Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اردو کی شاعرہ، یاسمین یاس کا یوم پیدائش

    اردو کی شاعرہ، یاسمین یاس کا یوم پیدائش

    نام:یاسمین یاس
    تاریخ پیدائش:23 دسمبر 1974ء
    زبان: اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    1 . میرا جلنا ضرور ہوگیا ہے
    ۔2. . میرے بے خبر
    3 ۔ رات گئے آنکھوں سے

    مستقل پتا:ای-3، فرزانہ بلڈنگ، بلاک 7 ینڈ8
    فرسٹ فلور، ایس،ایم روڈ کراچی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غزل

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت سے بھی نفرت ہوگئی ہے
    عجب وحشت سی وحشت ہوگئی ہے

    فنا کرلو ڈالوں خود کو اور سب کو
    بتاؤں کیا جو حالت ہوگئی ہے

    جو رکھے یاد اس کو یاد رکھو
    محبت اب تجارت ہوگئی ہے

    زمانے بھر میں رسوا ہورہے ہیں
    یقیناً ہم سے غفلت ہوگئی ہے

    کسی پر زندگی قربان کردیں
    وہ چاہت ایک حسرت ہوگئی ہے

    کبھی وحشت تھی جس دیوانگی سے
    وہی اب میری قسمت ہوگئی ہے

  • آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی
    اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر سیاسی جماعتیں کون سا اخلاقی برتری کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ ا یک دوسرے کی آڈیو وڈیو لیک کے بل بوتے پر سیاست کا آغاز کرنے والے سیاستدانوں نے بلیک میلنگ کی روش اپنا کر اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کا جو راستہ اپنایا اُس کی اجازت اسلام بھی نہیں دیتا ۔ اسلام رواداری،برداشت، شرم و حیا اور دوسروں کی عزت و احترام کا جہاں درس دیتا ہے، وہاں بدی کو نیکی سے، شر کو امن ، اندھیرے کو روشنی سے، ظلم کو امن سے ختم کرنے کا بھی درس دیتا ہے ۔

    آڈیو اور وڈیو پر لیکس کے ڈرامے سے مقتدر ایجنسیوں کا کوئی لینا دینا نہیں وہ وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کی ضامن ہیں۔ اس وقت ملکی سلامتی کے اداروں کی پوری توجہ دہشت گردی کے جن کو قابو رکھنے پ مبذول کی ہوئی ہے ۔ کسی بھی سیاسی شخصیت یا پارٹی کو اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کا ملبہ قومی سلامتی کے اداروں پر ڈالنے سے اجتناب برتنا چاہیئے ۔ موجودہ قومی سلامتی ادارے کے سربراہ جنرل ندیم انجم پاک فوج کا فخر ہیں ان کا تعلق غازیوں، شہیدوں کی سرزمین کے ساتھ ساتھ شہیدوںاور غازیوں کے خاندان سے ہے ۔ ان کی تربیت ان کے حقیقی ماموں( مرحوم) بطور کیپٹن پاک فوج میں سرانجام دیتے رہے جبکہ ان کے حقیقی بھائی افواج پاکستان میں بطور آفیسر جام شہادت نوش فرما چکے ہیں۔

    کسی کی ذات پر کیچڑ اُچھالنا یا کسی کو بے توقیر کرنا ان کی شخصیت اور خاندان اورتربیت کا ہرگز خاصا نہیں ۔ایک بے داغ بے لوث اور اعلٰی اخلاقی دار کے حامل خاندان سے ان کا تعلق ہے ۔ کسی بھی سیاسی سرکل کو بے جا الزام تراشیوں سے گریز کرنا چاہیئے ۔ پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے اس وقت دشمنان پاکستان کے بدخواہوں کی سازشوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں کسی بھی غیر مناسب پروپیگنڈے کو عوام پاکستان وطن عزیز کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں ۔ سیاستدان معاشی، بدحالی اور سیاسی بے یقینی اور مالیاتی دیوالیہ پن کے خطرات جو منڈلا رہے ہیں اُس پر توجہ دیں۔ سیاستدان آڈیو اور ویڈیو کے کاروبار کو فوری بند کریں ان کے اس کاروبار سے وطن عزیز کے مستقبل کی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اخلاق سوز جنگ کا بائیکاٹ کریں اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے ۔

  • توہمات اور اُنکی وجوہات!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    توہمات اور اُنکی وجوہات!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ دور سائنس و ٹیکنالوجی کا ہے مگر ضعیف العتقادی اور توہم پرستی اب بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے۔ ایسی کئی توہمات ہیں جن پر لوگ آج بھی یقین کرتے ہیں۔ توہم پرستی دراصل وہ خیال ہے جو بغیر کسی منطق کے لوگ سچ سمجھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی خاص عمل کے کرنے یا ہونے سے اُنکی زندگی پر اثر پڑے گا۔

    اس سلسلے میں کچھ مثالیں بیان کرتا ہوں اور اُنکے پیچھے وجوہات تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ ان توہم پرست رویوں کے بننے کے محرکات کیا تھے۔

    1. کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو کچھ برا ہو گا۔

    یہ ایک فضول بات ہے، بلی کے راستہ کاٹنے سے آپکی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دراصل پرانے زمانے میں لوگ گھوڑا گاڑی یا بیل گاڑی کا استعمال کرتے تھے۔ تو رات کے وقت کسی ویران راستے سے گزرتے ہوئے کوئی بلی راستہ کاٹتی تھی تو اُسکی آنکھوں کی چمک سے گھوڑا یا بیل ڈر سکتے تھے جس سے گاڑی کا توازن خراب ہونے کا اندیشہ رہتا۔ اسی لئے پرانے زمانے میں لوگ ایسا کچھ ہونے سے گاڑی کو کچھ دیر کو روک دیا کرتے تھے تاکہ نقصان نہ ہو۔ مگر آج کے دور میں نہ آپ گدھا گاڑی چلاتے ہیں اور نہ ویران جنگلوں میں رہتے ہیں لہذا بلی کو کاٹنے دیجئے رستہ اس سے کچھ نہیں ہو گا۔

    2. رات کو جھاڑو دینے سے گھر میں غربت آتی ہے۔

    یہ بھی ایک بے تکی بات ہے۔ صفائی کرنا صحت کے لیے ضروری ہے چاہے دن میں کریں یا رات میں۔ یہ بات اس لئے مشہور ہوئی کہ پرانے دور میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی۔ گھروں میں رات کو ایک آدھا دیا ہی روشن ہوتا۔ ایسے میں اگر رات کو جھاڑو دیا جاتا تو اس بات کا اندیشہ رہتا کہ کوئی بھی قیمتی شے جھاڑو کیساتھ کوڑے میں چلی جائے گی۔ اسی سبب رات کو جھاڑو دینے کو غربت سے جوڑا جاتا رہا مگر فی زمانہ آپکے گھر رات کو بجلی اور برقی روشنی سے چمچما رہے ہوتے ہیں تو رات کو جھاڑو یا صفائی کرنے میں اب کوئی مسئلہ نہیں۔

    3 رات کے وقت بال یا ناخن کاٹنا بدشگونی ہے

    اسکے پیچھے بھی یہی منطق تھی کہ پرانے زمانے میں رات کو اندھیرا ہونے کے باعث دیے کی روشنی میں بال یا ناخن کاٹنے سے زخم لگنے کا اندیشہ رہتا۔ مگر آج ایسا کچھ نہیں ۔ آپ روشن کمرے میں بال کاٹیں یا ناخن، کوئی بدشگونی نہیں ہوگی۔

    4. کسی کام سے پہلے دہی اور شکر کھانے سے کام اچھا ہوتا ہے

    دہی دراصل پیٹ کو ٹھنڈا رکھتی ہے اور شکر میں گلوکوز ہوتا ہے جو فورآ دماغ تک پہنچتا ہے جس سے آدمی کا ذین مستعد ہوتا یے۔ لہذا کام کے دوران آپ کا پیٹ ٹھنڈا اور جسم مستعد رہے گا تو کام کے بہتر ہونے کے امکان بڑھ سکتے ہیں۔ مگر آپکے کام کے اچھے ہعنے یا نہ ہونے کا تعلق آپ پر منحصر ہے نہ کہ دہی اور شکر سے۔ ایسا ہوتا تو ایلان مسک کی جگہ آج کوئی دودھ دہی بیچنے والا شخص امیر ترین ہوتا۔

    5. سورج گرہن یا چاند گرہن کے وقت حاملہ عورت کو باہر نہیں جانا چاہیے ۔ اس سے بچے معذور پیدا ہونگے۔

    یہ بھی ایک بے تکی بات ہے جسکی کوئی سائنسی وجہ نہیں۔ سورج گرہن یا چاند گرہن میں جانے سے پیدا ہونے والے بچے ہر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ چاند گرہن میں باہر جانا بالکل محفوظ ہے البتہ سورج گرہن کے وقت سورج کو سیدھا دیکھنے سے آنکھوں کی بینائی جا سکتی ہے۔ مگر اس سے بچے کی معذوری بلاواسطہ ہرگز ہرگز کوئی تعلق نہیں ۔ دراصل سورج گرہن کو آنکھوں پر بغیر کسی حفاظتی عینک کے سیدھا دیکھنے سے بینائی متاثر ہوسکتی ہے۔۔لہذا بینائی کے متاثر ہونے سے حاملہ عورت کے معمولات زندگی ہر اثر پڑ سکتا ہے جس سے حمل کے دوران بچے کی افزائش بھی متاثر ہو سکتی ہے مگر یہ اس صورت میں جب کوئی حاملہ عورت دیدے پھاڑ کر سورج گرہن دیکھے اور اپنی بینائی متاثر کر بیٹھے ورنہ سورج گرہن میں حفاظتی تدابیر کے ساتھ باہر جانے سے نہ ہی بچہ متاثر ہو گا اور نہ ہی ماں۔

    پرانے دور کی اور بھی کئی توہمات ہیں مگر کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی شے پر جو صدیوں سے سنتے آئے ہوں اُن پر اندھا یقین کرنے سے پہلے اس بارے میں سوچیں تو شاید پتہ چلے کہ زمانہ بدل چکا ہے لہذا یہ فرسودہ خیالات بھی ترک کر دئے جائیں تو بہتر ہے۔

  • مانگنے کی نفسیات!!! — محمود فیاض

    مانگنے کی نفسیات!!! — محمود فیاض

    مانگنے کی نفسیات ۔ ۔ ۔ بھکاری یا بادشاہ ۔ ۔ چوائس آپ کی اپنی ہے؟

    میں نے جب کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز ڈگری کے لیے کالج جوائن کیا تو شائد کلاس کا سب سے غریب لڑکا ہونگا۔ ۔ کالج میں متمول گھرانوں کے لڑکوں سے دوستی ہو گئی ۔ ۔ ۔ جن کا کام تھا کہ ہر بریک میں کسی ایک کی گاڑی میں بیٹھ کر قریبی ریسٹورنٹ چلے جانا اور من مرضی کے اسنیکس کھانا۔ ۔ ۔ آئس کریم ، کافی، ڈرنکس وغیرہ ۔ ۔

    ان چار سالوں میں میں نے کیسے گزارا کیا، یہ اپنے ایک دوست کی زبانی بتاتا ہوں، جو کالج گریجوئشن کے بعد ایک روز ملنے گھر چلا آیا۔ ۔ یہ ان دوستوں میں سے ایک تھا جو انیس سو بانوے (ورلڈ کپ والا 🙂 ) میں گاڑی پر کالج آتے تھے ( اب تو نو دولتیے بہت ہو گئے ہیں) ۔ ۔ ۔ اس دوست نے جب میرا گھر دیکھا تو دوستوں والی بےتکلفی سے بولا، اوئے محمود تم نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ تم اس قدر غریب ہو ۔ ۔ ۔ میں نے شرمیلی ہنسی ہنسی ۔ ۔ بس یار ۔۔۔ یہی سب ہے جو تمہارے سامنے ہے ۔۔۔

    (دھیان کیجیے، میں نے شرمیلی ہنسی کہا شرمندگی والی نہیں۔ ۔ کیونکہ ان چار سالوں میں نہ کبھی اپنی حیثیت چھپانے کی کوشش کی اور نہ بڑھا کر بتانے کی۔ یعنی نہ امیروں جیسا دکھنے کی جھوٹی کوشش کی، ۔ ۔ اور نہ اپنی غربت کو اشتہار بنایا۔ ۔ بس دوستوں کے ساتھ دوستی ہی نباہی۔ )

    دوست نے کہا، ۔ ۔ ۔ مگر ان تمام سالوں میں تم نے کبھی احساس نہیں ہونے دیا۔ ۔ کہ تمہاری جیب میں پیسے نہیں رہے۔ تم اپنے پیسے خود دیتے تھے۔ ۔ اگر کبھی ہماری ٹریٹ ہوتی تھی، تو کبھی تمہاری ٹریٹ ہوتی تھی۔ ۔ ہمیں لگا ہی نہیں کبھی کوئی فرق۔ ۔

    دوستو، فرق تھا۔ ۔ ۔ بہت بڑا فرق تھا۔ ۔ انکے کپڑے جوتے ہر سیزن بدل۔جاتے تھے۔ فیشن کے مطابق ہوتے تھے۔ ۔ میرے کپڑے جوتے صاف تو ہوتے تھے مگر پرانے تھے۔ ۔ جوتا اوپر سے پالش ہوتا تھا مگر اسکا تلا اتنا پتلا تھا کہ گرمی میں سڑک کی گرمی اور سردی میں کنکریٹ کی ٹھنڈک پاؤں تک آتی تھی۔ ۔ ۔

    دوسرا فرق یہ تھا کہ جس روز میری جیب میں اپنے ڈرنک کافی کے پیسے نہیں ہوتے تھے، میں خاموشی سے کسی اسائنمنٹ کو پورا کرنے کے بہانے آئی ٹی لیب میں گھس جاتا تھا، ۔ ۔ اور وقت گزر جاتا تھا۔

    جانے یہ ہماری جنریشن تک تھا یا اب نوجوانوں میں بھی کچھ ایسے ہی خوددار نوجوان ہونگے جو جیب میں اپنے پیسوں کے علاوہ کسی سے امید یا لالچ نہیں رکھتے۔ ۔ ۔ کیونکہ میں مسلسل مشاہدہ کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا پر بھی اور عام میل جول میں بھی اکثر ایسے لوگ سامنے آتے ہیں جو دعوت دینے سے زیادہ دعوت کھانے کی خواہش کرتے نظر آتے ہیں۔ ۔ ۔ تحفہ دینے کی بجائے مانگنے کا رواج چل پڑا ہے شائد۔ ۔ ۔ کالج گوئنگ کی اکثر بات چیت میں دوسرے سے پارٹی چھیننے کی پلاننگ ہوتی ہے، ۔ ۔

    اس سے زیادہ شرمندگی والا رویہ آنلائن سیلز کے اشتہار میں ہوتا ہے، جہاں لوگ ڈھٹائی سے مفت مانگنے کا کام کرتے ہیں۔ کتاب کے اشتہار یا ریویو پر کتاب مفت مانگنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ ۔ اور کوئی پوچھے تو اپنی تہی دستی، تنگ دامنی، غربت کا رونا رویا جاتا ہے۔

    مجھے لگتا ہے کہ بھکاری نفسیات ہماری اگلی جنریشنز میں بڑھتی جا رہی ہے، اور خود داری اور مہمانداری پرانے قصے ہوتے جا رہے ہیں۔ مادیت پرستی ہے، کردار و تربیت کی کمی ہے، یا گھٹیا تربیت جو کچھ قبائل سے اب مین اسٹریم میں داخل ہو رہی ہے، ۔ ۔ جو بھی ہے، اس سے ایسی سماجی روایت بن رہی ہے جس میں مفت بری کوئی عیب نہیں ہے۔

    دوسری جانب، اللہ کی نعمتوں کا کفران ہے جب آپ ٹھیک ٹھاک ہوتے ہوئے محض ایک پیزے، ایک برگر، ایک بریانی، یا ایک کتاب کی خاطر اپنی جیب خالی ہونے کا رونا روتے ہو۔ ۔ ۔ خدا شکر کرنے والوں کو نوازتا ہے اور ناشکری والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ انکا رزق یقینا سکڑ جاتا ہے۔

    میں نے اپنے دوست کو اپنے دادا جی کی نصیحت سنائی، جو وہ مجھے ہمیشہ کرتے تھے۔ کہ انسان اپنی جیب سے نہیں اپنے دل سے امیر ہوتا ہے۔ دل امیر ہو تو جیب میں چند روپے بھی پادشاہئ ہے، اور دل غریب ہے تو ایک وسیع سلطنت کا بادشاہ بھی غریب ہے۔ ۔ ۔

    بس میں نے کالج کے ان سالوں میں دادا جی کی اس نصیحت پر عمل کیا اور کچھ نہیں۔ ۔ ۔ بادشاہ پیاسا بھی ہو تو وہ کتے کی مانند جوہڑ پر منہ نہیں جھکاتا۔ ۔

    اللہ ہمیں بھکاری نفسیات سے بچائے اور ہمارے بچوں کو بادشاہوں جیسا جینا سکھائے۔ آمین۔

  • میٹھا میٹھا زہر!!! — ابو بکر قدوسی

    میٹھا میٹھا زہر!!! — ابو بکر قدوسی

    ایک صاحب کی چند برس پہلے سوال جواب کی نشست تھی ، خاتون نے سوال پوچھا کہ کیا مسلمان عورت کسی غیر مسلم سے شادی کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔ تو آسان سا جواب تھا کہ جو شریعت محمد رسول اللہ پر نازل ہوئی ہے اس میں کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔ لیکن ایسے جواب سے موصوف مفتی کی روشن خیالی متاثر ہوتی تھی سو انہوں نے اس خاتون کو میٹھا زہر کھلا دیا ۔

    ان کا جواب یہ تھا کہ شریعت نے شرک سے شادی کو حرام قرار دیا ہے ۔ بظاہر یہ بڑا اچھا جواب ہے اور بہت سے لوگ لوگ اس جواب کے اندر چھپا زہر کھا جائیں اور ان کو معلوم بھی نہ ہو کہ انہوں نے کیا کھایا ہے ۔

    اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس میں زہر کیا ہے ۔ زہر اس میں یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو کہے کہ

    "وہ اللہ کے سوا سوا کسی کو خالق مانتا ہے نہ اس کے سوا کسی کی عبادت کو درست سمجھتا ہے ، لیکن (محمد) کو نبی نہیں مانتا , نہ وہ اللہ کے پیغمبر تھے اور نہ ہی وہ سچے تھے ”

    تو اوپر بیان کردہ اصول کے تحت ایسے شخص سے بھی مسلمان عورت شادی کر سکتی ہے ، کیونکہ یہ شخص مشرک نہیں ہے یا اس دعویٰ واحدانیت پر ایمان کا ہے۔۔۔۔

    یاد رہے کہ وہ سوال کرنے والی خاتون یورپ کے کسی ملک کی مقیم تھی اور اس نے اس سوال کا پس منظر بھی بتایا تھا ۔ اور اس جواب کے تحت خاتون کے لئے راستہ کافی آسان ہوگیا تھا ۔ یہ ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے کے اشارہ ابرو کو دیکھ کر ایسا جواب دے دیا جائے کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔

    جبکہ دین نے اسلام عوام ایسی مداہنت کا ہرگز قائل نہیں نہیں ، وہ صاف سیدھی بات کرتا ہے اور سیدھی بات کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
    اسلام رویے میں نرمی کا قائل ہے نہ کہ لوگوں کے چہرے دیکھ کر اصولوں کو نرم کر لینے کا نام۔۔۔

  • ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں —- ریاض علی خٹک

    ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں —- ریاض علی خٹک

    احسان اللہ مونی ایک بنگالی فلسماز ہے. اس نے تقریباً 60 ملین ڈالر خرچ کر کے ڈھاکہ میں ڈپلیکیٹ تاج محل بنایا. احسان اللہ نے بتایا کہ 1980 میں وہ جب آگرہ گیا اور اس نے تاج محل دیکھا تو وہ اسے دیکھتا ہی رے گیا. اس نے سوچا کتنے غریب بنگالی ہوں گے جو زندگی بھر اس حسن تعمیر کو دیکھ ہی نہیں پائیں گے. اور اسی سے اسے خیال آیا کیوں نہ بنگلا دیش میں بھی ایک تاج محل بنایا جائے.

    بنگلا دیش میں تاج محل بن گیا. بیشک یہ اصلی تاج محل نہیں نہ حسن تعمیر میں اسے مات کر سکتا ہے. لیکن آج کوئی بنگالی خاندان جب اپنے بال بچوں کے ساتھ سیر کیلئے چار ایکڑ پر پھیلے اس تاج محل میں آتا ہے تو اپنے بچوں کو یہ ضرور بتا سکتا ہے آگرہ کا تاج محل بلکل ایسا ہی ہے.

    ہم لوگ جب کسی خوبصورت حسین یا تاریخی مقام پر جاتے ہیں تب ہم ایک خوف کا شکار ہو جاتے ہیں. یہ خوبصورت پل یہ حسین یادیں کہیں ہم کھو نہ دیں. ہم ان کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں. تاکہ آنے والے وقتوں میں ہم بتا سکیں ہم نے یہ مقام دیکھا ہے. اس لئے ہم دھڑا دھڑ وہاں تصاویر نکالتے ہیں. کچھ بے وقوف اسی خوف کا شکار ہو کر وہاں اپنے نام لکھنا شروع کر دیتے ہیں.

    آپ آج بھی اپنی آنکھیں بند کر کے اپنی زندگی کے وہ حسین پل خوبصورت مقامات کا سوچیں تو آپ کو اکثریت یادیں وہ ملیں گی جو تصاویر میں نہیں ہوں گی. خوف کی ہر یاد دماغ بھول جاتا ہے. اپنی ماضی کی تصاویر آپ کو اجنبی لگیں گی. کچھ احسان اللہ مونی کی طرح لوگ بھی ہوتے ہیں. وہ یہ حسن اپنے ساتھ لے آتے ہیں. اپنی یادوں میں سب کو شامل کر لیتے ہیں.

    لندن پیرس سوئٹزرلینڈ کے حسن اور یادیں بیان کرتے لوگ یا دوسرے معاشروں کے انصاف اور انتظام کی کہانیاں سنانے والے ہمارے لوگ بھی اگر اپنے خوف سے نکل کر یہ حسن صفائی انتظام اور انصاف اپنے ساتھ لاتے اپنے آبائی علاقوں میں وہی مثل بنا کر دکھاتے تو یہاں کے غریب بھی اپنے بچوں کو دکھاتے دیکھو سوئٹزرلینڈ لندن پیرس کی سڑکیں گلیاں ایسی ہوتی ہیں. وہاں انصاف ایسا ہوتا ہے.

    لیکن ہمارے پاس کوئی احسان اللہ مونی نہیں. ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں جن کو دیکھنے کیلئے ہماری نسل باہر جانے کے خواب دیکھتی ہے. ان دشوار راستوں پر یہ قوم اپنے لاکھوں بچے ہار گئی ہے.

  • ہمت اور حوصلہ — ریاض علی خٹک

    ہمت اور حوصلہ — ریاض علی خٹک

    آپ کو اگر جانوروں کی دنیا میں کوئی دلچسپی ہو اور آپ انکا مشاہدہ کرتے ہوں تب بہت سی عجیب باتیں آپ دیکھتے ہیں. جیسے زیبرا کے غول کے سب سے بڑے دشمن شیر ہوتے ہیں. لیکن آپ دیکھیں گے زیبرے اُسی وقت اطمینان اور سکون سے میدانوں میں گھاس چر رہے ہوتے ہیں جب شیروں کا خاندان دھوپ میں سامنے لیٹا ہو.

    لیکن جب شیر نظر نہ آرہے ہوں تو پورا غول خوفزدہ ہوتا ہے. ہوا سے بھی لمبی گھاس ہلے تو ڈر کر دوڑ لگا لیتے ہیں. آپ کو ان کی سراسیمگی باقاعدہ محسوس ہو رہی ہوتی ہے. ان کے کان کھڑے ہوتے ہیں. یہی حال انسان کا بھی ہوتا ہے. بس ہمیں اسے سمجھنا ہوتا ہے.

    وہم اندیشے ہمارے وہ خوف ہیں جو ہمیں تب ڈراتے ہیں جب ہمارا خوف ہمارے سامنے نہ ہو. جیسے ناکامی کا خوف ہو جیسے دوسروں کے سامنے مذاق بن جانے کا ڈر ہو. جیسے کچھ کھو دینے کا خوف ہو. سامنا کرنے کا ڈر ہو. ہمارا دماغ اس ان دیکھے خوف کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کر رہا ہوتا ہے اور ہر تجزیے پر ہمارا ڈر مزید بڑھ رہا ہوتا ہے.

    ہم اس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نہ زیبرا ہیں نہ کوئی دوسرا جانور جسے خوف کا انتظار کرنا پڑے. ہم انسان ہیں اور ہمارے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ بجائے خوف کے انتظار کے ہم خود اس خوف کے سامنے کھڑے ہو جائیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ تقدیر ہماری لکھی جا چکی ہے.

    ہمت اور حوصلہ کسی دوسرے کو زمین پر گرانے کا نام بلکل نہیں ہے. یہ اپنے خوف کو ڈھونڈ کر اسے آزمانے کا نام ہے. یہی وہ تربیت ہے جو آزمائش سے پہلے جب ہم آزما لیتے ہیں تو کل جب وہ آزمائش سامنے کھڑی ہو تب ہم سکون سے اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں. مقابلہ پھر بھی لازم ہوگا لیکن وہ خوف ڈر نہیں ہوگا جو آپ کو لڑنے سے پہلے ہی ہرا چکا ہوتا ہے.

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کیلئے کراچی پہنچ گئی۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کیلئے کراچی پہنچ گئی۔

    دو ٹیسٹ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز کیلئے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کیلئے کراچی پہنچ گئی ہے.

    نیوزی لینڈ ٹیم کا کراچی پہنچنے پر آفیشلز کے ہمراہ پرتپاک استقبال کیا گیا، پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور گلدستے پیش کیے گئے، کیوی ٹیم کو صدراتی پروٹوکول حاصل ہے۔ جس کے باعث ائیرپورٹ اور اطراف میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں مہمان ٹیم ٹیم آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹ چیمپئن شپ کے 2 ٹیسٹ میچز کھیلے گی جس کے بعد ون ڈے سیریز شیڈول ہے۔

    سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 26 دسمبر سے کراچی میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 3 جنوری کو ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں شیڈول ہے۔ ون ڈے سیریز کی میزبانی بھی کراچی کے سپرد کی گئی ہے، تینوں میچز بالترتیب 10، 12 اور 14 جنوری کو نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے.وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری
    پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات
    لندن میں مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ نے ٹی وی چینل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا۔
    سینما کی تاریخ کا مشکل ترین، ممکنہ طور پر جان لیوا اور مہنگا اسٹنٹ ٹام کروز پر فلمبند
    سینجنٹا کا فصلوں کے بیمہ پروگرام کا کامیابی سے آغاز
    بازو میں شدید درد کی شکایت، وجہ لبلبے کا سرطان قرار
    اسلام آباد سے شارجہ جانیوالے مسافر کے پیٹ سے ہیروئن بھرے کیپسول برآمد
    کیوی ٹیم دوسرے مرحلہ میں 13 اپریل سے 7 مئی تک دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گی، اس دوران دونوں ممالک کے درمیان 5 ٹی20 انٹرنیشنل اور اتنے ہی ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے جائیں گے۔

  • بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    "کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں”

    ,وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

    "اور”انوکھا لاڈلا”

    جیسے بے شمار مقبول گیت گانے والی گلوکارہ بلقیس خانم کراچی میں انتقال کرگئیں۔بلقیس خانم نے ریڈیو، ٹی وی کے ساتھ فلموں کے لئے بھی یاد گار گیت گائے۔ میوزک انڈسٹری نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے
    وہ معروف ستار نواز استاد رئیس خاں کی بیوہ تھیں۔

  • بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    پیدائش:21 دسمبر 1804ء
    لندن
    وفات:19 اپریل 1881ء
    مے فیئر
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مذہب:کلیسائے انگلستان
    (اپنی زیادہ تر زندگی میں)
    یہودی (13ویں سال تک)
    جماعت:کنزرویٹو پارٹی
    رکن:رائل سوسائٹی
    پیشہ:سیاست داں، ناول نگار
    مصنف، سوانح نگار
    زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ گلاسگو
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)رائل سوسائٹی فیلو
    ۔ (2)آرڈر آف گارٹر
    وزیر اعظم مملکت متحدہ
    مدت منصب
    ۔ 20 فروری 1874 – 21 اپریل 1880
    حکمراں، ملکہ وکٹوریہ
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1868 – 1 دسمبر 1868
    قائد حزب اختلاف
    مدت منصب
    ۔ 01 دسمبر 1868 – – 17 فروری 1874
    چانسلر
    مدت منصب
    ۔ 06 جولائی 1866 – 29 فروری 1868
    مدت منصب
    ۔ 26 فروری 1858 – 11 جون 1859
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1852 – 17 دسمبر 1852

    بنجمن ڈزریلی (پیدائش: 1804ء، انتقال: 1881ء) یہودی نژاد برطانوی وزیر اعظم۔ ابتدا میں ناول لکھتے تھ۔ 1837میں پارلیمنٹ کا رکن بنے۔ 1852ء میں وزیر خزانہ اور 1837ء میں وزیر اعظم بنے۔ کچھ عرصے بعد ان کی پارٹی ہار گئی لیکن نئے انتخابات میں کامیاب ہو کر 1874ء سے 1880ء تک پھر وزیر اعظم رہے۔ ان کے عہدِ وزارت میں مزدوروں کی بہبود کے لیے کارخانوں میں نئی اصلاحات کی گئیں۔ نہر سویز کے حصص خریدے گئے اور ملکہ وکٹوریہ ہندوستان کی ملکہ بنی۔