Baaghi TV

Category: بلاگ

  • غزہ امن منصوبہ، آزادی کا وعدہ یا اسرائیلی مفاد کی چال؟تحریر:عتیق گورایا

    غزہ امن منصوبہ، آزادی کا وعدہ یا اسرائیلی مفاد کی چال؟تحریر:عتیق گورایا

    امریکہ کی جانب سے پیش کیا گیا نیا غزہ امن منصوبہ خطے میں ایک نئی بحث کا سبب بن چکا ہے۔ یہ منصوبہ 21 نکات پر مشتمل ہے جس میں یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی بے دخلی، عبوری حکومت کے قیام اور اسرائیلی انخلاء جیسے نکات شامل ہیں۔ بظاہر یہ ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر ایسی شقیں موجود ہیں جو فلسطینی عوام کے لیے خدشات پیدا کر رہی ہیں۔

    منصوبے کے مطابق معاہدے کے ابتدائی 48 گھنٹوں میں یرغمالیوں اور مرنے والوں کی باقیات واپس کی جائیں گی۔ یہ اقدام انسانی ہمدردی کے طور پر پیش کیا گیا ہے مگر حقیقت میں یہ فلسطینیوں پر فوری دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ اگر بڑے معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو یہ صرف وقتی خاموشی ہوگی جس کے بعد اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔منصوبہ کہتا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کر کے اقتدار سے الگ کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو کون پر کرے گا؟ موجودہ حالات میں کوئی بھی جماعت فوری طور پر عوامی سطح پر متبادل کے طور پر قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ یہ خلا مزید انتشار اور غیر ریاستی عناصر کے ابھرنے کا سبب بن سکتا ہے۔منصوبے میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹک حکومت قائم کرنے کی تجویز بھی ہے جو بین الاقوامی نگرانی میں کام کرے گی۔ اس حکومت کو تعلیمی، عدالتی اور انتظامی ڈھانچوں کو چلانے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اگر یہ حکومت مقامی نمائندگی کے بغیر قائم ہوئی تو اسے عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ خطرہ یہ ہے کہ یہ عبوری مرحلہ طویل المدتی ہو جائے اور فلسطینی خودمختاری ایک خواب بن کر رہ جائے۔

    اسرائیل نے غزہ سے انخلاء پر آمادگی ظاہر کی ہے مگر شرط یہ ہے کہ متبادل سیکیورٹی فورسز تعینات ہوں۔ یہ شرط منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری ہے، کیونکہ اگر متبادل فورسز کی تیاری میں تاخیر ہوئی تو اسرائیل دوبارہ اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔منصوبے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امن قبول کرنے والے حماس ارکان کو معافی یا محفوظ راستہ دیا جائے۔ بظاہر یہ مفاہمت کی کوشش ہے مگر متاثرین اور فلسطینی عوام کے لیے یہ اقدام ناانصافی محسوس ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں داخلی تقسیم اور مزید اختلافات پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔منصوبے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو وہ ہے جو اسرائیل کو عبوری مرحلے کے دوران غیر معمولی سیکیورٹی اختیارات دیتا ہے۔ اگر فلسطینی انتظامیہ مطلوبہ شرائط پوری نہ کر سکی تو اسرائیل کو ریاست کے قیام کے وعدے سے دستبردار ہونے کا اختیار ہوگا۔ اس طرح فلسطینی ریاست کا قیام محض ایک مشروط وعدہ بن جاتا ہے۔

    ایک اور پہلو جو سامنے آیا ہے وہ ہے “غزہ ریویرا” منصوبہ، جس کے تحت غزہ کو دوبارہ تعمیر کر کے ایک ساحلی اور سیاحتی مرکز بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر آبادی کی عبوری یا مستقل نقل مکانی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ناقدین اس کو نسلی صفایا اور آبادیاتی انجینیئرنگ سے تعبیر کر رہے ہیں۔یہ منصوبہ بظاہر امن کا خاکہ پیش کرتا ہے مگر اس کے اندر ایسے کئی خطرناک پہلو موجود ہیں جو فلسطینی خودمختاری کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ عوامی نمائندگی، شفاف وقت بندی اور واضح قانونی ضمانتوں کے بغیر نافذ ہوا تو یہ اسرائیلی مفاد کا اوزار بن کر رہ جائے گا۔ فلسطینی عوام کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے حقِ خود ارادیت کو کسی بھی بین الاقوامی منصوبے میں بنیادی شرط کے طور پر منوائیں۔

  • اکیلا مجاہد بمقابلہ پوری فوج ، اسرائیلی طاقت کا بھانڈا پھوٹ گیا ،تحریر:عتیق گورایا

    اکیلا مجاہد بمقابلہ پوری فوج ، اسرائیلی طاقت کا بھانڈا پھوٹ گیا ،تحریر:عتیق گورایا

    فلسطینی مزاحمت کا ایک واقعہ جو دنیا کو بتا گیا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ایمان اور قربانی میں ہے

    مغربی میڈیا اسرائیلی فوج کو دنیا کی ناقابل شکست قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک ایسی فوج جو ٹیکنالوجی، اسلحے اور تربیت میں بے مثال ہے۔ لیکن فلسطینی سرزمین پر جب حقیقت کھلتی ہے تو یہ تمام دعوے ریت کی دیوار کی طرح گر جاتے ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کے سامنے اسرائیلی فوج کی کمزوریاں نہ صرف نمایاں ہوتی ہیں بلکہ ان کی بزدلی پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو جاتی ہے۔

    یہ بات سب سے زیادہ اس وقت آشکار ہوئی جب ایک اکیلا فلسطینی فائٹر اسرائیلی فورس کے مقابل کھڑا ہو گیا۔ یہ نوجوان نہ کسی بکتر بند گاڑی پر سوار تھا، نہ ہی جدید ہتھیاروں سے لیس بلکہ ایک کلاشنکوف جو شاید AMD-65 ہے جو کہ ہنگری کی بنائی ہوئی AKM کی ہی ایک شکل ہے اور شاید ایک AGS-17 گرنیڈ لانچر ہے جو روسی تیار کردہ ہے اور گاڑی وغیرہ پر نصب ہوتا ہے۔ اس کے پاس صرف ایمان، غیرت اور عزم کا سرمایہ تھا۔ اسرائیلی فوج کے پیدل دستے بار بار اس پر ٹوٹ پڑے، لیکن وہ انہیں ناکام بناتا رہا۔ آخرکار جب فوجی دستے بے بس ہو گئے تو انہوں نے ایک ڈرون کے ذریعے اسے نشانہ بنایا۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی علامت تھا کہ اسرائیلی فوج کو دو بدو مقابلے کا حوصلہ نہیں، وہ صرف فاصلے سے وار کر سکتی ہے۔

    اسی مزاحمت کی روح کو فلسطین کے عظیم شاعر محمود درویش نے اپنے کلام میں بیان کیا:
    «أُحِبُّكَ يا وَطَنِي فَإِنَّ مَسْمَعِي وَمَنْظَرِي
    لَوْلَا الدِّمَاءُ لَمَا تَمَّ الطَّهَارَةُ وَالجِدُّ»
    محمود درويش، قصيدة: على هذه الأرض ما يستحق الحياة
    یہی وہ خون ہے جو فلسطینی مزاحمت کی بنیاد ہے۔ اسرائیلی فوج صرف نہتے شہریوں کے خلاف طاقت دکھاتی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینی فضائی بمباری کا نشانہ بنتے ہیں، زمینی لڑائی میں نہیں۔ یہ اعداد و شمار خود ان کے خوف کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج براہِ راست لڑائی کا سامنا کرنے کے قابل نہیں۔ اور فلسطینی مزاحمت کار بھی اکثر و بیشتر بلکہ 99 فیصد فضائی کارروائی میں ہی شہید ہوئے ہیں۔
    7 اکتوبر اس بزدلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جب اسرائیلی فوج چھ گھنٹے تک ردعمل نہ دے سکی۔ ان کی حکمتِ عملی محض فضائی حملوں پر مبنی تھی، اور جب زمین پر سامنا کرنا پڑا تو ان کے سپاہی لڑکھڑا گئے اور پسپا ہو گئے۔ طاقتور فوج کا یہ پروپیگنڈا محض ایک فریب ہے جو سرمایہ اور میڈیا کے زور پر دنیا کو دکھایا جاتا ہے۔
    اسی حقیقت کو محمود درویش نے غزہ کے بارے میں کچھ یوں کہا:
    «غَزَّةُ بَعِيدَةٌ عَنْ أَقَارِبِهَا وَقَرِيبَةٌ مِنْ أَعْدَائِهَا
    لِأَنَّهُ مَتَى تَفَجَّرَتْ غَزَّةُ صَارَتْ جَزِيرَةً وَلا تَكْفُّ الانْفِجَارَاتُ»
    — محمود درويش،
    ترجمہ: "غزہ اپنے رشتہ داروں سے دور مگر دشمنوں کے قریب ہے، کیونکہ جب غزہ پھٹتا ہے تو ایک ایسا جزیرہ بن جاتا ہےجس کے دھماکے تھمنے کا نام نہیں لیتے”

    یہ اشعار اس حقیقت کا عکس ہیں کہ فلسطین کی سرزمین پر جب بھی ایک دلیر مجاہد کھڑا ہوتا ہے، تو وہ پوری دنیا کو ہلا دیتا ہے۔ اس اکیلے مجاہد کی قربانی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک عہد ہے کہ مزاحمت کبھی ختم نہیں ہو گی۔
    وہ اکیلا مجاہد دراصل پوری قوم کی مزاحمت کا چہرہ ہے۔ اس نے دنیا کو بتا دیا کہ ٹیکنالوجی اور اسلحہ محض کھوکھلے دعوے ہیں، اصل طاقت ایمان، قربانی اور سچائی ہے۔ اسرائیلی فوج جب بھی کسی بہادر اور سچے حریف کا سامنا کرتی ہے تو اس کے مصنوعی دعوے اور پروپیگنڈا ریت کی طرح بکھر جاتے ہیں۔یہی وہ پیغام ہے جو فلسطین کی ہر گلی، ہر بچہ اور ہر شہید دنیا کو سناتا ہے: ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مزاحمت کی روشنی اسے آخرکار شکست دے کر رہتی ہے۔

  • ماضی کا استاد باوقار، آج کا استاد بے توقیر کیوں؟

    ماضی کا استاد باوقار، آج کا استاد بے توقیر کیوں؟

    ماضی کا استاد باوقار، آج کا استاد بے توقیر کیوں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    آج حسبِ معمول موبائل پر آئے ہوئے میسیجز دیکھ رہا تھا کہ ایک نہایت ہی قابلِ احترام سکول پرنسپل کی طرف سے ایک مضمون موصول ہوا۔ عنوان تھا: "استاد کی بے عزتی – ایک قوم کی بربادی”۔ مضمون پڑھتے ہی دل بوجھل ہو گیا۔ اس میں لکھا تھا کہ آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ استاد کی عزت صرف تقریروں اور کتابوں تک محدود ہو گئی ہے۔ حقیقت میں استاد کی وہ حیثیت جو کبھی مقدس ہوا کرتی تھی، اب تماشہ بن گئی ہے۔ شاگرد استاد سے علم حاصل کرنے کے بجائے اس پر جملے کستے ہیں، والدین معمولی بات پر استاد کو نیچا دکھاتے ہیں اور معاشرہ استاد کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ اسے عزت کی روٹی دے۔

    یہ الفاظ صرف جذباتی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہی استاد جس نے ہمیں "ا، ب، پ” سے روشناس کرایا، قلم پکڑنا سکھایا، لفظوں کو جملوں میں جوڑنا سکھایا، آج اسی استاد کو کلاس میں بے توقیر کیا جا رہا ہے۔ اس کی بات کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور اس کی شخصیت کو مجروح کیا جاتا ہے تو ایسا کیوں ہورہا ہے؟

    اگر ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو اس وقت استاد اور شاگرد کا رشتہ محض تعلیمی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی بنیادوں پر قائم تھا۔ استاد شاگرد کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتا تھا، اس کی تربیت صرف نصاب تک محدود نہیں ہوتی تھی بلکہ کردار سازی، اخلاقیات اور عملی زندگی کے اصولوں تک پھیلی ہوتی تھی۔ استاد کا مقصد صرف نصاب مکمل کرانا نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک صالح، باکردار اور ذمہ دار شہری کی تعمیر کرنا ہوتا تھا۔

    اس وقت ٹیوشن یا اکیڈمی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ استاد کلاس روم میں ہی اپنے فرائض کی ادائیگی کو اپنا فرض سمجھتے تھے اور پوری کوشش کرتے تھے کہ طالب علم کو کسی اضافی مدد یا فیس دینے کی ضرورت نہ پڑے۔ وہ اپنے پیشے کو نوکری نہیں بلکہ پیغمبری پیشہ سمجھتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ علم کی روشنی پھیلانا اور جہالت کو دور کرنا ہی اس پیشے کا بنیادی مقصد ہے۔ یہی نظریہ انہیں قوم کا معمار بناتا تھا، جن کے ہاتھوں میں ملک و ملت کی آئندہ نسلوں کی تقدیر ہوتی تھی۔

    مگر آج تعلیم ایک مقدس فریضہ نہیں رہی بلکہ مکمل طور پر کاروباری صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ استاد جو کبھی علم کا وارث اور مبلغ تھا، آج ایک مافیا کا روپ دھار چکا ہے، جسے طلباء کی روحانی یا اخلاقی تربیت سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ اس کی واحد غرض زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا ہے اور اسی مالی لالچ نے اس مقدس پیشے کے وقار کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

    آج کے استاد نے اپنے بنیادی کردار یعنی کردار سازی سے مکمل غفلت برتنی شروع کر دی ہے۔ جس استاد کو قوم کے نونہالوں کی اعلیٰ ذہنی تربیت کرنی چاہیے تھی، وہ آج انہیں اخلاقی اقدار سے دور کر کے بے راہ روی کی طرف دھکیلنے کا ذمہ دار بن رہا ہے۔ کئی تعلیمی ادارے اور اساتذہ غیر ضروری اور نام نہاد کلچرل پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کے کچے ذہنوں کو شعوری یا لاشعوری طور پر ایک مادر پدر آزاد معاشرے کی طرف دھکیل رہے ہیں، جہاں ذمہ داری اور اخلاق سے زیادہ آزادی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

    سرکاری تعلیمی اداروں میں استاد کا دوہرا معیار اور بے ایمانی اس زوال کا سب سے عملی ثبوت ہے۔ وہ اساتذہ جو سرکاری اداروں سے باقاعدہ تنخواہیں وصول کرتے ہیں، وہ اپنے فرض سے سراسر غفلت برتتے ہیں۔ حاضری لگانے، چائے پینے اور رسمی کارروائی کے بعد کلاس سے غائب ہو جانا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ طلباء کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ان ہی اساتذہ کی ذاتی اکیڈمی یا ٹیوشن سنٹر میں مہنگی فیس دے کر پڑھنے آئیں۔ اس صورتحال کا افسوسناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو طلباء ان کی ٹیوشن میں پڑھنے کی سکت رکھتے ہیں، وہ تو ہر امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ غریب اور مستحق طلباء جو مالی بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔ کامیابی کا یہ معیار علم پر نہیں، بلکہ جیب کتنا بھاری یا موٹی ہے پر منحصر ہو گیا ہے۔

    یہ سب کچھ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ استاد کی بے توقیری محض ایک معاشرتی حادثہ نہیں بلکہ خود اس پیشہ کے حاملین کی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ جب آپ کا پیشہ پیغمبری سے نکل کر محض ایک تجارت بن جائے اور آپ کی نیت علم کی ترسیل کے بجائے مالی مفاد ہو جائے تو اس زوال کو روکنا ممکن نہیں رہتا۔ استاد کی عزت میں کمی کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈالی جا سکتی، اس کی بنیاد موجودہ دور کے اساتذہ نے خود رکھی ہے۔

    آج جب استاد نے وہ کردار چھوڑ کر صرف پیسہ کمانے کو اپنا مقصد بنا لیا ہے تو یہ زوال اس کی اپنی لائی ہوئی مصیبت ہے، جس کی آبیاری کسی اور نے نہیں بلکہ آج کے اساتذہ نے خود کی ہے۔ اسی لیے جب استاد کی بے عزتی ہوتی ہے تو سب سے پہلے اساتذہ کو اپنے ضمیر میں جھانکنا چاہیے کہ کہیں اس کی وجہ ان کا اپنا عمل تو نہیں ہے۔ عزت واپس حاصل کرنے کے لیے استاد کو دوبارہ اپنے پیشے کو مقدس سمجھنا ہوگا، شاگرد کو اولاد کی طرح تربیت دینا ہوگی اور تعلیم کو تجارت نہیں بلکہ عبادت بنانا ہوگا۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا آج کا استاد خود کو دوبارہ وہی باوقار مقام دلانے کے لیے تیار ہے؟ کیا وہ اپنے ضمیر سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت رکھتا ہے کہ "میں نے اپنے پیشے کے ساتھ کیا کیا؟” کیا وہ اس زوال کو روکنے کے لیے خود کو بدلنے پر آمادہ ہے؟ یا پھر وہ اسی بے توقیری کو اپنی قسمت سمجھ کر خاموشی سے قبول کرتا رہے گا؟

    یہ سوال ہر استاد کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے۔ کیا وہ اس آواز کو سننے کے لیے تیار ہے؟

  • بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام عالم اس وقت جدید ٹیکنالوجی کی طرف رواں دواں ہے۔ پاکستان نے اگر بھارت سے جنگ جیتی جہاں پاک فوج کا کردار تھا وہاں جدید ٹیکنالوجی بھی شامل تھی۔ جس کی وجہ سے پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر اپنے آپ کو منوایا۔ لیکن حیران کن حد تک یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ہے۔ آخر یہ پاکستان، جمہوریت اور عوام سے کس چیز کا بدلہ لینا چاہتی ہے۔ برطانوی راج میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا کلیکٹر کے پاس انتظامی عدالتی اور پولیس تینوں طرح کے اختیارات تھے۔ مقصد یہ تھا کہ نو آبادیاتی نظام آسانی سے چل سکے رعایہ پر قابو رکھا جائے اور بغاوتوں کو دبایا جا سکے۔ آزادی کے بعد پاکستان میں یہ نظام جاری رہا لیکن بعد میں 2001 میں پولیس آرڈر اور لوکل گورنمنٹ اصلاحات کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کردار ختم کر دیا گیا اور عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کیا گیا۔ انگریز کا نظام بنیادی طور پر عوامی نمائندگی نہیں کرتا تھا بلکہ نو آبادیاتی کنٹرول کے لیے بنایا گیا تھا۔ پاکستان کے کچھ بیوروکریٹ یہ سمجھتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کو دوبارہ عدالتی اختیار ملیں لیکن وکلا کی ایک بڑی تعداد اور عدلیہ کی اکثریت اس کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ برطانیہ سمیت زیادہ تر جمہوری ممالک نے انتظامیہ اور عدلیہ کو مکمل طور پر الگ کر دیا ہے وہاں پولیس، میئر یا منتخب مقامی حکومت کے ماتحت ہے نہ کہ کسی بیوروکریٹ یا مجسٹریٹ کے۔ چیک اینڈ بیلنس کا مضبوط ڈھانچہ برطانیہ سمیت دیگر جمہوری ممالک میں بنایا گیا مجسٹریٹی نظام نو آبادیاتی اور غیر جمہوری تھا۔ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے اداروں کی علیحدگی شفاف، احتساب اور مقامی حکومت کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا نہ کہ پرانا غلامی والا ڈھانچہ واپس لانا۔ نظام کی ساخت سے زیادہ عمل درآمد اور نیت کا ہے اگر پولیس اور عدلیہ کو آزاد اور جواب دے بنایا جائے تو مجسٹریٹی نظام کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

    حیرت انگیز طور پر 2024 میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کا مجسٹریٹی نظام ختم کرنے کا بل دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے باوجود ایوان صدر جاتے ہوئے گم کر دیا گیا جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے۔ پارلیمنٹ ممبران قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کو باز پرس کرنی چاہیے کہ وہ بل کہاں گیا۔ سن 1973 کے متفقہ آئین میں بھی مجسٹریٹی نظام ختم کرنے پر اتفاق ہوا مگر ہر دور میں بیوروکریسی رکاوٹیں ڈالتی رہی۔ بیوروکریسی اخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کو اور اس قوم کو جس میں ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل ہیں دوبارہ غلامی کے دور میں کیوں جانا چاہتی ہے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر تمام محکموں کی سربراہی ان کے پاس ہے اور ان محکموں کا جو حال ہے وہ ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی معلوم ہے۔ آذاد کشمیر میں آج حالات خراب ہیں وہاں مجسٹریٹی نظام پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ سابقہ فاٹا میں ڈی سی جج ہوا کرتا تھا اور پولیس بھی تھی مگر وہاں کی آگ فوج نے اپنے خون سے بجھائی۔ سوال یہ ہے کہ مجسٹریٹی نظام وہاں کیا کرتا رہا؟ بلوچستان کا زیادہ تر علاقہ ڈی سی کے مکمل کنٹرول میں ہے مگر حالات سب کے سامنے ہیں وہاں بھی اگر پاک فوج نہ ہو تو سوچیے کہ پھر کیا ہو۔ وفاقی دارالحکومت میں بھی مجسٹریٹی نظام ہے ذرا غور سے سوچیے کہ اسلام آباد کے کیا حالات ہیں زیادہ پیچھے جائیں تو اسی مجسٹریٹی نظام کے دور میں امریکی سفارت خانے پر ایک ہجوم چڑھ دوڑا اور یہ واقعہ سن 1979 کا ہے اور 1989 کا حملہ اسی مجسٹریٹی نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سندھ اور پنجاب میں امن و امان بہت بہتر ہے کیونکہ پولیس اپنا کام کر رہی ہے اور عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ بیوروکریسی کا ایک گروپ مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو ایک آذاد مملکت کے شایانِ شان نہیں ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ پولیس کو پروفیشنل بنائیں۔ پاکستان کے قریبی ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کے تمام بڑے شہروں میں مجسٹریٹی نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ بیوروکریسی کا گروپ اب پنجاب اور سندھ میں حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا ہے ذمہ داران ریاست پنجاب اور صوبہ سندھ کی حکومت اس سنگین مسئلے پر خصوصی توجہ دے۔

  • را، ہندوتوا کے عالمی امن پر وار اور دنیا کی خاموشی

    را، ہندوتوا کے عالمی امن پر وار اور دنیا کی خاموشی

    را، ہندوتوا کے عالمی امن پر وار اور دنیا کی خاموشی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    جب کوئی ریاست اپنی خفیہ ایجنسیوں کو اس حد تک طاقت دیتی ہے کہ وہ سرحدوں سے باہر جا کر قتل و غارت گری میں ملوث ہو جائیں تو یہ صرف اس ملک کی داخلی پالیسی نہیں رہتی بلکہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جاتی ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” کے کردار پر حالیہ برسوں میں جو انکشافات سامنے آئے ہیں، وہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ نیویارک میں سکھ رہنما گروپت ونت سنگھ پانن کے خلاف مبینہ قتل کی سازش نے اس خطرے کو مزید اجاگر کیا ہے۔ امریکی عدالتوں میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق جسے بلومبرگ نے رپورٹ کیا: “Prosecutors alleged in court documents that a murder-for-hire plot involved plans for an additional assassination in Nepal or Pakistan.” اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سازش صرف ایک فرد تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا دائرہ دیگر ممالک تک پھیلانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ مزید برآں بلومبرگ نے بتایا کہ وکاش یادو اور گپتا پر “murder-for-hire, conspiracy to commit murder-for-hire and conspiracy to commit money laundering” جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بھارتی تفتیشی ادارے نے بھی تسلیم کیا کہ “rogue operatives not authorized by the government had been involved in the plot” یعنی اس سازش میں ایسے افراد ملوث تھے جنہیں حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ اجازت حاصل نہیں تھی۔

    یہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” یا اس سے وابستہ عناصر، ہندوتوا کے نظریے کے زیر اثر، غیر ملکی سرزمین پر خفیہ قتل اور سازشوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ہندوتوا جو کہ ایک انتہا پسند نظریہ ہے، بھارت کی داخلی سیاست سے نکل کر اب بین الاقوامی سطح پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ نظریہ نہ صرف اقلیتوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیتا ہے بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کو بھی جارحانہ رخ دیتا ہے۔ جب ریاستی ادارے اس نظریے کے تابع ہو جائیں تو ان کی کارروائیاں صرف سفارتی حدود تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ دوسرے ممالک میں بھی مداخلت کرنے لگتے ہیں۔

    پاکستان میں "را” کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا ایک طویل اور تلخ پس منظر موجود ہے۔ بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی محض الزامات تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر جاری ہے۔ یادیو نے خود اعتراف کیا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سرپرستی کر رہا تھا، اور اس کے خلاف عدالت میں پیش کیے گئے شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا دئے ہیں کہ "را” نے پروکسی نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے متحدہ عرب امارات اور افغانستان سے "sleeper cells” کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی منظم کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جن میں مقامی افراد اور جرائم پیشہ عناصر کو استعمال کیا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق 2020 سے اب تک کم از کم 20 افراد کو "را” کی کارروائیوں میں قتل کرا چکا ہے.

    یہ الزامات صرف دو ممالک کے درمیان کشیدگی کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جب ایک ریاست دوسرے ملک میں خفیہ طور پر قتل و غارت کی کارروائیاں کرے، تو یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق کے انٹرنیشنل معاہدوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے باوجود، عالمی برادری کی خاموشی حیران کن ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں بھارت کی ان کارروائیوں کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، لیکن ان ممالک کی حکومتیں محض سفارتی تعلقات یا تجارتی مفادات کی بنیاد پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بلومبرگ جیسے معتبر ذرائع مسلسل اس حوالے سے رپورٹس شائع کر رہے ہیں، لیکن ان رپورٹس پر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔

    سوال یہ ہے کہ جب شفاف شواہد موجود ہیں، تو بھارت کو دہشت گرد ریاست کیوں نہیں قرار دیا جاتا؟ “When transparent evidence exists, why isn’t India declared a terrorist state?” کیا عالمی برادری صرف اس وقت حرکت میں آتی ہے جب متاثرہ ملک مغربی دنیا کا حصہ ہو؟ کیا جنوبی ایشیا کے ممالک کی جان و مال کی کوئی اہمیت نہیں؟ اگر بھارت کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں مقدمات نہیں چلائے جاتے، اگر اقوام متحدہ اس پر پابندیاں عائد نہیں کرتا، تو یہ عالمی انصاف کے نظام پر ایک بدنما داغ ہوگا۔

    یہ خاموشی صرف سفارتی مصلحت نہیں بلکہ ایک خطرناک غفلت ہے۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو نظر انداز کرنا عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر آج دنیا نے اس پر آواز بلند نہ کی تو کل یہی خاموشی دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ دہشت گردی کسی بھی شکل میں ہو، چاہے وہ ریاستی سطح پر ہو یا غیر ریاستی، اس کے خلاف یکساں ردعمل ضروری ہے۔ بھارت کو اس کے اقدامات کا جواب دینا ہوگا اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف متحد ہو کر کارروائی کرے۔

    اگر دنیا آج خاموش رہی تو یہ سمجھ لیا جائے کہ اس نے عالمی امن کا قبرستان کھود دیا ہے۔ اس قبر پر خاموشی سے مٹی ڈالنا آنے والی نسلوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی۔ یہ وقت ہے کہ دنیا اپنی آنکھیں کھولے، انصاف کے تقاضے پورے کرے اور بھارت کو اس کے ریاستی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرائے۔ کیونکہ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی، تو کل یہ خاموشی ہمارے اپنے وجود کو نگل سکتی ہے۔

  • بحری سرحدوں کی محافظ،پاکستان نیوی

    بحری سرحدوں کی محافظ،پاکستان نیوی

    جب زمین اپنے دامن میں شہروں، گاؤں اور کھیتوں کو سمیٹتی ہے تو سمندر اپنی وسعت میں ایک ایسی سرحد رکھتا ہے جو بظاہر بے کنار ہے مگر حقیقت میں ہماری بقا اور سلامتی کی ضامن ہے۔ انہی نیلگوں لہروں کے بیچ پاکستان نیوی، ایک خاموش مگر جاگتی آنکھ کی مانند، اپنے وطن کی بحری سرحدوں پر پہرہ دیتی ہے۔پاکستان نیوی محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک ایسی علامت ہے جو قومی غیرت، عزم اور وقار کی آئینہ دار ہے۔ گہرے سمندر کے پرسکون پانیوں میں چھپی ہوئی ان کی موجودگی دشمن کے لیے ایک غیر مرئی دیوار ہے، اور جب کبھی کوئی خطرہ اُبھرنے کی جسارت کرے تو یہ بحری مجاہدین فولاد کی طرح آہنی عزم کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔

    یہ محافظ صرف ہتھیاروں سے لیس نہیں بلکہ ایک نظریے سے مزین ہیں،نظریۂ پاکستان، جس کی حفاظت کے لیے وہ اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں۔ ان کے جہاز سمندر کی وسعت کو کاٹتے ہوئے اُس اعتماد کی گواہی دیتے ہیں جو ایک خودمختار قوم کو زیب دیتا ہے۔ ان کہ آبدوزیں، سطحِ سمندر کے سکوت کے نیچے چھپی ہوئی بجلی کی مانند، دشمن کے ارادوں کو خاکستر کرنے کی سکت رکھتی ہیں۔پاکستان نیوی نے وقتاً فوقتاً اپنی صلاحیتوں کو نہ صرف عسکری محاذ پر منوایا ہے بلکہ سمندری تجارت، قدرتی وسائل کے تحفظ اور بین الاقوامی مشنز میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ ان کے کردار نے یہ ثابت کیا ہے کہ سمندروں کا یہ نگہبان صرف پاکستان کا محافظ نہیں بلکہ عالمی امن کا ایک معتبر ستون بھی ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ زمین کے سپاہی آنکھوں کے سامنے پہرہ دیتے ہیں، لیکن سمندر کے یہ نگہبان اپنی خاموشیوں میں ایک ایسی داستان رقم کرتے ہیں جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ مگر ان کی قربانی، ان کی جاں فشانی اور ان کی مستعدی وہ امانت ہے جس پر پورا وطن فخر کرتا ہے۔پاکستان نیوی کی موجودگی ہر پاکستانی کے دل کو یہ یقین دلاتی ہے کہ ہماری بحری سرحدیں اتنی ہی محفوظ ہیں جتنی ہمارے خواب اور ہماری امیدیں۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کے سائے میں ہماری آنے والی نسلیں سمندر کی وسعتوں کو اعتماد کے ساتھ دیکھتی ہیں، اور جانتی ہیں کہ ان کے پاس ایک ایسی ڈھال ہے جو ہر طوفان کا مقابلہ کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔

  • پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان ایک ایسا انمول تحفہ ہے، جو لاکھوں جانوں کی قربانیوں، بے شمار جدوجہد اور ایمان کی طاقت کے بعد ہمیں نصیب ہوا۔ یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کے خوابوں، درد اور امیدوں کا مجموعہ ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے اتحاد، ایمان اور لازوال قربانیوں کے ذریعے یہ عظیم وطن حاصل کیا۔ آزادی کا حصول ایک لمحے کی خوشی تھی، لیکن اصل فریضہ اس کی حفاظت، ترقی اور بقاء تھا۔ یہ بھاری ذمہ داری بانیانِ پاکستان کے بعد پاک فوج کے سپرد ہوئی، جس نے ہر دور میں یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور امن کے لیے قربانی سب سے عظیم عبادت ہے۔ آج بھی پاک فوج نہ صرف وطن کی ڈھال ہے بلکہ قوم کی امید، عوام کا اعتماد اور ہر مشکل وقت میں سہارا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے بعد سے خطے کے حالات کبھی آسان نہیں رہے۔ بھارت کی جارحیت، داخلی سازشیں اور بیرونی دباؤ ہمیشہ پاکستان کے لیے چیلنج رہے ہیں۔ 1948 میں کشمیر کے محاذ پر قربانیاں ہوں، 1965 کی جنگ میں دشمن کو ناکامی کا سامنا، 1971 کے سانحات یا کارگل کی برفانی چوٹیوں پر جانوں کی قربانیاں—ہر موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی حفاظت ان کے ایمان اور غیرت کا حصہ ہے۔ ان معرکوں نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ایک چھوٹا سا ملک بھی مضبوط عزم، بلند حوصلے اور غیرت مند فوج کے ذریعے بڑے دشمن کو ناکام بنا سکتا ہے۔

    گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی نے پاکستان کی جان کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ ہزاروں معصوم شہری شہید ہوئے، مساجد، بازار، اسکول اور عوامی مقامات دہشت گردی کا شکار بنے۔ لیکن ان نازک حالات میں پاک فوج نے آپریشن راہِ راست، ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے تاریخی اقدامات کیے۔ ان آپریشنز میں فوج نے اپنی جانیں قربان کیں، خون دیا، لیکن کبھی ہمت نہ ہاری۔ آج پاکستان میں قائم امن انہی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جن کے بغیر نہ تو امن قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی قوم ترقی کر سکتی ہے۔

    پاک فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ عوام کی خدمت میں بھی ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ 2005 کے زلزلے میں فوج کے جوان سب سے پہلے ملبے تلے دبے انسانوں کو نکالنے پہنچے، سیلابوں کے دوران لاکھوں متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریلیف کیمپ قائم کیے اور بنیادی سہولیات فراہم کیں۔ کورونا وبا کے دوران بھی فوج نے عوام کی رہنمائی کی، ویکسینیشن مراکز قائم کیے اور طبی سہولیات فراہم کر کے عوام کا سہارا بنی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام پاک فوج کو صرف ایک عسکری ادارہ نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کا محافظ، اپنا سہارا اور اپنا رہنما سمجھتی ہے۔

    پاکستان آرمی نے ملکی ترقی اور قومی یکجہتی کے منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی اسکول، کالجز، میڈیکل ہسپتال، سڑکیں، پل اور دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبے—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج دفاع تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی استحکام میں بھی شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ فاٹا، بلوچستان اور دیگر محروم علاقوں میں فوج نے تعلیمی ادارے قائم کیے، روزگار کے مواقع پیدا کیے اور ترقی کی راہیں کھولی ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف عوام کی محرومیاں کم کیں بلکہ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط کیا۔

    پاک فوج کی اصل طاقت جدید اسلحہ یا ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ ایمان، قربانی اور جذبۂ ایثار ہے جو ہر فوجی کے دل میں رچا بسا ہے۔ یہی جذبہ ایک فوجی کو سرد ترین چوٹیوں پر راتیں گزارنے، ریگستانی سرحدوں پر دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کھڑا رہنے، اور اپنی جان وطن کی خاطر قربان کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ شہید کی ماں کی آنکھوں میں درد اور فخر، زخمی فوجی کا حوصلہ اور وطن کے لیے جان دینے کا جذبہ—یہ سب پاک فوج کو دنیا کی بہترین افواج میں شامل کرتے ہیں۔

    دنیا آج ہائبرڈ وار، سائبر حملوں، جعلی پروپیگنڈے اور نئی جنگی سازشوں کا سامنا کر رہی ہے اور پاکستان بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں۔ مگر پاک فوج اپنی اعلیٰ تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور شاندار حکمت عملی کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہے۔ نیا عسکری سازوسامان، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک، سائبر سیکیورٹی اقدامات اور خطے میں اسٹریٹجک حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    فوج اور عوام کا تعلق ایک جسم اور روح کی مانند ہے۔ فوج عوام کے اعتماد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی اور عوام فوج کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ جب جوان دشمن کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے پیچھے کروڑوں عوام کی دعائیں، محبت اور امیدیں ہوتی ہیں۔ یہی رشتہ پاکستان کو ناقابلِ شکست بناتا ہے اور ہر بحران میں اسے سہارا دیتا ہے۔

    پاک فوج کی قربانیاں، ایمان اور خدمات صرف فوجی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے دل میں رہنے والے جذبے کا نام ہیں۔ ہر شہید، ہر زخمی، ہر جوان جس نے سرحدوں پر دن رات محنت کی، قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی دی—یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وطن کی محبت اور خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔

    پاکستان کی بقا، ترقی اور امن کا راز پاک فوج کی مضبوطی اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔ یہ ادارہ ہر لمحہ چوکس، قربانی کے لیے تیار اور خدمتِ خلق میں سرگرم ہے۔ پاک فوج کے جوانوں کا ایثار، بہادری اور ایمان ایک روشن مثال ہے کہ وطن کی حفاظت سب سے مقدس فریضہ ہے۔ جب تک پاک فوج ہے، پاکستان محفوظ ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔

  • پاکستان اور سعودی عرب: امتِ مسلمہ کا فولادی حصار،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اور سعودی عرب: امتِ مسلمہ کا فولادی حصار،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دنیا کی سیاست کے افق پر ایک نیا سورج طلوع ہوا ہے۔ مشرق و مغرب کی صف بندیاں بدل رہی ہیں، طاقت کے مراکز نئی کروٹیں لے رہے ہیں، اور ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ یہ معاہدہ محض الفاظ۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک فولادی ڈھال، ایک روشن مینار اور ایک ایسا پیمان ہے جو دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کافی ہے۔
    پاکستان اور سعودی عرب کے رشتے کوئی معمولی سفارتی تعلقات نہیں، یہ دو دلوں کی دھڑکن، دو روحوں کا امتزاج اور ایمان کی خوشبو میں بسا ہوا وہ تعلق ہے جس کی جڑیں قیامِ پاکستان کے دن سے ہی لہلہانے لگیں۔ سعودی عرب ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کر کے اس کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ہر کڑے امتحان میں ریاض نے اسلام آباد کا ہاتھ تھاما۔ چاہے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کا خون آشام منظرنامہ ہو، یا 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیوں کا کڑا طوفان، سعودی عرب نے ہمیشہ بھائی بن کر ساتھ دیا ہے۔

    ادھر پاکستان نے بھی ہر لمحہ یہ ثابت کیا کہ حرمین شریفین کی حفاظت اس کے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستانی سپاہی جب مکہ اور مدینہ کے ذکر پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لیتے ہیں تو دنیا جان لیتی ہے کہ یہ تعلق سود و زیاں کا نہیں، بلکہ عقیدت ،محبت اور ایمان کا رشتہ ہے۔
    آج جب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے عزائم بڑھ رہے ہیں اور عالمی طاقتیں اپنے پنجے گاڑنے کے لیے سرگرم ہیں، ایسے وقت میں پاکستان اور سعودی عرب کا ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ایک تاریخ ساز اعلان ہے۔ یہ صرف عسکری معاہدہ نہیں، بلکہ پوری مسلم امہ کے اجتماعی دفاع کی صدا ہے، ایک ایسی صدا جس کے پیچھے کروڑوں دلوں کی دعائیں اور جذبے شامل ہیں۔
    پاکستان اپنی ناقابلِ تسخیر فوج، ایٹمی قوت اور بے مثال جنگی تجربات کے ساتھ سعودی عرب کے لیے فولاد کا بازو ہے۔ اور سعودی عرب اپنی تیل کی دولت، مالی طاقت اور عالمی اثرورسوخ کے ساتھ پاکستان کے لیے معاشی سہارا اور سفارتی پشت پناہ ہے۔ یہ دو بازو جب ملتے ہیں تو امتِ مسلمہ کا ایک فولادی حصار تشکیل پاتا ہے جسے توڑنا کسی طاقت کے بس میں نہیں۔
    قارئین! ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ (7 مئی تا 10 مئی) میں پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ صرف دفاع نہیں بلکہ جارح دشمن کو اس کی سرزمین پر جا کر جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی مہارت اور شجاعت سے بھارت کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ یہ کامیابی محض عسکری کارنامہ نہیں بلکہ ایک اعلان تھا کہ پاکستان خطے کی ناقابلِ تسخیر قوت ہے۔
    اس شاندار فتح کے پیچھے فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی حکمتِ عملی، جرآت مندانہ فیصلے اور آپریشنل ہم آہنگی کارفرما تھی۔ ان کی قیادت نے پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کو ایک لڑی میں پرو دیا اور دشمن کی چالوں کو ملیامیٹ کر دیا۔ یہی بصیرت سعودی عرب کے ساتھ اس دفاعی معاہدے کے پس منظر میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
    یہ معاہدہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں، بلکہ ایران، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی دعوتِ فکر ہے کہ آئیں، امتِ مسلمہ ایک مشترکہ سلامتی کے پلیٹ فارم پر جمع ہو۔ اگر ہم نے اس اتحاد کو مضبوط کر لیا تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں توڑ نہیں سکتی۔
    گزشتہ برسوں میں دنیا پاکستان کو صرف دہشت گردی کی لپیٹ میں گھرا ہوا اور معاشی بحرانوں کی دلدل میں پھنستا ہوا ملک کے طور پر دیکھتی تھی، مگر آج وہی دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار، باوقار اور خودمختار ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ سب فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی متوازن قیادت کا ثمر ہے جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ صرف عسکری اتحاد نہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کا عہد ہے۔ یہ اتحاد معیشت، سیاست اور ٹیکنالوجی میں بھی نئے دروازے کھولے گا۔ سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، تعلیمی تبادلے امت کے رشتے کو مزید گہرا کریں گے، اور مشترکہ منصوبے دنیا کو یہ باور کرائیں گے کہ مسلم امہ صرف خواب دیکھنے والی قوم نہیں بلکہ خواب کو حقیقت بنانے کی قوت بھی رکھتی ہے۔

    آخر میں، میں اپنے قارئین سے یہ کہنا چاہوں گا کہ دفاع صرف بارود اور توپ کے گولوں میں نہیں ہوتا۔ اصل دفاع اس اتحاد میں ہے جو دلوں کو جوڑ دے، قوموں کو قریب کر دے اور ایمان کی ڈور میں باندھ دے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ امت کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ کرن اندھیروں کو چیر کر روشنی لاتی ہے، یہ کرن امت کو پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم ایک ہیں تو کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔
    یقین جانیے، آنے والے دنوں میں یہ اتحاد صرف خطے کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے سیاسی اور عسکری نقشے کو بدل دے گاان شاء اللہ۔ پاکستان اور سعودی عرب — یہ دو بھائی دراصل ایک ہی بدن کی دو سانسیں ہیں، ایک ہی چراغ کی دو لوئیں ہیں، اور ان کا یہ دفاعی پیمان امتِ مسلمہ کے فولادی حصار کی ضمانت ہے۔

  • زمینی بدنظمی کا عذاب خدا پہ نہ ڈالا جائے!

    زمینی بدنظمی کا عذاب خدا پہ نہ ڈالا جائے!

    زمینی بدنظمی کا عذاب خدا پہ نہ ڈالا جائے!
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    بارشوں کی کثرت جب سیلابی صورت اختیار کرتی ہے تو اس کا زیادہ نشانہ غریب اور مڈل کلاس کے رہائشی علاقے بنتے ہیں۔ بچے، بزرگ، عورتیں اور نوجوان پانی میں بہہ جاتے ہیں، گھر تباہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں کئی مذہبی و سیاسی حلقے اسے "خدا کا عذاب” قرار دے دیتے ہیں، جبکہ حکومت انسانی جانوں کے نقصان پر تھوڑی سی امداد دے کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ تیس برسوں سے بجلی بلوں میں ڈیموں کے فنڈز وصول کرنے والے صاحبِ اختیار کو خدا نے کب ڈیم اور پانی کنٹرول کے انتظامات بنانے سے روکا تھا؟ پھر یہ سودی نظام مسلط کرنے والے لوگ بارشوں کی تباہ کاریوں کو خدا کے کھاتے میں کیسے ڈال سکتے ہیں؟

    ریاستی امور کی اصلاح نہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے اگر اسے خدا کا عذاب قرار دیا جائے تو یہ ترجمان دراصل زمینی خداؤں کو خوش کرنے کے لیے حقیقی خدا کا نام استعمال کرتے ہیں۔ بھلا غریب، بے بس اور لاچار عوام پر خدا کیوں ناراض ہو گا؟ جبکہ شراب نوش، بدکار، حرام خور، مراعات یافتہ طبقہ جو اقتدار اور طاقت کے نشے میں قرآن و حدیث کے قوانین کو روند کر ملکی ادارے چلاتا ہے، اس پر کبھی بادل نہیں پھٹتے، اس کے گھروں پر سیلاب نہیں آتا اور نہ ان پر آسمانی بجلیاں گرتی ہیں۔ لیکن وہ غریب عوام جو مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں مرتے ہیں، جنہیں نہ علاج میسر ہے، نہ تعلیم اور نہ انصاف، ان سے خدا کیوں ناراض ہوگا؟

    دین سے دنیا کمانے والے پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ متاثرہ عوام اپنی مشکلات کو حکمرانوں کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کی بجائے خدا کی ناراضگی سمجھیں اور توبہ و اصلاح کریں۔ گویا زمینی آقاؤں کو کسی تبدیلی یا جواب دہی کی ضرورت نہیں۔

    دنیا کے ایک سو پچاس سے زائد ملکوں میں بارشیں ہوتی ہیں، لیکن صرف پاکستان جیسے مسلم ملک میں یہ غریبوں پر خدا کا عذاب بن جاتی ہیں۔ جبکہ اسرائیل جیسے اسلام دشمن ممالک میں حفاظتی انتظامات کی بدولت بارشوں کے باوجود انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوتا۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمان صرف خدا کے غضب کا نشانہ بننے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں؟ کیا ہمارا خدا صرف تکلیفیں دینے پر قادر ہے تاکہ ہم راہِ راست پر آجائیں؟ وہ امن و سکون عطا کرکے ہدایت کیوں نہیں دیتا؟ ہر مسلمان ہدایت کا طلبگار ہے، پھر خدا ہدایت مانگنے والوں کو مصیبتوں میں کیوں ڈالتا ہے؟

    اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی جہالت اور نااہلی کو چھپانے کے لیے خدا کے نام کا سہارا لیتے ہیں۔ حالانکہ کافر ممالک کے حکمران خدا کو نہ مانتے ہوئے بھی اسلامی اصولوں کو قانون بنا کر اپنے عوام کو نقصان سے بچاتے ہیں اور ترقی کی بلندیوں پر لے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں جھوٹ، ملاوٹ، دھوکہ اور بددیانتی کو روزگار کا اصول بنا لیا گیا ہے، اس لیے ان پر ویسے ہی حکمران مسلط ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ "جیسی عوام ویسا حکمران”، لیکن یہ فرمان بھی ہم نے صحیح طور پر سمجھا نہیں۔ دراصل نیک اور پرہیزگار لوگوں کی وجہ سے معاشرے سدھرتے ہیں، نہ کہ جاہلوں کی وجہ سے بگڑتے ہیں۔

    تمام انبیاء کرامؑ بدترین حالات میں، جاہل ترین معاشروں میں مبعوث ہوئے، حتیٰ کہ خاتم النبیین حضرت محمدؐ بھی ایسے معاشرے میں تشریف لائے جو جہالت اور ظلم کا شکار تھا۔ لیکن خدائی قوانین کے نفاذ سے انہی جاہلوں کو راہنما بنایا اور ایک تباہ حال معاشرے کو حقوق العباد اور حقوق اللہ کی بنیاد پر عزت اور آسانی عطا کی۔

    سوال یہ ہے کہ جب خدا کے برگزیدہ ترجمان سخت ترین حالات میں ہدایت کے چراغ جلا گئے تو آج دین کے نام پر ترجمانی کرنے والے صرف غریب مسلمانوں پر کیوں سختی کرتے ہیں؟ ان کا بس صرف کمزور عوام پر ہی کیوں چلتا ہے؟ اسلام دشمن قوانین نافذ کرنے والے، سود مسلط کرنے والے اور جمہوریت کے نام پر اسلامیت کو روندنے والے حکمرانوں کو اسلام کی راہ پر لانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟ ان ترجمانوں کے پاس اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی طاقت اور مواقع ہیں، مگر وہ صرف عام لوگوں کو ہی توبہ کا درس دیتے ہیں۔

    اصل میں یہ جماعتیں اسلام کے حسینؓ سے نہیں بلکہ یزید کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہیں۔ اقتدار و دولت کے نشے میں گمراہ حکمران اگر اپنی اصلاح آپ کریں، طاقت کی بیساکھیاں پھینک کر عوامی خدمت کے راستے پر چل پڑیں تو زمین بھی ان کا استقبال کرے۔ جیسے ہی کوئی شخص پاک نیت سے پہلا قدم اٹھاتا ہے، منزل اس کی طرف بڑھتی ہے۔

    معاشرے کی اصلاح کے بارے میں سوچتے ہوئے ہمیشہ حضرت علیؓ کا قول یاد آتا ہے کہ "دنیا اس لیے بری نہیں کہ برے لوگ زیادہ ہیں بلکہ اس لیے بری ہے کہ اچھے لوگ خاموش ہیں۔” سوال یہ ہے کہ اچھے لوگ برائی کے آگے دیوار کب بنیں گے؟

  • پاکستان میں وائی فائی 7 کی منظوری، 6 گیگا ہرٹز بینڈ کا اجرا

    پاکستان میں وائی فائی 7 کی منظوری، 6 گیگا ہرٹز بینڈ کا اجرا

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جدید وائی فائی 7 ٹیکنالوجی کے لیے 6 گیگا ہرٹز بینڈ کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

    پی ٹی اے کے اعلامیہ کے مطابق آئندہ آنے والی تمام وائی فائی جنریشنز کے لیے بھی 6 گیگا ہرٹز بینڈ میں استعمال کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد پاکستان ایشیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنارہے ہیں۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ وائی فائی 7 تیز ترین ڈیٹا ریٹس، نہایت کم لیٹنسی اور شاندار کارکردگی فراہم کرتا ہے، جو جدید انٹرنیٹ ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    پی ٹی اے کے مطابق یہ ٹیکنالوجی گھروں، چھوٹے کاروباروں، تعلیمی اداروں، صحت عامہ کے مراکز اور اسمارٹ سٹی منصوبوں میں تیز تر اور قابلِ اعتماد کنیکٹیوٹی کو یقینی بنائے گی۔ماہرین کے مطابق وائی فائی 7 کا اجرا ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک بڑا قدم ہے جو ملک میں جدید آئی ٹی اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی ترقی کو مزید تقویت دے گا۔

    پاکستان میں سیلاب سے تباہی، چین کا بھرپور امداد کا اعلان

    غزہ کے انتظامی امور کی قیادت ٹونی بلیئر کو ملنے کا امکان

    امریکی بحری جہاز یو ایس ایس وین ای میئر کا کراچی کا دورہ مکمل

    غزہ میں نیتن یاہو کا خطاب زبردستی سنانے پر اسرائیلی فوج اور اہل خانہ برہم