Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    کیا ہوا — اور یہ کیوں اہم ہے
    حالیہ دنوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے ایک غیر معمولی اور پرخطر قدم اٹھایا: بلوچستان کے 12 سے 16 شہروں اور قصبوں میں بیک وقت مربوط حملوں کی کوشش۔ مقصد واضح تھا—بدامنی پھیلانا، اپنی طاقت کا تاثر دینا، اور بھرتی کے بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنا۔
    لیکن اس کے برعکس جو ہوا، وہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے تیز ترین اور فیصلہ کن انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں سے ایک تھا۔
    48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے:
    تقریباً 200 دہشت گردوں کو ہلاک کیا
    بڑی تعداد میں کارندوں کو گرفتار کیا
    دوبارہ منظم ہونے یا فرار کو روکنے کے لیے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز شروع کیے
    عالمی انسدادِ دہشت گردی کے تناظر میں یہ ردِعمل اس لیے نمایاں ہے کہ یہاں صرف اعداد نہیں، بلکہ رفتار، ہم آہنگی اور نظامی خلل کی گہرائی اہم ہے۔

    آپریشنل پھیلاؤ (نقشہ جاتی وضاحت)
    اگرچہ اصل نقشہ تزویراتی تفصیل دکھاتا، مگر آپریشنل دائرہ یوں سمجھا جا سکتا ہے:
    حملہ اور ردِعمل کے علاقوں میں شامل تھے:
    شمالی بلوچستان کے اضلاع
    وسطی نقل و حمل اور مواصلاتی راہداریوں
    جنوبی ساحلی اور اطرافی علاقے
    یہ وسیع جغرافیائی پھیلاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:
    بی ایل اے نے صوبے بھر میں بیک وقت دباؤ ڈالنے کی کوشش کی
    پاکستان نے انفرادی ردِعمل کے بجائے صوبہ گیر انٹیلی جنس ایکٹیویشن کے ساتھ جواب دیا
    انسدادِ دہشت گردی کی اصطلاح میں یہ صوبائی سطح پر کمانڈ سنکرونائزیشن کی مثال ہے—ایک ایسی صلاحیت جس کے حصول میں کئی ریاستیں ناکام رہتی ہیں۔

    وہ اعداد جنہوں نے منظرنامہ بدل دیا
    بی ایل اے کی قوت بمقابلہ نقصانات
    زمرہ
    اندازاً تعداد
    بی ایل اے کے کل جنگجو
    ~1,500
    ہلاک کیے گئے دہشت گرد
    ~200
    ہلاک شدہ فیصد
    ~13%
    وقت
    < 48 گھنٹے سادہ الفاظ میں: دو دن میں کسی مسلح تنظیم کے دس فیصد سے زائد افرادی قوت کا خاتمہ تباہ کن ہوتا ہے۔ زیادہ تر عسکریت پسند گروہ محدود نقصانات برداشت کر لیتے ہیں، مگر وہ آسانی سے بحال نہیں ہو پاتے جب: اچانک افرادی قوت میں کمی ہو تربیت یافتہ جنگجو ضائع ہو جائیں ٹھکانوں اور سہولت کاروں کا انکشاف ہو جائے عالمی سی ٹی تجزیہ کار اسے بڑی کامیابی کیوں سمجھتے ہیں
    بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی جائزے صرف “کتنے مارے گئے” پر نہیں رکتے؛ وہ دیکھتے ہیں کہ کون سے نظام ٹوٹے۔
    اس آپریشن نے متاثر کیا:
    کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس
    شہری سلیپر سیلز
    اضلاع کے درمیان نقل و حرکت کی راہداریاں
    بھرتی کی رفتار اور تاثر
    دنیا کے کئی محاذوں—ساحل (Sahel) سے مشرقِ وسطیٰ تک—میں اسی نوعیت کی کمی حاصل کرنے میں مہینے لگتے ہیں، اکثر بیرونی مدد کے ساتھ۔
    پاکستان نے یہ کارنامہ مقامی صلاحیت کے ذریعے اور انتہائی تیزی سے انجام دیا۔
    اصل نقصان: نفسیاتی دھچکا اور بھرتی کا انہدام
    دہشت گرد تنظیموں کے لیے تاثر، اسلحے جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔
    بی ایل اے کے اہداف تھے:
    اپنی رسائی دکھانا
    اپنی اہمیت جتانا
    نئے بھرتی حاصل کرنا
    نتیجہ مگر الٹ نکلا:
    فوری نشاندہی
    فوری غیر مؤثر بنانا
    محفوظ آپریٹنگ اسپیس کا خاتمہ
    ممکنہ بھرتی کے لیے پیغام سخت اور واضح ہے: “تم زیادہ دیر نہیں ٹکو گے۔”
    یہ خوف آئندہ بھرتی کے خلاف ایک طاقتور رکاوٹ بنتا ہے۔

    تزویراتی پیغام*Strategic Message

    بلوچستان سے آگے تک
    یہ آپریشن کئی سطحی پیغامات دیتا ہے:
    عسکریت پسندوں کے لیے: بڑے پیمانے کی ہم آہنگی تیز رفتار تباہی کو دعوت دیتی ہے
    سرپرستوں اور سہولت کاروں کے لیے: پراکسی تشدد سے دباؤ یا فائدہ حاصل نہیں ہوگا
    عالمی برادری کے لیے: پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی صلاحیت ایک فاسٹ ری ایکشن، انٹیلی جنس غالب ماڈل میں ڈھل چکی ہے
    یہ پاکستان کے اس مؤقف کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ بلوچستان میں عدم استحکام بیرونی عناصر کے ذریعے بھڑکایا جاتا ہے، مگر اندرونِ ملک اسے عزم کے ساتھ ناکام بنایا جاتا ہے۔

    خلاصہ

    محض تاکنیکی کامیابی سے بڑھ کر
    بی ایل اے کے مربوط حملوں پر پاکستان کا ردِعمل صرف کامیاب نہیں تھا—یہ تزویراتی طور پر سبق آموز بھی تھا۔
    48 گھنٹوں سے کم وقت میں کسی دہشت گرد تنظیم کے تقریباً 13 فیصد کا خاتمہ:
    آپریشنل رفتار توڑ دیتا ہے
    حوصلہ پست کر دیتا ہے
    بھرتی کے بیانیوں کو کمزور کر دیتا ہے
    وسیع اور پیچیدہ جغرافیے میں ریاستی رِٹ کو مضبوط کرتا ہے
    جیسے جیسے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز جاری ہیں، بی ایل اے کو صرف نقصانات نہیں بلکہ وجودی ساکھ کے بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے، یہ کارروائی ایک پُراعتماد اور جدید انسدادِ دہشت گردی مؤقف کی عکاس ہے جسے دنیا اب نظرانداز نہیں کر سکتی۔

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

  • عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    پنجاب کے زرعی شعبے کے لیے حالیہ دنوں میں بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں کی جانے والی زرعی اصلاحات نے آلو کے کاشتکاروں کے لیے نہ صرف امید کی کرن روشن کی بلکہ ان کی محنت کو منافع بخش بنانے کا عملی راستہ بھی کھولا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ اور 12 ملین میٹرک ٹن کی تاریخی پیداوار نے پنجاب کو آلو کی عالمی منڈی میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کی بنیاد رکھی ہے۔

    آلو کی بمپر فصل، اگرچہ کاشتکاروں کے لیے خوشی کی خبر ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی جڑا ہوا ہے: پیداوار کے ضائع ہونے کا خطرہ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمد کی اجازت طلب کی۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ اپنے کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گی اور انہیں مناسب معاوضہ دلانے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔

    پنجاب حکومت کی کوششیں صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر برآمدات کے لیے قازقستان سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ مریم نواز شریف کے مطابق، قازقستان پہلا قدم ہے اور اس کے بعد مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے گی تاکہ آلو کی ریکارڈ پیداوار کو کوڑیوں کے بھاؤ نہ بیچا جائے۔

    کسانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ فصل کی منڈیوں تک آسان رسائی ہے۔ زمین کی تیاری، فصل کی اگائی، دیکھ بھال، کھاد اسپرے اور پانی کی فراہمی جیسے اقدامات میں محنت کے باوجود، کئی بار کسان منافع نہ کما پاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے ہیں تاکہ آلو کی پیداوار نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی منڈی میں بھی مناسب قیمت اور استحکام کے ساتھ فروخت ہو۔

    اس تمام عمل کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے کسان اپنی محنت کا پوری قیمت حاصل کریں اور ان کی فصلیں ضائع نہ ہوں۔ آلو کی بمپر پیداوار اب کسان کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خوشحالی اور معاشی استحکام کا پیغام لائے گی۔ پنجاب کی حکومت کی یہ حکمت عملی نہ صرف زرعی شعبے میں انقلاب لانے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پاکستان کے زرعی برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈی میں مقام بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔

    مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کی زرعی اصلاحات نے آلو کی پیداوار کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا ہے اور عالمی منڈی میں برآمدات کی راہیں کھول دی ہیں۔ یہ اقدامات کسانوں کے مالی استحکام، پیداوار کی حفاظت اور ملک کی معیشت میں زبردست بہتری کا سبب بن سکتے ہیں۔ آلو کی بمپر فصل اب صرف ایک زرعی کامیابی نہیں بلکہ پنجاب کے کسانوں کے لیے خوشحالی کا حقیقی پیغام ہے۔

  • کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان

    کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان

    کشمیر دنیا کا ایک خوبصورت خطہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدوجہد، قربانی اور حریت کی علامت بھی ہے۔ قدرت نے کشمیر کو بے مثال حسن سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ جنت نظیر وادی کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کا شکار ہے۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ آزادی اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اُن کی جدوجہد اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے، جسے طاقت کے زور پر ہمیشہ کے لیے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہر سال پانچ فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنا اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں۔ اُن کی یہ قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

    کشمیر کے عوام نے ظلم، جبر اور پابندیوں کے باوجود کبھی اپنی آزادی کی خواہش کو ختم نہیں ہونے دیا۔ اُن کے حوصلے، صبر اور استقامت پوری دنیا کے لیے مثال ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ظلم چاہے جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، سچ اور حق کی طاقت ہمیشہ غالب آتی ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں صرف کشمیری عوام کی حمایت کا درس ہی نہیں دیتا بلکہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں مظلوموں کی آواز بننا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں اور کشمیری عوام کے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اخلاقی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر کھڑے رہیں۔

    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی، حوصلے اور قربانی کی لازوال داستان ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں اتحاد، بھائی چارے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنی آزادی حاصل کریں گے اور امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں گے۔

  • یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )،  کامران ہاشمی

    یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )، کامران ہاشمی

    5 فروری کا دن ہمیں یہ یاد اور احساس دلاتا ہے کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک حقیقت کا نام ہے۔ یہ دن ہمیں مظلوم کشمیری عوام کےساتھ کھڑے ہونے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے اور ان کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا دن ہے۔برف پوش پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کی یہ سرزمین کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہی ہے۔ معصوم جانیں قربان ہوئیں، مائیں اجڑیں، مگر کشمیری عوام کے حوصلے نہ ٹوٹے۔ ان کی خاموشی میں صبر ہے اور ان کی نگاہوں میں آزادی کی روشن امید۔
    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کا ہر دل کشمیر کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ہم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں اورہراخلاقی،سفارتی اور انسانی فورم پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے انشاء اللہ۔ یہ یکجہتی وقتی طور پر نہیں، بلکہ یہ ایک پختہ عزم اور زندہ ضمیر کا اظہار ہے۔

    آج ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ حق کی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی، اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیاں آزادی کی خوشبو سے مہک اٹھیں گی جس طرح جمیل الدین عالی نے نظم ” اے دیس کی ہواؤں ” میں یہ بات کہا ہے کہ تاریخ کہتا ہے کہ ایک دن آپ ضرور آزاد ہونگے ۔آخر میں بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان مظلوم کشمیری عوام کو جلد انصاف، امن اور آزادی عطافرمائےآمین۔

  • یوم یکجہتی کشمیر.تحریر:   زونیشاء خاں

    یوم یکجہتی کشمیر.تحریر: زونیشاء خاں

    یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
    جنت کسی کافر کو ملی ہے نا ملے گی
    "کشمیر بنے گا پاکستان” یہ صرف ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ ایک ذندہ و تلخ حقیقت ہے۔ کشمیر اور پاکستان کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور تاریخ یکساں ہے۔ کشمیر کے ساتھ جو ہمارا رشتہ ہے وہ دینی و اسلامی رشتہ ہے۔ ہندوستان سے جب پاکستان علیحدہ ہوا تو کشمیر پاکستان کے حصے میں آیا تھا، لیکن بھارت کی ناانصافی سے یہ اب تک کیلئے نا حل ہونے والا تنازع بن چکا ہے، جسکی اندھیری رات ختم ہونے میں نہیں آرہی ہے۔

    وطن عزیز پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو "یوم یکجہتی کشمیر” منایا جاتا ہے۔ اس دن حکومت اور عوام کشمیریوں سے اظہار یکجتی کا اعلان کرتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ایک گزشتہ اجلاس میں مظلوم کشمیریوں کی حمایت کر کے جو تاثر قائم کیا گیا تھا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعد کے ایام میں اس کا اثر زائل ہو گیا۔

    کشمیر جنت نظیر کی سر زمینِ پر بھارت کی درندہ صفت فوجیں اتنی بڑی تعداد میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی پر مامور ہیں کہ اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ان کی آبادیاں ویران،کھیت کھلیان اور باغات تباہی حال، بہن اور بیٹیوں کی عزتیں پامال اور پوری وادی جنت نظیر آج مقتل کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اب تک بہت سی جانوں کے نذرانے پیش کیے جاچکے ہیں۔ کشمیر میں ہر طرف ظلم وزیادتی اور بربریت کا منظر ہے۔ آئے روز بھارت کی طرف سے حملے ہورہے ہیں جنکا حساب کوئی نہیں لینے والا ہے۔

    کشمیری عوام مختلف تنظیموں کے جھنڈ تلے مصروف جہاد ہے۔ وہاں کا بچہ بچہ اپنی آزادی کیلئے کھڑا نظر آرہا ہے۔ 5 فروری کو پورے پاکستان میں "یوم یکجہتی کشمیر” سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔ اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعارے لگائے جاتے ہیں۔ ان شاءاللہ کشمیر اللّٰہ رب العزت کے حکم سے ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔ ظالم بھارتیوں نے اہل کشمیر پر زمین تنگ کر دی ہےمگر کشمیری عوام ان شاءاللہ آزادی کی تحریک کو کامیابی سی ہم کنار کر کے دم لیں گی۔

  • وادیِ لہو میں آزادی کا سورج: 5 فروری اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: فوزیہ شاہین

    وادیِ لہو میں آزادی کا سورج: 5 فروری اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: فوزیہ شاہین

    5 فروری کا دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ لہو سے لکھی گئی اس داستانِ عزیمت کی یاد دہانی ہے جو وادیِ کشمیر کے چناروں تلے برسوں سے رقم ہو رہی ہے۔ یہ دن ہمیں ان ماؤں کی ممتا، ان بہنوں کی ردائے عفت اور ان جوانوں کے جذبۂ شوق کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے آزادی کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر رکھا ہے۔ بقول شاعر:

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو
    موت بھی آئے اور کفن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    تاریخ کے جھروکوں میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ "مسئلہ کشمیر” برصغیر پاک و ہند کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جو آج بھی عالمی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ہر سال جب 5 فروری کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ اپنے ساتھ ان ہزاروں شہداء کی خوشبو لے کر آتا ہے جنہوں نے غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ تان کر شہادت کا جام پیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری کی خاموشی اس لہو کا مداوا کر پائے گی؟

    کشمیر کی تحریکِ آزادی کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نام نہیں، بلکہ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والا وہ جذبہ ہے جسے جبر کی کوئی دیوار قید نہیں کر سکی۔ ان چار دہائیوں میں ہم نے دیکھا کہ کیسے ہزاروں مائیں اپنے جگر گوشوں کے جنازوں کو کندھا دیتی نظر آئیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو ماتھے پر بوسہ دے کر رخصت کیا، اس یقین کے ساتھ کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    جس خاک کے خمیر میں ہو خوںِ شہدا
    اس ارضِ مقدس سے بغاوت نہیں ہوتی

    ایک ماں کے لیے جوان بیٹے کا داغ جھیلنا زندگی کی سب سے بڑی اذیت ہے، لیکن کشمیری ماؤں کا حوصلہ انسانی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ وہاں بہنوں نے اپنے بھائیوں کی کلائیوں پر راکھی کے بجائے آزادی کے عہد باندھے اور جب ان کے بھائی لہو میں لت پت واپس آئے تو انہوں نے بین کرنے کے بجائے "آزادی” کے نعرے بلند کیے۔ یہ وہ قربانی ہے جس کی مثال دنیا کی کسی اور تحریک میں نہیں ملتی۔

    کشمیر کے المیے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو وہ درندگی ہے جو خواتین کے ساتھ روا رکھی گئی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹیں گواہ ہیں کہ غاصب افواج نے "عصمت دری” کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تاکہ کشمیریوں کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔ ہزاروں لڑکیاں اور عورتیں جن کی چادریں تار تار کی گئیں، وہ آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک آزاد فضا میں سانس لینے کا خواب دیکھتی تھیں۔
    نفسیاتی طور پر جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے زخم کبھی نہیں بھرتے، لیکن کشمیری خواتین کی ہمت دیکھیں کہ اس ظلم کے باوجود ان کے قدموں میں لغزش نہیں آئی۔ وہ آج بھی سر اٹھا کر قابض فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی زمین کا حق مانگ رہی ہیں۔

    کچل کے پاؤں سے وہ وادیاں جو آئی ہے
    وہ فوج خون کی ندیاں بہا کے لائی ہے
    مگر یہ جبر کی دیوار ٹوٹ جائے گی
    سحر کی گود سے آزادی مسکرائے گی

    برصغیر کی تقسیم کے وقت سے شروع ہونے والا یہ مسئلہ آج کئی سال گزرنے کے باوجود وہیں کھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں فائلوں میں دبی دھول چاٹ رہی ہیں۔ استصوابِ رائے کا وعدہ جو عالمی سطح پر کیا گیا تھا، وہ آج ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں معاشی مفادات کی خاطر انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں۔ کیا کشمیریوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے عالمی منڈی میں تولا جائے؟ یہ دوہرا معیار ہی اس مسئلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    کشمیر کے عوام آج بھی اس امید میں بیٹھے ہیں کہ ایک دن آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ وہ سورج جو ان کی وادیوں سے خوف کے سائے مٹا دے گا، جو ان کی ماؤں کے آنسو پونچھے گا اور جو ان کی آنے والی نسلوں کو امن کا گہوارہ دے گا۔ فیض احمد فیض کے الفاظ میں:

    ہم دیکھیں گے
    لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
    وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
    جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے

    انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم آزادی کا فیصلہ کر لیتی ہے، تو دنیا کا کوئی بھی جدید اسلحہ یا فوجی طاقت اسے غلام نہیں رکھ سکتی۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے ذریعے کشمیر کی شناخت مٹانے کی کوشش کی، لیکن اس نے کشمیریوں کے اندر آزادی کی تڑپ کو مزید جلا بخشی۔
    پاکستان کے عوام اور حکومت کے لیے 5 فروری محض اظہارِ یکجہتی کا دن نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ مزید موثر انداز میں لڑنا ہوگا۔ ہمیں ان مظلوموں کی آواز بننا ہوگا جن کی آواز کو کرفیو اور لاک ڈاؤن کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اے ارضِ وطن! تو بھی ہے گواہ ہم بھی ہیں گواہ
    اس ظلم کی کالی رات میں ہر آہ ہے گواہ

    اے اللہ! تو ہی ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔ وادیِ کشمیر میں بہنے والے معصوموں کے خون کے صدقے، اس مٹی کو غاصبوں سے پاک فرما۔ ان ماؤں کے حوصلے بلند رکھ جن کے بیٹے لاپتہ ہیں یا خاکِ وطن کا رزق بن گئے۔ کشمیر کے اس دیرینہ مسئلے کو جلد از جلد انصاف کے مطابق حل فرما اور وہاں کے لوگوں کو وہ حقیقی آزادی نصیب فرما جس کے لیے انہوں نے اپنی نسلیں قربان کر دیں۔ آمین۔

  • یوم کشمیر،تحریر؛حمرہ اکرام

    یوم کشمیر،تحریر؛حمرہ اکرام

    ایک ایسا خوبصورت سرزمین جس سرزمین کو جنت کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔ اگر اس سرزمین میں کوئی کمی ہے تو وہ کمی سکون کی ہے وہ خوبصورت سرزمین کشمیریوں کے لیے جہنم بنا دیا گیا ہے لیکن وہاں کے بہادر لوگ اپنے جنت کو دوزخ میں بدلنے میں نہیں چھوڑتے وہ مسلسل اپنے آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ایک مدت سے وہ اس جدوجہد میں مبتلا ہے لیکن انہوں نے کبھی بھی سر جھکا کر غلامی کو تسلیم نہیں کیا ان کے آزادی کی خواہش کبھی نہیں مریں گی، کئی بار کشمیر کے لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہر بار وہ اپنے جدوجہد کی آواز سے ثابت کر دیتے ہیں کہ وہ بہادر مسلم تھے اور رہیں گے اور نسل در نسل ان کی بہادری کی داستانیں چلتی رہیں گی ان کے زخم ناقابل فراموش ہے۔اور ہم پاکستان کے لوگ چاہے وہ حکمران ہوں یا عوام ہو ہر پانچ فروری کو کشمیریوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپ کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ صرف ایک دن کے لیے ہم نے اپنے وجود کے ایک ٹکڑے کو فراموش کر دیا ہے ان کو نظر انداز کر دیا ہے اور ہمارے حوصلے دیکھیں ہمیں درد بھی محسوس نہیں ہو رہی بہت ہی افسوس کی بات ہے۔ آئے مل کر اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں ان کو بے گناہ اور اپنے ہی گھر کے اندر قتل کیا جاتا ہے اور ہم تماشائی اور بے بس بن کر کھڑے ہیں۔

  • صدائے کشمیر  ،تحریر: عاصمہ تبسم

    صدائے کشمیر ،تحریر: عاصمہ تبسم

    پانچ فروری کا دن پاکستان میں یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض تقویم کا ایک ورق نہیں بلکہ ایک عہد ہے، ایک وعدہ ہے کہ ہم کشمیری عوام کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ وہ وادی جو کبھی اپنی دلکش فضاؤں، بہتے جھرنوں اور سبز پہاڑوں کے باعث جنتِ نظیر کہلاتی تھی، آج خون اور آنسوؤں کی کہانی سناتی ہے۔

    1947 کے خزاں میں جب بھارتی افواج نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا، تو اس دن سے کشمیری عوام کی زندگی ایک مسلسل کرب میں ڈھل گئی۔ حقِ خودارادیت کی وہ روشنی جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں جھلکتی تھی، آج تک ان کی دہلیز تک نہیں پہنچی۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا، لیکن کشمیری عوام کی آنکھوں میں آزادی کا خواب اب بھی زندہ ہے۔

    بھارت کے ظلم و جبر کی داستان اتنی طویل ہے کہ ہر صفحہ خون سے لکھا گیا ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، خواتین کی عصمت دری، نوجوانوں کی آنکھوں کو پیلٹ گنز سے چھین لینا، یہ سب روزمرہ کے معمولات بن چکے ہیں۔ اظہارِ رائے پر ایسی پابندیاں ہیں کہ زبان کھولنے کی سزا قید و بند ہے، اور قلم اٹھانے کی جرات کرنے والوں کے لیے اظہار پر قدغن کی دیواریں کھڑی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کر کے بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کی شناخت اور آبادیاتی ڈھانچے کو مسخ کرنے کی سازش کی۔ لیکن اس سب کے باوجود ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ظلم کے سامنے جھکنا ان کے خون میں نہیں۔

    یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں واضح ہیں، لیکن عالمی طاقتیں خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی ہیں۔ کشمیری عوام کی قربانیاں دنیا کے ضمیر پر دستک دیتی ہیں، مگر افسوس کہ یہ دستک اکثر ان سُن کانوں تک نہیں پہنچتی۔

    یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم صرف نعروں اور جلسوں تک محدود ہیں یا واقعی کشمیری عوام کے لیے عملی اقدامات کرنے کو تیار ہیں؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھیں۔ ہمیں ان کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے، تاکہ ظلم کی سیاہ رات میں امید کی کرن روشن ہو سکے۔

    جیسا کہ ایک اور صدا بلند ہوتی ہے:

    اندھیروں میں بھی جلتی ہے امید کی شمع
    کشمیر کی جدوجہد ہے تاریخ کی نعمت

    کشمیر کی جدوجہد آزادی ایک ایسی شمع ہے جو ظلم کی آندھیوں کے باوجود بجھنے سے انکار کرتی ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، جب تک کہ آزادی کی صبح ان کی دھرتی پر طلوع نہ ہو جائے۔

  • کشمیر پاکستان کا مقدر،تحریر:  دعا سرفراز

    کشمیر پاکستان کا مقدر،تحریر: دعا سرفراز

    کشمیر ایک حسین وادی ہی نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخ، ایک جلتا ہوا سوال اور ایک عظیم قربانیوں کی داستان ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے پہاڑ، وادیاں، دریا اور فضائیں بھی آزادی کا نغمہ گنگناتی ہیں۔ کشمیر پاکستان کا مقدر ہے، کیونکہ یہ رشتہ محض جغرافیے کا نہیں بلکہ ایمان، تہذیب، ثقافت اور قربانیوں سے بندھا ہوا ہے۔ تقسیمِ ہند کے وقت کشمیر کی مسلم اکثریت نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش کا اظہار کیا، مگر بدقسمتی سے یہ خواب آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ ان کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن ہے اور زبان پر صرف ایک ہی صدا ہے: "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔” کشمیر کی وادیاں شہیدوں کے لہو سے رنگین ہیں۔ ماں نے اپنے لعل قربان کیے، بہنوں نے اپنے بھائی کھوئے اور بچوں نے اپنے باپ کی شفقت سے محرومی سہی، مگر کسی نے بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا قبول نہ کیا۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ ہر فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی گئی ہے۔ پاکستانی قوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھتی ہے۔

    کشمیر پاکستان کا مقدر اس لیے بھی ہے کہ یہ رشتہ قدرتی، نظریاتی اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک سچ ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیوں میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گا اور کشمیری عوام آزادی کی فضا میں سانس لیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کشمیریوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں، ان کے لیے آواز بلند کریں اور ہر ممکن حد تک ان کا ساتھ دیں۔ کیونکہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، یہ ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کشمیر تھا، کشمیر ہے اور کشمیر ہمیشہ پاکستان کا مقدر رہے گا۔

  • زن چه نیست ۔۔۔؟تحریر: پارس کیانی

    زن چه نیست ۔۔۔؟تحریر: پارس کیانی

    انسانی تہذیب کی پوری داستان میں اگر کسی ایک ہستی کو مرکزیت حاصل ہے تو وہ عورت ہے۔ کائنات کا سماجی توازن عورت کے بغیر نامکمل ہے۔ انسانیت کی بنیاد، تعلقات کا رچاؤ، محبت کی نزاکت، خاندان کی تشکیل، سب عورت کے وجود سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے کردار میں کبھی ماں ہے، کبھی بہن ہے، کبھی دوست، کبھی ساتھی، اور کبھی ایک ایسے جذبے کی علامت جس سے زندگی کو معنی ملتے ہیں۔

    عورت کی عظمت کسی ایک مذہب، قوم یا تہذیب تک محدود نہیں۔ قدیم مصر سے لے کر جدید دنیا تک، ہر دور نے اسے کسی نہ کسی صورت میں مرکزی مقام دیا۔ ہندو مت میں لکشمی اور سرسوتی کو علم اور خوش حالی کی علامت سمجھا گیا۔ یونانی روایات میں دیوی ایتھینا دانائی و حکمت کا استعارہ رہی۔ بدھ مت، عیسائیت اور یہودیت سب کی کہانیوں میں خواتین شفقت، قوت اور استقامت کی علامت ہیں۔ یہ حقیقت انسانیت کے اجتماعی شعور میں گندھی ہوئی ہے کہ عورت دنیا کی سماجی تعمیر میں بنیادی اکائی ہے۔

    سماجیات کے مطابق معاشرے کی تشکیل کا پہلا ادارہ خاندان ہوتا ہے اور خاندان کی اساس عورت ہے۔ زبان، رویّے، اقدار، روایات اور احساسات،all transmission،عورت کے ذریعے نسل در نسل آگے بڑھتے ہیں۔ وہ نرمی بھی ہے اور استقامت بھی۔ اپنے وجود سے ماحول میں توازن پیدا کرتی ہے، افراد کو جذباتی ہم آہنگی دیتی ہے اور معاشرے میں رشتوں کے مابین ربط قائم رکھتی ہے۔دنیا کی تاریخ میں ایسی بے شمار خواتین ملتی ہیں جنہوں نے تہذیبوں کے رخ بدل دیے۔ قدیم مصر کی حکمران حتشپسوت، چین کی وو زیٹیان، برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اوّل، یونان کی فلسفی ہائپیشیا، فرانس کی جوآن آف آرک، ہندوستان کی رانی لکشمی بائی، مغل دور کی مشہور فرمانروا رضیہ سلطانہ، اوّلین طبی محقق الفیہ بنتِ موسیٰ، اور برصغیر کی بہادر عورت دادی جانکی جیسے نام اس بات کی دلیل ہیں کہ عورت تاریخ کے دھارے میں کسی موڑ پر پیچھے نہیں رہی۔ جدید دور میں انجیلا میرکل، کملا ہیرس، کرسٹینا فرنانڈز، اور بینظیر بھٹو کی قیادت اس سلسلے کی تسلسل ہے۔

    سائنس اور علم میں بھی عورت نے وہ نقش چھوڑے جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔ میری کیوری نے ریڈیو ایکٹیویٹی کی دریافت سے جدید سائنس کا دروازہ کھولا۔ ایڈا لوویلیس نے کمپیوٹر پروگرامنگ کے تصورات دیے۔ جوسیلین بیل برنیل نے نیوٹرون ستاروں کی دریافت کی۔ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کی بنیاد فاطمہ الفہری نے رکھی۔ ادب میں ورجینیا وولف، ٹونی موریسن، قرۃالعین حیدر اور عصمت چغتائی نے انسانی نفسیات اور سماج کو نئے زاویے دیے۔
    عورت کی سماجی و انسانی خدمات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مدر ٹریسا کی انسانیت نوازی، وانگاری ماتھائی کی ماحولیاتی جدوجہد، روزا پارکس کی نسلی امتیاز کے خلاف مزاحمت، ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کے لیے آواز، ہیرئیٹ ٹبمین کی غلامی کے خلاف لڑائی—یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ عورت ہر زمانے میں تبدیلی کی سب سے مضبوط قوت رہی ہے۔ برطانیہ کی لیڈی ڈیانا نے فلاحی خدمات اور عالمی انسانیت کے لیے وہ نقوش چھوڑے جو دلوں پر آج بھی نقش ہیں۔

    وہ عورت جو کبھی جھولا جھلاتی ہے، کبھی کتاب تھامتی ہے، کبھی نظریہ وجود بخشتی ہے، کبھی تلوار بلند کرتی ہے، کبھی قلم اٹھاتی ہے، اور کبھی ایک گھرانے میں محبت کی بنیاد رکھتی ہے،وہی عورت اصل میں دنیا کی تشکیل کرنے والی ہستی ہے۔ اگر مرد تعمیر ہے تو عورت تزئین، مرد بنیاد ہے تو عورت عمارت، مرد سمت ہے تو عورت معنی۔

    دنیا کی ہر تہذیب اور ہر دور ایک ہی حقیقت دہراتا ہے کہ عورت محض جنس نہیں، انسانیت کا سب سے اہم محور ہے۔اور کائنات عورت کے وجود کے بغیر ہمیشہ ادھوری رہے گی۔