Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مٹی کیا ہے؟ .  تحریر : کامران واحد

    مٹی کیا ہے؟ . تحریر : کامران واحد

    کیا یہ بنی نوعِ انسان کے وجود کا عنصرِ اعظم ہے؟
    کیا یہ نباتات کی افزائش کا محرکِ اعلیٰ ہے ؟
    کیا یہ فرشِ زمین کی تہوں میں موجود بنیادی مرکب ہے؟
    کیا یہ ریگزاروں کا جلتا ہوا جسم ہے؟
    اور کیا یہ شہرِ خموشاں میں مردہ اجسام کی شکست و ریخت کا اصل ذمہ دار ہے؟
    جی نہیں مٹی کے معانی اس سے کہیں بلند تر ہیں
    مٹی محبت کا پہلا آئینہ ہے۔ ہمارے اور ہمارے اردگرد کے ہر قسم کے اجمالی وجود کا آئینہ، جو انسانی عکس کو سنبھالے ہوئے ہے۔

    تو جب انسان اپنی مٹی سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس دعویٰ کا اصل کیا ہے؟
    اس کا اصل اپنے مٹی سے گندھے وجود کو کسی مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنے محیط کی مٹی میں ضم کر دینا ہے۔
    اور اس کی سب سے بہترین شکل مٹی کے خالق اور وطن کی خاطر اپنے جسم وجان قربان کرنا ہے۔
    وہ انسان عظیم ہیں جو اس مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنا سب کچھ لٹانے پر مصر ہیں۔
    وہ بھی جو دن رات اپنی تمام تر قوتیں اور محنتیں اپنے مٹی کی محبت میں خرچ کر رہے ہیں اور وہ بھی جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیتے ہیں۔
    ہم مٹی ہیں اور ہمارے وطن کی عظیم مٹی میں بے شمار شہداء کی مٹی ضم ہے۔
    ان سرپھروں کی مٹی جو اپنی جوانیاں اس مٹی کی حفاظت میں لٹادیتے ہیں۔
    ان مٹی سے بنے انسانوں کو مٹی اپنے سر کا تاج سمجھتی ہے اور اپنے اوپر ان کی نقل و حرکت کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتی ہے۔

    مگر افسوس یہ ہے کہ اسی مٹی کا احسانِ وجود اٹھانے والے کچھ مٹی سے بنے لوگ، ان جوانیاں لٹانے والوں کی توھین اور استہزاء میں سرگرمِ عمل ہیں-
    ایسے لوگ ضمیر فروش بھی ہیں اور احسان فراموش بھی۔
    بھلا اس سے بڑھ کر احسان فراموشی اور ضمیر فروشی کیا ہوسکتی ہے کہ اسی مٹی سے بنے انسان کو اپنے وطن کی مٹی کی تزئین اور ارتقاء سے بیر ہوجائے۔
    آخر کون لوگ ہیں یہ۔ ان کی پہچان کیا ہے۔
    ان کی سب سے بڑی پہچان ان کے سینوں میں موجود مٹی کا بغض ہے جو ان کے مٹی سے بنے ہونٹوں سے زہر کی طرح اگلتا ہے۔
    اے مٹی کے بنے انسانو! مٹی کے ان دشمنوں کو پہچانو۔ وگرنہ شہرِ خموشاں کی مٹی اپنا قرض سود سمیت وصول کرنے کو تیار ہے۔

  • ترک سائنسدان کی دماغی کینسر کے علاج میں پیشرفت

    ترک سائنسدان کی دماغی کینسر کے علاج میں پیشرفت

    انعام یافتہ ترک کیمیا دان کے مطابق، حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغی رسولیوں کے علاج کے لیے ایک منفرد مالیکیول استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : عزیز سنجار کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ کے کینسر کے علاج کے لیے ایک منفرد ای ڈی یو (EdU) نامی مالیکیول کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والے تحقیقاتی مقالے میں انہوں نے بتایا ہے کہ 2008ء سے مالیکیولر حیاتیات میں استعمال ہونے والے ای ڈی یو (EdU) مالیکیول کا شمار مقبول ترین مالیکیولز میں کیا جاتا ہے۔

    نوبل انعام یافتہ سائنسدان سنجار نے کہا کہ میں نے 10 سال تک ڈی این اے میکانزم پر کام کیا، جس کی وجہ سے مجھے یہ انعام ملا۔

    انہوں نے تحقیق کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں سال جنوری میں اس تحقیق پر کام شروع کیا، صرف 1 ماہ کے بعد فروری میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ای ڈی یو مالیکیول دماغ میں موجود کینسر کے خلیات کو تباہ کرتا ہے۔

    ترک سائنسداں عزیز سنجار نے تمام ضروری معائنے کے بعد اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے دماغ کے کینسر کے خلاف پیش قدمی کر لی ہے تحقیق سے یہ دریافت ہوا ہے کہ ای ڈی یو دماغ کی رسولیوں کے علاج کے لیے ایک مؤثر انتخاب ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ای ڈی یو کینسر کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باوجود خون کو دماغ تک رسائی دے سکتا ہے جو کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی موجودہ بیشتر ادویات سے بھی ممکن نہیں۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    تحقیق نے دریافت کیا کہ خون دماغی رکاوٹ کو عبور کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ای ڈی یو "دماغ کے رسولیوں کے علاج کے لیے ایک امید افزا آپشن” ہے۔

    زیادہ تر ادویات خون سے دماغ تک نہیں جا سکتیں۔ مثال کے طور پر، کیمیکل سسپلٹین، جو کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہے۔ نتیجے کے طور پر، یہ دماغ کی خرابیوں کے علاج کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ یہ ای ڈی یو بغیر کسی مشکل کے دماغ میں داخل ہوتا ہے۔

    دریافتوں کو انسانوں پر آزمانے سے پہلے چوہوں کو استعمال کیا جائے گا۔

    سنجار کے مطابق، چوہوں پر تحقیق میں دو سال لگیں گے۔ سنجار نے کینسر کے مریضوں کو بتایا کہ وہ فی الحال یقین رکھتے ہیں کہ انسانی ادویات میں صرف 3 فیصد دریافتیں ہی کارگر ثابت ہوں گی۔

    انہوں نے کہا کہ امید رکھیں اور اس وقت دستیاب مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں،” میرا پیغام ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ سے تعلق رکھنے والے کیمیائی سائنسداں عزیز سنجار ترکیہ ہی میں پیدا ہوئے تھے لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکا میں گزارا ہے انہوں نے ڈی این اے میکانزم پر 10 سال تک کام کیا ہے، ڈی این اے میکانزم کے شعبے میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے 2015ء میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

  • تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کلائمٹ چینج سے خود امراض کی شدت اور انسانوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : موسمیاتی تبدیلی نے 200 سے زیادہ متعدی امراض اور درجنوں غیر منتقلی حالات، جیسے زہریلے سانپ کے کاٹنے کو بڑھا دیا ہے۔ آب و ہوا کے خطرات لوگوں اور بیماری پیدا کرنے والے جانداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، جس سے کیسز میں اضافہ ہوتا ہے۔ گلوبل وارمنگ کچھ حالات کو مزید سنگین بھی بنا سکتی ہے اور متاثر کر سکتی ہے کہ لوگ انفیکشن سے کتنی اچھی طرح لڑتے ہیں۔

    امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    جامعہ ہوائی کے ڈیٹا سائنٹسٹ کیمیلو مورا نے بتایا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے نہ صرف دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں بلکہ ہم انسان ان سے لڑنے کی صلاحیت بھی کھوتے جا رہے ہیں کئی ایک موسمیاتی شدتوں سے جراثیم کی سرگرمی بڑھ جاتی ہے اور ان کا انسانی حملہ شدید ہوسکتا ہے بلکہ ہو بھی رہا ہے۔

    اس تحقیق میں کل 77 ہزار تحقیقی مقالوں، رپورٹ اور کتابوں کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں موسم اور انفیکشن امراض کے درمیان تعلق موجود تھا گرین ہاؤس گیسوں (جی ایچ جی) کی وجہ سے مرض کی شدت بڑھ رہی ہے ان تبدیلیوں سے نصف سے زائد امراض انسانوں کو قدرے شدت سے بیمار کرسکتے ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلی اور بیماری کے درمیان تعلق کے بارے میں سے پیدا ہونے والے دس خطرات بڑی موسمیاتی تبدیلیوں میں تپش، ہوا میں نمی، سیلاب، خشک سالی، طوفان، جنگلات کی آگ، گرمی کی لہر اور دیگر محرکات شامل کئے ہیں ان میں بیکٹیریا، وائرس، جانوروں، فنگس اور پودوں کے ذریعے پھیلنے والے یا متحرک ہونے والے انفیکشن شامل ہیں خلاصہ یہ ہے کہ تمام کیفیات جراثیم اور انسان کے درمیان رابطہ بڑھا رہی ہیں اور انسان بیمار ہو رہا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    کیمیلو مورا، یونیورسٹی آف ہوائی کے مانووا میں ڈیٹا سائنسدان، اور ان کے ساتھیوں نے اس بات کے ثبوت کے لیے لٹریچر کا جائزہ لیا کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلی ڑھتے ہوئے درجہ حرارت، سطح سمندر میں اضافہ اور خشک سالی نے تمام دستاویزی متعدی بیماریوں کو متاثر کیا ہے

    ماہرین نے کہا ہے کہ خود انسان کے پاس بھی اس فوری تبدیلی سے نمٹنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں۔ گہرائی میں دیکھنے پر ایک تو موسم جراثیم یعنی بیکٹیریا اور وائرس وغیرہ کے لیے طویل عرصے کے لیے موافق ہوتا جا رہا ہے جبکہ ان کی افزائش کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ وائرس اور جراثیم کا وار سخت و شدید ہوتا جا رہا ہے۔

    گرمی بڑھنے سے مچھروں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور نتیجے میں ڈینگی، ملیریا اور دیگر امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر بارش اور طوفان کا پانی ہفتوں ایک جگہ موجود رہتا ہے جو جراثیم کے لیے ایک موزوں جگہ بن جاتا ہے اور اس طرح کئی طرح کے بخار، ویسٹ نائل فیور اور لیشمینیا جیسی بیماریاں شامل ہیں۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    رپورٹ کے مطابق فصل اور اجناس میں غذائیت کم ہونے سے خود انسان کا امنیاتی نظام بھی کمزور ہورہا ہے جس سے ہم طرح طرح کی بیماریوں کا ترنوالہ بن سکتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کلائمٹ چینج کے تناظر میں انسانی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

    شارلٹس وِل میں یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن کے ایک وبائی امراض کے ماہر جوش کولسٹن کا کہنا ہے کہ "بنیادی طور پر تمام آب و ہوا کے اثرات اور تمام متعدی پیتھوجینز کو ایک کاغذ میں دیکھنا انتہائی پرجوش ہے وہ بہت اچھی طرح سے معلومات کی ایک بہت بڑی مقدار کی ترکیب کرتے ہیں۔

    مورا کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ ان بہت سے طریقوں کی پیمائش کرتا ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی انسانی بیماریوں کو متاثر کرتی ہے۔ "ہم اپنی باقی زندگی کے لیے اس سنگین خطرے کے سائے میں رہیں گے-

    محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

  • سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    یورپی خلائی ایجنسی سرخ سیارے مریخ پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا ایک تفصیلی نقشہ بنایا ہے جو مستقبل کے مشن کے لیے خلانوردوں کی آبی ضروریات پوری کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس اہم کام سے ہم نہ صرف پانی سے لبالب بھرے مریخی ماضی کو سمجھ سکیں گے بلکہ انسانی مشن بھیجنےکےموزوں مقامات کا اندازہ لگانےمیں بھی مدد مل سکےگی پانی کا یہ تفصیلی نقشہ یورپی خلائی ایجنسی کےمارس ایکس ایکسپریس، ناسا کے مارس ریکونیسنس آربیٹر اور دیگر مشنز کی تحقیقات سے بنایا گیا ہے-

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    بنیادی طور پر یہ ایک ایسا نقشہ ہے جن میں ایسی معدنیات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پانی کسی بھی حالت میں موجود ہوسکتا ہے۔ یہاں کے خدوخال ماضی میں بہنے والے پانی نے تراشے ہیں اور گارے کے علاوہ نمکیات بھی موجود ہوسکتے ہیں۔

    جب پانی پتھروں اور چٹانوں پر بہتا ہے تو مختلف قسم کی چکنی مٹی یا گارے وجود میں آتے ہیں۔ اگر پانی کی مقدار کم ہو تو اسمیکٹائٹ اور ورمی کیولائٹ بنتا ہےاور پتھر اپنےخواص برقرار رکھتا ہے جب پانی زیادہ ہو تو وہ چٹانوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اور بسا اوقات المونیئم سے بھرپور معدن مثلاًکاؤلن وجود میں آتی ہے۔

    ماہرین نے دس سال میں مریخ پر لگ بھگ ایک ہزار ایسے مقامت دریافت کیے ہیں جبکہ لاکھوں مقامات ایسے ہیں جہاں ہم سیارے کا قدیم ماضی دیکھ سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پانی نے سیارہ مریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن آیا مریخ پر پانی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب اب بھی معلوم کرنا باقی ہے اور نیا مریخی نقشہ اس میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔

    پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مختلف اقسام کی چکنی مٹی، گارے اور ان پر موجود نمکیات ہماری توقعات سے زائد ہیں۔ اس سے خود مریخ کی معدن کا نقشہ بنانے میں مدد ملے گی۔

    اس تحقیق میں موجود سینئیر محقق جان کارٹر کے مطابق "اس کام نے اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب آپ قدیم خطوں کا تفصیل سے مطالعہ کر رہے ہیں، تو ان معدنیات کو نہ دیکھنا دراصل ایک عجیب بات ہے،-

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    سرخ سیارے کی تاریخ کے بارے میں ہماری سمجھ کے لیے یہ ایک مثالی تبدیلی ہے۔ آبی معدنیات کی چھوٹی تعداد سے جو ہم پہلے جانتے تھے کہ موجود ہیں، یہ ممکن تھا کہ پانی اپنی حد اور مدت میں محدود ہو۔ اب اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی نے کرہ ارض کے چاروں طرف ارضیات کی تشکیل میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔

    اب، بڑا سوال یہ ہے کہ آیا پانی مستقل تھا یا مختصر، زیادہ شدید اقساط تک محدود تھا۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی جواب فراہم نہیں کیا گیا ہے، نئے نتائج یقینی طور پر محققین کو جواب حاصل کرنے کا ایک بہتر ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

    جان کارٹر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ہم نے اجتماعی طور پر مریخ کو زیادہ آسان بنا دیا ہے وہ بتاتے ہیں کہ سیاروں کے سائنس دانوں نے یہ سوچنے کا رجحان رکھا ہے کہ مریخ پر صرف چند قسم کے مٹی کے معدنیات اس کے گیلے دور میں پیدا ہوئے تھے، پھر جیسے جیسے پانی آہستہ آہستہ خشک ہوتا گیا، پورے سیارے میں نمکیات پیدا ہوتے گئے۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    یہ نیا نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پہلے کی سوچ سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگرچہ مریخ کے بہت سے نمکیات شاید مٹی کے مقابلے میں بعد میں بنتے ہیں، نقشہ بہت سی مستثنیات کو ظاہر کرتا ہے جہاں نمکیات اور مٹی کا گہرا اختلاط ہوتا ہے، اور کچھ نمکیات جو کچھ مٹی سے پرانے تصور کیے جاتے ہیں۔

    ماہرین نے اس دریافت پر کئی تحقیقی مقالات لکھے ہیں جس کی تیاری میں یورپی خلائی ایجنسی، جاپانی خلائی ایجنسی، اور انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ ایئروناٹیکل سائنس کے ماہرین شامل ہیں اس تحقیق سے مستقبل کے مریخی منصوبوں اور مریخ نوردوں کو مناسب جگہ اتارنے میں بہت آسانی حاصل ہوسکے گی۔

    وہ کہتے ہیں کہ بہت سارے پانی سے بغیر پانی تک ارتقاء اتنا واضح نہیں ہے جتنا ہم نے سوچا تھا، پانی صرف راتوں رات نہیں رکا۔ ہم ارضیاتی سیاق و سباق کا ایک بہت بڑا تنوع دیکھتے ہیں، تاکہ کوئی بھی عمل یا سادہ ٹائم لائن مریخ کی معدنیات کے ارتقاء کی وضاحت نہ کر سکے۔ یہ ہمارے مطالعے کا پہلا نتیجہ ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر آپ زمین پر زندگی کے عمل کو خارج کرتے ہیں تو، مریخ ارضیاتی ترتیبات میں معدنیات کے تنوع کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ زمین کرتی ہے۔

    جان کارٹر نے مزید کہا کہ دوسرے الفاظ میں، ہم جتنا قریب سے دیکھتے ہیں، مریخ کا ماضی اتنا ہی پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

  • جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    حکومت اور مقبولیت کا نشہ ہمارے سیاستدانوں کا اس قدر تیز اور تند ہوتا ہے کہ وہ تمام حدوں کو عبورکر جاتے ہیں اور پھر بعد میں اس کو جوش خطابات کا نام دیا جاتا ہے ۔ جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنا سیاستدانوں کے مرہون منت ہوتا ہے ۔ جلسوں ،چوراہوں ، گلی ، محلوں اور سوشل میڈیا پر قومی سلامتی ملکی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے بارے میں ا پنے جوش و جذبات کو کنٹرول رکھنا ہی دانشمندی ہے ۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور حکومت تک وطن عزیز پر دہشت گردوں اورا نتہا پسندوں کی لپیٹ میں تھا ہر طرف خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں خوف و ہراس کے سائے منڈلا رہے تھے بازاروں کی رونقیں ختم ہو گئی تھیں بھارت سمیت کئی عالمی طاقتیں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ ایسے میں پاک فوج نے ضرب عضب اور ردالفساد آپریشن شروع کیا اور ملک سے دہشت گردی ا ور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا ۔

    پاک فوج ،پولیس اور دیگر قومی سلامتی کے اداروں نے اپنی جانیں قربان کرکے وطن عزیز اور قوم کو خونخوار پنجوں سے آزاد کروایا بلاشبہ سول سوسائٹی نے بھی قربانیاں دیں۔ فوج میں غازیوں کی کمی نہیں شہیدوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ پولیس کے افسران اور نچلے درجے کے شہداء کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے شہید ہو گئے۔ سابق سی پی او راولپنڈی احسن یونس نے اپنے دور تعیناتی راولپنڈی میں ان شہداء کی یاد میں تقریبات منعقد کی اور ان کی بڑی بڑی تصاویر پولیس لائن میں لگائیں۔ اسی طرح کراچی ، لاہور اور دیگر صوبوں میں بھی ۔ اس ملک کی سلامتی اور اس قوم کو زندہ رکھنے میں ان شہیدوں کا بڑا کردار ہے ۔ وطن کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں کا کوئی شمار اور بدلہ نہیں دیا جا سکتا ۔ حکمرانوں سمیت اپوزیشن ہوش کے ناخن لیں جمہوریت چل رہی ہے تو اسے چلنے دیں۔ اس وقت قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں۔ سیاستدانوں کی ہی وجہ سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا رہا اور پھر اس کا انجام کیا ہوتا رہا ۔ ملک کے جو حالات ہیں جس لائن کو سب کراس کررہے ہیں ان حالات میں ملک کا کوئی ادارہ لاتعلق ہو کر گوشہ تنہائی میں نہیں رہ سکتا۔

  • نئی سیاسی جماعت کیا ملکی مسائل کا حل — نعمان سلطان

    نئی سیاسی جماعت کیا ملکی مسائل کا حل — نعمان سلطان

    ہم دوست آپس میں ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے دوران گفتگو نئی سیاسی جماعت کے قیام اور اس کی انتخابات میں کامیابی کا ذکر چھڑ گیا بظاہر دیکھا جائے تو پاکستان میں مخصوص سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری ہے، پاکستان تحریک انصاف نے بھی تقریباً پینتیس سال کی جدوجہد کے بعد اپنا سیاسی مقام حاصل کیا، (کس طرح حاصل کیا یہ تحریر کا موضوع نہیں لیکن میرے خیال میں سیاست میں تمام سیاسی جماعتوں کو کشادہ دل اور حالات کے مطابق دفاعی یا جارحانہ حکمت عملی سے آگاہ ہونا چاہئے تاکہ وہ جمہوریت کے زیادہ سے زیادہ ثمرات حاصل کر سکیں) ۔

    پھر انہیں میں نے پڑوسی ملک( بھارت) کی مثال دی وہاں بھی سیاست میں پاکستان کی طرح ہر قسم کی خرافات رائج تھیں اور دردِ دل رکھنے والے لوگ وہاں بھی پریشان تھے ایسے میں وہاں سماجی خدمات کے حوالے سے انتہائی مشہور شخصیت "انا ہزارے” نے اصلاحات کے لئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھوک ہڑتال کر دی اور ان کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے سیاست دان کافی حد تک ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو گئے ۔

    بھوک ہڑتال میں ان کے ساتھ شریک ان کے شاگرد یا بھگت "ارویند کیجری وال” نے یہ محسوس کیا کہ ہمارے مطالبات جائز اور لوگوں کے دل کی آواز ہیں اسی وجہ سے ہمیں بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہے لیکن ان مطالبات کی منظوری کے لئے ہم سیاست دانوں کے محتاج ہیں یعنی ایک اچھے کام کے لئے بھی ہمیں برے لوگوں سے منظوری لینی پڑے گی چنانچہ اس کا حل یہ ہے کہ ہم خود سیاسی طاقت حاصل کریں اور لوگوں کو ڈائریکٹ فائدہ دیں۔

    انا ہزارے نے ان کے خیالات کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم سماجی کارکن ہیں اگر سیاست میں آ گئے تو ہمارے اخلاص پر سوالیہ نشان آ جائے گا لیکن ارویند کیجری وال اپنی دھن کے پکے تھے انہوں نے "عام آدمی پارٹی ” کے نام سے سیاسی جماعت بنائی جھاڑو کا انتخابی نشان حاصل کیا کہ ہم ملکی سیاست کا گند صاف کریں گے، پہلی مرتبہ دہلی میں مخلوط حکومت بنائی اتحادیوں کے بلیک میل کرنے پر اسمبلی توڑ دی عوام کی عدالت میں گئے اور اکثریت حاصل کر کے دوبارہ حکومت بنائی ۔

    انہوں نے اپنے دور حکومت میں بے شمار عوامی خدمات کے منصوبے شروع اور مکمل کئے، سرکاری ملازمین کو صحیح معنوں میں عوام کا خدمت گزار بنایا، عوامی شکایات کے ازالے کی فوری کوشش کی جس کی وجہ سے وہ پنجاب میں ہونے والے حالیہ الیکشن میں بھی واضح برتری حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے اور اب پنجاب کے عوام کو بھی امید ہے کہ دہلی کی طرح پنجاب میں بھی اصلاحات ہوں گی۔

    ارویند کیجری وال نے نظریاتی اختلافات پر احترام کے ساتھ انا ہزارے سے اپنے راستے جدا کر لئے، انا ہزارے نے انہیں کہا کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کہیں بھی انا ہزارے کا نام اور تصویر استعمال نہیں کرنی انہوں نے ایسا ہی کیا، چند ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر سیاسی جدوجہد شروع کی جو کہ ان کے اخلاص اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے پورے کرنے کی وجہ سے دن بدن کامیاب ہو رہی ہے، اور امید ہے اگر وہ اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو ایک دن پورے بھارت میں عام آدمی پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے اپنی حکومت بھی بنا لے گی۔

    تو دوستوں نظریات کی بنیاد پر اخلاص کے ساتھ سفر شروع کرنا شرط ہے، اگر آپ الیکٹیبلز کو ناگزیر سمجھتے رہے تو جو پاکستان میں عمران خان کے ساتھ ہوا وہی آپ کے ساتھ ہو گا، ہم لوگ اصل میں زینے کے بجائے لفٹ سے اوپر جانے کے قائل ہیں جبکہ سال کا سفر مہینے میں نہیں البتہ کچھ مہینوں میں طے ہو سکتا ہے ابتدا ہمیشہ تھوڑے سے ہی کی جاتی ہے پھر اپنی محنت، کام سے لگن اور اخلاص کی وجہ سے اس تھوڑے کو زیادہ میں تبدیل کیا جاتا ہے، جیتنے کے لئے سب سے پہلے دل سے ہار کا خوف ختم کرنا چاہیے کیونکہ مقابلہ ہمیشہ بہادر کرتے ہیں ۔

    تو اگر آپ میں بھی اخلاص ہے اور خدمت خلق کی وجہ سے آپ کی اپنے علاقے میں اچھی ساکھ ہے تو آپ اپنی سیاسی جماعت نہیں بنا سکتے تو انفرادی طور پر اپنے علاقے سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں لوگوں کو اپنی انتخابی مہم میں قائل کریں کہ "آزمائے ہوئے کو آزمانہ بے وقوفی ہے "اس طرح اگر چند اچھے لوگ بھی الیکشن جیت کر قومی یا صوبائی اسمبلی میں چلے گئے تو وہ وہاں مل کر اپنا نظریاتی گروپ بنا لیں۔

    اور جہاں تک ممکن ہو اپنے حلقے کی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن کوشش کریں یہ ان کا اخلاص ہی ہو گا جو اگلے الیکشن میں ان کی کامیابی کے لئے مددگار ہو گا منزل پر پہنچنے کے لئے ابتدا پہلا قدم اٹھانے سے ہوتی ہے تو آنے والے انتخابات میں یا انفرادی حیثیت میں انتخاب میں حصہ لیں یا کسی مخلص امیدوار کی کامیابی کے لئے جان توڑ کوشش کریں تا کہ وہ کامیاب ہو کر کسی مخصوص طبقے کو نہ نوازے بلکہ تمام اہل علاقہ کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے۔

  • ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ملک میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے اکثر علاقوں میں سیلاب آیا ہوا ہے، درد دل رکھنے والے احباب محکمہ موسمیات کی بروقت پیش گوئی کے باوجود نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ کرنے یا جن علاقوں میں حکومت کو حالات قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ہو وہاں سے لوگوں کے بروقت انخلاء نہ کرانے کی وجہ سے تنقید کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے بروقت مناسب اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کا بہت زیادہ جانی یا مالی نقصان ہوا ہے ۔

    آپ نے اکثر بازار میں بھکاری دیکھے ہیں جو ہٹے کٹے بھکاری ہوں انہیں لوگ امداد دینے سے زیادہ غیرت دلاتے ہیں کہ اللہ پاک نے تمھیں صحت کی نعمت سے نوازا ہے تو محنت مزدوری کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کیوں نہیں کرتے اس کے برعکس جو بھکاری جسمانی طور پر معذور ہو یا اس کی بظاہر حالت قابل رحم ہو وہ اگر دست سوال دراز نہ بھی کرے تو لوگ اسے روک کر خود امداد دیتے ہیں، اسی لئے اگر کوئی جسمانی طور پر صحت مند بھکاری ہو تو وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی معذور بچے یا فرد کو اپنے ساتھ نتھی کر کے اس کی قابل رحم حالت کی بنیاد پر بھیک مانگے اور لوگ بھی بغیر کوئی سوال جواب کرے ایسے شخص کو امداد دے دیتے ہیں ۔

    ہم ملک پاکستان کے شہری اللہ کے فضل سے ایک ایٹمی قوت ہیں اور ہمارا پاس اسلامی بم ہے ہم امت مسلمہ کے خودساختہ ٹھیکیدار اور محافظ ہیں لیکن حالات یہ ہیں کہ اگر ہمیں امداد نہ ملے تو ہمارے پاس ایک یا دو مہینے کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جن کے ہم خودساختہ محافظ اور ٹھیکیدار ہیں وہ بھی ہمیں آنکھیں دکھانے لگ گئے ہیں اور ہمیں امداد یا بھیک انتہائی ذلیل کر کے اپنی من پسند شرائط پر دیتے ہیں اور ساتھ طعنہ دیتے ہیں کہ ایٹمی طاقت تو بن گئے ہو اور معاملات میں کیوں نہیں خود کفیل ہوتے ہو۔

    ہٹے کٹے بھکاری کی طرح ہمیں بھی ہماری ظاہری حالت کی وجہ سے امداد نہیں ملتی جبکہ ہڈحرامی کی وجہ سے ہم خود محنت مزدوری کر نہیں سکتے اس لئے ہم بھی صحت مند بھکاری کی طرح کوئی معذور، جسمانی طور پر لاغر اور قابل رحم جسمانی حالت والا بچہ دھونڈتے ہیں اور ہمارا وہ بچہ یا ساتھی قدرتی آفات ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی قدرتی آفت آنے کا ہمیں بروقت معلوم ہو بھی جائے تو ہم وہ وقت اس آفت کا سدباب کرنے کے بجائے اس آفت کی بنیاد پر اقوام عالم سے زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کرنے اور اس امداد سے اپنے اکاؤنٹ بھرنے میں صرف کرتے ہیں ۔

    اسی لئے سیلاب آنے کی بروقت اطلاعات کے باوجود ہم نے اس کے تدارک کے لئے رسمی انتظامات کئے اور ملک میں سیلاب آیا ہوا تھا جبکہ ہم اپنی سیاست بچا رہے تھے سیلاب میں گھرے متاثرین سے زیادہ اہمیت ایک اکیلے شہباز گل کو دی جا رہی تھی کیوں کہ اس نے رہا ہو کر ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانا اور معاشی طور پر خودمختار کرنا تھا اس سارے عمل کے دوران لوگوں کی توجہ متاثرین سیلاب سے ہٹا کر متاثرین سیاست کی طرف لگا دی گئی ۔

    اپنی ذمہ داریوں کا ملبہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ڈالتی رہیں جبکہ اس دوران بین الاقوامی برادری کو سیلاب متاثرین کی حالت زار سے بھی آگاہ کیا جاتا رہا اور امریکہ نے ایک لاکھ ڈالر کی امداد سیلاب متاثرین کے لئے دے دی اور شاید بعد میں دس لاکھ ڈالر کی مزید امداد دی یا دس لاکھ ڈالر کی امداد قدرتی آفات سے نبٹنے کے لئے پہلے سے مختص تھی اور اس کے علاوہ ایک لاکھ ڈالر مزید امداد دی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اب ہمیں امداد مل گئی ہے اور سیلاب کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے۔

    تو اس امداد کے ذریعے حکومت اب پورے دل سے متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے کوشش کرے گی اور ان کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے گی اور بچنے والے پیسوں سے اپنے اردگرد موجود مستحق لوگوں کی امداد کرے گی جو ہر اچھے وقت میں ان کے ساتھی ہیں اس اب کے باوجود ہم ایٹمی قوت ہیں بھکاری نہیں لیکن اگر قدرت کسی کے دل میں رحم ڈال اور وہ ہمیں ہدیہ دے تو ہم ہدیہ قبول کر لیتے ہیں کیونکہ ہدیہ قبول نہ کرنا کفران نعمت ہے ۔

  • اندھا اعتقاد — نعمان سلطان

    اندھا اعتقاد — نعمان سلطان

    دنیا میں بےشمار افراد توہم پرستی کے شکار ہیں لیکن پاکستان میں تو آخیر ہی ہے گزشتہ دنوں فیصل آباد میں ایک پیر صاحب کی خوشنودی کے لئے ایک محفل کا انعقاد کیا گیا اس میں پیر صاحب کو لاثانی کہا گیا جس پر فیصل آباد بار کے وائس پریذیڈنٹ صاحب نے محفل میں سرعام پیر صاحب کے مریدوں کو اس عمل سے روکا جس کے ردعمل میں پیر صاحب کے مریدوں نے ان پر شدید تشدد کیا۔

    کون حق پر ہے یہ آنے والے دنوں میں معلوم ہو جائے گا بظاہر رائے عامہ پیر صاحب کے خلاف ہے، پیر صاحب کا واقعہ سن کر ایک پرانے وقتوں میں سنا واقعہ یاد آگیا جس میں مرید نے ہر حال میں اپنے پیر کا ہی شملہ اونچا رکھنا تھا اور اتنے عرصے بعد بھی مریدوں کا وہی حال ہے بہرحال پرانا واقعہ بیان کرتا ہوں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ ہماری نفسیات بالکل نہیں بدلی ۔

    ایک پیر کے مرید صاحب سعودی عرب بسلسلہ روز گار جانا چاہتے تھے لیکن وہاں جانے کے اسباب نہیں بن رہے تھے، ایک دن اپنے مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ حضرت میں سعودی عرب جانا چاہتا ہوں لیکن کوئی نہ کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے براہ مہربانی مجھ پر نظر کرم کریں مرشد نے حسب عادت ایک تعویز مرید کو دیا اور کہا کہ یہ تعویز پاک چمڑے میں سلائی کرا کے گلے میں پہن لو انشاءاللہ عنقریب تمھارا سعودی عرب جانے کا خواب پورا ہو جائے گا ۔

    مرید نے حسب ہدایت تعویز پاک چمڑے میں سلائی کرا کے پہن لیا اللہ کی کرنی ایسے ہوئی کہ تھوڑے عرصے میں اس کا سعودی عرب جانے کا سبب بھی بن گیا اور وہ سعودی عرب پہنچ کر کام پر بھی لگ گیا کچھ عرصہ گزرا تو اس نے سوچا کہ سعودی عرب میں ہوں اور ابھی تک عمرہ نہیں کیا لوگ اتنے پیسے لگا کر حج. عمرہ کے لئے آتے ہیں مجھے تو اللہ نے موقع دیا ہے میں موقع سے فائدہ کیوں نہ اٹھاؤں ۔

    اپنی خواہش کا ذکر اس نے جب اپنے دوستوں سے کیا تو انہوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے ساتھ عمرے پر جانے کے لئے تیار ہو گئے وہ تمام لوگ حالت احرام میں خانہ کعبہ میں آئے، سعودی لوگ توحید کے معاملے میں انتہائی سخت ہوتے ہیں اور حرم کی حدود میں حکومتی اہلکار مقرر ہیں جو لوگوں کو غیر شرعی افعال سے روکتے ہیں ان میں سے جو نرم دل ہوں وہ زبان سے منع کرتے ہیں اور جو طبیعت کے سخت ہوں وہ ایک آدھا طمانچہ بھی رسید کر دیتے ہیں ۔

    حرم میں ایک اہلکار کی نظر اس مرید پر پڑ گئی کہ حالت احرام میں اس نے تعویز پہنا ہوا ہے اس نے فوراً اسے عربی میں کہا کہ” یہ شرک ہے” اور ایک ہاتھ سے اس کے گلے سے تعویز کھینچ کے اتارا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسے ایک طمانچہ رسید کیا، عمرے کی ادائیگی سے فراغت کے بعد ج وہ دوست اکٹھے ہوئے تو انہوں نے اس مرید سے حرم میں ہونے والے واقعے پر اظہار افسوس کیا اور شرمندگی کا اظہار کیا کہ ہم آپ کو بتانا بھول گئے کہ تعویز پہننے کی ممانعت ہے ۔

    مرید نے بےفکری سے جواب دیا آپ ساری باتیں چھوڑو میرے پیر کی کرامت دیکھو یہ تعویز میں نے سعودیہ آنے کے لئے ان سے لیا تھا اصولاً کام ہونے کے بعد مجھے اسے صاف(پاک) پانی میں بہا دینا چاہیے تھا لیکن میں بھول گیا مگر میرے پیروں کی مجھ پر نظر تھی انہوں نے اس وجہ سے کہ کہیں تعویز اب مجھے پر الٹا اثر نہ کر دے پاکستان میں بیٹھے بیٹھے میرا تعویز بھی اتروا دیا اور طمانچے کی صورت میں میری لاپروائی کی مجھے سزا بھی دے دی۔

    تو دوستوں ہم کل بھی اندھی تقلید کر رہے تھے ہم آج بھی اندھی تقلید کر رہے ہیں خدارا کچھ تو اپنے ذہن سے کام لو اس پیر کے کارنامے سنو تو اس وقت روئے زمین پر اس سے زیادہ خدا کا برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ کوئی نہیں، اس کی نظر سے کوئی بات پوشیدہ نہیں جبکہ اس کی حالت یہ ہے کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ آج کی محفل میں جو وکیل صاحب مدعو ہیں وہ اس کی جھوٹی عظمت کا پول بھری محفل میں کھولیں گے۔

  • ” زندگی کورے کاغذ کی مانند ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” زندگی کورے کاغذ کی مانند ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    آج کل کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے جو اپ کوہر وقت دلاسے دیتا رہےاور اپ کو نصیحتیں کرتا رہے۔اپ کے لئے ہر وقت پریشان ہوتا رہے ۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو یا ان میں آپ کےدوست وغیرہ کو شامل کر لیں. ان کے اپنے کئی مسائل ہیں۔

    اور سب سے بڑھ کر دِلوں کے خالق نے فرما دیا ہے:

    أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

    ترجمہ : ’’ جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ‘‘

    ﴿٢٨ -سورة الرعد﴾

    بہت ہی خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے ایسے ساتھی ہوں جو اپنا قیمتی وقت دیتے ہوں بات سنتے ہوں اور اپنے ساتھ باہر لے کے جاتے ہوں ایسے لوگوں کا احترام کریں۔

    اگر آپ لمبے عرصے تک اس طرح ہی ڈپریشن میں مبتلا رہے توکچھ عرصہ بعد گھر والے اور دوست آپ کی ڈپریشن کو اپ کی ایک عادت سمجھ کر آپ کو اکیلے آپ کے حال پر چھوڑ دیں گے اور یہ صورتحال پھر آپ کے لئے گھمبیر ہو جائے گی۔۔۔

    ڈیپریشن انسان کو مختلف طریقوں سے تباہ کرتا ہے ضروری نہیں کہ ڈپریشن آپ کی جان ہی لے، یہ آپ کو اور کئی طرح سے بھی مار سکتا ہے جیسا کہ یہ آپ کی زندگی کے کئی خوشیوں اور کئی مختلف ایکٹیویٹز سے آپ کو محروم رکھ سکتا ہے۔

    جس میں آپ کے جوانی کے حسین صبح و شام اور لمحات شامل ہوتے ہیں دوستوں کی ہنسی مذاق اور گیدرینگ، مختلف ایونٹس،آپ کی تعلیم اور جاب اور آپ کی شادی وغیرہ شامل ہیں۔

    لہٰذا کسی کا انتظار نہ کریں کہ کوئی آئے گا اور آپ کو آپ کی پریشانی سے نکال دے گا.

    خاص طور پر نوجوان اپنے گھر والوں کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ ان کو اس حالت میں دیکھ کر ضرور کچھ کریں گے یا وہ شخص جس کی وجہ سے آپ ڈپریشن میں مبتلا ہو گئے ہوں اور وہ آپ کو اس حالت میں دیکھ کر واپس آجائے گا تو یقین جانیں ایسا کھبی نہیں ہوگا

    خود کو اذیت نہ دیں۔ ہر بندہ اپنی اپنی زندگی جینے اور خوشی منانے میں مصروف ہے۔

    آپ کو خود ہی اس بلا سے نمٹنا ہوگا۔

    زندگی کورے کاغذ کی مانند ہوتی ہے۔ جس پر ہم وقت کی سیاہی سے اپنے غم اور خوشیاں لکھتے ہیں ۔ اس لمحہ بہ لمحہ احوال میں ہمیں زندگی کے خوشگوار لمحات کو سنہرے حروف سے لکھنا چاہیے، تاکہ اس کی خوبصورتی کا احساس اس سے جڑی بے شمار کجیوں اور کمیوں کے باوجود سلامت رہے۔ یہی وہ احساس ہے جو آخری لمحات تک ساتھ رہنا اور ساتھ رکھنا لازمی ہے تاکہ ہم مثبت طور سے زندگی زندہ دلی کے ساتھ گزار سکیں.

    ڈپریشن سے نکلنے کے لئے مختلف طریقے آزمائیں اور دیکھیں کونسا طریقہ ہے جس سے آپ اچھا پرسکون اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    مثال کے طور پر، عبادت کرنا ،لوگوں کی مدد کرنا، کھیلوں میں حصہ لینا یا بچوں کے ساتھ بیٹھنا اور کھیلنا، دوستوں کے ساتھ گھومنا اور اوٹینگ پر جانا، مزید تعلیم حاصل کرنا، کتابوں کا مطالعہ کرنا یا تحریر لکھنا وغیرہ وغیرہ۔

    اس کا حل آپ نے خود ہی ڈھونڈ نکالنا ہوگا کہ کونسی چیزیں اور عوامل آپ میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔۔

    پھراس پر عمل کریں۔۔۔

    خوش رہیں، زندگی کو بھرپور طریقہ سے جیئیں۔

  • آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    قوموں کے عروج و زوال، ترقی و تنزلی میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے.

    دنیا کے بے شمار انقلابات میں ہمیشہ نوجوانوں نے نمایا کردار ادا کیا. اس وقت دنیا کی شرح میں نوجوانوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے. جہاں بہت سارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرکے آگے بڑھ رہے ہیں، وہیں نوجوانوں کی اکثریت اپنے آپ کو مختلف قسم کی چیزوں میں مشغول کرکے ضائع کررہی ہے. نوجوان ہمیشہ بڑے بزرگوں کی امیدوں کا مرکز رہا ہے.

    دنیا کی ترقی میں جس قدر زیادہ حصہ نوجوانوں کا ہونا چاہیے تھا وہ نظر نہیں آتا بلکہ آج کا نوجوان مایوس مایوس سا دکھتا ہے. اگر نوجوانوں کو مثبت و حوصلہ افزا مواقع مہیا کیے جائیں تو آج کا نوجوان وہ کارہائے نمایا انجام دے سکتا ہے کہ دنیا دنگ رہ جائے.

    پاکستانی قانون کے مطابق 15 سے 30 سال کے افراد جوانی کی فہرست میں آتے ہیں. پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے، جہاں نوجوانوں کی شرح بہت زیادہ ہے. جس قدر ہمارے جوانوں کی شرح زیادہ ہے اسی قدر ہمارے جوان دنیا کے مختلف شعبوں میں پیچھے دکھائی دیتے ہیں. ملکی و معاشرتی دونوں قسم کے اسباب ملکر ہمارے جوانوں کی صلاحیتوں کے ظاہر نہ ہونے کا سبب بنتے ہیں. اور کہیں خود نوجوان اپنے آپ کو ضائع کررہے ہوتے ہیں.

    اولاد کے آگے بڑھنے میں سب سے پہلے کردار والدین کا ہوتا ہے، جیسی تربیت والدین اپنی اولاد کو دیں گے، ویسے ہی نتائج ہمیں اپنی اولاد سے ملنے ہیں. اگر بچے کا رنگ کچھ کالا ہے اور والدین کالا یا کالو کہہ کر بلانا شروع کردیں تو باقی تمام افراد بھی اسی نام سے اسے پکارنا شروع کردیں گے. اگر اسے بہادروں، باہمت لوگوں کے واقعات سنائے جائیں تو اس کی فطرت بھی وہی رنگ اختیار کرتی جائے گی. اور پھر والدین کو صرف تعلیم پر ہی توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ ان کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ہمارا بیٹا کیسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، اس کی عادات تبدیل کیوں اور کیسے ہورہی ہیں، کیسے پروگرامات میں شامل ہورہا ہے. بچوں کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے، بڑوں کے سامنے کس طرح پیش ہوتا ہے. گھر کے افراد کے ساتھ رویہ اور باہر کے لوگوں کے ساتھ کردار کیسا ہے؟ ہماری بیٹی یا بیٹا کس طرح کے فیشن اختیار کررہا ہے، حیا کا عنصر بڑھ رہا ہے یا پھر مغرب سے مرعوب ہے؟ یہ اور ان جیسی تمام عادات پر نظر رکھنا والدین ہی اہم ذمے داری ہے اور یہی چیز ہمارے بچے کو آگے بڑھنے میں تعاون کرتی ہیں.

    ہمارا نوجوان کچھ کرنا چاہتا ہے، آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن معاشرہ اسے آگے بڑھنے نہیں دیتا، معاشرے کے افراد جگہ جگہ روک ٹوک کرتے ہیں، حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ارادوں کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں. بلکہ ہمارا پورا معاشرہ ملکر مایوسی پیدا کرتا ہے،
    اگر یہی معاشرہ حوصلہ افزائی کرے، تھوڑی سی محنت پہ ہمت بندھائے تو ہمارا نوجوان پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنے قدموں کو مزید مضبوط کرکے نئے حوصلے و عزم کے ساتھ اپنے کام کو سرانجام دے سکے گا. اگر مثبت حوصلہ افزائی نہیں ہوگی تو یہی نوجوان خودکشی کرے گا.
    ہمارے نوجوان کے پیچھے رہنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ملکی سطح پر مواقع کا نہ ہونا بھی ہے. جیسے ہمارے نوجوانوں کی شرح بڑھ رہی ہے ویسے ہی ہمیں ملکی سطح پر نوجوانوں کی تعلیمی و ترقی کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے. ایسے ذہین طالب علموں کے لیے مختلف شعبہ جات میں اسکالر شپس مہیا کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی مزید تعلیم کے لیے اگر ہمارے پاس موجود نہیں تو باہر ممالک کی یونیورسٹیوں کے ساتھ اشتراک کرکے اپنے ملک یا پھر دوسرے ممالک میں تعلیم کا بندوبست کرنا چاہیے. تاکہ ہمارے نوجوان مختلف شعبوں میں جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں. ہماری نوجوان نسل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان صلاحیتوں کا مثبت استعمال نہیں کیا جاتا. یہ لوگ اپنے بچوں کو تو اعلی تعلیم کے لیے پرائیویٹ اداروں میں پڑھاتے ہیں، باہر ممالک بھیجتے ہیں لیکن ہمارے ملک کا نوجوان بہتر تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے محروم ہو کر ضائع ہوجاتا ہے.

    اور پھر سب سے بڑھ کر نوجوان خود اپنے آپ کو پیچھے رکھنے کا سبب بنتا ہے. بہت کم نوجوان دین سے جڑے ہوتے ہیں، دینی صحبت اختیار کرتے ہیں، دین اور دیندار لوگوں سے تو گویا انہیں الرجی ہوتی ہے. انہیں دیکھ راستہ بدل لیتے ہیں، منہ بسورتے ہیں اور کچھ تو حقارت آمیز گفتگو کرتے ہیں اور اس امید میں زندگی کے بہترین اوقات ضائع کردیتے ہیں کہ ابھی تو بڑی زندگی ہے.

    اس کے مقابلے میں بے دین انہیں بڑے پسند ہوتے ہیں، فلموں کے ہیرو ان کے آئیڈیل اور ان کا اٹھنا بیٹھنا، بالوں کی کٹنگ، کپڑوں کا اسٹائل نمونہ ہوتا ہے. فحش قسم کا لٹریچر پڑھتے ہیں، فحش ویب سائٹس دیکھتے ہیں اور فحش قسم کے پروگراموں میں اپنی انرجی کو صرف کرتے ہیں.

    ہمارا نوجوان ایسی صحبت اختیار کرتا ہے جو اس کا وقت ضائع کرتی ہے، ایسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے جو تعلیم سے بھاگتے ہیں. ایسے ساتھی بناتا ہے جو مشکوک قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں. ہمارا نوجوان ناکامی کو برداشت نہیں کرتا. اس میں یہ حوصلہ ہی نہیں ہوتا کہ میں اگر ناکام ہوگیا تو کیا ہوا، دوبارہ پھر نئے سرے سے محنت کرکے آگے بڑھوں گا. سستی کاہلی میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے. والدین کی دولت کے آسرے پڑا رہتا ہے. بے مقصد کاموں کے پیچھے دوڑتا ہے. غلط جگہ پہ اپنا قیمتی وقت لگاتا ہے. خود سے محبت نہیں کرتا بلکہ غیروں سے محبت میں اپنا پیسہ، وقت اور قوت ضائع کرتا ہے. کاش کہ یہ خود سے اتنی چاہت رکھتا جتنی اسے جنسِ مخالف محبت ہے.

    ہمارے اسلاف میں نوجوان بڑے بڑے ملکوں کو فتح کرتے تھے، لشکروں کی سیادت و قیادت کیا کرتے تھے. تلوار بازی، گھڑ سواری کے ماہر ہوا کرتے تھے لیکن ہمارا نوجوان کو پب جی اور سوشل میڈیا سائٹس پر اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کرنے سے فرصت نہیں.
    شاعر نے کیا خوب کہا تھا:

    اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے