Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہمارے بچے، ہم ہیں محافظ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    ہمارے بچے، ہم ہیں محافظ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    معاشرے کی پیشانی پر لگے بدترین داغوں میں سے ایک معصوم کلیوں کو مسلنا اور ان کی بے زبان معصومیت کا سودا کرنا ہے۔ جب بھی کسی پھول جیسے بچے یا بچی پر سفاکیت کا کوئی سانحہ منظرِ عام پر آتا ہے تو دل دہل جاتے ہیں، آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور زبانوں پر ایک ہی نوحہ ہوتا ہے کہ آخر درندگی کا یہ عفریت کہاں سے آتا ہے۔ عوام کا سارا غصہ گلی کے کسی نامعلوم غنڈے، منشیات کے عادی کسی آوارہ گرد یا کسی اجنبی چہرے پر جا کر رک جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین، دردناک اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔ تفتیشی فائلوں، عدالتی کارروائیوں اور چائلڈ پروٹیکشن کے دستاویزی اعداد و شمار کا مطالعہ کیا جائے تو انسانیت شرمسار ہو جاتی ہے کیونکہ سب سے زیادہ وار ان ہاتھوں سے ہوتے ہیں جنہیں ہم اپنا، شفیق اور قابلِ احترام گردانتے ہیں۔ جسے ہم محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں، اکثر وہی قید خانہ ثابت ہوتی ہے اور جسے محافظ سمجھ کر ماتھا چومنے کی اجازت دی جاتی ہے، وہی سفاک شکاری بن کر سامنے آتا ہے۔

    یہ سوال ہر باشعور ذہن کو تڑپاتا ہے کہ آخر اپنے ہی لوگ، خونی رشتے دار یا قریبی شناسا اس قبیح فعل کی دلدل میں کیوں اترتے ہیں۔ اس معاشرتی برائی کی تہہ میں صرف درندگی نہیں بلکہ ایک گہرا نفسیاتی اور معاشرتی بگاڑ چھپا ہے۔ قریبی افراد کے ملوث ہونے کی سب سے بڑی وجہ آسان رسائی اور مکمل اعتماد کا ہونا ہے۔ ہمارے روایتی خاندانی نظام میں رشتوں کے تقدس کے نام پر ایک ایسا پردہ ڈال دیا جاتا ہے جس کے پار دیکھنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک چچا، ماموں، کزن، پڑوسی یا گھریلو ملازم کو بچے تک پہنچنے کے لیے کسی دیوار کو پھلانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ گھر کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں، اور والدین کی طرف سے انہیں حاصل اندھا اعتماد درندے کے لیے سب سے بڑی ڈھال بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک منظم نفسیاتی عمل ہوتا ہے جسے ماہرین گرومنگ کہتے ہیں۔ شکاری پہلے بچے اور اس کے والدین کو محبت، تحائف، شفقت، اور حد سے زیادہ توجہ کے جال میں پھانس کر ان کا بھروسہ جیتتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ بچے کو تنہائی کی طرف راغب کرتا ہے اور پھر اسے دھمکی، بلیک میلنگ یا جھوٹے راز کے شکنجے میں جکڑ دیتا ہے۔ معاشرے میں جنسی کج روی، فحش لٹریچر کی بلا روک ٹوک دستیابی، ذہنی آسودگی کا فقدان اور سزا کے خوف کا نہ ہونا اس آگ پر تیل کا کام کرتا ہے، جہاں بظاہر شریف نظر آنے والا انسان اندر سے بیمار ذہنیت کا غلام بن چکا ہوتا ہے۔

    اس ظلم کا شکار کون ہوتا ہے، بچے یا بچیاں، یہ بحث بھی اکثر سطحی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ سماجی طور پر یہ تاثر عام ہے کہ صرف معصوم بچیاں ہی اس درندگی کی زد میں آتی ہیں، اور دستاویزی رپورٹس میں بھی بچیوں کے کیسز کی تعداد ساٹھ سے پینسٹھ فیصد کے قریب نظر آتی ہے۔ لیکن اصل سچائی یہ ہے کہ بچے، یعنی لڑکے، بھی اتنی ہی کثرت سے نشانہ بنتے ہیں جتنی بچیاں۔ فرق صرف رپورٹنگ اور معاشرتی منافقت کا ہے۔ ہماری سماجی بناوٹ میں بچیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر پھر بھی کبھی بات نکل جاتی ہے، لیکن بیٹوں کے حوالے سے معاشرے میں جھوٹی غیرت اور مردانگی کے فرسودہ تصورات اس قدر مضبوط ہیں کہ اگر کسی معصوم لڑکے کے ساتھ کوئی قریبی شخص بدفعلی کر بھی گزرے تو خاندان اسے ہمیشہ کے لیے دفن کر دیتا ہے۔ والدین اس خوف سے چپ سادھ لیتے ہیں کہ لڑکے کا نام خراب ہوگا، اس کی مردانگی پر داغ لگے گا یا لوگ مذاق اڑائیں گے۔ یہی مصلحت پسندانہ خاموشی درندوں کو مزید دلیر بناتی ہے اور دونوں جنسیں برابر کی بے بسی کے ساتھ اس بربریت کی نذر ہوتی چلی جاتی ہیں۔

    عمر کے گروپس کا جائزہ لیا جائے تو زخم اور گہرے ہو جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ عمر کا گروپ چھ سے پندرہ سال کے درمیانی عرصے پر مشتمل ہوتا ہے، جو کل سانحات کا آدھے سے زیادہ حصہ بنتا ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچہ گھر کی چوکھٹ پار کر کے اسکول، گلی، اکیڈمی یا محلے کی دکان تک جانے لگتا ہے۔ اس کے اندر دنیا کو دیکھنے کی حس بیدار ہوتی ہے مگر وہ اپنا دفاع کرنے یا برے ارادوں کو مکمل پرکھنے کی سکت نہیں رکھتا۔ دوسری طرف ایک انتہائی المناک طبقہ پانچ سال یا اس سے بھی کم عمر کے دودھ پیتے اور ننھے بچوں کا ہے، جو پندرہ سے بیس فیصد تک رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان کمسن بچوں کا رونا، چیخنا یا کچھ بتانا صرف زبان نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اپنی ذات میں ہی دم توڑ دیتا ہے۔ اس کے بعد سولہ سے اٹھارہ سال کے نو عمر آتے ہیں جنہیں سوشل میڈیا، جذباتی بلیک میلنگ یا دھوکے کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یوں زندگی کے ہر اس دور کو دانستہ نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں بے بسی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

    مجرمان کے چہروں سے نقاب الٹا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اجنبی تو محض پندرہ سے بیس فیصد واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔ باقی اسی سے پچاسی فیصد درندے وہی ہوتے ہیں جنہیں بچے سلام کرتے ہیں، جن کی گود میں بیٹھتے ہیں یا جنہیں گھر کی دہلیز پر چائے پیش کی جاتی ہے۔ ان میں سب سے بڑا تناسب یعنی تقریباً پچاس فیصد کے لگ بھگ پڑوسی، محلے دار، دکاندار، گھریلو ملازمین، وین ڈرائیورز اور روزمرہ کے آشنا افراد پر مشتمل ہوتا ہے جن سے بچے کا دن رات کا واسطہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ افراد آتے ہیں جنہیں بااختیار اور مقدس سمجھا جاتا ہے، جیسے اسکول و اکیڈمی کے اساتذہ، نچلا عملہ، یا ٹیوٹرز۔ اس فہرست میں سب سے زیادہ دل چیر دینے والا طبقہ خون کے رشتے دار ہیں، جن میں قریبی کزنز، چچا، ماموں، بہنوئی، پھوپھا یا سوتیلے رشتہ دار شامل ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات میں بدقسمتی سے خاندان کے بزرگ معاملے کو تھانے لے جانے کے بجائے یہ کہہ کر دبا دیتے ہیں کہ خاندان کی پگڑی اچھلے گی، برادری میں ناک کٹ جائے گی یا بیٹیوں کے رشتے رک جائیں گے۔ انصاف کی یہ قربانی دراصل مجرم کو محفوظ راستہ فراہم کرتی ہے اور مظلوم بچے کو جیتے جی مار دیتی ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ والدین اور محرم رشتے دار، جو فطری طور پر بچے کے پہلے محافظ اور سائبان ہیں، وہ اپنے اس فرض کو کیسے نبھائیں۔ سب سے پہلی اور کڑوی حقیقت یہ تسلیم کرنا ہوگی کہ اندھا اعتماد حفاظت نہیں بلکہ غفلت ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت کے معاملے میں ہر رشتے، چاہے وہ کتنا ہی محترم یا قریبی کیوں نہ ہو، کے سامنے ایک باوقار مگر غیر متزلزل باؤنڈری کھینچنی ہوگی۔ کسی بھی کزن، ماموں، چچا یا پڑوسی کو بچے کو بلاوجہ اپنی گود میں زیادہ دیر بٹھانے، بند کمروں میں لے جا کر دروازہ بند کرنے، یا بچے کے ساتھ حد سے زیادہ غیر فطری تنہائی پسند کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ پیار اور نامناسب لمس کا فرق والدین کو خود بھی سمجھنا ہوگا اور نہایت نرمی کے ساتھ اپنے بچوں کو بھی سکھانا ہوگا۔

    بچوں کے ساتھ ایک ایسا دوستانہ، شفقت بھرا اور غیر مشروط محبت پر مبنی تعلق قائم کرنا ناگزیر ہے جہاں بچہ اپنے ساتھ پیش آنے والی معمولی سی جھجک یا عجیب بات کو بھی بغیر کسی جھجک کے اپنے والدین سے کہہ سکے۔ اکثر بچے اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ الٹا انہیں ہی ڈانٹ پڑے گی یا ان پر شک کیا جائے گا۔ والدین کو اپنے بچوں کی جسمانی زبان پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر کوئی ہنستا کھیلتا بچہ اچانک خاموش رہنے لگے، اکیلے میں خوفزدہ ہو، بستر گیلا کرنے لگے، اس کے رویے میں چڑچڑاہٹ آ جائے، یا وہ کسی خاص فرد کے آنے پر سہم جائے یا اس کے پاس جانے سے انکار کرے، تو اسے ضد مت سمجھیں بلکہ فوری طور پر اس کی تہہ تک پہنچیں۔ یہ بچے کی خاموش پکار ہوتی ہے جو خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہوتی ہے۔

    اسکولوں اور گھروں میں بچوں کو جسمانی خود مختاری اور پرائیویٹ پارٹس کا تصور عزت اور سلیقے کے ساتھ سکھانا فرض ہے۔ انہیں بتائیں کہ ان کا جسم ان کی امانت ہے، اور کسی کو بھی، چاہے وہ کتنا ہی پیارا یا بزرگ کیوں نہ ہو، ان کے مخصوص حصوں کو چھونے یا دیکھنے کا کوئی حق نہیں۔ بچوں کو صاف لفظوں میں سمجھایا جائے کہ اگر کوئی انہیں ایسا کرنے کو کہے، یا انہیں کوئی غلط چیز دکھائے، یا اسے کسی راز کے نام پر چھپانے کی تاکید کرے، تو وہ سختی سے انکار کریں، اونچی آواز میں شور مچائیں اور فوراً بھاگ کر اپنی ماں یا باپ کو بتائیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کی اس بات پر یقین کریں، کیونکہ بچے اس قسم کی باتوں میں عموماً جھوٹ نہیں بولتے۔

    وقت آ گیا ہے کہ خاندانی مصلحت پسندی اور جھوٹی عزت کے خول کو توڑ پھینک دیا جائے۔ اگر خاندان کا کوئی بھی فرد، چاہے وہ کتنا ہی بڑا رتبہ رکھتا ہو، بچے کے ساتھ بدنیتی یا بدسلوکی کا مرتکب پایا جائے تو اسے تحفظ دینے کے بجائے سخت قانونی گرفت میں لایا جائے۔ جب تک ہم مجرم کو بے نقاب کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرتے رہیں گے، تب تک ہمارے آنگن کے پھول اسی طرح تاراج ہوتے رہیں گے۔ والدین کو چوکنا نگہبان بننا ہوگا، کیونکہ محافظ اگر غفلت کی نیند سو جائے تو پھر ماتم کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا۔ بچوں کا بچپن بچانا صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ہماری روح، ہمارے ضمیر اور نسلِ نو کے مستقبل کی بقا کا سوال ہے۔

  • مہندی اور انسان،تحریر:عَائِشَہ گُل

    مہندی اور انسان،تحریر:عَائِشَہ گُل

    مہندی لگنا سب لڑکیوں کو اچھا لگتا ہے۔ ہر لڑکی چاہتی ہے کے میرے ہاتھ خوب صورت لگے اچھے لگے!مجھے بھی مہندی بہت اچھی لگتی ہے۔ یہ تو ہو گئی آپ کی اور میری پسند کی بات! آپ سوچ رہے ہوگے کہ آج کی تحریر میں کچھ پسند کی باتیں ہونگی۔ لیکن ایسا بلکل نہیں ہے۔ میں کچھ اور بات کرنے والی ہوں۔ اور وہ بات یہ ہے!

    مہندی اور انسان ملی جلی کیفیت کے حامل ہوتے ہیں’ سوال یہ پیدا ہوتا ہے وہ کیسے؟ کہاں مہندی،اور کہاں انسان دونوں کا ذکر ایک ساتھ کیسے؟وہ ایسے کے جب ہم کسی بھی شخص سے ملتے ہیں،یا کوئی ہم سے ملتا ہے۔تو بہت تکلف ہوتا ہے کے سامنے والے کو کوئی بات بری نہ لگ جائے،اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں،اچھے طریقے سے ملتے ہیں۔یہ ہوئی پہلی ملاقات! اب جیسے جیسے کچھ لوگوں کی اصلیت ہمارے سامنے آتی جائے گی ہم بیزار ہونے لگتے ہیں۔ہمارا دل نہیں کرتا ملنے کو،بات کرنے کو! وجہ کیا ہوتی ہے؟ کہ شروع میں تو کافی اچھے بنتے تھے۔ اصل بات تو ملنے،اور جاننے کے بعد پتا چلتی ہے۔

    "اسطرح جب نئی نئی مہندی لگتی ہے تو اس کا رنگ کتنا خوبصورت لگتا ہے”۔ جس کی وجہ سے ہاتھوں کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور جیسے جیسے اس کا رنگ پھیکا پڑنے لگتا ہے تو یہ بد صورت ہو جا تی ہے۔ بس یہی فکر لاحق ہوتی ہے کہ جلدی سے یہ اتر جائے اس کی وجہ سے ہاتھ برے لگتے ہیں۔۔۔۔ ایسا ہی ہے ناں؟؟؟
    اب آپ بتایئں ہوئے نہ انسان اور مہندی ایک ہی کیفیت کے مالک؟

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کا مستقبل،تحریر:کاشف خان

    دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کا مستقبل،تحریر:کاشف خان

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس جنگ میں افواجِ پاکستان، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور عام شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ آج بھی جب ملک کے کسی حصے میں دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو صرف چند خاندان متاثر نہیں ہوتے بلکہ پوری قوم خوف، بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔

    دہشت گردی صرف ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ملک کی معیشت، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری، روزگار اور سماجی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جہاں جان و مال کا تحفظ یقینی نہ ہو وہاں کاروبار کیسے ترقی کرے گا؟ سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کیسے ملیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر، آنے والی نسل ایک پُرامن پاکستان کا خواب کیسے دیکھے گی؟

    پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے اہم ضرورت امن اور استحکام ہے۔ بندوق کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے، لیکن صرف طاقت کے استعمال سے مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط قانون، فوری انصاف، سرحدی نگرانی، جدید پولیسنگ اور ریاستی اداروں کے درمیان بہتر رابطے کے ساتھ ساتھ ایسے سماجی اور معاشی اقدامات بھی ضروری ہیں جو نوجوانوں کو انتہا پسندی کے راستے سے دور رکھیں۔

    ایک تعلیم یافتہ، باہنر اور باعزت روزگار رکھنے والا نوجوان کسی بھی انتہا پسند گروہ کے لیے آسان شکار نہیں ہوتا۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک اہم محاذ اسکول، کالج، یونیورسٹی اور روزگار کے میدان بھی ہیں۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا مقصد خوف پیدا کرنا ہے۔ اگر ایک واقعہ پورے معاشرے کو مفلوج کر دے، کاروبار بند ہونے لگیں، لوگ اپنے مستقبل سے مایوس ہونے لگیں اور نوجوان ملک چھوڑنے کو ترجیح دینے لگیں تو دہشت گرد اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب ہو جاتے ہیں۔اس لیے ریاست اور عوام دونوں کو مل کر یہ پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکے گا۔

    تاہم قومی یکجہتی کا مطلب یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔ حکومت، اپوزیشن، سیاسی جماعتیں، مذہبی رہنما، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام سب کو قومی سلامتی کے معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن ملکی سلامتی اور انسانی جانوں کے تحفظ پر قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ دہشت گردی کی خبر عوام تک پہنچانا صحافت کی ذمہ داری ہے، لیکن خوف، افواہ اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانا کسی صورت صحافت نہیں۔ ذمہ دار میڈیا دہشت گردی کے خلاف قومی شعور پیدا کر سکتا ہے اور عوام کو حقیقت، احتیاط اور اتحاد کا پیغام دے سکتا ہے۔

    پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ اس بات سے بھی ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو کیسا معاشرہ دیتے ہیں، نوجوانوں کو کیا مواقع فراہم کرتے ہیں، قانون کی حکمرانی کس حد تک قائم کرتے ہیں اور عام شہری کو کتنا محفوظ محسوس کراتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف فوجی کارروائی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے قومی تعمیرِ نو کا مشن بنایا جائے۔

    ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں بازار خوف کے بغیر کھلیں، بچے محفوظ ہو کر اسکول جائیں، مزدور اطمینان سے روزگار کرے، کاروباری شخص سرمایہ کاری کرے، صحافی آزادی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرے اور ہر شہری کو یقین ہو کہ ریاست اس کی جان و مال کے تحفظ کے لیے موجود ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے اور آج بھی قوم کے پاس قربانی، عزم اور صلاحیت موجود ہے۔

    پاکستان کا مستقبل خوف میں نہیں، امن میں ہے۔پاکستان کی ترقی دہشت گردی کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور قومی اتحاد سے جڑی ہوئی ہے۔اب وقت ہے کہ ہم صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ نہ لڑیں بلکہ ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں جہاں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ ہی باقی نہ رہے۔وعدے نہیں، عملی اقدامات ہی پاکستان کا محفوظ مستقبل بنا سکتے ہیں۔

  • میرا تعارف ،ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    میرا تعارف ،ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    تمہید: ایک قلم کئی جہتیں ؛
    ادب کسی عہد کے اجتماعی شعور، تہذیبی رویّوں اور انسانی احساسات کا آئینہ ہوتا ہے، جو قلم کار اپنے گردوپیش کی زندگی کو محض دیکھتا نہیں بلکہ اسے محسوس کرتا، سمجھتا اور لفظوں میں ڈھالتا ہے۔
    وہ اپنے عہد کی ادبی تاریخ میں ایک الگ شناخت پیدا کرتا ہے۔ڈاکٹر شاہد ایم شاہد بھی ایسے ہی ادبی قافلے میں شامل ہیں جن کی علمی و ادبی شخصیت مختلف جہتوں سے عبارت ہے۔ ان کے ہاں ادب، صحافت، تعلیم، صحت، روحانیت اور معاشرتی شعور ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی فکری سلسلے کی مختلف کڑیاں محسوس ہوتے ہیں۔

    25 مارچ 1979ء کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے شاہد مسیح نے ادبی دنیا میں ’’شاہد ایم شاہد‘‘ کے قلمی نام سے اپنی شناخت بنائی۔ ان کا تعلق ایک ایسے خطے سے ہے جس کی مٹی میں محنت، تہذیب، سادگی اور زندگی کی گہماگہمی رچی بسی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے فکری سفر میں عام انسان کی زندگی، اس کے مسائل، امیدیں، خواب اور روحانی و اخلاقی سوالات نمایاں طور پر جگہ پاتے ہیں۔

    تعلیم: علم کی طرف ایک مسلسل سفر ؛
    ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی شخصیت کا بنیادی وصف ان کا علمی شغف ہے۔ انھوں نے اپنی تعلیم کو کسی ایک مرحلے پر محدود نہیں کیا بلکہ مختلف علمی مدارج طے کرتے ہوئے اپنے دائرۂ مطالعہ کو وسعت دی۔ میٹرک کی تعلیم بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد سے حاصل کرنے کے بعد انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایف اے اور بی اے کیا۔ ایف ایس سی کے لیے معادلہ سرٹیفکیٹ انٹر بورڈ کمیٹی چیئرمین اسلام آباد سے حاصل کیا، جب کہ بی ایس سی کی معادلہ ڈگری وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے حاصل کی۔
    ان کی علمی زندگی کا اہم سنگِ میل ایم اے اردو ہے، جو انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا۔ اردو ادب کی یہ باقاعدہ تعلیم ان کے ادبی شعور کو علمی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ زبان، ادب، اسلوب اور تنقیدی فکر سے ان کی وابستگی اسی وسیع مطالعاتی پس منظر میں پروان چڑھی۔

    تعلیم سے تربیت تک :
    علم اگر کردار اور خدمت میں ڈھل جائے تو اس کی معنویت بڑھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نے علمی تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کو بھی اہمیت دی۔ انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کیا، جب کہ ڈی ایچ ایم ایس پنجاب ہومیوپیتھک میڈیکل کالج ڈگلس پورہ فیصل آباد سی پاس کیا اور نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی، حکومتِ پاکستان نے انہیں رجسٹرڈ ڈپلومہ جاری کیا۔
    یہ امتزاج ان کی شخصیت کا ایک دل چسپ پہلو ہے۔ ایک طرف اردو زبان و ادب کا مطالعہ اور دوسری طرف تعلیم و صحت کا عملی شعور۔ یہی تنوع ان کے قلم کو ایک وسیع موضوعاتی دائرہ عطا کرتا ہے۔ ان کی تحریروں میں زندگی کو محض ادبی استعارے کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت کے طور پر دیکھنے کا رجحان محسوس ہوتا ہے۔

    کتاب: فکر کے موتی اور تجربے کی روشنی ؛
    ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کا اصل تعارف ان کی تصانیف پڑھنے سے سامنے آتا ہے۔ان کی پہلی کتاب ’’بکھرے خواب اجلے موتی‘‘ 2019ء میں شائع ہوئی۔ یہ عنوان ہی اپنے اندر ایک علامتی کیفیت رکھتا ہے۔ خوابوں کا بکھرنا اور پھر انہی بکھرے خوابوں میں سے موتیوں کی تلاش دراصل انسانی زندگی کے تجربے، شکست و امید اور فکر و شعور کی ایک خوب صورت تمثیل بن جاتا ہے۔
    2020ء میں ان کی دوسری کتاب ’’آؤ زندگی بچائیں‘‘ منظرِ عام پر آئی۔یہ عالمی دنوں پر مشتمل ہے جو عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام منائے جاتے ہیں۔اس کتاب میں دنوں کا تعارف ، بیماریوں کی مکمل تفصیل اور علاج و معالجہ درج ہے۔ اس عنوان میں محض صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ زندگی کی قدر، انسانی ذمہ داری اور اجتماعی شعور کا پیغام بھی پوشیدہ ہے۔ 2022ء میں تیسری تصنیف ’’گوہر افشاں‘‘،شائع ہوئی جس میں ادبی مضامین شامل ہے جو ہر انسان کو ایک ایسے جہان میں لے جاتے ہیں جہاں زندگی کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ چوتھی تصنیف ’’الفاظ و افکار‘‘ 2023ء میں شائع ہوئی۔آپ اسے یوں سمجھ لے جس میں ایک لفظ کی پانچ سمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک لفظ پانچ اقوال زریں جو لفظ کی حرمت اور آبیاری میں پیش پیش ایک دوسرے کا پیرا ہن پکڑ کر چلتے ہیں۔
    الفاظ و افکار‘‘ جیسی تصنیف اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کے نزدیک لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ فکر کی ترسیل کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک اچھا لکھنے والا الفاظ کو سجاتا نہیں، بلکہ انھیں معنی بھی عطا کرتا ہے۔ اسی طرح ’’گوہر افشاں‘‘ اور ’’ابرِ گوہر‘‘ جیسے عنوانات میں تخلیقی جمالیات اور فکری معنویت کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
    ان کی تحریروں کا ایک نمایاں پہلو مثبت اور تعمیری فکر ہے۔ وہ زندگی کے مسائل کو محض المیہ بنا کر پیش کرنے کے بجائے ان میں امید، اصلاح اور آگے بڑھنے کی گنجائش تلاش کرتے ہیں۔ یہی رویہ ان کے ادبی مزاج کو انسانی اور معاشرتی معنویت عطا کرتا ہے۔
    2024ء میں پانچویں تصنیف ’’ابرِ گوہر‘‘ کی اشاعت نے ان کے تصنیفی سفر کو مزید وسعت دی۔اس کتاب میں چھوٹے چھوٹے نثری مضامین شامل ہیں جس کی تقریب رونمائی 10 اپریل 2025 کو اکادمی ادبیایات پاکستان میں منعقد ہوئی تھی۔ چھٹی تصنیف
    ’’نقوشِ زرنگار‘‘ اقوالِ زریں اور منظوم نگار پروفیسر ونسینٹ پیس عصیم سے متعلق ایک منفرد ادبی کاوش ہے۔
    ان کتابوں کے عنوانات کو سامنے رکھا جائے تو ’’خواب‘‘، ’’زندگی‘‘، ’’گوہر‘‘، ’’الفاظ‘‘، ’’افکار‘‘ اور ’’ابر‘‘ اور نقوش جیسے الفاظ ایک ایسی فکری دنیا تشکیل دیتے ہیں جس میں جذبہ، خیال، تجربہ اور انسانی زندگی باہم مربوط دکھائی دیتے ہیں۔

    زیرِ اشاعت کتب: موضوعات کی وسعت ؛
    ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی علمی سرگرمی ان کی شائع شدہ کتابوں تک محدود نہیں۔ ان کی متعدد کتب زیرِ اشاعت ہیں جن سے ان کے مطالعاتی اور موضوعاتی دائرے کا اندازہ ہوتا ہے۔
    ’’پھلوں کی افادیت‘‘ اور ’’کینسر سے بچیں‘‘ صحت اور عوامی آگاہی سے متعلق موضوعات ہیں۔ ’’پس پردہ‘‘ روحانی کالموں کا مجموعہ ہے ۔ ’’صحرا میں پھول‘‘ ادبی مضامین کا مجموعہ ہے جو ان کے تنقیدی اور فکری ذوق کی نمائندگی کرتا ہے۔ان کی ایک زیر طبع کتاب جو انشائیوں پر مشتمل ہے۔جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔
    یہاں ایک اہم بات قابلِ توجہ ہے کہ ان کے موضوعات ایک ہی دائرے میں مقید نہیں۔ صحت سے روحانیت تک، اقوال سے ادبی مضامین تک، ان کی دل چسپی زندگی کے مختلف مظاہر کو اپنے حصار میں لیتی ہے۔

    صحافت: عہد سے براہِ راست مکالمہ ؛
    ادب جہاں انسان کے باطن سے مکالمہ کرتا ہے، صحافت اسے اپنے عہد کے مسائل سے جوڑتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نے صحافت اور کالم نگاری کے میدان میں بھی مسلسل کام کیا ہے۔ ان کی تحریری وابستگی مختلف اخبارات و جرائد سے رہی ہے، جن میں روزنامہ آفتاب کوئٹہ/اسلام آباد، روزنامہ ایکسپریس سنڈے میگزین، روزنامہ جنگ سنڈے میگزین، ہفت روز آگاہی کراچی، ماہنامہ معالج کراچی، ماہنامہ نیا تادیب لاہور، کرسچن نیوز الرٹ لندن اور پندرہ روزہ کیتھولک نقیب لاہور شامل ہیں۔
    مختلف اخبارات و رسائل میں لکھنے کا تجربہ ان کے قلم کو مختلف طبقات، موضوعات اور قارئین سے جوڑتا ہے۔ کالم نگاری میں روزمرہ زندگی، معاشرتی مسائل، انسانی رویّوں اور فکری موضوعات کو عام فہم انداز میں پیش کرنا ایک اہم ادبی و صحافتی خدمت ہے۔

    ڈیجیٹل عہد اور اردو کا نیا قاری ؛
    وقت کے ساتھ ابلاغ کے ذرائع تبدیل ہوئے تو ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نے بھی اپنے قلم کو ڈیجیٹل دنیا تک وسعت دی۔ مکالمہ، ہم سب، پرتلپی، تادیب ڈاٹ او آر جی اور دی وائٹ پوسٹ ڈاٹ کام ، روزنامہ پہچان پاکستان ، باغی رائٹر فورم جیسی ویب سائٹس پر ان کی تحریروں کی اشاعت اس بات کی علامت ہے کہ وہ جدید ذرائع ابلاغ کی اہمیت سے واقف ہیں۔
    آج کا قاری صرف کتاب اور اخبار تک محدود نہیں۔ وہ موبائل اسکرین پر پڑھتا ہے، مختصر وقت میں مختلف موضوعات سے گزرتا ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے سے اردو تحریر تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ ایسے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم اردو قلم کار کے لیے ایک نئی ادبی بستی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    علمی و ادبی دنیا میں پذیرائی :
    کسی ادیب کے لیے اس سے بڑھ کر علمی اعتراف کیا ہوگا کہ اس کی کتابیں باقاعدہ تعلیمی و تحقیقی مطالعے کا موضوع بنیں۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی دو کتب ’’بکھرے خواب اجلے موتی‘‘ اور ’’گوہر افشاں‘‘ کا مطالعاتی تجزیہ وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کی بی ایس اردو کی طالبہ عنبرین پطرس نے اپنے مقالے کے طور پر کیا۔
    یہ واقع ان کی ادبی خدمات کی ایک اہم جہت سامنے لاتا ہے۔ جب کسی تخلیق کو یونیورسٹی کی سطح پر تحقیق و مطالعے کے قابل سمجھا جائے تو اس کے ادبی وجود کو ایک نئی معنویت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے یہ امکان بھی پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں ان کی دیگر تصانیف پر بھی تحقیقی کام سامنے آئے۔

    اعزازات: اعترافِ قلم ؛
    ادبی سفر میں ایوارڈز منزل نہیں ہوتے، مگر وہ اہلِ قلم کی خدمات کے اجتماعی اعتراف کی علامت ضرور بنتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کو مختلف اوقات میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
    پاکستان کرسچن رائٹرز گلڈ واہ کینٹ کی جانب سے 2011ء میں ’’بیسٹ کالمسٹ ایوارڈ‘‘ اور 2016ء میں ’’جرنلسٹک سروسز ایوارڈ‘‘ دیا گیا۔ 2018ء میں ’’بی ایم حسرت ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ 2019ء میں ایٹرنل لائف منسٹری پاکستان اور آئزک ٹیلی ویژن لاہور کی جانب سے ’’بیسٹ کالمسٹ اینڈ جرنلسٹ ایوارڈ‘‘ حاصل کیا۔2025 میں روزنامہ پہچان پاکستان کی طرف سے عہد ادیب ایوارڈ دیا گیا۔
    ان کی تصانیف کی تقریباتِ رونمائی بھی ان کی علمی و ادبی پذیرائی کا باعث بنیں۔ ’’بکھرے خواب اجلے موتی‘‘، ’’آؤ زندگی بچائیں‘‘ اور ’’گوہر افشاں‘‘ کی تقریبات کے مواقع پر انہیں تعریفی، تحسینی اور تہنیتی اعزازات سے نوازا گیا۔

    ادب، معاشرہ اور انسانی ذمہ داری :
    ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی ادبی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا سماجی شعور ہے۔ ان کے ہاں ادب زندگی سے کٹا ہوا کوئی مجرد فن نہیں بلکہ انسانی مسائل اور معاشرتی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا عمل محسوس ہوتا ہے۔ صحت کے موضوع پر تحریر ہو یا روحانی کالم، ادبی مضمون ہو یا فکری تحریر، ان کے موضوعات میں انسانی زندگی کی بہتری کا جذبہ نمایاں ہے۔
    یہی وہ مقام ہے جہاں ادب محض تفریح نہیں رہتا بلکہ تہذیبی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ ایک قلم کار اپنے عہد کے انسان کو سوچنے، سوال کرنے، بہتر زندگی کی تلاش اور مثبت اقدار کی طرف متوجہ کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی قلمی کاوشوں میں یہی رویہ نمایاں نظر آتا ہے۔

    اختتامیہ: سفر ابھی جاری ہے ؛
    ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی علمی و ادبی زندگی کو ایک مسلسل سفر سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ فیصل آباد کی سرزمین سے اٹھنے والا یہ قلم تعلیم کے مختلف مدارج طے کرتا ہوا اردو ادب تک پہنچا، پھر صحافت اور کالم نگاری کے میدان میں سرگرم ہوا اور اب مطبوعہ ادب کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں بھی اپنا وجود منوا رہا ہے۔
    ان کی تصانیف، زیرِ اشاعت کتب، صحافتی وابستگیاں، تحقیقی مطالعے اور اعزازات ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کے مختلف نقوش ہیں۔ تاہم کسی بھی صاحبِ قلم کی اصل قدر اس کے اعزازات سے زیادہ اس کے قلم کے تسلسل میں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کے ہاں یہ تسلسل موجود ہے۔
    ان کی شخصیت کو ’’لفظ، فکر اور خدمت‘‘ کے تین دائروں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ لفظ ان کا وسیلہ ہے، فکر ان کا موضوع اور انسانی و معاشرتی خدمت ان کے قلم کا ایک بنیادی مقصد دکھائی دیتی ہے۔ یہی امتزاج انہیں ایک ایسے معاصر قلم کار کے طور پر سامنے لاتا ہے جو ادب کو زندگی سے جوڑنے، زندگی کو شعور سے آشنا کرنے اور شعور کو مثبت انسانی اقدار میں ڈھالنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
    اردو ادب کی یہ بستی وسیع ہے اور اس میں ہر عہد اپنے نئے لہجے، نئے سوالات اور نئے قلم کار پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد بھی اسی عہد کے ایک سرگرم اہلِ قلم ہیں جن کے لفظ ابھی سفر میں ہیں، جن کے موضوعات ابھی وسعت پذیر ہیں اور جن کے قلم سے آنے والے وقت میں مزید علمی و ادبی کاوشوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔

  • میرا تعارف،الماس فاطمہ

    میرا تعارف،الماس فاطمہ

    باغی ٹی وی خصوصی انٹرویو: "ادب، تدریس، گھریلو ذمہ داریاں اور جدید ٹیکنالوجی
    کراچی کی مایہ ناز مصنفہ سیدہ الماس فاطمہ سے گفتگو

    تعارف:
    کراچی سے تعلق رکھنے والی سیدہ الماس فاطمہ ایک باصلاحیت لکھاری اور شاعرہ ہیں، جنہوں نے بہت کم عمری میں اپنے قلم کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے ایک طرف نعتِ رسولِ مقبول ﷺ لکھ کر کائنات کی سب سے بڑی روحانی سعادت سمیٹی، بین الاقوامی سطح پر معتبر ادبی ایوارڈز اپنے نام کیے، اسکولوں میں نئی نسل کی علمی آبیاری کی، اور اب اردو ادب میں "روبوٹ گرل” جیسے جدید سائنسی فکشن (Sci-Fi) متعارف کروا رہی ہیں۔ باغی رائٹرز فورم کے لیے ان سے کی گئی گفتگو پیشِ خدمت ہے:

    سوال 1: آپ کے ادبی سفر کا آغاز کیسے ہوا؟ اور اس سفر کا پہلا اہم سنگِ میل کیا تھا؟
    جواب: لکھنے کا شوق مجھے بچپن ہی سے تھا۔ الفاظ سے محبت اور اردگرد کے ماحول کو کہانی کی شکل دینا میری عادت بن گیا تھا۔ میرے ادبی سفر کا پہلا باقاعدہ اور رسمی سنگِ میل تب طے ہوا جب مجھے "طالبِ نظر رائٹرز فورم” کی جانب سے زندگی کا پہلا ادبی ایوارڈ ملا۔ اس ایوارڈ نے میرے حوصلے کو وہ جلا بخشی کہ میں نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

    سوال 2: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اسکول میں تدریس (Teaching) کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں۔ اس تدریسی تجربے اور آپ کے گھریلو سفر نے آپ کی لکھاری کی حیثیت سے کیسی تربیت کی؟
    جواب: جی بالکل! انٹرمیڈیٹ کے فوراً بعد میری شادی طے ہو گئی تھی، لیکن اس سے پہلے مجھے اسکول میں بچوں کو پڑھانے کا موقع ملا۔ اسکول میں تدریس کے تجربے نے مجھے بچوں کی نفسیات، ان کی معصومیت اور ان کے مسائل کو بہت قریب سے سمجھنے کا موقع دیا، جس کی بدولت مجھے بچوں کے لیے ادب اور کہانیاں لکھنے میں بہت مدد ملی۔ اگرچہ زندگی کے فیصلے اور گھریلو ذمہ داریاں اپنی جگہ رہیں، لیکن میں نے اپنے لکھنے کے شوق کو کبھی کم ہونے نہیں دیا، بلکہ اپنے مشاہدات کو ہمیشہ قلم کے ذریعے کاغذ پر اتارا ہے۔

    سوال 3: آپ کی تحاریر میں ایک طرف "خاتم النبیین ﷺ” جیسی مقدس کتاب میں شمولیت ہے، تو دوسری طرف سائنسی فکشن۔ ان دونوں بالکل مختلف اصناف میں توازن کیسے پیدا کرتی ہیں؟
    جواب: حضورِ اکرم ﷺ کی مدحت و ثناء پر مبنی عالمی انتھالوجی کتاب "خاتم النبیین محمد ﷺ” میں میری تحاریر کا شامل ہونا میرے لیے دنیا و آخرت کا سب سے بڑا اثاثہ اور مایہ ناز سعادت ہے۔ یہ میرا روحانی پہلو ہے۔ دوسری طرف، سائنسی فکشن میرا ذہنی اور فکری ارتقاء ہے۔ اسلام ہمیں علم، تدریس اور جدید تحقیق کی دعوت دیتا ہے، اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ کائنات پر غور کرنا اور سائنسی موضوعات پر لکھنا بھی ایک لکھاری کا فرض ہے، اور میں ان دونوں میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    سوال 4: اردو ادب میں سائنسی فکشن اور خصوصاً "روبوٹ گرل” جیسے موضوعات پر لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
    جواب: ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور روبوٹکس ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک معلمہ (Teacher) ہونے کے ناطے میں جانتی ہوں کہ نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کرنا کتنا ضروری ہے۔ چنانچہ، میری روبوٹ پر مبنی منفرد کہانی کراچی کے معتبر "زیست میگزین” میں شائع ہوئی، جسے بہت سراہا گیا۔ اب میرا ادبی سفر "روبوٹ گرل” اور جدید ٹیکنالوجی جیسے اچھوتے اور جدید موضوعات کے گرد گھوم رہا ہے۔

    سوال 5: آپ کو بھارت سے "زیب النساء زیبؔی لٹریری ایوارڈ 2024” سے نوازا گیا، اس بین الاقوامی اعزاز پر کیسا محسوس ہوا؟
    جواب: جب آل انڈیا ادبِ اطفال سوسائٹی (انڈیا) کی جانب سے مجھے "زیب النساء زیبؔی لٹریری ایوارڈ 2024” دینے کا اعلان ہوا، تو یہ صرف میری نہیں بلکہ پورے پاکستان کی عزت تھی۔ یہ ایوارڈ مجھے شاعری، نثر، افسانہ نگاری اور بچوں کے ادب میں مجموعی خدمات پر دیا گیا، جس میں یقیناً میرے اسکول ٹیچنگ کے مشاہدات کا بھی بڑا ہاتھ رہا۔ اس کے علاوہ، پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے بین الاقوامی افسانوی مقابلے (2023) میں "سرٹیفکیٹ آف ایکسی لینس” ملنا اور ان کی کتاب "زمین اداس ہے” میں بطور انٹرنیشنل کو-آتھر شامل ہونا بھی میرے لیے انتہائی حوصلہ افزا رہا۔

    سوال 6: آپ کو پاکستان بھر کے سرفہرست 100 لکھاریوں میں بھی شامل کیا گیا، اس بارے میں کچھ بتائیں۔
    جواب: جی بالکل، لاہور کے مشہور اور معتبر ماہنامہ "پھول” میگزین کے چیف ایڈیٹر نے مجھے ملک بھر کے سرفہرست 100 لکھاریوں میں منتخب کیا، جس کے بعد مجھے نیشنل اہلٔ قلم کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے قومی سطح پر بہت بڑا اعزاز تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ معروف ادیب کاوش صدیقی صاحب کے ادبی سلسلے "31 تبصرے” میں بہترین کارکردگی پر نقد رقم کا انعام ملنا بھی میرے سفر کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔

    سوال 7: آپ کی آنے والی کتب اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں قارئین کو کچھ بتائیں۔
    جواب: اب تک میری تحاریر معتبر علمی سلسلے مقیاس الادب کی کتب "دینِ اسلام” اور "الصحابیات الجلیلات” کا حصہ بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، میرے لیے انتہائی فخر کی بات ہے کہ میری ادبی تخلیقات معتبر انتھالوجی کتب "اردو زبان کی جنگ” اور ختمِ نبوت پر مبنی موضوعاتی کتاب "خاتم النبیین محمد ﷺ” میں شامل کی گئی ہیں، اور "اردو زبان کی جنگ” کتاب پر مجھے خصوصی شیلڈ سے بھی نوازا گیا ہے، جو کہ میرے ادبی سفر کا ایک یادگار سنگِ میل ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ میری شاعری اور دیگر تحاریر معروف اسکالر ڈاکٹر خضر حیات کی زیرِ نگرانی مرتب ہونے والے مجموعے اور ایک اور جامع اردو انتھالوجی کے لیے منتخب ہو چکی ہیں، جو کہ بہت جلد شائع ہو کر منظرِ عام پر آنے والی ہیں۔ مستقبل میں میرا ارادہ سائنسی فکشن پر ایک مکمل کتاب لانے کا ہے۔

    سوال 8: باغی رائٹرز فورم کے ذریعے آپ ابھرتے ہوئے نئے لکھاریوں، خصوصاً گھریلو خواتین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
    جواب: میں سب سے یہی کہوں گی کہ کبھی بھی حالات یا ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنے خوابوں کو ادھورا نہ چھوڑیں۔ اگر آپ کے پاس لکھنے کی صلاحیت ہے، تو اپنی گھریلو زندگی کے ساتھ بھی اسے جاری رکھیں۔ قلم کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالیں، مطالعہ وسیع کریں، تنقید سے نہ گھبرائیں اور اپنے سینئرز کی عزت کریں۔ میں خود بھی اس بین الاقوامی ادبی حلقے میں اپنے تمام اساتذہ اور سینئرز سے سیکھنے کے لیے ہمیشہ پرجوش رہتی ہیں۔

    نیک تمناؤں کے ساتھ،
    سیدہ الماس فاطمہ

  • مثبت سوچ، مثبت معاشرہ اور روشن پاکستان،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    مثبت سوچ، مثبت معاشرہ اور روشن پاکستان،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    میرے خیال میں ہمارے معاشرہ میں گھٹن اور تنگ نظری کچھ زیادہ اثر دکھا رہی ہے۔معاشرتی بگاڑ کا اثر براہ راست ہمارے رویوں پر پڑ رہا ہے۔ ہمارے معاشرہ میں معاشی اونچ نیچ، معاشرتی تفاوت، سیاسی افراتفری اور تقسیم، غصہ اور جھنجلاہٹ، حسد، بغض اور کینہ ہمہ وقت فروغ پذیر ہیں۔ ان معاشرتی بیماریوں نے ہمارے رہن سہن، ہماری روز مرہ زندگی اور ہمارے رویوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہم نے شاید مثبت سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ آپ کسی دوست سے بات کریں، یا کسی بھی سوشل تقریب میں چلیں جائیں، آپکو مایوسی پھیلانے والی باتیں زیادہ ملیں گی۔ ہر بندہ اپنے حالات سے اور ملکی صورتحال سے پریشان،بلکہ بد دل نظر آئے گا، اسے اس ملک میں ہونے والے بہتر کام نظر نہیں آئیں گے، نہ ہی اپنی حالت پر غور کرے گا، کہ کل وہ کیا تھا اور آج کس مقام پر ہے۔ ناشکری ویسے ہی انسان کی مثبت سوچ کو کھا جاتی ہے۔ ہم جو ہاتھ میں ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے، بلکہ اس کی تمنا کرتے ہیں،جو دوسروں کے پاس نظر آتا ہے۔
    قوموں کی ترقی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی اعداد و شمار سے نہیں ہوتی، بلکہ حقیقی ترقی کا آغاز انسان کے ذہن سے ہوتا ہے۔ جس معاشرے کے افراد مثبت سوچ، برداشت، دیانت، محنت اور احساسِ ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں، وہاں مشکلات کے باوجود ترقی کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس مایوسی، منفی سوچ، الزام تراشی، عدم برداشت اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا رویہ معاشرے کی اجتماعی قوت کو کمزور کر دیتا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ٹریفک کے مسائل، تعلیمی مشکلات، معاشرتی بے چینی اور باہمی اختلافات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان تمام مسائل کے درمیان ایک بنیادی مسئلہ ہماری سوچ اور رویوں کا بحران بھی ہے۔ ہم اکثر مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے مسئلے کو بیان کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ شکایت کے ساتھ حل بھی پیش کریں اور تنقید کے ساتھ اصلاح کی کوشش بھی کریں۔
    مثبت سوچ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان مشکلات کو نظر انداز کر دے یا ہر صورتحال کو اچھا سمجھنے لگے۔ مثبت سوچ دراصل مشکلات کو حقیقت پسندانہ انداز میں تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے امید، حکمت اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے کا نام ہے۔ ایک مثبت انسان ناکامی کو اختتام نہیں بلکہ تجربہ سمجھتا ہے، تنقید کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا موقع سمجھتا ہے اور مشکلات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ بناتا ہے۔

    اگر ایک طالب علم یہ سوچے کہ میں محنت سے اپنی قسمت بدل سکتا ہوں، ایک استاد یہ عزم کرے کہ میں اپنے شاگردوں کی زندگی سنوار سکتا ہوں، ایک تاجر دیانت داری کو اپنا اصول بنائے، ایک سرکاری ملازم اپنے منصب کو عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھے، ایک ڈاکٹر مریض کو صرف ایک کیس نہیں بلکہ ایک انسان سمجھے اور ایک نوجوان اپنے وقت اور صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرے تو یہی چھوٹی چھوٹی مثبت سوچیں مل کر ایک بڑے مثبت معاشرے کو جنم دیتی ہیں۔
    معاشرے کی تعمیر میں نوجوان نسل کا کردار سب سے اہم ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اگر تعلیم، ہنر، تحقیق، کاروبار، ٹیکنالوجی، ادب، کھیل اور سماجی خدمت کی طرف متوجہ ہوں تو پاکستان کے مستقبل کو نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف ملازمت کے متلاشی بنانے کے بجائے انہیں ہنرمند، باصلاحیت، خود اعتماد اور ذمہ دار شہری بنانے کی ضرورت ہے۔
    اسی طرح سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے، جس کے ذریعے علم، شعور اور مثبت پیغام چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی پلیٹ فارم جھوٹ، نفرت، کردار کشی، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کے لیے استعمال ہو تو معاشرتی انتشار بڑھ سکتا ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا کے صارفین کی حیثیت سے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم معاشرے میں نفرت بانٹ رہے ہیں یا امید، علم اور شعور۔
    مثبت معاشرے کی ایک بڑی علامت برداشت اور اختلافِ رائے کا احترام بھی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر شخص ہماری رائے سے اتفاق کرے۔ ایک مہذب معاشرے میں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا۔ ہمیں دوسروں کی بات سننے، دلیل کو سمجھنے اور اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنے کا رویہ اپنانا ہوگا۔ اگر ہم اختلاف کو برداشت کرنا سیکھ جائیں تو ہمارے گھروں، اداروں، سیاسی حلقوں اور سماجی تعلقات میں بہت سی تلخیاں خود بخود کم ہو سکتی ہیں۔
    پاکستان کو روشن بنانے کے لیے صرف حکومت کی ذمہ داری کافی نہیں۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں اپنی جگہ، لیکن شہری بھی معاشرے کا بنیادی حصہ ہیں۔ صفائی کا خیال رکھنا، ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا، سرکاری و نجی املاک کی حفاظت کرنا، ٹیکس اور قانونی ذمہ داریوں کو سمجھنا، ضرورت مند کی مدد کرنا، خون کا عطیہ دینا، درخت لگانا، تعلیم کو فروغ دینا اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بھی پاکستان کی تعمیر میں حصہ ہے۔

    ہم اکثر بڑے انقلاب کا انتظار کرتے ہیں، حالانکہ معاشرتی تبدیلی چھوٹے چھوٹے اقدامات سے شروع ہوتی ہے۔ ایک شخص کسی ضرورت مند کی مدد کرتا ہے، دوسرا کسی بچے کی تعلیم میں تعاون کرتا ہے، کوئی خون عطیہ کرتا ہے، کوئی درخت لگاتا ہے، کوئی کسی مایوس انسان کو امید دیتا ہے اور کوئی اپنے کاروبار میں دیانت داری اختیار کرتا ہے۔ یہ بظاہر معمولی کام ہوتے ہیں، مگر یہی اعمال معاشرے کے مزاج کو تبدیل کرنے کی بنیاد بنتے ہیں۔
    ہمیں اپنے گھروں سے مثبت پاکستان کی بنیاد رکھنی ہوگی۔ بچوں کو صرف کامیابی حاصل کرنے کی تعلیم نہ دیں بلکہ اچھا انسان بننے کی تربیت بھی دیں۔ انہیں سچ بولنے، بڑوں کا احترام کرنے، چھوٹوں سے محبت کرنے، محنت کرنے اور دوسروں کے کام آنے کا درس دیں۔ کیونکہ آج کا بچہ ہی کل کا ڈاکٹر، انجینیئر، استاد، صحافی، افسر، تاجر، سیاست دان اور معاشرتی رہنما بنے گا۔
    پاکستان کا روشن مستقبل کسی ایک فرد، ادارے یا طبقے کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہم سب کے اجتماعی کردار سے وابستہ ہے۔ ہمیں اپنی گفتگو میں مثبت، اپنے فیصلوں میں ذمہ دار، اپنے کردار میں دیانت دار اور اپنے رویوں میں انسان دوست بننا ہوگا۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر مسئلے پر صرف یہ نہ کہیں کہ "ملک میں کچھ نہیں ہو رہا” بلکہ یہ سوال بھی کریں کہ "میں اپنے حصے کا کیا کر رہا ہوں؟”
    اگر ہر پاکستانی اپنے حصے کا چراغ روشن کر دے تو اندھیرا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ مثبت سوچ سے مثبت کردار پیدا ہوتا ہے، مثبت کردار سے مثبت معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور مثبت معاشرہ ہی ایک مضبوط، خوشحال اور روشن پاکستان کی بنیاد بنتا ہے۔
    پاکستان کا مستقبل صرف امید سے نہیں، مثبت سوچ اور عملی کردار سے روشن ہوگا ۔

  • نیویارک ٹائمز اسکوائر کی چکاچوند روشنیوں میں مدحتِ مصطفیٰ ،تحریر:شاہد نسیم جوہدری

    نیویارک ٹائمز اسکوائر کی چکاچوند روشنیوں میں مدحتِ مصطفیٰ ،تحریر:شاہد نسیم جوہدری

    اسلام، امریکہ اور محبتِ رسول ﷺ کا ایک روشن منظر

    رات گہری ہو چکی تھی۔ نیویارک کی سڑکوں پر روشنیوں کا سیلاب تھا۔ بلند و بالا عمارتوں پر نصب بڑے بڑے برقی اشتہارات لمحہ بہ لمحہ رنگ بدل رہے تھے۔ کہیں موسیقی کی دھنیں تھیں، کہیں سیاحوں کا ہجوم، کہیں کیمروں کی چمک اور کہیں تیز قدموں سے گزرتے ہوئے انسانوں کا سمندر۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ شہر کبھی سوتا ہی نہیں۔
    ٹائمز اسکوائر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا تھا۔ دنیا جسے سرمایہ، تجارت، تفریح اور جدید تہذیب کی علامت سمجھتی ہے، وہاں اچانک ایک مختلف منظر ابھرتا ہے۔ چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شور کی تہوں کے پیچھے کوئی روحانی صدا جنم لے رہی ہو۔
    درود و سلام کی آواز بلند ہوتی ہے۔
    لبوں پر نامِ محمد ﷺ آتا ہے۔
    ہزاروں لوگ ایک سمت متوجہ ہو جاتے ہیں۔
    اور پھر یوں لگتا ہے جیسے نیویارک کی چکاچوند میں مدینہ منورہ کی محبت کا ایک چراغ روشن ہو گیا ہو۔
    یہ منظر محض ایک اجتماع نہیں تھا۔ یہ ایک علامت تھا۔ ایک پیغام تھا۔ ایک سوال بھی تھا اور ایک جواب بھی۔
    سوال یہ کہ دنیا کے سب سے جدید، مصروف اور کمرشل شہروں میں اسلام اور محبتِ رسول ﷺ کی آواز کس طرح اپنی جگہ بنا رہی ہے؟
    اور جواب شاید یہی ہے کہ محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

    12 ربیع الاول مسلمانوں کے لیے صرف تاریخ کا ایک دن نہیں، بلکہ عقیدت، محبت، تشکر اور نسبت کا دن ہے۔ یہ وہ مبارک نسبت ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کے دلوں میں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان اپنے اپنے انداز میں میلاد النبی ﷺ کی محافل منعقد کرتے ہیں، درود و سلام پڑھتے ہیں، نعتیں سنتے ہیں اور اپنے آقا و مولا ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو یاد کرتے ہیں۔
    لیکن جب یہی مدحت ٹائمز اسکوائر جیسے مقام پر سنائی دے، جہاں دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہوتی ہیں، تو اس منظر کی معنویت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
    یہ نیویارک ہے!
    وہ نیویارک جسے دنیا جدید امریکہ کی دھڑکن سمجھتی ہے۔
    وہ ٹائمز اسکوائر ہے جو روشن اشتہارات، پاپ کلچر، موسیقی، تفریح اور عالمی کاروباری سرگرمیوں کی علامت بن چکا ہے۔
    اور اسی مقام پر ہزاروں مسلمانوں کا جمع ہونا، درود و سلام پڑھنا، نعتیہ جذبات کا اظہار کرنا، تقاریر سننا اور ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، یقیناً ایک ایسا منظر ہے جسے صرف مذہبی اجتماع کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
    یہ عوامی سطح پر مسلم شناخت کے پُرامن اظہار کا منظر بھی ہے۔
    یہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ اسلام صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ مسلمان جہاں رہتے ہیں وہاں اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت کے ساتھ ایک پُرامن شہری کی حیثیت سے موجود رہتے ہیں۔
    سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ اجتماع کسی تصادم، نفرت یا اشتعال کا منظر نہیں تھا۔ یہاں محبت تھی، درود تھا، نعت تھی، اجتماعیت تھی اور کھانے کی میز پر انسانوں کا انسانوں سے ملنا تھا۔
    یہی تو اسلام کا ایک حسین تعارف ہے۔
    اسلام انسان کو صرف عبادت کا طریقہ نہیں سکھاتا، بلکہ انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت، احترام، بھائی چارے اور عدل کا سبق بھی دیتا ہے۔
    اور اگر اس منظر کو اسی زاویے سے دیکھا جائے تو ٹائمز اسکوائر میں ہونے والی یہ تقریب ایک نہایت خوبصورت پیغام دیتی ہے کہ مسلمان اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ دوسروں کے درمیان رہتے ہوئے بھی امن، محبت اور رواداری کی علامت بن سکتے ہیں۔
    زہران ممدانی کی موجودگی اور ایک بدلتا ہوا امریکہ
    اس تقریب میں زہران ممدانی کی موجودگی نے بھی خاص توجہ حاصل کی۔ ایک معروف عوامی شخصیت کا ایسے اجتماع میں شریک ہونا یا اس کی موجودگی سے وابستہ ہونا اس لیے اہم ہے کہ اس سے امریکہ کے عمومی سماجی منظرنامے میں مسلمانوں کی موجودگی اور ان کی مذہبی شناخت مزید نمایاں ہوتی ہے۔
    یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    امریکہ میں مسلمان کوئی نئی قوم یا اچانک نمودار ہونے والی کمیونٹی نہیں۔ مسلمان کئی دہائیوں سے امریکی معاشرے کا حصہ ہیں۔ وہ ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، اساتذہ ہیں، تاجر ہیں، صحافی ہیں، وکلا ہیں، طلبہ ہیں، سماجی کارکن ہیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    لیکن عوامی سطح پر مذہبی شناخت کا اظہار ہمیشہ ایک الگ موضوع رہا ہے۔
    ٹائمز اسکوائر جیسے مقام پر میلاد النبی ﷺ کا ایسا اجتماع اس حوالے سے اس لیے اہم ہے کہ یہاں مسلمان اپنی شناخت کو چھپانے کے بجائے اسے پُرامن، باوقار اور اجتماعی انداز میں سامنے لاتے ہیں۔
    زہران ممدانی کی موجودگی اسی بدلتے ہوئے امریکہ کی ایک علامت کے طور پر بھی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں مذہبی اور ثقافتی تنوع اب معاشرتی زندگی کا نمایاں حصہ بنتا جا رہا ہے۔
    یہاں کسی کو اپنی شناخت ترک کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
    نہ مسلمان کو مسلمان ہونے پر شرمندہ ہونا چاہیے، نہ کسی دوسرے مذہب یا ثقافت سے تعلق رکھنے والے انسان کو اپنی شناخت کے اظہار پر خوف محسوس ہونا چاہیے۔
    اصل خوبصورتی تو تب ہے جب مختلف شناختیں ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ ایک ہی معاشرے میں سانس لے سکیں۔
    ٹائمز اسکوائر میں درود کی آواز
    کبھی کبھی تاریخ بڑے بڑے ایوانوں میں نہیں بنتی، بلکہ ایک عام انسان کے لبوں سے نکلنے والے کسی ایک لفظ سے تاریخ کا رخ محسوس ہونے لگتا ہے۔
    سوچیے!
    ایک طرف نیویارک کی روشنیاں ہیں۔
    دوسری طرف ہزاروں مسلمانوں کے ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں۔
    ایک طرف جدید دنیا کی تیز رفتار زندگی ہے۔
    دوسری طرف درود و سلام ہے۔
    ایک طرف پاپ میوزک اور تفریح کی چکاچوند ہے۔
    دوسری طرف نعتِ رسول ﷺ کی محبت ہے۔
    یہ منظر کسی تہذیب کو شکست دینے کا منظر نہیں تھا۔
    یہ کسی ثقافت سے جنگ کا منظر نہیں تھا۔
    بلکہ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ انسان جدید بھی ہو سکتا ہے اور اپنے روحانی رشتوں سے جڑا ہوا بھی۔
    ٹیکنالوجی انسان کی ضرورت ہے، لیکن روحانی نسبت انسان کی پہچان بھی ہو سکتی ہے۔
    نیویارک کی بلند عمارتیں ترقی کی علامت ہیں، لیکن انسان کے دل میں بسنے والی محبتِ رسول ﷺ اس کی روحانی دنیا کی علامت ہے۔
    اور یہی وہ نکتہ ہے جسے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    اسلام امریکہ میں صرف موجود نہیں، زندہ بھی ہے
    آج امریکہ میں اسلام کے بارے میں گفتگو صرف مساجد، اسلامی مراکز یا مذہبی کتابوں تک محدود نہیں رہی۔ مسلمان امریکی معاشرے کے مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔
    مساجد آباد ہیں۔
    اسلامی مراکز سرگرم ہیں۔
    نوجوان نسل تعلیم حاصل کر رہی ہے۔
    مسلمان کاروبار کر رہے ہیں۔
    خواتین مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
    اور نئی نسل ایک ایسی شناخت تشکیل دے رہی ہے جس میں امریکی شہری ہونے اور مسلمان ہونے کے درمیان کوئی لازمی تضاد نہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ ٹائمز اسکوائر کا اجتماع محض ماضی کی یاد نہیں، مستقبل کی طرف اشارہ بھی ہے۔
    مسلمان نسلِ نو اپنے مذہب کو صرف ورثے کے طور پر نہیں بلکہ شعوری شناخت کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔
    یہ ایک اہم تبدیلی ہے۔
    وہ قرآن پڑھنا چاہتی ہے، سیرت سمجھنا چاہتی ہے، درود پڑھنا چاہتی ہے، نعت سننا چاہتی ہے، اور ساتھ ہی جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی معاشرے کا حصہ بھی بننا چاہتی ہے۔
    اس میں کوئی تضاد نہیں۔
    بلکہ یہی ایک متوازن زندگی کا راستہ ہے۔
    محبتِ رسول ﷺ کا عالمی سفر
    حضور اکرم ﷺ کی محبت کسی ایک خطے، زبان یا قوم کی میراث نہیں۔
    عرب میں پیدا ہونے والے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت آج ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ اور دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مسلمانوں کے دلوں میں موجود ہے۔
    پاکستان میں کوئی بچہ نعت پڑھتا ہے تو اس کے دل میں بھی مدینہ ہوتا ہے۔
    ترکی میں کوئی درود پڑھتا ہے تو اس کے دل میں بھی مدینہ ہوتا ہے۔
    افریقہ میں کوئی عاشقِ رسول ﷺ نامِ محمد ﷺ لیتا ہے تو اس کے دل کی کیفیت بھی وہی ہوتی ہے۔
    اور نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں جب ہزاروں لب درود سے تر ہوتے ہیں تو یہ اسی عالمی محبت کا تسلسل ہے۔
    یہی محبت اسلام کی سب سے طاقتور روحانی قوتوں میں سے ایک ہے۔
    دنیا کے نقشے بدل سکتے ہیں۔
    سلطنتیں ختم ہو سکتی ہیں۔
    معاشی نظام تبدیل ہو سکتے ہیں۔
    ٹیکنالوجی بدل سکتی ہے۔
    لیکن رسولِ اکرم ﷺ کی محبت نسل در نسل دلوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
    میلاد صرف جشن نہیں، پیغام بھی ہے
    البتہ یہاں ایک بنیادی بات یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ میلاد النبی ﷺ کا اصل حسن صرف چراغاں، اجتماعات یا ظاہری اظہار میں نہیں، بلکہ اس محبت کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے کردار میں ڈھالنے میں ہے۔
    اگر ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہماری زبان میں سچائی ہونی چاہیے۔
    ہمارے معاملات میں دیانت ہونی چاہیے۔
    ہمارے رویوں میں رحم ہونا چاہیے۔
    ہمیں کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
    ہمیں اختلاف میں بھی اخلاق نہیں چھوڑنا چاہیے۔
    ہمیں علم سے محبت کرنی چاہیے۔
    ہمیں پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
    ہمیں انسان کو انسان سمجھنا چاہیے۔
    کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں محبت، رحمت، عدل، اخلاق اور انسانیت کا درس دیتی ہے۔
    اس لیے ٹائمز اسکوائر میں درود کی آواز اس وقت سب سے زیادہ خوبصورت محسوس ہوگی جب وہ آواز مسلمانوں کے کردار میں بھی سنائی دے۔
    امریکہ اور اسلام: تصادم نہیں، مکالمہ
    اسلام اور مغرب کے تعلقات کو اکثر تصادم کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ کبھی سیاسی واقعات اس بحث کو شدت دیتے ہیں اور کبھی میڈیا کی مخصوص تعبیرات غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں۔
    لیکن ٹائمز اسکوائر کا یہ منظر ہمیں ایک دوسرا راستہ بھی دکھاتا ہے۔
    وہ راستہ مکالمے کا ہے۔
    تعارف کا ہے۔
    امن کا ہے۔
    ایک دوسرے کو سمجھنے کا ہے۔
    اگر مسلمان اپنے مذہب کا تعارف علم، کردار، اخلاق اور محبت کے ذریعے کرائیں اور غیر مسلم معاشرہ بھی مسلمانوں کو خوف یا تعصب کے بجائے ایک عام شہری اور انسان کے طور پر دیکھے تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود کم ہو سکتی ہیں۔
    اسلام کو سمجھنے کے لیے صرف سیاسی خبروں کو دیکھنا کافی نہیں۔

    اسلام کو سمجھنے کے لیے ایک مسلمان کے گھر، مسجد، بازار، یونیورسٹی، دفتر اور سماجی زندگی کو بھی دیکھنا ہوگا۔
    اور اگر کسی نے ٹائمز اسکوائر میں ہزاروں مسلمانوں کو اجتماعی طور پر درود و سلام پڑھتے، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے اور کھانا بانٹتے دیکھا ہے تو اسے اسلام کے اس پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے جو محبت، اجتماعیت اور امن سے عبارت ہے۔
    روشنیاں بہت تھیں، مگر ایک روشنی الگ تھی
    ٹائمز اسکوائر کی روشنیاں شاید دنیا کے کسی اور مقام سے زیادہ مشہور ہیں۔
    لیکن اس رات ان روشنیوں کے درمیان ایک اور روشنی بھی تھی۔
    وہ روشنی کسی برقی بورڈ سے نہیں آ رہی تھی۔
    وہ روشنی دلوں سے آ رہی تھی۔
    وہ محبت کی روشنی تھی۔
    وہ درود کی روشنی تھی۔
    وہ نسبتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی تھی۔
    اور شاید یہی اس منظر کی سب سے بڑی معنویت ہے۔
    دنیا نے انسان کو بہت کچھ دیا ہے۔ ٹیکنالوجی دی، رفتار دی، سہولتیں دیں، بلند عمارتیں دیں، جدید ذرائع مواصلات دیے۔
    لیکن انسان آج بھی اپنے دل کے سکون کی تلاش میں ہے۔
    اور یہی وجہ ہے کہ نیویارک جیسے شہر میں بھی کوئی شخص مدینہ کی یاد میں آنکھیں نم کر لیتا ہے۔
    کوئی درود پڑھتے ہوئے دل سے محمد ﷺ کہتا ہے۔
    کوئی نعت سنتے ہوئے اپنے اندر عجیب سکون محسوس کرتا ہے۔
    یہ وہ تعلق ہے جسے جغرافیہ نہیں روک سکتا۔
    شاید یہ ایک نئے باب کی ابتدا ہے
    ٹائمز اسکوائر میں ہونے والا یہ بڑا میلاد اجتماع شاید آنے والے برسوں میں صرف ایک واقعہ نہ رہے۔ ممکن ہے یہ امریکہ کے بڑے شہروں میں مسلم کمیونٹی کی اجتماعی مذہبی اور ثقافتی تقریبات کے ایک نئے باب کی علامت بن جائے۔
    لیکن اس نئے باب کی اصل کامیابی تعداد میں نہیں ہوگی۔
    اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ اجتماعات محبت کو کردار میں، درود کو عمل میں، سیرت کو زندگی میں اور اسلام کو انسانیت کی خدمت میں تبدیل کریں گے۔
    دنیا کو آج نفرت کے مقابلے میں محبت کی ضرورت ہے۔
    تعصب کے مقابلے میں مکالمے کی ضرورت ہے۔
    تشدد کے مقابلے میں امن کی ضرورت ہے۔
    اور تقسیم کے مقابلے میں انسانیت کو جوڑنے والے پیغام کی ضرورت ہے۔
    رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔
    اختتامیہ
    رات پھر اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی تھی۔
    ٹائمز اسکوائر کی روشنیاں بدستور جگمگا رہی تھیں۔
    لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
    سڑکوں پر زندگی پھر اپنی رفتار سے چلنے لگی تھی۔
    مگر شاید اس رات کچھ آوازیں ہوا میں ٹھہر گئی تھیں۔
    درود کی آوازیں۔
    نعت کی آوازیں۔
    محبت کی آوازیں۔
    اور ان آوازوں میں ایک نام سب سے نمایاں تھا:
    محمد ﷺ

    یہی تو اسلام کی سب سے خوبصورت حقیقت ہے کہ وہ جہاں بھی جاتا ہے، اپنے ساتھ ایک نسبت لے کر جاتا ہے؛ اور وہ نسبت ہے رحمتِ عالم ﷺ کی۔
    نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں 12 ربیع الاول کی خوشی میں ہزاروں مسلمانوں کا جمع ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مدینہ صرف ایک شہر کا نام نہیں، ایک کیفیت کا نام بھی ہے۔
    مدینہ دل میں ہو تو انسان نیویارک میں بھی مدینے کی خوشبو محسوس کر سکتا ہے۔
    اور جب ٹائمز اسکوائر کی پاپ میوزک اور ڈسکو لائٹوں کی چکاچوند میں بھی کسی لمحے درود و سلام کی آواز بلند ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا سفر ابھی جاری ہے۔
    یہ سفر سرحدوں سے آزاد ہے۔
    یہ سفر زبانوں سے بے نیاز ہے۔
    یہ سفر نسلوں سے ماورا ہے۔
    اور شاید اسی لیے دنیا کے کسی بھی کونے میں جب کوئی عاشقِ رسول ﷺ محبت سے کہتا ہے:
    صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    تو مدینہ منورہ کی طرف دل کا ایک چراغ ضرور روشن ہو جاتا ہے۔
    ٹائمز اسکوائر کی ہزاروں مصنوعی روشنیوں کے درمیان اس رات اگر کوئی روشنی سب سے زیادہ روشن تھی تو وہ محبتِ رسول ﷺ کی روشنی تھی۔
    اور یہ روشنی امریکہ میں بھی ہے، پاکستان میں بھی، دنیا کے ہر خطے میں بھی،اور سب سے بڑھ کر ان کروڑوں دلوں میں بھی جہاں آج تک محمد مصطفیٰ ﷺ کا نام محبت، عقیدت اور درود کے ساتھ زندہ ہے۔

  • میرا تعارف ،شمسہ رانی

    میرا تعارف ،شمسہ رانی

    ہر انسان کے اندر ایک ایسی دنیا آباد ہوتی ہے ۔جسے دیکھنے کے لیے انکھ نہیں احساس چاہیے۔ کچھ لوگ اس دنیا کو خاموشی سے جیتے ہیں ۔کچھ اسے یادوں میں محفوظ کر لیتے ہیں،اور کچھ کے ہاتھ میں قلم آ جائے تو یہی اندرونی دنیا لفظوں کا لباس پہن لیتی ہے ۔میری کہانی بھی شاید اسی لمحے سے شروع ہوئی جب میں نے باہر کی دنیا سے زیادہ اپنے اندر کی آواز کو سننا شروع کیا۔

    بچپن میں جب میرے ہم عمر کھیل کے میدانوں میں اپنی خوشیاں تلاش کرتے تھے ۔میری دلچسپی کتابوں کے صفحات پہ چھپی ہوئی دنیا سے تھی ۔کتابیں پڑھنا، لائبریری جانا ،مختلف موضوعات کو کھوجنا، اور لفظوں کے ساتھ وقت گزارنا میرے لیے محض مشغلہ نہیں تھا ۔شاید وہ میرے آنے والے سفر کی پہلی آہٹ تھی۔پھر زندگی نے مجھے بہت کم عمری میں وہ سبق پڑھائے جنہیں سمجھتے میں بعض اوقات انسان کو پوری عمر لگ جاتی ہے۔ والد کا انتقال میرے بچپن کی بے فکری کو اپنے ساتھ لے گیا۔حالات نے مجھے وقت سے پہلے زندگی کی سنجیدگی سے اشنا کیا ذمہ داریوں کا احساس بڑھتا گیا اور میں نے محسوس کیا کہ زندگی صرف خوشیوں، خوابوں اور خواہشوں کا نام نہیں ،اس کے دامن میں جدائی ،محرومی، بے شمار جنگیں بھی پوشیدہ ہیں شاید انہی تجربات نے میرے اندر کے لفظوں کو جگایا۔

    جو کچھ دل میں جمع ہوتا گیا وہ تحریر بنتا گیا۔ میں نے کاغذ کو اپنا ہمراز بنایا اور قلم کو اپنی آواز ۔ا بتدا میں یہ صرف شوق تھا ۔پھر عادت بنا ،اور رفتہ رفتہ میری شناخت کا حصہ بن گیا میں نے مختلف اخبارات میں لکھنا شروع کیا۔ کالم نگاری کے ذریعے معاشرے کے ان پہلو وں کو موضوع بنایا جو اکثر ہماری نظروں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی ہماری توجہ سے او جھل رہتے ہیں۔

    وقت کے ساتھ لفظوں سے میرا رشتہ وسیع ہوتا گیا کالم کے بعد کہانی نے مجھے اپنی طرف بلایا ،افسانے اور کہانیاں مختلف رسائل تک پہنچی ۔پھر ناول نگاری کی دنیا میں قدم رکھا ۔کھلی آنکھوں کا خواب اور محبت یوں بھی ہوتی ہے میرے قلم سے نکلنے والے دو ناول ہیں جو اس وقت اشاعت کے مراحل میں ہیں۔
    اور پھر شاعری نے میرے اندر وہ دروازہ کھولا ۔جہاں الفاظ دلیل سے زیادہ احساس بن جاتے ہیں۔

    شعر میرے لیے محض قافیہ اور ردیف کا نام نہیں ،یہ دل کی اس کیفیت کا اظہار ہے ۔جسے نثر کبھی مکمل طور پر بیان نہیں کر پاتی۔ محبت ہو، جدائی ہو ،رشتوں کی خوشبو، معاشرے کے زخم ہوں، وطن کی مٹی ہو یا وقت کی بے رحم گردش۔ ہر احساس نے کبھی نہ کبھی میرے قلم سے اپنا راستہ مانگا ہے۔

    اس سفر کی ایک اہم منزل میری شعری کتاب (سائے جو ٹھہر گئے ) ہے، جو جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔اس کتاب میں میرے لفظوں کے ساتھ میری زندگی کے کئی عکس بھی چلتے ہیں۔ کچھ سائے ان رشتوں کے ہیں جنہوں نے مجھے محبت کا مفہوم سمجھایا ۔کچھ ان لمحوں کے جو گزر کر بھی دل میں ٹھہر گئے ۔کچھ ان سوالوں کے جو معاشرے سے ہیں ،اور کچھ ان دعاؤں کے جو انسان اپنے رب کے حضور خاموشی سے رکھ دیتا ہے۔میں نے زندگی کے ہر رنگ کو اپنے انداز میں محسوس کیا ہے۔ شاید اسی لیے میرے لیے لکھنا محض تخلیق نہیں، ایک داخلی سفر ہے۔ اپنے اپ تک پہنچنے کا سفر اور ان احساسات کو اواز دینے کا سفر ،جنہیں اکثر لوگ دل میں دفن کر دیتے ہیں۔

    آج جب میں اپنے سفر کے صفحات پلٹتی ہوں تو بچپن کی وہ کتابیں، لائبریری کی خاموش فضا، والد کی جدائی ، وقت سے پہلے آے والی ذمہ داریاں، اخبارات کے صفحات ،کہانیوں کے کردار ،اور شاعری کے مصرعے سب ایک ہی داستان کے مختلف باب دکھائی دیتے ہیں
    تب احساس ہوتا ہے کہ میری زندگی میں لفظ محض لکھے نہیں گئے وہ جیے گئے ہیں۔
    آج یہی لفظ میری پہچان بن چکے ہیں ۔میں قومی سطح کے مختلف اخبارات میں بطور کالم نگار اپنے قلم کی ذمہ داری نبھا رہی ہوں ۔ اور معاشرے کے ان موضوعات پر لکھ رہی ہوں جو محض خبر نہیں۔ احساس اور فکر کا تقاضا کر تے ہیں ۔معاشرتی رویے، رشتوں کی نزاکت، خواتین کے مسائل ،بچوں کا تحفظ، بدلتا ہوا معاشرہ،اور وقت کے اہم سوالات یہ سب میرے قلم کے اہم موضوعات رہے ہیں۔میری کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ تحریر صرف پڑھی نہ جائے بلکہ قاری کو ایک لمحے کے لیے ٹھہرنے ،سوچنے اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرے۔ میرے لیے قلم اعزاز سے بڑھ کر ایک امانت ہے اور اس امانت کو دیانت، احساس اور سچائی کے ساتھ نبھانا ہی میرے ادبی سفر کی اصل روح ہے۔
    میں شاعرہ، مصنفہ اور کالم نگار شمسہ رانی ہوں
    میں نے زندگی کے سائے دیکھے انہیں محسوس کیا اور پھر انہیں لفظوں میں ڈھال دیا ہے۔
    سائےجو ٹھہر گئے شاید انہی ٹھہرے ہوئے لمحوں کی اواز ہے۔
    اور ممکن ہے اس کتاب کے کسی صفحے پر اپ کو اپنا کوئی گزرا ہوا لمحہ بھی مل جائے۔

  • جاویدؔ ڈینی ایل کا شعرو ادب اور صحافتی کینوس،تحریر: سرفراز تبسمؔ

    جاویدؔ ڈینی ایل کا شعرو ادب اور صحافتی کینوس،تحریر: سرفراز تبسمؔ

    جاویدؔ ڈینی ایل شاعر، ادیب، کالم نگار، صحافی، مدیر اور ناشر کی حیثیت سے گزشتہ پچیس برس سے اُردو ادب کے فروغ، ترویج اور اشاعت کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کی ادبی و صحافتی شخصیت تخلیق، صحافت، ادارت اور اشاعتی خدمات کے مختلف رنگوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ان کے نزدیک ادب محض اظہارِ ذات یا لفظوں کی آرائش نہیں بلکہ انسانی احساس، فکری بیداری، اخلاقی شعور اور معاشرتی اصلاح کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ یہی تصور ان کی تحریروں، شاعری اور ادبی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔

    جاویدؔ ڈینی ایل ماہنامہ ’’نیا تادیب‘‘ لاہور/ملتان کے بانی اور مدیرِ اعلیٰ ہیں، جو سن دو ہزار ایک سے باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ گزشتہ پچیس برس کے اس طویل ادبی سفر میں اُنہوں نے ’’نیا تادیب‘‘ کے ذریعے ادب، صحافت، فکر اور اصلاحی ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں اور اہلِ قلم کو اظہار کا ایک مستقل اور معتبر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ تادیب پبلی کیشنز، تادیب میڈیا اور ڈیجیٹل ویب پورٹل تادیب ڈاٹ آرگ سے اُن کی وابستگی نے ان کی ادبی، صحافتی اور اشاعتی خدمات کو مزید وسعت دی ہے۔

    جاویدؔ ڈینی ایل کے نزدیک علم و ادب کا سفر محض ذاتی شناخت کا سفر نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی تعمیر کا عمل بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں کتاب، علم اور فکر سے وابستگی بھی ایک نمایاں موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں؛
    کتابوں کی خوشبو سہانی رہے
    نئی فکر میں بھی روانی رہے
    اور مقطع میں علم و ہنر کے اسی سفر کو یوں دوام عطا کرتے ہیں؛
    جہاں بھی ہو جاویدؔ علم و ہنر
    نہ کوئی لگن رائیگانی رہے
    یہ اشعار ان کی ادبی اور اشاعتی جدوجہد سے بھی ایک معنوی رشتہ رکھتے ہیں۔ ان کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ ادب کو معاشرے کے فکری اور اخلاقی شعور کی تشکیل میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے اور نئی نسل کو کتاب، قلم اور فکر کے ساتھ جوڑا جائے۔

    شاعری کے میدان میں جاویدؔ ڈینی ایل کا اولین شعری مجموعہ ’’پانیوں پر پرواز‘‘ سن دو ہزار سات میں شائع ہوا، جس نے ان کی شعری شناخت کو نمایاں کیا۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’شگفتہ گفتگو تیری‘‘ سن دو ہزار چھبیس میں منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، زندگی کے تجربات، محبت، اُمید، روحانی احساس، سماجی شعور اور وطن سے وابستگی کی مختلف کیفیات شعری پیکر اختیار کرتی ہیں۔ کلاسیکی شعری روایت سے ان کا رشتہ گہرا ہے اور عروض، قافیہ و ردیف اور زبان و بیان کی نزاکتوں کا خاص اہتمام ان کے شعری مزاج کا نمایاں وصف ہے۔

    جاویدؔ ڈینی ایل کی شاعری میں وطن سے محبت محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ قومی ذمہ داری اور اجتماعی شعور کی صورت اختیار کرتی ہے۔ وہ انسان کو اپنے گھر اور وطن دونوں سے وفاداری کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں؛
    اپنے گھر سے وطن سے وفا کیجیے
    امن ہو قریہ قریہ دعا کیجیے
    درس دیتے ہیں انجیل و قرآں یہی
    آدمی ہو تو سب کا بھلا کیجیے

    اُن اشعار میں وطن دوستی کے ساتھ اِنسان دوستی اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام بھی موجود ہے۔ یہی فکری رویہ اُن کے قومی کلام کو محض نعرے سے بلند کر کے ایک اِنسانی پیغام عطا کرتا ہے۔ وطن کے قرض کو وہ ایک ایسی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں جس کی ادائیگی کے لیے قربانی اور عمل دونوں ضروری ہیں؛
    خون دے کر نکھاریں گے ارضِ وطن
    یوں چکاتے رہیں گے یہ قرضِ وطن
    ہم پہ جاویدؔ ! واجب ہوا یا نہیں
    مَر کے بھی ہم اُتاریں گے قرضِ وطن

    جاویدؔ ڈینی ایل کے شعری کینوس کا ایک نمایاں اور دل آویز رنگ محبت اور رومانویت ہے۔ ان کے ہاں عشق محض ایک موضوع نہیں بلکہ تخلیقی اظہار کا محرک بھی دکھائی دیتا ہے۔ اُن کا یہ شعر اُن کے رومانوی شعری مزاج کی خوب صورت نمائندگی کرتا ہے؛
    مجھے تم سے گر عشق کافر نہ ہوتا
    غزل تم نہ ہوتی میں شاعر نہ ہوتا

    اِس شعر میں عشق، محبوب اور تخلیقِ شعر کے درمیان ایک گہرا تعلق قائم ہوتا ہے۔ گویا محبوب شاعر کی زندگی میں صرف ایک کردار نہیں بلکہ اُس کی تخلیقی دُنیا کا بنیادی حوالہ ہے۔ محبوب کے جمال کو وہ ایک ایسے شعری پیکر میں ڈھالتے ہیں جو کلاسیکی روایت سے بھی جڑا ہوا ہے؛
    مِرے دِل میں جو ایک زہرہ جبیں ہے
    کہیں اُس کے جیسی نہ کوئی حسیں ہے

    اُن کی رومانوی شاعری میں محبت کے ساتھ ہجر، انتظار، لمس، تخیل اور یاد کی کیفیات بھی نمایاں ہیں۔ وہ اپنے باطنی احساس کو لفظوں میں ڈھالتے ہوئے کہتے ہیں؛
    کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے
    کہ وہ دِل گیر ہوتی جا رہی ہے
    میں حرفوں کو سمیٹے جا رہا ہوں
    تِری تصویر ہوتی جا رہی ہے

    یہاں لفظ اور محبوب ایک دوسرے میں گھلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ شاعر گویا حرفوں کو سمیٹتے سمیٹتے محبوب کی تصویر تشکیل دے رہا ہے۔ اِسی داخلی اور جذباتی فضا میں اُن کا یہ شعر بھی قابلِ توجہ ہے؛
    تِری باتیں صحیفوں کی طرح ہیں
    مِری تطہیر ہوتی جا رہی ہے
    محبت کی شدت اور قربانی کے جذبے کو جاویدؔ ڈینی ایل نے نہایت سادہ مگر مؤثر پیرائے میں بیان کیا ہے؛
    لٹا دے جان بھی اپنی کسی محبوب کی خاطر
    محبت میں کوئی اِس سے بڑا درجہ نہیں ملتا

    اُن کے نزدیک عشق صرف وصال کی خواہش نہیں بلکہ ضبط، انتظار اور داخلی کشمکش کا نام بھی ہے۔ یہی کیفیت اُن کے اِن اشعار میں نمایاں ہوتی ہے؛

    وصالِ یار اب تو خواب ہوتا جا رہا ہے
    یہ دِل اُس کے لیے بے تاب ہوتا جا رہا ہے
    اور۔۔۔؛
    عشق ہے یا بلا ہے کیا کہیے
    ضبط کی انتہا ہے کیا کہیے
    پارسائی ہے نارسائی تک
    وصل میں سب روا ہے کیا کہیے

    جاویدؔ ڈینی ایل کی شاعری صرف محبت اور رومانویت تک محدود نہیں بلکہ اِس میں سماجی شعور اور انسانی درد بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ وہ اپنے عہد کے ناانصافی پر مبنی رویوں اور اِنسانی دُکھ کو نظر انداز نہیں کرتے۔ خصوصاً عورت کے دُکھ اور معاشرتی بے بسی کو اُن کے یہ اشعار نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں؛
    ایک الزام نے سر اُٹھایا بہت
    ایک تلوار سر پر لٹکتی رہی
    جب گواہوں کی گنتی نہ پوری ہوئی
    ایک حوا کی بیٹی سسکتی رہی

    یہاں شاعر کا قلم محض منظر نگاری نہیں کرتا بلکہ سماج سے سوال بھی کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں عہدِ حاضر کی بے حسی اور بے ضمیری کے خلاف ایک خاموش مگر باوقار احتجاج بھی موجود ہے؛
    تجھ سے ملنے کی ٹھان رکھی ہے
    یوں ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
    ہم نے اس عہدِ بے ضمیری میں
    اپنے حصے کی آن رکھی ہے
    مزید دیکھیے؛
    عجب تماشا سا چل رہا ہے
    غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے
    اُسی کے جاویدؔ ! شر سے بچنا
    جو آستینوں میں پل رہا ہے

    اُن کی شاعری میں زندگی کے تجربات اور اِنسانی رشتوں کا مشاہدہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وہ صرف محبت کے روشن پہلو نہیں بلکہ تعلقات کے بدلتے ہوئے مزاج اور اِنسانی فاصلے بھی محسوس کرتے ہیں؛
    نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا
    کئی برسوں سے مل بیٹھے، مگر لہجہ نہیں ملتا

    یہ شعر موجودہ عہد کے اِنسانی تعلقات کی ایک گہری تصویر ہے، جہاں قربت کے باوجود فاصلے موجود ہیں اور ملاقاتوں کے باوجود دِل ایک دوسرے تک نہیں پہنچ پاتے۔

    اُن کی نثر میں صحافتی وضاحت، ادبی لطافت، فکری گہرائی اور مشاہدے کی وسعت باہم مل کر ایک ایسا اسلوب تشکیل دیتی ہے جو بیک وقت رواں، شائستہ، بامعنی اور اثرانگیز ہے۔ کالم نگاری اور صحافت میں وہ اپنے عہد کے سماجی، ادبی اور اِنسانی مسائل کو موضوع بناتے ہوئے قاری کو محض اطلاع نہیں بلکہ سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اُن کے ہاں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ فکر، احساس اور کردار سازی کی قوت بھی ہے۔

    اُن کے مزاج میں شگفتگی اور زندہ دِلی بھی موجود ہے، جس کی جھلک اُن کے بعض اشعار میں نمایاں ہوتی ہے؛
    کسی کو گفتگو کرنے سے پہلے رام کر لینا
    ہنر اُس کو ہی آتا ہے یہ مشکل کام کر لینا
    کسی بے کیف لمحے میں تھکا ہارا بدن تھامے
    کبھی جاویدؔ مل جائے تو لطفِ جام کر لینا
    یہ اشعار اُن کی شخصیت کے ایک ایسے پہلو کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں زندگی کی تلخیوں کے باوجود گفتگو، دوستی اور زندہ دِلی کے لیے جگہ باقی رہتی ہے۔

    جاویدؔ ڈینی ایل کی شاعری اور کالم نگاری کا سفر مختلف معتبر ادبی، صحافتی اور فکری پلیٹ فارمز پر تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اُن کے کالمز اور منظوم تخلیقات ماہنامہ ’’نیا تادیب‘‘ اور ’’تادیب‘‘ ویب سائٹ کے علاوہ ہم سب اور باغی ٹی وی ویب سائٹس پر بھی باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں، جبکہ اُن کی تخلیقات معروف ادبی جرائد ماہنامہ ’’ادبِ لطیف‘‘، ماہنامہ ’’بیاض‘‘، ہفت روزہ ’’کہانت‘‘ اور دیگر متعدد جرائد و رسائل کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں۔ یوں جاویدؔ ڈینی ایل کی فکری، ادبی اور شعری آواز مسلسل ایک وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچ رہی ہے۔
    ادبی و صحافتی میدان میں اُن کی طویل خدمات کے اعتراف میں مختلف اداروں اور ادبی تنظیموں کی جانب سے اُنہیں متعدد اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ تاہم ان کا ادبی سفر کسی اعزاز یا مقام پر ٹھہرتا ہوا محسوس نہیں ہوتا بلکہ مسلسل آگے بڑھنے کی خواہش اُس کی بنیادی شناخت ہے۔ اُن کی تخلیقی شخصیت زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو لفظوں میں محفوظ کرنے کا ہنر رکھتی ہے۔ شاید اِسی احساس کو اُن کے اِس شعر سے بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے؛
    تلخ و شیریں زندگی کی داستاں
    چھوڑ جاؤں گا تمہارے درمیاں

    جاویدؔ ڈینی ایل کی ادبی زندگی دراصل ایک ایسے مسلسل اور ہمہ جہت سفر سے عبارت ہے جس میں شاعری، ادب، صحافت، کالم نگاری، ادارت اور اشاعت ایک دوسرے سے مربوط ہو کر اُردو زبان و ادب کی خدمت کا وسیلہ بنتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں وطن سے محبت ہے تو اِنسان دوستی بھی؛ عشق کی لطافت ہے تو ہجر کی کسک بھی؛ روحانی احساس ہے تو سماجی ناانصافی کے خلاف سوال بھی؛ کتاب اور قلم سے وابستگی ہے تو نئے لکھنے والوں کے لیے راستے بنانے کا جذبہ بھی۔

    اُن کا قلم اپنے عہد کے سوالات سے مکالمہ کرتے ہوئے روایت کی روشنی میں مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔ یہی وصف جاویدؔ ڈینی ایل کی ادبی اور صحافتی شناخت کو ایک منفرد معنویت عطا کرتا ہے۔ اُن کے شعر و ادب اور صحافت کا یہ کینوس ابھی مکمل تصویر نہیں بلکہ ایک جاری سفر ہے—ایک ایسا سفر جس میں لفظ زندگی سے مکالمہ کرتے ہیں، شعر احساس کو زبان دیتا ہے اور قلم آنے والے زمانوں کے لیے اپنی ایک داستان رقم کرتا چلا جاتا ہے۔

  • جوئے کی گونج اور مبشر لقمان کی صدارت: کیا واقعی ایک بدنام مشغلے کی سرپرستی ہو رہی ،تحریر: نعیم خان

    جوئے کی گونج اور مبشر لقمان کی صدارت: کیا واقعی ایک بدنام مشغلے کی سرپرستی ہو رہی ،تحریر: نعیم خان

    آج لاہور صرف ایک شہر نہیں بلکہ قدرت کا لکھا ہوا ایک انمول افسانہ لگ رہا تھا۔ صبح ہی سے بادلوں نے نیلی چھت پر سیاہ اور سرمئی مخمل بچھا رکھی تھی اور ننھی ننھی بوندیں یوں گِر رہی تھیں جیسے آسمان زمین کے کان میں کوئی پرانی محبت کی داستان سنا رہا ہو ، مال روڈ کے تاریخی درختوں کی شاخوں سے پانی کے قطرے موتی بن کر ٹپک رہے تھے اور ہوا میں بھیگے ہوئے پھولوں کی خوشبو رچی تھی جو ہر انسان کو نیچر کی محبت میں گرفتار کر لیتی ہے۔ اسی عاشقانہ اور رومان پرور شام تقریباً ساڑھے چھ بجے میں لاہور جم خانہ کلب کے دلکش اور تاریخی احاطے میں داخل ہوا جہاں میری ملاقات صحافت ، کالم نگاری اور الیکٹرانک میڈیا کی دنیا کے ایک بے باک ، معروف اور سحر انگیز نام مبشر لقمان صاحب سے طے تھی۔

    جس ہال میں ہماری نشست تھی وہاں داخل ہوتے ہی یوں لگا جیسے ہم کسی دوسری ہی دنیا میں آ گئے ہوں ، اونچی اونچی دیواریں ، کشادہ چھت ، دیواروں پر لٹکی نفیس اور شاندار پینٹنگز اور لکڑی کے بھاری پرانے دروازے ماحول کو ایک شاہانہ اور باوقار لمس دے رہے تھے۔ باہر بوندیں برستے ہوئے موسم کا سحر تھا اور اندر ہال کے مختلف گوشوں میں لکڑی کی گول میزوں کے گرد بریج کے کھلاڑی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں اتنی خاموشی اور گہرا سکون تھا کہ تاش کے 52 پتوں کی ہلکی سی سرسراہٹ بھی صاف سنائی دیتی تھی۔ مبشر لقمان صاحب کے بالکل ساتھ بیٹھ کر جب میں نے ان سے گفتگو کا آغاز کیا تو اسکرین پر نظر آنے والے تند و تیز اینکر کے برعکس ایک نہایت شائستہ ، وسیع المطالعہ ، عقل و دانش سے بھرپور اور نفیس انسان میرے سامنے تھا۔ ان کی باریک بین سوچ اور گفتگو کا جادو ایسا تھا کہ پہلی ہی نشست میں ان کے لیے دل میں ایک گہری اور بے ساختہ عزت پیدا ہو گئی۔

    صحافت اور سیاسی نشیب و فراز پر تو ان کی گرفت قائم ہی ہے لیکن جب میں نے گفتگو کا رخ موڑ کر ان سے ان کی ایک اور اہم ذمہ داری یعنی پاکستان بریج فیڈریشن کی صدارت کے بارے میں پوچھا تو ان کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک اور لہجے میں سنجیدگی آ گئی۔ وہ مسکرائے آرام سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور بولے "نعیم صاحب ! ہمارے ہاں تاش کا نام سنتے ہی لوگوں کے ذہن میں جوئے کی محفلیں ، وقت کی بربادی اور اندھیری بیٹھکیں گھومنے لگتی ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ انہی 52 پتوں کا ایک کھیل ایسا بھی ہے جسے دنیا کا سب سے بڑا ذہنی کھیل یعنی ‘مائنڈ اسپورٹ’ مانا جاتا ہے؟” ان کا یہ جملہ کسی ڈرامائی موڑ کی طرح گفتگو کو ایک بالکل نئی سمت میں لے گیا۔

    مبشر لقمان صاحب نے اپنے مخصوص اور دلفریب انداز میں بریج کی دنیا کے راز افشا کرنا شروع کیے ، خاص طور پر ڈپلیکیٹ بریج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ کوئی تکے یا قسمت کا کھیل نہیں بلکہ شدید ترین یادداشت ، منطق اور خاموش حکمتِ عملی کی جنگ ہے۔ جب کھلاڑی میز پر بیٹھتے ہیں تو قسمت کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ صرف انسانی ذہن فیصلے کرنے کی طاقت اور اپنے ساتھی کھلاڑی کو بغیر بولے سمجھنے کی صلاحیت کام آتی ہے۔ انہوں نے عالمی افق کا احوال کچھ اس طرح کھول کر رکھا جیسے کسی باکمال داستان گو نے تاریخ کی کوئی پرانی کتاب کھول دی ہو۔

    "اگر ہم اس کی عالمی تاریخ دیکھیں،” انہوں نے اپنی شاندار اور بیباک روانی سے بتایا "تو ورلڈ بریج فیڈریشن (WBF) کی بنیاد 18 اگست 1958 کو ناروے کے شہر اوسلو میں یورپ ، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کے نمائندوں نے رکھی تھی۔” مبشر صاحب نے وضاحت کی کہ یہ کوئی عارضی یا غیر رسمی باڈی نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ کے قوانین کے تحت ایک باقاعدہ غیر منافع بخش تنظیم کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ اس کا عالمی ہیڈکوارٹر سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ‘Maison du Sport International’ میں واقع ہے جہاں دنیا کے تمام بڑے کھیلوں کے مراکز ہیں۔

    باہر برستی بارش اور اندر ہال میں پھیلی سحر انگیز خاموشی کے درمیان ان کی باتیں سن کر وقت کا پتہ ہی نہیں چل رہا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ اس فیڈریشن کا عالمی نعرہ ہے "Bridge for Peace” یعنی امن کے لیے بریج۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) سے تسلیم شدہ یہ تنظیم آج دنیا کے تقریباً 100 ممالک اور ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب باقاعدہ ممبران کو اپنے ساتھ جوڑے ہوئے ہے۔ دنیا کو آٹھ جغرافیائی زونز میں بانٹا گیا ہے جیسے یورپ ، شمالی امریکہ ، جنوبی امریکہ ، ایشیا اور مڈل ایسٹ وغیرہ۔ ہر دو سال بعد اس کی عالمی کانگریس ہوتی ہے اور ایک ایگزیکٹو کونسل اس کا تمام انتظام چلاتی ہے۔

    "آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی نعیم صاحب ! ” مبشر لقمان صاحب نے میری طرف گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا "کہ جیسے فٹ بال کا ورلڈ کپ ہوتا ہے بالکل اسی طرح بریج کی دنیا میں بھی عالمی جنگیں لڑی جاتی ہیں۔” انہوں نے Bermuda Bowl ، خواتین کے لیے Venice Cup ، Senior Bowl اور Wuhan Cup جیسی عالمی چیمپئن شپس کا ذکر کیا جو ہر دو سال بعد ہوتی ہیں جبکہ ہر چار سال بعد ورلڈ بریج گیمز کا میلہ سجتا ہے جہاں دنیا کے بہترین ذہن ٹکراتے ہیں۔

    میں ان کی باتیں سن کر ششدر تھا کہ جس کھیل کو ہمارے ہاں ایک عام اور بدنام مشغلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ عالمی سطح پر کس قدر منظم اور باوقار ہے۔ لیکن سوال یہ تھا کہ آخر پاکستان اس عالمی منظر نامے میں کہاں کھڑا ہے؟ کیا ہمارے ملک میں بھی اس کی کوئی جڑیں ہیں؟

    جب میں نے یہ سوال مبشر لقمان صاحب کے سامنے رکھا تو ان کے چہرے پر گہری سوچ اور دکھ کا سایہ لہرایا۔ انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا "پاکستان میں بریج کی تاریخ ایک ایسی داستان ہے جس میں عروج کی شاہانہ بلندی بھی ہے اور زوال کا دردناک سفر بھی… ایک وقت تھا جب پاکستان نے دنیا کو اس کھیل میں حیران کر دیا تھا لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جس نے اس کھیل کو سائے میں دھکیل دیا۔”

    پاکستان میں اس کھیل کے سنہری دور ، اس کے متنازع ماضی اور کراچی کے ایک اسٹیڈیم کے اسٹینڈ کے نیچے منتقل ہونے والی اس دلچسپ کہانی کا کیا راز تھا؟ یہ سب مبشر لقمان صاحب کی زبانی معلوم ہوا… لیکن اس داستان کا احوال اگلی قسط میں۔