Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چائنا کے سستے موبائل — ریاض علی خٹک

    چائنا کے سستے موبائل — ریاض علی خٹک

    چائنا کے سستے موبائل کی کوئی اتنی قدر نہیں کرتا لیکن بہت مہنگے والا موبائل فون کوئی خرید لے تو اس کی قیمت مجبور کرتی ہے کہ اب اس کی قدر بھی کی جائے. موبائل فون استعمال کرنے والے یہ قدر مند پھر اس کی تین باتوں کا بہت خیال رکھتے ہیں.

    اول اس کے سوفٹویر اپڈیٹ کا کہ اتنی مہنگی چیز اپڈیٹ نہ ہو تو فائدہ کیا. دوسرا اس کی بیٹری ہر وقت فل چارج رہے اور تیسرا اس کی صفائی چاہے اندرونی ہو جیسے اینٹی وائرس فضول لنکس اور میموری صاف رکھنا یا بیرونی جیسے سکریچز سے بچانے کیلئے کور پروٹیکٹر وغیرہ.

    کیا آپ خود کو بھی قیمتی سمجھتے ہیں؟ کیونکہ یہی تینوں چیزیں آپ کی بھی ضرورت ہیں. کتابیں علم اور تجربات آپ کو اپڈیٹ رکھتے ہیں. اچھی نیند اور اچھی صحت آپ کی توانائی کی بیٹریاں چارج رکھتی ہیں. آپ وہ فضول عادات ختم کرتے ہیں جو آپ کی توانائی ضائع کریں. اور اندرونی بیرونی صفائی آپ کیلئے بھی لازم ہے. آپ اپنی زندگی اپنی سوچ کو صاف ستھرا رکھتے ہیں.

    اللہ رب العزت نے انسان کو بہت قیمتی بنایا ہے. یہ ہم پر ہوتا ہے کہ اللہ کے شکر گزار بندے بن کر اس نعمت زندگی کی قدر کریں یا خود کو چائنا موبائل سمجھ کر بے قدر زندگی گزار لیں. کام دونوں ہی کرتے ہیں لیکن کلاس بہت الگ ہے. جیسے ایک ہی ٹرین کی فرسٹ کلاس اور تھرڈ کلاس کا سفر ہو.

  • مسلمانوں کی اقسام اور بریانی کے فرقے — طاہر محمود

    مسلمانوں کی اقسام اور بریانی کے فرقے — طاہر محمود

    اے ایمان والو ! بے شک تم پہ اتوار کو بریانی اسی طرح فرض کی گئی ہے جیسے رمضان میں پکوڑے۔

    مسلمانوں اور بریانی کی بہت سی اقسام ہیں۔ فرق بس مسالوں کا ہے ۔ کچھ میں تیکھا پن زیادہ ، کچھ کے بنانے کا طریقہ الگ ۔ کچھ نرے ویجیٹیرین ٹائپ ۔ سادہ ۔ رنگ برنگے ۔ کچھ تہہ در تہہ ۔ پھر برتنوں کے فرق سے ذائقہ اور خوشبو بھی بدل جاتی ۔ ہر فرقے کے نائی اور ہر پکوان سینٹر کے مولانے کا طریقہ بھی جدا ۔ اور دونوں کے نزدیک انہی کی ریسیپی مستند ، سینہ بہ سینہ اور الہامی ہوتی۔ اگر کسی اور فرنچائز سے بریانی یا عقیدہ لیا جائے تو یہ برا مان جاتے ۔ ہر اک نے بڑا سا بورڈ لگایا ہوا جس پہ جلی حروف سے بریانی یا اسلام لکھا ہوا ہے اور کاؤنٹر پہ موٹا سا سیٹھ خشمگیں نظروں سے رہگیروں کو تکتا ہے۔

    جعلساز بھلا کب پیچھے رہتے ؟ جیسے لاہور میں گندے مندے پلاؤ میں ذرا سا بریانی مسالا ڈال کے دم لگاتے وقت زردہ رنگ ڈال دیا جاتا اور اسے بریانی کہا جاتا۔ ویسے ہی دو چار نعرے ایجاد کر کے بعض قاتل، دہشت گرد اور ڈاکو بھی خود کو خالص مسلمان کہتے۔ دونوں میں سے کسی پہ اعتراض کیا جائےتو لاہوریے آستینیں چڑھا کے اور ڈاکو جتھے بنا کے لڑنے مرنے کو آ جاتے۔ غریب مسافر ہو یا مسلمان۔ ہاں میں ہاں ملا کے ، پیسے دے کے جان بخشوانی پڑتی۔ چاہے ہزار ہزار میں ہی سہی۔

    ابتدا میں جب اسلام اور بریانی نازل ہوئے تو اجزائے ترکیبی بڑے واضح اور سادہ تھے۔ دونوں زود ہضم تھے۔ عمل کرنا اور بنانا آسان ۔ جیسے جیسے اسلام کا نور اور بریانی کی خوشبو چار دانگ عالم میں پھیلے۔ قبول عام ہوا ۔ چند ہی سالوں میں اک بڑا فرقہ الگ ہوا اور اپنی شناخت ہی الگ بنا لی۔ گوشت اور چاول وہی تھے مگر نام ” پلاؤ” تھا۔ اس کے معتقدین بھی کثیر بن گئے ۔ ( فرقے کا نام آپ کی سوجھ بوجھ پہ چھوڑ دیتے ) ۔

    جب دیگر بلاد و امصار میں بریانی اور اسلام پہنچے تو وہاں کے باسیوں نے ان دونوں پہ نت نئے تجربات کیے اپنے اپنے ٹیسٹ کے مطابق۔ پہلے یہ صرف بریانی اور اسلام تھے ۔ اب بریانی صرف بریانی نہ رہی بلکہ بمبئی بریانی ، کراچی بریانی ، وائٹ ویجیٹیبل بریانی ،انڈہ بریانی ، بیف بریانی ، مٹن بریانی ، تکہ بریانی ،قیمہ بریانی ،صفوی بریانی ،تہاری بریانی ، کلیانی بریانی ، کوفتہ بریانی ، فِش بریانی ، حیدرآبادی بریانی ، کچے گوشت کی بریانی ، جھینگا بریانی کے نام سے جانی جانے لگی۔ اسی طرح اسلام اب شیعہ ، اثنا عشری ،نصیری ، سنی ، بریلوی، دیوبندی ،مقلد ،غیر مقلد ، وہابی ، حیاتی ،مماتی ، رضوی ، درودی ، بارودی ، ناصبی ، تفضیلی ، غامدی وغیرہ کے ٹیگ سے جانا جاتا ہے۔

    البتہ پاک و ہند میں جب بریانی اور اسلام پہنچے تو دونوں میں مسالا جات اتنے تیز کر دیے گئے کہ اب اوپر نیچے سے دھواں نہ نکلے تو سواد نہیں آتا۔ عربوں کے بقول تو برصغیرے کلمہ پڑھ کے نرے باؤلے ہی ہو گئے ۔( دروغ بر گردن ِ یوسفی ) ۔ خود عرب میں ان دنوں اسلام اور بریانی "مندی” کا شکار ہیں۔ باقی پسماندہ جگہوں پہ آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہے۔

    باقی اب ہمارا دعوٰی ہے کہ ہم سے بریانی کھائیں یا اسلام سیکھیں۔ دونوں معدے پہ گراں نہ گزریں گے۔ نہ ہی پیٹ میں باؤ گولا یا دماغ میں آتش گولا بننے کے امکانات ہیں۔ تاہم ریسیپی سینہ بہ سینہ چلے گی اور پلیٹ حسینہ بہ حسینہ ۔

  • ڈھوک سکون — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈھوک سکون — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ندی میں سرخی مائل پانی بہہ رہا تھا جس کی گہرائی نامعلوم تھی۔ندی کے پیندے میں پانی کے متعدد راستے تھے جن کے ساتھ ساتھ کوندر اور سر کے پودے تھے۔ ہمارے پانچ عدد ڈالے چیونٹیوں کی طرح قطار بنائے کچے راستے پر ندی کو پار کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن سرخ رنگ پانی کی دہشت سے ڈرتے تھے۔

    قافلے کی سب سے پہلی گاڑی ہماری تھی۔ میرے ڈرائیور قمر شاہ نے بسم اللہ پڑھ کر اللہ توکل پر گاڑی پانی میں ڈال دی اور احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے کھاڑی کے دوسرے کنارے پر لے آیا۔ اس کے بحفاظت دوسرے کنارے پر پہنچتے ہی پچھلی چاروں چیونٹیوں نے اس کے بنائے گئے راستے پر ندی پار کی اور پھر ہم ندی کی دوسری کھاڑی کو پار کرنے لگے جس کے بعد ندی میں ریت سے بنا ایک بہت بڑا بیلہ آگیا جس کے بالکل درمیان ندی کے اندر زندہ پیر موجود تھا۔

    بیلے کے وسط میں دس سے پندرہ فٹ کی قدرتی اونچائی تھی جس کے اوپر ایک مزار تھا۔ یہاں پر کوئی قبر نہ تھی بس مزار تھا۔ ایک مسجد بنی ہوئی تھی اور ساتھ ہی ایک برآمدہ۔ اس درگاہ کے اطراف میں تین چار فٹ اونچا اینٹوں کا چبوترہ بنا ہوا تھا اور درگاہ کو اونچے گھنے پرانے درختوں نے اپنے نیچے چھپایا ہوا تھا جس سے ماحول اور پراسرار نظر آتا تھا۔ ان درختوں پر کثیر تعداد میں رنگ برنگے کپڑے لٹکے ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں دلھا کے پہننے والے کلاہ بھی لٹکتے نظر آئے۔

    ہماری چیونٹیاں اس درگاہ کے اطراف بیلے پر پارک ہو چکی تھیں۔ اندر برآمدے میں چار بندے بیٹھے کسی ذکر میں مشغول تھے ان میں سے ایک چبوترے سے اتر کر ہمارے پاس آیا اور خاموشی سے ہمیں دیکھنے لگا۔ ہم نے یوں اچانک وارد ہو کر شائد ان کے مراقبے کو خراب کر دیا تھا۔

    درگاہ کے باہر لگے نلکے سے ہماری ٹیم کے لوگ پانی پینے لگے۔ندی کے پانی کی پیمائش کرنے اور پانی کی کوالٹی کی جانچ کرنے والی ٹیم کو یہ جگہ پسند آئی تھی۔ لہذا انہوں نے اپنا اسٹیشن یہاں لگانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بوٹ اتار کر ندی کے پانی میں اترنے کی تیاری کرنے لگے۔

    ٹیم کے باقی لوگوں کو میں نے ایک گاڑی ادھر چھوڑ کر دوسری گاڑیوں میں اگلی کھاڑی پار کرکے دوسرے کنارے پر موجود گاوں کی طرف جانے کا کہا۔ گاوں ایک پہاڑ کے دامن میں آباد تھا اور میرا پروگرام اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر سروے اسٹیشن لگوانے کا تھا۔

    مزار کے چبوترے سے اترنے والا شخص ہماری بھاگ دوڑ دیکھ کر مسکرایا تھا اور میری نظر اس کی مسکراہٹ پر رک گئی تھی۔ میں نے اپنی پانی پیمائش ٹیم کے ایک بندے کو بلایا اور اس کے کان میں آہستگی سے سرگوشی کی کہ اس شخص سے گپ شپ لگا کر مزار کے متعلق معلومات ضرور لینا۔

    ہم گاوں کے پاس پہنچ گئے تھے جہاں پر میں نے اپنی سوشل اور ماحولیاتی ٹیم کے ممبران کو کہا کہ آپ لوگ گاوں میں پھیل جائیں اور یہاں کے سماج اور لوگوں کی خواہشات کو ٹٹو لیں۔ مسائل کی جانچ کریں اور پانی کی ضروریات کا اندازہ لگائیں۔

    میں پتھروں کی جانچ کرنے والی ٹیم، سروے ٹیم اور ڈیم کے ماہر انجنئیرز کو لے کر سڑک کے اس بلند ترین مقام کی طرف لپکا جہاں گاڑیاں چھوڑ کر ہمیں کو پیمائی شروع کرنی تھی ۔ گاڑی سے اتر کر جب چوٹی کی طرف اوپر دیکھا تو یہ خاردار گھنی جھاڑیوں سے پر تھی جن کے لامتناہی کانٹے ہمارے جسموں پر کٹ لگا کر ہمارے خون سے لاہوری چٹخاروں کا مزہ لینے کو بے تاب تھے۔ ہم پچھلی آتھ دنوں سے پوٹھوہار میں گھوم رہے تھے لیکن یہ چوٹی ہمیں سب سے بلند اور دشوار لگ رہی تھی۔

    ہم اللہ کا نام لے کر آہستہ آہستہ اوپر چڑھنے لگے۔یہ چڑھائی توقع سے زیادہ دشوار ثابت ہورہی تھی کیونکہ جھاڑیوں نے اس کے عمودی پن کو چھپا رکھا تھا۔ احسن رشید سب سے آگے جیالوجیکل ہتھوڑے سے جھاڑیوں میں راستہ بناتا جارہا تھا لیکن یہ اتنی زیادہ تھیں کہ ان میں سے بمشکل گزرا جاسکتا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ اپنے سروئیر اظہر کا خیال آرہا تھا جو کہ کئی کلو وزنی ایکو پمنٹ کندھے پر اٹھائے اوپر چڑھ رہا تھا ۔ اس کے ساتھ اس کا اسسٹنٹ سروئیر ظہیر تھا جس نے راڈ اور باقی سامان پکڑا ہوا تھا۔ سخت گرمی اور حبس تھا اور دوپہر کا وقت۔ سب کی پانی کو بوتلیں خالی ہورہی تھیں اور واحد سہارہ سروئیر کے پاس موجود کولر نظر آرہا تھا جو کہ آہستہ آہستہ ہمارے ساتھ چڑھائی چڑھ رہا تھا۔

    نیچے زندہ پیر پر دھونی جما دی گئی تھی۔ندی کے عین وسط میں موجود اس مقبرے کو ندی میں آنے والا کوئی بڑے سے بڑا سیلاب بھی نقصان نہیں پہنچا سکا۔ پچھلے پچاس سال سے کئی ٹیمیں اس علاقے کا دورہ کرچکی تھیں لیکن وہ اس مقبرے کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تھیں ۔“اس ٹیم نے بھی خوار ہو کر واپس جانا ہے۔ ہمیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں” مسکرانے والے بندے نے نیچے ہماری پانی پیمائش ٹیم کے ممبر کو بتایا تھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے کہا تھا “بابا اپنے آپ کو خود بچا لے گا”۔

    گاوں میں جانے والی سماجیات کی ٹیم ممبران کو میں نے لوگوں سے ڈھکے چھپے الفاظ میں بات چیت کرنے کا کہا تھا۔ کیوں کہ ہم ابھی ابتدائی جانچ کرنے آئے تھے۔ پتہ نہیں اس مقام کی موزونیت کے بارے کیا فیصلہ ہونا تھا لیکن کسی نے گاوں میں افواہ اڑا دی تھی کہ یہ گاوں ڈیم میں ڈوب جائے گا۔ میں نے اپنے لوگوں کو احتیاط برتنے کا کہا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ پریشانی سروے ٹیم کے حوالے سے تھی کیوں کہ انہوں نے گاوں اور ندی میں جاکر پیمائشیں لینا تھیں جہاں کوئی بھی ان کے ساتھ الجھ سکتا تھا۔

    تاہم یہ گاوں ابھی تک خاموش تھا۔ لوگ ہمیں ندی میں پھرتا اور پہاڑوں پر چڑھتا دیکھ کر چپ تھے۔وہ ہم سے لاتعلق تھے اور یہی بات مجھے اور زیادہ پریشان کئے جارہی تھی ۔۔۔۔

    خدا خدا کرکے چڑھائی کا سفر طے ہوا جس کے دوران ہم پسینے سے بدحال ہوگئے۔ میرے سینے میں آکسیجن کی کمی سے درد ہو رہا تھا اور طرح طرح کے خیالات آنا شروع ہو چکے تھے۔ آخر وہ بندہ ہمیں پہاڑ کی طرف جاتا دیکھ کر ہنس کیوں رہا تھا؟۔۔۔۔

    چوٹی تک پہنچ کر ہم سب ہانپنے لگے تھے اور ایک پتھر پر بیٹھ کر کافی دیر تک سانس بحال کرتے رہے۔ چوٹی سے ایک بہت پیارا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ سرسبز چوٹیاں، ان کے درمیان سرخ رنگ بہتا پانی، پہاڑی ڈھلان پر تیزی سے اوپر آتا گاوں اور اس کے پیچھے تا حد نگاہ وسیع وعریض دریائی میدان۔

    سروے اسٹیشن لگ چکا تھا اور ہم نے پتھروں کی جانچ شروع کردی تھی۔ ڈیم انجنئیرز اور اس کے ساتھی اسٹرکچر کی مناسب جگہ دیکھنے پہاڑی پر آگے نکل گئے تھے جب کہ میں نیچے گاوں میں پارک اپنی چیونٹیوں کو دیکھ رہا تھا۔

    سروئیر نے ایک گاڑی پر اپنا بندہ بٹھا کر وسیع وعریض دریائی میدان میں ادھر ادھر بھگانا شروع کیا ہوا تھا۔ میں نے اسے ندی کے عین وسط میں موجود مزار کی بلندی پڑھنے کا بطور خاص کہا تھا جس سے فارغ ہونے کے بعد اب وہ پانی میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    ہماری ٹیم کو وہاں کام کرتے بہت وقت گزر چکا تھا لیکن ابھی تک کسی طرف سے کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی تھی اور یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔ تاہم چوٹی سے نظارہ کرنے کے بعد اندازہ ہوگیا تھا کہ آبادی کے پھیلاؤ اور مزہبی مقامات کی موجودگی کی وجہ سے ہمیں شائد ڈیم سائٹ شفٹ کرنا پڑے۔

    میں نے وقت کا حساب کتاب لگایا تا کہ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کوئی متبادل جگہ دیکھ لی جائے اور سروئیر کو وہاں چھوڑ کر باقی ٹیم کے ساتھ نیچے اترنا شروع کیا۔ پونے گھنٹے کی اتر ائی کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر گاڑیوں میں بیٹھ کر مزار کے پاس سے دریائی بیلے میں اتر چکے تھے۔

    مزار پر دھونی جم چکی تھی۔اس بندے کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ جاری تھی۔ وہ ہمارے سروئیر کی پانی میں مست گھوڑی کی طرح بھاگتی گاڑی کو دیکھ رہا تھا جو چند سیکنڈ کے لئے کہیں رکتی اور دوبارہ بھاگ پڑتی۔اس دوران سروئیر ریڈنگ لے لیتا۔

    ہم نے دریا میں پہاڑی کے ساتھ ساتھ دائیں جانب جانے کا قصد کیا اور روانگی پکڑی ہی تھی کہ سروئیر کی سفید گھوڑی دلدلی پانی میں پھنس چکی تھی۔ وہ دلدل سے نکلنے کے لئے جتنا زور لگاتی اتنا ہی نیچے بیٹھتی اور بالآخر اس کے پہئے سارے کے سارے زمین میں دھنس گئے۔ اسے ریسکیو کرنے کے لئے ایک اور گاڑی کو بھیج کر ہم آگے روانہ ہوگئے تاکہ مغرب سے پہلے دوسری سائٹ دیکھ لیں۔

    ہماری راہنمائی ایک مقامی ٹیچر کر رہے تھے جوکہ انتہائی کم گو آدمی تھی۔وہ ہمیں دریا کے ساتھ ساتھ ایک ایسے دوراہے پر لے گئے کہ جہاں سے آگے صرف پیدل کا پہاڑی راستہ تھا اور ادھر سے سورج غروب ہوچکا تھا۔ موبائل سگنل ندارد تھے اور بالآخر میں نے پیدل ٹیم کو واپسی کا حکم دے دیا۔ ہمارے دن کا اختتام ایک تنگ پتھریلے درے پر ناکامی سے ہورہا تھا۔ یہ ایک سخت دن تھا۔

    ندی کے اندر واپسی کا سفر اندھیرے میں شروع ہوا اور چند کلومیٹر واپس آنے بعد جیسے ہی موبائل سگنل آنا شروع ہوئے تو پتہ چلا کہ سفید گھوڑی کو بچاتے ہوئے ہماری کالی چیونٹی بھی دلدل میں پھنس چکی ہے۔ میں نے گاڑیاں تیز واپس بھگانے کا کہا جو کہ اندھیرے اور پتھریلے دریائی میدان پر ایک مشکل کام تھا۔ چشم تصور میں مجھے پورا گاوں ہماری گاڑیوں کا تماشا دیکھتے ہوئے نظر آنے لگا۔

    کالی چیونٹی باہر آچکی تھی لیکن سفید گھوڑی ابھی بھی دلدل میں گھڑی تھی۔ رات کے آتھ بج چکے تھے۔ مزار پر ایک دیا روشن تھا۔ ایک سایہ وہاں نظر آرہا تھا۔ ہم نے گاڑیاں پارک کرکے لائنیں جلائے رکھیں۔ بیلچے سے کافی کھدائی کرنے کے باوجود بھی گاڑی پھنسی ہوئی تھی۔ اس کی روشنیوں میں اردگرد کی دلدلی جھاڑیوں کے سائے بڑے ڈراونے لگ رہے تھے۔ ندی کے پانی کے اندر سے مینڈک بولنا شروع ہوگئے تھے۔ندی کا سرخ پانی بے رنگ ہوچکا تھا اور گاوں سے منگوایا گیا ٹریکٹر بھی گاڑی کو باہر گھینچ کر نہ نکال سکا تھا۔

    اس اندھیرے میں اب گاوں کے لوگ بھی آہستہ آہستہ ندی میں اتر کر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔کچھ نوجوان موٹر سائیکل پر پڑوس کے گاوں بھیج دئے گئے تاکہ ہل چلانے والا بھاری ٹریکٹر منگوایا جا سکے جو گاڑی کے اگلے ٹائر اٹھا کر دلدل سے باہر کھینچ سکے۔ عجیب لوگ تھے یہ گاوں والے بھی جو ہمیں خوار ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ بلکہ وہ جلد از جلد ہماری وہاں سے روانگی چاہتے تھے۔ وہ اپنا سکون واپس چاہتے تھے۔ان کے لبوں پر کوئی شکوہ، کوئی طعنہ نہیں تھا۔

    آدھے گھنٹے کی مزیذ تگ و دو کے بعد سفید گھوڑی کو بڑا ٹریکٹر ایک ہیرو کی طرح نکال لایا تھا۔ ٹریکٹر والا ہم سے اس مدد کرنے کا کوئی معاوضہ لینے کو تیار نہیں تھا۔ وہ ڈیزل کے پیسے بھی نہیں لے رہا تھا۔ چیونٹیاں رات کے اندھیرے میں واپسی کو تیار تھیں۔ مزار کے درختوں سے دھواں نکلنا کم ہو گیا تھا۔ چبوترے پر ہلنے والا سایہ نیچے اتر کر روشنی میں آگیا تھا ۔ وہ ہمیں جاتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو “یہ ٹیم بھی خوار ہو کر جارہی ہے”۔

    میں وہاں اگلے چند دنوں میں واپس آنے کا سوچ رہا تھا۔ گاڑی میں خاموشی تھی۔گاڑی انتہائی ناہموار سڑک پر واپس جارہی تھی۔پہاڑی ڈھلوان پر اوپر نیچے بنے گاوں کے گھروں میں سکون تھا ۔۔۔ڈھوک سکون سونے کی تیاری کرہا تھا۔مزار سے دھواں اٹھنا بند ہوچکا تھا۔۔۔

  • من کی مجلس— عمر یوسف

    من کی مجلس— عمر یوسف

    کچھ خدشات کتنے خطرناک ہوتے ہیں ۔ جیسے ہی دل و دماغ میں آتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روح نکل جائے گی ۔ انسان پر کتنا بھاری بوجھ ہوتے ہیں یہ خدشات ۔۔۔۔ اندر ہی اندر جیسے طوفان سا اٹھ جاتا ہے اور سکون و اطمینان کی تمام عمارتوں کو مسمار کردیتا ہے ۔

    جیسے چیخنے کو دل کرے ۔ جیسے جلدی سے آزاد ہونے کو دل کرے ۔ لیکن ہر طرف تو پنجرہ ہے جیسے انسان قید سا ہوگیا یے ۔ بے بسی بغاوت پر آمادہ کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ کاش وہ آنسو ہی نکل آئیں جو انسان کو ہلکا کردیتے ہیں لیکن آنسو بھی تو بے وفا نکلے ۔

    مردانگی کے مان کے آگے ہار گئے اور غم ہلکا کرنے سے فرار ہوگئے ۔ کون ہے جو فرسان حال بنے ۔ جو کندھا دے اور مان بنے ۔ دل کو سمجھائے اور غمخوار بنے ۔ چاروں طرف چھائے اندھیرے ، وحشت ، دہشت ، خوف ، ڈر ، فکر ، غم کے سانپوں سے نجات دلوائے ۔ زندگی گلزار ہوجائے ۔

    جب میں تھک گیا ، ڈھے گیا ، ہار گیا ، شکست کھاگیا ، اکتا گیا امید ہار گیا تو من کی دنیا سے ہلکی سی آواز سنی جو ہولے ہولے تیز ہوتی گئی جیسے ہلکی سی روشنی کی پو پھوٹی ہو اور روشنی پھیلتی ہی جائے ۔ فطرت کی آوازیں یہ صدائیں لگا رہیں تھیں نحن اقرب الیہ من حبل الورید وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی نزدیک ہے جس نے موسی کو سمندر ، ابراہیم کو آگ ، عیسی کو یہود ، اور محمد کریم ص کو دشمنوں سے بچا کر قدرت کاملہ اظہار کردیا ۔

    جس نے لامحدود کائنات کو اس انداز سے مستحکم کیا کہ کمی کا شائبہ تک نہیں ۔ دیو ہیکل پہاڑ ، ٹھاٹیں مارتا سمندر ، ان گنت ذرات کے صحرا ، کڑکتی بجلیاں ، دھاڑتے ہوئے شیر ، چنگارتے ہوئے ہاتھی ، سنسناتی ہوئی ہوائیں ، چمکتا چاند ، دہکتا سورج ، ٹمٹماتے تارے سب اسی کے کنٹرول میں ہیں تو تیرے غم کیا اس کی قدرت سے باہر ہیں ؟ تو چلتے ہوئے یا رب جی کہہ وہ دوڑتے ہوئے یا عبدی کہے گا ۔

  • خانقاہ ڈوگراں:انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے – مولانا محمد نور المجتبے

    خانقاہ ڈوگراں:انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے – مولانا محمد نور المجتبے

    باغی ٹی وی ،خانقاہ ڈوگراں (علی رضا رانجھا) انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے ، گلشن شیخ الحدیث خانقاہ ڈوگراں میں بزم چشتیہ رضویہ کے زیر اہتمام ہر ماہ ابو الفیض فری میڈیکل کیمپ کا دو بار انعقاد کیا جاتا ہے ،گلشن شیخ الحدیث کے مہتمم حضرت مولانا محمد نور المجتبے چشتی نے بتایا کہ ہر ماہ مستحق اور نادار مریضوں کے علاج کے لئے ملک کے ماہر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹیم آ کر سینکڑوں مریضوں کو چیک کرکے مفت ادویات دی جاتی ہیں ، جس سے انسانیت کی خدمت کر کے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ، آج موہروں اور پٹھوں کے ڈاکٹر حامد ناصر کمبوہ نے سینکڑوں مریضوں کو چیک کرکے مفت ادویات دیں اور انشاء اللہ یہ سلسلہ ہر ماہ جاری رہے گا،ڈاکٹر حامد ناصر نے ابو الفیض فری میڈیکل کیمپ کے بارے میں اپنے بیان میں کہا کہ یہاں پر مریضوں کو چیک کرنے سے جو تسکین ملی ہے وہ تسکین مجھے اپنے کلینک میں نہیں ملی میرے لئے گلشن شیخ الحدیث میں خدمت کرنا بہت بڑا اعزاز اور ثواب کا عمل ہے ، اللّٰہ پاک اس ادارے کے وسیلے سے اپنی شفا کا فیض جاری رکھے

  • ڈی آئی خان : طلباء کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف احتجاج

    ڈی آئی خان : طلباء کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف احتجاج

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان( نامہ نگار) ایف اے، ایف ایس سی رزلٹ‘ طلباء کنٹرولرڈیرہ تعلیمی بورڈ ظفراللہ خان کی پالیسیوں پران کے خلاف ہو گئے،طلباء کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف احتجاج،اس موقع پرایف اے / ایف ایس سی رزلٹ کے خلاف طلباء نے حق نواز پارک میں احتجاج کیا، طلباء نے احتجاجی نعروں پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، طلباء نے ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفر اللہ خان مروت کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق ایف اے،ایف ایس سی کے طلباء نے ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولرظفراللہ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی سلسلہ شروع کررکھاہے۔ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے طلباء کاکہناتھا کہ ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان نااہل ہیں جس کی پالیسیوں کی وجہ سے طلباء کامستقبل داؤپر لگ گیاہے۔انہوں نے کہاکہ ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان کافوری تبادلہ کیاجائے۔ اگر ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان کاتبادلہ نہ کیاگیاتو تمام سکولوں اوریونیورسٹیز کو بندکردیاجائے گا۔ اگرحکومت نے ہمارے مطالبات پورے نہ کیے تو احتجاج کا سلسلہ صوبے کے دوسرے شہروں تک وسیع کردیاجائے گا اورتمام سکولوں،کالجوں اور یونیوسٹیزکوبندکردیاجائے گا۔مظاہرے میں شریک طلباء نے کہاکہ کنٹرولرڈیرہ تعلیمی بورڈ ظفر اللہ تعلیمی بورڈ طلباء کے خلاف سازش کر رہے ہیں اوران کی سازش کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

  • ڈیرہ اسماعیل خان:ٹکٹ کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام دودھڑں میں تقسیم

    ڈیرہ اسماعیل خان:ٹکٹ کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام دودھڑں میں تقسیم

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار) جمعیت علماء اسلام دودھڑں میں تقسیم، ایک دھڑاسمیع اللہ علیزئی کوٹکٹ دینے کے حق میں تودوسرے دھڑے نے سمیع اللہ علیزئی کو ٹکٹ دینے پر جمعیت کے بائیکاٹ کااعلان کردیا،مبینہ ذرائع کے مطابق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں امیدوارصوبائی اسمبلی سمیع اللہ علیزئی جمعیت علماء اسلام کی جانب سے حلقہ سٹی ٹو میں ٹکٹ کے امیدوارہیں جس کی وجہ سے جمعیت دودھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ایک دھڑاکھل کر سمیع اللہ علیزئی کی حمایت کررہاہے جبکہ دوسرادھڑااس کی کھلم کر مخالفت کررہاہے اورقائد جمعیت مولانافضل الرحمان کو اس حوالے سے آگاہ بھی کردیاگیا ہے۔جمعیت کی جانب سے واضح اشارہ اور حمایت نہ ملنے کی وجہ سے سمیع اللہ علیزئی ان دنوں سخت پریشانی سے دوچارہے اس لیے اس نے حلقہ سٹی ٹو میں ٹکٹ کے حصول کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے سینئررہنماوسابق وزیرخارجہ محمودشاہ قریشی سے رابطوں کا سلسلہ شروع کررکھاہے مگرپی ٹی آئی قائد عمران خان سمیع اللہ علیزئی کی دوغلی سیاست سے بخوبی باخبر ہے اوراسے ٹکٹ دینے پر تحفظات کااظہارکیاہے۔حلقہ سٹی ٹومیں اپنے دورمیں سمیع اللہ علیزئی نے علاقے کی تعمیر وترقی اورعوام کی خوشحالی کیلئے کوئی کام نہ کیے اورکروڑوں روپے کے فنڈزبندربانٹ کیے جس کی وجہ سے حلقہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔سمیع اللہ علیزئی کی دوغلے پن اورمفاد پرستی کی سیاست کی وجہ سے اسے ڈیرہ کی سیاست میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتاہے اورکوئی بھی پارٹی اسے ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ہے۔حلقہ سٹی ٹو کی عوام اورجمعیت علماء اسلام کے مقامی رہنماؤں نے قائدجمعیت مولانافضل الرحمان سے سمیع اللہ علیزئی کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر نظرثانی کرنے کامشورہ دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ حلقہ سٹی ٹومیں قائد جمعیت کسی مخلص قیادت کوپارٹی ٹکٹ دیں تاکہ اس کی کامیابی میں اپناکرداراداکریں۔

  • ڈیزل سستا لیکن کوچ مالکان نے کرائے کم نہ کئے ، مسافر لٹنے پر مجبور

    ڈیزل سستا لیکن کوچ مالکان نے کرائے کم نہ کئے ، مسافر لٹنے پر مجبور

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار) ڈیزل سستا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے کوچ مالکان وہی پرانا کرایہ وصول کرنے میں مصروف۔محکمہ انڈسٹریل کے افسران واہلکاروں کی غفلت اورنااہلی کی وجہ سے کوچ مالکان کی لوٹ مارجاری،کرایوں میں اضافے کی وجہ سے مسافر پریشانی سے دوچار، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے کرایوں میں کمی اورکوچ مالکان کی ہٹ دھرمی کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے ڈیزل اورپیٹرول کے ریٹ انتہائی کم کیے گئے ہیں مگرکوچ مالکا ن نے کرایوں کے وہی ریٹ رکھے ہوئے ہیں اوران میں کوئی کمی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے مسافرزائد کرایوں پر سفرکرنے پر مجبورہیں۔محکمہ انڈسٹریل افسران واہلکاروں کی مبینہ بھتہ خوری کی وجہ سے کوچ مالکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیاجارہاہے اورانہیں مسافروں سے لوٹ مار کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ کوچ مالکان نے اپنی روش نہیں بدلی ہے اورہٹ دھرمی پر قائم ہیں اورعوام سے زائد کرایے وصول کرنے میں مصروف ہیں۔ مسافروں سے کرایوں میں کمی نہ کرنے کی وجہ سے کوچ مالکان کھلے عام لوٹ مار کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے حکومت کی جانب سے پیٹرول وڈیزل کے ریٹ کم ہونے کی وجہ سے کوچ مالکان کوکرایے کم کرنے کرانے کامطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوچ مالکان کوکرایے کم کرنے کاپابندکیاجائے تاکہ مسافرلوٹ مار سے محفوظ رہیں۔

  • حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں!!! — نعمان سلطان

    حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں!!! — نعمان سلطان

    حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں، فلاں ابن فلاں، فلاں کے بھائی، فلاں کے والد اور فلاں کے قریبی رشتے دار کا رضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا ہے نماز جنازہ بوقت… بجے صبح /دوپہر /شام فلاں جنازہ گاہ میں ادا کی جائے گی، نماز جنازہ میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں شکریہ ۔

    یہ وہ اعلان ہے جو ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اکثر سنتے ہیں اور سن کر اگر وہ شخص کوئی واقف ہو تو اس کی آخری رسومات میں شرکت کرتے ہیں ورنہ اس اعلان کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔

    مشہور ہے کہ کسی نے ملک الموت سے پوچھا کہ آپ کسی بھی شخص کی روح قبض کرنے سے پہلے اسے تھوڑی سی مہلت تو دیا کریں تاکہ وہ توبہ کر سکے تو ملک الموت نے کہا کہ کہ کیا آپ روز اپنے اردگرد ہونے والی اموات نہیں دیکھتے یہ اس بات کا اعلان ہی تو ہے کہ جو روح دنیا میں آئی اس کا کسی بھی وقت واپسی کا بلاوا آ سکتا ہے تو ہر وقت موت کو خوش آمدید کہنے کی تیاری رکھو۔

    دنیا میں ہر نظریہ کو ماننے والے لوگ ہیں ملحد حضرات بھی ہیں، ہو سکتا ہے آخری وقت میں ان کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ ہم ساری عمر خدا کے وجود کا انکار کرتے رہے، کیا ہم درست تھے؟ البتہ ایسے ملحد حضرات بھی موجود ہوں گے جنہوں نے زندگی کے ہر لمحے سے خوشی کشید کی ہو اور وہ خندہ پیشانی سے اپنے انجام کو قبول کریں ۔

    مختلف مذاہب کو ماننے والے لوگ بھی ہوں گے جن کے بارے میں گمان غالب ہے کہ وہ اپنے آخری وقت میں اپنے عقیدے کی صداقت کے بجائے اس بات پر متفکر ہوں گے کیا ان کے اعمال اس قابل ہیں جن کی بنیاد پر وہ بے خوف و خطر اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہوں سکیں البتہ ان میں بھی ایسے لوگ کم تعداد میں ہی سہی لیکن موجود ہوں گے جن کو یقین ہو گا کہ ہم نے تمام زندگی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کی اس لئے ہمارے ساتھ رب خیر والا معاملہ کریں گے ۔

    پاکستان میں 40 سال کی عمر کے بعد زندگی کو بونس سمجھا جاتا ہے یعنی کسی وقت بھی رب کا بلاوا آ سکتا ہے سابقہ زندگی جو غفلت میں گزر گئی اور نامہ اعمال پر جو سیاہی چڑھ گئی اس کا مداوا تو صرف رب کی بارگاہ میں سچے دل سے کی گئی توبہ اور اشک ندامت ہی ہیں لیکن جو زندگی بچ گئی اسے غفلت میں گزارنا سراسر نادانی ہے۔

    برسبیلِ تذکرہ بتاتا چلوں کہ میرے خیال میں تمام لوگوں کو اپنے نظریات اور عقیدوں کے ساتھ جینے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے البتہ دوسروں کو اپنے نظریات کی تبلیغ کرنے کے بجائے ہمیں خود کو ایسا بنانا چاہئے کہ لوگ ہمارے جیسا بننے کی آرزو کریں ۔

    ایسے رہا کرو کہ کریں لوگ آرزو
    ایسا چلن چلو کہ زمانہ مثال دے

    اس تحریر کی وجہ یہ ہے کہ 40 سال کی عمر میں جب ہماری زندگی کی عصر ہو گئی ہے اور کسی وقت بھی زندگی کی مغرب (زندگی کا سورج غروب) ہو سکتی ہے ہم ایسے کیا اعمال کریں کہ جن کی وجہ سے ہم رب سے ملاقات (بعد از موت) سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ شدت سے اس ملاقات کے متمنی ہوں ۔

    ہر مذہب میں رب کو راضی کرنے کے لئے مختلف احکامات ہیں اس تحریر میں ہم اسلامی نکتہ نظر سے رب کو راضی کرنے کے لئے لازمی احکامات یا فرائض بیان کر رہے ہیں، تحریر پڑھتے ہوئے یہ بات مدنظر رہے کہ یہ تحریر کسی عالم دین کی نہیں بلکہ ایک عام دنیا دار بندے کی ہے اس لئے آپ بندے کی تحریر سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔

    دنیا کی زندگی ہمارا امتحان ہے کہ ہم رب کے فرماں بردار ہیں یا نا فرمان، ایسا امتحان جس میں تھیوری بلوغت سے پہلے پڑھائی جاتی ہے جبکہ بلوغت کے بعد صرف پریکٹیکل (عمل) پر زور دیا جاتا ہے ۔

    بقول علامہ اقبال

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    دین ہے کیا؟

    اللہ کے بتائے گئے اعمال یا احکامات کا مجموعہ ہے ۔

    1۔کلمہ طیبہ
    2۔نماز
    3۔روزہ
    4۔حج
    5۔زکوٰۃ

    کلمہ طیبہ پڑھ کر ہم دین میں داخل ہوتے ہیں، روزے سال میں ایک مہینے کے لئے فرض ہیں اس میں بھی بیمار لوگوں کو رعایت ہے ، حج زندگی میں ایک مرتبہ لازمی (صاحب استطاعت لوگوں پر) اور زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ صاحب نصاب لوگوں پر فرض ہے ۔

    روزانہ کرنے والا عمل صرف نماز بالغ مسلمان پر دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے اس میں بھی رعایت ہے کہ اگر مسجد میں باجماعت ادا نہیں کر سکتے تو گھر میں یا جہاں پاک جگہ میسر ہو ادا کریں، اگر بیمار ہیں تو بیٹھ کر یا لیٹ کر یا اشاروں سے ادا کریں اور اگر کسی وجہ سے نماز وقت پر ادا نہیں کر سکے تو بعد میں قضاء نماز ادا کریں ۔

    اس کے علاوہ ایک آخری بات کہ حقوق العباد کا خیال کریں کسی دوسرے کی حق تلفی نہ کریں جس بات پر آپ کا ضمیر آپ کو لعن طعن کرے وہ عمل نہ کریں ۔

    دین مشکل نہیں مشکل ہم نے خود بنایا ہوا ہے اس لئے فرائض کی ادائیگی کا اہتمام کیجئے اگر اس کے بعد گنجائش ہو تو مزید اعمال بھی کیجئے تاکہ آخری وقت میں آپ سورۃ فجر کی ان آیات کی عملی تفسیر ہوں ۔

    يَآ اَيَّتُـهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّـةُ (27)
    (ارشاد ہوگا) اے اطمینان والی روح۔

    اِرْجِعِىٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (28)
    اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔

    فَادْخُلِىْ فِىْ عِبَادِيْ (29)
    پس میرے بندوں میں شامل ہو۔

    وَادْخُلِىْ جَنَّتِيْ (30)
    اور میری جنت میں داخل ہو۔

  • ” 5 اکتوبر 1947ء بھارتی حکومت نےپاکستان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” 5 اکتوبر 1947ء بھارتی حکومت نےپاکستان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جوناگڑھ برصغیر کی پانچ سو باسٹھ ریاستوں میں سے ایک تھی جو انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ سے برطانوی سامراج کے زیرِ تسلط آگئیں- یہ شاہی ریاستیں اپنے اندرونی معاملات کے نظم و نسق کے حوالے سے آزاد تھیں لیکن دفاع اور خارجی معاملات برطانوی حکومت کی ذمہ داری تھی- برٹش انڈیا کی 562 ریاستوں میں جو نا گڑھ آمدنی کے اعتبار سے پانچویں بڑی ریاست تھی جبکہ مسلمان ریاستوں میں دوسرے نمبر پہ تھی – 1947 کے تقسیمِ ہند کے قانون کے مطابق تمام ریاستوں کو تین آپشن دیئے گئے کہ پاکستان سے الحاق کرلیں یا بھارت کے ساتھ الحاق کرلیں یا پھر چاہیں تو آزاد حیثیت میں رہیں- اس وقت جوناگڑھ کے نواب سر مہابت خانجی نے گورنر جنرل آف پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ الحاقی دستاویز Instrument of Accession پر دستخط کئے اور 15 ستمبر 1947 کو جوناگڑھ باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بن گیا اور سٹیٹ ہاؤس آف جوناگڑھ پہ پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا – نواب آف جوناگڑھ جناب نواب مہابت خانجی نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ریاست کی کونسل،

    (جس میں مسلمان اورہندو سب شامل تھے،)

    کی رضامندی سے کیاتھا-

    جیسا کہ بھارت نے برطانوی حکومت کی ملی بھگت سے ہر جگہ سیاسی طاقت کو اپناتے ہوئے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیریں اور جارحانہ اقدامات کئے اِسی طرح جوناگڑھ پہ بھی عالمی قوانین کے خلاف جارحانہ اقدام کیا اور 9 نومبر 1947ء کو بھارت نے مختلف افواہیں پھیلاتے ہوئے جونا گڑھ پر غیر قانونی فوج کشی کے ذریعے قبضہ کر لیا- جونا گڑھ پر غیر قانونی فوج کشی اور مظالم کے سبب بہت سے مسلمان ہجرت کر کے کراچی آ گئے- تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے میجر کے- ایم- اظہر کو جونا گڑھ بھیجا مگر ان کا سامنا پہلے سے موجود قابض بھارتی افواج سے ہوا- محدود وسائل کے سبب پاکستان وہاں زیادہ فوج نہیں بھیج سکتا تھا کیونکہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے باعث پہلے ہی پاک بھارت جنگ چل رہی تھی-

    یہ ایک تاریخی امر ہے کہ بھارت کا ان ریاستوں پر قبضہ پہلے سے طے شدہ تھااور اس عمل میں انگریز وائسرائے ماؤنٹ بیٹن اور اُن کی اہلیہ کا کردار بھی اہم تھا جبکہ رہی سہی کسر بھارت نے پاکستان کے محدود وسائل اور انگریز جرنیل کے ماتحت فوج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستوں پر قبضہ کر کے نکال دی- ریاست جوناگڑھ پر بھارتی قبضہ بھارتی توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم (اکھنڈ بھارت) کو ظاہر کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ابتدا ہی سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کا بھی ثبوت ہے یہ حقیقت حیدر آباد دکن اور جموں و کشمیر پر بھی غیر قانونی قبضے سے واضح ہوتی ہے-مزید برآں مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں کردار پر بھارتی وزیر اعظم کے اعترافی بیان سے بھارت کی اینٹی پاکستان پالیسی کا تسلسل واضح ہوتا ہے-

    بد قسمتی سے ابتدا میں پاکستان نے جوناگڑھ کا مقدمہ لڑا لیکن جوں جوں وقت گزرا، یہ مسئلہ محض کتابوں تک محدود ہوتا گیا اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اب کتابوں میں بھی اس مسئلہ کا ذکر ناپید ہوتا جا رہا ہے اور نوجوان نسل اس مسئلہ سے آگاہ نہیں ہو رہی- عالمی نظام میں سر اٹھا کر جینے کے لئے قوموں کی خودداری بہت اہمیت رکھتی ہے اور اس لئے ہمیں ہر قیمت پر اپنے قانونی حصے جونا گڑھ اور شہ رگ جموں و کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے اور انہیں بھارتی غیر قانونی و غیر اخلاقی تسلط سے نکالنا ہے-

    قائد اعظم خود ایک قانون دان تھے اور قانون کی عملداری پر یقین رکھتے تھے- نواب آف جوناگڑھ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ اور الحاق کی وجہ قائداعظم کا ریاستوں کے حکمرانوں کو آزادانہ فیصلے کرنے کے حق دینا بھی تھا- جبکہ دوسری طرف بھارت ریاستوں کے حکمرانوں کو دھمکا کراپنے ساتھ الحاق پر مجبورکر رہاتھا- لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کئی ریاستوں کو مختلف طریقوں سے مجبور کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں- ماؤنٹ بیٹن نے آن دی ریکارڈ یہ بات کی کہ ’’اگر میں 15 اگست کو ریاستوں کی ایک ٹوکری لے آؤں تو کانگریس ہر وہ قیمت دینے کو تیارہو گی جو میں لینا چاہوں گا ‘‘۔ اسی لیے کانگرس نے ماؤنٹ بیٹن کو گورنر جنرل آف انڈیا تسلیم کر لیا تھا –

    کشمیر اور جونا گڑھ کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ کشمیر کے بھارت سے نام نہاد الحاق کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ اپنی ریاست کا دارلحکومت چھوڑ کر بھاگ چکا تھا اور عملاً ریاست پر کنٹرول کھو چکا تھا اور عوام اس کے خلاف تھی مزید یہ کہ آج تک بھارت نے کشمیر کی الحاقی دستاویز کو بھی ظاہر نہیں کیا جبکہ جونا گڑھ کے نواب نے ریاستی کونسل کی رضا مندی کے ساتھ پاکستان کےساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اورباقاعدہ دستخط شدہ الحاقی دستاویز پاکستانی حکومت کے حوالے کی جس پہ دو خود مختار ریاستوں (پاکستان و جوناگڑھ) کے قانونی سربراہان (گورنر جنرل آف پاکستان و نواب آف جوناگڑھ) کے دستخط ہیں –

    الحاقی دستاویز ایک قانونی معاہدہ ہےجو دو ریاستوں کے مابین طے پاتا ہے اور کسی بھی علاقہ پہ کنٹرول کے لیے قانونی حیثیت رکھتا ہے-
    یہ الحاقی دستاویز بین الاقوامی قانون کے تحت ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے- اگرجونا گڑھ کی قانونی حیثیت کا بین الاقوامی قوانین کی نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جونا گڑھ پاکستان کا حصہ ہے- ویانا کنونشن آن لاء آف ٹریٹیز کے مطابق’ معاہدہ‘ سے مراد دو یا دو سے زائد ریاستوں کے مابین طے پایا جانے والا ایسا معاہدہ ہے جو تحریری شکل میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو ۔ پھر ویانا کنونشن آن لأ آف ٹریٹیز یہ بھی کہتا ہے کہ وہ معاہدہ جو مذکورہ فریقین کے مابین ہوگا اس کی حیثیت’’عالمی‘‘ ہوگی اگرچہ وہ ایک دستاویز پہ مشتمل ہو یا متعدد ضمنی و متعلقہ دستاویزات پہ مشتمل ہو –

    جونا گڑھ کی الحاقی دستاویز:

    (۱) ایک عالمی معاہدہ ہے-

    (۲) دو ریاستوں کے مابین طے پایا گیا ہے-

    (۳) تحریری صورت میں موجود ہے-

    (۴) بین الاقوامی قانون کے مطابق طے پایا-

    ایک مستند و تاحال قابلِ عمل دستاویز کی صورت میں ہے-

    لہٰذا جونا گڑھ کا الحاقی دستاویز ایک بین الاقوامی معاہدہ کی تمام شرائط پہ پورا اترتا ہے-مسئلہ جوناگڑھ تب تک اپنی قانونی حیثیت رکھتا ہے جب تک الحاقی دستاویز کی قانونی حیثیت برقرار ہے- ایک عالمی معاہدے کی قانونی حرمت ہوتی ہے جس کا احترام ہر قوم پہ واجب ہے جیسا کہ ویانا کنونشن آن لاء آف ٹریٹیز 1969 میں اس بات کا اعادہ کیا گیا- آرٹیکل 26 ‘پیکٹا سنٹ سروانڈہ کے مطابق دو فریقین کے مابین معاہدہ طے پا جانے کے بعد دونوں فریقین پہ لازم ہے کے وہ اس معاہدہ پر نیک نیتی سے عمل درآمد کریں-

    بین الاقوامی قانون میں عالیجاہ نواب آف جونا گڑھ کی ایک منفرد حیثیت ہے- داخلی اور بین الاقوامی قوانین میں نواب آف جو نا گڑھ ’’جلاوطن مگر خود مختار ” کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے اپنے حقوق ہیں یعنی ایک ایسا شخص جو اپنی ریاست کا اقتدار کھو چکا ہو لیکن اس کے پاس اس مقصد کیلئے قانونی دستاویزات موجود ہوں اِسے عوامی اور آسان زبان میں یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک اراضی کی لیگل رجسٹری تو آپ کے نام پہ ہو مگر عملاً اس پہ قبضہ کسی قابض قوت کا ہو، لہٰذا قانونی مالک اس جگہ کے آپ ہوں گے قبضہ بھلے کسی کے پاس ہوگا – اس لحاظ سے دیکھا جائےتو عالمی قوانین کے تحت نواب آف جوناگڑھ آج بھی جونا گڑھ کے قانونی حکمران ہیں -لیکن ان کی قانونی حیثیت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں- جو ان کے ساتھ کئے گئے قانونی معاہدہ کے تحت ہے- یہی وجہ ہے کہ جونا گڑھ کا علاقہ پھر سے پاکستان کے نقشہ میں متنازعہ علاقہ کے طور پر موجود ہے-

    جونا گڑھ کا الحاقی دستاویز پاکستان کے لیے ایک بائنڈنگ کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کا کیس قانونی طور پر بہت مضبوط ہے- یہ باعث افسوس ہے کہ جب جونا گڑھ پر قبضہ ہوا، ہم نے احتجاج بھی کیا اور اقوامِ متحدہ میں بھی گئے مگر بعد میں اس معاملے کو آگے نہیں بڑھا سکے- اسی طرح بنگلہ دیش کی صورت میں بھارت نے سازشوں سے ہمارے ملک کے حصے پر قبضہ کر کے الگ ملک بنایا-ہم توجہ ہی نہیں کرتے کہ بھارت ابتداء ہی سے ہماری سرزمین کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے- بدقسمتی سے ہم جونا گڑھ کو بھول چکے ہیں حتیٰ کہ اسلام آباد میں جونا گڑھ ہاؤس کے لیے جگہ مختص کی گئی لیکن اس پر بھی سیاسی قابضین مسلط ہوگئے- جونا گڑھ کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے ہمیں جونا گڑھ پر تفصیلی کتب شائع کرنی چاہیں- نوجوان نسل کو اس مسئلہ سے لازمی طور پر آگاہ رکھنا چاہئے جو اسی صورت ممکن ہے کہ اس مسئلہ کی تاریخ ہمارے نصاب میں شامل ہو- اسی طرح جونا گڑھ کو پاکستان کے ہر نقشے میں ظاہر کرنا چاہئے- پاکستان کو اس مسئلہ کوعالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہیئے تاکہ عالمی برادری بھی اس مسئلہ سے آگاہ ہو-

    جونا گڑھ ہماری تاریخ کا حصہ ہے لیکن بد قسمتی سے ہم اس تاریخ کو بھلاتے جارہے ہیں – ہمارے بچے اور نوجوان جونا گڑھ کے بارے میں نہیں جانتے باوجود اس کے کہ جوناگڑھ پہ پاکستان کا قانونی حق ہے- چین ، ہانگ کانگ حاصل کرنے کے لیے100 سال تک جدو جہد کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ اس مسئلہ سے متعلق آگاہی پیدا کر کے ہم تاریخ میں موجود غلطی کو درست کر سکتے ہیں بھارت نے فوجی مداخلت سے جونا گڑھ پر قبضہ کیا تھا اور اس فوجی مداخلت میں نہ صرف گاڑیاں بلکہ ٹینک بھی استعمال کئے گئے۔