Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور سعودی ولی عہد کا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور سعودی ولی عہد کا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    محمد بن سلمان کا کردار: مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید
    سعودی عرب کی متوازن حکمتِ عملی: جنگ کے بجائے سفارتکاری
    خطے کے بحران میں دانشمند قیادت: محمد بن سلمان کا وژن
    تجزیہ شہزاد قریشی
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بدامنی، کشیدگی اور جنگی حالات کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے نازک اور حساس وقت میں علاقائی قیادت کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اس بحرانی صورتحال میں جس حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف محتاط بلکہ دوراندیشی پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔
    سعودی عرب، جو کہ عالمِ اسلام کی ایک اہم اور بااثر طاقت ہے، اگر چاہتا تو براہِ راست کسی بھی تنازع میں فریق بن سکتا تھا، مگر موجودہ قیادت نے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی پالیسی میں توازن، تحمل اور مکالمے کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔

    ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک طرف اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا، تو دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔ ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور مختلف علاقائی قوتوں کے درمیان رابطوں کا فروغ، اس پالیسی کا واضح ثبوت ہیں۔ یہ حکمتِ عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب اب محض ایک تیل پیدا کرنے والا ملک نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی قوت کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔

    مزید برآں، سعودی قیادت نے عالمی سطح پر بھی امن کے پیغامات کو تقویت دی ہے۔ جنگی ماحول میں ثالثی کی پیشکش اور مذاکرات کی حمایت، اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض اب تنازعات کے حل میں ایک کلیدی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب ایک نئی سمت کی طرف گامزن ہے، جہاں جنگ کے بجائے استحکام، معیشت اور ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ موجودہ حالات میں یہ طرزِ عمل نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے لیے امید کی ایک کرن بن سکتا ہے۔

  • میرےقلم کی دھنک  ،تحریر: ماریہ خان

    میرےقلم کی دھنک ،تحریر: ماریہ خان

    ایک طاقت، ایک مضبوط بنیاد، ایک رشتہ جو ہمارا قلم کے ساتھ ہے، ایک ایسی آواز جس کی طاقت کو آج تک دبایا نہیں جا سکا، وہ ہے قلم۔ قلم کی آواز میں ایسی طاقت ہے، جس کا شور سماعتوں تک اپنی گونج سے راستے بناتا ہوا خود پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے، جس کی مدد سے کوئی بھی فرد جو صرف قلم پکڑنا جانتا ہو، وہ اپنے جذبات کو کاغذ پر اتار دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ،یہ بات اہم نہیں کہ جذبات منفی ہیں یا مثبت، ایک کالم نگار جب قلم اٹھاتا ہے تو معاشرے میں چھپی برائی کو بنا کسی ڈر، خوف اور مصلحت کے تنقید برائے اصلاح کی شکل میں قرطاس پر اتار دیتا ہے، ایک شاعر قلم اٹھاتا ہے تو زمانے کی دھوپ چھاؤں، محب کے ملن اور وصل، محبت و عداوت کو اپنے اشعار میں پرونے لگتا ہے، ایک افسانہ نگار، کہانی کار سمیت کوئی بھی لکھاری جب قلم تک رسائی لیتا ہے تو اپنے جذبوں اور ارد گرد کے حالات کو کہانیوں، افسانوں میں بہت خوبصورتی سے ڈھالنے کی طاقت رکھتا ہے، اگر دیکھا جائے تو لکھا تو ایک ہی قلم سے جاتا ہے یا یوں کہئے کہ جیسے ایک گاڑی ہے اور ڈرائیور اسے اپنے حساب اور ضرورت سے چلاتا ہے، اسی طرح قلم کی بھی یہی کیفیت ہے، اس کے بھی کئی رنگ ہیں، جیسے قوس قزاح کے سات رنگ بارش کے بعد قوس و قزاح آسمان پر اپنے خوبصورت رنگ بکھیرتی نظر آتی ہے، اسی طرح قلم کے بھی الگ الگ رنگ یا انہیں قلم کی دھنک کہہ سکتے ہیں۔

    بے شمار مصنف تو ایسے بھی گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں،جن کا دوست اور کل اثاثہ صرف قلم رہا۔ قلم کی دھنک ایک سمندر کی مانند ہے، اس کی دنیا بہت وسیع ہے، قلم سے زندگیاں سنورتی دیکھیں، مگر یہی قلم جب کسی جاہل کے ہاتھ آتا ہے تو وہ انسانیت کے تقاضوں کو خاک میں ملانے میں لمحہ بھر نہیں لگاتا، ایسے بے شمار قلم کاروں کو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے دیکھا۔ یہ ان لوگوں کی بد قسمتی ہے، جو قلم کی طاقت اور اس کے فیض سے محروم ہیں۔ ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو جان بوجھ کر محروم رہنا چاہتا ہے، قلم صرف یہ نہیں کہ ایک فرد واحد نے قلم اٹھایا اور اپنا حال کاغذ کی نذر کر دیا، قلم کا مقصد تو انسانیت کی اصلاح ہے، قوم کی بیداری ہے، لوگوں کے سوئے ہوئے ناقص ذہنوں کی آبیاری ہے، جو درسگاہوں سے اپنی نسلوں کو دور رکھتے ہیں، ان کے ذہنوں میں نفرتوں کے بیج بوتے چلے آ رہے ہیں اور یہ کام نسل در نسل چل رہا ہے، اسے روکنا تو درکنار ہے، مگر ایک کوشش ضرور کی جاسکتی ہے، قلم کار ہر قدم صرف ایک کوشش کا محتاج ہے۔ ہماری ترقی، ہماری آسائشیں، ہماری نوجواں نسل کے خواب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں قلم کے سات رنگوں میں سے کسی نہ کسی رنگ سے جا کے جڑتے ہیں۔ اس دھنک رنگ میں ایسی طاقت ہے کہ اگر کوئی فرد اس کا صحیح استعمال جانتا ہے تو وہ ایک پورے خطے کی سوچ بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہماری زندگیاں قلم اور قلم کی آواز کے گرد گردش کرتی ہیں اور اگر کوئی اس حقیقت کو جھٹلاتا ہے تو یہ اس کی گمراہی اور ناسمجھی ہے، کیونکہ قلم کا کارواں تو ایک سیلاب کی مانند اپنے راستے بناتا چلتا جا رہا ہے اور اس کارواں میں مسافر شامل ہوتے جا رہے ہیں، جب مختلف ہاتھ اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو وہی ایک قلم اور اس کی سیاہی مختلف رنگوں، سوچوں، ثقافتوں کی گہرائیوں میں رنگ جاتی ہے۔ قلم کے فروغ کے لئے ادبی بیٹھک کا اہتمام مدارس سے ہی شروع کیا جائے، تاکہ ہماری نسلوں میں تحریک اور شوق بچپن اور بلوغت میں ہی بنیاد پکڑ لے، کیوں کہ مضبوط بنیادیں ہی خوبصورت عمارتوں کا بوجھ سنبھال سکتی ہیں۔

  • لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    سن اسی کی دہائی میں پاکستان عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز تھا،دنیا بھر کے صحافی اسلام آباد میں موجود رہتے تھے۔ آج برسوں بعد ایک مرتبہ پھر اسلام آباد عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اسی کی دہائی میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آرہا تھا، مگر بطور پاکستانی خوش آئند بات یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں ہمیں مثبت اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سراہا رہا ہے۔اور پاکستان پورے خطے میں ایک مضبوط سفارت کار کے طور پر سامنے آرہا ہے۔

    بلاشبہ حالیہ آباد ٹاکس نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارتی نقشے پر نمایاں مقام دلا دیا۔گزشتہ ہفتے دنیا بھر کے صحافی، تجزیہ نگار اور سفارت کار پاکستان کی طرف متوجہ تھے۔ بین الاقوامی میڈیا پاکستان کی سفارتی پختگی اور خطے میں اس کے کردار کو سراہ رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بطور قوم ہمیں اپنے ملک پر فخر کرنا چاہیے تھا۔ مگر ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے ایک بڑے طبقے نے اس تاریخی موقع پر جو کام اپنے ذمے لیا، وہ یہ تھا کہ ایک سینئر صحافی غریدہ فاروقی کے لباس کی تصویریں شیئر کی جائیں، ان کا مذاق اڑایا جائے اور انہیں ذلیل کیا جائے۔ اس موقع پر بھی امن کےلیے کوشاں پاکستان کے ایک طبقے نے ثابت کر دیا کہ چاہے یہاں امن کےلیے مذاکرات ہوں یا دنیا کے لیے فیصلے مگر ان کا ذہن ابھی بھی کسی عورت کی قمیض کی لمبائی سے آگے نہیں بڑھا۔

    یہ کوئی نئی بیماری نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی ایک واقعے تک محدود ہے۔ پاکستان میں عورت کو کمزور کرنے کا سب سے آسان اور آزمودہ ہتھیار ہمیشہ اس کا کردار، اس کا جسم اور اس کا لباس رہا ہے۔ یہ ہتھیار سیاست میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے، میڈیا میں بھی اور سوشل میڈیا کے میدان میں بھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اس ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے ایک مردانہ دنیا میں اپنا راستہ خود بنایا، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی اور اسلامی دنیا میں پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بنیں۔ مگر ان کی کردار کشی کرنے کے لیے ہیلی کاپٹروں سے پمفلٹ گرائے گئے ۔

    ثمینہ پاشا کے معاملے میں جب طلعت حسین جیسے سینئر صحافی اور شیر افضل مروت جیسے سیاست دان بیٹھ کر ان کے جسم پر تبصرے کرتے ہیں تو یہ محض بدتمیزی نہیں ہوتی، یہ ایک منظم رویے کا حصہ ہوتا ہے۔ اسے نفسیات کی زبان میں Dehumanization کہا جاتا ہے، یعنی کسی انسان کو اس کی صلاحیتوں اور کردار سے ہٹا کر محض ایک جسم تک محدود کر دینا۔ جب آپ کسی پیشہ ور عورت کی گفتگو، اس کے دلائل اور اس کی محنت کو نظرانداز کر کے اس کے وزن، رنگ یا لباس پر آ جاتے ہیں تو آپ یہ بتاتے دیتے ہیں کہ ہم ذہنی مریضوں کے لیے اصل اہمیت اس کی ذہانت نہیں، بلکہ ظاہری ہیئت ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو خاموشی سے معاشرے کی رگوں میں اترا گیا ہے۔

    بشری بی بی کے حوالے سے جو کردار کشی کی گئی، اس کی نوعیت اور بھی زیادہ گھناؤنی تھی کیونکہ اس میں نہ صرف ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا گیا بلکہ مذہبی حوالوں کو بھی استعمال کیا گیا۔ ایک عورت خود کو اس وقت سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہے۔جب اس پر مذہبی یا اسکے کردار پرالزام لگایا جائے۔ خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں ہم رہتے ہیں۔ وہاں عزت کا تصور فقط عورت سے جوڑا گیا ہے۔ مریم نواز کے بارے میں بھی یہی ہتھیار آزمایا گیا۔ ان کی سیاست سے اختلاف کرنا بالکل جائز ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید ایک ہر پاکستانی ہے جمہوری حق ہے۔مگر کردار کشی اور تنقید میں فرق ہوتا ہے۔ جب تنقید کسی عورت کی ذاتی زندگی، اس کے لباس یا اس کے جسم پر آ جائے تو وہ تنقید نہیں رہتی، وہ ہراسانی بن جاتی ہے۔

    نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ عورتوں کو ان کی ظاہری ہیئت کی بنیاد پر جج کرنا ایک مخصوص ایک بیمار ذہنی کیفیت کی علامت ہے جسے Objectification Theory کہا جاتا ہے۔جب کوئی معاشرہ عورت کو انسان کے بجائے ایک شے سمجھنے لگتا ہے تو وہ اس کی صلاحیتوں کو نظرانداز کر کے اس کے جسم کو جانچنے لگتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اس عورت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے ذہنی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ وہ معاشرے جہاں عورتوں کو ان کی اہلیت سے زیادہ ان کی ظاہری ہیئت سے پہچانا جاتا ہے، وہ معاشرے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ اپنی نصف آبادی کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔

    غریدہ فاروقی ہوں، ثمینہ پاشا ہوں، بشری بی بی ہوں، مریم نواز ہوں یا بے نظیر بھٹو یا کوئی اور عورت جسے صرف لباس اور جسمانی ہیت پر جج کیا جائے، ہمیشہ قابل مذمت ہے۔پاکستان آج عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہا ہے۔ اسلام آباد ٹاکس نے دنیا کو دکھایا کہ اس ملک کے پاس سفارتی بصیرت ہے، ذمہ داری کا احساس ہے اور خطے میں امن کی خواہش ہے۔ مگر جب تک ہمارے اندر بیٹھا وہ گدھ موجود ہے جو کامیاب عورت کو دیکھ کر اس کے لباس پر ٹوٹ پڑتا ہے، ہماری یہ عالمی و اخلاقی ساکھ ادھوری رہے گی۔

  • گوجرخان مسائل کی آماجگاہ، سسکتی عوام اور تماشائی نمائندے،تحریر  : قمر شہزاد مغل

    گوجرخان مسائل کی آماجگاہ، سسکتی عوام اور تماشائی نمائندے،تحریر : قمر شہزاد مغل

    آج گوجرخان کی گلیوں میں گھومتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ شہر جو کبھی اپنی زندہ دلی کے لیے جانا جاتا تھا، آج مسائل کی گرد میں اٹا ہوا ایک ایسا لاوارث علاقہ معلوم ہوتا ہے جہاں سفید پوش طبقہ اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے روزانہ ایڑھیاں رگڑنے پر مجبور ہے۔ گوجرخان کے باسیوں کے لیے بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ واپڈا اور گیس آفس کے افسران کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ گھنٹوں بجلی غائب رہنا معمول بن چکا ہے، جس نے کاروبارِ زندگی مفلوج کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر گیس کی نایابی نے پوری کر دی ہے مائیں بہنیں ٹھنڈے چولہوں کے سامنے بیٹھی دہائیاں دے رہی ہیں، مگر سلنڈر مافیا کی چاندی ہے۔ بل تو ہزاروں میں آتے ہیں مگر سہولیات کے نام پر صرف ذلت اور رسوائی شہریوں کا مقدر بن چکی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت نے شہر کو ایک نئے انسانی المیے سے دوچار کر دیا ہے۔ پانی کی سپلائی کا نظام درہم برہم ہے۔ فلٹریشن پلانٹس صرف نمائشی رہ گئے ہیں، اور غریب آدمی مہنگے داموں پانی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ کیا اس جدید دور میں بھی گوجرخان کے شہریوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ ایک بوند صاف پانی مانگتے ہیں؟افسوس تو اس بات کا ہے کہ جن نمائندوں کو ہم نے اپنا درد بانٹنے کے لیے ووٹ دیا، ان کی سیاست اب صرف جنازوں، ولیموں اور شادیوں میں حاضری لگوانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی کے ولیمے پر مسکرا کر مل لینا یا کسی کے جنازے میں صفِ اول میں کھڑا ہو جانا ہی عوامی خدمت ہے۔ جناب، ان متاثرین سے پوچھیں جن کے گھر میں گیس نہیں کہ روٹی پکا سکیں، ان کے لیے آپ کی ان رسمی حاضریوں کی کیا اہمیت ہے؟ عوامی مسائل پر فوکس تو جیسے ان کے منشور سے ہی خارج ہو چکا ہے۔خوشامدی ٹولہ اور مصلحت پسند فلاسفر
    شہر میں مصاحبوں، مالشیوں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالنے والوں کی ایک ایسی فوج تیار ہو چکی ہے جس نے حقائق اور نمائندوں کے درمیان دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔ حیرت تو ان نام نہاد سماجی تنظیموں اور دانشوروں پر ہے جن کے پاس ہر مسلے پر فلسفہ تو موجود ہے، مگر جب حق کی بات کرنے یا عوام کے لیے سڑک پر نکلنے کا وقت آتا ہے تو مصلحت کی چادر اوڑھ کر کونوں میں دبک جاتے ہیں۔ نجانے یہ لوگ سچ بولنے سے کیوں خوف کھاتے ہیں؟ کیا تعلقات نبھانا عوامی حقوق سے زیادہ مقدم ہے؟ واپڈا ہو، گیس آفس، بلدیہ ہو یا پولیس اسٹیشن غریب آدمی کے لیے یہاں صرف تذلیل لکھی ہے۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں عوام کو ناکوں چنے چبوانا روز کا معمول ہے۔ اور بات کریں سرکاری ہسپتال کی، تو وہاں علاج کے بجائے کھجل خواری مقدر بن چکی ہے، جہاں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ گوجرخان کا یہ حال دیکھ کر علامہ اقبال کا وہ شعر یاد آتا ہے کہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجامِ گلستاں کیا ہوگا۔ جب تک اس شہر کے باسی اپنے شعور کو بیدار نہیں کریں گے، جب تک ہم تعلقات پالنے کے بجائے حقوق مانگنے کو ترجیح نہیں دیں گے، یہ خوشامدی ٹولہ اسی طرح بھنگڑے ڈالتا رہے گا اور ہمارا شہر اسی طرح سسکتا رہے گا۔

  • خاموش سفارتکاری، روشن ہوتی امیدیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خاموش سفارتکاری، روشن ہوتی امیدیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تناؤ کے سائے میں اُبھرتی امن کی کرن
    آبنائے ہرمز سے امید کا سفر
    تجزیہ شہزاد قریشی
    آبنائے ہرمز، عالمی سیاست اور امن کی امید
    مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ حالات بظاہر کشیدہ ضرور ہیں، مگر پسِ پردہ ایک بڑی سفارتی حکمت عملی بھی جاری ہے۔ آبنائے ہرمز جو دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ ہے، اس پر ایران کا کردار انتہائی حساس اور فیصلہ کن ہے۔
    ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند رکھا جائے تو نہ صرف عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہوگی بلکہ تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ عام آدمی کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائے گا۔ ایسی صورتحال میں دنیا کی وہ ہمدردی، جو کسی حد تک ایران کے ساتھ ہے، مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث اس کے خلاف بھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران غالباً مکمل بندش کے بجائے دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ٹھنڈے دل سے حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ، کسی نئی بڑی جنگ کے حق میں نظر نہیں آتے۔ امریکی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ دباؤ اور مذاکرات کو ساتھ ساتھ چلایا جائے، خصوصاً ایسے وقت میں جب داخلی سیاسی حالات اور انتخابات قریب ہوں۔ امریکہ بھی نہیں چاہتا کہ ایک نیا عالمی بحران جنم لے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں۔

    اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ سفارتی روابط اور مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پسِ پردہ سنجیدہ کوششیں جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتیں تصادم کے بجائے حل کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ حالات مکمل طور پر نارمل نہیں ہوئے، مگر ایک بڑی جنگ کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا اس وقت ایک نازک توازن پر کھڑی ہے جہاں دانشمندی، سفارتکاری اور تحمل ہی مسائل کا حل ہیں۔

    امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ کشیدگی مزید کم ہوگی اور صورتحال بتدریج بہتری کی جانب بڑھے گی، کیونکہ نہ ایران کسی عالمی معاشی بحران کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی امریکہ ایک نئی جنگ کا۔ یہی عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ معاملہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہونے کی طرف جا رہا ہے

  • پاکستان کا بدلتا ہوا عالمی امیج: پروپیگنڈہ سے سفارتی حقیقت تک،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کا بدلتا ہوا عالمی امیج: پروپیگنڈہ سے سفارتی حقیقت تک،تجزیہ: شہزاد قریشی

    “پاکستان کا بدلتا عالمی چہرہ: پروپیگنڈے سے حقیقت تک”
    “بیانیے کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی: عالمی اعتماد کی بحالی”
    “اسلام آباد سے امن کا پیغام: پاکستان کا ابھرتا سفارتی کردار”
    “دہشتگردی کے الزامات سے امن کے علمبردار تک: پاکستان کا سفر”
    “عالمی منظرنامے میں پاکستان: ایک ذمہ دار ریاست کا نیا تعارف”
    تجزیہ:شہزاد قریشی
    گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کو عالمی سطح پر جس بیانیے کا سامنا رہا، وہ زیادہ تر سکیورٹی خدشات، دہشتگردی کے الزامات اور علاقائی کشیدگی کے گرد گھومتا تھا۔ خاص طور پر 9/11 کے بعد کے دور میں پاکستان کو ایک طرف “فرنٹ لائن اسٹیٹ” کے طور پر تسلیم کیا گیا، تو دوسری جانب اس پر دوہری پالیسیوں کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے۔ اس ماحول میں نے عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کے خلاف ایک مضبوط اور منظم بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، جس میں اسے دہشتگردی سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔

    تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ پاکستان نے داخلی سطح پر دہشتگردی کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اقدامات نے نہ صرف ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ پیغام دیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اور عملی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان قربانیوں اور کوششوں کا اعتراف سمیت متعدد عالمی اداروں کی جانب سے کیا گیا، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی برادری کا نقطہ نظر بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔

    علاقائی سطح پر بھی پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ خصوصاً میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشیں قابل ذکر رہیں۔ کے تناظر میں پاکستان کا کردار نہ صرف اہم رہا بلکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے بھی اسے تسلیم کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو ایک “مسئلے کا حصہ” نہیں بلکہ “حل کا حصہ” سمجھا جانے لگا۔

    آج ایک ابھرتے ہوئے سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں علاقائی اور بین الاقوامی مذاکرات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ عالمی میڈیا میں بھی اب پاکستان کے حوالے سے بیانیہ یک رخی نہیں رہا بلکہ اس میں معاشی بہتری، سکیورٹی استحکام اور ثقافتی سرگرمیوں جیسے مثبت پہلو بھی شامل ہو چکے ہیں۔
    تاہم، اس تمام پیش رفت کے باوجود یہ کہنا کہ پاکستان کا امیج مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، شاید قبل از وقت ہو گا۔ عالمی سیاست میں بیانیے ہمیشہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں، اور پاکستان کو اب بھی معاشی استحکام، گورننس، اور علاقائی توازن جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کے عالمی امیج کو متاثر کرتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے “بیانیے کی جنگ” میں ایک اہم موڑ ضرور حاصل کیا ہے۔ آج اگر پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن کے داعی اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تو یہ اس کی مسلسل کوششوں، قربانیوں اور مؤثر سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ مگر اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل مزاجی، پالیسی کا تسلسل اور عالمی سطح پر فعال کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔

    یہ پاکستان کے لیے یقیناً ایک اہم اور حوصلہ افزا لمحہ ہے، مگر یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا،بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے جہاں کامیابی کا دارومدار مستقل کارکردگی اور دانشمندانہ فیصلوں پر ہو گا۔

  • پاکستان کی کامیاب سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کی کامیاب سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    یورپی یونین کی حمایت اور عالمی کوششیں کیا سیز فائر مستقل امن بن سکے گا؟

    جنگ سے وقفہ یا امن کی شروعات؟ مشرقِ وسطیٰ ایک فیصلہ کن موڑ پر

    تجزیہ شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ: جنگ سے وقفہ یا امن کی ابتدا؟ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد دو ہفتوں کی سیز فائر نے جہاں وقتی سکون فراہم کیا ہے، وہیں ایک اہم سوال بھی جنم لیا ہے: کیا یہ جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے یا واقعی خطے کو مستقل امن کی طرف لے جانے کی سنجیدہ کوشش؟ یہ سیز فائر، جس میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا، بظاہر ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا، پاکستان کی مداخلت نے نہ صرف جنگ کو وقتی طور پر روکا بلکہ مذاکرات کی راہ بھی ہموار کی۔ اس پیش رفت نے پاکستان کو عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ تاہم، اس سیز فائر کی نوعیت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ یہ جنگ بندی بنیادی مسائل کا حل نہیں بلکہ ایک مہلت ہے—ایک ایسا وقفہ جس میں فریقین کو اپنے مؤقف پر نظرثانی اور بات چیت کا موقع ملتا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں، اور خطے میں طاقت کے توازن جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ جب تک ان بنیادی تنازعات کا حل نہیں نکلتا، کسی بھی سیز فائر کو مستقل امن کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے ادارے اگرچہ امن کے لیے سرگرم ہیں، لیکن خطے کے ممالک کے درمیان بداعتمادی اور مفادات کا ٹکراؤ کسی بھی پیش رفت کو نازک بنا دیتا ہے۔ خلیجی ممالک بھی اس سیز فائر کو مکمل اطمینان سے نہیں دیکھ رہے، جو اس کی پائیداری پر سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کا کردار یہاں محض ایک ثالث تک محدود نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی قوت کے طور پر ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر آئندہ مذاکرات واقعی اسلام آباد میں ہوتے ہیں، تو یہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔حقیقت پسندانہ تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ یہ سیز فائر فی الحال ایک عارضی وقفہ ہے، نہ کہ حتمی حل۔ تاہم اسے کم اہم بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ میں کئی بڑے امن معاہدے ایسے ہی چھوٹے وقفوں سے شروع ہوئے ہیں۔ اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے—کیا فریقین اس موقع کو ضائع کریں گے یا اسے مستقل امن کی بنیاد بنائیں گے؟

    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ: یہ سیز فائر امن نہیں، بلکہ امن کا ایک نادر موقع ہے۔ اگر سنجیدگی، تدبر اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا گیا تو یہی وقفہ تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے، ورنہ یہ محض ایک اور عارضی خاموشی ثابت ہوگا، جس کے بعد شور پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آئے گا۔

  • قابل فخر بیٹیاں (بیگم رعنا لیاقت علی)،تحریر  : ماریہ خان

    قابل فخر بیٹیاں (بیگم رعنا لیاقت علی)،تحریر : ماریہ خان

    ‎ ‎بیگم رعنا لیاقت علی صاحبہ 13فروری 1905ء میں پیدا ہوئیں ، 1947 سے 1951ء تک پاکستان کی خاتون اول اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیگم تھیں ،تحریک پاکستان کی رکن اور سندھ کی پہلی گورنر خاتون تھیں۔وہ اپنے شوہر کے ہمراہ تحریک پاکستان کی صف اول کی خواتین میں شامل تھیں۔بیگم رعنا ان خواتین سیاستدانوں اور ملک گیر معزز خواتین شخصیات میں شامل تھیں،جنھوں نے 1940ء میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور پاکستان میں اہم واقعات کا مشاہدہ کیا،وہ تحریک پاکستان کی اہم اور سرکردہ خاتون شخصیت میں سے ایک تھیں،اور انھوں نے محمد علی جناح کے ساتھ کام کیا ،اور پاکستان موومنٹ کمپنی کی ذمدار رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انھوں نے جناح کی پاکستان موومنٹ کمپنی میں معاشی مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور بعد جب ان کے شوہر لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے تو پاکستان کی خاتون اول بھی بنئیں۔اس حیثیت سے انھوں نے نئے قائم ملک پاکستان میں خواتین کی ترقی کے لئیے پروگرام شروع کئیے ۔خاتون اول کی حیثیت سے انھوں نے 14اگست 1949ء سے 29اکتوبر1951ء انکی مدت منصب رہا ۔انکا پیدائشی نام شیلا تھا،انکی تعلیم لکھنوء یونیورسٹی سے ہوئی۔مذہب اسلام تھا اور شہرئیت برطانوی ہند اور پھر پاکستان کے قیام کے بعد یہاں مقیم ہوئیں۔لکھنوء یونیورسٹی سے انھوں نے ماسٹر آف سائنس کیا ۔اور پیشہ کے لیحاظ سے ماہر معشیات،سفارت کار،استاد جامعہ،سیاستدان اور فوجی افسر  پاکستان میڈیکل کور میں تھیں ۔انکی مادری زبان اردو تھی۔بیگم رعنا لیاقت صاحبہ کے حالات زندگی کچھ یوں تھے ،کہ لکھنوء برطانوی ہندوستان میں 1905ء کو کمونی عیسائی خاندان میں پیدا ہوئیں،آپکا پیدائیشی نام شیلا آئرین پنت تھا۔آپ کو الموڑا کی بیٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ان کے والد ڈینیل پنت متحدہ صوبوں کے سیکٹریٹ میں خدمات انجام دیتے تھے۔کمونی برہمن پنت خاندان نے تقریبا 1871ء میں عیسائیت مزہیب قبول کیا تھا ۔بیگم رعنا نے ابتدائی تعلیم نینی تال کے ایک زنانہ ہائی سکول میں حاصل کی ۔لکھنوء یونیورسٹی سے ایم اے معاشیات اور عمرانیات کیا ۔کچھ عرصہ استاد رہئیں۔1933ء میں لیاقت علی خان سے شادی ہوئی ۔

    پاکستان بننے سے قبل آپ نے عورتوں کی ایک تنظیم ” آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن ” قائم کی ۔پاکستان کے بعد ایمپلائمنٹ ایکسچینج اور اغوا شدہ لڑکیوں کی تلاش اور شادی بیاہ کے محکمے ان کے حوالے کئیے ۔ اقوام متحدہ کے اجلاس منعقدہ 1952ء میں پاکستان کے مندوب کی حیثیت سے شریک ہوئیں ،1954ء میں ہالینڈ اور بعد ازاں اٹلی میں سفیر اور سندھ کی گورنر بھی رہیں ۔انکی سوانح عمری پر کچھ روشنی ڈالتے چلیں تو رعنا لیاقت علی خان "دی بیگم ” کی شریک مصنفہ دیپا اگروال بتاتی ہیں۔کہ وہ ایک آزاد خیال خاتون تھیں اور ان میں زبردست اعتماد تھا ۔86 سال کی اپنی زندگی میں انھون نے 43سال انڈیا میں جبکہ اتنا ہی عرصہ پاکستان میں گزارا ۔انھوں نے نہ صرف آپنی آنکھوں کے سامنے تاریخ رقم ہوتے دیکھی بلکہ اسکا حصہ بھی بنئیں ۔قائد اعظم سے لے کر جنرل ضیاء الحق تک سبھی کے سامنے وہ اپنی بات کہنے سے کبھی نہ ہچکچائیں ۔ ایم اے کی اپنی کلاس میں وہ اکیلی لڑکی تھیں ۔اور لڑکے انھیں تنگ کرنے کے لیے انکی سائیکل کی ہوا نکال دیتے تھے ۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر پشپیش  پنت کا ننیھال بھی اسی جگہ تھا ۔جہاں آیرین  روتھ پنت کا خاندان رہا کرتا تھا ۔پروفیسر پشپیش پنت بتاتے ہیں  کہ میں تقریبا 60 سال پہلے آٹھ یا دس برس کی عمر میں اپنی ننھیال والے مکان میں رہا کرتا تھا ۔لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ انکی بہن پاکستان کے پہلے وزیر اعظم سے بیاہی گئی تھیں اور ان لوگوں نے اپنا مزہب تبدیل کر لیا ۔انکا کہنا تھا کہ رعنا کے دادا ایک اعلی ذات کے برہمن تھے اور وہاں کے مشہور وید یعنی حکیم تھے اور جب انھوں نے عیسائی مذہب قبول کیا تو پورے علاقے میں ہلچل مچ گئی تھی کیونکہ اکثر نیچی ذات کہے جانے والے لوگ ہی مذہب تبدیل کیا کرتے تھے ۔ اس کے بعد جب رعنا نے ایک مسلمان سے شادی کر لی تو لوگ اور باتیں کرنے لگے ۔اس دور میں الموڑے کے دقیانوسی معاشرے میں ماڈرن کہی جانے والی پنت بہنیں نہ صرف پورے شہر میں موضوع بحث ہوا کرتی تھیں بلکہ کچھ لوگ انھیں رشک کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتے تھے ۔مشہور ناول نگار کی بیٹی ایرا پانڈے لکھتی ہیں میرے نانا کے برابر والا گھر ڈینیل پنت کا تھا جن کا خاندان مسیحی مذہب قبول کر چکا تھا ۔ لیکن ایک زمانے میں وہ ہماری ماں کے رشتہ دار ہوا کرتے تھے ۔ ہمارے نانا نے ان کی دنیا کو ہماری دنیا سے الگ کرنے کے لئیے ہمارے گھروں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی اور ہمیں سخت ہدائیت تھی کہ ہم دوسری جانب دیکھنے کی بھی کوشش نہ کریں ۔میری ماں شوانی نے لکھا تھا ۔۔
    ‎” ان کے گھر کے باورچی خانے میں پکنے والے ذائقے دار گوشت کی پاگل کر دینے والی مہک ہماری بے رونق برہمن رسوئی میں پہنچ کر ہماری دال اور آلو کی سبزی اور چاول کو شرمندہ کر دیتی تھی ”

    ‎”برلن وال ” کے اس پار کے بچوں میں ہینری پنت میرے خاص دوست تھے اور انکی بہنیں اولگا اور موریل جب اپنی جارجیٹ کی ساڑھی میں الموڑہ کے بازار میں چہل قدمی کرتی تھیں تو ہم لوگ رشک سے مر ہی جاتے تھے ۔ آئرین پنت یعنی رعنا کی تعلیم لکھنوء کے لال باغ سکول اور پھر وہیں کے مشہور آئی ٹی کالج میں ہوئی۔ متعدد اہم مصنف جیسے قرۃالعین حیدر ، عصمت چغتائی ،عطیہ حسین اس کالج سے تعلیم حاصل کر کے نکلی ہیں ۔آئرین کی بچپن کی دوست مائلز اپنی کتاب ” اے ڈائنو مو ان سلک” میں لکھتی ہیں وہ جہاں بھی ہوتی تھیں کالج میں لڑکے بلیک بورڈ پر انکی تصویر بنایا کرتے تھے ۔ لیکن ان پر اسکا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا ۔ لیاقت علی خان صاحب سے ملاقت کے بارے میں دیپا اگروال بتاتی ہیں  کہ ان دنوں ریاست بہار میں سیلاب آیا ہوا تھا اور لکھنوء یونیورسٹی کے طالب علموں نے فیصلہ کیا وہ ایک پروگرام کر کے وہاں کے لیے فنڈ جمع کریں گے ۔آئرین پنت جو لکھنوء یونیورسٹی سے ایم اے کر رہی تھیں شو کے ٹکٹ فروخت کرنے پارلیمنٹ پہنچیں اور وہاں انھوں نے پہلا دروازہ کھٹکھٹایا وہ لیاقت علی خان صاحب نے کھولا ۔لیاقت ٹکٹ خریدنے میں جھجک رہے تھے ۔اور بڑی مشکل سے انھوں نے ایک ٹکٹ خریدا ۔دیپا اگروال بتاتی ہیں کہ آئرین نے کہا کہ کم از کم دو ٹکٹ تو خریدیں اور شو دیکھنے کے لیے کسی کو آپنے ساتھ لے کر آئیں ۔جواب میں لیاقت علی خان نے کہا ۔۔کہ میں کسی کو نہیں جانتا جسکو اپنے ساتھ لاؤں اس پر آئرین بولیں میں آپکے لیے ساتھی کا انتظام کرتی ہوں اور اگر کوئی نہیں ملا تو میں ہی آپکے ساتھ بیٹھ کر شو دیکھ لوں گی اور لیاقت انکی یہ درخواست رد نہیں کر پاۓ ۔ لیاقت علی اپنے دوست مرتضی رضا کے ساتھ شو دیکھنے پہنچے لیکن کافی تاخیر کے ساتھ ،بعد میں آئرین اندر پرستھ کالج میں لیکچرار ہو گئیں جب انھیں خبر ملی کہ لیاقت علی کو لیجیسولیٹیو اسمبلی کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے تو انھوں نے اسے خط لکھ کر مبارکباد دی ۔جواب میں لیاقت علی خان نے لکھا کہ جان کر خوشی ہوئی ،آپ دلی میں ہیں جو میرے شہر کرنال کے بلکل قریب ہے ۔اس بار جب میں لکھنوء جاتے ہوۓ دلی سے گزروں گا تو کیا آپ میرے ساتھ چاۓ پینا پسند کریں گی ! آئرین نے انکی دعوت قبول کی اور یہیں سے انکی ملاقاتوں کو سلسلہ شروع ہوا ۔اور 16 اپریل 1933ء کو بات شادی تک پہنچ گئی ۔

    ‎لیاقت علی ان سے دس سال بڑے تھے ۔اور پہلے سے شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ تھے ۔لیاقت علی کی شادی انکی کزن جہاں آرا سے ہو چکی تھی ۔اور انکے بیٹے کا نام ولایت علی خان تھا ۔بہر حال انکی شادی ہوئی اور جامعہ مسجد کے امام نے انکا نکاح پڑھا ۔آئرین نے اسلام قبول کیا اور انکا نام گل رعنا رکھا گیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیاقت علی اس وقت سیاسی افق کے ابھرتے ستارے تھے ۔اور محمد علی جناح کے بہت نزدیک بھی تھے ۔لیاقت علی کو فوٹو گرافی کا شوق تھا انھوں نے موسیقی بھی سیکھی تھی پیانو اور طبلہ بجاتے تھے ۔اور گاتے بھی اچھا تھے ۔انکی پارٹیوں میں نہ صرف غزلوں کا دور چلتا تھا بلکہ انگریزی گانے بھی سننے کو ملتے تھے ۔دونوں میاں بیوی برج کھیلنے کے شوقین تھے پانچ فٹ لمبی رعنا کو نہ تو زیور پہننے کا شوق تھاگ اور نہ کپڑوں کا ۔انھیں ایک پرفیوم پسند تھا "جواۓ” جبکہ لیاقت علی کو امرود بہت پسند تھے ۔اور وہ کہا کرتے تھے کہ اس سے خون صاف ہوتا ہے ۔جانے سے پہلے جہاں جناح نے اورنگزیب والا بنگلہ رام کرشن ڈالمیہ کو فروخت کیا تھا ۔وہیں لیاقت علی نے اپنا بنگلہ پاکستان کو عطیہ کر دیا تھا اسے آج بھی پاکستان ہاؤس کہا جاتا ہے اور وہاں آج بھی انڈیا میں تعینات پاکستان کے سفیر رہتے ہیں ۔ دیپ اگروال بتاتی ہیں کہ ۔لیاقت علی نے اپنے گھر کی ایک ایک چیز پاکستان کو دے دی ۔اور وہ صرف ذاتی استعمال کی چیزیں لے کر پاکستان آۓ تھے ۔اس سامان میں ایک سوٹ کیس ،سیگریٹ لائٹروں سے بھرا ہوا تھا ۔اور وجہ یہ تھی کہ انھیں سیگرٹ لائیٹر جمع کرنے کا شوق تھا ۔اگست 1947ء میں لیاقت علی اور انکی بیگم رعنا لیاقت علی اور دو بیٹوں اشرف اور اکبر نے دلی کے ہوائی اڈے سے کراچی پرواز کی ۔لیاقت علی پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے اور رعنا پہلی خاتون اول قرار پائیں۔لیاقت نے انھیں اپنی کابینہ میں اقلیتوں اور خواتین کی بہبود سے متعلق وزارت دی۔ابھی چار سال ہی گزرے تھے کہ راولپنڈی کے ایک جلسے میں خطاب کے دوران لیاقت علی کو قتل کر دیا گیا ۔انکی موت کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال تھا ،کہ رعنا اب واپس انڈیا چلی جائیں گی ۔لیکن انھوں نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ۔کتاب "دی بیگم ” کی مشترک مصنفہ تہمینہ عزیز ایوب بتاتی ہیں کہ ابتدا میں وہ بہت پریشان تھیں اور گھبرائی بھی ، کہ اب میں کیا کروں گی ! کیونکہ لیاقت انکےلئیے کوئی پیسہ یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے تھے ۔ان کی اکاؤنٹ میں محض 300 رپے تھے ۔اور انکا بڑا مسلہ بچوں کی پرورش اور تعلیم تھا ،کچھ لوگوں نے انکی مدد بھی کی ۔بیگم رعنا لیاقت علی خان بطور پاکستان کی سفیر :حکومت پاکستان نے انھیں دو ہزار ماہانہ وظیفہ دینا شروع کر دیا ۔تین سال بعد انھیں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھیج دیا گیا ۔جس سے انھیں کچھ آسرا ہوا ۔1949ء میں ہی آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھ دی گئی تھی ۔اور بیرون ملک ہوتے ہوۓ بھی وہ اس تنظیم سے وابستہ رہیں ۔ہالینڈ کے بعد انھیں اٹلی میں پاکستان کا سفیر مقرر کر دیا گیا ۔تہمینہ ایوب بتاتی ہیں کہ :وہ بہت تعلیم یافتہ تھیں اور مختلف موضوعات پر انکی اچھی گرفت تھی ۔رعنا لیاقت علی نے اپنے سفارت کاری کے فرائض بخوبی انجام دئیے ۔ہالینڈ نے انھیں اپنے سب سے بڑے اعزاز ” اورینج ایوارڈ ” سے بھی نوازا ۔اسوقت ہالینڈ کی رانی سے انکی اچھی دوستی ہو گئی اور رانی نے انھیں ایک عالیشان گھر کی پیش کش کرتے ہوۓ کہا تم انتہائی سستے دام میں اپنی ایمبیسی کے لئیے اسے خرید لو۔یہ گھر شہر کے درمیان میں اور شاہی محل سے صرف ایک کلو میٹر دور تھا ۔وہ بلڈنگ آج بھی پاکستان کے پاس ہے ۔جہاں ہالیند میں پاکستان کا سفارتی عملہ رہتا ہے ۔بیگم رعنا سوئزرلینڈ کی سفیر بھی بنیں ۔اور انڈیا کی سابق خارجہ سیکٹری جگت مہتہ کے فلیٹ میں ٹھہریں ۔جو اس وقت سوئزر لینڈ میں انڈیا کے جونئیر سفیر ہوا کرتے تھے ۔بعد میں جگت مہتہ نے اپنی کتاب ” نیگوشی ایٹنگ فار انڈیا ” ریزالونگ پرابلم تھرو ڈپلو میسی ” میں لکھا کہ وہ ہمارے چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہیں ۔حالانکہ وہاں برطانوی سفیر نے جو پاکستان کے سفیر کی ذمداری بھی سنبھالتے تھے انھیں اپنے گھر رہنے کی دعوت بھی دی تھی ۔انھوں نے لکھا کہ وہ آتے ہیں بغیر تکلف کے میرے باورچی خانے میں گئیں اور تو اور ایک دفعہ میرے دو چھوٹے بچوں کو نہلایا بھی تھا ۔ ڈپلومیسی کی تاریخ میں انڈیا اور پاکستان کے سفیروں کے درمیان اس طرح کی دوستی کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو ۔

    ‎” امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جمشید مارکر کہتے ہیں کہ رعنا لیاقت علی جب کسی کمرے میں داخل ہوتی تھیں تو وہ کمرہ خود ہی روشن ہو اٹھتا تھا ”
    ‎سن 1947ء کے پاکستان کو اپنا گھر بنانے والی رعنا لیاقت علی خان تین بار انڈیا آئیں لیکن ایک بار بھی الموڑہ واپس نہیں گئیں ۔لیکن الموڑہ کو بھلا بھی نہیں پائیں ۔دیپا اگروال کہتی ہیں کہ وہ الموڑہ کے روائیتی کھانے بہت پسند کرتی تھیں اور ایک بار اپنے بھائی نارمن کو انکی سالگرہ پر خط میں لکھا تھا ” آئی مس الموڑہ ”

    ‎رعنا کا ایوب جنرل سے ٹکراؤ :
    ‎ڈپلو میسی کے شعبے میں کافی کامیاب ہونے کے بوجود پاکستان کے صدر ایوب خان کے ساتھ انکے تعلقات کبھی بہتر نہیں ہوۓ ۔اور ایوب خان نے انھیں تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔تہمینہ عزیزلکھتی ہیں کہ ایوب خان چاہتے تھے کہ وہ فاطمہ جناح کے خلاف انتخابی مہم میں حصہ لیں لیکن رعنا نے صاف انکار کر دیا انکا کہنا تھا کہ پاکستانی سفیر ہیں ۔جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کوپھانسی پر لٹکایا تو انھوں نے فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کی قیادت کی جنرل ضیاء الحق کے اسلامی قوانین کی پرزور مخالفت کی ۔بیگم رعنا لیاقت علی 13جون 1990ء کو حرکت قلب بند ہونے کے سبب کراچی میں انتقال کر گئیں اور مزار قائد کے احاطے لیاقت علی خان کے پہلو میں مدفون ہیں ۔ بیگم رعنا لیاقت علی کو سب سے بڑے شہری اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا ۔ انھیں مادر پاکستان کا خطاب بھی ملا ۔

  • ایران کا سعودی تنصیبات پرغیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ حملہ

    ایران کا سعودی تنصیبات پرغیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ حملہ

    آج کے حملے سے پہلے کسی ملک بشمول اسرائیل نے سعودیہ عرب پر حملہ کرنے کے جرات نہیں کی۔ ایران کا سعودی شہر الجبیل کی پیٹرولیم تنصیبات پر حملہ نہ صرف سعودیہ عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات پہ حملہ ہے

    ایران کا سعودیہ عرب کے شہر الجبيل آئل ریفائنری اورپیٹروکیمیکل تنصیبات پرحملہ کسی صورت بھی امریکی تنصیبات پر جوابی حملے کے ساتھ تشبیہ نہیں دیا جاسکتا ۔ سعودیہ عرب نے ہمیشہ اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین پر موجود امریکی بیسز ایک معاہدے کے تحت قائم ہیں اور ان بیسز کو کبھی بھی ایران کے خلاف جارحانہ استعمال کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر کوئی ملک سعودیہ عرب کی معاشی اہمیت کی حامل تنصیبات پر حملہ کرے گا تو یقیناً اس کے منفی اثرات سعودیہ عرب کے مجموعی تحفظ و استحکام پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب پر کوئی بھی وار حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے ایک براہ راست خطرہ ہے، جو بطور محافظ حرمین شریفین پاکستان کو قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔

    پاکستان مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کی ابتدا سے ہی ایران کو باور کرانے کی کوشش کرتا آ رہا ہے کہ پڑوسی ممالک خصوصا سعودیہ عرب پر حملے کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے اس اصرار کے باوجود ایران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے برعکس سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک انتہائی صبر وتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو دفاعی اقدامات تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کا یہ حملہ کشیدگی کو کم کرنے کے لئیے کی جانے والی مفاہمتی کاوشوں پر ایک کاری ضرب ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے نازک وقت پر کیا گیا ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ایک حساس جانب گامزن ہیں۔ یہ حملہ ان سفارتی کاوشوں کو بڑی حد تک compromise کرتا ہے

    پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین باہمی دفاعی معاہدہ اور اس کے مضمرات سے مکمل آگاہ ہونے کے باوجود ایران کا یہ حملہ ایرانی اور عرب ممالک کے عوام کیلئے مشکلات پیدا کرنے اور مسلم اُمّہ مفادات سےمتصادم ہے، یہاں یہ امر بھی واضح ہے کہ پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین دیرینہ اور تاریخی تعلقات فرقہ واریت اور کسی لسانی تفریق سے بالاتر ہیں۔ حرمین شریفین پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے لئیے معظم اور مقدس ہے ، پاکستان سعودیہ عرب پہ ہونے والے ان حملوں کی نہ صرف بھرپور مذمت کرتا ہے بلکہ فریقین کی طرف سے صبر وتحمل کا خواہشمند ہے، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ دو مسلمان فریقین میں سے ایک فریق زیادتی کررہا ہو تو دوسرے فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی جاتی ہے اس طرح کے جارحانہ اور غیر ذمہ درانہ اقدامات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی عوام معاشی استحکام کے لیے خطرناک ہیں اور توانائی کی تنصیبات پر اس طرح کے حملے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ نہ صرف ان حملوں کی مذمت کی جائے بلکہ انکو ہر صورت روکا جائے۔

  • جنگ کے سائے میں پاکستان کی خاموش کامیابی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے میں پاکستان کی خاموش کامیابی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عاصم منیر کی قیادت: سفارتکاری کا نیا باب
    دنیا جنگ کے قریب، پاکستان امن کے ساتھ

    تجزیہ: شہزادقریشی

    جنگ کے دہانے پر دنیا اور پاکستان کی خاموش سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جس کے لاوے نے عالمی امن، معیشت اور سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، تیل کی عالمی ترسیل پر خطرات، اور خطے میں پھیلتی ہوئی بے یقینی نے دنیا کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے نازک اور خطرناک وقت میں پاکستان نے جس دانشمندی، تحمل اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی سطح پر اسے تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری ٹیم نے ایک ایسا کردار ادا کیا ہے جو بظاہر منظرِ عام پر کم نظر آتا ہے، مگر اس کے اثرات عالمی سیاست میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خاموش سفارتکاری، بیک چینل رابطے اور طاقتور ممالک کے درمیان اعتماد سازی یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ قبول ثالث کے طور پر سامنے لایا ہے۔

    امریکہ، ایران، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات رکھنا کوئی آسان کام نہیں، مگر پاکستان نے یہ توازن برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف خود کو ممکنہ جنگ سے دور رکھا بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی۔ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اس وقت پاکستان کے اسی کردار پر مرکوز ہے، جہاں اسے ایک “میڈی ایٹر اسٹیٹ” یعنی ثالثی کرنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ ایک سوچے سمجھے وژن، مربوط حکمت عملی اور مسلسل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ چند سال پہلے تک عالمی تنہائی کا تاثر رکھنے والا پاکستان آج عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ دراصل پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کا نتیجہ ہے جس نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے اس تمام صورتحال میں “متوازن غیر جانبداری” کی پالیسی اپنائی یعنی نہ کسی ایک فریق کا حصہ بننا اور نہ ہی خاموش تماشائی بن کر رہ جانا، بلکہ فعال سفارتکاری کے ذریعے امن کی راہ تلاش کرنا۔ یہی حکمت عملی پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز بناتی ہے۔ تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان توازن برقرار رکھنا، اندرونی سیکیورٹی صورتحال کو مستحکم رکھنا، معاشی دباؤ کا سامنا کرنا، اور علاقائی طاقتوں کی ممکنہ مخالفت یہ تمام عوامل پاکستان کے لیے ایک مستقل امتحان ہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت واضح ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم نے جس تدبر، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے پاکستان کی عالمی ساکھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    آج دنیا ایک بار پھر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ پاکستان صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں دنیا جنگ کے بادلوں میں گھری ہوئی ہے، وہاں پاکستان نے امن، توازن اور دانشمندی کی ایک نئی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی اس کی اصل کامیابی ہے