Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محمد پور دیوان اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ 200 خاندانوں میں راشن ،بستر،کپڑےاور پانی تقسیم

    محمد پور دیوان اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ 200 خاندانوں میں راشن ،بستر،کپڑےاور پانی تقسیم

    باغی ٹی وی : محمدپوردیوان( جنید احمدانی)منہاج ویلفئیر فاونڈیشن راجن پور کے زیرانتظام محمد پور دیوان اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ 200 خاندانوں میں راشن ،بستر،کپڑےاور پانی تقسیم کیا گیا۔جس میں مہمان خصوصی مرکزی نائب ناظم اعلی سردار شاکر خان مزاری،ڈاکٹراختر عباس کوارڈینیٹر منہاج ویلفئیر فاونڈیشن یو ۔کے ،ملک عبدالروف مصطفوی کوارڈینیٹر ایم ڈبلیو ایف راجن پور اور ڈائریکٹر جامعہ منہاج القرآن راجن پور ،خالد بلال اعوان ،محمد اشرف ملک،غلام مصطفیٰ مغل نے خصوصی شرکت کی۔۔۔اس موقع پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے فلسفے اور ان کے منشور کے مطابق ہر مشکل گھڑی میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن بلا رنگ و نسل دکھی انسانیت کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش نظر آتی ہے راجن پور ،ڈی جی خان سمیت پورے پاکستان کے سیلابی علاقوں کے لوگ خود کو تنہا نا سمجھیں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے متاثرین کی ہر ممکن مدد کی بھی جا رہی ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن مدد کی جائے گی اس کے علاؤہ فاضل پور میں سیلاب متاثرین کیلئے تقریباً 50 خیموں پر مشتمل خیمہ بستی بھی لگائی گئی ہے جس میں لوگوں کو کھانے پینے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کی سہولیات اور بچوں کو تعلیم بھی دی جا رہی ہے جو کہ ایک احسن اقدام ہے

  • تلہ گنگ- الخدمت فاؤنڈیشن  نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا

    تلہ گنگ- الخدمت فاؤنڈیشن نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا

    باغی ٹی وی :تلہ گنگ (شوکت ملک سے) اہلیانِ تلہ گنگ کا الخدمت فاؤنڈیشن پر بھرپور اعتماد، الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا، تفصیلات کے مطابق اہلیانِ تلہ گنگ نے الخدمت فاؤنڈیشن پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ کو سیلاب متاثرین کی بھاری امداد فراہم کرکے ریکارڈ قائم کر دیا، صدر الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ افتخار افتی نے دیگر ضلعی عہدیداران کے ہمراہ ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صدر الخدمت فاؤنڈیشن پنجاب شمالی رضوان احمد کے حوالے کر دیا۔

  • کندھ کوٹ : برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں  تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم

    کندھ کوٹ : برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم

    باغی ٹی وی .کندھ کوٹ (نامہ نگار)کندھ کوٹ میں سیلاب اور برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم کئے گئے کندھ کوٹ کشمور اور تنگوانی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا
    تفصیلات کے مطابق کیمپ میں ماہر ڈاکٹر، چائلڈ اسپیشلسٹ اور تمام امراض کو ڈاکٹروں نے چیکپ کیا کیمپ میں 500 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا اور انہیں ادویات فراہم کیں مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں کندھ کوٹ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے تمام مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تحریک لبیک پاکستان کندھ کوٹ کی جانب سے راشن اور ادویات سمیت دیگر امدادی سامان متاثریں تقسیم کرنے کا عمل جاری تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بستروں کمبل پانی اودیات اور دیگر ضروریات کے سامان غریب مستحق برسات متاثرین میں تقسیم تحریک لبیک پاکستان کندہ کوٹ بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے دن رات کوشاں میں مصروف عمل اس موقع پر تحریک لبیک ضلع کشمور کے امیر مفتی محمد قاسم سکندری اور ناظم اعلیٰ مقصود احمد اعوان نے کہا کہ ہم اعلیٰ قیادت کے حکم پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کندھ کوٹ کشمور کے مختلف علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ لگائی ہیں تحریک لبیک کے ناظم اعلیٰ مقصود احمد اعوان نے مزید کہا کہ فری میڈیکل کیمپ کا مقصد یہ ہے کہ ضلع کے بارانی علاقوں میں عوام کو ڈیلی ویجز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی وبائی امراض کو روکا جا سکے۔

  • سمندر سے  1300 سال قبل ڈوبنے والے جہاز کی باقیات اور اس میں موجود نوادرات دریافت

    سمندر سے 1300 سال قبل ڈوبنے والے جہاز کی باقیات اور اس میں موجود نوادرات دریافت

    تل ابیب: اسرائیل کے ایک ساحل سے سمندر کے اندر سے 1300 سال قبل ڈوبنے والے جہاز کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جہاز سے کئی قیمتی سامان بھی ملا ہے یہ جہاز ساتویں صدی کے لگ بھگ سمندر میں ڈوب گیا تھا اور اس وقت اسے کوئی نہیں بچا سکا تھا دو شوقیہ غوطہ خوروں نے نیچے سے لکڑی کا ایک ٹکڑا چپکا ہوا دیکھا اور حکام کو اس کی اطلاع دی۔

    پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    ماہرین کیلئے حیران کن بات یہ ہے کہ اب تقریباً 1300 سال بعد یہ پرانا جہاز مل گیا ہے اور اس وقت جہاز میں جو بھی چیزیں رکھی گئی تھیں وہ اب بھی محفوظ پائی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس جہاز میں تقریباً 200 دیگیں قیمتی چیزوں سے بھری ہوئی تھیں۔ جہاز بحیرہ روم کے زمانے کے سامان سے لدا ہوا تھا تاہم جہاز کن وجوہات کی بنا پر غرق ہوا، یہ سبب سامنے نہیں آیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ساتویں صدی میں اسلامی سلطنت کے قیام کے بعد بھی مغربی ممالک سے لوگ تجارت کے لیے یہاں آتے رہے ہوں گے یہی نہیں بلکہ جہاز کے اردگرد ملنے والے نوادرات سے لگتا ہے کہ یہ جہاز مصر یا ترکی سے یہاں آیا تھا۔

    یہ وہ وقت تھا جب بڑی تعداد میں عیسائی بازنطینی سلطنت مشرقی بحیرہ روم کے اس علاقے پر اپنی گرفت کھو رہی تھی اور اسلامی حکومت اپنی رسائی کو بڑھا رہی تھی۔

    حیفا یونیورسٹی کی ایک سمندری آثار قدیمہ کے ماہر اور کھودنے کی ڈائریکٹر ڈیبورا سیویکل نے کہا کہ بحری جہاز کی تباہی، جس کی تاریخ 7ویں یا 8ویں صدی عیسوی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ بحیرہ روم کے باقی حصوں کے ساتھ مذہبی تقسیم کے باوجود تجارت برقرار رہی-

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    انہوں نے کہا کہ ہاں ہمارے پاس ایک بڑا جہاز کا ملبہ ہے، جس کے بارے میں ہمارے خیال میں اصل جہاز تقریباً 25 میٹر (82 فٹ) لمبا تھا، اور. بحیرہ روم کے تمام سامان سے لدا ہوا تھا ڈیک پر موجود نوادرات سے پتہ چلتا ہے کہ جہاز قبرص، مصر، شاید ترکی اور شاید شمالی افریقہ کے ساحل تک بہت دور تھا۔

    کھدائی اسرائیل سائنس فاؤنڈیشن، آنر فراسٹ فاؤنڈیشن اور ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ناٹیکل آرکیالوجی کی مدد سے کی گئی اسرائیل کا ساحل ہزاروں سالوں میں ڈوبنے والے بحری جہازوں سے بھرا ہوا ہے۔

    ملبے بحیرہ روم میں کسی اور جگہ کے مقابلے میں مطالعہ کے لیے زیادہ قابل رسائی ہیں کیونکہ یہاں کا سمندر اتھلا ہے اور ریتلی تہہ میں نوادرات محفوظ ہیں۔

    اس تلاش میں تقریباً 200 ایسے برتن ملے ہیں جن میں کھانے پینے کی اشیا ہیں جو بحیرہ روم کے علاقوں سے وابستہ ہیں۔ فی الحال اسے متعلقہ محکمے کے حوالے کر دیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر اس کی چھان بین اور تفتیش کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی محققین نے یروشلم میں ایک پتھر دریافت کیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 2700 سال پرانا ہے اس پتھر کو لوگ بیت الخلا کے طور پر استعمال کرتے تھے، بتایا جاتا ہے کہ یہ پرتعیش بیت الخلاء تھا علاوہ ازیں ماہرین آثار قدیمہ نے 1500 سال پہلے کی شراب کی فیکٹری دریافت کی تھی۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم

    پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم

    ڈیرہ ڈویژن محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم ،گھروں میں فاقے
    باضی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان(نامہ نگار) آل پاکستان پی ڈبلیو ڈی ورکر یونین سی بی اے محکمہ بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے عہدیداروں نے کہاہے کہ پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے ورک چارج ملازمین کو تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین خودکشی کرنے پر مجبور اور گورنمنٹ کے ریگولر آرڈر دینے کے باوجود ٹائم پرٹائم دے رہے ہیں حکومت پنجاب نے ورک چارج ملازمین کو ریگولر ورک مین کر دیا پچھلے پانچ ماہ سے نہ ہی تنخواہ دی، نہ ہی آرڈر دیے ،ورک چارج ملازمین کا اعلی حکام و کمشنر ڈیرہ غازی خان سے نوٹس لیکر ملازمین کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیاہے.

  • ڈیرہ – محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے

    ڈیرہ – محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے

    محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے
    باغی ٹی وی :ڈیرہ غازی خان (۔شزادخان کی رپورٹ )محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ،ضلعی انتظامیہ، تعلیم اور لوکل گورنمنٹ کے اشتراک سے فلڈ لائٹس کرکٹ سٹیڈیم ڈیرہ غازی خان میں مقابلے ہوں گے۔ضلع کے منتخب 12 سکولوں کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صابر حسین نےڈویزنل سپورٹس آفیسر عطاء الرحمن،کرکٹ سٹیڈیم ایڈمنسٹریٹر یاسر چنگوانی اور افسران کے ہمراہ فلڈ لائٹس کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ کیا۔کرکٹ پچ،گراونڈ اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا۔ڈویژنل سپورٹس آفیسر عطاء الرحمن نے بتایا کہ ٹیموں کو کرکٹ کٹ دی جائے گی۔سکولوں کی ٹیموں سے ڈسٹرکٹ چیمپئن کا انتخاب کیا جائے گا اور یہی ٹیم پنجاب لیول کے مقابلوں میں ضلع کی نمائندگی کرے گی

  • اغوا کاروں کی انوکھی واردات: بھاری تاوان کیلئے بن مانس کے بچے اغوا کر لئے

    اغوا کاروں کی انوکھی واردات: بھاری تاوان کیلئے بن مانس کے بچے اغوا کر لئے

    کانگو: ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں اغوا کاروں نے بن مانس کے 3 بچوں کو اغوا کرکے بھاری تاوان مانگ لیا اور ان چمپینزیز کی ہاتھ پاؤں بندھی ویڈیو بھی بھیجی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کےمطابق افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایک بحالی سینٹر سے 3 بن مانس غائب ہوگئے عملے نے پہلے تو سمجھا کہ شرارتی بن مانس پنجرے سے نکل کر بھاگنے میں کامیاب ہوگئے تاہم حیران کن طور انھیں اغوا کاروں کی کال آئی۔

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    سی این این کےمطابق پناہ گاہ کے بانی فرینک چینٹیرونے کہا کہ دنیا میں یہ پہلا موقع ہے کہ بچے بندروں کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا-

    چنٹیریو نے بتایا کہ اغوا کار 9 ستمبر کی صبح 3 بجے کے قریب پناہ گاہ میں داخل ہوئے، اور پانچ بچوں میں سے تین بن مانسوں کو لے گئے چنٹیرو کی بیوی کو اغوا کاروں کی طرف سے تین پیغامات اور اغوا شدہ چمپس کی ایک ویڈیو موصول ہوئی۔

    اغوا کاروں نے بتایا کہ تینوں بن مانس ان کی قید میں ہیں اور بحالی مرکز ان کی رہائی کے لیے بھاری تاوان ادا کرے۔ عملے نے اسے مذاق سمجھتے ہوئے بن مانسوں کے ان کی قید میں ہونے کا ثبوت مانگا۔

    عودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    جس پر اغوا کاروں نے بحالی مرکز کے عملے کو ایک ویڈیو بھیجی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بن مانسوں کے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے ہیں۔ تاوان کے لیے بن مانسوں کے اغوا کی یہ اپنی نوعیت کی پہلی واردات ہے۔

    جس بحالی سینٹر سے یہ بن مانس اغوا ہوئے وہاں اس نسل کے 40 جانور ہیں جب کہ معدومی کے شکار بندر بھی ہیں۔ اغوا ہونے والے بن مانسوں کی عمریں 2 سے 5 سال کے درمیان ہے۔

    چینٹیرو نے کہا کہ ظاہر ہے، ہمارے لیے تاوان ادا کرنا ناممکن ہے،نہ صرف ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، بلکہ آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم ان کے راستے پر چلتے ہیں، تو وہ دو ماہ میں یہ کام بہت اچھی طرح سے کر سکتے ہیں، اور ہمارے پاس اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ بچے ہمیں واپس کر دیں گے۔

    چینٹیرو کو یہ بھی خدشہ تھا کہ اس سے مزید اغوا کا دروازہ کھل جائے گا پورے براعظم میں 23 پناہ گاہیں یہ کام کر رہی ہیں۔ اگر ہم تاوان ادا کرتے ہیں، تو یہ ایک مثال قائم کر سکتا ہے اورکئی دوسرے لوگوں کو متوجہ کر سکتا ہے، اس لیے ہمیں انتہائی چوکس رہنا چاہیے-

    درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

  • رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا –

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق 25اکتوبر کو سورج کو گرہن لگے گا،جس کا مشاہدہ جذوی طورپرپاکستان میں بھی کیا جاسکے گا،جزوی سورج گرہن کا آغازپاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر58 منٹ پرہوگا،4 بجے سورج گرہن عروج پرہوگا،جس کا اختتام 6 بج کر2 منٹ پرہوگا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے علاوہ سال کا آخری سورج گرہن یورپ کے بیشترحصوں،ایشیاء کے مغربی حصوں،شمالی افریقہ سمیت مشرق وسطیٰ میں بھی دیکھا جاسکے گا۔

    زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے، اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیےسائنسدانوں سمیت بعض لوگ سورج گرہن کامشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں جاتے ہیں۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آ سکتا ہےاور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی دفعہ دیکھا جا سکتا ہے۔

    سورج گرہن کئی قسم کا ہو سکتا ہے: مکمل سورج گرہن، حلقی سورج گرہن، مخلوط سورج گرہن، جزوی سورج گرہن

    جب بھی زمین کے کسی خطے میں مکمل سورج گرہن لگتا ہے تو اس کے گردونواح میں چاروں طرف جزوی گرہن ہوتا ہے،یورپ میں دیکھا گیا 1999ء کا مکمل سورج گرہن تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سورج گرہن تھا۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

  • ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

    واشنگٹن: ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ، 26 ستمبر کی شام خلائی چٹان سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی : ڈبل ایسٹیرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (DART) کو گزشتہ برس نومبر میں زمین سے 1 کروڑ 9 لاکھ کلو میٹر دور سیارچے کا رخ بدلنے کیلئے خلا میں بھیجا گیاجو تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد اب ڈائمورفس نامی ایک چھوٹے سیارچے سے 24 ہزار 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا کر ٹکرائے گا یہ سیارچہ ڈائڈِموس نامی بڑے سیارچے کے گرد گھومتا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    روم میں نصب ورچوئل ٹیلی اسکوپ پروجیکٹ نے جنوبی افریقا کی متعدد مشاہدہ گاہوں کے ساتھ ایک مل کر ہدف سیارچے کو تصادم کے وقت دِکھائیں گے۔


    اس سے قبل دو طاقتورترین ٹیلی اسکوپ نے چھ راتوں کے مشاہدے کے بعد اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ڈائڈِموس کا مدار امریکی خلائی ایجنسی کے ڈارٹ کرافٹ کی سیدھ میں آ چکا ہے۔ان مشاہدات نے 2021 میں کی جانے والی مدار کی پیمائشوں کی تصدیق کی تھی۔

    یہ مشاہدے جولائی کے مہینے میں ایریزونا کی لویل ڈِسکوری ٹیلی اسکوپ اور چلی کی میگیلن ٹیلی اسکوپ سے کیے گئے۔

    جان ہوپکنز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈارٹ اِنویسٹی گیشن ٹیم کے شریک سربراہ اینڈی رِوکِن کا کہنا تھا کہ ٹیم نے جو پیمائشیں 2021 کے ابتداء میں حاصل کیں تھیں وہ ڈارٹ کو صحیح مقام تک پہنچانے کے لیے اور ڈائمورفس کے ساتھ صحیح وقت پر تصادم کے لیے اہم تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ اُن پیمائشوں کی نئے مشاہدات سے تصدیق یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں اور ہم ہدف کے تعاقب کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں ڈائڈِموس اور ڈائمورفس اس سال ستمبر کے آخر میں زمین کے قریب سے یعنی 1 کروڑ 8 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزریں گے۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنائے گئے اس 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ کا مقصد اس کو ڈائمورفس سے ٹکرا کر سیارچے کی رفتار کا عشرِعشیر حصہ بدلنا ہے۔

    ڈارٹ کا ہدف ڈائمورفس تقریباً 560 فٹ (170 میٹر) چوڑا ہے اور ہر 11 گھنٹے اور 55 منٹ میں ایک بار اپنےڈائڈِموس کا چکر لگاتا ہے۔ ناسا نے کہا ہے کہ ڈارٹ زمین سے تقریباً 7 ملین میل (9.6 ملین کلومیٹر) کے فاصلے پر ہے اور ہمارے سیارے کو متاثر کرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ناسا کے مطابق ڈارٹ کو تقریباً 14,760 میل فی گھنٹہ (23,760 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ڈائمورفس سے ٹکرانا چاہیے۔ یہ ہے ڈارٹ کا آخری دن کیسا ہوگا۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    25 ستمبر کو حتمی مشق کے بعد، اثر سے تقریباً 24 گھنٹے پہلے، نیوی گیشن ٹیم کو 2 کلومیٹر [1.2 میل] کے اندر ہدف ڈائمورفس کی پوزیشن معلوم ہو جائے گی،” ناسا کے حکام نے ایک بیان میں لکھا وہاں سے، ڈارٹ خود مختار طور پر خود کو خلائی چٹان کے چاند کے ساتھ ٹکرانے کے لیے رہنمائی کرے گا۔

    اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان یہ تصادم پاکستانی وقت کے مطابق 27 ستمبر کو صبح 4 بج کر 14 منٹ پر ٹکرائے گا۔

  • ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری زمین پر 20 کواڈرِلین(2 لاکھ کھرب) چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی :چیونٹیاں تقریباً ہر گھر میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہیں، یہ سڑکوں پر یا دیواروں کے کناروں پر بھی نظر آتی ہیں۔ مگر کبھی آپ نے ان کی تعداد جاننے کی کوشش کی ہے؟ تاہم اس کرہ ارض پر کتنی تعداد میں چیونٹیاں موجود ہیں،سائنس دانوں نے اس کا کسی حد تک اندازہ لگا لیاہے-

    ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے چونٹیوں کی اب تک کی عالمی آبادی کا ایک جائزہ پیش کیا ہے جس میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں دو لاکھ کھرب چیونٹیاں ہیں-

    جرمنی کے شہر وزبرگ میں قائم جولیس میکسیملین یونیورسٹی کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری زمین پر 20 کواڈرِلین(2 لاکھ کھرب) چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں،چیونٹیوں کی اس تعداد کو اگر انسانوں کی تعداد سے دیکھا جائے تو ہر انسان کے مقابلے میں تقریباً 25 لاکھ چیونٹیاں ہیں۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ سبین نُوٹین کا کہنا تھا کہ محققین کے اندازے کے مطابق چیونٹیوں کی تعداد20 کواڈرِلین ہے۔ یعنی 20 کے آگے پندرہ صفر لگائے جائیں۔

    تحقیق میں محققین نے لکھا کہ چیونٹیوں کی تقسیم اور بہتات ماحولیات اور دیگر حیاتیات کے لیے ان کے کردار کی اہمیت سمجھانے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اگرچہ چیونٹیوں جیسے کیڑے جو ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور ماحولیاتی اعتبار سے ان کی اہمیت ہوتی ہے،لیکن ان کی موجودہ حقیقی کُل تعداد یا ان کی کسی مخصوص خطے میں موجودگی کا اندازہ نہیں ہے۔

    اس تخمینے تک پہنچنے کے لیے محققین کی ٹیم نے چیونٹیوں پر کیے جانے والے گزشتہ 489 مطالعات کا جائزہ لیا جو تمام برِاعظموں، بڑی آماجگاہوں اور مختلف ماحولوں پر مبنی تھے تحقیق کے نتائج میں معلوم ہوا کہ زمین پر 20 کواڈرِلین چیونٹیاں موجود ہیں جن کا وزن 12 میگا ٹن یعنی 12 ارب کلو گرام خشک کاربن کے مجموعی وزن کے برابر ہے۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    تحقیق کے شریک مصنف ور کیڑوں کے ماہر ماحولیات سبین نوٹین کے مطابق یہ وزن دنیا میں موجود جنگلی پرندوں اور مملیوں کے مجموعی وزن سے زیادہ ہے جبکہ انسانوں کے مجموعی وزن کا 20 فی صد ہے، اس سے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اثرات کا پیمانہ کیا ہے۔

    اس تحقیق کے شریک مصنف اور ماہر حیاتیات پیٹرک شوئتھیس کہتے ہیں کہ ”چیونٹیاں تقریباً ہر زمینی ماحولیاتی نظام میں ایک مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ غذائی اجزا کی سائیکلنگ، گلنے کے عمل، مٹی کے ذرات کو اِدھر اُدھر کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ چیونٹیاں بھی کیڑوں کا انتہائی متنوع گروہ ہیں، جس کی مختلف اقسام ہیں جو وسیع پیمانے پر کام کرتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا اتنی بڑی تعداد میں ہونا انہیں اہم ماحولیاتی کھلاڑی بناتی ہے۔

    پیٹرک شوئتھیس کہتے ہیں کہ ہمارا ڈیٹا سیٹ ہزاروں سائنس دانوں کی بڑے پیمانے پر کی گئی کوششوں کو ظاہر کرتا ہےہم اس کی بنیاد پر ہی دنیا کے مختلف خطوں کے لیے چیونٹیوں کی تعداد کو معلوم کرنے اور ان کی مجموعی عالمی تعداد اور بایوماس کا تخمینہ لگانے کے قابل ہوئے ہیں۔

    چیونٹیوں کی 12 ہزار سے زائد معلوم اقسام ہیں اور یہ عموماً سیاہ، بھوری اور سرخ رنگ کی ہوتی ہیں جب کہ ان کے جسم کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کا سائز ایک ملی میٹر سے تین سینٹی میٹر تک ہوتا ہے چیونٹیاں عام طور پر مٹی، پتوں کی گندگی یا سڑنے والے پودے اور کچنز میں رہتی ہیں۔

    دنیا بھرمیں موجود چیونٹیوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے کی جانے والی تحقیق PNAS نامی جرنل میں شائع ہوئی-

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق