Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شرقپور ضمنی انتخابات حلقہ پی پی139 پاکستان تحریک انصاف فائنل راؤنڈ کے لیے تیار

    شرقپور ضمنی انتخابات حلقہ پی پی139 پاکستان تحریک انصاف فائنل راؤنڈ کے لیے تیار

    باغی ٹی وی: شیخوپورہ تحصیل شرقپور شریف(محمد طلال سے)ضمنی انتخابات حلقہ پی پی 139 پاکستان تحریک انصاف سیاسی معرکے کے فائنل راؤنڈ کے لیے مکمل طور پر تیار اور حلقہ کی عوام میں سیاسی بیداری کو اجاگر کرنے کی طرف تیزی سے گامزن چوہدری شرافت ورک، چوہدری ریاض ورک،چوہدری یوسف ورک، چوہدری خورشید ورک اور چوہدری شرجیل ورک کے زیر انتظام قلعہ صاحب سنگھ میں شاندار سیاسی کارنر میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار صاحبزادہ میاں محمد ابوبکر شرقپوری صاحب،جناب صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری صاحب (سابق MPA)سعید احمد ورک (سابق MPA)، چوہدری ظریف احمد کھرل،چوہدری خلیق احمد کھرل، حافظ غضنفر ورک،اشفاق ورک،چوہدری اظہر حسین چھٹہ، بابا ارشد چھٹہ، رانا گوگا کو مدعو کیا گیا اہلیان علاقہ کی جانب سے رہنماؤں اور مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اہلیان علاقہ نے ووٹ کی طاقت سے علاقے میں رائج بوسیدہ سیاسی بساط کو پلٹنے کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ وہ صاحبزادہ میاں محمد ابوبکر شرقپوری صاحب کی قیادت میں علاقے کی فلاح وبہبود ترقی اور اپنی نسلوں کی خوشحالی اور موجودہ حکومت سے نجات حاصل کر کے رہیں گے حلقہ پی پی 139 میں امپورٹڈ نمائندہ نے چار دفعہ علاقے کا مینڈیٹ چوری کرنے اور میگا پراجیکٹس کو ہائی جیک کرنے کے سوا کچھ نہیں کیاجو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مخالف حریف شرقپور شریف کی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہے

  • سیاستدانوں نے تو پورے ملک کو سائفر بنا دیا .تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدانوں نے تو پورے ملک کو سائفر بنا دیا .تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی گلیاروں میں ایسے ایسے ناٹک آج کل کئے جا رہے ہیں جس سے جمہوریت، آئین، قانون، پارلیمنٹ اور بائیس کروڑ عوام اور پاکستان بطور ریاست بھی حیران ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ سائفر جو سٹیٹ ٹو سٹیٹ ایک دستاویز ہوتا ہے اور یہ وزارت خارجہ جو ریاستی ادارہ ہوتا ہے اس کے ذمہ داروں کے پاس ہوتا ہے اس کو لے کر سیاستدانوں نے تو پورے ملک کو سائفر بنا دیا ہے۔ سیاستدان اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں اعلیٰ پولیس افسران، سول بیورو کریسی، سول انتظامیہ کے افسران لینڈ مافیا اور بڑے بے پراپرٹی ٹائیکون کی پشت میں قائد کے پاکستان کی زمینوں پر قبضے میں ملوث ہیں۔

    اسلام آباد راولپنڈی کے جنگلات، زرعی زمینوں، سرکاری زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ حوس زر میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں موت بھی یاد نہیں۔ عام آدمی کے دکھوں اور ان پر جو عذاب ہیں کوئی سروکار نہیں۔ جب ہر طرف محرومی مجبوری کا راج ہو محکمومی کا راج ہو تو سیاست کیسی؟ ان حالات میں ریاست کی حالت کیا ہوگی؟ جس آئین کو لے کر سیاستدان عدالتوں کا رخ کرتے ہیں اس آئین میں عام آدمی کے حقوق کیا اس کے بارے میں بھی درج ہے کیا کبھی کسی سیاستدان نے ان آئین کی شقوں پر عمل کرنے پر زور دیا؟

    یہ سیاسی لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے۔ خودمختاری اور سالیمت کی باتیں بھی فریب ہے۔ پاکستان کا قیام تو بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا بدقسمتی سے اس انقلاب کا قائد دنیا سے رخصت ہو گیا آج قائد کے پاکستان کو صوبہ سندھ سے لے کر خیبر تک پراپرٹی ٹائیکون چلا رہے ہیں۔ سیاستدانوں کے اخراجات ،بڑے بڑے محل نما گھر تحفے میں دیئے جاتے ہیں سیاستدان نے سیاست کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا اعلیٰ پولیس افسران، اعلیٰ انتظامی افسران، بیورو کریسی کی تعیناتیاں، بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکون کی منشا پر ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں وطن عزیز کے بے چارے عوام جن کا کوئی والی وارث نہیں بڑے بڑے پیٹ والوں نے ان کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے رونا صرف سیاسی ابتری کا نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طاقتور نے مظلوم کا خون نچوڑا ہے کسی غریب مظلوم اور درماندہ کی رسائی نہ دفتر میں نہ پولیس کے ہاں نہ دربار میں نہ سرکار میں۔ یہ مخلوق خدا ہے اس پر ظلم نہ کیجئے ورنہ خدا کے سامنے کیا جواب دیں گے۔

  • کندھ کوٹ : واپڈا کی نجکاری کے خلاف واپڈا ہائیڈرو یونین کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    کندھ کوٹ : واپڈا کی نجکاری کے خلاف واپڈا ہائیڈرو یونین کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    باغی ٹی وی : کندھ کوٹ (نامہ نگار) واپڈا کی نجکاری کے خلاف واپڈا ہائیڈرو یونین کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
    تفصیلات کے مطابق کندھ کوٹ میں واپڈا کی نجکاری کے خلاف واپڈا ہائیڈرو یونین کی جانب سے واپڈا آفیس کے آگے وفاقی حکومت کے خلاف ہاتھوں میں بینر اٹھا کر احتجاجی مظاہرہ کیا،مظاہرین نے واپڈا کی نجکاری کے خلاف شدید شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر واپڈا ہائیڈرو یونین کے رہنما اصغر علی بجارانی۔ بابو یونس ملک۔ فقیر سکندر علی باجکانی۔ نور اللہ سومرو۔ غلام محمد باجکانی۔ اور دیگر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت جو واپڈا کی نجکاری پر اتر آئے ہے حکومت کو پورے پاکستان کے ملازمین نجکاری نہیں ہونے دے گی۔ پیلے بھی ہم نے جدوجھد کی ہے ابھی کر رہے ہیں ہمارے مطالبے واپڈا ملازمین کا کوٹہ بحال کیا جائے اور ریٹائر ہونے والے ملازمین کے بیٹوں کو نوکریاں دی جائیں۔ سٹاف شاٹیج کو ختم کیا جائے، لائن سٹاف کے ساتھ حادثات ہوتے ہیں، گاڑیاں دی جائے زیادہ بل کی وجہ عوام اور ملازمین میں کشیدگی ہو جاتی ہے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بجلی سستی کی جائے اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو واپڈا ہائیڈرو یونین کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔

  • شیخوپورہ : یوٹیلیٹی سٹوروں پر آٹا ،گھی ،چینی غائب ،بازار میں دکانوں پر سستے داموں فروخت کا انکشاف

    شیخوپورہ : یوٹیلیٹی سٹوروں پر آٹا ،گھی ،چینی غائب ،بازار میں دکانوں پر سستے داموں فروخت کا انکشاف

    باغی ٹی وی شیخوپورہ تحصیل مریدکے(محمد طلال سے) یوٹیلیٹی سٹوروں پر آٹا گھی چینی غائب دکانوں پر سستے داموں فروخت کا انکشاف عوام پنجاب سرکار کی طرف سے سستی خوردونوش اشیاء خریدنے سے محروم شہریوں کا وزیراعلی پنجاب سے نوٹس کا مطالبہ تفصیلات کیمطابق قادری بازار راوی ریان بنگلہ پلی روڈ پنڈ مریدکے کی سرکاری یوٹیلیٹی سٹوروں پر آٹا گھی چینی اکثر غائب رہتا ہے دیہاتی و بازاری دکانوں میں سرکاری ٹیگ شدہ بیگ اتار کر آٹا گھی چینی سستے داموں فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے دیگر اشیاء مارکیٹ سے مہنگے داموں ملتی ہیں عوام سرکار کی طرف سے دی گئی سبسٹدی سے محروم ہو گئی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے آئے دن آٹا چینی گھی کا غائب ہونا اور دیہاتی و بازاری دکانوں میں فروخت ہونا لمحہ فکریہ ہے اور دوسری طرف بازاروں میں سبزیاں دالیں گھی آٹا چینی چکن بیف مٹن خوردونوش کی اشیاء زائد ریٹوں پر فروخت ہو رہیں ہیں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے پرائس کنٹرول کمیٹیاں و تحصیل انتظامیہ منافع خوروں کو لگام ڈالنے میں ناکام ہو گئی ہیں شہر بھر سمیت نارووال چوک شیخوپورہ چوک روڈز کے دونوں اطراف تجاوزات قابضین نے قبضے کر رکھے ہیں ایک کھوکھا و ہوٹل فروٹ فروش ریڑھی بان سے روزانہ انتظامیہ مبینہ طور پر ہزاروں روپے اور ماہانہ لاکھوں وصول کرتے ہیں منی پٹرول پمپوں کی بھرمار ایل پی جی گیس کی ری فلنگ شہر بھر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر بغیر نقشہ منظوری کے غیر قانونی گھر پلازوں کی تعمیرات کر لی گئی ہیں پٹوارخانوں میں پرائیویٹ منشیوں کی اجارہ داری مریدکے میں لاقانونیت کے ڈیرے چھائے ہیں شہریوں نے لوکل گورنمنٹ کے افسران تحصیل اور بلدیہ کی موجودہ انتظامیہ کی لاقانونیت پر وزیراعظم پاکستان وزیراعلیٰ پنجاب چیف سیکرٹری پنجاب سیکرٹری بلدیات سے فوری مذکورہ بے ضابطگیوں پر کاروائیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے

  • پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — سیدرا صدف

    پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — سیدرا صدف

    منیجیمنٹ میں "صحیح آدمی, صحیح کام اور صحیح وقت پر” کو بہت اہمیت حاصل ہے۔۔بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم منیجیمنٹ ہمیشہ اس اہم اصول کو نظر انداز کرتی آئی ہے۔۔۔یہ ہی وجہ ہے اہم ٹورنمنٹ سر پر ہوتا ہے اور ٹیم کمبینیشن سردرد بنا ہوتا ہے۔۔۔

    کوچنگ اسٹاف ہو یا کھلاڑیوں کی سلیکشن کوئی منطق نظر نہیں آتی ہے۔۔انٹرنیشنل لیول پر کوچز نہیں مینٹور کی ضرورت ہوتی ہے جو ذہن سازی کرے معمولی خامیاں دور کرے۔۔۔کھلاڑیوں کی کوچنگ ڈومیسٹک لیول پر ہونی چاہیے۔۔اکیڈمیز میں کھلاڑیوں کے نقائص دور ہونے چاہیے۔۔قومی ٹیم میں نقائص سے بھرپور کھلاڑی آنا ڈومیسٹک سسٹم کی افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔۔

    ایشیا کپ اور حالیہ انگلستان سیریز میں پاکستان ٹیم کی کئی کمزوریاں سامنے آئیں۔۔۔مڈل آرڈر کی ناکامی اس وقت انتہائی تشویش کا باعث ہے۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صحیح مڈل آرڈر بلےباز دستیاب ہیں۔۔

    افتخار احمد اور آصف علی بطور مستند بلے باز مڈل آرڈر میں کھیلتے ہیں۔افتخار ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کے بعد قومی ٹیم میں آئے لیکن وہ انڈرپرفارم کر رہے ہیں۔ایسا ظاہر ہوتا ہے جیسے ٹیم منیجیمنٹ انکو نچرل کھیل سے دور رکھے ہے۔۔۔دوسری جانب آصف علی اپنی کارکردگی سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ ایک مستند بلے باز کی جگہ روکے محض دو اوورز کے بلے باز ہیں۔۔۔ایسا خطرہ پاکستان میں ہی لیا جاتا ہے کہ ایک مستند مڈل آرڈر بلے باز کی جگہ تین ,چار چھکوں کی آس پر دے رکھی ہے۔۔

    شاداب خان اور نواز کا بیٹنگ لائن میں کردار طے نہیں ہے۔۔دونوں باصلاحیت آلراؤنڈر ہیں جو باآسانی مڈل آرڈر میں عمدہ کردار نبھا سکتے ہیں۔۔

    ٹاپ آرڈر بیٹنگ رضوان اور بابر کی موجودگی میں مستحکم ہے۔۔البتہ ون ڈاؤن پوزیشن پر سوالیہ نشان ضرور ہے۔۔شان مسعود, فخر زمان کی غیر موجودگی کو کیش کرنے میں ناکام رہے اور اطلاعات کے مطابق ٹیم منیجیمنٹ اور کوچ کی خواہش ہے کہ فخر زمان ٹیم میں کھیلیں۔۔۔فخر زمان پندرہ سے زائد ٹی ٹوئینٹی میچز میں ناکام ہونے کے بعد ڈراپ ہونے کی بجائے ون ڈاؤن آئے تھے۔۔۔ون ڈاؤن پوزیشن پر بھی انکی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔۔لیکن اگر وہ صحتیاب ہیں نیز کپتان انکو پلئینگ الیون کا حصہ چاہتے ہیں تو نیوزی لینڈ سیریز میں رضوان کے ساتھ بطور اوپنر ٹرائی کر لینے میں حرج نہیں ہے۔۔۔کسی بھی ٹورنمنٹ کے دوران کمبینیشن بدلنا درست نہیں ہوتا ہے لہذا جو حتمی تبدیلیاں کرنے ہیں وہ تین ملکی سیریز میں کر لینی چاہیے۔۔۔

    شاہین شاہ آفریدی کی غیر موجودگی میں حارث رؤف نے باؤلنگ کا بوجھ اچھا اٹھایا لیکن کرکٹ ٹیم گیم ہے۔۔ایک کھلاڑی کی اچھی یا بری کارکردگی نتائج پر اثر ڈالتی ہے۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حسنین اور وسیم جونیئر ورلڈکپ اسکوڈ کا حصہ ہیں لیکن تینوں پریشر سچوائیشن میں باؤلنگ کرانے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں۔۔تینوں کی ناتجربہ کاری عیاں ہے۔۔۔یہ تین بالر اس وقت ہائی رسک ہیں۔۔ اگر مددگار کنڈیشنز مل گئی تو کارکردگی دیکھا سکتے ہیں۔۔۔اسپن باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ مجموعی طور پر اچھا ہے۔۔۔۔عماد وسیم کا اسکوڈ میں اسے اور مضبوط کر دیتا۔۔۔۔پاکستان پیس اٹیک شاہین, نسیم اور حارث کے ساتھ بہترین نتائج دے سکتا ہے۔۔۔

    بدقسمتی سے اس وقت اسکواڈ میں زیادہ ورائیٹی موجود نہیں ہے۔۔ خوشدل شاہ سے باؤلنگ ہی نہیں کرانی تو انکو بطور آلراؤنڈر منتخب کرنے کی کوئی منطق نہیں ہے۔۔وہ بنا باؤلنگ کسی کا متبادل نہیں ہیں۔۔عامر جمال کو بنام انگلستان سات میچز کھیلا کر چیک کیا جا سکتا تھا ٹیم کو اس وقت ایک تیز گیند باز آلراؤنڈر کی ضرورت ہے۔۔۔۔انگلستان کی سیریز ورلڈکپ کی تیاری کے سلسلے میں اہم تھی۔۔نیوزی لینڈ میں شیڈول تین ملکی سیریز میں اس الیون کو اترنا چاہیے تھا جس کے ساتھ ورلڈکپ کھیلا جائے گا لیکن بدقسمتی سے ابھی تک یہ طے نہیں ہے کہ کونسا کھلاڑی ,کب اور کدھر کھیلے گا۔۔۔۔

    اصولاً ٹی ٹوئینٹی اسکواڈ میں پانچ مستند بلے باز جو کہ ٹاپ اور مڈل آرڈر کے نمبرز پورے کریں, چار آلراؤنڈر تیز و اسپنر,چار مستند تیز گیند باز ,دو وکٹ کیپر بلے باز ہونے چاہیے۔۔

    ٹیم پاکستان ہمیشہ Right Person, Right Job,Right Time کے اصول کے خلاف کھیلی ہے۔۔۔کبھی کبھار ملنی والی کامیابیوں نے اس اصول کو سمجھنے کی طرف کبھی راغب نہیں کیا ہے۔۔عین ممکن ہے کہ اسکواڈ میں موجود کچھ باصلاحیت کھلاڑیوں کی کاوش سے ٹیم ورلڈکپ میں اچھی کارکردگی دیکھانے میں کامیاب ہو جائے لیکن مارڈن ڈے کرکٹ کے اصولوں کو اپنائے بغیر تسلسل لانا مشکل ہے۔۔

  • پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — نعمان علی ہاشم

    پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — نعمان علی ہاشم

    پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سات ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز مکمل ہوئی. آئندہ ہونے والے ورلڈ کپ مقابلوں کے لیے یہ میچز ہماری تیاری کو ظاہر کرتے ہیں. پاکستان نے پچھلے چند برسوں سے مختصر طرز کی اس کرکٹ میں بہت سے گراں قدر ریکارڈ قائم کیے. فتوحات کا تناسب بھی زیادہ رہا. مگر اس سیریز کے بعد ایک سوال زبان ذد عام ہے. کیا یہ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے.؟ یوں تو مشہور معقولہ ہے کہ "cricket is by chance” مگر آجکل کے دور میں چانس اسی کے لیے ہے جو بہترین ٹیم اور زبردست مائنڈ سیٹ کے ساتھ میدان میں اترتا ہے. سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا پاکستان کی موجودہ ٹیم میں ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت موجود ہے؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے نہیں.

    ٹی ٹونٹی کرکٹ ہائی رسک گیم ہے. بلے باز کو اسکور کرنے کے لیے خراب گیند کا انتظار کیے بغیر شارٹ بنانے پڑتے ہیں. اور باؤلر کو وکٹ کے حصول کے لیے ان جگہوں پر بال کرنی پڑتی ہے جہاں آؤٹ کے ساتھ ساتھ باؤنڈریز لگنے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں.

    پاکستانی ٹیم کی موجودہ صورتحال پر بات کریں تو اس وقت پاکستان کے پاس دو ایسے بلے باز ہیں جو وائٹ بال کرکٹ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے. دونوں نے اپنے بلے سے اتنے رنز اگل دیے ہیں کہ آنے والی کئی دہائیوں میں انہیں یاد رکھا جائے گا. یہ دونوں بلے باز اس وقت گیم کے اس فارمیٹ میں اوپنر کی حیثیت سے کھیل رہے ہیں. جی ہاں پاکستانی کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان دونوں ہی رنز مشین کے طور پر جانے جاتے ہیں. لمبی پارٹنر شپس کی وجہ سے دونوں بلے بازوں نے اس طرز کی کرکٹ میں اپنا لوہا منوایا ہے. پاکستان کے زیادہ تر ریکارڈ جو پچھلے تین سالوں میں بنے انہی دو کی بدولت بنے.

    مگر کرکٹ میں ہر روز کسی کھلاڑی کا چل جانا عجائبات میں سے ہے. کھلاڑیوں کا اچھا برا دن بھی آتا ہے. ہم نے پچھلے تین سالوں سے یہ محسوس کیا ہے کہ جب بھی پاکستانی اوپنرز نے پرفارم نہ کیا پوری ٹیم دھڑم تختہ ہو گئی. پچھلے کئی سالوں سے ہماری مڈل آڈر اور لوور مڈل آرڈر کی خامیاں رضوان اور باہر کی پرفارمنس کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں. بابر اور رضوان کی پرفارمنس کے بغیر ہماری ٹیم کی فتوحات کا تناسب 7 فیصد سے بھی کم ہو جاتا ہے.

    اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟

    پاکستان کے مڈل آرڈر میں کھیلنے والے جو بلے باز پچھلے دو تین سال سے آزمائے جا چکے ان کا متبادل کیا ہے؟

    ابھی بھی پاکستان جن کھلاڑیوں کو مڈل آڈر میں مواقع فراہم کر رہا ہے ان کی گیم نیچر اوپنرز والی ہے. فخر زمان، شان مسعود اور حیدر علی کی کلاس اور گیم سینس مڈل آرڈر بیٹنگ والی نہیں ہے.
    .
    حال میں مڈل آرڈر میں کھیلنے والے بلے باز افتخار احمد، خوشدل شاہ، حیدر علی، شان مسعود، آصف علی نے بہت لمبا چانس ملنے کے باوجود پرفارم نہیں کیا.

    پاکستان کے ڈومیسٹک اور لیگ سیٹ اپ میں کوئی بھی ایسا نیا بلے باز نظر نہیں آتا جس میں مڈل آرڈر کو سنبھالے کی صلاحیت موجود ہو. جتنے بھی نئے ٹیلنٹڈ کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں تقریباً سبھی اوپنرز ہیں. البتہ سسٹم میں دو تین پرانے کھلاڑی ایسے موجود ہیں جو ٹیم کے مڈل آرڈر کو سنبھال سکتے ہیں. شعیب ملک جو ابھی تک اپنی فارم اور فٹنس سے سب کو حیران رکھے ہوئے ہیں بدقسمتی سے بورڈ کی آنکھ کے تارے نہیں بن پا رہے. بورڈ محض نئے ٹیلنٹ کو کھلانے کی خاطر ان کی خدمات لینے سے انکاری ہے. اور نیا ٹیلنٹ ہمارے ساتھ جو کر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں.

    دوسرا نام بائیں ہاتھ کے بلے باز حارث سہیل کا ہے. جن کی فارم اور کلاس میں کسی قسم کا شبہ نہیں. مگر انہیں ہمیشہ سے فٹنس مسائل کا سامنا رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ پی سی بی اب انہیں کنسیڈر کرنے سے اعراض برت رہی ہے.

    تیسرا نام ڈومیسٹک میں بے شمار رنز کرنے والے کامران غلام کا ہے. جنہیں ٹیم کے ساتھ تو رکھا گیا مگر انہیں کھلانے سے جانے کس چیز نے روکے رکھا.

    یہ تینوں نام مڈل آرڈر کے لیے بہترین ہیں. اگر ورلڈ کپ کے لیے وننگ کمبینیشن بنانا ہے تو بیٹنگ آڈر میں ان تینوں تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے.
    .
    پاکستانی باؤلنگ لائن اپ کی کلی بھی شاہین شاہ کی انجری کے بعد مکمل طور پر کھل چکی ہے. نسیم شاہ ینگ ہونے کے باوجود فٹنس اور ہیلتھ کے مسائل کا شکار ہیں. حارث روف نئے بال کے ساتھ ناکام ہیں. اور محمد حسنین پیس کے علاوہ اپنی باؤلنگ میں کوئی مہارت نہیں رکھتے. اگر شاہین شاہ فٹ نہیں ہوتے تو پاکستان کے لیے یہ ورلڈ کپ جیتنے کی پوزیشن انتہائی مشکل ہو جائے گی.

    سپن باؤلنگ کی بات کریں تو محمد نواز اور شاداب نے اس شعبے کو مکمل طور پر سنبھالا ہوا ہے. اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا جاتا.

    البتہ ان دونوں کے متبادل کے طور پر جو کھلاڑی لائے جا رہے ہیں ان کی بابت کوئی رائے دینا مشکل ہے.

    پاکستان کی ٹیم دو شعبوں میں مکمل اور دو شعبوں میں ادھوری ہے. مڈل آرڈر اور لوور مڈل آرڈر کے مسائل کے حل کے بغیر ورلڈ کپ کی جیت کا خواب محض دیوانے کا خواب ہے. اوپر سے فاسٹ باؤلرز کے فٹنس مسائل کی تلوار الگ سے لٹک رہی ہے.

  • کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    تیار ہو جائیں! آپ جو کچھ پڑھنے والے ہیں وہ آپ کو اس مقام تک پہنچا دے گا کہ آپ خود کو آزاد کشمیر، پاکستان کا سفر کرنے کے لیے جوش خروش اور ولولے سے اپنی ہی نشست پر ایک بے چین پرندے کی طرح پر پھڑ پھڑاتا ہوا پائیں گے۔

    پاکستان ایسی جگہوں کا گھر ہے جو آپ کو دلکش قدرتی حسن کی شان میں حیران ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک جگہ آزاد کشمیر ہے، سحر انگیز علاقوں کی دلدل کہ اس کے وجود پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگ وفور شوق اور تاب حسن نہ لاکر اس خطے کو جنت نظیر پکار اٹھتےہیں۔

    پاکستان میں تمام دلکش سیاحتی مقامات میں سے، آزاد کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جو سیاحتی بالادستی کے دیگر تمام دعووں کی نفی کرتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی اور سیاحتی مقام کی نظیر اس خطے سے میل نہیں کھاتی کیونکہ کشمیر تو کشمیر ہے اور اس جیسا خطہ دنیا میں اور کوئی نہیں۔ اسی وجہ سے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہم آج تک شور مچانے والے اپنے پڑوسی بھارت سے اس جنت پر غاصبانہ قبضہ کرنے پر جھگڑ رہے ہیں اور بیشک ہمارا دعوی حق ہے۔

    آزاد کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ خطہ جنت نظیر ہے۔ یہ سب پذیرائی کشمیر کی سر سبز وادیوں کی وجہ سے ہے جو آپ کو اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ ایک بار جب آپ انہیں دیکھ لیں تو کبھی بھی اپنی آنکھیں نہ ہلائیں۔ یہ آبی گزرگاہوں، وافر جھیلوں اور وائلڈ لائف ایڈونچر کا تجربہ کرنے کی اعلی جگہ ہے۔

    پاکستانی قوم کا یہ زمین کا ٹکڑا دنیا بھر میں اتنا ہی مشہور ہے جتنا کہ کوئی بلند و بالا پہاڑ ہو سکتا ہے۔ شاہانہ سر سبز وادیاں، طاقتور آبی گزرگاہیں، لذت بخش جھیلیں، اور حیران کن و بے مثال کشمیری زندگی۔

    میں تو کہتا ہوں کہ اپنی اگلی چھٹیوں کا منصوبہ کہاں بنانا ہے اس کے بارے میں سوچ رہے ہو؟ تو بھئی یورپ انتظار کر سکتا ہے لیکن آپ کو پاکستان کا کشمیر دیکھنا چاہیے سو پہلی فرصت میں بیگ پیک کریں اور منچلے بن کر کشمیر کی جنت کا رخت سفر باندھ لیں۔

    کیوں بھئی؟

    کشمیر ہی کیوں؟

    یہاں ہے آپ کی اس کیوں کا جواب۔۔۔

    ذیل میں آزاد کشمیر کے سرفہرست پرکشش مقامات ہیں جو آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے ورنہ آپ خود کو زندہ تصور مت کریں۔۔۔

    1. وادی نیلم

    سیاحوں کی توجہ کی خاطر سیاحتی مقام کو دلکش الغرض مکمل پیکج ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک یقینی اور ضروری بات ہے۔ آپ کو نیلم ویلی میں نیلے میٹھے پانی کی ندیاں اور عر سو ہریالی ملے گی، جیسا کہ کسی بھی غیر ارضی جگہ مطلب جنت کی طرح شاندار۔ یہ بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا عظیم تحفہ ہے، خوش قسمتی سے، آزاد کشمیر، پاکستان میں واقع ہے۔ کوئی بھی آپ کو پاکستان میں سرفہرست پرکشش مقامات کا مشورہ دے گا تو وہ وادی نیلم کو نہیں بھولے گا۔ اس کے بہت سے مضافاتی اور چھوٹے قصبے اور دیہات، جھیلیں، ٹریکنگ ٹریلز، پہاڑی گزرگاہیں اور دیگر طرح کی عظیم پہاڑوں کے نظارے اورجھلکیاں ہیں جو اسے سیاحوں کے لیے قابل ذکر مقامات میں نمبرون بناتے ہیں۔

    2. راولاکوٹ

    آزاد کشمیر کا ایک مشہور قصبہ جو پونچھ کا ضلعی ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ اونچی پہاڑیوں کے درمیان ایک دلکش وادی، جو اسلام آباد اور راولپنڈی سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چونکہ یہ صرف 80 کلومیٹر ہے، اس کا یقیناً مطلب ہے کہ آپ آسانی سے اس علاقے تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر آپ قومی دارالحکومت یا راولپنڈی میں ہیں تو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ شمالی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہ سردیوں میں برفباری کی بدولت بند ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیشہ گرمیوں میں جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ گرمیوں کا موسم راولاکوٹ کی دلفریب خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔ اس علاقے میں گھومتے پھرتے ہوئے، آپ کو یہاں واقع تتہ پانی، سدھنگلی اور تولی پیر کے مشہور سیاحتی مقامات پر ضرور جانا چاہیے۔

    3. بنجوسا جھیل

    اگر آپ راولاکوٹ کے ارد گرد گھومتے ہیں تو آپ کو یہاں بنجوسا جھیل کا راستہ ضرور مل جائے گا۔ یہ مثالی طور پر وہ علاقہ ہے جس میں کافی مقدار میں ہریالی ہے۔ سبز وہ رنگ ہے جو آپ کو یہاں زیادہ تر ملے گا، اس کے بعد سرخ رنگ کا تھوڑا سا کنٹورنگ ہوگا۔ قدرتی صاف جھیل کے اوپر لمبے لمبے درخت ہیں جو ایک بڑے علاقے کو ڈھانپے رہتے ہیں۔

    آپ کو عام طور پر بنحوسا جھیل دیکھنے کی غوض سے گرمیوں میں ادھر کا رخ کرنا چاہیے کیونکہ گرمی کےموسم میں وادی تو وادی موسم بھی مہمان نواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ دن میں باہر کا درجہ حرارت حد سے حد 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے البتہ سردیوں میں آپ کو ادھر جانے کا مشورہ ودینا ظلم ہوگا کیونکہ سردیوں میں ادھر برفباری کی بدولت چہار سو سفید چادر تنی نظر آتی ہے اور زندگی ٹھہر جاتی ہے۔ آپ یہاں آکر ان تصاویر کو اپنے کیمرے میں رکھنے کا تصور کریں جن میں قدرت ایک الہڑ مٹیار کی طرح یہاں وہاں رنگ بکھیرتی ہوئی نظر آئے – خوبصورتی کا تصور اور تعریف آپ ادھر آکر ہی سمجھیں گے! کیونکہ جب خزاں کا موسم دہانے پر ہوتا ہے، بنجوسا سنہری اور سرخی مائل بھورے رنگوں میں سیر ہوتا ہے۔

    4. وادی جہلم

    آزاد کشمیر کی یہ خاص وادی مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی ایک میزبان ہے، جو گرمیوں میں چاروں طرف سے پر ہجوم ہوتی ہے۔ یہاں جو چیز سیاحوں کو عجوبہ لگتی ہے وہ بل کھاتا ہوا دریا ہے جو مشرق سے مغرب پہاڑوں کے درمیان بہتا ہے۔ جہلم میں "وادی لیپا” کہلانے والا ایک اور خوبصورت علاقہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جسے لوگ دیکھنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔

    گرمیوں میں، پکے ہوئے چاول کے کھیت زوروں پر ابھرتے ہیں اور رہائشیوں کے لکڑی کے عصری گھر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ آپ نے اس وادی کی چیری جیسی چیری کا ذائقہ پہلے کبھی نہیں چکھا ہو گا، یہاں کے لوگوں کی متناسب جسامت آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی اور اخروٹ، اوہ اخروٹ توڑنے کا جو مزہ آپ کو ادھر مل سکتا ہے، آزاد کشمیر میں وادی جہلم کے علاوہ اور کہیں نہیں مل سکتا۔

    5. رام کوٹ قلعہ

    یہ حیران کن سرزمین کشمیر کی چڑھائی چڑھتے ہوئے آتی ہے، دریائے جہلم سے ملحقہ، آزاد کشمیر کا یہ سیاحتی مقام آپ کے کیمرے کا منتظر ہے۔ رام کوٹ قلعہ اب کوئی عسکری قلعہ نہیں رہا جہاں راجے بادشے خود کو محفوظ سمجھتے تھے لیکن اب یہ ایک خوبصورت سیاحتی مقام ضرور ہے۔ اس قلعے کا پس منظر 5ویں اور 9ویں صدی کا ہے جس نے تاریخ میں اپنے آثار چھوڑے ہیں، 17ویں صدی کے دوران مسلم جنگجوؤں نے اس قلعہ کے آثار دریافت کیے اور انہیں ہٹا دیا تھا۔ یہ علاقہ سیاحت کے دلدادہ لوگوں کے لیے جوش و خروش سے بھرپور مقام سیاحت ہے۔

    6. تولی پیر

    ذرا اسے سوچیں کہ ایک سر سبز و شاداب چراگاہ نما وادی میں آپ کھڑے ہوں تو آپ وہاں سے اور کہاں جانے کا سوچیں گے, یقیناً جنت۔ یہ ایک مشہور چوٹی ہے جس کے بارے میں آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں بس آزاد کشمیر میں داخل تو آپ تولی پیر کی جانب جانے کے لیے اپنا راستہ پا لیں گے, اگر آپ راولکوٹ جاتے ہیں، یا اگر آپ کو اس کا علم نہیں ہے، تو آپ راولکوٹ میں قیام کے دوران اس کے بارے میں جان لیں گے۔ سطح سمندر سے 8800′ بلندی پر واقع یہ چوٹی آپ کو ایسا محسوس کراتی ہے کہ آپ ہر چیز کے اوپر ہیں۔

    موسم بہار کے آخری مہینوں میں تولی پیر کی طرف جائیں کیونکہ یہی موسم سازگار ہے. باقی مہینوں میں اس کی اونچائی کی وجہ سے یہ صرف ٹھنڈا اور برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے کشید کرنا ہو تو اپریل سے اکتوبر میں ہی اس طرفکا قصد کریں۔

    7. پیر چناسی

    آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں واقع یہ علاقہ پاکستان میں سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک ہے۔ پیر چناسی قدرت کے نظارے دریافت کرنے کے لیے ایک حیران کن سیاحتی جگہ ہے۔ اس مقام پر آپ کو صبر اور احتیاط کا دامن تھام کے رکھنا ہوگا کیونکہ یہ مقام خوبصورت تو ہے ہی لیکن خطرناک بھی ہے۔

    اس مقام کی تاریخ آپ کو عظیم تر کشمیر کے بزرگ حضرت شاہ حسین سے متعارف کرائے گی، جن کا مزار بنیادی طور پر اسی علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقے کے ہر کونے میں سٹیٹ آف دی آرٹ اور خوبصورت فطرت ہے۔ پیرچناسی کی شاندار ہریالی پاکستان بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس علاقے کے چاروں طرف دیودار اور بلوط کے درخت ہیں جو گرمیوں میں بہار بکھیرتے ہیں، جبکہ سردیوں میں برف میں لپٹے رہتے ہیں۔

    8. وادی لیپا

    اسے لفاظی مت سمجھیے گا، لیکن ہاں، یہ جنت کی سیڑھی ہے!

    وہاں قدم رکھتےہی کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ پاکستان ہے؟ یقیناً، یہ وہ مقام ہے جو آپ کو حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے دو بار آنکھیں رگڑنے پر مجبور کرے گا۔ وادی لیپا یقینی طور پر پاکستان میں سیاحوں کے لیے پرکشش مقامات میں سے ایک کے طور پر آزاد کشمیر کی قدر کو بلند کرتی ہے۔ آزاد کشمیر میں آپ کو انتہائی خوش آئند ماحول میں سیاحوں کے لیے مئی سے نومبر کا دورانیہ بہتر ہے۔ اس علاقے میں اونچے پہاڑ اور دیودار کے اونچے درخت ہیں، یہ علاقہ مظفرآباد سے باآسانی قابل رسائی ہے۔ مقامی جیپوں میں سفر کرنے کی بہت سی سہولیات بھی ہیں۔

    9. لال قلعہ

    یہ پاکستان کے ان قلعوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں آپ کو ضرور جانا چاہیے۔ یہ قلعہ ماہرین آثار قدیمہ اور سفر کے جنونی افراد کے لیے ایک سرفہرست علاقہ ہے جو اس خطے کی تاریخ میں جھانکنا پسند کرتے ہیں۔

    آپ اسے اب کھنڈر سمجھ سکتے ہیں، لیکن یہ بہت ساری آفات کا مقابلہ کر چکا ہے اور اسے بہتری کی ضرورت ہے۔ پھر بھی، یہ علاقہ آرٹ کا ایک شاندار مقام ہے۔ اسے مظفرآباد قلعہ بھی کہا جاتا ہے، لہٰذا ابہام میں نہ رہیں۔ یہ مقام آزاد کشمیر کا ایک مشہور ورثہ ہے جس نے بہت سے غیر ملکی سیاحوں کو بھی اپنے حصار دیکھا ہے۔

    10. شونٹر جھیل

    ہر وہ جگہ جو فطرت کی بہترین عکاسی کرے اور جہاں مئی سے اگست تک رسائی ممکن ہو اس میں شونٹر جھیل کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی۔ یہاں کا موسم اور مقامی لوگ سیاحوں سے پورا تعاون کرتے ہیں۔ آپ اگر کیل, نیلم ویلی میں آئیں تو وہاں سے آگےاس جھیل تک حیپ کا سفر کرسکتے ہیں۔

    اور اگر آپ کیمپنگ کا شوق رکھتے ہیں، تو ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کریں کیونکہ بہت سے سیاح بھی اسے ایک بہترین کیمپنگ اسپاٹ سمجھتے ہیں۔ ہوٹلنگ سے زیادہ کیمپنگ کے لیے سازگار ہونے کی وجہ سے، آپ کو یہاں رہائش کی دیگر سہولیات بھی باآسانی ملتی ہیں۔ شونٹر جھیل چھوٹی ہو سکتی ہے لیکن اگر آپ کیل سے جیپ پر سوار ہوں تو یہ ضرور دیکھنے کے قابل ہے۔ مجموعی طور پر، اس علاقے کا شاندار جغرافیہ اسے آزاد کشمیر کے سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔

    یہاں تک پڑھ کر یقیناً اب جب کہ آپ آزاد کشمیر کی دیوانی خوبصورتی سے مغلوب ہو چکے ہونگے، تو اپنی اگلی چھٹی کا منصوبہ بناتے وقت ان دس جگہوں کی ترتیب بنالیں اور اب سے الٹی گنتی شمار کرنا شروع کردیں۔ ان تمام مقامات کا تصور کریں اور پھر اگر آپ ان سب کا حقیقی تجربہ کر لیں تو ساری عمر آپ اس خمار سے باہر نہیں نکل سکیں گے کہ آپ نے جیتے جی جنت نظیر خطہ دیکھ لیا۔

  • ڈیڑھ ارب روپے میں فروخت ہونے والا گلدان

    ڈیڑھ ارب روپے میں فروخت ہونے والا گلدان

    فرانس میں ایک نیلامی کے دوران ڈیٹڑھ ارب روپے میں فروخت ہونے والے گلدن نے سب کو دنگ کر دیا-

    باغی ٹی وی : خبر ایجنسی کے مطابق فرانس میں ایک عام چینی گلدان نیلامی کے لیے رکھا گیا تھا جس کی قیمت کا تخمینہ 2 ہزار یورو (4 لاکھ 46 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) لگایا گیا تھا مگر وہ حیران کن طور پر77 لاکھ یورو (ایک ارب 71 کروڑ 90 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت ہوا جسے چینی شہری نے خریدا-

    سیلاب:اقوام متحدہ نے پاکستان کیلئے انسانی امداد کی اپیل میں 5 گنا اضافہ کر دیا

    یعنی اپنی قیمت سے لگ بھگ 4 ہزار گنا زیادہ قیمت پرفروخت ہوا،جبکہ نیلام گھر کی فیس کے ساتھ یہ قیمت 91 لاکھ یورو (2 ارب پاکستانی روپے سے زائد) ہوجائے گی۔

    تیانکیوپنگ طرز کا چینی مٹی کا بنا یہ گلدان ایک خاتون نے نیلامی کے لیے پیش کیا تھا جو اسے آنجہانی والدہ کی وراثت میں ملا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے کبھی گلدان کو دیکھا بھی نہیں تھا اس خاتون نے اسے پیرس کے ایک نیلام گھر میں فروخت کے لیے پیش کیا تھا۔

    ٹرمپ نےسی این این کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکردیا

    خاتون نے نیلام گھر کے ماہرین کو بتایا تھا کہ یہ گلدان بنیادی طور پر اس کی نانی کا تھا اور نیلامی کے دوران اسے خریدنے کے لیے 30 افراد کے درمیان جنگ ہوئی ماہرین کے مطابق یہ گلدان 20 ویں صدی میں بنا تھا اور بہت عام ہے۔

    مگر جب اسے نیلام گھر رکھا گیا تو لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا اور چینی شہری اسے تاریخی سمجھ کر آتے رہے، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ قدیم گلدان نہیں تھا-

    عمرہ زائرین 3 ماہ تک سعودی عرب میں قیام کرسکیں گے، بزرگ افراد کی سہولت کیلئے…

  • ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ٹوئٹر نے ستمبر 2022 میں ٹوئٹس ایڈٹ کرنے کے بٹن کی آزمائش شروع کی تھی اور اب یہ فیچر صارفین کو دستیاب ہے۔

    باغی ٹی وی : کمپنی کی پیڈ سروس ٹوئٹر بلیو کے سبسکرائبرزکو اس تک رسائی دی گئی ہے،کمپنی کےمطابق ٹوئٹر بلیو کے کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے صارفین اب اس فیچر کو استعمال کرسکتے ہیں، البتہ ابھی اسے امریکا میں متعارف نہیں کرایا گیا۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980429814759424?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    کمپنی نے یہ نہیں بتایا گیا کہ عام صارفین کے لیے یہ فیچر بھی مستقبل قریب میں اس فیچر کو متعارف کرایا جاسکتا ہے یا نہیں-

    کمپنی کے مطابق ٹوئٹ پوسٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اسے ایڈٹ کیا جاسکے گا ،ایڈٹ کیے جانے والے ٹوئٹس ٹائم اسٹیمپ اور لیبل کے ساتھ نظر آئیں گے جس سے پڑھنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ اوریجنل ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا گیا ہے۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980459002609674?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    ایڈٹ بٹن متعارف کرائے جانے کے بعد سب سے پہلے یہ سہولت ٹوئٹر بلیو کے صارفین کو دستیاب ہوئی کمپنی کا 4.99 ڈالر پریمیئم پلیٹ فارم ہے جہاں ٹوئٹس کا واپس لیا جانا، اشتہارات کے بغیر آرٹیکل جیسے دیگر تازہ ترین فیچر تک رسائی ہوتی ہے۔

    پہلی ترمیم شدہ ٹویٹ ٹویٹر کی پریمیم سروس ٹویٹر بلیو کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ، جو نیا فیچر حاصل کرنے والا بھی پہلا اکاؤنٹ ہے اگرچہ ابھی تک اس بارے میں واضح نہیں ہے کہ ترمیم کا بٹن کب آ رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹر عوامی طور پر اس کی جانچ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ جلد ہی ہو گا۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980495552114688?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    کمپنی کی جانب سے رواں سال کے ابتداء میں اعلان کیا گیا تھا کہ ایڈٹ بٹن اس سال ستمبر میں جاری کردیا جائے گا، خیال رہے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور متعدد دیگر پلیٹ فارمز میں اس طرح کا فیچر کافی عرصے سے موجود ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان : سویٹ ہوم میں الفلاح فاونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ، فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا

    ڈیرہ غازیخان : سویٹ ہوم میں الفلاح فاونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ، فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا

    باغی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان ( شہزادخان نامہ نگار)سویٹ ہوم میں الفلاح فاونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ، فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا
    تفصیل کے مطابق سویٹ ہوم گیلانی والا نزد گورنمنٹ پولٹری فارم ڈیرہ غازی خان میں الفلاح فاونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ضلع ڈیرہ غازی خان، ضلع راجن پور اور بلوچستان کے ملحقہ شدید سیلاب زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے یتیم بچوں کے لئے گذشتہ روز فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا ۔ میڈیکل کیمپ کے ذریعے سے تقریبا 80 سے زیادہ یتیم بچوں کا علاج کیا گیا ۔ آئی سپیشلسٹ نے بچوں کے آنکھوں کا معائنہ کیا اور ان کی ادویات دیں ،سکن سپیشلسٹ نے بچوں کے جلدی امراض کا معائنہ کیا اور جنرل سرجن نے سرجری کے متعلق بچوں کا میڈیکل چیک اپ کیا۔ تمام امراض کے ادویات فری تقسیم کی گئیں۔