Baaghi TV

Category: بلاگ

  • موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے!!! — محمد فھد حارث

    موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے!!! — محمد فھد حارث

    2019ء میں نئی کمپنی نے ہماری کمپنی کو ایکوائر کیا تو مامون اور ریا کو آفر لیٹر میں تنخواہ دس ہزار درہم بڑھادی جبکہ مجھے صرف ڈھائی ہزار درہم بڑھائے۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: پروفیشنلی مامون مجھ سے دس سال جبکہ ریا پانچ سال سینئر ہے اور یہ دونوں کمپنی میں مجھ سے گیارہ سال قبل سے کام کررہے ہیں۔ لیکن 2011ء میں جب میں نے کمپنی جوائن کی تو پروفیشنلی ان سے جونیر ہونے کے باوجود 8 سال تک مامون کے برابر اور ریا سے زیاددہ تنخواہ لیتا رہا جبکہ انکا اور میرا گریڈ سیم تھا۔۔۔۔۔ تب مامون اور ریا کو کیسا لگتا ہوگا؟؟؟؟

    ارے یہ کیا تیسرا سال ہے اور میرے ماتحت کام کرنے والے احمد کو اپریزل میں 4 ریٹنگ مل رہی ہے جبکہ کئی اچیومنٹس کے باوجود مجھے پچھلے دو سال سے 3 ریٹنگ مل رہی ہے۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: احمد اور میں پروفیشنل تجربے میں برابر ہیں یعنی پچھلے اٹھارہ سالوں سے ہم ٹیلیکوم انڈسٹری میں کام کررہے ہیں۔ احمد کے پاس انجینیرنگ کے ساتھ ساتھ ایم بی اے کی ڈگری بھی ہے جبکہ میں فقط انجینئر ہی ہوں لیکن اس کے باوجود میں اس سے دو گریڈ سینئر اور اسکا لائن مینجر ہوں۔۔۔۔ احمد کو کیسا لگتا ہوگا؟

    ارے یہ کیا، میرے دوست نے اپنی بیگم کو اس سال شادی کی سالگرہ پر سونے کا سیٹ دیا جبکہ میں تو دوسرے خرچوں کے سبب اس سال بیگم کو کچھ نہ دے سکا۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: سالوں کوشش اور انتھک محنت کرنے کے بعد دوست کو اس سال اچھی جاب آفر ہوئی اور وہ کم تنخواہ سے زہادہ تنخواہ والی نوکری سوئچ کرسکا۔ اسی سبب اتنے سالوں میں پہلی دفعہ اس نے اپنی بیگم کو اتنا مہنگا تحفہ دیا جبکہ میری جاب تو ہمیشہ اچھی رہی اور شادی کے ہر سال ہی میں کچھ نہ کچھ مہنگا تحفہ بیگم کو دیتا رہتا ہوں۔۔۔۔ جب میں تحفہ دیتا ہونگا اور میرا دوست نہ دے سکتا ہوگا تو اسکو کیسا لگتا ہوگا؟؟؟

    پس خود کا دوسروں سے موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے۔ دوسرے کے پاس کیا ہے اور وہ وہاں کن مشکلات سے پہنچا ہے، آپکو اسکا ادراک کبھی نہیں ہوسکتا۔ آپ جس جگہ موجود ہیں، وہ آپ کے لیے اللہ کی طرف سے ودیعت بہترین جگہ ہے۔ جو احسان مالک نے آپ پر کر رکھا ہے، دوسرے اسے رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پس جو ہے جیسا ہے اس پر خوش و مطمئن رہنا سیکھیے۔ جو نہیں ہے، اس کی کڑ کڑ میں لگے رہے تو زندگی جہنم بن جائے گی۔ یہ مت دیکھیے کہ آپ کے پاس کیا نہیں ہے؟ بلکہ یہ دیکھیے کہ آپ کے پاس وہ کیا کیا ہے جس سے دوسرے محروم ہیں جبکہ عقل و جسم، پڑھائی و ٹیلنٹ میں وہ آپ سے کسی طور کم نہیں۔

  • میکسیکو کی خلائی ایجنسی  نے سیٹلائٹ لانچ کے لیے بھارت سے  مدد مانگ لی

    میکسیکو کی خلائی ایجنسی نے سیٹلائٹ لانچ کے لیے بھارت سے مدد مانگ لی

    میکسیکو کی خلائی ایجنسی نے سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے بھارتی سپیس ریسرچ اورگنائزیشن کی مدد مانگ لی

    میکسیکو کی خلائی ایجنسی نے سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے بھارتی سپیس ریسرچ اورگنائزیشن کی مدد مانگ لی ہے میکسیکو کی خلائی ایجنسی Agencia Espacial Mexicana (AEM) نے بھارتی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) سے میکسیکو کے لیے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بنانے اور لانچ کرنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ انڈین ویب 2 کی ایک خبر کے مطابق؛ ایجنسیا اسپیشل میکسیکو یعنی AEM کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سلواڈور لینڈروس آیالا اور اور بھارتی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن یعنی ISRO کے چیئرمین ایس سوماناتھ کے درمیان حال ہی میں ہونے والی ایک ملاقات میں ایجنسیا اسپیشل کے سربراہ نے میکسیکو کے لیے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بنانے اور لانچ کرنے میں ہندوستان سے تعاون کی درخواست کی تھی.


    انڈین ویب 2 نے مزید لکھا کہ؛ 2010 میں قائم کیا گیا، میکسیکو کا خلائی ایجنسی ابھی تک ابتدائی مرحلے میں ہے جبکہ ان کے پاس ابھی تک مکمل طور پر بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔ لہذا بھارتی خلائی ادارے نے میکسیکو کے خلائی ایجنسی کی تجویز پر وزارت خارجہ کے ساتھ اس معاملہ پر بات چیت کا ارادہ ظاہر کیا تھا. خیال رہے کہ 2015 میں ایجنسیا اسپیشل میکسیکو نے قمری خلائی مشن کے لیے امریکہ میں قائم اسپیس ٹیک نامی کمپنی اسٹروبوٹیک ٹیکنالوجی یعنی Astrobotic Technology کے ساتھ لانچ کے معاہدے پر دستخط کیے تاہم اب ایجنسیا اسپیشل میکسیکو اسے 2023 میں شروع کرے گا۔


    خبر میں مزید لکھا گیا ہے کہ ایجنسیا اسپیشل میکسیکو کی طرف سے اور میکسیکو کی سرزمین سے لانچ کیا جانے والا پہلا "سیٹیلائٹ” نینو کنیکٹ ایک یعنی Nanoconect-1 تھا، جسے دسمبر 2017 میں لانچ کیا گیا تھا۔ Nanoconect-1 ایک گونڈولا لے جانے والی اسٹراٹاسفیرک غبارے کی پرواز ہے۔ جبکہ میکسیکو کی خلائی ایجنسی نے جنگل میں آگ کی نگرانی کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن تیار کرنے اور اسے میکسیکو کے محکمہ جنگلات کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے بھارتی ایجنسی کا شکریہ بھی ادا کیا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
    اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
    فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے
    اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب
    انڈین ویب 2 کا کہنا ہے کہ اے ای ایم چیف نے میکسیکو کے لیے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بنانے اور لانچ کرنے میں ہندوستان سے تعاون طلب کرنے کے ساتھ اے ایل سی ای کے ذریعے لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے میں خلائی تعاون کو بڑھانے میں ہندوستان کی دلچسپی پر گزشتہ ماہ کے آخر میں منعقدہ ایک ورچوئل میٹنگ میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

  • مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس پر بچوں کا بھی حق ہے!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس پر بچوں کا بھی حق ہے!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    عشاء کی نماز میں جیسے ہی امام صاحب نے سلام پھیرا، ایک بزرگ میرے ساتھ بیٹھے شخص کے ساتھ شروع ہو گئے کہ چھوٹے بچے کو مسجد میں کیوں لائے ہیں۔ نابالغ بچوں کو مسجد میں نہ لایا کریں۔ وہ شخص تو خاموش رہا لیکن میں نے اس بزرگ سے کہا کہ بقیہ نماز کے بعد اس کا جواب آپ کو میں دیتا ہوں، ابھی آپ خاموش ہو جائیں پلیز۔

    باقی نماز مکمل کرنے کے بعد میں ادھر ہی بیٹھ گیا۔ اس بزرگ نے نماز مکمل کی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کتنے بیٹے ہیں؟
    انھوں نے جواب دیا ماشاءاللہ تین ہیں اور ادھر ہی سب کے گھر ساتھ ساتھ ہی ہیں۔

    میں نے پھر پوچھا کہ پوتے کتنے ہیں؟

    کہنے لگے، ماشاءاللہ تینوں بیٹے صاحبِ اولاد ہیں۔ تینوں سے پانچ پوتے ہیں۔

    میں نے پوچھا کہ ابھی عشاء کی نماز پر آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں سے کوئی آیا تھا؟

    انھوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔

    میں نے انھیں کہا کہ بزرگو! اگر بچپن سے ہی بچوں کو مسجد میں ساتھ لانے کی عادت ڈالی ہوتی تو ابھی آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں سے بھی یہاں مسجد میں موجود ہوتے۔ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ مسجد آنے کی ضد کرتے ہیں تب ہم انھیں منع کر دیتے ہیں، وہ روتے ہیں، ضد کرتے ہیں لیکن انھیں روتا چھوڑ کر آجاتے ہیں۔ بعد میں بڑے ہو جاتے تو آپ کہتے ہیں تو وہ نہیں آتے۔ بچپن سے ہی عادت بنانی پڑتی ہے۔

    بات تھوڑی سی انھیں سمجھ آئی ، مگر کہنے لگے کہ ٹھیک ہے لیکن نابالغ بچوں کو نہیں لانا چاہیے، وہ دوسروں کی نماز خراب کرتے ہیں۔
    میں نے کہا کہ بزرگو!بچوں کو سات سال میں ہی نماز پڑھانے کا حکم ہے اور دس سال تک نہ پڑھیں تو سختی کا حکم ہے۔ اب سات سال کا کونسا بچہ بالغ ہو جاتا ہے؟

    کیا آپ نے احادیث شریف میں پڑھا ہے کہ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے تھے اور انھیں سجدہ بھی لمبا کرنا پڑ جاتا تھا۔ پھر خطبہ جمعہ کے دوران بھی جب یہ دونوں آتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اٹھا کر پاس ممبر پر بٹھا لیتے تھے۔ اور بھی کئی بچوں کا ذکر ملتا ہے۔ تو کیا یہ بچے چھوٹے نہیں تھے؟

    اور نماز کیسے خراب ہوتی؟بچوں کے شور سے؟ تو باہر گلی سے شور نہیں آ رہا کیا؟

    آگے گزرنے سے؟ تو آگے سے بچے گزر جائیں، انھیں کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ چھوٹے ہیں۔

    کوئی بھی بچہ چند دن بھی مسجد آجائے تو اسے سارے ادب و آداب کو پتہ چل جاتا ہے۔

    پھر میں نے پچھلی صف کی طرف اشارہ کیا کہ وہ دو بچے بیٹھے ہیں، دونوں میرے بیٹے ہیں۔ ایک دس سال کا اور دوسرا چار سال کا۔ بڑا خود شوق سے آیا ہے کہ اسے پتہ ہے اب اس پر نماز فرض ہے اور چھوٹا خود ضد کر کے آیا ہے۔ میں نے کہا بھی تھا کہ ابھی بہت سردی ہے، آج نہ آؤ لیکن اس نے جرسی کوٹ پہنا، بوٹ پہنے اور آگیا۔ ابھی دیکھیں سکون سے بیٹھے ہیں۔ دونوں کو مسجد کے آداب کا پتہ ہے۔
    میرے والد صاحب مجھے چھوٹے ہوتے سے ہی مسجد ساتھ لے کر جاتے تھے۔ اس کے بعد اللہ کے کرم سے ایسی عادت بنی کہ کسی وجہ سے جماعت رہ جائے تو بے چینی لگی رہتی ہے ۔

    فرانس میں دیکھا کہ وہاں بسنے والے عربوں اور ترکوں میں نماز کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ اس کی باقی کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو چھوٹے وقت سے ہی مسجد میں ساتھ لاتے ہیں۔ جبکہ یہاں برصغیر پاک و ہند میں کوئی بچہ مسجد آجائے تو اسے ڈانٹا جاتا ہے، کئی مساجد میں شور کرنے یا شرارتیں کرنے پر مارا جاتا ہے ، اور یوں اسے شروع سے ہی مساجد سے متنفر کر دیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے وہ مسجد جو جمعہ کی نماز پر بھری ہوتی ہے، اسی میں باقی نماز کے اوقات میں پانچ دس فیصد سے زیادہ نمازی نہیں ہوتے۔

    مسجد اللہ کا گھر ہے۔ اس پر بچوں کا بھی اتنا حق ہے جتنا بڑوں کا۔ جو بچے آئیں انھیں پیار دیں اور پیار سے سمجھائیں۔ جو بچوں کا ساتھ لائے اسے ایسے نہ گھوریں کہ جیسے اس نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ وہ پیار سے سمجھاتا ہے بچوں کا، اسے سمجھانے دیں۔

    میں نے ادب سے انھیں سلام کیا اور آگیا۔

    اگلے دن اس بزرگ کے ساتھ اس کے دو پوتوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔

  • ڈالر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ — عمیر فاروق

    ڈالر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ — عمیر فاروق

    ہمارے لوگ عام طور پہ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ امریکہ نے اپنی کرنسی کا نام ڈالر رکھا تو امریکہ کی مقبولیت اور طاقت کی وجہ سے یہ نام پھیلا۔

    جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔ ڈالر نام کی کرنسی کا امریکہ سے کوئی تعلق نہ تھا اور یہ امریکہ کی دریافت سے قبل ہی مقبول عالمی کرنسی بن چکی تھی۔

    اس کا آغاز قرون وسطی کے اواخر میں یورپ میں موجود ہولی رومن ایمپائر کی ریاست بوہیمیا سے ہوا تھا۔ اس وقت سونے چاندی تانبے کے سکے ہوا کرتے تھے اور انکی قیمت انکے وزن کے حساب سے ہوتی تھی۔ اس دور میں بوہیمیا کی ریاست نے چاندی کا یہ سکہ جاری کیا جس کا نام ٹالر Thaler تھا جو بگڑ کر ڈچ اور انگلش میں ڈالر ہوا اور فرنچ سپینش اٹالین میں دالر( جو اصل مخرج کے قریب ترین تھا)؟

    اس سکے کی کامیابی کی وجہ اس کا وزن اور قیمت تھی جس کی وجہ سے یہ بین الیورپی تجارت کا کامیاب ترین سکہ بن گیا۔ ڈالر بطور سکہ کامیاب کیوں ہوا ؟ اس کی وجہ شائد یہ تھی کہ تب بڑی ریاستوں ، سپین، انگلستان فرانس اور سویڈن کے سکے بڑے تو تھے لیکن ریاستی کنٹرول تھا اور ان ریاستوں کی زیادہ تجارت ملک کے اندر ہی ہوتی تھی جبکہ ہولی رومن ایمپائر ایک ڈھیلا ڈھالا نیم وفاق تھا جس میں بے شمار ریاستیں اندرونی طور پہ آزاد تھیں اٹلی کا بھی یہی معاملہ تھا بے شمار ریاستوں میں بٹا ہوا تھا اور آج کا ہالینڈ تب لو لینڈز یا فلانڈرز تھا ان ریاستوں بشمول لکسمبرگ کی زیادہ تجارت ریاست سے باہر بین ال یورپی تھی تو یہ سکہ ان سب میں بہت کامیاب ہوا۔

    دریں اثنا امریکہ دریافت ہوا تو امریکہ کی یورپ سے تجارت بہت بڑھ گئی اور یہ تجارت بھی ڈالر میں ہونا شروع ہوگئی تو امریکہ کی سپینش کالونیز کے گورنرز نے بھی سپینش پسیتہ کی بجائے ڈالر کے سائز کا سکہ ڈھالنا شروع کیا جو سپینش ڈالر کہلایا۔ تب ارجنٹائن میں چاندی کی پیداوار اتنی زیادہ تھی کہ ملک کا نام ہی ارجنٹینا رکھ دیا گیا جس کا مطلب چاندی تھا۔ یوں چاندی کا ڈالر عالمی کرنسی بن گیا اور امریکہ کی برطانوی نوآبادیوں نے بھی برٹش پاؤنڈ کی بجائے ڈالر کی کرنسی اختیار کی کیونکہ تجارت اسی کرنسی میں ہو رہی تھی۔

    تب ہر ملک کا ڈالر اگرچہ الگ تھا لیکن وزن ایک ہی تھا۔

    یہ اٹھارویں صدی تھی اگرچہ سپین اور برطانیہ کی سلطنت بہت پھیل چکی تھی لیکن دنیا بھر میں پھیلی انکی نوآبادیات برطانوی پاؤنڈ یا سپینش پسیتہ کی بجائے ڈالر کو ہی بطور کرنسی اختیار کرنے پہ مجبور تھیں کیونکہ یہی عالمی تجارت کی کرنسی تھی دریں اثنا یورپ میں ہولی رومن ایمپائر دم توڑ گئی اور اس کی جگہ آسٹرو ہنگیرین ایمپائر نے لی جس کی کرنسی فلورین تھی۔ یوں ڈالر کا اس کی جنم بھومی میں تو خاتمہ ہوگیا لیکن یہ دنیا بھر میں پھیلی مختلف نوآبادیوں کی کرنسی تھی جس میں آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، ہانگ کانگ ، سنگاپور کے علاوہ افریقہ اور امریکہ کی نوآبادیات شامل تھین۔

    ۱۷۷۴ میں برطانیہ سے آزادی کے بعد امریکہ نے بھی ڈالر کو اپنی قومی کرنسی بنایا۔

    اس طرح دنیا انیسویں صدی میں داخل ہوئی جس میں عالمی تجارت میں اہم تبدیلیاں ہوئیں۔ اور دنیا کا محور برطانیہ بنتا چلا گیا۔ نپولین کی شکست کے بعد برطانیہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ رہی وہ پورے انڈیا کا مالک بنا بلکہ ایشیا و افریقہ میں اس کی نوآبادیات کا جال بچھ چکا تھا اب عالمی تجارت کا مرکز لندن بن گیا۔

    دوسرے برطانیہ میں صنعتی انقلاب آیا تو برطانیہ ہی سارئ دنیا کی ورکشاپ بن گیا ساری دنیا برطانیہ سے تجارت پہ مجبور تھی۔ تب برطانوی پاؤنڈ سٹرلنگ عالمی تجارت کا سکہ بن گیا۔ ڈالر کو مزید دھچکا تب لگا جب بینک آف انگلینڈ نے دھاتی سکہ کی بجائے بینک نوٹ شائع کرنا شروع کردیا تو یہ تجارت کا آسان طریقہ تھا۔ یوں ڈالر کی بجائے پاؤنڈ کو اہمیت ملنا شروع ہوگئی۔ اسی دوران جب پیپر کرنسی ہر جگہ رائج ہوئی تو ہر ملک کے ڈالر کی قیمت الگ الگ ہوتی گئی۔ اس طرح ڈالر کی قیمتیں بھی مختلف ہوتی گئیں اور عالمی تجارت کی ترجیحی کرنسی بھی نہ رہا۔

    ڈالر کو دوبارہ عروج دوسری جنگ عظیم کے بعد ملا جب برطانوی ایمپائر بھی ختم ہوگئی اور سونے چاندی کا ذخیرہ بھی لندن سے نیویارک منتقل ہوگیا تو بریٹن وڈ معائدہ کے بعد پاؤنڈ سٹرلنگ کی بجائے امریکی ڈالر پھر سے عالمی تجارت کی کرنسی بن گیا جو اب تک ہے۔

  • اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟ — خطیب احمد

    اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟ — خطیب احمد

    زیادہ عمر کے لڑکے شادی کے لیے خود سے کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے۔ اور دوسری طرف زیادہ عمر کی لڑکیاں کم عمر لڑکوں کے رشتے خود ٹھکرا دیتی ہیں کہ انہیں لگتا خاوند عمر میں بڑا ہی ہونا چاہیے۔

    اور اسی چیز کا رواج بھی ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی جگہوں پر دیکھا لڑکے والے ترلے کر رہے ہوتے مگر لڑکی اسی بات پر اڑ جاتی کہ عمر میں چھوٹے لڑکے سے شادی کسی صورت نہیں کروں گی۔

    دونوں پارٹیاں عمر کو میچ کرنے میں کئی قیمتی سال گنوا لیتی ہیں۔ جبکہ عمر میں چار پانچ سال کی اونچ نیچ دونوں طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں دونوں پارٹیاں میچور ہوں۔

    اسی طرح ایک ڈس ابیلٹی اپنی ہی ڈس ابیلٹی کو شادی کے لیے سوٹ ایبل گردانتی ہیں۔ جیسے ڈیف کی شادی ڈیف سے بلائنڈ کی شادی بلائنڈ سے اور وہیل چیئر یوزر کی دوسرے وہیل چیئر یوزر سے پولیو افیکٹڈ کے لیے پولیو افیکٹڈ یا کلب فٹ رشتہ تلاش کیا جاتا۔ اسی طرح بونوں کی شادیاں بونوں میں ہی ہوتی ہیں اور یہ پریکٹس بھی بدلنے کا نام تک نہیں لے رہی۔ کہ جو جیسے ہو رہا ہے ہم اسکو اسی روٹین میں کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اور ایک دائرے کے باہر کچھ بھی دیکھنے یا سوچنے کی صلاحیت جیسے کھو چکے ہیں۔

    ایک طلاق شدہ لڑکی ہو یا لڑکا دونوں کے لیے سیکنڈ آپشن طلاق شدہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں کو تو کنواری لڑکیاں اکثر مل جاتی ہیں۔ مگر کسی طلاق شدہ یا بیوہ لڑکی کو کنوارہ لڑکا ملنا مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ میں نے کئی طلاق شدہ لڑکیوں کو کنوارے لڑکے کی بیوی بنتے دیکھا ہے بس انہوں نے اس معاملے کو زرا سمارٹلی ہینڈل کیا ہوتا۔

    جو ہوتا آرہا ہے ہم بھی ویسا ہی کریں گے۔ ایسا ضروری نہیں ہوتا۔ سب سے پہلا کام جو کرنا ہوتا وہ خود کو ویلیو دینا ہوتی ہے۔ اور پھر آپکو ویلیو دینے والے بھی مل جاتے ہیں۔

    خود کو ویلیو یا اپنی کئیر بس شادی تک ہی نہیں کرنی ہوتی؟ بلکہ شادی کے بیس سال بعد تک تو ہر صورت کرنی ہوتی ہے۔ اور میرا مخاطب لڑکے ہیں۔ آپ جو شادی کے بعد پیٹ بلٹ سے باہر لٹکا کا جھارا پہلوان بن جاتے یہ کیا ہے؟ وزن بڑھنا تو ایک پہلو ہے ہم لڑکے کئی پہلوؤں سے اپنی کئیر کرنا اور آگے بڑھنا شادی کے بعد ختم کر دیتے ہیں۔ دوستیاں ختم ہو جاتیں ٹوور ختم ہو جاتے کئیریر وہیں کا وہیں جام ہو جاتا اور وہی ہوتا جو ہمارے ابا جی کے ساتھ ہوا تھا۔ اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟

  • آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں گزشتہ ہفتے برپا ہونے والا انقلابِ عظیم!!! — عزیزخان بڑیچ

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں گزشتہ ہفتے برپا ہونے والا انقلابِ عظیم!!! — عزیزخان بڑیچ

    مصنوعی ذھانت کا دیو جاگ چکاھے۔ انسان نے اپنی مادی اور ذھنی ترقی کے تاریخ کے اگلے مرحلے میں داخل ھوجانےکی تیاری اب مکمل کرلی ھے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی تاریخ کی بساط لپیٹ کر اس صدی کو انسان کا بطور انسان آخری صدی ثابت کرنے کیلئے بڑی شدت کے ساتھ اکھاڑے میں داخل ھورھی ھے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی ذھنی صلاحیتوں کا اعلیٰ نشان اور ناقابل تردید ثبوت ھے۔ انسان اپنی محنت کی تخلیق اور ماحصل ھے اور یہ انسانی محنت یا دوسرے لفظوں میں انسانی جسم و ذھن کی فعلیت ھے کہ جو آج انسان کو اپنی ارتقاء کی تاریخ کے اس اگلے مرحلے سے ھم آغوش ھوجانے کی طاقت سے سرفراز کررھی ھے کہ جسکا ایک صدی پہلے تصور کرنا ہی محال تھا۔

    جہاں ایک طرف انسان کوانٹم فزکس کی دنیا میں جھانک کر اپنے ہی اصولوں پر استوار کائینات کی تخلیق کے نغمے گنگنارھاھے وھاں جینیٹکس اور مصنوعی ذھانت کے شعبے میں بھی حضرت انسان دنیا کے ایک ایسے مستقبل کا پیش لفظ لکھنے میں مصروف ھے کہ جسکی قد و کاٹ اور چمک دمک کا خیالی خاکہ ہی ذھن کے پردے پر اتارنا محال ھے۔

    ایسی ناقابل تصور دنیا کی طرف انسان کس شان و شوکت سے قدم بڑھا چکاھے؟ اسکی مثال حال ہی میں عام پبلک کیلئے لانچ کی گئی مصنوعی ذھانت کا علمبردار انجن یعنی chat GPT ویب سائیٹ ھے۔

    ایک ایسی ایپ یا چیٹ ویب کہ جو آپکے ساتھ ھمہ وقت ایک متاثرکن مکالمے کیلئے تیار رھے۔ انسانی زندگی، دنیا اور سماج سے متعلق آپکے پوچھے گئے کسی بھی سوال کو گہرائی سے سمجھنے اور پھر اسکا وسیع تناظر میں جواب آپکے گوش و گزار کردینے والی ویب چیٹ۔۔۔۔۔

    چیٹ جی۔پی۔ٹی کو انسان ھاتھوں ھاتھ لینےلگاھے۔ یعنی اسکے لانچ ھوجانے کے پانچ چھ ہی دنوں میں اس چیٹ ویب کو استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کرگئی۔

    چیٹ جی۔پی۔ٹی آپکے نہ صرف یہ کہ پوچھے گئے ھر قسم کے سوالوں کا جواب دیتی ھے بلکہ آپکی فرمائش پر یہ آپکے لئیے آپکی ڈیمانڈ کے مطابق آرٹیکلز، کتابیں، درخواستیں بھی فورآ لکھ مارتی ھے۔ یہ آپکو آپکی کاروبار کے حوالے سے مفید مشورے فراھم کرتی ھے۔ یہ آپکی فرمائش پر آپکے لئیے انتہائی عمدہ اور گہرے تخلیقی نظمیں بناتی ہیں جسے اب تک اس چیٹ ویب کے علاؤہ کسی انسان نے نہیں کہےھونگے۔ یہ آپکی فرمائش اور خواھش کے پیش نظر ایسی تصاویر یا پینٹنگز بنانے کی اھلیت رکھتی ہیں جسکو پہلے کسی تخلیق کار یا آرٹسٹ نے نہیں بنائےھونگے۔ یہ آپکی فرمائش اور دی گئی کمانڈ کو سامنے رکھ کر آپکے لئیے ڈرامے اور فلمیں لکھنے اور اسے کارٹون وغیرہ کی شکل میں ویڈیوز میں تبدیل کردینے کا کمال رکھتی ھے۔ اگر آپ سائینس کے طالب علم ھے تو یہ آپکی ڈارک انرجی سے لیکر ھگز بوزون تک بڑے موثر انداز میں راھنمائی کرنے کے گر گہرائی سے جانتی ھے، اگر آپ آرٹ کے طابعلم ھے تو یہ ایک نہ تھکنے والے معزز استاد کی طرح سے قدم قدم پر آپکے ساتھ چلتی ھے اور اگر آپ فلسفے کے طالب علم ھے تو یہ مادیت سے لیکر عینیت تک کے وسیع و عریض خطوں تک بہت ہی موثر طریقوں کو بروئے کار لاکر آپکا ساتھ دیتی ھے۔

    آپکی فرمائش پر یہ آپکے کسی بھی پسندیدہ سائینسدانوں کے بیچ علمی مکالمہ تخلیق کرلیتی ھے، مثلا آج میں نے اسے نیوٹن اور آئن اسٹائن کے بیچ مکالمہ تخلیق کرنے کی فرمائش کی تو جو مکالمہ اس نے صرف چند سیکنڈ میں تخلیق کرکے پیش کیا وہ علمی اور سائینسی لحاظ سے حیران کن اور خوش کردینے والا مکالمہ تھا۔ پھر میں نے اسے ایک مکالمہ کانٹ اور ھیگل، ایک ارسطو اور افلاطون کے بیچ اور ایک مکالمہ ھیگل اور مارکس کے بیچ تخلیق کردینے کا کہا تو جو مکالمات اس نے فورآ لکھ مارے وہ فلسفیانہ حوالے سے نہایت عمدہ اور گہرے تھے۔

    میں نے اسے غم و خوشی، انسانی درد۔ اور یہاں تک کارل مارکس، ھیگل، شیکسپیئر اور آئن اسٹائن وغیرہ پر نظمیں بنانے کیلئے کہا تو اس نے فورآ بڑی اچھی، گہری اور ان انسانی کیفیات اور شخصیات کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ھوئے تحریر کرڈالی۔

    یعنی آج کے بعد آپکے سامنے پیش کیے جانے والے تقریبا ھر ایک موضوع پر تگڑے اور علمی مضامین، مکالمات، ڈرامے اور تقاریر وغیرہ میں شاید آپکے لئیے یہ جج کرنا مشکل

  • امید اور یقین —- ریاض علی خٹک

    امید اور یقین —- ریاض علی خٹک

    بنی اسرائیل کی روایات میں آتا ہے نوجوان داود علیہ السلام نے جب جالوت کے مظالم اور خوف کے بارے میں سنا تو اپنے بھائی سے پوچھا تم لوگ اس کے خلاف کھڑے کیوں نہیں ہوتے.؟ ان کے بھائی نے کہا کیا تم نہیں دیکھتے وہ کتنا بڑا دیو ہے. کتنا لمبا چوڑا ہے. کیا اس کو مارا جا سکتا ہے.؟ داود نے کہا ہاں میں دیکھ رہا ہوں اسے جس طرف سے بھی نشانہ لگاو یہ بچ ہی نہیں سکتا.

    اور انہوں نے اسے اپنی غلیل سے مار دیا تھا. بڑی چیزوں کا یہی مسئلہ ہوتا ہے. کوئی نشانہ خطا ہی نہیں ہوتا. جیسے بڑے بڑے پہاڑ ہوں. ایک چیلنج کی طرح ناقابل عبور لگتے ہیں. لیکن ان کے چھوٹے چھوٹے درے ان کی بلندی کے راستے بن جاتے ہیں. ایک چھوٹی سی سرنگ لمحوں میں اسے پار کرا دیتی ہے اور پہاڑ دیکھتا رے جاتا ہے.

    بڑی بڑی چوٹیاں جیسے کے ٹو ماونٹ ایورسٹ ہم نے چار پانچ پڑاو میں تقسیم کر کے نہ صرف سر کر لیں بلکہ سر کرتے چلے جا رہے ہیں. ہم دوسروں میں شیشے کی طرح خود کو دیکھتے ہیں. دوسرے بھی ہم میں خود کو شیشے میں دیکھتے ہیں. لیکن جب آپ اپنی ذات کے سچ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ شیشے ختم ہو جاتے ہیں.

    داود کے بھائی کو جالوت میں ڈرا سہما ہوا اپنا آپ نظر آرہا تھا. جالوت کو دوسروں میں اپنا دیو قامت قد اور رعب و دبدبہ نظر آرہا تھا. لیکن داود علیہ السلام کو ایک ایسا دیو ہیکل جسم جسے جس طرف سے بھی مارو نشانہ خطا ہو ہی نہیں سکتا. اس لئے بڑے خواب بڑے چیلنج دیکھنے والے بھلے ان چوٹیوں کو سر نہ بھی کریں وہ کسی نہ کسی پڑاو پر سر کرنے کی امید اور یقین ضرور رکھتے ہیں.

  • اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا!!! — ریاض علی خٹک

    اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا!!! — ریاض علی خٹک

    ایک پھول کا حُسن اُس کلی کے صبر میں ہے جس نے اس حسن کو سمیٹ کر رکھا ہوتا ہے. دنیا کی نظروں سے دور یہ کلی پرت در پرت اپنے پتے ترتیب سے بنا رہی ہوتی ہے. ایک لاروا اپنے حول میں بند تتلی کے وہ پر بہت صبر سے بنا رہی ہوتی ہے جو اس بظاہر بدشکل کیڑے کو خوبصورت رنگ دے کر قوت پرواز دے گا.

    ہم لوگ اس صبر پر گواہ نہیں ہوتے. ہم تو کھلے ہوئے پھول اور اس پر لپکتی خوبصورت پروں کی تتلیاں دیکھ کر سمجھتے ہیں شائد یہ پیدا ہی ایسے ہوئے. ہم انسان جو دیکھتے ہیں اسے ہی مان لیتے ہیں. اس لئے ایک سادہ سا سوال بھی ہمیں کنفیوز کر دیتا ہے جیسے کوئی پوچھ لے کیا آپ خود کو پسند کرتے ہیں.؟

    ہماری اکثریت خود کو ہی نہیں جانتی. کیونکہ خود کی پسندیدگی کا مطلب اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا ہے. ایسے لوگ خود پر دوسروں کی رائے سے متاثر نہیں ہوتے. ان کو خوش رہنے کیلئے باہر کے اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی. یہ خود کے ساتھ خوش رے سکتے ہیں اور منفی لوگوں کیلئے ان کی ذات پر صبر کے ویسے ہی پردے ہوتے ہیں جیسے کلی یا لاروے نے اپنے رنگ بچائے ہوتے ہیں.

    اس لئے ہم خود کو پسند کرنے کا دعویٰ کرتے ہچکچاتے ہیں. ہم دوسروں کے رنگ دیکھ کر ان کو خوش قسمت اور خود کو بدقسمت سمجھتے ہیں. اسی بدقسمتی میں ہم اپنی زندگی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں. شائد کچھ رنگ ہم بھی جمع کر لیں؟ اور زندگی ایک دوڑ بن جاتی ہے. ہم تھک جاتے ہیں. خود سے راضی شخص جبکہ ایک صحرا میں بھی ایسے ہی خوش ہوگا جیسے یہ کوئی گلستان ہو. خود سے راضی اپنے بنانے والے سے راضی ہوتا ہے. اور مالک اس سے راضی ہوکر اسے وہ رنگ دیتا ہے جسے دیکھ کر دوسرے اسے خوش قسمت سمجھتے ہیں.

  • اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

    خواجہ میر درد

    یوم وفات : 7جنوری 1785
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے عظیم شعراء کی فہرست میں شامل سیدخواجہ میر درد، میر تقی میر کے ہمعصر 1721ء میں دلی میں پیدا ہوئے خواجہ میر دردؔ کو اردو میں صوفیانہ شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔ دردؔ اور تصوف لازم و ملزوم بن کر رہ گئے ہیں۔ یقیناً دردؔ کے کلام میں تصوف کے مسائل اور صوفیانہ حسّیت کے حامل اشعار کی کثرت ہے لیکن انہیں محض اک صوفی شاعر کہنا ان کی شاعری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ابتدائی تذکرہ نویسوں نے ان کی شاعری کو اس طرح محدود نہیں کیا تھا، صوفی شاعر ہونے کا ٹھپہ ان پر بعد میں لگایا گیا۔

    میر تقی میرؔ نے، جو اپنے سوا کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے تھے، انہیں ریختہ کا "زور آور” شاعر کہتے ہوئے انہیں "خوش بہار گلستان، سخن” قرار دیا۔ محمد حسین آزاد نے کہا کہ دردؔ تلواروں کی آبداری اپنے نشتروں میں بھر دیتے ہیں، مرزا لطف علی صاحب، "گلشن سخن” کے مطابق دردؔ کا کلام "سراپا درد و اثر "ہے۔

    میر حسن نے انھیں، آسمان، سخن کا خورشید قرار دیا، پھر امداد اثر نے کہا کہ معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو میں کوئی شاعر نہیں گزرا اور عبد السلام ندوی نے کہا کہ خواجہ میر دردؔ نے اس زبان (اردو) کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔ ان حضرات نے بھی دردؔ کو تصوف کا ایک بڑا شاعر ہی مانا ہے ان کے کلام کی دوسری صفات سے انکار نہیں کیا ہے۔ شاعری کی پرکھ، یوں بھی "کیا کہا ہے” سے زیادہ ” کیسے کہا ہے” پر مبنی ہوتی ہے دردؔ کی شاعری کے لئے بھی یہی اصول اپنانا ہو گا۔

    دردؔ ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں۔ ان کے بعض سادہ اشعار پر میرؔ کے اسلوب کا دھوکہ ضرور ہوتا ہے لیکن توجہ سے دیکھا جائے تو دونوں کا اسلوب یکسر جداگانہ ہے۔ درد کی شاعری میں غور و فکر کا عنصر نمایاں ہے جبکہ میرؔ فکر کو احساس کا تابع رکھتے ہیں البتہ عشق میں سپردگی اور گداز دونوں کے یہاں مشترک ہے اور دونوں آہستہ آہستہ سلگتے ہیں۔ دردؔ کے یہاں مجازی عشق بھی کم نہیں۔ جیتے جاگتے محبوب کی جھلکیاں جابجا ان کے کلام میں مل جاتی ہیں۔ ان کا مشہور شعر ہے۔

    کہا جب میں ترا بوسہ تو جیسے قند ہے پیارے
    لگا تب کہنے پر قند مکرر ہو نہیں سکتا

    دردؔ کی شاعری بنیادی طور پر عشقیہ شاعری ہے ان کا عشق مجازی بھی ہے، حقیقی بھی اور ایسا بھی جہاں عشق و مجاز کی سرحدیں باقی نہیں رہتیں۔ لیکن ان تینوں طرح کے اشعار میں احساس کی صداقت واضح طور پر نظر آتی ہے، اسی لئے ان کے کلام میں تاثیر ہے جو صناعی کے شوقین شعراء کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔

    دردؔ نے خود کہا ہے "فقیر نے کبھی شعر آورد سے موزوں نہیں کیا اور نہ کبھی اس میں مستغرق ہوا۔کبھی کسی کی مدح نہیں کی نہ ہجو لکھی اور فرمائش سے شعر نہیں کہا” درد ؔکے عشق میں بیچینی نہیں بلکہ ایک طرح کی طمانیت قلب، سکون اور پاکیزگی ہے جعفر علی خاں اثر کے بقول دردؔ کے پاکیزہ کلام کے لئے پاکیزہ نگاہ درکار ہے۔

    دردؔ کے کلام میں عشق و عقل، جبر و اختیار، خلوت اور انجمن، سفر در سفر، بے ثباتی و بے اعتباری، بقا اور فنا، مکان و لامکاں، وحدت و کثرت، جزو و کل توکل اور فقر کے مضامین کثرت سے ملتے ہیں۔ فی زمانہ، تصوف کا وہ برانڈ، جس کے دردؔ تاجر تھے، اب فیشن سے باہر ہو گیا ہے۔ اس کی جگہ سنجیدہ طبقہ میں سرمد اور رومی کا برانڈ اور عوام میں بلھے شاہ، سلطان باہو اور "دمادم مست قلندر” والا برانڈ زیادہ مقبول ہے۔

    غزل کی شاعری برملا کم اور اشاروں میں زیادہ بات کرتی ہے اس لئے اس میں معانی کی حسب منشاء جہات تلاش کر لینا کوئی مشکل کام نہیں یہ غزل کی ایسی طاقت ہے کہ وقت کے تند جھونکے بھی اس چراغ کو نہیں بجھا سکے ایسے میں اگر مجنوںؔ گوکھپوری نے دردؔ کے کلام میں "کہیں دبی ہوئی اورکہیں اعلانیہ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانہ کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں” تلاش کیں تو بہرحال ان کا ماخذ دردؔ کا کلام ہی تھامجنوں کہتے ہیں درردؔ اپنے زمانہ کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔

    دردؔ کے کلام کو ان کے زمانہ کے معاشرتی اور فکری ماحول اور ان کی نجی شخصیت کے حوالہ سے پڑھنا چاہئے۔ جہاں تک پیرایۂ بیان کا تعلق ہے اپنی بات کو دبے لفظوں میں تشنۂ وضاحت چھوڑ جانا دردؔ کو تمام دوسرے شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ اس طرح کے اشعار میں ان کہی بات، وضاحت کے مقابلہ میں زیادہ اثردار ہوتی ہے۔ حیرت و حسرت کا یہ دھندھلا سا اظہار ان کے اشعار کا خاص جوہر ہے۔ اس سلسلہ میں رشید حسن خاں نے پتے کی بات کہی ہے وہ کہتے ہیں "دردؔ کے جن اشعار میں خالص تصوف کی اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں یا جن میں مجازیات کو صاف صاف پیش کیا گیا ہے وہ نہ دردؔ کے نمائندہ اشعار ہیں نہ ہی اردو غزل کے۔

    یہ بات ہم کو مان لینی چاہئے کہ اردو میں فارسی کی صوفیانہ شاعری کی طرح بلند پایہ متصوفاننہ شاعری کا فقدان ہے۔ ہاں، اس کے بجائے اردو میں حسرت، تشنگی اور یاس کا جو طاقتور آہنگ کارفرما ہے، فارسی غزل اس سے بڑی حد تک خالی ہے-

    مجموعی طور پر دردؔ کی شاعری دل اور روح کو متاثر کرتی ہے۔ جذباتیت اور شاعرانہ "استادی” کا اظہار ان کا شعار نہیں، دردؔ موسیقی کے ماہر تھے، ان کے کلام میں بھی موسیقیت ہے۔ دردؔ تبھی شعر کہتے تھے جب شعر خود کو ان کی زبان سے کہلوا لے۔ اسی لئے ان کا دیوان بہت مختصر ہے۔

    خواجہ میر دردؔ 07؍جنوری 1785ء کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

    ریختہ ڈاٹ کام سے ماخوذ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خواجہ میر درد کی شاعری سے انتخاب
    . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
    زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
    ——–
    زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!
    ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
    ——–
    اذیت مصیبت ملامت بلائیں
    ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
    ——–
    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
    ——–
    نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز
    گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
    ——–
    جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
    تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
    ——–
    میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے
    مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
    ——–
    کبھو رونا کبھو ہنسنا کبھو حیران ہو جانا
    محبت کیا بھلے چنگے کو دیوانہ بناتی ہے
    ——–
    ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
    میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
    ——–
    جان سے ہو گئے بدن خالی
    جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
    ——–
    ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
    تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
    ——–
    ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
    ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
    ——–
    دشمنی نے سنا نہ ہووے گا
    جو ہمیں دوستی نے دکھلایا
    ——–
    حال مجھ غم زدہ کا جس جس نے
    جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا
    ——–
    ہر چند تجھے صبر نہیں درد ولیکن
    اتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام بہت ہو
    ——–
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
    ——–
    تمنا تری ہے اگر ہے تمنا
    تری آرزو ہے اگر آرزو ہے
    ——–
    مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
    کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
    ——–
    کاش اس کے رو بہ رو نہ کریں مجھ کو حشر میں
    کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
    ——–
    آگے ہی بن کہے تو کہے ہے نہیں نہیں
    تجھ سے ابھی تو ہم نے وے باتیں کہی نہیں
    ——–
    کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری
    جی میں یہ کس کا تصور آ گیا
    ——–
    دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا
    آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا
    ——–
    قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
    اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
    ——–
    ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر
    لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا
    ——–
    ایک ایمان ہے بساط اپنی
    نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے
    ——–
    ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
    دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں

  • صف اول کےفلمی نغمہ نگار و شاعرمسروانور:6 جنوری یوم پیدائش

    صف اول کےفلمی نغمہ نگار و شاعرمسروانور:6 جنوری یوم پیدائش

    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

    مسرور انور
    6 جنوری یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی صف اول کے فلمی نغمہ نگار و شاعر مسرو انور 6 جنوری 1944 میں ہندوستان کے شہر شملہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام انور علی تھا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ لاہور پاکستان ہجرت کر گئے۔ انہیں شاعری کا شوق بچپن سے تھا اور فلم و موسیقی سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ اسی شوق اور دلچسپی کے سبب فلم ہدایت کار پرویز ملک اور فلمی موسیقار سہیل رعنا سے ان کی دوستی ہو گئی۔ اس دوستی اور میل جول کے باعث انہیں فلموں کے لیے گیت لکھنے کی پیش کش کی گئی جو کہ انہوں نے قبول کر لی اور 1962 میں انہوں نے فلم ” بنجارن” کے لیے گیت لکھ کر اپنے کیریئر کا شاندار آغاز کر دیا دوسری فلم ” ارمان” تھی تیسری فلم ” ہیرا اور پتھر” تھی اس فلم کے گیتوں نے بھی دھوم مچادی تھی۔ جس کے بعد ان کے مشہور اور سپر ہٹ گیتوں اور گانوں کی طویل فہرست ہے۔ انہوں نے نگار ایوارڈ سمیت کئی دیگر اہم اعزازات بھی حاصل کیے۔ مسرو انور نے فلمی نغمہ گاری کے علاوہ غزل اور ملی نغمے بھی لکھے۔ گلوکار غلام علی کی آواز میں ان کی گائی ہوئی غزل
    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

    نے پاکستان اور ہندوستان میں مقبولیت اور پذیرائی کا ایک ریکارڈ قائم کیا۔ ان کا ملی نغمہ

    سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے

    نے بھی ملک بھر میں دھوم مچا دی ۔ وہ ایک بہترین شخصیت کے مالک تھے ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور معصومیت مستقل طور پر قائم رہتی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے Baby Face کے خطاب سے نوازا گیا۔ یکم اپریل 1996 میں لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔

    منتخب کلام

    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی
    دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
    نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی

    نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
    ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی

    کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں
    کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی

    اپنی جاں نذر کروں ،اپنی وفا پیش کروں
    قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دل میں پیدا کیا اک جذبۂ تازہ تُو نے
    میرے گیتوں کو نیا حوصلہ بخشا تُو نے
    کیوں نا تجھ کو انہی گیتوں کی نوا پیش کروں
    اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں
    قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں

    اکیلے نہ جانا ھمیں چھوڑ کر تم
    تمھارے بنا ھم بھلا کیا جئیں گے

    بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
    جس کو تم نہ سمجھ سکے میں ایسا اک سوال ہوں
    تم نے مجھے بھلا دیا نظروں سے یوں گرا دیا
    جیسے کبھی ملے نہ تھے ایک راہ پر چلے نہ تھے
    تھم جاؤ میرے آنسوؤں ان سے نہ کچھ گلہ کرو
    وہ حسن کی مثال ہیں میں عشق کا زوال ہوں
    جس کو وہ نہ سمجھ سکے میں ایسا ایک سوال ہوں
    کرنا ہی تھا اگر ستم دینا تھا عمر بھر کا غم
    عہد وفا کیا تھا کیوں چاہت سے دل دیا تھا کیوں
    تم نے نگاہ پھیر لی اب میں ہوں میری بےبسی
    بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
    ——
    مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
    مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
    نہ جانے مجھے کیوں یقیں ہو چلا ہے
    میرے پیار کو تم مٹا نہ سکو گے
    مری یاد ہوگی جدھر جاؤ گے تم
    کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو
    تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤ گے تم
    شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
    بجھانا بھی چاہو بجھا نہ سکو گے
    کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
    تو بےچین ہو ہو کے دل تھام لو گے
    نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
    کسی نے جو پوچھا سبب آنسوؤں کا
    بتانا بھی چاہو بتا نہ سکو گے

    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
    چپ رہ کے بھی نظر میں ھیں پیار کے اشارے
    یہ شان بے نیازی یہ بے رخی کا عالم
    بے باک ھو گیا ھے ان کا مزاج بر ھم
    اک پل میں نےھم نے دیکھے کیا کیا حسین نظارے
    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
    فربان جائیں اے دل ھم ان کی اس ادا کے
    خود بھی سلگ رھے میں ھم کو جلا جلا کے
    ھیں کتنے خوبصورت اس آگ کے شرارے
    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے

    یوں اسنے پیار سے میری بانہوں کو چھو لیا
    منزل نے جیسے شاخ کے راہوں کو چھو لیا
    اک پل میں دل پہ کیسے قیامت گزر گئی
    رگ رگ میں اسکے حسن کی خوشبو بکھر گئی
    زلفوں کو میرے شانے پہ لہرا گیا کوئی
    یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب اس دل تباہ کی حالت نا پوچھیے
    بے نام آرزو کی لذت نا پوچھیے
    اک اجنبی تھا روح کا ارمان بن گیا
    اک حادثہ تھا پیار کا عنوان بن گیا
    منزل کا راسته مجھے دکھلا گیا کوئی
    یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی

    اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے
    وہ سامنے بیٹھے ہیں کافی یہ عنایت ہے

    الہٰی آنسو بھری زندگی کسی کو نہ دے
    خوشی کے ساتھ غم بے کسی کسی کو نہ دے

    خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو
    کہتی ہیں یہ بہاریں ہنسنا ہمیں سیکھا دو

    سُونی پڑی رہیں گی یہ پربتوں کی راہیں
    یونہی کُھلی رہیں گی ان وادیوں کی بانہیں
    جب تک جُھکی یہ نظریں ہنس کہ نہ تم اُٹھا دو
    خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو

    دل دھڑکے میں تم سے کیسے کہوں
    کہتی ہے میری نظر شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
    کہ تم آ گئے اچانک بڑی عمر ہے تمہاری

    ابھی کچھ ہی دیر پہلے بڑا زکر تھا تمہارا
    کئی بار ڈھرکنوں نےتمہیں پیار سے پکارا

    مٹا انتظار دل کا ہوئ ختم بےقراری
    ہمیں پیار کی خوشی سے کیا آشنا تم ہی نے
    تمہیں پیار ہم وہ دیں گے جو دیا نہ ہو کسی نے
    کہ تمہاری زندگی ہے ہمیں جان سے بھی پیاری
    وہ نظر کے سامنے ہے جسے ہم نے دیں صداٗئیں
    جو قرار بن کے آیا اُسے کیوں نہ دیں دُعائیں
    کیئے آرزو نے سجدے دل نے نظر اُتاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اک بار ملو ہم سے تو سو بار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    کیسے یہ کہیں تم سے ہمیں پیار ہے کتنا
    آنکھوں کی طلب بڑھتی ہے دیکھیں تمہیں جتنا

    اس دنیا میں کم ایسے پرستار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    دل کی جگہ سینے میں محبت ہے تمھاری
    اب میری ہر اک سانس امانت ہے تمھاری

    ہم بن کے تمہیں پیار کی مہکار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے