Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم وفات، نامق کمال

    یوم وفات، نامق کمال

    پیدائش:21 دسمبر 1840ء
    تکیرداغ
    وفات:02 دسمبر 1888ء
    خیوس

    نامق کمال (پیدائشی نام: محمد کمال) (21 دسمبر 1840ء – 2 دسمبر 1888ء) ترکی کے ایک قوم پرست شاعر، ناول نگار، ڈراما نویس، صحافی، مترجم اور سماجی مصلح تھے۔ نامق کمال کے افکار نے نوجوانان ترک اور ترک قوم پرست تحاریک پر زبردست اثرات ڈالے اور ترک زبان کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ وہ ترکی زبان کے غیر ملکی طلبہ کے لیے لسانی مواد تیار کرنے والے بہترین مصنفین میں سے ایک تھے۔
    ترکی کی مشہور ادبی شخصیت خالدہ ادیب خانم کے مطابق
    آپ کی ذات جدید ترکی کی محبوب ترین شخصیت تھی اور ترکی کے افکار و سیاست کی تاریخ میں ان سے زیادہ کسی دوسری شخصیت کی پرستش نہیں کی گئی۔

    سوانح حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آپ سلطنت عثمانیہ کے دار الحکومت استنبول کے مغرب میں واقع علاقے تکیر داغ میں 21 دسمبر 1840ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے فارسی، عربی اور فرانسیسی تعلیم نجی حیثیت میں حاصل کی۔
    آپ نے صوفیہ (موجودہ بلغاریہ، جو اس وقت عثمانی سلطنت کا حصہ تھا) کے قیام کے دوران شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا اور نامق تخلص اختیار کیا۔ عربی اور فارسی کی تکمیل بھی اسی شہر میں کی اور باقاعدہ فرانسیسی زبان سیکھنے کا آغاز بھی یہیں کیا۔ آپ کی شادی بھی اسی شہر میں ہوئی۔
    1857ء میں آپ استنبول آ گئے اور باب عالی کے دفتر ترجمہ میں ملازمت اختیار کر لی۔ 5 سالہ دور ملازمت میں آپ کا استنبول کے ممتاز شعرائے کرام سے تعارف ہوا۔
    ابتدا میں وہ غالب لسکوفچالی سے انتہائی متاثر تھے جو علما کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اسلامی اقدار و نظریات کے علمبردار تھے۔ بعد ازاں وہ مصنف اور اخبار ‘تصویرِ افکار’ کے مدیر ابراہیم شناسی سے متاثر ہوئے جنہوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ میں گزارا تھا اور مغربی طرز فکر کے حامل تھے۔ شناسی نے نامق کو مغربی انداز اختیار کرنے کامشورہ دیا۔ 1865ء میں نامق اُس وقت تصویر افکار کے مدیر بنے جب شناسی فرانس چلے گئے تھے۔ تاہم 1867ء تک اس اخبار کی پیدا کردہ سیاسی ہلچل نے سلطنت عثمانیہ کے لیے مسائل کھڑے کر دیے۔ کریٹ (اقریطش) کے مسئلے پر ایک اداریہ لکھنے پر اخبار پر ایک ماہ کی پابندی لگا دی گئی۔ سیاسی مضامین کے باعث تصویر افکار سلطنت عثمانیہ کاسب سے با اثر اخبار بن گیا۔ “نوجوانان ترک” کی اصطلاح سب سے پہلے اسی اخبار میں شائع ہوئی۔
    1865ء میں ہی اصلاحات کے حامی چھ نوجوانوں نے اتفاق جمعیت (جسے اردو میں نوجوانان عثمان کہا جاتا ہے) کے نام سے خفیہ تنظیم قائم کی جس میں معروف ادیب و شاعر ضیاء گوک الپ اور نامق کمال کے نام نمایاں تھے۔ اس تنظیم کو ژون ترک لر، ارباب شباب ترکستان، گنج عثمانلی لر اور ینی عثمانلی کے مختلف ناموں سے پکارا جاتا تھا۔
    حکومت کی جانب سے زیر عتاب آنے کے بعد مارچ 1867ء میں نامق کمال، ضیاء پاشا اور ان کے تیسرے ساتھی علی سعاوی پیرس روانہ ہو گئے۔
    نامق کمال نے پیرس میں اپنا وقت مطالعے اور وکٹر ہوگو، روسو اور مونٹیسکیو جیسے فرانسیسی مصنفین کے ادبی کاموں کے ترکی میں تراجم کرنے میں گزارا۔ آپ نے یہاں ایک اخبار ‘حریت’ بھی نکالا جو مالی امداد بند ہونے کے باعث 1869ء تک ہی چل سکا حالانکہ یہ اخبار بعد ازاں مالی امداد ملنے کے باعث دوبارہ شروع ہوا لیکن نامق نے پھر اس سے کوئی تعلق نہ رکھا۔
    لندن، ویانا اور برسلز میں کچھ عرصہ قیام کے بعد 1871ء میں نوجوانان عثمان استنبول واپس آئے تو نامق کمال نے اخبار ‘عبرت’ کے مدیر کی حیثیت سے اپنی انقلابی تحاریر جاری رکھیں۔
    اسی زمانے میں آپ نے ایک متنازع ڈراما ‘وطن’ تحریر کیا جو یکم اپریل 1873ء کو استنبول میں پیش کیا گیا جسے عثمانی حکومت نے قوم پرستانہ اور آزاد خیال افکار کے باعث خطرناک قرار دیا اور 9 اپریل کو نامق کمال کو قبرص میں نظر بند کر دیا گیا۔ آپ کی یہ نظر بندی 3 سال دو ماہ جاری رہی۔ اس عرصے میں آپ نے کئی ڈرامے، ناول اور تنقیدیں لکھیں۔
    سلطان عبد العزیز اول کی جگہ مراد پنجم کو خلیفہ بنایا گیا تو انہوں نے 3 جون 1876ء کو آپ کی معافی کا اعلان کیا اور یوں 29 جون 1876ء کو آپ استنبول واپس آئے۔

    نومبر میں آپ شورائے دولت (کونس آف اسٹیٹ) اور آئین سازی کے لیے ذیلی مجلس کے رکن مقرر ہوئے۔ آپ اور ضیاء پاشا کی کوششوں ہی سے سلطنت عثمانیہ کا پہلا دستور (قانون اساسی)تیار ہوا۔ صرف 93 دن کی خلافت کے بعد سلطان عبد العزیز کو معزول کر دیا گیا اور ان کی جگہ عبد الحمید نے عنان اقتدار سنبھالی۔ ابتدا میں انہوں نے دستور کی پابندی کا وعدہ کیا لیکن جلد ہی آئین منسوخ کر دیا گیا۔
    فروری 1877ء میں نامق کمال کو سلطان کو معزول کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ الزام سے بری ہونے کے باوجود آپ کو رہا نہ کیا گیا اور ساڑھے پانچ ماہ استنبول میں قید رہنے کے بعد آپ کو مدللی (Midilli) جلا وطن کر دیا گیا۔
    اپریل 1879ء میں آپ کو اسی جزیرے کا حاکم بنا دیا گیا۔ پانچ سال تک اس جزیرے کے حاکم رہے۔ اکتوبر 1884ء میں آپ کو جزیرہ رہوڈس کا حاکم بنا دیا گیا جہاں آپ تین سال حاکم رہے۔ انہوں نے رہوڈس کے کتب خانے کی توسیع میں ذاتی دلچسپی لی اور ہندوستان، ایران، مصر اور یورپ بھر میں گماشتے بھیج کر ذاتی خرچ پر کتب منگوائیں۔
    بعد ازاں آپ کو ساکز (Chios) کا گورنر بنائے گئے، جہاں 2 دسمبر 1888ء میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر محض 48 سال تھی۔
    عارضی طور پر ساکز میں دفنائے گئے بعد ازاں صاحبزادے علی اکرم نے جزیرہ نما گیلی پولی کے قصبے بولیر میں ایک بزرگ سلیمان پاشا کے پہلو میں دفن کرایا۔ سلطان عبد الحمید نے قبر پر مقبرہ تعمیر کرایا۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آپ کے معروف ادبی کاموں میں
    رویہ
    زوالی چوجک
    کربلا
    عاکف بے
    گل نہال
    انتباہ
    امیر نوروز
    شامل ہیں۔ آپ کی چند تحاریر قلمی ناموں سے جبکہ متعدد بغیر نام کے شائع ہوئیں۔
    افکار و خیالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ایک سماجی مصلح کی حیثیت سے نامق کمال کو دو بنیادی خیالات کے باعث شہرت حاصل ہے: ایک وطن دوسرا حریت (آزادی)۔ ایک آزاد خیال مفکر ہونے کے باوجود نامق کمال نے اسلام کو کبھی مسترد نہیں کیا۔ آپ سمجھتے تھے کہ مذہب ایک آئینی حکومت کی حامل جدید ترکی ریاست سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ آپ کے سب سے زیادہ مشہور ناول ” علی بین سرگزشتی“ (علی بے کی سرگزشت، 1874ء) اور 16 ویں صدی کے کریمیائی تاتاری خان عادل گیرائے کے حالات زندگی پر مبنی ناول ”جزمی“ (1887-88ء) ہیں۔
    آپ نے تصویر افکار، حریت اور عبرت کے علاوہ دیگر اخبارات میں بھی مضامین لکھے جن میں مراۃ، مخبر، بصیرت، حدیقہ، اتحاد، صداقت، وقت اور محرر شامل تھے۔
    نامق کمال کی حب الوطنی پر لکھی گئی تحاریر نے ترک قوم پرست تحریک اور جدید جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کو بے حد متاثر کیا تھا۔
    متعلقہ مضامین
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ضیاء گوک الپ
    خالدہ ادیب خانم
    یحیی کمال بیاتلی

  • یوم ولادت،  منور بدایونی

    یوم ولادت، منور بدایونی

    جسے چاہا در پے بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا
    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

    منور بدایونی

    یدائش:02 دسمبر 1908ء
    بدایوں، اتر پردیش، برطانوی ہند
    وفات:06 اپریل 1984ء
    کراچی، سندھ، پاکستان

    منور بدایونی (پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔اُن کا تخلص منور تھا۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 2 دسمبر، 1908ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منور غزلیں اور منور قطعات اور منور نغمات شامل ہیں۔ ان کی کی شعری کلیات منور کلیات کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)منور نعتیں
    ۔ (2)منور غزلیں
    ۔ (3)منور قطعات
    ۔ (4)منور نغمات
    ۔ (5)کلیات منور
    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا
    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے
    تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

    علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے
    بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

    اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
    آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

    نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
    کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 6 اپریل 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان آسودۂ خاک ہیں۔

  • نہ چھیڑاے نکہت بادبہاری راہ لگ اپنی تجھےاٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بےزاربیٹھے ہیں:انشااللہ خان انشاء کی زندگی کےروش پہلو

    نہ چھیڑاے نکہت بادبہاری راہ لگ اپنی تجھےاٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بےزاربیٹھے ہیں:انشااللہ خان انشاء کی زندگی کےروش پہلو

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    انشا اللہ خان انشاء
    یکم دسمبر 1257 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میر تقی میر کے ہم عصر ، مصحفی کے ساتھ چشمک کے لئے مشہور انشا نے نثر میں ’رانی کیتکی کی کہانی‘ بھی لکھی.جس میں عربی فارسی کا ایک بھی لفظ استعمال نہیں ہوا
    وہ کہتے تھے’’ہرلفظ جو اردو میں مشہور ہو گیا، عربی ہو یا فارسی، ترکی ہو یا سریانی، پنجابی ہو یا پوربی ازروئے اصل غلط ہو یا صحیح وہ لفظ اردوکا لفظ ہے۔ اگراصل کے مطابق مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے اور خلاف اصل مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے ۔‘‘

    محمد حسین آزاد نے انشا کو اردو کا امیر خسرو کہا ۔ انکا سب سے بڑا کارنامہ کسی ہندوستانی کی لکھی ہوئی اردو گرامر کی اولین کتاب "دریائے لطافت” ہے جو قواعد کی عام کتابوں کی طرح خشک اور بے مزا نہیں کسی ناول کی طرح پر لطف ہے جس میں مختلف کردار اپنی اپنی بولیاں بولتے سنائی دیتے ہیں۔

    انھوں نے اردو میں "سلک گوہر” لکھی جس میں ایک بھی نقطہ نہیں ہے۔ انھوں نے ایسا قصیدہ لکھا جس میں پورے کے پورے مصرعے عربی، فارسی، ترکی، پشتو، پنجابی، انگریزی، فرانسیسی، پوربی اور اس زمانہ کی تمام قابل ذکر زبانوں میں ہیں۔ ایسی سنگلاخ زمینوں میں غزلیں لکھیں کہ حریف منہ چھپاتے پھرے۔ ایسے شعر کہے جن کو معنی کے اختلاف کے بغیر، اردو کے علاوہ، محض نقطوں کی تبدیلی کے بعد عربی فارسی اور ہندی میں پڑھا جا سکتا ہے یا ایسے شعر جن کا ایک مصرع غیر منقوط اور دوسرے مصرعے کے تمام الفاظ منقوط ہیں۔ اپنے اشعار میں صنعتوں کے انبار لگا دینا انشاء کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

    انشاء یکم دسمبر 1752ء کو مرشدآباد میں پیدا ہوئے۔ خاندان نجف اشرف سے اور بعض دوسری روایات کے مطابق سمرقند سے ہجرت کرکے دہلی میں آباد ہوا تھا اور طبابت میں اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی بنا پر دربار شاہی سے منسلک تھا۔ انشاء کے والد سید ماشاءللہ دہلی کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوے مرشدآباد چلے گئے تھے. بنگال کے حالات بھی خراب ہوئے تو انشا فیض آباد جاکر کم عمری کے باوجود شجاع الدولہ کے مصاحب ہوگئے۔ شجاع الدولہ کی وفات کےبعد وہ نجف خان کے لشکر میں شامل ہوکر بندیل کھنڈ میں جاٹوں کے خلاف لڑے بھی۔ اس کے بعد وہ نجف خان کے ساتھ دہلی آ گئے۔

    انشاء کو دربار تک رسائی ملی اور وہ اپنی طراری، اور بھانڈ پن کی حد تک پہنچی ہوئی مسخرگی کی بدولت شاہ عالم کی آنکھ کا تارہ بن گئے ۔ ان کو اپنی بقاء کے لئے ایک مسخرے مصاحب کا کردار ادا کرنا پڑا جس نے بعد میں، ضرورت کی جگہ، عادت کی شکل اختیار کرلی۔ جب انشاء دہلی پہنچے، بڑے بڑے شاعر، سودا، میر، جرات، سوز وغیرہ دہلی کو چھوڑ کر عیش و نشاط کے نو دریافت جزیرے لکھنؤ کا رخ کر چکے تھے اور چھٹ بھیّے بزعم خود خاتم الشعراء بنے ہوئے تھے۔ یہ لوگ انشاء کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ایسے میں لازم تھا کہ انشاء ان کو ان کی اوقات بتائیں۔ اور یہیں سے انشاء کی ادبی معرکہ آرائیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ انشاء کو اپنے سامنے سر اٹھانے والے کسی بھی شخص کو دو چار زور دار پٹخنیاں دئیے بغیر چین نہیں آیا۔

    دہلی میں انشاء کا پہلا معرکہ مرزا عظیم بیگ سے ہوا۔ ان کی علمی لیاقت بہت معمولی تھی سودا کے شاگرد ہونے کے مدعی اور خود کو صائب کا ہم مرتبہ سمجھتے تھے۔ انشاء کی روش عام سے ہٹی ہوئی شاعری کے نکتہ چینوں میں یہ پیش پیش تھے اور اپنے مقطعوں میں سودا پر چوٹیں کرتے تھے۔ ایک دن وہ انشاء سے ملنے آئے اور اپنی ایک غزل سنائی جو بحر رجز میں تھی لیکن کم علمی کے سبب اس کے کچھ شعر بحر رمل میں چلے گئے تھے۔ انشاء بھی موجود تھے۔ انھوں نے طے کیا کہ حضرت کو مزا چکھانا چاہئے۔ غزل کی بہت تعریف کی مکرر پڑھوایا اور اصرار کیا کہ اس غزل کو وہ مشاعرہ میں ضرور پڑھیں۔ عظیم بیگ ان کے پھندے میں آ گئے۔ اور جب انھوں نے مشاعرہ میں غزل پڑھی تو انشاء نے بھرے مشاعرہ میں ان سے غزل کی تقطیع کی فرمائش کر دی۔ مشاعرہ میں سب کو سانپ سونگھ گیا۔ انشاء یہیں نہیں رکے بلکہ دوسروں کی عبرت کے لئے اک مخمس بھی سنا دیا۔

    گر تو مشاعرہ میں صبا آج کل چلے
    کہیو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل چلے
    اتنا بھی اپنی حد سے نہ باہر نکل چلے
    پڑھنے کو شب جو یار غزل در غزل چلے
    بحر رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے

    عظیم بیگ اپنے زخم چاٹتے ہوئے مشاعرہ سے رخصت ہوئے اور اپنی جھینپ مٹانے کے لئے جوابی مخمس لکھا جس میں انشاء کو جی بھر کے برا بھلا کہا اور دعویٰ کیا کہ بحر کی تبدیلی نادانستہ نہیں تھی بلکہ شعوری تھی جس کا رمز ان کے مطابق کل کے چھوکرے نہیں سمجھ سکتے۔
    موزونی و معانی میں پایا نہ تم نے فرق
    تبدیل بحر سے ہوئے بحر خوشی میں غرق
    روشن ہے مثل مہر یہ از غرب تا بہ شرق
    شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
    ( آخری مصرع ماقبل کے مصرع میں تحریف کے ساتھ شعر "گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے” کی شکل میں مشہور ہو گیا)

    اگلی بار جو مشاعرہ ہوا وہ ایک خطرناک معرکہ تھا ۔ انشاء اپنی فخریہ غزل
    اک طفل دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے
    کیا منہ ہے ارسطوجو کرے چوں مرے آگے
    لے کر گئے۔ اس معرکہ میں جیت انشاء کی ضرور ہوئی لیکن ان کی مخالفت بہت بڑھ گئی۔ دہلی کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے ۔ دربار سے بھی ان کا دل اچاٹ ہو گیا۔ قسمت آزمائی کےلئے لکھنؤ کی راہ لی۔ آتے ہی وہاں کے مشاعروں میں دھوم مچائی. کچھ دن میں شاہ عالم کے بیٹے سلیمان شکوہ کے ملازم ہو گئے۔ سلیمان شکوہ، انشاء سے اصلاح لینے لگے۔ ان دنوں لکھنؤ میں شاعری کی اک نئی بساط بچھ رہی تھی جسے بعد میں دبستان لکھنؤ کا نام دیا گیا۔ انشاءکے علاوہ، جرات، رنگین، راغب وغیرہ ایک سےبڑھ کر ایک تماشے دکھا رہے تھے۔ سنگلاخ زمینوں میں استادی دکھانے اور چوما چاٹی کے مضامین کو ابتذال کے دہانے تک لے جانے کی اک ہوڑ لگی تھی۔

    آصف الدولہ کے بعد جب سعادت علی خان نے حکومت سنبھالی تو انشاء للہ بہت دنوں بعد کسی طرح ان کے دربار میں پہنچ تو گئے لیکن ان کا رول بس دل بہلانے والے اک مسخرے کا سا تھا۔ نواب کو جب کسی کی پگڑی اچھالنی ہوتی انشاء کو اس کے پیچھے لگا دیتے۔ انشاء کی آخری عمر بڑی بیکسی میں گزری ہنسی ہنسی میں کہی گئی انشاء کی کچھ باتوں سے نواب کے دل میں گرہ پڑ گئی اور وہ معتوب ہو گئے۔ اور زندگی کے باقی دن مفلسی کسمپرسی اور بیچارگی میں گزارے۔
    انشاء کی تمام شاعری میں جو صفت مشترک ہے وہ یہ کہ ان کا کلام متوجہ اور محظوظ کرتا ہے۔

    منتخب اشعار :

    کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
    بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشاؔ
    غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
    کہانی ایک سنائی جو ہیر رانجھا کی
    تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
    یہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر
    اوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر
    کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
    فعل بد تو ان سے ہولعنت کریں شیطان پر
    لے کے میں اوڑوں، بچھاؤں یا لپیٹوں کیا کروں
    روکھی پھیکی ایسی سوکھی مہربانی آپ کی

    تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرے
    جب سے مکتب میں تو کہتا تھا الف بے تے ثے
    یاد آتا ہے وہ حرفوں کا اٹھانا اب تک
    جیم کے پیٹ میں ایک نکتہ ہے اور خالی حے
    گالیاں تیری ہی سنتا ہے اب انشاؔ ورنہ
    کس کی طاقت ہے الف سے جو کہے اس کو بے
    میاں چشمِ جادو پہ اتنا گھمنڈ
    خدوخال و گیسو پہ اتنا گھمنڈ
    دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میرا
    جب دھم سے آکہوں گاصاحب سلام میرا
    ( ریختہ سے استفادہ)

  • یوم وفات۔ منگھا رام ملکانی

    یوم وفات۔ منگھا رام ملکانی

    تاریخ ولادت:24 دسمبر 1896
    حیدرآباد، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی
    تاریخ وفات:01 دسمبر 1980
    ممبئی، بھارت
    شہریت:بھارت (26 جنوری 1950–)
    ڈومنین بھارت
    مادر علمی:ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج
    تعلیمی اسناد:بی اے (آنرز)
    پیشہ:ادبی مؤرخ، ڈراما نگار، پروفیسر، ادبی نقاد
    پیشہ ورانہ زبان:سندھی
    کارہائے نمایاں:سندھی نثر جی تاریخ
    اعزازات:ساہتیہ اکادمی ایوارڈ
    ۔ (برائے:سندھی نثر جی تاریخ)
    ۔ (1969)

    پروفیسر منگھارام ادھارام ملکانی، ایم یو ملکانی (انگریزی: Mangharam Udharam Malkani) بھارت سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے نامور ادبی مورخ، نقاد، معلم اور ڈراما نویس تھے۔ ڈی جے کالج کراچی میں انگریزی کے لیکچرار اور پھرجے ہند کالج بمبئی میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔وہ جدید سندھی نثری ادب کے معماروں میں شامل تھے۔ ان کی شاہکار تصنیف سندھی نثر جی تاریخ (سندھی نثر کی تاریخ) پر ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے 1969ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز برائے سندھی ادب دیا گیا۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منگھا رام ملکانی 24 دسمبر 1896ء کو حیدرآباد، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق حیدرآباد کے مشہور عامل خاندان سے تھا۔ ان خاندان سے تعلق رکھنے والے منشی آوترائے ٹالپر حکمران خاندان کے فرد میر صوبدار خان ٹالپر کے وزیر تھے۔ منگھا رام نے ڈی جے کالج کراچی سے بی اے (آنرز) کی سند حاصل کی۔ ملازمت کا آغاز ڈی جے کالج سے انگریزی کے لیکچرار کے طور پر کیا، پھر اسی کالج میں فیلو مقرر ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت کے شہر بمبئی منتقل ہو گئے اور وہاں جے ہند کالج بمبئی میں پروفیسر مقرر ہو گئے۔ انہوں نے ادبی زندگی کا آغاز ڈراما نگاری سے کیا۔انگریزی، اردو اور دوسری زبانوں سے متعدد ڈرامے سندھی میں منتقل کیے۔ اس کے علاوہ کئی طبع زاد ڈرامے بھی لکھے۔ وہ سندھی میں ایک ایکٹ (یک بابی) ڈراموں کے موجد بھی ہیں۔ ڈرامے لکھنا اور ڈرامے پیش کرنا ان کی عملی دلچسپی تھی، ان کا معروف ڈراما قسمت انگریزی ڈرامے کا ترجمہ تھا۔ جب کہ ان ناول ایکتا جو الاپ مشہور یونانی ناول نگار اسرائیل زنگول کے شہرہ آفاق ناول Melting Pot کا سندھی ترجمہ ہے۔ منگھا رام ملکانی کے ڈرانوں میں حقیقت نگاری کے ساتھ وطن پرستی کے جوہر بھی کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے تحریر کردہ معروف ڈراموں میں بی زال (دوسری بیوی)، اکیلی دل (اکیلا دل)، بہ باھیوں (دو آگیں)، ٹی پارٹی، پریت جی پریت، لیڈیز کلب، کمزور انسان، سمندر جی گجگار (سمندر کی گرج)، کوڑو کلنک (جھوٹا کلنک)، دل ائین دماغ (دل اور دماغ)، کنھ جی خطا؟ (کس کی خطا؟)، نا خلف، ‘قسمت، انارکلی وغیرہ شامل ہیں۔ منگھارا نے طویل اورباقاعدہ ڈرامے بھی لکھے اور ناول بھی تحریر کیے ہیں۔ لیکن رفتہ رفتہ تحقیق و تنقید کی جانب راغب ہوتے چلے گئے۔ 1941ء میں ان کا تحقیقی مضمون سندھی بولی جو تعمیر و ترقی پہلے سندھو نامی جریدے میں شائع ہوا اور بعد میں بمبئی سے چھپنے والی کتاب ادبی اصول میں شامل کیا گیا۔منگھارام کوخیال پیدا ہوا کہ سندھی نثر نگاروں کے بابت کوئی ایسی مستند کتاب موجود نہ تھی جو سندھی ادب کے طالب علموں کی رہنمائی کرتی۔ اس اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پروفیسر منگھارام نے سندھی نثر کی تاریخ پر کام کرنا شروع کیا۔ بالآخر سندھی نثر کی ایک ایسی جامع، مبسوط اور مستند تاریخی جائزہ سندھی نثر جی تاریخ کے نام سے کتابی صورت میں سامنے آیا جس نے سندھی نثر کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کو روشن کر کے رکھ دیا۔ سندھی نثر جی تاریخ ایک ایسی معرکۃ الآرا کتاب ہے جو منگھارام ملکانی کو سندھی ادب کی تاریخ میں زندہ جاوید کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر منگھارام نے سندھی افسانے، ناول، ڈرامے اور مضمون نویسی کے علاحدہ شعبوں میں شروع سے لے کر تقسیم ہند تک ہونے والی ترقی کو قلم بند کیا ہے اور ہر صنف کی ترقی کے ساتھ ان کی جداگانہ خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    منگھا رام ملکانی یکم دسمبر 1980ء کو بمبئی، بھارت میں وفات پا گئے۔

  • یوم پیدائش، ریاض الرحمان ساغر

    یوم پیدائش، ریاض الرحمان ساغر

    پیدائش:01 دسمبر 1941ء
    بھٹنڈہ، ریاست پٹیالہ، صوبہ پنجاب
    وفات:1 جون 2013ء
    لاہور، پاکستان
    قلمی نام:ساغر
    زبان:پنجابی
    نسل:پنجابی
    تعلیم:بی اے
    نمایاں کام:مینوں یاداں تیریاں آئوندیاں نیں (نغمہ)
    دیکھا جو چہرہ تیرا موسم بھی پیارا لگا (نغمہ)
    ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو (نغمہ)
    ہوسکے تو میرا ایک کام کرو (نغمہ)
    کبھی تو نظر ملاؤ (نغمہ)

    ریاض الرحمان ساغر (انگریزی: Riaz ur Rehman Saghar)، (پیدائش: یکم دسمبر، 1941ء – وفات: یکم جون، 2013ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے شاعر، فلمی نغمہ نگار اور کہانی نویس تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ریاض الرحمان ساغر یکم دسمبر، 1941ء کو مولوی محمد عظیم اور صدیقاں بی بی کے ہاں بھٹنڈہ، ریاست پٹیالہ، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت ان کے خاندان نے پاکستان کی طرف ہجرت کی، راستے میں قافلے پر شرپسندوں کے حملے کے دوران ان کے والد جاں بحق ہو گئے۔ مزید برآں ان کا دو سال کا چھوٹا بھائی بھی دورانِ سفر بھوک اور پیاس کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ ریاض الرحمان اور ان کی والدہ لٹے پٹے قافلے کے ہمراہ والٹن کیمپ میں پہنچے، یہاں سے ملتان چلے گئے۔ ریاض الرحمان کی والدہ نے محنت مشقت کر کے اپنے بیٹے کو تعلیم دلوائی۔ انہوں نے ملت ہائی اسکول ملتان سے میٹرک اور ایمرسن کالج سے بی اے (فاضل پنجابی) کیا۔ ریاض الرحمان نے نویں کلاس میں ایک انگلش نظم کا بہترین اردو ترجمہ کیا تو ان کے ٹیچر ساغر علی نے ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کی بہت تعریف کی اور پوری کلاس کے سامنے بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ ریاض الرحمان کو داد پانے کا یہ آسان طریقہ بہت اچھا لگا۔ چنانچہ انہوں نے استاد کے نام ہی کو اپنا تخلص رکھ کر شاعری شروع کر دی۔ ساتھ ہی ساتھ استاد شعرأ کے کلام کا مطالعہ بھی شروع کر دیا۔ یوں کالج پہنچنے تک ساغر کو قدیم و جدید شعرأ کے سینکڑوں اشعار زبانی یاد ہو چکے تھے۔ ایمرسن کالج ملتان میں سیکنڈ ائیر میں طالب علموں کو جوش ملیح آبادی اور فیض احمد فیض کی انقلابی شاعری سنانے پر کالج سے نکال دیا گیا جن میں ریاض الرحمان بھی شامل تھے۔ 1956ء میں لاہور آ گئے اور یہاں فیض صاحب سے ملاقات ہوئی، انہیں اپنا احوال زندگی گوش گزار کیا، انہوں نے شفقت فرماتے ہوئے نوکری پر رکھ لیا، لیکن کچھ عرصہ بعد روزنامہ نوائے وقت میں روزگار کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آخری دم تک جاری رہا۔
    فلمی دنیا سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ریاض الرحمان کے ایک دوست سلطان عارف نے انہیں فلمی دنیا میں متعارف کرایا۔ ریاض الرحمان ساغر نے سب سے پہلے ماسٹر عنایت حسین کی فلم عالیہ کے لیے نغمات لکھے۔ یہ فلم تو کامیاب نہ ہو سکی لیکن ریاض الرحمان بھرپور طریقے سے فلم انڈسٹری میں داخل ہو گئے۔ معروف شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کے ساتھ ان کی دوستی ہو گئی جنہوں نے ریاض الرحمان کا بھرپور ساتھ دیا۔ فلم ”شریک حیات“ کے لیے لکھا ہوا نغمہ ”میرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے“ ریاض الرحمان کے لیے کامیابی کا زینہ ثابت ہوا۔ اس کے بعد فلم ”سماج“ کے نغمے ”چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں دنیا کے رسم و رواج توڑ دیں“ نے ریاض الرحمان کے لیے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ ریاض الرحمٰن ساغر نے فلم، ریڈیو پاکستان، ٹی وی کے لیے تین ہزار کے قریب نغمے تخلیق کیے جنہیں مہدی حسن، نورجہاں، عدنان سمیع، احمد رشدی، مالا، مسعود رانا، استاد نصرت فتح علی خان، حامد علی خاں، اے نیئر، وارث بیگ، انور رفیع، رونالیلیٰ، حمیرا ارشد، حمیرا چنا، ناہید اختر، تصور خانم، ثریا خانم، نصیبو لال سمیت دیگر نمایاں گلوکاروں نے گایا۔ ان کے تخلیق کردہ مقبول نغموں میں ”ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو“ ”بھیگا ہوا موسم پیارا“ ”تیری اونچی شان ہے مولا“ ”کبھی تو نظر ملاؤ“ ”ھیگی بھیگی راتوں میں“ ”تیرے سنگ رہنے کی کھائی ہے قسم“ ”لو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں“ ”کچھ دیر تو رک جاؤ برسات کے بہانے“ ”دلی لگی میں ایسی دل کو لگی کہ دل کھو گیا“ ”دیکھا جو چہرہ تیرا موسم بھی پیارا لگا“ ”کل شب دیکھا میں نے چاند جھروکے میں“ ”ہو سکے تو میرا ایک کام کرو“ ”جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم“ ”ساون کی بھیگی راتوں میں“ ”مینوں یاداں تیریاں آؤندیاں نیں“ ”کسی روز ملو ہمیں شام ڈھلے“ شامل ہیں۔
    کہانی و مکالمہ نویسی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بطور کہانی کار و مکالمہ نویس ریاض الرحمان ساغر نے 100کے قریب فلمیں لکھیں جن میں شمع، نوکر، سسرال، عورت ایک پہیلی، سرگم، نذرانہ، بھروسا، نکاح، محبتاں سچیاں جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کیا دن تھے (سوانح عمری)
    کیمرا، فلم اور دنیا ( سات ملکوں کا سفر نامہ)
    لاہور تا بمبئی براستہ دہلی ( بھارت کا سفر نامہ)
    سرکاری مہمان خانہ ( جیل یاترا کااحوال)
    میں نے جو گیت لکھے (گیت)
    چلو چین چلیں (منظوم سفر نامہ)
    چاند جھروکے میں (شاعری)
    پیارے سارے گیت ہمارے (شاعری)
    سر ستارے (شاعری)
    آنگن آنگن تارے (بچوں کے گیت)
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ریاض الرحمان ساغر کو نیشنل فلم ایوارڈ، پی ٹی وی ایوارڈ، کلچرل گریجویٹ ایوارڈ، نگار ایوارڈ، بولان ایوارڈ سمیت مختلف سماجی اور ثقافتی اداروں کی طرف سے ڈیڑھ سو سے زائد انعامات ملے۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ریاض الرحمان ساغر یکم جون، 2013ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • یوم وفات عبدالحلیم شرر

    یوم وفات عبدالحلیم شرر

    لکھنؤ
    وفات:1 دسمبر 1926ء
    لکھنؤ

    عبدالحلیم شرر (04ستمبر 1860ء تا 01 دسمبر 1926ء) برصغیر کے ایک انتہائی معروف اردو ادیب اور صحافی تھے۔ ناول نگاری میں انھوں نے خصوصی شہرت حاصل کی۔ بہت سے اخبارات اور رسائل سے وابستہ رہے جن میں سے بیشتر انھوں نے خود جاری کیے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جمعہ، 2 جمادی الثانی 1276ھ (بمطابق 04 ستمبر 1860ء) میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم تفضل حیسن، واجد علی شاہ کے دربار سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنے باقی خاندان کی طرح شرر بھی 9 سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ کلکتہ چلے گئے اور والدین کے ساتھ مٹیا برج رہنے لگے۔
    کلکتہ میں رہائش کے دوران اپنے والد کے علاوہ سید حیدر علی، مولوی محمد حیدر، مرزا محمد علی صاحب مجتہد اور حکیم محمد مسیح سے عربی، فارسی، منطق اور طب کی تعلیم حاصل کی۔ اسی زمانے میں انگریزی بھی پڑھی لیکن اس کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔
    1875ء میں اپنے نانا مولوی قمر الدین کی سبکدوشی کے بعد ان کی جگہ نواب واجد علی شاہ کے ہاں ملازم ہوئے۔ دو سال کے بعد یہ ملازمت چھوڑ کر 1877ء میں کلکتہ سے لکھنؤ چلے آئے اور یہاں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ یہیں رہائش کے دوران مولوی عبد الحئی کے پاس عربی کی تعلیم مکمل کی۔ 1879ء میں ماموں کی بیٹی سے شادی کے ایک سال بعد دہلی چلے گئے جہاں شمس العلماء میاں نذیر حسین محدث دہلوی سے حدیث کی تعلیم میں سند لی۔ یہیں قیام کے دوران نجی طور پر انگریزی میں بھی خاصی مہارت حاصل کر لی۔

    صحافتی زندگی کا آغاز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلکتہ میں قیام کے دوران شرر نے لکھنؤ کے ایک اخبار اودھ اخبار کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کیا۔ دہلی سے لکھنؤ واپس آئے تو منشی احمد علی کسمنڈوی نے اخبارات میں مضامین لکھنے کی طرف توجہ دلائی۔ ان مضامین کی مقبولیت کے نتیجے میں 1880ء میں لکھنؤ واپس آنے پر منشی نولکشور نے شرر کو اودھ پنج کے ادارتی عملے میں شامل کر لیا۔ ان کے مضامین کو خوب شہرت ملی۔ اس اخبار میں 1884ء تک کام کیا۔
    اودھ اخبار کی ملازمت کے دوران شرر نے اپنے ایک دوست مولوی عبد الباسط کے نام سے محشر نامی ہفت روزہ رسالہ جاری کیا۔ یہ رسالہ شرر کے مضامین کی وجہ سے بے انتہا مقبول ہوا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس رسالے کی شہرت کی وجہ سے ان کو حیدرآباد میں اودھ اخبار کا نمائندۂ خصوصی بنا کر بھیج دیا گیا۔ حیدرآباد میں چھ ماہ قیام کیا۔ جب انہیں اخبار کی طرف سے لکھنؤ واپس آنے اجازت نہ ملی تو اودھ پنج سے استعفی دے دیا اور واپس لکھنؤ آ گئے۔
    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    شرر نے اپنے اولین ناول دلچسپ کا پہلا حصہ 1885ء میں اور دوسرا حصہ 1886ء میں شائع کیا۔ اور یوں ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز ہو گیا۔ انہوں نے 1886ء ہی میں بنکم چندر چٹر جی کے ناول درگرش نندنی کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا۔
    1887ء میں اپنا مشہور رسالہ دلگداز جاری کیا جو 1926ء تک چھپتا رہا۔ دلگداز میں مولانا نے بیش بہا مضامین لکھے جو بعد میں کئی جلدوں میں (مضامین شرر) کے نام سے شائع کیا۔ ان رسائل میں انہوں نے آزاد نظم اور معراء نظم کے تجربات کیے اور یوں اردو شاعری میں نظم کے حوالے سے اہم سنگ میل کی صورت اختیار کی۔
    ملک عبد العزیز ورجنا ان کا پہلا تاریخی ناول تھا جو 1888ء میں قسط وارشائع ہوا۔ اس کے بعد 1889ء میں حسن انجلینا اور 1890ء میں منصور موہنا نامی ناول شائع ہوئے۔ 1890ء ہی میں شرر نے اسلامی شخصیات کے بارے میں مہذب نامی رسالہ جاری کیا جو مالی مشکلات کی وجہ سے ایک سال کے اندر ہی بند ہو گیا۔ بعد ازاں، 1891ء میں، قیس و لبنٰی نامی ناول چھپا۔
    دورۂ انگلستان
    1891ء میں ہی شرر کو نواب وقار الملک کے پاس حیدرآباد میں ملازمت مل گئی۔ 1892ء میں نواب نے انہیں اپنے بیٹے کا اتالیق بنا کر انگلستان بھیج دیا جہاں وہ 1896ء تک مقیم رہے۔ روانگی سے قبل شرر نے تین ناول، دلکش، زید و حلاوہ اور یوسف و نجمہ لکھنے شروع کیے جنہیں ان کی غیر موجودگی میں کسی اور نے مکمل کیا۔ مذکور ناولوں میں سے آخری دو کو بعد میں شرر نے خود بھی مکمل کیا لیکن زید و حلاوہ کا نام تبدیل کر کے فلورا فلورنڈا رکھ دیا۔

    فردوس بریں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    1896ء میں انگلستان سے واپس آ کر دوبارہ حیدرآباد میں مقیم ہو گئے اور اس مرتبہ یہیں سے دل گداز کو جاری کیا۔ 1899ء تک حیدرآباد میں قیام رہا اور اسی دوران اپنے ناول ایام عرب کا پہلا حصہ شائع کیا۔ انہی برسوں میں شرر نے کچھ تاریخی تحقیق کا کام کیا اور اس کو سکینہ بنت حسین میں شائع کیا۔ اس کی اشاعت کے بعد حیدرآباد کے ایک حلقے میں شرر کی شدید مخالفت شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں 1899ء میں انہیں حیدرآباد چھوڑنا پڑا۔
    لکھنؤ واپس آ کر دل گداز کو یہاں سے دوبارہ جاری کیا۔ 1900ء میں پردہ عصمت کے نام سے ایک پندرہ روزہ رسالہ نکالا۔ لکھنؤ میں یہ قیام 1901ء تک رہا اور یہی وہ دور تھا جس میں شرر نے اپنا شہرۂ آفاق ناول فردوس بریں تحریر کیا۔ یہ ناول 1899ء میں شائع ہوا۔
    اس دور کی دیگر تصانیف یہ ہیں:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حسن بن صباح (تاریخی رسالہ)
    ایام عرب، (حصہ دوم) (1900ء)
    مقدس نازنین (1900ء)
    ڈاکو کی دلہن (ایک انگریزی ناول کا ترجمہ) (1900ء)
    بدر النساء کی مصیبت (1901ء)
    گو 1899ء میں شرر واپس لکھنؤ آ گئے تھے لیکن ان کی حیدرآباد والی ملازمت بدستور جاری رہی اور نواب وقار الملک اور مولوی عزیز مرزا کی وجہ سے انہیں تنخواہ مسلسل لکھنؤ پہنچتی رہی۔
    1901ء میں انہیں واپس حیدرآباد بلا لیا گیا جس کی وجہ سے انہیں دل گداز اور پردہ عصمت بند کرنے پڑے۔ لیکن ان کے حیدر آبد پہنچتے ہی نواب وقار الملک ملازمت سے علاحدہ ہو گئے اور پھر ان کا انتقال ہو گئے جبکہ مولوی عزیز مرزا کا تبادلہ اضلاع میں ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1903ء میں ملازمت سے برطرف ہو گئے اور واپس لکھنؤ آ گئے۔
    1904ء میں دل گداز کو ایک مرتبہ پھر جاری کیا۔ 1907ء تک اپنے قیام میں شرر نے جو کتابیں تحریر کیں ان کی فہرست ذیل میں ہے:
    شوقین ملکہ
    یوسف و نجمہ
    سوانح حیات حضرت جنید بغدادی
    تاریخ سندھ
    سوانح حیات حضرت ابوبکر شبلی
    1907ء میں شرر کو حیدرآباد میں محکمۂ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر متعین کر دیا گیا۔ 1908ء میں وہیں سے دل گداز کو پھر جاری کیا۔ لیکن نظام حیدر آباد کی کسی بات پر ناراضی کی وجہ سے حیدرآباد کو پھر چھوڑنا پڑا۔ یہاں قیام کے دوران جو کتب تحریر کیں وہ یہ ہیں:
    آغا صادق کی شادی (معاشرتی ناول)
    ماہ ملک (تاریخی ناول)
    آخری دور[ترمیم]
    لکھنؤ واپس آ کر 1910ء میں دل گداز کو پھر یہاں سے جاری کیا اور اس کی اشاعت تمام عمر جاری رکھی۔ 1910ء سے 1926ء ان کی ادبی زندگی کا اہم ترین دور سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران انہوں نے تصنیف و تالیف کا کام مسلسل جاری رکھا اور بہت سی کتب شائع کیں جن کی فہرست بلحاظ سال یہ ہے:
    1910ء: فلپانا (تاریخی ناول)
    1911ء: غیب دان دلہن (ناول)
    1912ء: زوال بغداد (تاریخی ناول)۔ تاریخ عصر قدیم (مکمل)
    1913ء: رومۃ الکبری (تاریخی ناول)۔ حسن کا ڈاکو (پہلا حصہ)
    1914ء: حسن کا ڈاکو (دوسرا حصہ)۔ اسرار دربار رام پور (دو حصے)
    1915ء: خوفناک محبت (ناول)۔ الفانسو (ناول)
    1916ء: فاتح و مفتوح (ناول)
    1917ء: بابک خرمی (ناول – حصہ اول)۔ جویائے حق (ناول – پہلا حصہ)۔ سوانح قرۃ العین۔ تاریخ عزیز مصر۔ تاریخ مسیح و مسیحیت
    1918ء: بابک خرمی (ناول – حصہ دوم)۔ تاریخ عرب قبل اسلام
    1919ء: جویائے حق (ناول – دوسرا حصہ)۔ لعبت چین (ناول)۔ تاریخ ارض مقدس، سوانح خاتم المرسلین، صقلیہ میں اسلامی تاریخ
    1920ء: عزیزۂ مصر (ناول)۔ اسیر بابل (ناول)
    1921ء: جویائے حق (ناول – تیسرا حصہ)
    1923ء: طاہرہ (ناول)
    1925ء: مینا بازار
    1926ء: شہید وفا، میوۂ تلخ اور نیکی کا پھل (ڈرامے)
    ادبی اعداد و شمار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    شرر کی چند تصانیف ایسی بھی ہیں جن کی تاریخ اشاعت کے بارے میں یقین سے نہییں کہا جا سکتا۔ اور اسی طرح ان کی تصانیف کی کل تعداد کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ شرر کی تصانیف کی اصل تعداد کے بارے میں مختلف محققین میں اختلاف پایا جا تا ہے۔ مرزا محمد عسکری نے ان کی تصانیف کے جو اعداد و شمار تحریر کیے ہیں وہ یہ ہیں:
    اخبارات و رسائل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    محشر (ہفتہ وار)، دل گداز (ماہ وار)، مہذب (ہفتہ وار)، پردۂ عصمت (پندرہ روزہ)، اتحاد (پندرہ روزہ)، العرفان (ماہ وار)، دل افروز (ماہ وار)، ظریف (ہفتہ وار)، مؤرخ (ماہ وار)۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    موضوع:تعداد
    سوانح عمریاں:21
    تاریخی ناول:28
    دوسرے ناول:14
    تاریخ:15
    نظم و ڈراما:6
    متفرق:18
    کل تعداد:102
    مجموعات مضامین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شرر کے مضامین کے مجموعات آٹھ جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں جن کی تفصیل ذیل کے جدول میں ہے:
    عدد جلد تفصیل
    جلد اول حصہ اول: شاعرانہ اور عاشقانہ مضامین
    حصہ دوم: شاعرانہ اور عاشقانہ مضامین
    حصہ سوم: آغاز و اختتام سال کے مضامین
    (یہ دل گداز کے اداریے ہیں)
    جلد دوم حصہ اول: تاریخی و جغرافیائی مضامین
    حصہ دوم: مختلف ملکوں، شہروں اور قوموں کے حالات اور تذکرے
    حصہ سوم: ہندوستان میں مشرقی تمدن کا آخری نمونہ
    جلد سوم حصہ اول: دنیا کے مختلف مملک کی مشہور عورتوں کا تذکرہ
    حصہ دوم: دنیا کے مختلف مملک کی مشہور عورتوں کا تذکرہ
    حصہ سوم: دنیا کے مشہور مردوں کے حالات
    جلد چہارم ادبی اور تحقیقی مضامین
    جلد پنجم اصلاحی مضامین
    جلد ششم تاریخی واقعات پر خیال آرائی
    جلد ہفتم نظم و ڈراما
    جلد ہشتم مقالات شرر
    شرر کی تصانیف بے شمار ہیں۔ ان کے ناولوں اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے تاریخ اور خصوصاً اسلامی تاریخ کا اچھا مطالعہ کیا تھا۔ اور پھر تاریخی ناول لکھے۔ مشہور ناول ملک العزیز ورجینا، منصورموہنا، ایام عرب، فلورافلورنڈا، فتح اندلس اور فردوس بریں ہیں۔
    شرر نے 01 دسمبر 1926ء میں لکھنؤ میں وفات پائی ۔

  • کونسے رواج ختم ہونے چاہئے؟ — ریاض علی خٹک

    کونسے رواج ختم ہونے چاہئے؟ — ریاض علی خٹک

    مجھے بہت سے رواجوں سے شدید نفرت ہے. لیکن سارے رواج برے نہیں ہوتے. جیسے سواریوں والے سمندری جہازوں کا ایک رواج ہے. سمندر میں کوئی حادثہ ہو جائے تو لائف بوٹس پر سب سے پہلے بچوں کو بٹھایا جاتا ہے. اس کے بعد خواتین اور پھر مرد حضرات کی باری آتی ہے. جہاز کا کپتان سب سے آخر میں لائف بوٹ پر آئے گا.

    ہمارے معاشرے میں والد گھر کے جہاز کا کپتان ہوتا ہے. وقت کے اس سمندر میں خاندان کا سفینہ منزل کی طرف لے کر جانے کا بوجھ یہاں اکثر اسی تنہا کپتان کے کمزور کندھوں پر ہوتا ہے. وقت کا سمندر اس وقت امتحان پر ہے. مہنگائی کی منہ زور لہروں کے درمیان سے ضروریات زندگی کھینچ کر یہ سفر جاری رکھنا مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے.

    ایسے میں کچھ رواج بہت اچھے ہیں. مرد اپنی اکثر خواہشات کا گلا گھونٹ کر گھر کے بچوں اور خواتین کی زندگی آسان کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں. لیکن کچھ معاشرتی رواج بہت برے ہیں جو کپتان کی مشکلات کو ان پہاڑ نما موجوں کے مقابل کر دیتے ہیں جن کو سر کرتے کرتے وہ خود بھی تھک کر چور ہو جاتا ہے اور گھر کا سفینہ بھی شکستہ ہو جاتا ہے.

    معاشرہ اگر اپنے ان کمزور کپتانوں پر کچھ ترس کھائے اور رسم و رواجوں کو کچھ سمیٹ لے کچھ محدود کر لے تو بہت سے لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے گی. وقت کے اس سمندر میں تنہا سفر نہیں ہوتے. بہت کچھ ہمیں ایک دوسرے کیلئے کرنا ہوتا ہے. رواج بھی وہ بھنور ہیں جس میں سے مل کر ہی نکلا جا سکتا ہے.

    آپ لوگ بتائیں کونسے رواج ختم ہونے چاہئے.؟؟

  • اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا (برٹل بون) Osteogenesis Imperfecta (OI) — خطیب احمد

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا (برٹل بون) Osteogenesis Imperfecta (OI) — خطیب احمد

    زینب بیٹی جسکی دو ہفتے قبل میں نے وڈیو بھی لگائی تھی۔ اپنے علم کے مطابق جینو ویلگم Genu Valgum اور سکالئیوسز Scoliosis ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ جب سے اسے ملا میں اس بچی سے رابطے میں تھا مسلسل ریسرچ کر رہا تھا۔ مرہم ایپ کے ذریعے کئی آرتھوپیڈک و نیوروسرجنز سے مشورہ کر رہا تھا۔

    آج زینب کی اپائنٹمنٹ لاہور سے آئے ہوئے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر ذکا اللہ ملک سے لی ہوئی تھی۔ زینب اپنے ماموں ذاد بھائی کے ساتھ صبح ہمارے گھر آئی۔ میری اہلیہ سے کافی دیر گپ شپ کرتی رہی۔ پھر ہم لوگ حافظ آباد زم زم ہسپتال گئے۔ ڈاکٹر ذکا اللہ ملک کے ساتھ ڈاکٹر خضر عباس سندھو بھی ڈائگنوسز میں شامل تھے۔ دونوں ڈاکٹرز کے پیلوک، پوری سپائن، دونوں ٹانگوں، دونوں بازوؤں، کندھوں کے ڈیجیٹل ایکسرے کیے۔ مکمل ہسٹری لی کچھ بلڈ ٹیسٹ کیے۔ اور ابتدائی طور پر اس نتیجے پر پہنچے کہ بیٹی کو جینو ویلگم، سکالئیوسز کے ساتھ اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے امپرفیکٹ بون فارمیشن۔ یعنی ہڈیوں کا ٹھیک سے نہ بننا۔ اس بیماری میں ہڈیاں بڑی کمزور ہوتی ہیں اور آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہ ایک پیدائشی جینیاتی بیماری ہے۔

    اسے پروفیشنلز او آئی (OI) کہتے ہیں۔ اس کے تین اور نام بھی ہیں۔ جو کہ یہ ہیں
    Fragilitas ossium
    Brittle bone disease
    Vrolik disease

    میں نے اس کی اب تک 19 اقسام پڑھی ہوئی ہیں جنہیں ٹائپ 1 سے ٹائپ 19 کے نام سے ہی عموماً جانا جاتا ہے۔ ابتدائی تشخیص میں زینب کو ٹائپ 1 جسے
    classic non-deforming osteogenesis imperfecta with blue sclerae
    کہتے ہیں۔ ڈائگنوز ہوئی ہے۔ مگر ابھی یہ کنفرم نہیں۔ ٹائپ 1 کے بچوں کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے۔ کہ انکی انکھ کا سفید حصہ مائنر سا نیلا ہوتا ہے۔ یہ ٹائپ 1 ویسے اس بیماری کی سب سے کم درجے پر ہڈیوں کا نقصان کرنے والی قسم ہے۔ تمام او آئی بچوں میں 50 فیصد کو یہی ہوتی ہے۔

    او آئی 1 بچوں کی اکثریت میں ریڑھ کی ہڈی ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ جوڑ بڑے کمزور ہوتے ہیں۔ پسلیاں بھی بیرل شیپ میں ہوتی ہیں۔ جوڑ ٹھیک سے نہیں بنے ہوتے۔ یہ سب کچھ زینب کے ساتھ بچپن سے ہے۔

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا کی بیماری عام طور پر دنیا بھر میں 15 ہزار بچوں میں سے 1 کو ہوتی ہے۔

    اسکی وجوہات جنیٹک میوٹیشن ہی ہمیشہ ہوتی ہیں۔ جب ہم جینیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مختلف جینز مختلف پروٹینز بنانے کا سافٹ ویئر اپنے اندر بلٹ ان رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی جین میں کوئی گڑ بڑ ہوجائے تو جس چیز کو بنانے کے وہ ذمہ دار ہوتے اس میں خرابی یا بگاڑ آجاتا ہے۔ سائنس کے اساتذہ یا سٹوڈنٹس جانتے ہیں کہ کولاجن نامی پروٹین ہمارے جسم میں ہڈیاں بنانے اور ان کی گروتھ کی ذمہ دار ہے۔

    اور کولاجن کتنی بنانی ہے کب بنانی ہے اسے کنٹرول کرنے کی ذمہ داری میرے مالک نے ایک خاص ننھی منھی سے شے جسے ہم COL1A1 جین کہتے کے ذمے لگا رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسکا دوسرا جین بھائی COL1A2 ہے جو یہی کام کرتا ہے۔ ان دونوں میں کوئی بھی گڑ بڑ ہمارے پورے ہڈیوں کے ڈھانچے کو کسی بھی طرح خراب کر دیتی ہے۔ یہ دونوں ہی 90 فیصد ہڈیوں کی فارمیشن کے ذمہ دار ہیں گو کچھ اور جینز جیسے FKBP10 بھی ان کا ساتھ دیتا ہے۔

    اس مرض سے متاثرہ لوگوں کا قد نہیں بڑھتا۔ زیادہ سے زیادہ تین فٹ تک یہ جا پاتے ہیں۔ اور سپائن تقریباً سب کی ٹیڑھی ہو جاتی۔

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا
    autosomal dominant pattern of inheritance
    پر کام کرتا ہے۔ یعنی ہر سیل کی ایک کاپی ہی ہمارے جینز میں سوئی ہوئی اس بیماری کو جگانے کے لیے کافی ہے۔ ٹائپ 1 سے 4 تک کے والدین میں سے کوئی ایک عموما اس کا کیرئیر ہوتا ہے۔ یعنی اس کے جینز میں یہ بیماری ہوتی ہے۔ جو جنیٹک ٹیسٹنگ سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ جنیٹک ٹیسٹنگ پر میں تفصیلی دو مضمون لکھ چکا ہوں انہیں آپ میری وال پر پن گئی پوسٹ میں دیے گئے لنک سے پڑھ سکتے ہیں۔

    علاج کیا ہے؟

    بچے کی عمر سب سے پہلے دیکھی جاتی۔ مجموعی صحت کا اندازہ لگایا جاتا۔ او آئ کے ساتھ جڑی ہوئی دیگر میڈیکل کنڈیشنز کو دیکھا جاتا ہے۔ کہ سرجری سے کوئی اور نقصان تو نہیں ہوگا۔

    ایسی دوائیاں مسلسل دی جاتی ہیں جو ہڈیوں کو مضبوط کریں۔

    بچے کا روز مرہ لائف میں گرنے چھلانگ لگانے وغیرہ کا رسک کم سے کم کیا جاتا۔

    کوئی لائٹ ویٹ بریس لگا دی جاتی۔

    سرجری بھی کچھ کیسز میں ہوتی ہیں۔

    کچھ بڑی ہڈیوں جیسے ران، پنڈلی، سپائن میں سٹیل کے راڈ بھی ڈالے جاتے ہیں۔

    بہت سے بچوں کے دانت بہت ٹیڑھے ہوتے ان کو کیپنگ بریسنگ کے ذریعے ٹھیک کیا جاتا۔

    فزیوتھراپی اور آکو پیشنل تھراپی ماہرین سے بہت ضروری ہے۔

    ٹیکنالوجیکل سپورٹ جیسے پاور ہائیڈرالک سسٹم والی وہیل چیئرز، سپیشلائزڈ کمپیوٹرز، کھانا کھانے کے چمچ گلاس وغیرہ ان کے لائف سٹائل میں ایڈ کئے جاتے۔

    دھکا لگا کر چلنے والی عام وہیل چیئر ان بچوں کے لیے سب سے خطرناک چیز ہے۔ اس میں ایک تو ان کی سپائن اور ڈیمج ہوتی۔ دوسرا ٹھوکر لگنے سے اکثر بچے اس کرسی سے نیچے گر کر ہڈیاں تڑوا لیتے اور فوت ہو جاتے۔

    ان کے لیے وہ وہیل چیئرز ہوتی ہیں جن پر بہت سے بیلٹ لگے ہوتے ہیں۔ بجلی سے چلتی ہیں۔ فلی آٹو میٹک ہوتی ہیں۔ کسی بھی طرح کی کھائی یا جمپ سے گزرنے پر الٹتی نہیں ہیں۔

    ہر کیس کو دیکھ کر اس کے لائف سٹائل اور علاج ک فیصلہ کیا جاتا ہے۔

    زینب بیٹی کے لیے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اب ان دونوں ڈاکٹرز نے ہمیں لاہور ڈاکٹر سلطان کے پاس ریفر کیا ہے۔ ان شاءاللہ چند دن میں ہی لاہور کا وزٹ ہوگا۔

    سرجری تو مشکل ہے زینب کی ہو۔ سپائنل کارڈ بہت خراب ہو چکی ہے۔ سٹیل راڈ ڈل گیا تو قد بڑھنا رک جائے گا۔ گھٹنے کی ہڈیوں میں سے بھی ایک ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے۔ گھٹنے میں الگ پڑی ہوئی۔ گھٹنے کی سرجری بھی کسی خطرے سے خالی نہیں۔ میری سمجھ کے مطابق بچی کو ٹانگ اور سپائن کو سپورٹ دینے والے بریس لگانے کا ہم فیصلہ کریں گے۔ وہیل چیئر پر ابھی نہیں بٹھائیں گے۔ ورنہ جو تھوڑا بہت چل لیتی وہ بھی ختم ہوجانا ہے۔

    خیر ابھی کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے کئی اور طبی ماہرین کے وزٹ و میڈیکل پراسس ہونا باقی ہیں۔ دعاؤں کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ زینب بیٹی اور اس طرح کے دیگر بچوں کو اپنی پناہ میں رکھے۔ اور ہمیں ان کا ہاتھ تھامنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    میں اور ڈاکٹر ذکا اللہ ظہر کی اذان ہوجانے پر نماز پڑھنے مسجد جانے لگے تو زینب نے کہا انکل مجھے بھی لے جائیں۔ تو ہم اسے بھی ہسپتال کے اندر ہی واقع مسجد میں ساتھ لے گئے۔ ڈاکٹر صاحب بھی بہت جذباتی ہو گئے اتنی پیاری بچی کو دیکھ کر اور آئندہ بھی پورے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ کوئی ڈاکٹر اتنا وقت نہیں دیتا جتنا آج کوالٹی ٹائم زینب کو ملا۔

    ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے۔ کہ آپ جیسے سمجھ رکھنے والے لوگ والنٹیئرلی ایسے بچوں کے ساتھ آئیں تو ہمیں بڑی آسانی ہو۔ آپکو تو کچھ بتانا ہی نہیں پڑ رہا ہم کسی بھی ٹرم کا نام لیتے ہیں آپ تفصیل خود بتا رہے ہیں۔ والدین جو اکثر پڑھے لکھے نہیں ہوتے کو بات سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ بیماری کا سن کر کمرے میں مریض کے سامنے ہی رونے پیٹنے لگ جاتے۔ ہم پھر تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ چپ کرکے اپنا علاج کرتے رہتے۔ اور وہ کہتے ڈاکٹر کو تو کچھ پتا ہی نہیں اس نے ہمیں کچھ بتایا ہی نہیں۔ اور آئے روز سادہ لوح لوگ کوئی کسے نئے ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے۔ اب لوگ بھی بیچارے کیا کریں۔ کس کو ساتھ لے کر جائیں۔ آج کے دور میں کون کسی کے لیے وقت نکالتا۔ ہر بندہ ہی اپنی لائف میں ایسا مصروف کہ اسکی ذات کے لیے بھی اس کے پاس وقت نہیں۔

    میں حیران ہوں۔ میرے مالک نے میرے وقت میں اتنی برکت کیسے ڈال دی ہے۔ چوبیس گھنٹے مجھے ایک ہفتے کی مانند لگتے ہیں۔

    دیکھیں کتنی ہیاری لگ رہی یہ بچی میری انگلی پکڑے ہوئے۔ میری زندگی کی یہ سب سے خوبصورت تصویر ہے۔ جس میں زینب نے میری انگلی پکڑی ہوئی۔

  • ٹک ٹاک آپ کی جاسوسی کر رہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    ٹک ٹاک آپ کی جاسوسی کر رہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    حالیہ دنوں میں بز فیڈ کی جانب سے لیک شدہ آڈیو سے ٹک ٹوک کے بارے میں یہ حیران کن باتیں پتا چلی ہیں؛

    ٹک ٹوک نا صرف کسی بھی یوزر کی گیلری تک رسائی رکھتی ہے بلکہ وہ یوزر کے فنگر پرنٹس سے لیکر ڈرافٹ میسجز تک اور ان سے لیکر کسی بھی شخص کو بھیجے گئے میسجز تک پڑھ سکتی ہے۔

    بات یہیں نہیں رکتی بلکہ وہ جمع شدہ یہ سارا ڈاٹا اپنے چائنیز سرورز کو بھیجتی ہے۔

    چائینیز سرور چونکہ بائیٹ ڈانس نامی کمپنی کی ملکیت ہیں سو وہ عوامی جمہوریہ چین کی سٹیزن سرویلنس پالیسی کے تحت کام کرتے ہیں جس کے تحت کسی بھی شہری کی معلومات کو جاننے کا ریاست کے پاس مکمل قانونی حق حاصل ہے۔

    ٹک ٹوک آپ سے حاصل شدہ یہ سب معلومات جس میں آپ کی دوسرے لوگوں سے کی گئی بات چیت تک شامل ہیں مانیٹر کرتی ہے اور پھر آپ کو مینپولیٹ کرنے کے لئے اور اس سے جدید ٹیکنالوجی بنانے کے لئے استعمال کرتی ہے۔

    انہی الزامات کی بنیاد پر بھارت میں اس ایپلی کیشن پر بین لگا تھا اور اب امریکہ میں بھی بین لگنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ وہیں پر امریکہ میں سرکاری ملازموں اور حساس اداروں کے ملازموں پہ ٹک ٹوک انسٹال کرنے پہ پابندی عائد ہے۔

    یاد رہے،

    پاکستان میں کسی بھی ادارے کے ملازمین پر ٹک ٹوک کے استعمال پہ کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔

  • نیا آپریٹنگ سسٹم آرہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    نیا آپریٹنگ سسٹم آرہا ہے؟ — ضیغم قدیر

    قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ ایپل سٹور سے ٹوئٹر کو ہٹا دیا جائے گا اور تمام آئی فونز پہ آفیشل ٹوئٹر ایپ نہیں چل سکے گی۔ اس قدم کو فالو کرتے ہوئے فریڈم آف سپیچ کے ‘قاعدوں کی خلاف ورزی’ پر گوگل پلے سٹور سے بھی اس کو ہٹا لیا جائے گا۔

    لیکن،

    اس قدم کو اٹھانے سے ایلون مسک کی ایک دھمکی نے روکا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ایلون اپنا ایپ سٹور اور اپنا موبائل فون لانچ کر لے گا۔

    اسکا فائدہ کیا ہوگا؟

    اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مقابلے کی فضا میں ہمیں ایک نئی، جدید اور بہترین موبائل کمپنی ملے گی جس کے پاس ایک بالکل نیا آپریٹنگ سسٹم اور پراسیسنگ سسٹم ہوگا۔

    اور

    حیران کن بات یہ ہے کہ نیا آپریٹنگ سسٹم مکمل طور پہ ڈی سینٹرلائزڈ مطلب ویب بیسڈ ہوگا جس کو بنانے کی خواہش مرحوم اسٹیو جابز کی تھی۔ اس میں میموری کیشے کی پرابلم بھی ختم ہو جائے گی۔