Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے 2021 کے کووڈ نتائج کا نزلہ 2022 کی نہم کلاسز پر گرا دیا

    پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے 2021 کے کووڈ نتائج کا نزلہ 2022 کی نہم کلاسز پر گرا دیا

    باغی ٹی وی : پیرمحل (وقاص شریف نامہ نگار)پنجاب بھر کے بورڈز نے 2021 کے کووڈ نتائج کا نزلہ 2022 کی نہم کلاسز پر گرا دیا .
    تفصیلات کے مطابق: کووڈ نے 2021 جہاں ملک بھر میں اموات بانٹیں وہاں طلبا و طالبات میں ان کی توقع سے کہیں زیادہ نمبرز بھی تقسیم کیے ۔ 2021 کے نہم دہم فسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کے امتحانات میں طلبا و طالبات کو ساتویں آ سمان تک پہنچا دیا اور ہزاروں طلبا و طالبات کے مارکس ان تمام کلاسوں میں سو فیصد بھی آ ئے جس کی وجہ سے بچوں کی موجیں تو ضرور ہو گئیں مگر اُس رنگ رنگیلے نتیجے کا نزلہ امسال 2022 میں کلاس نہم کے طلبا پر بجلی بن کر گرا اور مجموعی طور پر 70 فیصد طلبا و طالبات کے مارکس نہایت کم آ نے کے ساتھ ساتھ وہ دو سے چار مضامین میں بُری طرح فیل بھی ہوئے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ بورڈز کی پالیسی تھی کہ اس بار ہاتھ ذرا سخت رکھنا ہے اور اس سختی کی بھینٹ پنجاب بھر کے طلبا و طالبات چڑھ چکے ہیں

  • غازی یونیورسٹی کوانٹر نیشنل  رینکنگ میں لاکھڑا کیا ، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی

    غازی یونیورسٹی کوانٹر نیشنل رینکنگ میں لاکھڑا کیا ، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی

    باغی ٹی وی : ڈیرہ غازی خان (شہزاد یوسفزئی کی رپورٹ) میں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور چار سال کے مختصر عرصہ میں غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کوانٹر نیشنل رینکنگ میں لاکھڑا کیا ، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی [تمغہ امتیاز] وائس چانسلر
    گذشتہ شب غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی [تمغہ امتیاز] کی تعیناتی کے چار سال کی تکمیل کے موقع پر یونیورسٹی کے اساتذہ کی طرف سے ان کے اعزاز میں ایک شاندار پروگرام کا انتظام کیا گیا جس میں عوامی نمائندگان اور شہر کے دیگر معززین نے بھی شرکت کی۔ یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسرز ، ڈائریکٹرز اور پرنسپل آفیسران نے محترم وائس چانسلر صاحب کاپنڈال میں تشریف لانے پر پھولوں سے استقبا ل کیا۔پروفیسر ڈاکٹر اعجاز رسول نورکا نے وائس چانسلر صاحب کو بلوچی پگڑی پہنائی۔ ڈاکٹر راشدہ قاضی صاحبہ نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے اور حاضرین کو محترم وائس چانسلر صاحب کی تدریسی و تحقیقی کامیابیوں بارے آگاہ کیا اس کے بعد ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جس کے پہلے حصہ میں اس وقت کو دوہرایا گیا جب چار سال قبل ستمبر 2018 میں پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے غازی یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس یونیورسٹی کو انٹرنیشنل رینکنگ میں لے کر آئیں گے اور اس دستاویزی فلم کے دوسرے حصہ میں دکھایا گیا کہ کس طرح پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل کی قیادت میں چار سال کے دوران یونیورسٹی میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور جو خواب پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہوا اور یہ یونیورسٹی قومی اور بین الا قوامی سطح پر اپنی شناخت منوانے میں کامیاب ہوئی۔
    یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر محمدطفیل عالمی شہرت یافتہ سائنسدان ہیں جنہوں نے اپنے بین الاقوامی کی جامعات میں کام کرنے کے تجربات سے غازی یونیورسٹی کو بھی انٹرنیشنل لیول کی پہچان دلائی۔ ان کی اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت سے غازی یونیورسٹی میں 23 ایم فل اور 12 پی ایچ ڈی ڈگری پروگرامز کا آغاز ہو چکا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی نے یونیورسٹی کے تحقیقی معیار کو بڑھانے کے لیے بین الاقوامی لیول کی لیبارٹریز اور گلاس ہاوسز کے منصوبہ جات کا آغاز کیا ہے۔

  • مریخ پر ہیلی کاپٹر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مریخ پر ہیلی کاپٹر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آسمانوں میں اُڑنے کی خواہش انسانوں میں ہمیشہ سے رہی۔ انسان جب اپنے ارگرد پرندوں کو اُڑتے دیکھتے تو اُن میں ایک تجسس سا جاگتا کہ اگر وہ ہوا میں اُڑیں گے تو کتنی خوشی، کتنی آزادی محسوس کریں گے۔ انسان ارتقائی طور پر دو ٹانگوں پر چلنے والا جانور بنا۔ قدرت نے انسان کا جسم ایسا نہیں بنایا کہ وہ اُڑ سکے بلکہ چل سکے یا دوڑ سکے۔ دو ٹانگوں پر چلنے کی یہ صلاحیت دیگر جانوروں میں بھی کسی نہ کسی درجے تک پائی جاتی ہے مگر انسانوں کی یہ خاصیت ہے۔ دو ٹانگوں پر چلنے کے ارتقاء میں ابتدائی فوائد انسان کو یہ حاصل ہوئے کہ وہ اونچا ہو کر درختوں سے پھل توڑ لیتا، اسکے ہاتھ اب چلنے سے آزاد ہو گئے تو یہ اوزار بناسکتا تھا، ہاتھوں سے اشارے کر کے بات سمجھا سکتا تھا۔

    مگر دو ٹانگوں پر چلنے کے نقصانات بھی تھے۔ آج کتنے ہی لوگ عمر کے ساتھ ساتھ گھٹنوں اور کمر کے درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ کہ انسان کے پورے وجود کا وزن گھٹنوں اور ریڑھ کی ہڈی پر پڑتا ہے۔چار ٹانگوں پر چلنے والے جانوردوں کی ریڑھ کی ہڈی پر زیادہ زور نہیں آتا۔ مگر خیر بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔

    اُڑنے کی صلاحیت نہ ہونے مگر اُڑنے کی خواہش ہونے نے انسان کے اُڑنے کے خواب کو صدیوں زندہ رکھا۔ماضی میں کئی افراد نے پرندوں کی طرح مصنوعی پر لگا کر اُڑنے کی کوشش کی مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ بالآخر اٹھارویں صدی میں انجن کی ایجاد اور اُڑنے کی سائنس کو سمجھ کر انسانوں نے جہاز بنانے کی کوشش کی۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ کے دو بھائیوں ولبر رائٹ اور اورویل رائٹ نے پہلے انجن والے جہاز کی اُڑان بھری اور انسانوں کے صدیوں کے اُڑ نے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔ اس اُڑان نے انسانوں کو بُلندیوں پر جانے کا حوصلہ دیا۔

    اتنا کہ وہ زمین کی قید سے نکل کر خلاؤں میں جانے کا سوچنے لگا۔ یہ خواب بھی حضرتِ انساں نے اپنی جرات اور عقل سے پورا کیا۔ بڑے بڑے راکٹ بنا کہ خلاؤں کا رخ کیا۔ دوسری دنیاؤں پر جھنڈے گاڑے اور وہاں رہنے کے خواب دیکھنے لگا۔

    آج انسان عظمتوں کی بلندیوں کو چھونا چاہتا ہے۔ کائنات کے راز کھولنا چاہتا ہے اور زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں پر بسنا چاہتا ہے۔اسی کوشش میں وہ مریخ تک اپنے بیسیوں روبوٹ بھیج چکا ہے۔ مگر کامیابیوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں اور اسی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے ایک دن اس سرپھرے انسان نے سوچا کہ کیا مریخ پر بھی اُڑا جا سکتا ہے؟؟؟کیونکہ مریخ پر زمین کیطرح کی کثیف فضا نہیں۔ مریخ کی فضا بےحد باریک ہے اور اس میں محض کاربن ڈائی آکسائڈ ہے ۔ یہ زمین کی سطح سمندر کی فضا کے 1 فیصد جتنی باریک ہے ۔اور وہ جانتا تھا کہ ہوا میں اُڑنے کے لیے ہوا کا ہونا شرط ہے۔

    مگر سائنس نے اسے بتایا کہ گو ہوا کم ہے پر ہے تو صحیح۔ سو حضرتِ انساں کی نسل کے کچھ ذہن لوگ اس کام میں جُت گئے۔ عقل استعمال کی گئی اور بالآخر ایک ایسا چھوٹا سا ہیلی کاپٹر بنایا گیا جسکا وزن محض 1.8 کلو گرام تھا۔ یہ سولر پینلز سے چلتا تھا اور اسکے پر اتنے بڑے اور اتنے تیزی سے گھومتے کہ یہ باریک فضا میں بھی اُڑ سکتا۔ اسے زمین پر مریخ کی فضا کے سے حالات پیدا کر کے ٹیسٹ کیا گیا۔ اسے نام دیا گیا Ingenuity. بالآخر اسے 30 جولائی 2020کو ناسا کی بھیجی جانی والی ربوٹک روور Preservernce کے "پیٹ” سے باندھ کر سفرِ مریخ پر بھیج دیا گیا۔

    تقریباً 6 ماہ کی مسافت طے کرتا یہ ہیلی کاپٹر Ingenuity جب روور کیساتھ مریخ کی سطح پر اُترا تو اسکے بنانے والوں کو بے تابی سے انتظار تھا کہ یہ کب اُڑے گا۔

    پھر ایک دن ہیلی کاپٹر کو روور سے الگ کیا گیا اور اسکی زمین پر بیٹھی ناسا کی ٹیم نے مکمل جانچ پڑتا کی۔ اسکا سافٹ وئیر چیک کیا۔ اسکی بیٹری کا لیول دیکھا اور پھر طے ہوا کہ 19 اپریل کو اسے مریخ پر اُڑایا جائے گا۔

    19 اپریل کا دن، اس ہیلی کاپٹر کو زمین سے اُڑنے کی کمانڈ بھیجی جا چکی تھی۔رووور میں لگے کیمرے اور ہیلی کاپٹر کے اندر موجود کیمرے اس منظر کو محفوظ کرنے کو مکمل تیار تھے۔
    1,2,3..

    ہیلی کاپٹر کے اسکی ننھی جسامت کے مقابلے کئی گنا بڑے پر تیزی سے ہلتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مریخ کی فضا کو چیرتا ہوا اوپر اُٹھنے لگتا ہے۔تقریباً 10 فٹ کی بلندی تک پہنچ کر یہ مڑتا ہے اور واپس مریخ کی سطح پر اُتر جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں ٹھیک 39.1 سیکنڈ لگتے ہیں۔

    یہچھوٹی فلائٹ ایک حضرتِ انساں کا ایک بڑا قدم تھی جس نے ایک نئے انسانی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ دواری دنیاؤں پر اُڑ ے کا باب۔ آج انسان پہلی مرتبہ زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر اُڑنے کے قابل ہوا!!.

    وہ جو اس لمحے کی اہمیت سے واقف تھے، اُنکی آنکھیں خوشی سے نم تھیں۔انسان نے آج اُڑنے کے خواب سے بھی بڑھ کر حقیقت کو پا لیا تھا۔

    عقل اپنی رفعتوں کو پہنچ چکی تھی۔

    کائنات حیران تھی!!

  • ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا اور اس کی مخالفت کیوں ضروری ہے؟ — شہنیلہ بیلگم والا

    ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا اور اس کی مخالفت کیوں ضروری ہے؟ — شہنیلہ بیلگم والا

    کوشش کر رہی ہوں کہ اس بات کو عام فہم انداز میں سمجھا سکوں.

    دنیا کا کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا. بعض کجیاں واضح ہوتی ہیں اور بعض غیر واضح. بعض ہمارے معاشرے میں بآسانی تسلیم کر لی جاتی ہیں. جیسے اپنی مثال دیتی ہوں. میری نظر آٹھ سال کی عمر میں ہی کمزور ہوگئی تھی. امی نے فوراً ہی میری آئی سائٹ چیک کروائی. ڈاکٹر سے پوچھ کر ہر وہ خوراک کھلائی جس سے نظر تیز ہو. یہ زیادہ تر گھروں میں عام رویہ ہوتا ہے. اسی طرح اگر کوئی لڑکا یا لڑکی جنس مخالف کی طرح حرکتیں کرتا/ کرتی ہے، تو گھر والوں کو اس، کا سدباب کرنا چاہیے. یہاں پہ لڑکے کی مثال اس لیے دے رہی ہوں کہ یہ مثالیں ہمارے اردگرد زیادہ ہیں. اگر کسی گھر میں بہنیں زیادہ ہیں تو اکلوتا لڑکا ہر وقت ان کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر لڑکیوں کی عادات و حرکات نادانستگی میں اپنا لیتا ہے اور اگر شروع میں ہی اس کا سدباب نہ کیا جائے تو عمر بڑھنے کے ساتھ یہ عادتیں پختہ ہوتی جاتی ہیں. پھر ایسے لڑکے جانِ محلہ کہلاتے ہیں. ان کو ایکسپلائٹ کرنے میں خاندان اور محلے کے اوباش اور بدفطرت لوگوں کا بہت بڑا، ہاتھ ہوتا ہے.

    یہاں بات مکمل مرد اور عورت کی ہو رہی ہے خواجہ سراؤں کی نہیں خواجہ سراؤں کی اس وقت جو حالت ہے اس کے زمہ دار ہم سب ہیں. ہم نے انہیں تفریح طبع کا سامان بنا کر رکھ دیا. ان کا پورا حق ہے کہ انہیں بھی ہر طرح کے مواقع ملیں جو کسی بھی مرد یا عورت کو ہمارے معاشرے میں حاصل ہیں. اس کے لیے ہر قسم کی قانون سازی ضروری ہے لیکن ان کی آڑ میں جو مزموم سازش رچائی جا رہی ہے اس کے لیے آواز اٹھانا انتہائی اہم ہے.

    اس قانون سے وہ لوگ فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں جو مکمل مرد اور عورت ہیں لیکن اپنی جنس سے خوش نہیں. صاف لفظوں میں بیان کیا جائے تو ان کو ہم جنس پرستی کی آزادی چاہیے. میں یہ نہیں کہتی کہ یہ ہمارے معاشرے میں نہیں ہے لیکن کیا جو گناہ اور جرم ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے اس کو قانونی جواز اور اجازت دے دیں.

    جس فعل کے بارے میں قرآن پاک میں تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے. آپ اس کو شخصی آزادی اور ترجیح کے نام پر حلال نہیں کر سکتے. ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں دین کی معمولی شد بدھ رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ یہ حرام ہے. جو کرتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں.. اس کے باوجود یہ ہمارے معاشرے میں پنپ رہا ہے. اگر اس کو قانونی استحکام مل گیا تو سوچییے کیا حشر ہوگا. یہ لمحہ فکریہ ہے. اس پہ آواز اٹھانی ہے. یہ ہماری نسلوں کی بقا اور ہماری آخرت کا معاملہ ہے.

  • پاکستان میں بننے والے ٹرانس جینڈر ایکٹ پر تفصیلی تحریر — شہیر احمد

    پاکستان میں بننے والے ٹرانس جینڈر ایکٹ پر تفصیلی تحریر — شہیر احمد

    خواجہ سرا یا مخنث ایک قابلِ رحم اور قابلِ توجہ جنس ہے، ظاہر ہے کہ ان کی تخلیق میں ان کا اپنا کوئی کردار یا اپنی کوئی خامی نہیں، وہ بھی اللّٰہ کی مخلوق ہیں اور اس لحاظ سے بد قسمت ہیں کہ ان پر گھر والوں کی محبتوں اور توجہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، بہن بھائیوں میں وہ اچھوت بن جاتے ہیں، باپ اور دیگر رشتہ دار ان کی وجہ سے شرمندہ سے رہتے ہیں، ایسے بچے کسی حد تک ماں کا پیار تو سمیٹتے ہیں، لیکن وہ تعلیمی اداروں میں جا سکتے ہیں نہ اپنی خاندانی تقریبات میں شامل ہوتے ہیں، گھروں میں ان کو علیحدہ رکھا جاتا ہے، بڑے ہوں تو ان پر صرف ناچ گانے یا بھیک مانگنے کا ہی راستہ کھلا رکھا جاتا ہے، ظاہر ہے کہ اس صورتحال میں ان کے انسانی حقوق کا تحفظ انتہائی ضروری ہے

    2018ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت میں پاکستان قومی اسمبلی میں ٹرانس جینڈر ایکٹ پیش ہوا، سپیکر ایاز صادق اور صدر ممنون حسین کی منظوری سے پاس ہوا، ڈرائیونگ لائسنس بنانے اور ہراسانی سے تحفظ کی سہولت ملی اور ان سے بھیک منگوانے والے پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی متعین کی گئی

    چونکہ ایسے قوانین کے پیچھے بیرونی عطیات پر چلنے والی این جی اوز ہوتی ہیں اور وہ غیر ملکی ایجنڈے لے کر چل رہی ہوتی ہیں، اس لئے بظاہر خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے اس ایکٹ کی آڑ میں دو ایسی کلاز رکھی گئیں جس سے اس قانون کے اصل مقاصد پس منظر میں چلے گئے اور خواجہ سراؤں کے بجائے یہ قانون ہم جنس پرستوں کے تحفظ کا قانون بن گیا

    ٹرانس جینڈر ایک مغربی اصطلاح ہے اور یہ ایک پوری تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے، اس تہذیب کا نام ہے +LGBTQ یعنی لزبین، گے، بائی سیکسوئیلی اور ٹرانس جینڈر۔ یہ ایک کمیونٹی ہے، ایک منفی کلچر ہے، ایک بد تہذیبی ہے۔ مکمل جنسی آوارگی اور بے راہ روی کے شکار اور دلدادہ اس کلچر کو خواجہ سراؤں سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ انہیں بھی ایک سیکس گروپ کے طور پر لیتے ہیں

    چنانچہ 2018ء کے ایکٹ کی ایک شق میں جنس کے تعین یا جنس کی تبدیلی کا اختیار خود فرد کو دے دیا گیا ہے، اس میں خواجہ سرا کی قید بھی نہیں، یعنی کوئی بھی مرد نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس عورت کروا سکتا ہے اور کوئی سی عورت مرد بن کر اپنا نادرا کارڈ بنوا سکتی ہے، ہم جنس پرستی اور ایک ہی جنس کے افراد کی باہمی شادی کا قانونی راستہ کھول دیا گیا ہے، اب قانون کوئی گرفت نہیں کر سکتا، کوئی بھی مرد عورت کا قومی شناختی کارڈ بنوا کر عورتوں کی سیٹ پر ملازمت حاصل کر سکتا ہے، خواتین کے تعلیمی اداروں میں ٹیچر لگ سکتا ہے، لیڈیز واش روم استعمال کر سکتا ہے، خواتین کی مجالس میں جا سکتا ہے، اور کوئی بھی عورت مرد بن کر وراثت میں اپنا حصہ بھائیوں یا بیٹوں کے برابر لے سکتی ہے

    اب یہ پارلیمنٹ کی دیگر مذہبی جماعتوں کے ممبران، مذہبی تنظیموں، سماجی و تعلیمی اداروں کے سربراہوں، وارثانِ منبر و محراب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ایکٹ میں ترمیم کو منظور کرنے اور نادرا کے ڈیٹا میں خواجہ سرا کی جنس لکھنے سے پہلے طبی معائنے کو لازمی کرنے کیلئے حکومت، ممبرانِ پارلیمینٹ اور سیاسی جماعتوں پر زور دیں کہ اس تہذیبی شب خون کا راستہ روکیں۔ حکومت اور پارلیمنٹ پہلے مرحلے میں اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کرے کہ وہ بہرحال ایک آئینی ادارہ ہے

    اور یہ محض خدشات نہیں ہیں بلکہ 2018ء کے بعد سے تین سال میں نادرا کو جنس تبدیلی کی تقریباً 29 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، ان میں سے 16530 مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کروائی جبکہ 15154 عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کروائی، خواجہ سراؤں کی کل 30 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 21 نے مرد کے طور پر اور 9 نے عورت کے طور پر اندراج کی درخواست کی

    سینیٹر مشتاق احمد خان کے پیش کئے گئے ترمیمی بل میں مطالبہ ہے کہ خواجہ سراؤں کی جنس کے تعین کو میڈیکل ٹیسٹ کے ساتھ مشروط کیا جائے۔ یعنی مرد سرجن، لیڈی سرجن اور ماہرِ نفسیات پر مشتمل بورڈ یہ فیصلہ کرے کہ یہ مخنث ہے اور اس کا اندراج کس طرف ہونا چاہیے۔ خنثی مرد، خنثی عورت اور خنثی مشکل فقہی اصطلاحات ہیں اور اس کے باقاعدہ شرعی اصول و ضوابط ہیں

    خود برطانیہ میں 2004ء کے جنسی تعین کے ایکٹ میں طبی معائنے اور طبی سرٹیفکیٹ کو لازم قرار دیا گیا تھا، جبکہ پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018ء کے لحاظ سے کسی میڈیکل بورڈ کی رائے کے بغیر اپنی صوابدید پر مرد سے عورت یا عورت سے مرد بننے اور تبدیلی جنس کا آپریشن کروانے کی کھلی چھٹی ہے اور اس کے نقصانات واضح ہیں

    (یہ تحریر لائرز آف پاکستان کی مدد اور نادرا کی تصدیق کے ساتھ لکھی گئی ہے)

  • برطانیہ میں ہندو مسلم فسادات — سیدرا صدف

    برطانیہ میں ہندو مسلم فسادات — سیدرا صدف

    برطانیہ کے شہر Leicester میں ہندو مسلم فسادات کی لہر چل رہی ہے۔۔۔مبینہ طور پر فسادات کا آغاز 28 اگست کو ہونے والے پاک بھارت مقابلے سے ہوا۔۔۔۔برطانوی حکومت بھی شاید پوری طرح انجوائے کر کے حالات قابو کرے گی۔۔۔

    میں بھارتی حکومت اور کرکٹ بورڈ کی اس وحشیانہ سوچ کی مخالف ہوں جس کے تحت پاک بھارت مقابلوں کو بزنس اور میڈیا جنگ کا ذریعہ بنا دیا ہے۔۔۔۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ کھلاڑی اس گھٹیا سوچ سے تنگ باہمی محبت کو فروغ دے رہے ہیں۔۔۔

    سادہ اصول ہے۔۔بھارت کو اگر پاک بھارت مقابلوں سے پیسہ کمانا ہے تو باہمی سیریز کرائے۔۔پاک بھات میچز رکھنے کے لیے ٹورنمنٹس کا فارمیٹ خراب کرتے ہیں۔۔غیر منصافانہ گروپس بنائے جاتے ہیں۔۔۔یہ تو وہ زیادتی ہے جو کھیل کے ساتھ کی جا رہی ہے۔۔۔

    دوسری زیادتی پاک بھارت میچ کو جنگ کی صورت پیش کرکے ہائپ کریٹ کرنا ہے۔۔اور اس خباثت میں 100 فیصد ہاتھ بھارتی حکومت اور میڈیا کا ہے۔۔۔پھر اگر ایک جانب سے لگاتار اشتعال ہو تو ردعمل فطری ہے۔۔۔مودی حکومت ہندو مسلم خلیج کو بہت بڑھا چکی ہے۔۔۔مودی حکومت میں "مذہب” اہم ترین فیکٹر بن چکا ہے۔۔۔یہ ہی وجہ ہے پاک بھارت مقابلوں میں مذہب بھی ٹرولنگ کا موضوع بن گیا ہے۔۔۔

    پاک بھارت ورلڈکپ 2021 میچ کے بعد شیخ رشید نے جو بیان دیا اسکو کسی نے سپورٹ نہیں کیا تھا۔۔لیکن کیا شیخ رشید کا بیان نکال دیں تو سب امن ہے۔۔؟آغاز کہاں سے ہوا ہے اور اسے لگاتار ہوا کون دے رہا ہے۔۔؟

    سوشل میڈیا پر پاک بھارت میچ سے پہلے اور بعد میں انتہا پسند بھارتیوں کا لب و لہجہ انتہائی گستاخانہ ہوتا ہے۔۔۔باقاعدہ گینگ کی صورت تبصرے کرتے ہیں۔۔ٹرینڈز بناتے ہیں۔۔۔۔مذہب کو ملوث کرنا انکے نزدیک عام بات ہے۔۔۔اِس قسم کے تبصرے ہوتے ہیں کہ خون کھول اٹھتا ہے۔۔۔

    جینٹلمین گیم اب باقاعدہ فساد کا باعث ہے۔۔۔دونوں ملکوں کی سمجھدار عوام کو چاہیے طاقتوروں کے ہاتھوں میں دوبارہ نہ کھیلیں۔۔۔تقسیم برصغیر سے بھی اگر سبق نہیں لیا تو کیا فائدہ۔۔۔۔

  • بات سے بات — عمر یوسف

    بات سے بات — عمر یوسف

    میرے ایک دوست نے کہا کہ برطانوی سامراج نے جاتے ہوئے متحدہ ہندوستان کو آفر کی کہ تمہارا نگران میں ہی رہتا ہوں اندرونی معاملات میں تم آزاد ہو جیسے چاہو انجام دو ۔

    اگر متحدہ ہندوستان یہ آفر قبول کرلیتا تو آج ہم دیگر اقوام کی طرح طبقاتی کشمکش میں مبتلا نہ ہوتے اور دولت کی مساوی تقسیم ہوتی ۔

    کیونکہ آج بھی کچھ ممالک برطانیہ کے ماتحت ہیں لیکن ان کی معاشی حالت بہتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ بڑے احسن انداز سے ان ممالک کے وسائل کی کمی کے باوجود معاملات انجام دے رہا ہے ۔

    شاید یہ سوچ بھی ذہن میں آئے کہ نگرانی کے بدلے وہ ہم سے مال و زر بھی لیتا ۔

    تو اس شبہ کا ازالہ یوں ہوگا کہ اگر وہ کچھ لے بھی لیتا تو بدلے میں نظام تو بہتر رکھتا ۔ جب کہ جتنا اس نے لینا تھا اس سے سو گنا زیادہ ہمارے کرپٹ سیاستدان ہم سے لے چکے ہیں ۔

    معاشی حالات کی بات کی جائے تو یہ بات دل کو لگتی ہے ۔

    دوسری طرف مذہب پسند علماء و عقلاء کا یہ خیال ہے کہ ایسا اگر ہوجاتا تو اسلام کو پنپنے کا موقع نہ ملتا یعنی اسلامی غلبہ و قوت انگریز کی ماتحتی میں ممکن نہ ہوتے اور اسلام مغلوب ہی رہتا ۔

    مذہبی علماء کی یہ بات بھی دل کو لگتی ہے کیونکہ انگریز سامراج کی تاریخ تو اسلام اور مسلمان دشمنی پر ہی مشتمل ہے ۔

    لیکن یہ نکتہ نظر بھی قابل تردید نہیں کہ موجودہ مغربی افکار سیکولر سوچ پر مبنی ہیں اور ہر ایک کو اس کی مرضی کے مطابق جینے کا حق دینے پر زور دیتے ہیں لہذا آج کا دور میں ایسا نہ ہوتا ۔

    دونوں طرح کے موقف سامنے آنے کے بعد خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کسی بھی چیز کے بارے جب فیصلہ دیتا ہے تو وہ مخصوص حالات کے زیر تاثر دیتا ہے ۔ مثلا معاشی حالات ٹھیک نہیں تو اس صورت حال میں ایسے نظام کو سپورٹ کیا جائے گا جس میں معیشت کے استحکام کی یقینی کیفیت سامنے آرہی ہو لیکن لاشعوری طور پر حالات کے دیگر کئی پہلو تلف ہوجائیں گے ۔

    اب علماء بھی اپنی جگہ حق بجانب ہیں وہ اس طرح کہ افراد تو افراد اقوام بھی تعصب کے جراثیموں سے پاک نہیں ہوسکتی ۔ وقتی مصلحت کی خاطر شاید کہ جاذب قلب پالیسیاں بنائی جاتی ہوں لیکن اگر حالات غیر موافق ہوجائیں تو یہ ساری پالیسیاں ڈھیر ہوجائیں گی ۔

    لہذا پاکستان کو نعمت گردانتے ہوئے شکر گزاری اس انداز سے کی جائے کہ ملک تمام پہلووں سے ترقی کی جانب گامزن ہو ۔

    اس کے برعکس ماضی کی دلفریب مگر بوگس باتوں کو یاد کرنا شکوہ و شکایت کے سوا کچھ نہیں ۔

  • لاوہ بھائی کے دیس میں اپنے گُرو سے ملاقات — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    لاوہ بھائی کے دیس میں اپنے گُرو سے ملاقات — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی کے تھرڈ ائیر میں جب لیاقت ہال میں کمرہ ملا ہوا تو پتہ چلا کہ کوریڈور میں میرے سامنے والے کمرے میں لاوہ بھائی رہائش پذیر ہیں۔ وہ بہت مہمان نواز اور ہر دلعزیز شخصیت تھے اور اسلامی جمعیت طلبا کے سرگرم رکن۔ ان کے کمرے میں ساتھی طالب علموں کی ٹریفک سارا دن رات چلتی اور ساتھ ہی کینٹین سے چائے کی سپلائی جاری رہتی۔

    چند دنوں بعد جب تھوڑا تعارف ہوا تو ہم نے لاوہ بھائی سے ڈرتے ڈرتے ان کے سلگتے ہوئے نام کی وجہ تسمیہ پوچھی تو وہ زور دار قہقہہ لگا کر بولے کہ یہ میرے پنڈ کا نام ہے۔ یو ای ٹی میں ایڈمشن ہوا تو میں نے اپنے ہاسٹل کے کمرے کے دروازے پر عبدالرشید فرام لاوہ لکھ دیا۔ وہ دن اور آج کا دن ، اصل نام کی بجائے ہم مسٹر لاوہ اور پھر لاوہ بھائی مشہور ہو گئے۔ اصل نام کسی کو یاد بھی نہیں(مجھے بھی یاد نہیں)۔لاوہ اس زمانے میں جدید دنیا سے کٹے ایک ایسے گاوں کا بام تھا جس میں کوئی ڈائریکٹ ٹرانسپورٹ نہیں جاتی تھی۔

    لاوہ بھائی کی یاد اتنے عرصے بعد اب اس طرح آئی کہ جب ہم لاوہ ڈیم کی سائٹ دیکھنے 13 ستمبر 2022 کو واقعی واقعی لاوہ جا پہنچے جو کہ ترقی کرتے اب ضلع چکوال کی ایک تحصیل بن چکا ہے۔ یہ قصبہ مغرب میں میانوالی کے بارڈ پر“ ترپی ندی” کے کنارے واقع ہے جس پر گوروں نے موجودہ پاکستان کے علاقے کا شائد سب سے پرانا نمل ڈیم 1913 میں بنایا تھا جو کہ اب مٹی سے بھر چکا ہے۔ اس ڈیم سے میانوالی کے علاقے موسی خیل کی زمینیں سیراب ہوتی تھیں ۔تاہم لاوہ سے سے 20 کلومیٹر نیچے ہونے کی وجہ سے یہ قصبہ اس پانی سے فائدہ اٹھانے سے محروم تھا جو اس کے بغل سے ہوکر نمل جھیل کو جاکر بھرتا تھا۔

    لاوہ اب ایک لاکھ آبادی والا قصبہ بن چکا ہے جس کے لئے پینے کے پانی کا مسئلہ کافی دیر سے آرہا ہے کیونکہ زیرزمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے اور ترپی ندی بھی سارا سال نہیں چلتی جس سے قصبے کو پمپ کرکے پانی پہنچاتے ہیں۔ندی لاوہ قصبے سے کوئی کم ازکم پچاس فٹ نیچے بہتی ہے اور پی ایچ ای کا پمپ اسٹیشن اس کے کنارے ہے۔

    13 ستمبر کو ہم لمحکمہ آب پاشی کے آفیسر جاوید اقبال صاحب کے ہمراہ دندہ شاہ بلاول کے راستے اوہ پہنچے جہاں یہ میانوالی تلہ گنگ روڈ سے ہٹ کر جنوب میں 9کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔لاوہ بازار میں مسکراتے چہرے کے ساتھ جناب ظفر علی صاحب نے ہمارا استقبال کیا جو کہ مقامی تعلیمی ادارے کے پرنسپل رو چکے تھے اور کچھ فاصلے پر ہم جناب دوست محمد صاحب کو بھی لے کر آگے بڑھے۔ دوست محمد صاحب حال ہی میں محکمہ مال سے ریٹائر ہوئے ہیں اور لاوہ کی زمینداری سسٹم کو بہت سمجھتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ گھمبیر ڈیم کی چک بندی کراچکے ہیں۔

    لاوہ کی واٹر سپلائی ٹینکی سے آگے ہم ترپی ندی میں اتر گئے اور گاڑیاں ندی کے کیچڑ بھرے پتھریلے راستے پر آگے بڑھنے لگیں۔ ایک جگہ راستہ نہ ہونے پر دائیں کنارے کے جنگل میں گھس گئے جس کی گھنی جھاڑیاں اور مٹی اڑاتا راستہ مستنصر حسین تارڑ کے ناول بہاؤ کے “رکھوں” کی یاد تازہ کرنے لگا۔

    چند کلومیٹر آگے چلنے کے بعد ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں لاوہ ڈیم بنائے جانے کا امکان ہے۔ ٹیم سائٹ ہر نکل کر اپنے اپنے کام میں جت گئی ۔ پہاڑوں کی جیالوجی چیک ہونے لگی، کچھ انجنئیر دریائی پانی کی پیمائش میں لگ گئے، کسی نے تعمیراتی میٹئیرئل کی تلاش شروع کردی اور کچھ سوشیالوجسٹ ساتھ کی آبادیوں کے سروے پر نکل گئے۔

    میری آنکھیں اپنے گُرو کی تلاش میں چاروں طرف گھومنے لگیں جو مجھے ہر ایسی دوردراز سائٹ پر بہت کچھ سکھا جاتا ہے ۔ تھوڑیسی تلاش کے بعد وہ استاد مجھے بائیں طرف کی پہاڑی پر اپنی بکریوں اور بھیڑوں کے ساتھ نظر آگیا ۔ یہ چرواہے کسی بھی سائٹ پر ہمارے سب سے پہلے استاد ہوتے ہیں جوکہ علاقے میں لمبے عرصے سے اپنے جانوروں کے ساتھ گھومنے کی وجہ سے سے اس کے چپے چپے سے واقف ہوتے ہیں۔ یہ بیک وقت ہائیڈورولجسٹ، جیالوجسٹ، سوشیالوجسٹ اور تاریخ دان ہوتے ہیں۔

    میں بائیں طرف کی پہاڑی چڑھ کرر لال خان تک پہنچا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس 20 بکریاں ، 15 بھیڑیں اور 3 عدد گائیں ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ بچہ تھا تو اس وقت بھی اس سائٹ کا سروے ہوا تھا۔ یہاں بورنگ بھی ہوئی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ ان مقامات کی نشاندہی کرسکتا ہے تو اس نے کہا کیوں نہیں۔ وہ سارا دن تو انہی ٹیموں کے ساتھ ساتھ ہوتا تھا۔

    لال خان نے مجھے اس علاقے کے لوگوں اور ان کے رسم و رواج ، کیچمنٹ میں موجود درختوں اور جڑی بوٹیوں کے بارے میں بتایا۔ اس نے مجھے وہاں کی وائلڈ لائف بارے بتایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دریا میں کب کب کتنا کتنا پانی آیا۔ اس دوران اس کے ساتھ ہی پاس کے ڈیرے سے اس کا چچا دوست محمد بھی پہنچ چکا تھا ۔ اس عمر رسیدہ شخص سے ہم نے اس کی یاد میں یہاں آنے والے بڑے بڑے پانیوں کے متعلق پوچھا اور جب تک ہماری ٹیمیں کسم مکمل کرتیں ہم ظفر علی ، دوست محمد اور لال خان کے ہمراہ سائٹ کے کونے کھدرے چھانتے رہے۔ بحث چلتی رہی۔ظفر علی صاحب ایک بہت مستعد شخصیت کے مالک تھے جب کہ ان کے مقابلے میں دوست محمد صاحب ایک سنجیدہ شخص۔

    دوست محمد نے ہمیں بتایا کہ اس علاقے کی آبادی اعوان قبائل سے تعلق رکھتی ہے اور زیادہ تر لوگ ایک ہی دادے کی اولاد ہیں۔ لاوہ شہر وقت کے ساتھ ساتھ دریا کے کبھی ایک کنارے اور کبھی دوسرے کنارے بار بار آباد ہوتا رہا جس کی تاریخ میں کوئی خاص وجہ نہیں ملتی۔ نیزہ بازی یہاں کا مقبول کھیل ہے اور گھوڑے پالنا ایک شوق۔

    شام ڈھلے جب کام ختم ہوا تو ترپی ندی میں واپسی کا سفر شروع ہوا۔ ہمیں بتائے بغیر ہمارے دوستوں نے لاوہ میں ملک اسلم کے ڈیرے پر چائے کے نام پر ہائی ٹی کا بندوبست کیا ہوا تھا۔اس مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم رات گئے واپس کلر کہار میں اپنے کیمپ آفس پہنچے جہاں سے زمینی سروے ٹیم کو اگلے دن لاوہ ڈیم کے سروے پر روانہ کرنا تھا۔

  • سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    ایک دوست گورنمنٹ ٹیچر ہیں۔۔کہتیں میں نے اسکول امتحانات کے بعد ہیڈ کو مشورہ دیا تھا کہ نالائق طلبا کو دوبارہ ایک سال نہم میں لگوائیں۔۔۔ہیڈ کا کہنا تھا کہ چونکہ پریشر ہے کہ بچے فیل نہیں کرنے لہذا سبھی بچوں کا داخلہ جائے گا۔۔۔۔سبھی بچوں کا داخلہ بھیج کر جو نتائج آئے اس نے چودہ طبق روشن کر دیے۔۔۔۔ویسے تو پنجاب بھر میں جماعت نہم کے نتائج تشویشناک ہیں۔۔

    پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں مسائل کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔۔ سرکاری اسکولوں میں جہاں کچھ ٹیچرز کی عدم دلچسپی ایک وجہ ہے وہیں بچوں کو ڈھیٹ کرنے والی پالیسیز بھی دوسری وجہ ہے جو اچھے ٹیچرز کے ہاتھ باندھ دیتی ہے۔۔۔۔

    یہ فرض کر لینا کہ دنیا کا ہر بچہ مار سے پڑھے گا ایک حد تھی تو اسکے رد میں ایک بالکل دوسری حد متعارف کرا دی ہے مار نہیں پیار۔۔۔۔عنقریب شاید ایسی پالیسی آئے گی کہ ٹیچرز شاگردوں کو والدین کا درجہ دیں۔۔۔

    بچوں کی ہینڈلنگ ایک قابل ٹیچر کی صلاحیت پر چھوڑنی چاہیے۔۔ٹیچر بہتر جج کر سکتا ہے کہ کونسا بچہ کس انداز سے پڑھے گا۔۔۔۔محکمہ ایجوکیشن پنجاب میں نئی بھرتیوں کے بعد نوجوان اور پڑھا لکھا اسٹاف میسر ہے۔۔۔لیکن نئی بھرتیاں کرنے کے باوجود تعلیم یافتہ اسٹاف روایتی سسٹم کے آگے مجبور ہے۔۔۔

    کیسی بیہودہ لاجک ہے کہ شرح خواندگی بڑھانے کو بچے سر پر سوار کر لیں۔۔۔بچوں کی حاضری پوری کریں۔۔بچہ غیر حاضر ہے تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔جیسے تیسے حلیے میں آئیں آنے دیں۔۔پھر اگر وزٹ پر بچے مکمل وردی میں نہیں تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔بچے فیل نہ کریں۔۔سو فیصد نتیجہ دینے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔

    منت ترلہ پروگرام سے تعلیمی انقلاب نہیں آتا ہے۔۔۔حکومت کا کام ایک یونیفارم فلاحی تعلیمی پالیسی متعارف کرانے کا ہے۔۔۔میڈیا کے ذریعے تعلیم کی اہمیت جیسے پروگرام پیش کیے جائیں لیکن اس کے بعد داخلے کو مشروط کیا جائے ایک یونیفارم سٹینڈرڈ سے اور اس پر کوئی کمپرومائز نہ ہو۔۔

    جس نے پڑھنا ہے اسے ان شرائط پر ہی پڑھنا ہو گا۔۔۔تعلیم کو مفت کرنا بھی درست پالیسی نہیں ہے۔۔۔سو طرح کے اور خرچے ہوتے سکتے ہیں تو مناسب تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرنے چاہیے۔۔۔تعلیم کی اہمیت مفتے کے زور پر سمجھانے کی کوشش بےسود ہے۔۔۔۔جنہیں تعلیم کی اہمیت کی آگاہی ہے انکے نزدیک تعلیم انمول ہے۔۔۔

    بچوں کی باڈی لنگوئج خراب کر دی ہے۔۔۔والدین خصوصاً دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو اسکول بھیجنا احسان سمجھتے ہیں۔۔۔ٹیچرز پر دباؤ ہے کہ سو فیصد نتائج دیں۔۔۔یہ دباؤ ناصرف اسکول بلکہ کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی ہے۔۔۔

    جبکہ رزلٹ, نالائق بچوں کو پاس کرنے سے خراب ہوتا ہے۔۔وہ رزلٹ اچھا ہے جو لائق اور نالائق کی تفریق کرے۔۔۔رزلٹ تب خراب ہوتا ہے جب پروفیشنل لائف میں جانے والوں کو انکے ٹیچر یا ادارے کا نام پوچھ کر یہ ریمارکس دیے جائیں کہ بیٹا تمھیں پڑھانے اور پاس کرنے والوں پر چار حروف۔۔

  • گوجرخان : بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار  ملک امریز حیدر کی  برطانیہ میں مختلف شخصیات سے ملاقات

    گوجرخان : بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار ملک امریز حیدر کی برطانیہ میں مختلف شخصیات سے ملاقات

    گوجرخان بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار ملک امریز حیدر کی برطانیہ میں مختلف شخصیات سے ملاقات
    گوجرخان( شیخ ساجد قیوم/ نامہ نگار باغی ٹی وی ) خادم اعلی دربار عالیہ کلیام شریف بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار ممتاز سماجی شخصیت ملک امریز حیدر گزشتہ دنوں برطانیہ کے دورے پر پہنچ گئے ، ملک امریز حیدر نے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے گزشتہ دنوں بریڈ فورڈ میں سجادہ نشین کلیام شریف حضرت پیر سائیں شعبان فرید اور دیگر افراد سے ملاقات کی جبکہ وہ اپنے نجی دورے کے دوران پاکستانیوں سے ملاقاتیں کریں گے راولپنڈی کی ممتاز سماجی شخصیت چئیرمین یونین کونسل ملک جہانگیر خان بھی بابائے پوٹھوار ملک امریز حیدر کے ھمراہ تھے