ڈیرہ غازی خان چوٹی زیریں ، ممبرقومی اسمبلی سردار محمدخان لغاری نے بے حسی کی انتہاکردی اپنے حلقہ انتخاب کے سیلاب متاثرین کی اشک شوئی کیلئے پانچ منٹ بھی نہ نکال سکے ،ووٹرپھٹ پڑے، ویڈیو دیکھئے
Category: بلاگ
-

ایشیا کپ، افغانستان کی سری لنکا کو با آسانی شکست
ایشیا کپ میں پہلے ٹی ٹونٹی میچ کے دوران افغانستان نے سری لنکا کو با آسانی شکست دیدی۔ 105 رنز کا ہدف 11 ویں اوورز میں ہی حاصل کر لیا۔
افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے حریف ٹیم سری لنکا کو بیٹنگ کی دعوت دی تو نیسانکا اور کوشل مینڈس نے اننگز کا آغاز کیا۔ آئی لینڈرز کو پہلے ہی اوورز میں دو نقصان اٹھانا پڑ گئے۔ دونوں اوپنرز بالترتیب تین اور دو سکور بنا کر آؤٹ ہوئے۔
اس کے بعد دیگر کھلاڑی بھی کریز پر زیادہ دیر تک نہ رُک سکے، راجا پاکسے 38 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے، اسالانکا 0، گوناتھیکلے 17، ڈی سلوا 2، شناکا 0، کرونارتنے 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، فضل الحق فاروق نے تین شکار کیے، مجیب الرحمان اور محمد نبی نے دو دو کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔
افغانستان کی ٹیم نے ہدف کا تعاقب 11 ویں اوورز میں حاصل کر لیا۔ حضرت اللہ زازائی 28 گیندوں پر 37 رنز ، نجیب اللہ زردان دو رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، رحمن اللہ گرباز 40، ابراہیم زردان 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ہاسا رنگا نے ایک وکٹ حاصل کی۔
-

زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت
ماہرین فلکیات نے زمین سے تقریباً 100 نوری سال کے فاصلے پر ڈریکو کونسٹیلیشن(جھرمٹ) میں گہرے سمندر کا حامل ایک سیارہ دریافت کیا ہے۔
باغی ٹی وی : یہ دریافت کینیڈا کی یونیورسٹی آف مونٹریال کے محقق ڈاکٹر چارلس کیڈیکس کی رہنمائی میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی جو آسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہوئی۔
نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت
TOI-1452b نامی یہ ایگزو پلانیٹ ہے یعنی یہ نظامِ شمسی سےماورا ایک سیارہ ہے۔ یہ زمین سے 100 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور زمین سے تھوڑا بڑا ہے یونیورسٹی آف مونٹریال کے محققین نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ یہ سیارہ ’گولڈی لاک زون‘ میں واقع ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مائع پانی کے وجود کے لیے درجہ حرارت نہ تو زیادہ گرم ہوتا ہے نہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔
لہٰذا، ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ یہ سیارہ سمندر سے ڈھکا ہوا ہے واضح رہے کہ گولڈی لاک اصطلاح ایک کہانی سے لی گئی ہے اور یہ خلا میں ایسے مقام کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں نہ سیارہ اپنے سورج سے مناسب فاصلے پر ہوتا ہے، اس کا درجہ حرارت نہ زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ ہی بہت سرد ہوتا ہے۔
ماہرین کےمطابق یہ ایگزو پلانیٹ ایک قریبی بائینری ایم ڈوارف( بونے) ستارے کے گرد گھومتا ہے۔
یونیورسٹی آف مونٹریال کے فلکی طبیعیات کے پی ایچ ڈی کے طالب علم چارلس کیڈیکس کے مطابق TOI-1452b اب تک کے دریافت ہونے والے سیاروں میں سمندر کے سب سے زیادہ آثار والا سیارہ ہے۔ اس کا ریڈیس اور وزن اس کی کثافت دھات اور چٹانوں سے بنے سیاروں کی نسبت بہت کم ظاہر کرتے ہیں جیسے کہ زمین-
سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار
TOI-1452 b پہلی بار ماہرین فلکیات کی توجہ خلاء میں 2018 سے فعال ناسا کی TESS ٹیلی اسکوپ نے سائنس دانوں کو اس ایگزو پلینٹ کے وجود کے متعلق آگاہ کیااسپیس کرافٹ کے ذریعے حاصل ہوا-
ستارہ TOI-1452 b مدار ایک بائنری ستارے کے نظام کا حصہ ہے، اور ٹیس کے پاس اس نظام میں انفرادی ستاروں کو حل کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ یونیورسٹی کی آبزرویٹری ڈو مونٹ میگنٹک (OMM) رصد گاہ، تاہم، نئے تجزیاتی طریقوں کے ساتھ، اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہی کہ TOI-1452 b موجود ہے۔
او ایم ایم نے اس سگنل کی نوعیت کی تصدیق کرنے اور سیارے کے رداس کا اندازہ لگانے میں اہم کردار ادا کیا،” مسٹر سیڈیکس نے کہا یہ کوئی معمول کی جانچ نہیں تھی۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ TESS کے ذریعے پتہ چلا سگنل واقعی TOI-1452 کے گرد چکر لگانے والے ایک سیارہ کی وجہ سے ہوا تھا، جو اس بائنری سسٹم کے دو ستاروں میں سب سے بڑا ہے۔
تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق
ہوائی میں کینیڈا-فرانس-ہوائی ٹیلی سکوپ پر نصب ایک آلے نے پھر سیارے کی کمیت کی پیمائش کی۔
زمین کے برعکس، جو زیادہ تر پتھریلا اور دھاتی سیارہ ہے جس کی سطح کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر محیط ہےایسا لگتا ہے کہ TOI-1452 b بڑے پیمانے پر، لیکن مکمل طور پر نہیں، پانی سے بنا ہوا ہےجس کا تقریباً 30% حصہ مائع سے آتا ہےیہ ایک طرح کا گہرا عالمی سمندر ہے جو زمین کے سمندروں کےمقابلے میں زحل کے چاند اینسیلاڈس کی برفیلی پرت کےنیچےموجود گہرے پانیوں سے مشابہت رکھتا ہے پانی ہمارے سیارے کی کمیت کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ بناتا ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ اس سیارے کے متعلق مزید معلومات تب حاصل ہوگی جب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس کے اطراف کے ماحول کا جائزہ لے گی ایگزو پلینٹ ایسے سیارے ہوتے ہیں جو نظامِ شمسی سے باہر وجود رکھتے ہیں۔
یہ ابھی تک یقین نہیں ہے کہ TOI-1452 b ایک سمندری دنیا ہے، اور اس کے پانیوں میں اجنبی زندگی کی دریافت کے امکانات کے لیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، لیکن محققین نے نوٹ کیا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کو جلد ہی اسرار کو عبور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس عجیب نئی آبی دنیا کی-
ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار
-

جی ہمیں رشتہ چاہیے!! — عبدالواسع برکات
پچھلے دنوں بھائی کے لیے ایک گھر رشتہ دیکھنے گئے اچھی اور دینی فیملی تھی بھائی ان کو پسند تھا تو ہمیں انہوں نے لڑکی دکھانے کے لیے گھر بلایا تھا اللہ کی قدرت لڑکی بھی والدہ کو پسند آگئی جب کچھ دن بعد ہم نے مشورہ کرکے ان سے کہا کہ جی بیٹی پسند ہے تو آگے سے ان کا جواب تھا کہ جی ہم کو بھی آپ کی فیملی، لڑکا پسند ہے مگر گھر آپ کا رینٹ پہ ہے ۔ میں نے اپنی طرف سے تھوڑی سی کوشش کی کہ قائل ہو جائیں اور یہ والی بات نکال دیں میں نے ان سے عرض کیا کہ جی میرا بھائی اچھا کماتا ہے لاکھ سے اوپر ماہانہ انکم ہے سوسائٹی میں اچھا گھر ہے آپ کی بیٹی کو خوش رکھے گا عزت و احترام سے زندگی بسر ہو گی ۔
پھر ایک اور دلیل دے ڈالی کہ دیکھیں آپ کوشش کرکے وہ فیملی ڈھونڈ ہی لیتے ہیں جہاں آپ کی دیگر بے شمار شرائط کے ساتھ یہ اپنے گھر والی شرط بھی پوری ہوتی ہو تو خدانخواستہ کل کو ان کے کاروباری حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ ان کو گھر سیل کرنا پڑتا ہے تو کیا آپ اپنی بیٹی واپس لے آئیں گے کہ جی آپ کا گھر بک گیا ہے اس لیے ہم اپنی بیٹي واپس لے کر جا رہے ہیں ۔
ان باتوں سے وہ اپنے اس فیصلے سے تھوڑا سا پیچھے ہٹے تو ساتھ ہی نئی شرط آگئی کہ لڑکے کو لڑکی خود اوکے کرے گی یعنی لڑکا لڑکی کے گھر جائے اور لڑکی اس سے بات چیت کرکے پھر فائنل کرے گی کہ اس نے شادی کرنی ہے یا نہیں ۔ یہ سٹوری میں کوئی من گھڑت نہیں سنا رہا بلکہ انتہائی دینی گھرانے کی کہانی سنا رہا ہوں ۔
یہ آب بیتی سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کس سمت چل پڑا ہے اور اس بے راہ روی کی آخر منزل کیا ہو گی ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ رشتے اتنے مشکل ہوتے جا رہے ہیں اعتبار اٹھتے جا رہے ہیں بھروسے ماند پڑتے جا رہے ہیں آخر کیوں جگہ جگہ میرج بیورو سینٹر کھل رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کون سے اعمال کر رہے ہیں ؟
کیا کبھی ہم میں سے کسی نے غور کیا ؟ یا ایسے اعمال کی روک تھام کے لیے کوئی فورم قائم کیا گیا ؟ یا کسی اصلاحی تنظیم یا ادارے کی طرف سے ایسی ورکشاپس منعقد کی گئیں جس میں اس سارے عمل کی شرعی طور پہ ٹریننگ کروائی جائے کہ ہمارا دین اسلام اس حساس معاملے میں ہماری کیا تربیت کرتا ہے ؟ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اپنے عزیز و اقارب میں رشتہ کرنے سے لوگ کترا رہے ہیں ؟
میں بہت دور کی کوئی مثال نہیں سناتا گزشتہ چند سالوں کی ایک سنہری مثال سناتا ہوں کہ ہمارے جاننے والوں میں ایک بہت ہی نیک بزرگ تھے جو اب وفات پا چکے ہیں وہ اپنی ہمشیرہ کے گھر گئے اور ان کی بیٹی کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ میری ہے ان کی ہمشیرہ نے کہا جی ٹھیک ہے بھائی صاحب یہ آپ کی ہو گئی اس گفتگو کے کچھ عرصہ بعد ہی وہ دوبارہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہمشیرہ کے گھر پہنچے اور کہا کہ ’’ میری امانت آپ کے پاس تھي میں وہ لینے آگیا ہوں میری امانت دے دو بہن ‘‘! ان کی ہمشیرہ نے کہا جی آپ کی ہی ہے لے جائیں ، وہاں فوری نکاح ہوا اور بیٹی کی رخصتی کردی گئی سبحان اللہ کیا سادگی اور کیا پیار محبت تھی کہ بھائی نے مانگی بہن نے دے دی ۔ نہ کوئی لمبی چوڑی بحث و تکرار اور نہ ہی کوئی لمبی چوڑی ڈیمانڈیں ۔
آج تو سارا معاملہ ہی الٹ ہو چکا ہے سب سے پہلے تو ہم اپنے قریبی عزیز و اقارب کے گھروں میں دیکھتے ہی نہیں ہیں کہ کوئی ہمارے بیٹے یا ہماری بیٹی کا ہم عمر موجود ہے تو اس کی طرف رشتہ بھیج دیا جائے اور اگر کہیں رشتہ بھیج بھی دیا جائے تو آگے سے ایسے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں کہ بھیجنے والا پچھتاتا ہی ہے کہ میں نے کس وقت یہ رشتہ بھیج دیا نہ ہی بھیجتا ۔
خاندان میں بیٹیوں کے سروں میں چاندی اتر رہی ہے اور یہ بیٹے والا خاندان سے باہر کوئی امیر کبیر باپ کی لڑکی تلاش کر رہا ہے تاکہ جہیز کے ٹرک اور لمبی چوڑی ڈیمانڈ کی لسٹیں منگوائی جا سکیں خاندان والے تو یہ کام کرنے سے رہے ۔ لالچ اور ہوس نے دنیا کو اندھا کر دیا ہے یہ رشتہ نہیں کرتے بلکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا سودا کرتے ہیں یہ رشتہ لینے نہیں جاتے بلکہ بیٹي فار سیل یا بیٹا فار سیل کا اعلان کرتے ہیں اور درمیان میں بیٹھے میرج بیورو والے دلال پوری بروکری کا حق ادا کرتے ہیں ایک دوسرے کے سامنے ایسے بڑھا چڑھا کر جھوٹ بیان کریں گے کہ شادی کے بعد جب سچ کھل کر سامنے آتا ہے تو پھر پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور گھر والے سر پکڑے بیٹھے ہوتے ہیں کہ اب تو کچھ ہو نہیں سکتا جب دولت تو ہمیں مل جاتی ہے مگر بیٹی کو شوہر ڈرگز لینے والا مل جاتا ، دولت تو مل جاتی ہے مگر بیٹی کو شوہر مار کٹائی کرنے والا ظلم و تشدد کرنے والا ملتا ہے مگر تب باپ دولت کو دیکھ کر کہتا ہے کہ اے کاش کہ میں نے لالچ نہ کیا ہوتا دولت کی ہوس نے اندھا کردیا تھا مگر نکاح کے بعد جب بہت سے راز افشا ہوتے ہیں تو ماں باپ کی راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں ۔
کیا اس سے ہزار درجے بہتر یہ بات نہیں تھی کہ اپنے ہی کسی بھانجے یا بھتیجے سے یا کسی قریبی یا دور کے رشتہ دار سے جو کہ دیندار ہو سمجھ بوجھ رکھنے والا ہے ہنر مند ہو حق حلال کا روزگار ہو عزت و احترام کرنے والا ہو سلجھا ہوا اس سے بغیر کسی لالچ کے بغیر کسی ڈیمانڈ کے رشتہ کردیا جاتا تو آج ہماری بیٹی خوش ہوتی اپنے گھر میں مسکراتی ہوتی خوشیوں سے کھيلتی ہوتی ۔
مگر کیا کریں ماں باپ کی ڈیمانڈوں کا جنہوں نے بیٹوں بیٹیوں کے سروں پہ چاندی تو اتار دی ان کو حرام کی طرف مائل تو کردیا ان کو حرام کی دوستیوں کے راستے تو دکھا دئیے مگر اپنی شرائط کو کم نہ کیا اپنی ڈیمانڈوں کو کم نہ کیا یقین جانیں رشتہ کرتے وقت لڑکا لڑکی کی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہوتی ان کی یہی ایک ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ ان کا نکاح کردیا جائے اور وہ بھی کسی طرح سے بھي جلد از جلد کیوں کہ وہ بے راہ روی کا شکار نہیں ہونا چاہتے وہ حرام کی طرف نہیں جانا چاہتے وہ موبائل کے راتوں کے پیکجز میں الجھ کر راتوں کا سکون برباد نہیں کرنا چاہتے ، رشتہ کرتے وقت جو کچھ بھی ہوتا ہے ہر قسم کی شرط ہر قسم کی ڈیمانڈ یا تو لڑکا / لڑکی کے والد کی طرف سے ہوتی ہے یا والدہ کی طرف اور اگر کبھي لڑکا لڑکی یہ کہہ بھي ڈالیں کہ آپ یہ شرط کیوں رکھ رہے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ آپ کے روشن مستقبل کے لیے ہی کر رہے ہیں جبکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی اونچے امیر کبیر گھرانے میں رشتہ کریں تاکہ خاندان والوں میں دھاک بیٹھ جائے کہ عبداللہ نے رشتہ بہت ہی کمال کی جگہ پہ کیا ہے ۔
حالانکہ انہی امیر کبیر گھروں میں دولت تو ہوتی ہے عیش و عشرت تو ہوتا ہے مگر پیار محبت ، سکون و راحت اخلاص یہ کچھ نہیں ہوتا سب کچھ دکھلاوے کا ہوتا ہے ۔ الا ماشاءاللہ
تو محترم قارئین میں اپنے قلم کے ذریعے آپ کا زیادہ وقت نہیں لینا چاہتا اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی کو روک سکیں آنکھوں میں حیا اور دلوں میں نور ایمان چاہتے ہیں تو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے سودے کرنا چھوڑ دیں ، میرج بیورو کی دلالیوں سے نکلیے ، جہیز کی لمبی لمبی لسٹوں کو پھاڑ ڈالیے ، مہنگی اور نہ پوری ہونے والی ڈیمانڈوں کو دیوار پہ دے ماریے ، اور سب سے پہلے دین داری کی بنیاد پر اور اپنے قریبی عزیز و اقارب میں رشتہ تلاش کیجیے اگر ان میں نہ ملے تو پھر خاندان سے باہر بغیر کسی ذات پات کے جھنجٹ میں الجھنے کے دین کی بنیاد پر رشتہ کیجیے مسنون طریقوں کو اپنائیے کم خرچ سادہ بیاہ یہ طریقہ عام کیجیے ! ہم سادہ نکاح کے نام پہ مسجد میں سادہ نکاح کر لیتے ہیں مگر اگلے دن رخصتی مہندی اور بارات رخصتی کے چکروں میں لاکھوں اڑا دیتے ہیں اور پھر کہتے پھرتے ہیں کہ نکاح مسنونہ کیا ہے سادہ نکاح کیا ہے وہ بھی مسجد میں ، ہم اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے اللہ ہمارے ایک ایک قدم اور ہر ایک عمل کو دیکھنے والا ہے ہمارے دلوں کے رازوں کو جانتا ہے سادہ نکاح میں مہندی ، بارات اور ان کے ساتھ جڑی درجن بھر ہندوؤانہ رسمیں شامل نہیں ہوتیں ۔
یقین کیجیے! ہمارے بچوں کی جوانیاں ڈھلتی جا رہی ہیں مگر ہم اپنی شرائط منوانے کے چکروں میں پھنسے ہیں، اپنے بچوں پہ ظلم نہ کیجیے ان کو ڈپریشن کا شکار نہ کیجیے صبر کرکرکے ان کے اعصاب شل ہو چکے ہیں وہ تو شرم و حیا کے ہاتھوں مجبور آپ کو ڈائریکٹ کہہ بھي نہیں سکتے کہ امی جان ابو جان میری شادی کردیجیے ! وہ تو صرف صبر کر سکتے ھیں آپ کی شرائط کے آگے آپ کی ضد کے آگے آپ کے اونچے اونچے کھوکھلے خوابوں کے آگے !
-

پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان
ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے ایسے عالم میں انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ محترمہ شوکت خانم( جن کی کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے موت ہوئی تھی) کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ کی نیت سے ان کے نام پر کینسر کے علاج کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا، ظاہری بات ہے کہ ان کے پاس صرف نیک نیتی، جذبہ اور محدود وسائل تھے چنانچہ انہوں نے اس نیک کام کے لئے حکومت وقت اور عوام سے چندے کی درخواست کی اور حکومت اور عوام نے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جسکی وجہ سے وہ عوام کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ "شوکت خانم کینسر ہسپتال ” بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کاوش پر عوام آج تک انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہے ۔
اپنے فلاحی منصوبے میں کامیابی کے بعد عمران خان کو یہ محسوس ہوا کہ اگر وہ فرد واحد ہو کر اتنا بڑا اور مہنگا ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو اگر انہیں اقتدار مل جائے تو وہ زیادہ آسانی اور سہولت سے عوام کی خدمت کر سکتے ہیں چنانچہ عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اس وقت کی سیاسی جماعتوں نے انہیں اپنے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کرنے کی پیشکش کی لیکن اپنی خود اعتمادی اور عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر انہوں نے کسی جماعت کے پلیٹ فارم کے بجائے اپنی ذاتی سیاسی جماعت بنا کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔
لیکن جیسے دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ایسے ہی سیاست میں آ کر عمران خان کو معلوم ہوا کہ ذاتی مقبولیت کی بنا پر وہ انتخابات میں اپنی نشست تو جیت سکتے ہیں لیکن اپنی شخصیت کی بنیاد پر وہ اپنے ٹکٹ ہولڈر کو الیکشن میں کامیاب نہیں کرا سکتے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے مشیروں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے وہ 2013 کے الیکشن میں معقول تعداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اس کے علاوہ ایک صوبے(خیبر پختون خواہ) میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر انہیں وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ (پرویز خٹک) کی صورت میں وہ مشیر مل گیا جس نے انہیں اقتدار کی راہداریوں میں جانے کا اصل راستہ اور کن لوگوں کی خوشنودی حاصل کر کے اس راستے پر چلتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ سکتے ہیں بتا دیا، اور ان کے مشوروں پر عمل پیرا ہو کر آخر کار عمران خان 2018 کے الیکشن میں مرکز، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اپنی حکومت بنانے میں اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔
حکومت میں آتے ساتھ ہی عمران خان کو وہ عزت اور توجہ دوبارہ ملنا شروع ہو گئی جو انہیں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ملی تھی اس کے علاوہ خوشامدی لوگ بھی، جن کی کل قابلیت برسرِ اقتدار ہر راہنما کی خوشامد کر کے فوائد حاصل کرنا تھا چنانچہ خوشامدی لوگ جوں جوں ان کے قریب آتے گئے مخلص دوستوں سے عمران خان کا فاصلہ بڑھتا چلا گیا اور اگر کسی نے ان کے کسی غلط فیصلے کی نشاندہی کر بھی دی تو عمران خان نے اس ساتھی سے مشورہ لینا چھوڑ دیا اور رفتہ رفتہ اپنی خوشامد سن کر وہ اس نہج پر پہنچ گئے کہ اپنی ذات کی نرگسیت کا شکار ہو گئے اور خود کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان سے کئی سیاسی طور پر غلط فیصلے ہوئے اور ان کے اعلیٰ حلقوں کے درمیان غلط فہمیاں اور پھر فاصلے پیدا ہونے لگے۔
ترکی (ترکیہ) میں جناب طیب اردگان کے خلاف بغاوت، عوام اور محب وطن فوجی افسران کی مدد سے اس بغاوت کے خاتمے کی وجہ سے عمران خان کے ذہن میں یہ راسخ تھا کہ اگر حکمران عوام میں مقبول ہو تو کوئی دنیاوی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور ان کے اردگرد موجود خوشامدی لوگوں نے انہیں یہ باور کرا دیا کہ اس وقت آپ اپنی عوامی مقبولیت کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں چنانچہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر عمران خان نے دیگر طاقتوں سے الجھنا شروع کر دیا، ان کے مخلص ساتھیوں نے انکو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور دیگر طاقتوں اور ان کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن معاملات جیسے ہی بہتری کی طرف جاتے خوشامدی لوگ کوئی ایسی حرکت کر دیتے کہ معاملات دوبارہ خراب ہو جاتے اور آخرکار مقتدر طاقتوں اور عمران خان کے درمیان خلیج بڑھنے کا فائدہ پرانی سیاسی جماعتوں نے اٹھایا اور تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔
عمران خان نے ہار ماننے کے بجائے میدان عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا اور رجیم چینج کے نام پر عوام میں اپنا بیانیہ پیش کیا جس کو بھرپور عوامی پذیرائی ملی اور اس کے نتیجے میں ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو کامیابی حاصل ہوئی اور اکثریت حاصل کرنے کے باوجود وہ وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہار گئے اور پھر عدالتی حکم سے پی ٹی آئی کا امیدوار وزیر اعلیٰ بنا، بھرپور عوامی مقبولیت اور اپوزیشن کے بارے میں عوامی غم و غصے کے باوجود ابھی تک عمران خان اپنے مطالبات (دوبارہ الیکشن) نہیں منوا سکے۔
اس کی وجوہات کا تعین کرنے کے لئے جب انہوں نے اپنے مخلص ساتھیوں(پرویز خٹک، ذلفی بخاری اور دیگر ) کے ساتھ مشورہ کیا تو انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ پاکستان میں فرد واحد صرف "اکائی ” ہے جو کہ اپنا یا کسی کا انفرادی طور پر تو فائدہ کر سکتا ہے لیکن مجموعی ملکی فائدے کے لئے تمام طاقت کے مراکز کو مل کے چلنا چاہیے تا کہ ہم اکائی سے” وحدت” بن سکیں، پانی کی منہ زور لہروں کے مخالف تیرنے سے آپ منزل پر نہیں پہنچتے بلکہ تھک کر راستے میں ہی ڈوب جاتے ہیں اس لئے عقلمندی کا تقاضہ پانی کی منہ زور لہروں کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنانا ہے ۔
اور سننے میں یہی آ رہا ہے کہ یہ بات عمران خان کی سمجھ میں آ گئی ہے اور انہوں نے پرویز خٹک اور ذلفی بخاری کو پی ٹی آئی اور دیگر طاقت کے مراکز کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کی ذمہ داری دی ہے تاکہ تمام اداروں کے درمیان غلط فہمیاں دور کر کے عوامی لحاظ سے مقبول جماعت کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور دوبارہ سے عوامی خدمت کا سفر وہیں سے شروع کیا جا سکے جہاں پر ختم ہوا تھا، امید ہے عمران خان بھی غلط فہمیاں دور ہونے کے بعد دوبارہ سے اپنی سیاسی غلطیوں کا اعادہ اور طیب اردگان بننے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ طیب اردگان بننے کے لئے معیشت کو مضبوط کر کے اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ حکمران کے اخلاص کے قائل ہو کر ملکی ترقی کے لئے خطرہ بننے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے ہیں.
-

باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف
پاکستان اس سال 75 سال کا ہو گیا ہے۔سمجھیں بچپن سے نکل کر لڑکپن میں داخل ہو رہا ہے۔بچپن کسی کا بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔بہت سی غلطیاں، کوتاہیاں اور بہت سی ٹھوکریں کھا کر ہی بچپن سے کچھ سیکھا جاتا ہے۔پاکستان میں بسنے والے پاکستان پر تنقید کے ایسے نشتر برساتے ہیں کہ منٹوں میں اسے لہو لہان کر دیتے ہیں لیکن وہ یہ کرتے ہوئے ایک بار بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ہم کبھی نہیں سوچتے کہ ہم نے اس بچے کے ساتھ جو اتنی مشکلوں سے گزر کر سانسوں کو بحال رکھنے کی جد وجہد میں ہے، ہم نے اسے کب کب اور کہاں کہاں آکسیجن مہیا کی یا ہمیشہ اس کی آکسیجن چھیننے کا سبب ہی بنے۔ یہ بحث لمبی ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا اور ہم نے پاکستان کو کیا دیا۔آج اگر ہم 1947 کو پیدا ہونے والے اس بچے کاآج 2022 تک موازنہ کریں تو ہماری آنکھیں کبھی اس کی تکالیف دیکھ کر بھر آئیں گی، کبھی اس کی کامیابیاں دیکھ کر لب مسکرا اٹھیں گے۔کبھی ہمیں اس کی بیبسی پہ غصہ آئے گا تو کبھی اس کی ہمت پہ رشک۔
آخر،
ٖؔ اس وطن کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بر صغیر پاک و ہند کا بٹوارہ ہونا تھا۔ بٹوارہ ہوا لیکن پاکستان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو ایک سوتیلے بیٹے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔سارا حصہ اپنے پاس رکھ کر بچا کھچا دے کر جان چھڑوانے کی کوشش اور یہ ہی پاکستان کے ساتھ بھی ہوا۔تقسیم چاہے بینک میں پڑے پیسوں کی ہو یاں پھر فوجی دستوں کی، ہر جگہ سے اس نا مولود کو محروم رکھا گیا۔مگر عزم جواں تھا، ہمت تازہ تھی۔ سو راہ جنوں کے مسافر چلتے رہے اور بالآخر یہ کہنے میں کامیاب ٹہرے۔
کہ
ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیںآج پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بھی۔ایشیا کی دوسری اور مسلم ممالک کی واحد ایٹمی قوت یہ ارض وطن ہی ہے۔اس وقت اگر نظر دوڑائیں تو پاکستان میں 174 یونیورسٹیز قائم ہو چکی ہیں۔پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 464 کارخانے کام کر رہے ہیں۔ 1201بڑے ہسپتال موجود ہیں۔یہ تعداد اس سے کء گنا زیادہ ہو سکتی تھی اگر اس ارض پاک کو دوسروں کی جنگ میں نہ جھونکا جاتا۔
2011 کے بعد جب پاکستان میں دہشت گردی کی لہر اٹھی تو زندگی جیسے مفلوج ہو گئی تھی۔ہر شخص ہر لمحے موت کو ہاتھ پر رکھ کر چلتا تھا کہ نا جانے کب کوئی جنت کا طلبگار آئے اور اس زندگی کا چراغ بجھا جائے۔پچھلے دس 11 سالوں میں پاکستان نے اس دہشت گردی کے ناسور کو مٹانے کے لئے 67.93 بلین ڈالرز یعنی کے 5037 بلین روپے خرچ کر چکا ہے۔۔ان پیسوں سے کئی کارخانے، ہسپتال، اور یونیورسٹیز بن سکتی تھیں۔
مگر افسوس یہ فراموش کر دیا گیا کہ،
موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہےمزید برآں اس جوان ہوتے بچے کو روانی کے ساتھ قدم نہ اٹھانے دینے کی دوسری بڑی وجہ کرپشن ہے۔کرپشن نے اس ملک کی جڑوں کو ایسے کھوکھلا کیا ہے جیسے دیمک خشک لکڑی کو کرتی ہے۔
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرپشن صرف وہی ہے جو یہ بڑے بڑے سیاست دان کرتے ہیں؟؟
نہیں کرپشن وہ بھی ہے جو ہم سب روز کرتے ہیں۔ریڑھی والے سے لے کر بڑی ملز والوں تک۔ ہم سب نے ملکر اس ملک کو کمزور کیا ہے۔جب ہم ایک معمولی سا کام نکلوانے کے لئے کسی دفتر میں کسی آفس میں پانچ سو سے ہزار تک کا نوٹ چپکے سے کسی کلرک یا منشی کے ہاتھ پر رکھتے ہیں، تو وہ بھی کرپشن ہے۔ کیونکہ ہم کسی اور کا حق اور وقت اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔جب ایک چھوٹی سی دکان چلانے والا دس روپے کے لئے ترازو کا پلڑا ہلکا کرتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہے۔جب ایک ریڑھی والا نیچے خراب پھل ڈال کر اوپر اوپر اچھے پھل ڈال دیتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہی کر رہا ہوتا ہے۔
حالانکہ
”اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
مگر ہم قول و فعل کے تضاد کے مارے اپنا مذہبی اصول ہی بھول چکے ہیں۔
19مگر غور کیا جائے تو 1947 سے 2022 تک کا پاکستان بہترین نا سہی لیکن بہتر ضرور ہے۔اسے بہترین ہم نے بنانا تھا لیکن ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں نے جو کبھی ہم نے دوسروں کی جنگ میں کود کر کیں۔کبھی اپنی منتخب حکومتوں کو ان کی مدت پوری نا کرنے دے کر اور کبھی کرپشن کو صرف سیاست دانوں تک محدود کر کے ہم نے اس ملک کو بہترین بننے سے روکے رکھا لیکن الزام ہمیشہ ہم نے ”پاکستان ” کو دیا۔
حالانکہ ان حالات کے ذمہ دار ہم تھے۔ وہ ہے نا کہ
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سےاس مملکت خداداد کے قیام میں ہزاروں قربانیاں دی گئیں۔ کتنے سہاگ اجڑے، کتنی عزتیں پامال ہوئیں اور بیحساب لہو شہادت کے جام میں پیش کیا گیا۔ اپنی الگ حیثیت کے لیے آزاد وطن پانے کا ایمان کامل ان سب وجودوں میں وجود تھا۔ تبھی وہ سب لا الہ الا اللہ کا علم تھامے اپنا سب کچھ فدا کرنے پہ راضی تھے۔
آج پھر سے یہ قوم اس ایمان سے خالی ہے جس نے اسے پاکستان کی صورت اک وجود بخشا تھا۔
مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم اک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے اک دوسرے کو آگے بڑھنے کی طاقت اور حوصلہ دیں تاکہ جب یہ پاکستان پروان چڑھے تو ہمیں موردالزام نا ٹہرایا جا سکے۔ہم اس کے سامنے سر جھکا کے نہیں بلکہ سر اٹھا کر کھڑے ہوں۔
کیونکہ،
جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی مجھے ایڑھیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا -

باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر
آج سے پچھتر سال پہلے مسلمانانِ ہند نے ہندو اور برطانوی سامراج سے جو جنگ لڑی تھی ، وہ صرف اک خطے کے لیے نہیں تھی بلکہ اپنے جداگانہ تشخص کے بقا کے لیے تھی ۔
اور اس جنگ کا آغاز اسی دن ہو گیا تھا جب مسلمان کو ”مسلا” کہا گیا تھا۔ اپنے الگ وجود الگ نظریے کا ادراک کرنے کے بعد ہی اک منزل اک نشاں کی جانب چلتے وہ راہ ِجنوں کے مسافر اپنا مقصد پانے کے لیے پریقیں تھے۔
اور 75 سال پہلے یہ مقصد حاصل بھی ہو گیا۔ مگر آج 75 سال بعد کے حالات دیکھ کر بے ساختہ فیضؔ کا کہا یاد آتا ہے کہ،
یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیںکیونکہ آج 75 سالہ مملکت خداداد پھر سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ مگر کیا یہ جنگ پہلے دن سے ہی ہمارا مقدر تھی؟
یہ جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق کھنگالنا ہوں گے۔ گذشتہ سالوں میں اس ارض پاک کے ساتھ برتا جانے والا احوال دیکھنا ہو گا تبھی ہم کوئی فیصلہ کر پائیں گے۔ میری دانست میں یہ 75 سال مختلف ادوار جیسے تربیتی ،تخریبی، تعمیری ،تعبیری کے تناظر میں دیکھے جائیں تو صورت حال واضح ہو سکتی ہے کہ ہم آج کس مقام پہ موجود ہیں۔
﴿ تعبیری دور ﴾
1947 ء سے 1967 ءیہ بیس سالہ دور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے تعبیری اہداف قائم کرنے کا دور تھا۔
آزادی کے ابتدائی بیس سال وہ سال تھے جب عزم جواں تھا۔ ہمت تازہ تھی اور جنوں لہو کے ہر قطرے میں موجزن تھا۔کیونکہ نوزائیدہ ریاست کو کئی محاذوں کا سامنا کرنا تھا۔ سو انہی مقاصد کے حصول کے لیے 1949 میں ”قرارداد مقاصد ” منظور کی گئی جس کے مطابق پاکستان کا آئینی ڈھانچہ یورپی نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت اور نظریات پہ مبنی ہونا طے تھا۔
چونکہ ابھی تربیتی دور کا آغاز تھا سو ہر سال اک نیا سنگ میل عبور ہوتا گیا۔
آنکھوں کی چمک ہر گام بڑھتی گئی۔ اور تب تب جنون نظر آتا گیا جب جب نعرہِ پاکستان بلند کیا گیا۔
پھر چاہے وہ اردو کو قومی زبان کا درجہ دینا ہو یا قومی ترانے کی منظوری، معاشی ترقی کے ضامن اسٹیٹ بینک کا قیام (1948) ہو یا ملک مقدم کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنا مقصود ہو۔یا پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اوول کے میدان میں انگلینڈ کے خلاف پہلی فتح ہو یا دہائیوں تک فضاؤں پہ راج کرتی پاکستان ائیر لائنز کا قیام (1955)۔
یا ہاکی ٹیم کا اولمپکس میں جیتا پہلا گولڈ میڈل، (1960)،یا سوئی کے مقام پہ گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت(1952)۔
سبھی سنگ میل اسی پیام کا عملی ثبوت تھے کہ ،
تجھ سے ہے میری تمناوئں کی دنیا پُرنور
عزم میرا ہے قوی ، میرے ارادے ہیں غیور
میری ہستی میں انا ہے، مری مستی میں شعور
جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن
اے میرے پیارے وطناگرچہ اس بیس سالہ عرصے میں سیاسی ایوانوں میں مارشل لاء (1958) اور اسمبلیوں کی تحلیل (1953) کی گونج بھی گونجتی رہی۔ مگر حالات بہتر سے بہتری کی طرف ہی گامزن تھے۔
اور سب سے بڑی کامیابی 1965 کی وہ جنگ تھی، جو بزدل دشمن نے اس سوچ کے تحت چھیڑی تھی کہ یہ گرتا لڑکھڑاتا ملک کیونکر اپنا دفاع کر سکے گا۔ مگر عظیم قوم نے غیور افواج کے ساتھ مل کر دشمن کو شکست فاش دی۔ تب ہر پاکستانی کے لب پہ اک ہی نغمہ تھا کہ
میری زمیں میرا آخری حوالہ ہے
سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کر دے﴿تربیتی دور ﴾
1967 سے 1987یہ دور جہاں پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم رہا۔ وہیں یہ ماہ و سال سازشی عناصر کی رچائی چالوں کے زد میں بھی رہے۔
گویا تعمیری و تخریبی دونوں حالات مل کے اعصابی تربیت کرتے رہے۔کھیل کے میدان میں اس بیس سالہ عرصے میں سبز پرچم کبھی جہانگیر خان اور کبھی جان شیر خان کے دم سے لہلہاتا رہا۔مگر اصل مزہ اس جیت کا تھا جو ہاکی ٹیم نے ازلی دشمن کو ایشین گیم (1970) میں دی تھی۔
مگر افسوس پاکستان اس دشمن کو سیاسی محاذ پہ نہ ہرا سکا۔ اور اس دشمن نے پاکستان کی اندرونی کمزوریوں کو مزید ہوا دیتے 1971 میں مشرقی پاکستان پہ حملہ کر دیا۔ آہ! اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہو کے پاکستان کو اپنے اک حصے سے محروم ہونا پڑا۔
تب پھر سے سہاگ اجڑے، عزتیں پامال ہوئیں، لہو بہا۔ مگر اک الگ نظریے کے لیے نہیں۔ بلکہ ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے۔
اس روز شہداء پاکستان فریاد کرتے رہ گئے کہ رشتہ دیوار و در تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
مت گرا اس کو یہ گھر تیرا بھی ہے میرا بھی ہےپاکستان قائم رہنے کے لیے ہی بنا ہے ۔ سو اک سانحے سے گزر کے بھی زخمی دل زخمی روح لیے سفر پھر سے شروع ہوا۔ بنگلہ دیش کو تسلیم کر کے (1974) ملکی ترقی پہ توجہ مرکوز کی گئی۔ معاشی ترقی کی ضامن پاکستان سٹیل ملز نے کام کرنا شروع کیا(1981)۔
اور اگلے ہی برس ہاکی ورلڈ کپ میں شاندار فتح نے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا (1982)۔ اور سب سے بڑھ کے دفاعی استحکام کے لیے عبدالقدیر قدیر خان سائنس لیبارٹریز قائم کی گئی (1976)۔اور ڈاکٹر عبدالسلام (1979) پہلا نوبل پرائز جیتنے میں کامیاب ٹہرے۔
گویا پاکستانی عوام سمجھ گئے ہوں، موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے﴿تعمیری دور ﴾
1987 سے 2007یہ ماہ و سال بھلے ہی معاشی و دفاعی شعبے میں کئی انقلاب برپا کر گئے۔مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔
کبھی سمبلیوں کی تحلیل (1988) نے تعمیری اہداف سے دور کیا تو کبھی ایمرجنسی (2007) کے شکنجے نے ملکی حالات پہ خاصا اثر ڈالا۔
مگر اس سارے دورانیے میں بھی عزم بلند رہا اور اسی عزم سے تعمیری اہداف طے ہوتے رہے پھر چاہے وہ پہلے کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت (1992) ہو، یا میانداد کے چھکے سے دشمن کے چھکے چھڑوانے والی شارجہ کی فتح (1999)، یا جہانگیر خان کا مسلسل دسیوں بار سکواش اوپن چیمپئین شپ جیتنا ہو (1991)۔مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایٹمی طاقت (1998) کا مالک بننا تھا۔ گویا
ع چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں نہیں آئی
﴿ تخریب سے تعمیر تک ﴾
2007 سے 20222012 کے بعد جی ڈی پی گروتھ میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے ۔
اگرچہ ان پندرہ سالوں میں پاکستان کو سیاسی استحکام بھی نصیب ہوا ہے مگر ملک و قوم نے تخریبی اور تعمیری دونوں حالات سہے ہیں۔
کیونکہ گذشتہ سالوں میں دہشت گردی کی نذر ہزاروں جانیں ہوئیں ہیں ۔ مسجد، مزار، چرچ، پارک، تھانہ، بازار، سکول۔۔۔ شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں خون کے چھیننے نہ پڑے ہوں۔ اس دہشت گردی سے ملکی سکون تو متاثر ہوا ہی مگر ،اس دورانیے کا سب سے تکلیف دو پہلو پاکستان کو عالمی سطح پہ تنہا کرنا تھا۔ 2009 میں سری لنکن ٹیم پہ ہوئے حملے نے پاکستان پہ نہ صرف کرکٹ کے دروازے اک دہائی تک بند رکھے۔ بلکہ سیاحتی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔
مگر سلام ہو ہماری افواج پاکستان کو۔
جنہوں نے آپریشن راہِ راست (2009)، راہِ نجات، اور حالیہ(2021) رد الفساد سے تخریبی قوتوں کا خاتمہ کیا ہے۔
پاک وطن سے شرپسندوں کا نشان مٹاتے شہادت کی منزل پاتے غیور کیپٹن بلال ظفر (2009) سے لے کر عزم تعمیر لیے جامِ شہادت نوش
کرنے والے لیفٹینینٹٹ جنرل(2022) سرفراز علی تک، سبھی شہداء ہمارا فخر ہیں۔ کیونکہ یہ امن انہی کی دی قربانیوں کا ثمر ہے۔ ورنہ کہاں وہ دور جب عالمی تنہائی کے مارے ملک میں زمباوے جیسی ٹیم بھی آنے سے انکاری تھی اور کہاں یہ دور کہ زمباوے سے لے کر آسٹریلین ٹیم (2022) بھی پاکستان آ کے پاکستانی زمیں پہ کھیل چکی ہے۔
اور تو اور پاکستان سپر لیگ کے 7 سیزن بھی ہو چکے۔
مگر حالیہ او آئی سی کانفرنس(2022) کا پاکستان میں انعقاد سب سے اہم سنگ میل ہے۔
بلاشبہ پاک فوج اور عوام دونوں ہی قابل تحسین ہیں جنہوں نے تخریب سے تعمیر کا سفر طے کر کے اک مثال قائم کی ہے۔ مگر یاد رہے،
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھےآج 75 سالہ پاکستان صرف اور صرف اپنی قوم کے ساتھ کا ممتنی ہے۔ اسے اپنی بقا کے لیے کسی بیرونی ہاتھ کی ضرورت نہیں بلکہ عزم و ہمت سے سرشار اک دل اک جاں لیے اک قوم درکار ہے۔ سو ہمیں وطن عزیز کی پچھترویں سالگرہ پہ بحیثیت پاکستانی اپنا احتساب کرنے اور قبلہ درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ
جو اس زمیں سے کیا تھا ہم نے وہ عہد کیا ہم نبھارہے ہیں
وطن کی راہوں میں ہم وفا کے گلاب کتنے کھلارہے ہیں
یہ کون ہیں جو ہمیں میں رہ کر ہمارے گھر کو جلارہے ہیں
چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے -

ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت
سان فرانسسكو: ایک نئی تحقیق کے مطابق ذیابیطس کےنتیجےمیں بینائی سے محروم ہوجانے والے مریضوں کے لیے کم لاگت والا اور مؤثر نیا لیزر علاج دریافت ہوا ہے۔
باغی ٹی وی : ذیابیطس کے نتیجے میں بینائی سے محروم مریضوں کے علاج پر تحقیق کرنے والے ایک نئے کلینیکل ٹرائل نے لیزر علاج کی ایک قسم کو متعارف کرایا ہے، جو مریضوں اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے لیے بہترین آپشن پیش کرتا ہے-
تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق
تاہم فی الحال ڈائیبیٹک میکیولر اوئیڈِما(ڈی ایم او) میں مبتلا افراد کو متعدد علاج میسر ہیں جن میں دو قسم کے لیزر علاج اور آنکھوں کےانجیکشنز شامل ہیں۔
اس وقت ذیابیطس میکیولر اوئیڈِما (DMO) والے لوگوں کو علاج کے کئی اختیارات پیش کیے جاتے ہیں، بشمول دو قسم کے لیزر علاج اور آنکھوں کے انجیکشن۔ ڈی ایم او ذیا بیطس کےمریضوں کی بینائی کو پیش آنے والا سب سے عام مسئلہ ہے جس میں 2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد مبتلا ہیں۔
ڈی ایم او تب ہوتا ہے جب ریٹینا میں موجود خون کی رگیں رسنے لگتی ہیں اور بالکل سامنے کا منظر دکھانے والے حصے ’میکیولا‘ پر مواد جمع ہوجاتا ہے۔رگوں کا رسنا تب شروع ہوتا ہےجب بلند بلڈ شوگر خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب
ڈی ایم او کی شدت کا تعین اکثر میکولا کی موٹائی کی پیمائش کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو بدلے میں پیش کردہ علاج کا تعین کرے گا۔ زیادہ شدید DMO والے مریضوں (400 مائیکرون یا اس سے زیادہ موٹائی کے ساتھ) کا علاج آنکھوں میں انجیکشن لگا کر کیا جاتا ہے، جسے asanti-VEGFs کہا جاتا ہے۔
ہلکے DMO والے مریضوں (400 مائیکرون سے کم موٹائی کے ساتھ) کا علاج میکولر لیز سے کیا جا سکتا ہے، جو معیاری تھریشولڈ لیزر یا سب تھریشولڈ مائکرو پلس لیزر ہو سکتا ہے۔ سابقہ ریٹنا پر جلن یا داغ پیدا کرتا ہے۔ مؤخر الذکر، جو کہ ایک جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، ریٹینا پر جلنے یا داغ یا کسی بھی قسم کی نظر آنے والی تبدیلی یا نشان چھوڑے بغیر کام کرتی ہے۔
اوپھتھیمولوجی نامی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ سب تھریش ہولڈ مائیکرو پلس لیزر مریض کی بینائی کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر تھی۔ اس لیزر سے ریٹینا پر جلن بھی نہیں ہوتی ہے۔
اس لیزرعلاج کےلیے متواتر کلینک جانے کی بھی ضرورت نہیں ہےاور اس کی قیمت آنکھوں میں لگائےجانے والے انجیکشنز کی نسبت بہت کم ہے۔ ان انجیکشنز کی قیمت لیزر علاج سے دس گُنا زیادہ ہے۔
زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق
-

نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت
واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود ایک سیارے کے ماحول میں پہلی بار کاربن ڈائی آکسائیڈ کی دریافت کی ہے۔
باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 700 نوری سال کے فاصلے پر سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والے ایک گیسی سیارے کی اس مشاہدے سے سیارے کی ساخت اور تشکیل کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ٹیلی اسکوپ کی جانب سے کی جانے والی اس دریافت سے یہ بات سامنے آتی ہے خلاء میں موجود یہ مشاہدہ گاہ ممکنہ طور پر زندگی کے متحمل چھوٹے اور چٹیل سیاروں کے باریک ماحول میں موجود گیس کی نشان دہی اور پیمائش کرسکتی ہے۔
سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار
Understanding the composition of a planet’s atmosphere can help us learn more about its origin and evolution. Webb’s success here offers evidence that it could also be able to detect and measure carbon dioxide in the thinner atmospheres of smaller rocky planets in the future!
— NASA Webb Telescope (@NASAWebb) August 25, 2022
ماہرین کے مطابق WASP-39 bایک گرم گیس کا گولا ہے جو زمین سے 700 نوری سال کے فاصلے پر موجود سورج جیسے ایک ستارے کے گرد گھوم رہا ہے اس سیارے کا وزن مشتری کے ایک چوتھائی وزن (تقریباً زحل کے برابر) کے برابر ہے جبکہ اس کا قطر مشتری سے 1.3 گُنا بڑا ہے۔اس سیارے کے یوں پھولے ہوئے ہونے کی وجہ اس کا شدید درجہ حرارت ہے، جو سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق تقریبا 1,600 ڈگری فارن ہائیٹ یا 900 ڈگری سیلسیس تک ہے۔
Wait, WASP again? Both WASP-39 b and WASP-96 b are named after the Wide Angle Search for Planets, an international consortium that first discovered these planets with ground-based telescopes. The number after WASP is the star; the letter is the planet: https://t.co/GHgbGkYcqz
— NASA Webb Telescope (@NASAWebb) August 25, 2022
ہمارے نظامِ شمسی کے دیگر گیس کے گولوں کے برعکس WASP-39 b اپنے مرکزی ستارے کے بہت قریب گردش کرتا ہے۔ اس سیارے اور اس کے ستارے کے درمیان فاصلہ، سورج اور عطارد کے درمیان فاصلے کا آٹھواں حصہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے ستارے کے گرد ایک چکر چار زمینی دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔Catch your breath — Webb has captured the first clear evidence of carbon dioxide (CO2) in the atmosphere of a planet outside of our solar system! WASP-39 B is a gas giant closely orbiting a Sun-like star 700 light years away: https://t.co/FenLqV6HSo pic.twitter.com/abJvqxfLdG
— NASA Webb Telescope (@NASAWebb) August 25, 2022
اس سیارے کی دریافت 2011 میں زمین پر نصب ٹیلی اسکوپ سے ہوئی تھی ناسا کی ہبل اور سپٹزر خلائی دوربینوں سمیت دیگر دوربینوں کے پچھلے مشاہدات نے سیارے کی فضا میں پانی کے بخارات، سوڈیم اور پوٹاشیم کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا تاہم، اپنی مثال آپ انفراریڈ سینسٹیویٹی کی حامل جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اب اس سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔نا سا ماہرین کے مطابق منتقل کرنے والے سیارے جیسے WASP-39 b، جن کے مدار کا اوپر سے بجائے کنارے پر مشاہدہ کرتے ہیں، محققین کو سیاروں کے ماحول کی تحقیقات کے لیے مثالی مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
ٹرانزٹ کے دوران، کچھ ستاروں کی روشنی سیارے سے مکمل طور پر گرہن ہوتی ہے (مجموعی طور پر مدھم ہونے کی وجہ سے) اور کچھ سیارے کے ماحول سے منتقل ہوتی ہے۔
چونکہ مختلف گیسیں رنگوں کے مختلف امتزاج کو جذب کرتی ہیں، محققین طول موج کے طول موج میں منتقل ہونے والی روشنی کی چمک میں چھوٹے فرق کا تجزیہ کر سکتے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ماحول کس چیز سے بنا ہے۔ فلایا ہوا ماحول اور بار بار آمدورفت کے امتزاج کے ساتھ، WASP-39 b ٹرانسمیشن سپیکٹروسکوپی کے لیے ایک مثالی ہدف ہے۔
ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار
-

آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی
اس وقت وطن عزیز کی بدنصیب عوام ایک طرف سیلابی ریلوں میں بہہ رہی ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کے سیلاب میں عوام چلا اٹھے ہیں۔ مہنگائی کے تابڑ توڑ حملے عوام کی روح اور جسموں پر زخم لگا رہے ہیں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی۔ موجودہ پی ڈی ایم کی حکوت نے اس کو اذیت ناک بنا دیا ہے ۔اگر پچھلی حکومت کا جائزہ لیا جائے تو اس کا سارا وقت کرپشن ڈھونڈنے میں لگا رہا اب پی ڈی ایم کی حکومت عمران خان کو ناک آئوٹ کرنے میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔ معیشت کس طرح بحال کی جائے عوام کے دکھوں کا مداوا کس طرح ہوگا اس پر توجہ اور غور و فکر کرنا سیاستدانوں نے چھوڑ ہی دیا ہے ۔
سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے ،پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے بالخصوص ملک کے وزرائے اعظموں کو عبرت کا نشان بنانا شروع کر دیا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیشہ ہی ملک کے وزرائے اعظم عبرت کا نشان بنتے رہے۔ بھٹو اور اس کے خاندان کا صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے بینظیر بھٹو کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دیا گیا نوازشریف کو خاندان سمیت جلاوطن اور بھارت کا یار قرار دیا گیا اور اب اس ملک کے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسرائیل کا ایجنٹ اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ عمران خان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا کیا۔ یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں ایک دوسرے کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دینے والے سیاستدانوں نے اب ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے کہ ایک جماعت کے سربراہ کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔
دوسری طرف میڈیا دو گروپوں میں تقسیم ہو کر خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ رہا ہے جو سیاستدان ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشتگرد قرار دیتے ہیں وہ آزاد میڈیا کے دوست ہو نہیں سکتے۔ میڈیا قومی فریضہ ادا کرے تاریخ گواہ ہے کہ میڈیا نے ہمیشہ قومی سلامتی، جمہوری اداروں کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لئے پارلیمنٹ سے آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید ہیں ۔ سوال یہ ے کہ اگر یہ امید بھی ختم ہو گئی تو اس بدنصیب عوام کا کیا ہوگا۔ جس کو دال، روٹی، بجلی گیس جیسے بنیادی مسائل میں الجھا دیا گیا ہے ۔ سیاستدانوں کو اور سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کے ساتھ اور جمہور کے ساتھ مذاق کرنے کے بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جمہوری اداروں کو بچانے ، ملک کی بقا و سالمیت کی فکر کرنے عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
