Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    امریکی ماہرین نے تنہائی کو ایک دن میں 15 سگریٹ پینے سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یو ایس سرجن جنرل نے منگل کو صحت عامہ کی تازہ ترین وبا کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ کورونا کے دور میں تنہائی کے گہرے احساس نے لاکھوں امریکیوں کو متاثر کیا انہوں نے کہا کہ امریکہ میں وسیع پیمانے پر تنہائی صحت کو اتنا ہی خطرناک بناتی ہے جتنا کہ روزانہ 15 سگریٹ پینا، جس سے صحت کی صنعت کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

    قبول نہیں کرتے کہ سعودی عرب کو ہمارا دشمن سمجھا جائے،ایران

    ڈاکٹر وویک مورتھی نے اپنے دفتر سے 81 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا کہ تقریباً نصف امریکی بالغوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تنہائی کا تجربہ کیا ہے۔

    مورتھی نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اب ہم جانتے ہیں کہ تنہائی ایک عام احساس ہے جس کا بہت سے لوگ تجربہ کرتے ہیں۔ یہ بھوک یا پیاس کی طرح ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جب جسم ہمیں اس وقت بھیجتا ہے جب ہمیں بقا کے لیے کوئی چیز درکار ہوتی ہےامریکہ میں لاکھوں جدوجہد کر رہے ہیں، اور یہ درست نہیں ہے۔ اسی لیے میں نے یہ ایڈوائزری جاری کی تاکہ اس جدوجہد سے پردہ ہٹایا جا سکے جس کا بہت زیادہ لوگ تجربہ کر رہے ہیں۔

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین کے مطابق امریکا میں تقریباً 50 فیصد لوگوں کو تنہائی کے متاثرین سمجھا جاتا ہے، اس لیے امریکی صحت کے حکام سماجی تنہائی کا منشیات کے استعمال یا موٹاپے کی طرح سنجیدگی سےعلاج کرنے پر زور دے رہے ہیں ماہرین کے مطابق تنہائی سگریٹ پینے سے زیادہ خطرناک ہونےکے علاوہ قبل ازوقت موت کی وجہ بھی بنتی ہے۔

    سرجن جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں نے کورونا وائرس وبائی امراض کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ میل جول ختم کیا امریکیوں نے 2020 میں دوستوں کے ساتھ روزانہ تقریباً 20 منٹ گزارے، جو تقریباً دو دہائیوں پہلے روزانہ 60 منٹ سے کم تھے تنہائی خاص طور پر 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کو متاثر کر رہی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کیلئے نافذ عالمی ایمرجنسی ختم کرنے کا اعلان کردیا

    ، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تنہائی قبل از وقت موت کے خطرے کو تقریباً 30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے کمزور سماجی تعلقات رکھنے والوں میں بھی فالج اور دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہےتحقیق کےمطابق تنہائی کسی شخص کے ڈپریشن، اضطراب اورڈیمنشیا کا سامنا کرنے کے امکانات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔ مورتی نے کوئی ایسا ڈیٹا فراہم نہیں کیا جس سے یہ واضح ہو کہ کتنے لوگ تنہائی یا تنہائی سے براہ راست مرتے ہیں۔

    سرجن جنرل کام کی جگہوں، اسکولوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، کمیونٹی تنظیموں، والدین اور دیگر لوگوں سے ایسی تبدیلیاں کرنے کی اپیل کر رہے ہیں جس سے روابط کو فروغ ملے۔ وہ لوگوں کو کمیونٹی گروپس میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہے اور جب وہ دوستوں سے ملاقات کر رہے ہوتے ہیں تو اپنے فون استعمال نہ کریں –

    سگریٹ نوشی چھوڑنے کیلئے تُرک شہری نے اپنا سر پنجرے میں بند کر لیا

    ٹیکنالوجی نے تنہائی کے مسئلے کو تیزی سے بڑھا دیا ہے، رپورٹ میں ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت تک سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ان میں سماجی طور پر الگ تھلگ محسوس کرنے کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتا ہے جو اس طرح کی ایپس پر ایک دن میں 30 منٹس کم وقت استعمال کرتے تھے۔

    مورتھی نے کہا کہ سوشل میڈیا خاص طور پر تنہائی میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں بچوں کے لیے خاص طور پر ان کے سوشل میڈیا رویے کے ارد گرد تحفظات تیار کرتی ہیں۔

    12 سال بعد کوئی ملک غریب نہیں ہوگا. بل گیٹس کا دعویٰ

    مورتھی نے کہا کہ "اندرونی بات چیت کا واقعی کوئی متبادل نہیں ہے۔ "جیسا کہ ہم اپنی بات چیت کے لیے ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی طرف منتقل ہوئے، ہم نے ذاتی طور پر اس بات چیت سے بہت کچھ کھو دیا۔ ہم ایسی ٹیکنالوجی کو کیسے ڈیزائن کرتے ہیں جو ہمارے تعلقات کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کرتی ہے؟اس کہانی کو یہ ظاہر کرنے کے لیے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے کہ سرجن جنرل نے کہا کہ تنہائی صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ روزانہ 15 سگریٹ پینا-

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

  • واٹس ایپ صارفین کیلئے نئے فیچرز متعارف

    واٹس ایپ صارفین کیلئے نئے فیچرز متعارف

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کیلئے نئے فیچرز متعارف کروا ئے ہیں-

    باغی ٹی وی: کمپنی کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ پر نئے فیچرز شامل کیے جارہے ہیں جس سے ہمیں امید ہے کہ صارفین کو چیٹ کرنے کے دوران سہولت میسر ہوگی-

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    نومبر 2022 میں واٹس ایپ نے پولنگ کا نیا فیچر متعارف کیا تھا، اب رواں ماہ اسے مزید اپڈیٹ کیا گیا ہے، اس فیچر کے تحت آپ واٹس ایپ پولز میں کسی فرد کو محض ایک ووٹ دینے تک محدود کرسکتے ہیں اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے پول کو پوسٹ کرنے سے قبل آپ کو ملٹی پل آنسرز ( ’allow multiple answers‘ ) کے آپشن کو ڈس ایبل(disable) کرنا ہوگا۔

    اس کے علاوہ جب دیگر لوگ آپ کے پوسٹ کیے گئے پول پر ووٹ دیں گے تو آپ کو ایک نوٹیفیکشن موصول ہوگا، اس نوٹیفیکشن میں یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ کتنے لوگوں نے ووٹ دیا ہے۔

    میٹا کی واٹس ایپ میں گوگل ڈرائیو کی متبادل ٹرانسفر کی آزمائش

    دوسری جانب واٹس ایپ صارفین کی پرائیویسی کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے اور نامعلوم نمبر سے کال آنے پر پریشانی سے بچنے کے لیے ایک نیا ٹول پیش کیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ کی جانب سے اس نئے آپشن کا اسکرین شاٹ بھی شئیر کیا گیا جس میں دکھایا گیا کہ آپ واٹس ایپ سیٹنگز میں پرائیویسی پر کلک کرکے اس آپشن کا استعمال کرسکتے ہیں نامعلوم افراد کی جانب سے آنے والی کال کے فون نمبر کو آپ silence unknown calls پر کلک کرکے ان کی کالز کو mute کرسکتے ہیں تاہم یہ نمبرز آپ کی کالز لسٹ یا نوٹیفیکشن پر دکھائی دیں گے۔

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین اپنا ایک ہی اکاؤنٹ مختلف فونز میں استعمال کرسکیں …

  • انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال اور ڈیمینشیا

    انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال اور ڈیمینشیا

    نیو یارک: ایک نئی تحقیق میں میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال ڈیمینشیا کے خطرات میں کمی لاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل آف دی امیریکن گیریاٹرکس سوسائٹی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتایا گیا ہے کہ وہ بوڑھے افراد جو باقاعدگی کے ساتھ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ان کے ڈیمینشیا میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں تحقیق میں نیویارک یونیورسٹی کے محققین نے 50 سے 65 سال کے درمیان 18،154 افراد کو تقریباً آٹھ سال تک زیر معائنہ رکھا۔

    اب جی میل پر بھی بلیو ٹک نظر آئے گا

    ان افراد سے تحقیق کی ابتداء میں اور ہر دو سال کے وقفے سے ای میل بھیجنے، خریداری کرنے یا وقت صرف کرنے کے لیے انٹرنیٹ کے مسلسل استعمال کے متعلق پوچھا گیا وہ افراد جنہوں نے ہاں میں جواب دیا تھا ان میں نہ کہنے والوں کی نسبت تحقیق کے آخر تک کسی بھی قسم کے ڈیمینشیا کی تشخیص ہونے کے امکانات 50 فی صد تک کم تھے ماہرین کے مطابق ایسا ہونے کی وجہ ممکنہ طور پر یہ ہوسکتی ہے کہ انٹرنیٹ دماغ کو پہنچے والے نقصان کے خلاف محرک کرتا ہے-

    تحقیق کے شروع میں کوئی فرد بھی ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں تھا لیکن تحقیق کے آخر تک 1 ہزار 183 افراد (تقریباً پانچ فی صد) ڈیمینشیا مبتلا ہو چکے تھےانٹرنیٹ استعمال کرنے والے گروپ میں 10،333 افراد میں سے 224 افراد (1.5 فی صد افراد) ڈیمینشیا میں مبتلا ہوئے جبکہ دوسرے گروپ میں 7،821 افراد میں 959 افراد (10.45 فئی صد)اس بیماری میں مبتلا ہوئے۔

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    تحقیق میں شریک ہر فرد سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ای میل بیغامات بھیجنےیاموصول کرنے یا خریداری یا کسی دیگر غرض سے مستقل بنیادوں پر انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔ جن افراد کا جواب ہاں تھا ان کو مستقل صارف جبکہ جن کا جواب نہ تھا ان کو غیر مستقل صارف قرار دیا گیا۔

    قبل ازیں ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ ایچ آئی وی کے لیے استعمال کی جانے والی دوا ڈیمینشیا میں بننے والے خطرناک پروٹین سے بچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج کے سائنس دانوں کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہنٹنگٹنز بیماری اور ڈیمینشیا کی دیگر اقسام میں دماغ کی زہریلے پروٹین ختم کرنے کی صلاحیت خراب ہوجاتی ہے چوہوں پر کی جانے والی اس نئی تحقیق میں میراوائرک نامی ایچ آئی وی کی دوا استعمال کی گئی۔ تجربے میں دیکھا گیا کہ یہ دوا دماغ کے مذکورہ بالا عمل کو فعال کرنے کے قابل تھی جس سے خطرناک پروٹین کے جمع ہونے اور آہستہ آہستہ بیماری میں مبتلا ہونے سے بچنے میں مدد ملی۔

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    یونیورسٹی آف کیمبرج میں قائم یو کے ڈیمنشیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سینئر مصنف پروفیسر ڈیوڈ رُوبِنسٹائن کا کہنا تھا کہ محققین کے لیے یہ دریافت اس لیے دلچسپ ہے کیوں کہ انہوں نے صرف ہمارے اعصابی نظام کو تیزی سے ختم کرنے والا نیا مکینزم دریافت نہیں کیا ہے بلکہ انہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کو ممکنہ طور پر پہلے سے موجود محفوظ علاج کی مدد سے روکا بھی جاسکتا ہےشاید میراوائرک خود جادوئی دوا نہ ہو لیکن یہ ایک ممکنہ راستہ ضرور دِکھاتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوا کے بطور ایچ آئی وی کے علاج بننے کے دوران، متعدد ادویات ایچ آئی وی کے خلاف مؤثر نہ ہونے کے باعث ناکام ہوئی تھیں۔ شاید محققین ان میں سے کوئی دوا انسانوں کو اعصابی بیماری سے بچانے میں مؤثر پائیں۔

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

  • ملکی وقار  اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی وقار اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی فضائوں میں ایک طرف الیکشن اور دوسری طرف کسی قومی حکومت کی بھی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ اس قومی حکومت میں شمولیت کے لئے سبھی جماعتیں تیار یں۔ یعنی نیا دام لائے پرانے شکاری ۔ لیکن افسوس کہ اب پرانے شکاریوں کے پاس نہ کوئی نیا دام ہے نہ پرانا دام ہے سب دام تار تار ہو چکے ہیں عوام سب داموں کو خوب جان چکے ہیں اب ان کے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے جال کو خوب پہچان چکے ہیں ۔ آج کل پارلیمنٹ ہائوس میں پارلیمان والے نوحہ کناں ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اسٹیبلشمنٹ کی بڑی تنخواہیں ہیں ہماری تنخواہیں آج کے مہنگائی کے دور مین بہت کم ہیں۔ کیا پارلیمنٹ ہائوس تک اور پھر وزارتیں ریاستی پروٹوکول اختیارات دلوانے والے عوام کا کبھی خیال آیا جن کی تنخواہیں 15 ہزار یا 20 ہزار ان کی گذر اوقات کیسے ہوتی ہوگی ؟ بے بس عوام جو ووٹر ہے زندگی کاکوئی راستہ نہ پاکر خودکشیاں بھی کرتے ہیں۔ تاہم موجود سیاسی ماحول نے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی قانون کی حکمرانی کانعرہ لگانے والوں کے قلب وروح کو زخمی کردیا ہے ۔ ملکی سیاست ایک معمہ بن چکی ہے ۔ حالات کب کون سا رُ خ اور رنگ اختیار کرلیں کب سیاسی بساط پر مہرے تبدیل ہوجائیں اور کب جیتی بازی ہار میں تبدیل ہوجائے یہ کوئی نہیں جانتا اور کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کب ہونی انہونی اور انہونی ہونی بن جائے ۔

    بے چینی بے یقینی اور عدم استحکام کے سائے گہرے سے گہرے ہوتے چلے جار ہے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ، پاک فوج کے جملہ اداروں کے خلاف سلیکٹڈ کا نعرہ لگانے والے اور پھر امپورٹڈ کا نعرہ لگانے والوں نے جو زبان استعمال کی اُسے کسی طرح درست قرار نہیں دیاجا سکتا اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا حاصل ہے آخر ملکی وقار اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے خدارا ہوش کریں۔

  • اب جی میل پر بھی بلیو ٹک نظر آئے گا

    اب جی میل پر بھی بلیو ٹک نظر آئے گا

    اب جی میل پر بھی بلیو ٹک نظر آئے گا

    ویب سائیٹ ٹیک کرنچ کی خبر کے مطابق ابھی تک سوشل میڈیا نیٹ ورکس جیسے ٹوئٹر یا فیس بک کے اکاؤنٹس پر بلیو ٹِک دیا جاتا تھا۔ مگر گوگل کی جانب سے ای میل سروس جی میل کے اکاؤنٹس کے لیے بھی بلیو ٹِک کا فیچر متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس فیچر کا مقصد صارفین کو یہ یقین دلانا ہے کہ کسی اکاؤنٹ کی جانب سے بھیجی جانے والی ای میل مستند ہے،کوئی فراڈ نہیں۔

    جی میل میں بلیو چیک مارک کا اضافہ گوگل کی Brand Indicators for Message Identification (بی آئی ایم آئی) ٹیکنالوجی کے تحت کیا جا رہا ہے۔ گوگل کی جانب سے جی میل میں اس ٹیکنالوجی کی آزمائش 2020 میں شروع کی گئی تھی۔ جبکہ کمپنی نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر کمپنیوں کے جی میل اکاؤنٹس پر بلیو ٹِک کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ ای میل اکاؤنٹ کے مستند ہونے کا عندیہ مل سکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جب اس ای میل کے اوپر ماؤس کرسر کو رکھا جائے گا تو صارف کے مستند ہونے کی یقین دہانی کا ایک میسج نظر آئے گا جس میں مزید تفصیلات کے ایک لنک بھی موجود ہوگا۔ گوگل کا کہنا تھا کہ ای میل اکاؤنٹ کے مستند ہونے کی تصدیق سے صارفین کو مدد ملے گی جبکہ ای میل سکیورٹی سسٹمز کے لیے اسپام میلز کو شناخت کرنا آسان ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ فیچر آئندہ چند دنوں میں تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے اور ورک اسپیس ایڈمنز اس کے ذریعے اپنی کمپنی کی ای میل اکاؤنٹ پر بلیو ٹِک حاصل کر سکیں گے۔

  • قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد  کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    ابراہم لنکن نے کہا تھا "انتخابات کا تعلق عوام سے اور یہ ان کا فیصلہ ہے، اور اگر وہ آج کسی غلط انسان کا انتخاب کرتے ہیں تو کل کو انہیں ہی سب کچھ بھگتنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے یہ فیصلہ خود کیا تھا.” انتخابات میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کو عملی طور پر شفاف رکھنا ہوگا۔ جبکہ ریاست میں انتخابات سے قبل وفاقی اور صوبائی دونوں میں نگران حکومتوں کے قیام کیلئے آئین میں دفعات موجود ہیں تاکہ انتخابات کو یقینی طور پر شفاف بنایا جا سکے اگر دو جگہوں پر الیکشن ہو گئے اور پھر اگلی قسط میں د ونگران حکومتوں کے دور میں ہوئے اور وفاقی حکومت میں، تو پھر صوبائی حکومتیں وفاقی الیکشن میں سرکاری مشنری کا غلط استعمال کر سکتی ہیں

    اگر عمران خان کی خواہش کے مطابق پنجاب اورخیبر پختونخواہ میں الیکشن ہوتے ہیں تو وفاقی حکومت تو اپنی جگہ پر قائم رہے گی دو صوبوں میں نگران حکومتیں ہیں الیکشن ہوں گے اور پھر شکست کھانے والی جماعتوں کی طرف سے حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا جائے گا اور الزام تراشی ہوگی جبکہ بعدازاں یہ بھی الزام عائد ہونے کا خطرہ ہے کہ حکومتی مشینری کو حکمران جماعت کے حق میں استعمال کیا گیا ہے.

    تاہم خیال رہے کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 224 اور 224-A سے بھی متصادم ہوگا جو اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں نگراں حکومتوں کی تقرری کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ لہذا آئین کو ایک کھلونا نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر نظرانداز کردیا جائے. لہذا میری رائے میں مناسب یہ ہوگا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کروائے جائیں تاکہ بار بار انتخابات یعنی ڈبل الیکشن یا علیحدہ علیحدہ انتخابات پر وسائل کا ضیاع نہ ہو. اور تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی سطح پر الیکشن کے میدان میں اترنے کا موقع دیا جائے جبکہ سیاسی وفاقی حکومت کے صوبہ میں انتخابات پر اثر انداز ہونے کے امکانات یعنی ریاستی مشینری کے استعمال کے امکانات کو بھی دور کیا جاسکتا ہے.

  • وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قومی اداروں کا وقار اور عدلیہ کا اعتماد کسی قوم کو طاقت بخشتا ہے آج بھی اقوام عالم میں جو قومیں انصاف اور عدل کے مضبوط نظام پر عمل پیرا ہیں وہ دنیا کی طاقت ور قومیں ہیں اوراسلامی تاریخ بھی کئی اعلیٰ مثآلوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ سے لیکر عدل جہانگیری تک انصاف کا بول بالا رہا اسی انصاف سے عوام کی فلاح ،فرد اور ملت کا رشتہ مضبوط رہا۔ ملک اور قوم کی بدقسمتی کہہ لیجئے یہاں آئین سے کھلواڑ ہوتا رہا اور اس کھلواڑ میں سیاسی جماعتیں شامل رہیں۔ سیاستدان تو جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت کے قول و فعل میں تضاد ہے نہ جمہوریت کی فکر، نہ عوام کی فکر، اقتدار کس طرح حاصل کرنا ہے کی فکر میں تمام حدوں کو کراس کرجاتے ہیں۔

    اپنے آپ کو اپنی ذات کو مرکز ثقل گرداننا وہ کیڑا ہے جو شہنشاہیت کے دور میں فرانس کے شہنشاہوں میں بدرجہ اتم تھا ریاست کیا ہے وہ میں ہوں میری ذات ہے باقی سب میرے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ ملک و قوم کن حالات سے گزر رہی ہے کسی بھی سیاستدان کو اس کی پروا نہیں۔ آڈیو اور ویڈیو کا گندا کھیل اور سوشل میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا پر اس کا پرچار سینہ تان کر کیا جاتا ہے ٹی وی چینلز اس مکروہ اور گندے کھیل کو اپنے ٹی وی چینل کی بقا سمجھ رہے ہیں ملک کی ترقی اور 24 کروڑ عوام کی فلاح کا اس گندے کھیل سے کوئی سروکار نہیں۔ عوام کی اکثریت روٹی کی محتاج ہے عوام کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ریاست کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے آدھے سے زیادہ لوگ بھوک سے مررہے ہیں موجودہ جنگ اشرافیہ کے مختلف دھڑوں کی جنگ میں ملک و قوم کی جنگ بنا دیا گیا ہے۔

    اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ کیا آڈیو ویڈیو کی داستانیں اور قصے ہمارے اداروں کے وقار کو مجروح نہیں کررہے کیا خود سیاستدانوں کی عزت و وقار مجروح نہیں ہو رہے؟ ضرور ہورہے ہیں اس کے اثرات ہماری نوجوان نسل پر کیا مرتب ہو رہے ہیں؟ اس کے اثرات عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور عزت پر نہیں پڑ رہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہان وکلاء تنظیموں اور سیاسی اکابرین کو بیٹھ کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ملک اور قومی اداروں کے وقار کو بحال کرنے کی جستجو کرنی چاہئے پسند اور ناپسند سے بالاتر سوچ کے ساتھ وطن عزیز کے مفاد کے لئے آگے ہو کر کردار ادا کریں۔

  • پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان کو اس وقت شدیدترین ماحولیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ جنگلات کی کٹائی، آبی آلودگی، فضائی آلودگی اور زمینی آلودگی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ جبکہ جنگلات کی کٹائی نہ صرف گلوبل وارمنگ کیلئے اہم کردار ہے بلکہ یہ کٹاؤ ساحلی سیلاب کا باعث بھی بنتتا ہے جس سے نہ صرف پودوں کو ختم کیا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ چرند، پرند اور جانوروں کے گھر بھی تباہ ہوتے ہیں.

    اگر ہم صحت کے حوالے سے اس کا جائزہ لیں تو درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اورآکسیجن فراہم کرتے ہیں جبکہ دوران سیلاب تیز پانی کے بہاؤ کو بھی روکتے ہیں علاوہ ازیں پاکستان جیسے ملک میں تو درختوں کا ہونا اس لئے بھی انتہائی ضروری ہے کہ موسمی حالات کے بدلتے وقت جیسے سردیوں میں لوگ خود کو گرم رکھنے اور کھانا وغیرہ پکانے یعنی آگ کیلئے لکڑی کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں بڑے شہروں کے علاوہ گیس کی سہولت میسر نہیں ہے.

    دوسری جانب ہمارے ملک میں آبی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ بہت سارا کیمیائی فضلہ (کچرا) پانی میں پھینکا جاتا ہے جس سے زہریلے مادے بھی پیدا ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی استعمال کے قابل نہیں رہتا ہے جبکہ اس میں کارخانوں میں استعمال کے بعد پیدا ہونے والا کچرا، اور ناقص سیوریج سسٹم بھی آبی آلودگی کا باعث بنتے ہیں،

    صوبہ پنجاب کا دارالخلافہ لاہور جو بہت بڑا شہر ہے اور سردیوں کے موسم میں اسے سموگ کا سامنا رہتا ہے ، اس سے علم ہوتا ہے کہ یہاں فضائی آلودگی کا مسئلہ ہے، علاوہ ازیں گاڑیوں میں اضافہ کے سبب دھواں، ایندھن نیز کارخانوں اور کاروں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کی اہم وجوہات ہیں ،تاہم واضح رہے کہ زمین کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے غلط نظام کے سبب زمین کے کھلے پلاٹوں میں کچرا پڑا رہتا ہے جس سے نہ صرف ناگوار بدبو، بیماریاں اور آلودگی پھیلتی ہے بلکہ ماحول بھی گندہ ہوتا ہے اور حکومت کا صرف پلاسٹک بیگز پر پابندی لگانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ کوئی جامع حکمت عملی بنانی ہوگی.

    اس موسمیاتی تبدیلی نے تباہ کن سیلاب بھی لائے جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں ، سیلاب زمینیوں سمیت زرعی کھیتوں کو تباہ کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے گلوبل انفارمیشن اینڈ ارلی وارننگ سسٹم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل نینو سمندری رجحان کی وجہ سے زیادہ بارشوں کے خطرے سے دوچار 20 ممالک میں شامل ہے۔ (ڈان نیوز)

    پاکستان کو ان ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جامع پالیسیاں اور قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے، ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ افراد، کارپوریشنز اوراداروں کو انکی وجہ سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے،حکومت کو ان مسائل کو حل کرنے موثر پالیسیاں بنانے اور ان پرعمل درآمد کرنے میں آگے بڑھنا چاہئے تا کہ پاکستان کا مستقبل پائیدار ہو.

  • آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    تحریر۔ محمد انور بھٹی

    بچپن سے یہ محاورہ سنتے آئے ہیں کہ آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا۔ یعنی ایک آفت سے نکلا تو دوسری میں پھنس گیا میں نے بچپن میں اس کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں۔ لیکن آج یہ محاورہ پھر سے میرے ذہن میں آیا تو میں نے اس کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔تو مجھے اس کا اطلاق ریلوے کے ضعیف العمر پینشنرز،بیواؤں اور یتیم بچوں پر ہوتا نظر آیا۔کیونکہ ریلوے کے یہ ریٹائرڈملازمین آج کل کچھ اسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہوئے نظر آرہےہیں۔پاکستان ریلوے ملازمین دورانِ سروس جن مشکلات،دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں شاید ہی کسی اور سرکاری ادارے کے ملازمین کو ایسی پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔یہ اپنے پیاروں سے سینکڑوں میل دور جنگلوں، تپتے صحراؤں ،ٹھٹھرتے ہوئے میدانوں اور سنگلاخ چیٹانوں کے درمیان اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ہیں ۔یہاں دورانِ سروس انہیں جن دکھوں ،تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی ایک لمبی تفصیل ہے جس پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ ان تمام پریشانیوں اور تکالیف کے باوجود بھی یہ ملازمین اپنی ڈیوٹیاں خندہ پیشانی، عزم ،حوصلہ اور ایمانداری کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔دوران سروس ہر ایک ملازم کی دو اہم ترجیحات ہوتی ہیں ۔ایک تو یہ اپنے ادارے کی ساکھ کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیتے ہیں دوسرا ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا خاندان معاشرے میں اچھے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ اور جب یہ اپنی سروس مکمل کر چکیں تو یہ اس معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ باقی مانندہ زندگی برابری کی سطع پر گزار سکیں۔ریٹائرڈ منٹ کے بعدان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اِن کے اہل خانہ کے سر پر بھی اپنی چھت ہوگی۔ یہ بھی اپنے جواں سال بیٹوں کے سروں پر سہرے سجائیں گے۔ اپنی بیٹیوں کے ماتھے پر جھومر سجاکرانکےہاتھوں پر مہندی رچاکر انکی ڈولیوں کو سجا کر اپنے گھروں کو باعزت طریقےسے روانہ کریں گے۔

    مگر انتہائی قابل افسوس امر بات ہے کہ جن محنت کشوں نے بڑی جاں فِشانی کے ساتھ اپنی زندگی کےتیس سے (30) سے چالیس (40) سال اپنے ادارے اور ملک وقوم کی خدمت میں قربان کئےاور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج ان محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ادارے اور ریاست کی جانب سے جس بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی انسانی معاشرے میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد اور دوران سروس وفات پاجانے والے ملازمین کے خاندانوں کوریاست کی جانب سے ان کے واجبات کی ادائیگی نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ ضعیف العمرریٹائرڈ ملازمین، بیوائیں اور یتیم بچے معاشی اور معاشرتی طور پر انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ معاشی بدحالی کے سبب ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہوکر یہ محنت کش مختلف قسم کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوکرمعذوری کا شکار ہوکر ویل چیئر اور چارپائیوں پر آچکے ہیں اکثیریت بیماریوں کی تاب نہ لاکر اپنی آنکھوں میں اپنے جواں سال بچوں کے ماتھے پر سہرے سجانے ،بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈولی میں بٹھانے اور اپنے بچوں کے سروں پر اپنی چھت ہونےکے خواب سجائےہوئے بے بسی اور بے کسی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس دارِ فانی سے کوچ فرماچکے ہیں۔باقی ماندہ اپنے حقوق کے حصول کی مد میں ارباب اختیار کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔مگر ان کی داد وفریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ جبکہ یہ ریاست کی اولین ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ ہے کہ وہ ان محنت کشوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اعلٰی خدمات اور قربانیوں کے صلے میں ان کےحقوق کی ادائیگی بڑی خندہ پیشانی اور جذبہ ایثار کےساتھ ادا کرتی۔

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    زیاں اور خسارہ بلا شبہ ناکامی کی علامت ہے لیکن زیاں سے بھی بڑھ کرالمیہ یہ ہے کہ فرد یا ملت کے دل ودماغ سے (احساس زیاں)بھی جاتا رہے۔ چِہ جائےکہِ ریاست کی جانب سے اِ ن محنت کشوں کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جاتی۔مگر ان کو ان کے حقوق حاصل کرنے کی مد میں اس قدر پیچیدگیاں پریشانیا ں اور مشکلات کھڑی کردی گئی ہیں ۔کہ ان محنت کشوں کو اپنے حقوق کے حصول کی خاطر اپنے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے۔ ان قانونی پیچیدگیوں اور بھول بھلیوں کے سبب ان کی عزت نفس بھی مجروح ہونے سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہے۔ باقی تمام واجبات کی ادائیگیاں تو اپنی جگہ بے حسی، لا قانونیت اور مردہ ضمیری کی یہ حد ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضع ہدایات کے باوجود ان کو انکی ماہانہ پینشن کی ادائیگی بھی بروقت نہیں کی جارہی ہے ۔

    عمر کے اس حصے میں ان ضعیف العمر پینشنرز ، بیواؤں اور یتیم بچوں کی زندگی گزارنے کا تمام تر دارمدار اس پینشن کی مد میں ملنے والی رقم پر ہے۔اس کے علاوہ ان کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔پینشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں انہیں اس معاشرے میں جن گھمبیر صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہے یہ ادارے ،ریاست اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان ریلوے کے پینشنرز کی ادائیگی کو اتنا طویل اور بوجھل بنادیا گیا ہے کہ پینشن کی ادائیگی پچھلے ایک سال سے مسلسل تاخیر کاشکار ہورہی ہے ۔وزارت ریلوے کی مالیاتی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ کیلئے ہر ماہ کی 22 تاریخ کو وزارت خزانہ کو درخواست بھیجی جاتی ہے۔التجا کی جاتی ہے ۔کہ پینشنرز کو ان کی پینشن کی ادائیگی کے لیئے فنڈ جلد مہیا کئے جائیں تاکہ ان کی پینشن کی بروقت ادائیگی کردی جائے۔ وزارت خزانہ آفس اس درخواست پر عمل درآمد کرکے اس درخواست کو ایک ہفتہ میں نمٹا دے تو اس کو پینشنرز کے لیے خوش بختی کی علامت سمجھاجائے وگرنہ دوسرا ہفتہ بھی اسی کاروائی میں گزرجاتا ہے۔ اس کے بعد اے جی پی آر کی اپنی بھول بھلیوں والا کھیل شروع ہوجاتا ہےاس کھیل کو کھیلنے کے لیئے انہیں بھی دو سے تین روز درکار ہوتے ہیں ۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد کہیں جاکراس پینشن کی مد میں درکار فنڈ کو اسٹیٹ بینک کی رونق بننانصیب ہوتاہے ۔اسٹیٹ بینک کی راہداریوں سے ہوتا ہوا یہ فنڈ اب پاکستان میں موجود مختلف کمرشل بینکوں کو بھیج دیا جاتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہانپر یہ مثال صادر آتی ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ۔ پاکستان کے کمرشل بینکوں نے اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق اپنی اپنی پالیسیاں ترتیب دی ہوئی ہیں ۔کیونکہ ان کو پینشنرز کی ترجیحات کے مقابلے میں اپنی ترجیحا ت انتہائی عزیز ہیں ۔ بظاہر تو یہ رقم پینشنرز کی امانت ہوتی ہے مگر حقیقت اس کے یکسر مختلف ہے۔یہی وجہ ہے یہ پینشنرز کی پینشن اپنی سہولت کے مطابق ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں ۔شنید ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پینشنرز کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کئی قانون اور قائدے بنائے گئے ہیں جن کے مطابق تمام کمرشل بینکوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ پینشنرز کو اولین ترجیح دیکر اُن کی پینشن کی رقم اُن کے اکاؤنٹ میں بروقت منتقل کرنے کے پابند ہونگے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ احکامات لگتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے نزدیک کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں یہ احکامات صرف کاغذ کے ٹکڑے کی زینت بننےتک محدود ہیں۔ ضعیف، لاغر ،بیمار اور معاشی حالات کےستائے ہوئے یہ پینشنرز جب اپنی پینشن کی حصولی کے لیئے بینکوں میں پہنچتے ہیں تو انہیں بینک انتظامیہ کی جانب سے جس بے توقیری اور ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کی کسی بھی انسانی معاشرے میں مثال نہیں ملتی ہے۔کمر شل بینکوں کے برتاؤ اور سخت گیر رویوں سے یوں ظاہر ہوتاہے کہ ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کا وجود ان کمرشل بینکوں پر ایک وزن کم نہیں ہے۔جبکہ کریڈٹ کارڈ سروس ، ایس ایم ایس اور باقی دوسری سہولیات کی مد میں ان کمرشل بینکوں کو پینشنرز سے لاکھوں روپے وصول ہوتے ہیں اس کے باوجوداسٹیٹ بینک سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ ان بینکوں کو منتقل ہوجانے کے بعد کمرشل بینک اس رقم کو دو تین روز تک اپنے پاس رکھنے کو اپنا حق تصور کرتے ہیں ۔ یہ پینشنرز کے ساتھ جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام چلاتے ہیں ۔ پینشنرز کی پینشن کے فنڈ ان کےپاس موجود ہونے کے باوجود یہ مختلف حیلے اور بہانے تراش کر اُن کی پینشن کی رقم کبھی بھی بروقت ان کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ان مجبور ولاچار پینشنرز کو بیماری کی حالت میں بار بار بینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں ذہنی تناؤ کے ساتھ ساتھ جسمانی تکالیف اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی تمام تر ذاتی خواہشات اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاس ملک وقوم کی خدمت اور ادارے کے وقار کی بحالی کو فوقیت دی۔ و ہ لوگ آج بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی داد رسی کرنے والا آج کوئی نہیں ہے انکی بیوائیں اور یتیم بچے جس طرح کسمپرسی اور بد حالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں آج ان کے لیئے سوموٹو لینے والا کوئی نہیں ہےان بہتری اور فلاح کے لیئے کوئی قانون سازی کرنے والا نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ جوتھوڑی بہت قانونی مراعات اِن کوتفویض کی گئی ہیں ان پر بھی عمل درآمد کرنے کی کسی میں سکت نہیں ہے۔آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاست ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے ۔اورماں بے لوث محبت، شفقت، اپنائیت، قربانی کا دوسرا نام ماں ہے۔میری اس ریاست کے مطلق اختیار رکھنے والوں سے بدستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا یہ ضعیف العمر پینشنرز اس ملک اور قوم کے لیئے ایک قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اس ملک اور قوم کے لیئےاپنی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ خداراانکی قدر کیجئے یہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر دو سال سے ادھر اُدھر مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو انکے حقوق لوٹائے جائیں۔ وہ بیوائیں اور یتیم بچے جن کو انکے ڈیوز کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب آج بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انکو ان کے رکے ہوئے ڈیوز کی فوری طورپر ادائیگی کا بندوبست کیا جائے۔ آخر میں میری گورنر اسٹیٹ بینک سے التجا ہے کہ آپ کی طرف سے پینشنرز کی سہولیات کی مد میں کمرشل بینکوں کے لئے جو قانون/ ہدایات جاری کی گئی ہیں ان پر کمرشل بینکوں کو سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا جائے۔تاکہ یہ ضعیف العمر پینشنرز، بیوائیں اور یتیم بچے بھی اس معاشرے میں باعزت اور باوقار زندگی گزار سکیں۔

    خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر

    نہ ھو درد کی چوٹ جس کے جگر پر

    کسی کے مصیبت گزر جاۓ سر پر

    پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر

    کرو مہربانی تم اہل زمین پر

    خدا مہربان ھو گا عرش بریں پر

  • اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    آغا حشر کاشمیری

    پیدائش:03اپریل 1879ء
    بنارس، ہندستان
    وفات:28اپریل 1935
    لاہور، پاکستان

    آغا حشر کا اصل نام آغا محمد شاہ تھا۔ ان کے والد غنی شاہ بسلسلہ تجارت کشمیر سے بنارس آئے تھے اور وہیں آباد ہو گئے تھے۔ بنارس ہی کے محلہ گوبند کلاں، ناریل بازار میں03 اپریل 1879کو آغاحشر کا جنم ہوا۔
    آغا نے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور قرآن مجید کے سولہ پارے بھی حفظ کیے۔ اس کے بعد ایک مشنری اسکلول جے نارائن میں داخل کرائے گئے۔ مگر نصابی کتابوں میں دلچسپی نہیں تھی اس لیے تعلیم نا مکمل رہ گئی۔
    بچپن سے ہی ڈرامہ اور شاعری سے دل چسپی تھی۔ سترہ سال کی عمر سے ہی شاعری شروع کر دی اور 18 سال کی عمر میں آفتاب ِ محبت کے نام سے ڈرامہ لکھا جسے اس وقت کے مشہور ڈرامہ نگاروں میں مہدی احسن لکھنوی کو دکھایا تو انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ نگاری بچوں کا کھیل نہیں ہے۔
    منشی احسن لکھنوی کی اس بات کو آغا حشر کاشمیری نے بطور چیلنچ قبول کیا اور اپنی تخلیقی قوت، اور ریاضت سے اس طنز کا ایسا مثبت جواب دیا کہ آغا حشر کے بغیر اردو ڈرامہ کی تاریخ مکمل ہی نہیں ہو سکتی، انہیں جو شہرت، مقبولیت، عزت اور عظمت حاصل ہے، وہ ان کے بہت سے پیش رؤوں اور معاصرین کو نصیب نہیں ہے۔
    مختلف تھیٹر کمپنیوں سے آغا حشر کاشمیری کی وابستگی رہی، اور ہر کمپنی نے ان کی صلاحیت اور لیاقت کا لوہا مانا۔ الفریڈ تھیٹریکل کمپنی کےلئے آغا حشر کو ڈرامے لکھنے کا موقع ملا، اس کمپنی کے لیے آغا حشر نے جو ڈرامے لکھے، وہ بہت مقبول ہوئے۔ اخبارات نے بھی بڑی ستائش کی۔ آغا حشر کی تنخواہوں میں اضافے بھی ہوتے رہے۔
    آغا حشر کاشمیری نے اردو، ہندی اور بنگلہ زبان میں ڈرامے لکھے جس میں کچھ طبع زاد ہیں اور کچھ وہی ہیں جن کے پلاٹ مغربی ڈراموں سے ماخوذ ہیں۔
    آغا حشر کاشمیری نے شکسپیر کے جن ڈراموں کو اردو کا قالب عطا کیا ہے ، ان میں شہیدناز، صید ہوس، سفید خون، خواب ہستی بہت اہم ہیں۔
    آغا حشر کاشمیری نے رامائن اور مہابھارت کے دیومالائی قصوں پر مبنی ڈرامے بھی تحریر کیے ہیں ، جو اس وقت میں بہت مقبول ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
    بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں
    ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
    اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں
    او وفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلہ
    بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں میں
    آرزوؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
    جب بہار آئے گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں
    حشرؔ میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
    اپنا غم دل کی زباں میں دل کو سمجھاتا ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    وہ نگاہ سے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی
    وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    یہ بجا کلی نے کھل کر کیا گلستاں معطر
    اگر آپ مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی
    یہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تو سنوارے
    مرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی
    گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک
    تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے
    ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے

    سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی
    وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک
    تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی