Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر

    خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر

    خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر
    اس کی معصوم سی رانی کی خدا خیر کرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ثمینہ رحمت منال کی کتاب” اور کیا چاہیئے ”
    تعارف اور تبصرہ : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد خوب صورت افسانہ نگار اور شاعرہ ثمینہ رحمت منال کا شائع ہونے والا دوسرا شعری مجموعہ ” اور کیا چاہیئے” میرے ہاتھوں میں ہے۔ جس کے لیے میں ان کا بے حد ممنون و شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنا خوب صورت شعری مجموعہ مجھ ناچیز کے لیے بطور تحفہ ارسال فرمایا ہے۔ یہ کتاب مارچ 2022 میں انحراف پبلیکیشنز لاہور سے شائع ہوئی ہے جو کہ 144صفحات پر مشتمل ہے جس کی ابتداء نعت رسول مقبول ﷺ سے کی گئی ہے جس کے بعد پہلا حصہ غزلوں اور دوسرا حصہ نظموں پر مشتمل ہے ۔ کتاب کے پس ورق پر اردو کے ممتاز ادیب ، شاعر اور ڈرامہ سیریل رائٹر امجد اسلام امجد اور اندرون صفحات میں ممتاز شاعر اور ماہر تعلیم پروفیسر اعتبار ساجد ، نامور شاعرہ نیلما ناہید درانی اور قمر صدیقی نیروی کے ثمینہ منال صاحبہ کی شاعری پر بہترین تبصرے شامل ہیں ۔ اس سے قبل ان کا پہلا شعری مجموعہ” گل بلوئی” 2012 میں شائع ہو چکا ہے۔ ان کی پہلی کتاب کی طرح سال رواں میں شائع ہونے والی دوسری کتاب” اور کیا چاہیئے ” بھی بہترین اور دل میں اترنے والی خوب صورت شاعری پر مشتمل ہے۔

    ثمینہ صاحبہ کی ولادت 9 جنوری 1976 کو کمالیہ پاکستان میں محترم رحمت علی کے گھر میں ہوئی ان کی والدہ صاحبہ کا نام خدیجہ بی بی اور بچوں کے نام یشم منال اور راحم بلال ہے ۔ ثمینہ نے میٹرک کمالیہ گرلز ہائی اسکول سے کنیئرڈ کالج لاہور سے اکنامکس میں بی ایس سی اور ایل ایل بی لندن انگلینڈ سے کیا ہے۔ وہ 1998 میں اپنے خاندان سمیت برطانیہ منتقل ہو چکی ہیں ۔

    ثمینہ صاحبہ کی شاعری سے چند منتخب اشعار قارئین کی نذر ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دور ہو تو اس کو پل پل ڈھونڈتی رہتی ہوں میں
    سامنے آ جائے تو کچھ ڈھونڈنے لگتی ہوں میں

    پاس رہ کر تو سبھی لیتے ہیں لذت لمس کی
    دور رہ کر قربتوں کا لطف لے سکتی ہوں میں

    گر بھروسہ ہو کہ ہے اس پار کوئی منتظر
    چاہے کچا ہو گھڑا، دریا سے لڑ سکتی ہوں میں

    میں نے سوچی ہیں جو باتیں وصل کی شب کے لیے
    ڈائری میں ہجر کی وہ روز لکھ لیتی ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ بھی تو معجزہ ہے محبت کا دوستو
    اس نے وہ سن لیا ہے جو میں نے کہا نہیں

    تھی میرے آنسوئوں کو بھی میری انا عزیز
    سو اس کے آگے ایک بھی قطرہ بہا نہیں

    ورثہ سمجھ کے جو وطن تقسیم کر چکے
    وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں انہیں کچھ ملا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیس بک ، انسٹا، وٹس ایپ اور ٹویٹ
    اب کہیں بھی وہ ملتے نہیں کیا کریں

    خاک ہو جائوں گی میں خاک وطن کی خاطر
    اپنی ماں پر میں کوئی تہمت لگائوں کیسے

    اک گلی میں ہی ہیں بھائیوں کے مکاں
    پھر بھی آپس میں ملتے نہیں کیا کریں

    ہمارے تیر دکھاوے کو رہ گئے ہیں منال
    ہدف ہے سامنے اور ہاتھ میں کمان نہیں

    جب ماں بچھڑ گئی تو مجھے یوں لگا منال
    میرے لیے دعا کا خزانہ نہیں رہا

    خوب صورت سی کنیزوں پہ ہے راجہ کی نظر
    اس کی معصوم سی رانی کی خدا خیر کرے

    اس کے ہاتھوں میں مرے آنچل کا پلو آ گیا
    اور مجھے شرما کے اپنا بھاگنا اچھا لگا

    باہر ہم آ گئے ہیں حدود شباب سے
    شکوے شکایتوں کا زمانہ نہیں رہا
    دو چار پنچھیوں کو ہی لے آئوں زیر دام
    اب میرے پاس اتنا بھی دانہ نہیں رہا

    اب تو آنسوں بھی کرائے پے ملا کرت کرتے ہیں
    لوگ ملتے ہیں جنازوں پے رلانے کے لیے

  • پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا  فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کی بنیادوں میں ایک بڑے مذہبی طبقے کا خون پسینہ موجود ہے تاریخ کے اُس موڑ پر جب بتوں کو پوجنے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے والوں کے درمیان ایک بَرّی لکیر کھینچی گئی کہ جس کی زد میں آ کر بوڑھوں، بچوں،خواتین اور نوجوانوں نے ملک و قوم کے ایمان کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا یہ قربانیاں کہنے کو تو نا قابلِ فراموش ہیں مگر حقیقت ہے کہ انہیں بتدریج فراموش کیا جاتا رہا ہے ملک کو حاصل کرنے کے بنیادی نظریات، دینی اخلاقیات، قومی و ملی جذبات جب اگلی نسل میں منتقل ہوئے تو ان کی حدت ماند پڑ گئی، یہ نسل اسلام اور پاکستان کی اس حد تک اہمیت کو نہ سمجھ سکی کہ جس قدر اس سرزمین کو حاصل کرنے والے جانتے تھے یوں ہی یہ دوسری نسل بھی اب بزرگ یعنی با اثر ہوگئی۔

    کوئی اگر اپنے خاندان کا بزرگ ہے تو اس کی قائم کی گئی روایات اس کے مختصر خاندان پر لاگو ہو جاتی ہیں، کوئی علاقے اور برادری کی بااثر شخصیت ہے تو وہ اپنے رسوم و رواج کا اطلاق اپنے اس حلقے پر کرتا ہے، کسی بھی خاندان، حلقے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے کے سربراہ کی بات بھی اس کی شخصیت کی طرح با اثر ہوتی ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو! بقول واصف علی واصف “پیغمبر کی بات باتوں کی پیغمبر جبکہ بادشاہ کی غلطی غلطیوں کی بادشاہ ہوتی ہے” لہٰذا خاندان کے سربراہ کا تربیت یافتہ ہونا ایک پورے خاندان کے تربیت یافتہ ہوجانے کی نوید سناتا ہے۔۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں دینی رجحانات کے حاملین ناپید ہوتے جا رہے ہیں جبکہ شرعی حدود پھلانکنے اور ہندوانہ رسمیں عام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مثلاً شادی بیاہ کے مواقع پر ہندوانہ روایات کا اہتمام، یا پڑھے لکھے حلقے میں تلاوت نعت سے شروع ہونے والی تقاریب میں ناچ گانے، سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں سرِ عام رشوت وغیرہ ان شرعی جرائم کے چند بنیادی اجزاء میں شامل ہوتے ہیں۔

    اگر وقت یوں ہی گزرتا رہا اور کوئی راہنما شخصیت یا ادارہ ان با اثر سمجھی جانے والی شخصیات کی تربیت کے لیے نہ متحرک ہوا تو کہیں حقیقی با اثر شخصیات کی سخت گرفت نہ ہو جائے! ایسے افراد اور ادارے وقت کی اہم ضرورت ہیں کہ جو بزنس کلاس، اعلیٰ تعلیم یافتہ کلاس، چھوٹے بڑے سرکاری افسران اور خاندان کے بڑوں تک رسائی حاصل کر کے انہیں دینی تعلیمات و احکامات سے آگاہ کریں۔ اگرچہ ہم اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو ہمیں چند ایک گِنے چُنے دینی ادارے نظر آتے ہیں کہ جو دینی تعلیمات عوام الناس تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایسے حالات میں عام نوجوانوں اور افسران بالا کی دینی تربیت کرنے والے اداروں کی اشد ضرورت ہے،

  • بھلا استاد ایسے  بھی  مہربان  ہوتے  ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بھلا استاد ایسے بھی مہربان ہوتے ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بہتے آنسو راستے بھر میں یاد آتے رہے ، سوچ اور حیرت ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھی – یہی حیرت کہ بھلا استاد ایسے مہربان بھی ہوتے ہیں اور یہی سوچ کہ ہاں استاد ایسے ہی مہربان ہوتے ہیں –

    برس گزرے تقی الدین وطن سے نکلے تھے ، سفر ایسے جیسے زندگی کا لازمہ ہو چکا ، حصول علم کا شوق سفر کی ہر منزل آسان کیے دیتا تھا ، نہ سفر ختم اور نہ علم کی کوئی حد – اسی شوق نے تقی الدین ہلالی کو مبارک پور آنے پر مجبور کر دیا – کیونکہ مبارک پور میں ان دنوں علم کا چاند نکلا تھا – جی ہاں مولانا عبد الرحمان مبارک پوری کا دیس مبارک پور تھا –

    مہمان پار پردیس سے علم م کی "اور” چلا آیا تو استاد کا بھی اس کی غریب الوطنی پر دل پسیج گیا – بہت محبت اور اصرار کے ساتھ گھر میں رکھا – شیخ تقی الدین ہلالی جتنا عرصہ مبارکپور رہے حضرت الاُستاد کے ہاں ہی رہے خود کہتے ہیں کہ :

    ” نہ مجھے کسی ہوٹل جانا پڑا نہ کبھی کھانا خریدنے کی نوبت آئی "-

    مہمان بہت دن رہا لیکن اک روز جانا تو تھا سو رخصتی کا وقت آ گیا – تقی الدین نے فیصلہ کیا کہ ٹرین سے اعظم گڑھ کو جایا جائے اور پھر آگے کی منزلیں – استاد محترم نے کہا کہ :

    ” ایسے نہیں ، رک جائیے کچھ روز میں ہمارے دو آدمی بیل گاڑی سے سفر پر جانے والے ہیں آپ ان کے ساتھ جائیے گا "-

    جانے والے دونوں افراد آدھی رات میں سفر کو نکلنے کا پروگرام بنائے بیٹھے تھے – شاگرد نے عشاء کی نماز پڑھی اور رخصت چاہی کہ رات گئے ملنا کیسے ہو گا ، اس لیے استاد محترم کو ابھی مل لیا جائے – دل میں اک کسک بھی تھی کہ جانے اب ملاقات ہو نا ہو –
    گزرے ایام ، علم کی مجلسیں ، استاد کی رفاقتیں ، شفقتیں سب اداس کیے دے رہی تھیں ، لیکن جانا تو تھا – استاد کہنے لگے
    "ایسے نہیں ، وقت رخصت میں خود آوں گا ” –

    شاگرد نے ہزار کہا "حضرت رہنے دیجئے آدھی رات کا وقت زحمت ہو گی نیند سے اٹھیں گے "- لیکن لاستاد نہ مانے –

    رات بھیگ رہی تھی ، چاندنی پھیل رہی تھی ، ستارے اس کی روشنی میں ماند ماند سے تھے – مسافر کی رخصتی کا وقت ہوا تو سامان اٹھائے مسجد کے حجرے سے باہر نکلا – کچھ ہی قدم آگے بڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے چاندنی ہر طرف محبت کی خوشبو پھیلا رہی ہو – مولانا مبارک پوری منتظر کھڑے تھے –

    مولانا شاگرد کو ساتھ لے کر گاڑی کی طرف چلے ، گاڑی والے دونوں صاحب منتظر تھے – وقت رخصت استاد نے تقی الدین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ، دعائیں تھی کہ ماحول کو معطر کیے جا رہی تھیں :

    "استودع اللہ دینک امانتک و خواتیم عملک ، زودک اللہ التقوی و یسرک الخیر اینما توجہت ”

    پھر ہولے سے شاگرد کے ہاتھ میں کچھ روپے تھما دئیے ، تقی الدین ہچکچا گئے ، اور کچھ شرما گئے کہ علم کا خزانہ تو دے دیا بھلا اس کی کیا حاجت – لیکن استاد محترم کا تقاضا آنسوں کی صورت آنکھوں سے نکل اٹھا ، مولانا مبارک پوری زار و قطار رو دئیے – بہتے آنسوں سے تکرار کہ

    ” رکھ لو ، رکھ لو ” – شیخ تقی الدین ہلالی لکھتے ہیں کہ :

    میں نے روپیہ لے لیا ، ان کا رونا دیکھ کر میں بدن پر کپکی طاری ہو گئی ، میں شرمندہ بھی تھا کہ روپے لوٹانے نے ان پر رقت طاری کر دی ” –

    لیکن شیخ تقی الدین کو نہیں معلوم تھا کہ روپے لوٹانا ان آنسوؤں کا سبب نہ تھا ، ہم ہندوستانی محبت میں ایسے ہی جذباتی ہوتے ہیں ، استاد اداس ہوے جا رہے تھے کہ ایسا لائق شاگرد جانے کب ملے –

    تقی الدین نے ان سے معافی چاہی ، لیکن یہ کوئی ناراضی کے آنسو تو نہ تھے یہ تو محبت کے آنسو تھے کہ جو خود سے چلے آتے ہیں اور اپنا وجود منواتے ہیں ، بہتے ہیں اور بہا لے جاتے ہیں –

    شگرد رخصت ہوا ، چاند بھی ڈوب چلا ، ستارے مدھم مدھم سا گیت گاتے اپنی منزلوں کی طرف نکل گئے – مسافر کا پہلا پڑاؤ آ گیا ، فجر کا وقت تھا ، مسافر نماز کے لیے رکا ، امامت کو کھڑا تھا ، دونوں ساتھی پیچھے تھے –

    لطف کرم کی برسات جو عرصہ برسی اور جس کی انتہا آج آخری رات مسافر نے دیکھی ، اس کو بے چین کیے دے رہی تھی –

    دل پر رقت تھی کہ جیسے باہر ہی نکل آئے گا – قرأت شروع کی اور پھر آنسوؤں کی برسات نے کچھ پڑھنے نہ دیا –

  • کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    علامہ شبلی نعمانی

    3 جون 1857 یوم پیدائش

    18 نومبر 1914 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔ 1882ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے۔ ان کی زندگی کا حاصل ان کی تصنیف سیرت النبی سمجھی جاتی ہے تاہم بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اس معرکہ آرا کتاب کی فقط ایک جلد شائع ہوسکی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں شعر العجم، الفاروق، سیرت النعمان، موازنۂ انیس و ادبیر اور الغزالی کے نام سرفہرست ہیں۔
    علامہ شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے۔

    شبلی نعمانی صاحب کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دو قدم چل کر ترے وحشی کے ساتھ
    جادہ راہِ بیاباں رہ گیا

    قتل ہو کر بھی سبکدوشی کہاں
    تیغ کا گردن یہ احساں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوۓ یار سے
    ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    بزم میں ہر سادہ رو تیرے حضور
    صورت آئینہ حیراں رہ گیا

    یاد رکھنا دوستو اس بزم میں
    آ کے شبلیؔ بھی غزل خواں رہ گیا

    ضعف مرنے بھی نہیں دیتا مجھے
    میں اجل سے بھی تو پنہاں رہ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں شبلیؔ لیکن
    حال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے

    عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں
    کہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے

    فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیں
    بتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا

    جمع کر لیجئے غیروں کو مگر خوبئ بزم
    بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے

    میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں
    ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا

    تسخیر چمن پر نازاں ہیں تزئین چمن تو کر نہ سکے
    تصنیف فسانہ کرتے ہیں کیوں آپ مجھے بہلانے کو

    یہ نظم آئیں یہ طرز بندش سخنوری ہے فسوں گری ہے
    کہ ریختہ میں بھی تیرے شبلیؔ مزہ ہے طرز علی حزیںؔ کا

  • بلدیاتی انتخابات میں امن وامان کی صورت حال ہرصورت قائم رکھی جائےگی :چیف الیکشن کمشنر

    بلدیاتی انتخابات میں امن وامان کی صورت حال ہرصورت قائم رکھی جائےگی :چیف الیکشن کمشنر

    مظفرآباد:بلدیاتی انتخابات میں امن وامان کی صورت حال ہرصورت قائم رکھی جائےگی،اطلاعات کےمطابق چیف الیکشن کمشنرآزادجموں وکشمیر جسٹس ریٹائرڈ عبدالرشید سلہریا کی زیر صدارت بلدیاتی انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال اور سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

    مظفرآباد سے ذرائع کےمطابق اجلاس میں سینئر ممبر الیکشن کمیشن راجہ محمد فاروق نیاز،چیف سیکرٹری محمد عثمان چاچڑ نے بذریعہ ویڈیو لنک اور پرنسپل سیکرٹری احسان خالد کیانی، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر امیر احمد شیخ، سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن راجہ امجد پرویز علی خان،سینئرایڈیشنل سیکرٹری مالیات راشد حنیف، سینئر ایڈیشنل سیکرٹری قانون راجہ زاہد محمود، سیکرٹری الیکشن کمیشن محمد غضنفر خان، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی شبیر احمد عباسی، سپیشل سیکرٹری داخلہ حمید مغل، ڈی آئی جی پولیس عرفا ن مسعود کشفی اور ڈائریکٹر اطلاعات امجد حسین منہاس ودیگر نے شرکت کی۔

    اجلاس میں سیکورٹی انتظامات کے حوالہ سے مختلف تجاویز زیر غور لائی گئیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے کوآرڈینیشن اینڈ پیس کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جن میں سرکاری ملازمین، تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور معززین علاقہ شامل ہوں گے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری، پرنسپل سیکرٹری، آئی جی پولیس، سیکرٹری سروسز اور سپیشل سیکرٹری داخلہ کی جانب سے بریفنگ دی اور حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے دوران سیکورٹی فورسز کی فراہمی سمیت دیگر امور پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

    حکومت کی جانب سے اس بات کی مکمل یقین دہانی کروائی گئی کہ سیکورٹی فرورسز فراہم ہو جائیگی اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر27 نومبرکو ہوں گے۔اس موقع پر طے پایا کہ آئندہ اجلاس میں پولنگ کے دوران سیکورٹی انتظامات کو سیکورٹی فورسز کی میسر تعداد کو دیکھتے ہوئے حتمی شکل دی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت کو کہا گیا کہ 21 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں سیکورٹی فورسز و دیگر امور کے حوالہ سے حتمی طور پرآگاہ کیا جائے۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ عبدالرشید سلہریا نے ہدایت کی کہ 27 نومبر کو بلدیاتی کا ہر ممکن انعقاد یقینی بنایا جائیگا، حکومت سیکورٹی فورسز کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائے۔

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967  یوم پیدائش

    ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967 یوم پیدائش

    حوروں کے پستان ناپتے مولوی ۔۔۔۔!

    ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور پاکستانی ادیبہ، مصنفہ، ماہر تعلیم اور نظم گو شاعرہ پروفیسر ڈاکٹر شہناز شورو صاحبہ 17 نومبر. 1967 میں میر پور خاص سندھ میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم میر پور خاص میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سندھ یونیورسٹی جام شورو سے انگلش میں ایم اے کیا جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ممالک کا سفر اختیار کیا ۔ انہوں ناٹنگھم یونیورسٹی برطانیہ سے انگریزی پڑھانے کی تعلیم حاصل کی جبکہ نیو یارک یونیورسٹی امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سندھ کے محکمہ تعلیم میں بطور لیکچرار ان کی تعیناتی ہوئی۔ وہ آجکل پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ۔ سندھ کے معروف ادیب اور بیورو کریٹ اکبر لغاری صاحب سے ان کی شادی ہوئی ہے۔ پروفیسر شہناز شورو تین زبانوں سندھی ،اردو اور انگریزی میں افسانے، مضامین ، مقالے اور آزاد نظم لکھتی ہیں اور ترجمے بھی کرتی ہیں ان کی نصف درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں "نظر نظر کی بات” زوال دکھ” ” درد جو معراج” اور ترجمے شامل ہیں ۔

    آزاد نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عورت کی کوکھ سے نکلے
    حوروں کے پستان ناپتے مولوی
    بد کردار حاکموں کو نیکی کی سند بانٹنے والے مولوی
    ہمارے لباس ہمارے کردار جانچتے مولوی
    درباری مولوی، پیشہ ور مولوی
    بھوک سے بلکتے انسان دیکھ کر
    جن کی سوچ جاگتی نہیں
    زندانوں میں بے گناہ جسم دیکھ کر
    جن کو نظر آتے نہیں
    ننھی بچیوں کے جسموں کو نوچتے بھیڑیے
    جن کی زبان چپ ہے دیکھ کر
    معصوم بچوں کے جسموں کو چیرتے درندے
    مگر ہم بے پردہ عورتیں
    خدا کا عذاب ہیں
    ہم جینز پہن کر کام کرتی مزدور عورتیں
    وبا کا سبب ہیں
    پروردگار اپنے خلیفے کو رسی ڈال

  • ہیلتھ کئیر کمیشن سے ایک گزارش :محمد نورالہدیٰ

    ہیلتھ کئیر کمیشن سے ایک گزارش :محمد نورالہدیٰ

    دانتوں کا علاج ایک مہنگا ترین علاج ہے۔ دانت کا معمولی سا مسئلہ بھی کم خرچ میں حل ہو جائے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کم وسائل کا حامل فرد دانت کے علاج کا صرف سوچ ہی سکتا ہے۔ بالخصوص اس میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق دانتوں کا علاج کرنا بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بیشتر ہسپتالوں اور بالخصوص کلینکس پر اس امر کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ ایسے میں جو ہسپتال کم آمدن والے افراد کا خیال کرتے ہوئے دانتوں کے علاج کی سہولت دیتے ہیں، یقینا قابل قدر ہیں۔
    گذشتہ دنوں میری ننکانہ سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور علی رضا سے ملاقات ہوئی۔ دیگر امور کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے بات ہوئی تو بتانے لگا کہ اس نے ایک ایسا ہسپتال ”دریافت“ کیا ہے جہاں اس جیسے غرباء کا دانتوں کا مفت یا انتہائی سستے داموں علاج ہوتا ہے۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ اسے بڑے عرصہ سے دانتوں کا مرض لاحق تھا۔ یہ مرض بڑھتا جا رہا تھا اور وہ چیک کروانے سے صرف اس لئے ڈرتا تھا کہ جانتا تھا دانتوں کا علاج بہت مہنگا ہے اور اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ اس پر خرچ کر سکے۔ پھر اس کے علاقے میں سرور فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک میڈیکل ڈینٹل کیمپ لگایا گیا۔ معلوم ہوا دانتوں کا فری چیک اپ کریں گے۔ اس نے خوشی خوشی اس کیمپ سے استفادہ کیا جہاں سے کچھ مسافت پر قائم سرور فاؤنڈیشن ہسپتال ریفر کر دیا گیا، اس کا مفت علاج ہوا، اور آج وہ اس مرض سے شفا پا چکا ہے۔

    میں نے سرور فاؤنڈیشن کے صحت کے اس پراجیکٹس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان ہسپتالوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران دانتوں کے 12 ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے۔ جبکہ 1400 کے قریب مریض ایسے ہیں جنہیں اس علاج پر خصوصی سبسڈی دی گئی۔ گذشتہ ایک سال میں مذکورہ طرز کے کم و بیش 37 میڈیکل کیمپس مختلف اضلاع میں لگائے گئے جن میں دانتوں کے ابتدائی علاج اور بعد ازاں سرور فاؤنڈیشن ہسپتال ریفر کرنے کے بعد مفت یا سبسڈائز بنیادوں پر علاج کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ مجموعی طور پر 26 ہزار کے قریب مریضوں نے ان میڈیکل کیمپس سے استفادہ کیا۔ استفادہ کرنے والے مریضوں کو سرور فاؤنڈیشن کی جانب سے فلورائیڈ تھراپی اور مفت لیبارٹری ٹیسٹوں سمیت ادویات بھی بلامعاوضہ فراہم کی گئیں، جبکہ ٹیڑھے دانتوں کے حامل بچوں کو بریسز (Braces) لگا کر ان کا مکمل علاج کیا گیا۔
    قابل ذکر امر یہ ہے کہ جن علاقوں میں سرور فاؤنڈیشن نے ہسپتال قائم کئے ہیں، وہاں کوئی دندان ساز تو دور کی بات، دانتوں کا علاج ہی میسر نہیں۔ جہاں کوئی تھوڑی بہت سہولت ہے بھی، وہاں ماہر ڈاکٹر اور مطلوبہ آلات ناپید ہیں۔ اگر موجود بھی ہیں تو ہائی جینک اصولوں کا خیال رکھ کر استعمال نہیں کئے جاتے۔ دوسری جانب مریض کو اس حوالے سے آگاہی نہیں ہوتی کہ کون سا انسٹرومنٹ کس حالت میں اسے لگایا جا رہا ہے۔ آپ نے مختلف بیماریوں سے آگاہی کے بہت سے میڈیکل کیمپ لگے دیکھے ہوں گے، لیکن دانتوں کے حوالے سے میڈیکل کیمپ ڈھونڈنے پر بھی مشکل سے ہی ملیں گے۔ یہ اعزاز کم ہی لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔ سرور فاؤنڈیشن نے میڈیکل کیمپس کے ذریعے لوگوں کو اورل ہیلتھ بارے آگاہ کیا کہ افراد جب تک اورل ہائی جین نہیں ہوں گے، کینسر اور ہارٹ اٹیک جیسی بیماریاں انہیں گھیرتی رہیں گی …… اسی طرح اپنے سکولوں میں بھی بچوں کو دانتوں کی احتیاط بارے آگاہی دی جا رہی ہے۔

    ہمارے ارد گرد کئی علی رضا موجود ہیں، جنہیں علاج کی ضرورت ہے مگر آگاہی کے فقدان اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس حق سے محروم ہیں۔ انہیں مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ طرز کے مفت میڈیکل کیمپوں کا وقتاً فوقتاً انعقاد اور ہسپتالوں میں بالخصوص کم وسیلہ طبقے کا خیال رکھتے ہوئے علاج کی مناسب سہولت دینا از حد ضروری ہے …… یہ امر بھی ضروری ہے کہ ہیلتھ کئیر کمیشن ہسپتالوں اور کلینکس کے بے لگام نرخوں پر توجہ دے اور مفاد عامہ میں مناسب نرخ متعین کرنے کیلئے ان پر دباؤ ڈالے۔ طبی مراکز اور متعلقہ ادارے ان بنیادی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہوں گے تو علی رضا جیسے، محدود آمدنی والے کئی افراد، جو ہوش ربا اخراجات کے ڈر سے علاج کروانے سے ڈرتے ہیں، وہ بھی بے فکر ہو کر، یہ حق استعمال کر کے صحت مند زندگی کی جانب لوٹ سکیں گے۔

  • عمران خان کی سیاسی آمریت

    عمران خان کی سیاسی آمریت

    عمران خان سیاستدان بن گئے، جمہوریت کا دعویدار لیکن سیاسی آمر سے کم نہیں، حکومت ملی تو پاکستان کی اپوزیشن سب سے بڑا مسئلہ تھی جو اب حکومت میں آ چکی

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ایک ہی روز میں 33 بل منظور کروانا،اور اپوزیشن کو مکمل نظر انداز کرنا یہ عمران خان کی سیاسی آمریت کی ہی نشانی ہے

    سب خواب چکنا چور تب ہوئے جب اسوقت کی اپوزیشن نے حکومت میں آتے ہی عمران خان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور ای وی ایم سمیت اہم بل کی ترامیم واپس لے لیں

    عمران خان وزیراعظم بنے تو اقتدار میں آ کر انہوں نے اپوزیشن کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھا، پاکستان کی معیشت کی تباہی انہیں نظر نہ آئی البتہ بڑے بڑے دعوے کر کے اقتدار میں آ کر ان پر زیرو فیصد عمل کیا اور یہی وجہ انکے اقتدار سے نکالے جانے کی بنی، کیونکہ عمران خان جو بولتے ہیں وہ کرتے نہیں، اور جو کرتے ہیں وہ بولتے ہیں، اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان کے دعوے اور وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد اس پر عمل میں آسمان زمین کا فرق ہے،وہ عمران خان جو حکومت میں آنے سے پہلے بات کرتا تھا کرسی ملتے یکدم ہی اسکے عمل میں تبدیلی آ گئی، ریاست مدینہ کا نام لے کر من مانی کی گئی، کرپشن کے ریکارڈ بنائے گئے، دھوکہ دہی کی گئی اور بار بار نام ریاست مدینہ کا ہی لیا گیا

    عمران خان حکومت میں رہتے ہوئے اپنی پسند کی قانون سازی کرتے رہے اور کرواتے رہے، اپوزیشن پر الزامات، گرفتاریاں،جیلوں میں ڈالنا، پھر طیبہ کے ذریعے چیئرمین نیب کو بلیک میل کر کے اپوزیشن پر بے جا مقدمات بنوانا، فرح گوگی کے ذریعے کرپشن یہ کپتان کے محبوب مشغلے رہے، کپتان کی خواہش تھی کہ اپوزیشن کسی نہ کسی طرح جیلوں میں ہی رہے اور وہ اپنی مرضی کی قانون سازی کرتے رہیں اور انہوں نے کی بھی سہی ،پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر اپوزیشن کی غیر موجودگی میں یا انکی مشاورت کے بغیر بل پاس کروائے گئے تو کبھی مرضی کے‌صدارتی آرڈیننس لائے گئے لیکن عمران خان شاید یہ بھول گئے تھے کہ سدا اقتدار انکا نہیں بلکہ حکومت نے جانا بھی ہے اور رخصتی کے بعد انکی جانب سے کی جانے والی قانون سازی کو بلڈوز بھی کیا جا سکتا ہے

    17 نومبر 2021 وہ دن ہے جب عمران خان کی حکومت نے ایک دو نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے 33 بل پاس کروائے، اپوزیشن احتجاج کرتی رہی لیکن عمران خان جو ہمیشہ اپنی ہی کرنا چاہتے ہیں انہوں نے اپوزیشن کی خواہشات کے برعکس ایک ہی روز میں 33 بل پاس کروا کر ایک ریکارڈ بنایا ، اس قانون سازی کے لئے ایم کیو ایم نے حکومت کو بلیک میل بھی کیا تھا اور بعد میں پھر ایم کیو ایم عدم اعتماد کے وقت ساتھ بھی چھوڑ گئی تھی،33 بل جو پاس کئے گئے تھے ان میں سے ای وی ایم کا بل سے زیادہ اہم تھا اور تحریک انصاف اسکو بڑی کامیابی سمجھ رہی تھی،۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری بھی ایوان میں موجود تھے ، انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت میں تقریر کی ۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمانی اصول و ضوابط 1973 سے متعلق سیکشن 10 اسپیکر قومی اسمبلی کو پڑھ کر سنادیا کہا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اگر کوئی قانون منظور کروانا ہو تو اس کیلئے 222 ووٹ کی ضرورت ہے ورنہ وہ قانون منظور نہیں ہوتا تا ہم اسوقت کے سپیکر نے انکی نہ سنی اور بل پاس کرتے گئے

    عمران خان کیخلاف عدم اعتماد آئی، کامیاب ہوئی اور عمران خان سابق وزیراعظم ہو گئے اسکے بعد شہباز شریف وزیراعظم بنے، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان حکومت کے اتحادی بنے، ایم کیو ایم بھی دوبارہ اتحادی حکومت کا حصہ بن گئی،ایسے میں عمران خان نے جو بل ای وی ایم کے حوالہ سے پاس کیا تھا موجودہ حکومت نے اس میں ترمیم کر لی اور اب الیکشن ای وی ایم پر نہیں ہوں گے کیونکہ الیکشن کمیشن کو بھی ای وی ایم پر تحفظات تھے،26 مئی کو رواں برس ہونے والے اجلاس میں ای وی ایم ،اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم ہوئیں، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اسمبلی میں سب کو مبارکباد دی، تحریک انصاف تو اسمبلی میں موجود ہی نہیں کیونکہ انہوں نے استعفوں کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے اور تنخواہیں پھر بھی لے رہے ہیں، ای وی ایم کے بارے میں کہا جا رہا ہےکہ جن ممالک نے ای وی ایم کا استعمال کیا وہ بھی اسکو روک چکے ہیں، کیونکہ ای وی ایم سے شفاف ووٹنگ کسی صورت نہیں ہو سکتی، ای وی ایم سسٹم کو ہیک کیا جا سکتا ہے اور کچھ بھی نتائج آخر میں دیئے جا سکتے ہیں

    تحریر:ریحانہ

  • ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں، ازقلم:  غنی محمود قصوری

    ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں، ازقلم: غنی محمود قصوری

    ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بڑے دنوں بعد میرے بچپن کے ایک دوست کی کال آئی مجھے اس کی کال آنے کی بہت بہت خوشی ہوئی کیونکہ وہ ایک انتہائی نفیس اور درد دل رکھنے والا شحض ہے سلام دعا کے بعد دریافتگی حال احوال کہنے لگا یار نئی نسل تو بلکل برباد ہو رہی ہےکوئی حالات ہی نہیں رہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے پتہ نہیں کیا ہو گا-

    میں نے پوچھا کیسے اور کیا ہوا ہے ؟-

    کہنے لگا ہر چوک چوراہے میں مانگنے والی عورتیں موجود ہیں جو لوگوں سے پیسے مانگتی ہیں اور ساتھ موقع ملنے پہ نوجوانوں کی ہوس کی تسکین بھی بنتی ہیں میں نےاسکی بات سنتے ہی کہاارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں ہماری ہی کمیوں کوتاہیوں کےباعث وہ عورتیں آج سڑک پہ ہیں

    وہ تعجب سے کہنے لگا یار ہمارا کیا قصور؟ میں نے کہا جناب ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی مرضی کا رخ ہی نظر آتا ہے
    میں اسے بتانے لگا کہ مجھے معلوم ہے ان عورتوں میں بہت سی جوان خوبرو دوشیزائیں بھی ہیں اور بوڑھی بھی کچھ تو انتہائی کھاتے پیتے گھرانے کی بھی لگتی ہیں مجھے یہ بھی معلوم ہیں کہ ان میں بیشتر مجبور عورتیں ہیں تو کچھ شارٹ کٹ مالی حصول کی خاطر بغیر محنت کئے بھیک مانگنے والیاں بھی-

    مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان میں سے چند ایک اپنے حسن و جمال کو ڈھال بنا کر جسم فروشی کرتی ہونگی مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے باقاعدہ گینگ ہونگے اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ سے اوپر تک ان کی پہنچ ہو گی سب باتیں درست ہیں مگر کیا ہم نے کبھی ان سے ان کے دکھ درد جانے؟ کیا ہم نے کبھی کوئی کوشش کی ان کی داستان سننے کی کہ بی بی،بہن،محترمہ آپ کو کیا مسئلہ ہے ؟ گھر میں کوئی کمانے والا مرد نہیں یا پھر مالی حالات زیادہ برے ہوگئے کہ آپ کو اپنا گھر چھوڑ کر سڑک پہ آنا پڑا؟ مختلف سوالات ہیں جن کے جوابات بھی مختلف ہونگے-

    میں دوبارہ اس سے گویا ہوا کہ یار دیکھو جس طرح یہ کئی طرز کی ہیں اسی طرح ہم بھی کئی طرز کے ہیں کچھ ہم میں سے کھاتے پیتے گھرانوں سے ہیں تو گزر بسر واجبی والے ہیں کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ایسا تو نہیں کہ ان میں سے وہ عورتیں بھی ہو کہ جو رسم و رواج اور جہیز کی بھینٹ چڑھنے کے باعث بالوں میں چاندی لئے پھرتی سڑک پہ آ گئی ہو؟

    کیا ایسا نہیں کہ بڑی بہن کی شادی ذات،پات،رسم و رواج کے باعث نا ہو سکی اور اس نے اسی دکھ میں خودکشی کر لی اب بوڑھے ماں باپ کا سہارا بننے کی خاطر یہ سڑک پہ ہے ؟

    ہو سکتا ہے ان کا باپ،بھائی کماتا تو ہو مگر شدید مہنگائی کے باعث ان کے گھر کا گزارہ نا ہوتا ہو اور اسی محلے کے لوگ ان کو ایک کماؤ گھرانے سے جان کر اپنے صدقے خیرات محلے سے باہر کسی اور کو دینے لگ گئے ہو حالانکہ اسلام نے سب سے پہلا حق اپنوں و محلہ داروں کا رکھا ہے-

    یہ بھی ہو سکتا ہے کسی دل پھینک عاشق نے سبز باغ دکھائے ہو اور وہ نکاح کی خاطر اس کیساتھ بھاگ کھڑی ہوئی ہو اور اس کی ہوس کی تسکین بن کر اب ٹشو پیپر کی طرح ناکارہ ہو گئی ہے اور گھر واپس اس لئے نہیں جا رہی کہ اب اس کے ورثاء اسے قتل کر دیں گے
    کہیں ایسا تو نہیں کسی سنگدل باپ نے اس کی ماں کو بیٹا پیدا نا کرنے پہ چھوڑ دیا ہو اور اب یہ اپنی بوڑھی بے سہارہ ماں کی سانسوں کو بحال رکھنے کی خاطر بھیک مانگ رہی ہو کیونکہ اکثر و بیشتر مردوں کو ہی محنت مشقت کے کاموں پہ رکھا جاتا ہے تاکہ اجرت کے باعث کام پورا ملے-

    خیر اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں تو ہم دونوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر یہ عورتیں آج سڑک پہ بھیک مانگنے کیساتھ خدانخواستہ کسی کی جنسی ہوس کا نشانہ پیسوں کے عیوض بن رہی ہیں تو واللہ ہم بھی مجرم ہیں-

    ہمیں چائیے اپنے صدقے خیرات دیتے وقت ان کمزور گھرانوں کو دیکھیں کیونکہ جس طرح مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینا ثواب ہے بلکل اسی طرح بھوکے کو کھانا کھلانا اس کی ضروریات زندگی پوری کرنا بھی ثواب ہے-

    ہم رشتہ طے کرتے وقت اگر جہیز کو بائیکاٹ کریں اور خوبصورتی کی بجائے خوب سیرتی ،مال کی بجائے اعمال کو ترجیح دیں تو اللہ گواہ کتنے ہی غریب گھرانوں کی سڑک پہ مانگتی عفت مآب عورتیں آج اپنے گھروں میں ہوتیں بسا اوقات ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ جی یہ تو صحت مند ہیں کما سکتی ہیں ان کو خیرات کیوں دیں؟ تو ارشاد باری تعالی بھی سن لیں-

    انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے ، تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا، سورة البقرة 272

    اس آیت کی رو سے ہم صدقہ دیں ساتھ ان کو دعوت دیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کریں کہ ان کی بحالی کے زیادہ سے زیادہ مراکز بنائے جائیں جہاں ان کو حق حلال کمانے کی ٹریننگ دے کر ہنر مند بنایا جائے تو ان شاءاللہ کبھی نا کبھی یہ سڑکوں کی بجائے ایک کماؤ فرد بن کر ملک و ملت کا بوجھ بانٹ لیں گیں-

  • شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش

    شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش

    شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش
    ایک منفرد تاریخی ناول نگار و صحافی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کے منفرد تاریخی ناول نگار ،ادیب،صحافی، جنگی وقائع نگار، افسانہ نویس اور مدیر عنایت اللہ التمش یکم نومبر 1920 میں پوٹھوہار کے نواحی گاوں گوجر خان میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کر سکے جس کے بعد وہ انڈین آرمی میں بطور کلرک بھرتی ہو گئے مگر دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے باعث انہیں جنگی محاذوں پر برما بھیج دیا گیا جہاں وہ جنگ لڑتے ہوئے جاپانی فوج کے ہتھے چڑھ گئے انہیں جنگی قیدی بنا لیا گیا جہاں انہیں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 1944 میں جاپانی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد وہ ڈیڑھ سال تک جنگلوں ، جزائر اور بیابانوں میں بھٹکتے ہوئے بڑی مشکل سے اپنے محاذ پر واپس پہنچے وہاں پہنچنے پر انہیں ملیشیا بھیجا گیا اسی دوران ہندوستان تقسیم ہوا اور پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ وہ 9 سال بعد 1948 میں اپنی سرزمین پوٹھوہار پاکستان آ گیا یہاں آنے کے بعد وہ پاکستان ایئر فورس میں بھرتی ہو گئے لیکن کچھ عرصہ بعد سرکاری ملازمت چھوڑ کر صحافت میں آ گئے ۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ سے کیا کچھ عرصہ بعد انہوں نے لاہور سے اپنا ماہنامہ حکایت کا اجراء کیا۔ سیارہ ڈائجسٹ میں انہوں نے ” خاص نمبر” نکالنے کی طرح ڈال دی جس کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے رسائل و جرائد اور اخبارات میں خاص نمبرز نکالنے کا سلسلہ چل نکلا۔ انہوں نے 1965 اور 1971 میں پاک بھارت جنگوں کے دوران محاذ پر جا کر جنگی صورت حال کا جائزہ لے کر آنکھوں دیکھا احوال ” بی آر بی بہتی رہے گی” لاہور کی دہلیز پر” اور ” بدر سے باٹاپور تک” کتابیں لکھ کر لازوال شہرت حاصل کی اس کے علاوہ انہوں نے * داستان ایمان فروشوں کی” اور شمشیر بے نیام” جیسے شہرہ آفاق ناول تحریر کیے۔ عنایت اللہ التمش نے مختلف موضوعات پر 100 سے کے لگ بھگ کتابیں لکھ کر خود کو ادب اور صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ وہ ایک منفرد قسم کے لکھاری تھے جنہوں نے مختلف موضوعات پر مختلف اور فرضی ناموں سے لکھا۔ انہوں نے میم الف، احمد یار خان، وقاص، محبوب عالم ، صابر حسین راجپوت اور گمنام خاتون کے ناموں سے بھی کئی کتابیں اور کہانیاں لکھیں۔ اردو ادب اور صحافت کے یہ منفرد کردار 16 نومبر 1999 میں لاہور میں انتقال کر گئے۔

    عنایت اللہ التمش کی تصانیف

    تاریخی ناول/داستانیں

    حجاز کی آندھی
    شمشیرِ بے نیام (دو حصے)
    اور نیل بہتا رہا (دو حصے)
    دمشق کے قید خانے میں
    اور ایک بت شکن پیدا ہوا (پانچ حصے)
    داستان ایمان فروشوں کی (پانچ حصے)
    ستارہ جو ٹوٹ گیا
    فردوس ابلیس (دو حصے)
    اندلس کی ناگن
    امیر تیمور (ترجمہ)
    مجرم یا جنگ آزادی کے ہیرو
    شکاریات ترميم
    لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
    سانپ، سادھو اور نوجے کی کہانی
    پگلی کا پنجہ
    ایک لڑکی دو منگیتر
    بیٹا پاکستان کا بیٹی ساہو کار کی
    بھیڑیا، بدروح اور بیوی
    جذبات کا سیلاب
    لاش، لڑکی اور گف کے گناہگار
    قبر کا بھید

    نفسیات

    زندہ رہو جوان رہو
    جوانی کا روگ

    معاشرتی ناول/کہانیاں/چادر چاردیواری
    پاکستان ایک پیاز دو روٹیاں
    چھوٹی بہن کا پگلا بھائی
    چاردیواری کے دریچوں سے
    طاہرہ
    مردتو میں ہوں / میرا تیسرا خاوند
    میں بزدل تو نہیں/وہ مر گیا تم زندہ رہو
    پتن پتن کے پاپی
    الجھے راستے
    ہیرے کا جگر
    منزل اور مسافر(دو حصے)
    استانی اور ٹیکسی ڈرائیور
    پانچویں لڑکی
    کیا میں کسی کی بیٹی نہیں؟
    ایک کہانی (دو حصے)
    اکھیاں میٹ کے سپنا تکیا
    چاردیواری کی دنیا
    رات کا راہی (دو حصے)
    واجدہ، وینا اور وطن (دو حصے)
    ڈوب ڈوب کر ابھری نائو
    جرم، جنگ اور جذبات
    میں گناہگار تو نہیں
    پرچم اڑتا رہا
    پیاسی روحیں
    پیاسے
    سزا اس گناہ کی
    ایک آنکھ اور پاکستان
    دھندلی راہیں (دو حصے)
    تاریک اجالے
    جوانی کے جنگل میں

    جرم و سزا/سراغرسانی کی کہانیاں

    جب بہن کی چوڑیاں ٹوٹیں
    کالا برقع جل رہا تھا
    حوالات میں طلاق
    لائن پر لاش
    دوسری بیوی
    داستان ایک داماد کی
    روح کے رشتے اور مقتول کی بدروح
    دام میں صیاد آ گیا
    جب مجھے اغواء کیا گیا
    پیارکا پل صراط
    چور دروازہ
    ایک رات کی شادی
    رات کا راز
    تعویذ، انگلیاں اور انگوٹھی
    بھائی اور بھیڑیا
    سنگیتا، شراب اور سگریٹ
    بیٹی کی قربانی
    واردات اس رات کی
    چڑیا پھنس گئی
    جب پیار نے کروٹ لی
    جائداد کا وارث
    رتن کمار کی روپا
    آشرم سے اس بازار تک
    دلیر یا بیوقوف
    سندری کا سودا
    جھمکوں کی جوڑی
    کار، شلوار اور دوپٹہ
    بال ایک چڑیل کے
    جنّات کے دربار میں
    قاضی کی کوٹھڑی اور کنواری بیٹی
    بن بیاہی ماں
    سہاگ کا خون
    زلیخا کا جن
    عشق ایک چڑیل کا
    رات، ریل اور برقعے
    پیار کا پاپی

    جنگی کہانیاں/وقائع نگاری/ناول

    بی آر بی بہتی رہے گی
    بدر سے باٹا پور تک
    دو پلوں کی کہانی
    خاکی وردی لال لہو (دو حصے)
    فتح گڑھ سے فرار
    لاہور کی دہلیز پر
    پاک فضائیہ کی داستانِ شجاعت
    لہو جو ہم بہا کر آئے
    ہماری شکست کی کہانی

    طنز و مزاح

    ایوبی، غزنوی اور محمد بن قاسم پاکستان میں
    پھوپھی گام