Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایشیا کپ، افغانستان نے بنگلہ دیش کو بھی شکست دے دی

    ایشیا کپ، افغانستان نے بنگلہ دیش کو بھی شکست دے دی

    ایشیا کپ 2022 میں گروپ بی کے اہم میچ میں افغانستان نے بنگلہ دیش کو بھی شکست دے کر گروپ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرلی۔

    بنگلہ دیش کی جانب سے دیا گیا 128 رنز کا ہدف افغانستان صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر 19ویں اوور میں پورا کرلیا۔

    افغان بلے باز نجیب اللّٰہ زادران نے اختتامی اوورز میں مجموعی طور پر چھ چھکے لگا کر ٹیم کو جلد فتح سے ہمکنار کیا۔

    نجیب اللہ نے 17 گیندوں پر 43 جبکہ ابراہیم زادران نے 41 گیندوں پر 42 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلیں۔

    شارجہ کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جارہے اس میچ میں بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    افغانستان کے اسپنرز نے بنگلہ دیش کے بلے بازوں کو جکڑ لیا، جہاں ابتدائی 5 بنگلہ دیشی کھلاڑی متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکے۔

    مجیب الرحمان اور راشد خان کی گھومتی گیندوں کے سامنے شکیب الحسن، مشفق الرحیم، انعم الحق، محمد نعیم اور عفیف حسین جیسے تجربہ کار بلے باز بھی ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔

    محمود اللّٰہ کے 25 اور مہدی حسن کے 14 رنز کے ساتھ مصدق حسین کی 48 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کی بدولت بنگلہ دیشی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 127 رنز ہی بناسکی۔

    افغانستان کی جانب سے مجیب الرحمان اور راشد خان نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کا کہنا تھا کہ وکٹ اچھی لگ رہی ہے، وہ اسکور بورڈ پر رنز سجانے کی کوشش کریں گے جو امید کے مطابق افغانستان کے لیے حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کے خلاف اچھی تیاری کی ہوئی ہے، حریف ٹیم بھی اچھا کھیل رہی ہے۔افغانستان کے کپتان محمد نبی نے کہا کہ وکٹ فریش ہے، مٹی بھی فریش ہے۔ تاہم امید ہے کہ ہم انہیں کم سے کم ٹوٹل تک روک پائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس طرح ٹیم نے گزشتہ میچ کھیلا ہے وہ بہترین تھا، ٹیم کے حوصلے بلند ہیں اور آج ٹیم میں کوئی تبدیلی بھی نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ ایشیا کپ میں 6 بہترین ٹیموں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، پاکستان گروپ اے میں بھارت اور ہانگ کانگ کے ساتھ جبکہ گروپ بی میں سری لنکا ،افغانستان اور بنگلادیش کی ٹیمیں شامل ہیں۔دونوں گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں سپر فور مرحلے کیلئے کوالیفائی کریں گی جس کا آغاز 3 ستمبر سے ہوگا۔ سپر فور کی ٹاپ ٹو ٹیموں کے درمیان فائنل 11 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔

  • پاکستان کی معاشی آزادی سب سے ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کی معاشی آزادی سب سے ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کی معیشت اگر آزاد نہ ہو تو پھر اس کی قومی سیاسی و سفارتی آزادی بڑی حد تک بے معنی ہو جاتی ہے۔ آج ملک میں معیشت کی جو حالت ہو چکی ہے اس پر شور و غل بہت ہے لیکن اس کا حل کسی کے پاس نہیں 2013ء میں آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے حل تلاش کر لیا تھا مگر خفیہ ہاتھوں نے ان کو اپنی مدت پوری ہی نہیں کرنے دی ملکی معاشی ماہرین کو یاد ہوگا اس سلسلے میں نوازشریف نے معاشی ماہرین کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا تھا جس سے پاکستان آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے جا رہا تھا وہ ایسے اقدامات اٹھانے جا رہے تھے جس کی وجہ سے کشکول اٹھانے کی ضرورت ہی نہ رہتی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی اس سلسلے میں ٹاسک سونپا گیا تھا توانائی کے بحران پر قابو پانے معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پالیسی ترتیب دی جا رہی تھی اور اس بات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ بھارت کی طرح پاکستان کو بھی آئی ایم ایف کی ضرورت باقی نہ رہے۔

    نوازحکومت نے حکومتی اخراجات کم کرنے پر زور دیا وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈ کو ختم کردیا گیا کابینہ میں شامل وزراء کے صوابدیدی فنڈ بھی ختم کر دیئے گئے اخراجات میں چالیس فیصد کمی کر دی گئی برآمدات کو بڑھانے پر زور دیا اور درآمدات کو کنٹرول کرنے پر زور دیا ایسی پالیسیاں اپنائی جا رہی تھیں جس سے پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو مگر اس ملک اور قوم یک بدقسمتی کہہ لیجئے کہ ہمیشہ کی طرح ایک سازش کے ذریعے ان کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا اور آج ہم پھر آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر خوشی سے بھنگڑے ڈال رہے ہیں قرضہ لے کر ہم ایک دوسرے کو مبارکباد ے رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی کشکول نہ توڑ سکی آج پی ڈی ایم کی حکومت بھی کشکول توڑنے میں ناکام رہی ملکی وسائل سے توجہ ہٹا کر ساری توانائیاں قرض لینے پر لگائی جا رہی ہیں

    ۔ عوام کے مسائل سے کوسوں دور یہ سیاسی بازیگر اقتدار کے حصول کے لئے ایک اندھی اور بے ہودہ لڑائی میں برسرپیکار ہیں۔ ملک و قوم کو مقروض بنا کر یہ کون سی ملکی خدمت سرانجام دے رہے ہیں سچ تو یہ ہے کہ اس ملک میں لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ عالمی دنیا پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے دل کھول کر امداد دے رہی ہے امید ہے کہ یہ امداد ان ہاتھوں تک پہنچے گی جن کے گھر بار، مال مویشی اس سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں ۔

  • بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے کے نتیجے میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرم کافی یا چائے پینے سے آپ کے گلے کے کینسر کا خطرہ تقریباً تین گنا بڑھ جاتا ہے-

    برطانیہ میں ہر سال تقریباً 10,000 افراد غذائی نالی کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں اور تازہ ترین نتائج بتاتے ہیں کہ کوئی شخص گرم مشروبات ترک کر کے اپنے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    یوکے بائیوبینک سے برطانیہ میں نصف ملین سے زیادہ لوگوں کے ڈیٹا میں ان لوگوں کو دیکھا جو دوسروں کے مقابلے زیادہ کافی پیتے ہیں اور ان کے کینسر کے خطرے کو دیکھا۔

    مطالعہ کے مصنف ڈاکٹر اسٹیفن برجیس نے ٹیلی گراف کو بتایا کہ ہم اس جینیاتی اسکور کو جانتے ہیں جسے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کافی پینے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ زیادہ چائے پینے کے رجحان کو بھی بڑھاتا ہے۔”

    جرنل کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کافی کے استعمال سے غذائی نالی کے علاوہ کسی بھی قسم کے کینسر کا خطرہ نہیں بڑھتا ہے۔

    کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں مشروبات کےدرجہ حرارت اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا اس تحقیق میں فن لینڈ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 5 لاکھ 80 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کافی زیادہ پینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 2.8 گنا زیادہ ہوتا ہےدرحقیقت لوگ جتنے زیادہ گرم مشروب کو پینا پسند کرتے ہیں، اتنا ہی ان میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ کافی یا چائے زیادہ گرم پیتےہیں ان میں کینسرکا خطرہ 5.5 گنا زیادہ ہوتا ہے جو افراد ہلکی گرم چائے یا کافی پیتے ہیں ان میں 4.1 فیصد اسی طرح جو افراد معتدل حد تک گرم کافی پیتے ہیں ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ 2.7 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

    ٹیم نے اس بارے میں ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا کہ ایک شخص نے کتنی کافی پیی، اس لیے یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آیا گرم مشروبات کی مقدار زیادہ خطرے سے منسلک ہے۔

    ڈاکٹر برجیس نے کہا کہ کافی پینے سے غذائی نالی کے کینسر میں اضافہ ہونے کے سبب کے اثرات کے ثبوت موجود ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں میں بھی جو گرم مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    تحقیق میں گرم مشروبات اور کینسر کی دیگر اقسام کے درمیان کوئی تعلق دریافت نہیں ہوا، جس کے باعث محققین کا خیال ہے کہ کافی یا چائے کا درجہ حرارت غذائی نالی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گرم مشروبات غذائی نالی کے کینسر کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ چوہوں میں گرمی پانی پینے سے اس کینسر کو دریافت کیا گیا ہے۔

    لیکن محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کافی سے دوسرے کینسر کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اس کی سب سے زیادہ وضاحت یہ ہے کہ گرم مشروبات کی گرمی گلے کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے خطرناک خلیات بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    ڈاکٹر برجیس نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تھرمل انجری سب سے زیادہ قابل فہم مفروضہ ہے، اور یہ اس بات کی وضاحت کرے گا کہ ہم کافی نہ پینے والوں میں بھی اثر کے ثبوت کیوں دیکھ رہے ہیں جن کےبارےمیں ہمارا خیال ہےکہ وہ چائے پینے والے ہوں گے یہ کہنا غیر معقول ہو گا کہ یہ لوگوں کو کہہ رہا ہے کہ ‘کافی کے بجائے، آپ کو چائے پینی چاہیے اور آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے-

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    مجھے لگتا ہے کہ یہ اس کے برعکس ہے جو ہم اصل میں کہہ رہے ہیں۔ یہ کافی یا کیفین کے بارے میں کسی خاص چیز کے بجائے تھرمل چوٹ لگتی ہےبہت زیادہ درجہ حرارت پر کافی پینے سے گریز کرنا واقعی نتیجہ ہے۔ اگر آپ محسوس کر رہے ہیں جیسے آپ کے گلے کو یہ نقصان پہنچا ہے تو یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں آگاہ ہونا اور ممکنہ طور پر دوبارہ ڈائل کرنے کے قابل ہے۔

    تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ کافی پینے والوں کو زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس تحقیق میں کینسر کی عام شکلوں سے کوئی تعلق نہیں ملا۔

    ڈاکٹر برجیس نے مزید کہا کہ میرے خیال میں مجموعی طور پر کافی پینے والوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ کافی کا تعلق کینسر کی زیادہ تر اقسام اور یقینی طور پر کینسر کی سب سے عام شکلوں سے نہیں تھا۔

    ڈاکٹر سوزانا لارسن، کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں مقیم ایک وبائی امراض کے ماہر، جو اس تحقیق میں شامل تھے، نے کہا: "ہمارے نتائج اس ثبوت کو تقویت دیتے ہیں کہ کافی کا استعمال عام کینسر کے خطرے پر غیر جانبدار اثر ڈالتا ہے۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

  • پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    پرتگال : یورپ میں اب تک پائے جانے والے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں جو سبزہ خور سوروپوڈ سے تعلق رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : یورپ میں اب تک پائے جانے والے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں پرتگال کے وسط سے پومبل شہر سے برآمد ہوئی ہیں جس کا قد 12 میٹر اور سر سےدم تک کی لمبائی 25 میٹر تھی یہ جانور پتوں اور سبزے پرگزارہ کرتے تھے اورچاروں پیروں پر چلا کرتے تھے-

    2017 میں ایک شخص کو اپنے پلاٹ پر کئی غیرمعمولی بڑی ہڈیاں دکھائی دیں یہ ہڈیاں تعمیراتی عمل میں ملی برآمد ہوئی تھیں اس کے بعد سائنسدانوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے باقاعدہ تحقیق شروع کی۔

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت


    بعد اگست 2022 میں پرتگالی اور ہسپانوی ماہرین ایک جگہ جمع ہوئے اور یہاں باضابطہ تحقیق کی اس کے بعد وہاں سے سوروپوڈ کی مزید ہڈیاں ملیں جس کے بعد ماہرین نے اسے یورپ سے دریافت ہونے والا سب سے بڑا ڈائنوسار قرار دیا ہے۔

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    تحقیقی ٹیم میں شامل لزبن یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنسز سے تعلق رکھنے والی ماہر حیاتیات ، ایلزبتھ میلافایا نے کہا کہ اس طرح کے آثار کی دریافت عام بات نہیں، کیونکہ اس ڈائنوسار کی پسلیاں اچھی حالت میں ملی ہیں دوسری اہم بات یہ ہے کہ جس طرح اس کے رکازات دریافت ہوئے ہیں وہ عام حالات میں ممکن نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ جراسک عہد کی یہ دریافت غیرمعمولی ہے۔

    ایک اندازے کےمطابق لگ بھگ 10 سے 16 کروڑ سال قبل سوروپوڈ ڈائنوسار زندہ تھےاور اب تک انہیں سب سے بڑے ڈائنوسار میں شمار کیا جاتا ہے اس کے اعضا مکمل طور پر بن چکے تھے فی الحال اس کے پسلیاں اور گردن کےکئی مہرے دریافت ہوئے ہیں تاہم مزید کھدائی کے بعد کئی اور قیمتی رکازات مل سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پومبل علاقے میں اس سے قبل بھی ڈائنوسار کے آثار ملے ہیں کیونکہ یہاں کروڑوں سال قدیم جراسک پرتیں بہت واضح ہیں۔

    محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے

  • کلینیکل ٹرائل جس میں انسانی جسم کے اندر پہلی بار ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے

    کلینیکل ٹرائل جس میں انسانی جسم کے اندر پہلی بار ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے

    سائنسدانوں کی جانب سے ایک نئے طریقہ علاج پر کام ہورہا ہے جس کے تحت انسانی جسم میں 5 جگر اگانے کی کوشش کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی:دنیا کے ایسے پہلے کلینیکل ٹرائل میں ایک فرد کےجسم کے اندر ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے جو بعد میں مریضوں میں ٹرانسپلانٹ کیے جائیں گے۔

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    آنے والے ہفتوں میں، بوسٹن، میساچ وسٹس میں ایک سائنسدان ایک نئے علاج کا تجربہ کریں گے جو ان کے جسم میں دوسرا جگر پیدا کر سکتا ہے اور یہ صرف آغاز ہے اس کے بعد آنے والے مہینوں میں، مزید ان خوراکوں کی جانچ کریں گے جو ان کے جسم میں چھ جگر اگا سکیں-

    علاج کے پیچھے کمپنی، LyGenesis، ان لوگوں کو جگر کی تباہ کن بیماریوں سے بچانے کی امید رکھتی ہے جو ٹرانسپلانٹ کے اہل نہیں ہیں ماہرین کےخیال میں اس طریقہ علاج سے 6 ‘چھوٹے جگر’ اگائے جاسکتے ہیں اس مقصد کےلیے ڈونر کےجگر کے خلیات کو جگر کے امراض کے شکار مریض کے لمفی نوڈز میں اس توقع کے ساتھ داخل کیا جائے گا کہ نئے عضو اگانے میں کامیابی مل سکے گی۔

    ماہرین نے بتایا کہ اگر اس میں کامیابی حاصل ہوئی تو مستقبل میں مزید افراد پر اس کے تجربات کیے جائیں گے اور اس طریقہ کار سے تیار ہونےوالےاعضا کواستعمال کرکےمریضوں کی مدد کرنا انقلابی قدم ثابت ہوگا ویسے انسانی جگر میں خود کو نیا بنانےکی زبردست صلاحیت ہوتی ہے مگر کچھ کیسز میں عضو کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ممکن نہیں ہوتی اور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے گر بیماری کی شدت بہت زیادہ ہونے پر مریضوں کا ٹرانسپلانٹ نہیں ہوتا کیونکہ ان کی حالت سرجری کے قابل نہیں ہوتی۔

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    یہ طریقہ چوہوں، سوروں اور کتوں میں کام کرتا ہے اس سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ انسانی ٹرائل میں بھی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے اب معلوم کریں گے کہ آیا یہ لوگوں میں کام کرتا ہے

    ٹرائل میں جگر کے امراض سے بہت زیادہ بیمار 12 افراد کو شامل کیا جائے گا، ایک رضاکار کے جسم میں جگر کے 5 کروڑ خلیات کو داخل کیا جائے گا اور جسم میں جانے کے بعد ان کی تعداد 25 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے جو 5 چھوٹے جگر تیار کرنے کے لیے کافی ہے۔

    عطیہ دہندگان کے اعضاء کی فراہمی بہت کم ہے، اور عطیہ کیے گئے ان میں سے بہت سے استعمال نہیں کیے جا سکتے ہیں- مثال کے طور پر بعض اوقات ٹشو کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہےنیا طریقہ ان اعضاء کا استعمال کر سکتا ہےجو دوسری صورت میں ضائع کر دیئے جاتے اور محققین کا خیال ہے کہ وہ عطیہ کیے گئے ایک عضو سے تقریباً 75 افراد کا علاج کروا سکتے ہیں۔

    اس ٹرائل کا اختتام 2 سال کے دوران ہوگا اور ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں مگر محققین کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

  • مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    مراکش : سائنسدانوں نے دیو ہیکل سمندری موساسارچھپکلی کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : "جنرل کریٹیسیس ریسرچ ” میں شائع کئے گئے مقالے میں سمندری چھپکلی تھیلاسوٹائٹن ایٹروکس کے متعلق بتایا گیا کہ ان چھپکلیوں کی لمبائی 9 میٹر (30 فٹ) تک تھی –

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    آج کی دور کی اِگوانا اور گوہ اس کی دور کی رشتہ دار ہیں یہ چھپکلی 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل اپنے بڑے جبڑوں کی مدد سے دوسرے سمندری حیوانات کا شکار کرتی تھی۔

    برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ کے محققین سمیت دیگر سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کچھ موساسار مچھلیوں اور اسکوئیڈز جیسے چھوٹے شکار کھاتی تھیں اور دیگر ایمونائٹس اور کلیمس کھاتی تھیں جبکہ نو دریافت شدہ چھپکلی دیگر تمام سمندری ریپٹائلز کا شکار کرتی تھی۔

    تحقیق کے مطابق تھیلا سوٹائٹن اپنے دور کی زبردست شکاری تھی جو خوراک کی زنجیر میں سب سے اوپر ہوتی تھی اس خوراک کی زنجیرمیں سب سے نیچے پلینکٹن ہوتےتھےجن کی غذا سمندر کی گہرائی میں موجود اجزاء سے بھرپور پانی ہوتا تھا۔

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    چھوٹی مچھلیاں ان پلینکٹن کو کھاتی تھیں اور پھر بڑی مچھلیاں ان چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی تھیں۔ یہ بڑی مچھلیاں پھر موساسارس اور پلیسیو سارس کی غذا بن جاتی تھیں۔

    قبل ازیں سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت ہوئی تھیں بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سےکیےگئےسروے کے دوران یہ باقیات ملی تھیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں-

    دریں اثنا امریکی سائنسدانوں نے تسمانین ٹائیگر کو معدوم ہونے کے تقریباً 100 سال بعد دوبارہ وجود میں لانے کے منصوبے کا انکشاف کیا تھا تسمانین ٹائیگرکا سائنسی نام تھائلاسائن ہےاس کی نسل 1930ء کی دہائی میں معدوم ہونے سے قبل لاکھوں سال سے کرہ ارض پر موجود تھی اس کی نسل کو تقریباً ایک صدی قبل معدوم ہونے کے بعد بہت نقصان پہنچا تھا-

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    سائنسدانوں کے مطابق تھائلاسائن ماضی میں آسٹریلیا اور نیو گنی کی سرزمین پر بڑی تعداد میں موجود تھے لیکن 3000 سال قبل یہ اس علاقےسے معدوم ہوگئے۔ باقی ماندہ تعداد تسمانیہ کے جزیرے تک محدود رہ گئی جنہیں شکار کر کے 20 ویں صدی کی ابتدا میں ختم کردیا گیا۔

    طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ ان کے معدوم ہونے میں انسانوں اور کتوں کا بڑا حصہ ہے اس نسل کا آخری جانور ہوبرٹ کے چڑیا گھر میں 1936ء میں مرا تھا تاہم اب امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں قائم ایک اسٹارٹ اپ کولوسل بائیو سائنسز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس جانور کو دوبارہ وجود میں لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

  • ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    کیلیفورنیا: ٹیسلا کی گاڑیاں اسپیس ایکس کے اسٹار لنک کے ساتھ ضم ہو جائیں گی تاکہ مستقبل میں ڈیڈ زونز کو ختم کیا جا سکے۔

    باغی ٹی وی : ٹیسلا کمپنی کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے کہا ہے کہ وہ نہ صرف اب ٹیسلا کار کو اپنے اسٹارلنک سیٹلائٹ سےمنسلک کررہےہیں بلکہ دوسری نسل کے اسٹارلنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس میں سیل فون روابط کےاینٹینا لگارہے ہیں جو پہلے امریکا میں ٹی موبائل اور پھر دیگر فون نیٹ ورک کمپنیوں کو اس جگہ انٹرنیٹ فراہم کریں گی جہاں سگنل نہیں پہنچتے۔

    ایلون مسک کے اس اعلان کے بعد جب ان سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں ٹیسلا کاروں کو اسٹارلنک سیٹلائٹ سے جوڑنے کا کہا گیا تو انہوں نے اس کا جواب اثبات میں دیا تاہم اس وقت ٹیسلا کارامریکی نیٹ ورک اے ٹی اینڈ ٹی کے نیٹ ورک سے منسلک ہوسکتی ہیں۔


    ایلون مسک نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی تاہم اتنا ضرور کہا ہے کہ سیٹلائٹ سے سیلولر نیٹ ورک ممکن ہے ان کا اسٹارلنک نظام اس کا اہل ہوگا کہ وہ دو سے چار میگا بائٹ فی سیکنڈ کا رابطہ فراہم کرسکےاوراسے دائرہ کار میں آنے والے ہر شخص کو فراہم کیا جاسکتا ہے۔

    ترک سائنسدان کی دماغی کینسر کے علاج میں پیشرفت

    تاہم یہ سروس اتنی مؤثر نہ ہوگی کہ وہ کار سے لائیو اسٹریم ویڈیو انٹرنیٹ پر دکھاسکے لیکن ایلون مسک نے کہا کہ دوردراز علاقوں میں معمولی انٹرنیٹ بھی نہ ہونے سے بہتر ہے۔


    دوسری جانب خود ٹیسلا نے امریکی سیلولر کمپنی کے اشتراک سے اپنی گاڑیوں میں معیاری کنیکٹویٹی فراہم کی ہے جو لائف ٹائم ہے۔ اس کے ساتھ نیوی گیشن اور نقشہ جات یعنی گوگل میپس بھی شامل ہیں۔


    واضح رہے کہ ٹیسلا نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ وہ اپنی کاروں کو اسٹارلنک سے منسلک کب کرے گی؟

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

  • پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    امت مسلمہ ایک جسم کی طرح ہے, جب جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف سے بلبلا اٹھتا ہے۔ اس کی نظیر بارہا دیکھنے کو ملی کہ مسلمان ممالک عمومی و خصوصی مواقع پر ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ نظر آئے خواہ وہ کسی مسلمان ملک کی دگرگوں معاشی و اقتصادی صورتحال ہو, جنگی و عسکری معاملہ ہو یا پھر قدرتی آفات و مصائب کا زمانہ ہو الغرض کسی بھی لحاظ سے خودکفیل اور طاقتور مسلمان ممالک نے امت مسلمہ کے عظیم نظریہ کے جھنڈے تلے ضرورت مند و کمزور مسلمان ملک کی مدد ضرور کی ہے اور جب تک بحالیات کا کام مکمل نہ ہوا پیٹھ نہیں موڑی۔

    بات کریں پاکستان میں پہلے سے جاری معاشی و اقتصادی تنزلی اور سیاسی بحران کے دوران حالیہ مون سون بارشوں اور ریکارڈ سیلاب کی تو اس مصیبت کی گھڑی میں بھی مسلمان ممالک اور عالمی برادری نے پاکستان کو مکمل مدد کی ناصرف یقین دہانی کروائی بلکہ کئی ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر مدد جمع کرنے اور اسکی ترسیل کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر ذمہ دار متعین کردیے ہیں جو جلد از جلد امداد اور بحالی کے کام کو یقینی بنائیں گے۔

    لیکن متحدہ عرب امارات کی پاکستان اور اسکی عوام سے محبت اپنی مثال آپ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی کہ جب دیگر ممالک سوچ بچار اور تیاری میں مگن ہوتے ہیں یہ مسلمان ملک پاکستان اور اسکی عوام کے دکھ بانٹنے کے لیے پورے وسائل کے ساتھ اگلے مورچوں پر موجود ہوتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ عرب امارات کے شیوخ کا دوسرا اور سرمائی گھر پاکستان ہےتو یہ قطعی غلط بیانی اور مبالغہ نہیں ہوگا۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی برادر شپ اور تعلقات کی ایک عظیم تاریخ ہے۔پاکستان ان اولین ممالک میں سے ایک ہے جس نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کی مشترکہ بنیادوں پر استوار ہیں اور دن بہ دن ان میں گرم جوشی اور محبت کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص معیشت اور تجارت میں قریبی تعاون ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو مالی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے کہ یہ امداد پاکستان میں معاشی بحرانوں اور بجٹ خسارے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے موثر رہی ہے مطلب جس کی وجہ سے پاکستان بہت دفعہ مشکلات بھرے ادوار سے باہر نکلا ہے اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک خاطر خواہ تعداد بھی موجود ہے جو ملکی ذرمبادلہ میں اضافے کا باعث ہے اور جنہیں متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے مکمل مدد اور تحفظ دستیاب ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے حکمران مختلف سماجی اور انسانی شعبوں میں ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کو اپنی تکنیکی اور مالیاتی مہارت اور خدمات فراہم کرنے کے لیے کافی مہربان ہیں۔

    اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبے شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات قدرتی آفات کے وقت بے گھر ہونے والی آبادی کو پناہ گاہ، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرکے انسانی امداد میں توسیع کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے گزشتہ دہائیوں کے دوران سیلاب زدگان کو ہمیشہ امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔

    اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے تناظر میں عرب امارات نے دوبارہ پاکستان اور اس کی عوام کو اکیلا نہ چھوڑتے ہوئے حالیہ مون سون اور سیلاب کی مخدوش صورتحال سے دوچار پاکستان کے لیے کل عرب امارات کے صدر جناب شیخ محمد بن زید النہیان کے خصوصی حکم اور ہدایات پر امدادی پیکج کی پہلی پرواز روانہ کی ہے جس میں 3000 ٹن خوراک, طبی سامان اور عارضی پناہ گاہوں کا سامان شامل ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی WAM کے مطابق، صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کو فوری امدادی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، جو موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں، زخمیوں اور بے تحاشہ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس میں مزید کہا گیا کہ

    "صدر محترم شیخ محمد نے بے گھر افراد کے لیے تمام انسانی امدادی خدمات کی فراہمی کا بھی حکم دیا ہے تاکہ وہ جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں ان پر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھا سکیں”۔

    متحدہ عرب امارات کی امدادی امداد میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ تقریباً 3,000 ٹن خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طبی مدد کا سامان بھی شامل ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "متحدہ عرب امارات کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی حفاظت اور ان کی خوراک، طبی اور رسد کی ضروریات کو محفوظ بنانے کی کوششوں سے متعلق پاکستانی کیڈرز اور اداروں کو ہر قسم کی انسانی امداد بھی فراہم کریں گی۔”

    وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔”

    متحدہ عرب امارات کے صدر نے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات فوری طور پر خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ مزید طبی اور دواسازی کا سامان بھی بھیجے گا۔

    وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو ملک میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی ملک گیر تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متحدہ عرب امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زید فاؤنڈیشن کے جاری امدادی کاموں کا بھی اعتراف کیا۔

    وزیر اعظم شہباز نے امدادی اور امدادی سرگرمیوں میں حکومت کی کوششوں میں مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد پر صدر کا شکریہ ادا کیا۔

    بیشک متحدہ عرب امارات نے اسی طرح گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں آئے سیلابوں اور زلزلوں کے ساتھ ساتھ معاشی بحرانوں میں بھی ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی بھرپور مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے اور کبھی پاکستان کو کسی مصیبت کی گھڑی میں اکیلا و دربدر نہیں چھوڑا کیونکہ نازک وقت میں برادر اور دوست ممالک کی حمایت متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

  • چاند کیلئےناسا کا 5 دہائیوں بعد پہلا خلائی مشن اڑان بھرنے کیلئے تیار

    چاند کیلئےناسا کا 5 دہائیوں بعد پہلا خلائی مشن اڑان بھرنے کیلئے تیار

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا طاقتور ترین خلائی راکٹ چاند کیلئے 29 اگست کو فلوریڈا کے لانچ پیڈ سے اڑان بھر رہا ہے-

    باغی ٹی وی : اسپیس لانچ سسٹم نامی میگا راکٹ 98 میٹر لمبا، 26 سو ٹن وزنی ہے اور اس مشن کو آرٹیمس 1 کا نام دیا گیا ہے اور یہ لگ بھگ 5 دہائیوں بعد انسانوں کی چاند پر واپسی کے لیے اہم ترین ٹیسٹ ہے۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار


    یہ راکٹ پاکستانی وقت کے مطابق 29 اگست کی شام 5 بج 33 منٹ پر چاند کی جانب روانہ کیا جائے گا جس میں اورین اسپیس کرافٹ بھی ہوگا راکٹ کو اسی لانچ پیڈ سے روانہ کیا جائے گا جہاں سے نصف صدی قبل چاند پر بھیجے جانے والے اپولو مشنز بھیجے جاتے تھے۔

    ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ اس راکٹ سے اتنی آگ خارج ہوگی جو فلوریڈا کے ساحل پر لاکھوں افراد دیکھ سکیں گے اور ناسا کو امید ہے کہ مشن کی کامیابی سے چاند پر انسانوں کی واپسی کا راستہ کھل جائے گا۔


    یہ راکٹ 8 منٹ میں زمین کے نچلے مدار میں پہنچ جائے گا آرٹیمس 1 مشن کا دورانیہ 42 دن یعنی 6 ہفتے ہے اور یہ اس دوران چاند کے دور دراز کے حصے کے اوپر رہے گا۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    اورین اسپیس کرافٹ میں کوئی انسان تو سفر نہیں کرے گا مگر کچھ کھلونے ضرور ہوں گے جن سے ناسا کو جدید اسپیس سوٹ اور ریڈی ایشن لیولز کی جانچ پڑتال کا موقع مل سکے گا اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو ناسا کی جانب سے 2025 میں انسانوں کو چاند پر اتارا جائے گا جن میں پہلی بار ایک خاتون بھی شامل ہوگی۔

    ویسے 2025 کے انسانی مشن سے قبل بھی مئی 2024 میں آرٹیمس 2 کو بھیجا جائے گا اور وہ بھی انسانی عملے پر مشتمل ہوگا، مگر وہ چاند پر اتریں گے نہیں۔


    آرٹیمس 2 دسمبر 1972 کے اپولو 17 مشن کے بعد پہلا مشن ہوگا جب انسانوں کو زمین کے مدار سے دور بھیجا جائے گا اپولو 17 آخری مشن تھا جب انسانوں کو چاند پر بھیجا گیا تھا اور اب تک مجموعی طور پر 12 انسان وہاں جاچکے ہیں-

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    ناسا کے مطابق اورین اسپیس کرافٹ اکتوبر کے وسط میں زمین پر لوٹے گا زمین میں داخل ہوتے وقت اس کی رفتار 25 ہزار میل فی گھنٹہ ہوگی اور 2800 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا مقابلہ کرکے یہ ریاست کیلیفورنیا کے قریب سمندر میں اترے گا ان مشنز کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جائے گا۔

  • چوٹی زیریں،پی ٹی آئی ایم این اے محمد خان لغاری کی بے حسی پرووٹرپھٹ پڑے

    چوٹی زیریں،پی ٹی آئی ایم این اے محمد خان لغاری کی بے حسی پرووٹرپھٹ پڑے

    ڈیرہ غازی خان چوٹی زیریں ، ممبرقومی اسمبلی سردار محمدخان لغاری نے بے حسی کی انتہاکردی اپنے حلقہ انتخاب کے سیلاب متاثرین کی اشک شوئی کیلئے پانچ منٹ بھی نہ نکال سکے ،ووٹرپھٹ پڑے، ویڈیو دیکھئے