Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میرا اپووا،تحریر:ملک یعقوب اعوان

    میرا اپووا،تحریر:ملک یعقوب اعوان

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن،اپووا ایک تنظیم ہی نہیں ایک ادارہ ہے جس سے ہزاروں لوگ بلاواسطہ یا براہ راست جڑے ہوئے ہیں اور مستفید ہو رہے ہیں،اپووا اپنے احباب اور جڑے لوگوں کی عزت اور عزت نفس کا محافظ ہے اور الحمدللہ دن رات محنت لگن خلوص سے جانب منزل رواں دواں ہے اور اپنی صلاحیتوں اور نت نئے پروگرامز متعارف کروانے پہ اپنی مثال آپ ہے
    آزمائشوں اور تجربات سے گزر کر مذید پختہ ہوتا جا رہا ہے
    ایم ایم علی نے جو پودا لگایا تھا اج وہ پوری قدوقامت کے ساتھ کھڑا پھل دے رہا ہے
    کئی پھل گر کر پرندے کھا گئے کئی خشک ہو گئے مگر پودا اپنی جگہ پر قائم ہے
    ہمیشہ کی طرح نو نومبر کو بھی یوم اقبال پہ اپووا نے ایک منفرد اور بابرکت تقریب کا انعقاد کیا جس میں اپووا کے خیر خواہ اوربے لوث چاہنے والوں کا جم غفیر تھا لاکھوں کے نقد انعامات اور بکس تقسیم کی گئیں
    تمام ممبران نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
    میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ایم ایم علی اور اس ساری محفل کے روح رواں جناب پروفیسر ناصر بشیر صاحب حافظ زاہد صاحب اور سفیان فاروقی اور محترمہ پروفیسر سمیرا صاحبہ ماریہ خان،لاریب، حفضہ خالد ایمن سعید اور دیگر تمام معزز خواتین و حضرات کا جنہوں نے اس مقدس محفل میں حصہ لیا،اور شکر گزار ہوں ان تمام معزز مہمانان گرامی قدر کا جو شامل ہوئے،
    انشاءاللہ تعالیٰ اپووا اسی طرح کے شاندار پروگرام کر کے اپنی شناخت کو خوب سے خوب تر کی طرف لیجانے کی ڈگر پہ چلتا رہیگا انشاء اللّه
    اور مجھے فخر ہے کہ میں اپووا کا ایک کارکن ہوں،ایک بار پھر ایم ایم علی،جناب پروفیسر ناصر بشیر صاحب اور تمام اپووا کے محبت کرنے والوں خیر خواہوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد
    اور اگر کسی کا نام بھول گیا ہوں تو معذرت خواہ
    ہمارا نعرہ ہے کہ
    اپووا تھا
    اپووا ہے
    اپووا رہے گا
    انشاءاللہ تعالیٰ

  • اپووا کی تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت،  تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا کی تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت، تحریر:طارق نوید سندھو

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیراہتمام ایک نہایت بامعنی اور روح پرور تقریب، “عطائے ارمغانِ عقیدت”لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ایک ادبی نشست نہیں تھی بلکہ دلوں کی کیفیات، عشقِ رسول ﷺ کے رنگ اور قلم کی لطافتوں کا حسین امتزاج تھی۔یہ محفل اُن خوش نصیب اہلِ قلم کے نام تھی جنہوں نے اپووا کے تحت منعقدہ مراسلاتی مہم میں سرورِ کائنات ﷺ کے حضور خطوط تحریر کیے۔ ان خطوط میں کسی نے ندامت کے آنسو لفظوں میں سموئے، کسی نے عقیدت کے پھول نذر کیے، تو کسی نے اپنی زندگی کے مدعا کو آقائے دو جہاں ﷺ کے حضور بیان کیا۔ ہر خط اپنے اندر ایک داستانِ عشق، ایک نغمۂ محبت اور ایک پیامِ وفا سمیٹے ہوئے تھا۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا جس نے فضا کو معطر کردیا۔حافظ محمد زاہد نے تلاوت کی جبکہ حفصہ خالد نے نعت رسول مقبول پڑھی، اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے شرکا کو خوش آمدید کہاسینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان بھی محفل پرنور کی زینت بنے، ان کی گفتگو میں ادب کے فروغ اور عشقِ رسول ﷺ کی ترویج کا جوش نمایاں تھا۔تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی اور شریکِ محفل، مجھے بھی عزت و احترام سے نوازا گیا۔ اپووا کی پوری ٹیم کی محبت اور خلوص نے دل کو ممنون کر دیا۔ اس موقع پر جناب ایم ایم علی، ناصر بشیر و دیگر نے بھی خطاب کیا،

    اختتامی لمحات میں اُن تمام لکھنے والوں کو یادگاری اسناد اور ارمغانِ عقیدت سے نوازا گیا جنہوں نے اپنے خطوط کے ذریعے عشق و عقیدت کا حق ادا کیا۔ ان تحریروں میں وہ کیف و جذب تھا جو لفظوں سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے۔یہ تقریب دراصل ایک عہدِ نو کی بشارت تھی کہ جب لفظ عشق کے تابع ہوں اور قلم محبت کے رنگ میں تر ہو، تو ادب عبادت بن جاتا ہے۔ اپووا کی یہ کاوش یقیناً ادبی تاریخ میں محبتِ رسول ﷺ کے فروغ کی ایک روشن مثال بن کر یاد رکھی جائے گی۔

    جب قلم محبت کے چراغ جلائے،
    اور دل عقیدت کی روشنی میں بھیگ جائے،
    تو الفاظ محض حروف نہیں رہتے، وہ دعائیں بن جاتے ہیں۔
    “تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت” دراصل انہی دعاؤں کا سنگم تھی
    جہاں محبتِ رسول ﷺ نے ہر دل کو منور کیا،
    اور ہر قلم نے اپنی سیاہی کو نعت کی خوشبو سے معطر کر دیا۔

  • معیشت کا جنازہ ہے ذرہ دھوم سے نکلے،تحریر: علی ابن ِسلامت

    معیشت کا جنازہ ہے ذرہ دھوم سے نکلے،تحریر: علی ابن ِسلامت

    چھ اگست 2025 کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک کی بیورو کریسی کے متعلق انکشاف کیا تھا کہ آدھی سے زائد بیورو کریسی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے، دوسری جانب پاکستان کی وفاقی حکومت میں اس وقت اٹھاون وزارتیں اور لا تعداد مشیر کام کر رہے ہیں، یہ تعداد وقتاً فوقتاً کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں کبھی وزارتوں کو ضم بھی کر دیا جاتا ہے تو کبھی ناراض اراکین کو نکال دیا جاتا ہے، ان وزارتوں کے انڈر میں تقریباً چالیس سے زائد بڑے محکمے کام کرتے ہیں، بہت سے محکمے اور وزارتیں ایسی ہیں جو ہونی ہی نہیں چاہیے۔صرف لاہور شہر میں چھ جی او آر ہیں، جہاں مختلف سرکاری افسران کو رہائش فراہم کی جاتی ہے، بیوروکریسی کو ہر طرح کی سہولیات فراہم ہیں، ڈرائیور، کک، آفس بوائے، سب کچھ میسر لیکن کام زیرونظر آتا ہےیہ صرف پنجاب یا لاہور کا مسئلہ نہیں بلکہ سندھ ، کے پی، بلوچستان ، ہر جگہ مافیہ نے اداروں کو عیاشی کا اڈا بنایا ہوا ہے۔

    واسا ایک وسیع بجٹ لینے کے باوجود برسات میں پانی کی نکاسی کا انتظام نہیں کر سکتا، بیوروکریٹس جو سب کچھ اس ملک کا کھاتےجا رہے ہیں ، غریب عوام کے احساس تک نگل جاتےہیں، سہولیات ان کو نمبر ون چاہیے ہوتی ہیں ورنہ پریس کلب، سیکرٹریٹ یا مال روڈ پر احتجاج کروا دیا جاتا ہے، آئے دن پورا لاہور شہر بند کر دیا جاتا ۔ میں اگر چھوٹی سہولیات کی بھی بات کروں تو یہ اخراجات ملک کو کھا رہے ہیں، اگست دو ہزار چوبیس میں پنجاب حکومت کے صوبائی خزانے سے اسپیکر کیلئے اٹھارہ کروڑ کی پانچ گاڑیاں خریدی گئیں تھیں۔ جنوری دو ہزار پچیس میں صرف ایف بی آر نے حکومت کی گردن پر پاؤں رکھ کر چھ ارب روپے مالیت کی ایک ہزار دس گاڑیاں حاصل کیں، جن میں سے کچھ مل چکیں اور کچھ باقی ہیں، یہ وہی ادارہ ہے جو اپنا ٹیکس ہدف بھی پورا نہیں کر سکا، جس دن گاڑیاں خریدی گئیں اسی ادارے کو تین سو پچاسی ارب ٹیکس شارٹ فال کا سامنا تھا۔

    عمران خان کی حکومت کے بعد صرف ویگو ڈالے کی تین سو گاڑیاں روزانہ بک رہیں تھیں اگست دو ہزار چوبیس تک تین سال میں چار سو پچاس ارب روپے کی پینتیس ہزار گاڑیاں بک چکی تھیں، اگست دو ہزار چوبیس میں پتہ چلا کہ سندھ حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز کیلئے ایک سو اڑتیس لگژری گاڑیاں خریدنے کیلئے دو ارب روپے مانگے جبکہ اگلے مہینے یعنی ستمبر میں پتہ چلا کہ سندھ حکومت کے پاس اربوں روپےکی دو سو سے زائد فالتو گاڑیاں پہلے سے موجود ہیں جو بغیر مناسب دیکھ بھال یا استعمال کے کباڑ بن رہی تھیں ان میں سے آگ لگنے سے تیس سے زائد گاڑیاں جل گئیں تھیں۔ ستمبر دو ہزار چوبیس میں وفاقی وزراء کیلئے پچیس لگژری گاڑیاں خریدی گئیں حالانکہ پابندی لگی تھی،اس تمام عیاشی کے باوجود بیوروکریٹس حکومت اور عوام سے ناراض رہتےہیں ۔
    برطانیہ میں حکومت کے پاس جو سرکاری گاڑیاں ہیں ان کی کل تعداد پینتالیس ہے ،یعنی پینتالیس گاڑیوں کا ایک پول ہے جو تمام وزارتوں اور سرکاری دفاتر میں استعمال کیا جاتا ہے اور کوئی گاڑی کسی کے نام پر نہیں ہے ، دوسری طرف صرف صوبہ سندھ میں سرکاری گاڑیوں کی تعداداٹھارہ ہزار ہے اور پنجاب حکومت پچیس ہزار گاڑیوں کی مالک ہے۔ خیبرپختونخوا کی افسرشاہی سرکاری گاڑیوں پر سالانہ تقریباً سات ارب روپے کے تیل کی مفت سہولت لے رہی ہے ، پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے دو ہزار اکیس سے بائیس میں نئی گاڑیوں کی خریداری پر تین اعشاریہ دوارب روپے خرچ کئے۔سال دو ہزار بائیس سے تیئس کے میڈیا اعدادوشمار کیمطابق خیبرپختونخوا میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں سولہ ہزار ایک سو ایک سرکاری گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور دو ہزار سترہ کے بعد کے ماڈل کی چار ہزار نوسو دس نئی گاڑیاں رجسٹر ہوئیں،کے پی حکومت نے صرف سال دو ہزار اکیس سے بائیس کے دوران تقریباً چار ارب روپے ادا کیے ، یوں ایک سال کے دوران گاڑیوں کی مرمت پر ایک ارب بیس کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

    میں نے موٹا موٹا حساب نکالا وہ تقریباً چوبیس ارب اسی کروڑ سات لاکھ سے زائد رقم بنتی ہے، یعنی صرف ایک کے پی حکومت نے سال دو ہزار سترہ سے دو ہزار بائیس تک اربوں روپے عیاشی میں اڑا دئیے جو صرف گاڑیوں کی مد میں چلے گئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد حکومتی اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے جن کا ریکارڈ محکمہ ایکسائیز کے پاس موجود ہی نہیں یا پھر وہ اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہیں ۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق پنجاب کے حکومتی محکموں میں پچیس ہزار سے زائد گاڑیاں ایسی ہیں جو ٹوکن ٹیکس کے زمرے میں آتی ہیں۔ جن میں سے سترہ ہزار دو سو تہتر گاڑیاں اس وقت محکمہ ایکسائز کی ڈیفالٹر لسٹ میں شامل ہیں۔یعنی پنجاب حکومت کے پاس پچیس ہزار سرکاری گاڑیاں موجودہیں اور ستر فیصد سے زائد گاڑیوں کا ٹیکس ہی نہیں ادا ہوا، اور یہ پچھلے سال کی بات ہے جس پر پنجاب حکومت نے اب جا کر ایکشن لینا شروع کیا تھا۔

    ملک میں تین کروڑ سے زائد گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، اور صرف پنجاب میں پچاس فیصد سے زائد گاڑیاں ٹیکس ڈیفالٹر ہیں، نا جانے یہ کون لوگ استعمال کرتے ہیں، ستمبر دو ہزار چوبیس میں حکومت کا وی آئی پیز کیلئے اناسی گاڑیاں خریدنے کا منصوبہ سامنے آیا تھا جن کی قیمت اکسٹھ کروڑ سے زائد تھی، اور بارہ بلٹ پروف گاڑیاں وزیراعظم کیلئے تھیں، پھر یہ خریدی بھی گئیں، وفاقی وزیر قانون کیمطابق ایک وزیر کو تنخواہ کہ علاوہ سہولیات میں پندرہ سو سی سی گاڑی اور چار سو لیٹر پیٹرول ملتا ہے، پچھلے مہینے وزراء کی تنخواہیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔

    حیران کن طور پر اس وقت اراکینِ پارلیمان کی صرف تنخواہوں کا مجموعی حجم پینتیس ارب چون کروڑ ستر لاکھ روپے ماہانہ ہے ۔ ہاؤس رینٹ، گاڑی، گھر کے بل، ٹکٹ، بیرون ملک دورے اور رہائش اس میں اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر، وزرا، وزرائے اعلیٰ، گورنرز، وزیر اعظم، صدر کی تنخواہیں شامل نہیں ہیں۔مختلف اجلاسوں کے اخراجات اور بونس ملا کرسالانہ خرچ پچاسی ارب روپے کے قریب پہنچ جاتا ہے اور اکثر یہ لوگ خود ٹیکس نہیں دیتے۔ ریٹائرڈ افسرجوغیر ممالک میں اپنی مرضی سے مقیم ہیں انھیں ڈالر اور یورو میں پنشن ادا کی جارہی ہے۔ وزارت خارجہ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایسے پنشنرز کی تعداد ایک سو چونسٹھ کے قریب ہے جنھیں غیر ملکی کرنسی میں ہر ماہ پنشن ادا کی جاتی ہے، جس کی مالیت دو سو ملین روپے کے قریب ہے۔

    در اصل یہ حقائق کبھی سامنے نہیں آتے مگر آئین میں کی گئی اٹھارویں ویں ترمیم کی شق نائینٹین ۔اےکے عوام کو یہ حقائق جاننے کا موقع مل گیا تھا، افسوس یہ ہے کہ معیشت کا جنازہ یہ اشرافیہ دھوم سے نکالنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ جہاں عوام روٹی، پانی سے محروم ہے وہاں اپنے حقوق جاننے کا حق کون دے گا؟

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • آئینی ترامیم اور اختیارات کی کشمکش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترامیم اور اختیارات کی کشمکش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کے چند ممالک ایسے ہیں جن کے جمہوری ڈھانچے آئینی تحفظات اور سول آزادیوں کی روشنی میں انہیں بہترین جمہوری ممالک کے طور پر اکثر سراہا جاتا ہے۔ ناروے، سویڈن، ڈنمارک، یورپی ممالک سمیت امریکہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، فرانس، سوئٹزرلینڈ وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان نے 1947 کے بعد انڈیا ایکٹ 1935 عارضی آئین کے طور پر اپنایا۔ 1956 میں پہلا تحریری آئین آیا لیکن 1958 میں مارشل لگا اور آئین منسوخ کر دیا گیا۔ 1962 میں جنرل ایوب خان نے نیا آئین دیا جو صدارتی نظام پر مبنی تھا۔ پھر ممتاز عوامی لیڈر مسٹر بھٹو نے پارلیمانی جمہوری آئین بنایا جس کو 73 کا آئین کہا جاتا ہے۔ یہ آئین ایک پارٹی کا نہیں بلکہ تمام جماعتوں کا مشترکہ معاہدہ تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، مسلم لیگ، نیشنل عوامی پارٹی، جمعیت علمائے پاکستان، جے یو پی، ان سب نے مل کر 1973 کے آئین پر دستخط کیے۔ پھر 1977 اور 1988 ضیاء الحق مرحوم کے دور میں 1985 کو آٹھویں ترمیم کی گئی صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیا گیا آرٹیکل 58 ٹو بی پھر آئین کا توازن بگڑ گیا۔ پھر محترمہ بینطیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے ادوار 1988 ،تا 1999 میں سیاسی کشمکش کے باعث پارلیمانی نظام کمزور رہا صدر کا استعمال بار بار ہوا۔ پھر جنرل مشرف مرحوم کے دور 1999 میں 2008 ، 17ویں ترمیم 2003 صدارتی اختیارات بحال کیے گئے۔ پھر جمہوریت کی بحالی کے بعد اٹھارویں ترمیم 2010 صوبائی خود مختاری بحال کی گئی۔ صدر کے اختیارات کم اور پارلیمنٹ کے زیادہ، جنرل ضیاء الحق مرحوم اور مشرف مرحوم کے ادوار میں کی گئی تبدیلیوں کا توازن درست کیا گیا۔

    1973 کا عظیم آئین درجنوں ترامیم کی وجہ سے اس کا اصل ڈھانچہ پیچیدہ ہو گیا۔ تاہم اس آئین کے بنیادی اصول اسلام، وفاق، جمہوریت، آزادی، مساوات، سماجی انصاف اب بھی وہی ہیں جو 1973 کے آئین میں طے ہوئے تھے۔ 1973 کا آئین دراصل پاکستان کی قوم، سیاست اور مذہب کے درمیان ایک تاریخی مفاہمت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آئیں مگر اس آئین کی روح اب بھی اتحاد اور جمہوریت کی علامت ہے۔ اب ایک بار پھر 26ویں آئینی ترمیم کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پر بحث جاری ہے۔ پیپلزپارٹی نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ صوبائی خود مختاری پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔ اس شق کے حق میں ووٹ نہیں دیا جائے گا دوسری کئی شقوں کے علاوہ مجسٹریٹی نظام کو بھی ووٹ نہیں دیا جائے گا۔ مجسٹریٹی نظام دراصل نوآبادیاتی دور کی ایک انتظامی وراثت ہے۔ جب انتظامیہ ہی عدلیہ کا کردار ادا کرے تو انصاف غیر جانبدار نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر ایک ہی انتظامی افسر پولیس کی تفتیش کی نگرانی بھی کرے اور سزا بھی دے تو انصاف کیسے غیر جانبدار ہوگا؟ آئینی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 175 عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کرتا ہے۔ مجسٹریٹی نظام میں عوامی نمائندے کمزور اور بیوروکریسی طاقتور ہو جاتی ہے بہتر راستہ یہ ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ کی مکمل علیحدگی برقرار رکھی جائے۔ جوڈیشل نظام کو مضبوط کیا جائے نہ کہ انتظامیہ کو عدالتی کردار دیا جائے۔ پیپلز پارٹی آرٹیکل 243 کی حمایت کرے گی۔ پارلیمنٹ میں جو موجود ارکان اسمبلی یاد رکھیں جمہوریت کی بنیاد صرف پارلیمنٹ، قانون یا اقتدار نہیں بلکہ وہ اعتماد اور خدمت ہے جو عوام اور ان کے نمائندوں کے درمیان قائم ہو۔ عوام کے بنیادی مسائل روزگار، تعلیم، صحت، انصاف پر توجہ دے۔ اگر پارلیمنٹ صرف اقتدار کی سیاست میں مصروف رہے اور عوامی مشکلات نظر انداز ہوں تو جمہوریت ایک نظام نہیں بلکہ ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

  • سر میں خشکی،تیل مفید ہے یا نہیں؟ماہرین کی رائے

    سر میں خشکی،تیل مفید ہے یا نہیں؟ماہرین کی رائے

    دنیا بھر میں سب سے عام مگر پریشان کن مسئلوں میں سے ایک “خشکی” یا “ڈینڈرف” ہے، وہ سفید ذرات جو کندھوں پر گر کر شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے یہ وقتی مسئلہ ہوتا ہے، جبکہ کئی افراد کے لیے یہ برسوں جاری رہنے والی کیفیت بن جاتی ہے جس پر کوئی بھی “اینٹی ڈینڈرف شیمپو” کارگر ثابت نہیں ہوتا۔

    ماہرینِ امراضِ جلد کے مطابق خشکی صرف صفائی یا بالوں کی خشکی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طبی حالت ہے جس کے کئی اسباب ہیں۔ طبّی زبان میں اسے Seborrheic Dermatitis یا ہلکے درجے میں Pityriasis Capitis کہا جاتا ہے۔ جرنل آف کلینیکل اینڈ انویسٹی گیٹو ڈرمیٹولوجی (2019) کے مطابق، دنیا کی بالغ آبادی میں سے تقریباً 50 فیصد افراد کسی نہ کسی درجے کی خشکی کا شکار ہیں۔بھارت اور برصغیر کے دیگر ممالک میں جہاں نمی، آلودگی اور بالوں میں تیل لگانے کا رواج عام ہے، وہاں ماہرین کہتے ہیں کہ خشکی عموماً سردیوں اور برسات کے بعد کے مہینوں میں بڑھ جاتی ہے۔عام تاثر کے برعکس خشکی کا تعلق “میل کچیل” یا صفائی کی کمی سے نہیں ہے۔یہ ایک خوردبینی فنگس Malassezia globosa کی زیادتی سے پیدا ہوتی ہے، جو سر کی جلد کے قدرتی تیل (Sebum) پر پرورش پاتی ہے۔یہ فنگس ان تیلوں کو توڑ کر Oleic Acid پیدا کرتی ہے جو بعض افراد کی جلد کو جلا دیتا ہے، نتیجتاً خارش، سرخی اور سفید ذرات پیدا ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق خشکی اچانک نہیں آتی۔ذہنی دباؤ (Stress) اور ہارمونل تبدیلیاں تیل کی پیداوار بڑھا دیتی ہیں، جو فنگس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔اسی وجہ سے نوجوانوں اور بلوغت کے دوران یہ مسئلہ زیادہ عام ہے۔سرد، خشک موسم سر کی جلد کو ڈی ہائیڈریٹ کر دیتا ہے جبکہ گرم، مرطوب موسم میں پسینہ اور تیل دونوں بڑھ جاتے ہیں، جس سے فنگس تیزی سے پھیلتی ہے۔تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ مرطوب یا آلودہ شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کو مستقل خشکی زیادہ ہوتی ہے۔

    بھارت اور پاکستان میں بالوں میں تیل لگانے کی روایت صدیوں پرانی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ ہر کسی کے لیے مفید نہیں۔بھاری تیل جیسے ناریل یا سرسوں کا تیل اگر خشکی والے سر پر لگایا جائے تو یہ فنگس کو خوراک فراہم کرتا ہے، جس سے خارش اور سوزش بڑھ جاتی ہے۔ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ ہلکے وزن والے، دوائی دار یا اینٹی فنگل تیل،سیریم استعمال کریں اور رات بھر تیل لگا کر نہ چھوڑیں کیونکہ یہ گرمی اور نمی کو بند کر کے فنگس کو بڑھاتا ہے۔

    جرنل آف کاسمیٹک ڈرمیٹولوجی (2022) کے مطابق، دو مختلف اجزاء والے شیمپوؤں کو باری باری استعمال کرنے سے فنگس مزاحمت نہیں کرتی اور بہتر نتائج ملتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق علاج میں تسلسل ضروری ہے۔اکثر دوائی دار شیمپوؤں کو 4 تا 6 ہفتے تک ہفتے میں 2-3 مرتبہ استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ نمایاں بہتری آئے۔

    حالیہ تحقیق کے مطابق، خشکی کا تعلق صرف بیرونی عوامل سے نہیں بلکہ جسم کے اندرونی توازن سے بھی ہے۔Frontiers in Microbiology (2020) میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق، جن افراد کو دائمی خشکی ہوتی ہے، ان کے آنتوں کے بیکٹیریا میں تنوع کم اور جسم میں سوزش کے آثار زیادہ پائے گئے۔ ذہنی دباؤ پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔ یوگا، ورزش اور نیند کی کمی دور کرنے سے ہارمونل توازن بہتر ہوتا ہے۔

    اگر خشکی کے ساتھ سرخی کانوں، بھنوؤں یا سینے تک پھیل جائے تو یہ عام خشکی نہیں بلکہ Seborrheic Dermatitis ہو سکتا ہے۔اسی طرح اگر موٹی تہیں یا شدید خارش ہو تو یہ Psoriasis یا Eczema کی علامت بھی ہو سکتی ہے، جس کے لیے خود علاج کے بجائے ماہرِ جلد سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ گھریلو ٹوٹکوں پر اندھا دھند انحصار، یا ضرورت سے زیادہ تیل لگانا فائدے کے بجائے نقصان دیتا ہے۔

  • قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران متعدد مواقع پر یہ دعوی کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کروانے یا جنگ بندی میں کردار ادا کیا ہے۔ ایسے بیانات سے وقتی طور پر عالمی توجہ ضرور حاصل ہو جاتی ہے مگر خطے کے دیرینہ اور اصل مسلے یعنی کشمیر پر امریکی پالیسی ہمیشہ خاموش اور مبہم رہی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تر تناؤ، سرحدی جھڑپوں اور بداعتمادی کی جڑ مسلہ کشمیر ہے۔ جب تک اس تنازع کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں میں واضح طور پر تسلیم شدہ ہے۔ امریکہ اگر واقعی خطے میں امن کا خواہاں ہے تو اسے محض جنگ بندی کروانے یا کشیدگی کم کروانے کے بیانات سے آگے بڑھ کر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے عملی اور غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

    طاقتور ممالک کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ وقتی بحرانوں کو سنبھالیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ انصاف پر مبنی پالیسی اختیار کریں تاکہ تنازعات کی جڑیں ختم ہو سکیں۔ پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور امن کی بات کرتا رہا ہے مگر بھارت کی ہٹ دھرمی اور عالمی برادری کی سرد مہری کے باعث یہ مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ نتیجتا لائن آف کنٹرول پر وقفے وقفے سے کشیدگی بڑھ جاتی ہے قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور خطے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے۔ دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ امن صرف جنگ بندی سے نہیں بلکہ انصاف سے آتا ہے اور انصاف تب ہی ممکن ہے جب کشمیر کے عوام کو وہ حق دیا جائے جس کا وعدہ ان سے برسوں پہلے کیا گیا تھا۔

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑے چاندکے دلکش سپرنظارے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑے چاندکے دلکش سپرنظارے

    اسلام آباد (باغی ٹی وی ویب ڈیسک) پاکستان سمیت دنیا بھر میں بدھ کی رات رواں سال کا سب سے بڑا اور روشن سپر مون "بیور مون” آسمان پر جلوہ افروز ہوا، جس نے کروڑوں افراد کو مسحور کر دیا۔ کراچی، لاہور، ملتان، پشاور، اسلام آباد سمیت ملک بھر کے شہروں میں لوگ کھلے مقامات پر جمع ہو کر چاند کے اس دلکش سپرنظارے کے گواہ بنے اور موبائل کیمروں میں اسے محفوظ کیا۔

    سپارکو کے مطابق چاند زمین سے صرف 356,980 کلومیٹر دور تھا، جس کی وجہ سے وہ معمول سے 7.9 فیصد بڑا اور 16 فیصد زیادہ روشن نظر آیا۔ ماہرین فلکیات نے بتایا کہ سپر مون کا بہترین نظارہ چاند نکلنے کے فوراً بعد افق کے قریب ہوتا ہے۔
    The largest and brightest supermoon of 2025 rose worldwide, dubbed the Beaver Moon, as skies cleared over Australia, India, China and Germany
    یہ 2025 کا دوسرا سپر مون تھا۔ اس سے قبل 7 اکتوبر کو پہلا سپر مون دیکھا گیا تھا، جبکہ سال کا آخری سپر مون 4 دسمبر کو "کولڈ مون” کے نام سے نظر آئے گا۔

    ماہرین کے مطابق جب چاند اپنی بیضوی مدار میں زمین کے سب سے قریب آتا ہے تو اسے سپر مون کہا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں تصاویر و ویڈیوز وائرل ہوئیں، جن میں شہریوں نے اس نایاب منظر کو "زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ” قرار دیا۔

  • ووٹ وعدے اور فاصلے،تحریر: شاہد یوسف

    ووٹ وعدے اور فاصلے،تحریر: شاہد یوسف

    ہمارے معاشرے میں سیاست کا موسم جب آتا ہے تو منظر ہی بدل جاتا ہے گلیوں میں رونقیں بڑھ جاتی ہیں وعدوں کی بارش ہونے لگتی ہے اور عوام کے دروازے اس طرح بجتے ہیں جیسے برسوں کی رفاقت ہو امیدوار جھک کر سلام کرتے ہیں چائے پیتے ہیں تصویریں بنواتے ہیں اور دلوں میں امیدیں جگاتے ہیں کہ اب شاید تبدیلی آئے گی اب شاید عام آدمی کی عزت بحال ہوگی مگر الیکشن جیتنے کے بعد جیسے منظر پہاڑی راستے کی طرح اچانک موڑ بدل لیتا ہے وہی لوگ جو کل تک عوام کے قدموں میں بیٹھتے تھے آج ہجوم سے دور پروٹوکول کے حصار میں نظر آتے ہیں فون کا جواب تک ملنا مشکل ہو جاتا ہے اور عوام کی آوازیں اقتدار کے بند دروازوں میں گم ہو جاتی ہیں دکھ کی بات یہ ہے کہ عام آدمی کے دکھ سکھ میں شریک ہونا بھی ان کے لیے غیر ضروری مشقت سمجھا جاتا ہے غریب کے گھر فوتگی ہو جائے تو وہاں ان کے قدم نہیں پہنچتے عام آدمی کا غم شاید ان کے مصروف شیڈول میں جگہ نہیں پاتا خوشیوں میں بھی ان کی آمد صرف ان گھروں تک محدود رہتی ہے جہاں طاقت پیسہ اور اثر و رسوخ ہو جیسے دعوت اور تعزیت بھی اب طبقاتی نظام کے تابع ہو گئی ہو اور یہاں ایک سوال شدت سے جنم لیتا ہے آخر یہ کن کے نمائندے ہیں کیا وہ چند خاندانوں کے ووٹوں سے اقتدار میں آئے کیا وہ صرف ان ہاتھوں کے مرہون منت ہیں جن کے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر سیاست کی بریفنگ لی جاتی ہے اگر نہیں تو کیا انہیں احساس ہے کہ تخت تک پہنچانے والے ہاتھ ان خاص محفلوں میں نہیں بلکہ عام گھروں چھوٹے ووٹروں کچی گلیوں اور سادہ لوگوں کی انگلیوں میں ہوتے ہیں اقتدار کا راستہ عوام کے دلوں اور ووٹوں سے ہو کر جاتا ہے نہ کہ دوچار خوشامدی مشیروں اور چند بااثر خاندانوں کی چوکھٹوں سے پھر کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل طاقت وہی عام آدمی ہے جسے وہ بعد میں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے فراموش کر دیتے ہیں –

    اصل مسئلہ سیاست دانوں کا نہیں ہماری خاموشی کا ہے ہم ہر بار جذبات میں بہہ جاتے ہیں اور اگلے الیکشن تک اپنی ناراضگی کو سلا دیتے ہیں جب تک عوام سوال نہیں اٹھائیں گے جواب بھی نہیں ملے گا جب تک ہم یاد نہیں دلائیں گے کہ ووٹ عبادت بھی ہے اور ذمہ داری بھی تب تک ہمارے دروازے صرف انتخابی موسم میں ہی بجتے رہیں گے وقت ہے سوچنے کا ووٹ کے روز ہماری دہلیز پر جھکنے والے کل بھی اسی طرح جھکتے رہیں یہی اصل جمہوریت ہے ورنہ پھر یہی ہوگا وعدوں کے موسم اور پھر طویل فاصلوں کی سرد ہوا-

  • اک یادگار ملاقات،تحریر:نور فاطمہ

    اک یادگار ملاقات،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کے طویل اور بے سمت سفر میں کبھی کبھار کچھ لمحے ایسے اترتے ہیں جیسے خزاں رسیدہ دنوں میں اچانک بہار کی ایک نرم جھونک آ جائے۔ یہ لمحے وقت کے دامن پر جگنوؤں کی طرح چمکتے رہتے ہیں ، نہ مٹنے والے، نہ بھلانے والے، انہی نایاب لمحوں میں سے ایک لمحہ اُس روز رقم ہوا جب ننکانہ صاحب کی محترمہ رفعت کھرل اپنی دوست کے ہمراہ لاہور آئیں،ان کی آمد گویا شہرِ ادب کے موسم میں تازگی کا نیا رنگ بھر گئی،رفعت کھر کی شخصیت پہلی ہی نگاہ میں دل پر ایک خوشگوار تاثر چھوڑ جاتی ہے، وہ گفتگو کرتی ہیں تو لگتا ہے جیسے لفظ خوشبو بن کر فضا میں تحلیل ہو رہے ہوں، ہر جملے میں سلیقہ، ہر مسکراہٹ میں شائستگی، اور ہر نظر میں ایک نرم روشنی ، جیسے ادب نے انسان کی صورت اختیار کر لی ہو،ان کے ہمراہ ان کی ایک مخلص دوست بھی تھیں، جن کے لبوں پر خلوص اور آنکھوں میں اپنائیت کی چمک تھی۔ وہ دونوں جب محفل میں آئیں تو فضا بدل گئی۔ باتوں کا سلسلہ یوں چلا جیسے پرانے دوست برسوں بعد ملے ہوں۔ ابتدا رسمی گفتگو سے ہوئی، مگر جلد ہی دلوں کے در وا ہونے لگے، اور موضوعات ادب، محبت اور زندگی کے مختلف رنگوں پر جا پہنچے۔

    رفعت کھرل کا لہجہ نرمی سے بھرا ہوا تھا، مگر اس نرمی میں وہ اعتماد بھی شامل تھا جو صرف اُن لوگوں میں ہوتا ہے جو دل سے لکھتے ہیں اور دل سے جیتے ہیں،ان کی باتوں میں سچائی کی وہ خوشبو تھی جو دکھاوا نہیں کرتی،رفعت کھرل صرف لکھنے والی نہیں، محسوس کرنے والی روح ہیں۔ ان کے اندازِ بیان میں وہ سلیقہ ہے جو محبت کو مروّت میں ڈھال دیتا ہے، اور ان کے چہرے کی روشنی سے اندازہ ہوتا ہے کہ لفظ جب دل سے نکلیں تو چہرے پر ان کا عکس لازماً جھلکتا ہے۔یہ ملاقات محض چند ساعتوں کی تھی، مگر دلوں کی قربت نے اسے یادگار بنا دیا۔ گفتگو کے موضوعات ادب سے نکل کر احساسات تک جا پہنچے، اور ہر جملہ ایک خوشبو کی طرح فضا میں گھلتا چلا گیا۔ وقت کے لمحے تھم سے گئے، اور یوں لگا جیسے یہ نشست ختم نہ ہو ، یہ رفاقت اپنی طوالت خود لکھ رہی ہو۔

    دوستی کے باب میں یہ ایک نئی تحریر کا پہلا حرف تھا ، وہ حرف جو وقت کی کتاب پر ہمیشہ روشن رہے گا،
    کچھ رشتے نصیب سے ملتے ہیں، اور کچھ دل کے خلوص سے، رفعت کھرل جیسی باوقار، خوش مزاج اور سراپا محبت شخصیت سے ملاقات نے یہ یقین پختہ کر دیا کہ ادب دراصل انسانیت کا دوسرا نام ہے،یہ تعلق اب لفظوں سے بڑھ کر ایک احساس بن چکا ہے ، اور یہی احساس ہر ملاقات کے بعد دل میں ایک نرم سی روشنی چھوڑ جاتا ہے۔

  • جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟

    جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟

    جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟
    میرپورماتھیلو سے مشتاق علی لغاری کی ڈائری
    ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپورماتھیلو کے نواحی گاؤں خدا بخش لغاری تک پہنچنا کسی آزمائش سے کم نہیں۔ کچی سڑکیں ہر طرف گرد اور دھول اڑا رہی ہیں، جیسے وقت خود یہاں ٹھہر گیا ہو۔ دیواروں پر آج بھی ’’جیئے بھٹو‘‘ کے نعرے درج ہیں، مگر انہی نعروں کے بیچ میں بسنے والی زندگیاں خاموش احتجاج بن چکی ہیں۔

    تقریباً پانچ ہزار ووٹروں پر مشتمل یہ گاؤں کئی دہائیوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ پینے کے صاف پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ نہ فلٹر پلانٹ ہے، نہ بورنگ، نہ ٹینکی۔ عورتیں اور بچے کلومیٹر دور سے پانی بھر کر لاتے ہیں۔ بارش کے دنوں میں راستے کیچڑ میں ڈوب جاتے ہیں، مگر پیاس برقرار رہتی ہے۔

    صحت کی سہولتیں بھی ناپید ہیں۔ نہ کوئی ڈاکٹر، نہ ڈسپنسری، نہ دوائی۔ زچگی یا معمولی بیماری کی صورت میں مریضوں کو میرپورماتھیلو یا گھوٹکی لے جانا پڑتا ہے اور اکثر راستے میں جان چلی جاتی ہے۔ بزرگوں کے چہرے پر خوف نہیں، مایوسی لکھی ہے۔

    پرائمری سکول کی عمارت بوسیدہ ہے۔ ٹوٹے دروازے، غائب کھڑکیاں اور خالی کمروں میں صرف خاک اڑتی ہے۔ استاد کبھی کبھار آتے ہیں۔ بچے کھیتوں میں مزدوری کرتے دکھائی دیتے ہیں اور لڑکیاں تعلیم کے خواب دیکھنے سے پہلے ہی ہار مان لیتی ہیں۔ ایک مکین کا کہنا ہےکہ “ہمارا مستقبل اندھیرے میں ہے، ہم صرف ووٹ دینے کے دن یاد کیے جاتے ہیں۔”

    نکاسی آب کا کوئی نظام نہیں،گلیوں میں گندے پانی کے جوہڑ، بدبو، مچھر اور بیماریوں کا راج ہے۔ ڈینگی اور ملیریا کے مریض بڑھ رہے ہیں، مگر کوئی سپرے ٹیم کبھی نہیں آئی۔ گاؤں کی گندگی سیاست کے وعدوں کا مذاق اڑاتی دکھائی دیتی ہے۔

    گاؤں خدابخش لغاری کے ایک بزرگ ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں کہ “کیا ہم صرف ووٹ دینے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ بھٹو زندہ ہے، مگر ہمارا گاؤں مر چکا ہے۔” ان کے الفاظ درد سے بھرے ہیں اور آنکھوں میں امید کے بجائے خالی پن ہے۔

    گاؤں کے اردگرد کھیت اجڑے ہوئے ہیں۔ کبھی لہلہاتی فصلیں تھیں، اب پانی کی کمی نے زمین چٹخا دی ہے۔ نہری نظام ناکام، ٹیوب ویل بند اور مزدوری کے لیے شہروں کا رخ کرنے والے ہاتھ خالی لوٹتے ہیں۔ سیاستدان صرف انتخابات کے موسم میں ان راستوں کو پہچانتے ہیں۔

    میرپورماتھیلو اور گھوٹکی کے درمیان زندگی جیسے رکی ہوئی ہے۔ ترقی کے وعدے ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں اور بھٹو کے نعرے اس دھرتی کی خاموش چیخوں میں دب گئے ہیں۔ اگر واقعی بھٹو زندہ ہے تو دیہی سندھ اتنا لاوارث کیوں ہے؟ یہ سوال ہر دروازے سے اٹھتا ہے، ہر صحن سے گونجتا ہے۔

    گاؤں کے مکین روزانہ بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ صاف پانی ہر خاندان کے لیے خواب بن چکا ہے۔ عورتیں اور بچے بالٹیاں اٹھائے میلوں چلتے ہیں، ان کی صحت برباد ہو رہی ہے۔ کچی سڑکوں پر روز حادثات ہوتے ہیں۔ بارش میں راستے بند اور گاؤں دنیا سے کٹ جاتا ہے۔

    نہ صحت کا کوئی مرکز ہے، نہ سکول فعال ہیں۔ بچے کھلے آسمان تلے پڑھتے ہیں، اگر استاد آ جائے تو۔ لڑکیوں کی تعلیم کو اب بھی غیرضروری سمجھا جاتا ہے۔ صفائی کا حال یہ ہے کہ ہر گلی کیچڑ اور بدبو سے بھری ہے، ہر گھر بیماریوں سے گھرا ہوا ہے۔

    غربت، بیماری اور بے بسی نے گاؤں والوں کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔ لوگ قرض میں ڈوبے ہیں، مزدور کم اجرت پر محنت کر رہے ہیں اور زندگی صرف گزاری جا رہی ہے۔ ہر گھر میں سوال ہے کہ کیا ہمارا کام صرف ووٹ دینا ہے؟ کیا وعدے ہمیشہ کاغذوں میں دفن رہیں گے؟

    گذشتہ کئی سالوں میں کسی منتخب نمائندے یا افسر نے اس گاؤں کا حال نہیں پوچھا۔ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ عوام کا صبر اب ختم ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وعدوں پر نہیں، عمل پر یقین چاہیے۔

    گاؤں کے باسی صاف پانی، صحت، تعلیم اور سڑکوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ واٹرفلٹر یشن پلانٹ، بورنگ سسٹم، ڈسپنسری اور سکولوں کی مرمت فوری کی جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور صفائی کے نظام کو ترجیح دی جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یہ وعدے اب تحریروں سے نکل کر حقیقت بنیں۔

    ان کا پیغام واضح ہے کہ خاموشی ختم ہو چکی ہے۔ اگر اب بھی حکومت، سیاستدان اور افسران نے توجہ نہ دی تو عوام جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کریں گے۔ گاؤں خدا بخش لغاری اب مزید وعدوں پر نہیں جئے گا، وہ حق مانگے گا ، اپنے انسانی وقار، بنیادی سہولیات اور انصاف کے حق کے لیے۔

    یہ گاؤں اب انتظار نہیں کرے گا۔ یہ گاؤں اٹھ چکا ہے، تاکہ بھٹو کے زندہ ہونے کا مفہوم صرف نعرہ نہ رہے، بلکہ انسانوں کی زندہ حالت میں نظر بھی آئے۔