Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے. خراب معاشی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ڈالر کی اونچی پرواز ہے روزانہ کی بنیاد پر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی طرح اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے.

    ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال اسی طرح چلتی رہی تو خدانخواستہ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے. آسان ترین الفاظ میں ملک کی امپورٹ ایکسپورٹ میں عدم توازن کی وجہ سے ڈیفالٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے.

    یعنی فرض کریں آپ کے ذرائع آمدنی (ایکسپورٹ) سے آپ پچاس(50)روپے کماتے ہیں اور آپ کے خرچے(امپورٹ) ستر(70) روپے ہیں تو آمدنی اور خرچ میں بیس(20) روپے کا فرق ہے.اب اس فرق کو دور کرنے کے لئے یا تو آپ کو اپنی آمدنی بڑھانی پڑے گی یا اپنے خرچے کم کرنے ہوں گے اگر آپ یہ دونوں کام نہیں کرتے تو پھر آپ کو مجبوراً قرضے لے کر یہ فرق پورا کرنا پڑے گا.

    اب مسئلہ یہ ہے کہ قرض کوئی اللہ واسطے تو دیتا نہیں ہے تو وہ آپ کو بیس(20) روپے قرض سود پر دے گا اور سود بھی آپ کی طلب اور مجبوری کے مطابق زیادہ سے زیادہ لے گا. تو آپ اپنے خرچے کم نہ کرنے اور ذرائع آمدنی نہ بڑھانے کا خمیازہ ہر مہینے کا خسارہ بیس(20) کے بجائے پچیس (25) روپے ہر مہینے بھگتیں گے.

    یہ اضافی پیسے آپ اپنی آمدن میں سے ہی دیں گے اس لئے آپ کی آمدن اور خرچ میں فرق بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ آپ اتنے مقروض ہو جاؤ گے کہ قرض کی قسط بھی مزید قرض لے کر ادا کرو گے اور یہاں سے قرض دینے والا اپنی مرضی کی شرائط پر آپ کو قرض دے گا اور لازمی بات ہے کہ وہ شرائط قرض دینے والے کے مفاد میں ہوں گی

    اور جب ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ کے پاس قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ بھی موجود نہ رہے تو آپ ہاتھ کھڑے کر دیں گے یعنی یہ تسلیم کر لیں گے کہ میں کنگال ہو گیا ہوں یا ڈیفالٹ کر گیا ہوں اور قرض دینے والا آپ کی گروی رکھی تمام اشیاء اور اثاثے ضبط کر لے گا اس وقت یہی صورت حال وطن عزیز کی بن رہی ہے ہم بھی تیزی سے اس طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہمارا ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ موجود ہے.

    اس خطرے کی بڑی وجہ ملک میں جاری سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجے میں روزانہ بڑھنے والی ڈالر کی قیمت اور اس قیمت کے بڑھنے کی وجہ سے خودبخود قرضے اور اس کے سود میں ہونے والا اضافہ ہے. اس وقت ہماری معیشت آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے کی محتاج ہے آئی ایم ایف نے قرضے کی شرائط طے کرنے کے لئے ایک مضبوط سیاسی حکومت سے مذاکرات کی شرط اور عرب ممالک سے ملنے والے قرض سے مشروط کر دی ہے.

    یعنی اس وقت ہم ایک چکر میں پھنس گئے ہیں اور اس چکر سے نکلنے کا راستہ سب سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کر کے ملنے والا ہے. ایک مستحکم سیاسی حکومت کی وجہ سے ملک میں پھیلی غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو جائے گی جسکی وجہ سے ڈالر کی مصنوعی طور پر بڑھی قیمت کم ہو کر مستحکم ہو جائے گی جس کا اثر ہمارے قرضے اس کے سود اور مہنگائی پر بھی پڑے گا اس کے علاوہ ہمیں مزید قرضہ بھی ملے گا جس سے وقتی طور پر معیشت کا پہیہ چلانے میں مدد ملے گی.

    اس کے بعد ہماری پہلی ترجیح آمدن اور خرچے میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے توازن پیدا کرنا ہے ہمیں اپنے ایکسپورٹ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے کیونکہ اس کے بغیر ہماری آمدن نہیں بڑھ سکتی ہمیں تھوڑا عرصہ امپورٹڈ اشیاء کا استعمال کم سے کم کر کے اور حکومتی سطح پر ہر ممکن سادگی اپنا کر اور تمام سرکاری یا سیاسی افراد کی تنخواہوں کے علاوہ مفت سہولیات ختم کر کے عوام کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے اپنی نیک نیتی کا عملی ثبوت فراہم کرنا ہے اور یقین کریں کہ اگر ہم آج ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر خلوص نیت سے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کریں تو عنقریب دنیا میں ہماری کوششوں کی دوسرے ملکوں کو مثالیں دی جائیں گی.

  • عمر رض, ایوبی, جناح اور پاکستانی پاسپورٹ!!!  — بلال شوکت آزاد

    عمر رض, ایوبی, جناح اور پاکستانی پاسپورٹ!!! — بلال شوکت آزاد

    اچھا آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور عشق تو کسی تعارف اور تفصیل کا محتاج ہی نہیں پر آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد جن تین لوگوں سے مجھے اللہ واسطے کی محبت اور عقیدت ہے وہ حضرت عمر رض, حضرت یوسف صلاح الدین ایوبی رح اور حضرت محمد علی جناح رح ہیں۔

    ان تینوں میں کچھ باتیں قدرے مشترک ہیں۔

    —اصول پرست تھے۔

    —انصاف پسند تھے۔

    —اپنے عقائد میں مستحکم اور متشدد تھے۔

    —اسلام کو ہی دنیا و آخرت کی ہر کامیابی کا ذریعہ سمجھتے اور مانتے تھے۔

    —مسلمانوں کو ایک مرکز پر, ایک نظریہ پر اور ایک فکر پر مجتمع کرنے کے لیئے فکرمند تھے۔

    —آزادی اور حریت کے پاسبان تھے۔

    —کرپشن اور کرپٹ ذمہ افراد سے سخت متنفر تھے۔

    —جھوٹ اور جھوٹے سے متنفر تھے۔

    —غیر مسلموں کی ناک پر لڑے ہوئے تھے۔

    —بہترین منتظم تھے۔

    —امن پسند مگر جنگجو طبیعت کے حامل تھے۔

    —دشمنوں کے دشمن اور دوستوں کے دوست تھے۔

    —اللہ, رسول اللہ ص اور خود سے کمیٹڈ تھے۔

    —اسلام کے محافظ اور پشتیبان تھے۔

    —اللہ نے ان تینوں سے امت مسلمہ کے حق میں خیر کے کام لیئے اور ان کو امت کی رہنمائی کا موقع دیا۔

    —ان تینوں کا نام دوست تو دوست دشمن بھی آج تک عزت اور احترام سے لیتے ہیں۔

    —مسلمانوں کی امیدوں کے چراغ تھے۔

    —اللہ کے مقرب تھے تبھی انہیں آج بھی ہم یاد کرتے ہیں۔

    اور سب سے بڑی بات کہ

    —فلسطین پر, ارض مقدس پر ان تینوں کا ایک ہی موقف تھا۔ جناح کو مہلت کم ملی ورنہ وہ فلسطین کو بھی آزاد کروانے کی اہلیت رکھتے تھے اور وہ ضرور نکل کھڑے ہوتے دیگر دو کی طرح پر شاید اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

    خیر عمر رض اور صلاح الدین ایوبی دونوں ہی فاتح بیت المقدس ہیں جبکہ جناح وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرکے ہمیشہ کے لیئے اسرائیلی کو لعنتی اور ناپسندیدہ رہنے دیا جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے۔

    عمر رض اور ایوبی کی فتح بیت المقدس کی یادیں تبھی زندہ و جاوید ہم تک پہنچ سکیں کے جناح نے پاکستان بنایا جہاں ہم آزادی سے اپنا آپ کھوج سکتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ جناح آنے والی نسلوں کو باور کروانے کے لیئے کہ فلسطین ہماری گمشدہ میراث ہے جو ہم نے واپس لینی ہے, وہ ہمارے پاسپورٹ پر لکھوا گئے کہ

    "یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے ہر ملک کے لیئے کارآمد ہے۔”

    عالم اسلام کو آج ان تینوں کی یا ان میں سے کسی ایک کی ہی ضرورت ہے۔

    اللہ ان تینوں ولیوں کی قبور کو منور اور ٹھنڈا رکھے اور کروٹ کروٹ جنت کے نظارے کروائے اور روز قیامت ہمیں انہی کے ساتھ اٹھائے۔

  • جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی۔

    باغی ٹی وی :میساچوسیٹس میں قائم ہارورڈ یونیورسٹی اور اسمتھسونین سینٹر آف آسٹروفزکس کے محققین نے GLASS-z11نامی ایک اور کہکشاں دریافت کی –

    GLASS-z13 نامی ستاروں کا یہ مجموعہ بِگ بینگ کے 30 کروڑ سال بعد وجود میں آیا اس سے قبل قدیم ترین کہکشاں کے طور پر جانی جانے والی کہکشاں GN-Z11 اس سے 10 کروڑ سال بعد وجود میں آئی تھی اس کہکشاں کو ہبل ٹیلی اسکوپ نے دریافت کیا تھا ان دونوں کہکشاؤں کا وزن ایک ارب سورج کے برابر ہے-

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    یہ کہکشائیں ہماری ملکی وے کہکشاں سے نسبتاً چھوٹی ہیں۔ ملکی وے کہکشاں کا قطر ایک لاکھ نوری سال ہے جبکہ GLASS-z13 کا قطر اندازاً 1600 نوری سال جبکہ GLASS-z11 کا قطر 2300 نوری سال ہے۔

    یونیورسٹی کے شعبہ فلکیات کے ایک گریجویٹ طالب علم روحان نائیڈو کا کہنا تھا کہ محققین نے دو انتہائی فاصلے پر موجود کہکشائیں دریافت کی ہیں اگر ان کہکشاؤں کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا ماہرین سمجھ رہے ہیں تو کائنات اس موقع سے چند کروڑ سال ہی پرانی ہوگی۔

    ایسا ممکن ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ وقت میں مزید پیچھے دیکھے اور صرف 20 کروڑ سال پُرانی کہکشائیں دریافت کرے اور یہ کائنات کی ابتداء جاننے کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مشن کو پورا کرنے میں اہم قدم ہوگا۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    قبل ازیں خلا میں موجود ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا تھا جیمز ویب کو دسمبر میں ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کی کامیابی کے لیے لانچ کیا گیا تھا امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کے بڑے آئینوں میں سے ایک کی ٹکر ایک چھوٹے شہابی پتھر کے ساتھ ہوئی جو توقع اور زمین کی آزمائش میں انجینیئرز کی جانب سے رکھے جانے والے نمونے سے زیادہ بڑا تھا دوربین بنانے والے انجینئرز خلا کی سختیوں سے بہت زیادہ واقف ہیں، اور ویب کو احتیاط سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    ناسا کا ایک بلاگ پوسٹ میں کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کا معائنہ جاری ہے اور بظاہر ایسا دِکھ ہا ہے کہ ٹیلی اسکوپ مکمل طور فعال ہے لیکن تصادم کا ڈیٹا پر معمولی سا اثر واضح ہو رہا ہے بڑے آئینے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ شہابی پتھر کا تصادم 23 سے 25 مئی کے درمیان ہوا۔ یہ آئینہ ٹیلی اسکوپ کے فعال رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

  • خدا کے بندے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟ — محمد علی وٹو

    خدا کے بندے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟ — محمد علی وٹو

    اللّہ کریم قرآن مجید میں فرماتے ھیں کہ اے میرے بندوں بیشک تمہیں آزمایا جائے گا مال دے کر آولاد دے کر اور حاکمیت یا اختیار دے کر اب جب اللّہ کریم اپنے کسی بھی بندے کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ھے تو یہاں سے اس بندے کی آزمائش شروع ھوتی ھے۔

    اللّہ کریم آزمائش اس طریقے سے لیتا ھے کہ آپ کو اور نوازتا جاتا ہے اور آپ کے اختیارات میں اور اصافہ کرتا جاتا ہے لیکن یہاں یہی پنج وقتہ نمازی اور بڑے اہتمام سے اپنے آپ کو حاجی صاحب، صوفی صاحب کہلوانے والے صدقہ و خیرات دینے والے سخی حضرات اور حقوق اللّہ کو پورے اھتمام کے ساتھ ادا کرنے والوں کو جب حقوق العباد پورے کرنے کی باری آئے تو مختلف حیلے بہانوں سے بات کرتے نظر آئیں گے کہ ھم نے کاروبار چلانا ھے.

    اور کاروبار چلانے میں جس قانون و ضوابط کو بھی بالا طاق رکھنا پڑے رکھ لیں گے تو یہاں آکر یہ اللّہ کریم کے بندوں کے خدا بننا شروع ھو جاتے ھیں اور لوگوں کی مجبوریوں سے کھیلتے ہیں اور مجبور بے روزگار ان جیسوں کے ھاتھوں اپنی مجبوریوں کا اونے پونے داموں سودا کرتے ھیں کیونکہ سلسلہ حیات بھی تو چلانا ھے کسی نا کسی طرح چاھے اس کے لیئے آپ کو اپنا آپ کو گروی ھی کیوں نہ رکھنا پڑے (یہاں میں ایک تصیح کرتا جاؤں کہ سبھی کاروباری حضرات اور اختیارات کے حامل لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ بہت سے اللّہ کریم کے بندے حقوق اللّہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی پورے اھتمام سے ادا کرتے ہیں).

    اب ھمارے معاشرے میں ھمارے ملک میں بہت سے شعبہ ھائے زندگی میں کاروبار اور ادارے چل رھے ھیں تو ان میں سے ایک ریسٹورنٹ انڈسٹری ھے اور ریسٹورنٹ انڈسٹری بھی آگے بہت سے سیکٹرز میں تقسیم ھے اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ بھی ریسٹورنٹ انڈسٹری کے اندر آتے ہیں اب آگے جو انٹرنیشنل فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ھیں وہ کسی نا کسی طریقے سے گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کو اپنی کمپنی میں لاگو کرتے ھیں.

    لیکن جو ریسٹورنٹ مقامی طور پر کام کرتے ہیں لگتا ہے گورنمنٹ نے ان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کی دھجیاں بکھیرتے رھیں اور گورنمنٹ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بیٹھی ھوئی کالی بھیڑیں ان مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کی طرف سے قانون و ضوابط کی کھلم کھلا کھلاف ورزی پر کچھ لے اور کچھ دے کر مک مکا کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ان مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ جس طرح مرضی چاھیے بنیادی انسانی حقوق اور گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کو اپنے گھر کی لونڈی بنا کر استعمال کر سکیں.

    اب جیسا کہ میرا تعلق ریسٹورنٹ انڈسٹری سے ھے اور میں پچھلے سات سے آٹھ سال سے اس انڈسٹری سے وابستہ ھوں اور اس دوران مختلف انٹرنیشنل اور مقامی ریسٹورنٹ میں کام کر چکا ہوں اس دوران بہت سے معاملات نظروں سے گزرے اور اپنے سامنے گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کی دھجیاں بکھرتے ھوئے دیکھتا رہا لیکن باامر مجبوری یا آپ اس کو جو بھی نام دینا چاہیں دے لیں خاموش رھے لیکن اب اس پلیٹ فارم جس کا نام ھی باغی بلاگرز ھے اپنے تائیں اور نا سہی اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی آواز تو بلند کر ھی سکتے ہیں.

    جیسے کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ میں انٹرنیشنل و مقامی ریسٹورنٹ میں کام کر چکا ھوں اس دوران انٹرنیشنل ریسٹورنٹ تو کسی نہ کسی طرح گورنمنٹ کے قانون و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے پایا مکمل نہ سہی لیکن کسی حد تک لیکن جتنے بھی مقامی ریسٹورنٹ میں کام کا تجربہ ھوا اس میں مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ گورنمنٹ کے اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پائے گئے جیسا کہ مقامی ریسٹورنٹ میں ملازم کی سیلری اور کام کے اوقات گورنمنٹ کے طے شدہ قوانین کے مکمل الٹ ھیں.

    اور اور تو اور ان کو تنخواہیں گھنٹوں کے حساب سے دی جارھی ھیں اور وھاں استحصال ھی استحصال ھو رھا ھے ملازمین سے8 گھنٹے کے تیرہ سے چودہ ھزار دس گھنٹے کے پندرہ سے سے سولہ ھزار اور بارہ گھنٹے کے صرف اٹھارہ سے بیس ھزار تنخواہیں دے رھے ھیں حالانکہ ان کی روزانہ کی سیل ایوریج بھی لاکھوں میں ھوتی ھے اور یہ ریسٹورنٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ رجسٹرڈ بھی نہیں ھوتے ھیں.

    مطلب کوئی ٹیکس بھی نہیں دیتے اور لیبر انسپکٹر صرف دکھاوے کے طور پر انسپکشن کر کے اپنی جیب گرم کروا کر ستو پی کر سبھ اچھا ہے کی رپورٹ دے کر سو رھے ھے وھاں کوئی سوشل سیکورٹی والہ کوئی ای او بی آئی والہ کوئی پوچھنے والہ نہیں آتا کوئی میڈیکل کی سہولت نہیں اور جب ان کا دل کرے یہ کھڑے کھڑے کسی بھی ملازم کو جوب سے نکال دیتےہیں.

    مطلب مجبوریوں کے ساتھ کھیلنے کے ساتھ ساتھ کوئی جاب سیکورٹی بھی نہیں اور جو تنخواہیں دیتے ھیں وہ بھی کیش میں دیتے ہیں تاکہ کوئی ریکارڈ بھی نہ رھے کیونکہ ریسٹورنٹ انتظامیہ نے مقامی انتظامیہ کی پہلے ھی مٹھی گرم کی ھوتی ھے اور یہ لوگوں کی مجبوریوں سے کھلواڑ کر کے اپنے آپ میں ھی اللّہ کے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟

  • اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اللہ پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی ذکر آیا ہے رب العالمین اور رحمت العالمین آیا ہے. یعنی رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لئے ہیں.

    کسی جگہ بھی صرف مسلمانوں کا رب یا صرف مسلمانوں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذکر نہیں آیا لیکن ہم لوگ اسلام کے خودساختہ ٹھیکیدار بن گئے.

    اگر اللہ پاک اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود لوگوں کو بشمول مسلمان رزق دے رہا ہے ان پر اپنی عنایات کی بارش کر رہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر تنقید کرنے والے اور اس کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے.

    لیکن اس کے برعکس ہم نے لوگوں کے افعال کی بنیاد پر ان کے ایمان کا فیصلہ کر کے موقع پر ان کے ساتھ فوری انصاف کر کے دنیا میں اسلام کے بارے میں منفی تاثر کو اجاگر کیا.

    جب بھی کہیں بھی شدت پسندی کا ذکر آتا ہے تو توجہ بےاختیار مسلمانوں کی طرف چلی جاتی ہے اس کی وجہ دنیا بھر میں بننے والا ہمارا تنگ نظری اور شدت پسندی کا امیج ہے.

    دین اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کو وضاحت سے بیان کیا گیا.. ساتھ ہی حقوق اللہ پر یہ کہہ کر حقوق العباد کو فوقیت دی گئی کہ روزمحشر اللہ پاک حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی کو تو اپنی رحمت سے درگزر کر دے گا.

    لیکن اگر کسی نے حقوق العباد کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی کی تو جب تک وہ شخص جس کا مذکورہ شخص نے حق غضب کیا اسے معاف نہیں کرے گا اللہ پاک بھی اس شخص کو معاف نہیں کرے گا.

    یہ بات تمام مسلمانوں کی تربیت کے لئے اللہ پاک نے تاکید سے بیان کی کیونکہ دنیا میں دین پھیلانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے قول و فعل سے دوسرے لوگوں کو متاثر کریں.

    لوگ آپ کی شخصیت دیکھ کر سوچیں کہ اگر یہ شخص اتنا اچھا ہے تو اس شخص کا دین کتنا اچھا ہو گا اور اس تجسس کی بنیاد پر وہ شخص دین کا مطالعہ شروع کرے اور آخرکار اسلام کی حقانیت کا قائل ہو جائے.

    لیکن ہم لوگوں نے اس کے بالکل برعکس طرزِ عمل شروع کر دیا.. ہماری ابتدا فرقہ ورانہ اختلافات سے شروع ہو کر اب اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کا اپنے سے معمولی اختلاف رائے بھی برداشت نہیں کر سکتے.

    وہ دین جو ہمیں عفو درگزر کی تعلیم دیتا تھا اب ہم اس کے برعکس فوری بدلہ لینے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنے طرز عمل پر پچھتاتے ہیں کہ ہم نے جذبات میں آکر غلط قدم اٹھا لیا.

    جذبات میں آکر فوری ردعمل دے کر ہم اپنا اور دوسروں کا گھر خراب کرتے ہیں.. پہلے چند مخصوص موضوعات یا افعال ایسے ہوتے تھے جن پر لوگ فوری ردعمل دیتے تھے اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے تھے لیکن اب تو لوگوں کو عدم برداشت اور ردعمل دینے کے لئے بہانہ درکار ہوتا ہے.

    ہم میں عدم برداشت پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے موقف کو سنتے، سمجھتے اور برداشت نہیں کرتے ہیں.ہم لوگوں کے بارے میں ایک مخصوص سوچ قائم کر لیتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو اسی سوچ کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور اس پر ردعمل دیتے ہیں.

    ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی بندہ دس باتیں غلط یا اختلافی کرتا ہے تو وہ ایک بات یا عمل ایسا کر دیتا ہے جو اس کے گزشتہ اعمال یا باتوں کا مداوا ہوتا ہے. ہم اس شخص سے اس کی دس غلط باتوں پر تنقید کے لئے نہیں ملتے بلکہ اس سے ایک صحیح بات حاصل کرنے کے لئے ملتے ہیں.

    ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارے عدم برداشت کے رویے کی وجہ سے دنیا میں ہمارا منفی امیج بن گیا ہے اور ہمیں خود میں برداشت پیدا کر کے اپنا امیج منفی سے مثبت کرنا ہے.

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بات پر ردعمل دینا ضروری نہیں ہوتا اگر آپ کو کوئی بات ناگوار یا اپنے عقائد کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو آپ ایسی محفلوں میں جانے سے اجتناب کریں.

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نظریے یا عقائد کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل اختیار کریں اور مزے کریں.

    اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل سے باہر نکلنا پڑے گا اور خود میں تنقید سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑے گا کیونکہ علم دنیا میں موتیوں کی طرح بکھرا ہوا ہے اور اسے ہر جگہ گھوم پھر کے حاصل کرنا پڑتا ہے.

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے نظریے کی ترویج ہو تو اس کے لئے ہمیں پہلے خود کو دنیا کے لئے قابل قبول بنانا پڑے گا اور اس کے بعد اپنے طرزِ عمل سے دوسروں کو متاثر کر کے انہیں اپنے نظریے کی طرف راغب کرنا پڑے گا اور یہ سب اس وقت ممکن ہو گا جب ہم میں برداشت پیدا ہو گی. نہیں تو لوگ یہ کہہ کر ہمارے نظریے سے دور ہوتے جائیں گے کہ اسلام تو اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں.

  • "وقت” —- عبدالحفیظ چنیوٹی

    "وقت” —- عبدالحفیظ چنیوٹی

    گزرا ہوا کل محض آج کی یاد ہے۔ اور آنے والا کل آج کا خواب۔

    آج ہم اپنے وقت کی قدر وقیمت پر بات کریں گے،

    ہمارا اکثر وقت فضولیات کے کاموں میں گزرتا ہے، جس سے نا ہمیں، ناہم سے جڑے افراد کو اور نا ہی ملک و ملت کو کوئی فائدہ ہوتا ہے،

    اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی میں، ساعتیں، لمحے، گھڑیاں، دن، ماہ و سال اور صدیاں وقت کے تابع ہیں کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے… تو گزرنے کے اِس عمل سے دن، ہفتے، ماہ و سال اور صدیاں جنم لیتی ہیں۔ ماہ و سال اور صدیاں تو ختم ہوجاتی ہیں، مگر وقت گزرتا ہی چلا جاتا ہے۔ کیوں کہ وقت کبھی ختم نہ ہونے والے ایسے سفر کا نام ہے کہ جس کی کوئی منزل نہیں۔

    مگر ہاں! انسان اگر چاہے تو اپنے نیک مقاصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی منزل کا تعین کرسکتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ انسان بے اختیار ہے، مگر اتنا بھی نہیں کہ وہ اپنے وقت کو اپنی مرضی سے مصرف میں نہ لاسکے۔ لیکن یہ اُس وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب انسان وقت کی قدر و اہمیت سے شناسائی رکھتا ہو۔

    پروردگارِ عالم نے کئی مقامات پر مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے۔

    سورۃ الفجر میں، وقتِ فجر اور عشرہ ذوالحجہ کی قسم کھائی ہے،

    ترجمہ: ’’ فجر کے وقت کی قسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی) اور دس (مبارک) راتوں کی قسم۔‘‘

    پھر ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کی قسم بھی کھائی،

    ترجمہ:’’رات کی قسم جب وہ چھا جائے ( اور ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپالے ) اور دن کی قسم جب وہ چمک اُٹھے۔‘‘

    اسی طرح سورۃ الضحیٰ میں تمام جہانوں کے مالک نے وقت چاشت کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا،

    ترجمہ: ’’ قسم ہے وقتِ چاشت کی (جب آفتاب بلند ہوکر اپنا نور پھیلاتا ہے ) اور قسم ہے رات کے وقت کی جب وہ چھا جائے۔‘‘

    پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھائی ہے۔

    یہاں ایک بات کی وضاحت کر دینا چاہتے ہیں کہ اکثر ہمارے احباب نادانی اور کم علمی کی وجہ سے زمانے کو بُرا کہتے ہیں، تو یہ سخت گناہ ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ زمانہ میں خود ہوں۔

    العصر میں ارشاد ہوتا ہے، ترجمہ: ’’ زمانے کی قسم، بے شک انسان خسارے میں ہے۔‘‘

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،

    ترجمہ : ’’صحت اور فراغت اللہ کی طرف یہ دو ایسی نعمتیں ہیں کہ جس کے بارے میں لوگ اکثر خسارے میں رہتے ہیں۔‘‘

    اللہ تعالیٰ انسان کو جسمانی صحت اور فراغتِ اوقات کی انمول نعمتوں سے نوازتا ہے، تو اکثر نادان انسان یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ نعمتیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی اور انہیں کبھی زوال نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے یہ صرف شیطانی چال اور وسوسہ ہوتا ہے، جس کی بِنا پر انسان اِدھر اُدھر کے فضول اور بے سود کاموں میں اپنے آپ کو مصروف کر بیٹھتا ہے۔ جس کا نہ کوئی دنیا میں فائدہ اور نہ آخرت کا سامان۔

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ ہے،

    ” ترجمہ”

    ’’ قیامت کے دن بندہ اُس وقت تک

    (اللہ تعالی کے سامنے)

    کھڑا رہے گا کہ جب تک اس سے چار چیزوں کے متعلق پوچھ نہ لیا جائے گا۔

    زندگی کیسے گزاری۔

    جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا۔

    مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔

    جسم کو کس کام میں کھپائے رکھا۔‘‘

    اسی طرح کا ایک حدیث نبویؐ ہے

    جس کے راوی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں،

    ترجمہ: ’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو،

    بڑھاپے سے پہلے جوانی کو۔

    بیماری سے پہلے صحت کو۔

    محتاجی سے پہلے تونگری کو۔

    مصروفیت سے پہلے فراغت کو۔

    اور موت سے پہلے زندگی کو۔‘‘

    اگر ہم اپنی زندگی کے گزرنے والے دنوں کو دیکھیں تو کیا ہم خود کو مطمئن پائیں گے؟ یقینا نہیں! ہم تو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اور لمحات، کھانے پینے، گھومنے پھرنے، سیر و سیاحت کرنے، ہوٹلنگ کا مزہ چکھنے، فضول گپ شپ کرنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے دل دکھانے میں صرف کر دیتے ہیں۔

    اس لئے سب خصوصاً نوجوانوں کو دعوت ہے کہ اپنے وقت کو بامقصد اور اچھے کاموں، لوگوں کی مدد، خود کو وقت دینا، اور اپنے ہر گزرتے لمحے کو دین اسلام، اپنے سے جڑے افراد کی بہتری و پاکستان کی ترقی کیلئے استعمال میں لائیں۔

  • تحریر اپنے نام کرنا بغض اور چوری ہے،ازقلم :غنی محمود قصوری

    تحریر اپنے نام کرنا بغض اور چوری ہے،ازقلم :غنی محمود قصوری

    تحریر اپنے نام کرنا بغض اور چوری ہے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    یہ وقت ہے سوشل میڈیا کا جہاں ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہو کر بھی بہت قریب اور انجان ہو کر بھی آشنا ہیں اس قربت اور آشنائی کا سب سے بڑا سبب سوشل میڈیا ہے سوشل میڈیا نے ہمیں بہت اچھا دیا بھی ہے اور بہت برا کیا بھی ہے-

    آج کل ایک رواج چل نکلا ہے کہ کسی کی بھی اچھی تحریر دیکھی تو فوری اس سے اصل راقم کا نام و ہیش ٹیگ کاٹا اور اپنا لگا کر وائرل کر دیا تاکہ واہ واہ ہو سکے اور دوسروں سے داد حاصل کی جا سکے کہ کمال لکھا ہے خوب علم ہے جناب کو مگر یہ نہیں پتہ کہ جناب نے چوری کی ہے تحریر کی اور اس کے پیچھے محنت کسی اور کی ہے

    دیکھا جائے تو یہ سراسر اگلے بندے سے بغض ہے اور اس کی چوری ہے کیا ہم نے کبھی کسی کی گندی تحریر کو اپنے نام سے منسوب کیا؟اگر نہیں تو کسی کی اچھی تحریر کو اپنے نام کرنے کا ہمیں حق کون دیتا ہے جبکہ وہ الفاظ و تحریر اگلے کی ملکیت ہے اس بغض کے متعلق اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں فرماتے ہیں-

    وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا
    اے اللہ۔ ہمارے دلوں میں کسی صاحب ایمان کے لیے کوئی کدورت پیدا نہ ہونے دینا

    ایک اور جگہ فرمان الہی ہے کہ

    أمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰھُمُ اﷲُ مِنْ فَضْلِہٖ
    ’کیا وہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کیا ہے

    قرآن کی یہ دو آیات غور کرنے سے ہمیں بتا دیتی ہیں کہ کسی کی تحریر چوری کرنا اس بندے کی محنت و علم سے بغض ہے اور یہ بغض ہمیں چوری پر اکساتا ہے
    اور چور کے بارے ارشاد ہے کہ

    عن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لعن الله السارق، يسرق البَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يده، ويسرِقُ الحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ».
    [صحيح] – [متفق عليه]

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ۔اللہ کی لعنت ہو چور پر، جو ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے
    غور کریں ایک معمولی انڈے چوری کی سزا کتنی ہے جبکہ کسی کی گھنٹوں،دنوں،ہفتوں و مہینوں کی محنت کی چوری کی سزا کتنی بنتی ہے؟

    اگر اسلامی نظام ہو تو جس طرح ضروریات اشیاء کی چوری پر سزا ہے بلکل اسی طرح کسی کی تحریر،کتاب وغیرہ کو چوری کرکے اپنا نام کرنے پر بھی سخت سزا ہوتی پاکستان میں ایسا قانون بھی موجود ہے کہ کسی کا ہیش ٹیگ یاں تحریر اپنے نام کرنا کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت جرم ہے-

    بجائے اس کے کہ ہم دوسروں کے نام کاٹ کر اپنے نام سے منسوب کرکے تحریر کو وائرل کریں اس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ زندہ دلی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اصل راقم کے نام کےساتھ ہی وائرل کیا جائے تاکہ ہمارے اخلاقی معیار کی پہچان ہو اور اگلے بندے کی امانت دوسروں تک اصل حالت میں پہنچے اس سے ہماری عزت میں بھی اضافہ ہو گا اور اصل راقم کی عزت میں بھی اگر ہم کسی کی امانت میں خیانت نہیں کرینگے تو ان شاءاللہ اللہ تعالی ہم سے راضی ہو گا اور ہم اس کے ہاں صادق و امین ٹھہریں گے ان شاءاللہ-

  • عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خواجہ فرید کوریجہ

    عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خواجہ فرید کوریجہ

    عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خواجہ فرید کوریجہ
    عمران خان نے انتخابات میں صوبہ کے نام پر ووٹ لے کر یو ٹرن لیا ، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سرائیکیوں کو عمران خان صوبہ دلوائیں گے یہ زمینی حقائق کے خلاف ہے۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ سرائیکستان قومی اتحاد کے سربراہ و سجادہ نشین دربارحضرت خواجہ فرید کوٹ مٹھن شریف خواجہ غلام فرید کوریجہ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے الیکشن 2018میں صوبہ کے نام پر ووٹ لے کر یو ٹرن لیا کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سرائیکیوں کو عمران خان صوبہ دلوائیں گے یہ زمینی حقائق کے خلاف ہے،انہوں نے کہاکہ بلوچ رہنما سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی عمران سے اتحاد تھا، بلوچ اور پشتون قوم پرست کارکنوں پر عمران خان کے دور حکومت میں مظالم اور مسنگ پرسن میں اضافہ ہوا ،پاکستان میں شدت پسند سوچ کے لئے سیاسی مواقع زیادہ ہیں، عمران خان پاکستان میں طالبان سوچ کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور طالبان خان کے نام سے مشہورہوئے، شدت پسند سوچ کے حامل لوگ عمران خان کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں اور عمران ان عناصر کو فعال کر کے اداروں اور عدالتوں کو بلیک میل کر کے مرضی کے فیصلے کرانا چاہتے ہیں ،اگر ہارس ٹریڈنگ غلط اقدام تو ق لیگ کے ساتھ بھی ہارس ٹریڈنگ غلط ہے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کی حمایت کرتے ہیں عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے خود عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں جنگ گروپ کے سربراہ اور صحافیوں کو جیلوں ڈالا گیا اور آزادی صحافت کے خلاف کالے قانون بنائے، منی مارشل لا لگایا اور کرپشن کے نام پر کامیاب ہوئے اور کرپشن میں اضافہ ہوا آئین اور قانون کی بالادستی کی حمایت کرتے ہیں، کمزوروں کی آواز بلند کرتے رہیں گے مظلوم چاہے زبان کی بنیاد پر ہوں یا مذہب یا جنس کی بنیاد پر ان کو آئینی حقوق ملنے چاہئیں۔

  • سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    سعودی عرب نے یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق ویڈیو شیئرنگ سائٹ ’یوٹیوب‘ پرغیراخلاقی نوعیت کے اشتہارات کے بارے میں بہت سی شکایات سامنے آنے کے بعد سعودی عرب میں آڈیو ویژول میڈیا اتھارٹی اور کمیونیکیشن کمیشن نے یوٹیوب پلیٹ فارم سے ان اشتہارات کو ہٹانے اور ضوابط کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ یوٹیوب پلیٹ فارم نے ملک کے اندر اپنے صارفین کو ہدایت کردہ اشتہارات دکھائے، جن کی نشریات میں اسلامی اور معاشرتی اقدار اور اصولوں سے متصادم اور میڈیا مواد کی خلاف ورزی پر مبنی مواد شامل تھا۔

    آڈیو ویژول میڈیا کمیشن اور کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیشن نے پلیٹ فارم سے درخواست کی کہ وہ ان متنازعہ اشتہارات ہٹائے اور ضوابط کی پابندی کرے۔

    تیس سال کویت کی سفارتی خدمات انجام دینے والے سفیر کیلئے برطانیہ کا بڑا اعزاز

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ادارے یوٹیوب پر چلائے جانے والے اشتہارات کو مانیٹر کریں گے توقع ہے کہ یوٹیوب ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے غیراخلاقی اور ذوق عام کے خلاف اشتہارات کے مواد کو ہٹانے میں تاخیر نہیں کرے گا۔

    بھارتی، بھارت سے اکتانے لگے،4 لاکھ باشندوں نے شہریت چھوڑ دی

  • ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    "رویہ” ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم روزانہ کئی بار استعمال کرتے ہیں. اگر ہم اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس سے مراد انسان کا اپنے ماحول کی جانب توجہ یا جھکاؤ کہہ سکتے ہیں اب ہم اسے تین مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں.

    (1) سوچنا
    (2)محسوس کرنا
    (3)برتاؤ

    ان میں سے پہلے دو ہمارے کردار کو بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں. اگر ہم بہت زیادہ منفی سوچتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں تو ہم اپنی شخصیت کو بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں.تیسرا پہلو برتاؤ ہے، جس کا تعلق براہ راست ہمارے ارد گرد لوگوں سے ہوتا ہے.

    برتاؤ کے بھی دو پہلو ہیں:

    مثبت یامنفی.

    مثبت اور منفی رویوں کی پہچان کے لیے ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں.

    اندھے شخص کو سڑک پار کروانا، ریڑھی بان کو کھانا اور پانی مہیا کرنا، سڑک کنارے درخت لگانا، سردیوں میں غریب و مساکین میں گرم کپڑے دینا وغیرہ وغیرہ. یہ سب مثبت پہلو ہیں.

    اگر منفی مثالوں کی بات کریں تو سڑک کنارے درختوں کو اکھاڑنا، گندگی پھیلانا، کسی ضروت مند کو دھتکارنا، اگر آپ کی گاڑی سے کوئی ٹکرا جائے تو اسے اٹھانے کے بجائے برا بھلا کہنا یہ ہمارے منفی پہلو ہیں.

    اگر ہم مثبت رویے اپناتے ہیں تو ہم ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے. اگر منفی سوچ، منفی برتاؤ بڑھتا چلا جائے تو معاشرہ جنگل کے معاشرے سے کم دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایک معاشرے کی بنیاد انسانی رویوں پر ہی قائم ہوتی ہے.

    ہمارے مثبت اور منفی رویوں میں زبان کے استعمال کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، وہ اس وجہ سے کہ کبھی تو اس زبان سے نکلنے والے الفاظ انسان کو بلندیوں کی طرف لیجاتے ہیں اور کبھی انسان زبان کے نشتر برداشت نہیں کرپاتا اور اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے.غم کے وقت تسلی دینا، ہار کی صورت میں حوصلہ دینا، انسان کو اس بات کے لیے ابھارتے رہنا کہ تم کرسکتے ہو دوسرے انسان کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے.

    اب اس واقعے کو ہی دیکھ لیں اور یہ ہمارے معاشرے کا بدترین پہلو کہیں تو غلط نہ ہوگا.

    کہا جاتا ہے کہ ایک عرب تاجر جو اچھے اخلاق اور عمدہ کپڑوں اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھا. ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے مذاق کرنے کا سوچا، یہ چیز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ہمارا یہ مذاق اس قدر خطرناک ثابت ہوگا. سو جب وہ اپنی دکان کی طرف جارہا تھا تو راستے میں ملنے والا پہلا دوست کہتا ہے کیا ہی بہترین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مجھے بھی آسمانی رنگ بہت پسند ہے. اور یہ تم نے عمامہ الٹا کیوں پہنا ہوا ہے؟ یہ اسے سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا. اس کے بعد دونوں اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں لیکن وہ عرب تاجر بار بار اپنے کپڑوں کو دیکھتا ہے کہ یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے، وہ اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے. جیسے ہی وہ سڑک پار کرتا ہے تو ایک دوسرے دوست سے سامنا ہوتا ہے، علیک سلیک کے بعد وہی باتیں جو پہلے دوست نے کہی تھیں یہ بھی کہتا ہے، تاجر کبھی کپڑے دیکھتا ہے تو کبھی عمامہ اتار کر سیدھا پہنتا ہے، اب اسے بھی کھٹکا لگ جاتا ہے کہ کہیں میرے کپڑوں کا رنگ مختلف تو نہیں، انہی سوچوں میں گم وہ دکان ابھی کھول ہی رہا ہوتا ہے کہ تیسرا دوست منصوبے کے مطابق اس کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور وہ بھی وہی باتیں دہراتا ہے جو اس کے دیگر دو دوستوں نے کہی تھیں. اب اس عرب تاجر کا سر گھومنے لگتا ہے ایک ہی بات کو بار بار سننے کے بعد وہ اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکتا. عمدہ کپڑے پہننے والا، بہترین خوشبو استعمال کرنے والا پاگل ہوجاتا ہے، نہ اسے کپڑوں کی پرواہ رہتی ہے اور نہ چاروں طرف بھنبھناتی مکھیوں کی.

    دیکھیے یہ دوستوں کے لیے ایک مذاق تھا لیکن بیٹوں سے باپ، بیوی سے شوہر الغرض خود اس کے لیے زندگی کا ایک تباہ کن حادثہ بن گیا. اب اس کے دوست مہنگے ڈاکٹروں کو دکھائیں یا پھر رات رات بھر آہیں بھرتے رہیں اب کسی کام کی نہیں.

    اپنے رویوں سے کسی کی زندگی اجاڑنے کے بجائے خوشیوں، مسکراہٹوں اور کامیابیوں کا سبب بنیں. کوشش کریں دوسروں کی زندگیوں سے کانٹیں چنیں نہ کہ دوسروں کی زندگیوں میں کانٹیں بچھائیں.