Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آٹزم (خود محویت)، ڈس ابیلیٹی کے سوشل ماڈل کی ڈیفی نیشن میں — خطیب احمد

    آٹزم (خود محویت)، ڈس ابیلیٹی کے سوشل ماڈل کی ڈیفی نیشن میں — خطیب احمد

    آٹزم پر ریسرچ کے دوران میرے اوپر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ میں نے خود کو آٹسٹک پرسن سمجھنا شروع کر دیا۔ میں ایک بات شروع میں واضح کر دوں یہ کوئی معذوری نہیں ہے۔ بلکہ ایک نیورو ڈیویلپمنٹل ڈائیورسٹی (تنوع) ہے۔ جسکے آگے مختلف درجے ہیں۔ اور اسکے ساتھ کچھ مزید چیزیں جڑی ہو سکتی ہیں۔ ایک صدی گزر جانے کے بعد بھی اسکی وجوہات اور علاج ممکن نہیں ہے۔

    مگر کریں کیا؟

    آٹزم یا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کی بات کریں۔ تو اسکی علامات دو تین سال کی عمر سے لیکر عمر کے کسی بھی حصے میں نمایاں ہو سکتی ہیں۔ یہ علامات مائلڈ اور شدید دونوں طرح کی ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین نفسیات و ورکنگ سپیشل ایجوکیشنسٹس کے مطابق آٹزم کی بعض علامات یہ ہیں

    سماجی تعلقات سے کترانا۔

    طبیعت میں جارحانہ پن۔

    نام سے پکارے جانے پر جواب نہ دینا۔

    ہر وقت کی بے چینی اور خوف۔

    بہت ہی ظالم یا بہت ہی نرم دل۔

    توجہ دینے میں دشواری ۔

    تنہائی پسند اور گوشہ نشین۔

    بات کرتے وقت آنکھیں چرانا۔

    الفاظ اور جملوں کو بار بار دہرانا۔

    ذرا سی بات پر پریشان ہو جانا۔

    اپنا مطلب سمجھانے یا بات کا اظہار کرنے میں دشواری ہونا

    ہاتھوں کو چڑیا کے پروں کی طرح پھڑپھڑانا (Hand Flapping)

    ایک ہی کام کو بار بار کرنا

    ایک جگہ پر سکون سے نہ بیٹھنا، بیٹھے ہوئے اچھلنا کودنا

    بات کرتے ہوئے آئی کانٹیکٹ نہ دینا

    بات سن لینا مگر کوئی رسپانس نہ دینا

    بہت زیادہ ضد کرنا، شور مچانا، چیزیں توڑنا، نقصان کرنا، اگریشن

    عام بچوں سے زیادہ شرمیلا ہونا

    بات کو سمجھنے اور اپنی بات کا اظہار کرنے میں دشواری ہونا

    اپنی مرضی کے موضوع پر ہی بات کرنا۔

    ایم فل ڈیویلپمنٹل ڈس ابیلیٹیز کرنے کے ساتھ دس سال کے فیلڈ ایکسپیرئنس اور گزشتہ بارہ دنوں میں 120 گھنٹوں کی متواتر گہری (deep) و جدید (latest) ریسرچز کو پڑھنے، دنیا بھر کے آٹسٹک افراد کے انٹرویوز سننے کے بعد میں آٹزم کو ایک مختلف نظر سے دیکھنے کے قابل ہوا ہوں۔ مجھے لگتا ہے مضمون تھوڑا لمبا ہوجائے گا مگر مجھے آج وہ سب کچھ کہنا ہےجو بہت کم کہا سنا اور لکھا گیا۔

    حالیہ برسوں میں آٹزم کی ریشو بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ ایک راؤنڈ نمبر میں ہر سو میں سے ایک بچہ آٹزم کے ساتھ ہے۔ اسی تناسب سے دنیا کی 7.9 ارب آبادی کا ایک فیصد یعنی 8 کروڑ آٹزم کے ساتھ ہے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو 22 کروڑ میں سے 22 لاکھ افراد آٹزم کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان آٹزم سوسائٹی کی آٹزم کے عالمی دن 2 اپریل 2021 کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 4 لاکھ بچے آٹزم کے ساتھ ہیں۔ ہمارے ہاں شناخت کے عمل سے وہی آٹسٹک گزرتا ہے۔ جس میں آٹزم کی اوپر بیان کرنا انتہائی علامات پائی جاتی ہیں۔ اور بے شمار لوگ اپنے آٹسٹک بچوں کی وسائل و شعور کی کمی کے باعث باقاعدہ اسسمنٹ ہی نہیں کروا پاتے۔

    آٹسٹک کی اسسمنٹ کرتا کون ہے؟ عموماً ڈاکٹرز یا ماہر نفسیات؟ یہ دونوں فریق اور تیسرا فریق والدین آٹزم کو زیادہ تر ڈس ابیلیٹی کے میڈیکل ماڈل میں دیکھتے ہیں۔ میڈیکل ماڈل میں آٹزم کو ایک ذہنی بیماری، نیورو لاجیکل یا جنیٹک ڈس آرڈر، کوئی میڈیکل کنڈیشن یا ٹریجڈی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ نیورو لاجیکل ڈیویلپمنٹل ٹھیک نہیں ہوئی۔ تو یہ بچہ نارمل نہیں ہے۔ جسے نارمل کرنے پر کام شروع ہو جاتا۔ اسکا علاج ہونا چاہئے۔ پہلی یہی ازمشپن والدین ڈاکٹرز اور کچھ ماہر نفسیات اپناتے ہیں۔ اور بچے کا علاج کے چکروں میں ابتدائی سالوں میں ہی بیڑہ غرق کرکے رکھ دیتے۔

    میں بحثیت سپیشل ایجوکیشنسٹ اس میڈیکل ماڈل کو آٹزم کے تناظر میں کلی طور پر رد کرتا ہوں۔ ڈاکٹرز کیا کرتے ہیں؟ ٹیسٹ وغیرہ؟ اور سائیکالوجسٹ اسسمنٹ کرتے یا ان میں سے کچھ انکے ساتھ سیشن بھی لیتے؟ اور سپیشل ایجوکیشنسٹ کیا کرتے؟ اسسمنٹ کے ساتھ دنیا بھر میں ان بچوں کے ساتھ والدین کے بعد زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ ایک آٹسٹک بچہ جیسے خود کو ڈس ایبلڈ نہیں سمجھتا۔ اور نہ وہ حقیقت میں ہوتا ہے۔۔ڈس ایبلٹی کے سوشل ماڈل میں ہم سپیشل ایجوکیشنسٹ آٹزم کو کوئی بیماری یا معذوری نہیں سمجھتے۔ کہ جسکا علاج کیا جائے۔ اسے ٹھیک کیا جا سکے یا اسکی روک تھام ہو سکے۔

    دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں اربوں ڈالر آٹزم کی ریسرچ پر لگائے جا رہے ہیں۔ میں نے جب آٹزم کی فنڈنگ پر ریسرچ کی تو میرے سامنے بات کچھ یوں آئی۔

    40 فیصد فنڈز اس فیلڈ میں خرچ ہو رہے ہیں کہ اسکی جنیٹک اور بائیولوجیکل یا دیگر وجوہات کیا ہیں؟ اسکی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ ایک سو سال کی ریسرچ کے بعد بھی یہ سوال یوں کا توں ہے۔

    20 فیصد فنڈز اس بات پر کی جانے والی ریسرچ پر لگ رہے کہ اسکا علاج کیا ہے؟ ہم آٹزم کو کیسے نارمل کر سکتے ہیں؟

    20 فیصد فنڈز آٹزم کے مسائل اور رویوں کی تلاش میں کی جانے والی سالوں پر محیط تحقیقات میں کھپ رہے ہیں۔

    صرف 7 فیصد فنڈز آٹسٹک لوگوں کی ویلفیئر اور انکی مدد کرنے میں لگ رہے۔

    آٹسٹک لوگوں میں خود کشی کا رجحان عام لوگوں سے 9 گنا زیادہ ہے۔

    آٹزم کی ایوریج لائف دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی 54 سال ہے جبکہ نارمل لائف سپین 68 سال تک ہے۔ اور کچھ ممالک میں 80 سال تک بھی ہے۔

    دنیا کی ترجیحات ہی آٹزم کو لیکر غلط ہیں۔ کینیڈا انگلینڈ امریکہ فرانس جرمنی دوبئی میں مقیم پاکستانی والدین سے میری بات ہوئی تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہاں بھی ان بچوں کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہم خود ہی کرتے ہیں جو بھی کریں۔ میڈیکل ماڈل پر ہی کام ہوتا ہے۔ شدید ذہنی اضطراب میں نیند کی گولیاں دے دی جاتی ہیں۔ یا ہمیں نہیں معلوم ہمارے بچے کے ساتھ ری ہیبلی ٹیشن سنٹر میں کیا کرتے ہی ۔

    آٹزم خواتین کی نسبت مردوں میں بہت زیادہ ہے۔ دس آٹسٹک بچوں میں سے ایک لڑکی اور نو لڑکے ہو سکتے ہیں۔ یا سولہ میں سے ایک لڑکی ہو سکتی ہے۔

    آٹزم سوشل ماڈل کے تحت ہے کیا؟

    آٹزم کوئی ڈس ایبلٹی نہیں ہے۔ یہ ایک نیورولوجیکل ڈیویلپمنٹ کا مختلف پیٹرن ہے۔ ان بچوں کی سوچنے سمجھنے رسپانس کرنے برتاؤ کرنے گفتگو کرنے میل جول رکھنے کی عادات اکثریت سے مختلف ہوتی ہیں۔ اور آٹزم کے ساتھ لوگوں کی آپس میں بھی ان ایریاز میں ترجیحات اور علامات ایک دوسرے مختلف ہیں۔

    کچھ لوگ نارمل لوگوں کی ڈیفی نیشن میں بھی انٹرو ورٹ Introvert اور ایکسٹرو ورٹ Extrovert ہوتے ہیں۔ MBTI کا ٹول استعمال کرکے آپ اپنی پرسنیلٹی ٹائپ معلوم کر سکتے ہیں۔ میں ENFP ہوں۔ یہ میرا ایک پرسنیلٹی کوڈ ہے۔ میں ایکسٹرو ورٹ ہوں۔ اس کوڈ کو میں نے ایک لائف کوچ سے فیس دے کر اپنی پرسنیلٹی اسسمنٹ کروا کر معلوم کیا ہے۔ آپ کا بھی کوئی پرسنیلٹی کوڈ ہوگا؟ جو ہمارے سیکھنے اور زندگی گزارنے کے مخصوص طریقے بتاتا ہے۔ جب کوڈ معلوم ہوجائے تو ہمارے لیے یہ آسان ہوجاتا ہے۔ ہم کس فیلڈ کے لیے بنے ہیں؟ کس کام میں تھوڑا کام کرکے زیادہ اور جلدی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ کونسا کام کرتے ہوئے ہم تھکیں گے نہیں۔

    اکثریت ساری عمر اپنی ناپسند کے کام میں ہی لگی رہتی۔ اور لوگ زندگی میں کچھ بھی بڑا نہیں کر پاتے۔
    آپ بھی اپنا پرسنیلٹی کوڈ معلوم کیجئے۔ اور پھر اس کام میں جت جائیے۔ بس دس سال سر نہیں اوپر اٹھانا۔ ٹکا کر محنت کرنی ہے۔ اور انشاء اللہ اگلا سو سال آپکا نام اس فیلڈ میں زندہ رہے گا۔ جتنی محنت زیادہ مقصد بڑا ہوگا اتنا نام معتبر ہوگا۔

    آٹزم کی اسسمنٹ تو کروا لی۔ والدین اب کیا کریں؟

    اس بچے کو اپنے دیگر بچوں سے مختلف بچہ قبول کریں۔ یہ مشکل ہے خصوصاً ایک ماں کے لیے۔ مگر میری بہن آپ اس بات کو لیکر کسی دکھ یا صدمے میں پلیز ہر گز نہ جائیں۔ نہ ہی اس بچے کو ٹھیک کرنے کے غلط راستے پر چل پڑیں۔ یہ بچہ ساری عمر دوسرے لوگوں کی طرح نہیں ہو سکے گا۔ یہ اپنے انداز میں ایک شاندار زندگی گزار سکتا ہے۔ اگر آپ اسے جو ہے جیسے ہے کی بنیاد پر قبول کر لیں۔۔اور اسکی بہتری پر کام شروع کر دیں۔

    اس بات کو چھپائیں بھی نہیں۔ سب کو بتائیں فخر سے کہ آپکا بچہ آٹسٹک ہے۔ اسکی پسند ناپسند عادات و اطوار تھوڑی یا زیادہ مختلف ہیں۔ فیملی و خاندان والوں کو ایجوکیٹ کریں۔ کہ اسکے ساتھ برتاؤ کیسے کرنا ہے۔

    کچھ بچے وربل اور اکثریت نان وربل کی ہوتی ہے۔ کچھ بچے ساری عمر ایک لفظ بھی نہیں بول پاتے۔ اشاروں کی زبان سیکھ جاتے ہیں۔ یا کوئی مخصوص الفاظ بولتے ہیں۔ جیسے انڈہ امی ابو آم کوئی ایک ایک لفظ وہ بھی جب انکی مرضی ہو۔

    تفصیلی اسسمنٹ جو ایک فرد واحد نہیں بلکہ پروفیشنلز کی ایک پوری ٹیم کرے۔ اور کئی دن پر وہ اسسمنٹ محیط ہو۔ وہ طے کرے گی کہ آٹزم کے ساتھ کونسی کنڈیشنز جڑی ہوئی ہیں؟ جنکی وجہ سے اسے سپیکٹرم کہا جاتا۔ اور

    اسکا علاج نہیں کرانا (جو دنیا بھر میں ہے بھی کوئی نہیں) بلکہ مینجمنٹ اور ایجوکیشن کا پلان کیسے بنانا ہے۔

    آٹزم کے ساتھ سب سے شدید کنڈیشن جو جڑتی وہ نابینا پن (Blindness) ہے۔ دنیا کی سب مشکل کنڈیشن ہے یہ اگر آٹزم شدید ہو۔
    اسکے علاوہ لرننگ ڈس ایبلٹیز،

    Expressive language disorder
    Receptive language disorder
    Sensory processing issues
    Obsessive compulsive disorder
    ADHD
    Hydrocephalus
    Epilepsy
    Schizophrenia
    Bipolar Disorder
    Depression
    Anxiety
    Disrupted sleep
    Gastrointestinal (GI) problems
    Feeding issues

    یہ بچے عام بچوں سے مختلف انداز میں سیکھتے ہیں۔ انکو سب سے پہلے بنیادی باتوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اپنے ذاتی کام کیسے خود کرنے ہیں۔ ممکنہ توجہ اور بول چال پر ماہرین سالوں سال کام کرتے ہیں۔ تو جا کر کوئی معمولی سا آوٹ پٹ ملتا ہے۔ ان بچوں کی ون ٹو ون ٹیچنگ ہے۔ دو بچے بھی ایک وقت میں ایک جگہ نہیں پڑھ سکتے۔ پنجاب سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ان بچوں کو اس وجہ سے نہیں لیتا۔ کہ وہاں ہر کیٹگری میں بچوں کی ریشو استادوں کی تعداد سے پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔

    ہمارے بے شمار سکولوں میں دانشورانہ پسماندگی کے ساتھ بچوں والے پورشن میں ایک ٹیچر کے پاس دس بیس بچوں کے ساتھ ہی ایک کونے میں یہ بچہ بھی چپ چاپ سہما ہوا بیٹھا رہتا ہے۔ دس بیس سال بھی وہاں بیٹھا رہے۔ کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ اسے انفرادی توجہ اور ون ٹو ون ٹیچنگ کی ضرورت ہے۔ جہاں ان بچوں کو پڑھایا جاتا وہاں کوئی ڈسٹریکشن نہیں ہوتی۔ کوئی آواز کسی فرد کا گزر نہیں ہونے دیا جاتا۔ کہ یہ بچے انسٹرکشن پر فوکس کر سکیں۔

    ان بچوں کے علاج اور بحالی پر دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی ہزاروں نیم حکیم، عطائی، پیر، ڈاکٹر، ماہر نفسیات، سپیچ تھراپسٹ، سپیشل ایجوکیشنسٹ، آکو پیشنل تھراپسٹ اور کئی بغیر کسی ڈگری کے ہی صرف ماہرین کے ساتھ کام کرکے سیکھے ہوئے افراد، والدین و بچے کا وقت برباد کرنے کے ساتھ انکا پیسہ بھی برباد کر رہے ہیں۔ والدین کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ والدین کو کچھ پتا ہی نہیں۔ نیٹ سے معلومات لے کر کوئی نتیجہ نکالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس فیلڈ کے ماہرین ہی کوئی حتمی رائے قائم کر سکتے ہیں۔۔ایک عام آدمی سب کچھ نیٹ سے نہیں سیکھ سکتا۔ ناں ہی سب کچھ جان سکتا ہے۔ جان بھی لے تو بہت زیادہ وقت لے گا۔

    اس سارے سین کے بعد خوشی کی بات کیا ہے؟

    ان بچوں میں اگر کچھ خرابیاں ہیں تو خدا کی ذات نے کچھ خوبیاں بھی رکھیں ہونگی؟ عقل مانتی ہے ناں اس بات کو؟ مثبت ایریاز کو تلاش کرکے ان پر کام کرکے ان بچوں سے غیر معمولی کام لیے جا سکتے ہیں۔
    تو یہ لیں ان بچوں کے کچھ مثبت ایریاز:

    مثبت سوچ
    انتہائی پاورفل و شاندار یاداشت
    حد سے زیادہ مخلص
    فوکس کرنے کی اعلی ترین خوبی
    باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کی صلاحیت
    لوگوں کو گلے لگانا چومنا پیار کرنا
    پڑھنا بہت چھوٹی عمر میں شروع کر دینا Hyperlexia
    تصویری اشیا سے سیکھنے کی صلاحیت
    لاجیکل تھنکنگ
    سائنس ریاضی طب انجینرنگ کے مضامین بلا کی ذہانت و فطانت
    ٹیکنکل اور لاجیکل مضامین میں مہارت
    تخلیقی صلاحیتوں کے سمندر ان بچوں میں قید ہوتے
    انتہائی ذمہ دار ہوتے یہ بچے

    ایسا تب ہو سکتا ہے۔ اگر ان بچوں کے علاج کو چھوڑ پر انکی تعلیم و تربیت پر فوکس کیا جائے۔ گو قابل ماہرین بہت کم ہیں مگر موجود ہیں۔ آپکو ان بچوں کے لیے کچھ پیسے زیادہ کمانے ہونگے۔ ایک ماہر ٹیچر آپ ہائیر کریں گے جو آکے گھر پڑھائے گا۔ وہ ایک ماہ روزانہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ٹائم دینے کا بیس ہزار سے کم کسی صورت نہیں لے گا۔ اور یہ سلسلہ چار پانچ سال سے لیکر دس سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ ایک ہی وقت میں دو سے تین لوگ بشمول ماہر نفسیات و آکو پیشنل تھراپسٹ بھی ضرورت کے تحت سیشن لیتے ہیں۔

    پاکستان کی ہر ڈویژن اور پنجاب کے ہر ضلع تحصیل ٹاؤن سپیشل ایجوکیشن سنٹر سے کسی ٹیچر کا پتا کر لیں جو سکول کے بعد ٹائم دے سکے۔ آپ بچے کی ماں ہیں یا والد خود بھی ساتھ ٹریننگ لیں۔ دنیا بھر میں کامیاب آٹسٹک بچوں کے ٹیچر اکثریت میں انکے والدین ہی تھے۔ یہ بچے ٹیچر کو منہ پر تھپڑ مارتے ہیں۔ تھوک دیتے ہیں۔ چکیاں کاٹتے ہیں۔ اوپر پانی گرا دیتے دھکا وغیرہ دے دیتے ہیں۔ ٹیچر یہ سب کیوں برداشت کرتا ہے؟ کہ اسے اسکا معاوضہ ملے گا۔ پانچ دس ہزار میں کوئی قابل ٹیچر یہ سب سہنے کے لیے نہیں ملے گا۔ آپکو تو پیسوں سے غرض نہیں؟ آپ ٹیچر سے کہیے آپکو بھی ٹرین کرے۔ اگر نہیں کر سکتے تو پیسے زیادہ کمائیے اور بچے کی باقاعدہ تعلیم و تربیت کیجیے۔ ورنہ بچہ گلیوں میں لوگوں کے ٹھٹھہ مذاق کا سورس ہوگا۔۔یا گھر کے کسی کونے میں پڑا زندگی کے دن پورے کرتا رہے گا۔ یا آپکی ساری زندگی اسکی اور آپکی ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے مشکل میں گزرے گی۔

    یہ بچے ارلی انٹروینشن کے بعد تعلیمی نظام کا حصہ بن کر پی ایچ ڈی تک کر سکتے ہیں۔ کئی آٹسٹک پی ایچ ڈی ہیں۔ انکے لیے بہترین ملازمت کے چند پیشے یہ ہیں۔ جن میں یہ اپنی سپر پاورز دکھا سکتے ہیں۔ اور یقیناً آپکی سہی ہوئی تکلیفیں اور خرچا ہوا سرمایہ سب کچھ یہ واپس لوٹا دیں گے۔ اگر آپ نے انہیں کسی قابل بنا دیا۔

    انیمل سائنسز جیسے زووالوجی یا جانوروں کو کسی کام کے لیے ٹرین کرنا (دنیا بھر میں ہر نسل کتوں کو سدھارنے اور مختلف کام سکھانے والے ماہرین آٹسٹک لوگ ہیں)

    ریسرچر کوئی بھی ان جیسا نہیں بن سکتا

    آرٹ اینڈ ڈیزائن (گرافک ڈیزائننگ)

    پینٹنگ (کہا جاتا ہے صادقین، اسمائیل گل جی اور جمیل نقش صاحب ملک کے تینوں عالمی شہرت یافتہ پینٹر بھی آٹسٹک تھے) ان لوگوں کی پینٹنگز آج کروڑوں میں بکتی ہیں۔ جمیل نقش صاحب کی بیٹی بتا رہی تھی کہ اسکے ابو اپنی ساری زندگی میں بس چند ایک دفعہ ہی گھر سے باہر نکلے۔ ایک بار جب انکی شادی ہوئی پھر جب انکی مسز فوت ہوئی جنازہ کے لیے۔ تیسری دفعہ جب پاسپورٹ بنوانا تھا اور چوتھی دفعہ جب انہوں نے لندن جانا تھا۔ سنہ 2019 میں جمیل نقش صاحب لندن میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ آج انکے کام کو دنیا جانتی ہے۔ وہ کسی سے بھی نہیں ملتے تھے بس اپنے کام میں کھوئے رہتے تھے۔

    مینو فیکچرنگ (کسی بھی چیز کی)

    انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے سافٹ ویئر اور موبائل ایپس بنایا۔ سافٹ ویئر کی خرابی چیک کرنا (امریکہ میں ایک آئی ٹی کمپنی ہے جو فرمز کے بڑے بڑے خراب سافٹ ویئر ٹھیک کرتی ہے۔ ان کے سارے ملازمین اسپرجر سنڈروم کے ساتھ ہیں۔ یہ آٹزم کی ہی مائلڈ شکل ہے)

    کسی بھی قسم کی انجینرنگ ملازمت

    یہ بچے سائنسدان بن سکتے ہیں (کیونکہ سائنسدان بھی کسی سے بات نہیں کرتے بس اپنے تجربات میں کھوئے رہتے ہیں۔ تین بڑے سائنسدان آئزک نیوٹن، البرٹ آئنسٹائن اور ہینری کیویندش (ہائیڈروجن کا موجود) بھی آٹسٹک تھے۔

    جرنلزم میں یہ لوگ کمال کے کالم نگار ہوتے ہیں کہ لکھنا ریسرچ کرکے ہوتا ہے۔۔ریسرچ کرنا ان پر ختم ہے

    کسی بھی مشین کے مکینک یہ بہترین ہو سکتے ہیں۔ جان ڈئیر مشینیں بنانے والی مشہور زمانہ امریکن کمپنی میں ٹاپ مکینک آٹسٹک لوگ ہیں۔

    دنیا کے ٹاپ وکلاء کے پیرالیگل سٹاف میں آٹسٹک لوگ ہو سکتے جو کسی کیس کی اسٹڈی میں رسرچ کرتے ہیں۔

    سپیس سائنسز کاسمالوجی میں ان سے بہتر کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ ناسا میں کئی آٹسٹک لوگ ہیں۔

    ان تمام شعبوں کے بائی ڈیفالٹ و بائی برتھ بادشاہ آٹسٹک لوگ ہیں۔ یہ سب شعبے انتہائی ذہانت اور لاجیکل تھنکنگ مانگتے ہیں۔ حد سے زیادہ فوکس اور لگن مانگتے ہیں۔ اینٹی سوشل لوگ ہی ہمیشہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اور انکی تو گھٹی میں پڑی ہوئی یہ خوبی کہ کسی سے بات ہی نہیں کرنی جاؤ جو ہوتا ہے کر لو۔ بس اپنی دنیا میں ہی مگن رہنا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈس ایںبلٹی کے میڈیکل ماڈل کی بجائے سوشل ماڈل کو اپناتے ہوئے ان بچوں کو قبول کیا جائے۔ اور انکی تعلیم و تربیت کا مناسب انتظام کیا جائے۔

    #autismawareness

  • سائنسی طرزِ فکر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی طرزِ فکر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی طرزِ فکر اپنائے بغیر سائنس نہیں سیکھی جا سکتی۔ سائنسی طرزِ فکر حقیقت پسندی کا نام ہے۔ ایک ان پڑھ بھی اگر حقیقت پسند ہو تو وہ ایک پی ایچ ڈی سے بہتر سائنس سیکھ سکتا ہے۔ حقیقت پسندی تب آتی ہے جب ہم کھوکھلے نعروں، فرسودہ علوم اور جذباتیت سے نکل کر وہ علم سیکھنے کی کوشش کریں جو جدید دنیا سیکھ رہی ہے۔

    ہمیں اس خوش فہمی سے نکلنا ہو گا کہ کوئی دن رات ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے کہ ہمیں ناکام کرے۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا کہ ہم کیا غلط کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ دنیا کیوں ہم سے ہر دوڑ میں آگے جا رہی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں کس قدر سنجیدہ ہیں۔ اور کیا پرانی روایات، پرانے خیالات اور پرانے علوم ہمیں جدید دنیا میں آگے لے جا سکتے ہیں؟

    کیا کھوکھلے نعرے لگانے والے ، رال ٹپکاتے، منہ سے جھاگ نکالتے اور عقل و خرد سے عاری داستانیں سنانے والے ہمیں کسی منزل تک پہنچا سکتے ہیں اور کیا انکی تقلید کرکے ہم قومی خود مختاری اور معاشی و معاشرتی ترقی کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو اب تک ایسا کیوں نہیں ہوا جبکہ پورے ملک میں ان سب کی بہتات ہے۔ گلی گلی، قریہ قریہ، محلے محلے، چینل چینل، سوشل میڈیا سوشل میڈیا انکی بہتات ہے۔ یہ لوگ دولو شاہ کے چوہے تو بنا سکتے ہیں جو بڑی بڑی ڈگریاں اور بڑے بڑے عہدے لیکر بھی رہتے تو اکسیویں صدی میں ہیں مگر انکے دماغ کئی صدیاں پیچھے رہ رہے ہیں۔ غریب تو خیر روٹی کپڑے سے نکل کر جدید تعلیم کیا محض تعلیم ہی نہیں سیکھ سکتے، مڈل کلاس فرسودہ علوم پر استوار تعلیمی نظام اور مساوی نظامِ تعلیم میں پھنسے اور اسکے ڈسے ہیں اور اشرافیہ غریبوں اور مڈل کلاس کی جہالت کا فائدہ اُٹھاتی خود پست ذہنیت کی ہو چکی ہے۔

    پاکستان میں اس وقت تقریباً دو سو کے قریب یونیورسٹیاں ہیں جن میں سے اکثر پچھلے تیس سالوں میں بنی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں بیٹھی اکادیمیہ جن میں پروفیسر حضرات شامل ہیں کن جدید علوم اور کس سائنسی فکر سے طلباء کو پڑھاتے ہیں؟ یونیورسٹیوں میں میریٹ پر کون بیٹھا ہے؟ تحقیق کے نام پر فنڈنگ سے کونسے مقامی مسائل کا حل نکل رہا ہے؟ مقامی صنعتوں اور یونیورسٹیوں کا اشتراک جو جدید دنیا میں ترقی کا پیش خیمہ ہے وہ کہاں ہے؟

    1964 میں حکومت کی ایک پوری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بنی تھی، اس وزارت کا کام ہر سال چاند کی رویت کے لیے بندے مار ٹیلی سکوپس حبیب بینک کراچی کی چھت یا سینٹارس پر کیے گئے رویت کے اجلاسوں میں چاند کو نکلوانے یا چھپوانے کے اور کیا ہے؟

    ایسے معاشرے میں سائنس سکھانے سے پہلے کیا یہ ضروری نہیں کہ سائنسی طرزِ فکر سکھائی جائے۔ مچھلی پکڑا کر کھلانے سے کیا بہتر نہیں کہ مچھلی پکڑنا سکھائی جائے؟ چلیں اس پر ملکر سوچتے ہیں۔

  • دنیا بھر سے میل ملن کی منفرد رسومات!!! — ستونت کور

    دنیا بھر سے میل ملن کی منفرد رسومات!!! — ستونت کور

    عام طور پر ملاقات کے وقت سلام دعا ، مصافحہ یا معانقہ کرنا میل ملن کا مروج دستور ہے ۔۔۔ تاہم دنیا بھر کے مختلف ممالک اور اقوام میں ملتے وقت کچھ الگ اور عجیب و غریب رسومات بھی موجود ہیں :

    1- تبت میں ملاقات کے وقت اپنی زبان باہر نکالنا احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    2- کینیاء کے معروف "مسائی” قبیلے کے لوگ ملاقات کے وقت ایک دوسرے کے منہ پر تھوک کر جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں۔

    3- ننیدرلینڈز کے "ماؤری” قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ملاقات کے وقت اپنی ناک، دوسرے کی ناک سے رگڑ کر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں ۔

    4- لائبیریا اور بینن کے قبائلی لوگ آپس میں ملتے وقت اپنی انگلیوں سے چٹکی بجا کر سلام دعا کرتے ہیں ۔

    5- فلپائن میں لوگ عمر میں خود سے بڑے احباب سے ملتے وقت ان کا ہاتھ تھام کر ان کے ہاتھ کی پشت کو اپنے ماتھے سے مَس کرتے ہیں ۔

    6- ٹریڈشنل عرب کلچر میں ملاقات کے وقت دوسرے کے ہاتھ یا گال پر بوسہ دینا مروج ہے۔

    7- موزمبیق میں مقامی قبائلی ملاقات کے وقت تین مرتبہ تالی بجا کر گرمجوشی کا ثبوت دیتے ہیں۔

    8- ہندوستان میں لوگ عمر یا مرتبے میں خود سے بڑے احباب سے ملتے وقت چرن سپرش کرتے ہیں یعنی ان کے پیر چھوتے ہیں۔

    9- جاپان میں ملاقات کا دستور یہ ہے کہ دونوں افراد ایک دوسرے کے سامنے جھک کر احترام پیش کرتے ہیں۔

    10- ملائشیا میں لوگ ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے کے بعد ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر الفت کا اظہار کرتے ہیں ۔۔۔ یہ رسم کچھ حد تک ہندوستان میں بھی مروج ہے مسلمانوں میں ۔

  • آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے!!!  — ریاض علی خٹک

    آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک صاحب ریٹائرڈ ہوگئے. اچھا بھلا ریٹائرمنٹ فنڈ ملا. بچے تعلیم کے آخری مراحل میں تھے. کسی نے ان سے پوچھا کہ اب کیا پروگرام ہے. انہوں نے کہا کچھ نہیں اب اللہ اللہ کریں گے. پوچھنے والے نے کہا ایسے تو سارا فنڈ آپ گھر بیٹھ کر کھا جائیں گے. کسی کاروبار کی سوچ لیں. ان صاحب نے کہا بھائی مجھے کاروبار کی نہ سمجھ نہ تجربہ نہ شوق ہے. بجائے اپنا فنڈ مارکیٹ میں دوسروں کو کھلانے سے کیا بہتر نہیں کہ گھر بیٹھ کر خود اور اپنے بچوں کو کھلا دوں.؟

    آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے. ہماری مارکیٹ میں ہر دوسرے دن ایک نیا ڈبل شاہ نہ صرف پیدا ہوتا ہے بلکہ کامیابی سے سب کو چونا بھی لگاتا ہے کیونکہ ہم خود سے بھی جھوٹ بولتے ہیں. جس مارکیٹ میں دس سے بیس فیصد ریٹرن کیلئے لوگ صبح سے رات تک لڑ رہے ہوتے ہیں ایک بندہ بہت اعتماد سے بتائے گا میں آپ کو پچیس فیصد ریٹرن دوں گا.

    ڈبل شاہ ہمیں ایک ایسا لالچ دیتا ہے جس کیلئے پھر ہم خود سے جھوٹ بولنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں. ہمیں ڈبل شاہ دھوکہ نہیں دیتا ہمیں ہمارا لالچ دھوکہ دیتا ہے. مارکیٹ سب کیلئے کھلی ہے خود سے سچ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب آپ خود مارکیٹ میں بیٹھ کر اپنے فیصلے کریں. پھر نفع ہوا یا نقصان کم از کم آپ سچے ضرور ہوں گے.

  • پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن — ضیغم قدیر

    پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن — ضیغم قدیر

    یہ پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن ہیں پچھلے چھ سات سال سے میرے فیورٹ کلینیکل سائیکالوجسٹ ہیں ان سے بہتر میرے خیال سے آج کی تاریخ میں کوئی سائیکالوجسٹ زندہ نہیں ہے۔

    انکی زندگی کے متعلق اپروچ حد سے زیادہ مثبت اور حوصلہ افزاء ہے۔ خاص کر انکے پرسنالٹی پر دئیے گئے یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے لیکچر کسی بھی سائنس کے طالب علم کو ضروری سننے چاہیں۔ وہیں انکے یہ لیکچر ان لوگوں کے لئے سننا بھی اہم ہیں جو زندگی میں کسی قسم کی ڈپریشن یا پر پریشانی سے گزر رہے ہیں اور ایک استاد کی شکل میں ایگزٹ چاہتے ہیں۔

    انکی زندگی کو لے کر چلنے والی اپروچ بہت ہی عمدہ ہے۔ پروفیسر پیٹرسن کا کہنا ہے کہ اپنا خیال ویسے ہی رکھیں جیسا آپ کسی اپنے پیارے کا رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انکی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ ڈپریشن میں ہیں تو سب سے پہلے اپنا بستر درست کرنا شروع کریں۔ یہ سادہ سی بات ہمیں بہت سی پریشانیوں سے بچا سکتی ہے۔

    مختلف شارٹ ویڈیوز میں پیٹرسن کی وجہ شہرت فیمنزم اور پوسٹ ماڈرنزم کے لتے لینے سے ہوئی ہے لیکن ہم جو انہیں ایک دہائی سے سن رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پروفیسر سائیکالوجی میں ایک بہت قابل نام ہیں اور انہوں نے خود آگاہی پہ جو کام کیا ہے وہ قابل دید ہے۔

    یوٹیوب پہ ایک مشہور سلیبرٹی ہونیکے ساتھ ساتھ یہ ایک جید سائنسدان ہیں جس کی سائٹیشنز کی تعداد بیس ہزار اور ایچ انڈیکس 57 ہے مطلب وہ ایک قابل سائنسدان بھی ہیں۔

    انسانی پرسنالٹی کے بارے میں انکی تمام باتیں سائنسی حقائق پہ مبنی ہیں اور اگر آپ کسی قسم کی ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں تو آپ کو انہیں سننا چاہیے یہ آپ کو منجدھار سے نکال باہر لائیں گے۔

    جہاں البرٹ ایلس جیسے سائیکالوجسٹس نے ہمیں فرائیڈ کے نظریات سے نکال کر جدید سائیکالوجی سے متعارف کروایا اور CBT جیسی تکنیک متعارف کروائی وہیں پیٹرسن نے البرٹ ایلس سے آگے جاکر سائیکالوجی میں ارتقائی علم کے استعمال کیساتھ ساتھ سینٹ فوکالٹ کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کنٹرول کرکے پوسٹ ماڈرن نظریات سے نوجوان نسل کے ذہن پراگندہ کرنے کے ایجنڈے کو ناکام بنایا ہے۔ جس کا مقصد نئی نسل کے ذہن سے اقدار کو ختم کرنا ہے مگر پیٹرسن جیسی مزاحمتی آواز نے اس ایجنڈے کو پورا ہونے سے روک رکھا ہے اور یہ انکی انسانیت کے لئے کی گئی سب سے بڑی نیکی ہے۔

  • زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

    زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

    کسی کی تعریف کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ اسکے مرنے یا جُدا کا انتظار کیا جائے۔

    ایک بار پروفیسر جارڈرن پیٹرسن اس بات پہ رو پڑے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور وہ اس احساس میں مبتلا تھا کہ اس میں کسی چیز کی کمی ہے شائد اسی وجہ سے اس کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بدلے میں پیٹرسن نے اسکی تعریف کی تو وہ شخص بلک بلک رویا۔ لوگ تعریف سننے کو ترستے یہاں فوت ہوجاتے ہیں۔

    ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگلے کی تعریف کرنے سے وہ شخص ان کے ساتھ اپنا برتاؤ بدل دے گا۔

    زیادہ تر گھریلو جھگڑوں کو آپ دیکھ لیں چاہے لو میرج ہو یا ارینج، شادی کے کچھ سالوں بعد لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ کیوں؟

    کیونکہ دونوں ایکدوسرے کو پہلے کی طرح نہیں سراہتے ۔

    بہت سے انسانوں کو یہ قدرتی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوشی کے موقعے پہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ سائیکالوجیکلی اس مظہر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں زیادہ تر بچپن کی احساس محرومیاں۔مگر یہ بات کسی بھی رشتے میں محبت کو کم کرنے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔

    بقول کچھ سائیکالوجسٹس ہم ایسے تعریف نا کرکے کسی کو خود اپنی ذات سے نفرت کرنا سکھا دیتے ہیں ۔ وہ لوگ یہ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ ان میں کچھ قابل تعریف ہے ہی نہیں۔

    ہمارے معاشرے میں تو تعریف کا اسٹینڈرڈ ہی کافی گھٹیا ہے۔ اگر کسی کو کوئی پیارا لگ رہا ہو تو بجائے اس کی تعریف میں دو بول بولنے کے وہ اس پر کوئی تھرڈ کلاس جگت لگا دیتا ہے۔ جس پر اگلا بندہ شرمندہ شرمندہ سا ہوجاتا ہے۔

    بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ مگر یہ کلیئر کٹ ہے کہ کوئی بھی آپ کے دل کی بات نہیں جانتا۔ اگر آپ کسی کو یاد کر رہے ہیں تو آپ کو اگلے کو بتانا ہوگا۔ اگر کسی کو پیار کرتے ہیں تو اظہار کرنا ہوگا۔ سنا تھا کہ خدا بھی اظہار کے بغیر خود سے کی گئی محبت قبول نا کرے اور یہ بات بجا ہے۔

    اسی طرح کسی کی قبر کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کی غیر موجودگی کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ اسکے سامنے ہوتے ہوئے اس کی دل آزاری کرتے ہیں تو آپ اسکی غیر موجودگی میں چاہے اس شخص کو حاتم طائی ثابت کردیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    ہاں

    ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت جب وہ پاس ہوتا ہے۔ جب وہ چلا جاتا ہے تب آپ کا کچھ بھی اس تک نہیں پہنچتا۔ انفرادی طور پہ اس عادت کو ضرور اپنائیں۔ کبھی کبھار کی تعریف کرنا سیکھیں۔

    خاص کر اپنے بچوں کی تعریف کرنا شروع کریں۔ اس نے گنتی لکھنا شروع کی تو ایک چاکلیٹ لا دیں۔ چاہے پانچ والی لا کر دیں دیکھ لیجیے گا اگلی بار وہ نیا ٹاسک جلدی سیکھے گا ۔ بچوں میں ٹاسک پہ خوش ہونا بہت کامن ہوتا ہے اگر آپ ان میں موجود ریوارڈ سسٹم کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں گفٹ دینا سیکھیں۔

    اپنے ملازم کی تعریف کریں۔ تعریف میں چار پیسے زیادہ دیں۔ اگلی بار دیکھیے گا کہ کیسے وہ ڈیڑھ بندوں کا کام اکیلا انجام دیتا ہے۔ کیونکہ تعریف ایک مثبت پرفارمنس بوسٹر ہے۔

    اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کریں۔ اگلی بار دیکھیئے گا کہ کیسے وہ آپ سے اپنا پیار دو سے تین گنا کرتا ہے۔ یہ ایک واہمہ ہی ہے کہ اگر آپ اپنے پسندیدہ شخص کی تعریف کریں گے تو وہ بگڑ جائے گا یا آپ کی قدر کرنا چھوڑ دے گا بلکہ اگر وہ قدر دان ہوا تو وہ آپ کی پہلے سے زیادہ قدر کرنے لگ جائے گا سو اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کرنا شروع کریں یہ عادت آپکے رشتے کو مضبوط بنا دے گی۔

    بس ایک بار ٹرائی کرکے دیکھیئے گا۔ کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی اس احساس محرومی میں جی رہا ہوتا ہے کہ اس کو کوئی اپنا کبھی نہیں سراہتا جو کہ نہایت ہی غلط بات ہے۔

  • پاکستانی معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی بڑھتی ہوئی تعداد — محمد سجاد عبداللہ

    پاکستانی معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی بڑھتی ہوئی تعداد — محمد سجاد عبداللہ

    ویسے تو تمام آسمانی مذاہب میں زومبیز جیسا کوئی کردار نہیں ہے، یہ صرف ہالی ووڈ موویز میں ڈیفائن کیا گیا ہے۔ لیکن پاکستانی معاشرے کی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہالی ووڈ موویز میں زومبیز ایسے مردہ انسان ہوتے ہیں جو کسی کو کاٹ کھائیں تو وہ بھی زومبی بن جاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایک نئی طرح کے زومبی نیس کا شکار ہوگیا ہے۔ایسے کردار جو غلط یا غیر موجود کیرئیر کونسلنگ کی وجہ سے معاشرے کے کسی خاص شعبے میں ، اپنی مرضی کے بغیر ، شامل ہوجاتے ہیں ، وہ آہستہ آہستہ معاشرے کے دوسرے افراد میں بھی اپنی طرح بیزاری اور مایوسی بھرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

    کیا کسی ایسے سٹوڈنٹ کو کوئی ایسا مضمون زبردستی پڑھایا جاسکتا ہے جس میں اس کی دل چسپی ہی نہ ہو؟؟

    مثلا اسلامی مدرسوں میں بچوں ان کی عدم دل چسپی کے باوجودان کو مار پیٹ کراگر ہم ان کو عالم دین یا حافظ قرآن بنا بھی دیں اور اس کے مقابلے میں کچھ ایسے سٹوڈنٹس ہوں جو صرف اپنی ذاتی دل چسپی اور شوق کی وجہ سے حافظ قرآن یا عالم دین بنیں تو کورس مکمل ہونے کی بعد کی زندگی میں پہلے والے سٹوڈنٹس زیادہ کامیاب ہوں گے یا دوسرے والے؟ معاشرے کو زیادہ بہتر اور دل جمعی کے ساتھ خدمات مہیا کرنے میں پہلے والے سٹوڈنٹس زیادہ کامیاب ہوں گے یا دوسرے والے؟ معاشرے میں بہتری، تازگی اور برداشت پہلے والے سٹوڈنٹس کی وجہ سے آئے گی یا دوسرے والے؟

    یہی کہانی باقی تمام دنیاوی مضامین میں اپلائی ہوتی ہے۔ جس بچے کو بائیو سمجھ ہی نہیں آتی، اس کو آپ ایک اچھا ڈاکٹر کیسے بنا سکتے ہیں۔ ہر بچے کی دل چسپیاں مختلف ہوتی ہیں۔ ہم ٹیچرز کے پاس ہر کلاس میں تقریبا 90%سٹوڈنٹس ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جو اپنی مرضی کی بجائے کسی اور مثلا ماں باپ، ماموں، چاچو یا دوستوں کے کہنے کی وجہ یہ مضمون منتخب کرتے ہیں اور پھر اگر کسی طریقے سے رٹا لگا کے، ذہنی اذیت برداشت کرکے یہ مضمون پاس کربھی جائیں تو اول نمبر اتنے اچھے نہیں آتے، یا نمبر اچھے آجائیں تو اس مضمون میں اپنی عدم دل چسپی کی بنا پر معاشرے کو اپنا سو فیصد کنٹری بیوشن نہیں دے سکتے۔

    ایک اور مثال اپنے مضمون سے دینا چاہتا ہوں کہ ایم سی ایس یا بی ایس کمپیوٹر سائنسز کرنے والے اکثر سٹوڈنٹس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ان کو پروگرامنگ کی الف ب کا بھی پتہ نہیں ہوتا اور وہ اپنی طرف سے ایک لائن بھی کوڈ نہیں کرسکتے۔ اب ایک ماسٹرز ڈگری والا پروگرامنگ کی ایک لائن بھی نہیں لکھ سکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کو کمپیوٹر سائنس پروگرام میں جو ایڈمشن دیا تھا وہ ایڈمشن غلط تھا۔اور ایسے سٹوڈنٹس جب ڈگری مکمل کرنے کے بعد حقیقی دنیا میں واپس آئیں گے۔ تو اچھی آمدن نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں بیزاری، عدم برداشت اور تعلیم سے دوری جیسے عناصر کو فروغ دیں گے۔

    حقیقتا ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے۔ویسے تو ایسے سٹوڈنٹس کا ڈگری میں کامیاب ہونا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہماری یونیورسٹیز میں سے اکثریت علم کی دریافت اور ایجاد کی بجائے چھاپہ خانے کی سروسز مہیا کررہی ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اچھی آمدن کیلئے ڈگری ضروری نہیں ہوتی ۔ یہ علیحدہ قابل مباحثہ موضوعات ہیں۔

    ہمیں میٹرک کے بعد سے ہی اس مسئلے پر توجہ دینی پڑی گی۔ کیرئیر کونسلنگ کے شعبے کی کالج لیول پر اشد ضرورت ہے۔ ہر بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون کے بارے میں پوچھا جائے، جو اس کو سمجھنے میں آسان لگتا ہے۔ یا بالفرض اس کو کسی ایسے پروگرام میں ایڈمشن مل بھی جاتا ہے جو وہ فالو نہیں کرسکتا تو ایک یا دو ماہ کے اندر اپنا پروگرام تبدیل کرلے اور کسی ایسے پروگرام میں داخلہ لے لے، جس میں اس کو دل چسپی ہے۔

    ہمیں مزید پروگرامز متعارف کروانے ہوں گے، جس میں ٹیکنیکل پروگرامز کی کثیر تعداد شامل ہو۔ کیوں کہ سٹوڈنٹس کی اکثریت روایتی تعلیمی پروگرامز میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ ہمیں میرٹ بیسڈ ایڈمشنز کو فروغ دینا ہوگا۔ کمپیوٹر سائنس پروگرام میں اس کو ایڈمشن دیں، جس کی ریاضی اچھی ہو۔ جو کوڈنگ کرسکتا ہےورنہ اس کے کمپیوٹر سائنس پڑھنے سے نہ اس کو کوئی فائدہ اور نہ ہی ملک کو کوئی فائدہ۔ بلکہ اس کے پروگرام کو جوائن کرنے سے الٹا ریسورسز کا ضیاع ہی ہوگا۔

    کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی قسم کے تعلیمی پروگرام میں دل چسپی نہیں لیتے ۔ ان کیلئے سپورٹس پروگرام اور انٹرن شپ بیسڈ پروگرامز متعارف کروائے جاسکتے ہیں۔ جس میں مارکیٹ میں ہونے والے بہت سارے کاروبار میں ان کی مہارت ڈیویلپ کی جاسکتی ہے۔

  • دبئی میں دو سیٹوں والی الیکٹرک فلائنگ کار کا کامیاب تجربہ

    دبئی میں دو سیٹوں والی الیکٹرک فلائنگ کار کا کامیاب تجربہ

    دبئی: ایک چینی فرم نے پیر کے روز دبئی میں ایک الیکٹرک فلائنگ کار کا تجربہ کیا، جس میں مستقبل کی ٹیکنالوجی کی ایک جھلک پیش کی گئی-

    باغی ٹی وی :واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دبئی میں دو سیٹوں کی اُڑنے والی گاڑی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے،دو سیٹوں والی الیکڑک کارکواسکائی ڈائیو میں عمودی ٹیک آف اورلینڈنگ کرائی گئی ہے فلائنگ کار کی رفتار130 کلومیٹر (80 میل) فی گھنٹہ ہے اور یہ مصنوعی ذہانت کنٹرول سسٹم سے لیس ہے۔

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    فلائنگ کار چینی انجینئرز کی کاوش ہے جو مصنوعی ذہانت کنٹرول سسٹم سے لیس ہے، اس کے علاوہ کار خود مختار اُڑان بھی بھر سکتی ہے۔

    فلائنگ کار بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے فلائنگ کار کو پہلے مرحلے میں بعض ریگولیٹڈ علاقوں میں ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ آپریشنل اخراجات اور خطرات کو کم کیا جا سکے۔

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    کا ر کو Guangzhou میں قائم XPeng Inc کے ہوا بازی سے وابستہ ادارے نے تیا کیا ہے،دنیا بھر میں اڑن کاروں کے درجنوں منصوبوں میں سے ایک ہے پیر کو مظاہرہ ایک خالی کاک پٹ کے ساتھ کیا گیا تھا، لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے جولائی 2021 میں انسان بردار فلائٹ ٹیسٹ کیا تھا گاڑی دو مسافروں کو لے جا سکتی ہے اور آٹھ پروپیلرز کے سیٹ سے چلتی ہے۔

    کار کے حوالے سے کمپنی کا کہناہےکہ دو سے تین سالوں میں فلائنگ کاردبئی میں اُڑتی نظرآئےگی۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

  • ٹوئٹر اپنے صارفین کی ٹوئٹس کو اسکرین شاٹس کی شکل میں پوسٹ کرنے پر ناخوش

    ٹوئٹر اپنے صارفین کی ٹوئٹس کو اسکرین شاٹس کی شکل میں پوسٹ کرنے پر ناخوش

    ٹوئٹر نے صارفین کی جانب سے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس کی روک تھام کے لئے کام شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی : کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ٹوئٹر کی آئی او ایس ایپ میں ایک نئے فیچر کی آزمائش کی جارہی ہے جس میں کسی ٹوئٹ کا اسکرین شاٹ لینے پر ایک پوپ اپ میسج سامنے آتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسکرین شاٹ لینے کی بجائے ٹوئٹ کو شیئر کریں کچھ افراد کے سامنے تو کاپی لینے کا آپشن بھی آرہا ہے۔

    صارفین ٹوئٹر پرتصاویر، ویڈیوز اورجی آئی ایف فائل ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے


    ٹوئٹر کے ایک ترجمان نے اس حوالے سے بتایا کہ کروڑوں ٹوئٹس کو روزانہ ٹوئٹر سے دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ٹوئٹس تک ہر فرد کو رسائی حاصل ہو چاہے وہ پلیٹ فارم سے باہر ہی کیوں نہ ہو۔

    ترجمان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ہم ایک نئے پروموٹ کو آئی او ایس میں ٹیسٹ کررہے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنے دوستوں کے ساتھ ٹوئٹس شیئر کرنے کے ذرائع کا علم ہوسکےیہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جب حقیقی ٹوئٹ کی بجائے اس کے اسکرین شاٹ کو شیئر کیا جاتا ہے تو دیگر افراد کو اس پلیٹ فارم سے انگیجمنٹ کا موقع نہیں ملتا۔

    ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے ٹوئٹر کے لیے ایسے افراد کو اشتہارات دکھانے کا موقع نہیں ملتا یا انہیں اس سروس کا حصہ بننے کی پیشکش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

    ٹویٹر صارفین کو اسکرین شاٹنگ کے برعکس ٹویٹس کا اشتراک کیوں کرنا چاہتا ہے۔ ایک تو، آپ ایپ پر زیادہ دیر تک رہیں گے یا ایک لنک بھیجیں تاکہ کوئی دوسرا ٹوئٹر پر وقت گزار سکےجتنا زیادہ وقت کوئی ٹویٹر پر گزارتا ہے، اتنا ہی زیادہ فروغ شدہ ٹویٹس اور اشتہارات وہ دیکھتے ہیں۔

    اگر آپ کسی ٹویٹ کا اسکرین شاٹ کر کے اسے کسی اور سوشل میڈیا ایپ پر پوسٹ کرتے ہیں تو ٹویٹر کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

    ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ

  • مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    اس وقت مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز بہت ٹرینڈنگ ہیں جس میں ان بچوں کو جو اپنی بائیولوجیکل جنس سے ہم آہنگ نہیں ہیں انہیں سرجری سے گزارا جاتا ہے یا ہارمون بلاکر لگائے جاتے ہیں۔

    مطلب؟

    مطلب یہ کہ نو عمر بچے جو شروع سے ٹی وی پہ بار بار lgbtq+ چیزیں دیکھ رہے ہیں مطلب انہیں بچپن سے سکھایا جا رہا ہے کہ مرد کا مرد ہونا اسکے لئے جرم ہے عورت کا عورت ہونا، تو وہ اس بات کو سیریس لے کر اپنی بلوغت سے پہلے اپنے جسمانی جنسی اعضا کی نمو روکنے کے لئے ہارمون بلاکر لیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پہلے بچوں کو برین واش کیا جاتا ہے اور پھر پراڈکٹ بیچی جا رہی ہے۔ اور اس پر میڈیکل ایتھکس بھی اپلائی نہیں کی جا رہیں اور جو اس پر بات کرتا ہے اس کو خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ ہارمون بلاکر کیا کرتے ہیں؟

    یہ ہارمون بلاکر بچیوں میں انکی چھاتیوں کو بڑھنے سے روکتے ہیں، بچوں میں ان کے مردانہ خصائص کے اظہار کو روکتے ہیں۔

    اور اس بارے میں حد سے زیادہ تنگ نظری پائی جا رہی ہے اگر آپ اس عمل کو غلط مانتے ہیں تو آپ ٹرانس فوبک کہلوائے جاتے ہیں، آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے گا، باہر کے ملک سے آئے ہیں تو امیگریشن کینسل کرکے ملک سے بیدخل کر دیا جائے گا۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہیں، سائنسدان ہیں یا صحافی، بلاتفریق اس پر زبان بندی کروا دی جاتی ہے۔

    اور واقعی میں ایسا ہو رہا ہے۔

    حالانکہ میڈیکل سائنس میں کسی قسم کے بھی جسمانی آرگن کو ٹرانسپلانٹ تک کرنے کے سخت سے سخت قانون ہیں مگر آپ ہارمون بلاکرز اور بریسٹ ریموول سرجری کے لئے ایک اپائنٹمنٹ لیکر سب کچھ کروا سکتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ زور اس بات پہ دیا جاتا ہے کہ کم عمری میں ہی لڑکے اپنی ویسکٹومی کروا لیں مطلب خود کو ناکارہ کروائیں۔

    ہمارے ملک میں ٹرانسجینڈر بل امریکہ اور مغربی ممالک کا لال منہ دیکھ کر اپنا منہ لال کرنے کی طرف ایک قدم تو ہے ہی وہیں اسکے کلچرلی بہت بھیانک نتائج ہونگے۔

    کیوں؟

    کیونکہ ہمارے ہاں پہلے ہی مخلوط تعلیم اور رہن سہن پر پابندی ہے ایسے میں جب کم عمر ذہنوں کو بار بار بتایا جائے گا کہ ایک ہی جنس میں کشش محسوس کرنا اور اپنی جنس کو مخالف سمجھنا نارمل ہے تو یہ تباہی مغرب سے زیادہ بھیانک ہوگی۔

    ٹرانسجینڈر ایکٹ جس دن پاس ہوا تھا اس دن اس پہلو پہ بات کرتے ہوئے ہمارے کان لال ہو گئے تھے مگر کچھ سال بعد ان لوگوں کے لال ہونگے جو ابھی خاموش ہیں مگر انکا بیٹا جب صائم سے صائمہ بنے گا اور اپنی اصل بائیولوجیکل جنس قبول کرنے سے انکاری ہو جائے گا۔

    ہمارے ہاں ٹرانسجینڈ ایکٹ کے اثرات مغرب سے برے ہونگے اور آپ یہ بات نوٹ کر سکتے ہیں۔ یاد رہے یہ پوسٹ ٹرانس فوبک ہرگز نہیں بلکہ کلچرل اور میڈیکل پہلوؤں کو بتا رہی ہے۔