Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مسلم لیگ قاف کی سیاسی خودکشی — نعمان سلطان

    مسلم لیگ قاف کی سیاسی خودکشی — نعمان سلطان

    سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں اور حریف مخالفت پر اتر آتے ہیں.

    کل کے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں یہ بات کھل کر سامنے آئی.. آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر بادشاہ گر بن کر سرخ رو ہو گئے.

    مسلم لیگ کو وقتی سہی لیکن دوبارہ وزیر اعلیٰ کی سیٹ مل گئی. پی ٹی آئی کو بھی عدالت کے ذریعے انصاف ملنے کی امید ہے.اس سارے معاملے میں اگر کوئی جماعت خسارے میں رہی تو وہ مسلم لیگ قاف ہے.

    چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے آپس کے اتحاد اور سیاسی فراست کی وجہ سے وہ ہر حکومت کے لئے لازم و ملزوم تھے. پیپلزپارٹی نے ان کو قاتل لیگ کہا اور انہیں نائب وزیراعظم کا عہدہ دیا.. پی ٹی آئی نے انہیں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا اور پہلے سپیکر اور اب وزیراعلیٰ کے لئے اپنا امیدوار منتخب کیا.

    مسلم لیگ ان کو پرویز مشرف کے سہولت کار اور مسلم لیگ کی تقسیم کے ذمہ دار قرار دیتے رہے اور ابھی مخلوط حکومت میں دو وزارتیں اور اگر پرویز الٰہی مان جاتے تو انہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی آفر بھی تھی.

    اس سب کی وجہ صرف چوہدریوں کا آپس میں اتفاق تھا جو کہ آصف علی زرداری نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اس نااتفاقی کی اصل وجہ سیاسی اختیار نوجوان نسل کے ہاتھ دینا ہے.

    چوہدری سالک کا جھکاؤ ن لیگ کی طرف ہے جبکہ چوہدری مونس الٰہی کا جھکاؤ پی ٹی آئی کی طرف ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جیسے بڑے چوہدری معاملات کو آپس میں افہام تفہیم سے حل کرتے تھے ایسے ہی یہ بھی کرتے لیکن خون گرم ہونے کی وجہ سے دونوں اپنی انا کے اسیر رہے اور آخر ان کی ضد خاندان کی تقسیم کا باعث بنی.

    عہدے وقتی ہوتے ہیں جبکہ خون کے رشتے ازلی ہوتے ہیں. نوجوان نسل نے رشتوں پر عہدوں کو فوقیت دے کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ بزرگوں کی سیاسی میراث کے اہل نہیں.

    ان حالات میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ چوہدریوں نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلا غلط فیصلہ کیا اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کو بروقت نہ سدھارا تو مسلم لیگ قاف کا شیرازہ بکھر جائے گا.

  • سیاسی دنگل اور بھیانک چہرے، تجزیہ: مبشر لقمان

    سیاسی دنگل اور بھیانک چہرے، تجزیہ: مبشر لقمان

    کل پنجاب اسمبلی میں ایک بڑا سیاسی دنگل ہوا اوربالآخر تخت پنجاب کا فیصلہ ہو ہی گیا۔ آخر وقت تک صورتحال بالکل مختلف تھی ، پاکستان تحریک انصاف والے خوش تھے۔ اور پھر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے رولنگ دے کر ساری بازی ہی پلٹ دی ۔سارے اندیشے ، ساری تدبیریں ، سارے دعوے بیکار ہوگئے

    بحر حال معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ چکا ہے ،تحریک انصاف کے لوگ نہیں جانتے تھے کہ جس سیاسی چال کا سہارا انھوں نے آج سے چار مہینے پہلے لیا تھا، جس سیاسی چال پر وہ اترا رہے تھے۔ جس سیاسی چال سے انھیں یہ وہم ہوا تھا کہ ہم اقتدار کی کرسی بچا لیں گے۔ کل انھیں اس سے بھی بڑی سیاسی چال سے شکست دی جائے گی۔ انھیں نہیں پتا تھا آج سے چار دن پہلے جس جیت کے وہ شادیانے بجا رہے ہیں اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا۔ مکافا ت عمل ایسا ہی ہے۔ جب انسان کا کیا اس کے سامنے آتا ہے تو اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ یہاں اخلاقیات کے سارے سبق بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ جو وقت پہ بہتر سیاسی چال چلے وہی بازی گر ہے اور جس کا اس شطرنج کے کھیل میں وزیرزیادہ شاطر ہے وہی مقدر کا سکندر

    اب آگے کی ساری صورتحال مجھے کافی بھیانک نظر آ رہی ہے۔
    کل کے اسمبلی اجلاس سے پہلے ہی عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ہمارے حق میں فیصلہ نہ آیا تو نتائج اچھے نہیں ہونگے۔ اور وہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ رات احتجاج کی کال دی گئی اور رات سے ہی لوگ سڑکوں پر ہیں۔ سپریم کورٹ رجسٹری کے سامنے نعروں سے شروع ہونے والے اس جتھے کا پورے ملک میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے پنجا ب کے تمام بڑے شہروں میں رینجرز تعینات کرنے کی بھی درخواست کر دی ہے۔مختلف ویڈیوز بھی موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں جن میں پاکستان تحریک انصاف کے لوگ گاڑیوں کا گھیراؤ کر رہے ہیں۔ حیدرآباد میں صورتحال اس سے زیادہ سنگین ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا ہےاور اس کے ساتھ پیپلز پارٹی کے کسی کارکن کی گاڑی تک جلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں ملک پاکستان کی صورتحال کافی سنگین مراحل میں داخل ہو سکتی ہے۔

    مخالفین پر الزامات کے ساتھ ساتھ اب اداروں پر لفظی حملوں کا جو سلسلہ سست روی کا شکار ہو چکا تھا اب اس میں بھی تیزی دیکھنے کو ملے گی۔ اس کی پہلی جھلک تو آج ہی دیکھ لی ہے۔ فواد چوہدری نے لفظی گولہ باری کی ابتدا کر دی ہے۔ اداروں کے منہ کو خون لگا ہے جیسے بیان تو دیتے ہی تھے اب یہ بھی کہ دیا کہ ادارے مزید پاکستان کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ تو یہ معاملات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگاڑ کی جانب گامزن ہیں۔لیکن اس وقت سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سب کا نقصان کس کو ہو رہا ہے؟ اس ساری سیاسی جنگ اور الزامات کی سیاست کے درمیان پس کون رہا ہے؟ اس سیاسی محاذ آرائی کے درمیان بچے کس کے بھوک سے مر رہے ہیں؟ حکمرانوں کے پاس شاید اس سوال کا جواب نہ ہولیکن میرے پاس اس کا جواب ہے

    اس ساری سیاسی صورتحال، لڑائی جھگڑوں اور معرکہ آرائی کے درمیان نقصان صرف پاکستان کا ہو رہا ہے۔ پس صرف غریب رہا ہے۔ بچے صرف غریب کے بلک رہے ہیں۔ اس کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ اس کے لیے زمین دن بدن تنگ پڑتی جا رہی ہے او ر حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں۔ اپنی سیاست بچانے کےلیے کروڑوں روپے کے مہنگے ہوٹل بک ہو رہے ہیں۔ غریب کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ملکی سیاست میں اس وقت کیا جنگ جاری ہے۔ اسے صر ف دووقت کی روزی سے مطلب ہے۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہے کہ اس کے بچے رات کو بھوکے پیٹ نہ سوئیں۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہے کہ وہ جب رات کو مزدوری کر کے گھر واپس لوٹے تو اس کی جیب میں اگلے دن کے راشن کے پیسے موجود ہوں۔اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

    یہ صرف اس صور ت میں ممکن ہو سکتا ہے جب ملک میں ایک سیاسی استحکام کی فضا قائم ہو جائے۔ جب پاکستان کے نمائندے آپس میں لڑنے کی بجائے ایک جگہ بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل کے سنجیدگی کے ساتھ فیصلے کرنا شروع کر دیں۔ جب پاکستان کے سیاستدان مل کر ایک میثاق معیشت پر رضا مند ہو جائیں۔ جب سیاستدان لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے کی بجائے انھی لوگوں کے بہتر مستقبل کےلیے سوچنا شروع کر دیں۔ لیکن مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مجھے دور دور تک کوئی ایسے امکانات نظر نہیں آ رہے۔

    آپ کو اور اس ملک کے حکمرانوں کو پاکستان کی معیشت کا ایک بھیانک چہرہ بتاتا چلوں تا کہ شاید ہم اس سے کچھ سیکھ سکیں اور مستقبل قریب میں کچھ ایسے فیصلے کر سکیں جن سے ملک کا فائدہ ہو۔ آج پاکستان میں روپیہ ایک خطرناک حد تک بے توقیر ہو چکا ہے۔ گردشی قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ پاکستان آج ڈیفالٹ ہونے کی دہلیز پہ کھڑا ہے۔ پاکستان کا اس وقت ڈیفالٹ ہونے والے ممالک کی لسٹ میں چوتھا نمبر ہے اور یہ امکانات دن بدن بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ڈالر پر سٹے بازی جاری ہے جس سے روپے کی قدر و قیمت میں مزید کمی آتی جا رہی ہے لیکن جو اس کو روک سکتا ہے یعنی پاکستا ن کاسٹیٹ بینک اس کے ممکنہ گورنر کا ابھی تک فیصلہ ہی نہیں ہو سکا۔ تیل اور بجلی قیمتیں مزید بڑھنے کے درپے ہیں۔ اور معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت آج جن بیساکھیوں پہ کھڑ ی ہے اگر اگلے کچھ عرصے میں چار سے پانچ ار ب ڈالر نہیں ملتے تو ہم اس نہج پر پہنچ جائیں گے جہا ں سے واپسی شاید آسان نہ ہو۔آئی ایم ایف سے ہمیں صرف ایک ارب ڈالر کی قسط ملے گی باقی کے تین چار ارب ڈالر کے لیے ہم ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ دنیا کی معیشت پر نظر رکھنے والیNews Agency Bloombergکے مطابق آئی ایم ایف نے سعودی عرب سے گارنٹی مانگ لی ہے۔ کیونکہ اس کشتی میں کوئی سوار نہیں ہونا چاہتا جس کے ملاح بھنو ر میں کودنے کو تیار بیٹھے ہوں۔پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کےلیے آئندہ سال میں کم ازکم 41ارب ڈالر درکار ہیں۔ اور یہ کہاں سے آتے ہیں کسی کے پاس سیدھا جواب نہیں ، سٹاک ایکسچینج کو دیکھیں تو دن بدن زوال پزیر ہی ہو رہی ہے۔ سرمایہ کار اس بات پہ تیار ہی نہیں ہیں کہ وہ پاکستان میں مزید نقصان کو مول لیں۔ پہلے ہی ان کا اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہےاور حالیہ سیاسی بحران کے بعد تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو چکی ہے۔ بیرونی سرمایہ کار بھی بالکل خطرہ مول لینے کو تیار نہیں اور ہر چھوٹا بڑا کاروبار مندی کا شکار ہے۔ دنیا کی تما م معیشت پر نظر رکھنے والے تمام بڑے ادارے پاکستان کی معیشت کو منفی دکھا رہے ہیں۔ گویا ہم معیشت کے ساتھ ساتھ ایک ایسے کرنسی بحران میں جکڑے جا چکے ہیں جہاں سے نکلنے کا ٹھیک جوا ب کوئی دینے کو تیا رنہیں۔

    سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ ہم یہاں تک پہنچے کیسے ہیں؟ اس کا جواب بڑا ساد ہ اور آسان سا ہے۔
    کسی بھی ملک کی معیشت ہمیشہ اس ملک کے حکمرانو ں کے فیصلوں اور ملک میں سیاسی استحکام سے جڑ ی ہوتی ہے۔ اگر ملک کےسیاستدان درست فیصلے کریں گے، سنجیدگی سے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے ، درست وقت پر درست لوگوں کے ہاتھ میں اکانومی کی باگ دوڑ دیں گے تو معیشت کی سمت بالکل درست ہو گی۔اور اگر ملک میں سیاسی استحکام ہی نہ ہو۔ حکمرانوں کو ٹھیک فیصلے ہی نہ کرنے دیے جائیں تو پھر یہی کچھ ہونا ہے جو ملک پاکستان میں اب ہو رہا ہے۔اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک صورتحال تو آپ کے سامنے واضح ہے۔ ملک میں پچھلے چھ مہینوں سے جو کچھ ہو رہا ہے ۔ جو سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے اس سے کوئی سیاسی جماعت دیوار سے لگے یا نا لیکن معیشت دیوار کے ساتھ لازمی طور پر لگ چکی ہے۔

    اس کے علاوہ اور بھی بہت سے محرکات ہیں۔ حالات و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔ جن میں تحریک انصاف کے دو ر کی معاشی پالیسیاں، ان کا بھاری قرضے لینا۔ اس کے بعد ساڑھے تین سال کے عرصے میں چار بار وزرائے خزانہ کی تبدیلی ، سرکاری پالیسیوں کی بار بار تبدیلی شامل ہیں۔ اور اگر اس سے بھی پہلے چلے جائیں تو پچھلے حکمرانوں کے کچھ غلط فیصلے شامل ہیں۔اب وہ وقت آ چکا ہے جب ہمار ے سیاستدانوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس گرتی ہوئی دیوار کو ایک اور دھکا دے کر اس ملک کو لوگوں کی امیدوں کو کچل دینا ہے یا اس ملک کو ہر طرح کے بحران سے نجات دلانی ہے۔ کیونکہ راستے اب صرف دو ہی بچے ہیں۔ اور یہ ہمارے سیاستدانوں نے طے کرنا ہے کہ مزید دست و گریباں ہوتے رہنا ہے اور اس اقتدار کے کھیل کے لیے پاکستان کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا دینا ہے یا پھر اپنے سیاسی مفادات کو پیچھے رکھ کر ملک کو اس معاشی بحران سے نکالنا ہے۔

    آنے والے دنوں میں پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوتا ہے اس بارے میں کسی کو علم نہیں۔ کون منظر نامے پہ نمودار ہوتا ہے اور کون پردے کے پیچھے غائب ہوتا ہے اس کا فیصلہ بھی جلد ہو جائے گا لیکن ہماری دعا یہی کہ جو بھی ہو پاکستان کے لیے بہتر ہو۔ پاکستا ن کی معیشت کے لیے بہتر ہو۔ پاکستان کے عوام کے لیے بہتر ہو۔

  • وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    ملک میں سیاسی جماعتیں و مذہبی جماعتیں جمہوریت، آئین، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ بلند کرتی ہیں تاہم جمہوریت کا قتل سالوں پہلے ہوا اور اس قتل کو رات کے اندھیرے میں دفن کر دیا گیا جس کا خمیازہ ملک عوام اور خود سیاسی جماعتیں تادم تحریر بھگت رہی ہیں۔ میری مراد بھٹو کی ہے۔ پھر بھی ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے سبق حاصل نہیں کیا اور جمہوریت کے قاتلوں کے ساتھ مل کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ آج اگر تحریک انصاف سینہ کوبی کر رہی ہے اور جمہوریت کا نعرہ بلند کر رہی ہے تو تحریک انصاف بھی نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پر جشن اور بھنگڑے ڈال رہی تھی آج چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کا خاندان بکھر گیا ہے تو اس خاندان نے بھی آمریت کا ساتھ دے کر نوازشریف کے ساتھ بے وفاقی کی تاریخ رقم کی تھی۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اقتدار کی رسہ کشی میں آمریت کا ساتھ دیا۔ سیاسی جماعتیں و جماعتوں نے گرینڈ الائنس تو بنائے مگر وہ سب ذاتی مفادات اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے بنائے گئے۔ آج ملک میں ایک طرف اگر سیاسی انتشار ہے تو دوسری طرف معاشی زوال جس کا خمیازہ ملک اور عوام دونوں بھگت رہے ہیں۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے پرویز مشرف کے جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا

    مسلم لیگ (ن) بھی 2002ء کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونیوالی اس پارلیمنٹ کا حصہ تھی جس نے مشرف سے حلف لیا۔ آج آئین کے تقدس کا درس دینے والی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے آئین کی پامالی پر جشن منائے ایک نہیں کئی بار آئین کی پامالی پر نہ صرف جشن منائے بلکہ آئین کی پامالی کرنیوالوں کا ساتھ بھی دیا اور قصیدے لکھنے والوں نے قصیدے لکھے۔ آج بھی وقت ہے ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچا لیں ملک میں جمہوریت کی نفی تخلیق پاکستان کی نفی ہے ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنا بند کر دیں ملک میں غیر جانبدار الیکشن کے ذریعے ہی تبدیلی ہو سکتی ہے عوام کو ہی اس کا اختیار دیا جائے کہ وہ ووٹ کے ذریعے حکومتیں بنائیں۔ ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنے آئین اور قانون کی حکمرانی کا واحد راستہ انتخابات ہیں ۔ایک دوسرے کی حکومت کو سازش کے ذریعے گرانے سے باز رہیں عوام کی منتخب حکومتوں کو گرانا بھی آمریت کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ ہائوس میں تحریک انصاف سمیت بھٹو اور نوازشریف کی منتخب حکومت گرانے میں کردار ادا کرنے والے معافی مانگیں۔

  • چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر پہلا قدم رکھنے والے امریکی خلاء باز نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرِن کے چاند پر قدموں کے نشان کی زبردست ویڈیو جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : ناسا میں جاری کی گئی ویڈیو میں دونوں خلاء بازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی چاند پر حیران کن طور پر واضح ہے۔


    ناسا نےبدھ کے روز چاند کے عالمی دن پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا آج اپولو کے چاند پر اترنے کی سالگرہ ہے جب انسانوں نے پہلی بار کسی دوسری سطح پر قدم رکھا تھا لُونر ریکونائسینس آربِٹر سے بنائی جانے والی ویڈیو میں خلاء بازوں کے قدموں کے نشان دِکھائی دیتے ہیں جو ابھی تک وہاں موجود ہیں ۔


    ناسا نے لکھا کہ اپولو 11 سب سے زیادہ جانا جانے والا مشن ہے لیکن اس سے قبل بھیجے جانے والے مشنز نے اس مشن کےلیے راہ ہموار کی جن میں روور اور سرویئر جیسے روبوٹِک مشنز سمیت اپولو 8، 9 اور10 کے عملے کے ساتھ بھیجے جانےوالے مشنز شامل ہیں،جن میں چاند کے مدار میں داخلے ہونے اور اس سے خارج ہونے کی آزمائش کی گئی تھی۔


    یہ آربِٹر2009 سےچاند کامطالعہ کر رہا ہے اور ایجنسی کے دیگر مشنز کی نسبت بہت زیادہ،1.4 پِیٹا بائیٹ حجم کا، ڈیٹا زمین پر بھیج چکا ہے کچھ اندازوں کے مطابق ایک پِیٹا بائیٹ 500 ارب معیاری پرنٹڈ صفحات کے برابر ہوتا ہے۔

  • ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن  روانہ کیلئے تیار

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی :"اسپیس ڈاٹ کام” کی رپورٹ کے مطابق اس نئے مشن کی پہلی آزامائشی پرواز 29 اگست کو لانچ ہو گی آر ٹیمس-1 چاند کی تسخیر کےاس نئے خلائی مشن کی پہلی پرواز ہو گی، ناسا چاند پر مکمل تحقیق کے بعد اس پر بسیرا کا خواہش مند ہے۔

    ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کے مطابق دیوہیکل خلائی لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کے لیے ممکنہ لانچ کی تاریخوں کی پہلی ونڈو 29 اگست، 2 ستمبر اور 5 ستمبرہے۔

    آرٹیمس-1 چار سے چھے ہفتوں تک جاری رہنے والے مشن میں چاند پر سفر کرنے کوتیارہے۔ یہ خلابازوں کے لیے کسی بھی جہاز سے زیادہ طویل سفرہوگا اوربغیررکے کیا جائے گا۔یہ مشن خلا میں تجربات کے لیے کیوب سیٹس نامی متعدد چھوٹے سیارچے بھی نصب کرے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلا اور بنیادی مقصد قمری خلائی صورت حال میں اورین کی حرارتی ڈھال کی صلاحیت کا مظاہرہ دیکھنا ہے۔

    اس مشن کا دوسرامقصد راکٹ اورعملہ کے کیپسول کی پروازکی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے، آرٹیمس-2 عملہ کے ساتھ پہلا تجربہ ہوگا، یہ مشن چاند کے گرد پرواز کرے گا لیکن اس پر اترے گا نہیں جبکہ آرٹیمس-3 مشن میں پہلی خاتون اور پہلا رنگ دار شخص چاند کے جنوبی قطب کو چھوئیں گے۔

    ناسا کے ایکسپلوریشن سسٹمز کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جم فری نے عبوری لانچ کی تاریخوں کے بارے میں کہا کہ "یہ ایجنسی کا عہد نہیں ہے۔” NASA لانچ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل مزید پختہ عزم کا اعلان کرے گا، انہوں نے کہا، جب ایجنسی آرٹیمیس 1 اسٹیک، بشمول SLS اور راکٹ کے اوپر سوار اورین کیپسول کی اپنی معیاری پرواز کی تیاری کا جائزہ مکمل کر لے گی۔

    تاہم، اگست کے آخر اور ستمبر کے اوائل میں عبوری تاریخیں وہی ہیں جو "ٹیم کام کر رہی ہے، اور اس کے لیے ایک منصوبہ ہے،” فری نے مزید کہا۔ "لیکن ہمارے پاس بہت سارے کام باقی ہیں جو ہمیں کرنا ہوں گے، اور شاید اس سے سیکھیں گے-

  • نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ تاحال بند ،انتظامیہ ٹیکنیکل فالٹ تلاش کرنے میں ناکام

    نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ تاحال بند ،انتظامیہ ٹیکنیکل فالٹ تلاش کرنے میں ناکام

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) نے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پلانٹ کی جلدازجلد بحالی کی ہدایت کردی۔

    با غی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق 969 میگاواٹ کا نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ ٹیکنیکل فالٹ کی وجہ سے 6 جولائی سے بند پڑا ہے بندش کی وجہ سے مہنگے فیول پر چلنے والے پلانٹس سے بجلی کی فراہمی کے باعث صارفین پر یومیہ 35کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔

    نیپرا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نیپرا حکام نے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ کی انتظامیہ کو 6 جولائی سے ٹینیکل فالٹ کی وجہ سے بند پلانٹ پر بریفنگ کے طلب کیا تھا پروجیکٹ کی انتظامیہ نے کہا کہ ماہرین فالٹ تلاش کررہے ہیں جس کی نشان دہی ہوتے ہی اسے دور کردیا جائے گا۔

    چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی اور ممبر نیپرا انجنیئر مقصود انور خان نے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ کے سی ای او کو ہدایت کی کہ پلانٹ کی بحالی اور اسے نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ نیپرا حکام نے پاور پلانٹ کی بحالی کے آپریشن میں ناکامی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    بتایا گیا ہے کہ پاور پلانٹ کی بندش کی وجہ سے بجلی کے صارفین پر یومیہ 35کروڑ روپے کا بوجھ پڑ رہا ہے، کیوں کہ پلانٹ کی بندش کی وجہ سے انھیں مہنگے فیول سے بنائی گئی بجلی فراہم کی جارہی ہے جس کی قیمت ان سے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں وصول کی جائے گی۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے اس خرابی کا نوٹس لیتے ہوئے پراجیکٹ کو جلد از جلد بحال کرنے کی ہدایت کی تھی سیکرٹری آبی وسائل ڈویژن کاظم نیاز کا کہنا تھا کہ اس خرابی کا پتا چلانے میں کم از کم ایک ماہ لگ جائے گا۔

    کاظم نیاز نے قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ”نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی دو سرنگیں ہیں جن میں سے ایک بلاک ہو چکی ہے۔یہ سرنگ ساڑھے 3کلومیٹر لمبی ہے۔ جب تک اس پوری سرنگ کو کلیئر نہیں کیا جاتا، تکنیکی خرابی کا پتا نہیں لگایا جا سکتا اور اس پوری سرنگ کو کلیئر کرنے میں کم از کم ایک ماہ کا وقت لگے گا۔

    کاظم نیاز نے مزید بتایا تھا کہ ”کئی ماہ کے بعد جولائی میں پاکستان میں بارشیں شروع ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود آبی ذخائر میں پانی کی سطح 70فیصد سے کم سطح پر ہے۔ اگر پاکستان کو موسم ربیع میں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو خریف کے سیزن میں صورتحال انتہائی سنگین ہو جائے گی۔ تاہم امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید بارشیں ہوں گی اور آبی ذخائر بھر جائیں گے۔

  • گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرا دیا

    گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرا دیا

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرادیا ۔

    باغی ٹی وی : اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک نامی یہ الرٹ سسٹم بلاقیمت ہے اوراینڈرائیڈ پلیٹ فارم کا ایک مددگار فیچر ہے جو دنیا بھر میں زلزلوں کا پتا لگاتا ہے اور لوگوں کو آگاہ کرتا ہےیہ سسٹم زلزلےکی سرگرمیوں کا پتا لگانے کے لیےفعال اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز میں موجود ایکسلرو میٹر (accelerometers)استعمال کرتا ہے اور سرچ اور ڈیوائس کے ذریعے براہ راست لوگوں کوزلزلے کے بارے آگاہ کرتا ہے۔

    فِچ ریٹنگز نے پاکستان کے آؤٹ لک کو مستحکم سے منفی کر دیا

    یہ سسٹم گوگل سرچ کو تقریباً فوری طور پر (near-instant)معلومات فراہم کرتا ہے جب لوگ ’زلزلہ‘ یا ’میرے نزدیک زلزلہ‘دیکھتے ہیں تو انہیں متعلقہ نتائج ملتے ہیں اور ساتھ ہی اس بارے میں مددگار وسائل کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں کہ زلزلے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔

    تیل کی پیداوار ایک کروڑ 30 لاکھ بیرل سے نہیں بڑھا سکتے،محمد بن سلمان

    ایسے صارفین جو یہ الرٹس وصول نہیں کرنا چاہتے وہ ڈیوائس کی سیٹنگ میں جا کر اسے بند بھی کر سکتے ہیں موبائل آلات پر اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک الرٹس سسٹم 2 اقسام کے الرٹس دکھاتا ہے جن کا انحصار زلزلے کی شدت پر ہوتا ہے۔

    یہ اطلاع زلزلے کے مرکز سے فاصلے کی معلومات کے ہمراہ بھیجی جاتی ہے، الرٹ فون کے موجودہ والیوم، وائبریشن، اور ڈسٹرب نہ کریں کی سیٹنگ استعمال کرتا ہے۔

    ٹک ٹاک گوگل سرچ انجن کیلئے بھی خطرہ بن گیا

  • اسنیپ چیٹ نے اپنا ویب ورژن جاری کردیا

    اسنیپ چیٹ نے اپنا ویب ورژن جاری کردیا

    سوشل میڈیا ایپلیکیشن اسنیپ چیٹ نے بالآخر اپنا ویب ورژن جاری کردیا ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسنیپ چیٹ نے فی الحال یہ سہولت امریکا، برطانیہ، نیوزی لینڈ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے لیے متعارف کروائی ہے جس کے تحت صارفین اب اپنے لیپ ٹاپ پر بھی دوستوں کو پیغامات بھیج سکیں گے، ساتھ ہی تصاویر اور ویڈیو کالز بھی کرسکیں گے۔

    ٹک ٹاک گوگل سرچ انجن کیلئے بھی خطرہ بن گیا

    اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسنیپ چیٹ ارادہ رکھتا ہے کہ اس ورژن کو پوری دنیا میں متعارف کروانے سے قبل اسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، فرانس اور جرمنی میں بھی لانچ کروایا جائے جلد ہی یہ فیچر پاکستان اور بھارت کے لیے بھی متعارف کرادیا جائے گا۔

    اسنیپ چیٹ کے ویب ورژن کے ذریعے آپ ناصرف پیغامات اور تصاویر بھیج سکیں گے بلکہ ویڈیو کالز بھی کرسکیں گے، اس کے علاوہ آپ کو ڈیسک ٹاپ پر وہ تمام فیچرز میسر ہوں گے جو آپ موبائل پر استعمال کرتے ہیں۔

    فِچ ریٹنگز نے پاکستان کے آؤٹ لک کو مستحکم سے منفی کر دیا

    ایپ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ تمام پروڈکٹس کی طرح ہماری ٹیم نے ویب کے لیے اسنیپ چیٹ پرائیویسی مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کی ہے, ہم نے یہ ایک منفرد پرائیویسی اسکرین کے ساتھ لانچ کیا ہے جو کچھ اور کام کرنے پر اسنیپ چیٹ کی وِنڈو کو چُھپا دے گی-

    ویب ورژن کیسے لاگ اِن کریں؟

    اسنیپ چیٹ کے ویب ورژن تک رسائی کے لیے سب سے پہلے ڈیسک ٹاپ پر web.snapchat.com کھولنا ہوگا، اس میں اب اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ ڈالنا ہوگا جس کے بعد موبائل پر تصدیقی پیغام موصول ہوگا ایک بار صارف لاگ ان ہوگیا تو پھر باآسانی تمام فیچر تک رسائی حاصل کرسکے گا۔

    نجومی خاتون بابا وانگا کی 2022 میں کی گئی پیشگوئیوں میں 2 پوری ہو گئیں

    واضح رہے کہ اسنیپ چیٹ نے حال ہی میں اسنیپ چیٹ+ پریمیئم ٹیئر اضافی لیکن مصنوعی فیچرز کے ساتھ جاری کیا تھا ان فیچرز میں ایپ کے نشان کے اسٹائل میں تبدیلی، یہ دیکھنا کہ کس نے اسٹوری دوبارہ دیکھی اور اپنےکسی دوست کو ’بی ایف ایف‘ بنانا اور ان کو اپنی چیٹ ہسٹری میں سب سے اوپر پِن کرنا شامل تھا۔

    سعودی عرب میں امریکی صدر کا استقبال،سرخ کارپٹ کی جگہ بنفشی کارپٹ کیوں بچھائے گئے؟

  • قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    ملکی معیشت اور سیاست کے افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ۔ جاری سیاسی رسہ کشی اور اقتدار کی جنگ نے ایک خطرناک نہج اختیار کرلی۔ جس پر قومی سلامتی کے اداروں پر بہت بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے۔ سیاسی کشمکش کے زہریلے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ مقتدر حلقوں کی صفوں میں سرایت کرتے جا رہے ہیں۔

    وقت آن پڑا ہے کہ مقتدر حلقے اور سیاسی زعماء سرجوڑ کر بیٹھیں۔ ماضی کی غلطیوں، غلط فیصلوں، کوتاہیوں کو خلوص دل سے تسلیم کر کے اور کروا کے مستقبل میں اپنی حدود اور قیود کا نئے سرے سے تعین کریں اور فیصلہ کریں ملک میں معاشی استحکام ہو۔ ذاتی پسند ناپسند اپنی مرضی کے ججوں، جرنیلوں، دوسرے اہم اداروں میں تعیناتیوں کی دوڑ میں ہم آج اس مقام پر کھڑے ہیں۔ اگر اس وقت بھی اقتدار اور اقرباء کی حوس کو لگام نہ ڈالی گئی اور جج میرا جنرل میرا وزیراعظم میرا وزیراعلیٰ میرا چیئرمین۔ میرا میم ڈی میرا وزیر خارجہ میرا وروزیر خزانہ کی رٹ جاری رہی تو ملک اور عوام کو اس کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

    اس وقت ایک اخلاص محبت الوطنی اور سچائی کے جذبے کی ضرورت ہے جو ذاتیات سے بلند ہو کر اعلیٰ ذہانت اور بے لوث قیادت کے ساتھ وطن عزیز کو سیاسی و معاشی منجدھار سے نکالے اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ملکی سیاسی گلیاروں میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ملکی قومی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہرذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تواتر کے ساتھ پاک فوج اور ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید ملک کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

    ملکی حالات کے پیش نظر سیاستدانوں کو قومی سلامتی کے اداروں پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہئے۔ عراق، لیبیا، شام، افغانستان ، آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکے ہیں ان ممالک میں قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنایا گیا عالمی طاقتوں نے کمزور قومی سلامتی کے اداروں کو دیکھ کر ان ممالک کا حشر نشر کر دیا آج یہ ممالک عبرت کا نشان ہیں ان ممالک کو دیکھ کر ہمارے سیاستدانوں کو اقتدار کی حوس میں اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ہم اپنے جن قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر کسی باہوش بھارتی سے پوچھیں تو وہ ڈرتا بھی انہی اداروں سے ہے۔

  • ن لیگ ووٹ کو عزت دو بیانیہ سے محروم،  تجزیہ : شہزاد قریشی

    ن لیگ ووٹ کو عزت دو بیانیہ سے محروم، تجزیہ : شہزاد قریشی

    ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی اور پی ڈی ایم جماعتوں اور بالخصوص مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں شکست نواز شریف کے بیانیے ووٹ کو عزت دو سے انحراف نے عوامی پذیرائی سے محروم کردیا ۔ ٕ

    جب تک ووٹ کو عزت دو کا پرچار کیا جارہا تھا عوام کی اکثریت نواز شریف اور بعد میں مریم نواز کے جلسوں میں دیوانہ وار شرکت کررہے تھے۔ جس تحریک کا آغاز نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو شروع کیا تھا اس طرح کی تحریکیں ٹھنڈی نہیں ہوا کرتیں لیکن ڈیل اور ڈھیل کی سیاست نے نواز شریف کی سیاست کو اور جماعت کو شدید نقصان پہنچایا پھر پاکستان مسلم لیگ(ن) کی پاکستان میں موجودہ قیادت نے (ن) لیگی کارکنوں اور عہدیداروں کو نظر انداز کیا وہ ایک الگ کہانی ہے ۔

    نواز شریف کی ہمدردی میں جو لہر اُبھری تھی اس لہر کوبھی دوبارہ اُبھارنے کے لئے نواز شریف کی ضرورت ہے ۔ ملک میں موجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں(ن) لیگ کی پنجاب میں شکست کے برابر شریک ہیں۔ میاں محمد شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ پارلیمانی سیاست ، پارلیمنٹ اور سیاست میں جن راستوں پر وہ چل پڑے ہیں کبھی بھی سیاسی جماعتوں کو مضبوط نہیں کرسکتی مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور قائدین اپنا تجزیہ کرنے کو تیار نہیں ان کے طرز عمل سے کیسے جمہوری نظام اور ووٹ کی سیاست کمزور ہو رہی ہے ۔

    یہ ہماری سیاست کا المیہ ہے کہ طاقت کی سیاست کے پیچھے بھاگاجا رہا ہے ۔ عوام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جمہوری ممالک میں عوام ہی انتخابات میں فیصلہ کرتے ہیں۔ آج کل ملک میں آئین کے آرٹیکل 6 پر باتیں کی جا رہی ہے آئینی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 6 سے پہلے آرٹیکل 3 بھی آتا ہے جس کی رو سے ملک میں ہر قسم کے استحصال کا خاتمہ ،ہر شہری کو باعزت روزگار کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ آئینی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 38 بھی اسی آئین کا حصہ ہے ۔

    ان آئین کی شقوں کی خلاف ورزی حکومتیں کرتی چلی آرہی ہیں ۔ اس پامالی پر شور کیوں نہیں مچایا جاتا ؟ ان شقوں پر پارلیمنٹ میں بحث کیوں نہیں ہوتی ؟اگر آمریت نے آئین کو پامال کیا ہے تو کیا جمہوری حکومتوں نے اس کی پاسداری کی ہے ؟ سچ تو یہ ہے کہ ملک میںاہل ہوس مدعی بھی ہیں اور منصف بھی ۔ عوام مسلسل دھوکہ اور فریب کھا رہی ہے۔ عوام کا رُخ موڑنے کے لیے کھیل تماشے کئے جاتے ہیں ۔ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنا تو دور کی بات یہ سوچنے سے بھی عاری ہیں ۔75 سالوں میں جس ملک میں بجلی کا بحران ختم نہیں ہوا ور کی تمنا عوام عوام کیسے کرے گی ۔