ہے:
    انسان ہمیشہ ٹوٹ کر ختم نہیں ہوتا، بعض اوقات ٹوٹنے کے بعد پہلی بار اپنی اصل شکل میں آتا ہے۔
    شاید اسی لیے میں اپنے آپ کو آج بھی مکمل لکھاری نہیں سمجھتی۔ میں اب بھی ایک مسافر ہوں۔ اب بھی پڑھ رہی ہوں، سیکھ رہی ہوں، لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں اور اپنے اندر کے سوالوں کے ساتھ چل رہی ہوں۔
    میرا ماننا ہے کہ لکھاری وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب جانتا ہو۔ شاید لکھاری وہ ہے جو اپنے لفظوں سے کسی دوسرے انسان کے اندر وہ سوال جگا دے جسے وہ برسوں سے دفن کیے بیٹھا تھا۔ کیونکہ کبھی کبھی جواب دینے سے زیادہ ضروری سوال پیدا کرنا ہوتا ہے۔
    اور شاید میری پوری تحریری زندگی بھی اسی ایک سوال کے گرد گھومتی ہے:
    ہم دنیا کو سمجھنے میں اتنے مصروف کیوں ہیں کہ خود کو سمجھنا بھول گئے؟
    شاید "آئینہ، روشنی اور فنا کا سفر” بھی اسی سوال کا ایک طویل جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے۔

    ایک ایسا سفر جس میں میں نے پہلے خود کو آئینے میں دیکھا، پھر اپنے اندر کے اندھیروں سے ملی، پھر روشنی کی تلاش کی، اور آخرکار یہ سمجھنے لگی کہ انسان کی سب سے بڑی منزل شاید خود کو پانا نہیں، بلکہ اُس "خود” سے گزر جانا ہے جسے وہ اپنی حقیقت سمجھتا رہا۔
    اور شاید اسی لیے میں آج بھی لکھتی ہوں۔
    کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کہی نہ جائیں تو دل پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کسی کو بتا نہیں سکتا۔ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب کتابوں میں نہیں ملتا، اور کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر انسان کو اکیلا چلنا پڑتا ہے۔
    میں انہی باتوں، انہی احساسات، انہی سوالوں اور انہی راستوں کو لفظ دیتی ہوں۔
    میں لکھتی ہوں کیونکہ میں نے خاموشی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میں لکھتی ہوں کیونکہ میں نے خود کو کھونے کے بعد دوبارہ تلاش کرنے کا سفر دیکھا ہے۔ میں لکھتی ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ایک لفظ کبھی کبھی وہ کام کر دیتا ہے جو ایک پوری گفتگو نہیں کر پاتی۔
    اور شاید سب سے بڑھ کر—
    میں لکھتی ہوں کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ میرے لفظ کسی ایسے دل تک پہنچ جائیں جہاں میری آواز کبھی نہ پہنچ سکے۔

    اگر میرا کوئی لفظ کسی انسان کو اپنے رب کے قریب کر دے، کسی ٹوٹے ہوئے دل میں امید جگا دے، کسی بھٹکے ہوئے شخص کو اپنے راستے پر واپس لے آئے، یا کسی کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دے، تو شاید میرے لکھنے کا مقصد پورا ہو گیا۔
    باقی نام، اعزاز، شہرت، شائع ہونے والی تحریریں اور کتابیں تو اس سفر کے پڑاؤ ہیں۔

    اصل سفر شاید وہ ہے جو لفظ پڑھنے کے بعد کسی انسان کے اندر شروع ہوتا ہے۔
    اور اگر کبھی کوئی مجھ سے پوچھے
    زینب جہانزیب آخر لکھتی کیوں ہے؟
    تو شاید میں اس بار کوئی لمبا جواب نہ دوں۔
    صرف اتنا کہوں:
    میں لکھتی ہوں تاکہ خاموشی لفظ بن سکے،
    لفظ روشنی بن سکے،
    اور روشنی کسی ایک انسان کو اس کے اپنے اندر تک لے جا سکے۔
    یہی میرا سفر ہے۔
    خاموشی سے لفظوں تک۔
    لفظوں سے روشنی تک۔
    اور شاید روشنی سے فنا تک۔
    باقی جو کچھ ہوں،
    شاید وہ میری تحریروں کے درمیان
    کہیں خاموش بیٹھا ہے۔

  • منشیات نوجوان نسل کا دیمک ،تحریر : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    منشیات نوجوان نسل کا دیمک ،تحریر : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    منشیات ایک عالم گیر علت ہے، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر روز بروز بڑھ رہی ہے۔اس کے اثرات اور دہشت گردی کینسر اور ایٹم بمب سے زیادہ خطرناک ہیں۔حیرت ہے اس نے بغیر رنگ، نسل اور مذہب کے ایسی کاروائی کی ہے جس نے قوموں کی تباہی کی گھنٹی بجا دی ہے۔ کوئی اس حقیقت کو مانے یا مانے ظرف اپنا اپنا۔ کیوں کہ گناہ اور جرم چھپ نہیں سکتا۔ یہ ہر حال اور زمانے میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ماضی ، حال اور مستقبل حالات و واقعات کی ایسی تصویر دکھاتے ہیں۔جہاں سچ اور جھوٹ الگ الگ راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔کوئی بھی بات جو قانون قدرت کے خلاف ہوگی۔رد عمل کی زد میں آئے گی۔اُس کا شور آسمان و زمین پر سُنا جائے گا۔معاشرے میں بے بسی کا ایک ایسا ماحول پیدا ہو جائے گا جہاں ہر کوئی اُلجھن کا شکار ہو جائے گا۔منشیات فروشی کا دھندہ عالم کائنات میں ہوا کی طرف پھیلا ہے۔اِس کی اُلودہ فضا نے جسمانی، اخلاقی اور نفسیاتی بیماریوں کو جنم دیا ہے۔کہیں لوگ بیماریوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔کہیں اخلاقی امراض کا چرچا ہے اور کہیں نفسیاتی امراض کی جڑیں ہیں جو پھیل کر قلب و ذہن تک رسائی حاصل کر چکی ہیں۔

    منشیات ایک ناقابل شفاء بیماری ہے جو دُنیا بھر میں کینسر کی طرح پھیل چکی ہے۔آپ کسی بھی ملک چلے جائیں۔وہاں اِس بیماری کے مریض کثرت سے ملیں گے۔وہ اکثر ریلوے اسٹیشنوں کے آس پاس، بس اسٹینڈوں اندر باہر ، ہوٹلوں کے باہر اکثر کھڑے ، سوتے یا مانگتے ہوئے دیکھیں گے۔ان کے ہاتھ میں کشکول ، حلیہ بگڑا ہوا ، بال بِکھرے ہوئے ، گندے اور میلے کپڑے جو اُن کی ذہنی اور جسمانی حالت کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے قاصر یہ طبقہ ایک ایسی راہ پر گامزن ہے جہاں زندگی کی کہانی موت پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے معاشرے کو دیمک سے تشبیہ دی جائے تو کوئی مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ وقت ، حالات اور موسموں نے معاشرے کو ایک ایسی دردناک کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔جہاں پچھتاوے کا راگ سننے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ عموماً والدین کو اُس وقت پتہ چلتا ہے جب پانی سر سے گزر چُکا ہوتا ہے۔یہ منشیات فروشوں کا کالا دھندہ ہے جو شب و روز کی پرواہ کیے بغیر جاری رہتا ہے۔اس کی خرید و فروخت بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک دکاندار اشیائے خوردونوش فروخت کرتا ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک اپنی نوجوان نسل کو تباہ و برباد ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔گلی گلی، شہر شہر، گاؤں گاؤں ایک ایسی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے۔جہاں نوجوانوں کے منہ سے ایسا دُھواں نکلتا ہے جس کی خوش بُو ماحولیاتی اُلودگی کے ساتھ ساتھ ہر خاص و عام کے نتھنوں تک بھی پہنچ جاتی ہے۔افیون ، چرس ، بھنگ ، آئس ، ویو، ویلو ، شراب ، پان اور سگریٹ نوشی جگہ جگہ دستیاب ہے۔معلوم نہیں یہ حالات کی ستم ظریفی ہے یا انسانوں کی اپنی کوتاہی جو نسلِ انسانی کو تباہ و برباد کرنے کی ذمہ دار ہے۔

    اگر دیکھا جائے یہ ہمارے ہی لوگ ہیں جو ہوش کے ناخن لینے کی بجائے ایسے مکروہ اور خطرناک دھندے میں پڑ گئے ہیں۔جہاں بچوں کو بچانا ایک انتہائی مُشکل مرحلہ بن گیا ہے۔ویسے اِن لوگوں سے جنگ بھی کتنی لڑی جائے ان کے پاس خرید و فروخت کے جو نفسیاتی حربے ہیں۔ان تک ایک عام آدمی رسائی نہیں کر سکتا۔ان کے تعلقات و روابط کا نیٹ ورک اس قدر مربوط ہے جہاں یہ سب کو بے وقوف بنا جاتے ہیں۔یہ مختلف تاریخوں و طریقوں سے کاروائی کرتے ہیں۔مثلاً گلی محلے کے بچوں کے ساتھ دوستیاں ، ویڈیو گیم کے ذریعے نئے دوستوں کا انتخاب ، الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے ایسا جال بچھاتے ہیں۔ جہاں نوجوان نسل گمراہ ہو کر ایک ایسے راستے پر محوِ سفر ہو رہی ہے جو ایک اچھے بھلے انسان کو ہلاکت ، بغاوت اور موت تک پہنچا دیتا ہے۔یہ گروہ کہاں سے آئے۔ان کا طریقہ واردات اتنا پچیدہ اور سنسنی خیز ہے، جہاں انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک منشیات فروش تو اپنا دھندا کر جاتا ہے لیکن ایک خاندان کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر جاتا ہے۔اس کی خوشیاں مکمل طور پر بانجھ پن کا شکار ہو جاتی ہیں۔اب تواسکولز ،کالجز اور یونیورسٹیز بھی غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ ہماری نوجوان نسل ایک ایسے چُنگل میں پھنس چُکی ہے۔جہاں سے نکلنا اتنا ہی مُشکل لگتا ہے جیسے کوئی کنویں میں گرا ہوا مینڈک۔

    ہمارے سماج میں ایسی خطرناک اور کالی بھیڑیں سرائیت کر چکی ہیں جنھیں پہچاننا اتنا مُشکل ہو گیا ہے جیسے آنکھوں میں کالا موتیا بینائی سے محروم کر دیتا ہے۔
    ایسے دِل خراش واقعات کو غربت اور مہنگائی جنم دے رہی ہے۔ ظاہر ہے جس معاشرے میں روزگار کے مواقع میسر نہ ہوں گے۔پھر وہاں کے لوگ ایسے پیشہ جات سے منسلک ہو جائیں گے جو غیر فطری ہونے کے ساتھ ساتھ نسلِ نو کی تباہی کا سبب بھی بنیں گے۔ یہ کوئی قسمت کا کھیل تو نہیں ہے بلکہ انسانیت بچانے کا وقت ہے۔اِسے قسمت کے کھیل سے مُنسوب کر دینا ایک ایسی حماقت ہے جو قوم کے بچوں کی شہ رگ کاٹ رہی ہے۔نسل کشی کا ایک ایسا موسم جو آکسیجن کا دروازہ بند کر رہا ہے۔اُلودگی و ناپاکی کے جراثیم بکھیر رہا ہے۔بچوں کے ہاتھ میں کتاب یا ہنر ہونے کی بجائے سگریٹ کی ڈبی اور ایسی خطرناک الیکٹرک ڈیوائسز ہیں جو زندگی کو موت کے حوالے کر رہی ہیں۔بچوں ، بڑوں اور خواتین میں اس بات کا مسلسل رحجان بڑھ رہا ہے۔جہاں زندگی بے معنی ہو گئی ہے۔مستقبل تباہ و برباد، جینے کی امید اور نہ بڑھنے کا جذبہ بس قید و بند کی صحبتیں برداشت کرنے کا موسم آباد کر رہا ہے۔جگہ جگہ ہلاکتیں اور دہشتیں ہیں۔جلاؤ گیراؤ جیسے واقعات ہیں۔ ظلم و ستم کی زنجیریں ہیں۔ زندگی غیروں کے ہاتھ بک چکی ہے۔نوجوان نسل کا کوئی پُرسان حال نہیں۔تربیتی ادارے بھی منشیات کے اڈے بن چُکے ہیں جہاں کش لگانے کا رش لگا رہتا ہے۔عصر حاضر میں کئی جنگیں چل رہی ہیں۔ کہیں ہتھیاروں کی جنگ، کہیں سیاست کی جنگ ، کہیں دھوکہ دہی کی جنگ ، کہیں جھوٹ بولنے کی جنگ اور کہیں انسانوں کو قتل کرنے کی سازش بامِ عروج پا ری ہے۔منشیات کے بڑھتے ہوئے رحجان کو روکنے کے لیے اگر اجتماعی طور پر قوم کی فلاح و بہبود کے لیے فیصلے نہ کیے گئے تو نوجوان نسل کا وجود کرچی کرچی ہو کر بکھر جائے گا۔اس سے قبل بہت دیر ہو جائے۔حالات و واقعات پر قابو پانے کے لیے ایسے مُوثر اقدامات کی ضرورت ہے جہاں عام فرد سے لے کر حکومتِ وقت کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ کسی فرد واحد کا مسئلہ تو نہیں ہے بلکہ پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔