Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پچاس برس کی سیاست، گوجرخان کو آخر ملا کیا؟تحریر   : قمرشہزاد مغل

    پچاس برس کی سیاست، گوجرخان کو آخر ملا کیا؟تحریر : قمرشہزاد مغل

    گوجرخان کو برسوں سے راجوں کی تحصیل کہا جاتا ہے۔ مگر آج ایک سوال پورے وقار کے ساتھ کھڑا ہے راج تو بہت ہوئے، مگر رعایا کے حصے میں آیا کیا؟ یہ دھرتی وطن کو غازی بھی دیتی ہے، شہید بھی دیتی ہے، گیس بھی دیتی ہے، ٹیکس بھی دیتی ہے، ووٹ بھی دیتی ہے۔ مگر جب اس کے اپنے بچے تعلیم مانگتے ہیں، مریض علاج مانگتے ہیں، نوجوان روزگار مانگتے ہیں اور مائیں صاف پانی مانگتی ہیں تو جواب میں انہیں وعدے، اعلانات اور سنگِ بنیاد ملتے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ گوجرخان کی بڑی سرکاری شناختیں گزشتہ صدی کی یادگاریں ہیں۔ گورنمنٹ مسلم ہائی سکول 1919ء، گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول 1930ء کی دہائی، سرور شہید کالج 1960ء، خواتین ڈگری کالج 1978ء اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال 1979ء میں قائم ہوئے۔ اس کے بعد سوال صرف ایک ہے گزستہ پچاس برس کی سیاست نے گوجرخان کو ایسا کون سا تحفہ دیا جسے آنے والی نسلیں فخر سے یاد کریں؟ اگر جواب خاموشی ہے تو یہ خاموشی ہی سب سے بڑا الزام ہے۔ آج بھی غریب کا ہونہار بچہ اعلیٰ تعلیم کے لیے راولپنڈی کی طرف دیکھتا ہے، کیونکہ گوجرخان میں کوئی بڑی سرکاری یونیورسٹی موجود نہیں۔ نجی جامعات کے دروازے صرف ان کے لیے کھلے ہیں جن کی جیب بھاری ہے۔ غریب کے بچے کے لیے تعلیم حق نہیں، ایک مہنگا خواب بن چکی ہے۔

    صحت کے شعبے کی تصویر اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ تقریباً نصف صدی قبل قائم ہونے والا تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان آج بھی جدید آئی سی یو، وینٹی لیٹر، کیتھ لیب، مکمل نوزائیدہ نگہداشت اور مؤثر ٹراما سہولتوں سے محروم ہے۔ ایمرجنسی کے نام پر اکثر مریض راولپنڈی ریفر کر دیے جاتے ہیں۔ یہ ریفر صرف ایک طبی اصطلاح نہیں بہت سے خاندانوں کے لیے امید سے مایوسی تک کا سفر ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان چند کلومیٹر کا یہی فاصلہ کئی خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تحصیل کے عوام کو بروقت علاج ہی میسر نہ ہو تو ترقی کے دعوے کس کام کے؟ پھر روزگار کی کہانی دیکھیے۔ جی ٹی روڈ پر واقع، اسلام آباد اور راولپنڈی کے دروازے پر کھڑا گوجرخان آج بھی کسی بڑے صنعتی زون کا منتظر ہے۔ نوجوان روزگار کی تلاش میں روزانہ میلوں کا سفر کرتے ہیں یا پردیس کی راہوں میں اپنی جوانیاں کھپا دیتے ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اگر مقام، وسائل اور افرادی قوت سب موجود تھے تو صنعت کیوں نہ آئی؟ المیہ صرف یہ نہیں کہ وسائل نہیں، المیہ یہ ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود عوام محروم ہیں۔ مسا کسوال اور اہدی کی گیس ملک کے دوسرے علاقوں کو روشن کرتی ہے، مگر خود گوجرخان کے کئی علاقے لوڈشیڈنگ کی اذیت سہتے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کے مسائل عوام کی زندگی مزید مشکل بنا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو خطہ پورے ملک کو وسائل دے رہا ہو، کیا وہ خود بنیادی سہولتوں کا حق دار نہیں؟ یہ تضاد صرف انتظامی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ یہ تحریر کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ اس سیاسی رویے کے خلاف ہے جس میں ہر انتخاب سے پہلے وعدوں کے چراغ جلتے ہیں اور انتخاب کے بعد امیدوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ عوام کو نعروں سے نہیں، اداروں سے ترقی ملتی ہے، تصویروں سے نہیں، منصوبوں سے، تقریروں سے نہیں، عملی کارکردگی سے۔ ہر الیکشن میں سڑکوں پر قافلے نکلتے ہیں، جلسوں میں دعوے گونجتے ہیں، بینر بدل جاتے ہیں، چہرے مسکراتے ہیں، وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ مگر انتخابات گزرنے کے بعد وہی ٹوٹی سڑکیں، وہی خستہ ہسپتال، وہی بے روزگار نوجوان اور وہی مایوس والدین رہ جاتے ہیں۔ سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں، بلکہ عوام کی تقدیر بدلنا ہوتا ہے۔ اگر نسلیں بدل جائیں مگر مسائل نہ بدلیں، تو پھر احتساب صرف حکومتوں کا نہیں، سیاسی سوچ کا بھی ہونا چاہیے۔ گوجرخان کے عوام کو اب یہ سوال ہر امیدوار، ہر جماعت اور ہر منتخب نمائندے سے پوچھنا ہوگا، کیا آپ نے گوجرخان کو صرف ووٹوں کا گودام سمجھا، یا اسے ترقی کا بھی حق دار مانا؟ کیونکہ تاریخ تقریروں کی گونج نہیں سنبھالتی، تاریخ جدید ہسپتال، یونیورسٹیاں، صنعتیں، روزگار اور خوشحال نسلیں یاد رکھتی ہے۔ اور اگر نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ایک شہر اپنے بیمار کو علاج، اپنے نوجوان کو روزگار، اپنے طالب علم کو اعلیٰ تعلیم اور اپنے شہری کو صاف پانی نہ دے سکے، تو پھر مسئلہ عوام کی قسمت نہیں، حکمرانی کی ترجیحات ہوتی ہیں۔ گوجرخان اب خاموش نہیں، سوال بن چکا ہے۔ اور یاد رکھیے، جب شہر سوال بن جائیں تو تاریخ کے پاس جواب مانگنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی

  • پوٹھوہارکی سرزمین ترقی کے نئے دور میں داخل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پوٹھوہارکی سرزمین ترقی کے نئے دور میں داخل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزاد کشمیر کے انتخابی جلسوں میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہے اور یہ ہر سیاسی جماعت کا حق بھی ہے۔ تاہم تنقید کی بنیاد حقائق اور زمینی حقائق کے درست ادراک پر ہونی چاہیے۔ اگر حقائق سے صرفِ نظر کیا جائے تو سیاسی بیانیہ کمزور اور عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک جلسۂ عام میں پوٹھوہارکے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ترقی کا دائرہ محدود ہے۔ لیکن اگرپوٹھوہارکے خطے کو زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو تصویر اس کے برعکس نظر آتی ہے۔پوٹھوہارمحض راولپنڈی کا نام نہیں بلکہ جہلم، چکوال، راولپنڈی اور اٹک پر مشتمل ایک وسیع خطہ ہے، جہاں حالیہ عرصے میں متعدد ترقیاتی منصوبے عوام کی نظروں کے سامنے ہیں۔

    راولپنڈی شہر میں راجا بازار، صدر، کچہری چوک اور دیگر اہم شاہراہوں پر جاری تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیاں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ گوجرخان میں اربوں روپے مالیت کے منصوبے علاقے کی معاشی اور سماجی ترقی کی نئی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اسی طرح جہلم، چکوال اور اٹک میں سڑکوں کی بہتری، شہری سہولیات، صفائی کے نظام، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ پٹھوار کا خطہ ترقی کے سفر میں آگے بڑھ رہا ہے۔

    یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ شاید بلاول بھٹو زرداری تک پہنچنے والی معلومات مکمل یا درست نہ ہوں۔ کیونکہ زمینی حقائق کا مشاہدہ کرنے والا ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ وزیراعلیٰ پنجاب کی نگرانی میں مختلف منصوبوں پر مسلسل کام کر رہی ہے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
    جمہوریت میں اختلافِ رائے حسن سمجھا جاتا ہے، تنقید سیاسی عمل کا لازمی جز ہے، لیکن حقائق کو نظرانداز کرکے بیانیہ تشکیل دینا عوام کے شعور کے ساتھ انصاف نہیں۔ سیاسی مخالفین پر تنقید کی جا سکتی ہے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر زمینی حقائق کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔پوٹھوہارکی سرزمین آج بھی اپنے بدلتے ہوئے انفراسٹرکچر، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولیات کے ذریعے خود گواہی دے رہی ہے کہ یہ خطہ ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

    سیاست میں بیانیے وقتی ہو سکتے ہیں، مگر سڑکیں، تعلیمی ادارے، ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاح کے کام وہ حقائق ہوتے ہیں جو ہمیشہ اپنی موجودگی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔

  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا

    فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا

    فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا –

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان امباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو شامل کیا گیا ہے۔

    فیفا کے مطابق مڈفیلڈ میں اسپین کے کپتان اور گولڈن بال کے فاتح روڈری، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے شامل ہیں دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کے ساتھ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو جبکہ ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز کو منتخب کیا گیا ہے۔

    فیفا کی جانب سے جاری کردہ یہ ٹیم ورلڈ کپ 2026 میں کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، اثر انگیزی اور پورے ٹورنامنٹ میں مستقل بہترین کھیل کی بنیاد پر منتخب کی گئی ہے اس سے قبل فیفا نے ورلڈکپ کے اختتام پر نئی رینکنگ جاری کی نئی عالمی چیمپیئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد پہلی پوزیشن پر آگئی جبکہ رنر اپ میسی کی ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔

    فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر موجود ہے، برازیل اور مراکش کی ٹیمیں ایک، ایک درجہ ترقی پا کر پانچویں اور چھٹے نمبر پر آگئیں کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال 2 درجہ تنزلی کے بعد 7ویں نمبر پر چلی گئی،میکسیکو ورلڈکپ میں شاندار پرفارمنس کے بعد 4 درجے ترقی پا کر ٹاپ ٹین میں شامل ہوگئی فیفا ورلڈکپ کے کوارٹر فائنل میں پہنچنے والی ناروے کی ٹیم نے لمبی چھلانگ لگائی ، 12 درجے ترقی پا کر 19ویں نمبر پر آگئی۔

  • ‎آزاد کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، بلاول بھٹو زرداری

    ‎آزاد کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، بلاول بھٹو زرداری

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے آئندہ انتخابات کو خطے کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں تاکہ ایک ایسی قیادت سامنے آئے جو عوام کے مسائل حل کرے اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے۔
    ‎میرپور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے یہ انتخابات صرف حکومت بنانے کا مرحلہ نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ایسی قیادت کا انتخاب کرنا چاہیے جو عوامی حقوق، ترقی اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کرے۔
    ‎بلاول بھٹو نے کہا کہ بھٹو خاندان کا میرپور کے عوام سے تین نسلوں پر محیط تعلق ہے اور وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی حقوق، جمہوریت اور وفاق کی مضبوطی کے لیے کردار ادا کیا ہے۔
    ‎انہوں نے اپنے خطاب میں ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کا متفقہ آئین دینے اور ملک کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھنے کا سہرا دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جمہوریت کو مستحکم کیا اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو زیادہ اختیارات اور خودمختاری فراہم کی۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی تو آئینی ترامیم کے ذریعے آزاد کشمیر کے عوام کو مزید اختیارات، بہتر نمائندگی، خودمختاری، روزگار کے مواقع اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور رائے کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی سیاسی قوتوں کی بنیاد پر۔ ان کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا مکمل حق حاصل ہے۔
    ‎جلسے کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں سے انتخابی مہم تیز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حمایت سے ہی خطے میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

  • پاکستان 2034 .جب وقت نے سب کچھ بدل دیا،تحریر:مبشر لقمان

    پاکستان 2034 .جب وقت نے سب کچھ بدل دیا،تحریر:مبشر لقمان

    ایک فرضی فکری اور تخیلاتی منظرنامہ،
    مصنف کی جانب سےیہ تحریر کوئی پیش گوئی نہیں۔یہ کسی سیاسی جماعت، ریاستی ادارے، شخصیت یا مستقبل کے بارے میں کوئی دعویٰ بھی نہیں۔یہ صرف ایک فکری تجربہ ہے۔ایک ایسا سوال جو شاید ہمیں آج خود سے پوچھ لینا چاہیے، اس سے پہلے کہ وقت خود ہم سے اس کا جواب مانگے۔اگر آج سے آٹھ سال بعد پاکستان کی سیاست، ریاست، معیشت، میڈیا، عدلیہ، عسکری قیادت، کاروباری اشرافیہ اور طاقت کے تقریباً تمام مراکز ایک نئی نسل کے ہاتھ میں ہوں، تو کیا پاکستان اس تبدیلی کے لیے تیار ہوگا؟

    یہ تحریر اسی سوال کی تلاش ہے۔

    مبشر لقمان

    آج کی خبروں سے آٹھ سال آگے چلتے ہیں۔ تصور کیجیے کہ سال 2034 ہے۔ ایک عام سی صبح ہے۔ آپ کی آنکھ کھلتی ہے۔ آپ اخبار اٹھاتے ہیں، موبائل فون پر خبریں دیکھتے ہیں، ٹیلی ویژن آن کرتے ہیں، اور اچانک ایک عجیب سا احساس آپ کے دل میں جنم لیتا ہے۔
    پاکستان تو وہی ہے۔
    اسلام آباد وہی ہے۔
    پارلیمنٹ کی عمارت وہی ہے۔
    سپریم کورٹ وہی ہے۔
    سرکاری دفاتر وہی ہیں۔
    شہر، سڑکیں، بازار، دریا اور پہاڑ سب وہی ہیں۔
    لیکن ایک چیز بدل چکی ہے۔

    وہ چہرے، جن کے گرد برسوں تک پاکستان کی سیاست، ریاست، معیشت، میڈیا اور طاقت کا پورا نظام گھومتا رہا، اب اسٹیج پر موجود نہیں۔ ایک پوری نسل اپنا کردار ادا کرکے آگے بڑھ چکی ہے اور اس کی جگہ ایک نئی نسل آ گئی ہے۔

    اب یہاں رک کر خود سے ایک سوال پوچھئے۔
    کیا ہم نے کبھی اس دن کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا تھا؟
    یا ہم ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ آج جو کچھ ہے، وہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟
    شاید یہی ہماری سب سے بڑی قومی کمزوری ہے۔
    ہم مستقبل کے لیے منصوبہ نہیں بناتے۔
    ہم صرف حال کے مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔
    ہم اگلے پچیس سال کا پاکستان تعمیر کرنے کے بجائے اگلے پچیس دن کی سیاست کرتے ہیں۔
    ہم ادارے بنانے سے زیادہ شخصیات بنانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔
    ہم جانشینی کا نظام قائم کرنے سے زیادہ موجودہ طاقت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ہم تبدیلی کو ناگزیر حقیقت کے طور پر قبول کرنے کے بجائے اسے مؤخر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے وقت کو روکا جا سکتا ہو۔
    لیکن شاید مسئلہ اس سے بھی گہرا ہے۔
    ہم صرف مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں بھولے۔
    ہم نے وقت کی حقیقت کو ہی بھلا دیا ہے۔
    ہم ایسے جیتے ہیں جیسے ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
    ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جیسے ہماری نسل کبھی ختم نہیں ہوگی۔
    ہم ایسے ادارے چلاتے ہیں جیسے انہی چہروں کے گرد دنیا ہمیشہ گھومتی رہے گی۔
    ہم ایسے سیاست کرتے ہیں جیسے کل کبھی آئے گا ہی نہیں۔
    حالانکہ تاریخ چیخ چیخ کر ہمیں ایک ہی سبق دیتی رہی ہے۔
    ہر سلطنت ختم ہوئی۔
    ہر طاقت بدل گئی۔
    ہر نسل نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا۔
    اور ہر نسل ایک دن تاریخ کی کتاب کا صرف ایک باب بن کر رہ گئی۔

    فرق صرف اتنا تھا کہ کچھ قوموں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط ادارے چھوڑے، اور کچھ نے صرف مضبوط شخصیات۔

    تاریخ کا شاید سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ دنیا میں کوئی نسل ہمیشہ نہیں رہتی۔ کوئی حکمران، کوئی رہنما، کوئی جج، کوئی جرنیل، کوئی صنعت کار، کوئی صحافی، کوئی دانشور، کوئی ادارہ چلانے والا فرد ہمیشہ موجود نہیں رہتا۔

    وقت سب کو بدل دیتا ہے۔لیکن کامیاب قومیں وہ ہوتی ہیں جو چہروں کے بدلنے سے پہلے نظام مضبوط کر لیتی ہیں۔وہ نئی قیادت تیار کرتی ہیں۔وہ نئے خیالات کو جگہ دیتی ہیں۔وہ آنے والی نسلوں کو صرف تقریریں نہیں بلکہ مضبوط ادارے ورثے میں دیتی ہیں۔اب ذرا اس فرضی پاکستان 2034 کو مزید غور سے دیکھتے ہیں۔
    سوال یہ نہیں کہ وزیراعظم کون ہے۔سوال یہ بھی نہیں کہ کون سی جماعت اقتدار میں ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے اپنی اگلی نسل کی قیادت تیار کر لی تھی؟اگر ایک پوری نسل ایک ہی دہائی میں عملی میدان سے باہر ہو جائے تو کیا ہمارے پاس ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے اندر دوسری، تیسری اور چوتھی صف موجود ہو؟کیا قیادت پیدا کرنے کا کوئی منظم نظام موجود ہے؟یا پھر ہم ہر بار اسی امید پر رہتے ہیں کہ حالات خود کسی نئے چہرے کو سامنے لے آئیں گے؟یہ سوال صرف سیاست تک محدود نہیں۔سوچیے، 2034 میں شاید ریاست کے مختلف اداروں کی قیادت بھی نئی ہوگی۔میڈیا کی دنیا بھی بدل چکی ہوگی۔کاروباری حلقوں میں نئی نسل ہوگی۔ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے نام سامنے آ چکے ہوں گے۔جامعات سے نکلنے والے نوجوان اب فیصلہ سازی کے مراکز تک پہنچ رہے ہوں گے۔یعنی صرف حکومت نہیں بدلے گی۔طاقت کے پورے ماحولیاتی نظام کی تشکیل نو ہو چکی ہوگی۔

    لیکن کیا ہم آج اس تبدیلی کی تیاری کر رہے ہیں؟یا ہم صرف آج کے معرکوں میں مصروف ہیں؟ہم نے اپنی تاریخ سے کیا سیکھا؟ہماری تاریخ میں کئی بار ایسے مواقع آئے جب بڑی شخصیات منظر سے ہٹ گئیں، مگر ان کے بعد پیدا ہونے والا خلا برسوں تک محسوس کیا گیا۔اس سے ایک بنیادی سبق ملتا ہے۔اگر ادارے مضبوط نہ ہوں تو شخصیات کے جانے کے بعد غیر یقینی پیدا ہوتی ہے۔اگر ادارے مضبوط ہوں تو چہرے بدلتے رہتے ہیں مگر نظام چلتا رہتا ہے۔اسی لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ کون کتنا طاقتور ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کس چیز میں ہے؟کیا طاقت کسی ایک فرد میں ہوتی ہے؟یا ایسے نظام میں جو افراد کے بدلنے کے باوجود اپنا کام جاری رکھ سکے؟ہم اکثر اپنے آج کے اختلافات میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ کل کی ضرورتوں پر غور ہی نہیں کرتے۔ہم اپنے بچوں کے لیے کون سا سیاسی کلچر چھوڑ رہے ہیں؟کیا ہم انہیں ایسی سیاست دے رہے ہیں جہاں نئے لوگ آگے آ سکیں؟یا ایسا ماحول جہاں ہر نئی نسل کو ابتدا ہی سے ایک بند دروازہ ملے؟

    2034 کا یہ فرضی منظرنامہ شاید ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے۔
    اس آئینے میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وقت نے اپنا کام کر دیا ہے۔اس نے کسی سے اجازت نہیں لی۔اس نے کسی سے یہ نہیں پوچھا کہ کیا وہ تیار ہے یا نہیں۔وقت نے صرف صفحہ پلٹا اور ایک نئی نسل سامنے آ گئی۔تاریخ ہمیشہ یہی کرتی ہے۔وہ کسی کے لیے نہیں رکتی۔وہ کسی کی مقبولیت سے متاثر نہیں ہوتی۔وہ کسی کے عہدے سے مرعوب نہیں ہوتی۔وہ صرف آگے بڑھتی ہے۔اور ہر نسل سے ایک ہی سوال پوچھتی ہے۔تم نے اپنے بعد آنے والوں کے لیے کیا چھوڑا؟کیا تم نے مضبوط ادارے چھوڑے؟کیا تم نے ایسی روایات چھوڑیں جن پر آئندہ نسلیں اعتماد کر سکیں؟کیا تم نے اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھا؟کیا تم نے نوجوان قیادت کو موقع دیا؟کیا تم نے علم، تحقیق اور پالیسی سازی کو اہمیت دی؟یا تم نے اپنی تمام توانائی صرف آج کی لڑائیوں پر خرچ کر دی؟شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    قومیں صرف اس لیے کمزور نہیں ہوتیں کہ ان کے وسائل کم ہوتے ہیں۔اکثر قومیں اس لیے کمزور ہوتی ہیں کہ وہ مستقبل کی تیاری نہیں کرتیں۔وہ ہر بحران کے بعد صرف فوری حل تلاش کرتی ہیں۔وہ ہر نئی مشکل کو الگ واقعہ سمجھتی ہیں، حالانکہ وہ ایک ہی طرزِ فکر کا نتیجہ ہوتی ہے۔آج ہم اگر آٹھ سال بعد کے پاکستان کا تصور کرنے سے بھی گھبراتے ہیں تو شاید اس کی وجہ یہ نہیں کہ مستقبل غیر یقینی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی عادت ہی نہیں ڈالی۔ہم منصوبہ بندی کم کرتے ہیں۔ردِعمل زیادہ دیتے ہیں۔ہم تعمیر کم کرتے ہیں۔مرمت زیادہ کرتے ہیں۔ہم نظام کم بناتے ہیں۔ہنگامی انتظام زیادہ کرتے ہیں۔اور شاید اسی لیے ہر چند سال بعد ہم پھر وہی سوال پوچھتے ہیں۔اب کیا ہوگا؟لیکن شاید صحیح سوال یہ نہیں۔صحیح سوال یہ ہے۔ہم نے ایسا کیا کیا کہ ہر چند سال بعد ہمیں یہی سوال دوبارہ پوچھنا پڑتا ہے؟

    ہوسکتا ہے 2034 کا پاکستان آج سے کہیں زیادہ مضبوط ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ نئے مسائل سے دوچار ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ نئی نسل وہ کام کر دکھائے جو پرانی نسل نہ کر سکی۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ پرانی غلطیاں نئے چہروں کے ساتھ دوبارہ دہرائی جائیں۔یہ سب امکانات ہیں۔لیکن ایک حقیقت یقینی ہے۔وقت کسی کے ساتھ معاہدہ نہیں کرتا۔ہر نسل کو لگتا ہے کہ اس کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی۔پھر خاموشی سے ایک دن تاریخ صفحہ پلٹ دیتی ہے۔اور دنیا چلتی رہتی ہے۔شاید پاکستان کے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ مستقبل کسی ایک فرد، کسی ایک جماعت یا کسی ایک ادارے کا انتظار نہیں کرتا۔

    مستقبل ان قوموں کا ہوتا ہے جو اپنی آنے والی نسلوں کو تیار کرتی ہیں، اختلاف کے باوجود اداروں کو مضبوط بناتی ہیں، اور یہ مان لیتی ہیں کہ طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے، مگر اصول اور ادارے دیرپا ہو سکتے ہیں۔اگر 2034 کا پاکستان ہم سے آج صرف ایک سوال پوچھے، تو شاید وہ یہی ہوگا۔”جب تم جانتے تھے کہ وقت سب کچھ بدل دے گا، تو تم نے آنے والے وقت کے لیے کیا تیاری کی؟ کیا تم نے صرف آج کو بچایا، یا کل کو بھی بنایا؟”کیونکہ قوموں کی اصل آزمائش انتخابات سے نہیں ہوتی۔قوموں کی اصل آزمائش اس دن ہوتی ہے جب ایک پوری نسل اسٹیج سے اترتی ہے، اور نئی نسل اسٹیج پر آ کر یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کیا وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرائے گی، یا ان سے سبق لے کر ایک مختلف مستقبل تعمیر کرے گی۔

    اور شاید…
    یہ سوال پاکستان کے 2034 سے زیادہ، پاکستان کے آج کے لیے ہے۔

  • رات بارہ بجتے ہی گوجرخان اندھیرے میں، آخر عوام کا جرم کیا ہے؟تحریر  : قمرشہزاد مغل

    رات بارہ بجتے ہی گوجرخان اندھیرے میں، آخر عوام کا جرم کیا ہے؟تحریر : قمرشہزاد مغل

    تحصیل گوجرخان میں ایک طویل عرصے سے روزانہ رات بارہ بجتے ہی بجلی کی بندش نے عوام کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ شدید حبس اور گرمی میں معصوم بچے بلکتے ہیں، بزرگ بے بسی سے پسینہ بہاتے ہیں، مریض ساری رات تڑپتے ہیں اور محنت کش طبقہ، جو دن بھر روزی روٹی کے لیے مشقت کرتا ہے، رات کو بھی سکون کی ایک سانس لینے سے محروم رہتا ہے۔ یہ صرف لوڈشیڈنگ نہیں، بلکہ عام شہری کے بنیادی حقِ زندگی اور سکون پر کاری ضرب ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عوام سے بجلی کے بھاری بھرکم بل، فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز اور نت نئے ٹیکس تو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر وصول کیے جاتے ہیں، لیکن جب عوام کو ان کا بنیادی حق دینے کی باری آتی ہے تو پورا نظام خاموش دکھائی دیتا ہے۔ آخر یہ کیسا انصاف ہے کہ عوام ادائیگی بھی کریں، مہنگائی بھی برداشت کریں اور پھر راتیں بھی اندھیرے اور اذیت میں گزاریں؟ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو مقامی سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کی خاموشی ہے۔ گوجرخان کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ان کے منتخب نمائندے کہاں ہیں؟ اگر یہ مسئلہ مہینوں سے جاری ہے تو اسمبلیوں میں اس پر کتنی بار آواز بلند کی گئی؟ کتنی بار متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا گیا؟ کتنی بار عوام کے حق میں مؤثر مؤقف اختیار کیا گیا؟ اگر عوام کو آج بھی جواب نہیں مل رہا تو یہ خاموشی خود ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ شہریوں میں یہ احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ انتخابات کے بعد عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ جب ووٹ درکار ہوتے ہیں تو گلی گلی دستک دی جاتی ہے، لیکن جب انہی لوگوں کے گھروں میں اندھیرا، گرمی اور بے بسی اترتی ہے تو ان کی آواز سننے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ گوجرخان کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے اپنی نمائندگی ثابت کریں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بجلی کوئی عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ عوام اب وعدوں، دعوؤں اور تصویری بیانات سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ وہ جواب بھی چاہتے ہیں، ذمہ داری بھی چاہتے ہیں اور فوری ریلیف بھی چاہتے ہیں۔ اگر اربوں روپے کے بل اور ٹیکس وصول کرنے کے باوجود بھی ایک شہری کو رات کے وقت پنکھے کی ہوا نصیب نہ ہو تو پھر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ آخر اس نظام کی کامیابی کا معیار کیا ہے؟ رات بارہ بجے ہونے والی روزانہ کی لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، اس کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور منتخب نمائندے خاموش تماشائی بننے کے بجائے اسمبلیوں اور متعلقہ فورمز پر اپنے لوگوں کے حق کی مؤثر آواز بنیں۔ عوام مزید اندھیرے نہیں، جواب اور انصاف چاہتے ہیں۔

  • مہنگائی اور بے برکتی، تحریر نور فاطمہ

    مہنگائی اور بے برکتی، تحریر نور فاطمہ

    آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ "مہنگائی” ہے۔ بازار جائیں تو ہر چیز کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ آٹا، چینی، دال، سبزی، بجلی کا بل، پیٹرول، دوائیں اور بچوں کی فیس، غریب اور متوسط طبقہ سب پریشان ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مہنگائی ہی ہماری تنگی کی وجہ ہے یا ہمارے رزق سے برکت اٹھ چکی ہے؟

    مہنگائی کی اصل وجہ
    مہنگائی کے پیچھے کئی اسباب ہیں۔ حکومتوں کی غلط معاشی پالیسیاں، ڈالر کی اونچی اڑان، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور منافع خوری۔ جب تاجر حلال منافع چھوڑ کر ناجائز کمائی کرنے لگے تو بازار خود بخود مہنگا ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہماری اپنی عادتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ ہم ضرورت سے زیادہ خریدتے ہیں، کھانا ضائع کرتے ہیں، نمود و نمائش پر پیسہ لٹاتے ہیں۔ پھر شکایت کرتے ہیں کہ "گھر میں برکت نہیں”
    رزق میں بے برکتی کیوں؟
    اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے "اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے”
    برکت کا تعلق پیسے کی مقدار سے نہیں بلکہ اللہ کی رضا سے ہے۔ آج ہم نے کچھ ایسی عادتیں اپنا لی ہیں جو برکت چھین لیتی ہیں
    حرام کمائی،سود، رشوت، جھوٹ اور دھوکہ۔ حرام کا ایک روپیہ بھی سو حلال روپوں سے زیادہ نقصان دیتا ہے۔
    زکوٰۃ اور صدقہ نہ دینا،مال کو پاک کرنے والا ذریعہ ہم بھول گئے۔
    شکر نہ کرنا،جو نعمت ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ہر وقت شکایت۔
    قطع رحمی،والدین کی نافرمانی اور رشتہ داروں سے تعلق توڑنے سے رزق تنگ ہو جاتا ہے۔
    حل کیا ہے؟
    مہنگائی کو ہم فوراً ختم نہیں کر سکتے، لیکن برکت لا سکتے ہیں۔
    تقویٰ اور توکل،اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ جو اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔
    حلال رزق،چاہے کم ہو، لیکن حلال ہو۔ حلال میں ہی سکون اور برکت ہے۔
    صدقہ، ہفتے میں تھوڑا سا بھی صدقہ دینے سے مال بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں۔
    قناعت جو ہے اس پر راضی رہیں۔ فضول خرچی اور دکھاوے سے بچیں۔
    دعا نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رِزْقًا طَيِّبًا وَعِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا”
    یاد رکھیں، مہنگائی آزمائش ہے اور بے برکتی ہمارے اعمال کا نتیجہ بھی۔ جب تک ہم اللہ سے تعلق درست نہیں کریں گے، دام گرنے سے بھی دل کو سکون نہیں ملے گا۔ رزق اللہ دیتا ہے۔ ہمارا کام حلال طریقہ اپنانا اور شکر کرنا ہے۔
    اللہ ہم سب کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور مہنگائی کے اس دور میں سب کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین۔

  • پرندوں کا ٹکراؤ،تحریر:بتول فاطمہ

    پرندوں کا ٹکراؤ،تحریر:بتول فاطمہ

    ہجرت کرنے والے پرندے ایک ہی راستے سے، ایک ہی سمت میں، برسوں سفر کرتے ہیں۔ جس راہ سے وہ پہلی بار گزرتے ہیں، وہاں اکثر نہ کوئی بلند و بالا عمارت ہوتی ہے، نہ کوئی انسانی بستی۔ بس کھلا آسمان، اور آسمان جتنا ہی وسیع راستہ۔ مگر وقت گزرتا ہے، اور جب یہی پرندے دوبارہ اُسی راہ سے گزرتے ہیں، تو وہاں اکثر کوئی نئی عمارت کھڑی ہو چکی ہوتی ہے۔

    عجیب بات یہ ہے کہ اگر وہ عمارت اینٹ، پتھر، یا کنکریٹ کی ہو، تو پرندے اسے فوراً بھانپ لیتے ہیں۔ اُن کی فطرت انہیں خبردار کر دیتی ہے کہ یہاں اب راستہ بدل چکا ہے، یہاں اب کوئی رکاوٹ آ کھڑی ہوئی ہے۔ وہ اپنا رخ موڑ لیتے ہیں، اوپر اٹھ جاتے ہیں، یا کنارہ کر جاتے ہیں۔ مگر شیشے کی عمارت کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
    شیشہ پرندوں کو دھوکا دے جاتا ہے۔ وہ اُس میں آسمان کا عکس دیکھتے ہیں، بادلوں کا عکس، درختوں کا عکس گویا شیشہ کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ راستے کا ہی تسلسل ہو۔ وہ پوری رفتار سے اُڑتے ہوئے اُس میں جا ٹکراتے ہیں، اور اکثر اُسی ٹکراؤ میں دم توڑ دیتے ہیں۔ یہی شیشے کا المیہ ہے وہ نظر آتا تو کچھ نہیں، مگر روکتا سب کچھ ہے۔
    سوچتی ہوں تو لگتا ہے، انسان بھی اکثر اپنی زندگی میں اِنہی شیشوں سے ٹکراتا رہتا ہے۔ پتھر کی رکاوٹیں تو نظر آ جاتی ہیں، اُن سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر وہ رشتے، وہ وعدے، وہ چہرے جو شفاف نظر آتے ہیں، جن میں ہمیں اپنا ہی عکس دکھائی دیتا ہے، جن کے پار ہمیں کھلا آسمان محسوس ہوتا ہے وہی سب سے زیادہ زخم دیتے ہیں۔ ہم پوری رفتار سے، پورے اعتماد سے، اُن میں جا ٹکراتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ شفافیت بھی ایک دیوار ہو سکتی ہے۔

    ہر وہ چیز جو آرپار دکھائی دے، ضروری نہیں کہ راستہ ہی ہو۔ کبھی کبھی سب سے شفاف نظر آنے والی شے ہی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے، اور اُس کا ٹکراؤ، پتھر کے ٹکراؤ سے کہیں زیادہ گہرا زخم چھوڑ جاتا ہے۔

  • گیس لائٹنگ: جب آپ کو اپنی ہی حقیقت پر شک ہونے لگے،تحریر:صدف ابرار

    گیس لائٹنگ: جب آپ کو اپنی ہی حقیقت پر شک ہونے لگے،تحریر:صدف ابرار

    عورت صرف اُس دن نہیں ٹوٹتی جب اس پر ہاتھ اٹھایا جائے، وہ اُس دن بھی ٹوٹنا شروع ہو جاتی ہے جب اسے بار بار یہ یقین دلایا جائے کہ اس کے احساسات کی کوئی اہمیت نہیں، اس کی یادداشت غلط ہے، اور شاید مسئلہ ہمیشہ اسی میں ہے۔

    نفسیاتی تشدد کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کے زخم نظر نہیں آتے۔ جسم پر نیل پڑ جائیں تو لوگ پوچھ لیتے ہیں، "یہ کیسے ہوا؟” مگر جب کسی کی خود اعتمادی، اس کی شناخت، اس کی خوشی اور اس کے وجود کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہو تو معاشرہ اکثر خاموش رہتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ایسے زخموں کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، کوئی خون نہیں بہتا، کوئی پٹی نہیں باندھی جاتی، مگر انسان اندر ہی اندر بکھرنا شروع ہو جاتا ہے۔

    وہ کبھی ایک پُراعتماد عورت تھی۔ اپنے فیصلے خود کرتی تھی، اپنی رائے رکھتی تھی، اپنے خوابوں پر یقین کرتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ وہ کون ہے اور کیا بننا چاہتی ہے۔ لیکن شادی کے بعد زندگی نے ایک نیا رخ لیا۔ ابتدا میں سب کچھ معمول کے مطابق لگا۔ ہر رشتے کی طرح یہاں بھی اختلاف تھے، مزاج مختلف تھے، عادتیں الگ تھیں۔ اسے لگا کہ شاید وقت کے ساتھ سب بہتر ہو جائے گا۔
    لیکن وقت بہتر نہیں ہوا، بلکہ اس نے ایک ایسی خاموش تبدیلی کو جنم دیا جسے وہ برسوں تک سمجھ نہ سکی۔
    جب بھی وہ کسی بات پر اپنے دل کی کیفیت بیان کرتی، اسے جواب ملتا، "تم ہر بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہو۔”
    اگر وہ کسی تلخ رویے کا ذکر کرتی تو کہا جاتا، "ایسا تو کبھی ہوا ہی نہیں، تمہیں غلط یاد ہے۔”
    اگر وہ محبت مانگتی تو جواب آتا، "تمہاری توقعات بہت زیادہ ہیں۔”
    اگر وہ عزت چاہتی تو اسے سمجھایا جاتا، "تم خود کو بہت خاص سمجھتی ہو۔”
    شروع میں اسے لگا شاید واقعی مسئلہ اسی میں ہے۔ شاید وہ بہت حساس ہے۔ شاید وہ زندگی کو ضرورت سے زیادہ سنجیدگی سے لیتی ہے۔ مگر پھر ایک وقت ایسا آیا جب اس نے محسوس کیا کہ اب وہ دوسروں سے پہلے خود پر شک کرنے لگی ہے۔
    وہ ہر بات کے بعد خود سے پوچھتی، "کیا واقعی میری یادداشت غلط ہے؟ کیا میں واقعی اتنی مشکل انسان ہوں؟ کیا میری تکلیف صرف میرا وہم ہے؟”
    یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں گیس لائٹنگ شروع ہوتی ہے۔
    گیس لائٹنگ دراصل نفسیاتی استحصال کی ایک ایسی شکل ہے جس میں ایک شخص مسلسل دوسرے کے احساسات، یادداشت، مشاہدے اور حقیقت کو جھٹلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ متاثرہ فرد اپنی ہی سوچ، اپنے فیصلوں اور اپنی عقل پر اعتماد کھونے لگتا ہے۔ یہ ایک دن میں نہیں ہوتا۔ یہ برسوں پر محیط ایک خاموش عمل ہے جس میں انسان کی شخصیت آہستہ آہستہ اپنی بنیادیں کھونے لگتی ہے۔
    ازدواجی تعلق میں گیس لائٹنگ ہمیشہ چیخ و پکار کی صورت میں نہیں ہوتی۔ اکثر یہ نرم لہجے، عام جملوں اور روزمرہ کی گفتگو میں چھپی ہوتی ہے۔
    "میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔”
    "تمہیں ہر بات غلط لگتی ہے۔”
    "تم بہت زیادہ سوچتی ہو۔”
    "تمہارا مسئلہ تمہارا بچپن ہے، میری ذمہ داری نہیں۔”
    "اگر تم یہاں خوش نہیں ہو تو دروازہ کھلا ہے، جا سکتی ہو۔”

    یہ جملے بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، لیکن جب یہی رویہ بار بار دہرایا جائے تو انسان اپنی ہی حقیقت سے دور ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنے جذبات کو چھپانے لگتا ہے، اپنی ضرورتوں کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے، اور ایک دن اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف دوسروں کو ناراض ہونے سے بچانے کے لیے زندہ ہے۔
    گیس لائٹنگ کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ ایک وقت کے بعد ظالم کو آپ کو قائل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ آپ خود ہی اپنے خلاف دلائل دینا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ معافی زیادہ مانگتے ہیں، بولنا کم کر دیتے ہیں، اپنی خواہشات کو دبانا سیکھ لیتے ہیں، اور اپنی خاموشی کو صبر کا نام دے دیتے ہیں۔
    مگر حقیقت یہ ہے کہ صبر اور خاموشی ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بعض اوقات صبر انسان کو مضبوط بناتا ہے، لیکن بعض اوقات خاموشی انسان کو اندر سے ختم کر دیتی ہے۔

    بہت سی عورتیں یہ سمجھ ہی نہیں پاتیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہیں صرف اتنا محسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلے جیسی نہیں رہیں۔ ان کی ہنسی کم ہو گئی ہے، ان کے خواب چھوٹے ہو گئے ہیں، وہ ہر بات پر خود کو قصوروار سمجھنے لگی ہیں، اور انہیں ہر فیصلے سے پہلے کسی دوسرے کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
    یہی گیس لائٹنگ کی کامیابی ہے۔
    سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ جب وہ اپنے دل کی بات کسی سے کرتی ہیں تو اکثر انہیں یہی جواب ملتا ہے:
    "ہر گھر میں ایسا ہوتا ہے۔”
    "تمہیں ایڈجسٹ کرنا چاہیے۔”
    "رشتے ایسے ہی چلتے ہیں۔”
    "اتنی سی بات پر زندگی خراب نہیں کرتے۔”
    شاید یہ مشورے دینے والے غلط نیت نہیں رکھتے، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر رشتہ ایک جیسا نہیں ہوتا، اور ہر خاموشی برداشت نہیں ہوتی۔

    ایک صحت مند ازدواجی تعلق میں اختلاف ضرور ہوتا ہے، مگر اختلاف کبھی بھی کسی ایک انسان کی شناخت ختم کرنے کا نام نہیں ہوتا۔ محبت کبھی یہ تقاضا نہیں کرتی کہ آپ اپنی آواز کھو دیں۔ احترام کبھی یہ نہیں کہتا کہ آپ ہر بار خود کو غلط ثابت کریں۔ اور اعتماد کبھی خوف کے سائے میں پروان نہیں چڑھتا۔
    اگر کوئی انسان ہر روز یہ محسوس کرے کہ اسے اپنی بات کہنے سے پہلے ڈر لگتا ہے، اگر اسے ہر شکایت کے بعد رشتہ ٹوٹنے کی دھمکی ملے، اگر اسے مسلسل یہ یقین دلایا جائے کہ اس کے احساسات بے معنی ہیں، تو مسئلہ صرف اختلاف کا نہیں رہتا، بلکہ رشتے کے بنیادی توازن کا بن جاتا ہے۔
    اس مضمون کا مقصد کسی کو رشتہ ختم کرنے یا ہر قیمت پر نبھانے کا مشورہ دینا نہیں۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم ان زخموں کو پہچانیں جنہیں معاشرہ اکثر زخم مانتا ہی نہیں۔
    کیونکہ بعض اوقات انسان کو کسی فیصلے سے پہلے صرف ایک چیز کی ضرورت ہوتی ہے… یہ یقین کہ وہ پاگل نہیں ہے، اس کے احساسات حقیقی ہیں، اس کی تکلیف سچی ہے، اور اس کی عزتِ نفس بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اس کے رشتے کی بقا۔
    شاید زندگی کا سب سے مشکل سوال یہ نہیں ہوتا کہ رشتہ بچایا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔
    سب سے مشکل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا اس رشتے کو بچاتے بچاتے کہیں ہم خود تو ختم نہیں ہو رہے؟

  • الفاظ کا جال اور غلامی،تحریر: اقصیٰ جبار

    الفاظ کا جال اور غلامی،تحریر: اقصیٰ جبار

    اطالوی فلسفی انتونیو گرامشی نے برسوں پہلے جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھ کر ایک بڑی پتے کی بات کہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ دنیا کے طاقتور لوگ جب عام انسانوں کو اپنا ذہنی غلام بنانا چاہتے ہیں، تو وہ کسی بندوق، لاٹھی یا قانون کا استعمال نہیں کرتے۔ وہ بہت چلاکی سے ہماری روزمرہ کی زبان اور لائف اسٹائل کو بدل دیتے ہیں۔ وہ ایسے نئے الفاظ اور طریقے رائج کرتے ہیں جو ہمیں دیکھنے میں بہت معصوم، سیدھے اور ‘عقلِ عام’ (Common Sense) لگتے ہیں۔ نظام کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ بظاہر غاصب نہ لگے، بلکہ ہماری عادت بن جائے۔

    آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو گرامشی کا یہ فلسفہ ہمارے سوشل میڈیا اور موبائل فون کی شکل میں بالکل سچ ثابت ہو رہا ہے۔ ہم نے کبھی ٹھنڈے دماغ سے سوچا ہی نہیں کہ "اسکرولنگ”، "ٹرینڈ”، "لائکس”، "ویوز” اور "فالوورز” جیسے بظاہر سادہ اور آسان الفاظ نے کس طرح ہماری سوچنے کی آزادی کو ہم سے چھین لیا ہے۔

    زیادہ پرانی بات نہیں ہے، ہمارے معاشرے میں ایک روایت ہوتی تھی کہ ہر دوسرا شخص اپنے پاس ایک چھوٹی سی ڈائری, نوٹ بک یا بیاض رکھتا تھا۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد جب انسان تھک ہار کر بیٹھتا، تو وہ اپنے سچے جذبات، اپنی خوشی، اپنا دکھ یا کوئی پسندیدہ شعر اس ڈائری کے سپرد کر دیتا تھا۔ وہ ڈائری کسی کو دکھانے کے لیے نہیں ہوتی تھی، بلکہ وہ انسان کی اپنے آپ سے گفتگو ہوتی تھی۔ وہاں کوئی سنسرشپ تھی اور نہ ہی کسی مصلحت کا خوف۔ وہ انسان کی اپنی پناہ گاہ تھی، جہاں وہ کھل کر سانس لیتا تھا۔

    لیکن آج کے ڈیجیٹل دور نے ہم سے وہ پناہ گاہ چھین لی ہے۔ اب ہم نے اپنے جذبات کو ڈائری میں چھپانے کے بجائے فیس بک اور انسٹاگرام پر "اسٹیٹس” اور "اسٹوریز” کی شکل میں سرِعام بازار میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب ہماری سچی خوشی یا گہرا دکھ تب تک معتبر نہیں مانا جاتا، جب تک اس پر انٹرنیٹ کی دنیا کے سو پچاس لوگ ‘لائیک’ کا ٹھپا نہ لگا دیں۔ ہم نے اپنی تنہائی، اپنا سکون اور اپنی انفرادیت کو خود اپنے ہاتھوں سے ڈیجیٹل مارکیٹ کے حوالے کر دیا ہے۔

    سب سے بڑا المیہ یہ نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ بدل گیا ہے؛ بلکہ المیہ یہ ہے کہ اس ذہنی اسارت اور دکھاوے کی زندگی کو ہم نے بہت فخر سے اپنی ‘آزاد مرضی’ اور ‘جدید طرزِ زندگی’ سمجھ کر گلے سے لگا لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ موبائل فون اور یہ سوشل میڈیا ایپس ہمارے خادم ہیں، حالانکہ سچ یہ ہے کہ ان کے پیچھے بیٹھے کارپوریٹ نظام نے ایک ایسی زبان تخلیق کر دی ہے جو ہمیں اپنی انگلیوں پر نچا رہی ہے۔ ہم وہی سوچ رہے ہیں، وہی خرید رہے ہیں اور ویسا ہی بن رہے ہیں جیسا یہ نظام ہمیں بنانا چاہتا ہے۔

    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، اپنی باطنی روایات کو زندہ نہ کیا اور اس بھیڑ چال سے خود کو الگ نہ کیا، تو یاد رکھیے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں گے جس کے پاس چمکتے ہوئے موبائل تو ہوں گے، لیکن ان کے اندر دھڑکنے والا دل اور آزادانہ سوچنے والا دماغ بالکل ختم ہو چکا ہوگا۔ اپنی زبان، اپنی سوچ اور اپنی روایات کی حفاظت کیجیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے