Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بلدیاتی حکومتوں سے محروم پنجاب و سندھ

    بلدیاتی حکومتوں سے محروم پنجاب و سندھ

    بلدیاتی حکومتوں سے محروم پنجاب و سندھ
    تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ
    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بلدیاتی اداروں کا ماضی کبھی بھی تابناک نہیں رہا۔ جمہوری یا غیر جمہوری حکومیتں، ان سب ادوار میں بلدیاتی اداروں کیساتھ ہمیشہ سوتیلے پن کا سلوک کیا گیا۔ ماضی اور حال میں تمام وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی پالیسیوں اور برے رویوں سے نہ صرف مقامی حکومتوں کی تشکیل کی حوصلہ شکنی کی بلکہ ان مقامی حکومتوں کو چلانے میں بہت سی رکاوٹیں بھی کھڑی کیں۔ کبھی صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی جنگ تو کبھی صوبائی حکومتوں کی جانب سے مقامی حکومتوں کو مالی وسائل فراہم نہ کیا جانا۔ جبکہ پاکستان کا آئین مقامی حکومتوں کے بارے میں واضح ہدایات و رہنمائی مہیا کرتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 32 کیمطابق ”ریاست(پاکستان) متعلقہ علاقوں کے منتخب نمائندوں پر مشتمل مقامی حکومتی اداروں کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ایسے اداروں میں کسانوں، مزدوروں اور خواتین کو خصوصی نمائندگی دی جائے گی”۔ اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 140 A کے تحت ”ہر صوبہ، بذریعہ قانون، ایک مقامی حکومت قائم کرے گا۔ حکومتی نظام اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو سونپنا۔ اور مقامی حکومتوں کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا”۔جبکہ موجودہ حالت زار یہ ہے کہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی عوام مقامی حکومتوں سے عرصہ دراز سے محروم ہیں۔ آئین پاکستان میں درج واضح ہدایات و رہنمائی کے باوجود پاکستان کی جمہوری پارٹیوں / صوبائی حکومتوں کی جانب سے عرصہ دراز سے صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی عوام کو بلدیاتی اداروں سے محروم رکھنا انتہائی ظلم ہے۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو ختم کردیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ چھ ماہ کے بعد قانون سازی کر کے نئے انتخابات کروائے جائیں گے اور پھر ایک آرڈیننس کے تحت اس مدت میں مزید سوا سال کی توسیع کردی گئی۔ یاد رہے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سنہ2016 میں ہوئے تھے اور ان اداروں کی پانچ سال کی مدت دسمبر 2021 میں پوری ہوئی، مگر 2018 کے بعد پی ٹی آئی نے جہاں 10 کروڑ سے زائد آبادی کے صوبہ پنجاب کو عثمان بزدار جیسے نالائق شخص کے حوالے کئے رکھا۔ وہیں پر صوبہ کی عوام کو مقامی حکومتوں سے محروم رکھا، جسکی بظاہر سادہ سی وجہ صوبہ پنجاب کے تقریبا تمام ضلعوں کی مقامی حکومتوں کے سربراہوں کا مسلم لیگ ن سے تعلق تھا۔رواں ہفتہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پنجاب حکومت کے رویے کو غیر سنجیدہ قرار دے دیا۔ اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کا جائزہ لیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق الیکشن کمیشن کے اجلاس میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ بل یکم نومبر کو منظور کرلیا ہے۔الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے ڈرافٹ رولز موصول ہوئے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق پنجاب حکومت سے دیگر دستاویزات اور نقشہ جات تاحال نہیں ملے، معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پہلے بھی الیکشن کمیشن پنجاب میں 2 بارحلقہ بندیوں کی تکمیل کرچکا ہے، ان حلقوں پر آنے والے اخراجات قومی خزانہ پر بوجھ ثابت ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق پنجاب حکومت کا رویہ غیرسنجیدہ ہے، بار بار قانون میں ترامیم کے باعث پنجاب میں الیکشن کا انعقاد نہیں ہوسکا۔ اعلامیے کے مطابق اب الیکشن کمیشن کو پنجاب میں تیسری بار حلقہ بندیاں کرنی پڑیں گی، الیکشن کمیشن لوکل گورنمنٹ الیکشن 120 دن کے اندر کرانے کا پابند ہے۔ اعلامیے کے مطابق وزیر لوکل گورنمنٹ، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کو طلب کیا جائے گا۔ دوسری طرف صوبہ سندھ (خصوصا کراچی ڈویژن) کی عوام بھی عرصہ دراز سے مقامی حکومتوں سے محروم ہے۔ حیرانی اس بات پر زیادہ ہے کہ پاکستانی آئین کی خالق جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی بلدیاتی اداروں کے قیام میں حیلے بہانے تلاش کرتی دیکھائی دیتی ہے۔ صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار کے لئے سیلاب کی تباہ کاریوں کا مسئلہ بیان کیا جاتا ہے تو کبھی انتخابات کے انعقاد کے لئے مطلوبہ سیکورٹی کی عدم دستیابی کا بہانہ منظر عام پر آتا ہے۔ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی صوبائی حکومتوں کے رویوں سے بظاہر ایسا ہی محسوس ہورہا ہے کہ ان صوبوں میں بلدیاتی انتخاب کا انعقاد اور مقامی حکومتوں کا قیام مستقبل قریب میں بھی ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا۔ ایک طرف صوبائی حکومتوں کی مقامی حکومتوں کے قیام میں سست روی تو دوسری طرف ان صوبوں کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے خواب خرگوش میں پڑے رہنا بھی انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ مسلم لیگ ن وفاقی حکومت سنھبالنے اور حمزہ شہباز کی صوبائی حکومت ملنے اور ملنے کے بعد کھو جانے کی وجہ سے یا تو ابھی تک صدمے سے دوچار ہے یا پھر بظاہر ستو پی کر سو رہی ہے۔ صوبہ پنجاب میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف سمیت اپوزیشن کی کسی بھی قدآور شخصیت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے قیام کے لئے آواز نہ اُٹھانا ان جمہوری جماعتوں کی نام نہاد جمہوری سوچ و اقدار کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب صوبہ سندھ میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی اتنی شدو مد سے صوبائی حکومت کو بلدیاتی انتخاب منعقد کروانے کے لئے پریشر ڈالتی دیکھائی نہیں دیتی۔یاد رہے پاکستان کے سب سے بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں مقامی حکومتوں کا قیام نہ ہونا سنگین آئین شکنی کے مترادف ہے۔ عوام اور حکام کے درمیان حائل خلیج میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دنیا جہاں کی ترقی یافتہ جمہوری مملکتوں کی ترقی کی ایک وجہ انکے ہاں مضبوط مقامی حکومتوں کا قیام ہے۔ جس میں عوام الناس کو اپنے مقامی مسائل حل کروانے کے لئے صوبائی یا وفاقی حکومتوں کی طرف نہیں دیکھنا پڑتا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے صوبائی حکومتوں کیساتھ معاملات اُٹھائے جانے سے بظاہر یہ امید پیدا ہورہی ہے کہ کہ ان صوبوں میں جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

  • مولانا غلام رسول مہر  صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات

    مولانا غلام رسول مہر صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات

    تشنہ لب بر ساحل دریا ز غیرت جاں دہم
    گربہ موج افتد گمان چین پیشانی مرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا غلام رسول مہر صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کے نامور ادیب، صحافی، مورخ اور مترجم مولانا غلام رسول مہر 15 اپریل 1895ء کو جالندھر کے ایک گائوں پھول پور میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی پھر چند برس حیدرآباد (دکن) میں ملازمت کے بعد لاہور واپس چلے آئے اور تمام عمر اسی شہر میں بسر کی۔ مولانا غلام رسول مہر نے صحافت کا آغاز روزنامہ ” زمیندار” سے کیا پھر انہوں نے عبدالمجید سالک کے ساتھ مل کر روزنامہ انقلاب نکالا۔ اس اخبار سے وہ اس کی بندش 1949ء تک وابستہ رہے۔” انقلاب” کے بند ہوجانے کے بعد مولانا غلام رسول مہر نے پوری زندگی تصنیف و تالیف میں بسر کی۔ انہوں نے مذہب‘ سیاست‘ تہذیب‘ تمدن‘ ادب اور سیرت نگاری پر 100 سے زیادہ کتب یادگار چھوڑیں۔

    16 نومبر 1971ء کو اردو کے یہ بلند پایہ ادیب‘ صاحب طرز انشا پرداز‘ عظیم صحافی‘ صاحب فکر ، مورخ اور صاحب نظر نقاد مولانا غلام رسول مہر لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ مسلم ٹاؤن قبرستان لاہور میں آسودہ خاک ہیں ۔

  • 16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر وقار یونس 16 نومبر 1971 میں بورے والا ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ان کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 15 نومبر 1989ء کو بھارت کے خلاف ہوا۔اس کے 6 ماہ کے اندر اندر وہ سب سے زیادہ خوف اور دہشت پھیلانے والے فاسٹ بائولر بن گئے۔

    وسیم اکرم کے ساتھ ان کی جوڑی کرکٹ کی دنیا کی سب سے خوفناک جوڑی سمجھی جاتی تھی۔وقار یونس نے مجموعی طور پر87 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور 8788 رنز کے عوض 373 وکٹیں حاصل کیں ،۔ انہوں نے 262 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 2117 رنز کے عوض 416 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہے۔

    حکومت پاکستان نے وقار یونس کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کے اعزاز سے نوازا ہے۔

  • شعبدہ کاری — ریاض علی خٹک

    شعبدہ کاری — ریاض علی خٹک

    ترکی میں فوڈ سٹریٹ پر آئس کریم بیچنے والے فنکار سیلز مین ہوتے ہیں. آپ کی نظریں ان سے جیسے ہی چار ہوتی ہیں یہ آپ کو سودا بیچ دیتے ہیں. یہ مسکرائیں گے جواب میں آپ کو بھی مسکرانا پڑتا ہے. یہ پھر آپ کو بلائیں گے آپ کو جانا پڑ جاتا ہے. یہ آپ کو ایسے توجہ دیں گے جیسے باقی سب گاہک لیکن آپ ان کے دوست ہیں.

    اب دوستی مضبوط کرنے کیلئے ان کے ہاتھ میں ایک راڈ ہوتا ہے جس کے آگے فری سیمپل کا کپ لگا کر اور اپنے کرتب دکھا کر یہ آپ کو بار بار ہنسنے پر مجبور کریں گے. آپ سے یہ فری سیمپل کا کپ پکڑا نہ جائے گا. پھر وہ آپ کو چوائس دیں گے آپ اپنا فلیور بتائیں گے اور پوچھیں گے یہ کتنے کا ہے.؟ یہ آگے جھک کر بتائیں گے صرف آپ کیلئے 20 لیرا کا. آپ خوشی خوشی یہ آئس کریم لیں گے جو بعد میں آپ کو پتہ چلے گا 5 لیرا کی تھی.

    ترکی کے آئس کریم بیچنے والوں کا تو یہ کاروبار ہے. میں ان کی صلاحیت کا معترف ہوں. لیکن شیطان گناہ میں بھی اسی ترتیب سے ہمارے ساتھ یہی شعبدہ کاری کرتا ہے. وہ آپ کی پہلے نظر یا فوکس پکڑتا ہے گناہ سے آپ کا تعلق بناتا ہے. آپ کو یہ لگتا ہی نہیں گناہ آپ سے کرایا جارہا ہے بلکہ آپ گناہ کرنے کیلئے خود کو باقاعدہ راضی کرنے لگتے ہیں. آپ کبھی آگے کبھی پیچھے کی کشمکش میں ہوتے ہیں. اور پھر آپ قائل ہو جاتے ہیں. وہ آپ کو اپنا سودا بیچ دیتا ہے. وہ سودا جس کے خسارے کا آپ کو بعد میں پتہ چلتا ہے.

    اس لئے قرآن کہتا ہے اپنی نظریں نیچے رکھو. قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ یعنی آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں.

  • جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا!!! — ابوبکر قدوسی

    جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا!!! — ابوبکر قدوسی

    اللہ تعالیٰ ہمارے دوستوں کی "فرصت” میں برکت دے کہ بیشتر اوقات گرمئی مجلس قائم رکھتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ” اشو ” کھڑا رہتا ہے ، تکلیف مگر اس امر کی ہے کہ انتہائی ذمے دار اور باصلاحیت احبابِ علم جب ‘نان اشوز” کو "اشوز” بناتے ہیں ، تو دراصل یہ بھی قوم کی تربیت میں خرابی کی ایک صورت بن جاتی ہے ۔ اور نقصان اس کا یہ ہوتا ہے کہ قیمتی وقت اور صلاحیتیں ان امور میں ضائع ہوتی ہیں کہ جن سے ہزار گنا اہم معاملات ان صاحبانِ تحریر و تقریر کے منتظر رہتے رہتے تھک کر سو جاتے ہیں ۔

    اڑتے اڑتے آس کا پنچھی دور افق میں ڈوب گیا
    روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی

    احباب گرامی قدر ! یہ امر بذات خود افسوس ناک ہے کہ کل سے انتہائی قیمتی وقت اور صلاحیتیں راجہ ضیاء صاحب کی ایک ہال میں داخلے کی ویڈیو کی نذر ہو رہی ہیں ۔میں نے کل دو دو جملوں پر مشتمل اگرچہ مزاحیہ انداز میں پوسٹ کیں تو اس کا مقصود بھہ یہی تھا کہ دوستو ! یہ معاملہ محض اس قدر توجہ طلب ہے کہ آدھ جملے میں بات ختم کی جائے ، لیکن احباب جب تک طول شب ہجراں ماپ نہ لیں اور محبوب کی زلف دراز تر کا آخری سرا دریافت نہ کر لیں ، کب چین پاتے ہیں ۔ میں تو پھر کہتا ہوں کہ بھائی سب فرصت کی باتیں ہیں ۔

    میرے مولا مجھے صاحب جنوں کر

    اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ کیا راجہ صاحب کا عمل درست ہے ؟ تو عرض ہے کہ داعی کا بلاشبہ ایک مقام ہوتا ہے اور ایک وقار ہوتا ہے ، میں خود کبھی اس انداز کو اختیار نہ کروں جو انہوں نے کیا ہے ۔

    لیکن !

    اگر کر لیا تو شریعت کے حلال و حرام کے کس ضابطے کی نفی ہو گئی تھی کہ ہمارے معزز دوست دن بھر اس پر طویل مضمون نگاری کرتے رہے ۔

    مجھے ہرگز آپ احباب کی نیت پر شبہ نہیں ، بلاشک آپ نے دعوت دین کے وقار کی خاطر یہ سب لکھا لیکن ایسا ہی ہے کہ ڈاکٹر کہے کہ
    "مریض کو پینا ڈول کی ایک گولی دے دیجیے”

    اب گھر کے اگر گیارہ افراد ہیں تو ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی پینا ڈول دینا فرض جان کر یہ ” خدمت ” سرانجام دے رہا ہے ۔ مریض نے خاک صحت مند ہونا ہے ۔

    میرے بھائی ! لباس ، سواری ، اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا انسانی کا ذاتی اختیار ہے ، پابندی صرف حلال و حرام امور کی کی جائے گی ۔ حلال کے دائرے میں اچھے برے کی تحدید ہر بندے کا اپنا اختیار ہے ۔

    مجھے یاد ہے کہ حضرت حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری رحمہ اللہ تہہ بند پہنا کرتے تھے ، جب علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ کا حادثہ ہوا لارنس روڈ کی انتظامیہ نے چاہا کہ کچھ عرصہ آپ وہاں خطبہء جمعہ ارشاد فرمائیں ، اور تہہ بند کی جگہ شلوار پہن لیں ۔۔۔۔ ان کو منانا ایک مشکل مرحلہ تھا اور خود ان کے لیے بھی بہت مشکل تھا ان کو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ جینز پہن کر جمعہ پڑھا رہے ہیں ۔۔۔۔
    جبکہ اگر وہ تہہ بند پہن کر آتے تو شائد وہاں حاضرین کو کچھ عجیب لگتا ۔۔۔جبکہ فرق صرف حاضرین کی سوچ کا تھا ۔۔۔۔۔۔
    اب جس ماحول میں انہوں نے اپنی ہیوی بائیک سیدھی ہال کے اندر لا کھڑی کی وہاں یہ کچھ عجیب نہیں تھا بلکہ سب نے گرمجوشی سے استقبال کیا ، جبکہ اسی ہال میں اگر ہمارے کوئی بزرگ تہہ بند پہن کر چکے جاتے تو ہورے ہال میں چہ میگوئیاں شروع ہو جانی تھیں ۔۔۔۔ اسی طرح عجیب و غریب لگنا تھا جیسے آج آپ کو عجیب لگ رہا ہے ، اور عین ممکن تھا کہ کوئی جدید ترین داعی تب ادھر کہتا کہ یہ داعی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ تہہ بند پہن کر بیکن ہاؤس ، لمز ،ایل جی ایس ، اور نسٹ کے طلبہ کو خطاب کرنے چلا آئے ۔۔۔۔۔
    سو احباب :

    ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ نان اشوز کو اشوز نہ بنایا کیجیے ، حقیقی مسائل آپ کی راہ تکتے تکتے سو جاتے ہیں اور آپ کو ان غیر حقیقی مسائل سے فرصت نہیں ملتی ۔۔۔۔

    اور آخری بات۔۔۔۔یہ لوگ اس میدان میں کام کر رہے ہیں کہ جہاں کوئی آپ کی بات سنتا بھی نہیں ہے ، جس روز آپ اس میدان میں یوں جا نکلیں گے کہ آپ کو سنا جائے ، لوگ روایت سے جڑے اہل علم کی بات سنیں اور سمجھیں تو یقین کیجیے تب ہم ضرور ان ” ماڈرن داعیوں ” کی اسی طور ” اصلاح ” میں آپ کے قدم بقدم ہوں گے ۔۔۔

    لیکن بصد افسوس کہ آپ کی جماعتوں کے ایجنڈے اور سوچ و فکر کے دائرے میں وہ طبقات تو آتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔پھر ایسی تنقید تو وہی ہو گی کہ ” کھیلنا ہے نہ کھیلنے دینا ہے” ۔

    ذرا کوئی صاحب مجھے بتائیں کہ کبھی کسی مذہبی جماعت کی عاملہ کے اجلاس میں نوجوان طبقے میں پھیلتے الحاد بارے فکرمندی ایجنڈے کا حصہ بنی ؟

    نوجوانوں کے فکری انتشار پر کوئی لائحہ عمل طے کیا گیا ؟

    سیکولرزم کی یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی صورت زیر بحث آئی ؟

    اگر کسی جماعت اجلاس میں ایسا کچھ ایجنڈے پر آیا تو ہمیں بھی بتائیے گا ۔

    اور یہ بھی جان لیجیے کہ جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ دوسروں سے کام لے لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔لمحہ فکریہ تو آپ کے لیے ہے کہ یہ کام آپ کیوں نہ کر پائے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

  • میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    امین پونے والا اور شردھا والکر (ہندو) ممبئی میں ملے۔۔۔نزدیکیاں بڑھیں۔۔شردھا اپنے والدین کی ناراضی کی پرواہ کیے بنا امین کے ساتھ دہلی لیو ان ریلیشن میں آ گئیں۔۔شردھا کی جانب سے شادی کے دباؤ کے بعد لڑائیاں ہونے لگیں۔۔امین نے شردھا کو قتل کیا اور اسکے جسم کے 35 ٹکرے کر کے فریج میں محفوظ کرنے کے بعد مرحلہ وار دہلی کی مختلف علاقوں میں پھینک دیے۔۔۔امین کا تعلق مزید لڑکیوں سے بتایا بھی بتایا جا رہا ہے۔۔۔یہ سب معلومات امین کی گرفتاری کے بعد پولیس کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔۔۔

    یہ کیس ایک بنیادی معاشرتی مسئلے کا نتیجہ ہے۔۔امین کردار سے عاری انسان ہے جس میں اسکا مذہب ثانوی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔دوسری جانب شردھا کا کسی نوجوان لڑکی کی طرح صرف "محبت” کی خاطر سب کشتیاں جلا دینا اس میں بھی مذہب مدعا نہیں ہے۔۔۔۔

    امین کو پارسی مذہب سے تعلق رکھنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔۔لیکن درج ایف آئی آر میں بطور مسلمان نامزد کیا گیا ہے۔۔۔۔اہم یہ ہے کہ کرمینل ذہنیت کے حامل افراد مذہب کے تناظر میں جرم نہیں کرتے ہیں۔۔۔امین اگر اچھا مسلمان ہوتا تو کیا کسی غیر مسلمان خاتون کی والدین کے خلاف جانے پر حوصلہ افزائی کرتا۔۔۔کیا بنا نکاح تعلقات قائم کرتا۔۔۔کیا نکاح سے پہلے مسلمان یا اہل کتاب عورت کی شرط کا خیال نہ رکھتا۔۔؟؟یقیناً نہیں امین کا کردار بتاتا ہے کہ اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔

    لیکن اس جرم کو "مسلمان” اور "دین” سے جوڑ دیا گیا ہے۔۔سوشل ,پرنٹ اور الیکٹرونک بھارتی میڈیا پر ہندو انتہا پسند لابی "میرا عبدل ایسا نہیں ہے” یعنی ہر عبدل(مسلمان) نوجوان ایک جیسا ہے اور "لو جہاد” یعنی محبت کے نام پر ہندو لڑکیوں کو ٹریپ کرنا جہاد ہے ٹرینڈ چلا رہی ہے۔۔۔بنیادی طور پر لفظ "عبداللہ” پر ہی اٹیک کیا گیا جسے کچھ لبادے میں رکھنے کو عبدل کر دیا گیا ہے۔۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے روزانہ ہزاروں کیسز درج ہوتے ہیں کیا سب کی بنیاد مذہب ہے۔۔۔دہلی ریپ کیس کے ملزمان مسلمان تھے کیا۔۔۔دلت لڑکیوں کو اٹھا کر زیادتی کے بعد درختوں پر لٹکانے والے اونچی ذات کے ہندوؤں کے جرائم کے بعد "رام” یا "ارجن” کو طنز کا نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا ہے۔۔۔؟

    دین, عبداللہ,جہاد اور مسلمان پر طنز و تضحیک بارڈر پار میرے لیے تکلیف کا باعث ہے کیونکہ کسی شخص کے انفرادی جرم کو اللہ اور دین سے جوڑا جا رہا ہے۔۔۔وہ بھارتی نمایاں مسلمان شخصیات جوکہ اپنے "دیش بھگت” ہونے ثبوت پاکستان سے الجھ کر دیتے ہیں۔۔کیا "دین بھگت” ہونے کا ثبوت بھی باطل سے الجھ کر دیں گے۔۔؟ اور کب دیں گے۔۔۔ہمیں تو ہر معاملے میں اپنی تعداد بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانیوں سے زیادہ ہیں۔۔۔باطل قوتوں کو کب بتائیں گے۔۔۔۔؟

  • آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد ایک بہت دلچسپ واقعہ ہونا ہے ، یہ واقعہ ایک مرتبہ ٹھیک آج کے دن یعنی 13 نومبر 1833ء میں بھی ہوا تھا ، تب اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر امیرکہ کے ریڈ انڈین قبیلوں میں سے ایک لڑاکے قبیلے cheyenne نے آس پاس کے قبائل سے صلح کر لی تھی ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد ایک دوسرے ریڈ انڈین قبیلے lakota نے اپنے سالانہ کیلنڈر کا آغاز کر لیا تھا ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد کچھ عیسائی پادریوں نے تو اپنی ڈائری میں یہاں تک لکھ لیا تھا کہ اب بس ہم کسی بھی دن حضرت عیسیٰؑ کو دوبارہ آتے ہوئے دیکھیں گے ۔

    لیکن ایک بات کو تقریباً ہر شخص نے محسوس کیا تھا کہ شاید ، یہ قیامت کی پہلی رات ہے ۔

    اس رات انہوں نے آسمان سے ایک لاکھ ٹوٹتے ہوئے تاروں کی بارش ہوتے دیکھی تھی ۔

    یہ واقعہ اس لیے ہوا تھا کیونکہ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے ایک بہت ہی خاص جگہ سے گزری تھی ، ایک دمدار ستارے کی ٹوٹ کر بکھرتی ہوئی دم کے راستے سے … اور وہاں سے گزرتے ہوئے جب ہماری زمین نے ان ٹوٹے ٹکڑوں کو تیزی کے ساتھ اپنی طرف کھینچا تو دیکھنے والوں کو یوں لگا کہ جیسے لاکھوں تارے ٹوٹ کر زمین پر گر رہے ہوں اور یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے شہابیوں کا طوفان کہلاتا ہے ۔

    میں آپ کو اٹھارہویں صدی کے اخبارات کی کچھ اوریجنل ڈرائینگز دکھا دیتا ہوں جس میں انہوں نے اس رات کا منظر اس طرح بنایا ہے جیسا انہوں نے خود دیکھا تھا ۔

    پانچ دن بعد یعنی 19 نومبر کو ہماری زمین نے ایک مرتبہ پھر اسی جگہ سے گزرنا ہے ۔

    اس بار تو شاید 1833ء کی طرح لاکھوں تارے ٹوٹتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے کیوں کہ اس مرتبہ وہ دمدار ستارہ ہماری زمین سے تھوڑا سا دور ہو کر گزرا ہے ۔

    لیکن چند سال بعد اس دمدار ستارے نے ایک بار پھر ہماری زمین کے قریب سے گزرنا ہے اور اگر اللہ نے زندگی دی تو تب … ایک اور رات ایسی آنی ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر ، شہابیوں کاطوفان برپا ہو گا ۔

    شہابیوں کا ذکر قرآن پاک میں کئی مرتبہ ہے اور چالیس ہزار سالوں کی سیریز کے دسویں چیپٹر کے اندر میں آپ کو ان کے متعلق ان شاء اللہ کچھ حیران کن باتیں بتانے والا ہوں ، انفیکٹ … میں آپ کو دو ایسے شہروں کے داستان سناؤں گا جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کروڑوں شہابیئے بھیجے تھے ۔

    اور اس وقت انہوں نے کیا محسوس کیا ہوگا ؟

    اس کی حرف بہ حرف ڈسکرپشن چائنہ کے ایک قدیم دستاویز

    ’’آسمان میں پیش آنے والے تمام واقعات‘‘

    میں لکھے ہوئے ایک similar واقعے کے ذریعے کروڑوں شہابیوں والی رات کا واقعہ آپ کے سامنے رکھوں گا ۔

    ان شاء اللہ وہ سب اپنے وقت پر ، لیکن پانچ دن بعد ، کوشش کیجیئے گا کہ شہر کی light pollution سے دور جا کر اس دمدار ستارے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو زمین پر گرنے کے breath-taking منظر کو ضرور دیکھیئے گا ۔

  • ٹی20 ورلڈکپ فائنل؛ بھارتی صحافی بھی پاکستانی بولنگ کے گرویدہ نکلے

    ٹی20 ورلڈکپ فائنل؛ بھارتی صحافی بھی پاکستانی بولنگ کے گرویدہ نکلے

    ٹی20 ورلڈکپ فائنل؛ بھارتی صحافی بھی پاکستانی بولنگ کے گرویدہ ہوگئے.
    میلبرن میں ٹی20 ورلڈکپ فائنل کے بعد پاکستانی شائقین کرکٹ نے بھارتی جرنلسٹ وکرانت گپتا کو گھیر لیا۔ ٹی20 ورلڈکپ فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستانی شائقین کرکٹ نے اسٹیڈیم کے باہر بھارتی اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا گھیر لیا اور کچھ دلچسپ سوالات کیے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صحافی وکرانت گپتا شائقین کرکٹ کے سوالات کا جواب دے رہے ہیں جبکہ فائنل میں پاکستانی بالنگ لائن کی بھی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں۔


    انہوں نے کہا کہ ایونٹ میں پاکستانی بالرز نے ٹاپ پرفارمنس دی جس کی وجہ سے قومی ٹیم فائنل میں پہنچ سکی، وکرانت نے بتایا کہ سال 2003 کے ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم کو آسٹریلیا سے شکست ہوئی اسکے بعد ٹیم میں تبدیلیاں ہوئیں اور پھر وہی ٹیم 8 سال بعد چیمپیئن بننے میں کامیاب ہوئی۔ بھارتی صحافی نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم ورلڈکپ میں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، جب یہ ٹیم تجربہ حاصل کرے گی تو چیمپیئن بنے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ سیالکوٹ کے بنے فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوں گے
    سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتیں؛ غریب کیلئے شادی اب ایک خواب بن گئی
    سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ آئی ٹی اور کمیونیکیشن میں تعاون کا عزم
    واضح رہے ٹی 20 ورلڈ کپ 2022 کا فائنل پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان میلبرن میں کھیلا گیا تھا جس میں پاکستان ہار گیا تھا. جبکہ فائنل ہارنے کے باوجود پاکستان کو 8 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم ملی. انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2022 میں شامل ٹیموں کے لئے نقد انعامات کا اعلان کیا تھا۔ آئی سی سی کے مطابق فائنل کی فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالر (35 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) ملے۔

  • واٹس ایپ  کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا

    واٹس ایپ کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا

    واٹس ایپ کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا۔

    واٹس ایپ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیٹنگ ایپس میں سے ایک رہی ہے۔ اسے روزانہ لاکھوں صارفین استعمال کرتے ہیں۔ واٹس ایپ اپنے صارفین کی آسانی کے لیے وقتاًفوقتاً نئے فیچرز سامنے لاتا رہتا ہے۔ واٹس ایپ کے ٹیب بار میں صارفین کو دو نئے آئیکن دکھائی دے رہے ہیں ۔ صارفین کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہے ہیں کہ یہ آئیکن کن فیچرز کے لیے ہیں اور ان کا کیا مقصد ہے۔

    حال ہی میں متعارف کروایا گیا کمیونٹیز فیچر اب پاکستان اور اس کے ارد گرد کے خطے میں بھی صارفین کو مہیا کر دیا گیا ہے۔ واٹس ایپ میں ٹیب بار کے اوپر بائیں کونے میں تین لوگوں کا آئیکن دکھایا گیا ۔ اسکو کلک کرتے ہی آپ کمیونٹیز میں شامل گروپس اور چیٹس کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہی فیچر ڈسک ٹاپ پر بھی دستیاب ہے۔ کمیونٹیز فیچرز کے تحت متعدد گروپس کو ایک ہی باکس میں شامل کیا جا سکتا ہے اور گروپ ایڈمن سمیت صارفین ایک ہی باکس میں جاکر معلومات حاصل کرنے سمیت معلومات کو منتقل بھی کر سکتے ہیں۔

    کمیونٹیز فیچرز کے تحت کوئی بھی ایڈمن ایک جیسے متعدد گروپ ایک ساتھ ایڈ کر سکتا ہے اور وہ ایک ہی چیٹ سے تمام گروپس میں میسج بھی بھیج سکتا ہے۔ واٹس ایپ میں ٹیب بار میں نظر آنے والا کیمرے کا آئیکن بھی صارفین کے لیے نیا ہے۔ اس آئیکن کا کام تو پرانا ہے لیکن اسے ٹیب بار میں اوپر دائیں کونے میں سرچ بٹن کے ساتھ نئی جگہ دی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ سیالکوٹ کے بنے فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوں گے
    سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتیں؛ غریب کیلئے شادی اب ایک خواب بن گئی
    سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ آئی ٹی اور کمیونیکیشن میں تعاون کا عزم
    پہلے کی طرح ہی اس آئیکن پر کلک کر کے صارفین براہ راست کیمرے تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے بعد جسے چاہیں بھیج سکیں گے۔ اس سے قبل یہ آئیکن ٹیب بار میں بائیں جانب چیٹس کے ساتھ موجود تھا جہاں اب کمیونٹیز کے آئیکن کو جگہ دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس فیچر کو 3 نومبر کو دنیا بھر میں پیش کیا گیا تھا تاہم واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ اسے تمام صارفین تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

  • ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران ٹیم ڈاکٹر کو ڈریسنگ روم سے دور رکھا گیا. نجم سیٹھی کا دعویٰ

    ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران ٹیم ڈاکٹر کو ڈریسنگ روم سے دور رکھا گیا. نجم سیٹھی کا دعویٰ

    ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران ٹیم ڈاکٹر کو ڈریسنگ روم سے دور رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔

    ایک ٹی وی شو میں سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی اور فخرزمان کو انجریز تھیں، فزیو ان کا علاج نہیں کرسکتا، بورڈ کے سربراہ رمیز راجہ نے لندن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جاوید مغل کو اسکواڈ کے ساتھ بھیجا،مگر ورلڈکپ میں سینئر کرکٹرز، مینجمنٹ اور فزیو کلف ڈیکن کی ان کے ساتھ نہیں بنی،ڈاکٹر جاوید کو ایک طرف کرکے انجریز کا معاملہ فزیو کے سپرد کردیا گیا۔

    ڈاکٹر نے رمیز راجہ سے شکایت کی کہ میں ڈریسنگ روم میں بھی نہیں آسکتا، یہ ٹینشن ساتھ چل رہی تھی، ڈاکٹر شاید شاہین شاہ آفریدی کو نہ کھلانے کا فیصلہ کرتے،یہ کوئی پیشہ ورانہ رویہ نہیں ہے، اسٹار بولر کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا،اب شاید ان کو فٹ ہونے میں 2 سے 3ماہ لگ جائیں۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ ورلڈکپ سے قبل بھی پاکستان نے 3ایونٹس میں شرکت کی مگر مڈل آرڈر کے مسائل حل نہیں ہوئے،یہی شبہات رہتے کہ چلیں گے یا نہیں،تجربے کی کمی تھی،اس لیے صورتحال کو کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں تھا،اوپنرز فیل ہوئے تو لائن لگ گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ سیالکوٹ کے بنے فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوں گے
    سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتیں؛ غریب کیلئے شادی اب ایک خواب بن گئی
    سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ آئی ٹی اور کمیونیکیشن میں تعاون کا عزم
    انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کیخلاف سیمی فائنل میں بابر اعظم اور محمد رضوان نے اسکور کیا تو آسانی سے جیت گئے، فائنل میں اوپنرزنے پرفارم نہیں کیا تو مڈل آرڈر بھی ناکام ہوئی،کئی پلیئرز کو ساتھ لے کر گئے مگر کھلایا ہی نہیں۔ سابق بورڈ چیئرمین نے کہا کہ لگتا ہے کہ سفارش بھی چل رہی ہے،ٹیم سلیکشن میں مداخلت رہی،لوگوں کے فیورٹس تھے،ہدایات صرف پی سی بی کے اندر سے نہیں باہرسے بھی آرہی تھیں،مسائل کا حل تلاش نہ کیا گیا تو کارکردگی میں تسلسل نہیں آسکے گا۔