طارق محمود باجوہ ایک عوامی لیڈر
باغی ٹی وی : صفدر آباد (رانا شہباز نثار) سابقہ MPA طارق محمود باجوہ جو کہ پچھلے دور میں صفدر آباد ،سانگلہ ہل،شاہکوٹ اور ضلع ننکانہ صاحب کے مضبوط سیاسی لیڈر لیڈر ثابت حہوئے جو کہ دو مرتبہ ایک دفعہ ن لیگ کے نشان پر اور ایک دفعہ خرگوش کے نشان پر ایم پی اے منتخب ہوئے اور اپنے تمام شہروں جن میں صفدر آباد،سانگہ ہل، شاہکوٹ سے چیئرمین میونسپل کمیٹی اور ضلعی چیئرمین ننکانہ صاحب بھی اپنے منتخب کروائے اور 2018 کے الیکشن میں NA118 سے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور ن لیگ کے امیدوار برجیس طاہر کے71891ووٹ کے مقابلے میں 68995 ووٹ حاصل کئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کے باوجود پی ٹی آئی کے امیدوار 66994 ووٹ لے سکے۔ طارق محمود باجوہ صاحب نے رواں ماہ ہی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی جن کی شمولیت نے علاقائی سیاست کا رخ ہی تبدیل کر دیا اور جہاں پر طارق محمود باجوہ کی شمولیت سے ضلع ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کی پوزیشن مضبوط ہوئی ساتھ ہی حلقہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر مقابلہ بھی شروع ہو گیا اور پی ٹی آئی پارٹی بھی تقسیم ہو گئی تھی لیکن طارق محمود باجوہ صاحب نے کہا ہے کہ پارٹی جوائن کرنے کا مطلب پارٹی کے فیصلے پر سر جھکانا ہے ٹکٹ نہ ملی تو انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا، پی ٹی آئی کے تمام دھڑوں کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں سب مل کر عمران خان کے ہاتھ مضبوط کریں، آپسی اختلاف کا کوئی فائدہ نہیں، وہ سانگلہ ہل میں اپنے ڈیرے پر صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے.
میں یہاں پر بتاتا چلوں کہ طارق باجوہ اپنے حلقہ کی عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور ان کو ملنے کے لیے کسی ٹاؤٹ یا ٹائم لینے کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی ان عام آدمی بھی ڈائریکٹ جا کر مل لیتا ہے اور اپنا کام کروا لیتا ہے اور شاید اسی وجہ سے حلقہ کی عوام نے 2018 کے الیکشن میں آزاد حیثیت سے بھاری اکثریت میں ووٹ دے کر ثابت کر دیا کہ باجوہ صاحب کو کسی پارٹی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ پارٹیوں کو باجوہ صاحب کی ضرورت ہے اور پی ٹی آئی میں شمولیت سے ننکانہ صاحب سے پی ٹی آئی کی جیت یقینی ہو گئی ہے اور جہاں تک پارٹی ٹکٹ کے لئے اختلافات کی فضاء پیدا ہو رہی تھی تو باجوہ صاحب کے ٹکٹ کے حوالے سے اس بیان پر پارٹی میں اختلاف بھی ختم ہو جائیں گے۔
Category: بلاگ
-

طارق محمود باجوہ ایک عوامی لیڈر
-

عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور آئین پاکستان
عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور آئین پاکستان
تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ
کلمہ طیبہ کے نام پربننے والی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنے وجود کے پہلے30 سال تک انتہائی گھمبیر مسائل کا شکار رہی جہاں ایک طرف بنگلہ دیش کی صورت میں ملک دولخت ہوگیا تو دوسری جانب قادیانی / احمدی جماعت کی وجہ سے ختم نبوت ﷺ جیسے عظیم عقیدہ پر مسلمانان پاکستان کی ناختم ہونے والی بے چینی۔مملکت میں آئے روز فسادات، قتل و غارت جیسے واقعات ہوئے۔ حد تو یہ تھی کہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کی پیروی کرنے کی پاداش میں اسلامی ریاست پاکستان میں خود صحیح العقیدہ مسلمانوں کو ہی قید و بند کی صعوبیتں برداشت کرنا پڑیں۔ یہاں تک کہ جیدء علماء کرام کو پھانسی کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔بالآخر ماہ ستمبر 1974 میں پارلیمنٹ کی جانب سے آئین پاکستان میں متفقہ طور پر ترمیم کرکے اس مسئلے کو ابدی طورپر حل کردیا گیا۔ پاکستان میں عقیدہ نبوت ﷺ اور تحریک ختم نبوت ﷺ پر بہت کچھ لکھا گیابہت کچھ سنایا گیا۔ بندہ ناچیز اپنی اس تحریر میں ریاست پاکستان کے آئین و قانون کی روشنی میں ختم نبوت ﷺ پر چند معروضات پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔پاکستان کے تمام مسلمانوں کے لئے آئین و قانون میں درج ان معلومات بارے آگاہی بہت ضروری ہے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل1 (1) کے مطابق: مملکت پاکستان اک جمہوریہ ہوگی جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 2 کے مطابق: اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 2 (a) کے مطابق: قراد داد مقاصد 1949 کو آئین پاکستان کا preamble یعنی تمہیدبنا دیا گیا۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 (3) (a) کے مطابق: مسلمان کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
”مسلما ن“ سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدت و توحیدقادر مطلق اللہ تبارک تعالیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہواور ایک نبی یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہواور نہ اسے مانتا ہوجس نے حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبرہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 (3) (b) کے مطابق:غیر مسلم کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
”غیر مسلم“ سے ایسا شخص مراد ہے جو مسلمان نہ اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ،بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخصی یا کوئی بہائی، اور کسی درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔
آئین پاکستان میں ختم نبوت ﷺ اور مسلمان کی واضح تعریف کے بعد کس بھی قسم کے غیر آئینی اقدام کی روک تھام کے لئے مجموعہ تعریزات پاکستان یعنی پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 میں 1984 میں ایک آرڈیننس کے تحت ترمیم کی گئی۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (B) (1) کے مطابق:قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی بھی فرد (جو اپنے آپ کو ‘احمدی’ کہتے ہیں یا کسی دوسرے نام سے جو الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا لکھے، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے درج ذیل افعال کرے:
(الف) حضرت محمد ﷺ کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی بھی شخص کو ”امیر المومنین”، ”خلیفۃ المومنین”، خلیفۃ المسلمین”، ”صحابی” یا ”رضی اللہ عنہ ” کے طور پر منسوب یا مخاطب کرے۔
(ب) حضرت محمد ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ کے علاوہ کسی ذات کو ”ام المومنین” کے طور پر منسوب یا یا مخاطب کرے۔
(ج) حضرت محمد ﷺ کے خاندان ”اہل بیت” کے کسی فرد کے علاوہ کسی بھی فرد کو ”اہل بیت” کے طور پر منسوب یا مخاطب کرے۔
)د) اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد” کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
درج بالا جرائم کی صورت میں اس شخص کو قید کی سزا دی جائے گی جو کہ تین سال تک ہو سکتی ہے، اور جرمانے کے قابل بھی ہو گا۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (B) (2) کے مطابق:قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی بھی فرد (جو اپنے آپ کو ”احمدی” یا کسی اور نام سے پکارتا ہے) جو الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا لکھے، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے، اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں۔ اسے دونوں میں سے کسی ایک صورت میں قید کی سزا دی جائے گی جو کہ تین سال تک ہو سکتی ہے، اور جرمانے کے قابل بھی ہو گا۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (C) کے مطابق:قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کا کوئی فرد (جو اپنے آپ کو ‘احمدی’ یا کسی اور نام سے پکارتا ہے)، جو بالواسطہ یا بلاواسطہ خود کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے، یا اپنے عقیدے کو اسلام کہتا ہے، یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرتا ہے یا اس کی تبلیغ کرتا ہے، یا دوسروں کو اپنے عقیدے کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے، الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا تحریری، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے، یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی صورت میں کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی مدت تین سال تک ہو سکتی ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
اللہ کریم ہم سب کو پکا سچا مسلمان بنائے اور زندگی کے آخری سانس تک عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر قائم دائم اور اس عقیدہ کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین -

دلہہ ایک واری فِر لمبر لے گیا۔۔۔!!!
دلہہ ایک واری فِر لمبر لے گیا۔۔۔!!!
تحریر: شوکت ملک
پاکستان تحریک انصاف کے چکوال سے رکن قومی اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان دلہہ جو کہ اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے کافی مشہور اور اکثر خبروں میں رہتے ہیں، موصوف کا ضلعی افسران سے اکثر مختلف معاملات پر تنازعہ رہتا ہے، کبھی اے سی سے پھڈا تو کبھی ڈی سی اور ڈی پی او سے ان کو مسئلہ رہتا ہے، گزشتہ روز تلہ گنگ پبلک سیکرٹریٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے تنظیمی عہدے داران کی مشاورتی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے موصوف نے ڈی پی او چکوال کی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ تبدیل نہ ہونے کی صورت میں ڈی پی او آفس کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی دے کر خبروں میں ایک بار پھر دبنگ انٹری دی ہے، رکن قومی اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کا 25 مئی آزادی مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جس طرح ڈی پی او چکوال نے پارٹی بن کر پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداران و کارکنان کی گرفتاریاں عمل میں لاکر ظلم و زیادتیوں کی داستان رقم کی ہے اس کو ہم کبھی نہیں بھولیں گے، ان کا کہنا تھا کہ 19 ستمبر کو ہونے والے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے چکوال جلسہ سے قبل اگر ڈی پی او چکوال کا تبادلہ نہ کیا گیا تو کارکنان کے ہمراہ ڈی پی او آفس کا گھیراؤ کریں گے، موصوف کا مذکورہ بیان ایک سیاسی لیڈر کی حیثیت سے شاید نامناسب ہوگا لیکن اگر مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو ان کا مطالبہ جائز لگتا ہے، ڈی پی او چکوال محمد بن اشرف کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو موصوف کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، چکوال میں چوری اور ڈکیتی کی ریکارڈ وارداتیں ہوئیں، قتل کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا، مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال انتہائی غیر تسلی بخش رہی، ڈی پی او چکوال کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی حلقوں نے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کی مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے ڈی پی او چکوال کے تبادلے کی حمایت کر دی ہے، باوثوق ذرائع کے مطابق ڈی پی او چکوال کے تبادلے کی گونج ایوانِ وزیر اعلیٰ تک پہنچ چکی ہے اگلے چند روز میں ڈی پی او چکوال کا تبادلہ متوقع ہے، تاہم ڈی پی او چکوال کے تبادلے کے صورت میں دلہہ ایک واری فِر لمبر لینے میں کامیاب ہو جائے گا-

-

سوراخ والا برتن!!! — عمر یوسف
ہمارے معزز وزیر اعظم بلوچستان کا دورہ کرتے ہیں اور آفت زدہ لوگوں کے دکھ میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ فرط جذبات میں ان کے ہر فوت شدہ کے بدلے دس لاکھ دینے کا اعلان کردیتے ہیں ۔
بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور دکھیاروں ، غم کے ماروں ، آفت زدہ اور مصیبت زدہ لوگوں کو کچھ نہ کچھ سہارا ہوگا ۔
فائدے کی بات کریں تو راقم الحروف کو بھی فوائد کا انکار نہیں ۔
لیکن بنظر دقیق دیکھیں تو یہ فیصلہ ایک صاحب عقل کے نزدیک ناقص اور ادھورا ہے ۔
سیلاب زدگان جن علاقوں میں رہائش پذیر تھے وہ علاقے ریڈ زون کہلاتے ہیں ۔
اور امراء کی جانب سے بارہا ان لوگوں کو سیلاب سے پہلے ہی وارننگ کے طور پر علاقے خالی کرنے کا کہا گیا ۔
لیکن عمل در آمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال پیش آئی ۔
یہاں پر یہ عرض کیے دیتا ہوں کہ سیلاب زدگان کو قصور وار بالکل نہیں ٹھہرایا جارہا کیونکہ غربت کے مارے لوگوں کا اتنی جلدی نقل مکانی کے اسباب پیدا کرنا بھی ممکن نہیں ہے ۔
ہماری وفاقی حکومت اگر واقعی ان دکھیارے لوگوں کا سہارا بننا چاہتی ہے تو چاہیے کہ پہلے تو ڈیموں کی کمی پوری کی جائے تاکہ نہ صرف سیلاب زدگان کو آئندہ پھر سے ان مشکل حالات سے دوچار نہ ہونا پڑے بلکہ وطن عزیز کو بھی خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں ۔
اور دوسرا یہ کہ دریائی علاقے جہاں ہر بارشی سلسلے پر تحفظات حاصل ہیں اس کے متبادل جگہ ان سیلاب زدگان کو دی جائے تاکہ ہر سال یہ تباہیوں کا سلسلہ ختم ہو ۔
اب جو امداد دی جارہی ہے اس سے یہ ہوگا کہ پانی کا بہاو تھم جانے کے بعد یہ لوگ اسی جگہ پر تعمیرات شروع کردیں گے ۔ نہ ڈیم بنائے جائیں گے نہ ریڈ زون ایریاز خالی کروائے جائیں گے اگلے سال مون سون کی بارشیں ہونگی دریاوں کا پانی بڑھ جائے گا پھر سیلاب آئے گا تباہی ہوگی موتیں ہونگیں امداد کے اعلان ہونگے ۔
گویا یہ ایسا برتن ہے جس کے نیچے سوراخ ہے جتنا مرضی اس میں اناج ڈالا جائے یہ پھر خالی ہی رہے گا ۔
-

چھٹی حس — عبداللہ سیال
اگلے وقتوں میں کہیں کوئی "چھٹی حس” رہتی تھی. وہ وہاں زمانے کے طور طریقوں سے قدم قدم پر ٹکر لیتی تھی. مثلا صنفِ نازک ہونے کے باوجود وہ ایک بات کو سترہ جملوں میں بولنے کے بجائے اشاروں کنایوں سے کام لیا کرتی تھی. عقل کا سہارا تھی. نوجوان عقل چونکہ بالغ نہیں تھی، اسی لیے "چھٹی حس” سے کتراتی تھی، البتہ بوڑھی عقل "چھٹی حس” سے وقتاً فوقتاً کام لیتی رہتی تھی.
ایک بار ایک آدمی، جس کے دماغ میں عقل طفلی نے بسیرا کر رکھا تھا، کا ایک جنگل سے گزر ہوا. اچانک رات کے سناٹے میں کچھ عجیب آوازیں سنائی دینے لگیں. "چھٹی حس” جو اب تک بے ہوش تھی، فوراً ہوش میں آئی، اردگرد بھاگنے لگی اور واپس آکر عقل طفلی کو کسی اجنبی شہنشاہِ جنگل کی متوقع آمد سے آگاہ کیا مگر عقل طفلی تو ٹھہری عقل کی دشمن… اس نے کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹانگوں کو مذکورہ سمت چلنے کی ہدایت کر دی. اب شیر تو بیٹھا ہی اسی تاک میں تھا کہ یہ قدم بڑھائے اور میں اس کی بوٹی بوٹی کا مزہ لوں. چنانچہ چند قدم بڑھتے ہی شیر اور آدمی آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کی ماسیوں کا حال احوال بوچھنے کی ناکام کوشش کرنے لگے. ایک بار پھر "چھٹی حس” چلائی، "بھائی مانا کہ تیرے رشتے دار عجیب ہیں مگر یہ تیرا خالہ زاد نہیں ہے. یہ شیر ہے شیر. اس سے بچ…”
عقل َطفلی مگر کہاں ماننے والی تھی… سو زبان کو حکم دیا کہ "یہ شیر ہے تو میں سوا شیر ہوں. یہ سوا شیر ہے تو میں ساڑھے شیر ہوں.” بولے. زبان نے حکم کی تعمیل کی ہی تھی کہ شیر پورا منہ کھول کر دھاڑا. آدمی کا آدھ پاؤ کے بقدر دل حلق میں آکر اچھلنے لگا. یوں عقل طفلی کو خطرے کا احساس ہوا اور وہ "چھٹی حس” کو مدد کیلئے پکارنے لگی مگر اب اس کا کام تو ختم ہوچکا تھا. خیر "چھٹی حس” کو عقل طفلی پر رحم آیا اور وہ راہ فرار سوچنے لگی. شیر نے بوریت بھری جمائی لی. اس کو یقین تھا کہ اب تو چاہے لڑکیاں پانچ منٹ میں میک اپ کرلیں یعنی سورج مغرب سے طلوع ہوجائے، وہ اس آدمی کی ہڈیوں سے یخنی بنا کر مردانہ کمزوری کا علاج کر ہی لے گا. (اس بات کا غالب امکان ہے کہ شیر کو یہ مشورہ شیروں کی بستی میں مقیم "چھٹی حس” نے دیا ہو.)انسانی "چھٹی حس” کیلئے اتنی مہلت کافی تھی. اس نے فٹافٹ آدمی کے کانوں میں سرگوشی کی، "ہوسکتا ہے یہ شیر غیرت مند ہو، اس کو غیرت دلا کر دیکھو، جان بچ سکتی ہے.”
عقل طفلی نے فوراً قوت گویائی سے کام لیتے ہوا کہا…
"جنگل کے بادشاہ ہوکر بھی ننگے پھرتے ہو. ایسی بادشاہت کا کیا فائدہ جو ستر کو بمع چند کمزوریاں ظاہر کرے.”
بس بادشاہ صاحب "چھٹی حس” کی چالاکی کی تاب نہ لا سکے اور قبل اس کے کہ آدھ پاؤ دل کی دھڑکن رکتی، وہاں سے چل دیے.
"چھٹی حس” اپنی چالاکیوں کے باعث بستی میں مشہور ہوگئی. اس کی سہیلیاں اس کی چیلیاں بن گئیں. یوں ہر شخص اپنے تھیلے میں” چھٹی حس” لیے پھرتا اور حسبِ ضرورت مدد لے لیتا.
ایک بار ایک عاشق نے محبوبہ سے کہا، "پہلے کی نسبت اب تم میں وہ خوبصورت دوشیزہ نہیں رہی. جان من اب من سے دو من ہوگئی ہو. غالباً کمر سے کمرہ کہنا غلط نہ ہوگا.”
بس پھر کیا تھا. محبوبہ کے بھاری بھرکم وجود میں آگ بھڑک اٹھی. قبل اس کے کہ وہ عاشق کا سر پھاڑ دیتی، "چھٹی حس” نے تھیلے سے باہر جھانکتے ہوئے عاشق کو اس کی چرب زبانی کا احساس دلایا اور سدباب کا مشورہ دیا. عاشق فوراً رومانوی انداز میں گویا ہوا،
"جان من! ناراض کیوں ہوتی ہو؟ سنو، ماں اپنے بیٹے کو چاند کہتی اور بیٹی کو الف کے اضافے سے چندا کہتی ہے. اسی طرح بیٹے کو اگر قمر کہیں تو بیٹی کو قمرا کہیں گے.اس تناظر میں جب تمہیں کوئی کمرہ (قمرا) کہے تو یقین مانو اس سے مراد چاند ہوتا ہے. یہ تنقید نہیں ہے بلکہ تعریف ہے.”
محبوبہ فوراً بولی، "مگر کمرہ میں ‘ک’ آتا ہے اور قمرا میں ‘ق’.”
"چھٹی حس” کے لیے یہ سوال متوقع تھا. سو جواب یوں بنا…..
"ق سے قینچی بنتی ہے، ک سے کتی بنتی ہے. دونوں کا کام کاٹنا ہوتا ہے. سو دونوں ایک ہی چیز ہیں.” محبوبہ مطمئن ہوگئی اور "چھٹی حس” نے ایک اور عاشق کو ناکام عاشق یعنی انجنئیر بننے سے بچا لیا.
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ "چھٹی حس” نہ صرف مشکلات میں بلکہ موزوں حالات میں بھی مدد کرنے لگی. سردیوں میں کسی غیر محرم کے ہاتھوں آم لینے سے گرمیوں میں اسی غیر محرم سے مالٹے پکڑنے تک، بہار میں اخلاق سے عاری پتوں سے لے کر خزاں میں کاغذی پھولوں کے حصول تک، ہر جگہ "چھٹی حس” مذکورہ شخص کو متنبہ کرتی رہی.
ابتدائے آفرینش سے یہ بات دنیا کے ماتھے پر لکھ دی گئی تھی کہ اس دنیا میں دو چیزیں کبھی نہیں آئیں گی، ایک بھٹو کی موت اور دوسرا "چھٹی حس” کا بڑھاپا. چنانچہ آج بھی "چھٹی حس” جوں کی توں زندہ و جاوید ہے اور اپنے کام میں مصروف ہے.
ابھی پچھلے دنوں میں اپنے پانچ سالہ بھتیجے کو "ڈاکٹر مار دھاڑ” کے پاس لے گیا. ہرچند کہ میں نے بھتیجے کی "چھٹی حس” کا تھیلا گھر رکھ کے جانا چاہا مگر وہ نہ مانا. خیر ڈاکٹر نے تفصیلی معائنہ کرکے مجھ سے اکیلے میں بات کرنا چاہی. میری "چھٹی حس” نے فوراً میرے بھتیجے میں کسی بچگانہ کمزوری کی موجودگی کا عندیہ دیا.
خیر استفسار پر ڈاکتر مار دھاڑ نے بتایا کہ بھتیجے میں ‘وٹامن پٹائ’ کی کمی ہے. اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو ایک ‘ٹیکۂ چماٹ’ لگایا جائے. گفتگو کے دوران ہی بھتیجا وہیں آ دھمکا اور ہماری اشکال دیکھ کر اس کی "چھٹی حس” نے فوراً اس کو طریقۂ علاج سے آگاہ کیا. صورتحال بھانپتے ہی بچے نے رونے میں عافیت جانی اور اس قدر زور سے چلایا کہ ہسپتال سے ملحقہ قبرستان میں مردے اٹھ کھڑے ہوئے، گویا کہ قیامت آگئی ہو. اس کے علاوہ اس ایٹمی چیخ کا نتیجہ یہ نکلا کہ چاروں اطراف میں چار چار کلومیٹر تک بھینسوں کے تھن سوکھ گئے، مجبوراً گوالوں کو خود دودھ دینا پڑا. اگر ان گوالوں نے یہ دودھ چالیس پچاس برس قبل دیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اس کو پینے والے آج سیاستدان ہیں…آج کل یہ پینے والے زنانہ مرد اور مردانہ عورتیں ہیں یعنی ٹک ٹاکرز ہیں.
میری "چھٹی حس” کا چھپکلیوں سے چھتیس کا آکڑا رہا ہے اور چھپکلیوں کا مجھ سے. ہرچند کہ متعدد بار چھپکلیوں کی نسل میں کمی کے واسطے اقدام کرچکا ہوں مگر وہ سب نر تھے. عورت پر ہاتھ اٹھانا ہماری تہذیب کے خلاف ہے لیکن بیوہ چھپکلیاں ہمیشہ مجھ سے بدلہ لینے آجاتی ہیں. یہ تو بھلا ہو میری "چھٹی حس” کا جو اس شر سے محفوظ رہنے میں مدد دیتی ہے.
ایک بار الماری میں ٹنگی شلوار نکال کر پہنی تو "چھٹی حس” نے کسی گڑبڑ کا اشارہ دیا. اچانک شلوار کی لمبائی پر سفر کرتے ہوئے پائنچے سے ایک آدھ پاؤ کی چھپکلی برآمد ہوئی. میرے ذہن میں خوف کے بجائے سوال پیدا ہوا کہ یہ باہر کیوں آگئی ہے؟ "چھٹی حس” نے فوراً جواب پیش کیا، "غالباً چھپکلی کو اس بات کا احساس ہوگیا ہوگا کہ جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی، اسی طرح ایک شلوار میں دو چھپکلیاں نہیں رہ سکتی…..”
سنا ہے کہ ایک مخصوص شاعرہ نے اپنی نوزائیدہ صنفِ شاعری کے دفاع میں اپنی "چھٹی حس” سے کام لیتے ہوئے اس کو "غزم” قرار دیا ہے. دراصل مجھے نظم و غزل کے اس ملاپ پر کوئی اعتراض نہیں ہے. البتہ میرا مشورہ ہے کہ غزم کی بجائے نظم کے ‘ن’ اور غزل کے ‘زل’ کا ملاپ کروا کر نئی صنفِ شاعری کو "نزل” کا نام دیا جائے. اس کی وجہ یہ ہے کہ نزل، نزول، انزال ایک ہی شاخ کے الفاظ ہیں. اس لیے جب مخصوص شاعرہ کو "چھٹی حس” کے ذریعے آمد ہوگی اور دو منٹ میں "نزل” تیار ہوجائے گی تو وہ یہ کہہ سکیں گی کہ مجھے ‘سرعت انزال’ ہوتا ہے.
کہتے ہیں ‘حس مزاح’ ہی "چھٹی حس” ہوتی ہے. میں نے بھی اپنی "چھٹی حس” کو اچھی طرح برتا ہے اور اب میری "چھٹی حس” کہہ رہی کہ کوئی بھی حریف میری "چھٹی حس”کو مات نہیں دے سکتا. واللہ اعلم…!
-

پیسوں کے شوقین جن — شہنیلہ بیلگم والا
یہ دونوں واقعات سچے ہیں اور قریبی جاننے والوں کے گھروں میں ہوئے ہیں. یہ دونوں واقعات آج سے تقریباً پندرہ سے بیس سال پہلے پیش آئے تھے.
پہلا واقعہ؛
یہ ایک پاکستانی فیملی ہے جو امارات میں برسوں سے مقیم ہے. صاحب خانہ ایک کامیاب کاروباری ہیں. شدید مصروف رہتے ہیں اور اس لیے گھر اور بچے تقریباً بیگم کی ہی زمہ داری ہیں. بیگم اوسط درجے سے بھی کم پڑھی لکھی ہیں. یہ جس وقت کی بات ہے اس وقت سوشل میڈیا نہیں تھا لیکن کیبل زوروں پر تھا. والدہ کا زیادہ تر وقت کیبل دیکھنے اور فون پہ سہیلیوں اور بہنوں سے لمبی لمبی گفتگو میں صرف ہوتا تھا. بچے پڑھنے میں کافی نالائق تھے. جس کا سدباب ٹیوشن بھیج کر دیا گیا تھا. بچے صبح سات سے رات سات بجے تک گھر سے باہر ہی ہوتے تھے. کچھ عرصہ پہلے خاتون خانہ ایک درس والی باجی سے متاثر ہوگئی تھیں اور ہر منگل کی صبح باقاعدگی سے درس اٹینڈ کرتی تھیں. چونکہ امارات میں چوری چکاری کا مسئلہ نہیں اس لیے بیشتر خواتین کی طرح انہوں نے بھی اپنا زیور گھر پہ ہی رکھا تھا.
ایک دن انہوں نے مجھے کال کی اور پوچھا کہ بھابھی آپ میرے گھر آئی ہوئی ہیں. کیا آپ کو میرے گھر کی دہلیز بھاری لگی ہے؟؟
پہلی بات تو مجھے یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی. لیکن اپنی عقل کے مطابق میں نے کہہ دیا کہ مجھے تو آپ گھر میں کوئی بھاری یا طبیعت مکدر کرنے والی فیلنگز نہیں ہوئیں. میں نے پوچھا کہ خیریت ہے یہ بات آپ کیوں کر رہی ہیں. کہنے لگیں کہ پچھلے کچھ دنوں سے مجھے لگ رہا تھا کہ میرے پیسے کم ہو رہے ہیں. لیکن رقم اتنی معمولی ہوتی تھی کہ میں ہمیشہ یہی سمجھی کہ مجھ سے گننے میں غلطی ہوئی ہے. لیکن اب معاملہ بڑھ چکا ہے. کبھی پچاس درہم کبھی سو درہم. لیکن چار دن سے میری ایک انگوٹھی نہیں مل رہی. پورا گھر چھان مارا. درس والی باجی سے ذکر کیا تو وہ کہتی ہیں کہ یہ شیطان جنوں کی کارستانی ہے. چونکہ میرا علم اس معاملہ میں صفر ہے تو میں چپکی ہو رہی.دوسرے ہفتے کہنے لگیں کہ بھابھی اب تو بالیاں اور چین بھی غائب ہیں. میں نے اب تک اپنے شوہر سے سب کچھ چھپایا ہوا ہے. کیا کروں انہیں بتا دوں. میں نے کہا آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا.
صاحب خانہ کے علم میں جب بات آئی تو انہوں نے بچوں سے پوچھ گچھ کی جس پہ بچوں کی والدہ شدید ناراض ہوئیں. لیکن اتفاق سے کچھ دنوں بعد والد صاحب نے اپنے دونوں بڑے بیٹوں کو پیزہ ہٹ میں دوستوں کے ساتھ دعوت اڑاتے دیکھ لیا. والد صاحب نے بچوں کے دوستوں پہ ذرا سی سختی کی اور کہا کہ ابھی تمہارے ابو کو فون کرتا ہوں تو پتا چلا کہ یہ سب عیاشی ان کے دو بڑے بیٹے کرواتے ہیں. اکثر ٹیوشن کی چھٹی کر کے وڈیو گیمز کی شاپس، کبھی سینیما اور مختلف ریسٹورنٹس میں دعوتیں اڑائی جاتی ہیں. بچوں کی تسلی بخش مرمت کرنے کے بعد ان کو پاکستان میں کسی کیڈٹ اسکول میں بھیج دیا گیا اور سارا زیور لاکر میں رکھوا دیا گیا.
دوسری کہانی ایک انڈین فیملی کی ہے. یہ ایک جوائنٹ فیملی ہے. جس میں والدہ اپنے دو بیٹوں کی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں. بڑی بہو کی تین اور چھوٹی بہو کی چار بیٹیاں ہیں. ماں اور بیٹوں کو اولاد نرینہ کی شدید خواہش ہے جو پوری نہ ہونے پہ ساری فرسٹریشن بہو اور پوتیوں پہ نکلتی ہے. گھر کا سارا نظام ساس کے ہاتھ میں ہے. بہو اور پوتیوں کو نیچے سپر مارکیٹ جا کر ایک درہم خرچ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے. دونوں بہویں صبح سے رات تک کام کرتی رہتی ہیں.
ایک تقریب میں مجھے ان کی ساس ملیں تو کہنے لگیں کہ ہم گھر شفٹ کر رہے ہیں. بہویں اور پوتیاں کہتے ہیں کہ ہمیں اس گھر میں سائے نظر آتے ہیں. دونوں بہویں باری باری بیمار پڑ جاتی ہیں. جب بھی پورے گھر کی صفائی کا پروگرام بنتا ہے تو دونوں کو چکر آنے لگتے ہیں. کبھی کبھی تو دونوں نیند میں سے ڈر کر اٹھ جاتی ہیں. تینوں بڑی پوتیاں بھی کہتی ہیں کہ ہمیں چھوٹے بچے نظر آتے ہیں جو ہمارے گھر کے نہیں. اب تو میرے دوپٹے کے پلو سے پیسے بھی کم ہونے لگے ہیں بلکہ گھر میں تین چار بار چاکلیٹس بھی ملے جن میں نیچے والی سپر مارکیٹ کے اسٹیکر لگے ہوئے تھے. اس لیے ہم دوسری جگہ منتقل ہو رہے ہیں.
پانچ چھ مہینے بعد ملیں تو سخت پریشان تھیں. کہنے لگیں نئے گھر میں جن ساتھ ہی آگئے ہیں. مجھے میری بہویں کہہ رہی ہیں کہ آپ انڈیا میں اپنے پیر صاحب کے پاس چند مہینے رہ کر دعا کر کے آئیں. اسی طرح ان سے نجات ملے گی. میں بھی یہی سوچ رہی ہوں. بیٹا تم بھی میرے لیے دعا کرنا.
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور جنوں کی معاملہ فہمی پر دل ہی دل میں داد دی.
-

ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان — سیدرا صدف
انگلستان سے ہوم سیریز اور ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حارث اور فخر زمان کو متبادل کھلاڑیوں جبکہ شان مسعود کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کیا گیا ہے۔۔شاہین آفریدی کی بھی واپسی ہوئی ہے۔.۔۔باقی اسکوڈ ایشیا کپ والا ہے۔۔
اندازہ ہے کہ فخر زمان زخمی نہیں ہیں۔۔۔دو ہی صورتیں ہیں۔۔۔شاید پی سی بی کی ہمت نہیں ہے انکو ڈراپ کرنے کی لہذا انجری کا بہانہ کر کے متبادل کھلاڑیوں میں رکھا گیا ہے۔۔۔ فخر زمان کو 15 رکنی اسکوڈ میں کسی کو دوبارہ زبردستی زخمی ظاہر کر کے بلا لیا جائے گا۔۔۔
یا ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں غیر تسلسل کارکردگی پر فخر زمان کو جتنا سپورٹ کرنا تھا کر لیا اور ٹیم منیجمنٹ بابر اور رضوان کے پیئر کو نہیں چھیڑنا چاہتی ہے۔۔۔اگر ماضی میں دیکھیں تو ہم نے اسٹار کھلاڑیوں کو خراب پرفارمنس پر ٹیم سے باہر ہوتے دیکھا ہے۔۔بعض کھلاڑی خود بھی کچھ وقت بریک لے لیتے تھے۔۔۔حال ہی میں بیڈ فارم سے دوچار کوہلی نے ذہنی طور پر فریش ہونے کے لیے بریک لی تھی۔۔۔ایسی سپورٹ کم دیکھی گئی ہے کہ کسی فارمیٹ میں کھلاڑی غیر تسلسل کارکردگی پر ڈراپ ہونے کی بجائے نئی پوزیشن پر آئے۔۔پھر دوسری پوزیشن پر بھی غیر تسلسل کارکردگی کے باوجود ناصرف لگاتار کھیلتا رہے بلک فین کلب کی بھرپور سپورٹ دوبارہ پہلی پوزیشن پر بحالی کے لیے بھی میسر ہو۔۔۔
باقی میرے خیال سے محمد حارث کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ورلڈکپ سے پہلے دو سیریز ہیں جس میں دو مختلف کمبینیشن ٹرائی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔پہلا کمبینیشن وہی ہے جو پچھلے لگ بھگ دو سال سے جاری ہے۔۔۔۔جبکہ دوسرے کمبینیشن میں محمد حارث اور بابراعظم بطور اوپنر ٹرائی کیے جا سکتے تھے۔۔۔رضوان اور شان مسعود مڈل آرڈر کا بوجھ اٹھاتے۔۔۔حیدر علی کو بھی انگلستان کے خلاف سیریز میں چانس دینا چاہیے۔۔۔
سلیکٹرز نے آصف , خوشدل اور افتخار پر بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔خوشدل اور آصف کوالٹی اسپنرز کے آگے گلی محلے کے لڑکے لگتے ہیں لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی اور آسٹریلین پچز پر اچھا کھیلیں گے۔۔۔
ورلڈکپ کے لیے توقع یہ ہی تھی کہ ایشیا کپ کھیلنے والے زیادہ تر کھلاڑی دوبارہ جگہ بنائیں گے۔۔۔ویسے ورلڈکپ سے عین پہلے زیادہ اکھاڑ پچھاڑ کا بھی فائدہ نہیں ہے۔۔۔
-

کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو
ڈاکٹر صاحب پانی کے موضوع پر ایک بہت عالم فاضل آدمی ہیں جنہیں میرے جیسا کم علم آدمی فیس بک پر پاکستان کے ڈیموں کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں ٹیگ ہونےسے پہلے نہیں جانتا تھا۔ ڈاکٹر حسن عباس صاحب کی باتیں سن کر شدید حیرت ہوئی اور میں نے سوشل میڈیا اور لنکڈ ان پر ان کو مزید کھوجا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ڈیم بیزار ایکسپرٹ ہیں اور پاکستان کے تمام دریاؤں پر ڈیم بنانے کے خلاف ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ طرز پر پاکستانی دریاؤں کی اپنی اصلی حالت میں بحالی چاہتے ہیں۔
ان کی اس خواہش پر ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ 2007 میں انٹرنیشنل سنٹر فار ہائیڈروپاور کی دعوت پر ناروے کے پن بجلی سیکٹر کو دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اندرون ملک پہاڑی جنگلی علاقوں میں منصوبوں کے وزٹ کے دوران بہت سی جھونپڑیاں بنی نظر آئیں تو اپنے کوآرڈی نیٹر سے اس بارے استفسار کیا۔ معلوم ہوا کہ شہرکے شور شرابے سے تنگ ناروے کی ایک بڑی کھاتی پیتی شہری آبادی کا محبوب مشغلہ ویک اینڈز پر ان جھونپڑیوں میں قدرتی ماحول میں بغیر بجلی، موبائل یا ٹی وی سیٹ کے وقت گزارنا ہے۔ لکڑیاں جلا کر کھانا پکانا ہے۔ چشمے سے پانی پینا ہے۔ یہ ایک اعلی درجے کی تفریح گردانی جاتی ہے۔
کوآرڈی نیٹر بتانے لگا کہ کچھ عرصہ پہلے عالمی ادارہ برائے پن بجلی کی دعوت پر انڈیا کے ایک بہت بڑے پروفیسر صاحب کو لیکچرز کے کئے مدعو کیا گیا جنہیں اوسلو کے ایک سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ ویک اینڈ پر ان کے لئے جنگل کاٹیج میں اعلی درجے کی تفریح کے لئے دودن کا انتظام کیا گیا ۔
واپسی پر پروفیسر کا بوتھا سوجا ہوا تھا۔پروفیسر صاحب سخت ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ویک اینڈ پر اوسلو کے شاپنگ مال اور نائٹ لائف سے لطف اٹھانا چاہتے تھے لیکن انہیں ایک دیہاتی کی طرح بغیر بجلی والی جھونپڑی میں بھیج دیا گیا۔
پروفیسر صاحب کا گلہ یہ تھا کہ کاٹیج والا ماحول تو ہم سارا سال اپنے ملک میں انجوائے کرتے ہیں چھ چھ گھنٹے روزانہ بجلی نہیں ہوتی۔ نہ گیس آتی ہے نہ نلکے سے پانی اور موبائل سگنل تو ہوتے ہی نہیں۔ ناروے میں تو میں آپ کی شہری زندگی کا مزہ لینا چاہتا تھا اور آپ نے مجھے جنگل میں پھینک دیا۔ میزبان شاکڈ
میں بھی ڈاکٹر صاحب کا انٹرویو سن کر سکتے کی حالت میں ہوں۔ اے بڑے بھائی ڈاکٹر صاحب۔ ہماری زیادہ تر آبادی تو پہلے ہی قدرتی ماحول میں رہتی ہے۔ ہم نے تو بڑی مشکل سے ورلڈ بنک کے تعاون سے اب تک صرف دو بڑے ڈیم بنائے ہیں۔
جن ممالک کی آپ مثالیں دے رہے ہیں وہ تو ہزاروں کی تعداد میں بڑے ڈیم بنا کر آدھی صدی سے زیادہ ان سے فائدہ اٹھا بیٹھے۔ انٹرنیشنل کمیشن آف لارج ڈیمز ICOLD کا ڈیم رجسٹر تو انہی ملکوں کے ڈیموں کے ناموں سے بھرا پڑا ہے اور اب یہ ملک ہمیں ڈیم نہ بنانے کے بھاشن دے رہے ہیں۔
پاکستان جیسا ملک جس کاسب سے زیادہ پانی مون سون میں ہی میسر ہوتا ہے اس کے پاس سال کے باقی مہینوں کے لئے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ اور کیا حل ہوسکتا ہے۔ آپ ہم بھوکے لوگوں کو ملکہ فرانس کی طرح ڈبل روٹی کھانے کا مشورہ تو نہ دیں۔
پاکستانی معیشت کی بنیاد ہی زراعت پر ہے اور فصلوں کو تو پانی ہی تبھی چاہئے ہوتا ہے جب بارش نہیں ہوتی۔چند ماہ پہلے اپریل میں چھ دہائیوں کی شدید ترین خشک سالی کی وجہ سے ڈیم خشک ہوچکے تھے اور سندھ اور پنجاب میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ہماری اس سال کی کاٹن کی فصل پانی نہ ملنے سے تباہ ہوچکی اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالروں کا نقصان ہوچکا۔
لہذا ڈیم مخالف حضرات کی باتوں سے ہرگز گمراہ نہ ہوں۔ ہمیں مون سون کی چند ماہ کی بارشوں کو سارے سال کے لئے ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ہماری نیلی دولت ہے جسے واٹر بنک میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بوقت ضرورت سارا سال تھوڑا تھوڑا کرکے استعمال کرسکیں۔ٹیکنیکل اعتراضات کا جواب کچھ دنوں میں ایک تفصیلی آرٹیکل میں دوں گا۔انشااللہ۔
چلتے چلتے بتادوں کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال صرف جولائی کے ایک مہینے میں ہی پچھلے سال2021 کے مون سون کے تین ماہ (جولائی تا ستمبر ) کی کل ملا کر بارشوں سے زیادہ بارش ہوچکی ہے۔
محکمہ کی اگست کی موسمیاتی آوٹ لک کے مطابق اگست کے مہینے میں پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان کے ساحل مکران میں مزیذ تیز بارشیں ہوں گی جب کہ شمالی علاقوں میں گرمی کی وجہ سے برف کے پگھلنے سے مڈ فلُو کا خطرہ ہے۔
ادھر انڈیا نے طوفانی بارشوں کے بعد دریائے چناب اور راوی میں پانی چھوڑ دیا ہے۔ دریائے چناب میں طغیانی سے ضلع جھنگ کے کافی علاقے زیر آب آچُکے۔
-

کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس
ہم پانچوں دوست تقریباً دس سال بعد ملے. تین گھنٹے کی ملاقات میں آدھا گھنٹہ گپ شپ کی ہوگی. باقی وقت فیس بک چیک کرنے، واٹس ایپ کے پیغامات کی ترسیل اور چھان بین اور انٹ شنٹ کالوں کا جواب دینے اور اسی طرح کے ‘ارجنٹ’ مگر غیر ضروری کاموں میں صرف ہوگیا. اٹھنے لگے تو ایک دوست کی بات یاد آئی جس نے کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد اصل امارت اور سٹیٹس کا سمبل یہ ہوگا کہ بندہ فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کے فون پر دستیاب ہے.
نوبل انعام یافتہ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اس حوالے سے شاندار مثال دی ہے. انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں جب عیسائی مشنری افریقہ میں آئے تو ان کے ہاتھ میں بائبل تھی اور ہمارے ہاتھوں میں افریقہ کی لاکھوں ایکڑ زمین تھی.
پادریوں نے کہا ‘آؤ آنکھیں بند کریں اور خداوند کی عبادت کریں.’
جب ہماری آنکھیں کھلیں تو پتہ چلا کہ بائبل ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہماری زمینیں پادریوں کے قبضے میں جاچکی ہیں.
جب فیس بک اور واٹس ایپ کے جن کا نزول ہوا تو اس وقت ہمارے پاس وقت اور آزادی تھی جب کہ ان کے پاس انٹرنیٹ اور انفارمیشن تھی. ہمیں بتایا گیا کہ سب کچھ مفت ہے. ہم نے آنکھیں بند کیں اور جب کھلیں تو معلوم ہوا کہ ہمارا وقت اور آزادی دونوں چھن چکے ہیں.
ہم میں سے اکثر چغد لوگوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون موجود ہے اور یہ کئی اعتبار سے ہم سے زیادہ سیانا ہے کہ اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہوا ہے. مثال کے طور پر اس نے ہاتھ کی گھڑی کھائی ، ٹارچ لائٹ کھا گیا ،یہ خط کتابت کھا گیا، یہ کتاب کھا گیا، یہ ریڈیو کھا گیا، ٹیپ ریکارڈ کھا گیا، کیمرے کو کھا گیا، کیلکولیٹر کو نگل گیا، یہ پڑوس کی دوستی، میل محبت، ہمارا سکون، تعلقات، یاد داشت، نیند، توجہ اور ارتکاز ڈکار گیا. کمبخت اتنا سب کچھ کھا کر "اسمارٹ فون” بنا ہے. بدلتی دنیا کا ایسا اثر ہونے لگا ہے کہ انسان پاگل اور فون اسمارٹ ہوگیا ہے. جب تک فون تار سے جڑا تھا، انسان آزاد تھا، جب فون آزاد ہو گیا، انسان فون سے بندھ گیا، دیکھا جائے تو انگلیاں ہی آج کل رشتے نبھا رہی ہیں، زبان سے نبھانے کا وقت کہاں ہے؟
اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو سب ٹچ میں بزی ہیں، پر ٹچ میں کوئی نہیں ہے. یہاں مجھے ایک مشہور سوامی جی کا واقعہ یاد آتا ہے.
سوامی جی نے جوگاجوگ (کا نٹیکٹ) اور سنجوگ (کنکشن) کے حوالے سے بات کی تھی اور ایک مشہور صحافی نے کڑے تیوروں کے ساتھ انہیں گھیر لیا تھا اور ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے کہا، باباجی، آپ کی بات کی سمجھ نہیں آئی.
سوامی جی کے چہرے پر ایک دبی دبی مسکان سی ابھری. ‘کوئی بات نہیں، ابھی سمجھ لیتے ہیں. یہ بتاؤ کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟’
صحافی کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوئے. تاہم اس نے ان پر قابو پاتے ہوئے اپنے علاقے کے بارے میں بتا دیا.
‘ہوں، کل کتنے لوگ ہو؟ والدین، بہن بھائی؟’ دوسرا سوال آیا.
صحافی نے قدرے غور سے باباجی کو دیکھا. اسے ایسا لگا جیسے الٹا اس کا انٹرویو شروع ہوگیا ہے.
‘ہم، تین بہن بھائی ہیں. والدہ رخصت ہوچکی ہیں، والد حیات ہیں’. اس نے بوجھل لہجے میں جواب دیا.
‘ہوں، تو اپنے والد سے آخری دفعہ کب رابطہ ہوا؟
‘ایک ماہ پہلے ‘. صحافی نے روکھے لہجے میں جواب دیا. سوامی جی، بدستور ہشاش بشاش تھے.‘ تم اپنے بھائیوں، بہنوں سے ملتے ہو؟ آخری ملاقات کب ہوئی تھی؟.
‘ ملتا ہوں. آخری دفعہ تین مہینے پہلے ملے تھے.’ اس کے لہجے میں کھردرا پن نمایاں ہورہا تھا.
‘ اچھا تو تم بہن بھائی آپس میں رابطہ رکھتے ہو؟ آخری مرتبہ پورا خاندان کب اکٹھا ہوا تھا؟اس مرتبہ صحافی کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھرے تھے.’ خاندان تو دوسال پہلے اکٹھا ہوا تھا’.
‘بہت خوب. تو کتنا وقت تم لوگوں نے ایک ساتھ بتایا؟ ‘
‘ تقریباً تین دن کے آس پاس’. اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا.
‘ہوں. تو تم سب بہن بھائیوں نے اپنے باپ کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟ سوامی جی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا.
صحافی کا سانس پھول رہا تھا اور اس نے خلا میں گھورنا شروع کر دیا.‘کیا تم لوگوں نے ناشتہ اکٹھے کیا یا رات کا کھانا ایک ساتھ کھایا؟ کیا اپنے باپ کی صحت کی خبرلی؟ اس کے پاؤں دبائے؟ اس سے پوچھا کہ تمہاری ماں کے بغیر وہ کیسا محسوس کرتا ہے؟’
صحافی کے چہرے پر عجیب و غریب سے تاثرات ابھرے. اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں اور سانس مزید بوجھل ہوگیا تھا.
سوامی جی چہرے پر شفقت کے تاثرات لیے ہوئے اس کی طرف جھکے اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا.’ معاف کرنا اگر انجانے میں میری کسی بات نے دکھ پہنچایا ہو. میں تو بس تمہارے سوال کا جواب دے رہا تھا. اپنے باپ کے ساتھ، بہن بھائیوں کے ساتھ تمہارا کانٹیکٹ تو ہے مگر کنکشن نہیں ہے. تعلق دل کا دل سے ہوتا ہے. یہ ساتھ جڑ کر بیٹھنے سے، ایک ساتھ قہقہہ لگانے سے، ایک ہی لے میں رونے سے، ایک پلیٹ میں کھانے سے، وقت ایک ساتھ بتانے سے، ہاتھ ہر ہاتھ مارنے سے،گلے لگانے سے، کندھے سے کندھا جوڑنے سے بنتا ہے. اس میں روایتی حال چال نہیں بلکہ سب ٹھیک ہے کی تہ میں اترا جاتا ہے. آنکھوں میں دیکھا جاتا ہے، بدن بولی کو سمجھا جاتا ہے. رابطہ اور تعلق دو الگ چیزیں ہیں.’.صحافی نے نمناک آنکھوں سے باباجی کو دیکھا اور سر ہلایا. اس نے زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھ لیا تھا.
ہمارے دور کی سب سے بڑی وبا کانٹیکٹ (رابطہ) بنانا ہے. اب دو چار سو کی بجائے ہمارے فون میں ہزاروں افراد کے نمبر ہوتے ہیں. تاہم اس بھاگم دوڑی میں کنکشن (تعلق) قربان ہوگیا ہے.
دنیا کے زہین ترین اور نامور افراد میں سے ایک ٹونی بیوزان کے ساتھ میری پہلی ملاقات بہت دلچسپ رہی تھی. ٹونی تخلیقی معاملات اور انسانی دماغ کے استعمال پر دنیا بھر میں ماہر مانا جاتا ہے. اس کی ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں، پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں. اس کی ایجاد کردہ تکنیک مائنڈ میپنگ دنیا بھر میں کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں، جن میں درجنوں ملکوں کے سربراہان مملکت بھی شامل ہیں. میں ٹونی کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کے لیے پہنچا تھا، اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ آج میں اس سے بہت قیمتی سبق حاصل کرکے جاؤں گا.
آدھے گھنٹے میں میرا فون چار دفعہ بجا اور مجھے ایکسکیوزمی کہ کر کال سننا پڑی. پانچویں دفعہ فون بجا تو ٹونی نے میز پر زور سے مکہ مارا اور غراتے ہوئے کہا ‘شٹ آپ، ناؤ یو آر انسلٹنگ می’. میں نے سکتے کے عالم میں اسے دیکھا اور اگلے دس منٹ میں ٹونی نے مجھے کمیونیکیشن کے آداب پر سیر حاصل لیکچر دے مارا.
‘میں دنیا میں بہت کچھ لے کر آیا ہوں مگر تمہارے لیے میرے پاس دو خاص تحفے ہیں. ایک میرا وقت اور دوسرا میری توجہ. جو وقت میرا تمہارے ساتھ بیتے گا، دنیا کی کوئی طاقت اور زروجواہر وہ وقت واپس نہیں لوٹا سکتے. تاہم اس وقت میں اگر میں تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوں تو میں تمہاری توہین کررہا ہوں. اگر میں فون سنتا ہوں تو تمہیں بتارہا ہوں کہ فون پر موجود شخص تم سے زیادہ اہم ہے. اور یاد رکھو، کسی ملاقات میں فون میز پر سامنے رکھنا ایک طرح سے اپنے جنسی اعضاء نمائش کے لیے رکھنے کے مترادف ہے. اور ہاں اگر تم معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تم زندگی میں کتنے کامیاب اور کامران ہو تو اسکا ایک دلچسپ ٹیسٹ یہ کہ تم کتنا عرصہ فون بند رکھ سکتے ہو یا اس کو سننے سے انکار کرسکتے ہو ‘.
تو پیارے پڑھنے والے، آج اپنا فون بند کرکے یہ چھوٹا سا تجربہ کرلیتے ہیں کہ ہم کتنے کامیاب ہیں اور وقت اپنی مرضی سے استعمال کرنے پر قادر ہیں. آؤ، رابطہ نہیں، تعلق استوار کرتے ہیں، اپنے ارد گرد موجود جان لیوا شور سے جان چھڑا کر اپنے پیاروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتے ہیں، ان کے لمس کو محسوس کرتے ہیں، ان کی آنکھوں کے گرد پڑنے والی لکیروں کو غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باتوں کی تہہ تک پہنچتے ہیں کہ ہم توجہ سے زیادہ قیمتی تحفہ ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے ہیں.
(مصنف کی کتاب "گوروں کے دیس سے” اقتباس)
-

نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟
سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ نظامِ شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد موجود غبار کے چھلّے تقریباً 16 کروڑ سال قبل ایک قدیم چاند کے سیارے سے ٹکرانے کے سبب بنے۔
باغی ٹی وی : امریکا کے میساچوسیٹس اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین کی جانب سے سیارے زحل کے محور میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کو شکل دینے کے لیے پیمائشیں لی گئیں۔
100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت
تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ سیارے کے گرد پہلے دوسری اجرام فلکی گردش کرتی تھی لیکن گیس کے گولے کے ساتھ فاصلہ نہایت کم ہوجانے کے سبب وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بِکھر گئی اور تب یہ چھلے وجود میں آئے۔
سائنس دانوں کے مطابق کریسالِس نامی یہ چاند سیارے سے ٹکرانے سے قبل اس کے گرد کئی ارب سالوں سے گردش کر رہا ہوگا۔اور چاند کا یوں تباہ ہوجانا بتاتا ہے کہ زحل کا گردشی محور 26.7 کے زاویے سے کیوں جُھکا ہوا ہے۔
تحقیق کے سربراہ مصنف پروفیسر جیک وِزڈم کا کہنا تھا کہ کریسالِس عرصہ دراز سے غیر فعال تھا اور ایک دم فعال ہوا اور یہ چھلے وجود میں آگئے۔
کارنیل یونیورسٹی میں سیاروں کی حرکیات کی ماہر مریم الموتمید کہتی ہیں کہ زحل کے حلقوں کی ابتدا کے بارے میں یہ دریافت ایک نئی راہ کھولتی ہے-
ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سیاروں کی حرکیات کے ماہر لیوک ڈونز کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ "قابل غور ” ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ تحفظات بھی ہیں کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ آپ اس خیال کی جانچ کیسے کریں گے-
جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی
سائنس دانوں نے طویل عرصے سے بحث کی ہے کہ آیا زحل کے حلقے اربوں سال پرانے ہیں – جتنا قدیم خود نظام شمسی ہے – یا شاید صرف 100 ملین سال پرانا ہے یا اس سے زیادہ۔
2000 کے ابتداء سے ماہرینِ فلکیات کا یہ ماننا ہے کہ زحل کا جھکاؤ سیارے نیپچون کے ساتھ مدار کے ارتعاش کے سبب تھا۔ اگر دونوں سیاروں کے مدار کے دورانیے مطابقت پا جائیں تو دونوں سیاروں میں ارتعاش ہوگااور دونوں مستقل ایک دوسرے کو کششِ ثقل سے متاثر کرتے رہیں گے۔
سیارے کے متعلق ارتعاش کا نظریہ سامنے آنے کی وجہ یہ تھی کہ گردش کے سبب زحل بھی اس ہی طرح سے ڈگمگاتا ہے جیسے نیپچون ڈگمگاتا ہے۔
نظامِ شمسی سورج اور ان تمام اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت میں ہیں۔ اس میں 8 سیارے، ان کے 162 معلوم چاند، 3 شناخت شدہ بونے سیارے(بشمول پلوٹو)، ان کے 4 معلوم چاند اور کروڑوں دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ اس آخری زمرے میں سیارچے، کوئپر پٹی کے اجسام، دم دار سیارے، شہاب ثاقب اور بین السیاروی گرد شامل ہیں۔
سورج سے فاصلے کے اعتبار سے سیاروں کی ترتیب عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ہے ان میں سے چھ سیاروں کے گرد ان کے اپنے چھوٹے سیارے گردش کرتے ہیں جنہیں زمین کے چاند کی مناسبت سے چاند ہی کہا جاتا ہے۔ چار بیرونی سیاروں کے گرد چھوٹے چٹانی اجسام، ذرات اور گردوغبار حلقوں کی شکل میں گردش کرتے ہیں۔
امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا
زحل کا نام انگریزی میں سیٹرن ہے جو ایک یونانی دیوتا کے نام پر رکھا گیا تھا زحل کا مدار زمین کے مدار کی نسبت 9 گنا بڑا ہے۔ تاہم اس کی اوسط کثافت زمین کی کثافت کا آٹھواں حصہ ہے۔ تاہم کمیت میں یہ سیارہ زمین سے 95 گنا بڑا ہے۔
زحل کی کمیت اور نتیجتاً اس کی کششِ ثقل کی وجہ سے زمین کی نسبت زحل کے حالات بہت شدید ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ زحل کے اندر لوہا، نکل، سیلیکان اور آکسیجن کے مرکبات پائے جاتے ہیں۔ ان کے گرد دھاتی ہائیڈروجن موجود ہے جبکہ ان کے درمیان مائع ہائیڈروجن اور مائع ہیلئم پائی جاتی ہے۔ بیرونی سطح گیسوں سے بنی ہے۔ دھاتی ہائیڈروجن میں بہنے والی برقی رو کی وجہ سے زحل کا مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے جو زمین کی نسبت کچھ کمزور ہے۔ بیرونی فضاء زیادہ تر کمزور ہے تاہم طویل المدتی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ہوا کی رفتار 1٫800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے جو مشتری سے بھی زیادہ ہے۔
زحل کے گرد نو دائرے ہیں جو زیادہ تر برفانی ذرات سے بنے ہیں جبکہ کچھ پتھر اور دھول بھی موجود ہے۔ زحل کے گرد 62 چاند دریافت ہو چکےہیں جن میں سے 53 کو باقائدہ نام دیاجا چکا ہے اس کے علاوہ چاند نما اجسام بھی ان دائروں میں موجود ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ زحل کا سب سے بڑا چاند ٹائیٹن ہے اور یہ ہمارے نظامِ شمسی کا دوسرا بڑا چاند ہے۔ یہ چاند عطارد سے بڑا ہے اور ہمارے نظام شمسی کا واحد چاند ہے جہاں مناسب مقدار میں فضاء موجود ہے۔
2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع