Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    یہ لوگ کیوں میری آنکھوں کو دیکھتے ہیں بتا
    میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    کرن وقار

    یوم وفات : 10 اپریل 2021ء

    اردو اور پنجابی کی معتوف شاعرہ اور کالم نگار کرن وقار 1987 میں اوکاڑہ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ شاعری اور اخبارات کے لیے کالم لکھتی رہیں ۔ 10 اپریل 2021 کو34 سال کی عمر میں لاہور کے ایک ہسپتال میں کورونا کے سبب انتقال کر گئیں۔ ان کی دو سالہ اکلوتی بیٹی آئمہ یتیم ہو گئی۔ جبکہ کرن صاحبہ کی وفات سےقبل ایک ماہ کے دوران ان کی والدہ اور ان کے ایک بھائی بھی کورونا میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے تھے ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات بھر انتظار کرتی رہی
    میں ستارے شمار کرتی رہی

    یاد آتی رہی تری ہر پل
    اور مجھے بے قرار کرتی رہی

    میں وہ لڑکی ہوں جو محبت پر
    سارے جذبے نثار کرتی رہی

    اس نے دھوکے دیئے مجھے ہر بار
    اور میں اعتبار کرتی رہی

    دل کے بہلانے کو خزاں رت میں
    ذکرِ فصلِ بہار کرتی رہی

    جس کو آنا تھا وہ آچکا کرن
    خود کو میں یونہی خوار کرتی رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیڑ جو باثمر نہیں ہوتا
    وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا

    دل سے جب تک نہیں نکلتی ہے
    بات میں کچھ اثر نہیں ہوتا

    مجھ کو منزل کبھی نہیں ملتی
    تو اگر ہم سفر نہیں ہوتا

    ایک در سے جو لو لگاتا ہے
    وہ بھی دربدر نہیں ہوتا

    زخم سب کو بھلا دکھائیں کیوں
    ‘ہر کوئی چارہ گر نہیں ہوتا

    میں کرن بس خدا سے ڈرتی ہوں
    مجھ کو لوگوں سے ڈر نہیں ہوتا

  • در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    یہ بات تقریباً سبھی لوگوں کے علم میں ہوگی کہ روٹی، کپڑا، مکان ہر باشندۀ ریاست کا بنیادی حق ہے اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ یہ حق مستحق کو بلا لحاظ رنگ و نسل، بلا تفریق مذہب و مسلک فراہم کرے۔
    مختلف حکومتیں اپنی اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے، اور عوام کو سہولت کے ساتھ ضروریات پورا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کونسی حکومت اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا کرچکی ہے اور کونسی نہیں، اور کونسی اس سلسلے میں خاطر خواہ اقدامات کررہی ہے۔ عصر حاضر میں مہنگائی کے لہر سے بہت سے ممالک دوچار ہیں جن میں پاکستان کا نام بھی سر فہرست ہے، جہاں آئے روز مہنگائی اور گرانفروشی کی شرح اوپر جارہی ہے، مہنگائی کی حالیہ طوفانی لہر نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لوگ فاقوں پہ مجبور ہیں، غریب تو غریب متوسط طبقہ بھی ان حالات کو برداشت نہیں کرسکتا، اگر کوئی گرانفروشی کے خلاف آواز اٹھائے تو اس پر کوئی کان نہیں دھرتا۔ اشیائے خورد و نوش اور دیگر اشیائے ضرورت کے قیمتوں میں ظالمانہ اضافے کے وجہ سے ایک عام مزدور اسکا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، لیکن ہر کوئی مجبوری کے سبب حتی الوسع کوشش میں ہے کہ وہ اپنا اور اپنے پیاروں کے پیٹ پالنے کے لیے کوئی اقدام کرے۔ حکومت پاکستان نے عوام کے لیے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے حکم پر رمضان پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عوام کو مفت آٹا ملے گا، اور اس حکمنامے پر باقاعده عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ لیکن حکومت نے اس کے لیے کوئی پلان نہیں بنایا کہ یہ آٹا کس طریقہ کار سے تقسیم کیا جائے گا؟ اور کون کون اس پیکیج سے مستفید ہونگے؟
    اور اسی لیے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کے دیگر بہت سی منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی بدنظمی اور افراتفری کا شکار ہے۔ جہاں بھی آٹا فراہم کرنے کی سہولت ہے وہاں ایک ہلچل مچا ہوا ہے، آٹے کے غیرمنصفانہ تقسیم پر عوام میں بھگدڑ شروع ہے، شہریوں نے آٹے کے ٹرکوں پر ایک ہنگامہ آرائی برپا کی ہے، ہر کوئی اپنا اور اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے مسابقہ میں ہے۔ مہنگائی کے آگ میں جھلسے شہری سارا دن آٹا حاصل کرنے کے لیے دھکے کھا رہے ہیں، کیونکہ پیٹ کی ضرورت تو کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں اور نہ یہ صرف غریب باشندوں کی ضرورت ہے۔ ایک فرد کے پیچھے اہل و عیال بھوک سے نڈھال رہے ہوتے ہیں تو اس کے پاس یہ سب برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ سارا دن جھگڑوں پہ جھگڑے ہوتے ہیں، کئی قیمتی زندگیاں بھی فنا ہوئے، جس روٹی کے لیے قیمتی جان کھونا پڑے وہ مفت نہیں بلکہ بہت مہنگی ہے۔

    بظاہر تو یہ پیکیج غریب اور کمزور شہریوں کے لیے ہے لیکن کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ اپنے مستحقوں کو پہنچ رہا ہے، کیونکہ غریب تو غریب ساتھ میں گزار حال طبقہ بھی اس پیکیج سے بھرپور مستفید ہونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ نظم و نسق نہ ہونے کے وجہ سے مضبوط اور طاقتور لوگ آسانی سے آٹے کے دو تین تھیلے حاصل کرکے خوشی سے واپس جاتے ہیں، لیکن کمزور افراد اور خواتین سارا دن دھکے پہ دھکے کھا کر مایوس گھر لوٹتے ہیں۔ آٹے کے لائنوں میں بدنظمی کی صورتحال یہ ہے کہ رمضان کے مبارک مہینے میں ہر روز جھگڑے ہوتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر کئی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ نظم و نسق کے عدم موجودگی کے وجہ سے صورتحال انتہائی دل خراش ہے۔
    در اصل انسانی ضروریات میں آٹا انسان کی وہ بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ اگر روٹی ہو تو کوئی اس کو سالن، چٹنی، اچار حتی کہ سادہ پانی کے ساتھ بھی کھا سکتا ہے، لیکن اگر آٹا نہ ہو تو سالن وغیرہ اکیلے بھوک کا سامان مهیا نہیں کرسکتے۔

    بدقسمتی سے پاکستانی حکومت آٹے کے تقسیم کے اہم مسئلے کے حل میں ناکامی یا لاپروائی کا شکار ہوئی، اور بجائے اس کے کہ کوئی بہتر نظم و نسق کے ذریعے یہ آٹا مستحق افراد میں تقسیم کرتی تا کہ ان کی عزت نفس بھی محفوظ رہتی اور ضرورت بھی پوری ہوجاتی۔ لیکن معاملہ برعکس ہوا اور حکومتی نظم نہ ہونے کے سبب آٹے کے گاڑیوں پر عوام کا سیلاب امڈ آیا، کیا مزدور و کیا ملازم! کیا فقیر و کیا آسودہ حال! کیا مرد و کیا عورت! سب کے سب دوڑ پڑے، اور آٹے کے تھیلی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں نظر آئے۔ پاکستان کا حکمران اور بیوروکریٹ طبقہ اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے حویلیوں میں آرام فرما ہے، لیکن ریاست کے غریب مائیں آٹے کے لائنوں میں کھلے آسماں کے تحت بارش کے قطروں میں بھیگ رہی ہیں، ریاست کا مزدور طبقہ اپنے حق دار ہونے یا نہ ہونے کےلیے لائنوں میں کھڑا انتظار کر رہا ہے، اور دن کے اختتام پر اسے نا امید لوٹنا پڑتا ہے۔ اور مجال ہے کہ کسی حکومتی اہلکار کی آنکھ کھلے اور اس طرف توجہ کرے، اور کوئی نظم و نسق وضع کرے! وزیر اعظم کی طرف سے اس کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت تو دی جاتی ہے لیکن نظم و ضبط کے لیے کوئی اقدام نہیں کی جاتی۔ آٹا سنٹر میں جو ذمہ داران بیٹھے ہیں انکی بھی اپنی من مانی ہے، جسے چاہے پہلے آٹا دے اور جسے چاہے اسے آخر میں کھڑا کردیتے ہیں۔ اگر آپ آٹا سنٹر کے ذمہ داران کے رشتہ داروں اور تعلق داروں سے ہے تو آپ خوش بخت ہے کیونکہ وہ آپ کو پہلے آٹا دیتے ہیں اگر چہ آپ تاخیر سے کیوں نہ آئے ہو۔ لیکن اگر سنٹر کے ذمہ داران سے آپ کا کوئی تعلق نہیں، آپ ایک عام شہری ہے تو پھر آپ کا خدا سہارا ہو کیونکہ پھر آپ کو کوئی بھی توجہ نہیں دے گا، لائن میں کھڑے تھکا دینے والے انتظار کے بعد جب آپ کی باری آئے گی تو آپ کو نا اہل یا آٹا ختم ہونے کا کہہ کر واپس کیا جاتا ہے۔ یہ فقط میرے جذبات نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے، اور یہی حال ہر آٹا سنٹر پر آپ دیکھیں گے، یہ ریاست کا اس اہم منصوبے کے لیے نظم و ضبط نہ ہونے کا وجہ ہے۔ پاکستان میں مردم شماری، پولیو، یا دیگر منصوبوں کے لیے گھر گھر گھومنے والے اہلکار بمع سیکیورٹی تو موجود ہیں لیکن آٹے کے تقسیم کے اس اہم پیکیج کے لیے حکومت کے پاس قحط الرجال ہے، علاج وغیرہ کے بغیر بھی انسان کے زندہ رہنے کی امید ہے لیکن روٹی کے بغیر انسان بالاخر مر ہی جاتا ہے۔ لیکن افسوس اس اہم منصوبے کی نظم و ضبط میں حکومت ناکام اور لاپرواہ رہی۔ اگر اب بھی حکومت نے اس پیکیج کے لیے کوئی نظم وضع نہیں کی تو آٹے کے غیر منصفانہ تقسیم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا، اور اس سے وہ لوگ مستفید ہونگے جو پہلے ہی سے گزار حال اور آسودہ حال ہیں، اور مستحق اور حق دار لوگ محروم رہیں گے اور حکومت کے اس افراتفری کے شکار منصوبے کے وجہ سے ذلیل و خوار ہو کر مریں گے اور انکی لاشیں بزبان حال گویا ہوگی؂
    بظاہر روٹی تو ہم نے کھانی تھی
    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو

  • نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    گستاخی معاف/ محبوب علی مگسی

    بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے عوام کی اکثریت تو خوش نصیب ہے کہ وہ قبائلی سرداروں ، نوابوں،پیروں اور گدی نشینوں کی دسترس سے باہر ہیں لیکن اس کے باوجود ایک کثیر تعداد قبائلی سرداروں، نوابوں، پیروں اور گدی نشینوں کے شکنجے میں کسے ہوئے ہے وہ اپنے سرداروں اور مرشدوں سے دور ہوتے ہوئے بھی ان کی رینج میں ہیں ۔ ایسے افراد پر اس وقت ایک طرح کی مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے جب بلدیاتی یا عام انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ ضلع نصیر آباد میں جو قبائلی سردار یا سید آباد ہیں وہ اس سوچ کے حامل نہیں یا پھر اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے قبیلے کے افراد یا اپنے مریدین اور عقیدتمندوں کو زبردستی بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر ان سے اپنی مرضی کے مطابق ووٹ حاصل کریں یا انہیں ووٹ دلانے کیلئے فروخت کریں مگر نصیر آباد سے باہر چند ایک ایسے بلوچ سردار اور کچھ گدی نشین ہیں جو کہ دور رہ کر بھی اپنے قبیلے کے افراد یا اپنے مریدوں کو اپنے حکم کے مطابق چلانے کی قوت اور طاقت رکھتے ہیں ۔

    ان کی ایک کال یا ایک پیغام پر ان کے قبیلے کے افراد اور مریدین اپنا ووٹ ان کے قدموں میں ڈال دیتے ہیں اور ان کی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں ایسے بہت کم افراد ہیں جو کہ اپنے سرداروں اور اپنے پیر و مرشد کے ناجائز احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے ضمیر اور اپنی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں لیکن اکثر لوگ سرداروں کے گن پوائنٹ اور گدی نشینوں کی بد دعا سے ڈرتے ہیں ۔

  • پورے چاند کے دوران خود کشیوں کا رحجان بڑھ جاتا ہے. تحقیق

    پورے چاند کے دوران خود کشیوں کا رحجان بڑھ جاتا ہے. تحقیق

    پورے چاند کے دوران خود کشیوں کا رحجان بڑھ جاتا ہے. تحقیق

    ماضی میں عام تاثر تھا کہ پورا چاند انسانوں سمیت جانوروں پر اثرات مرتب کرتا ہے اور بسا اوقات ان میں پراسرار تبدیلیوں کا مؤجب بھی بنتا ہے لیکن اب حالیہ تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف کیا گیا ہے کہ پورا چاند انسانوں میں خودکشیوں کے رحجان میں اضافہ کرتا ہے۔

    انسانی صحت کے متعلق معروف و مؤقر جریدے ’ڈسکور مینٹل ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق پورے چاند کے ہفتے کے دوران خودکشی سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور 55 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ رحجان بڑھتا ہوا نوٹ ہوا۔

    انڈیانا یونیورسٹی میں کالج آف میڈیسن کے ماہر نفسیات نے معلومات کی مانیٹرنگ اور تجزیہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پورے چاند کے دوران خود کشیوں کا رحجان بڑھ جاتا ہے، اس مقصد کے لیے ماہرین نے دن اور مہینوں کا ریکارڈ بھی مرتب کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق خود کشیوں کا رجحان دوپہر 3 سے 4 بجے کے درمیان بڑھ جاتا ہے، گوکہ اس کا تعلق دن بھر کے ذہنی دباؤ سے ہوسکتا ہے۔

    طبی تحقیقی جریدے میں شائع شدہ رپورٹ کے تحت ڈاکٹر الیگزینڈر نکولیسکو اور ان کی ٹیم کی جانب سے انڈیانا میں ماریون کاؤنٹی کورونر آفس سے 2012 اور 2016 کے عرصے کے دوران ہونے والی خودکشیوں کا ڈیٹا حاصل کرکے اس کی جانچ کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    ڈاکٹر الیگزینڈر کے مطابق ہم اس مفروضے کا تجزیہ کرنا چاہتے تھے کہ پورے چاند کے قریب خودکشیوں میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں؟ تاکہ اس بات کا تعین کرسکیں کہ ان اوقات میں زیادہ خطرناک مریضوں کی زیادہ دیکھ بھال پر توجہ دیں۔تحقیق کے مطابق ڈاکٹر الیگزینڈر نیکولیسکو نے کہا کہ خودکشی کے لیے خون کے بائیو مارکر کی فہرست کی جانچ کی گئی. خودکشی کے بائیو مارکر پورے چاند کے دوران خود کشی کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔

  • کاش، پولیس افسران ریاست کے ملازم بنیں حکمرانوں کے نہیں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    کاش، پولیس افسران ریاست کے ملازم بنیں حکمرانوں کے نہیں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ،تجزیہ، شہزاد قریشی
    ایک دوسرے سے خوفزدہ حکمرانوں اور اپوزیشن سے سوال ہے کہ پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس نہ تو حکمرانوں کے ذاتی ملازم ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کے۔ اسی طرح آئی جی اسلام آباد اور آئی جی پنجاب سے گزارش ہے کہ وہ اس ریاست کے ملازم ہیں ۔قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ،شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا۔ چوروں، ڈاکوئوں، لینڈ مافیا، اغوا کاروں، منشیات فروشوں سے عوام کو محفوظ کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ کر حکمرانوں کی غلامی زیب نہیں دیتی بااختیار پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے محکمے اپنے عہدوں کا خدارا خیال رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام کی خدمت کریں۔ آئی جی اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے جرائم نظر کیوں نہیں آتے؟ یہی صورت راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح کی اس سے بدتر حالات پنجاب بھر کے ہیں۔ اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کی تمام تر توجہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ ، غداری اور دہشت گردی کے مقدمات پر ہوگی تو عام شہریوں، تاجروں، کو تحفظ کون فراہم کرے گا؟ راولپنڈی اسلام آباد میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا ایسے پولیس افسران تعینات تھے جو قانون کی حکمرانی، کمزور لوگوں کے افسر تھے جن کے دفاتر عام آدمیوں کے لئے کھلے رہتے تھے آج عام آدمی کے لئے دروازے بند اور خاص آدمیوں کے لئے دروازے کھلے ہیں آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے پاس اس سوال کا جواب ہے کہ ان کے پاس جو وردی اور اختیارات ہیں وہ کسی خاص آدمی کی عطا کردہ ہے یا اس ریاست کی؟ خدا کی پناہ آج اسلام آباد کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور نہ ہی حکومت کو اور نہ ہی آئی جی پولیس کو اس کی پرواہ ہے۔ حکمرانوں کی خواہشوں پر عمل کرنا عوام کو ڈاکوئوں ، اغوا کاروں، لینڈ مافیا، قبضہ مافیا کے سپرد کرنا پولیس افسران کو زیب نہیں وردی اور عہدے دونوں کی توہین کے مترادف ہے ہر دور کے حکمرانوں کو افسر شاہی کی ضرورت ہوتی رہی ہے انہیں ایسے افسروں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے حکم کے تابع ہو اور کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہ کرے۔

    حکمرانوں کے پاس ان افسران کی پوسٹنگ کے اختیارات ہیں۔ کاش پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے ماتحت اہلکاروں اور اپنے محکمہ کے بہتر مستقبل اس محکمہ پولیس کی عزت میں اضافے کا سبب بنتے آنے والے افسران اور ماتحت ان کو یاد کرتے۔ آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

  • صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    لمحوں میں انہیں وقت کی سازش نے گرایا
    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صادقہ نواب سحر

    8 اپریل 1959 یوم پیدائش
    ۔……………………….

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور ہندی کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس، ناول نگار ، ڈرامہ رائٹر اور ماہر تعلیم صادقہ نواب سحر 8 اپریل 1959 میں گنٹور(آندھرا پردیش) میں پیدا ہوئیں ۔انھوں نے اردو میں ایم اے اورپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بلکہ ہندی اور انگریزی میں بھی ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں ۔اردو ادب کی دنیا میں وہ ایک ناول نگار؛افسانہ نگار ؛شاعرہ؛ڈراما نگار؛تنقید نگار؛مترجم اور بچوں کی ادیبہ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ صادقہ نواب سحر کا اصل نام صادقہ آرا ہے ان کے والد کا نام خواجہ میاں شیخ اور شوہر کا نام محمد اسلم نواب ہے۔ وہ مختلف تعلیمی اداروں میں لیکچرار کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے کے بعد کے ایم سی کالج کھپولی مہاراشٹر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے رٹائر ہوئیں۔ ان کے اردو شعری مجموعے ، ست رنگی، باوجود، چھوٹی سی یہ دھرتی، دریا کوئی سویا سا اردو افسانوی مجموعے، خلش بے نام سی، انگاروں کے پھول، بیچ ندی کا مچھیرا ، اردو ڈراموں کا مجموعہ ” مکھوٹو کے درمیان” ہندی افسانوی مجموعے ” منت” شیشے کا دروازہ ” شائع ہو چکے ہیں۔

    غزل

    تمہاری یاد میں ڈوبے کہاں کہاں سے گئے
    ہم اپنے آپ سے بچھڑے کہ سب جہاں سے گئے

    نئی زمین کی خواہش میں ہم تو نکلے تھے
    زمین کیسی یہاں ہم تو آسماں سے گئے

    زمانے بھر کو سمیٹا تھا اپنے دامن میں
    پلٹ کے دیکھا تو خود اپنے ہی مکاں سے گئے

    یہ کھوٹے سکے ہیں الفاظ اس صدی کی سنو
    یہ ان کا دور نہیں یہ تو اس جہاں سے گئے

    سحر فضول کی خواہش ہے زندگی جینا
    مرے تو لوگ نہ جانیں گے کس جہاں سے گئے

  • آنند مورتی،روحانی پیشوا، مصنفہ کا یوم پیداش

    آنند مورتی،روحانی پیشوا، مصنفہ کا یوم پیداش

    پیدائش:08 اپریل 1966ء
    امرتسر
    شہریت:بھارت

    آنند مورتی گرو ماں ہندستان کی ایک روحانی رہنما جو توحید الہٰ کی داعیہ ہیں۔ ہندو، مسلم، بدھ، مسیحی، یہودی اور صوفیا سب کے یہاں گرو ماں کی باتیں احترام سے سنی جاتی ہیں۔ گرو ماں کی بیشتر تقریروں کا محور جنس، مذہب، سیاست اور قومیت ہوتا ہے۔
    گرو ماں کو جلال الدین رومی سے خصوصی مناسبت ہے اور ان کے فارسی اشعار کو ہندی زبان میں ترجمہ کرکے انہیں گایا کرتی ہیں۔
    تعلیمات
    ۔۔۔۔۔۔
    گرو ماں کی تعلیمات میں توحید الہٰ پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔ نیز وہ مراقبہ، یوگا، محاسبہ نفس اور اخلاص کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ تصوف، زین، تانتر اور یوگا میں مذکورہ مراقبہ نفس کے طریقوں کو بیان کرتی ہیں۔ گرو ماں شعور ذات کی اہمیت کی داعی ہیں نیز ان کا قول ہے کہ سالکین کو نفسانی خواہشوں اور مذہبی قیود سے آزاد رہنا چاہیے۔ انھیں کی وجہ سے سالکین کو روحانی تجربات سے محرومی ہوتی ہے۔
    آشرم
    ۔۔۔۔۔
    گرو ماں کا مرکزی آشرم سونی پت ضلع کے گنور شہر میں واقع ہے۔

  • جگر مراد آبادی

    جگر مراد آبادی

    جگر مرادآبادی

    6 اپریل 1890

    بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف. جگر آزاد طبیعت کے مالک اور حُسن پرست تھے۔ ان کا شمار اردو کے مقبول ترین شعرا میں ہوتا ہے۔ جگر کو اپنے عہد وہ شہرت اور مقبولیت ملی جو بہت کم شاعروں کو نصیب ہوئی۔ اس میں ان کی رنگا رنگ شخصیت کے ساتھ ان کے رنگِ تغزّل اور ترنم کا بڑا دخل ہے۔ کئی شعرا نے جگر کا طرزِ شاعری اپنانے اور ان کے ترنّم کی نقل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس مقام و مرتبے کو نہ پہنچ سکے جو جگر کا خاصّہ تھا۔

    ًمختصر تعارف

    جگر مراد آبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور تخلص جگر تھا ۶ اپریل ۱۸۹۰ ء کو مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر اور مقامی مکتب میں ہوئی، جہاں اردو اور فارسی کے علاوہ عربی بھی سیکھی۔ رسمی تعلیم میں دھیان نہ تھا، سو اسے ادھورا چھوڑ دیا۔ شاعری ورثے میں ملی تھی، کیوں کہ ان کے والد اور چچا شاعر تھے۔ جگر نے اصغر گونڈوی کی صحبت اختیار کی اور بعد میں شعروسخن کی دنیا میں نام و مقام بنایا جگر رندِ بلانوش تھے۔ ان کی زندگی اور شخصیت کے بعض پہلو ایسے بھی ہیں جنھیں بیان کرنا مناسب نہیں۔ تاہم جگر بہت مخلص، صاف گو اور ہمدرد انسان تھے۔ آخر عمر میں ترکِ مے نوشی کا انھیں خاص فائدہ نہ ہوا اور صحّت بگڑتی چلی گئی، مالی حالات دگرگوں ہوگئے اور جگر موت کے قریب ہوتے چلے گئے جگر مراد آبادی پاک و ہند کے مشاعروں کی جان ہوا کرتے تھے۔ انھیں دعوت دے کر بلایا جاتا اور منتظمین ان کی ناز برداری کرتے۔ جگر سامعین سے بے پناہ داد وصول کرتے۔ بھارتی حکومت نے انھیں ’’پدما بھوشن‘‘ خطاب دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ ان کے آخری مجموعہ کلام ’’آتِش گل‘‘ پر ان کو ’’ساہتیہ اکیڈمی‘‘ سے پانچ ہزار روپیہ انعام اور دو سو روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا تھا۔ ’آتش گل‘ کے علاوہ ’’داغ جگر‘‘ اور ’’شعلۂ طور‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ۹؍ستمبر ۱۹۶۰ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    جگر مرادآبادی کا یوم پیدائش پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
    فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
    میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
    ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
    کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
    کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
    یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محال
    انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
    ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
    اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیے
    گلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
    اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
    ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
    سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے
    مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے.

  • یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

    یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

    میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
    خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

    شہلا شہناز

    اصل نام : شہناز
    قلمی نام : شہلا شہناز
    تاریخ پیدائش:07 اپریل 1976ء
    جائےپیدائش: فیصل آباد
    رہائش : گوجرانوالہ
    تعلیم: ماسٹرز
    پیشہ : لیکچرار شپ
    ادب سے تعلق: بہت گہرا
    مشاغل : کتاب پڑھنا اور کری ایشنز
    پسندیدہ شاعر، ادیب: اقبال، پروین شاکر، مجید امجد
    پسندیدہ کتب:خوشبو۔ اور بھی بہت ہیں
    ادبی خدمات: کچھ پیپرز اور میگزینز میں
    کبھی کبھار لکھ لیتی ہوں آرٹیکلز
    پیغام :ادب سیکھیں اور سکھائیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھ میں عکسِ خوش امکان بھی لا سکتی ہوں
    میں ترے عشق پہ ایمان بھی لا سکتی ہوں
    پھول اور پیڑ بہت میرا کہا مانتے ہیں
    میں بیاباں میں گلستان بھی لا سکتی ہوں
    تم عداوت کا بیابان جہاں دیکھتے ہو
    میں وہاں پیار کا ارمان بھی لا سکتی ہوں
    جس جگہ مسندِ ہر سود پہ تم بیٹھے ہو
    میں وہاں کرسی نقصان بھی لا سکتی ہوں
    اے خلش مجھ کو تڑپنے کا کوئی شوق نہیں
    ورنہ جب چاہوں نمکدان بھی لا سکتی ہوں
    میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
    خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    میں رنگ کو نہیں خوشبو کو پھول جانتی ہوں
    کہا تھا زخم سے تتلی نے مسکراتے ہوئے

    اس بار سمندر نے بلایا نہیں مجھ کو
    اس بار کسی دشت کی دعوت ہے مرے پاس

    کانچ کی چڑیا کس طرح اڑتی
    کشش چشمِ کوہسار میں تھی

    تم مرے ان دنوں کے ساتھی ہو
    جب میں بت جھڑ کے اعتبار میں تھی

    حرف کو پھول بنانے کا ہنر ہے مرے پاس
    تجھ کو لکھنے کے لیے رنگ دگر ہے مرے پاس

    ادھر گھمائیے اپنی ڈری ڈری آنکھیں
    حضور دشت کی جانب ذرہ ہرن کرئیے

    گلاب کی طرح مہکا چکے ہیں آپ مجھے
    جنابِ خار ذرا ٹھیک سے چبھن کرئیے

    وہ مجھ سے مجھ کو مانگتا رہتا ہے رات دن
    پر اس کی التماس میں طاقت تو ہے نہیں

  • چیٹ جی پی ٹی کےخلاف قانونی کارروائی اعلان

    چیٹ جی پی ٹی کےخلاف قانونی کارروائی اعلان

    سڈنی(ویب نیوز)آسٹریلیا کے میئر نے چیٹ جی پی ٹی کی جانب سے غلط معلومات شیئر کرنے پر قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیاہے
    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آسٹریلیا میں ہیپ برن شائر کونسل کے میئر برائن ہڈ نے اس حوالے سے کہا کہ اوپن اے آئی کے ٹول نے جھوٹا دعویٰ کہا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے نیشنل بینک کے لیے کام کرتے ہوئے رشوت وصول پر قید ہوئے تھے۔
    برائن ہڈ کا کہنا تھا کہ ان پر کبھی کسی جرم کا الزام نہیں لگایا گیا تھا۔ وکلا کے ذریعے اوپن اے آئی کو نوٹس بھیج دیا ہے اور یہ ہتک عزت کی کارروائی کا پہلا باضابطہ کوشش ہے۔آسٹریلوی میئر کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کا جواب دینے کے لیے 28 دن کا وقت ہے جس کے بعد برائن ہڈ قانون کے تحت کمپنی کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔
    یہ پہلی دفعہ ہو گا کہ چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے تخلیق کردہ مواد پر ہتک عزت کا مقدمہ چلایا جائے گا۔