Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نفاذِ اُردو: افادیت و اہمیت — اشرف حماد

    نفاذِ اُردو: افادیت و اہمیت — اشرف حماد

    اردو ہماری تہذیبی زبان ہے جو بہت شیرین اور خوبصورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص اچھی اور رواں اردو بولتا ہے، اس کی بات سنتے ہوئے لطف آتا ہے۔ اردو کو ہندوستان کی Native زبان قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی پیدائش ہندوستان میں ہی ہوئی۔ باقی زبانیں تو باہر سے آئی ہوئی ہیں۔ فارسی مغلوں کے ساتھ آئی جبکہ عربی زبان عربوں نے درآمد کی۔ اسی طرح انگریزی انگریزوں کے ساتھ یہاں آئی۔ لیکن اردو زبان نے یہیں جنم لیا اور یہیں نشوونما پایا۔

    متحدہ ہندوستان میں اردو زبان فطری، خلقی اور رواداری کی زبان ہے جسے بلا تمیز رنگ و نسل و مذہب بڑے شوق اور اعتماد سے بولتے ہیں۔ یہ گنگا جمنی ثقافت کی روادار زبان ہے۔ اردو بر صغیر کی جدید زبانوں میں ایک زبان ہے لیکن جس تیزی سے اس نے لسانی اور زبان دانی کے اعتبار سے جلد ہی ارتقائی منازل طے کیں وہ رفتار حیرت انگیز ہے۔

    انہوں نے اردو زبان سے عربی کے الفاظ نکال کر سنسکرت زبان کے چند الفاظ شامل کرکے اسے ہندی زبان کا نام دے دیا، جس کی وجہ سے ہندی اردو تنازعات نے جنم لیا۔ جبکہ اس سے قبل سب اردو زبان ہی بولتے تھے اور ہندوؤں کی اصل زبان سنسکرت تقریباً معدوم ہوچکی تھی۔

    ہم نے جو حال اپنی ثقافت کے ساتھ کیا اس سے کہیں برا حال ریاستی سرکاری زبان اردو کے ساتھ کیا۔ ہم نے ریاست میں اردو کے بجائے انگریزی زبان نافذ کردی اور گزشتہ تہتر سال سے یہی زبان نافذ ہے۔ سرکاری و پرائیویٹ دفاتر، تعلیمی ادارے اور عوامی مقامات انگریزی زبان سے ہی بھرے پڑے ہیں۔ اردو زبان کی یہ اہمیت ہے کہ ہر بچہ معاشرے سے یہ زبان سیکھ لیتا ہے، اس کے بعد اسے انگریزی سیکھنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر اس کے سیکھنے میں کچھ کمی رہ جائے یا نہ سیکھ پائے تو اس کےلیے جینا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ یہاں تو ہر جگہ انگریزی کا راج ہے اردو زبان کو پوچھتا ہی کون ہے؟ وہ جیسی کیسی بھی بول یا سمجھ لی تو کام چل جاتا ہے لیکن انگریزی میں کسی قسم کی کمی پائی گئی تو کتنا ہی محب وطن کیوں نہ ہو جاہل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ دفاتر میں جائے تو وہاں انگریزی میں حکمنامے پکڑا دیے جاتے ہیں جنہیں پڑھنے اور سمجھانے کےلیے انگریزی دان کی ضرورت پیش آتی ہے۔ عوامی مقامات پر انگریزی اشارات پر مشتمل بورڈ لگے ہوتے ہیں جنہیں ایک ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ شخص کےلیے پڑھنا نہایت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔

    اسکول و کالج میں انگریزی کی کتب کی بھرمار ہے۔ انگریزی کا مضمون تو لازمی ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی جس کتاب پر نظر دوڑائی جائے سبھی انگریزی میڈیا کی ہی دکھائی دیتی ہیں اور طلبا بھی انہیں انگریزی مضمون ہی تصور کرتے ہیں اور رٹے لگا کر امتحانات میں کامیابی بلکہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی انہیں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اصل میں یہ کتا ب کہہ کیا رہی ہے؟ یعنی اصل علم و فن پر توجہ دینے کے بجائے پوری توجہ انگریزی زبان پر صرف کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حاملین اسناد (ڈگری ہولڈرز) تو بہت ہیں لیکن ماہرین فن نہیں ہیں۔

    ترقی اصل میں کسی خاص زبان کے سیکھنے سے نہیں ہوتی بلکہ ترقی کے لیے علوم و فنون میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اردو بھی تو ایک زبان ہے لیکن اس کے ماہرین کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ اس لیے لوگ اردو کے بجائے انگریزی پر زیادہ جان کھپاتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ انگریزی میں ماسڑز کی ڈگری کی بہت اہمیت ہے۔ ہمارے تمام امتحانات انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔ کوئی طالب علم کسی علم و فن میں مہارت حاصل کرلے یا کسی دوسری زبان بالخصوص اردو میں ماسٹرز کرلے بلکہ حقیقی معنوں میں ’’ماسٹر‘‘ ہوجائے، لیکن اسے ہر قیمت پر انگریزی زبان میں ماہر ہونا پڑتا ہے۔ اگر وہ انگریزی میں ماہر نہیں تو کوئی امتحان بالخصوص آئی اے ایس وغیرہ جیسے اہم ترین امتحانات پاس کرنا ناممکن ہے۔

    پھر انگریزی زبان کا ایسا رعب ہمارے اذہان پر چھایا ہوا ہے کہ ہمیں اردو میں دو چار الفاظ انگریزی کے ملائے بغیر سکون ہی نہیں ملتا۔ بلکہ دوران گفتگو اردو میں انگریزی کے دو چار الفاظ نہ بولنے والے کو پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یعنی تمام علوم و فنون میں ماہرین کو خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کےلیے اردو زبان کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔

    اگر صرف انگریزی ہی اعلیٰ تعلیم کا معیار ہوتی تو یورپ و امریکا میں ریڑھی بان بھی روانی کے ساتھ انگریزی بولتے ہیں لیکن انہیں تو تعلیم یافتہ خیال نہیں کیا جاتا لیکن ہمارے معاشرے میں علم کا معیار ہی کچھ اور ہے۔ ہمارے کچھ مفکرین کا خیال ہے کہ اردو زبان میں لچک ہے اور وہ دوسری زبانوں کے الفاظ قبول کرتی ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ہم خود ہی زبردستی انگریزی کو اس میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا یہ خیال کہ اردو زبان میں لچک ہے، یہ بھی انگریزی کو اردو میں شامل کرنے کی کوشش ہے۔ اگر اسی طرح اردو میں لچک باقی رہی تو پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اردو کی شکل یہ ہوگی کہ تمام الفاظ انگریزی زبان کے ہوں گے اور چند ایک الفاظ اردو کے رہ جائیں گے اور اس اردو ملی انگریزی کو اردو زبان کہا جائے گا۔

    انہی غلط خیالات کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ترقی میں پیچھے ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو ہم یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ انہوں نے اپنی قومی زبان کو ہی اپنایا، اسی میں تعلیم دی۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاں ماہرین فن پیدا ہوئے، جنہوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر ہم بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو دیگر اہم اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت بڑا قدم ہے کہ ہم انگریزی زبان کو اپنا مخصوص مقام دیں لیکن اس کو دوسری زبانوں کی قیمت پر حاوی نہ ہونے دیں، خاص طور پر اردو زبان پر اس کو سوار نہ ہونے دیں اور زیادہ سے زیادہ اردو زبان کو اشاعت و ترویج دیں۔

    انگریزی زبان ایک بین الاقوامی زبان ہونے کی حیثیت سے بہت اہمیت کی حامل ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسے اس حد تک استعمال کرنے لگیں کہ اپنی زبان کی تباہی کی پرواہ نہ رہے۔ اس لیے انگریزی کی اہمیت کے پیش نظر اسے صرف ایک مضمون کے طور پر چند ابتدائی درجات میں پڑھایا جائے۔ باقی اگر کسی کو انگریزی سیکھنے کا شوق یا ضرورت ہو تو اس کےلیے الگ سے کورسز کا اہتمام کیا جائے، پوری قوم پر اس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ تمام نصابی کتب کا سلیس اردو زبان میں ترجمہ کیا جائے اور اسی کو لازمی قرار دیا جائے۔ دفاتر سے بھی انگریزی کو نکال کر اردو کا نفاذ کیا جائے اور تمام سرکاری کارروائیاں اردو میں ہی انجام پذیر ہونی چاہئیں۔ اسی طرح انگریزی زبان کے الفاظ کو من و عن اردو میں استعمال کرنے کے بجائے ان کا ترجمہ کیا جائے اور حقیقت پسندی سے ترقی یافتہ ممالک کے ان اقدامات کا جائزہ لیا جائے جو انہوں نے اپنی قومی و ثقافتی زبان کی ترقی و ترویج کےلیے اٹھائے۔ تہذیبی اور قومی زبان ہی ملک و قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔

  • کامیابی کا کھویا — ابن فاضل

    کامیابی کا کھویا — ابن فاضل

    مانسہرہ سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر، قومی شاہراہ سے آٹھ دس کلومیٹر اندر دشوار گذار پہاڑی راستہ پر واقعہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے. بفہ.. یہاں ایک صاحب ایک قسم کی مٹھائی بناتے ہیں جسے یہ لوگ کھویا کہتے ہیں. دودھ کی ربڑی کو دیسی گھی میں پکانے کے بعد مناسب مقدار میں شکر شامل کرکے ایک دانے دار براؤن سی حلوہ نما یہ مٹھائی بہت ہی خوش ذائقہ ہوتی ہے.

    لوگوں میں اس کی پسندیدگی کا یہ عالم ہے کہ بغیر پیشگی بکنگ اس کی دستیابی ناممکن ہے. حالانکہ منوں کے حساب سے روزانہ بنایا جاتا ہے. ملک کے طول وعرض سے لوگ بطور سوغات اسے منگواتے ہیں بلکہ بیرون ملک بھی بجھواتے ہیں. پچھلے دنوں مانسہرہ جانا ہوا تو جی میں آئی کہ تھوڑا سا کھویا ہم بھی لیجائیں. ایک دوست کو لینے کے لئے بھیجا. معلوم ہوا کہ ایڈوانس بکنگ کے بغیر آئے ہیں اس لیے نہیں مل سکتا. بہر حال بمشکل تمام کچھ مذاکرات کے بعد کسی اور گاہک کے بڑے آرڈر میں سے کچھ ڈبے ہمارے حصہ میں آئے.

    اب دیکھیں کہ کیسی حوصلہ افزا کامیابی کی داستان ہے. کسی بھی بڑے شہر سے دور، دشوار گزار پہاڑوں کے درمیان اس صاحب ہنر نے اپنی سوچ اور محنت سے کیسا راستہ نکالا. اس مشکل کے باوجود کہ اس مٹھائی کی تیاری کےلیے دودھ بھی مقامی طور پر دستیاب نہیں، ساہیوال کے نواح سے منگوایا جاتا ہے. اس خطے میں جہاں نوے فیصد لوگ مواقع اور وسائل کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں اس صاحب عمل نے ایسی مثال قائم کردی ہے کہ ناکامی کے دیگر تمام نوحے تن آسانی اور غیر عملیت پسندی کا شاخسانہ لگنے لگے ہیں.

    پیغام بڑا سادہ اور واضح ہے. بے شک مسائل ہوتے ہیں. بے شک وسائل اور مواقع کی عدم دستیابی اور معاشرتی منفی رویوں کے سپیڈ بریکر موجود ہیں. مگر مستقل مزاجی، محنت اور حکمت سے راستہ بنانے والے منزل پا ہی لیتے ہیں. اگر آپ کی مایوسی کی وجہ بھی وسائل اور مواقع ہیں تو ازسر نو غور کی صلاح دی جاتی ہے.

  • اے چاند خوبصورت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اے چاند خوبصورت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    صدیوں سے شاعروں کے حسن و تخیل کا استعارہ، بیوی ہو یا محبوبہ لے دے کر چاند میاں ہی اُنکی تعریف کے لئے بطور مثال استعمال کیے جاتے ہیں۔ دیوداس فلم میں پارو کو دیو بابو کہتا ہے۔ اتنا غرور تو چاند کو بھی نہیں۔ جس پر پارو نہایت فلمی انداز میں جواب دیتی ہے کہ کیسے ہو چاند پر داغ جو ہیں۔

    کچھ عرصہ تک پاکستان ٹیلیوژن پر ایک کپڑے دھونے کے پاؤڈر کا اشتہار قوم کو یہ باور کراتا رہا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ اور اس اشتہار سے وہ اپنا پاؤڈر بیچ کر چاندی کماتے رہے۔ لیجئے چاندی میں بھی چاند آ گیا۔

    مگر سوال یہ ہے کہ چاند پر داغ کیوں ہیں؟ اسکے لیے ہمیں چاند کی کچھ تاریخ سمجھنا ہو گی۔

    ہم یہ جانتے ہیں کہ نظامِ شمسی آج سے قریب 4.6 ارب سال پہلے بنا۔ پہلے پہلے سورج بنا پھر اسکی دیکھا دیکھی باقی بچے کچھے نبیولا سے زمین اور دیگر سیارے۔ زمین کے بننے کا عمل تقریباً 4.5 ارب سال پہلے شروع ہوا۔ اسے ہم پروٹو ارتھ یعنی بنیادی زمین کہہ لیتے ہیں۔ اب جب زمین بنی تو نظامِ شمسی میں کوئی نظم و ضبط نہیں تھا۔ یوں سمجھیں کہ برتھ ڈے پارٹیاں چل رہی تھیں۔ کوئی سیارہ بن رہا ہے، کوئی کہاں سے کہاں ناچ رہا یے, کہیں گیس اور خلائی گرد بہک رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زمین کے پاس مریخ جتنا بڑا ایک اور سیارہ "تھییا” ٹکرایا۔ اس سیارے کے ٹکرانے سے سیارے کا کچھ حصہ زمین میں شامل ہوا اور زمین اور تھییا کا کچھ حصہ خلا میں بکھر گیا جو زمین کے گرد گریویٹی کے باعث چکر کاٹنے لگا۔ بالکل ویسے ہی جیسے آج زحل کے گرد رنگز ہیں جو مختلف چھوٹی بڑی چٹانوں پر مشتمل ہیں۔ وقت کیساتھ ساتھ یہ ٹکڑے آپس میں جڑتے گئے اور چاند کی شکل اختیار کر گئے۔
    یہ نظریہ اس وقت کا سب سے زیادہ مانا جانے والا نظریہ ہے جسکے حق میں کمپیوٹر ماڈلز اور کئی اور ثبوت پیش کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر چاند کے مدار اور زمین کی محوری گردش ایک سمت میں ہونا۔ چاند اور زمین کی چٹانوں کے تجزیے ، کائنات کے دوسرے ستاروں کے نزدیک انکے سیاروں میں ایسے واقعات کے مشاہدات وغیرہ وغیرہ۔

    شروع شروع میں چاند زمین کے بے حد قریب تھا یعنی محض 22 ہزار 500 کلومیٹر دور۔ (آج چاند ہم سے تقریباً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے) جو آہستہ آہستہ زمین سے دور ہوتا گیا ۔ چاند آج بھی زمین متواتر 3.8 سینٹی میٹر دور ہو رہا ہے۔ وجہ زمین اور چاند کا کھچاؤ اور سمندروں میں ٹائڈز۔

    اس سے چاند تو دور ہو رہا ہے مگر زمین بھی اپنے محور کے گرد گھومتے ہوئے آہستہ ہو رہی ہے جس سے دن کا دورانیہ بتدریج بڑھ رہا ہے۔ آج سے 3.8 ارب سال پہلے جب زمین پر زندگی وجود میں آئی تو دن کا دورانیہ 12 گھنٹے سے بھی کم تھا۔

    سو ماضی میں چاند زمین سے روٹھے محبوب کیطرح دور ہوتا گیا اور ستم ظریفی کہ زمین سے جدائی کی پاداش کہئے یا اسکا مقدر کہ اس پر کئی چھوٹے بڑے شہاب ِ ثاقب گرتے رہے۔ چاند پر لاوے سے گھاٹیاں بنتی گئے شہابیوں سے بڑے بڑے گڑھے ہوتے گئے۔ جہاں جہاں لاوا پگھل کر ٹھنڈا ہوا وہاں کی مٹی اور چٹانیں باقی چاند کی نسبت کالی رہی۔

    چاند پر آج دکھنے والے داغ ماضی میں اس پر ہولناک تباہیوں کے آثار ہیں جو ہمیں اسکے داغدار ماضی کے بارے میں بتاتے ہیں۔سو پارو کا یہ کہنا کہ چاند کو غرور اس لیے نہیں کہ اس پر داغ ہیں، تھوڑی زیادتی ہے کیونکہ چاند بیچارے نے تو خوبصورت ہونے کے لیے بڑے داغ سہے ہیں۔

    اور بقول فیض:
    ہر داغ ہے اس دل پہ بجز داغِ ندامت

    خیر اب حالت یہ ہے کہ چاند ہمارے آسمان کا سب سے خوبصورت جُز ہے۔ اسکے استعمال سے نہ شاعروں نے اور نہ ہی مجبور عاشقوں نے باز آنا ہے اور نہ ہی سامنے بیٹھے محبوباؤں یا بیگمات نے اس استعارے سے دھوکہ کھانے سے رکنا ہے۔ کیونکہ چاند ہے ہی اتنا خوبصورت۔

  • ہماری دودھیا کہکشاں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری دودھیا کہکشاں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ساحر لدھیانوی (ساحر لودھی نہیں) برصغیر کے مشہور نغمہ نگار اور شاعر گزرے ہیں۔ اُنکی ایک خوبصورت نظم "انتظار” کا ٹکڑا تھا:

    دور وادی میں دودھیا بادل
    جھک کے پربت کو پیار کرتے ہیں

    دل میں ناکام حسرتیں لے کر
    ہم ترا انتظار کرتے ہیں

    ان بہاروں کے سائے میں آ جا
    پھر محبت جواں رہے نہ رہے

    زندگی تیرے نامرادوں پر
    کل تلک مہرباں رہے نہ رہے!

    اب ساحر صاحب تو ٹھہرے بڑے شاعر، دودھیا بادلوں کے چکر میں پوری نظم کہہ گئے مگر ہم کس خوبصورت شے پر کس خوبصورت زبان میں لکھیں؟

    چلیے ہم شاعری کی بجائے سائنس کی زبان استعمال کرتے ہیں اور دودھیا بادلوں کی جگہ دودھیا کہکشاں کا ذکر چھیڑتے ہیں۔ وہ کہکشاں جو قدیم دور میں مصنوعی روشنیاں نہ ہونے کے باعث رات کو صاف آسمانوں پر دودھیا لکیر سی دکھتی اور دیکھنے والوں کو وطیرہ حیرت میں ڈال دیتی۔ ایک سفید راستہ دور کہیں پراسرار آسمان کے بیچوں بیچ۔ نجانے وہاں کیا ہو گا؟

    مگر آج ہم جانتے ہیں کہ ہم بھی اسی دودھیا کہکشاں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ اس کہکشاں کو ملکی وے کہتے ہیں۔ ہمارا سورج اس کہکشاں کے کئی ارب ستاروں میں سے ایک معمولی سا ستارا ہے۔

    یہ کہکشاں کتنی وسیع ہے؟ اگر آپ روشنی کی رفتار سے سفر کریں(جو کہ ناممکن ہے مگر فرض کیجئے) تواسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کے لیے آپکو کم و بیش 1 لاکھ سال درکار ہونگے۔ گویا اس کہکشاں کا قطر تقریباً 1 لاکھ نوری سال ہے۔

    ملکی وے پرانے دور کے کمپیوٹر کی سی ڈی کیطرح چپٹی اور گول نہیں ہے بلکہ یہ ایک سپائرل شکل کی ہے یعنی بھنور جیسی اور اسکے اسکے چار بڑے اور پھیلے بازو ہیں جیسا کہ تصویر میں دِکھ رہے ہیں۔ ہمارا نظام شمسی، ہماری زمین اور ہم ان میں سے ایک بازو میں کہیں نقطے کی مانند موجود ہیں۔ ملکی وے کی موٹائی تقریباً 1 ہزار نوری سال ہے۔ تو نہ ہی یہ سی ڈی کیطرح چپٹی ہے اور نہ ہی مکمل گول۔

    اس کہکشںاں میں موجود تمام ستارے بشمول سورج اسکے مرکز میں موجود ایک بہت بڑے بلیک ہول کے گرد گھوم رہے
    ہیں۔ اگر یہ بلیک ہول نہ بھی ہوتا تو بھی سورج اور ستارے اس کہکشاں کے مرکز کے گرد ہی گھومتے۔ایسا کیوں؟ یہ بحث پھر کبھی۔ اس کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول کا ماس، سورج کے ماس سے 40 لاکھ گنا زیادہ ہے!! مگر گھبرائیں نہیں ، ہماری زمین اس بلیک ہول سے کافی دور ہے یعنی تقریباً 28 ہزار نوری سال دور۔

    آپ اس وقت جو یہ تحریر پڑھ رہے ہیں اور میں جو یہ تحریر لکھ رہا ہوں، ہم دونوں اس کہلشاں کے مرکزی بلیک ہول کے گرد 28 ہزار نوری سال فاصلے پر 80 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہے ہیں۔ اگر آپ اس تحریر کو ڈیڑھ منٹ میں پڑھتے ہیں تو تحریر کے ختم ہونے تک آپ کہکشاں میں موجودہ مقام سے، کہشکشاں کے مرکز کا محور کرتے 20 ہزار کلومیٹر دور جا چکے ہونگے۔ اسی رفتار سے ہمارا نظامِ شمسی ہر 23 کروڑ سال میں ہماری کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر لگاتا ہے۔ یعنی آخری بار سورج اس کہکشاں میں جس مقام پر اب ہے ، وہ تب تھا جب زمین پر ڈائناسورز اج سے 23 سے 25 کروڑ سال پہلے نمودار ہوئے تھے۔

    ہماری کہکشاں میں موجود اربوں ستاروں کے گرد کئی سیارے اپنے اپنے مدار میں ویسے ہیں گھوم رہے ہیں جیسے ہمارے سورج کے گرد اسکے آٹھ سیارے۔ سائنسدان اب تک تقریباً 5 ہزار ایسے سیارے ڈھونڈ چکے ہیں جن پر شاید کسی یا کئییوں پر زندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو۔

    ہماری کہکشاں سے بڑی اربوں اور کہکشائیں اس کائنات میں موجود ہیں جن میں اب تک کی دریافت کردہ سب سے بڑی کہکشاں کا نام IC1101 ہے اور یہ 40 لاکھ نوری سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ یعنی یہ ہماری کہشاں سے بھی کئی گنا بڑی ہے۔ کائنات اتنی وسیع ہے یہ سوچ کر ذہن چکرا سا جاتا ہے۔ ویسے ساحر لدھیانوی صاحب کو اس پر بھی کچھ لکھنا چاہیے تھا مگر وہ تو 1980 میں دارِ فانی سے کوچ کر گئے تو چلیے ہم ہی ایک شعر کہے دیتے ہیں:

    وسعتِ ابتدا؟ نہیں معلوم
    وسعتِ انتہا؟ نہیں معلوم
    ہم کو معلوم ہے جو ہے معلوم
    اور جو معلوم تھا، نہیں معلوم

  • بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    25 دسمبر یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔ زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔ وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

    محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • 26 دسمبر ،اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    26 دسمبر ،اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    مر بھی جائوں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

    26 دسمبر اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
    ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

    سیدہ پروین شاکر 24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

    سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق ہوئی ۔

    شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ 1977ء میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ آپ کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔

    26 دسمبر 1994ء کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔
    پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔

    پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔

    پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا
    دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

    منیر نیازی

    پیدائش:09اپریل 1928ء
    ہوشیار پور، ہندوستان
    وفات:26دسمبر 2006ء

    نام محمد منیر خاں قبیلہ نیازی پٹھان اور تخلص منیر ہے۔ 09اپریل 1928ء کو خان پور ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۷ء میں بی اے کیا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔مختلف اخبارات اور جرائد سے وابستہ رہے۔ فلمی نغمہ نگاری کی۔غزل ان کی بنیادی شناخت ہے۔پابند اور آزاد نظمیں بھی کافی تعداد میں لکھی ہیں۔ نثری نظمیں بھی لکھتے تھے۔پنجابی کے بھی بہت اچھے شاعر تھے۔وہ اردو اور پنجابی کے ۳۰؍ سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ اردو شاعری کے چند مجموعوں کے نام یہ ہیں : ’تیز ہوا اور تنہا پھول‘،’جنگل میں دھنک‘، ’دشمنوں کے درمیان شام‘، ’ماہ منیر‘، ’اس بے وفاکا شہر‘،’چھ رنگین دروازے‘۔ان کو یکجا کرکے ’’کلیات منیر‘، ’غزلیات منیر‘، اور ’نظم منیر‘، چھپ گئی ہے۔26؍دسمبر2006ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ’کمال فن‘ ایوارڈ دیا گیا۔ انھیں حسن کارکردگی ایوارڈ کے علاوہ دومرتبہ ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:221

    اشعار
    ۔۔۔۔۔

    کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
    سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

    آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
    ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

    اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
    شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

    خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
    ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

    یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
    تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

    خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
    سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

    اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا
    چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

    غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
    تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

    عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
    جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

    آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
    بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

    محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
    گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

    مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ
    اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

    وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دن
    وہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دن

    شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی
    رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا

    شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس
    رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

    خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت
    شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

    کٹی ہے جس کے خیالوں میں عمر اپنی منیرؔ
    مزا تو جب ہے کہ اس شوخ کو پتا ہی نہ ہو

    جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
    غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

    میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
    یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

    کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا
    مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

    کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مری
    یہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھے

    وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ
    آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

    تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں
    میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

    اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
    میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

    تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہو
    میں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتا

    کسی اکیلی شام کی چپ میں
    گیت پرانے گا کے دیکھو

    منیرؔ اس خوب صورت زندگی کو
    ہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہے

    پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو
    حسن والوں کی سادگی نہ گئی

    اچھی مثال بنتیں ظاہر اگر وہ ہوتیں
    ان نیکیوں کو ہم تو دریا میں ڈال آئے

    ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے
    تخت خالی رہا نہیں کرتا

    جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
    اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
    دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

    رہنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر
    ان روز و شب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں ملی

    میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میں
    مزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھا

    مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں
    میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

    میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
    عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

    بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
    اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

    غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوا
    بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا

    منیرؔ اچھا نہیں لگتا یہ تیرا
    کسی کے ہجر میں بیمار ہونا

    چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر
    ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو

    ہے منیرؔ تیری نگاہ میں
    کوئی بات گہرے ملال کی

    کچھ دن کے بعد اس سے جدا ہو گئے منیرؔ
    اس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی

    زمیں کے گرد بھی پانی زمیں کی تہہ میں بھی
    یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو

    مجھ سے بہت قریب ہے تو پھر بھی اے منیرؔ
    پردہ سا کوئی میرے ترے درمیاں تو ہے

    جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
    کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

    کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ کیسا شکوہ
    جتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہے

    دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرف
    یاد پیچھے کھینچتی ہے آس آگے کی طرف

    گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں
    چھتوں پر کھلے پھول برسات کے

    میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ
    یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

    اس کو بھی تو جا کر دیکھو اس کا حال بھی مجھ سا ہے
    چپ چپ رہ کر دکھ سہنے سے تو انساں مر جاتا ہے

    کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں ترے لیے
    تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا

    تیز تھی اتنی کہ سارا شہر سونا کر گئی
    دیر تک بیٹھا رہا میں اس ہوا کے سامنے

    اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
    پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

    کتنے یار ہیں پھر بھی منیرؔ اس آبادی میں اکیلا ہے
    اپنے ہی غم کے نشے سے اپنا جی بہلاتا ہے

    ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
    اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

    تھا منیرؔ آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
    اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا

    بیٹھ کر میں لکھ گیا ہوں درد دل کا ماجرا
    خون کی اک بوند کاغذ کو رنگیلا کر گئی

    اپنے گھروں سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگو
    کبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا

    یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
    تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
    پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اس نے کیا

    لیے پھرا جو مجھے در بہ در زمانے میں
    خیال تجھ کو دل بے قرار کس کا تھا

    جنگلوں میں کوئی پیچھے سے بلائے تو منیرؔ
    مڑ کے رستے میں کبھی اس کی طرف مت دیکھو

    نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
    یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

    میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد
    پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا

    میں خوش نہیں ہوں بہت دور اس سے ہونے پر
    جو میں نہیں تھا تو اس پر شباب کیوں آیا

    وہم یہ تجھ کو عجب ہے اے جمال کم نما
    جیسے سب کچھ ہو مگر تو دید کے قابل نہ ہو

    رویا تھا کون کون مجھے کچھ خبر نہیں
    میں اس گھڑی وطن سے کئی میل دور تھا

    اٹھا تو جا بھی چکا تھا عجیب مہماں تھا
    صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا

    ایسا سفر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں
    ایسا مکاں ہے جس میں کوئی ہم نفس نہیں

    دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
    دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

    غیر سے نفعت جو پا لی خرچ خود پر ہو گئی
    جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا

    گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے
    جو سایۂ کوئے یار اترا تو میں نے دیکھا

    وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پر
    میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو

    ہم بھی منیرؔ اب دنیا داری کر کے وقت گزاریں گے
    ہوتے ہوتے جینے کے بھی لاکھ بہانے آ جاتے ہیں
    یہ نماز عصر کا وقت ہے
    یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی

    بڑی مشکل سے یہ جانا کہ ہجر یار میں رہنا
    بہت مشکل ہے پر آخر میں آسانی بہت ہے

    ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
    زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں
    آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
    عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
    ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

    دن بھر جو سورج کے ڈر سے گلیوں میں چھپ رہتے ہیں
    شام آتے ہی آنکھوں میں وہ رنگ پرانے آ جاتے ہیں

    اب کسی میں اگلے وقتوں کی وفا باقی نہیں
    سب قبیلے ایک ہیں اب ساری ذاتیں ایک سی

    وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا
    ریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیا

    مہک عجب سی ہو گئی پڑے پڑے صندوق میں
    رنگت پھیکی پڑ گئی ریشم کے رومال کی

    جن کے ہونے سے ہم بھی ہیں اے دل
    شہر میں ہیں وہ صورتیں باقی

    رات اک اجڑے مکاں پر جا کے جب آواز دی
    گونج اٹھے بام و در میری صدا کے سامنے

    خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں
    جب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا

    شاید کوئی دیکھنے والا ہو جائے حیران
    کمرے کی دیواروں پر کوئی نقش بنا کر دیکھ

    اک تیز رعد جیسی صدا ہر مکان میں
    لوگوں کو ان کے گھر میں ڈرا دینا چاہئے

    منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

    تو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
    عکس دیوار کے بدلتے ہی

    ایک دشت لا مکاں پھیلا ہے میرے ہر طرف
    دشت سے نکلوں تو جا کر کن ٹھکانوں میں رہوں

    یہ میرے گرد تماشا ہے آنکھ کھلنے تک
    میں خواب میں تو ہوں لیکن خیال بھی ہے مجھے

    چاند چڑھتا دیکھنا بے حد سمندر پر منیرؔ
    دیکھنا پھر بحر کو اس کی کشش سے جاگتا

    جب سفر سے لوٹ کر آئے تو کتنا دکھ ہوا
    اس پرانے بام پر وہ صورت زیبا نہ تھی

    دیکھے ہوئے سے لگتے ہیں رستے مکاں مکیں
    جس شہر میں بھٹک کے جدھر جائے آدمی

    ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر
    اک حشر اس زمیں پہ اٹھا دینا چاہئے

    سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں
    ان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں

    لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
    برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    زندہ لوگوں کی بود و باش میں ہیں
    مردہ لوگوں کی عادتیں باقی

    دشت باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیا
    میں فقط خوشبو سے اس کی تازہ دم سا ہو گیا

    مرے پاس ایسا طلسم ہے جو کئی زمانوں کا اسم ہے
    اسے جب بھی سوچا بلا لیا اسے جو بھی چاہا بنا دیا

    جی خوش ہوا ہے گرتے مکانوں کو دیکھ کر
    یہ شہر خوف خود سے جگر چاک تو ہوا

    امتحاں ہم نے دیئے اس دار فانی میں بہت
    رنج کھینچے ہم نے اپنی لا مکانی میں بہت

    یہ سفر معلوم کا معلوم تک ہے اے منیرؔ
    میں کہاں تک ان حدوں کے قید خانوں میں رہوں

    ہے منیرؔ حیرت مستقل
    میں کھڑا ہوں ایسے مقام پر

    کھڑا ہوں زیر فلک گنبد صدا میں منیرؔ
    کہ جیسے ہاتھ اٹھا ہو کوئی دعا کے لیے

    تنہا اجاڑ برجوں میں پھرتا ہے تو منیرؔ
    وہ زرفشانیاں ترے رخ کی کدھر گئیں

    چمک زر کی اسے آخر مکان خاک میں لائی
    بنایا سانپ نے جسموں میں گھر آہستہ آہستہ

    قبائے زرد پہن کر وہ بزم میں آیا
    گل حنا کو ہتھیلی میں تھام کر بیٹھا

    مکان زر لب گویا حد سپہر و زمیں
    دکھائی دیتا ہے سب کچھ یہاں خدا کے سوا

    کوئلیں کوکیں بہت دیوار گلشن کی طرف
    چاند دمکا حوض کے شفاف پانی میں بہت

    ہوں مکاں میں بند جیسے امتحاں میں آدمی
    سختیٔ دیوار و در ہے جھیلتا جاتا ہوں میں

    بہت ہی سست تھا منظر لہو کے رنگ لانے کا
    نشاں آخر ہوا یہ سرخ تر آہستہ آہستہ

    زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
    کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

  • کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و  رقص کی اسکالر تھیں

    کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں

    تاریخ ولادت: 25 دسمبر 1928ء
    دہلی
    تاریخ وفات:16 ستمبر 2020ء
    دہلی
    والدین:رام لال ملک
    ستیہ وتی ملک
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    مشی گن یونیورسٹی
    بنارس ہندو یونیورسٹی

    25 دسمبر 1928 کو دہلی میں پیدا ہونے والی کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں۔ انھوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی اور امریکہ کے مشی گن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ کپیلا جی، جو سنگیت ناٹک اکیڈمی کی فیلو رہ چکیں تھیں، ممتاز ڈانسر شمبھو مہاراج اور مشہور مورخ واسودیو شرن اگروال کی شاگردہ بھی تھیں۔

    وہ راجیہ سبھا کے لئے 2006 میں نامزد رکن مقرر کی گئی تھیں اور فائدہ کے عہدے کے تنازع کی وجہ سے انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ راجیہ سبھا کی رکن نامزد کی گئیں۔ واتسیاین نیشنل اندرا گاندھی آرٹ سینٹر کی بانی سکریٹری تھیں اور انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی لائف ٹائم ٹرسٹی بھی تھیں۔ انھوں نے ہندوستانی ناٹیاشاسترا اور ہندوستانی روایتی فن پر سنجیدہ اور علمی کتابیں لکھیں۔ وہ ملک میں ہندوستانی فن کی سرکاری اسکالر کے طور پر سمجھی جاتی تھیں۔

    واتسیاین ہندی کی مشہور مصنفہ ستیہ وتی ملک کی بیٹی تھیں اور ان کے بھائی کیشیو ملک ایک مشہور انگریزی شاعر اور فن نقاد تھے۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں محکمہ تعلیم میں سکریٹری کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی شادی سچدآنند ہیرآنند واتسیاین سے ہوئی تھی لیکن چند برسوں کے بعد ان سے طلاق ہوگئی اور اس کے بعد وہ تنہا زندگی گزارتی رہیں۔

  • اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے

    ازقلم غنی محمدد قصوری

    آج 25 دسمبر کا دن ہے اور پوری دنیا میں سرکاری چھٹی ہےیہ دن عیسائیوں کے ہاں خاص دن ہے کیونکہ آج ان کی عید ہے جسے وہ Happy Christmas Day بھی کہتے ہیں-

    اسلام جہاں مسلمانوں کو پوری آزادی سے زندگیاں گزارنے کا اختیار دیتا ہے وہیں غیر مسلموں کو بھی اختیار ہے کہ پوری آزادی سے رہیں بشرطیکہ دین اسلام پر کھلا وار نا کریں جس کی مثال قرآن نے ایسے بیان کی ہے

    تمہارا دین تمھارے ساتھ اور میرا ( دین ) میرے ساتھ
    (سورۃ الکافرون آیت 6)

    دین اسلام میں جبر بھی نہیں ہے کیونکہ یہ دین کامل ہے اسلام میں جبر کی ممانعت قرآن میں ایسے کی گئی ہے –

    لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ
    قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ
    فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى لَاانْفِصَامَ لَہَا
    وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ﴿256﴾

    "دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا ، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے-”

    اس آیت سے ثابت ہوا دین اسلام کا نام لے کر کسی پر سختی بھی نہیں کی جا سکتی مگر حدیث رسول نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنے سے بھی بڑی سختی سے منع فرمایا ہے

    حدیث رقم ہے کہ عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم. من تشبہ بقوم فہو منہم

    جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے-
    (سنن أبي داؤد)

    غور کیجئے کفار کے مشابہت اختیار کرنے ان کو مبارکباد دینے پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ ایسا کرنے والا مسلمان انہی میں سے ہے
    آخر یہ آج کا دن یعنی عیسائیوں کی عید ہے کیا ؟ اس بارے جانتے ہیں Happy Christmas Day کا معنی ہے میلاد عیسیٰ مبارک ہو-

    حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کو عیسائی ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اس دن عیسائی ایک دوسرے کو ایسے مبارکباد دیتے ہیں جیسے ہم مسلمان اپنی عیدین پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اس دن Merry Christmas کہہ کر مبارکباد دی جاتی ہے یعنی ولادت عیسی علیہ السلام مبارک ہو-

    عیسائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہمارے مسلمان بھی اس دن ان کو خوب مبارکباد دیتے ہیں جس کا جواز اکثر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بھی ہمیں مبارکباد ہماری عیدین پر دیتے ہیں-

    ہماری عیدین پر ان کی طرف سے عید مبارک کہا جاتا ہے جس میں کوئی ایسے ٹکراؤ کے الفاظ موجود ہی نہیں جبکہ جب ہم ان کی عید کی مبارک باد ان کو دیتے ہیں تو ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور آج ان کا جنم دن ہے

    اس بابت قرآن نے سورہ مریم آیت 88 تا 92 میں بڑی سختی سے ایسے تردید کی ہے

    "یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے(ایسی بات کہنے والو) حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے
    کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین پھٹ جائے، اور پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں، کہ لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو-”

    معاذاللہ کتنے سخت الفاظ میں قرآن اس عقیدے کی ممانعت کر رہا ہے جبکہ ہم دنیاوی دکھلاوے کی خاطر آج ان عیسائیوں کو مبارکبار پیش کرکے اپنا عقیدہ خراب کر رہے ہیں

    خداراہ اقلیتوں کا احترام ضرور کیجئے مگر آج کے دن کی ان کو مبارکباد دے کر اپنا عقیدہ خراب نا کیجئے
    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
    کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا

    صوفیہ بیدار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل نام:. صوفیہ صنم
    قلمی نام اور تخلص: صوفیہ بیدار
    تاریخ پیدائش:25دسمبر 1964ء
    جائے پیدائش:سیالکوٹ
    نام والد:عبد اللہ ادیب
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات:
    خاموشیاں
    تاراج

    صوفیہ بیدار صاحبہ اردو اور پنجابی کی نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، کالم نگار،صحافی اور بیوروکریٹ ہیں۔ ان کی تحریروں میں ملکی و معاشی اور معاشرتی مسائل کو بہترین پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے۔ وہ ملکی اور بیرون ملک ادبی تقاریب اور مشاعروں میں خصوصی طور پر بلائے جاتے ہیں۔ قارئین اخبارات میں چھپنے والے ان کے کالمز ہزاروں کی تعداد میں بڑے شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھتے اور متاثر ہوتے ہیں ، میں بھی قارئین کی اس فہرست میں شامل ہوں۔ صوفیہ بیدار کی اردو اور پنجابی شاعری بہت عمدہ اور خوب صورت ہوتی ہے ۔ وہ ایک افسر اعلی کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض پوری دیانتداری کے ساتھ سرانجام دیتی ہیں وہ ڈائریکٹر آرٹس کونسل کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا
    جب رنج زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا

    مٹ جانے کی خواہش کو مٹایا نہیں کرتے
    کھو دینے کے ارمان کو کھویا نہیں جاتا

    جلتے ہوئے کھلیان میں اگتی نہیں فصلیں
    خوابوں کو کبھی آگ میں بویا نہیں جاتا

    جب حد سے گزرتے ہیں تو غم غم نہیں رہتے
    اور ایسی زبوں حالی میں رویا نہیں جاتا

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
    کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا

    سلگی ہیں مری آنکھ میں اک عمر کی نیندیں
    آنگن میں لگے آگ تو سویا نہیں جاتا

    یوں چھو کے در دل کو پلٹ آتا ہے واپس
    اک وہم محبت کا کہ گویا نہیں جاتا

    اب صوفیہؔ اس طرح سے دل پہ نہیں بنتی
    اب اشکوں سے آنچل کو بھگویا نہیں جاتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے
    رکا ہوا ہو جو منظر تو کون آتا ہے

    اسی کے لمس سے زندہ نقوش ہیں میرے
    وہ اپنے ہاتھ سے مورت میری بناتا ہے

    وہ ظرف دیکھ کے دیتا ہے درد چاہت کے
    پھر اس کے بعد محبت کو آزماتا ہے

    ردائے چرخ میں ٹانکے ہیں ہجر نے تارے
    یہ سوت صدیوں کی خاموشیوں نے کاتا ہے

    وفا کا لکھتا ہے انجام عشق سے پہلے
    پھر اس کے بعد نگر پیار کا بساتا ہے

    تمھارے ہوتے ہوئے خاک ہو گئی کیسے
    تمھارے ساتھ مرا کس طرح کا ناتا ہے

    رکا ہوا ہے جو منظر وہ اس کا حصہ ہے
    بھلا لکیر سے باہر بھی کوئی آتا ہے