Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے خوشی سے نعرہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’طالبان نے مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت کا تختہ الٹ کر ’’غلامی کا طوق‘‘ توڑ دیا ہے۔ (13 جنوری 2022 ریڈیو فری یورپ) تاہم پاکستان کے لیے اس واقعے کے اثرات زیادہ تر لوگوں کو پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آ پائے۔

    مشرق وسطی میں نئی ​​پیش رفت یہ ہوئی کہ سب سے پہلے سعودی عرب کا ایران کے ساتھ سفارتی رابطہ بشکریہ چین اور پھر ان کا شام کے ساتھ دوبارہ روابط بشکریہ روس ہوا لہذا دونوں مفاہمتی معاہدے ایک گیم چینجر ہیں۔ اگرچہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی تعلقات کی بحالی کا بالواسطہ فائدہ اٹھانے والا ہے لیکن یہ دونوں پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا منفی اثر لے کر آئی جسے زیادہ تر تجزیہ نگار سمجھنے سے قاصر رہے.

    خیال رہے کہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر آچکا جس کا پاکستان کے لیے مطلب ہے کہ مشرقی محور اب موجود نہیں ہے۔ پاکستان کو جغرافیائی طور پر تزویراتی طور پر رکھا جا سکتا ہے تاہم ریکارڈ رفتار سے ہونے والی زبردست پیش رفت نے اقوام کی ترجیحات اور مفادات کو تبدیل کر دیا ہے۔

    تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بڑی نوعیت کے مسائل کی طرف بڑھ گئی ہے لہذا مشرقی محور کو مشرق وسطیٰ کے محور نے پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان اب دنیا کی دلچسپی کا مرکز نہیں رہے۔ پاکستان کو اس بات کو سمجھنے اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب ہم نے ان کا اسٹریٹجک مفاد کھو دیا ہے۔

    اب موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں جو چیز محض مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے وہ پی ٹی آئی کی بنیادی زمینی حقائق کے سے لاعلمی یا لاتعلقی ہے کیونکہ انہوں‌نے ایک PR فرم کو $25,000 فی ماہ پر ہائیر کرنا اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ اپنے الگ تھلگ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا کچھ بھی ڈلیور نہیں کرے گا. ادھر بریڈ شرمین نے سیکرٹری آف اسٹیٹ بلنکن کو ایک خط لکھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ "سیاسی نشانہ بنانے کے عمل” سے متعلق کہا گیا.

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    یہ بھی واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی ہائیر کردہ پی آر فرم صرف اتنا کر سکتی ہے بین الاقوامی توجہ یعنی ایک قوم کی حکمت عملی، دوسرے ملک کی حرکات بارے میں ان کی سمجھ، پارٹیوں اور رہنماؤںسمیت دیگر کام میں تبدیل کرنا اور امریکہ میں پاکستان مخالف لوبینگ کرنا ہے جبکہ میرا زاتی خیال ہے کہ وہ اس وقت یا مستقبل قریب میں پاکستان میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے خاص طور پر عمران خان کے معاملے میں جنہوں نے ماضی قریب میں یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ واشنگٹن ان کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث تھا لیکن یہ یاد رکھیں کہ امریکہ اس وقت تک بالکل مداخلت نہیں کرے گا جب تک کہ ان کے اپنے مفادات شامل نہ ہوں۔

  • 27 رمضان المبارک اورپاکستان

    27 رمضان المبارک اورپاکستان

    27 رمضان المبارک اورپاکستان
    تحریر: سید سخاوت الوری
    جب نزولِ قرآن کی پرنور ساعتیں تھیں، اللہ کے نیک بندے عبادت میں مصروف تھے۔رب العالمین کی رحمت کے طلبگار تھے۔ آسمان سے نور کی بارش ہورہی تھی۔فرشتے عبادت گزار بندوں پر رحمتیں نچھاور کررہے تھے۔تہجد گزار سجدے میں جھکے، سبحان ربی الاعلی کا صدق دل سے اظہار کررہے تھے۔سجدوں سے سر اٹھے توآنکھوں سے آنسو رواں تھے۔دعا صادق دل سے نکلی۔ اے ہمارے رب، دکھیاروں کے پالن ہار، بے سہاروں کے سہارے، ہم گناہ گاروں کو، سیاہ کاروں کو، اپنے پیارے حبیب ۖکے صدقے ایک ایسی زمین، ایک ایسا ملک عنایت فرما، جہاں ہم آزادی سے تیری عبادت کرسکیں، تیرا دیا ہوا قانون نافذ کرسکیں۔ ایک قوم کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔ جہاں کسی کو کسی پر برتری نا ہو، سوائے تقویٰ کے ۔
    جہاں تیرے دئیے ہوئے رزق سے کوئی محروم نہ رہے۔
    کوئی بھوکا نہ سوئے، ہر شخص کو اس کا حق ملے، بزرگوں کا احترام ہو، بچوں سے پیار ہو، جان و مال، عزت و آبرو محفوظ ہو۔
    مسلمانوں نے بلاتعصب، رنگ و نسل، ایک قوم ہوکر، رو رو کر، گڑگڑاکر دعا کی۔
    ستر(70) ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والے اللہ تعالی سے اپنے بندوں کی آہ و زاری دیکھی ناگئی۔رحمت خداوندی جوش میں آئی، فرشتوں کو حکم دیا ”کن” فرشتوں نے جواب دیا ”فی کن” اللہ کے نیک بندوں کے دلوں سے آواز نکلی۔ تیرا انعام پاکستان۔۔۔۔۔۔!
    تم اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے، تکرار کی زندہ تعبیر، 20لاکھ شہدا کے خون، لاکھوں ماؤں، بہنوں، اور بیٹیوں کی عزت و آبرو کا صدقہ، پاکستان عالم وجود میں آگیالیکن یہ کیا؟
    ہم اللہ سے کئے گئے وعدے بھول گئے؟
    اس کی تعلیم بھول گئے؟
    اس کے حبیب ۖ کا واسطہ بھول گئے؟
    نفسانفسی اور خودغرضی کے سمندر میں غرق ہوگئے، غریبوں کا حق مارنے لگے، حرام، حلال کی پہچان بھول گئے۔
    جائز و ناجائز کی شناخت کھودی۔ ماں، بہن اور بیٹی کا احترام بھول گئے۔
    بچوں سے پیار اور بزرگوں کا مقام بھول گئے اور جان، مال، عزت و آبرو کے لٹیرے بن گئے۔
    گویا، اپنا کام سیدھا، بھاڑ میں جائے عیداکی زندہ تصویر بن گئے۔
    تاریخ گواہ ہے۔۔۔۔۔۔!
    نافرمان قومیں تباہ و برباد ہوگئیں۔
    دریا برد ہوگئیں۔
    اور کیا تم بھول گئے؟
    ابھی کل کی بات ہے۔2005 ء کا زلزلہ، اللہ کی ناراضگی کا معمولی سا اظہار، انسان، لاچار، شہر ویران، بستیاں تباہ حال، ایک لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ پھر بھی سبق نہیں سیکھا۔پھر رحمتوں اور برکتوں کے مہینے رمضان المبارک میں شہر کراچی میں آگ کی بارش بھول گئے۔تقریبا ڈھائی ہزار افراد شدت گرمی سے جھلس گئے۔ سڑکیں لاشوں سے اٹ گئیں، مردے اٹھانے والے کم پڑ گئے۔ قبریں کم پڑگئیں۔ سرد خانوں میں لاشیں سڑنے لگیں۔ تم اب بھی استغفار کیلئے آمادہ نہیں۔
    نفرتوں میں تقسیم، سندھی، پنجابی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر میں فخر محسوس کررہے ہو، تم نے ایک قوم بن کر پاکستان حاصل کیا تھا۔ اب تم کدھر جارہے ہو؟میرے آفاقی ساتھیو! آ، اٹھو، کمر کسو، اور اللہ کی دی گئی نعمت پاکستان کے حصول کیلئے اپنے بزرگوں کے عزمِ عالیشان کو عملی جامہ پہنائیں۔ تاکہ آنے والی نسلیں بھی کہیں : اے نگارِ وطن تو سلامت رہے۔۔۔۔۔۔!

  • سیاسی ہنگامے میں جماعت اسلامی کا کردار، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی ہنگامے میں جماعت اسلامی کا کردار، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور عمران خان سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کرکے سیاسی درجہ حرارت کو ٹھنڈا کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ ملک کی موجودہ صورتحال کے عین مطابق ہے جماعت اسلامی نے آل پارٹیز کانفرنس عید کے بعد بلانے کا اعلان بھی کر دیا ہے جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق موجودہ سیاسی ہنگامے میں جو کردار ادا کرنے جا رہے ہیں مجھے نواب زادہ نصراللہ مرحوم کی یاد آ رہی ہے نوابزادہ جمہوریت کے دیوانے تھے وہ جمہوریت کا علاج جمہوری مزاج رکھنے والے سیاست ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے ۔ وہ جمہوریت میں اپوزیشن کے موجود کو لازم سمجھتے تھے نواب زادہ نصراللہ کی قیادت میں کئی تحریکوں کا آغاز ہوا او ر وہ کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئی آج کی سیاسی جماعتوں میں میں دوغلے پن سیاستدانوں کی اکثریت موجودہے مگراسکے ساتھ چور راستوں کا انتخاب کرنا بھی بھی آج کی سیاست کا ایک مشغلہ ہے۔ ان کے نزدیک قانون کی حکمرانی – آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کوئی معنی نہیں رکھتی سیاست کو ذاتی دشمنی کا رنگ دے دیا گیا ۔ مولانا سراج الحق بلا شبہ ایک در توثیق انسان ہے جماعت اسلامی والے درویشی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے آج کی ٹونٹی سیاست واٹس اپ سیاست آڈیو اور ویڈیو جیسے گندے کھیل کی سیاست میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا آگے آکر کر دار ادا کرنا اور کامیاب ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔

    کیاسیاسی جماعتیں جماعت اسلامی کی تجویز کو قبول کریں گی اس وقت جو سیاسی ہنگامہ برپاہے شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پر پانی پلانے میں جماعت اسلامی کا میاب ہو جائے گی ؟ موجودہ دور کے سیا ستدانوں سے اور سیاسی دوغلے پن رکھنے والے سیاستدانوں نے جمہوریت کا جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ اس جمہوریت کا پردہ چاک ہو کر عوام کے سامنے آچکا ہے عوام کی اکثریت کو لاتعداد مسائل میں الجھا دیا لگا ہے۔ سیاسی اختلاف رائے کو دشمنی اور انتقام میں بدل دیاگیاہے ، جماعت اسلامی کے امیر عجزو انکساری والے ایک دوریش انسان ہیں امید ہے سیاسی جماعتیں تاریخ سے سبق سیکھیں گی اور جماعت اسلامی کی تجویز پر عمل کرکے ملک وقوم کو مسائل سے نکالنے میں کردار ادا کریں گے گی۔

  • کوکلا چھپاکی جمہوریت، تحریر،حسین ثاقب

    کوکلا چھپاکی جمہوریت، تحریر،حسین ثاقب

    ہمارے ملک کی جمہوری سیاست بھی عجیب کھیل ہے، بالکل کوکلا چھپاکی کی طرح۔ اس میں بھی ہر کھیلنے والا صرف اسی کا حکم مانتا ہے جس کے ہاتھ میں کپڑے کا کوڑا ہو۔ اس کوڑے کے خوف سے سب کھیلنے والے سر جھکا کر دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی کسی کردہ یا ناکردہ خطا کی پاداش میں کمر پر کوڑا پڑنے کا انتظار کرتے ہیں۔

    کہنے کو تو جمہوریت آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا حق دیتی ہے لیکن سیاسی پارٹیوں میں عملی طور پر یہ حق صرف پارٹی سربراہ یا اس کے منظور نظر اہل خانہ کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ باقی سب میاں مٹھو کی طرح وہی راگ الاپتے ہیں جو انہیں پڑھایا جاتا ہے اور جس سے سر مو بھی انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کو پارٹی لائن کہتے ہیں۔ ایک سٹیج آرٹسٹ تو سکرپٹ سے ہٹ کر بھی لائن بول سکتا ہے لیکن سیاسی آرٹسٹ کو ایسے مذاق کی اجازت نہیں۔

    کہتے ہیں کہ پارلیمانی نظام میں وفاق صوبوں کی اور پارٹی سربراہ اپنے ارکان اسمبلی کی خوشنودی کا محتاج ہوتا ہے اور اگر ارکان اپنے سربراہ کی پالیسیوں سے اختلاف کریں تو سربراہ کو پارٹی کا، یا اگر وہ برسراقتدار ہو تو حکومتی عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ ہماری جمہوریت میں ایسا مذاق ناپسندیدہ شرعی عیب سمجھا جاتا ہے۔ اس پارلیمانی عیب کا علاج بھی چودھویں اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کر دیا گیا ہے۔

    آج سے لگ بھگ پینتالیس سال پہلے جب اخبار میں کام شروع کیا تو "پارٹی لائن” کا نام سنا۔ پہلے سوچا شائد یہ بھی ریلوے لائن کی طرح کی کوئی چیز ہوگی۔ جب حقیقت میں واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ اس لائن پر چلنے والے بھی ریلوے انجن کی طرح کانٹا بدلنے والے کے محتاج ہوتے ہیں۔ پارٹی لیڈر جب چاہے کانٹا بدل کر اپنی پارٹی کی لائن بدل سکتا ہے۔ وہ عوامی حکومت کا دور تھا اور ارکان اسمبلی پارٹی چئیرمین کے جنبش ابرو پر لائن اپ ہو جاتے تھے۔ اور تو اور اتنا ڈسپلن تھا کہ پارٹی کے سب کہہ و مہ ایک طرح کی یونیفارم پہنتے جس میں تمیز و تخصیص کے لئے مختلف رنگوں کی پٹیاں اور ربن لگائے جاتے۔

    میرے بزرگوں کے جاننے والے ایک صاحب رکن اسمبلی تھے اور پارلیمانی سیکرٹری بن چکے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے فرمائش کی کہ گاہے گاہے ان کے نام سے مروجہ پارٹی لائن کے مطابق بیان شائع کردیا کروں کیونکہ ان کے محکمے کا پی آر او اپنی ساری توجہ وزیر صاحب پر مرکوز رکھتا تھا۔ اس سے پہلے پارٹی لائن کا لفظ میرے لئے اجنبی تھا۔ میں نے اپنے سینیئر رفقائے کار سے پوچھا تو انہوں نے نہ صرف برسراقتدار جماعت کی مروجہ پارٹی لائن کے بارے میں میری معلومات میں اضافہ کیا بلکہ ملکی سیاست کے دیگر دلچسپ مگر ہوش ربا اسرار و رموز بھی گوش گزار کئے۔

    عوامی حکومت کے عہد میں ہر وزیر مشیر ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے یا بہانے کی نوید دیا کرتا۔ ان میں ایک مشیر ایسا بھی تھا جسے باخبر حلقوں کے مطابق اس کے حاسدین "مشیر بوسیلہ ہمشیر” کہا کرتے تھے۔ ایک پارٹی لائن "عوامی” تھی جس کے تحت ہر چھوٹا بڑا لیڈر ایک ہی بات چنگھاڑتا سنائی دیتا تھا کہ ملک میں عوامی انقلاب آ گیا ہے، عوامی طوفان آنے والا ہے جو سب شکست خوردہ عناصر کو بہا لے جائے گا۔ پھر جال بچھانے کی باری آئی جس کے مطابق سڑکوں کے جال بچھا دیں گے، سکولوں کے جال بچھا دیں گے۔ ایک صوبائی وزیر جیل خانہ جات کو اور کچھ نہ ملا تو یہاں تک کہہ گئے کہ ہم ملک میں جیلوں کا جال بچھا دیں گے۔ جب عوامی حکومت کا دم واپسیں آیا تو پھر پارٹی لائن اس طرح تھی کہ قائد عوام کی ولولہ انگیز قیادت میں ملک دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا پے۔ اس وقت پارٹی لائن صرف تقریروں میں نہیں، سرکاری اشتہاروں میں بھی جھلکتی تھی۔

    میں نے خود ایسے اشتہارات بھی ڈرافٹ کئے جو وزیر اعظم کے انتخابی جلسے کے موقع پرخصوصی ضمیمہ کے لئے کاروباری طبقے کی طرف سے دیے گئے۔ بعد میں ہمارا ایک نمائیندہ اشتہاروں کا بل وصول کرنے کامونکی کی آڑھت منڈی میں گیا تو اس کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔ ان اشتہاروں کی قابل اعتراض لائن جو فرمائشی طور پر لگائی گئی وہ یوں تھی کہ آپ آئے تو بہاریں آئیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پارٹی لائن کا واحد مقصد کسی قومی ادارے کی توہین کرنا ہو تو اس کی سزا نچلے درجے کے "لیڈروں” کی بجائے حقیقی لیڈروں کو دی جائے۔ یہ بچارے تو میاں مٹھو، حکم کے غلام اور پارٹی لائن کے تابع ہوتے ہیں.

  • اب  کھائی جانے والی بیٹری سائنسدانوں نے ایجاد کرلی

    اب کھائی جانے والی بیٹری سائنسدانوں نے ایجاد کرلی

    روم(انٹرنیشنل ویب ڈیسک) اطالوی سائنسدانوں نے ایسی بیٹری کا پروٹوٹائپ (اولین نمونہ) بنایا ہے جسے کھایا بھی جاسکتا ہے۔
    اٹالیئن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے ڈاکٹر ماریو کیرونی نے عین انسانی جسم اور خلیات میں جاری حیاتی کیمیائی ردِ عمل (ریڈوکس ری ایکشن) پر کام کرنے والی بیٹری تیار کی ہے۔
    اس بیٹری کےاینوڈ وٹامن بی ٹو یا رائبوفلے وِن پرمشتمل ہیں جبکہ کیتھوڈ کیورسیٹن سے بنا ہے۔ یہ دونوں اجزا کئی پھلوں اور پودوں میں پائے جاتے ہیں۔ پھر اس میں بجلی کے بہاؤ (کنڈکٹوٹی) کو بہتر بنانے کے لیے چارکول ملایا گیا ہے۔
    اس کے برقیرے (الیکٹرولائٹ) پانی پر مشتمل ہیں اور الگ کرنے والا سیپریٹر اینوڈ اور کیتھوڈ کے درمیان ایک نفوذ پذیر جھلی کا کام کرتا ہے۔ لیکن برقیرے درحقیقت سمندری گھاس پرمشتمل ہے جو سوشی ڈش میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے بعد سونے کے باریک ورق پر شہد کی مکھی کا موم جمایا گیا ہے۔
    تجرباتی بیٹری 0.65 وولٹ کی بنائی گئ ہے اور چارج ہونے پر اس نے 12 منٹ تک 48 مائیکروایمپیئر بجلی خارج کی۔ اگرچہ یہ بہت زیادہ توانائی نہیں لیکن چھوٹے سینسر اور ایل ای ڈی وغیرہ کو اس سے چلایا جاسکتا ہے۔
    ڈاکٹر ماریو کے مطابق کھائے جانے والے سرکٹ اور بیٹریوں کو صحت اور کھانے کے گوداموں کی نگرانی میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور یوں ماحولیاتی نقصان بھی کم کم ہوتا ہے۔ اس طرح یہ بیٹریاں بہتر انسان دوست اور تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں بچوں کے کھلونوں میں بھی انہیں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اکثر بچے کھلونوں کی چھوٹی بیٹریوں اور بٹن کو نگل لیتے ہیں جو کئی مرتبہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

  • احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار

    احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار

    احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار
    ثوبان ارشد
    رمضان المبارک کے بے شمار اور لاتعداد فضائل ہیں۔انہی فضائل کی وجہ سے اس مہینے میں لوگوں میں نیکی کا جذبہ بڑھ جا تا ہے،مساجد کی رونقیں عروج پر پہنچ جاتی ہیں ،جگہ جگہ دروس قرآن اور ترجمہ قرآن کلاسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔رمضان المبارک کی بڑی فضلیت ہے۔اس سلسلہ میں بہت سی احادیث مذکور ہیں۔روزہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے۔حدیث رسول ﷺ ہے اللہ کہتے ہیں روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر ہوں۔ایک اور حدیث ہے کہ روزہ جہنم سے بچائو کے لئے ڈھال ہے۔بلاشبہ روزہ رکھنے کا اجر عظیم ہے ۔ لیکن جس اللہ نے ہمیں رمضان المبارک کا تحفہ دیا وہ اس سے بھی عظیم تر ہے روزہ رکھنے سے جہاں انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں وہاں انسان جسمانی طور پر بھی صحتمند رہتا ہے ۔ رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی مسلمان روزہ افطار کرواتا ہے تو جتنا اجر روزہ رکھنے کوملتا ہے اتنا ہی اجر روزہ افطار کروانے والے کو بھی ملتا ہے۔چنانچہ ماہ رمضان میںلوگ بڑے ذوق و شوق سے سحر وافطار کا اہتمام کرتے اور کرواتے ہیں اجتماعی افطاریوں کا اہتمام بھی کیا جا تا ہے۔یہ ایک روایت ہے جو مسلمانوں میں ساڑھے چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے۔یہ خوبصورت روایت اسلام کا حسن ہے ۔رمضان کے مہینے میں عالمگیر سطح پر افطاریوں کا اہتمام صرف اسلام کا خاصہ ہے دنیا کا کوئی دوسرا مذہب اس طرح کی رواداری اورایثار کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔

    رمضان البارک اور قرآن مجید کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے میں مسلمانوں کا قرآن مجید فرقان حمید کے ساتھ بھی تعلق ، ربط اور شغف بڑھ جاتا ہے وہ بڑے شوق سے قرآن مجید پڑھتے ، سنتے اور سناتے ہیں ۔دعا ہے کہ اللہ اس ماہ مبارک کی رونقوں سے ہمیں زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ قرآن مجید میں مومن کے صفات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مومن وہ ہیں جو بھوکوں کو کھانے کھلاتے اور ضرورتمندوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اس کا عملی جذبہ رمضان المبارک کے میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب ہر مسلمان اپنے وسائل کے مطابق اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے سحر وافطار کااہتمام کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

    امسال رمضان المبارک میں شعبہ صحافت سے وابستہ احباب وافراد کیلئے ایک شاندار افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف اخبارات اور جرائد میں کام کرنے والے احباب نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس پروگرام کے میزبان ڈ اکٹر سبیل اکرام تھے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام ہمہ جہت صفات کے حامل ہیں ، وہ جوا ں سال ، جواں عزم اور جواں ہمت ہیں ۔ان کی شخصیت کا ہر پہلو قابل ذکر ہے ۔وہ شہید ملت علامہ احسان الہیٰ ظہیر کے نواسے ہیں ، مرکز قرآن وسنہ لارنس روڈ لاہور میں امام تراویح ہیں ،جبکہ اس مرکزکے خطیب علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید کے فرزند علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر ہیں ۔ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر بھی اپنے باپ کی طرح شعلہ نوا مقرر اور خطیب بے بدل ہیں۔ مرکز قرآن وسنہ کی بنیاد ڈاکٹر سبیل اکرام کے نانا علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید نے رکھی تھی ۔اگر آج اس مرکز کا شمار لاہور کے چند اہم ترین بڑے دینی مراکز میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خانوادہ علامہ احسان الہیٰ ظہیر کو دین کے ساتھ محبت اور دین کی خدمت کا جذبہ ورثے میں ملاہے ۔ اس خاندان کی خوبی یہ ہے کہ ہر فرد قرآن مجید کاحافظ ہے ، جیسا کہ ڈاکٹر سبیل اکرام ہیں ان کے سینے میں بھی اللہ نے اپنی مقدس ترین کتاب محفوظ کردی ہے بلاشبہ اس خاندان پر اللہ کا یہ خاص فضل وکرم ہے ۔یوں اس خاندان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ ایں ہمہ خانہ آفتاب است ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام معروف کاروباری شخصیت اور سیاسی وسماجی رہنما ہیں، مردم شناس ہیں، مہمان نواز اور بندہ پرور ہیں ۔ ملک کے حالات پر ان کی گہری نظر ہے ، کسی بھی معاملے میں ان کی رائے بہت جچی تلی ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام کی طرف سے دی جانے والی افطار پارٹی ایک بہت ہی خوبصورت پروگرام تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سبیل اکرام نے صحافیوں اور جرنلسٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ اللہ کاخاص فضل وکرم ہے کہ اس نے ہمیں حق بات کرنے کی توفیق دی ہے ، حق کا علم سربلند کرنے کی یہ خوبی مجھے اپنے نانا علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید اور میرے ماموں علامہ ابتسام الہی ظہیر کی طرف سے وراثت میں ملی ہے ۔ حق کی سربلندی ۔۔۔۔یہ ایک عظیم وراثت ہے جس پر بجا طور پر مجھے فخر ہے اس اعتبار سے ایک ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہوتی ہے کہ معاشرے کی اصلاح ، ملک کی تعمیر وترقی اور قوم کی فلاح وبہبود کیلئے مقدور بھر اپنا کردار ادا کروں ۔اس لئے کہ یہ ملک ہمارا وطن ہی نہیں ہمارا گھر بھی ہے ۔ اس گھر کی اچھائی بھلائی کیلئے سوچنا اور کوشش کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے ۔ اس بات میں ہر گز دو آراء نہیں کہ ہمارا ملک سنگین اور گھمبیر قسم کے مسائل کا شکار ہے ، کہنے کی حدتک ہم مسلمان ہیں اور پاکستانی ہیں لیکن ہم لسانی ، برادری اور جغرافیائی اعتبار سے تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں ۔ مزید بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایسی لیڈر شپ سے محروم ہیں جو ہمیں تقسیم کے ان دائروں سے نکال کرفکری اعتبار سے ایک پلیٹ فارم پر متحد کرسکے ۔ پاک بھارت میچ کے علاوہ ہم کسی بھی پوائنٹ پر اکٹھے نہیں ہوتے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ ہم اپنی شانداراسلامی روایات اور کلچر کو بھول گئے ہیں ۔ تقسیم در تقسیم اور اختلافات نے ہمیں کمزور کردیا ہے ۔ میں چاہتاہوں کہ ہم سب بحیثیت پاکستانی اختلافات سے بالاتر ہوکر ملک کی بقا اور قوم کے اتحاد کیلئے سوچیں ، اتحاد امت قائم کریں اور فرقہ واریت سے باہر آجائیں اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا بند کردیں ۔ پاکستان اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا یہ ملک ہمارے پاس اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ، اس نعمت کی ہم نے قدر نہ کی توہم سنگین قسم کے حالات اور خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ملک سنگین ترین حالات سے دوچار ہے ان حالات میں خاموش رہنا میرے لئے ممکن نہیں ۔ ملک کو خطرات سے نکالنے اور امن واستحکام کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے میں نے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مجھے شعبہ صحافت سے وابستہ مخلص دوست واحباب کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ میں یہ بات فخر سے کہہ سکتاہوں کہ ہم بے لوث طریقے سے اس ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور الحمدللہ خود کو ان سیاستدانوں سے بہتر سمجھتے ہیں کہ جو لوگوں سے کہتے ہیں ہمیں ووٹ دوگے تو ہم تمہاری خدمت کریں گے ۔ گویا ان کی عوامی خدمت ووٹ کے ساتھ مشروط ہے ۔ جبکہ ہمارا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ہم کہتے ہیں کہ کوئی ووٹ دے یا نہ دے ہم بہر صورت عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے اسلئے کہ ہمارا اس بات پریقین ہے کہ مخلوق کی خدمت عبادت ہے ، جب کوئی انسان اللہ کے بندوں کی خدمت کرتا ہے تو اس کااجر اللہ دیتا ہے ۔سیاستدانوں نے اپنے مقاصد کی خاطر قوم کو تقسیم کردیا ہے جس کا نہ صرف ملک بلکہ قوم کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑرہاہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب اس تقسیم کو ختم کرنے اور اتحادواتفاق کی فضا قائم کرنے کا وقت آگیا ہے اس سلسلہ میں ہم عید کے بعد ایک جامع پروگرام کریں گے اور مربوط لائحہ عمل پیش کریں گے ۔ہمارے پاس ایسی ٹیم ہے جن کے پاس ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور سیاسی ومعاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے آئیڈیاز ہیں ۔ یہ کام مشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں اس عظیم کام کو سرانجام دینے کیلئے ہمیں شعبہ صحافت سے وابستہ احباب کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام نے اس موقع پر شعبہ صحافت سے وابستہ احباب کو بھی شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافی اور کالم نگار معاشرے کے کان اور آنکھیں ہیں اس بنا پر یہ معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ ان کے قلم میں طاقت ہے ، انہیں چاہئے کہ جہاد بالقلم کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کریں ۔

  • جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
    خط کس لیے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے
    ..
    حسرت جے پوری

    یومِ پیدائش : 15 اپریل 1922

    اصل نام محمد اقبال حسین اور حسرت تخلص تھا۔ ۱۹۱۸ء میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن جے پور(بھارت) تھا۔ روزگار کے سلسلے میں بمبئی آگئے۔ بمبئی میں انھوں نے کئی سال تک بس کنڈکٹری کی۔ اس سے قبل اوپیراہاؤس کے فٹ پاتھ پر کھلونے فروخت کیے۔ اسکول میں معمولی ملازمت کی۔ اس دوران ان کی شاعری کا شغل جاری رہا۔ایک مشاعرے میں پرتھوی راج کو ان کا کلام بہت پسند آیا۔ ان کی وساطت سے انھیں راج کپور کی فلم’’برسات‘‘ میں گانے لکھنے کا موقع مل گیا۔ اس طرح وہ فلمی دنیا سے منسلک ہوگئے۔ وہ بالی ووڈ (بمبئی) کے ممتاز نغمہ نگار تھے۔ ۱۷؍ستمبر۱۹۹۹ء کو بمبئی میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:95
    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں
    وہ غیر کی بانہوں میں آرام سے سوتے ہیں

    ہم اشک جدائی کے گرنے ہی نہیں دیتے
    بے چین سی پلکوں میں موتی سے پروتے ہیں

    ہوتا چلا آیا ہے بے درد زمانے میں
    سچائی کی راہوں میں کانٹے سبھی بوتے ہیں

    انداز ستم ان کا دیکھے تو کوئی حسرتؔ
    ملنے کو تو ملتے ہیں نشتر سے چھبوتے ہیں
    ….۔۔۔۔۔

    یہ کون آ گئی دل ربا مہکی مہکی
    فضا مہکی مہکی ہوا مہکی مہکی
    وہ آنکھوں میں کاجل وہ بالوں میں گجرا
    ہتھیلی پہ اس کے حنا مہکی مہکی
    خدا جانے کس کس کی یہ جان لے گی
    وہ قاتل ادا وہ قضا مہکی مہکی
    سویرے سویرے مرے گھر پہ آئی
    اے حسرتؔ وہ باد صبا مہکی مہکی

    شعلہ ہی سہی آگ لگانے کے لیے آ
    پھر نور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ
    یہ کس نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے
    آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ
    اے دوست مجھے گردش حالات نے گھیرا
    تو زلف کی کملی میں چھپانے کے لیے آ
    دیوار ہے دنیا اسے راہوں سے ہٹا دے
    ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ
    مطلب تری آمد سے ہے درماں سے نہیں ہے
    حسرتؔ کی قسم دل ہی دکھانے کے لئے آ

  • دو نمبر اصطلاح کی بانی سیمون دی  بووار

    دو نمبر اصطلاح کی بانی سیمون دی بووار

    مجھے نہیں معلوم کہ مغربی دنیا میں دو نمبر کی اصطلاح کس قسم کے افراد کیلئے استعمال کی جاتی ہے مگر ہمارے یہاں جنوبی ایشیا میں دو نمبر کی اصطلاح غلط قسم کے افراد اور غلط اشیاء اور مصنوعات وغیر کیلئے استعمال کی جاتی ہے جبکہ دو نمبر کو ایک طرح سے گالی بھی سمجھا اور مانا جاتا ہے ۔

    دنیا کے اکثر لوگ شاید اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں کہ یہ دو نمبر کی اصطلاح کس شخصیت نے ایجاد کی اور کس پس منظر میں ؟ لہذا آئے آپ کو بتائیں یہ دراصل فرانس سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیبہ اور فلسفی سیمون دی بووار نے معاشرے میں مرد کی نسبت عورت کو ترجیح نہ دینے یا انہیں نظرانداز کرنے اور کمتر سمجھنے کی بنا پر ایک کتاب ” دی سیکنڈ سیکس” لکھ کر سخت غصے اور احتجاج کے طور پر اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا۔

    اس کتاب سیکنڈ سیکس(Secnd Sex) میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو دو نمبر سمجھ کر اسے زندگی کے ہر شعبے میں نظر انداز کیا جاتا ہے یعنی خواتین کو مرد کے مقابلے میں دو نمبر مخلوق یا سیکنڈ سیکس قرار دیا جاتا ہے ۔ سیمون دی بووار نے خواتین کو سیکنڈ سیکس یا دو نمبر اس لحاظ سے نہیں کہا تھا کہ یہ غلط یا منفی قسم کی جنس یا مخلوق ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عامر شہزاد کی موت کو جے آئی ٹی نے طبعی قرار دے دیا
    عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں ایک اور انکوائری کا آغاز
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    بلکہ سیمون دی بووار کی جانب سے خواتین کو دو نمبر یا سیکنڈ سیکس کہنے کا مقصد انہیں معاشرے میں دوسرے درجے کی شہری قرار دینا ہے جس پر وہ شدید غم اور غصے کا اظہار کرتی ہیں لیکن ہمارے یہاں برصغیر میں دو نمبر کی اصطلاح کو غلط نظریہ کے تحت استعمال کیا جاتا رہا اور کیا جارہا ہے جو کہ سیمون دی بووار کے ” دو نمبر” کی اصطلاح کے یکسر برعکس ہے۔

  • ممتاز عالم دین اور محقق ڈاکٹر اسرار احمد کا یوم وفات

    ممتاز عالم دین اور محقق ڈاکٹر اسرار احمد کا یوم وفات

    ڈاکٹر اسرار 26 اپریل، 1932ء کو بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ لاہور منتقل ہو گئے اور گورنمنٹ کالج سے ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1954ء میں انہوں نے کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد 1965ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی سند بھی حاصل کی۔ آپ نے 1971ء تک میڈیکل پریکٹس کی۔

    سیاسی زندگی

    دوران تعلیم آپ اسلامی جمیت طلبہ سے وابستہ رہے اور فعال کردار ادا کرتے ہوئے ناظم اعلی مقرر ہوئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ تاہم جماعت کی انتخابی سیاست اور فکری اختلافات کے باعث آپ نے اس سے علحیدگی اختیار کرلی اور اسلامی تحقیق کا سلسلہ شروع کر دیا اور 1975ء میں تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی جس کے وہ بانی قائد مقرر ہوئے۔ 1981ء میں آپ جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کے بھی رکن رہے۔ حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسی سال ستارہ امتیاز سے نوازا۔ آپ مروجہ انتخابی سیاست کے مخالف تھے اور خلافت راشدہ کے طرز عمل پر یقین رکھتے تھے۔ آپ اسلامی ممالک میں مغربی خصوصاً امریکی فوجی مداخلت کے سخت ناقد تھے۔

    بحیثیت اسلامی اسکالر
    تنظیم اسلامی کی تشکیل کے بعد آپ نے اپنی تمام توانائیاں تحقیق و اشاعت اسلام کے لیے وقف کردی تھیں۔ آپ نے 100 سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے کئی کا دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ آپ نے ‍قرآن کریم کی تفسیر اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کئی جامع کتابیں تصنیف کیں۔ مشہور بھارتی مسلم اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ان کے قریبی تعلقات تھے اسی ضمن میں انہوں نے بھارت کے کئی دورے بھی کیے۔ عالمی سطح پر آپ نے مفسر قران کی حیثیت سے زبردست شہرت حاصل کی۔ بلا مبالغہ ان کے سیکڑوں آڈیو، ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جن کے دنیا کی کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اسلام کا صحیح تشخص ابھارنے میں وہ اہم ترین کردار ادا کیا جو تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔

    تصانیف

    ملفوظات ڈاکٹر اسرار احمد
    اصلاح معاشرہ کا قرانی تصور
    نبی اکرم سے ہماری تعلق کی بنیادیں
    توبہ کی عظمت اور تاثیر
    حقیقت و اقسام شرک
    قرآن کے ہم پر پانچ حقوق
    اور قرآن پاک کی تفسیر بیان القرآن
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عامر شہزاد کی موت کو جے آئی ٹی نے طبعی قرار دے دیا
    عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں ایک اور انکوائری کا آغاز
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    وفات
    ڈاکٹر اسرار احمد کافی عرصے سے دل کے عارضے اور کمر کی تکلیف میں مبتلا تھے۔بالآخر مؤرخہ 14 اپریل، 2010ء کو 78 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کو گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
    ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے پسماندگان میں ان کی بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں

  • سيمون دی بووار ،دی سیکنڈ سیکس کی خالق

    سيمون دی بووار ،دی سیکنڈ سیکس کی خالق

    سيمون دی بووار (The Secnd Sex کی خالق)

    یومِ پیدائش : 9 جنوری 1908
    یوم وفات : 14 اپریل 1986

    سيمون دی بووار ( Simone de Beauvoir) عالمی شہرت یافتہ فرانسیسی ادیبہ، ناول نگار، آپ بیتی نگار، مصنفہ، فلسفی اور سیاسی کارکن تھیں جن کی کئی کتابیں شائع ہوئیں ۔ وہ 9 جنوری 1908ء کو فرانس کے شہر پیرس میں پیدا ہوئیں اور 14 اپریل 1986ء کو پیرس میں ہی اُن کا انتقال ہوا اور وہیں سپرد خاک ہوئیں۔

    سيمون دی بووار کی شہرہ آفاق تصنیف : عورت یا سیکنڈ سیکس . جو اپنے انگریزی نام سیکنڈ سیکس سے مشہور ہے، 1949ء میں شائع ہونے والی مشہور فرانسیسی وجودی سیمون دی بووار کی نسائیت سے متعلق کتاب ہے، جس میں مصنفہ نے پوری تاریخ میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بحث کی ہے۔سیمون دی بووار نے 1946ء سے 1949ء کے درمیان میں تقریباً 14 ماہ میں تحقیق کی اور کتاب لکھی۔اس نے اسے دو جلدوں میں، حقائق اور خرافات اور رواں تجربہ میں شائع کیا ۔کچھ ابواب پہلے لیس ٹیمپس ماڈرنز میں شائع ہوئے۔سیمون دی بووار کی یہ مشہور کتاب، دی سیکنڈ سیکس The Second Sex اکثر نسائیت کے فلسفے کا ایک بڑا کام اور نسائیت کی دوسری لہر کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔

    خلاصہ: سیمون دی بووار سوال اٹھاتی ہے کہ عورت کیا ہے؟ اس کا موقف ہے کہ انسان کو پہلے سے طے شدہ (یعنی انسان سے مراد مرد) سمجھا جاتا ہے، جب کہ عورت کو "دوسری” (یعنی انسان کی مونث) سمجھا جاتا ہے: "اس طرح انسانیت (سے مراد صرف) مرد ہے اور مرد، عورت کی خود سے نسبت ظاہر کرتا ہے۔” سیمون دی بووار نے مختلف مخلوقات (مچھلی، کیڑے مکوڑے، ممالیہ) نطفہ سے انڈا کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے انسان تک جاتی ہے۔ وہ نسل کے لحاظ سے عورتوں کی ذات کے تئیں مطابقت بیان کرتی ہے، مرد اور خواتین کی فزیالوجی کا موازنہ کرتی ہے، اس نتیجے پر کہ اقدار فعلیات پر مبنی نہیں ہوسکتے ہیں اور حیاتیات کے حقائق کو وجودیاتی، معاشی، معاشرتی اور فعلیاتی تناظر کی روشنی میں دیکھنا چاہئے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    تلاش و ترتیب : آغا نیاز مگسی