Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عدم تشدد کا عالمی دن اور پرتشدد بھارت کا مکروہ چہرہ — اعجازالحق عثمانی

    عدم تشدد کا عالمی دن اور پرتشدد بھارت کا مکروہ چہرہ — اعجازالحق عثمانی

    ہر سال 2اکتوبر کو ، اقوام متحدہ کی قرارداد (جس کی 143 رکن ممالک نے حمایت کی تھی) کے مطابق "عدم تشدد کا عالمی دن” یا "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم عدم تشدد کو منانے کا مقصد، امن، برداشت اور عدم تشدد کا فروغ ہے ۔ تاکہ معاشرے میں امن و امان ، محبت اور بھائی چارے کا فروغ ہو۔

    جنوری 2004 میں ایرانی نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی نے عدم تشدد کا عالمی دن منانے کی تجویز پیش کی۔ جسے بھارت میں اس قدر پزیرائی ملی کہ بھارت نے "عالمی یوم عدم تشدد” منانے کی تجویز اقوام متحدہ کے سامنے پیش کردی۔

    مگر بھارت جیسے جابر اور ظالم ملک کو دیکھ کر یہ بات کس قدر عجیب اور فریب لگتی ہے کہ اس ملک نے عالمی یوم عدم تشدد کی قرارداد اقوام متحدہ میں پیش کی تھی۔ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی یہ دن اپنے سیاسی رہنما گاندھی کے یوم پیدائش کے طور پر مناتے ہیں اور اسے بھارت میں "گاندھی جیانتی”کے نام سے منایا جاتا ہے۔ گاندھی نے کہا تھاکہ

    "حقیقی خوشی وہی ہے۔ جو آپ بھائی چارے کے لیے سوچتے ، کہتے اور کرتے ہیں”۔

    عدم تشدد کے علمبردار گاندھی کا ملک بھارت تو کبھی بھی تشدد ترک کرنے پر آمادہ نظر نہیں آیا۔ بھارت میں مسلمانوں پر منظم تشدد اور قتل و غارت گری سے بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ بھارت کی کشمیر میں جاری وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ دیکھ کر بھارت کی عدم تشدد کی قرارداد صرف فریب لگتی ہے۔ اپنے حق کےلیے آواز اٹھانے والے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و تشدد اور سفاکی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ جموں شہر کی قریبی نہر کشمیریوں کے خون سے سرخ نظر آتی ہے۔

    گائے کے ساتھ نظر آنے والے مسلمانوں پر بھارتی مشتعل ہجوم کا تشدد ، کشمیر میں ظلم وبربریت ، مکر و فریب اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گاندھی کی قوم کی اقوام متحدہ میں عدم تشدد کی قرارداد صرف ایک فریب تھا۔ پوری دنیا میں بھارت کے قرارداد پیش کرنے کی وجہ سے "عدم تشدد کا عالمی دن” یا "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” تو منایا جاتا ہے ۔ مگر بھارتیوں نے خود آج تک اس پر عمل نہیں کیا۔

    بطور معاشرہ ہم بھی ایک پرتشدد معاشرہ ہیں۔ گھروں میں ملازمین پر تشدد ، باس کے دفتر میں خواتین پر جنسی تشدد، سکولوں اور مدارس میں طلب علموں پر تشدد۔۔۔۔ یہی ہمارے معاشرے کی اصل تصویر ہے۔ لکھتے ہوئے باچا خان( خان عبدالغفارخان المعروف باچا خان پختونوں کے ایک سیاسی رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ انھوں نے برطانوی دور میں عدم تشدد کا پرچار کیا۔عدم تشدد کے بارے میں انکا ایک قول بہت مشہور ہے۔”ہماری جنگ عدم تشدد کی جنگ ہے اوراس راستے میں آنے والی تمام تکالیف اورمصائب ہمیں صبر سے جھیلنے ہوں گے”) کا ایک قول پردہ فکر سے بار بار ٹکرا رہا ہے.

    ” اگر آپ نے کسی کو ناپنا یا جاننا ہو کہ وہ کتنا ترقی یافتہ اور عدم تشدد کا علمبردار ہے تو دیکھیں کہ ان کا خواتین کے ساتھ رویہ کیسا ہے۔”
    اگر ہم اسی قول کے ترازو میں خود کو تولیں تو ہمارے معاشرے کا مجموعی وزن مائنس میں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” سے کچھ سیکھتے بھی ہیں یا اگلے سال بھی یہ معاشرہ ایک پرتشدد معاشرہ ہی ہوگا۔

  • زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    ایک بیج ایک تناور سرسبز و آباد پودے کی جڑوں میں اپنی زندگی قربان کرتا ہے تب ہی ایک نئی زندگی کی کامیابی ممکن ہوتی ہے. کامیابی ایک انعام ہے کوئی لاٹری یا اتفاق نہیں ہوتا.

    آپ ایک نوجوان عاشق کو دیکھیں. اسکا گھر ماں باپ بہن بھائی دوست احباب سب کچھ ہوں گے. لیکن ایک عشق سب کچھ فراموش کرا دیتا ہے یہاں تک کے وہ مرنے پر بھی تیار ہو جاتا ہے. ایک نشئی بھی اپنی دنیا سے کٹ کر نشے کی دنیا میں خود کو گم کر دیتا ہے. اسے بھی پتہ ہوتا ہے اسکا انجام کیا ہے؟

    یہ ایک انسانی مزاج ہے. جب سمٹنے پر آتا ہے تو زندگی کے ایک اکیلے رنگ کو پوری کائنات سمجھ لیتا ہے. اور اس رنگ کے بغیر زندگی موت لگتی ہے. جب پھیلنے پر آتا ہے تو وسیع کائنات بھی اس کو چھوٹی لگتی ہے. یہ جن کو ہم کامیاب سمجھتے ہیں یہ جیتے جی خود کو کسی ایک مقام پر مار چکے ہوتے ہیں.

    ان کی مثال اس بیج کی طرح ہوتی ہے جو پھر سمٹنے سے انکار کر دیتے ہیں. یہ زمین کا سینہ چیرتے نکل آتے ہیں. نہ کوئی طوفان نہ کوئی موسم ان کو پھر روک پاتا ہے. یہ خوف کی زنجیریں بہت پہلے اپنے اندر توڑ چکے ہوتے ہیں. تب یہ دنیا کو نئے رنگ نئی خوشبو دیتے ہیں. دنیا ان کو رشک سے دیکھ رہی ہوتی ہے.

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے. روزانہ کی نیند بھی موت کی طرح ہمیں سب کچھ بھلا کر دوبارہ تعمیر کرتی ہے. نئے دن کا نیا سورج روزانہ ایک نئی اُمید لے کر آتا ہے. ہمیں بس ایک ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے آج سمٹ کر اپنی محدود دنیا میں مرنا ہے یا اس دنیا کا حصہ بننا ہے جو ہمارا انتظار کر رہی ہے.

  • ناگ فروش — ستونت کور

    ناگ فروش — ستونت کور

    1911 میں تاجِ برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی راجدھانی کو کلکتہ سے دِلی منتقل کردیا ۔ آنے والے وقتوں میں ایک نیا مسئلہ سر اٹھانے لگا ، بلکہ پھن اٹھانے لگا ۔۔۔ اور وہ تھا دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگ کی بڑھتی ہوئی آبادی ۔

    جو کہ ناصرف ایک زہریلا اور خطرناک خزندہ ہے بلکہ اس کی بڑھتی آبادی بھی لوگوں بھی خوف و ہراس اور بےچینی کا باعث بن رہی تھی ۔
    چنانچہ برٹش حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص زندہ یا مردہ ناگ لے کر آئے گا اسے نقد انعام ملے گا۔

    اس طرح لوگوں نے ناگ کا شکار کرنا اور انہیں مقررہ سرکاری دفاتر لیجا کر انعام حاصل کرنا شروع کردیا ۔

    لیکن۔۔۔۔ کچھ عقلمند ہندوستانیوں نے اس موقع سے دگنا فائدہ اٹھانے کا سوچا اور انہوں نے خفیہ طور پر ناگوں کو پالنا شروع کر دیا تاکہ ان کی بریڈنگ کروا کر زیادہ سے زیادہ ناگ حکومت کو پیش کر کے خوب انعامی رقم حاصل کی جائے۔۔۔۔ اور اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا۔

    اہلِ دلی نے اس "زہریلی گنگا” میں خوب ہاتھ پیر دھوئے بلکہ ڈبکیاں لگائیں ۔

    اور جب برطانوی حکومت کو پتا چلا کہ ہندوستانی گھر گھر ناگ پال کر انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔۔۔ تو انہوں نے ناگ لانے پر مقرر کی گئی انعامی رقم کو منسوخ کردیا ۔

    لیکن پھر جن سینکڑوں لوگوں نے ہزاروں ناگ پال رکھے تھے اور کوئی چارہ نہ ہونے پر انہوں نے ان ناگوں کو یہاں وہاں جھاڑیوں ، درختوں ، مٹی کے ٹیلوں پر آزاد کردیا۔۔۔ اور جب آزاد کیے سانپوں نے قدرتی ماحول میں اپنی نسل بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا تو دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگوں کی آبادی میں پھر سے بےپناہ اضافہ ہوگیا ۔

    اس رحجان کو آج تک Cobra effect کے نام سے یاد کیا جاتا ہے !!!

  • زندگی کا فن چلنے میں ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کا فن چلنے میں ہے — ریاض علی خٹک

    رتن ٹاٹا نے ایک انٹرویو میں کہا جب وہ ٹاٹا موٹرز شروع کر رہا تھا تو اس وقت اسکا کوئی دوست نہیں تھا. ایلون مسک سے ایک انٹرویو میں جب پوچھا گیا آپ اس نئے نوجوان کو کیا مشورہ دیں گے جو کل کا ایلون مسک بننا چاہتا ہے؟ مسک نے کہا میں اسے ایلون مسک بننے کا مشورہ کبھی نہیں دوں گا. اس زندگی میں کوئی fun نہیں ہے.

    دولت و شہرت کی دوڑ میں ایک مقام آتا ہے جب دوڑنے والے کو اچانک احساس ہوتا ہے میں کتنا تنہا ہوں. اسکا تجربہ اسے سمجھا دیتا ہے میرے آس پاس ہر وقت جی جی کرنے والے میری محبت میں میرے ساتھ ہیں یا اس دولت و شہرت میں اپنا حصہ لینے کیلئے.؟ کیونکہ ہماری اکثریت زندگی کی شروعات میں دوڑنے اور چلنے کا فرق نہیں سمجھ پاتی.

    ہم لوگ سمجھتے ہیں چلنے اور دوڑنے میں بس رفتار کا ہی فرق ہے. لیکن جسم کیلئے یہ دو بلکل الگ چیزیں ہیں. چلتے ہوئے ایک قدم آپ کا ہر وقت زمین پر ہوتا ہے جبکہ دوڑتے ہوئے آپ ہوا میں ہوتے ہیں. کچھ دیر زمین کو جو چھوتے بھی ہیں تو اپنے ہی جسم کا وزن تین گنا ہو کر ایک جھٹکا جسم کو دیتا ہے. ہمیں یہ جھٹکے تھکا دیتے ہیں.

    زندگی کا فن چلنے میں ہے. چلتے رہنے میں ہے. چلنا آپ کو اپنے لئے اور اپنوں کیلئے وقت دیتا ہے. زمین ہمیں تھکنے نہیں دیتی ہر قدم دوسرے قدم کیلئے حوصلہ دیتا ہے. دوڑ تھکا دیتی ہے. ہمارے پاس نہ اپنے لئے نہ اپنوں کیلئے پھر کوئی وقت ہوتا ہے. ہم بہت قیمتی لمحے کھو کر آگے نکل تو جاتے ہیں لیکن پھر ہم تنہا اور تھکن سے چور بھی ہو جاتے ہیں.

  • 8 اکتوبر!! قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن — اعجازالحق عثمانی

    8 اکتوبر!! قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن — اعجازالحق عثمانی

    پاکستان میں گرمی اپنے زوروں پر تھی۔کہ اکتوبر میں موسم نے انگڑائی لی اور راتیں سہانی ہونا شروع ہو گئیں۔ اکتوبر نے خنکی نے راتیں تو سہانی کر دی۔ مگر یہ ماہ خود قیامت خیز ثابت ہوا۔ قیامت خیز یوں کہ 8 اکتوبر کو زوردار زلزلے کے جھٹکے نے پاکستان کے شمالی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ 7.6 کی شدت سے آنے والے اس زلزلے سے اسلام آباد، کشمیر اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 86 ہزار لوگ ہلاک اور تیس لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔

    8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین سے اظہار ہمدردی و یک جہتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے آگاہی فراہم کرنے کے لیے پاکستان میں 8 اکتوبر کو قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن منایا جاتا ہے۔

    مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے آج تک کوئی منصوبہ بندی کی ہے؟ کیا صرف دن منا لینا کافی ہوتا ہے؟۔ جواب ہے ، بالکل بھی نہیں، پاکستان نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی بنانے کی کوشش تک نہیں کی۔ جس کی زندہ مثال 2022 کا حالیہ سیلاب ہے۔

    آج بھی ملک پاکستان کے کئی علاقے سیلاب جیسی قدرتی آفت سے متاثر ہیں۔بلوچستان کے بتیس ، گلگت بلتستان کے چھ، پنجاب کے تین، خیبر پختونخوا کے سترہ اضلاع اس ہولناک آفت کا شکار ہوئے ہیں۔ جبکہ سندھ کو سیلاب نے جتنا تباہ کیا ہے۔ اس کا تو صحیح سے اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔

    پاکستان میں شاید اب سیلاب ایک معمول بن چکا ہے۔ ہر چند برس کے بعد شدید بارشوں کے باعث سیلاب آتا ہے۔نشیبی اور کمزور انفراسٹرکچر والے علاقے زیر آب آ جاتے ہیں۔ کچی بستیوں کے نام و نشان تک باقی نہیں رہتے۔ لوگوں کے مویشی بھی یہ آفت ساتھ بہا کر لے جاتی ہے۔ کئی انسانی جانیں پانی کی نذر ہوجاتی ہیں۔اور پھر ان غریبوں کے ساتھ ظلم یہ ہوتا ہے کہ حکومت ان کو پوچھتی تک نہیں ہے ۔

    آج بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی امور میں ریاستی عمل داری آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مختلف فلاحی ادارے متاثرہ علاقوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ ان ہی فلاحی ادارے میں سب سے نمایاں نام اور کام الخدمت فاؤنڈیشن کا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار جنوبی پنجاب ، گلگت، خیبرپختونخوا اور سندھ کے ان علاقوں تک پہنچے ، جہاں جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔

    افسوس حکومت وقت نا تو متاثرین کے زخموں کا مرہم بنی اور نا ہی سیلاب سے بچاؤ کے لیے کوئی اقدام کر پائی۔ قدرتی آفات سے بچاؤ یا نمٹنے کے متعلق آگاہی پھیلانے سے ہزاروں قیمتی جانیں تو بچائی جاسکتی ہیں۔مگر کاش آگاہی پھیلانے کے لیے چند بینرز لگانے اور تقاریب منعقد کروانے کے علاؤہ کوئی عملی اقدام بھی کیا جاتا۔

  • معاشرے میں خرابیوں  کی وجوہات اور اس کا حل

    معاشرے میں خرابیوں کی وجوہات اور اس کا حل

    معاشرے میں خرابیوں کی وجوہات اور اس کا حل
    تحریر: کنور اویس سمیع
    آج جس دور سے ہم گُزر رہے ہیں اس دور میں انسان خود کو ہر دوسرے فرد سے بہتر سمجھتا ہے ہر انسان کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ وہ ہر لحاظ سے بالکل ٹھیک ہے اگر وہ کوئی بھی بات کر رہا ہے وہ 100 فیصد صحیح کر رہا ہے کسی کو کوئی اختیار نہیں اس کی بات کے برعکس سوچنے اور بولنے کا ۔آج کا انسان سُنی سنائی باتوں پر زیادہ یقین رکھتا ہے بجائے اس کے کہ وہ خود اسے اگے بتانے سے پہلے اس کی تصدیق کرے صرف یہیں تک نہیں بلکہ اُس سُنی سنائی کو مکمل کنفیڈنس سے ڈیفینڈ بھی کرتا ہے ،میرے مطابق معاشرے میں خرابی اور اختلافات میں زیادہ ہونے کی ایک وجہ کم علمی اور ایسی باتوں پر یقین کر لینا ہے جو غیر تصدیق شدہ ہوں ۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں جیسے جیسے دنیا ترقی کر رہی ہے ہمارے پاس سورس آف نالج کا ذریعہ بھی وسیع ہو گیا ہے مگر جہاں ہمیں سہولت ملی ہے ساتھ میں انفارمیشن میں صحیح غلط کا فیصلہ کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے ایسی صورت میں ہم کچھ لوگوں کو اپنی نالج کا ذریعہ بنا لیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ وہ اُس شخص کا مائنڈ سیٹ کیا ہے اُس کی نظر میں کیا صحیح کیا غلط ہے وہ کیا پسند کرتا ہے کیا نہیں (ایک میڈیا کا سٹوڈنٹ ہونے کی وجہ سے میں اس چیز کی اہمیت جانتا ہوں ) یقین کریں اگر آپ کسی ایک بندے یا گروپ پر اپنی نالج انفارمیشن کے لئے ڈیپنڈنٹ ہیں تو وہ شخص یا گروپ آپ کی سوچ کو کنڑول کر رہا ہے یقیناََ آپ خود اس کی اجازت دے رہے ہیں ۔ میری نظر میں اختلاف کی بنیادی وجہ کم علمی ہے ۔ کوشش کریں اپنی نالج اور انفارمیشن کا راستہ وسیع کریں اور ایک تصدیق شدہ انفارمیشن لوگوں تک پہنچائیں ۔ کم علم ہونے کی صورت میں بحث نہ کریں ۔ اگر کوئی آپ کی کسی بات سے اختلاف کرے تو اُس کے پوائنٹ آف ویو کو سُنیں اور سمجھیں (سمجھیں تاکہ آپ اُس کو اچھے سے سمجھا سکیں ) معاشرہ ایک ایسی چیز ہے جو کسی بھی جگہ پر ایک فرد کی وجہ سے بھی اس میں خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں معاشرے میں ہر فرد کا کردار سوچ اخلاق بہتر ہونا ضروری ہوتا ہے یقیناََ ایک اچھے معاشرے کے لیے بہت محنت درکار ہے سب یہی سوچیں جو آپ کے اختیار میں ہے اُسے بخوبی سرانجام دیں انشاللہ بہتری ہوگی۔

  • اصل سوچ کا فقدان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اصل سوچ کا فقدان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوم ورک ملتا۔ سلیبس کی کتاب سے پیج نمبر 3 سے پیج نمبر 222 تک جو لکھا ہے اُسے نئی کاپی پر نقل کرنا ہے۔ فلاں چیپٹر کو دوبارہ سے دوبارہ چھاپنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گرمیوں کے کام کی کاپیوں پر محنت "اُنکی جِلد” اور ظاہری خوش خطی پر موقوف تھی۔ علم سیکھنا کیا خاک تھا؟ لکھا ہوا چھاپنا اور بولا ہوا رٹنا۔

    آٹھویں جماعت میں سائنس انگریزی میں سیکھنی اور ستم ظریفی کہ انگریزی کا الگ سے مضمون ہونا جہاں پر گرامر رٹائی جاتی۔۔ایسے میں سائنس کیا خاک سیکھی جاتی جب سائنس کی زبان ہی اسی وقت سیکھی جا رہی ہوتی جب سائنس سیکھی جا رہی ہوتی۔ لہذا شارٹ کٹ محض رٹا یا گائڈز جس میں قدرے آسان انگریزی میں سائنسی موضوعات سمیٹے جاتے۔ پرچے میں یہی شارٹ کٹ لگا کر نمبر حاصل ہوتے۔ سکول سے لیکر یونیورسٹی تک سائنس کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔ ایسے میں جدید علوم کا حصول کیونکر ممکن ہے؟

    آپ کسی محفل میں چلے جائیں دو بزرگ حضرات آپس میں کونسے حکمت کے موتی پرو رہے ہونگے؟ مڈل کلاس طبقے کے بزرگوں کے پاس زندگی کے کیا تجربات ہونگے؟ نہ اُن بیچاروں نے دنیا دیکھی نہ کوئی جدید علوم پڑھے۔ بات کریں زندگی کے تجربات کی تو اُنکی زندگی تھی کب اور اّنکی دنیا تھی کتنی بڑی ؟ گھر سے کاروبار یا دفتر، وہاں سے واپس گھر۔۔۔ خاندانی مسائل میں گھرے مڈل کلاس اور نچلے طبقےکے بزرگ کونسے نئے زندگی کے تجربوں کا گیان دے سکتے ہیں؟

    اسی طرح پاکستان میں زیادہ تر امیر طبقہ ایک۔یا دو نسل قبل زمیندار تھا/ہے، ۔یا مقابلے کے امتحان میں رٹے والا یا فوج میں ترقی کرتے متوسط طبقے کے کسی فرد کی اولاد ہے جو گاؤں کی primitive سوچ سے نہیں نکل سکا۔۔انکی پرانی نسلوں کی غربت کے قصے ان میں لاشعوری طور پر کُھد چکے ہیں اور ایسا خوف ڈالے ہوئے ہیں کہ امیر ہو کر بھی انکی سوچ اپنے آباؤ اجداد جیسی غریب ہے۔ Financial insecurity کا منہ بولتا ثبوت اِنکی اوٹ پٹانگ حرکتیں ہیں جو انکے احساسِ کمتری کو نمایاں کرتی ہیں۔کبھی مارک زکر برگ کو دیکھا کہ گاڑی روکنے پر کہے: "تو مینوں جاندا نئیں”. کبھی ایلان مسک کا سنا کہ نشے میں دھت ہو کر کسی کو کچل دے وغیرہ وغیرہ۔

    شیر کے پاس پہلے سے طاقت ہوتی ہے کہ وہ جنگل کا بادشاہ ہے مگر ڈرنا تو بکری سے چاہئے کہ اگر اسکے پاس طاقت آجائے تو وہ اسکا ذمہ دارانہ استعمال کیسے کرے گی؟ سو یہ وہ عمومی مسائل اور رویے ہیں جن سے کم سے کم ہمارے بزرگ تو اب تک نہیں نکل سکے لہذا جب یہ رٹا ہوا جملہ سننے کو ملتا ہے کہ بزرگوں سے سیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔

    لہذا فی زمانہ مملکتِ خدادا کے نہ ہی بزرگ، نہ ہی اپر کلاس اور نہ ہی تعلیمی نظام ہمیں اصل سوچ کی طرف لا سکتا ہے۔ اصل سوچ کیسے آتی ہے؟ ایک اچھوتا خیال ، ایک اچھوتا آئیڈیا کیسے بنتا ہے؟ میرے نزدیک بچپن کی بہتر تعلیم سے اور اگر وہ میسر نہ ہو تو کم سے کم سوال کرنے کی عادت سے۔ تجسس سے، چیزوں کو گہرائی میں سوچنے سے، متابدل تعلیم کےذرائع سے وغیرہ وغیرہ ۔

    بدقسمتتی سے ہمارے ہاں ان مثبت رویوں کا فقدان ہے۔ پچھلے ستر سال کی دھول ہم ابھی تک چاٹ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے ذہنوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور سوچ منجمد ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں کم سے کم آنے والی نسلوں کے لیے کچھ کرنا ہے۔۔اگر آپکے پاس جدید علم نہیں تو اپنے بچوں کی خاطر اسے سیکھیے یا کم سے کم اسے جانیں ضرور تاکہ اپنے بچوں کو بتا سکیں۔ بچوں میں سکول کی تعلیم سے ہٹ کر دیگر ذرائع جیسے کہ انٹرنیٹ سے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ اور سب سے بہتر یہ کہ بچوں کو سوال کرنے سے، نئے تجربات کرنےسے مت روکیے۔ آپکو جواب نہیں آتا، مجھ سے پوچھیں، انٹرنیٹ پر خود ڈھونڈیں یا بچوں کو کہیں کہ سوال اچھا ہے، جواب ملکر ڈھونڈتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر کسی بچے کے تجسس کوغلط جواب یا یہ کہہ کر مت ختم کیجئے کہ سوال کرنا غلط ہے۔

    اصل سوچ کا حصول معاشرے میں جدید تعلیم اور مثبت رویوں کے رجحان سے ہی ممکن ہے ورنہ رٹے زدہ، موکلد اور دولو شاہ کے چوہے ہی پیدا ہوتے رہیں گے حقیقی معنوں میں عقل کی معراج کوچھوتے انسان نہیں۔

  • حکیم حضرات اور "زبان گردی” — ستونت کور

    حکیم حضرات اور "زبان گردی” — ستونت کور

    بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین بالخصوص والدِ گرامی سے مختلف چیزوں ، کینڈیز، سنیکس اور کھلونوں کی فرمائشیں کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ کہیں پڑا کہ ایک صاحب کے بچوں نے کہا کہ ” ہمیں کاٹن کینڈی اور رائس کیک کھانے ہیں ” تو وہ صاحب کہتے ہیں ” یہ کیا چیزیں ہیں ؟ کبھی نہ دیکھیں نہ سنی نہ کھائیں۔” تو بچوں نے جب موبائل پر انہیں پکچرز دکھائیں تو وہ بولے ” اوہ اچھا انہیں کھاتے تو ہمارا پورا بچپن گزرا انہیں ہم لچھا اور مرُونڈا کہا کرتے تھے ".

    ہمارے ہاں یعنی پاک و ہند و بنگال میں حکماء کرام کی ایک صدیوں پرانی عادت ہے کہ خوامخواہ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے ، دوسروں پر اپنی علمیت کا رعب بٹھانے اور اپنی طبی قابلیت ثابت کرنے کے لیے حکماء کرام ہمیشہ مشکل اور ثقیل الفاظ کا استعمال کرتے ہیں پھر چاہے وہ امراض کے نام ہوں یا ادویہ کے نام۔

    مثلاً روغنِ کنجد ، عرقِ بادیان ، آبِ گھیکوار، قہوہِ نیشکر ، کشتہِ بیضہ مرغ، معجونِ خرما ، شربتِ گلُ سرخ، معجونِ سمک بحری ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔
    اب۔۔۔

    سننے یا پڑھنے والوں کو یہ بھاری بھرکم عربی و فارسی اصلاحات سننے پر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ ” صدیوں پرانے قیمتی و نایاب نسخے ” دارصل ہمالے کی برفیلی چوٹیوں پر اگنے والی کسی نایاب جڑی بوٹی۔۔۔۔ بارش کے بعد صحرائے صحارا کے ٹیلوں پر پھوٹنے والے کسی مشروم ۔۔۔۔ ایمازون کے جنگلات میں پائے جانے والے کسی پھل۔۔۔۔رانگاماٹی کی بلندیوں پر اگنے والے کسی پھول ۔۔۔۔ یا اوقیانوس کی گہرائیوں سے نکالے جانے والے کسی مونگے سے بنائی جاتی ہوں گی ۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ فی الحقیقت یہ سب نام اور ان جیسے درجنوں دیگر بھی جو آپ نے پڑھے ، سنے ہوں گے کسی محلے کی کریانہ شاپ سے ملنے والے عام آئٹمز کے نام ہیں ۔۔۔۔ جیسا کہ میں نے بتایا :

    روغنِ کنجد(تِل کا تیل) ، عرقِ بادیان (سونف کا عرق ) ، آبِ گھیکوار (کوار گندل/ایلوویرا کا Gel)، قہوہِ نیشکر (گنے کی چائے) ، کشتہِ بیضہ مرغ (مرغی کے انڈے کا کشتہ) ، معجونِ خرما (کجھور کا پیسٹ ) ، آب گلُ سرخ (عرق گلاب)، معجونِ سمک بحری( سمندری مچھلی سے بنی کوئی دوا ).

    بھئی ، سیدھا سیدھا پھوٹ دینے میں کیا حرج ہے ؟ ان کو لگتا ہے کہ عام روزمرہ کا نام بول دیا تو ان کی دکانداری کو گرہن لگ جائے گا ۔۔۔ یوں تو میڈیکل ادویات کے بھی فارمولوں کے طویل اور پیچیدہ نام ہوتے ہیں لیکن فارما والے عام طور پر ان ناموں کی مختصر شکل یا پھر الگ سے مناسب سا نام استعمال کرتے ہیں مثلاً Soluble Aspirin کا نام "ڈسپرین ” وغیرہ ۔

    اور پھر ادویات ہے نہیں یہ حضرات امراض کے نام بھی عجیب و غریب قسم کے رکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن وہ پھر کبھی سہی !!

  • پرویز رشید کی  وفاداری قابل رشک،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پرویز رشید کی وفاداری قابل رشک،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پرویز رشید کی وفاداری قابل رشک،تجزیہ :شہزاد قریشی
    ووٹ کو عزت کے نعرے اور تحریک سے لے کر لندن روانگی تک مریم نواز کی جدوجہد میں پرویز رشید کی وفاداری اور استواری شریف خاندان مدتوں یاد رکھے گی۔ پرویز رشید ڈان لیکس کی پاداش میں اپنے عہدے سے سبکدوش تو ہوگئے تھے لیکن انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کے ہمقدم رہ کر استحکام پاکستان کا بیانیہ زندہ و تابندہ رکھا اور نواز شریف کی لندن روانگی کے بعد مریم نواز کو سیاسی تنہائی کا احساس تک نہ ہونے دیا اور نواز شریف کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔

    بلاشبہ آج کے دور میں پرویز رشید وفا کا پیکر ثابت قدمی کا مجسم اور بے لوث خدمت اور غیر متزلزل نظریاتی عقیدت کی زندہ مثال ہیں جو اندیشہء سودو زیاں سے پاک سیاست کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آج سیاسی گلیاروں میں سیاسی بحرانوں اور عدم استحکام کی بڑی وجہ نام نہاد سیاستدانوں کی لوٹا کریسی ، مفادات پرستی کا رحجان ہے جو اقتدار اورعہدوں کی لالچ میں اپنے ضمیر اور قومی مفادات کا سودا کرنے سے بھی نہیں چوکتے پرویز رشید کی ثابت قدمی اور نواز شریف سے وفاداری بقوول مرزا غالب وفاداری بشرط استواری اصل ایمان مومن ہے ۔

    ملکی سیاست میں اس وقت ایک ہنگامہ برپا ہے جس امریکہ کا نام لے کر سیاست کی جا رہی ہے ۔ امریکہ کی سیاست میں بھی الزامات کی بھرمار ہے جو بائیڈن اور ٹرمپ کی ایک دوسرے پر الزامات بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بائیڈن کی مقبولیت میں کمی ہو رہی ہے ٹرمپ امریکی سیاست میں ثابت کررہے ہیں کہ وہ آج بھی مقبول ترین لیڈر ہین۔ ٹرمپ کا نگریس کی موجودہ دوڑ میں اپنا سیاسی مینڈیٹ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں بھی عمران خان اپنا سیاسی مینڈیٹ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہین تاہم پی ڈی ایم ان کے راستے کی دیوار ہے لیکن یہ دیوار اُسی وقت مضبوط ہوگی جب نواز شریف پاکستان واپس آئیں گے ۔ عمران خان کی مقبولیت کا اسی وقت پتہ چلے گا جب اُن کے مقابلے میں نواز شریف جلسوں سے خطاب کررہے ہوں گے۔

  • موروثی سیاست کا شکار پاکستان — ضیغم قدیر

    موروثی سیاست کا شکار پاکستان — ضیغم قدیر

    سعودی عرب پلاسٹک ویسٹ زیرو کرنے کے لئے شہریوں سے پرانے فونز لے رہا ہے اور ان کو ری فربش کرکے کم آمدنی والی جگہوں میں بچوں کو تعلیمی مقاصد کے لئے دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    اومان 2040 تک مکمل طور پہ ڈیجیٹل ملک بننے جا رہا ہے وہیں امارات اور قطر وغیرہ اس بات کا اعادہ رکھتے ہیں کہ اپنے ملک کو ٹورازم اور تیل کیساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی سپورٹ کریں۔

    دہلی میں اس سال سے آپ ب فارم سے لیکر ڈومیسائل تک ایپلی کیشن پہ ایک کلک کیساتھ گھر بیٹھے انہیں بنوانے کی سروسز لے سکتے ہیں۔ دہلی کے تمام سکول اس وقت ڈیجٹلائز کئے جا چکے ہیں یا جا رہے ہیں۔ وہیں دہلی میں آپ 200 یونٹ سے کم بجلی بالکل مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

    کینیا کی سپیس ایجنسی 2017 میں بنی اور اس سال وہ چین کیساتھ خلائی اسٹیشن پہ جائے گی جہاں وہ مختلف طرح کی تحقیقات میں حصہ لے گی۔ یاد رہے یہ پروگرام 2008 میں لانچ کردہ کینیا وژن 2030 کا حصہ ہے۔ اس کے تحت کینیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھنے کا قدم شامل رکھتا تھا اور اب واقعی آگے بڑھ رہا ہے۔

    یہ دنیا کے کچھ ان ممالک کے پیرا میٹر ہیں جنہیں ہم چنگڑ، چوڑہا یا پھر جاہل سمجھتے ہیں اور یہ سب بہت کچھ اچیو کر رہے ہیں۔

    جبکہ ہمارے ہاں ایک خاندان تیس سال حکمرانی کرنے کے بعد دل کے مرض کے علاج کے لئے لندن جاتا ہے سرجریوں کے لئے لندن جاتا ہے سرکاری تفریحات کے لئے لندن جاتا ہے وہیں دوسرا خاندان جو آزادی سے لیکر اب تک سندھ پر قابض ہے اس کا سربراہ بیمار ہو کر پرائیوٹ ہسپتال میں داخل ہوتا ہے اسکے لئے ائیر ایمبولینس تیار کھڑی رہتی ہے کہ کہہں باہر علاج کے لئے نا جانا پڑ جائے وہیں اسی کے ایک شہر میں ایک عورت اپنا بچہ لئے رو رہی ہوتی ہے کہ اس کو کوئی ڈاکٹر نہیں مل رہا ہے۔

    مہنگی بجلی کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز کے ملازم بے روزگار ہو رہے ہیں اور ان کی تعداد پچاس لاکھ بتائی جا رہی ہے اور ان کو بے روزگار کرنے والے کہہ رہے تھے کہ عمران خان نے روزگار نہیں پیدا کئے تھے۔ شائد عمران خان ان پچاس لاکھ ٹیکسٹائل کے ملازموں کو سرکاری دفاتر میں پٹواری یا چپڑاسی بھرتی کرتا تب ہی یہ روزگار کہلواتے۔ روز کا ملک میں ایک ہی رونا ہے کہ ہمیں دو خاندان اور ایک ادارہ کھا گیا اور یہ اگلے سو سال تک جاری رہے گا۔