Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 4 فروری :افغان انقلابی خاتون  مینا کشور کا کوئٹہ پاکستان میں قتل

    4 فروری :افغان انقلابی خاتون مینا کشور کا کوئٹہ پاکستان میں قتل

    4 فروری 1987

    افغان انقلابی خاتون مینا کشور کا کوئٹہ پاکستان میں قتل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنگ و جدل اور کشت و خون کے مستقل سلسلے کی حامل سرزمین افغانستان میں ایک نامور انقلابی عورت مینا کشور کمال 27 فروری 1956 میں کابل میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے دوران تعلیلم کابل یونیورسٹی میں افغانستان کی خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے بہتر روشن مستقبل کی غرض سے ” جمعیت زنان افغانستان ” Revolutionary Association of Women s of Afghanistan(RAWA) کا قیام عمل میں لایا جس کو بہت بڑی پذیرائی ملی جبکہ اپنی تنظیم کی طرف سے انہوں نے افغان خواتین کے حقوق کے لیے شعور اجاگر کرنے کی غرض سے ایک رسالہ ( پیام زن) Women s Message جاری کیا جس میں وہ خود بھی کالم لکھتی اور خصوصی پیغامات وغیرہ بھی جاری کیا کرتی تھیں۔

    تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی تنظیم RAWA کے پلیٹ فارم سے افغانستان کی مظلوم ، محکوم اور مجبور و بےگھر اور مہاجر خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے منظم جدوجہد شروع کر دی ۔ اس دوران ان کی افغانستان کے ایک روشن خیال مرد رہنما فیض احمد سے شادی ہوئی جس کے بعد دونوں میاں بیوی نے مل کر منظم جدوجہد شروع کر دی جس کی وجہ سے افغانستان کی ایک خطرناک خفیہ ایجنسی ” خاد” نے مینا کے شوہر فیض احمد کو 1986 میں قتل کر دیا جبکہ اس کے اگلے سال 1987 میں ” خاد” کے سربراہ انجنیئر گلبدین حکمت یار کے حکم کے تحت خاد کے ایجنٹس نے 4 فروری 1987 میں مینا کشور کمال کو ، کوئٹہ بلوچستان پاکستان میں قتل کر دیا جس کی موت سے افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے جاری ایک موثر تحریک کا خاتمہ اور ایک توانا آواز کو خاموش کر دیا گیا۔

  • امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی) امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ہو گئی سابق صدر ٹرمپ نے دوبارہ صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کردیا ہے سابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ امریکی صدر بائیڈن امریکہ کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ امریکی قیادت کو موجودہ حکومت سے خطرہ ہے ۔ بائیڈن حکومت پر چین کے ساتھ جنگ کی تیاریوں کی بھی عالمی سطح پر بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاع کے مطابق ٹرمپ نے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کمر کس لی ہے ۔ بھارت میں نہرو خاندان کے چشم و چراغ راہل گاندھی نے 75ضلعوں 14 ریاستوں کا سفر 136 دنوں میں ذرائع ابلاغ کے مطابق 3570 کلومیٹر پیدل سفر کیا ہے ۔ اس کا مقصد نفرت چھوڑو بھارت جوڑو تھا ۔ مودی دور حکومت میں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پرظلم کی حدیں کراس کی گئیں ۔ راہل گاندھی اپنے اس سفر میں تمام مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلے کہ وہ اور ان کی جماعت محبت کا پیغام لے کر چلے ہیں۔ا یک دوسرے سے نفرت چھوڑو بھارت جوڑو ۔ مودی نے بھارت کو جتنا نقصان دینا تھا دے لیا۔

    ملک میں بھی سیاسی ماحول فکر انگیز ہے ۔ پی ڈی ایم اگر الیکشن سے راہ فرار اختیار کرتی ہے تو وہ آئین سے غداری کے مترادف ہوگا۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں بالخصوص وزیراعطم شہباز کی جماعت آئین توڑنے پر سابق صدر پرویز مشرف پر مقدمہ درج کروا چکی ہے جبکہ ایک مرحوم جج اس مقدمے پر ان کو سزائے موت کا حکم بھی دیا تھا۔

    عمران خان نے بھی جیل بھرو تحریک کا اعلان کردیا ہے اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کو للکارا ہے کہ وہ روز بروز کی ایف آئی آروں سے تنگ ہیں بہتر ہے تحریک انصاف خود ہی جیلوں میں جائے ۔ اس طرح سابق امریکی صدر ٹرمپ نے بائیڈن ۔ راہل گاندھی نے مودی سرکار۔ اور عمران خان نے پی ڈی ایم کو للکارا ہے ۔ا سلام آباد پولیس نے 73 سالہ شخص شیخ رشید کو جس طرح زور دار دھکے دئیے وہ قابل مذمت ہی قابل نفرت ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ شیخ رشید راولپنڈی کے اب ایک بزرگ سیاستدان ہیں اور بیمار ہیں اس طرح کے رویے کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

  • عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    3 فروی 1975
    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مصر سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ام کلثوم 31دسمبر 1898میں مصر کے ایک دیہی علاقے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام ابراہیم اور والدہ محترمہ کا نام فاطمہ تھا۔ ان کے والد ابراہیم قرآن کے حافظ اور مسجد کے امام تھے اپنی بیٹی کلثوم کو بھی انہوں نے قرآن حفظ کرایا۔ بعد میں ان کے والد نے ہی ان کو گلوکاری کی طرف دھکیل دیا۔ انہوں نے گلوکار ابوالعلا سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔

    انہوں نے سب سے زیادہ مصر کے عرب شاعر احمد راہی کے گیت گائے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی شعراء کے کلام بھی گائے۔ ام کلثوم کی آواز میں بلا کی مٹھاس اور سوز و سرو شامل تھا وہ اپنی آواز کا جادو جگا کر سامعین پر سحر طاری کر دیتی تھیں یہی وجہ ہے کہ انہیں مصر کی بلبل،کوکب المشرق یعنی مشرق کا ستارہ اور عرب موسیقی کی ملکہ کے خطاب سے نوازا گیا۔ مصر کے شاہ فاروق اور جمال ناصر بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے ۔

    شاہ فاروق نے ان کو مصر کے سب سے بڑے ایوارڈ "ذیشان الکمال” سے نوازا۔ جبکہ علامہ اقبال کا ترجمہ شدہ کلام عربی میں گانے پر حکومت پاکستان کی جانب سے ان کو ستارہ الہلال کا ایوارڈ عطا کیا گیا ۔ مصری حکومت نے ام کلثوم کی آواز میں قرآن کی تلاوت بھی ریکارڈ کروایا ۔ ام کلثوم 1923 میں اپنے آبائی گاؤں سے قاہرہ منتقل ہو گئیں ۔ 1954میں ام کلثوم کی ڈاکٹر حسن الخضری سے شادی ہوئی ۔ ام کلثوم پر گاتے وقت وجد طاری ہو جاتا تھا۔ اس لیے وہ وہ اپنے ہاتھ میں رومال رکھتی تھی وہ گانے کے دوران وجد میں آ کر اس رومال کو پھاڑ کر لیرا لیرا کر دیتی تھیں ۔

    ام کلثوم کا شمار عرب دنیا کی موسیقی کے 4 بڑے گلوکاروں میں ہوتا ہے جن میں عبدالحلیم حافظ، ام کلثوم ، محمد عبدالوہاب اور فرید الطرش شامل ہیں ۔ دنیائے عرب کی ملکہ موسیقی اور ستارہ مشرق ام کلثوم کا 3 فروری 1975 میں انتقال ہوا ان کے جنازہ نماز میں 40 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی جوکہ ایک عالمی ریکارڈ اور ان کی انتہا درجے کی مقبولیت کا ثبوت بھی ہے۔

  • حیا ہراریت   اسرائیلی   اداکارہ اور مصنفہ

    حیا ہراریت اسرائیلی اداکارہ اور مصنفہ

    حیا ہراریت

    اسرائیلی اداکارہ اور مصنفہ

    3 فروری : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ اسرائیلی اداکارہ ، مصنفہ اور اسکرپٹ رائٹر حیا ہراریت 20 ستمبر 1931 میں ہائفہ فلسطین میں پیدا ہوئی۔ ہائفہ اس وقت اسرائیل کا حصہ ہے ۔ 1955 میں انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا انہوں نے بیحد متاثر کن اداکاری کے جوہر دکھائے اور اورفلمی کہانیاں لکھیں اور فلم اسکرپٹ لکھ کر بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی اور عالمی فلمی میلہ میں خصوصی ایوارڈ حاصل کیا۔ انہوں نے دو شادیاں کیں پہلی شادی اسرائیلی انجنیئر Nachman Zervanitzer سے کی چند برس بعد ان سے علیحدگی اختیار کی جبکہ دوسری شادی برطانوی فلم ڈائریکٹر Jack Clayton سے کی ۔ 3 فروری 2021 برطانیہ میں 90 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔

  • گرفتاریوں اور مقدموں کی نئی لہر

    گرفتاریوں اور مقدموں کی نئی لہر

    گرفتاریوں اور مقدموں کی نئی لہر
    تحریک انصاف کے اراکین کی گرفتاریاں جاری ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومت ختم ہونے کے بعد نگران حکومتیں قائم ہوئیں تو نگران حکومت نے آتے ہی فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج کیا اور انہیں لاہور سے گرفتار کر لیا ، فواد چودھری کو لاہور سے گرفتار کر کے اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں عدالت نے انکی اس شرط پرضمانت دی کہ وہ اب مزید کوئی اداروں کے خلاف بیان نہیں دیں گے،

    تحریک انصاف کی جب سے وفاقی حکومت ختم ہوئی، انہوں نے اداروں کو نشانے پر رکھ لیا، عمران خان سے لے کر تحریک انصاف کے ایک کارکن تک ، سب نے ریڈ لائن کراس کر لی ہیں، جس کا جو بھی جی چاہتا ہے بول دیتا ہے خواہ وہ اداروں کے خلاف ہو، کچھ بھی ہو ، سوشل میڈیا پر بھی طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے، ایسے میں اگر ادارے حرکت میں آتے ہیں کسی پر مقدمہ درج ہوتا ہے یا قانون اپنا راستہ بناتا ہے تو اسے انتقامی کاروائی قرار دے دیا جاتا ہے ، اعظم سواتی، شہباز گل پہلے گرفتار ہو چکے، ضمانت پر رہا ہیں ، اب تحریک انصاف کے رہنماؤں شاندانہ گلزار، شبیر گجر پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، شیخ رشید جو تحریک انصاف کے اتحادی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ ہیں پر تین مقدمے درج ہو چکے ہیں عمران خان کے خلاف اندراج مقدمہ کی دوبارہ درخؤاست دی جا چکی ہے، پرویز الہیٰ کے خلاف بھی اندراج مقدمہ کی درخؤاست دی جا چکی ہے ، عمران خان زمان پارک میں ہیں اور وہ بنی گالہ جانے کا سوچ رہے ہیں تا ہم ہر روز رات کو شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے کہ آج رات عمران خان کو گرفتار کئے جانے کا امکان ہے اور پھر کارکنان کو بلا لیا جاتا ہے تا کہ کسی طریقے سے عمران خان کی گرفتاری نہ ہو

    نگران حکومت کے قیام کے بعد تحریک انصاف ایک بار پھر دفاعی پوزیشن میں جا چکی ہے، شہباز گل، اعظم سواتی، فواد چودھری سمیت کئی رہنما ضمانتوں پر ہیں، اور اب حالات یہی بتا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مزید مقدمے ہوں گے اور گرفتاریاں بھی ہوں گی،

    ہ پشاور کا سانحہ دہشت گردوں کی مزاحمت کا تقاضا کر رہا ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف پشاور پہنچ گئے،

    ہوسکتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پولیس لائنز میں موجود ہو 

    نیشنل ایکشن پلین پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے،

  • آئین پاکستان کہاں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آئین پاکستان کہاں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    وارثان پاکستان وارثان سیاست و جمہوریت اور وارثان عام آدمی کے دعویداروں سے سوال ہے کہ آئین پاکستان کہاں ہے؟ قانون اور پارلیمنٹ ہائوس کی بالادستی کہاں ہے؟ سٹیٹ کے اداروں کو اپنے تابع سمجھنے والے سیاستدانوں سے سوال ہے کیا یہ ملک کسی فرد واحد کی جاگیر ہے؟ یا 22 کروڑ عوام کا ہے اگر22 کروڑ عوام کا ہے تو یہ عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کیوں ہیں؟ ان کے پڑھے لکھے بچے اور بچیاں بے روزگار کیوں ہیں؟ آٹا حاصل کرنے لائنوں میں لگ کر یہ کیوں مررہے ہیں؟ ان کو پینے کے لئے صاف پانی میسر کیوں نہیں؟ بیماروں کے لئے جدید سہولتوں والے ہسپتال کیوں نہیں ہیں؟ اے وارثان جمہوریت 75سال بیت گئے نہ تم سیاست کے اصول مرتب کرسکے نہ جمہور کو بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرسکے نہ جمہوریت کو مستحکم کرسکے نہ معیشت کو مستحکم کرسکے اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا سکے۔ تاہم لینڈ مافیا‘ چینی مافیا‘ آٹا مافیا‘ جاگیرداری نظام‘ سرمایہ داری نظام کی پشت پناہی کرنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔

    موروثی سیاست پر بحث کرنے والے سیاستدان امریکہ سے لیکر بھارت‘ بنگلہ دیش کی سیاست کا مطالعہ کریں اور غور کریں۔ یہ وقت موروثی سیاست پر بحث کا نہیں ریاست کو مستحکم کرنے‘ جمہوریت کو مستحکم کرنے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے کا ہے۔ اس وقت ملک میں آئینی بحران پیدا کیا جارہا ہے یا کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جارسکتا پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے آبائو اجداد آئین پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا آج ان کی اولادیں آئین سے کیوں راہ فرار اختیار کرنا چاہتی ہیں اگر پیپلز پارٹی بھٹو کے مشن کا نعرہ بلند کرتی ہے تو پھر موجودہ حالات جس میں انتخابات سے فرار بھٹو کے مشن سے فرار کے مترادف ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے والد مرحوم کا بھی بڑا کردار رہا پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کیا پی ڈی ایم اور کیا اپوزیشن تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے یہ محض فریب کاری اور شعبدہ بازی ہے۔ فوج نہ تو جذبہ جہاد سے عاری ہوسکتی ہے اور نہ مذہب اس کے دل و دماغ سے کھرچا جاسکتا ہے۔ پاکستان‘ عوام‘ اسلام اور عشق رسول پاک فوج کا قیمی اثاثہ ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں‘ وی لاگرز‘ سوشل میڈیا والے اس ملک اور پاک فوج پر رحم کریں۔

  • جیمز جوائس؛آئرش نامہ نگار،افسانہ نگار اورشاعر

    جیمز جوائس؛آئرش نامہ نگار،افسانہ نگار اورشاعر

    پیدائش:02 فروری 1882ء
    وفات:13 جنوری 1941ء
    زیورخ
    وجۂ وفات:ورمِ صفاق
    شہریت: آئرلینڈ
    تعداد اولاد:2
    مادر علمی:جامعہ کالج ڈبلن
    (1898-1902)
    تلمیذ خاص:سیموئل بکٹ
    زبان:انگریزی
    پیشہ ورانہ زبان:اطالوی، لاطینی زبان، فرانسیسی، انگریزی
    کارہائے نمایاں:ڈبلینرز، یولیسیس

    جیمز جوائس انگریز ناول نگار، ڈبلن ’’آئرلینڈ‘‘ میں پیدا ہوا۔ بچپن عسرت میں بسر ہوا۔ پیرس میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے گیا مگر تعلیم مکمل نہ کرسکا اورلسانیات پڑھانے لگا۔ 1907ء میں اپنی نظموں کا مجموعہ اور 1914ء میں کہانیوں کا مجموعہ شائع کیا۔ اس کے نام Portarit of the artist میں اس کی آپ بیتی کے آثار ملتے ہیں۔ اس کا شاہکار ناول Ulysses ہے جو 1922ء میں پیرس سے شائع ہوا۔

  • کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید 1940 میں بلند شہر (ہندوستان) میں ایک قدامت پسند سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد آٹھویں جماعت میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

    میٹرک کے بعد اپنی ضد منوا کر کالج میں داخلہ لیا۔ فرسٹ ایر سے ہی شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود اُن کا علمی ادبی سفر جاری رہا۔ تعلیمی دور تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں اور ان کا کلام ادبی رسائل میں چھپتا رہا۔

    پنجاب یونیورسٹی میں معاشیات میں ایم اے کے دوسرے سال میں تھیں جب گھر والوں کو یوسف کامران کے ساتھ اُن کی دوستی کا علم ہوا۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں رشتے کے بھائیوں سے بات کرنا بھی ممنوع تھا وہاں یہ خبر قیامت سے کم نہیں تھی۔ اس جرم کی پاداش میں کشور اور یوسف کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔ کشور کی شادی گو کہ پسند کی شادی تھی مگر اُن کے ازدواجی حالات کچھ اایسے خوشگوار نہ تھے۔کشور اور یوسف کے دو صاحبزادے ہیں۔ یوسف کامران 1984میں انتقال کر گئے۔

    کشور ناہید کے چھ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کو ۱۹۶۹ء میں ان کی کتاب ’’لب گویا‘‘ پر آدم جی ایوارڈ بھی ملا۔ انہوں نے فرانس کی مشہور ناول نگار سمعون ڈی بوار کی کتاب ’’سیکنڈ سیکس‘‘ کا اردو ترجمہ ۱۹۸۳ء میں ’’عورت‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ کشور ناہید کی متعدد نظموں کا انگلش اور ہسپانوی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

    کشور ناہید کو آدم جی ایوارڈ کے علاوہ یونیسکو پر اثر منڈیلا ایوارڈ، ستارئہ امتیاز اور کولمبیا یونیورسٹی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
    .
    دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے
    اس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے

    دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتی
    خواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے

    پہلے پہلے وہی انداز تھا دریا جیسا
    پاس آ آ کے پلٹتا رہا پہلے پہلے

    آنکھ آئنوں کی حیرت نہیں جاتی اب تک
    ہجر کا گھاؤ بھی اس نے دیا پہلے پہلے

    کھیل کرنے کو بہت تھے دل خواہش دیدہ
    کیوں ہوا دیکھ جلایا دیا پہلے پہلے

    عمر آئندہ کے خوابوں کو پیاسا رکھا
    فاصلہ پاؤں پکڑتا رہا پہلے پہلے

    ناخن بے خبری زخم بناتا ہی رہا
    کوئے وحشت میں تو رستہ نہ تھا پہلے پہلے

    اب تو اس شخص کا پیکر بھی گل خواب نہیں
    جو کبھی مجھ میں تھا مجھ جیسا تھا پہلے پہلے

    اب وہ پیاسا ہے تو ہر بوند بھی پوچھے نسبت
    وہ جو دریاؤں پہ ہنستا رہا پہلے پہلے

    وہ ملاقات کا موسم نہیں آیا اب کے
    جو سر خواب سنورتا رہا پہلے پہلے

    غم کا دریا مری آنکھوں میں سمٹ کر پوچھے
    کون رو رو کے بچھڑتا رہا پہلے پہلے

    اب جو آنکھیں ہوئیں صحرا تو کھلا ہر منظر
    دل بھی وحشت کو ترستا رہا پہلے پہلے

    میں تھی دیوار تو اب کس کا ہے سایہ تجھ پر
    ایسا صحرا زدہ چہرا نہ تھا پہلے پہلے

  • ڈینئل پرل امریکی صحافی

    ڈینئل پرل امریکی صحافی

    پیدائش:10 اکتوبر 1963ء
    پرنسٹن، نیو جرسی
    ریاستہائے متحدہ امریکا
    وفات:01 فروری 2002ء
    ۔ (عمر 38 سال)
    ۔ کراچی، سندھ، پاکستان
    وجہ وفات:سر قلم
    طرز وفات:قتل
    دریافت نعش:16 مئی 2002ء
    رہائش:واشنگٹن ڈی سی
    ریاستہائے متحدہ
    قومیت:ریاستہائے متحدہ
    اسرائیل
    دیگر نام:ڈینی
    نسل:یہودی
    آبائی علاقہ:اینسینو، لاس اینجلس
    کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ
    مذہب:یہودیت
    رکن:فی بیٹا کاپا سوسائٹی
    زوجہ:میرئین پرل
    ۔ (1999-2002ء
    ۔ اس کے سانحۂ انتقال تک)
    اولاد:ایڈم ڈانئیل پرل
    ولادت:28 مئی 2002ء
    والدین:جوڈیا پرل (والد)
    روتھ پرل (ماں)
    رشتے دار:میشیل اینڈ تمارا (بہنیں)
    تعلیم:مواصلات میں بی اے
    مادر علمی:اسٹینفورڈ یونیورسٹی
    پیشہ:صحافت
    زبان:انگریزی
    ملازمت:وال اسٹریٹ جرنل
    وجہ شہرت:وال اسٹریٹ صحافت

    ڈینئل پرل ایک امریکی صحافی تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈانئیل پرل کا اغوا اس وقت کیا گیا تھا جب وہ 2002ء میں ایک کہانی کی تحقیق کے لیے کراچی میں تھے۔ اغوا کے بعد ان کا قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش کراچی کے باہری علاقے میں ملی تھی۔ اس وقت پولیس نے قتل کی تحقیقات کے بعد اس میں انتہا پسند مذہبی عناصر کے شامل ہونے کا شک ظاہر کیا تھا جسے بعد میں سچ پایا گیا تھا۔

  • مل کر سوچیں ، غلطیاں کہاں ہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مل کر سوچیں ، غلطیاں کہاں ہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پشاور میں دہشت گردی کا قہر کوئی پہلا واقعہ نہیں تا ہم حکمرانوں سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو شاید محسوس نہیں ہوا۔ دہشت گردی کی آگ کس طرح ملک کو تباہ کرتی جا رہی ہے۔ مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے؟ کہاں غلطیاں ہیں؟ کون سی کلی انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے ؟ اور ایسا کون سا گناہ ہے کہ سختیاں اور پریشانیاں، امتحان، آزمائشیں ختم ہونے کو نہیں آتیں۔ ابھی کسی پہلے سانحہ کا گرد و غبار بھی نہیں جھڑتا پھر ایک اور۔ گویا ایک تسلسل ہے جو پے در پے زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہمارے تعاقب میں ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے یا تو انتہائی بے حس ہو چکے ہیں یا پھر مایوس و نامراد یا پھر تیسری وجہ یہ عم بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا رب بھی ہے اور خالق بھی ہے اسے سب خبر ہے اور وہ ضرور ہماری داد رسی کرے گا کیونکہ ہم اس کے چہیتے ہیں ؟ یہ کون لوگ ہیں ؟ کہاں سے آتے ہیں؟ کیا چاہتے ہیں اور ہم نے وہ کون سا جرم کیا ہے کہ ظالم درندے بے گناہ شہریوں کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ میری دانست میں حکومت وقت، مقتدر ایجنسیاں، منبر و محراب، کیونکہ جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے ارباب اختیار، سیاسی و مذہبی جماعتیں دکھ اور غم کا اظہار کرنے کے بعد دھواں دھار بیانات، لوگوں کی اشک شوئی کے لئے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان ہوتا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ساری قوت اقتدار کو بچانے اور طول دینے جبکہ اپوزیشن اقتدار حاصل کرنے کی دوڑ میں لگی ہیں۔ پشاور کے واقعہ نے پورے ملک کی عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے دہشت گردوں نے سیدھا اور واضح پیغام دیا ہے کہ ہم نے ریاست کے دوسرے بڑے قانون نافذ کرنیوالے ستون جو لوگوں کی حفاظت پر مامور ہے یعنی پولیس اس پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔

    سیاستدان ہوش کے ناخن لیں ایسے دل ہلا دینے والے واقعات پر سیاست اور ایک دوسرے پر الزامات سے گریز کریں وطن عزیز اور بسنے والے عوام مہنگائی، غربت بنیادی ضروریات زندگی سے پہلے ہی محروم ہیں عوام الناس کا کوئی والی وارث نہیں ہے ان کے منہ سے ہر بڑے پیٹ والے نے نوالہ چھینا ہے اس لئے رونا صرف سیاسی ابتری کا نہیں بلکہ معاشرے کے ہر بڑے طاقتور نے مظلوم کا خون نچوڑا ہے پشاور کے دل ہلا دینے والا سانحہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اخوت، رواداری، بھائی چارے کی عظیم روایات کو زندہ کریں جنگ اسی صورت جیتی جا سکتی ہے کہ افواج کو اس کے عوام کی مکمل حمایت حاصل ہو۔ افواج پاکستان، قومی سلامتی کے اداروں، پولیس نے بہت قربانیاں دی اور عوام نے بھی۔ ہمارے شہیدا اور غازی اس بات کے حقدار ہیں کہ انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے۔