Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لاشوں کے سہارے ڈرٹی گیم نہ کھیلیں ،تحریر:ملک سلمان

    لاشوں کے سہارے ڈرٹی گیم نہ کھیلیں ،تحریر:ملک سلمان

    عدیل اکبر کی تدفین کے وقت عدیل کا بھائی شرجیل میرے ساتھ کھڑا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر سی پی او گوجرانوالہ ایاز سلیم اور تیسرے پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی۔ عدیل کی موت کی خبر سے لیکر جنازے تک سارے تجزیہ کار چھٹی نہ دینے کی وجہ بتا کر علی ناصر رضوی کو ملزم ڈکلئیر کرچکے تھے۔ سینکڑوں سوشل میڈیا پوسٹوں میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے مرحوم عدیل اکبر کے ساتھ تحقیر آمیز رویے اور چھٹی نہ دینے کو ٹاپ سٹوری ڈسکس کیا جارہا تھا۔ سوشل میڈیا پوسٹوں کا اثر تھا کہ تدفین کے موقع پر میں نے علی ناصر رضوی کو عدیل کے ملزم کے طور پر دیکھااور سلام تک نہ لیا۔ بعد از تدفین جب علی ناصر رضوی شرجیل کو گلے لگا کر روتے ہوئے بار بار کہہ رہا تھا کہ وہ عدیل کے اس طرح جانے سے شدید دکھ کی کیفیت میں ہے اور اس غم کو ایسے ہی محسوس کر رہا ہے جیسے اس کا اپنا بیٹا چلا گیا۔ میں نے بہت غور سے علی رضوی کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیا کہ ان الفاظ میں نوجوان آفیسر عدیل کو کھونے کا دکھ ہے یا علی ناصر رضوی نے عدیل کے ساتھ کوئی بدتمیزی یا چھٹی نہ دیکر جو زیادتی کی ہے اس کا پچھتاوا ہے۔ علی رضوی کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات بتارہے تھے کہ اسے واقعی عدیل کے اس طرح دنیا سے رخصت ہوجانے کا شدید دکھ ہے۔

    یہ وہی علی ناصر رضوی ہے جس کے بارے گزشتہ ماہ مرحوم عدیل اکبر کوہسار مارکیٹ میں کھانے کی ٹیبل پر تعریف کر رہے تھے کہ رضوی صاحب اسے نہ صرف بلوچستان سے اسلام آباد لائے بلکہ شولڈر پرموشن کے ساتھ دیگر ایس پی ایز کے برابر پوسٹنگ دے کر اعتماد کا اظہار کیا۔ ممکن ہے کہ علی ناصر رضوی نے ڈیوٹی پر زیروٹالرینس پالیسی اپنائی ہو لیکن ابھی تک کہیں بھی ان کی بدنیتی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ بلوچستان سے اسلام آباد تبادلہ کرواکر مین سٹریم میں آنے کا موقع فراہم کیا۔جہاں تک علی ناصر رضوی کے تلخ رویے کا کہا جارہا ہے تو میری معلومات کے مطابق جب سے عدیل اکبر اسلام آباد آیا ہے اس دوران کم و بیش 20دن کیلئے علی رضوی بیرون ملک تھے اس لیے مختصر پوسٹنگ میں اختلافات کی باتیں ماورائے عقل ہیں۔

    سوشل میڈیا کے”دانشوڑوں“ کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد نے عدیل اکبر کو ترقی سے محروم کرنے کی دھمکی دی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بیوروکریسی کی معمولی سمجھ بوجھ والے کو بھی معلوم ہے کہ علی ناصر رضوی تو اس بورڈ کیلئے عدیل کی اے سی آر لکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ جہاں تک علی ناصر رضوی کے سخت رویے کا تعلق ہے اسلام اباد پولیس میں پوسٹڈ پی ایس پی افسران سے لے کر ڈی ایس پی اور انسپیکٹر تک کے بہت سارے افسران سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ علی ناصر رضوی کے رویے بارے پوچھا تو سب کی طرف سے ملتا جلتا جواب ملا کے وہ اپنے افسران اور ماتحت عملے کا بہت خیال کرتے ہیں زیادہ سے زیادہ اس طرح ڈانٹتے ہیں کہ ”جے میں تہاڈے تو وڈی عمر دا ہو کے نہیں تھکدا تے تہانوں جوانی وچ ای تھکن اے۔ ”

    عدیل اس سے قبل بلوچستان میں جھوٹے الزامات، جھوٹی انکوائیریاں اور سب سے بڑھ کر ترقی سے محرومی جیسے بہت بڑے بڑے غم برداشت کرچکا تھا۔ایمانداری، اصول پرستی، وردی کی عزت اور حلف کی پاسداری کی قیمت کرپٹ سنئیر کی طرف سے رپورٹ خراب کرنے اور ترقی سے محرومی برداشت کی لیکن اصولوں پر سمجھوتا نہ کیا۔ مرحوم عدیل اکبر پر
    بلوچستان میں زیارت کی پوسٹنگ کے دوران لگائے کی الزامات کو ڈی آئی جی عبدالغفار قیصرانی نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدیل اکبر کو کلئیر کردیا تھا۔ عبدلغفار قیصرانی کی ایمانداری اور اصول پرستی کا زمانہ معترف ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بھی انکا فیصلہ من و عن تسلیم کیا تھا۔

    گذشتہ تین دنوں میں، میں نے درجنوں پی ایس پی افسران سے ملاقاتیں اور ٹیلیفونک رابطے کیے تو مجھے اس بات کا اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ یہاں پی ایس پی افسران اچھی پوسٹنگ کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، ہر کوئی ”کی پوسٹ” پر جانے کیلئے بیتاب ہے اور اس مقصد میں کامیابی کیلئے اس سیٹ پر موجود ساتھی افسر کو نیچا دکھانے اور گرا کر اپنی باری لینا چاہتا ہے۔

    سیٹ کے حصول کیلئے اپنے ساتھی افسران پر ہر طرح کے الزامات لگانے اور کیچڑ اچھالنے میں باؤلے ہوئے پڑے ہیں۔عدیل اکبر اگر علی ناصر رضوی سے اس قدر تنگ ہوتا تواس کے پاس کہیں اور پوسٹنگ کروانے سمیت بہت سارے آپشنز تھے لیکن مبینہ خود سوزی کے محرکات کا تعلق شائد ترقی سے محرومی سمیت دیگر معاملات سے تھا کیونکہ عدیل اکبر کی کئی سال سے مسلسل غمگین شاعری اور انکے ذہنی معالج کی رائے کے مطابق عدیل اکبر لمبے عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکارتھے،ماہر نفسیات کے مطابق خودسوزی سے ایک دن قبل عدیل اکبرکے الفاظ تھے کہ انہیں شدید سٹریس ہے اور اس سٹریس کا تعلق پوسٹنگ یا ڈیوٹی سے نہیں کسی انجانے خوف سے ہے۔خبروں میں آنے کیلئے درجنوں افراد دوست بن کر من گھڑت کہانیاں سنا رہے ہیں۔ بہت سارے نوجوان افسران بھی سنی سنائی باتوں پر بنا ثبوت بے بنیاد الزامات پر مبنی جذباتی پوسٹیں لگا رہے ہیں۔
    نوجوان افسران سمیت تمام سوشل میڈیا ”دانشوڑوں ” سے گزارش ہے کہ سستی شہرت کے لیے ڈرٹی گیم کا حصہ نہ بنیں۔ آئی جی اسلام آباد کی کمانڈ کے خواہش مند پی ایس پی افسران کی خوشنودی کے لیے علی ناصر رضوی کو بلاوجہ ملزم بنا کر پیش نہ کیا جائے۔سائبر کرائم ایجنسی کو چاہئے کہ سستی شہرت اور ویوز کیلئے بنا ثبوت "پولیس کمانڈر” کی کردار کشی کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم عدیل کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے ورثاء کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

  • خواتین افسران میں کرپشن کا رجحان،تحریر:ملک سلمان

    خواتین افسران میں کرپشن کا رجحان،تحریر:ملک سلمان

    خواتین افسران میں مالی کرپشن کا ریٹ اور رجحان مرد افسران سے کہیں زیادہ ہے۔ خواتین افسران کی معزز شہریوں کے ساتھ بدتمیزی اور تحقیر آمیز رویہ تو عمومی ہے جبکہ اپنے ماتحت افسران اور سٹاف کے ساتھ بھی انتہائی ہتک آمیز سلوک کی ان گنت مثالیں اور داستانیں ہیں۔خواتین افسران کے بارے عمومی رائے ہے کہ یہ مسائل کا حل کرنے کے بجائے "ٹربل میکرز” کا رول ادا کرتی ہیں ۔خواتین افسران کی بڑی تعداد کمائی والی سیٹوں پر منشی بن کر پیسے اکٹھی کرتی ہیں اور آگے تک پہنچاتی بھی ہیں۔خواتین افسران کی اکثریت آج بھی سرکاری نوکری کو عزت اور رزق حلال کا زریعہ بنائے ہوئے ہیں۔

    خواتین افسران میں سے کم از 30سے 35فیصد کرپشن کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ بڑے خواب اور وقت سے پہلے سب کچھ پالینے کی خواہشات کی تکمیل کیلئے 3سے4فیصد کی بہت محدود تعداد بیوروکریٹک پارٹی گروپ جوائن کرچکی ہیں۔
    بہت سی جگہوں پر دیکھا گیا کہ خواتین افسران اگر اے سی، اے ڈی سی آر یا ڈی سی ہیں تو انکا ہیڈ کلرک ”سیٹ“ چلا رہا ہوتا ہے۔ایک خاتون افسر نے اپنے بیج میٹ سے جلدی کام کرنے کے پیسے مانگ لیے اور ساتھ احسان بھی جتلایا کہ یہ کام اتنے کا تھا تمہیں ڈسکاؤنٹ دے رہی ہوں۔ اسی طرح ایک اتھارٹی کی سربراہ خاتون افسر نے ایک کام کے چالیس لاکھ مانگے تو متعلقہ سپیشل سیکرٹری تک شکایت پہنچی تو انہوں نے فون پر بہت ججھکتے ہوئے بات کی میڈم شائد آپ کے بیحاف پر کسی نے فلاں بندے سے پیسے مانگے ہیں تو مذکورہ خاتون نے جھٹ سے جواب دیا کہ سر آپ سے اوپر افسر تک بھی جاتے ہیں آپ”چل“ کریں۔بہت سی خواتین افسران کے کاروباری شوہر اپنی بیویوں کے سرکاری دفاتر میں کرسی رکھے کے بیٹھے ہوتے ہیں۔

    دبنگ افسر:
    ان کے بارے مشہور کردیا جاتا ہے کہ بہت دبنگ افسر ہے کسی کی بات نہیں سنتی، ایسی افسران اپنے افسر کیڈر پر بھی اعتبار نہیں کرتی کہ حصہ مانگ لے گا ان کا سارا لین دین مخصوص چھوٹا ملازم کرتا ہے۔ ایسی خواتین افسران نے مالی کرپشن جی بھر کر کرنی ہوتی ہے حتیٰ کہ جوکام مرد افسر سے تعلق واسطے یا ڈسکاؤنٹ کے ساتھ کروایا جاسکتا ہے وہی کام خاتون افسر "فکس ریٹ“پر کرتی ہیں۔ ایسے افسران کسی اتھارٹی یا محکمے میں گئیں تو اسکی کھال تک اتار کر بیچنے کی حد تک جاتی ہیں جبکہ تحصیل اور ضلعی سربراہ کی طور پر بڑے کاروباری مراکز اور ہاؤسنگ سوسائیٹیز سے لیکر گھریلو زمین کے تنازع کو بھی کمائی کا زریعہ بنا لیتی ہیں۔

    گرل فرینڈ کلچر:
    خوش آئند بات یہ ہے کہ خواتین افسران میں سے بامشکل 3سے4فیصد خواتین نے اس راستے کو اپنایا ہے۔لیکن خطرناک بات یہ ہے پارٹی گروپ والی افسران کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی سپیڈ باقیوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر تشویش والی بات یہ ہے کہ ایسی خواتین افسران اہم سیٹوں پر آنے کیلئے ناصرف خود پارٹی گروپ جوائن کرتی ہیں بلکہ دیگر خواتین افسران کو گروپ جوائن کروانے کیلئے بھی آفرز کرتی ہیں، بڑے افسران کی پارٹی میں "پارٹی آؤٹ فٹ” زیب تن کیے مرکز نگاہ ہوتی ہیں اور جام بنانے اور پلانے کا ہنر آزماتی ہیں اور اہم افسران کی گرل فرینڈ بن جاتی ہیں۔ تگڑی سیاسی شخصیت اور بڑے افسر کی گرل فرینڈ بنی افسران اپنے محکمے کی چودھرانی بن جاتی ہے اور جونئیرز کو ذاتی ملازم کی طرح اور سنئیرز کو فار گرانٹڈ لیتی ہیں، اسی طرح بڑے افسر تک رشوت اور گھپلوں کی رقم کا حصہ پہنچانے والی خواتین افسران بھی دھرلے سے ایڈیشنل چارج بھی اپنے پاس رکھتی ہیں۔

    فرسٹ جنریشن افسر خواتین میں سے اکثریت خود کو ماورائی مخلوق، جبکہ ماتحت عملے اور معزز شہریوں سے بدتمیزی اور کرپشن کی کمائی کو اپنا حق سمجھتی ہیں۔ فرسٹ جنریشن افسر خواتین میں سے جو میرٹ پر کام کرتی ہیں اور کسی بھی پارٹی یا کنسپٹ کلئیر کرپٹ گروپ سے تعلق نہیں رکھتیں انہیں کھڈے لائن ٹائپ پوسٹنگ ہی دی جاتی ہے۔جب سنئیر افسران کو ”فیس سیونگ“ کیلئے کوئی ایماندار افسر چاہئے ہو تو ایسی خواتین کی اچھی پوسٹنگ کی صورت لاٹری لگ جاتی ہے۔
    ایک خاتون آفیسر نے اپنے غم کا اظہار اس شعر کے ساتھ کیا کہ
    اب تو گھرا کے کہتے ہیں مرجائیں گے
    مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

    دنیا جہاں سے الگ ہوکر دن رات محنت کرکے مقابلے کا امتحان پاس کیا، سی ایس ایس کر کے بھی کبھی اچھی پوسٹنگ اس نہیں مل سکی کہ نہ تو وہ افسران کی ساقی و نائکہ بن سکتی ہے اور نہ ہی منشی بن کر رشوت بازاری اور سرکاری فنڈز میں گھپلے کرسکتی ہے۔ یہ ساری باتیں وہی ہیں جو بیوروکریسی کے افسران کی زبان زدعام ہیں جبکہ جو باتیں جن القابات اور طریقوں سے خواتین افسران دوسری خواتین کے بارے بتاتی ہیں وہ لکھنے سے قاصر ہوں۔

    بیوروکریٹک یا آفیسر بیک گراؤنڈ کی حامل خواتین کی اکثریت کو اپنے مضبوط بیک گراؤنڈ کی وجہ سے کسی بھی کرپٹ گروپ کا حصہ بنے بغیر ہی پوسٹنگ مل جاتی ہے۔ سرکاری بیک گراؤنڈ کی حامل خواتین افسران میں زیادہ تر تمیزدار اور رکھ رکھاؤ والی ہوتی ہیں جبکہ چند اسی بیک گراؤنڈ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے”غندہ ازم“ کو اپنا استحقاق سمجھتی ہیں۔ مرد افسران کی بدتمیزی کا جہاں اختتام ہوتا ہے ان تگڑے بیک گراؤنڈ والی خواتین کی جہالت اور بدتمیزی کا نقطہ آغاز، ایسی باس خواتین کے رویے سے مرد و زن کوئی بھی محفوظ نہیں، چند ماہ قبل ایسی ہی بدتمیز باس کی وجہ سے ایک آفیسر ہارٹ اٹیک کرواکر ”پی آئی سی“ پہنچ گئے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین افسران کیلئے مستقل بنیادوں پر کپیسٹی بلڈنگ، پبلک ریلیشنز اور نفسیاتی امور کی ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے۔ خواتین افسران کو چاہئے کہ اس مشرقی معاشرے میں خواتین کو جس قدر احترام دیاجاتا ہے اس کا تھوڑا سا مان بھی رکھ لیں نا کہ ہر برائی کا دفاع ”خاتون کارڈ“ کی مظلومیت سے کریں۔

  • پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان اس وقت نہایت نازک جغرافیائی اور سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔ کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی اور سرحدی جھڑپوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مجروح کیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے اندرونی سیاسی منظر نامہ کسی اور سمت میں جا رہا ہے۔ ایسے موقع پر جب قومی سلامتی اور خطے کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے ملکی سیاسی جماعتوں کی تمام توجہ کشمیر میں حکومت کی تبدیلی یا اقتدار کے کھیل پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ پارلیمانی چالوں اور سیاسی جوڑ توڑ کے اس دور میں یہ احساس کم ہی نظر آتا ہے کہ ملک بیرونی دباؤ اور اندرونی کمزوریوں کے درمیان پھنس چکا ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں معمولی سیاسی غلطی بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ سیاسی قیادتوں کو اس موقع پر صبر و تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دینا ہی اصل قیادت کی پہچان ہوتی ہے۔

    اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں باہمی اختلافات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر ملک کی مجموعی سلامتی، معیشت اور سفارتی محاذ پر یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ دنیا بھر میں جب بھی ریاستیں داخلی خلفشار میں الجھتی ہیں تو بیرونی قوتیں اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادتیں قومی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں سفارتی سطح پر مضبوط موقف اختیار کریں اور عوام کو یہ اعتماد دلائیں کہ ملک کی بقاء اور استحکام سب سے مقدم ہے۔ اقتدار کی سیاست ہمیشہ کے لیے نہیں مگر قومی مفاد ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ اگر سیاسی قوتوں نے حالات کی سنگینی کو نہ سمجھا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یاد رکھیے تقسیم اندرونی ہو تو دشمن کو کسی بڑی محنت کی ضرورت نہیں رہتی اس وقت پاکستان ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر ملک کے اندرونی سیاسی ماحول کا عدم استحکام نہ صرف قومی یکجہتی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ دشمن قوتوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔ سیاسی چال بازیوں اور اقتدار کی جنگ کو کچھ عرصے کے لیے موخر کرکے قومی سلامتی اور استحکام پر توجہ دی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں بحران کے وقت متحد رہتی ہیں تو ہر مشکل پر قابو پا لیتی ہیں۔

  • بدعنوانی و سفارش، خواجہ آصف کی تنقید ، اصلاح کون کرے گا؟

    بدعنوانی و سفارش، خواجہ آصف کی تنقید ، اصلاح کون کرے گا؟

    بدعنوانی و سفارشہ، خواجہ آصف کی تنقید ، اصلاح کون کرے گا؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے 26 اکتوبر 2025 کو ایک ٹویٹ میں سرکاری ملازمتوں میں رائج بدعنوانی اور سفارش کلچر پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے سیالکوٹ کے سردار بیگم ہسپتال کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر بتایا کہ ایک سال میں سیالکوٹ میڈیکل کالج کے 22 پروفیسرز نے لاہور تبادلے کروائے کیونکہ وہاں پرائیویٹ پریکٹس اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔ محکمہ صحت کے افسران سے بات چیت میں انہیں بتایا گیا کہ لاہور میں پوسٹنگ کے لیے سفارشیں، ہڑتالیں اور دباؤ معمول کی بات ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق یہ کلچر تمام سرکاری اداروں میں پھیل چکا ہے، اور بااثر سیاست دان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس کی پشت پناہی کرتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے خود اعتراف کیا کہ وہ بھی ماضی میں اس "گناہ” کے مرتکب رہے ہیں۔ انہوں نے فوج اور سول سروسز کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوج میں بھی مرضی کی پوسٹنگ کا رواج ہوتا تو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرحدوں کی حفاظت ممکن نہ رہتی۔ ان کے مطابق فوجی جوانوں نے چار سال میں چار ہزار شہادتیں دیں، مگر وہ سول افسران سے زیادہ تنخواہیں نہیں لیتے اور نہ ہی غیر ملکی پاسپورٹ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حلقے کے ایک پٹواری کی مثال دی جو کینیڈا میں رہائش پذیر ہے اور یورپ میں کاروبار رکھتا ہے، جبکہ اس کے سفارشی اثرورسوخ والے لوگ ہیں۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ اس کلچر کی بیخ کنی ضروری ہے، اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قول سے اختتام کیا:
    "Ask not what your country can do for you.ask what you can do for your country.”

    سوال مگر یہ ہے کہ اگر ایک سینئر حکومتی وزیر، جو خود اقتدار اور قانون سازی کے مراکز میں اثر و رسوخ رکھتا ہے، صرف سوشل میڈیا پر تنقید کرتا ہے تو اصلاحی اقدامات کون کرے گا؟ خواجہ آصف کے پاس پالیسی اور قانون سازی کی طاقت ہے، اس کے باوجود وہ محض بیانات تک محدود کیوں ہیں؟ اگر وہ واقعی اس نظام کی خرابی کو محسوس کرتے ہیں تو اصلاح کے لیے عملی اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟

    سرکاری ملازمتوں میں سفارش اور دوہری وفاداری کا مسئلہ نیا نہیں۔ خواجہ آصف نے اس سے قبل بھی بیوروکریسی پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے اور کہا تھا کہ آدھے سے زیادہ افسران ملک چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ جنوری 2025 میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ بائیس ہزار سے زائد سرکاری افسران دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ 2018 میں سپریم کورٹ نے دو سو تیرہ افسران کو دوہری شہریت چھپانے پر نوٹس جاری کیے تھے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرکاری نظام میں بدعنوانی اور غیر وفاداری کس حد تک سرایت کر چکی ہے۔

    پٹواری نظام، جو زمین کے ریکارڈ کا بنیادی ستون ہے، سب سے زیادہ کرپٹ اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ برطانوی دور سے چلا آ رہا یہ نظام دستی ریکارڈ پر منحصر ہے، جس سے جعلسازی اور رشوت ستانی آسان ہو جاتی ہے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی ڈیجیٹلائزیشن سے اصلاح کی کوشش ضرور ہوئی ہے مگر رفتار سست ہے۔ آج بھی ضلعی بیوروکریسی نے کئی اہم مواضعات کو اپنے کچن چلانے کے لیے کمپیوٹرائزڈ نہیں ہونے دیا، تاکہ رشوت، سفارش اور مفاد پر مبنی لین دین کا سلسلہ برقرار رہ سکے۔ خواجہ آصف کے بیان کردہ پٹواری کی مثال اس نظام کی انہی خامیوں کی علامت ہے، جہاں سرکاری ملازم بیرونِ ملک کاروبار اور رہائش رکھتے ہیں مگر جواب دہی سے بالاتر ہیں۔

    اگر خواجہ آصف واقعی اصلاح چاہتے ہیں تو ان کے پاس کئی راستے ہیں، دوہری شہریت رکھنے والے سرکاری افسران کے لیے سخت قانون سازی، سفارش کلچر کے خاتمے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، اور پٹواری نظام کی مکمل ڈیجیٹل تبدیلی۔ 2022 میں تجویز دی گئی تھی کہ دوہری شہریت رکھنے والے افسران کو اعلیٰ عہدوں سے روکا جائے — اگر خواجہ آصف واقعی سنجیدہ ہیں تو وہ اس تجویز کو قانون کی شکل دے سکتے ہیں۔ اسی طرح نیب اور ایف آئی اے کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ غیر ملکی مفادات رکھنے والے افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر سکیں۔

    فوج اور سول سروس کے درمیان خواجہ آصف کا تقابلی نکتہ اخلاقی اعتبار سے درست ہےکہ فوجی اپنی جان دیتے ہیں، جبکہ سول افسران اکثر نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر اصلاح کی بات صرف تقریروں اور ٹویٹس تک محدود رہے تو یہ تضاد برقرار رہے گا۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر ایک وزیر، جو اقتدار کا حصہ ہے، عملی اقدامات نہیں اٹھاتا تو پھر اصلاح کون کرے گا؟

    یہ صرف کسی ایک وزیر یا ادارے کا نہیں بلکہ پورے نظام کا امتحان ہے۔ خواجہ آصف کی تنقید ایک آئینہ ہے جو ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ نظام کی خرابیوں کا اعتراف تو سب کرتے ہیں، مگر اصلاح کا بوجھ کوئی نہیں اٹھاتا۔ آخر کب تک ہم یہ سوال دہرائیں گے کہ "ملک ہمارے لیے کیا کرے؟” اب وقت ہے کہ حکمران خود جواب دیں کہ وہ ملک کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

  • نو پارکنگ بورڈ کے بغیر لفٹر کے چالان

    نو پارکنگ بورڈ کے بغیر لفٹر کے چالان

    نو پارکنگ بورڈ کے بغیر لفٹر کے چالان
    تحریر: سرمد خان چنگوانی
    📧 Sarmadchangwani1@gmail.com
    ڈیرہ غازی خان شہر جنوبی پنجاب کا ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا علاقہ ہے۔ یہاں کی سڑکیں، بازار، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے روز بروز مصروف ہوتے جا رہے ہیں۔ مگر اس بڑھتی ہوئی شہری سرگرمی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں سب سے نمایاں مسئلہ ٹریفک پولیس کی جانب سے گاڑیوں کے لفٹر کے ذریعے چالان کا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں "نو پارکنگ” کا کوئی واضح بورڈ موجود نہیں ہوتا۔ شہریوں کے لیے یہ صورتحال نہ صرف پریشانی کا باعث بنتی ہے بلکہ انصاف اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔

    شہر کے مختلف مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ ٹریفک پولیس کی لفٹر گاڑیاں اچانک آتی ہیں اور بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وارننگ کے کھڑی گاڑیوں کو اٹھا کر تھانے یا مخصوص پارکنگ یارڈ میں منتقل کر دیتی ہیں۔ بعد ازاں گاڑی کے مالک کو جرمانے کے ساتھ ساتھ لفٹنگ چارجز بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی جگہ پر "نو پارکنگ” کا بورڈ یا کوئی واضح نشانی نصب ہی نہیں کی گئی تو عام شہری کو کیسے معلوم ہوگا کہ یہ جگہ ممنوعہ ہے؟ کیا شہریوں کو سزا دینے سے پہلے ان کو آگاہ کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بنتی؟

    قانون کے مطابق موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 اور ٹریفک پولیس کے جاری کردہ قواعد میں واضح طور پر درج ہے کہ پارکنگ کی ممانعت صرف اسی جگہ قابلِ اطلاق ہوگی جہاں اس کی باقاعدہ نشاندہی کی گئی ہو۔ اگر کسی سڑک یا علاقے میں "نو پارکنگ”کا سائن بورڈ یا نشان نصب نہیں، تو شہری کو یہ علم ہونا ناممکن ہے کہ وہاں گاڑی کھڑی کرنا جرم سمجھا جائے گا۔ قانون کی روح یہی ہے کہ پہلے آگاہی دی جائے، پھر کارروائی کی جائے۔ مگر بدقسمتی سے ڈیرہ غازی خان میں اس اصول پر عملدرآمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

    کئی شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ان کی گاڑیاں بازاروں یا دفاتر کے قریب اس وقت لفٹ کر لی گئیں جب وہ چند منٹ کے لیے کوئی کام نمٹانے گئے تھے۔ جب وہ واپس آئے تو نہ گاڑی موجود تھی، نہ کوئی نوٹس، اور بعد میں پتا چلا کہ چالان بھی ہو چکا ہے۔ بعض اوقات تو وہ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں برسوں سے لوگ اپنی گاڑیاں پارک کرتے آ رہے ہیں۔ اب اچانک اگر وہاں لفٹر کارروائی شروع کر دے تو عوام کو بغیر اطلاع کے سزا دینا انصاف کے منافی ہے۔

    یہ بھی قابلِ غور ہے کہ”نو پارکنگ” کے بورڈ صرف لگانا کافی نہیں ہوتا بلکہ انہیں نمایاں اور واضح مقام پر نصب کیا جانا ضروری ہے۔ اکثر جگہوں پر بورڈ ایسے لگائے جاتے ہیں جو درختوں، دکانوں کے سائن بورڈز یا بجلی کے کھمبوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں، جس کے باعث وہ عام نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ اس طرح شہری نادانستہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ پارکنگ سے سڑکوں پر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، ٹریفک جام لگتا ہے اور ہنگامی سروسز متاثر ہوتی ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک درست مؤقف ہے، مگر اس کے لیے شہریوں کو شریکِ سفر بنایا جائے، ان کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ انہیں قائل کیا جائے۔ اگر شہر میں باقاعدہ پارکنگ پلان تیار کیا جائے، پارکنگ ایریاز مخصوص کیے جائیں، اور "نو پارکنگ” کی واضح نشاندہی کی جائے تو عوام خود بخود تعاون کریں گے۔

    ڈیرہ غازی خان میں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ پہلے شہری سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ پارکنگ کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں، سڑکوں کے کنارے واضح نشانات لگائے جائیں، اور ٹریفک پولیس کو پابند کیا جائے کہ وہ صرف اُن گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے جو واقعی ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہی ہوں۔ عوام پر جرمانے عائد کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان کو قانون کے بارے میں تعلیم دی جائے۔

    یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ٹریفک قوانین عوام کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں، عوام کو تکلیف پہنچانے کے لیے نہیں۔ اگر قانون پر عملدرآمد شفاف، غیرجانبدار اور واضح طریقے سے کیا جائے تو عوام اس کا احترام کریں گے۔ لیکن اگر کسی شہری کو بغیر اطلاع کے سزا دی جائے تو اس سے نہ صرف عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

    ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ٹریفک نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کرے۔ شہریوں کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے، بورڈز کو واضح اور یکساں معیار کے مطابق لگایا جائے، اور جہاں بورڈ موجود نہیں وہاں لفٹر کارروائی فوری طور پر روک دی جائے۔ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی، شفافیت اور انصاف ہی وہ راستہ ہے جس سے ٹریفک کا نظام بہتر ہو سکتا ہے اور شہری اداروں پر اعتماد بحال رہتا ہے۔

  • کشمیر کی وزارت عظمیٰ،عہدہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کشمیر کی وزارت عظمیٰ،عہدہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزاد کشمیر اس وقت سیاسی بے یقینی اور عوامی اضطراب کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وہاں بدامنی، احتجاج اور عوامی بے چینی میں اضافہ اس امر کا تقاضا کر رہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور متعلقہ سیاسی جماعتیں ہوش مندی کا مظاہرہ کریں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفاد اور سفارتی وقار سے جڑا ہوا ایک حساس مسئلہ ہے۔ ایسے میں وہاں کی قیادت کا انتخاب کسی سیاسی مصلحت یا ذاتی وفاداری کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار، اہلیت اور عوامی اعتماد کے معیار پر ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی کلچر میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عہدوں کی تقسیم میرٹ کی بجائے سیاسی قربت اور مفاد پرستی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر یہی رویہ آزاد کشمیر میں بھی دہرایا گیا اور کسی بد کردار یا کرپٹ فرد کو وزیراعظم کے عہدے پر بٹھایا گیا تو اس کے نتائج خطرے ناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ عوامی اعتماد مزید مجروح ہوگا انتظامی نظام کمزور پڑے گا۔ آزاد کشمیر کو اس وقت ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو دیانت دار، بصیرت اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہو جو محض اقتدار کی کرسی کی خواہش نہ رکھتا ہو بلکہ عوامی نمائندگی کے اصل جذبے کے تحت اپنی ذمہ داری نبھائے۔

    کشمیر کے عوام باشعور ہیں وہ اپنے مستقبل کے فیصلوں میں شفافیت اور انصاف چاہتے ہیں پاکستان کی سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال محض ایک صوبائی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی اور بین الاقوامی وقار سے جڑا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وہاں ایک باکردار، قابل اعتماد اور دیانت دار قیادت سامنے لائی جائے ورنہ بداعتمادی اور انتشار کی لہر ایک بڑے سیاسی بحران میں بدل سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کا عہدہ کوئی عام سیاسی کرسی نہیں بلکہ یہ قومی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے ارباب اختیار سوچیں کشمیر کے عوام کسی سیاسی جماعت کے سیاسی تجربات کے میدان نہیں وہ ایک باوقار قوم ہے جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے پرچم کے سائے میں اپنی وفاداری نبھائی۔ اگر کسی کرپٹ، بدکردار یا نااہل شخص کو وزیراعظم بنا دیا گیا تو یہ محض ایک تقرری نہیں ہوگی بلکہ کشمیر کے عوام پر قاری ضرب ہوگی۔

  • نئی سفارت کاری، نیا پاکستان. خواب سے حقیقت تک کا سفر

    نئی سفارت کاری، نیا پاکستان. خواب سے حقیقت تک کا سفر

    نئی سفارت کاری، نیا پاکستان. خواب سے حقیقت تک کا سفر
    پاکستان کی خارجہ پالیسی نے 2025 میں جو فاصلہ طے کیا، وہ کسی معجزے سے کم نہیں، ایک نئے خودمختار دور کا آغاز
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    امریکی اخبار Foreign Policy Magazine (واشنگٹن ڈی سی) میں 23 اکتوبر 2025 کو شائع ہونے والی رپورٹ “Pakistan’s Year of Diplomatic Miracles” کے مطابق، رواں برس پاکستان نے بین الاقوامی محاذ پر ایسی سفارتی کامیابیاں حاصل کیں جنہیں تجزیہ کار ایک “غیر معمولی تبدیلی” قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں کی بے یقینی، معاشی دباؤ اور سیاسی بحران کے باوجود اپنی خارجہ پالیسی کو ایک نئی سمت دی ہے جو “خودمختاری، توازن اور معاشی مفاد” پر مبنی ہے۔ امریکی ماہرِ امورِ خارجہ رابرٹ اے میننگ کے مطابق پاکستان نے عالمی سطح پر “ردِ عمل دینے والی ریاست” کے بجائے “پیش قدمی کرنے والی قوت” کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ پاکستان نے بیک وقت چین، امریکا، سعودی عرب، ایران اور روس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کیا اور جنوبی ایشیا میں اپنی حیثیت کو ازسرِ نو منوایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ وہ سفارتی مقام ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کے لیے خواب بن چکا تھا، مگر 2025 میں اسے عملی شکل دی گئی۔ مزید یہ کہ اخبار کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی نے 2025 میں نہ صرف واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بحال کیے بلکہ بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی، چین کے ساتھ معاشی و دفاعی شراکت میں وسعت، سعودی عرب و خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کے بڑے معاہدے اور ایران و روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کو نئی جہت دی۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا کہ پاکستان اب بلاک سیاست سے ہٹ کر ایک “خودمختار توازن” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت وہ ہر عالمی طاقت سے اپنے قومی مفاد کے مطابق تعلقات استوار کر رہا ہے۔ امریکی مصنف نے اسے پاکستان کی سفارتکاری کا “نیا جنم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے اس برس سفارتی طور پر جو فاصلہ طے کیا ہے، وہ کسی معجزے سے کم نہیں، بشرطیکہ یہ سمت داخلی استحکام اور معاشی اصلاحات کے ذریعے برقرار رکھی جائے۔

    یہ تجزیہ نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کے لیے اعتراف کی علامت ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان اب محض ردِعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ اپنے فیصلوں میں دانشمندی اور خودمختاری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ افغانستان کی غیر یقینی صورتِ حال، بھارت کی جارحانہ پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے باوجود پاکستان نے اپنے قدم اس طرح جمائے ہیں کہ وہ خطے میں ایک مستحکم ثالثی کردار میں ابھر رہا ہے۔ چین کے ساتھ سی پیک منصوبوں کی توسیع، وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ نئی تجارتی راہداریوں کی تعمیر اور ایران کے ساتھ توانائی کے تعاون نے خطے میں ایک نئے جغرافیائی و معاشی توازن کو جنم دیا ہے۔ ان پالیسی اقدامات نے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو نئی امید دی بلکہ اسے ایک ایسی جغرافیائی اہمیت پر لا کھڑا کیا جہاں وہ مشرق اور مغرب دونوں کے درمیان رابطے کا مرکز بن سکتا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی ایک اہم سنگ میل ہے۔ واشنگٹن جو کبھی پاکستان پر “ڈو مور” کے دباؤ کے ساتھ نظر آتا تھا، اب پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری اور توانائی تعاون کی سطح پر نئے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ دفاعی شعبے میں محدود مگر بااعتماد رابطے بحال ہونا اور سفارتی رابطوں کا تسلسل اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنی پوزیشن کو متوازن رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ کامیابی اس وقت اور بھی اہم ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت اپنی جارحانہ پالیسیوں کے باعث خطے میں سفارتی طور پر تنہا ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کی غیر جانبدارانہ اور امن دوست حکمتِ عملی نے اسے عالمی فورمز پر پذیرائی دلائی ہے۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سرمایہ کاری کے نئے معاہدے، گوادر سے لے کر خیبر تک توانائی و انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمولیت اور روس کے ساتھ تیل و گیس کی تجارت پر پیش رفت ، یہ سب اس نئی خارجہ پالیسی کے عملی مظاہر ہیں۔ اس سمت میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ پاکستان نے اب امداد نہیں بلکہ سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے۔ اس نے اپنی معاشی خودمختاری کو خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عالمی طاقتیں پاکستان کو ایک “ڈیویلپمنٹ پارٹنر” کے طور پر دیکھنے لگی ہیں، نہ کہ صرف ایک اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر۔

    "2025 وہ سال ہے جب پاکستان نے سفارتکاری کی دنیا میں اپنی نئی پہچان پیدا کی ہے ،جیسے ایک خواب نے حقیقت کا لباس پہن لیا ہو، اور ایک خاموش خواہش نے عالمی منظرنامے پر اپنی آواز بلند کر دی ہو۔ مگر اس کامیابی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے اندرونی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ معیشت کی مضبوطی، گورننس میں شفافیت اور سیاسی استحکام وہ بنیادیں ہیں جن پر خارجہ پالیسی کا یہ نیا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ اگر اندرونی سطح پر اتفاقِ رائے اور پالیسی تسلسل قائم نہ رہا تو یہ سفارتی پیش رفت وقتی ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر پاکستان نے اپنی موجودہ سمت کو برقرار رکھا تو آنے والے برسوں میں وہ خطے کے لیے ایک اقتصادی پل، امن کا ضامن اور بین الاقوامی تعلقات کا قابلِ اعتماد مرکز بن سکتا ہے۔

    عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں جاری تبدیلی کے اس نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ ہے جب قومیں ماضی کی زنجیروں کو توڑ کر مستقبل کی سمت قدم بڑھاتی ہیں، اور اپنی شناخت کو نئے سانچے میں ڈھالتی ہیں۔ اگر پاکستان نے اپنی موجودہ خارجہ حکمتِ عملی میں تسلسل، بصیرت اور استقامت برقرار رکھی تو 2025 صرف ایک کیلنڈر سال نہیں رہے گا بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایک نئے عہد کی بنیاد کے طور پر رقم ہو گا ، ایسا عہد جس میں پاکستان نہ صرف خطے کا فعال حصہ ہو گا بلکہ اس کی قیادت، رہنمائی اور سمت متعین کرنے والا مرکزی کردار ادا کرے گا۔

  • اسرائیل امریکہ کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    اسرائیل امریکہ کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    کہا جاتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی ہر بات ماننے کیلئےمجبور ہے ، کیوں اور کیسے امریکہ اسرائیل کی یرغمالی میں آجاتا ہے؟آئیے جانتے ہیں آج یو ایس کا پارلیمنٹ، کارٹونز، فلمیں ، تعلیمی ادارے آج سب جیوش اور اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں ،یو ایس کی ٹاپ یونیورسٹیز کے بیس فیصد پروفیسرز، ٹاپ کی چالیس فیصد فرم اور انڈسٹری کے ملازمین، انسٹھ فیصد مصنف اور ڈائریکٹر، پچاس فیصد دانشور جیوش ہیں۔

    آپ نے کبھی محسوس کیا کہ جن چیزوں کیلئے امریکہ دوسرے ملکوں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے،انہی چیزوں کیلئے اسرائیل امریکہ کو مذاکرات کے ذریعے مجبور کر کے اپنا کام کروا لیتا ہے، بیشک موجودہ ایران اسرائیل جنگ ہو یا یمن سعود ی جنگ میں امریکہ کے ذریعے اسرائیل کا تسلط، شام ہو یا عراق، مصر ہو یا یمن، لبنان ہو یا فلسطین ۔۔۔ کسی بھی جگہ اسرائیل امریکہ کی پناہ میں نہیں آیا ، بلکہ امریکہ کو ہر جنگ شروع کروانے کیلئے اسرائیل کی ضرورت پیش آتی رہی، آج جب ٹرمپ آیا تو جنگیں بند کروانے کا سہرا اپنے نام کر رہا ہے۔

    یو ایس نے سعودی عرب سے یمن وار میں یہ کہہ کر سپورٹ واپس لے لی تھی کہ اس وار میں لاکھوں لوگ مارے جا رہے رہیں،لیکن یہاں پر اگر نقطہ دیکھا جائے تو پوری دنیا کے پریشر کے باوجود امریکہ جنگ بندی معاہدے پر ابھی تک عمل نہیں کروا سکا۔ جبکہ ٹرمپ کو ایک روز خود اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہو کر کہنا پڑا تھا کہ امریکہ غزہ کا کنٹرول سنبھالے گا، اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ امریکہ اسرائیل کو استعمال کر رہا تھا بلکہ یہاں واضح نظر آیا کہ اسرائیل امریکہ کو استعمال کر چکا تھا ۔صدر ٹرمپ آج کہہ رہے ہیں کہ میں جنگیں بند کروا چکا ہوں اور دنیا میں امن میرے دور میں آئے گا، جبکہ جوبائیڈن نے کہا تھا کہ غزہ فلسطین کا واقعہ کوئی جینو سائیڈ (نسل کشی ) نہیں ہے۔

    اسرائیل کیسے امریکہ کو کنٹرول کرتا ہے یہ چیز قابل توجہ اور سمجھنے والی ہے، ایک اسرائیلی این جی او ہے جس کا مالک (STEVE J. ROSEN سٹیو ۔ جے ۔ روزن ہے) سٹیو ۔ جے۔ روزن نے کہا تھا کہ میں اگر خالی رومال بھی دوں تو امریکی ستر ایم پی ایز چوبیس گھنٹے سے پہلے مجھے دستخط کر کے دے دیں گے ، یہ بات ایک اسرائیلی این جی او کا چیف کہہ رہا تھا ۔

    اسرائیل کا امریکہ میں اس قدر ہولڈ ہے کہ اسرائیل این جی او ز امریکہ میں اسرائیل مخالف رکن ہو امریکہ میں ہی الیکشن ہروا دیتے ہیں اور سب سے اہم بات کہ اس بات کو وہ ٹویٹر جیسے پلیٹ فارم پر بتا بھی دیتے ہیں اور امریکہ نیتن یاہو کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے بڑی اچھی حکتِ عملی کے ساتھ اپنی لابی ڈپلو میسی بنا کر رکھی ہوئی ہے،اسرائیل نے امریکہ کی یونیورسٹی سے لیکر میڈیا تک اور انڈسٹری سے لیکر یوایس گورنمنٹ تک اپنا ایسا پروپیگنڈا کرنے والا دماغ بٹھا کر رکھا ہوا ہے۔ مشہور کارٹون سپر بُک دیکھیں تو اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور یہودی تاریخ بہت اعلیٰ ہے، سپر بک کارٹون سیریز کا ایپی سوڈ چوبیس دیکھیں تو اس میں بتایا گیا ہے کہ یروشلم میں آغاز سے ہی جیوش رہا کرتے تھے جن پر بہت زیادہ ظلم ہوا ، تو اس لیے اس سیریز کا مین کیرکٹر گریٹ وال آف چائنا جیسی دیوار بنانے کا آغاز کرتا ہے جو دیوار یہودویوں کی حفاظت کرے گی۔دوسری ایک مشہور سیریز (The prince of egypt)ہے۔ دی پرنس آف اجپت سیریز میں بتایا گیا ہے کہ مصر کا راجا جیوش کو بچاتا ہے، اور پھر اس سیریز میں مین کردار آ کر مصر میں یہودیوں کو دوبارہ رہنے کی اجازت دلواتا ہے، یہ سب کارٹونز میں امریکہ میں دکھایا جا ہے ، یعنی اسرائیل اور یہودیوں نے شروع سے ہی امریکن کے دماغوں میں نرم رویہ اسرائیل کو لیکر دکھایا تاکہ کل کو کوئی مسئلہ بھی در پیش آجائے تو امریکن کو یہی لگے کہ اسرائیل اور یہودی بہت اچھے ہیں اور امریکنز کی ہمدردی ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ ہو گی۔

    امریکہ کی یونیورسٹیوں کے سلیبس میں اسرائیل کا بیانیہ اور اینگل دکھایا جاتا ہے، ہر کوئی امریکن یا امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والا ہے وہ اسرائیل یا یہودیوں کو ہر معاملے میں ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پبلیکشن ہاؤسز جیوش کی ہسٹری، یروشل کی ہسٹری، جیوش کے پراسیکیوشن کی کہانیاں ریگولرلی پبلش کرتے رہتے ہیں، اور رپورٹ کیمطابق اس سب پروپیگنڈا کے پیچھے جو آرگنائزیشن ملوث ہے اس کا نام (institute of curriculm services) ہے۔

    اسی طرح فلم انڈسٹری پر، ہالی ووڈ اس وقت اربوں بلین ڈالرز کی انڈسٹری ہے جہاں فنڈنگ کا اہم کردار ہوتا ہے، ہالی ووڈ فلمیں تو پوری دنیا میں دیکھی جاتی ہیں اگر اس میں فنڈنگ کے ذریعے پروپیگنڈا کر لیا تو ایک سوپچانوے مما لک میں آپ کا بیانیہ پہنچ جائے گا، انیس سو ساٹھ میں ایک فلم آئی جس کا نام تھا ایکسوڈس(۔Exodus)تھا ۔ اس فلم میں ورلڈ وار ٹو کے بعد جیوش مہاجرین کی فلسطین پہنچنے کی کوشش کو دکھایا گیا ہے، یہ فلم اسرائیل کے جنم کی کہانی کو بھی بیان کرتی ہے، پھر دو ہزار پانچ میں ایک فلم آئی جس کا نام Munichتھا۔۔ اس فلم میں ایک کہانی بتائی گئی جب انیس سو بہتر میں میونک اولمپکس کیلئے اسرائیل کے آٹھ کھلاڑی گئے تھے جن کو ایک فسطین کے جہادی گروپ نے مار دیا تھا ، اس فلم میں بتایا گیا کہ کیسے اسرائیل پھر اس دہشت گرد گروپ سے اپنا بدلہ لیتا ہے، کیونکہ اس فلم میں اسرائیل فلسطین اور جیوش مخالف ہر شخص کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔میڈیا میں بھی اسرائیل کا اچھا خاصا کنٹرول ہے، غزہ اسرائیل وار میں بھی اموات کی تعداد کم بتائی جاتی رہی، ا مریکہ کے بڑے سے بڑے نیوز اخبارات کے جو ٹاپ لکھاڑی ہیں ان میں اکسٹھ پرو اسرائیلی ہیں،ٹاپ تھری نیوز کمپنیز کے مالک جیوش ہیں، یہ تاریخی حوالوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا جس سے امریکہ اور اسرائیل دہائیوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • نام نہاد ڈپریشن  : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    نام نہاد ڈپریشن : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    گزشتہ سالوں میں کتنے ہی سول سروس کے آفیسر اس نام نہاد ڈپریشن کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔
    عام عوام کی یہ غلط فہمی ہے کہ ہر خودکشی کرنے والا ظالم اور حرام خوری کی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا ہو گا جبکہ اکثر اوقات حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔
    کون نہیں جانتا کہ ملک عظیم پر اشرافیہ کا ایک ٹولہ قابض ہے ۔
    سیاست سے بیورو کریسی تک ہر جگہ انہی کا قبضہ ہے ۔ یہ ٹولہ عوام کے سامنے جو مرضی نورا کشتی کر لیں لیکن حقیقت میں تو یہ ایک کلٹ کا ہی حصہ ہیں جن کے مفادات مشترک ہیں تو ایسے میں آگر کوئی بھی قسمت سے اس ایلیٹ کلب میں اپنی محنت کے بل بوتے پر چلا بھی جائے تو اس کے لیے دو ہی راستے ہیں پہلا کہ ان کے ساتھ مل جائے اور فائدے میں رہے دوسرا اگر ایمانداری کے اصولوں پر چلے تو پھر ڈپریشن کے لیے تیار رہے اب یہ اشرافیہ کا کلٹ اس آفیسر کو زچ کرنے کے لیے ہر حربہ اپنائے گا اس کی پرموشن روک دی جائے گی اسے محکمے میں سائیڈ لائن کر دیا جائے گا ۔۔

    آگر یہ خودکشی کرنے والے آفیسرز ڈپریشن میں اس وجہ سے تھے جیسا عام عوام کی رائے بتاتی ہے مطلب عوامی حقوق کی پامالیاں اور مالی بے ضابطگی ۔۔تو پھر یہ بڑے بڑے مگر مچھ جو ملک لوٹ کھا گئے … یہ ڈپریشن میں جا کر خود کشی کیوں نہیں کرتے ؟..
    آخر ہر بار کم رینک کا آفسر ہی اوپر والوں کے دباؤ کی وجہ سے خودکشی کیوں کرتے ہیں ؟…
    آخر حکومت پر قابض مافیا ان سے ایسا کونسا مطالبہ کرتا ہے جسے کرنے کی بجائے یہ لوگ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ؟..
    کوئی خود کشی کرنے والا افسر انتہائی غریب گھرانے سے آ کر آفسر بنا تو کسی کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے کیا انسان خود اندر سے اتنا کمزور ہو سکتا ہے کہ ان حالات کے باوجود اپنی جان لے لے؟…

  • اسٹرٹیجک پارٹنر یا اسٹرٹیجی ،افغانستان حریف حلیف کی کشمکش میں کیوں؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    اسٹرٹیجک پارٹنر یا اسٹرٹیجی ،افغانستان حریف حلیف کی کشمکش میں کیوں؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    ماضی میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی صرف سرحدیں ہی نہیں بلکہ دل بھی ملتے ہیں لیکن اب اثر زائل ہو چکا ہے، اس اثر کے خاتمے کے اسباب افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کے ساتھ کچھ سیاسی طاقتوں کے نا توازن تعلقات تھے۔ افغانستان کی جغرافیائی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن اس کی موجودہ سرحدیں تنازعات میں گھری ہوئی ہیں، میں اس بات سے قرینہ قیاس کرتا ہوں کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات بہتر کرنا بھی غلطی ہو گی۔

    دنیا گواہ ہے کہ جب جب افغانستان کے ساتھ جس نے وفا کی وہ مارا گیا۔دی وال سٹریٹ جرنل کے جرنلسٹ سون اینجل راسموسن نےسال 2024 میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان Twenty Years: Hope, War and the Betryal of an Afghan Generation تھا۔ یہ کتاب خصوصی طور پر افغانیوں کی بے وفائی اور عالمی برادی کے کردار پر لکھی گئی۔ اس کتاب میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سیاسی تنازعات اور الزامات پر بھی بحث کی گئی ہے،کتاب میں جہاں افغان خطے میں بسنے والے لوگوں کی بے وفائی پر تبصرہ ہے وہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے مخصوص واقعات وجہ موضوع ہیں نہ کہ پوری افغان نسل یا پٹھان قوم کو الزامات کا نشانہ بنانا مقصود ہے۔ آن دی ادر سائیڈ، یہ بات سچ ہے کہ افغانی حکمرانوں نے کبھی اپنے لوگوں سے بھی وفا نہیں کی۔قطع نظر کہ ماضی میں پاکستان کی سیاسی قیادت کی وجہ سے بھی معاملات میں جھول تھے ۔

    افغانستان کی موجودہ شکل کا قیام 1747 میں احمد شاہ درانی نے کیا تھا جس کا رقبہ 6 لاکھ 52 ہزار 864کلومیٹر ہے۔ویسے تو افغانستان کی تاریخ آریانہ سے شروع ہوئی تھی جو آج کے افغانستان ، خراسان پر مشتمل تھی اسی وجہ سے افغانستان کی سرحدیں مختلف ادوار میں تبدیل ہوتی رہیں۔آج افغانستان کی موجودہ سرحدیں 6 ممالک سے ملتی ہیں واضح رہے کہ افغانستان کسی بھی ملک میں طالبان کو نہیں بھیج سکتا اور نہ ہی کوئی ملک افغانستان کو مداخلت کی اجازت دیتا ہے مگر حیران کن طور پر پاکستان نے افغانی مہاجرین کا 40 سال بوجھ برداشت کیا جس کا ثمر یہ ملا کہ آج ہم دہشت گردی کے چنگل سے نہیں نکل پا رہے،پاکستان پچھلے چند سالوں میں دہشت گردی کی وجہ سے 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے،آج اکتوبر 2025 تک اسی ہزار سے زائد لوگوں کی قربانیاں دے چکا ہے لیکن آج بھی افغان طالبان کی نظر میں پاکستان بُرا ہے ۔ پاکستان اپنے بڑے بھائی کو ہمیشہ گلے لگا کر دشمن کی سازشوں سے بچاتا رہا ۔

    پاکستان کے ساتھ جو افغان سرحد ملتی ہے اس کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے جس کی لمبائی 2670 کلومیٹر ہے ،دوسرے نمبر پر تاجکستان کی سرحد افغانستان کے ساتھ 1206 کلومیٹر ہے جبکہ ایران 936،ترکمانستان 744اور چین کی سرحد 76 کلومیٹر ہے ۔ چھ ممالک میں سے افغانستان کا بس کسی ملک میں نہیں چلتا مگر پاکستا ن کی سرحد بھی پار کرتے ہیں اور گالی بھی دیتے ہیں، تمام احسانات کے باوجود جو پاکستان نے آج تک نہیں جتلائے افغانستان سابقہ حریف انڈیا کو موجودہ دوست بنا چکا ہے ،لگتا یوں ہے کہ افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلق قائم کرنا اپنے ساتھ دشمنی کرنےکے مترادف ہے۔پچھلے ہفتہ طالبان کے وزیر خارجہ امیر متقی نے ایک ہفتہ انڈیا کے دورہ پر تھے جس کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان اپنی پالیسی بدل چکا ہے۔ افغانستان کی اپنی تاریخ جہاں بہت پرانی ہے وہاں افغانی طالبان آج بھی ازلوں سے چلتی دشمنی کی تاریخ کو مسخ نہیں کرنا چاہتے اور بار بار ہار جاتے ہیں۔ گوریلا وار کے ماہر پاکستان کو گرانے کو سوچتے ہوئے خود گر جاتے ہیں ، شاید کچھ لوگ سوچیں کے افغانستان نے امریکہ جیسی سپر پاور کو شکست دی ، واضح رہے کہ امریکہ کو شکست دلانے میں صرف افغانستان کا ہی کردار نہیں تھا۔افغانستان کے چونتیس صوبے ہیں لیکن کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جہاں جہاد کے نام پر مجاہدین کی ریل بیل نہیں تھی، آج جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کو چار برس گزر چکے ہیں کسی ملک نے باقاعدہ طور پر افغان طالبان کو تسلیم نہیں کیا۔ کنارہ کشی کے باوجود پاکستان ہمیشہ بازو بنا ، بارِ دیگراں تعلقات خراب ہوئے لیکن معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ، آج حقانی گروپ اور قندھاری گروپ میں آپسی لرائیاں جاری ہیں جس کا فائدہ دشمن اٹھانے کی لاکھ کوشش کر رہا ہے۔یہ آج کی بات نہیں 1994 سے بھارت افغانستا ن کو ایک پراکسی کے طور پر دیکھ رہا رتھا جس کے ذریعے اپنی پراکسیوں کو مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ اگر یہی صورتحال افغان طالبان کی رہی تو نہ صر ف افغان خطہ بلکہ ملحقہ خطوں کی بقاء کا مسئلہ بنے گا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان دوست وفا میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔

    آج افغانستان میں بہت سے لسانی گروہ اپنی قوم کی شناخت کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن افغان طالبان کی غلط پالیسیاں نہ صرف قوم کی شناخت بلکہ خطے کی شناخت کی دشمن بنی ہوئی ہیں۔1979 سے افغانستا ن میں مردم شماری نہیں کی گئی، 2008 میں مردم شماری کی کوشش بھی ناکام ہو گئی، 2013 میں اعداوشمار تو جمع کیے گے لیکن کامیابی نہ مل سکی کیونکہ طالبان پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی کی سازشوں میں مصروف تھے۔
    آج افغانستان کی آبادی تقریباً 4 کروڑ سے زائد ہے جن میں 42 فیصد سے زائد پشتون اور دوسرا بڑا گروہ تاجک ہے ، نقطہ یہ ہے کہ اتنے بڑے اسلحہ ڈپو اور وسائل کے ساتھ طالبان اپنی قوم کی بہتری کا سوچ سکتے ہیں مگر وہ غیر قانونی جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں ۔ میں یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا کہ اگر افغانستان کی خواتین کو حقوق ملیں، بندوقیں بیچ کر اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتا بیں تھما دی جائیں تو نہ صرف ایک بلکہ دو خطوں کی عوام کئی یورپی ممالک سے مضبوط اور لٹریسی ریٹ کا عالمی سطح پر تذکرہ کیا جائے گا ۔ لیکن میں پھر کہوں گا یہ سب تب ممکن ہو گا جب اپنوں کو مارنے سے نکل کر گلے لگانے کا سلسلہ شروع ہو گا۔انیس اکتوبر کو پاک افغان جنگ بندی کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی وجہ سے ایک نئی امید کا پہلو نکلا ،لہذا اُمید ہے کہ دشمن کے آنچل میں پہنچنے کے بعد یہ اُمیدیں دم نہیں توڑیں گی بلکہ طالبان آبیاری کے لیے نئی اور بہتر اسٹر ٹیجی کا سوچیں گے۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں