معاشرے کی پیشانی پر لگے بدترین داغوں میں سے ایک معصوم کلیوں کو مسلنا اور ان کی بے زبان معصومیت کا سودا کرنا ہے۔ جب بھی کسی پھول جیسے بچے یا بچی پر سفاکیت کا کوئی سانحہ منظرِ عام پر آتا ہے تو دل دہل جاتے ہیں، آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور زبانوں پر ایک ہی نوحہ ہوتا ہے کہ آخر درندگی کا یہ عفریت کہاں سے آتا ہے۔ عوام کا سارا غصہ گلی کے کسی نامعلوم غنڈے، منشیات کے عادی کسی آوارہ گرد یا کسی اجنبی چہرے پر جا کر رک جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین، دردناک اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔ تفتیشی فائلوں، عدالتی کارروائیوں اور چائلڈ پروٹیکشن کے دستاویزی اعداد و شمار کا مطالعہ کیا جائے تو انسانیت شرمسار ہو جاتی ہے کیونکہ سب سے زیادہ وار ان ہاتھوں سے ہوتے ہیں جنہیں ہم اپنا، شفیق اور قابلِ احترام گردانتے ہیں۔ جسے ہم محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں، اکثر وہی قید خانہ ثابت ہوتی ہے اور جسے محافظ سمجھ کر ماتھا چومنے کی اجازت دی جاتی ہے، وہی سفاک شکاری بن کر سامنے آتا ہے۔
یہ سوال ہر باشعور ذہن کو تڑپاتا ہے کہ آخر اپنے ہی لوگ، خونی رشتے دار یا قریبی شناسا اس قبیح فعل کی دلدل میں کیوں اترتے ہیں۔ اس معاشرتی برائی کی تہہ میں صرف درندگی نہیں بلکہ ایک گہرا نفسیاتی اور معاشرتی بگاڑ چھپا ہے۔ قریبی افراد کے ملوث ہونے کی سب سے بڑی وجہ آسان رسائی اور مکمل اعتماد کا ہونا ہے۔ ہمارے روایتی خاندانی نظام میں رشتوں کے تقدس کے نام پر ایک ایسا پردہ ڈال دیا جاتا ہے جس کے پار دیکھنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک چچا، ماموں، کزن، پڑوسی یا گھریلو ملازم کو بچے تک پہنچنے کے لیے کسی دیوار کو پھلانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ گھر کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں، اور والدین کی طرف سے انہیں حاصل اندھا اعتماد درندے کے لیے سب سے بڑی ڈھال بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک منظم نفسیاتی عمل ہوتا ہے جسے ماہرین گرومنگ کہتے ہیں۔ شکاری پہلے بچے اور اس کے والدین کو محبت، تحائف، شفقت، اور حد سے زیادہ توجہ کے جال میں پھانس کر ان کا بھروسہ جیتتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ بچے کو تنہائی کی طرف راغب کرتا ہے اور پھر اسے دھمکی، بلیک میلنگ یا جھوٹے راز کے شکنجے میں جکڑ دیتا ہے۔ معاشرے میں جنسی کج روی، فحش لٹریچر کی بلا روک ٹوک دستیابی، ذہنی آسودگی کا فقدان اور سزا کے خوف کا نہ ہونا اس آگ پر تیل کا کام کرتا ہے، جہاں بظاہر شریف نظر آنے والا انسان اندر سے بیمار ذہنیت کا غلام بن چکا ہوتا ہے۔
اس ظلم کا شکار کون ہوتا ہے، بچے یا بچیاں، یہ بحث بھی اکثر سطحی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ سماجی طور پر یہ تاثر عام ہے کہ صرف معصوم بچیاں ہی اس درندگی کی زد میں آتی ہیں، اور دستاویزی رپورٹس میں بھی بچیوں کے کیسز کی تعداد ساٹھ سے پینسٹھ فیصد کے قریب نظر آتی ہے۔ لیکن اصل سچائی یہ ہے کہ بچے، یعنی لڑکے، بھی اتنی ہی کثرت سے نشانہ بنتے ہیں جتنی بچیاں۔ فرق صرف رپورٹنگ اور معاشرتی منافقت کا ہے۔ ہماری سماجی بناوٹ میں بچیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر پھر بھی کبھی بات نکل جاتی ہے، لیکن بیٹوں کے حوالے سے معاشرے میں جھوٹی غیرت اور مردانگی کے فرسودہ تصورات اس قدر مضبوط ہیں کہ اگر کسی معصوم لڑکے کے ساتھ کوئی قریبی شخص بدفعلی کر بھی گزرے تو خاندان اسے ہمیشہ کے لیے دفن کر دیتا ہے۔ والدین اس خوف سے چپ سادھ لیتے ہیں کہ لڑکے کا نام خراب ہوگا، اس کی مردانگی پر داغ لگے گا یا لوگ مذاق اڑائیں گے۔ یہی مصلحت پسندانہ خاموشی درندوں کو مزید دلیر بناتی ہے اور دونوں جنسیں برابر کی بے بسی کے ساتھ اس بربریت کی نذر ہوتی چلی جاتی ہیں۔
عمر کے گروپس کا جائزہ لیا جائے تو زخم اور گہرے ہو جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ عمر کا گروپ چھ سے پندرہ سال کے درمیانی عرصے پر مشتمل ہوتا ہے، جو کل سانحات کا آدھے سے زیادہ حصہ بنتا ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچہ گھر کی چوکھٹ پار کر کے اسکول، گلی، اکیڈمی یا محلے کی دکان تک جانے لگتا ہے۔ اس کے اندر دنیا کو دیکھنے کی حس بیدار ہوتی ہے مگر وہ اپنا دفاع کرنے یا برے ارادوں کو مکمل پرکھنے کی سکت نہیں رکھتا۔ دوسری طرف ایک انتہائی المناک طبقہ پانچ سال یا اس سے بھی کم عمر کے دودھ پیتے اور ننھے بچوں کا ہے، جو پندرہ سے بیس فیصد تک رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان کمسن بچوں کا رونا، چیخنا یا کچھ بتانا صرف زبان نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اپنی ذات میں ہی دم توڑ دیتا ہے۔ اس کے بعد سولہ سے اٹھارہ سال کے نو عمر آتے ہیں جنہیں سوشل میڈیا، جذباتی بلیک میلنگ یا دھوکے کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یوں زندگی کے ہر اس دور کو دانستہ نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں بے بسی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
مجرمان کے چہروں سے نقاب الٹا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اجنبی تو محض پندرہ سے بیس فیصد واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔ باقی اسی سے پچاسی فیصد درندے وہی ہوتے ہیں جنہیں بچے سلام کرتے ہیں، جن کی گود میں بیٹھتے ہیں یا جنہیں گھر کی دہلیز پر چائے پیش کی جاتی ہے۔ ان میں سب سے بڑا تناسب یعنی تقریباً پچاس فیصد کے لگ بھگ پڑوسی، محلے دار، دکاندار، گھریلو ملازمین، وین ڈرائیورز اور روزمرہ کے آشنا افراد پر مشتمل ہوتا ہے جن سے بچے کا دن رات کا واسطہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ افراد آتے ہیں جنہیں بااختیار اور مقدس سمجھا جاتا ہے، جیسے اسکول و اکیڈمی کے اساتذہ، نچلا عملہ، یا ٹیوٹرز۔ اس فہرست میں سب سے زیادہ دل چیر دینے والا طبقہ خون کے رشتے دار ہیں، جن میں قریبی کزنز، چچا، ماموں، بہنوئی، پھوپھا یا سوتیلے رشتہ دار شامل ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات میں بدقسمتی سے خاندان کے بزرگ معاملے کو تھانے لے جانے کے بجائے یہ کہہ کر دبا دیتے ہیں کہ خاندان کی پگڑی اچھلے گی، برادری میں ناک کٹ جائے گی یا بیٹیوں کے رشتے رک جائیں گے۔ انصاف کی یہ قربانی دراصل مجرم کو محفوظ راستہ فراہم کرتی ہے اور مظلوم بچے کو جیتے جی مار دیتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ والدین اور محرم رشتے دار، جو فطری طور پر بچے کے پہلے محافظ اور سائبان ہیں، وہ اپنے اس فرض کو کیسے نبھائیں۔ سب سے پہلی اور کڑوی حقیقت یہ تسلیم کرنا ہوگی کہ اندھا اعتماد حفاظت نہیں بلکہ غفلت ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت کے معاملے میں ہر رشتے، چاہے وہ کتنا ہی محترم یا قریبی کیوں نہ ہو، کے سامنے ایک باوقار مگر غیر متزلزل باؤنڈری کھینچنی ہوگی۔ کسی بھی کزن، ماموں، چچا یا پڑوسی کو بچے کو بلاوجہ اپنی گود میں زیادہ دیر بٹھانے، بند کمروں میں لے جا کر دروازہ بند کرنے، یا بچے کے ساتھ حد سے زیادہ غیر فطری تنہائی پسند کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ پیار اور نامناسب لمس کا فرق والدین کو خود بھی سمجھنا ہوگا اور نہایت نرمی کے ساتھ اپنے بچوں کو بھی سکھانا ہوگا۔
بچوں کے ساتھ ایک ایسا دوستانہ، شفقت بھرا اور غیر مشروط محبت پر مبنی تعلق قائم کرنا ناگزیر ہے جہاں بچہ اپنے ساتھ پیش آنے والی معمولی سی جھجک یا عجیب بات کو بھی بغیر کسی جھجک کے اپنے والدین سے کہہ سکے۔ اکثر بچے اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ الٹا انہیں ہی ڈانٹ پڑے گی یا ان پر شک کیا جائے گا۔ والدین کو اپنے بچوں کی جسمانی زبان پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر کوئی ہنستا کھیلتا بچہ اچانک خاموش رہنے لگے، اکیلے میں خوفزدہ ہو، بستر گیلا کرنے لگے، اس کے رویے میں چڑچڑاہٹ آ جائے، یا وہ کسی خاص فرد کے آنے پر سہم جائے یا اس کے پاس جانے سے انکار کرے، تو اسے ضد مت سمجھیں بلکہ فوری طور پر اس کی تہہ تک پہنچیں۔ یہ بچے کی خاموش پکار ہوتی ہے جو خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہوتی ہے۔
اسکولوں اور گھروں میں بچوں کو جسمانی خود مختاری اور پرائیویٹ پارٹس کا تصور عزت اور سلیقے کے ساتھ سکھانا فرض ہے۔ انہیں بتائیں کہ ان کا جسم ان کی امانت ہے، اور کسی کو بھی، چاہے وہ کتنا ہی پیارا یا بزرگ کیوں نہ ہو، ان کے مخصوص حصوں کو چھونے یا دیکھنے کا کوئی حق نہیں۔ بچوں کو صاف لفظوں میں سمجھایا جائے کہ اگر کوئی انہیں ایسا کرنے کو کہے، یا انہیں کوئی غلط چیز دکھائے، یا اسے کسی راز کے نام پر چھپانے کی تاکید کرے، تو وہ سختی سے انکار کریں، اونچی آواز میں شور مچائیں اور فوراً بھاگ کر اپنی ماں یا باپ کو بتائیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کی اس بات پر یقین کریں، کیونکہ بچے اس قسم کی باتوں میں عموماً جھوٹ نہیں بولتے۔
وقت آ گیا ہے کہ خاندانی مصلحت پسندی اور جھوٹی عزت کے خول کو توڑ پھینک دیا جائے۔ اگر خاندان کا کوئی بھی فرد، چاہے وہ کتنا ہی بڑا رتبہ رکھتا ہو، بچے کے ساتھ بدنیتی یا بدسلوکی کا مرتکب پایا جائے تو اسے تحفظ دینے کے بجائے سخت قانونی گرفت میں لایا جائے۔ جب تک ہم مجرم کو بے نقاب کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرتے رہیں گے، تب تک ہمارے آنگن کے پھول اسی طرح تاراج ہوتے رہیں گے۔ والدین کو چوکنا نگہبان بننا ہوگا، کیونکہ محافظ اگر غفلت کی نیند سو جائے تو پھر ماتم کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا۔ بچوں کا بچپن بچانا صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ہماری روح، ہمارے ضمیر اور نسلِ نو کے مستقبل کی بقا کا سوال ہے۔














