Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    ایڈولف سیکس انیسویں صدی کی شروعات میں بیلجیئم میں پیدا ہوا تھا. ایڈولف ایک عجیب قسمت لے کر آیا تھا. حادثے اسکا پیچھا کرتے تھے. مثلاً جب وہ دو سال کا تھا تو اپنی بلڈنگ کی دوسری منزل کی کھڑکی سے گر گیا تھا. اسکا سر پھٹ گیا لیکن زندگی بچ گئی.

    چھ سال کا ہوا تو تیزاب پی لیا تھا. بمشکل زندگی بچائی گئی. 9 سال کا ہوا تو سیڑھیوں پر پھسل کر ایسا گرا کہ قلابازیاں کھاتے نیچے پہنچ گیا. بدقسمتی یہ ہوئی کہ نیچے ایک جلتے ہوئے چولہے پر گر گیا. 11 سال کی عمر میں اسے خسرہ ہوا. اتنا شدید خسرہ تھا کہ صاحب 9 دن کوما میں رہے.

    یہی نہیں 14 سال کی عمر میں بازو تڑوا دیا 19 سال کی عمر میں ایک عمارت کے اوپر سے گری اینٹ نے اسکا سر ڈھونڈ لیا. 23 سال کی عمر میں زہریلی شراب پی لی تھی لیکن بال بال بچ گیا. البتہ ایڈولف سیکس جب 29 سال کا ہوا تو اس نے سیکسو فون ایجاد کر لیا.

    قسمت اور زندگی سب اپنی اپنی لکھوا کر لائے ہوتے ہیں. بد قسمتی اگر گزر جائے اور زندگی خود کو بچا لے تو بندے کو آگے چل دینا چاہئے. ایک حادثہ ایک واقعہ پکڑ کر بیٹھ جانے والے پھر زندگی سے انصاف نہیں کر پاتے. آج جب کسی سٹیج پر یا کسی فوجی بینڈ میں کسی فنکار کو لہک لہک کر سیکسو فون بجاتے آپ دیکھیں تو ایڈولف سیکس کو یاد کر کے سوچیں کیا آپ اس سے بھی زیادہ بد قسمت ہیں.؟ وہ تو آج بھی لہک لہک کر گا رہا ہے.

  • لالچی لوگ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    لالچی لوگ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    آج سے تقریباً پانچ سال پہلے قندیل کی شادی اپنے خالہ زاد کے ساتھ ہوئی۔ شادی کے دوسال بعد ہی اس نے خلع کا کیس دائر کیا تو ایک بزرگ کے ہمراہ مجھے بھی اس کیس میں صلح صفائی کے لیے مدعو کیا گیا کیونکہ میرے اس گھرانے کے ساتھ پرانے تعلقات تھے۔ میں نے قندیل سے پوچھا کہ آپ خلع کیوں لینا چاہتی ہیں؟

    اس نے بالکل سیدھی اور صاف بات کہی کہ شادی سے پہلے میری خالہ میری بلائیں لیتے نہیں تھکتی تھی۔ میرے گھر والے شادی تھوڑی لیٹ کرنا چاہتے تھے کیونکہ چند ماہ قبل ہی میری بڑی بہن کی شادی ہوئی تھی اور اب میرے جہیز کے لیے والدین کو کچھ وقت چاہیے تھا۔ لیکن میری خالہ نے ضد کی کہ قندیل کونسا پرائے گھر جا رہی۔ بس سادگی سے شادی کر دیں، ہمیں جہیز نہیں چاہیے۔ میرے خالہ کی بہت زیادہ ضد اور اصرار پر گھروالوں نے میری شادی سادگی سے بغیر جہیز کے ہی کر دی۔ بس ضرورت کی چند چیزیں اور کپڑے برتن وغیرہ ہی دے سکے۔

    لیکن کے ایک دو ماہ بعد ہی اس بات پر خالہ اور میری نندوں کے ہلکے پھلکے طعنے شروع ہوئے جسے میں نے اگنور کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلے گئے۔ میں نے کئی بار کہا کہ آپ لوگوں نے ہی جلدی مچائی تھی اس لیے جہیز نہیں لائی ورنہ کچھ وقت دیتے تو ہو جانا تھا۔

    ان کا یہ طعنہ بھی ہوتا تھا کہ تمہاری بڑی بہن کو تو اتنا جہیز دیا لیکن تم شاید سوتیلی تھیں اس لیے خالی ہاتھ بھیج دیا۔ اس میں مجھے اتنا گلہ خالہ اور نندوں سے نہیں ہے جتنا اپنے شوہر عدیل سے ہے کیونکہ اس نے بھی کہا تھا کہ جہیز نہیں چاہیے لیکن ان طعنوں کے دوران وہ اکثر خاموش رہتا تھا بلکہ کبھی کبھار وہ بھی شامل ہو جاتا تھا۔ جب طعنے بہت زیادہ بڑھ گئے تو میں نے الگ رہنے کی بات کی تاکہ سکون سے رہ سکوں کیونکہ عدیل کی تنخواہ ماشاءاللہ اچھی ہے اور اللہ کا کرم ہے کہ گھر میں سب کچھ موجود ہے۔ وہ آدھی تنخواہ والدین کو بھی دے دے تب بھی ہمارا گزارا بہت اچھے سے ہو سکتا ہے۔ والدین کی اپنی آمدن بھی ہے جو زمینوں سے ، دکانوں کے کرایوں سے آتی ہے۔
    لیکن اس پر بھی عدیل نے میرا ساتھ نہیں دیا۔

    اب مزید طعنے سہنا ممکن نہیں رہا اور کوئی بہتری کے بھی چانس نہیں کہ میں کچھ وقت ایسے طعنے سہہ کر گزار لوں۔

    اس کی یہ بات اس کے شوہر کے سامنے رکھی اور اس سے پوچھا کہ اتنی تنخواہ ہے، دکانوں کا کرایہ، زمین کی آمدن پھر بھی جہیز نہ لانے کے طعنے کس لیے جب کہ اللہ کا دیا سب کچھ ہے؟

    بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتا، اس کا یہی کہنا تھا کہ جہیز نہ لانے کا سب کہتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ والدین خالی ہاتھ ہی بیٹی کو رخصت کر دیں۔

    میں نے اسے کہا کہ اسلامی لحاظ سے بھی شادی اور بیوی کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ ہیں۔ کہیں بھی نہیں ہے کہ بیوی جہیز لائے۔ جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جہیز کی مثال دی جاتی ہے اس میں بھی یہ ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زرہ بیچ کر خریدا گیا تھا اور اس میں بھی صرف ضرورت کی چند ایک چیزیں تھیں۔

    پھر اگر تم لوگوں نے طعنے ہی دینے تھے تو اس وقت اچھے بننے کے لیے کیوں کہا کہ جہیز نہ دیں، تب ہی بھکاری بن کر کہہ دیتے کہ ہمیں تو جہیز چاہیے ہے تاکہ اس بیچاری کی زندگی اجیرن تو نہ کرتے۔

    چونکہ عدیل اور اس کے گھر والے اپنی غلطی تسلیم کرنے پر راضی ہی نہیں تھے تو اس علیحدگی کو نہ روکا جا سکا۔ عدت کے بعد قندیل کی بھی ایک جگہ شادی ہو گئی جس کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی اور اس کی ایک چھوٹی بیٹی تھی اور عدیل نے بھی پھپھوکی بیٹی صبیحہ سے شادی کر لی جو ڈھیر سارا جہیز لائی۔

    اب تقریباً خلع کے تین سال کے بعد کی صورت حال یہ ہے کہ قندیل کا گھر بہترین چل رہا۔ ایک بیٹا اس کا اپنا ہے اور شوہر کی پہلے والی بیٹی کو بھی وہ اپنی اولاد کی طرح سنبھال رہی۔ اس کے گھر جاؤ تو گھر میں ہر طرف خوشیوں کا راج نظر آتا ہے۔

    جبکہ عدیل کی دوسری بیوی جو ڈھیر سارا جہیز لائی تھی اس نے اپنی ساس کو نوکرانیوں کی طرح رکھا ہوا ہے، اپنی نندوں کی بھی شادیاں کروا کر انکا گھر میں اثرورسوخ تقریباً ختم کر دیا ہے۔ عدیل کو صبیحہ کے والد نے کاروبار سیٹ کروا کر دیا ہے اس لیے وہ کوئی بھی چوں چراں نہیں کرتا۔ جہیز کے بل پر صبیحہ نے سب کو آگے لگا رکھا ہے لیکن ایسے لالچی لوگوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔

  • دسمبری شاعری — ڈاکٹر عدنان نیازی

    دسمبری شاعری — ڈاکٹر عدنان نیازی

    میرا ایک دسمبری شاعر دوست ہے جو باقی گیارہ مہینے انسان رہتا ہے لیکن دسمبر کے مہینے میں شاعر بن جاتا ہے۔ دسمبر کے مہینے میں خود پر سوگ کی کیفیت طاری کر لیتا ہے اور دسمبری دکھی شاعری سنا سنا کر سارے دوستوں کا جینا حرام کر دیتا ہے۔

    کل جمعہ کے بعد نازل ہو گیا۔ آتے ہی تین چار غزلیں میرے متھے ماریں جن میں ان فقروں کی تکرار تھی کہ

    اسے کہنا دسمبر آگیا ہے.

    اسے کہنا دسمبر کی سرد شامیں اسے بلاتی ہیں.

    وغیرہ وغیرہ

    پہلے تو میں نے سوچا کہ صاف کہہ دوں کہ مجھے اسکا وٹس ایپ نمبر دو میں کہہ دیتا ہوں لیکن پھر خاموش رہا کہ شاعر نازک دل والے ہوتے ہیں کہیں پھڑک ہی نہ جائے۔

    لیکن مزید شاعری سننے کی ہمت نہیں تھی اس لیے کہا کہ صرف شاعری ہی کرتے ہو یا اس کے واپس آنے کی تمنا بھی ہے؟
    کہتا بالکل یہ تو دلی خواہش ہے۔

    میں نے کہا کہ صرف تمنا ہے یا امید اور یقین بھی ہے؟

    کہتا تمنا بھی ہے اور امید اور یقین بھی ہے۔

    میں کہا کہ اس کے آنے کی کیا تیاری کی؟

    کہتا تیاری؟ کیسی تیاری؟

    میں نے کہا کہ بھائی وہ واقعہ تو سنا ہی ہوگا کہ قحط کی ماری کسی بستی کے لوگ کھلے میدان میں بارش کے لیے نمازِ استسقاء ادا کرنے گئے تو صرف ایک بچہ تھا جو چھتری بھی ساتھ لے کر گیا کیوں کہ اسے یقین تھا کہ اللہ دعا سنے گا اور بارش آئے گی۔ اور پھر اس کی ہی دعا قبول ہوئی اور بارش بھی ہوئی۔

    کہتا ہاں ہاں سنا ہے۔

    میں کہا کہ پھر اس کے لوٹ آنے کی امید صدقِ دل سے رکھو اور تیاری کرو۔

    کہتا کہ تیاری کیسے کروں۔

    میں نے کہا کہ بھائی گھر کو سجاؤ، خود کو تیار کرو۔

    کہتا ہاں یار۔ پھر شہد بھی دے دو۔ کل میں نے خاص چھوٹی مکھی کے جنگلی بیری والے شہد والی پوسٹ آپ کی وال پر دیکھی تھی، جس کا ذائقہ بھی کمال اور جس کی خوشبو بھی کمال ہے مگر دل اداس تھا تو ایسے ہی گزر گیا۔ اب وہی خاص شہد مجھے بھی دے دو۔
    میں نے اسے دیا اور ساتھ کہا کہ صرف اپنے لیے لو گے؟ اس کے آنے پر اسے شہد گفٹ نہیں کرو گے؟

    کہتا ہاں یار یہ بھی خوب یاد دلایا۔یہ شہد تو خوب ہے جیسے کل آپ نے پوسٹ میں کہا تھا لیکن اس کی پیکنگ کالے رنگ میں ہے۔ مجھے تو کالا رنگ بہت پسند ہے اور یہ شہد بھی لیکن اسے سبز رنگ پسند ہے تو اس کے لیے سبز رنگ کی پیکنگ والا (ایکسپورٹ کوالٹی بیری والا) دے دیں۔ ویسے بھی وہ تھوڑا مہنگا ہے اور اسے مہنگی چیزیں پسند ہیں۔

    دونوں کا ایک ایک کلو دیا۔ یہ ملاقات اسے پانچ ہزار چار سو پچاس میں پڑی ہے۔

    اب امید ہے کہ دسمبر اس کا سکون میں گزر جائے گا اور میرا بھی کیونکہ اتنی جلدی وہ پھر میرے پاس نہیں آنے والا۔

    ہور کوئی ساڈے لائق؟

  • سماعت کی حس کے ابتدائی مدارج ماں کی کوکھ میں —  خطیب احمد

    سماعت کی حس کے ابتدائی مدارج ماں کی کوکھ میں — خطیب احمد

    صرف چار ہفتے کے حمل میں انسانی ایمبریو کا دماغ بن چکا ہوتا ہے۔ پانچویں ہفتے دماغ کی دونوں اطراف میں دو چھوٹے سے سوراخ بن جاتے ہیں۔ یہ کان کے اندرونی حصے کا آغاز ہوتا ہے۔۔ ایک دو ہفتوں میں یہ سوراخ اندر کی طرف گولائی میں فولڈ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ ہی دن میں یہ گولائی کاکلیا Cochlea بن جاتی ہے۔ جی بلکل سب سے پہلے کان میں کاکلیا بنتا ہے۔ کان کا اندرونی حصہ۔

    آٹھویں ہفتے میں کان میں موجود تین چھوٹی ہڈیوں کا سٹرچر بننا شروع ہوتا ہے۔ جو آواز کان میں آنے پر وائبریٹ کرتی ہیں اور آواز کو سننے میں مدد دیتی ہیں۔ ایک ٹیوب کی شکل میں کیویٹی جو اس سٹرکچر کے گرد بننا شروع ہوتی ہے۔ اسے ہم کان کا درمیانی حصہ کہتے ہیں۔ پہلے Inner ear بنا تھا اور اب middle ear بننے لگا ہے۔

    حمل کے بارہویں ہفتے میں کاکلیا کے اندر چھوٹے چھوٹے بال اگنا شروع ہوتے ہیں۔ جنہیں ساؤنڈ ٹرانسمیٹرز کہا جاتا ہے۔ یہ بال کاکلیا کے ساتھ ہی نس (Nerve) میں بھی شفٹ ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو آواز کے سگنل دماغ تک لے جا رہی ہے۔ یہ آواز کے سگنل لیجانے والی نس ہمارے برین کے ٹیمپورل لوب میں موجود آڈیٹری کارٹیکس کے ساتھ کنکیشن ہوئی ہوتی ہے۔ جہاں بے معنی شور کو پراسس کرکے دماغ معنی اور مخصوص پہچان عطا کرتا ہے۔

    حمل کے پندرہویں ہفتے تک بیرونی کان مکمل بن چکا ہوتا ہے۔ جیسے ہی حمل کے سولہویں ہفتے یعنی چار ماہ کے حمل میں خدا کے حکم سے بچے کے جسم میں روح پھونکی جاتی ہے تو جسم کے دیگر تمام حصوں کے ساتھ کان بھی اپنا ابتدائی کام کرنا شروع کرتا ہے۔

    تقریباً اٹھارہویں ہفتے میں بچہ ماں کے سانس لینے، کھانا ہضم کرنے، دل کی دھڑکن سننے لگتا ہے۔ باہر کی دنیا سے وہ ابھی کوئی آواز نہیں سن رہا۔

    حمل کے تئیسویں ہفتے بچہ کوکھ سے باہر کی دنیا میں سے آواز سنتا ہے۔ باہری دنیا کی آوازوں میں سے بچہ پہلے low-pitched ساونڈز سنتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ ماں کی آواز سے پہلے باپ کی آواز سنتا ہے۔ یا کوئی بھی مردانہ آواز۔ ایسے ہی وہ بلی کی آواز نہیں سن سکتا مگر کتے کے بھونکنے کی آواز سن سکتا ہے۔ مگر جیسے جیسے کانوں اور دماغ کا کنیکشن میچور ہوتا جاتا ہیں وہ ماں کی آواز بھی سننے لگتا ہے۔

    ماں کے پیٹ میں بچے کا کان انتہائی حساس ہوتا ہے۔ اللہ نے اسکی حفاظت کے لیے تین تہیں بنا دی ہیں۔ سب سے پہلے ماں کے پیٹ کی اسکن۔ دوسرے نمبر پر کوکھ کی اسکن۔ اور تیسرے نمبر پر کوکھ میں موجود پانی جو کان تک انتہائی اونچی آواز جانے میں حائل ہوجاتا ہے۔ واہ میرے مالک کون لوگ ہیں جو تیری ذات کا انکار کرتے ہیں۔ اگر صرف کوکھ میں یہ پانی ہی نہ ہو تو کسی بس کا ہارن یا دروازہ زور سے بند ہونے پر ماں کے پیٹ میں ہی بچے کی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔

    یہ آوازیں بچے کے لیے بامعنی نہیں ہوتیں۔ اسے نہیں پتا ہوتا کہ یہ کیا کہا جا رہا ہے۔ چھبیسویں ہفتے تک بچہ کسی آواز کو سننے پر تین طرح کے ری ایکشن دیتا ہے۔ اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے سانس تیزی ہوتی یا وہ حرکت کرتا ہے اور کائنات کو پیغام دے رہا ہوتا ہے میں سن رہا ہوں۔

    بتسویں ہفتے تک اگر بچے کا سونوگرام کیا جائے تو پاس کوئی بات کرکے یا میوزک چلا کر بچے کے چہرے کے تاثرات اور سمائل تک دیکھی جا سکتی ہے۔ پینتسویں ہفتے تک بچہ اپنے آس پاس سنی جانے والی اپنی امی اور ابو کی آواز سے غیر شعور میں مانوس ہو چکا ہوتا ہے۔

    یہی وجہ سے جب بچہ پیدا ہوتا تو باہر دنیا میں وہ اپنی ماں کی ڈائیریکٹ آواز سن کر روتے ہوتے ہوئے فوراً چپ کر جاتا ہے۔ اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس لڑکی کی آواز سنی سنی لگتی ہے۔ یہ لڑکی ضرور میری اپنی ہے۔ اس سے ضرور کوئی گہرا رشتہ ہے۔ سو لوگوں کی آوازوں میں سے وہ چند منٹوں کی زندگی کا بچہ اپنی ماں کی آواز میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ماں کی کوکھ میں بچے کی سماعت کا خیال کیسے رکھا جائے کہ وہ سماعت سے محروم نہ ہو؟

    اپنی من مرضی کی دوائیاں نہ کھائیں۔ کہ میری بہن نند جٹھانی دیورانی کو حمل میں یہ ہوا تھا اس نے یہ گولی کھائی تو وہ ٹھیک ہوگئی میں بھی کھا لیتی ہوں۔ یہ خطرناک ترین عمل ہے۔ دوران حمل کوئی بھی اینٹی بائیوٹک کھانے سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ حمل میں دانتوں کا علاج کروانے سے گریز کریں اس میں بہت ہیوی اینٹی بائیوٹک کھانا پڑتی ہے۔ جو بچے کی سماعت کو خراب یا ختم بھی کر سکتی ہیں۔

    آپکا گھر مسجد امام بارگاہ وغیرہ کے قریب ہے جہاں سپیکرز کی آواز بہت ہی زیادہ آتی ہے۔ تو پلیز حمل کے دنوں میں اس گھر سے کہیں اور شفٹ ہوجائیں۔ یا اذان کے وقت کسی ایسے کمرے میں یاد سے بیٹھ جائیں جہاں آواز بہت کم آسکے۔ اسپیکرز کی اتنی تیز اور ہائی پچ آواز ہوتی کہ بڑے لوگوں کی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچہ یا نومولود چھوٹا بچہ تو انتہائی رسک پر ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ بہت اونچی بولنے والی خواتین کے پاس حاملہ لڑکی 10 تا 20 منٹ سے زیادہ نہ بیٹھے۔ اونچی آواز میں میوزک نہ چلائے۔ شادیوں میں فوجی بینڈ والوں سے دور رہے۔ شبرات پر دوران حمل آپ کے آس پاس پھوڑا گیا کوئی پٹاخہ یا بم آپکے پیٹ میں موجود بچے کو ساری عمر کے لیے سننے سے صلاحیت سے محروم کر سکتا ہے۔

    الکوہل اگر آپ پیتی ہیں تو دوران حمل پلیز نہ پئیں۔ یہ عادت بھی بچے کی سننے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

    حاملہ لڑکی کو نو ماہ انتہائی خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ اسے کوئی دکھ پریشانی نہ دیں۔ مالی مشکلات کو قرض لے کر ہی عارضی طور پر ختم کر لیں۔ ماں کا دوران حمل پریشانی و ٹینشن میں رہنا، یا خوش نا رہنا، ذہنی تناؤ میں رہنا بھی بچوں میں متعدد معذوریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    حمل میں مچھلی انڈے بادام کی سات سے نو گریاں روزانہ رات کو بھگو کر صبح، زیتون، کچا ناریل ضرور کھائیں۔ یہ پیدا ہونے والے بچے میں سماعت کی حس کو قدرتی طور پر اچھا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

  • ,,کون سی کل سیدھی،، — مجیب الرحمن

    ,,کون سی کل سیدھی،، — مجیب الرحمن

    ایک بات بتائیے بلکہ یہ بات تو محترم خواتین کے بتانے والی ہے کہ یہ جو آجکل دلہنوں کو مہنگے ترین پارلر پر تیار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد دلہن پہچانی بھی نہیں جاتی اس میں کیا راز پنہاں ہے ؟

    غازہ بہت ضروری ہے ایک دلہن کے لیے لیکن دلہے پر کس قدر ظلم عظیم ہے کہ پہلے دن گھونگھٹ اٹھانے پر دلہن کے نین نقش تک واضح نہ ہوں اور دوسرے دن چہرہ دھلنے پر پتا چلے کہ یہ تو بارات والی خاتون ہی نہیں.

    اچھا دوسری نفسیات یہ بھی ہے کہ اگر کسی پارلر کی تعریف کرنی ہو تو خواتین کہتی ہیں فلاں پارلر بڑا اچھا ہے اس نے دلہن کو ایسے تیار کیا کہ پہچانی ہی نہیں جارہی تھی ۔۔۔۔ ارے بھئی یہی تو سب سے بڑا ظلم ہے کہ پہچانی نہ جاوے ، وہ ماہر مشاطہ اتنا غازہ کیوں تھوپے کہ اصل نین نقش ہی چھپ جاویں اور ولیمے کے اگلے روز منکوحہ اجنبی اجنبی سی لگے۔

    اب دلہے بھلےمانس کو دیکھ لیجیے ، مجال ہے کہ نین نقش میں رتی برابر فرق آیا ہو ۔ بال کٹوائے ، قلمیں تراشیں ، شیو کی ، ذرا سا جیل لگا کر تیار ۔۔۔ اگر پارلر گئے بھی تو ذرا سا لوشن یا پف کا پوچا لگ گیا ۔ اللہ اللہ خیر صلا .

    کسی شادی میں جانا ہوا ، اب چونکہ دلہن کو ہم نے پہلے فیملی میں دیکھ رکھا تھا تو اس کی شکل یاد تھی ۔ لیکن جیسے ہی دلہنیا کو اسٹیج پر لایا گیا ہمیں گمان گزرا یہ کسی اور لڑکی کا نکاح ہے ۔۔۔ پارلر والی نے آنکھیں ، ناک ، ہونٹ اور خال و خد تک بدل دیے ۔۔ یا خدا.

    کسی دن ایسا ہو کہ دلہا نہ پہچانا جاوے ۔۔ پھر ؟

    ادھر تو تصویر کی بجائے اصل میں لڑکے کا رنگ ذرا دبتا نظر آئے تو دلہن کی بہنیں سر پہ بازو رکھ لیتی ہیں کہ لڑکا سانولا ہے.

    اب آپ ہی بتائیے اس کا کیا حل ہو کہ دلہن صحیح سالم ویسی ہی رخصت کی جاوے جیسی لڑکے والوں کو تصویر دکھائی گئی تھی ، بس میک اپ اتنا ہو کہ قدرتی نین نقش نہ بدلیں ۔ یہاں تو ایکسٹینشن لگا کر زلفیں تک بڑھا لی جاتی ہیں ۔۔

    آئے ہائے کتنا ظلم ہے دلہوں پر…

  • پولٹری کی فیڈ اور برائلر بحران کا خدشہ!!! — عاصم چوہدری

    پولٹری کی فیڈ اور برائلر بحران کا خدشہ!!! — عاصم چوہدری

    ہم بہت عرصہ سے سنتے تھے کہ پولٹری کی فیڈ میں فلاں حرام استعمال ہوتا، فلاں استعمال ہوتا جس کی وجہ سے کافی ڈسٹربینس رہتی تھی۔ تو کچھ عرصہ پہلے پولٹری کی فیڈ پر ریسرچ کررہے تھے تو پتہ چلا کہ پولٹری میں فیڈ کا کیا حساب ہوتا ہے۔ انفارمیشن کے لیے پولٹری کی فیڈ کا یہاں بتاتا ہوں اس سے آپکو پولٹری کا موجودہ بحران سمجھنے میں شائد مدد مل سکے۔

    عام طور پر چوزے سے برائلر بننے کا عمل 45 دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ پاکستان میں کتنے دنوں میں یہ عمل مکمل ہوتا بے اس کا مجھے مکمل اندازہ نہیں لیکن باہر کے ملکوں میں وہ یہ عمل 45 دنوں میں مکمل کرتے ہیں اور پھر 45 دنوں کے حساب سے اس کی فیڈ بناتے ہیں جس میں مین انگریڈی اینٹ سویا بین میل، اور مکئی ہوتی یے جبکہ باقی چیزوں میں فش میل، بون میل، امائنو ایسڈز اور پری مکسڈ امائنو ایسڈز شامل ہوتے ہیں۔ مکئی میں تقریبا 8 فیصد پروٹین ہوتی ہے جبکہ سویا بین میل میں 45 فیصد پروٹین ہوتی ہے۔

    پہلی سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی ہے اسکو سٹارٹر فیڈ کہتے ہیں جس میں مکئی تقریبا 61 فیصد اور سویا بین میل 31 فیصد ہوتی ہے۔ اور یہ سٹارٹر فیڈ پہلے 16 دن جاتی ہے۔ اس کے بعد دوسری سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی اس کو "گرو آر” فیڈ کہتے ہیں اس سٹیج میں مکئی کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور سویا بین تقریبا اتنا ہی رہتا ہے۔لیکن ساتھ میں کچھ چیزیں اور شامل کردی جاتی ہیں جیسے کیلشیئم کاربونیٹ۔۔جو کہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے اور یہ "گرو آر فیڈ” ستارہویں دن سے لیکر 30 دنوں تک دی جاتی ہے۔

    تیسری سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی ہے اس کو فنشر فیڈ کہتے ہیں جو کہ 30 سے 38 ویں دن تک دی جاتی ہے۔جس میں مکئی کی مقدار زیادہ کردی جاتی اور سویا بین تقریبا اتنا ہی رہتا ہے۔ اس سٹیج پر برائلر تیار ہوچکی ہوتی ہے لیکن یہ برائلر دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے اس کو کچھ کھانے کو نہیں دیتے۔ پھر اس برائلر میں ہوا بھرنے یعنی اس کو موٹا تازہ دکھانے کے لیے چوتھی سٹیج کی فیڈ جس کو "فیٹنر فیڈ” کہتے ہیں دی جاتی ہے۔

    اس سٹیج میں مکئی فیڈ میں شامل نہیں کی جاتی بلکہ اس میں سویا بین کو روسٹ کرکے شامل کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں فش میل شامل ہوتی ہے۔ فش میل وہ مچھلی ہوتی ہے جو بکتی نہیں تو اس کو خشک کرکے سکھا کر اس کا پاوڈر بنالیا جاتا ہے۔ اور پھر اس کو فیڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔۔مکئی لو فائبر اور ہائی انرجی ائیٹم ہے۔ جبکہ سویا بین ہائی انرجی، اور بریلر کے نظام انہضام کے میٹابولزم کو تیز کرنے کے کام آتا ہے۔ جبکہ فش میل پولٹری کے لیے ضروری امائنو ایسڈ جیسے لائیسین اور میتھی اون شامل ہوتے ہیں اس کے علاوہ فش میل میں ضروری منرلز شامل ہوتے ہیں۔

    اب اس ساری فیڈ میں جو چیز یا را میٹریل ہمیں باہر سے منگوانا پڑتا ہے وہ سویا بین میل ہے۔سویا بین اور سویا بین میل یہ دو مختلف چیزیں ہیں سویا بین کی جب کرشنگ کی جاتی ہے تو اس دوران جو سویا بین آئل کے ساتھ جو چیز بچتی ہے اس کو سویا بین میل کہتے ہیں۔ چوتھی سٹیج میں ہمیں روسٹڈ سویا بین چاہیے ہوتا ہے۔ اور یہ ہم باہر سے منگواتے ہیں۔

    2018 سے پہلے تک پاکستان پام آئل اور سویا بین کے ذریعے ہی ایکسٹریکشن کرکے سویا بین آئل سے ہی بناسپتی گھی اور بناسپتی آئل تیار کرتا تھا لیکن چونکہ یہ امپورٹ کرنا پڑتا یے جس امپورٹ بل متاثر ہوتا تھا تو عمران خان نے سویا بین کی بجائے سرسوں کو پروموٹ کرنا شروع کردیا۔ جس سے ایک تو سرسوں کی کاشت بہتر ہوئی اور دوسرا سویا بین سے امپورٹ بل کم ہوا۔اس سے لوکل کسان کو بھی کافی فائدہ ہوا۔

    لیکن پولٹری فیڈ میں سویا بین اور سویا بین کا متبادل کوئی نہیں ہے۔ اب روف کلاسڑہ اور طارق چیمہ کے پالتو یہ افواہیں پھیلارہے کہ سویا بین جس کمپنی کا ہے وہ کمپنی امریکن جی ایم او کمپنی ہے اور اس کا سویا بین حرام ہے، مکس بریڈ ہے وغیرہ وغیرہ۔۔جبکہ یہ چ و تیئے اس قوم کو 2018 سے پہلے اسی کمپنی کے سویا بین کا بناسپتی گھی اور بناسپتی تیل میں فرائی کرکرکے پکوڑے اور سموسے کھلاتے رہے اور مچھلی فرائی کھلاتے رہے اور اب یہ بیج حرام ہوگیا۔۔

    جبکہ اصل ایشو یہ ہے کہ ایک تو ایل سیز کی وجہ سے لوگ سویا منگوا نہیں پارہے اور جو منگوا رہے ہیں۔۔ان کے ساتھ یہ ظلم کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے سویا بین پر جو سبسڈی دی ہوئی تھی عمران خان کی گورنمنٹ میں۔۔اس سبسڈی کو ختم کردیا ہوا جس کی وجہ سے امپورٹر اور امپورٹڈ حکومت کے درمیان پھڈا پڑا ہوا ہے اور سارا مال کراچی میں سیز کردیا گیا ہے اور یہاں پاکستان میں پولٹری کو فیڈ کی فراہمی ڈسٹرب ہورہی ہے۔ ابھی تو سٹاک میں موجود فیڈ چل رہی ہے۔اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو دسمبر کے بعد یہاں پولٹری پر دما دم مست قلندر ہوگا۔

  • پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے تحریری مقابلے کا انعقاد — بلال شوکت آزاد

    پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے تحریری مقابلے کا انعقاد — بلال شوکت آزاد

    سیگریٹ نوشی اور منشیات کے حوالے سے میں پہلے بھی ایک بلاگ میں بتاچکا ہوں کہ مجھے اس حرکت سے کس قدر نفرت ہے؟

    خیر پاکستان پیکٹ اور کرومیٹک اس حوالے سے پاکستان میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ناصرف تمباکو نوشی کے مضر اثرات بارے آگاہی حاصل ہو بلکہ ساتھ ساتھ یہ پلیٹ فارمز اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاستی اور حکومتی سطح پر ایسی قانون سازی ہو اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے تمباکو نوشی کے عفریت کو لگام ڈالی جاسکے۔

    اس مقصد سے پاکستان پیکٹ اور کرومٹیک باہمی اشتراک سے مختلف کیمپینز اور عوامی آگاہی پروگرام اور مقابلہ جات منعقد کرتے رہتے ہیں جس میں ڈیجیٹل میڈیا کی حد تک باغی ٹی وی ان کے شانہ بشانہ رہتا ہے۔

    پاکستان پیکٹ کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    2015 میں PHW کے سائز کو فی پیک 85 فیصد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ تاہم، تمباکو کی صنعت کے دباؤ کے تحت، حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور اس کے بجائے 2017 میں ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں صرف 60% PHW کا اعلان کیا گیا، جو اس وقت نافذ العمل ہے۔

    پاکستان پیکٹ کا مقصد وزارت صحت کو اس مشن میں شامل کرنا ہے کہ وہ سگریٹ کے پیک کے PHW سائز پر غور کرے اور اسے 85% تک بڑھائے۔

    مزید یہ کہ پاکستان تمباکو کنٹرول پر ایف سی ٹی سی – ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن کا دستخط کنندہ ہےکیونکہ پاکستان میں تمباکو کا استعمال بہت زیادہ ہے جو کہ درحقیقت اموات کی بلند شرح کی نشاندہی کرتا ہےجبکہ تمباکو کے بڑے فروخت کنندہ کی طاقت کے استعمال کی وجہ سے قوانین کے نفاذ میں اب بھی بہت سی خامیاں موجود ہیں۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد بچوں پر مشتمل ہےاس لیے ہماری نسل نو کے صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے میں ایک اہم قدم تمباکو کی مصنوعات تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔

    تاہم، تمباکو کمپنیوں نے بھی احتیاط سے اس کی نشاندہی کی ہے اور وہ مسلسل "متبادل تمباکو نوشی کرنے والوں” کی تلاش میں ہیں۔

    لہٰذا، مخالفت کی مہمیں جو عام سے خواص دونوں طبقوں کو مربوط کرتی ہیں تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کا کامیابی سے مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

    انہی مقاصد کو عوام تک پہنچانے میں پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی پیش پیش ہیں اور اس حوالے سے عوامی مقابلوں کا وقتاً فوقتاً انعقاد کرکے اس مقدس مشن کو پھیلا رہے ہیں۔

    اس سال پہلے پوسٹ کارڈ مقابلے کا کامیاب انعقاد کیاتھا اور اب سال کے آخر میں تحریری مقابلہ منعقد کروایا جارہا ہے حس کی تفصیل دی جارہی ہے۔

    جو لوگ لکھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ ضرور اس تحریری مقابلے کا حصہ بن کر پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے شانہ بشانہ ہوں۔

    تحریری مقابلہ شروع ہونے کی تاریخ یکم دسمبر 2022 ہے۔

    کرومیٹک, پاکستان پیکٹ اور باغی ٹی وی لایا ہے تحریری مقابلہ سیزن 01

    انعامی رقم

    پہلا انعام = مبلغ دس ہزار روپے صرف!!!

    فاتح کا اعلان پاکستان کے تمام ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا کے سامنے ایک شاندار تقریب میں کیا جائے گا۔

    عنوان اور تھیم = ہیلتھ لیوی (صحت ٹیکس)

    کون کون حصہ لے سکتا ہے؟

    بھئی, کوئی بھی پاکستانی شہری جس کی عمر 12 سے 30 سال تک ہو تحریری مقابلے میں شامل ہونے کا اہل ہے۔

    کس طرح شرکت ممکن ہے؟

    اپنی انٹری یا تو بلاگ، مضمون، فیچر یا کسی بھی اور تحریری صنف میں لکھ سکتے ہیں۔

    تحاریر کیسے بھیجیں؟

    1-سب سے پہلے کرومیٹک, پیکٹ پاک اور باغی ٹی وی کے ٹوئٹر, انسٹاگرام اور فیسبک اکاؤنٹس کو فالو کریں۔

    2- دیے گئے واٹس ایپ نمبر پر اپنی تحاریر ارسال کریں۔

    3- یا اپنے نام، شہر، عمر، رابطہ نمبر اور سامنے اور پیچھے کی CNIC تصویر کے ساتھ "” ای میل کے ذریعے اپنی تحاریر ارسال کریں۔

    مزید تفصیلات کے لیے Pakistanpact.com یا trustchromatic.com یا baaghitv.com کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔

    تحریری مقابلے کے فاتح کا اعلان 25 دسمبر 2022 میں کیا جائے گا۔

    پاکستان پیکٹ – کرومیٹک – باغی ٹی وی

    تو پھر سوچ کیا رہے ہو, اٹھاؤ قلم اور آؤ مد مقابل اور جیتو دس ہزار کی انعامی رقم وہ بھی ایک شاندار تقریب میں۔

  • معروف شاعراستاد دامن کا یوم وفات

    معروف شاعراستاد دامن کا یوم وفات

    8حکمرانوں کے بخیے ادھیڑنے والا درزی شاعر

    استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا۔ یکم جنوری 1910 کوچوک متی لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد میراں بخش درزی تھے۔ گھریلو حالات کے پیش نظر دامن نے بھی بچپن ہی میں تعلیم کےساتھ ٹیلرنگ کا کام بھی شروع کر دیا( بعد میں انہوں نےجرمن فرم جان ولیم ٹیلرز سے ٹیلرنگ کا باقاعدہ ڈپلوما بھی حاصل کیا ) انہوں نے ساندہ کے دیو سماج سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

    عمر تیرہ سال ہوئی تو خاندان چوک متی سے باغبانپورہ منتقل ہو گیا شعر گوئی کی ابتدا بڑے بھائی کی وفات پر مرثیے سے کی لیکن باقاعدہ شاعری کا آغاز میٹرک کے بعد کیا۔ پہلے ہمدم تخلص کر تے تھے لیکن جلد ہی اسے ترک کرکے دامن اختیار کیا ۔ پنجابی شاعری میں استاد محمد رمضان ہمدم کے شاگرد ہو ئے اور ان کی شاگردی کو باعث فخر سمجھتے تھے۔

    1940 میں میاں افتخار الدین کی صدارت میں ہونے والے میونسپل کمیٹی لاہور کے اجلاس میں کمیٹی کارکردگی پر تنقیدی نظم پیش کی اور خوب داد حاصل کی ۔ ان کے بعد ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو تا گیا اور انہوں نے سیاسی جلسوں میں بھی نظمیں پڑھنے کا آغاز کیا ۔ وہ سید عطا اللہ شاہ بخاری، میاں افتخار الدین اور مزدوروں کےجلسوں کی رونق ہوتے تھےحصولِ آزادی کی جدوجہد میں وہ نیشنل کانگریس کے فعال کارکن تھے۔ لاہور کے ایک جلسے میں جس کی صدارت جواہر لال نہرو کر رہے تھے، دامن نے نظم پڑھی جو نہرو نے بہت پسند کی اور 100 روپے انعام دیا ( آج کے ایک لاکھ روپے سمجھ لیں ) اس کا بہت چرچا ہوا-

    1947 کے فسادات میں ان کی دکان لوٹ لی گئی جس کے سبب زبردست مالی بحر ان کا شکار ہو کر باغبانپورہ سے بادشاہی مسجد کے قریب
    ٹکسالی گیٹ میں واقع مسجد کےاس حجرے میں منتقل ہو گئے جس میں اکبر بادشاہ کے زمانے میں حضرت شاہ حسین بھی مقیم رہے تھے ۔ پھر تادم مرگ یہی حجرہ استاد دامن کا مسکن ٹھہرا۔ کل اثاثہ ان کی چند کتابیں تھیں ۔ 1949 میں استاد دامن کی شادی ہوئی لیکن کچھ ہی عر صہ بعد ان کا کم سن بیٹا اور بیوی انتقال کر گئے اور پھر تمام عمر شادی نہ کی ۔

    دامن نے پنجابی شاعری کی فنی خوبیوں پر ملکہ رکھنے کی بدولت اہل علم وفن سے استاد کا خطاب حاصل کیا ۔استاد دامن مزدوروں ، کسانوں،غریبوں اور مظلوموں کے شاعر تھے ۔انہوں نے ان طبقوں کی حمایت اور حقوق کیلئے آواز اٹھائی اور ہمیشہ استحصالی طبقوں کی مذمت کرتے رہے ۔ انہوں نے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں. پنجابی ادبی سنگت کی بنیاد رکھی اور اس کے سکیرٹری بھی رہے ۔

    استاد دامن کے چاہنے والوں میں بھارتی اداکار اوم پرکاش، پران اور شیام بھی شامل تھے۔ اوم پرکاش کی فرمائش پر ہی استاد نے نورجہاں کی زیر ہدایات بننے والی فلم "چن وے” کے اس گیت کا مکھڑا لکھا۔

    چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا
    آپے بناؤنا تے آپے مٹاؤنا

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی۔ وہ موقع کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے ۔ آزادی کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے دلی میں منعقدہ مشاعرے میں یہ فی البدیہہ نظم پڑھی :

    جاگن والیاں رج کے لٹیا اے
    سوئے تسی وی او، سوئے اسیں وی آں
    لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے
    روئے تسی وی او، روئے اسیں وی آں

    حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے ۔ مشاعرے میں پنڈت جواہر لعل نہرو (وزیراعظم بھارت) بھی موجود تھے ، انہوں نے استاد دامن سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام فرمائیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میرا وطن پاکستان ہے، میں لاہور ہی میں رہوں گا بے شک جیل ہی میں کیوں نہ رہوں ۔

    اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی افلاس میں گزاری مگر مرتے دم تک وطن سے محبت کے گیت گائے ۔ اس دھرتی کو نفرتوں ، بے ایمانیوں اور عیاریوں سے پاک کرنے کیلئے محبتوں کے پھول بکھیرتا رہا اور ان برائیوں کی علانیہ نشاندہی اور مذمت کر تا رہا ۔ استاد دامن نے آزادی کے بعد سیاست دانوں کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پر بھرپور تنقید کی اور عوامی شعور کو بیدار کیا ۔ ملک کے دن بدن زوال کی تصویر کشی کرتے ہوئے استاد دامن کہتے ہیں :

    بھج بھج کے وکھیاں چور ہوئیاں
    مڑ کے و یکھیا تے کھوتی بوہڑ ہیٹھاں

    استاد دامن عام بول چال کی زبان میں اپنا خیال پیش کرکے سامعین و قارئین کے دلوں کی گہرائیوں کوچھو لیتےاستاد دامن کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف فیض احمد فیض نے ایک نجی محفل میں یہ کہہ کر کیا کہ میں پنجابی میں صرف اس لئے شاعری نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ، وارث شاہ اور بلھے شاہ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ہیں ۔

    استاد دامن کی یادداشت بہت اچھی تھی ۔ قیام پاکستان کے بعد کچھ شر پسندوں نے ان کی ذاتی لائبریری اور دکان کو آگ لگا دی تو ان کی ذاتی تحریریں ، ہیر کا مسودہ جسے وہ مکمل کر رہے تھے اور دوسری کتابیں جل کر راکھ ہو گئیں تو انہوں نے دل برداشتہ ہو کر اپنا کلام کاغذ پر محفوظ کر نا چھوڑ دیا اور صرف اپنے حافظے پر بھر وسہ کرنے لگے ۔ ان کا کافی کلام ضائع ہو گیا لیکن ان کی یاد میں قائم ہونے والی استاد دامن اکیڈمی کے عہدیداروں نے بڑی محبت وکاوش سے ان کے مختلف ذہنوں میں محفوظ اور ادھر ادھر بکھر ے ہو ئے کلام کو یکجا کر کے’’دامن دے موتی‘‘ کے نام سے ایک کتاب پیش کی۔

    استاد دامن نے فلموں کیلئے بھی گیت لکھے ۔ ان کا فلم’’ غیرت دا نشان ‘‘ میں شامل یہ گیت بہت مشہور ہوا۔

    منیوں دھرتی قلعی کرا دے میں نچاں ساری رات
    نہ میں سونے دی نہ چاندی دی میں پتل بھری پرات

    استاد دامن ، پنجابی کے علاوہ اردو سنسکرت ، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی دسترس رکھتے تھے لیکن انہوں نے وسیلہ اظہار اپنی ماں بولی پنجابی ہی کو بنایا ۔ استاد دامن بلھے شاہ اکیڈمی کےسرپرست، مجلس شاہ حسین کے سرپرست اور ریڈیو پاکستان شعبہ پنجابی کے مشیر بھی تھے ۔ ان مختلف حیثیتوں میں انہوں نے پنجابی زبان وادب کی ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں ۔

    استاد دامن کہا کرتے تھے کہ اگر کسی نے میرا اردو ایڈیشن دیکھنا ہو تو وہ حبیب جالب کو دیکھ لےاستاد دامن کو فیض اور جالب سے محبت تھی۔ 80 کی دہائی میں جب انکے منہ بولے بیٹے فلم سٹار علاؤالدین کا انتقال ہوا تو گویا استاد دامن کی کمر ٹوٹ گئی۔ بستر پر ہی پڑے رہتے ،کبھی ہسپتال اور کبھی گھر، پھر تھوڑے ہی عرصے کے بعد فیض صاحب بھی خالق حقیقی سے جاملے۔

    استاد سے محبت کرنے والوں نےلاکھ روکا، وہ نہ مانے اور اپنےیاردیرینہ کے جنازے پر پہنچ گئےلوگوں نے استاد دامن کو پہلی بار دھاڑیں مارتے ہوئے دیکھا۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ گویا تقسیم سے لے کر آج تک ٹوٹنےوالی ساری قیامتوں کی اذیت فیض صاحب کے جانے کے بعد ہی ان تک آئی ہےفیض صاحب کا انتقال 20 نومبر 1984ء کو ہوا اور اسی شام دامن کی ہمت بھی جواب دے گئی۔ایسے ٹوٹے کے صرف تیرہ دن بعد 3 دسمبر 1984 کو فیض صاحب کے پیچھے روانہ ہو گئے۔ آج ان کی برسی ہے.

    انہیں ان کی وصیت کے مطابق شاہ حسین کے مزار کے سائے میں دفن کیا گیا ۔

    منقول

  • سندھ کے سکولوں میں کلچرل ڈے منیایاگیا،رنگارنگ پروگرام منعقد کئے گئے

    سندھ کے سکولوں میں کلچرل ڈے منیایاگیا،رنگارنگ پروگرام منعقد کئے گئے

    سندھ کے سکولوں میں کلچرل ڈے منیایاگیا،رنگارنگ پروگرام منعقد کئے گئے
    کندھ کوٹ سے مختیار اعوان کی رپورٹ کے مطابق کندھ کوٹ کے علاقے غوث پور کے پرائمری اسکول میں سندھی کلچر ڈے پروگرام منعقد کیا گیا پروگرام میں اساتذہ طلبہ وہ طالبات کے ساتھ دیگر لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ثقافتی پروگرام میں ٹوپی اور اجرک پہن کر طلبہ اور طالبات نے سندھی گیتوں پر رقص کیا ثقافتی تقریب میں آئے ہوئے مہمانوں کو سندھ کی ثقافت ٹوپی اور اجرک کے تحفے دیئے گئے اس موقع پر تقریب کے شریک لوگوں کا کہنا تھا کہ سندھ کی ثقافت ٹوپی اور اجرک پانچ ہزار سال پرانی تہذيب ہے سندھی قوم اپنے روایات برقرار رکھی ہوئی ہے اور ہمیشہ کے لیے یہ کلچرل ڈے کو عید کی طرح منایا جاتا ہے، سندھ کی ثقافت ٹوپی اور اجرک سندھی لوگوں کی پھچان ہے ہم سندھی قوم اپنی پھچان دنیا کو بتاتے ہوئے آئے ہیں۔

    ٹھٹھہ سے نامہ نگار راجہ قریشی کی رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اگھیمانی سے ثقافتی دن کی ریلی نکالی گئی، ریلی میں ڈیسنٹ پبلک ھائی سکول داتار نگر پیر جو گوٹھ ۔گورمنٹ بوائز ہائی سکول اگھیمانی ۔گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول محمد جمن ولھاری کے اساتذہ اور طلباہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس کے علاوہ بگھاڑموری کے عوام نے بہی ریلی میں شرکت کی، ریلی ہائی سکول سے نکالی گئی اور بگھاڑ اسٹاپ پر اختتام پزیر ہوئی، ریلی میں سکول کے طلباہ اور اساتذہ نے سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنےکے لئے تقریریں کی گئیں،مختلف اسکولوں کے اساتذہ ۔امیر محمد ولھاری۔محمد الیاس میمن۔ یار محمد ملاح۔ جمال ناصر میمن۔ نیاز احمد میمن۔ جمیل میمن۔شھزاد میمن۔ عبدالرحمان عباسی۔ انور میمن ۔طفیل میمن۔عبدالرحمن شورو۔ منیر ولھاری ۔حسن علی شورو اور سماجی دوست غلام نبی چوہان ۔غلام میرانخور۔منیر میرانخور ۔سینئر صحافی ملک منظور خاصخیلی سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی.

  • یوم ولادت، یحییٰ کمال بیاتلی

    یوم ولادت، یحییٰ کمال بیاتلی

    پیدائش: 02 دسمبر 1884ء
    وفات:01 نومبر 1958ء

    یحییٰ کمال بیاتلی ترکی زبان کے معروف شاعر، مصنف اور سیاست داں تھے۔ آپ 2 دسمبر 1884ء کو اسکوپے، سلطنت عثمانیہ (موجودہ مقدونیہ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پیدائشی نام احمد آغا تھا لیکن آپ اس کے علاوہ آغا کمال، اسرار، محمد آغا اور سلیمان سعدی کے قلمی ناموں سے بھی لکھتے رہے ہیں۔
    آپ کا تعلق عثمانی دربار سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ خاندان سے تھا۔ دوران تعلیم آپ نے کچھ عرصہ فرانس کے دار الحکومت پیرس میں بھی گزارا جہاں کئی معروف ترک دانشوروں، سیاست دانوں اور مصنفین سے آپ کی ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ نے یورپ بھر میں سیاحت کی اور متعدد ثقافتوں کا جائزہ لیا۔ آپ فرانس کی رومانوی تحریک سے متاثر تھے۔ بعد ازاں آپ نے شاعری کرنے کا فیصلہ کیا۔
    1912ء میں استنبول واپسی تک آپ ایک شاعر کی حیثیت سے مشہور ہو چکے تھے اور حکومت کی تبدیلی نے اعلیٰ سرکاری عہدوں تک آپ کی رسائی کو ممکن بنا دیا۔ آپ تکیر داغ اور استنبول کے صوبوں سے مجلس (پارلیمان) کے رکن بنے اور 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد آپ کو نئی ریاست پاکستان کے لیے جمہوریہ ترکی کا پہلا سفیر مقرر کیا گیا لیکن اس عہدے پر مقرر ہونے کے بعد آپ کی طبیعت روز بروز ناساز ہوتی چلی گئی اور 1949ء میں آپ کے لیے سفارتی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہ رہا اور آپ کو ترکی واپس آنا پڑا۔ آپ کے مرض کی درست شناخت نہ ہو سکی اور یوں آپ کی صحت دوبارہ کبھی درست طور پر بحال نہ ہو سکی اور بالآخر یکم نومبر 1958ء کو آپ استنبول میں انتقال کر گئے۔
    یحییٰ کمال بیاتلی کے کلام میں جدید و قدیم کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ آپ کو 20 ویں صدی میں ترکی کا سب سے بڑا شاعر سمجھا جاتا ہے بلکہ بعض نقاد کو آپ کو فضولی کے بعد ترکی زبان کا سب سے بڑا شاعر قرار دیتے ہیں۔
    ادبی کام
    ۔۔۔۔۔۔
    شاعری:
    ۔۔۔۔۔۔
    کندی گوک قبہ مز (Kendi Gök Kubbemiz) (ہمارا اپنا آسمان – 1961ء)
    اس کی شعرِن رُزگاریلہ (Eski Şiirin Rüzgârıyle) (قدیم شاعری کی ہواؤں کے ساتھ، 1962ء)
    رباعی لر و خیام رباعی لرنی ترکچہ سوئلیش (Rubailer ve Hayyam Rubailerini Türkçe Söyleyiş) (رباعیاں اور ترک زبان میں عمر خیال کی رباعیاں، 1963ء)
    بتمیشش شعرلر (Bitmemiş Şiirler) (نامکمل نظمیں، 1976ء)
    مضامین-مقالے-یادداشتیں:
    عزیز استنبول (Aziz İstanbul) (پیارا استنبول، 1964ء)
    ایغل داغلر (Eğil Dağlar) (سجدہ کرو اے پہاڑو، قومی جنگ آزادی پر مضامین، 1966ء)
    سیاسی حکایلر (Siyasî Hikâyeler) (سیاسی کہانیاں، 1968ء)
    سیاسی و ادبی پورٹلر (Siyasî ve Edebî Portreler) (سیاسی و ادبی نمونے، 1968ء)
    ادبیاتہ دایر (Edebiyata Dair) (ادب پر، مضامین، 1971ء)
    چوجک لوغم گنج لغم، سیاسی و ادبی خاطر لرم (Çocukluğum, Gençliğim, Siyasî ve Edebî Hatıralarım) (میری بچپن، جوانی اور سیاسی و ادبی یادداشتیں، 1973ء)
    تاریخ محاسبہ لری (Tarih Muhasebeleri) (تاریخ کا محاسبہ، 1975ء)
    مکتوب لر- مقالہ لر (Mektuplar-Makaleler) (مکتوبات و مقالہ جات، 1977ء)