Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    جہاز اپنے سفر کے اختتام پر لینڈ ہوا. پونے تین سو سواریاں بے چینی سے سیٹ بیلٹ کھولنے کو بے تاب اس کے رکنے کا انتظار کر رہی ہیں. ابھی جہاز کھڑا نہیں ہوا لیکن کچھ لوگوں نے اپنا دستی سامان نکالنا شروع کر دیا ہے. ابھی دروازے نہیں کھلے لیکن لوگ کھڑے ہوگئے ہیں. سب کو جلدی ہے. سب کو اپنی اپنی جلدی ہے.

    دروازہ کھلا لوگ بے چینی سے نکلنا شروع ہوئے دروازے پر ایک دو ائیر ہوسٹس ٹافیوں کی ٹوکری ہاتھ میں لئے کھڑی ہیں. لوگ اس میں سے ایک دو ٹافیاں اٹھا کر نکل رہے ہیں. لوگوں کی ہزار کہانیاں ہوں گی. جہاز کی ایک ہی کہانی ہے. اس نے اپنے چند افراد ایک بڑی مشین فضا کے پل پل بدلتے غیر متوقع موسم میں ان پونے تین سو افراد سے کرایہ لے کر منزل پر پہنچایا. آپ لاکھ کوشش کر لیں سہولیات دے دیں آپ نہ سب کو مطمئن کر سکتے ہیں نہ سو فیصد بہترین دے سکتے ہیں.

    البتہ آپ رخصت کرتے ان کو مسکرا کر الوداع کہہ سکتے ہیں. آپ بھلے ایک ٹافی ہی ہو کچھ میٹھی یادیں دے سکتے ہیں جو منہ میں ڈالے جانے کیلئے بے تاب اس فرد کو اپنی مٹھاس سے بتائے گی یار اتنا بھی برا سفر نہ تھا. سفر میں اونچ نیچ تو ہوتی ہی رہتی ہے. یہ دنیا لین دین پر کھڑی ہے. ہم ہر رشتے ہر تعلق اور زندگی کے ہر میدان میں کچھ دیتے اور کچھ لیتے ہیں. جب یہ لین دین یکطرفہ ہو جائے تو کھاتہ بند ہو جاتا ہے.

    ٹوکیو شہر خوش اخلاقی ایمانداری میں پہلے نمبر پر کیوں آگیا.؟ کیونکہ وہاں یہ باہمی لین دین اچھا ہے. وہاں ٹرین پر آپ سے کچھ گم ہو جائے تو ستر فیصد چانس ہیں وہ آپ کو واپس مل جائے گا. کیا ہمارے کسی شہر میں آپ یہ توقع رکھ سکتے ہیں؟ اگر ہمیں خود یہ توقع نہیں تو ہم اس قطار میں پھر شمار ہی کیسے ہو سکتے ہیں.

    سب کی ہزاروں کہانیاں ہوں گی ہزاروں وجوہات ہوں گی. لیکن اپنی ذات پر ہماری ایک ہی کہانی ہے. ہمارا اپنا لین دین کیسا ہے؟ کیا ہم صرف لینا جانتے ہیں یا معاشرے کو کچھ دینے کی بھی ہمت ہے.؟ بھلے ایک ٹافی کی سکت نہ ہو تو کیا ہم خوش اخلاقی کی مسکراہٹ بھی نہیں دے سکتے.؟ کیوں ہم لینا تو حق سمجھ لیتے ہیں لیکن کچھ دیتے آنکھیں چراتے ہیں؟جبکہ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے. جیسے ٹوکیو شہر کے لوگ آج اوپر ہیں.

  • نفرت کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    نفرت کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    کتنی عجیب بات ہے ہر خوش فرد کی کہانی ایک ہی ہوتی ہے. وہ بس خوش ہوتا ہے. لیکن ہر ناخوش مایوس فرد کی کہانی منفرد ہوتی ہے. اس کی وجوہات الگ ہوتی ہیں. امریکہ کے قدیم باشندے اپنے عقل مندوں دانشوروں کو شامان کہتے تھے. ان میں سے کسی شامان نے کچھ وجوہات اکھٹی کی تھیں . آپ اگر مایوس اور نا خوش ہیں تو اپنی وجہ اس میں تلاش کر لیں.

    شامان سے پوچھا گیا زہر کیا ہے.؟ شامان نے کہا ہر وہ چیز جو ہمارے پاس ہماری ضرورت سے زیادہ ہو چاہے پھر وہ طاقت ہو مال ہو جائیداد ہو خود نمائی کی چاہت و غرور ہو.

    پوچھا خوف کیا ہے.؟ کہا خطرہ یا عدم تحفظ کو قبول نہ کرنا. کیونکہ جب ہم اسے تسلیم کر لیتے ہیں تب یہ خوف نہیں ایڈونچر بن جاتا ہے.

    کہا حسد کیا ہے.؟ کہا دوسروں کی اچھائی تسلیم نہ کرنا. کیونکہ جب ہم دوسروں کی اچھائی مان لیتے ہیں تب وہ حسد نہیں انسپائریشن بن جاتی ہے.

    کہا غصہ کیا ہے.؟ کہا یہ تسلیم نہ کرنا کہ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں. جب ہم یہ مان لیتے ہیں تب یہی غصہ صبر و برداشت بن جاتا ہے.

    پوچھا نفرت کیا ہے.؟ کہا یہ قبول نہ کرنا کہ لوگ منفرد ہیں. وہ جیسے ہیں ایسے ہی ہیں. جب ہم یہ مان لیتے ہیں تو نفرت محبت بن جاتی ہے.

  • اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن نے مردوں جبکہ نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا

    اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن نے مردوں جبکہ نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا

    اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن نے مردوں جبکہ نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا ہے

    اسلام ٹین پن بائولنگ ایسوسی ایشن کے زیراہتمام کھیلی گئی اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں دنیال الرحمن مردوں اور نور نے خواتین کا ٹائٹل جیت لیا ۔ مردوں کے ایونٹ میں جنید خان اور رانا افضال اختر بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ اسی طرح خواتین کے ایونٹ میں روزینہ اور نادیہ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔ چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی طحہ مال راولپنڈی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ملک ریاض خان تھے جہنوں نے کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں کیش ایوارڈ، ٹرافیاں اور میڈلز تقسیم کئے۔ مردوں کی کیٹیگری میں اول آنے والے کھلاڑی دنیال الرحمن کو دس ہزار روپے بمعہ ونرٹرافی، دوئم آنے والے کھلاڑی جنید خان کو سات ہزار روپے بمعہ رنر اپ ٹرافی اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑی رانا افضال اختر تین ہزار روپے کیش ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس موقع پر پاکستان ٹین پن بائولنگ فیڈریشن کے صدر اعجاز الرحمن کے علاوہ شائقین کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کی رہائشگاہ پر 90 لاکھ روپے کے بلٹ پروف شیشے لگائے جائیں گے
    میٹا اور ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ
    چین اور ایران امریکہ میں مخالفین کی جاسوسی کرارہے ہیں، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن
    لیزر سٹی باؤلنگ کلب جناح پارک راولپنڈی میں کھیلے گئے اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ میں مردوں کے ایونٹ میں دنیال الرحمن نے 421 سکور کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ جنید خان 368 سکور کے ساتھ اور رانا افضال اختر 359 سکور کے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ اس سے ایک روز قبل کھیلے گئے خواتین کے فائنل مقابلوں میں نور نے 165 سکور کے ساتھ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا جبکہ روزینہ نے 124 سکور کے ساتھ دوسری اور نادیہ نے 66 سکور کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ایونٹ میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے سو سے زائد کھلاڑیوں نےحصہ لیا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی طحہ مال راولپنڈی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ملک ریاض خان نے کہاکہ کھلاڑی قوم کا سرمایہ اور اثاثہ ہیں اور کھیل کے میدان میں ان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہی کھلاڑی امن کے سفیر ہوتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔ آخر پر پاکستان ٹین پن بائولنگ فیڈریشن کے صدر اعجاز الرحمن نے مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔

  • سیٹلائٹ کی گردش — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سیٹلائٹ کی گردش — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    1957 میں سویت یونین نے سپٹنیک کے نام سے پہلا انسانی سٹلائیٹ خلا میں بھیجا۔ یہ سٹلائیٹ ایک تجرباتی سٹلائیٹ تھا جسکا مقصد سٹلائیٹ ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ اور زمین تک سٹلائیٹ کے ریڈیو کمیونکیشن کو چیک کرنا تھا۔ اس تجربے کی کامیابی کے بعد خلا میں سٹلائیٹ ٹیکنالوجی نے مزید پیش رفت کی۔ اس دوڑ میں امریکہ بھی شامل ہوا اور بعد میں دنیا کے دیگر ترقی یاقتہ ممالک بھی۔

    سٹلائیٹ ٹیکنالوجی آج کے جدید دور کی کمیونکیشن، خلا سے زمین کے جائزے، موسموں کے بدلاؤ، زمین کے جغرافیے میں تبدیلی، جی پی ایس جس سے آپ روز گوگل میپ کے ذریعے راستے معلوم کرتے ہیں اور دیگر کئی اہم شعبوں میں استعمال ہوتی ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق اس وقت خلا میں 5500 سے زائد سٹلائیٹ زمین کے گرد گھوم رہے ہیں۔ جبکہ 2030 تک انکی تعداد 58 ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔ ان میں دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سٹلائیٹ بھی شامل ہیں اور سویلین مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بھی۔

    سیٹلائیٹ خلا میں مختلف طرح کے مدار میں زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کمیونیکیشن سٹلائیٹ جن سے ٹیلی وژن، انٹرنیٹ یا ریڈیو کمیونکیشن کی جاتی ہے جیوسٹیشنری مدار میں ہوتے ہیں۔ یعنی یہ زمین کے خطِ استوا کے اوپر خلا میں زمین کی محوری گردش کے ساتھ ساتھ گھومتے ہیں۔ یوں یہ ہر وقت زمین پر ایک ہی علاقے میں مسلسل کوریج کر سکتے ہیں۔ اسکا فائدہ یہ ہے کہ زمین پر لگے ریسورز کو بار بار انہیں ٹریک نہیں کرنا پڑتا۔ یوں آپکے گھروں میں موجود ڈش اینٹینا ایک ہی رخ میں مختلف سٹلائیٹ کے سگنل پکڑ سکتے ہیں۔ یہ سٹلائیٹ زمین کی سطح سے تقریبا 35 ہزار، 786 کلومیٹر اوپر تک ہوتے ہیں۔ ان سے اوپر کے مدار میں موجود سٹلائٹس کو ہائی ارتھ آربٹ سٹلائٹ کہا جاتا ہے۔ اس مدار میں کم ہی سٹلائٹ یا خلائی دوربینیں ہوتی ہیں۔

    اسی طرح کچھ سٹلائیٹ پولر مدار میں گھومتے ہیں یعنی زمین کے خطِ استوا کے اوپر گھومنے کی بجائے قطبین کے قریب سے شمال سے جنوب کیطرف زمین کا چکر لگاتے ہیں۔ اس طرح۔ سٹلائیٹ زمین کی محوری گردش کے باعث اسکے ہر حصے کو کور کر سکتے ہیں۔ گویا یہ ہر روز ایک خاص وقت پر زمین کے ایک خاص حصے کے اوپر ہونگے۔ مثال کے طور پر ایک سٹلائیٹ روزانہ 10 بج کر 15 منٹ پر لاہور کے اوپر سے گزرے گا یا شام کے 5 بجے ہر روز اسلام آباد کے اوپر سے(یہ محض مثال دے رہا ہوں). اس طرح کے سٹلائیٹ سے آپ زمین کی مختلف جگہوں کی تصاویر مختلف اوقات میں با آسانی لے سکتے ہیں۔ یہ سٹلائیٹ زیادہ تر موسموں کی پیشن گوئی ، طوفان اور زمین ہر دیگر آفات کی مانیٹرنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انکا مدار زمین کی سطح کے اوپر 200 سے 1000 کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ پاکستانی خلائی ایجنسی سپارکو کا چائنہ میڈ سیٹلائٹ جسے 2018 میں بھیجا گیا وہ بھی ایسے ہی مدار میں گھوم رہا ہے۔

    ایسے ہی کچھ سٹلائیٹ لو ارتھ آربٹ میں گھومتے ہیں یعنی وہ سٹلائٹ جو زمین سے کافی قریب ہوتے ہیں۔ کتنے؟ کم سے کم زمین کی سطح سے 160 کلومیٹر اوپر اور زیادہ سے زیادہ 1 ہزار کلومیٹر ۔ ان میں ناسا کی ہبل ٹیلی سکوپ یا انٹرنیشنل سپیس سٹیشن بھی شامل ہیں۔ یہ جیو سٹیشنری سٹلائٹ نہیں ہوتے یعنی یہ زمین کی محوری گردش سے نہیں جڑے ہوتے اس لیے یہ آپکو ایک وقت میں ایک جگہ اور دوسرے وقت میں آسمان میں دوسری جگہ نظر آئیں گے۔

    فہرست تو طویل ہے مگر ایک اور طرح کے سٹلائیٹ جو جی پی ایس سٹلائیٹ ہوتے ہیں وہ میڈیم ارتھ آربٹ میں ہوتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 20 ہزار کلومیٹر سے اوپر ہوتے ہیں۔ اور یہ مختلف مداروں میں گھومتے ہیں تاکہ ہر وقت چار سے پانچ سٹلائیٹ کے سگنل ایک جگہ پر آ سکیں جس سے آپکے سمارٹ فون میں لگے جی پی ایس اینٹنا انکے سگنل کو پکڑ کر ان سے ریاضی کے چند سادہ اُصولوں کے تحت زمین پر آپکی پوزیشن بتا سکیں اور یوں آپ گوگل میپ کے ذریعے راستے ڈھوند سکیں۔

    اُمید ہے اگلی بار آپ یہ نہیں کہیں گے کہ انسان تو آج تک خلا میں ہی نہیں گئے۔ اگر کہیں گے تو اُمید ہے کہ اپنے موبائل فون سے ہرگز نہیں کہیں گے کیونکہ کہیں نہ کہیں کوئی خلا میں موجود سٹلائیٹ ہی یہ مسیج ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا رابطہ بن رہا ہوگا۔ اور اُمید ہے کہ اگر آپکو یہ یقین نہیں کہ انسان یا انسانوں کے بنائے سٹلائیٹ کبھی خلا میں نہیں گئے تو آپ گوگل میپس کی بجائے لوگوں سے راستہ پوچھنے پر اکتفا کریں گے(ایسے میں احتیاط کیجیے گا لاہوریوں سے راستہ مت پوچھیں۔ وہ آپکو مینارِ پاکستان کی بجائے شاہ دی کھوئی بھیج دیں گے)۔

  • ہبل تو جیے سالہا سال — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہبل تو جیے سالہا سال — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ 1923 کی بات ہے جب انسان ابھی خلاؤں میں سفر کے خواب دیکھ رہا تھا , ایسے میں جرمن سائنسدان ہیرمان اوبرتھ جنہیں جدید راکٹ ٹیکنالوجی کے بانیوں میں شمار کیا جاتا یے ، نے ایک کتاب لکھی : "The Rocket into Planetary Space”.

    اس کتاب میں راکٹ ٹیکنالوجی کے خدو خال اور خلا میں اسکے استعمال سے تسخیرِ کائنات کے پہلوؤں کو اُجاگر کیا گیا۔ اسی کتاب میں انہوں نے ذکر کیا کہ کیسے ایک دوربین کو راکٹ کے زریعے خلا میں زمین کے گرد مدار میں چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے چھپنے کے 23 سال بعد یعنی 1946 میں امریکی ماہرِ فلکی طبعیات "لےمین سپٹزر ” نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں جدید خلائی دوربین اور اسکے فوائد کا ذکر کیا۔ انکا مقدمہ یہ تھا کہ خلائی دوربین زمین کی خوربینوں کے مشاہدات میں اضافہ کے لئے نہیں بلکہ ایسے نئے مشاہدات کے حصول کے لیے بنائی جائےجو ہمیں کائنات کو نئی پہلوؤں سے سمجھنے میں مدد دے۔

    کئی دہائیاں گزرنے اور کئی انسانوں کے سامنے یہ مقدمہ رکھنے کے بعد بالآخر وہ وقت آ گیا جب ناسا نے پہلی جدید خلائی دوربین ہبل کے نام سے 24 اپریل 1990 کو خلا میں بھیجی۔ انسانی تاریخ کی پہلی خلائی دوربین کا نام بیسوی صدی کے مشہور ماہرِ فلکیات ایڈون ہبل کے نام سے منسوب کیا گیا۔ جنہوں نے طویل کائناتی مشاہدات کے بات انسانوں کو خبر دی کہ وہ ایک ایسی کائنات کا حصہ ہیں جو مسلسل پھیل رہی ہے اوریہ کائنات محض ہماری کہکشاں ملکی وے نہیں بلکہ اربوں کہکشاؤں پر محیط ہے۔

    1977 سے تعمیر کی جانے والی یہ جدید خلائی دوربین جس پر آج کے افراطِ زر کے مطابق 16 ارب ڈالر خرچ ہوئے اور جسے اپنے ہدف یعنی 1983 میں لانچ کرنے کی بجائے سات سال تاخیر سے یعنی 1990 میں، جب خلا میں بھیجا گیا تو اس سے موصول ہونے والی پہلی تصاویر نے سائنسدانوں کے ارمانوں ہر پانی پھیر دیا۔

    ہبل کی تصاویر دھندلی تھیں!! اسکے 2.4 میٹر بڑے مِرر میں معمولی سا خلل تھا جو اس پر پڑنے والی روشنی کو ایک جگہ جمع نہیں کر پا رہا تھا جس سے تصاویر دھندلی ہو رہی تھیں۔ خوش قسمتی سے ہبل ٹیلکسکوپ زمین سے 547 کلومیٹر اوپر خلا میں تھی لہذا فیصلہ کیا گیا کہ اسکی مرمت کے لئے مشن بھیجا جائے۔ ہبل کی مرمت کے لئے پہلا مشن دسمبر 1993 میں بھیجا گیا۔ ڈیڑھ ہفتے سے زائد یہ مشن جاری رہا۔ اس مشن کے دوران خلا میں ناسا کی سپیس شٹل کے ذریعے خلاباز ہبل ٹیلکسکوپ کی مرمت کرتے رہے۔اسکےساتھ ساتھ زمین پر ناسا کے انجینئرز دن رات اس مرمت کا جائزہ لیتے رہے اور اس بات کو یقینی بناتے رہے کہ ہبل سے آنے والی تصاویر بہتر سے بہتر ہو جائیں۔ بالآخر یہ مشن کامیاب رہا۔ ہبل صحیح سے کام کرنے لگی۔

    اس مرمت کے 4 سال بعد یعنی 1997 میں ایک دوسرے مشن کے ذریعے ہبل کے مشاہدہ کرنے کے آلات میں مزید اضافہ کیا گیا۔ اب تک ہبل کی مرمت اور اسکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کل پانچ مشنز بھیجے جا چکے ہیں جن میں آخری مشن 2009 میں بھیجا گیا۔

    ہبل ٹیلی سکوپ خلا میں انسان کی پہلی آنکھ تھی۔ اس ٹیلی سکوپ نے ہمیں بتایا کہ کائنات کتنی وسیع ہے۔ کائنات انسان کی سوچ سے بھی وسیع ہے۔

    ہبل نے ہمیں بتایا کہ یہاں ستاروں کو کھا جانے والے بلیک ہولز بھی ہیں اور ایسے ستارے بھی جو سورج سے ہزاروں گنا بڑے۔ یہاں ہر روز نئے ستارے بنتے بھی ہیں اور اپنے انجام کو بھی پہنچتے ہیں۔
    یہاں ہمارے نظامِ شمسی کے علاوہ اربوں نظامِ شمسی ہیں اور زمین کیطرح کے لاتعداد سیارے بھی۔ یہاں مشتری کے چاند بھی ہیں جن میں بانی کے بخارات اُٹھتے ہیں اور اسی سرد دنیائیں بھی جنکی برفیلی تہوں میں گرم پانیوں کے سمندر ٹھاٹھیں مارتے ہیں۔ یہاں ایسے سیارے بھی ہیں جہاں ہیروں کی بارش ہوتی ہے اور ایسے بھی جنکے آسمانوں سے آگ برستی ہے۔
    یہاں ایسی کہکشائیں بھی ہیں جو ہم سے دور ہوتی جا رہی ہیں اتنی دور کہ ہماری آنے والی نسلیں اّنہیں دیکھ بھی نہ پائیں گی۔ ممکن ہے اُن کہکشاؤں میں بھی کہیں انسان بستے ہوں جن سے ہم کبھی رابطہ نہ کر سکیں۔

    لوگ پوچھتے ہیں کہ ہبل پر اتنا پیسہ لگا کر انسانیت نے کیا حاصل کیا؟
    میں کہتا ہوں کہ ہبل ٹیلیسکوپ نے انسانوں کو کائنات کی وسعتوں میں اپنے مقام سے آگاہ کیا ہے۔کیا اس سے بڑی بات کوئی خدمت ہو سکتی ہے؟

    ہبل دراصل خلا میں ہماری ظاہری آنکھ نہیں باطن کی آنکھ ہے جس سے ہم ادراک پاتے ہیں کہ کائنات میں ہماری حیثیت ایک چھوٹے سے سیارے پر گھومتی مخلوق سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہم جو آئے روز ایک دوسرے کا گلا کاٹتے ہیں، نظریات کے نام پر نفرتوں کے بیچ بوتے ہیں، اپنی انا کے جھوٹے دائروں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور جہالت کے اندھیروں میں انسانیت کا قتل کرتے ہیں۔ ہم اس وسیع کائنات میں کس قدر اکیلے ہیں۔ ہبل کی تصاویر کو دیکھتے ہوئے اگر آپکی آنکھوں میں آنسوؤں نہیں آتے تو آپ اندر سے مر چکے ہیں۔ کائنات میں زندہ رہنے کا ایک ہی اصول ہے کہ اپنے اندر کائنات کو زندہ رکھا جائے۔

    30 سال سے خلا میں کام کرتی یہ دوربین ہبل شاید 2040 تک ہمیں مزید فلکی نظارے دکھائے گی۔ جسکے بعد یہ اپنے مدار سے نکل کر تیزی سے زمین کی فضا میں داخل ہو گی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بحرالکاہل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔ جس سے خلا میں انسانی تسخیر کے ایک عہد ساز باب کا اختتام ہو گا۔

    مگر جب تک ہبل خلا میں کام کر رہی ہے، تب تک: ” ہبل تو جیے سالہا سال!!!”

  • ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

    ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

    ٹوئیٹر فیس بک کے بعد امازون نے دس ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے…!

    جی ہاں…

    وجہ کیا ہے؟ جی ملازمین کو دینے کے لیے پیسے نہیں اور ملازمین جو کام کرتے ہیں انسانی ربورٹ ان سے کہیں بہتر انداز میں کر سکتے ہیں. نہ ربورٹس چھٹیاں مانگتے ہیں نہ بلاوجہ بیمار ہوتے ہیں. نہ تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں نہ ہڈحرامی کرتے ہیں. اس لئے کمپنی مالکان کے لیے انسانی ملازمین کی بجائے ربورٹس زیادہ مفید ہیں.

    اب لندن امریکہ کی سڑکوں پر ایمزون کے نکالے گئے ملازمین بھیک مانگتے نظر آئیں گے کہ جی ہمیں جو کچھ آتا تھا وہ اب ربورٹس نے سنبھال لیا اور ہم اب کیا کریں.

    یاد رہے کمپنی ملازمتوں سے ربورٹس انسانوں کو نہیں نکال رہے بلکہ انسان انسانوں کو نکال رہے ہیں. اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے ربورٹس بنانا سیکھ لیا اور ان ربورٹس کی وجہ سے وہ لوگ ناکارہ ہیں جنہیں نہ آئی ٹی کا علم، نہ آرٹیفشل انٹیلیجنس کا علم، نہ ربورٹس کا علم اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی کا. باس کے سامنے یس سر یس سر کرنے والے انسان اب کسی کام کے نہیں. ربورٹس سے یس سر یس سر کروانے والے آئی ٹی ایکسپرٹ کام کے ہیں.

    ربورٹس آپ کی زندگی میں گھس چکے ہیں. کہیں کمپیوٹر کی شکل میں، کہیں ڈرون کیمرہ مین کی شکل میں، کہیں پیکنگ مشین کی شکل میں، اور کہیں آرمرڈ فورس کی شکل میں. اب جہاں جہاں وہ پہنچ رہے ہیں انسانوں کو نکالے جا رہے ہیں.

    ایک انسان کی وہ قسم ہے جو ان ربورٹس کو گھر سے بیٹھ کر آپریٹ کر رہا ہے اور پانچوں انگلیاں گھی میں ڈال چکا ہے اور دوسرا انسان وہ ہے جو رو رہا ہے کہ ان منحوس ربورٹس کی وجہ سے میری جاب چلی گئی. وہ روبوٹس کی آمد پر تو رو رہا ہے لیکن ان ربورٹس کو آپریٹ کرنے کا طریقہ نہیں سیکھ رہا اور اس وجہ سے اس کی یہ حالت ہو چکی ہے.

    اب دل تو کرتا ہے سوشل میڈیا پر چوبیس گھنٹے بحث و مباحثہ کرنے والے احباب کے متعلق کافی کچھ تحریر کروں لیکن بس اتنا کہوں گا کہ ساری دنیا ربورٹس کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور ہم ہم اس ربورٹ (موبائل) کے ذریعے ایک دوسرے پر ہی طعن و تشنیع کر رہے ہیں کہ نہ ہی دنیا کا فائدہ نہ ہی آخرت کا. اور غیر مسلم قوتیں اسی ربورٹس کے ذریعے اپنی زندگی آسان سے آسان تر کیےجا رہے ہیں..

  • آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے  دی گئی

    آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے دی گئی

    آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے دی گئی
    وزیراعظم شہبازشریف نے آسکرکے لیے نامزد کی جانے والی فلم ’جوائے لینڈ‘ کیخلاف شکایات کی تحقیقات اورپاکستان میں نمائش پرپابندی سے متعلق مطالبے کا جائزہ لینے کیلئےاعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد سمیت دیگرحلقوں سے کیے جانے والے مطالبے کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ فلم واقعی اخلاقی ومعاشرتی اقدار سے متصادم ہے یا نہیں۔

    جوائے لینڈ کو مئی 2022 میں دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کانزمیں ’کانز:کوئیر پام‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو بالخصوص ہم جنس پرستوں یا پھر مخنث افراد پرمبنی فلموں کو دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس فلم کی ریلیز 18 نومبرکے لیے شیڈول تھی تاہم اس سے قبل ہی جماعت اسلامی کے سنیٹر مشتاق احمد نے موضوع کی بنیاد پر فلم پرپابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسی فلموں کے ذریعے پاکستان کے معاشرتی اقدار پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کی رہائشگاہ پر 90 لاکھ روپے کے بلٹ پروف شیشے لگائے جائیں گے
    میٹا اور ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ
    چین اور ایران امریکہ میں مخالفین کی جاسوسی کرارہے ہیں، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن


    دوسری جانب سینسربورڈ کی جانب سے فلم کو سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا تاہم 11نومبرکو وفاقی وزارت اطلاعات نے اسے یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیاکہ فلممیں ’قابل اعتراض مواد‘ موجود ہے۔ اب وزیراعظم شہبازشریف کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے اپنے آفیشل ٹوئٹرہینڈل پربتایا ہے کہ جوائےلینڈ کی نمائش پرپابندی کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو متعلقہ شکایات کے علاوہ پاکستان میں نمائش کے میرٹس کا بھی جائزہ لے گی۔


    وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق فلم کیخلاف شکایات موصول ہونے کے بعد وزیر قانون کی نگرانی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ، چیئرمین پی ٹی اے اور پیمرا، وزراء برائے کمیونیکیشن، سرمایہ کاری، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اوروزیر اعظم کے مشیربرائے امور گلگت بلتستان شامل ہوں گے۔
    https://twitter.com/sethimirajee/status/1591689511091965952
    ممکنہ طور پرکمیٹی اپنی سفارشات آج 15 نومبرکوپیش کرے گی۔ لیکن فلم کی ریلیز کی اجازت ملنے کے بعد جوائے لینڈ کے ڈائریکٹرصائم صادق وزارت اطلاعات کے اس اقدام کوغیرقانونی قراردے رہے ہیں۔ اس اقدام پرشوبزسمیت کئی معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پرتنقید کرتے ہوئے حکومت سے فلم پرپابندی عائد نہ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ اداکارہ میراسیٹھی نے مریم اورنگزیب کیلئے لکھا کہ ، ’فلم پرپابندی کا کوئی جوازنہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ خود کوجمہوریت پسند قراردیں اورآرٹ پرپابندی عائد کردیں‘۔ علاوہ ازیں ہمایوں سعید نے کہا کہ جوائے لینڈ نےکانزمیں ایوارڈ جیت کرہمارا سر فخرسے بلند کیا، یہ ہمارے اپنے لوگوں کی کہانی ہے ، امید ہے کہ فلم دیکھنے کو ملے گی۔


    اداکارہ نادیہ جمیل نے بھی سوال اٹھایا کہ، ’اس پابندی کے پس پردہ کون سے چہرے ہیں اور وہ کس بات سےخوفزدہ ہیں، کب تک منافقین پاکستان کا گلا گھونٹتے رہیں گے جوخود مغربی دنیا کے تمام فائدے حاصل کرتے ہیں لیکن دوسروں پرزمانۂ جاہلیت کےنظریات مسلط کرتے ہیں‘۔


    خود وزیراعظم شہبازشریف کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے بھی ٹویٹ میں مریم اورنگزیب سے اس پابندی پرنظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہو تو فلم کی ٹیم سے ملاقات کرلیں۔


    یاد رہے کہ ہدایت کار صائم صادق کی اس فلم کی کاسٹ میں سرمد کھوسٹ، ثروت گیلانی، علینا خان، سہیل سمیر، سلمان پیر، ثانیہ سعید، کنول کھوسٹ، زویا احسن، ثنا جعفری اور قاسم عباس سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

  • ملکی سلامتی سے کھلواڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی سے کھلواڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی )پاکستان کی سلامتی کے اداروں کے بارے میں چہ مگوئیوں سے بلند و بانگ پیشگوئیوں سے خدارا اجتناب برتنا اشد ضروری ہے۔ کسی بھی جماعت سیاستدانوں ،پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوبرز کو ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں اعلیٰ فوجی قیادت کے بارے میں قیاس آرائیوں اور پیشگوئیوں پر سے پرہیز کرنا چاہئے اور پیمرا کو ملک کی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس طرز صحافت پر یکسر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس سٹاف کمیٹی کا تقرر پاکستان کے وسیع تر مفاد اور دوررس پالیسیوں کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے جس پر قیاس آرائیوں اور ذاتی پسند نا پسند سیاسی وابستگیوں اور تجزیاتی پوائنٹ سکورنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔

    میرا پٹواری میرا اے سی میرا ڈی سی میرا ایس ایچ او کا راگ الاپنے والے نام نہاد رہنمائوں ۔نام نہاد صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسی حساس تقرریوں پر بیان بازیوں اور زبان درازیوں کے ذریعے ملکی سلامتی کو تماشہ بنائیں۔مقتدر اور فیصلہ ساز اداروں کو چاہیے کہ ایسی اوچھی حرکات اور خلاف ورزی کے مرتکب ٹی وی چینل اور شخصیات کو قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ آئندہ کسی کو ملکی سلامتی اور قومی ساکھ کے ساتھ کھیلنے کی کسی کو جرآت نہ ہو۔

    مزید برآں وال سٹریٹ جرنل میں آشکار کیے گئے خدشات پر اعلیٰ سطح تحقیقات کا آغاز ہونا چاہئے تا کہ ملکی سلامتی کے اداروں کے وقار کو مجروح کرنے کی جرآت کسی کو نہ ہو۔

  • ویمینز ٹی 20 سیریز، پاکستان نے آئرلینڈ کو6 وکٹ سے ہرا دیا

    ویمینز ٹی 20 سیریز، پاکستان نے آئرلینڈ کو6 وکٹ سے ہرا دیا


    ویمینز ٹی 20 سیریز، پاکستان نے آئرلینڈ کو6 وکٹ سے ہرا دیا.

    پاکستان اور آئر لینڈ ویمن کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریزکے دوسرے میچ میں پاکستان نے آئرلینڈ کو شکست دے دی۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ آئرلینڈ کی ویمن ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں کے نقصان پر 118 رنز بنائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    بارش کے باعث میچ کو 17 اوورز تک محدود کردیا گیا تھا۔ پاکستان ویمنز ٹیم نے چاروکٹوں کے نقصان پر ہدف 16 ویں اوور میں حاصل کرلیا۔ ندا ڈار کو بہترین کارکردگی پر پلئیر آف دا میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ سیریز کے پہلے میچ میں آئرلینڈ نے پاکستان کو شکست دی تھی۔ تین میچز کی سیریز اب ایک ایک سے برابر ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں دستیاب نہیں ہوسکیں گے، انہیں کھلانے کا رسک لینے کے بجائے آرام کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حارث رؤف کو ٹیسٹ ڈیبیو کروانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ نسیم شاہ کے ساتھ محمد عباس پاکستان کی پیس بیٹری کا حصہ ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق فائنل میں انجری کا دوبارہ شکار ہونے والے شاہین شاہ آفریدی کا وطن واپسی پر مکمل میڈیکل اسکین ہوگا۔جن کی رپورٹس کی روشنی میں بائیں ہاتھ کے پیسر کا ری ہیب پلان ترتیب دیا جاسکے گا۔

    ٹیم مینجمنٹ نے شاہین کو بڑی انجری سے بچانے اور فاسٹ بولر کے مستقبل کے پیش نظر انگلینڈ کے خلاف یکم دسمبر سے شیڈول تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں انہیں اسکواڈ کا حصہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

  • آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی

    آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی

    آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی.

    موسم کے بارے میں لگ بھگ 10 روز قبل پیش گوئی کرنے کے لیے کراچی سمیت ملک بھر میں 300 آٹومیٹک ویدر اسٹیشن نصب کیے جائیں گے جب کہ اے ڈبلیو ایس کے لیے ورلڈ بینک کی جانب سے رقم مہیا کی جائے گی۔ آٹومیٹک ویدر اسٹیشن کے ذریعے درجہ حرارت، ہوا کی رفتار و سمت، نمی کا تناسب، بادلوں کی بلندی، حد نگاہ سمیت دیگر موسمی صورتحال کا مشاہدہ ممکن ہوگا۔ جناح ٹرمینل سمیت شہر کے 5 مقامات پر آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز پہلے سے فعال ہیں۔

    ہائیڈرومیٹ اینڈ کلائمٹ سروسز پراجیکٹ کے لیے ورلڈ بینک کی جانب سے حکومت پاکستان کے ذریعے محکمہ موسمیات کو سافٹ لون دیا جائے گا، جس کے تحت پورے پاکستان میں 300 آٹومیٹک ویدر اسٹیشن نصب کیے جائیں گے۔ چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کے مطابق شہرقائد سمیت سندھ بھر میں 55 آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز کی تنصیب ہو گی، صوبے میں اس وقت ویدر اسٹیشنز کی تعداد 17 ہے جبکہ بیشتر اضلاع میں موسمی پیش گوئی کے آلات نصب نہیں ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    اس منصوبے کے تحت ہر تحصیل میں ایک ویدر اسٹیشن لگایا جائے گا، منصوبے کے لیے محکمہ زراعت اور آبپاشی کی زمینیں حاصل کی جائیں گی جبکہ ملک کے باقی صوبوں میں بھی اے ڈبلیو ایس کی تنصیب سرکاری اراضی پر عمل میں لائی جائیگی۔ محکمہ موسمیات نے اس سے قبل اپنے ریڈار بجٹ کے ذریعے 5 آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز نصب کیے، جن پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔ ورلڈ بینک سے رقم موصول ہونے کے بعد پیپرا رولز کے تحت اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ٹینڈر طلب کیا جائے گا، اس منصوبے اور اس سے منسلک ورلڈ بینک کے تعاون سے مکمل ہونے والے دیگر منصوبوں کی تکمیل میں ڈھائی سے 3 سال کا عرصہ لگے گا۔