Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا:ابن انشا کا یوم وفات

    انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو
    اس شہر میں جی کو لگانا کیا
    11 جنوری 1978
    ممتاز ادیب، شاعر ، سیاح اور کالم نگار ابن انشا کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ممتاز ادیب، شاعر،کالم نویس ،سفر نامہ نگار اور سیاح ابن انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے بی اے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے 1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1966ء میں روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔ وہ اک طویل عرصہ تک نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے انہیں انگلستان میں تعینات کردیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں لیکن سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اردو ادب کے اس مایہ ناز ادیب کو ان کے لاکھوں مداحوں سے جدا کرکے ہی دم لیا۔ ابن انشا کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’چاند نگر‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اس بستی کے ایک کوچے میں” اور ’’دلِ وحشی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کو کئی خوبصورت سفرنامے بھی عطا کئے جن میں آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافرشامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم ،باتیں انشا جی کی اور قصہ ایک کنوارے کا قابل ذکر ہیں۔ جناب ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا اور انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔

    ابن انشاء کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
    وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا

    اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
    ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا

    کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
    کچھ نے کہا چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

    ہم کسی در پہ نہ ٹھٹکے نہ کہیں دستک دی
    سیکڑوں در تھے مری جاں ترے در سے پہلے

    جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے
    کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہرجھانکی ہے

  • ایک شفیق باپ

    ایک شفیق باپ

    ایک شفیق باپ
    ✍️تحریر شوکت ملک
    ہر باشعور انسان کو اپنے والدین سے محبت ہوتی ہے اور وہ ان کے احسانات کا معترف ہوتا ہے۔ والدین کی دعائیں اس کی زندگی کا بہت بڑا اثاثہ ہیں جو زندگی کے نشیب و فراز کے دوران اس کے کام آتی ہیں۔ والدین اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اور ترقی کے لیے مقدور بھر کوشش کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض والدین اپنی اولاد کی ترقی اور استحکام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور بعض لوگ اس منظر کو دیکھے بغیر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
    دوسرے بچوں کی طرح میں بھی اپنے والد محترم محرم خان (مرحوم) جو کہ مجھ سے تمام بہن بھائیوں سے زیادہ بڑھ کر پیار محبت کرتے اور سب سے زیادہ ان کی امیدوں کا محور بھی راقم الحروف کو ہی سمجھا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ میں ابتدائی تعلیم کے حصول کے لیے اپنے آبائی گاؤں کے پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا جہاں پر اساتذہ کی کمی کے باعث تعلیم کچھ اچھی نہ ہونے کی وجہ سے چھ ماہ کے قلیل عرصہ کے بعد دور دراز علاقے صادق آباد (چمچہ) کے ہائی اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔ جہاں پر انتہائی محنتی اور قابل اساتذہ کرام ہونے کی وجہ سے راقم الحروف جماعت اول سے لے کر میٹرک تک پوزیشن ہولڈر رہا جس کی سب سے زیادہ خوشی میرے والد محترم کو ہوا کرتی تھی۔
    اسکول میں رزلٹ کے نتائج سننے کے بعد جیسے ہی واپس گھر پہنچ کر ان کو اپنی پوزیشن بارے بتاتا تو ان کی خوشی کی انتہا ہوتی اور میرا استقبال والد محترم کے گلے لگا کر ملنے اور بوس و کنار سے ہوتا تھا اور پھر بڑے بھائیوں کو فون کال پہ انتہائی فخریہ انداز میں بتاتے کہ آپ کے چھوٹے بھائی نے کلاس میں سے پوزیشن حاصل کرکے میرا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ تاہم وہ سمجھتے تھے کہ میری آواز میں سریلا پن موجود ہے جس کے باعث وہ مجھے عالم دین بھی بنانا چاہتے تھے جو کہ بدقسمتی سے ان کا خواب میں شرمندہ تعبیر نہ کرسکا۔ میٹرک کرنے کے بعد ان کی خواہش کے عین مطابق مجھے کالج میں داخلہ دلوا دیا گیا جہاں پر جاتے ہی والد محترم جو کہ ہمارے بچپن سے ہی شوگر جیسی لاعلاج مہلک مرض میں مبتلا تھے ان کی طبیعت انتہائی ناساز ہونے لگی۔ ان کی اس قدر خرابی صحت کے بارے سوچ و فکر اور صدمے کے باعث پڑھائی سے زیادہ ان کے بارے فکر مند رہتا تھا۔
    علیحدگی میں بیٹھ کر رونا پریشان رہنا میرا معمول بن چکا تھا یہی وجہ تھی کہ میں اپنی پڑھائی میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکا اور کالج میں پہلے سال ہی جب ان کی طبیعت انتہائی ناساز ہوئی ان کو راولپنڈی (British Leprosy Hospital) میں ایڈمٹ کروانا پڑا جہاں پر ان کے پاس راقم الحروف کو والد محترم سے مزید قربت اور ان کی شخصیت بارے جاننے کا موقع ملا مجھے ان کے ساتھ گزرا ہوا پل پل یاد ہے۔ مجھے یاد جب سردی کی طویل راتوں میں طبیعیت کی خرابی کے باعث ان کو نیند نہ آتی اور تکلیف ہوتی تو میں ڈاکٹروں سے لڑ پڑتا تھا کہ آپ لوگ میرے والد محترم کو کوئی معقول میڈیسن کیوں نہیں دیتے جس سے وہ سکون کی نیند سو سکیں۔
    مجھے یاد ہے اسپتال میں بیڈز کی کمی کے باعث جب مجھے نیچے سونا پڑ گیا تو انہوں نے مجھے نیچے سونے سے قطعاً منع کرتے ہوئے پاس سلانے کو ترجیح دی میں ان کا بدن دباتے دباتے سو جاتا تھا۔ میں ابھی بھی سوچتا ہوں کہ نہ جانے سو جانے کے بعد میں ان کو کتنی تکلیف پہنچاتا ہوں گا تنگ کرتا ہوں گا مگر ان کی کمال کی محبت اتنی تکلیف اور خرابی صحت کے باعث بھی مجھے اپنے پاس سلانے کو ترجیح دی۔ اسپتال میں زیادہ دن ٹھہرنے کے باعث وہ سمجھتے تھے کہ بچہ ہے تنگ پڑ گیا ہو گا تو کہتے تھے جاؤ بیٹا باہر سے گھوم کے آجاؤ پر میں گاؤں میں رہنے والا پینڈو لڑکا باہر جا کے کیا کرتا بھلا وہیں ہاسپٹل کے لان میں بیٹھ کر رو رو اپنا برا حال کرتا رہتا تھا۔
    وہ مجھ سے بار بار پوچھتے بیٹا تنگ تو نہیں پڑ گئے میں ان کا حوصلہ بندھانے کےلیے کہتا نہیں ابو آپ ٹھیک ہو جائیں پھر ہم ایک ساتھ گھر واپس چلے جائیں گے۔ شاید ان کو اپنی زندگی کے آخری ایام قریب آتے دکھائی دے رہے تھے تو مجھے کہتے بیٹا زندگی میں کبھی بھی ہمت مت ہارنا، جیسے بھی حالات ہوں ان کا ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا، دل لگا کر پڑھنا اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا جس پر میں اور زیادہ سوچتا پریشان ہوتا گویا کہ وہ تو مجھے آخری نصحتیں کر رہے تھے۔ ڈیڑھ ماہ انتہائی اذیت میں گزرنے کے بعد بھی ان کی طبیعت میں خاطر خواہ بہتری نہ آسکی مگر ان کی خواہش کے مطابق اور اپنے آپ کو اور ہمیں سب کو حوصلہ بندھانے کےلیے کہتے اب مجھے گھر لے چلیں میں ٹھیک ہو گیا ہوں۔
    گھر آنے کے بعد ان کی طبیعت میں اتار چڑھاؤ جاری رہا کبھی طبیعت ٹھیک رہتی تو کبھی طبیعت میں بگاڑ پیدا ہو جاتا اسی طرح ایک ماہ اور اسی کشمکش میں گزر گیا۔ جیسے ہی 2015ء کی شروعات ہوئی ان کی طبیعت میں پھر سے بگاڑ پیدا ہوا اتنے میں روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم بھائی بھی واپس گھر آچکے تھے انہوں نے آتے ہی والد محترم کی طبیعت میں بگاڑ کی شدت کو جانچتے ہوئے انہیں ایک بار پھر سے اسپتال میں جانے کےلیے قائل کیا جس کےلیے والد محترم بالکل رضامند نہ تھے۔
    مگر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ان کو ایک بھر اسپتال لے جایا گیا جہاں ایک روز ٹھہرنے کے بعد والد محترم نے واپس گھر لے جانے کا کہا انہیں گھر واپس لایا گیا تو 7 جنوری کا دن تھا جیسے وہ بلکل ٹھیک ہو گئے ہوں انہوں نے سب کے ساتھ کھانا کھایا اور ہم سب کو بھی کھانا کھانے کی تلقین کی گویا کہ سب کی جان میں جان آئی اور سب کے دلوں میں ان کی صحتیابی کی امید جاگ اٹھی۔ دن بھر انہوں نے سب سے خوب باتیں کی رات ہوئی تو رات کا ابتدائی پہر سکون سے گزرنے کے بعد صبح قریباً 2 بجے کے قریب ان کی طبیعت میں ایک بار پھر سے بگاڑ پیدا ہوا اس پل انہوں ایک بار پھر سے راقم الحروف کو اپنے پاس بلا کر بیٹھنے کو کہا اور کچھ آخری نصیحتیں کرنے کے بعد 8 جنوری 2015 صبح 10 بجے کے قریب 45 سال کی عمر میں ہمیں داغ مفارقت دے کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
    یہ صبح ابھی بھی راقم الحروف کی آنکھوں کے سامنے منڈلاتی ہوئی صدمے سے دوچار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتی گویا اس دن کے بعد سے راقم الحروف کے تمام حوصلے جو کہ والد محترم محرم خان (مرحوم) کے زیر سایہ بلندیوں کو چھو رہے تھے وہ وہیں ڈھیر ہو گئے اور والد محترم کی کمی آج عملی زندگی میں ہر موڑ پر محسوس ہوتی ہے۔ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ جن کے والدین زندہ ہیں ان کو والدین کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ان کے والدین کا سایہ ان کے سروں پہ تادیر قائم و دائم رکھے۔ میرے والد محترم سمیت جن کے والدین اس دنیا سے رخصت فرما گئے ان کی کامل مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے۔ آمین

  • کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ملک میں جاری حالیہ آٹا بحران میں زیادہ تر لوگ حکومت کو کوس رہے ہیں۔ لیکن کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ جو گندم ہمارے ملک میں پیدا ہوتی ہے اس کا کم سے کم چالیس فیصد ہم سب مل کر ضائع کر دیتے ہیں۔ اور اس ضائع کرنے میں امیر غریب سب شامل ہیں۔ ہر گھر میں روزانہ ایک سے دو روٹی زیادہ بنتی ہے جو ضائع ہو جاتی ہے۔ مختلف تقریبات خاص طور پر شادیوں پر تو بے انتہا کھانا ضائع ہوتا ہے۔ تب زیادہ تر لوگ یہی سوچ رہے ہوتے کہ مفت کا ہے، جیسے مرضی ضائع کرو لیکن وہی ضائع کرنا آج ہمارے سامنے آ رہا ہے۔

    پھر جب ہوٹلوں میں کھاتے ہیں تب بھی ذرا سی روٹی ٹھنڈی ہونے پر نئی منگوا لیتے ہیں کہ پر ہیڈ ہی پیسے دینے ہیں تو کیوں نہ تازہ منگوائی جائے۔

    ہمارے ملک میں گندم کی پیداوارتو ایک خاص حد تک ہے۔ اب اس میں سے جو بھی روٹی ضائع کرتے ہیں تو وہ ہمارے ملک کی گندم ہی ضائع ہوتی ہے۔ اس طرح جو ہم چالیس فیصد ضائع کر دیتے ہیں وہی گندم پھر ہمیں باہر سے منگوانی پڑتی ہے اور باہر سے منگوانے کے لیے ہمیں ڈالر چاہیں جو نہیں ہوتے۔ کیونکہ ڈالر تب آنے ہیں جب ہم ملک میں سے چیزیں باہر بیچیں اور پھر ان کے بدلے دوسری چیزیں منگوائیں۔

    اب یہ تو ہم سب کر سکتے ہیں کہ جو بھی ہمارے بس میں ہو وہ روٹی ضائع نہ کریں بلکہ جو بھی بچے بڑے ، مردو خواتین ضائع کر رہے ہوں انھیں سمجھائیں۔ خواتین گھر میں روٹی بنانے سے پہلے سب گھر کے افراد سے پوچھیں کہ کس کس نے کھانی ہے اور کتنی کھانی ہے تاکہ اتنی بنائیں۔ جس دن بچ جائے اگلے دن اتنی کم بنائیں۔ جو بچ جائے وہ کوشش کریں کہ کسی غریب کو دے دیں تاکہ اس کا پیٹ بھر جائے۔

    اسی کے ساتھ کچن گارڈننگ کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ گھر میں جو بھی ممکن ہو لازمی اگائیں۔ جیسے اگر ہم خود اپنا پیاز، لہسن بھی اگا لیں تو ملک کو ان پر جو ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں وہ بچ جائیں گے۔ تو ہم تھوڑا سا بھی حصہ ڈالیں تو تھوڑا تھوڑا کر کے ہی بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

    حکمران نااہل ہیں، اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہم اپنے حصے کا کام تو کریں۔ اس سے ہی بہت زیادہ فرق پڑ سکتا ہے۔
    شئیر کریں، اگر ہم صرف پانچ فیصد ضائع ہونے والی روٹی ہی بچا لیں تو ہمارا ملک کبھی گندم کے بحران کا شکار نہ ہو۔

  • ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق؟ — ریاض علی خٹک

    ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق؟ — ریاض علی خٹک

    یورپ کے کسی قصبے میں بھکاری نے ایک گھر کے دروازے پر آواز لگائی. مالک مکان دروازے پر بچا ہوا کھانا لایا اس کے سامنے رکھا اور بھکاری سے کہا چلو دعا کریں تم میرے پیچھے دہرانا. عیسائیت میں کھانے سے پہلے کی دعا میں مالک مکان نے جب کہا اے جنت میں ہمارے باپ بھکاری نے کہا "اے جنت میں اس کے باپ” . مالک مکان نے کہا نہیں بولو ہمارے باپ بھکاری نے پھر کہا اس کے باپ.

    مالک مکان نے جھنجھلا کر کہا تمہیں دعا نہیں آتی بولو ہمارے باپ گداگر نے کہا دعا تو آتی ہے لیکن اس رشتے میں پھر میں تمہارا بھائی بن جاتا ہوں جسے عزت و احترام سے گھر میں بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے نہ کہ باسی کھانا گھر کے دروازے کے فرش پر کھلایا جائے. اس لئے جنت میں تمہارے فادر کو یاد کرتے ہیں جس نے تمہیں گھر دیا اور مجھے بھکاری بنایا.

    کہتے تو ہم بھی یہی ہیں کہ سارے انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں. اس رشتے پر ہم سب ہی بہن بھائی ہیں. اللہ رب العزت کی ایک تقسیم اور ہماری زندگی کا امتحان ہے جو ہمیں مختلف مقامات پر آزمایا جا رہا ہے. البتہ عزت دینا ہم بھولتے جا رہے ہیں. ہم نہیں جانتے کون کس کشمکش زندگی سے دوچار ہے.؟ کیوں دوچار ہے لیکن عزت نفس تو سب کا حق ہے.

    یہی عزت نفس ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق کہلاتی ہے. یہ عزت ہو تو مشکل سے مشکل امتحان بندہ آسانی سے سہہ لیتا ہے. بے عزت ہو تو چھوٹی تکلیف بھی پہاڑ لگتی ہے. ایک دوسرے کی عزت کریں زندگی سب پر آسان ہو جاتی ہے.

  • وقت اور صبر!!! — ریاض علی خٹک

    وقت اور صبر!!! — ریاض علی خٹک

    جوئے کیلئے پوری دنیا میں مشہور لاس ویگاس کے کسی جوا خانے میں آپ کو گھڑی نظر نہیں آئے گی. وہ چاہتے ہی نہیں کہ اپنی کمائی کو جوئے کی ٹیبل پر رکھنے والے جواری کو وقت گزرنے کا احساس ہو. آپ کسی بھی بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں چلے جائیں اس کی دیواروں پر بھی گھڑی نہیں ہوگی. وہ بھی نہیں چاہتے گاہک کو ہماری اشیاء سے بھری الماریوں کے درمیان وقت کا حساب یاد رہے.

    مشہور زمانہ روسی ادیب لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا دنیا کے سب سے بڑے جنگجو وقت اور صبر ہیں. اگر آپ ادب کے میدان سے تعلق نہیں رکھتے تو چلیں دنیا کے کسی بھی امیر ترین انسان سے پوچھیں دولت کی کوئی یک لفظی چابی کیا ہے.؟ وہ بتائے گا "سرمایہ کاری” یعنی انویسٹمنٹ. وقت ہماری سرمایہ کاری ہے.

    ہمارا سرمایہ ہمارا "وقت” ہے. وقت کے اس بازار میں اگر آپ ہیں تو سرمایہ وقت آپ کے پاس ہے . چیلنج ایک ہی ہوگا آپ اپنے اس سرمائے کی سرمایہ کاری کیسے کرتے ہیں.؟ جوا اسی لئے حرام ہے کیونکہ اس سرمایہ کاری میں آپ نہیں ہوتے بلکہ آپ اپنے چانس یا نصیب کو سامنے کردیتے ہیں. بازاروں کو اس لئے پسند نہیں کیا جاتا کیونکہ اس میں آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں. وقت کے اس سرمائے کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے.

    اس سرمایہ وقت کی حفاظت صبر کہلاتا ہے. بے صبر اپنا سرمایہ وقت جواری کی طرح ہار رہا ہوتا ہے. وقت کے بہترین جنگجو پھر صبر سے اپنے وقت کا حساب کرتے ہیں اور بروقت اپنے فیصلے کرتے ہیں.

  • مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ سونے لگے ہیں، اچانک سے آپکو ایک تیز سی آواز کان کے قریب سنائی دیتی ہے۔ آپ ہڑبڑا اُٹھتے ہیں۔ غصے یا جھنجھناہٹ میں فوراً ہوا میں ہاتھ مارتے ہیں جسیے کسی ان دیکھی آفت سے "کنگ فو” کر رہے ہوں۔ آواز غائب ہو جاتی ہے۔ یا تو آپکا وار ٹھیک نشانے پر لگا یا پھر آواز پیدا کرنے والا یہ ناہنجار آپ سے دور چلا گیا۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں ایک عدد مادہ مچھر کی تھی۔

    سوال مگر یہ ہے کہ مچھر آواز کیسے نکالتے ہیں؟ کیا ہماری طرح منہ سے؟

    نہیں۔۔ مچھروں کی آواز دراصل اُنکے ننھے سے پروں کے تیزی سے ہلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک مچھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 1 ہزار مرتبہ اپنے پر ہلاتا ہے(مادہ عموما 600 مرتبہ). جس سے ایسی بھن بھن کرتی آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر پر ہلانے سے آواز؟ جی۔ کبھی آپ نے گانا بجاتے سپیکر کو غور سے دیکھا ہے۔ اس میں سے جب آواز نکل رہی ہوتی ہے تو اسکی اوپری سطح تیزی سے ہل رہی ہوتی ہے۔ ایک سپیکر کے پردے کا یوں ہلنا اسکے اردگرد موجود ہوا میں دباؤ کو بدلتا ہے اور ایک موج یا لہر پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہوا میں موجود ایٹموں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ موج دراصل آواز کہلاتی ہے۔ یہ جب آپکے کان کے پردے پر پڑتی ہے تو کان کا پردہ بھی اسی طرح سے ہلتا ہے جیسے سپیکر کا پردہ ہل رہا ہوتا ہے۔ اس میکانکی موج یا لہر کو کان کے ذریعے برقی سگنل کی صورت دماغ "سنتا” ہے اور یوں آپکو آواز سنائی دیتی ہے۔

    مچھر اپنے پر ہلانے کی رفتار کو بدل سکتا ہے جس سے اسکی اُڑان کے ساتھ ساتھ آواز بھی بدلتی ہے۔ ایک نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتا۔ یہ "انسان کا بچہ” پودوں اور پھولوں کا رس چوس کر ان سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ جبکہ ایک مادہ مچھر انسانوں اور دیگر جانوروں کا خون اس لئے چوستی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو مادہ مچھر میں موجود انڈوں کی افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مچھر انسانوں کے جسم کی بو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کر کے اپنا شکار تلاش کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔ وجہ غالباً اُنکے جسم سے نکلنے والی بو مچھروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہو۔ مچھر کس طرح کی جسمانی بو پر زیادہ آتے ہیں، یہ ہمیں معلوم نہیں۔

    دنیا بھر میں مچھروں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں۔یہ اور دیگر کئی کیڑے مکوڑے گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ افزائش کرتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک ہفتے میں تین ہزار انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے پانی میں دیتی ہیں جن سے لاروے بنتے ہیں اور تیرتے ہیں۔ اس لیے اپنے اردگرد کھڑے پانی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مچھر انڈے دیکر بچے پیدا نہ کریں اور ملیریا اور ڈینگی سے بچا جا سکے۔

    2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن سے سوا چھ لاکھ کے قریب اموات واقع ہوتی ہیں۔ اموات کا تناسب ترقی پذیر اور غریب ممالک میں زیادہ ہوتا ہے۔ 2020 میں پاکستان میں پاکستان میں 5 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہویے اور اموات کی تعداد تقریبا 50 ہزار کے قریب رہی۔ ان میں سے 37 فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان کی افغانستان اور ایران کے قریب سرحدی علاقوں سے تھا۔ 2019 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ملیریا کے علاج کے لیے فی کس تقریباً 3 ہزار روپے سے زائد خرچ اُٹھتا ہے۔ یہ رقم شاید کچھ لوگوں کے لیے معمولی ہو مگر پاکستان کی زیادہ تر آبادی گاؤں اور دیہاتوں میں رہتی ہے جنکی فی کس ماہانہ آمدنی 30 ہزار روپے سے بھی کم ہو(2016 پاکستان شماریاتی ادارے کی رپورٹ)۔ اُنکے لیے یہ رقم خرچ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملیریا جیسے قابلِ علاج مرض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • لطیفے اور رشتے!!! —- ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

    لطیفے اور رشتے!!! —- ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

    بیوی کے رشتے پر انتہا درجے کے مذاق اور لطائف بنا کر بیوی کو خودسر ،ہڈدھرم، لالچی اور کم عقل ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔ بیوی کا برابری کا درجہ ان لطائف کی زد میں آ کے مسلسل کمتر حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔

    پچھلے دنوں احباب نے نوٹس کیا ہو گا کہ میں نے اپنے پیج پر ایک ایکٹیویٹی کی جس میں تمام لطائف شوہر یا مرد کے متعلق شیئر کیے ۔

    چند بار حضرات ہنسے لیکن پھر دبا دبا احتجاج بلند ہونا شروع ہوا کہ اپ تو مردوں کی کلاس لے رہی ہیں ۔ شوہروں پر تو لطیفے لکھتی ہیں بیوی پر بھی لکھیں ۔ ان لطائف میں وقتی ہنسی سے بڑی رمز چھپی ہے ۔ لطیفہ اور ہنسی پیچھے رہ جاتی ہے بیوی یا شوہر سے متعلق ایک منفی نکتہ ذہن میں خفیہ طور پر جڑ پکڑ جاتا ہے ۔

    بعینہ یہی حال پھوپھی ماموں اور سالے کے رشتے پر لطائف بنا کر کیا گیا ۔ یعنی جو بےلوث محبت کے رشتے ہیں ان پر مخفی ،منفی پیغام کے ساتھ بنے لطائف سے ان کی تحقیر کی جائے ۔ اس طرح نئی جنریشن اور پہلے سے موجود بالغ لیکن کم عقل جنریشن کے اذہان میں ان رشتوں کی اہمیت کم کر کے انہیں محض مذاق بنا کر رکھ دیا جائے ۔

    جو شوہر دوستوں میں بیوی کے لطائف سن کر آئے وہ بیوی کو لطیفے سنائے یا نہ سنائے اپنی بیوی کو اسی تناظر میں دیکھے گا ضرور ۔
    بیوی کی بہن کیسی ہی دیندار کیوں نہ ہو اسے بہنوئی دل ہی دل میں سالی (نہایت ذومعنی ) کے رشتے سے یاد کرے گا ۔
    بیوی کا بھائی کیسا ہی معزز کیوں نہ ہو رہے گا وہ سالا ہی، یہ لفظ معاشرے میں کتنا معزز ہے سبھی واقف ہیں ۔

    اچھا دیور بھابی پر روایتی ٹپے موجود ہیں لطائف موجود نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس محترم لیکن نامحرم رشتے کی بنا لطیفے بنائے ہی اسقدر تحقیر کر دی گئی ہے کہ اپ سوشل میڈیا پر لفظ دیور یا بھابی لکھ کے سرچ بھی نہیں کر سکتے ۔ صرف گٹر ابلتا ہے ۔

    بلاشبہ جب حضور اکرم ص نے دیور کو بھابی کے لیے موت قرار دیا تو اس کی وجہ بھی تھی ۔ یہی حد بعینہ بہنوئی اور سالی کے رشتے پر بھی عاید رہنی چاہیے ۔

    بچے کے ماموں کتنے ہی سمجھدار پروقار ہستی کیوں نہ ہوں اس لفظ کو بےوقوف کا مترادف بنا دیا گیا ہے ۔

    پھوپھو، جان نثار ماں جیسی ہستی کیوں نہ ہو اسے صوتی مماثلت اور لطائف کے زور پر پھپھے کٹنی کے مترادف ٹھہرا دیا گیا ۔پھوپھو کو تو باقاعدہ ایک رویہ ڈکلیئر کر دیا گیا ہے ۔ ایسا مخلص رشتہ جو پہلے ہی ازدواجی بندھن کی وجہ سے میکے سے دور رہنے پر مجبور ہو اسے برا بنا کر بالکل ہی میکے سے دور کر دیا گیا ہے۔ بھلا کون سی بیوی اپنی راجدھانی میں پھپھے کٹنی فسادن کی آمد پسند کرے گی ۔ پس بھابی نے نند اور باپ نے پھوپھو کو خود سے دور کر دیا ہے ۔ بھتیجے تو اس رشتے کی مٹھاس سے محروم ہوئے ہی لیکن والدین کے جانے کے بعد بھائی کے گھر سے میکے کی خوشبو تلاش کرنے والی بہن کا میکہ اگر دوسری بہن قائم رکھے تو رکھے بھائی تو لفظ پھوپھو کے خوف سے دور رہنا پسند کرنے لگے ہیں

    ان لطائف نے رفتہ رفتہ سالا سالی گالی ، دیور بھابی گالی ، ماموں احمق کے اور پھوپھو پھپھے کٹنی کے مترادف بنا دیے ہیں ۔ ساس جلاد یا ہٹلر کے اور سسرال، سسرائیل جیل یا قید کے مترادف بنا دیے ہیں ۔ لفظ بیوی لطائف کی روشنی میں کم عقل ،کم فہم ،دکھ درد نہ سمجھنے والی ،خرچیلی جھگڑالو، سکون نہ دے سکنے والی، جلدباز اور پھوہڑ عورت کے کردار کا آفیشل نام بن گیا ہے ۔

    یہ سبھی عزت کے رشتے تھے جنہیں ہنسی مذاق میں بے توقیر کر دیا گیا ہے ۔اب اس کا مداوا محض بہترین گھریلو تربیت سے ہی ممکن ہے جہاں والدین اپنی اولاد کو تمام رشتوں باتوں سے اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے حفظ و مراتب سے کماحقہ متعارف کروائیں۔

    سچ ہے ضرورت سے زیادہ مذاق عزت میں کمی کا باعث بنتا ہے ۔

  • "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا کے اسرار و رموز!!! — بلال شوکت آزاد

    "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا کے اسرار و رموز!!! — بلال شوکت آزاد

    2005 سے 2022 تک مختلف النوع تجربات, مشاہدات اور مطالعات کے بعد احقر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ

    1-دعوت و اصلاح کے سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کو دعوت و اصلاح کی غرض سے جاکر تنگ کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    2-خدمت خلق, صلہ رحمی اور ایثار و اخوت کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کو خدمت خلق, صلہ رحمی اور ایثار و اخوت کی غرض سے جاکر مدد کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    3-آزادی, انقلاب, تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کی جسمانی, روحانی اور نفسانی جد و جہد اور جہاد کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کی آزادی, انقلاب, تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کا جسمانی, روحانی اور نفسانی جد و جہد اور جہاد کی غرض سے جانا اور مدد کرنا بھی معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    4-آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں پر آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص خرچ کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    اپنی زندگی کے اٹھارہ بیس سال گزار کر جو آپ بھی یہی سبق یہی نتیحہ اخذ کریں گے اس سے بہتر ہے کہ ہم سے ہی عبرت حاصل کرلیں, فی زمانہ اوپر درج معاملات میں حد درجہ دلچسپی اور شمولیت وغیرہ سے بڑا فتنہ مجھے تو نظر نہیں آتا۔۔۔ اور پتہ ہے نا کہ فتنوں سے دور بھاگنے کا حکم ہے کیونکہ فتنوں کی سرکوبی کا خیال دل میں پالنا اور متحرک ہونا بھی ایک فتنہ ہی ہے لہذادور دور بہت دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔

    کیونکہ آپ کو کسی کاز, کسی تنظیم, کسی جماعت, کسی انجمن یا کسی ادارے سے منسلکیت کی جو قیمت چکانی پڑتی ہے اس میں آپ کی ذاتی و اجتماعی زندگی کے تار و پود بکھرنا تو سر فہرست ہے لیکن کسی بھی مشکل, مصیبت, تنگدستی اور بیماری میں چراغ تلے اندھیرا کے مصداق تہی داماں رہنا پڑتا ہے, سفید پوشی اور انا کے مارے آپ تو منہ نہیں کھولتے لیکن آپ کو چپکی کسی کاز, کسی تنظیم, کسی جماعت, کسی انجمن یا کسی ادارے کی وظیفہ خور جونکیں المعروف عہدیداران و ذمہ دران جو کہ آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص کو آپ سے براہ راست کشید کرکے کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کو فیول مہیا کرکے اپنے نمبر ٹانگتے ہیں وہ یا تو آپ کی مشکل, مصیبت, تنگدستی اور بیماری کے وقت آپ کو کسی جگہ نظر نہیں آئیں گے یا مروتاً نظر بھی آئیں گے تو آپ کو قرآن و حدیث سے صبر شکر کے یہ لمبے لمبے لیکچر سنا کر آپ کو اُن کی عظمت کا قائل کریں گے, ہاں دو تین درجن کیلے اور موسم کی مناسبت سے دو تین کلو دیگر پھل آپ کو میسر آسکتا ہے اگر آپ ان کے سامنے "چغد” بنے بیٹھے رہیں اور بعد میں بھی ان کے احکامات بلکہ اشارہ ابرو پر "چغد” بنے بنے عمل پیرا رہیں تو یہ والی "عیاشی” آپ کو مل سکتی ہے۔۔۔

    یقین مانو نوجوانوں, تمہاری کسی کو نہیں پڑی۔۔۔ تم بجز اپنے یا اپنے ارد گرد موجود رشتہ دار و دوست احباب کے کسی کی فکر میں مت گھلو اور پرائے پھٹے میں کودو کیونکہ ہر کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کو صرف تمہاری جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص چاہیے ہوتا ہے اپنا چورن منجن بیچنے اور ٹیکس فری دولت شہرت اور مزے لوٹنے کے لیے وگرنہ کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کے ذمہ داران ان مسٹرز اور صاحبان وغیرہ وغیرہ کی اصلیت جاننی ہو کہ یہ کتنے بڑے خدا ترس, خدمت خلق کے جذبات سے سرشار اور خدائی خدمتگار ہیں ان کے ارد گرد موجود رشتہ دار و دوست احباب اور محلے داروں سے جاکر پوچھو۔۔۔ اصلیت جان کر چھٹی کا دودھ نہ یاد آئے تو کہنا۔۔۔

    کچھ لوگ آپ کو پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اور کالی بھیڑوں اور گندی مچھلی والی مثالیں سناکر رام کرنا چاہیں گے لیکن یاد رکھنا کہ یہ سب ہی وہ کالی بھیڑیں اور گندی مچھلیاں ہونگی جنہوں نے "چغد” بننے کے بجائے "چغد” بنانے میں مہارت حاصل کرکے ہر طرح کے فوائد حاصل کیے ہونگے یا کر رہے ہونگے۔۔۔

    جی ہاں, ہر کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں لیڈرشپ کی لیئر کے بعد۔۔۔ ایک کہلاتے ہیں "چغد”, جوکہ کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کا فیول ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کہلاتے ہیں "چغد گَر” یعنی "چغد بنانے والے”, جو کہ کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں لیڈرشپ اور فیول کے درمیان برج کا کردار ادا کرتے اور کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کی نرسری چلانے والے ہوتے ہیں اور ان کا سر اور دس انگلیاں کڑاہی میں ہوتی ہیں اور اوپر سے مستزاد یہ کہ انہیں استثنی حاصل ہوتا ہے خواہ ان کے کھاتوں میں کے ٹو پہاڑ جتنی کرپشن نکل آئے, لیڈرشپ کو آپ اول تو ان کے علم اور دستیابی کے بغیر مل نہیں سکتے اور اگر کسی طرح مل لو تو لیڈرشپ آپ کو اتنی بزدلانہ طریقے سے ملے, سنے اور ڈیل کرے گی کہ آپ حیران اور پریشان رہ جائیں گے کہ کیا یہ وہی صاحبان ہیں جو کشتوں کے پشتے لگانے کی بھڑکیں مار مار کر آدھی دنیا میں مشہور و معروف ہیں جبکہ ان کی اوقات یہ ہے کہ اپنے ماتحت چند "چغد گَروں” کی کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے, بے بس اور معذور و مجبور ہیں۔۔۔ تب آپ اپنی تمام ریاضت اور محنت اور کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے اور ان کی لیڈرشپ پر دو حرف بھیج کر آجائیں گے اور روزانہ سوچیں گے کہ

    "کیوں۔۔۔ آخر میں ہی کیوں؟”

    تو اس کا دو ٹوک جواب ہے کہ

    "تم چغد ہو اس لیے تم ہی, ہاں تم ہی”

    دیکھو بھئی بڑا سیدھا فنڈا ہے کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں رہ کر ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنا کہ تم جاتے وقت بیشک "چغد” تھے لیکن ساری عمر وہاں "چغد” بنے رہے اور "چغد گَر” نا بنے تو تم ہی قصور وار ہو لہذا اگر تم "چغد گَر” نہیں بن سکتے تو پھر اوپر لکھے چار اصولوں کی روشنی میں اپنے ارد گرد موجود رشتہ دار اور دوست احباب کے ساتھ منسلک رہو بجائے کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے سے منسلک ہونے کے, کیونکہ یہ دنیا ہی اور ہے, یہ کہلاتی ہے "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا, جس کے اسرار و رموز ہی اور ہیں جو آپ کو سمجھ آگئے تو آپ "چغد گَر” ورنہ آپ سے بڑا "چغد” نہ کوئی تھا, نہ ہے اور نہ ہوگا!!!

  • شہر چھوڑو پیسے لو،ازقلم :غنی محمود قصوری

    شہر چھوڑو پیسے لو،ازقلم :غنی محمود قصوری

    شہر چھوڑو پیسے لو

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کا سب سے بڑا مسئلہ مس مینجمنٹ یعنی انتظام میں نقص ہے جس کے باعث ہم ترقی کی بجائے تنزلی کیجانب جا رہے ہیں یہ مس مینجمنٹ ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے اسی لئے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے علاوہ ہمارے گھروں تک میں مس مینجمنٹ دیکھنے کو ملتی ہے

    ٹوکیو چھوڑو، پیسے لو اور لکھ پتی بن جاؤ
    جی ہاں یہ نعرہ ہے جاپان گورنمنٹ کا

    جاپان کی حکومت نے دارالحکومت ٹوکیو چھوڑنے پر رقم کی پیشکش تین لاکھ ین ( جاپانی کرنسی) سے بڑھا کر دس لاکھ پن کر دی ہے
    شہر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں بسنے والے خاندانوں کو فی بچہ دس لاکھ ین دیے جائیں گے-

    جاپان حکومت نےیہ اقدام شہرکی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنےکےپیش نظر کیا ہےتاکہ لوگوں کو صحیح طوربنیادی ضروریات زندگی مل سکیں اور ان کی صحت متاثر نا ہوٹوکیو شہر کی آبادی ایک کروڑ تیس لاکھ سےبڑھ چکی ہے اور یہ جاپان کی کل آبادی کا دوفیصد ہے-

    ٹوکیو کو تئیس تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہےتاکہ لوگوں کو اچھا متنظم نظام ملے اور ان کی صحت درست رہےاوروہ اسی صحت و تندرستی سے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرتے رہیں جب لوگوں کو اچھی اور جائز ضروری سہولیات ملیں گی تو لوگ تندرست و توانا ہونے کیساتھ جرائم سے دور بھی رہیں گےجرائم سے دور رہیں گے تو امن و امان ہو گاامان و امان ہو گا تو فائدہ گورنمنٹ کے ساتھ عوام کا بھی ہو گا
    مگر ہمارے ہاں نا تو فائدہ گورنمنٹ کا کیا جاتا ہے اور نا ہی عوام کا بلکہ فائدہ صرف خالصتاً اشرافیہ، بیورو کریسی و سیاستدان کا کیا جاتا ہے-

    ہمارے ہاں مینجمنٹ کا شدید فقدان ہے ملک میں بہت زیادہ غیر زرعی زمینیں بنجر پڑی ہیں کہ جہاں گھاس پھوس و جڑی بوٹیاں تو بغیر محنت کئے اگتی ہیں مگر ہم تھوڑی سی محنت کرکے اسی زمین سے فصل نہیں لے سکتے شہروں کی آبادیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے
    کراچی کی آبادی پونے تین کروڑ سے زائدلاہور کی آبادی پونے دو کروڑ سے زائد اور فیصل آباد کی آبادی پون کروڑ سے زائد ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود بلڈنگوں کے اوپر بلڈنگیں بنائی جا رہی ہیں تھوڑی بہت بچی ہوئی زرعی زمینوں پہ رہائشی کالونیاں بنائی جا رہی ہیں مگر افسوس کہ بنجر زمینوں پہ نا تو نئے شہر بسائے جا رہے ہیں نا ہی انہیں قابل کاشت کیا جا رہا ہے کیونکہ ہمیں شارٹ کٹ کمانے کی عادت پڑ چکی ہے اور یہی عادت جرائم میں اضافے کا سبب بننے کے ساتھ بیماریوں کی بھی وجہ بن رہی ہے-

    ہمارے ہاں شہروں کی بہت زیادہ آبادی ہونے کے باعث لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں اور آلودگی پھیلنے سے ان کی صحت بری حد تک متاثر ہوئی ہے جس سے صحت کی بحالی کی مد میں گورنمنٹ کیساتھ ساتھ عوام کا اپناروپیہ پیسہ بھی ضائع ہو رہا ہے اور شرع اموات غیر معمولی طور پہ بڑھ گئی ہے-

    اب حالات یہ ہیں کہ ہمارےشہروں میں قبل ازعمربالوں میں سفیدی،گھٹنوں میں درد ودیگرخطرناک امراض پائےجانےلگےہیں جب یہ امراض جوانوں میں موجود ہو تو جوان کام کیا کریں گے اور ملک ترقی کیسے کرے گا ؟

    واضع رہے کہ جاپان دنیا کا وہ ملک ہے کہ جہاں غریب سے غریب تر فرد کے پاس بھی اپنی اچھی سواری ہے پہننے کو اچھے کپڑے اور کھانے کواعلی خوراک میسرہے مگراسکے باوجود بھی گورنمنٹ شہریوں کی صحت اورانہی کی سہولیات کےپیش نظران کو پیسے دے کر نقل مکانی کروا رہی ہے تاکہ ٹوکیو کی آبادی نا بڑھے بلکے دیگر چھوٹے شہر پرونق ہو جائیں یا پھر نئے شہر بسائے جائیں-

    یہ ساری مینجمنٹ ہمیں دین اسلام سکھلاتا ہے مگر ہم نے اسلام سے دوری رکھی اور اسی رولز آف اسلام سے ڈائریکٹیلیشن کرکے غیر مسلم ترقی کر رہے ہیں یہ بات ہمارے لئے ایک بہت بڑا پیغام ہے کہ نئے شہر بسائے جائیں غیر زرعی زمینوں کو قابل کاشت کیا جائے اور لوگوں کے رہنے کے مناسب اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگ اچھی صحت کیساتھ دیر پا زندگی بغیر بڑی بیماریوں کے جئیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں-

    کیونکہ فرمان مصطفی ہےکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے-

    تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیونکہ ،اگر، ( کاش) شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔۔مسلم

    اللہ کے نبی نے ہمیں واضع بتا دیا کہ طاقتور بنو وہ طاقت جسمانی بھی ہے اور ایمانی بھی جسمانی و مضبوط ایمانی طاقت اللہ کو بہت پسند ہے اور اسی سے خیر کا دروازہ کھلتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اپنے پیٹ کی آگ کیساتھ عوام کی مینجمنٹ کے بارے بھی سوچ سکیں، آمین

  • جیمز ویب کے بعد نئی ٹیلی سکوپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جیمز ویب کے بعد نئی ٹیلی سکوپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ملیے ناسا کی مستقبل کی جدید خلائی دوربین سے جسکا نام ہے "نینسی گریس رومن ٹیلیسکوپ” جو ایک خاتون سائنسدان ڈاکٹر نینسی گریسی کے نام سے منسوب کی گئی ہے۔ ڈاکٹر نینسی 60 کی دہائی کے اوائل میں ناسا کی چیف آف ایسٹرانومی (فلکیات) تھیں۔ اور وہ پہلی سائنسدان تھیں جنہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ ایک خاص طریقہ کار کے ذریعے جسے کرونوگرافک ماسکنگ کہتے ہیں، ایک خلائی دوربین سے دیگر ستاروں کے گرد گھومتے سیارے جنہیں ہم ایگزوپلینٹس کہتے ہیں، ڈھونڈا یا دیکھا جا سکتا ہے۔ جس طرح آپ تیز سورج میں روشنی میں ماتھے پر ہاتھ کا چبوترہ سا بنا کر آسمان پر کوئی شے دیکھتے ہیں جو اس وجہ سے نظر آتی ہے کہ آپ سورج کی زیادہ روشنی کو ہاتھ سے ایک طرح سے بلاک کر دیتے ہیں سو آپکی انکھ کم روشن شے کو دیکھ سکتی ہے بالکل ویسے ہی ڈاکٹر نینسی نے بتایا کہ ایک کرونوگراف ماسک کو ٹیلیسکوپ سے جوڑ کر ستاروں سے آنے والی روشنی کو بلاک کر کے اسکے گرد ستارے سے کم کم روشن سیارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی آج ہبل اور جیمز ویب ٹیلیسکوپ دونوں میں استعمال ہو رہی ہے۔

    جیمز ویب ٹیلسکوپ کی طرح یہ نئی ٹیلیسکوپ جسے مئی 2027 میں خلا میں بھیجا جائے گا، انفراریڈ روشنی میں کائنات کا مشاہدہ کرے گی۔ انفراریڈ وہ روشنی ہے جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ اور اسکے لیے مخصوص ڈیٹیکٹرز کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ آپ انفراریڈ کیمروں میں دیکھتے ہیں۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی طرح اسے بھی زمین سے کئی لاکھ کلومیٹر دور خلا میں لنگریج پوائنٹ 2 پر مدار میں چھوڑا جائے گا۔ یہ خلا میں وہ جگہ ہے جہاں سورج اور زمین کی کششِ ثقل کے توازن کے باعث اس ٹیلسکوپ کا مدار مستحکم رہے گا۔ اس ٹیلسکوپ کا کائنات کو دیکھنے والا مِرر یعنی آئینہ جیمز ویب کے مِرر سے تقریباً تین گنا چھوٹا یعنی 2.4 میٹر کا ہو گا یعنی کہ اتنا ہی سائز جتنا ہبل ٹیلسکوپ کے مِرر کا ہے۔ مگر یہ ہبل سے زیادہ وسیع علاقے میں ایک وقت میں تصویر کھینچھ سکے گی یعنی اسکا فیلڈ آف ویویو ہبل سے زیادہ ہو گا۔

    اس نئی اور جدید ٹیلیسکوپ میں 300.8 میگا پکسل کا کیمرہ نصب ہو گا جو کہکشاؤں اور ستاروں کی نہایت تفصیلی تصاویر کھینچے گا جبکہ اسکے ساتھ ساتھ کرونگرافر بھی جو ستاروں سے آنے والی روشنی کے زیادہ تر حصے کو بلاک کر کے انکے گرد گھومتے زمین جیسے سیاروں کو ڈھونڈے گا۔ اور اس میں موجود سپیکٹرومیٹر یعنی ایسا سائنسی آلہ جو سیاروں کی فضا سے گزرنے والی مدہم روشنیوں کا جائزہ لیکر یہ بتائے گا کہ دریافت کیے گئے سیاروں میں کن پر زندگی ہو سکتی ہے۔

    اس ٹیلسکوپ کو 2027 میں ایلان مسک کی کمپنی سپیس ایکس اپنے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجے گی۔ اس ٹیلسکوپ کے دو اہم سائنسی مقاصد میں سے ایک ڈارک انرجی کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے جبکہ دوسرا کائنات میں سیاروں کی تلاش جو زمین جیسے ہوں یا جہاں زندگی کے آثار موجود ہوں۔ یہ ٹیلیسکوپ 2027 سے 2032 یعنی ہانچ سال تک کام کرنے کے لیے بنائی جائے گی۔ اور اس دوران یہ انسانی علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں کو کائنات کے کئی اہم راز کھولنے میں مدد دے گی۔