Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروزرضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروزرضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروز رضوی

    وہ چاک جن کو رفو کر رہی ہوں سالوں سے
    میں ایک سیتی ہوں تو دوسرا ادھڑتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    3 مارچ 1969

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ، ڈرامہ رائٹر اور ریڈیو کمپیئر افروز رضوی صاحبہ کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف . آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، عالمہ، کمپیئر ، انائونسر اور ڈرامہ نویس سیدہ افروز صاحبہ 3 مارچ 1969 کو ہندوستان کے شہر امروہہ کے ایک معروف علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید انور حسن رضوی اور والدہ صاحبہ کا نام سیدہ ذکیہ رضوی ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کے چار بہن بھائی ہیں جن میں 3 بہن اورایک بھائی شامل ہیں ۔ وہ بہت چھوٹی عمر کی تھیں کہ ان کے والدین ہندوستان سے ہجرت کر کے حیدر آباد پاکستان منتقل ہو گئےاس لیے ان کی تعلیمی اسناد میں ان کی جائے پیدائش حیدرآباد کندہ ہے۔ افروز صاحبہ کے والد سید انور حسن رضوی صاحب کی 1992 میں حیدر آباد میں وفات ہوئی ہے۔ ۔ افروز صاحبہ کو بچپن سے ہی لکھنے اور شاعری کا شوق تھا انہوں نے ساتویں جماعت میں "_جگنو” کے عنوان سے نظم لکھی تھی جس کو ان کی کلاس ٹیچر نے بہت سراہا تھا اور ریڈیو اسٹیشن لے جا کر ان کو بچوں کے ایک پروگرام میں شامل کروایا تھا۔ افروز صاحبہ نے کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی جبکہ انہوں نے ادارہ ” قرآن انسٹیٹیوٹ” سے قرآن کریم کی تلاوت، تفسیر، ترجمہ اور تجوید کی تعلیم مکمل کر کے اسناد حاصل کیں ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کی شادی ایک معزز خاندان کے فرد عبدالباسط صاحب سے ہوئی جو کہ اس وقت بینک میں اعلی آفیسر ہیں اور وہ شعر و ادب کے حوالےسے اپنی اہلیہ محترمہ کی مکمل سپورٹ اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاءاللہ یہ3 بچوں دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے. خوش قسمت والدین ہیں ان کے تینوں بچے اعلی تعلیم یافتہ ماشاءاللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کی بیٹی کینیڈا میں مقیم ہیں ۔ افروز صاحبہ ریڈیو پاکستان سے باضابطہ طور پر وابستہ ہو گئیں ۔ وہ ریڈیو پاکستان کی ایک مستند آواز، کمپیئر، انائونسر اور ڈرامہ نویس ہیں جن کے اب تک بے شمار ڈرامے اور پروگرام نشر ہو چکے ہیں اوراب بھی نشر ہو رہے ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کا مطالعہ بہت وسیع ہے انہوں نے تمام استاد شعراء کو پڑھ رکھا ہے جبکہ شاعری میں 6 کتابوں کے مصنف اور ریڈیو پاکستان حیدر آباد کے سابق سینیئر پروڈیوسر محمود صدیقی صاحب ان کے استاد رہے ہیں ۔ افروزصاحبہ کے اب تک 2 شعری مجموعے "سخن افروز ” اور ” زمن افروز ” شائع ہو چکے ہیں جبکہ ان کی حمدیہ اور نعتیہ شاعری پر مشتمل ایک کتاب” ایمان افروز” زیر طباعت ہے۔ افروزصاحبہ کئی ادبی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جبکہ وہ متعدد علمی اور ادبی اداروں سے بھی وابستہ ہیں ۔ جن میں وہ ” شاعرات پاکستان ” کی بانی چیئر پرسن ، ڈائریکٹر پروگرام شریف اکیڈمی جرمنی اور سہ ماہی ادبی جریدہ لوح ادب کی مشیر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ افروز صاحبہ آجکل کراچی میں مقیم ہیں مگر ان کا امریکہ کینیڈا اور دبئی وغیرہ آنا جنا رہتا ہے ۔

    سیدہ افروز رضوی صاحبہ کی خوب صورت شاعری سے 2 منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ساحل سے اٹھا ہے نہ سمندر سے اٹھا ہے
    جو شور مری ذات کے اندر سے اٹھا ہے

    دریائے محبت کے کنارے کبھی کوئی
    ڈوبا ہے جو اک بار مقدر سے اٹھا ہے

    وہ آئے تو اس خواب کو تعبیر ملے گی
    جو خواب جزیرہ مرے ساگر سے اٹھا ہے

    میں اپنے رگ و پے میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں
    جو شخص ابھی میرے برابر سے اٹھا ہے

    رقصاں ہے مری آنکھ میں احساس کی مانند
    منظر جو تری آنکھ کے منظر سے اٹھا ہے

    پھولوں کو ترے رنگ نے بخشی ہے کہانی
    خوشبو کا فسانہ ترے پیکر سے اٹھا ہے

    اس شہر محبت میں وہ رکتا ہی نہیں ہے
    جو شور ترے پیار کے محور سے اٹھا ہے

    یہ اس کا رویہ یہ انا یہ لب و لہجہ
    ان سب کے سبب امن و سکوں گھر سے اٹھا ہے

    مہر و مہ و انجم میں اسے ڈھونڈنے والو
    یہ سارا جہاں خاک کے پیکر سے اٹھا ہے

    رہتا ہے مری آنکھ میں کاجل کی طرح سے
    جو دور تمناؤں کے تیور سے اٹھا ہے

    میں در سے ترے اٹھ کے اسی سوچ میں گم ہوں
    کیا کوئی خوشی سے بھی ترے در سے اٹھا ہے

    جو اس کی نظر سے کبھی افروزؔ اٹھا تھا
    اس بار وہ محشر مرے اندر سے اٹھا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ مہکتا ہے جو خوشبو کے حوالوں کی طرح
    اس کو رکھا ہے کتابوں میں گلابوں کی طرح

    وہ جو خوابوں کے جزیرے میں نظر آتا ہے
    میرے ادراک میں رہتا ہے کناروں کی طرح

    بن کے احساس جو دھڑکن سے لپٹ جاتا ہے
    ساتھ رہتا ہے محبت میں خیالوں کی طرح

    دیکھنا خواب کی صورت میں نظر آئے گا
    وہ جو پلکوں پہ چمکتا ہے ستاروں کی طرح

    میں نے خوشبو کے لبادے میں جسے چوما تھا
    میری ہر سانس میں شامل ہے وہ پھولوں کی طرح

    وہ مرے شعر کا اک مصرعۂ تر ہو جیسے
    گنگناتی ہوں اسے آج میں گیتوں کی طرح

    اتنی اچھی تھی ملاقات کہ پہلے دن ہی
    دل میں افروزؔ بسایا اسے سوچوں کی طرح

  • اردو کے عظیم شاعر،فراق گورکھپوری

    اردو کے عظیم شاعر،فراق گورکھپوری

    مدتیں قید میں گزریں مگر اب تک صیاد
    ہم اسیران قفس تازہ گرفتار سے ہیں

    فراق گورکھپوری

    اردو کے ایک عظیم شاعر اور نقاد فراق گورکھپوری کا اصل نام رگھو پتی سہائے ہے ۔وہ 28 اگست 1896ء میں گورکھپور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد گورکھ پرشاد زمیندار تھے اور گورکھپور میں وکالت کرتے تھے۔ان کا آبائی وطن گورکھپور کی تحصیل بانس گاؤں تھا اور ان کا گھرانہ پانچ گاؤں کے کائستھ کے نام سے مشہور تھا۔۔فراق کے والد بھی شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔فراق نے اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی اس کے بعد میٹرک کا امتحان گورنمنٹ جوبلی کالج گورکھپور سےسکنڈ ڈویژن میں پاس کیا ۔اسی کے بعد 18 سال کی عمر میں ان کی شادی کشوری دیوی سے کر دی گئی جو فراق کی زندگی میں ایک ناسور ثابت ہوئی۔فراق کو نوجوانی میں ہی شاعری کا شوق پیدا ہو گیا تھا اور 1916 میں جب ان کی عمر 20 سال کی تھی اور وہ بی اے کے طالب علم تھے، پہلی غزل کہی۔پریم چند اس زمانہ میں گورکھپور میں تھے اور فراق کے ساتھ ان کے گھریلو تعلقات تھے۔پریم چند نے ہی فراق کی ابتدائی غزلیں چھپوانے کی کوشش کی اور زمانہ کے ایڈیٹردیا نرائن نگم کو بھیجیں۔فراق نے بی اے سنٹرل کالج الہ آباد سے پاس کیا اور چوتھی پوزیشن حاصل کی۔اسی سال فراق کے والد کا انتقال ہو گیا۔یہ فراق کے لئے اک بڑا سانحہ تھا۔چھوٹے بھائی بہنوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری فراق کے سر آن پڑی۔بے جوڑ دھوکہ کی شادی اور والد کی موت کے بعد گھرییلو ذمہ داریوں کے بوجھ نے فراق کو توڑ کر رکھ دیا وہ بے خوابی کے شکار ہو گئے اورمزید تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ اسی زمانہ میں وہ ملک کی سیاست میں شریک ہوئے۔سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے 1920 میں ان کو گرفتار کیا گیا اور انہوں نے 18 ماہ جیل میں گزارے۔ 1922 میں وہ کانگرس کے انڈر سیکریٹری مقرر کئے گئے۔ وہ ملک کی سیاست میں ایسے وقت پر شامل ہوئے تھے جب سیاست کا مطلب گھر کو آگ لگانا ہوتا تھا نہرو خاندان سے ان کےگہرے مراسم تھے اور اندرا گاندھی کو وہ بیٹی کہہ کر خطاب کرتے تھے۔مگر آزادی کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی خدمات کو بھنانے کی کوشش نہیں کی۔وہ ملک کی محبت میں سیاست میں گئے تھے۔،سیاست ان کا میدان نہیں تھی۔1930 میں انھوں نے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ اور کوئی درخواست یا انٹرویو دئے بغیر الہ آباد یونیورسٹی میں لیکچرر مقرر ہو گئے۔اس زمانہ میں الہ آباد یونیورسٹی کا انگریزی کا شعبہ سارے ملک میں شہرت رکھتا تھا۔ امر ناتھ جھا اور ایس ایس دیب جیسے مشاہیر اس شعبہ کی زینت تھے۔لیکن فراق نے اپنی شرائط پر زندگی بسر کی۔وہ ایک آزاد طبیعت کے مالک تھے۔مہینوں کلاس میں نہیں جاتے تھے نہ حاضریی لیتے تھے۔اگر کبھی کلاس میں گئے بھی تو نصاب سے الگ ہندی یا اردو شاعری یا کسی دوسرے موضوع پر گفتگو شروع کر دیتے تھے، اسی لئے ان کو ایم اے کی کلاسیں نہیں دی جاتی تھیں۔ورڈسورتھ کے عاشق تھے اور اس پر گھنٹوں بول سکتے تھے۔ فراق نے 1952 میں شبّن لال سکسینہ کے اصرار پر پارلیمنٹ کا چناؤ بھی لڑا اور ضمانت ضبط کرائی۔نجی زندگی میں فراق بے راہ روی کا مجسمہ تھے۔ان کے مزاج میں حد درجہ خود پسندی بھی تھی۔ان کے کچھ شوق ایسے تھے جن کو معاشرہ میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لیکن نہ تو وہ ان کو چھپاتے تھے اور نہ شرمندہ ہوتے تھے۔ان کے عزیز و اقارب بھی، خصوصاً چھوٹے بھائی یدو پتی سہائے،جن کو وہ بہت چاہتے تھے اور بیٹے کی طرح پالا تھا،رفتہ رفتہ ان سے کنارہ کش ہو گئے تھے جس کا فراق کو بہت صدمہ تھا۔ان کے اکلوتے بیٹے نے سترہ اٹھارہ سال کی عمر ممیں خودکشی کر لی تھی۔بیوی کشوری دیوی 1958 میں اپنے بھائی کے پاس چلی گئی تھیں اور ان کے جیتے جی واپس نہیں آئیں۔اس تنہائی میں شراب و شاعری ہی فراق کی مونس و غمگسار تھی۔1958 میں وہ یونیورسٹی سے ریٹائر ہوئے۔ گھر کے باہر فراق معزز،محترم اور عظیم تھے لیکن گھر کے اندر وہ ایک بے بس وجود تھے جس کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔وہ محرومی کا ایک چلتا پھرتا مجسمہ تھے جو اپنے اوپر آسودگی کا لباس اوڑھے تھا۔

    باہر کی دنیا نے ان کی شاعری کے علاوہ ان کی حاضر جوابی،بزلہ سنجی،ذہانت،علم و دانش اور سخن فہمی کو ہی دیکھا۔فراق اپنے اندر کے آدمی کو اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ب۔بطور شاعر زمانہ نے ان کی قدر دانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔1961 میں ان کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔1968 میں انہیں سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ دیا گیا۔حکومت ہند نے ان کو پدم بھوشن خطاب سے سرفراز کیا۔1970 میں وہ ساہتیہ اکیڈمی کے فیلو بنائے گئے اور "گل نغمہ” کے لئے ان کو ادب کے سب سے بڑے اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا جو ہندوستان میں ادب کا نوبیل انعام تصور کیا جاتا ہے۔1981 میں ان کو غالب ایوارڈ بھی دیا گیا ۔جوش ملیح آبادی نے فراق کے بارے میں کہا تھا "میں فراق کو قرنوں سے جانتا ہوں اور ان کے اخلاق کا لوہا مانتا ہوں۔مسائل علم و ادب پر جب ان کی زبان کھلتی ہے تو لفظوں کے لاکھوں موتی رولتے ہیں اور اس افراط سے کہ سامعین کو اپنی کم سوادی کا احساس ہونے لگتا ہے۔۔۔جو شخص یہ تسلیم نہیں کرتا کہ فراق کی عظیم شخصیت ہندوسامنت کے ماتھے کا ٹیکا،اردو زبان کی آبرو اور شاعری کی مانگ کا سیندور ہے وہ خدا کی قسم کور مادر زاد ہے” 3 مارچ 1982 کو،حرکت قلب بند ہو جانے سے فراق اردو ادب کو داغ فراق دے گئے اور سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسوم ادا کی گئیں۔فراق اس تہذیب کا مکمل نمونہ تھے جسے گنگا جمنی تہذیب کہا جاتا ہے وہ شاید اس قبیلہ کے آخری فرد تھے جسے ہم مکمل ہندوستانی کہہ سکتے ہیں۔

    شاعری کے لحاظ سے فراق بیسویں صدی کی منفرد آواز تھے۔جنسیت کو احساس و ادراک اور فکر و فلسفہ کا حصہ بنا کر محبوب کے جسمانی روابط کو غزل کا حصہ بنانے کا سہرا فراق کو جاتا ہے۔جسم کس طرح کائنات بنتا ہے،عشق کس طرح عشق انسانی میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر وہ کس طرح حیات و کائنات سے رشتہ استوار کرتا ہے یہ سب فراق کی فکر اور شاعری سے معلوم ہوتا ہے۔فراق شاعر کے ساتھ ساتھ ایک مفکّر بھی تھے۔راست اور معروضی انداز فکر ان کے مزاج کا حصہ تھا۔فراق کا عشق رومانی اور فلسفیانہ کم،سماجی اور دنیاوی زیادہ ہے۔فراق تلاش عشق میں زندگی کی سمت و رفتار اور بقاء و ارتقاء کی تصویر کھینچتے ہیں۔ فراق کے وصل کا تصور دو جسموں کا نہیں دو ذہنوں کا ملاپ ہے۔وہ کہا کرتے تھ تھے کہ اردو ادب نے ابھی تک عورت کے تصور کو جنم نہیں دیا۔اردو زبان میں شکنتلا،ساوتری اور سیتا نہیں۔جب تک اردو ادب دیویت کو نہیں اپنائے گا اس میں ہندوستان کا عنصر داخل نہیں ہو گا اور اردو ثقافتی حیثیت سے ہندوستان کی ترجمان نہیں ہو سکے گی۔کیونکہ ہندوستان کوئی بینک نہیں جس میں رومانی اور ثقافتی حیثیت سے الگ الگ کھاتے کھولے جا سکیں۔فراق نے اردو زبان کو نئے گمشدہ الفاظ سے روشناس کرایا ان کے الفاظ زیادہ تر روز مرّہ کی بول چال کے،نرم،سبک اور میٹھے ہیں۔فراق کی شاعری کی ایک بڑی خوبی اور خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے عالمی تجربات کے ساتھ ساتھ تہذیبی قدروں کی عظمت اور اہمیت کو سمجھا اور انہیں شعری پیکر عطا کیا۔۔۔فراق کے شعر دل پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ دعوت فکر بھی دیتے ہیں اور ان کی یہی صفت فراق کو دوسرے تمام شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔
    3 مارچ 1982ء اردو کے عظیم شاعر فراق گورکھپوری کی وفات ہوئی ۔

    فراق گورکھپوری کے اشعار

    دل غمگیں کی کچھ محویتیں ایسی بھی ہوتی ہیں
    کہ تیری یاد کا آنا بھی ایسے میں کھٹکتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    اٹھی ہے چشم ساقیٔ مے خانہ بزم پر
    یہ وقت وہ نہیں کہ حلال و حرام دیکھ

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    مدتیں قید میں گزریں مگر اب تک صیاد
    ہم اسیران قفس تازہ گرفتار سے ہیں

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    قفس سے چھٹ کے وطن کا سراغ بھی نہ ملا
    وہ رنگ لالہ و گل تھا کہ باغ بھی نہ ملا

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس پرسش کرم پہ تو آنسو نکل پڑے
    کیا تو وہی خلوص سراپا ہے آج بھی

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہیں سچ سچ بتاؤ کون تھا شیریں کے پیکر میں
    کہ مشت خاک کی حسرت میں کوئی کوہکن کیوں ہو

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل وارفتۂ دیدار کی اللہ رے محویت
    تصور میں ترے وہ تیری صورت بھول جاتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترغیب گناہ لحظہ لحظہ
    اب رات جوان ہو گئی ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی
    چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تصور میں تجھے ذوق ہم آغوشی نے بھینچا تھا
    بہاریں کٹ گئی ہیں آج تک پہلو مہکتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی ہو سکا تو بتاؤں گا تجھے راز عالم خیر و شر
    کہ میں رہ چکا ہوں شروع سے گہے ایزد و گہے اہرمن
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ فسوں پھونکا کہ وحشی بھی مہذب ہو گئے
    کر گیا کیا سحر مانا عشق بازی گر نہ تھا

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شبنم و گل ہے وہ سر سے تا بہ قدم
    رکے رکے سے کچھ آنسو رکی رکی سی ہنسی

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی دنیا کے کچھ نقش و نگار اشعار ہیں میرے
    جو پیدا ہو رہی ہے حق و باطل کے تصادم سے
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرش مے خانہ پہ جلتے چلے جاتے ہیں چراغ
    دیدنی ہے تری آہستہ روی اے ساقی
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنت صوفیا نثار دہر کی مشت خاک پر
    عاشق ارض پاک کو دعوت لا مکاں نہ دے
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    فراق گورکھپوری کی غزلیں

    بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
    تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

    مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں
    نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

    جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی
    اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں

    نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا
    تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں

    طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
    ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

    خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
    اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

    حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہے
    وہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں

    ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی
    مری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں

    تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت
    کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں

    اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیں
    خدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں

    جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا
    عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

    تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میں
    ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں

    ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگندھ کھاتی ہے
    تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں

    رفیق زندگی تھی اب انیس وقت آخر ہے
    ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں

    زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہے
    اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں

    فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
    کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں
    ———*****————–
    تم ہو جہاں کے شاید میں بھی وہاں رہا ہوں
    کچھ تم بھی بھولتے ہو کچھ میں بھی بھولتا ہوں

    مٹتا بھی جا رہا ہوں پورا بھی ہو رہا ہوں
    میں کس کی آرزو ہوں میں کس کا مدعا ہوں

    منزل کی یوں تو مجھ کو کوئی خبر نہیں ہے
    دل میں کسی طرف کو کچھ سوچتا چلا ہوں

    لیتی ہیں الٹی سانسیں جب شام غم فضائیں
    اس دم فنا بقا کی میں نبض دیکھتا ہوں

    ہوں وہ شعاع فردا جو آنکھ مل رہی ہے
    وہ سرمگیں افق پر میں تھرتھرا رہا ہوں

    جس سے شجر حجر میں اک روح دوڑ جائے
    وہ ساز سرمدی میں غزلوں میں چھیڑتا ہوں
    ——*****————-
    تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں
    سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں

    کسی بدمست کو راز آشنا سب کا سمجھتے ہیں
    نگاہ یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں

    بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں
    کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں

    کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
    ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں

    امیدوں میں بھی ان کی ایک شان بے نیازی ہے
    ہر آسانی کو جو دشوار ہو جانا سمجھتے ہیں

    یہی ضد ہے تو خیر آنکھیں اٹھاتے ہیں ہم اس جانب
    مگر اے دل ہم اس میں جان کا کھٹکا سمجھتے ہیں

    کہیں ہوں تیرے دیوانے ٹھہر جائیں تو زنداں ہے
    جدھر کو منہ اٹھا کر چل پڑے صحرا سمجھتے ہیں

    جہاں کی فطرت بیگانہ میں جو کیف غم بھر دیں
    وہی جینا سمجھتے ہیں وہی مرنا سمجھتے ہیں

    ہمارا ذکر کیا ہم کو تو ہوش آیا محبت میں
    مگر ہم قیس کا دیوانہ ہو جانا سمجھتے ہیں

    نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پرکار اتنی پرکاری
    نہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں

    بھلا دیں ایک مدت کی جفائیں اس نے یہ کہہ کر
    تجھے اپنا سمجھتے تھے تجھے اپنا سمجھتے ہیں

    یہ کہہ کر آبلہ پا روندتے جاتے ہیں کانٹوں کو
    جسے تلووں میں کر لیں جذب اسے صحرا سمجھتے ہیں

    یہ ہستی نیستی سب موج خیزی ہے محبت کی
    نہ ہم قطرہ سمجھتے ہیں نہ ہم دریا سمجھتے ہیں

    فراقؔ اس گردش ایام سے کب کام نکلا ہے
    سحر ہونے کو بھی ہم رات کٹ جانا سمجھتے ہیں
    ———****—————–
    جنون کارگر ہے اور میں ہوں
    حیات بے خبر ہے اور میں ہوں

    مٹا کر دل نگاہ اولیں سے
    تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

    کہاں میں آ گیا اے زور پرواز
    وبال بال و پر ہے اور میں ہوں

    نگاہ اولیں سے ہو کے برباد
    تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

    مبارک باد ایام اسیری
    غم دیوار و در ہے اور میں ہوں

    تری جمعیتیں ہیں اور تو ہے
    حیات منتشر ہے اور میں ہوں

    کوئی ہو سست پیماں بھی تو یوں ہو
    یہ شام بے سحر ہے اور میں ہوں

    نگاہ بے محابا تیرے صدقے
    کئی ٹکڑے جگر ہے اور میں ہوں

    ٹھکانا ہے کچھ اس عذر ستم کا
    تری نیچی نظر ہے اور میں ہوں

    فراقؔ اک ایک حسرت مٹ رہی ہے
    یہ ماتم رات بھر ہے اور میں ہوں

    چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
    نگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیں

    زمین جاگ رہی ہے کہ انقلاب ہے کل
    وہ رات ہے کوئی ذرہ بھی محو خواب نہیں

    حیات درد ہوئی جا رہی ہے کیا ہوگا
    اب اس نظر کی دعائیں بھی مستجاب نہیں

    زمین اس کی فلک اس کا کائنات اس کی
    کچھ ایسا عشق ترا خانماں خراب نہیں

    ابھی کچھ اور ہو انسان کا لہو پانی
    ابھی حیات کے چہرے پر آب و تاب نہیں

    جہاں کے باب میں تر دامنوں کا قول یہ ہے
    یہ موج مارتا دریا کوئی سراب نہیں

    دکھا تو دیتی ہے بہتر حیات کے سپنے
    خراب ہو کے بھی یہ زندگی خراب نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حوالہ جات
    تاریخ اردو ادب
    تاریخ پاکستان
    ریختہ
    نوائے اردو

  • معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ  شہزاد قریشی

    معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ شہزاد قریشی

    معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ : شہزاد قریشی
    وطن عزیز کے سیاسی میدان میں آج کل جو سرگرمیاں مشاہدہ کی جا رہی ہیں، ان کو بجا طور پر دھینگا مشتی اور ہاتھا پائی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ سلسلہ اب عدالتوں کے ماحول کو بھی مکدر کر رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ، عمران خان کی اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس میں آمد کے موقع پر جو ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی وہ اس کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خلاف جو اقدامات کیے ان کو اگر ’’انتقامی روئیے ‘‘ سے منسوب نہ بھی کیا جائے تو وہ عملی طور پر اسی زمرے میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی وسوسے اور خدشات کو جنم دیتی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ ، رانا ثناء اللہ خان نے عمران خان کی جوڈیشل کونسل میں آمد کے موقع پر اور اسی حوالہ سے یہ بیان دیا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ عمران خان کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کریں۔ ایک عامی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ سیاسی اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی اور انتقام کا درجہ کیوں دیا جاتا ہے۔

    اگرچہ نام نہاد دانشور اور انگریزی سیاسی اصطلاحات زدہ طبقہ ملکی امور کے سلسلہ میں ’’چائے کی پیالی میں طوفان ‘‘ اٹھانے پر ہی اکتفا کرتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں محب وطن عوام کی ایک بڑی تعداد ان احوال کے حوالہ سے فکر مند ہے ۔
    دریں اثناء عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں عندیہ دیا ہے کہ ہم مسلط ٹولہ کو الیکشن سے بھاگنے نہیں دیں گے یعنی وہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ الیکشن کے لیے ان کی تیاری مکمل ہے۔ اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے ساہیوال میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ کارکن، الیکشن کی تیاری کریں۔ ایسے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ردعمل سے بھی یہ تاثر نمایاں ہوتا ہے کہ عدالتی کارروائی سے قطع نظر، الیکشن کا انعقاد ہی سیاسی پیش رفت کا بنیادی اور کلیدی نکتہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس کو کسی طور بھی سیاسی صورت حال سے الگ اور دور تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کے لیے یہ بات بجا طورپر تشویش کا باعث ہے کہ سیاسی قیادت خوش فہمی اور غلط فہمی کے معاملہ میں خود کفیل ہے اور اس کو شاید اس بات کا احساس نہیں کہ مہنگائی، بیروزگاری، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، جرائم میں اضافہ اور آئی ایم ایف کے احکامات کے نتیجہ میں ٹیکسوں کی بھرمار کا شکار عوام ان (سیاست دانوں) سے اب بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ قومی امور اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم سیاسی سطح پر خوش فہمی اور غلط فہمی کی بجائے معاملہ فہمی سے کام لیا جائے۔

  • جب آنکھ سے آنسو چھلک پڑے

    جب آنکھ سے آنسو چھلک پڑے

    جب آنکھ سے آنسو چھلک پڑے

    کیسے کیسے لوگ/آغا نیاز مگسی

    غصہ اور جذبات شتر بے مہار اور بے لگام مست گھوڑے اور ہاتھی کی طرح ہوتے ہیں جن پر قابو پانا انسان کیلئے بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے غصے پر تو بہرحال قابو پایا جاتا سکتا ہے خواہ وہ بڑی مشکل سے ہی سہی لیکن میرے خیال میں جذبات پر قابو پانا کسی کے بس یا اختیار میں نہیں ہے ۔ خوشی ، غم ، محبت ، فتح و شکست اور ہجر و وصال کے کچھ ایسے جذبات اور لمحات ہوتے ہیں جب انسان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑتے ہیں یا اشک جاری ہو جاتے ہیں ۔ میرے ساتھ بھی آج ایسا ہی ہوا جب 2 مارچ 2023 کے دن دو پہر کو میں اپنی بچی کو اس کی چھٹی کے وقت نرسنگ کالج سے لانے کیلئے گھر سے جا رہا تھا تو ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کے دفتر ڈیرہ مراد جمالی میں” اللہ ہو” چوک شہید بینظیر بھٹو پریس کلب کے سامنے چند بلوچ نوجوانوں کو بلوچوں کی ثقافت کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچوں کے روایتی لباس میں ملبوس بلوچی گیت گاتے اور بلوچی رقص کرتے ہوئے دیکھا تو بے اختیار میرے قدم رک گئے ۔ میں اپنے ارد گرد کی دنیا سے بیگانہ اور بے نیاز ہو کر بلوچی رقص اور گیت کے منظر اور پس منظر میں کھو گیا اور مجھ پر کچھ ایسی کیفیت طاری ہو گئی کہ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری گئے یہ میرے دلی جذبات کے عکاس تھے جن پر میں سخت کوشش کے باوجود قابو نہ پا سکا اور میرےدل و دماغ میں یہ خیال آنے لگا کہ ہم بلوچ کیسی خوب صورت ثقافت کے وارث اور امین ہیں اور پھر یہ خیال بھی دل میں آیا کہ دنیا کی تمام اقوام کی ثقافت خوب صورت ہوتی ہیں لیکن یہ قدرتی یا فطری امر ہے کہ ہر قوم یا ہر انسان کو اپنی ثقافت پر ہی فخر ہوتا ہے۔

    قوموں کی ثقافت کے حوالے سے میرے دل میں دو صحافیوں کیلئے بہت بڑا احترام ہے ایک سندھ کے ممتاز صحافی علی قاضی صاحب اور بلوچی کے نامور صحافی اقبال بلوچ صاحب ہیں ۔ علی قاضی نے روزنامہ کاوش ، کے ٹی این نیوز اور کشش ٹی وی کے ذریعے سندھی ثقافت کو اجاگر اور محفوظ کرنے کی غرض سے ہر سال دسمبر کے پہلے اتوار کے روز ” سندھی کلچرل ڈے” منانے کی روایت ڈالی اور اس کے دو تین سال بعد علی قاضی کی تقلید کرتے ہوئے اقبال بلوچ نے بلوچی چینل "وش نیوز” کے ذریعے 2 مارچ کو ” بلوچ کلچرل ڈے” منانے کی روایت قائم ڈالی ۔ علی قاضی کے سندھی قوم پر اور اقبال بلوچ کے بلوچ قوم پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی قومی ثقافت کو زندہ اور محفوظ رکھنے کی روایت ڈالی ورنہ ان کی ثقافت برائے نام رہ گئی تھی ۔ کسی بھی قوم کی ثقافت کو زندہ رکھنے اور اجاگر کرنے میں حکمرانوں سے زیادہ دانشوروں ، گلوکاروں ، نوجوانوں جن میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں اور عام افراد کا کردار بہت اہم ہوتا ہے ۔

  • سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی
    عوام کی اکثریت نیم مردہ حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں تاہم سیاسی گلیاروں میں سیاسی رونقیں عروج پر ہیں ۔ ایک بے معنی پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔ کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر ایم کیو ایم والے اور جماعت اسلامی سمیت پیپلز پارٹی نجی ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کی ضروریات پریس کانفرنسوں میں پوری کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم مردم شماری اورجماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی والے میئر کراچی بنائو مہم کا رونارو رہے ہیں۔ اب کون بنے گا کروڑپتی والا کھیل جاری ہے۔ اسلام آباد کی تو بات ہی نرالی ہے جہاں ہرروزقانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی صدائیں بے معنی پارلیمنٹ سے لے کر نجی ٹی وی چینلز پرسنائی دیتی ہیں۔ اسلام آباد سیاسی شہر تو بن گیا لیکن یہاں کے سیاسی ہاتھوں نے قوم کی تباہی کردی ناقابل برداشت مہنگائی ، دہشت ناک بدامنی ، گھر گھر اس اسلام آباد میں بسنے والے سیاستدانوں کے ہاتھوں برباد ہو چکے۔ جمہوری مزاج سیاستدان نہیں ورنہ جمہوریت میں جمہوربرباد نہیں ہوتی۔ سیاست میں متانت ،سنجیدگی اور اخلاق کو جو اہمیت اور درجہ حاصل ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ موجودہ بیان بازی کو کسی طور بھی نیک فال تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ موجودہ حالات میں تعمیری اور مثبت طرز بیان اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ شومئی قسمت ایسا نہیں ہو رہا ۔

    ملکی سیاسی تاریخ کی نگاہ اس وقت عمران خان ،مریم نواز شریف پراور ان کے بیانات پر مرکوز ہے اوران دونوں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ تو عوام نے کرنا ہے کاش عمران خان اور مریم نوازشریف اس حقیقت کا ادراک کرسکیں کہ سیاسی مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ٹویٹ اورتقاریر میں چیخ وپکار سے دور رہیں۔ مثبت اور تعمیری سیاسی بیانات دیں بلاشبہ مریم نواز شریف اپنے والد میاں محمد نواز شریف کا مقدمہ عوامی عدالت میں لے کر اُتری ہیں جس طرح وہ اپنے والد کا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے کر اتری ہیں اس سے قبل مسلم لیگ(ن) اپنے قائد نواز شریف کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہی اس ناکامی کے ذمہ دارمسلم لیگ(ن) کے نام نہاد مرکزی رہنما ہی ہیں کوئی اور نہیں۔ مسلم لیگ(ن) اپنے قائد کی خدمات کو پس پشت ڈال کراقتداراور صرف اقتدار کی دوڑ میں شامل رہی۔ اس وقت ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران خان اور مریم نواز کا سیاسی مستقبل تو روشن نظر آرہا ہے تاہم دونوں پرسیاسی تاریخ کی نگاہ مرکوز ہے ۔ لہذا اخلاقی ، متانت اورسنجیدگی لازمی شرط ہے ۔

  • لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 110 رنز سے شکست دے دی

    لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 110 رنز سے شکست دے دی

    لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 110 رنز سے شکست دے دی

    پاکستان سپر لیگ 8 میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 110 رنز سے شکست دے دی۔ قذافی اسٹیٹیم لاہور میں کھیلے گئے 16 ویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ 90 رنز بنا کر 14 ویں اوور میں آؤٹ ہوگئی۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے رحمان اللہ گرباز 23 اور کولن منرو 18 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ ٹام کرن 10، کپتان شاداب خان، اعظم خان اور حسن علی 4،4 جبکہ آصف علی اور ریسی وین ڈر ڈوسین 3،3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    لاہور قلندرز کی جانب سے ڈیوڈ ویزے نے 3، راشد خان اور سکندر رضا نے 2،2 جبکہ حارث رؤف اور زمان خان نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔ اس سے قبل لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 200 رنز اسکور کیے تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار اور جاوید علی کے وکیل کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آ گئی
    پی ایس ایل:ملتان سلطانز کے خلاف کراچی کنگز کی شاندار فتح
    لاہور قلندرز کی جانب سے عبداللہ شفیق 45 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ فخر زمان 36، سیم بِلنگز 33، مرزا بیگ 20، راشد خان 18، ڈیوڈ ویزے 12 اور حسین طلعت 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ جبکہ سکندر رضا 23 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے ٹام کرن نے 3، شاداب خان نے 2 جبکہ حسن علی اور ابرار احمد نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

  • معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی
    قوم کے بنیادی مسائل سیاستدانوں کے بے معنی شور شرابے تلے دب کر رہ گئے ہیں معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام نے ملک اور عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ملکی سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعت کی طرف سے پاک فوج اور عدلیہ بارے پروپیگنڈے نے تو دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسری طرف ایک سیاسی جماعت کے ارکان اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان اور کارکن عہدیداروں سمیت زنجیریں پہن کر گرفتاریاں دے رہے ہیں یعنی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے عجب بے معنی شور ہے نہ جانے ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لیکر حساب کتاب اتنا کمزور کیوں ہے سیاست کی دنیا میں دھند دن بدن بڑھتی جا رہے آئین کی کتاب میں سب درج ہے بلکہ پوری وضاحت کے ساتھ درج ہے اگر یہ آئینی سوال کہ الیکشن کب ہوں کس طرح ہونگے الیکشن کی تاریخ کون دیتا ہے ، دو چار کی طرح بالکل آسان ہے حیرت ہے ہمارے سیاستدانوں سے یہ پھر بھی حل نہیں ہو رہا ہے

    اس وقت ملک کی سیاست آئین اور الیکشن ، محسوس ہوتا ہے کہ 75سالوں اور1973ء میں آئین بنایا گیا مگر 1973سے لیکر تا دم تحریر ملک میں خالص جمہوریت نہیں رہی اگر خالص جمہوریت قائم رہتی تو آج جمہور کے بنیادی مسائل حل ہو چکے ہوتے آمریت نے اس آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا اور آج کی جدید واٹس اپ گروپس اور ٹویٹ جمہوریت بھی آئین سے کھلواڑ ہی کر رہی ہے حیرت ہے ایک طرف جمہوریت کا نعرہ، پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ ،قانون کی حکمرانی کا نعرہ اور دوسری طرف آئین کے ساتھ کھلواڑ سیاسی جماعتوں پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟عدالتوں کا احترام کریں ادب اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں ملکی سلامتی کے اداروں بشمول عدلیہ کے بارے میں زہریلا پروپیگنڈہ نہ کریں کسی بھی ملک کے یہ ادارے انتہائی اہم ہوتے اور ان کا کردار بھی اہم ہوتا ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور مسائل کی گتھی کو سلجھایا جائے جمہوریت کی خاطر اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ اپنا کردار ادا کریں ورنہ شاید پھر کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔۔۔!

  • پنجاب میں 30 دن کیلئے پتنگ بازی پر پابندی عائد

    پنجاب میں 30 دن کیلئے پتنگ بازی پر پابندی عائد

    لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے تحت صوبے بھر میں30 دن کے لیے پتنگ بازی پر پابندی عائدکردی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگ بازی کے علاوہ، پتنگوں کی تیاری سے متعلق مٹیریل،پتنگوں اور ڈور کی تیاری اور خریدوفروخت پر بھی مکمل پابندی کر دی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں یہ پابندی30 دن تک نافذالعمل رہےگی، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ادھرلاہور میں جشن بہاراں منانے کےلیے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں‌،اس سلسلے میں لاہور میں جشن بہاراں پر میراتھن ریس کا انعقاد بھی کرایا جائے گا،، نگران وزیراعلی پنجاب کہتے ہیں ہارس اینڈ کیٹل شو کے ذریعے شہریوں کو بہترین تفریح فراہم کی جائے گی۔۔۔نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت جشن بہاراں کے انتظامات کاجائزہ لینے سے متعلق اجلاس ہوا، نگران وزیراعلیٰ نے لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں

    جشن بہاراں کیلئے بہترین انتظامات کی ہدایت کی اور کہا کہ لاہور میں طویل عرصے کے بعد میراتھن ریس کا انعقاد کرایا جا رہا ہےہارس اینڈ کیٹل شو کے ذریعے شہریوں کو بہترین تفریح فراہم کی جائے گی، جشن بہاراں کے دوران داتا دربار پر سات روز محفل سماع کا انعقاد کرایا جائے گا نہر اورشہر کی اہم شاہراہوں کو خوب صورتی سے سجایا جائے گا اورلائٹنگ کی جائے گی، گریٹر اقبال پارک میں بھی جشن بہاراں کی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا

  • سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    25 فروری 1968

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاکر شجاع آبادی سرائیکی زبان کے مشہور اور ہر دل عزیز شاعر ہیں۔ جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر اور انقلابی شاعر کہا جاتا ہے۔
    ان کا اصل نام محمد شفیع ہے اور تخلص شاکرؔ ہے، شجاع آباد کی نسبت سے شاکر شجاع آبادی مشہور ہے۔

    1968ء میں شجاع آباد کے علاقے چاہ ٹبے والا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تخلص شاکر اور ذات سیال ہے۔ خواجہ غلام فرید کوشاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں۔
    شاکر شجاع آبادی کی پیدائش 25 فروری 1968ء کو شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام میں ہوئی جو ملتان سے ستر 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔

    حکومت پاکستان کی طرف سے اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے 14 اگست 2006ء میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ملا۔

    ہر چند کہ شاکر شجاع آبادی صاحب کی تعلیمی قابلیت پرائمری ہے لیکن
    اﻥ کا ﮐﻼﻡ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﻮﮞ
    ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺑﮩﺎﻟﭙﻮﺭ،،ﺑﮩﺎﺀﺍﻝﺩﯾﻦ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﻠﺘﺎﻥ،،ﺍﯾﮕﺮﯼ ﮐﻠﭽﺮﻝ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻭﭘﻦ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ..
    ﺟﻨﺎﺏ_ ﺷﺎﮐﺮ ﺷﺠﺎﻉ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ
    ﻏﺮﺑﺖ ﻧﮯ ﺁﻥ ﮔﮭﯿﺮﺍ
    ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﻮﺭﺍ
    ﮨﻮﺍ … ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﯽ
    ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺋﯿﮑﯽ ﮐﻼﻡ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻨﮯ
    ﭘﮍﮬﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ
    ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﮐﻼﻡ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺧﻄﮧ
    ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ …
    ____
    ﺳﺘﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﺖ
    ﺩﯾﻨﺎ
    ﻭﮦ ﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻻﭨﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﺳﺘﻢ ﺟﺐ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﺘﮯ
    ﮨﯿﮟ
    ﺳﺘﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﻋﻘﺎﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻠﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﺖ
    ﺩﯾﻨﺎ
    ___
    ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﯾﺎ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ
    ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﺑﻮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺍﺗﺮ ﮔﯿﺎ
    ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ
    ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﺳﺮ ﮔﯿﺎ
    ﺑﭩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﯿﺎﺯﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ
    ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻓﺎﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺮ
    ﮔﯿﺎ
    ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﯾﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ
    ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﻣﮑﺮ ﮔﯿﺎ

    تصنیفات

    لہو دا عرق
    پیلے پتر
    بلدین ہنجو
    منافقاں تو خدا بچاوے
    روسیں تو ڈھاڑیں مار مار کے
    گلاب سارے تمہیں مبارک
    کلامِ شاکر
    خدا جانے
    شاکر دیاں غزلاں
    شاکر دے دوہڑے

    بشکریہ وکی پیڈیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر شجاع آبادی کا تعلق شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام سے ہے جو ملتان سے ستر70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔۔ شاکر شجاع آبادی 25 فروری 1968 کو پیدا ہوئے ۔۔ وہ عصرِ حاضر میں سرائیکی زبان کے نمائندہ شاعر ہیں ۔۔
    گزشتہ کئی سالوں سے وہ سرائیکی کے مظلوم عوام کے دلوں کی آواز بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ خود بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں لیکن انھوں نے سرائیکی عوام کی محرومیوں کو اجاگر کر کے ان کو جذبات کی عکاسی کے لیے زبان دی ہے ۔۔ 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں ۔۔ نصابی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے ۔۔ ان کا شاعری سے متعلق تمام علم ریڈیو پروگراموں کا مرہون منت ہے ۔۔ غلام فرید اور وارث شاہ کو انھوں بہت سنا ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘میرا مسئلہ صرف سرائیکی وسیب نہیں ہے بلکہ میں پوری دنیا کے مظلوم لوگوں کی بات کرتا ہوں چاہے کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو ۔’’ 1994 تک بول سکتے تھے ۔۔ اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں ۔۔
    کہتے ہیں میں زیادہ سکول نہیں گیا ’’سب کچھ غور کرنے سے اور دنیا کے تجربات سے سیکھا ہے‘‘ ۔۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘‘پاکستان کے زوال کی اصل وجہ وڈیروں کا قابض ہونا اور لوگوں کا ان کے خلاف نہ اٹھنا ہے ۔۔ اگر لوگوں کو شعور دیا جائے کہ ان کی غلامی سے کیسے نکلنا ہے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ‘‘۔۔ موجودہ سیاسی نظام سے وہ منتفر ہیں ۔۔ماضی کے لیڈران میں سے وہ ذوالفقار علی بھٹو کو پسند کرتے ہیں ۔۔ جنھوں نے عوام کو حقوق کا شعور دیا ۔۔

    وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار انھیں دو لاکھ کا چیک دیا تھا جو انھوں نے اپنے علاقے کے ایک سکول کی عمارت پر لگا دیا ۔۔ لیکن سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ سکول بند ہے ۔۔۔ وہ خود انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔۔ اکثر بیمار رہتے ہیں اور روزمرّہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بھی معلوم نہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔۔
    انھوں نے اپنی شاعری کی فکر اور فلسفہ کسی کتاب ، یونیورسٹی یا عظیم دانشوروں کے افکار و نظریات سے نہیں لیا ۔۔ بلکہ جو انھوں نے دیکھا ، سوچا ، سمجھا اور جو ان پر بیتا اسے قلم بند کرتے رہے ۔۔

    ایک مشاعرے میں جہاں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اور پروفیسرز ان کی شاعری سننے کے لیے جمع تھے ۔۔۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان کیا محسوس کر رہے ۔۔ تو انھوں نے کہا کہ میں بچپن میں پڑھ لکھ کر سائنس دان بننا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن غربت کی وجہ سے نہ پڑھ سکا ۔۔ جس کا افسوس ہوتا تھا ۔۔ لیکن اب خوشی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کی آواز بنا ہوں ۔۔ اور بہت سے پڑھے لکھے لوگ مجھے سنتے ہیں اور میرے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔

    ان کی شاعری زبان کی حدود و قیود کو پھلانگ کر مظلوم قوموں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے کونے کونے میں مزدور ، کسان ، جھونپڑیوں میں رہنے والے اور مذہبی فرسودگی سے تنگ آئے ہوئے لوگ آپ کو شاکر شجاع آبادی کے اشعار گنگناتے ہوئے ملیں گے ۔۔ اور ممکن ہے انھیں یہ بھی علم نہ ہو کہ ان اشعار کا خالق کون ہے ۔۔۔۔

    ان کی شاعری کا موضوع ، غربت ، پسماندگی ، غیر مساویانہ معاشی تقسیم ،
    بددیانتی اور مذہبی ٹھیکیداروں کی رجعت پسندی ہے ۔۔۔۔
    بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ ان کی شاعری ان کے ذاتی مسائل خطے کی صورتحال اور سرائیکی بیلٹ کی پسماندگی کا فطری ردِ عمل ہے ۔۔۔ لیکن اپنے طرزِ اظہار کے باعث انھوں نے اپنی شاعری کو عالمی صورتحال سے جوڑ دیا ہے ۔۔ اور جب تک یہ مسائل ہیں ۔۔ اس خطے کے لوگ شاکر شجاع آبادی کو نہیں بھول سکتے ۔۔ ان کی شاعری ان کے مسائل کی عکّاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں تبدیلی کی تڑپ کو زندہ رکھے گی ۔۔۔

    ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں ۔۔ کلامِ شاکر ، خدا جانے ، شاکر دیاں غزلاں ، منافقاں توں خدا بچائے اور شاکر دے دوہڑے ان کے مجموعہ ہائے کلام ہیں ۔
    ان کے کچھ منتخب اشعار پیش ہیں ۔۔۔۔۔ ان کی شاعری کا انتخاب بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا ۔۔۔۔ کسی بھی موجود شعر کو چھوڑنا گراں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن کچھ تو کرنا ہی تھا ۔۔ سو انتخاب حاضر ہے ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔

    مرے رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کر دے
    کہ روٹی رات دی پوری کریندے شام تھیں ویندی
    انھاں دے بال ساری رات روندن بھک تو سوندے نئیں
    جنھاں دی کیندے بالاں کوں کھڈیندے شام تھی ویندی
    میں شاکر بھکھ دا ماریا ہاں مگر حاتم توں گھٹ کئی نئیں
    قلم خیرات ہے میری چلیندے شام تھی ویندی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    کیہندے کتّے کھیر پیون کیہندے بچّے بھکھ مرن
    رزق دی تقسیم تے ہک وار ول کجھ غور کر
    غیر مسلم ہے اگر مظلوم کوں تاں چھوڑ دے
    اے جہنمی فیصلہ نہ کر اٹل کجھ غور کر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    اے پاکستان دے لوکو پلیتاں کوں مکا ڈیوو
    نتاں اے جے وی ناں رکھے اے ناں اوں کوں ولا ڈیوو
    جتھاں مفلس نمازی ہن او مسجد وی اے بیت اللہ
    جو ملاں دیاں دکاناں ہن مسیتاں کوں ڈھا ڈیوو
    اتے انصاف دا پرچم تلے انصاف وکدا پئے
    ایہوجی ہر عدالت کوں بمعہ املاک اڈا ڈیوو
    پڑھو رحمن دا کلمہ بنڑوں شیطان دے چیلے
    منافق توں تے بہتر ہے جے ناں کافر رکھا ڈیوو
    جے سچ آکھن بغاوت ہے بغات ناں اے شاکر دا
    چڑھا نیزے تے سر مینڈھا مینڈے خیمے جلا ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔

    میکوں مینڈا ڈکھ ، میکوں تینڈا ڈکھ ، میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھ
    جتھاں غم دی بھا پئی بلدی ہے میکوں روہی چولستان دا ڈکھ
    جتھاں کوئی انصاف دا ناں کوئی نئیں میکوں سارے پاکستان دا ڈکھ
    جیہڑے مر گئے ہن او مر گئے ہن میکوں جیندے قبرستان دا ڈکھ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    غریب کوں کئیں غریب کیتے ، امیرزادو جواب ڈیوو
    ضرورتاں دا حساب گھنو ، عیاشیاں دا حساب ڈیوو
    سخاوتاں دے سنہرے پانڑیں ، دے نال جیہڑے مٹا ڈتے نیں
    او لفظ موئے بھی بول پوسن ، شرافتاں دی کتاب ڈیوو
    شراب دا رنگ لال کیوں اے ، کباب دے وچ اے ماس کیندا
    شباب کیندا ہے ، کئیں اُجاڑے حساب کر کے جناب ڈیوو
    زیادہ پھلدا اے کالا جیکوں ، خرید گھن دا اے اوہو کرسی
    الیکشناں دا ڈرامہ کر کے ، عوام کوں نہ عذاب ڈیوو
    قلم اے منکر نکیر شاکر ، جتھاں وی لکسو اے تاڑ گھن سی
    غلاف کعبے دا چھک کے بھانوں ، ناپاک منہ تے نقاب ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
    71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
    جڈاں ہتھاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن

  • پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    برطانوی حکومت نے بھٹو خاندان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ کیوں عطاء کیا۔
    تجزیہ : شہزاد قریشی
    وطن عزیز کو درپیش موجودہ سیاسی ، اقتصادی اور مالیاتی حالات بلکہ مشکلات کا معروضی تجزیہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ان کا حقیقی سبب جاگیرداری کا وہ نظام ہے جس نے پاک سرزمین اور اس کے عوام کو کسی عفریت کی طرح اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ حال ہی میں مجھے اس موضوع اور عنوان بارے جائزہ اور محاکمہ کا موقع میسر آیا تو حقیقی معنوں میں چشم کشا حقائق کا علم ہوا۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بھٹو خاندان جو بلاشبہ وطن عزیز کا سب سے با اثر، مقبول اور قابل ذکر سیاسی خاندان ہے ، اس کے بزرگوں نے برطانوی راج کے دوران غیر ملکی اور غاصب آقاؤں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ جب 1843ء میں چارلس نیپئر کی قیادت میں انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا تو انہوں نے یہاں پر اپنا یہ قبضہ برقرار اور مضبوط رکھنے کے لیے علاقہ میں ٹیکس کی وصولی اور غریب عوام کے استحصال کے لیے ایک خاص طبقہ تشکیل دیا جس کے ذمہ ان غریب عوام سے لگان اور ٹیکس کی وصولی تھا۔اس طبقہ میں بھٹو خاندان بھی شامل ہوا۔ شاہنواز بھٹو لاڑکانہ (سندھ) سے تعلق رکھنے والے واحد سیاستدان تھے جو حکومت بمبئی کے مشیر اور مسلم ریاست جونا گڑھ کے دیوان بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ انگریزوں کی بمبئی پریذیڈنسی کے وزیر بھی تھے۔ شاہنواز بھٹو کی تعاون کی مذکورہ پالیسی کے نتیجہ میں ان کو برطانوی حکومت نے سر(Sir) اورسی آئی ای (CIE) کے خطابات دیئے۔ برطانوی حکومت نے ان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ بھی الاٹ کیا جس کے نتیجہ میں وہ سندھ بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے جاگیر دار بن گئے۔ آج بھی یہ خاندان سکھر اور جیکب آباد کے علاقہ میں وسیع اراضی کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔

    یہ درست ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ماضی کی طرح آج بھی وطن عزیز کے ایک مقبول اور عوامی سیاستدان تسلیم کیے جاتے ہیں اور ملک و قوم کے لیے نہ صرف ان کی بلکہ ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو ، صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو اور صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کی سیاسی خدمات تاریخی اعتبار سے نہایت معتبر ہیں لیکن اس افسوسناک حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو خاندان نے ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ‘‘ کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود موروثی سیاست کو ہی فروغ اور استحکام دیا۔ اس حوالہ سے یہ مثال ہی کافی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی موت کے بعد ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری صدر مملکت کے عہدہ پر براجمان ہوئے اور اب ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے وزارت خارجہ کا وہ قلمدان سنبھال رکھا ہے جو کم و بیش 6عشرہ قبل موصوف کے نانا ، ذوالفقار علی بھٹو کے پاس رہا۔ برطانوی راج میں جاگیریں اور انعامات و اعزازات حاصل کرنے والے خاندان آج بھی ایک آزاد اور خود مختار قوم کی گردن پر سوار مشاہدہ کیے جاتے ہیں۔ اس حوالہ سے جنوبی پنجاب کے قریشی خاندان کے احوال آئندہ قسط میں بیان کیے جائیں گے۔