Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں وائی فائی 7 کی منظوری، 6 گیگا ہرٹز بینڈ کا اجرا

    پاکستان میں وائی فائی 7 کی منظوری، 6 گیگا ہرٹز بینڈ کا اجرا

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جدید وائی فائی 7 ٹیکنالوجی کے لیے 6 گیگا ہرٹز بینڈ کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

    پی ٹی اے کے اعلامیہ کے مطابق آئندہ آنے والی تمام وائی فائی جنریشنز کے لیے بھی 6 گیگا ہرٹز بینڈ میں استعمال کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد پاکستان ایشیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنارہے ہیں۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ وائی فائی 7 تیز ترین ڈیٹا ریٹس، نہایت کم لیٹنسی اور شاندار کارکردگی فراہم کرتا ہے، جو جدید انٹرنیٹ ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    پی ٹی اے کے مطابق یہ ٹیکنالوجی گھروں، چھوٹے کاروباروں، تعلیمی اداروں، صحت عامہ کے مراکز اور اسمارٹ سٹی منصوبوں میں تیز تر اور قابلِ اعتماد کنیکٹیوٹی کو یقینی بنائے گی۔ماہرین کے مطابق وائی فائی 7 کا اجرا ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک بڑا قدم ہے جو ملک میں جدید آئی ٹی اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی ترقی کو مزید تقویت دے گا۔

    پاکستان میں سیلاب سے تباہی، چین کا بھرپور امداد کا اعلان

    غزہ کے انتظامی امور کی قیادت ٹونی بلیئر کو ملنے کا امکان

    امریکی بحری جہاز یو ایس ایس وین ای میئر کا کراچی کا دورہ مکمل

    غزہ میں نیتن یاہو کا خطاب زبردستی سنانے پر اسرائیلی فوج اور اہل خانہ برہم

  • سیلاب،تباہی اور خدمت کی سیاست

    سیلاب،تباہی اور خدمت کی سیاست

    قدرتی آفات رب کی طرف سے انسانوں‌پر آزمائش ہوتی ہیں لیکن کبھی یہ حکمرانوں کی غفلت کا نتیجہ بھی ،خیبر پختونخوا میں سیلاب قدرتی لیکن پنجاب کے اضلاع میں سیلاب بھارت کا آبی حملہ تھا،دریا کنارے آبادیاں ڈوب گئیں، لاہور کے نواحی علاقے بھی محفوظ نہ رہے تو وہیں جنوبی پنجاب میں تباہی کا منظرشدید تھا،لاکھوں افراد بے گھر،مکان ڈوب گئے،املاک بہہ گئیں،شہریوں نے جانیں بچائیں مگر اور کچھ نہ بچا سکے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان تابش قیوم اور ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات طہٰ منیب کی قیادت میں الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کا ایک وفد لاہور سے جلال پور پیر والا کے لیے روانہ ہوا ،تو راقم بھی اسکا حصہ تھا،صحافی، جو لفظوں کو ترتیب دے کر کہانیاں سناتے ہیں، وہاں جا کر خود ایک کہانی بن گئے،خیمہ بستیوں میں بوڑھے والدین کی جھریوں میں چھپی کہانیاں، ماؤں کی آنکھوں میں بے بسی، اور مرکزی مسلم لیگ کے پلے گراؤنڈ میں کھیلتے بچے،ایسا منظر کہ کئی صحافی کچھ دیر تک ساکت کھڑے رہے،میڈیا وفد نے مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیاں دیکھیں، مددگار اسکولوں کا دورہ کیا، فیلڈ ہسپتالوں کا معائنہ کیا، کشتی پر سفر کر کے ان علاقوں کو دیکھا جو ابھی تک ڈوبے ہوئے، چھتوں پر سولر تو نظر آ رہے مگر چھتیں غائب،

    جلال پور پیر والاجہاں کبھی ہریالی کی چادر تنی رہتی تھی، زندگی اپنی پوری توانائی سے رواں دواں تھی، آج وہاں تاحد نگاہ پانی،بستیوں کی بستیاں زیر آب آ گئیں،بھارتی آبی دہشت گردی کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے جلال پور پیر والا کی بستیوں کو آہوں، سسکیوں بدل دیا ،وہ پانی جو کھیتوں کو سیراب کرتا تھا، آج گھروں، اسکولوں،سڑکوں اور گلیوں کو بہا لے گیا ہے۔جلال پور پیر والا کے گلی کوچے اب مٹی اور پانی کی آمیزش میں گم ہو چکے ، کچے مکانوں کی دیواریں زمین بوس ہو چکیں، صحنوں کے چراغ بجھ چکے، اور دریچوں سے اب خوشبو نہیں، نمی کی بو آتی ہے،کسی بزرگ کے کمرے میں رکھی وہ پرانی لکڑی کی پیٹی جو کبھی جہیز کی نشانی تھی، اب پانی میں تیرتی دکھائی دیتی ہے،کئی گھروں کی چھتیں غائب ہیں، ایک ایک منزل اب بھی ڈوبی ہوئی، تاحد نگاہ پانی….یہ کراچی کا سمندر نہیں بلکہ جلال پور پیر والا کا منظر ہے جہاں کئی روز گزرنے کے باوجود پانی موجود اور متاثرین گھروں کو جانے کو بے تاب ہیں،جلال پور و گردونواح میں سیلاب نے نسلوں کی محنت، جوانی کی کمائی، بچوں کے کھلونے، کتابیں، عورتوں کی چادریں، اور بوڑھوں کے عصا تک بہا دی،وہ علاقے جو سالہا سال سے سایہ دار درختوں سے مزین تھے، آج کسی سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں،جانور، جنہیں اہلِ دیہات خاندان کا فرد سمجھتے تھے، پانی میں ڈوب چکے،گھروں کا سامان پانی میں تنکے کی طرح بہہ گیا،مکین دیکھتے رہے لیکن بے بسی کا منظر،اپنی جان اور تن پر پہنے کپڑوں کے علاوہ کچھ بچا نہ سکے

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson
    جلال پور پیر والا کے عوام نہ صرف پانی میں ڈوبے بلکہ حکومتی بے حسی کی گہرائی میں بھی غوطہ زن ہوئے،ایک ایک ووٹ کی بھیک مانگنے والے سیلابی پانی میں ڈوبتے عوام کو بچانے نہ آئے، کوئی وزیر، کوئی مشیر، کوئی افسر نہ آیا جہاں اب بھی تاحد نگاہ پانی ہے،حکومت کی طرف سے نہ امداد،نہ خوراک،نہ صاف پانی، نہ ادویات اور نہ ہی گھروں کی بحالی کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے آیا۔تاہم، اس مشکل وقت میں ماضی کی طرح اس بار بھی اگر کوئی مدد کو آیا تو وہ رفاہی تنطٰمیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ جیسی سیاسی جماعتیں جن کا منشور خدمت کی سیاست ہے، اپنی مدد آپ کے تحت میدان میں آئیں اور حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت نظر آئیں،مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے جلال پور میں چار خیمہ بستیاں،ہزاروں افراد مقیم،تین وقت کا کھانا،مفت علاج معالجہ،خیمہ بستیوں میں سولر پینل،پنکھے،چارپائیاں غرضیکہ ہر سہولت متاثرین کو میسر ہے جو وہ چاہتے تھے،

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson
    جلال پور پیر والا میں سیلاب تو چلا جائے گا، پانی خشک ہو جائے گا، مگر ان آنکھوں کے آنسو؟ ان بچوں کی سسکیاں؟ ان ماں باپ کی ٹوٹی امیدیں؟وقت شاید زخموں کو بھر دے، مگر وہ نشان، جو اس سیلاب نے روح پر چھوڑے ہیں، شاید کبھی نہ مٹیں،پاکستان کی سیاسی جماعت پاکستان مرکزی مسلم لیگ جو سیلاب متاثرین کے لئے وسیع پیمانے پر ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف ہے نے متاثرین کی گھروں کو واپسی تک خدمت کا عزم کر رکھا ہے،مرکزی مسلم لیگ کی یہ کاوش کہ میڈیا خود آنکھوں سے دیکھے، کانوں سے سنے، اور دل سے محسوس کرے،ایک غیر روایتی، مگر انتہائی مؤثر عمل تھا،وفد میں شامل صحافیوں نے اپنے تاثرات میں اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ایسی بے بسی، ایسا درد، اور ایسی خاموش چیخیں پہلے کبھی نہیں سنیں ،ضرورت اس امر کی ہے ایوان اقتدار ہوش میں آئے،بھارتی آبی جارحیت کے خلاف منظم،متحدہ لائحہ عمل بنایا جائے اور آئندہ بھارتی واٹر بم کے نتیجے میں ہونے والی کسی ایسی تباہی کو روکنے کے لئے سدباب کیا جائے،مرکزی مسلم لیگ تو کام کرتی رہے گی لیکن کاش…..پارلیمنٹ میں بیٹھی سیاسی جماعتیں بھی عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں.

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ  کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی رہنمائی اور وژن کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قیادت میں پنجاب کے مختلف شہروں میں ورثہ بحالی کے منصوبے عالمی معیار کے مطابق شروع کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ثقافتی شناخت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ سیاحت اور تحقیق کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔

    حال ہی میں ہڑپہ میوزیم میں چار نئی گیلریوں کو ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی نگرانی میں اسٹیبلش کیا گیا۔ جس کا افتتاح جلد متوقع ہے یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی عملی مثال ہے، جس میں وادی سندھ کی تاریخ کو جدید تقاضوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اسی طرح شیخوپورہ قلعہ، ہرن منار، قلعہ روہتاس اور ٹیکسلا جیسے منصوبے بھی ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے زیر انتظام جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ماضی کی حفاظت اور مستقبل کے لیے ایک روشن ورثے کی بنیاد ہیں۔

    ان منصوبوں میں بھیرہ قدیم شہر کا تحفظ اور ترقی ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے مطابق بھیرہ کے منصوبے میں قدیم فصیل، تاریخی دروازوں، مساجد اور شہری ڈھانچوں کی بحالی شامل ہے۔ وزٹروں کے لیے سہولیات، شہری ماحول کی بہتری اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت اس منصوبے کو پائیدار اور عوام دوست بناتی ہے۔ سابق ڈائریکٹر محمد حسن کے مطابق بھیرہ کا تحفظ ایک زندہ تہذیب کو بحال کرنے کی کاوش ہے، جبکہ ملک مقصود نے کہا کہ تاریخی ڈھانچوں کی بحالی سے مقامی کمیونٹی براہِ راست فائدہ اٹھائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ورثہ کو ثقافتی فخر اور ٹورزم ڈویلپمنٹ سے جوڑنے پر زور دیا ہے، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایات کی روشنی میں بھیرہ سمیت تمام منصوبے عالمی معیار کے مطابق تیار کیے جا رہے ہیں۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب آرکیالوجی کی کوششوں سے نہ صرف ورثہ محفوظ ہو رہا ہے بلکہ سیاحت، روزگار اور عالمی شناخت کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔

    یہ تمام کاوشیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے وژن کی تکمیل اور ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہیں، جو پنجاب کو ثقافتی فخر اور سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کے عزم پر مبنی ہیں۔

  • امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے

    فوجی اور سیاسی قیادت کا متفقہ موقف پیش کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے اتار چڑھاؤ سامنے آتے ہیں۔ خارجہ محاذ کی اگر بات کی جائے تو پاکستانی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا۔ ملکی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ تاہم پاکستان اب اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں پر پاکستان کو امریکہ کے ساتھ دوستی کو بڑھانے میں اپنے مفادات کو سامنے رکھنا ہوگا اور امریکہ کو بھی برابری کی سطح پر نہ سہی لیکن ایک خود مختار ملک کے طور پر پاکستان کی خود مختاری کا پاس رکھنا ہوگا یہ دونوں ملکوں کے مفاد کے لیے بہتر ہوگا۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہو رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ملاقات سے قبل پاکستان اور امریکہ نے تجارتی معاہدہ طے کیا ہے جس میں امریکہ پاکستان کے تیل ذخائر کو دریافت کرنے کا معاہدہ ہے۔ پاکستان نے امریکی کمپنیوں کو کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ ملاقات کے دوران پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ساتھ ہونا ایک اہم اشارہ ہے یعنی پاکستان کا یہ پیغام اس کی فوجی اور سیاسی قیادت ایک متفقہ موقف پیش کرنا چاہتی ہے۔

    یہ تمام عوامل مل کر اشارہ دیتے ہیں کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔ اپنے تعلقات امریکہ کے ساتھ اور اسے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر ایک زیادہ فعال اور متوازن مقام دلوانا چاہتا ہے۔ اگر ملاقات نتیجہ خیز ہو اور امریکہ پاکستان کے توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی شبوں میں سرمایہ کاری کرے تو اس سے روزگار کے مواقعے پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بہتر تعاون پاکستان کو بین الاقوامی انسداد دہشت گردی نیٹ ورکس کو ٹرانس نیشنل سطح پر نشانے پر لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ انٹیلیجنس شیئرنگ بڑھ سکتی ہے مالی معاونت مل سکتی ہے تو پاکستان داخلی سلامتی کو تقویت مل سکتی ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان ممکنہ طور پر امریکی گیم پلان کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ چین، بھارت، امریکہ توازن میں خود کو ایک مفید شرکت دار ثابت کرے۔ اگر امریکہ پاکستان کو ایک اہم شریک سمجھے تو پاکستان کو علاقائی سیاست میں وزن ملے گا بھارت اس ملاقات کو چین، امریکہ، پاکستان کی تاثیر میں دیکھے گا اور ممکن ہے کہ وہ سخت رد عمل دے یا بین الاقوامی فورمز پر پاکستان پر تنقید کرے۔

    پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے ہے۔ سرمایہ کاری حالات شفاف نہیں ہیں کچھ علاقوں میں سکیورٹی مسائل ہیں جن پر توجہ ضروری ہے۔ موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر عوامی یا سیاسی اپوزیشن حلقے یہ کہیں کہ اس طرح کی نتیجہ خیز ملاقاتوں میں قومی مفادات قربان کیے جائیں تو اندرونی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ ملاقات خود پاکستان کے لیے گیم چینجر بن جائے گی مگر اس میں اتنی قابلیت ضرور ہے کہ اگر موثر حکمت عملی، شفافیت، سیاسی حوصلہ، دیر پا منصوبہ بندی شامل ہو تو اس کے بہت اہم مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر پاکستان یہ چاہے کہ اس ملاقات کا بہتر فائدہ ہو اسے چاہیے کہ امریکی معاہدوں کی شرائط کو اچھی طرح سمجھے اپنی خود مختاری کو یقینی بنائے۔ داخلی اصلاحات، قانونی شفافیت، صوبائی مساوات اور سکیورٹی حکمت عملی کو بہتر کرے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری محفوظ ہو اور عوام کو فائدہ پہنچے۔ علاقائی تعلقات کا خیال رکھے تاکہ یہ دکھایا جائے کہ پاکستان صرف امریکہ کا ہی اتحادی نہیں بلکہ ایک خود مختار ملک جو علاقائی استحکام کا خواہش مند ہے۔

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    مہنگائی اور غربت پاکستان کے عام آدمی کے لیے نئی بات نہیں رہی، مگر حالیہ برسوں میں اس کی شدت نے زندگی کو ایک مسلسل امتحان میں ڈال دیا ہے۔ گھر چلانا، بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنا، حتیٰ کہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی کروڑوں خاندانوں کے لیے ایک مشکل جدوجہد بن چکا ہے۔ پہلے ہی معاشی حالات نازک تھے، مگر حالیہ سیلاب نے معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ زرعی زمینیں ڈوب گئیں، فصلیں تباہ ہو گئیں، مویشی بہہ گئے اور دیہی معیشت کا ڈھانچہ ہل کر رہ گیا۔ چونکہ پاکستان کی معیشت زیادہ تر زراعت پر منحصر ہے، اس تباہی کا اثر شہروں تک بھی براہِ راست پہنچا، جہاں مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    گھریلو معیشت کو سب سے بڑا جھٹکا اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لگا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، دودھ اور گوشت — سب کچھ عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ جس کھانے کو کبھی عام گھرانوں کی میز پر لازمی سمجھا جاتا تھا، وہ آج کئی گھروں کے لیے خواب بن چکا ہے۔ بجلی اور گیس کے بل پہلے ہی لوگوں کو دبا رہے ہیں، اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہر شے کی قیمت کو بڑھا دیتا ہے۔ یوں غریب آدمی کے پاس جو چند سو روپے بچتے ہیں، وہ بھی چند دن سے زیادہ برقرار نہیں رہ پاتے۔

    سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے صرف دیہی علاقوں کو متاثر نہیں کیا بلکہ شہروں میں روزگار کے مواقع کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کئی چھوٹی صنعتیں اور کارخانے بند ہوگئے، جن میں مزدور اور ہنرمند اپنے روزگار سے محروم ہوگئے۔ مارکیٹوں میں خریدار نہ ہونے کے برابر ہیں، اور دکاندار مال رکھ کر بھی پریشان ہیں کیونکہ خریدار کے پاس قوتِ خرید باقی نہیں رہی۔ اس کمی نے اجرتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جہاں پہلے ایک مزدور دن بھر محنت کے بعد گزارے لائق کما لیتا تھا، آج اسے آدھی اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    غربت صرف پیٹ کی بھوک کا نام نہیں، بلکہ یہ عزت نفس اور وقار پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کو کھانے کے لیے روٹی نہ دے سکے، جب ایک ماں اپنے بیمار بچے کو دوا نہ دلا سکے، تو یہ صرف مادی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ جذباتی اور نفسیاتی بوجھ بھی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ناامیدی بڑھ رہی ہے، جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لوگ اپنی محرومیوں کا اظہار کبھی احتجاج، کبھی جرم اور کبھی مایوسی کے ذریعے کر رہے ہیں۔

    مہنگائی اور بے روزگاری کا یہ گٹھ جوڑ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ متوسط طبقہ، جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، تیزی سے غریبوں کی صف میں شامل ہو رہا ہے۔ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات عام لوگوں کے لیے شجرِ ممنوعہ بنتی جا رہی ہیں۔ دیہی علاقوں کے لوگ بہتر روزگار کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، لیکن شہر پہلے ہی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس ہجرت نے شہروں میں غربت، بے روزگاری اور جرائم کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    مزید برآں، مہنگائی اور غربت خواتین اور بچوں کو بھی براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔ خواتین گھریلو بجٹ کا بوجھ اٹھاتے ہوئے کم خوراک، صحت کی سہولیات کی کمی اور بچوں کی تعلیم کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت اور تعلیم میں کمی مستقبل کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ نسل کمزور جسمانی اور ذہنی صلاحیت کے ساتھ بڑے ہوں گی۔

    سیلاب اور مہنگائی نے کسانوں کی آمدنی بھی بری طرح متاثر کی ہے۔ زرعی پیداوار کی کمی اور مارکیٹ میں بڑھتی قیمتیں ایک ساتھ عوام کے لیے عذاب بن گئی ہیں۔ کسان جس زمین پر اپنی محنت کرتے ہیں، وہ تباہ ہونے کے بعد دوبارہ کھڑی کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ اس کے اثرات صرف دیہات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ شہروں میں مہنگائی اور روزگار کی کمی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ سیلاب نے صرف کھیتوں کو نہیں ڈبویا بلکہ معیشت کی سانسیں بھی روک دی ہیں۔ حکومت کے فوری اقدامات کے بغیر یہ بحران مزید گہرا ہوگا۔ سب سے پہلے زرعی شعبے کی بحالی پر توجہ دینا ہوگی تاکہ کسان دوبارہ کھڑا ہو سکے اور غذائی اشیاء کی پیداوار میں اضافہ ہو۔ شہروں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولتیں دے کر روزگار کے مواقع بڑھانے ہوں گے۔ مزدوروں اور تنخواہ دار طبقے کی اجرتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو معاشی اور سماجی بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

    آخر میں سوال یہ ہے کہ جب گھریلو معیشت ہی سانس نہیں لے پا رہی تو ملک کی بڑی معیشت کس طرح صحت مند رہ سکتی ہے؟ اگر عام آدمی کا چولہا بجھ گیا تو ملک کی ترقی کے تمام خواب محض نعرے رہ جائیں گے۔ مہنگائی اور غربت کے اس گرداب سے نکلنے کے لیے ریاست، حکومت اور معاشرہ سب کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ ورنہ یہ مسائل آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑیں گے، اور ملک کی ترقی صرف خواب ہی رہ جائے گی۔

  • مفتی اعظم سعودی عرب،ایک علمی،روحانی عہد کا اختتام،تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری

    مفتی اعظم سعودی عرب،ایک علمی،روحانی عہد کا اختتام،تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری

    دنیا میں بعض شخصیات ایسی بھی آتی ہیں، جن کی زندگی محض ایک فرد کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ اپنے وجود سے ایک عہد، ایک روحانی روشنی اور ایک فکری توازن کی علامت بن جاتی ہیں۔ایسی ہی جلیل القدر شخصیات میں سے ایک مفتی اعظم سعودی عرب، شیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل الشیخ رحمہ اللہ تھے۔آپ نے دین کی خدمت صرف منبر و محراب سے ہی نہیں کی، بلکہ قلم، تقریر اور تدریس کے ذریعے بھی دین اسلام کا پیغام عام کیا۔ ان کے فتاویٰ، خطبات اور بیانات آج بھی مدارس، جامعات اور مساجد میں زیر مطالعہ رہتے ہیں۔ ان کی علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ مشکل بات سادگی سے کہنے کا فن انہیں دیگر علما سے ممتاز کرتا تھا۔ان کی تحریروں اور تقاریر میں اعتدال، بصیرت اور حکمت کی جھلک نمایاں تھی۔ انہوں نے ہمیشہ امت کو افتراق کی بجائے اتحاد کی دعوت دی اور فقہی اختلافات کو ایک فکری وسعت سمجھا، نہ کہ نفرت یا تعصب کا ذریعہ۔

    شیخ عبد العزیز رحمہ اللہ 1943ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی ان کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی تھی یا انتہاٸی کم ہو گٸ تھی۔عام طور پر یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے لیکن انہوں نے اسے حکم ربی سمجھتے ہوئے قبول کیا اور علم دین کے حصول میں مصروف ہو گئے۔ اللہ تعالی نے انہیں روحانی بصیرت اور ایسا روشن دل و دماغ عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے علماء کے استاد بنے اور لاکھوں لوگوں کو دین کی روشنی سے منور کر دیا۔ان کے بارے ایک مشہور واقعہ ہے کہ جب وہ 10 برس کے تھے،تو ایک بزرگ عالم دین نے ان کے قرآن مجید حفظ کرنے کے شوق کو دیکھ کر کہا مجھے لگ رہا ہے ”یہ لڑکا اگرچہ نابینا ہے مگر اللہ تعالی نے اس کے دل میں ایسا نور رکھا ہے، جو آنکھوں والوں کو بھی نصیب نہیں“۔

    شیخ رحمہ اللہ نہایت عاجزی انکساری والے انسان تھے۔ وہ اپنے شاگردوں، مہمانوں، حتیٰ کہ خدام سے بھی محبت و نرمی سے پیش آتے۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے فکر مند رہتے، ان کے والد اور دادا بھی دین کے خادمین میں شمار ہوتے تھے۔ جنہوں نے ان کی ابتدائی تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا۔شیخ رحمہ اللہ نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی سعودی عرب میں تعلیم حاصل کی اور پھر وہیں تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔ خطبہ حج کا فریضہ کئی سالوں تک ان کے سپرد رہا، جسے وہ احسن طریقہ سے ادا کرتے رہے۔ ان کی گفتگو میں وقار، دلیل اور اخلاق کا امتزاج نمایاں ہوتا تھا، جو ہر سننے والے کوبہت متاثر کرتا۔وہ علم کو عبادت اور فتوی کو امانت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی رائے کو صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا اور سنا جاتا تھا۔
    کہتے ہیں ایک مرتبہ ایک نوجوان نے ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی۔ شیخ نے اس کو دعا کے ساتھ مختصر جواب میں فرمایااللہ تعالی تمہیں دین کی خدمت کے لیے چنے گا، دل کو ہمیشہ صاف رکھنا۔ کئی سالوں بعد وہی نوجوان ایک معروف عالم دین بن کر ان کے قدموں میں آ بیٹھا اور کہنے لگاشیخ! آپ کی دعا اور تعبیر نے میری زندگی بدل دی ہے۔
    شیخ رحمہ اللہ انتہائی مصروف شخصیت ہونے کے باوجود نماز کو کبھی مؤخر نہیں کرتے تھے۔ ان کے خادموں کا کہنا ہے کہ وہ نماز کے لیے ہر حال میں فوراً کھڑے ہو جاتے، چاہے کتنی ہی اہم میٹنگ یا مہمان موجود ہوتے۔ان کی تلاوت قرآن اور قیام اللیل میں اتنی رقت ہوتی کہ بعض اوقات لوگوں کو ان کے رونے کی آواز مسجد کے باہر تک سنائی دیتی تھی۔

    شیخ رحمہ اللہ اتفاق و اتحاد کے عظیم داعی تھے۔موجودہ دور کی سب سے بڑی آزمائش فرقہ واریت، تعصب اور فکری انتشار ہے۔ ایسے میں انھوں نے ہمیشہ امت کو جوڑنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا”اختلاف رائے فطری ہے، لیکن دلوں کا فاصلہ شیطانی ہے“۔بین المذاہب مکالمہ ہو یا عالمی اسلامی کانفرنس، انہوں نے ہمیشہ عدل، رواداری اور توحید کو مرکز خطاب بنایا۔

    شیخ رحمہ اللہ کے آخری ایام سادگی، عبادت اور خاموشی میں گزرے۔ ان کی صحت کچھ عرصے سے ناساز تھی، مگر کبھی شکوہ زبان پر نہ آیا۔23 ستمبر 2025ء کو سعودی عرب ریاض شہر میں ان کا انتقال ہوا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ان کی نماز جنازہ مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دنیا بھر کی بڑی مساجد میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا اثر و رسوخ صرف ایک ملک تک محدود نہ تھا۔

    شیخ عبد العزیز آل الشیخ رحمہ اللہ کی وفات بلاشبہ ملت اسلامیہ کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔وہ چلے گئے، مگر ان کا فہم باقی ہے۔وہ خاموش ہو گئے، مگر ان کی آواز باقی ہے۔وہ مٹی میں جا سوئے، مگر دلوں میں زندہ ہیں،جو ہمیشہ ان کے لیے صدقہ جاریہ رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی حسنات و خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے چھوڑے ہوۓ علمی ورثہ کو امت کے لیے فاٸدہ مند بنا دے۔آمین یارب العالمین

  • کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    گرمیوں کی چھٹیاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیر و تفریح کے بہانے گزر جاتی تھیں۔ اس بار بھی حسبِ روایت منصوبہ بندی جاری تھی کہ اچانک ابو کے ایک رشتہ دار کی کال آ گئی۔ ان کا گھر فیصل آباد کے قریب کنجوانی نامی گاؤں میں تھا اور وہ ہمیں دعوت دے رہے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم کسی ایسے خاندان سے ملنے جا رہے تھے جنہیں پہلے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہ تھا، اس لیے سب ہی پرجوش تھے۔

    جمعرات کی دوپہر ہم سامان باندھ کر نکلے۔ سرگودھا سے فیصل آباد تک کا دو گھنٹے کا سفر تو جلد کٹ گیا، مگر کنجوانی تک پہنچتے پہنچتے مزید تین گھنٹے لگ گئے۔ بھوک کے مارے سب نڈھال تھے کیونکہ ہم یہ سوچ کر نکلے تھے کہ کھانا وہاں جا کر کھائیں گے۔

    جب گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو کیچڑ، گوبر اور تنگ گلیاں دیکھ کر دل کچھ بوجھل سا ہو گیا۔ بہن کی اونچی ہیلز اور ہمارا شہروں والا انداز اس ماحول میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے میزبانوں کے خوش اخلاق استقبال نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

    گھر دیہاتی طرز کا مگر کشادہ تھا۔ کھلا صحن، لکڑیوں کا چولہا، بیٹھک، کچن اور کمرے سب کچھ ترتیب سے بنا ہوا تھا۔ مکھیاں بےشک بہت تھیں لیکن میزبانوں کی مسکراہٹ نے ساری کوفت کم کر دی۔سب سے پہلے آم کا ملک شیک ملا، پھر تھوڑی دیر بعد تازہ پھل اور اسنیکس۔ ان کے اپنے کھیتوں کی خوبانی اتنی میٹھی تھی کہ شاید ہی زندگی میں کبھی کھائی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد بھرپور رات کا کھانا لگا۔مٹن کڑاہی، آلو قیمہ، چکن پلاؤ، رائتہ، سلاد اور میٹھے میں رس ملائی۔ کھانے کے بعد چھت پر گئے تو غروبِ آفتاب اور ہلکی بارش نے منظر اور بھی دلکش بنا دیا۔ شہروں میں ایسے نظارے شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔اگلی صبح فجر کے وقت ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی آوازیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔تازہ پراٹھے، تندوری نان، حلیم، سبزیاں، اچار، دہی اور لسی۔ شہروں میں جہاں ٹوسٹ اور چائے پر گزارا ہوتا ہے، وہاں کا خالص دیسی ناشتہ لاجواب تھا۔ناشتے کے بعد ہم کھیتوں کی طرف نکلے۔ بارش سے زمین گیلی تھی مگر ہوا خوشگوار تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ان کا احاطہ آیا جہاں سولر پر چلنے والا ٹیوب ویل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب نے کپڑے بدلے اور پانی میں نہانے کا فیصلہ کیا۔

    شروع میں ڈر لگا، لیکن جیسے ہی پانی میں اترا تو لگا کہ ساری تھکن اور الجھنیں بہہ گئی ہیں۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار تجربہ تھا۔ دیہات کے ایک چھوٹے سے ٹیوب ویل نے وہ سکون دیا جو بڑے بڑے شہروں کی آسائشیں بھی نہ دے سکیں۔

    کھیتوں میں کپاس چنتی عورتیں، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہر گھر میں ملنے والی سچی مسکراہٹ،یہ سب کچھ ہمارے لیے نیا مگر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ گاؤں کے لوگ کم وسائل کے باوجود جتنے خوش مزاج اور مخلص ہیں، شہروں میں ویسی خلوص بھری مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔دوپہر کو چنا چاٹ اور فرائی فش کے بعد ہم نے سرگودھا واپسی کی تیاری کی۔ سفر اگرچہ مختصر تھا مگر یادیں بہت گہری چھوڑ گیا۔

    اس سفر نے ایک بات سچ کر دکھائی جسے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا:
    گاؤں جیسا سکون، شہروں میں کہاں!

  • اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔ ماضی کی حکومتوں کے برعکس سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔

    بیشتر شہروں میں ایک دفعہ کے فوٹو سیشن کے بعد تجاوزات پھر سے واپس آچکی ہیں۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین جس قدر کرپٹ اور قانون شکن ہوچکے تھے ان سے بیس فیصد تجاوزات کا خاتمہ کروا لینا بھی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا مشن امپاسبل کو پاسیبل کرنے کے مترادف ہے۔

    صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے ٹریفک وارڈن، اسسٹنٹ کمشنرز، میونسپل کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور میں تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اختیارات کی جنگ ہے ایم سی ایل، اسسٹنٹ کمشنر، ایل ڈی اے ہر کوئی اختیارات تو چاہتا ہے لیکن تجاوزات ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ تجاوزات کو ہٹانے میں تاخیری حربے اپنانے کیلئے، خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ یہی وجوہات ہیں کہ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔ کبھی یہ دور تھا کہ لاہور کی سیاحت غیر ملکیوں کی توجہ کا مرکز ہوتی تھی اور مشہور تھا کہ جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔ اب یہ صورت حال ہے کہ تاریخی عمارات کا حامل لاہور اپنی شناخت کھو چکا اور صرف یہی پہچان باقی رہ گئی کہ بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات۔

    صرف ضلع لاہور میں پانچ ہزار ارب سے زائد مالیت کی سرکاری زمینوں پر پرائیویٹ مافیا کے قبضے ہیں۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کرماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے جس میں ضلعی انتظامی افسران، ایل ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر محکموں کے افسران اور اہلکار برابری کی بنیاد پر بینفشریز ہیں جبکہ ٹریفک پولیس بنانمبر پلیٹ رکشوں پبلک ٹرانسپورٹ اور غیر قانونی پارکنگ سے پندرہ سو کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے۔

    تجاوزات کے مستقل خاتمے کیلئے PERAسپیشل فورس بھی بنائی گئی۔ لاہور میں پیرا کے ایک آفیسر نے بتایا کو اس نے ناجائز تعمیرات کے خلاف کاروائی کیلئے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو کہا کہ سر مجھے سرکاری ڈیمارکیشن نکال دیں تاکہ کاروائی کر سکیں تو اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا تم بھی اتنا جذباتی نہ ہوا کرو، سی ایم کو خوش کرنے کیلئے ریڑی والوں کے خلاف عارضی کاروائی کا فوٹو سیشن شئیر کردیا کرو باقی سکون سے اپنا خرچہ اکٹھا کرو۔ یہی وجوہات ہیں کہ لاہور میں اکثر علاقوں میں 10فیصد تجاوزات ختم کروائی گئیں جبکہ چالیس فیصد نئی تجاوزات کی تعمیرات ہوچکی ہیں۔

    پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم اسسٹنٹ کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، اسسٹنٹ کمشنر کہتا ہے کہ میونسپل کارپوریشن والوں کو شکایت کریں ایم سی ایل والے کہتے ہیں کہ ایل ڈی اے کا ایریا ہے جبکہ ایل ڈی اے والے کہتے ہیں کہ پیرا کو کہیں۔ عوام کو ”رولر کوسٹر” کی طرح ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا راستہ بتا کر خود ایک ایک ریڑی اور غیر قانونی قابضین سے بھتہ لینے کیلئے سب پہنچے ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے افسران ڈرامہ کرکے تجاوزات کے خاتمہ کی بجائے سرپرستی کرکے مال کھانے پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
    تجاوزات کی کمائی کھانے والے سرکاری ملازم پورا زور لگا رہے ہیں کہ انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔ تجاوزات مافیا کے ساتھ ساتھ تجاوزات کی سرپرستی کرنے افسران کے خلاف قانونی کاروائی بھی ناگزیر ہے۔ تجاوزات لگانے اور لگوانے والے دونوں کو جیل بھیجا جائے۔

    عارضی اور پختہ تعمیرات کی طرح غیر قانونی پارکنگ بھی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز اور رپئیرنگ ورکشاپ، حتیٰ کہ سیمنٹ، بجری، اینٹوں اور دیگر کنسٹرکشن کا سامان بھی سرکاری سڑک پر رکھ کر بیچا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس غیرقانونی پارکنگ سٹینڈ کی سرپرستی کرتی ہے چاہے عوام راستوں کے بندش سے خوار ہوجائے ٹریفک پولیس کو اپنی ریگولر کمائی کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں۔ رکشے اور ریڑیاں بیچ سڑک راستہ روکے کاروبار کر رہے ہیں اور انکو قانون کا ذرا ڈر نہیں کیونکہ انکو پتا ہے کہ قانون کی قیمت وہ سرکاری ملازمین کو نقد دیتے ہیں۔ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگاکر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔ غیر قانونی گرین بیلٹ،گارڈ روم، گلیوں بازاروں میں پتھر رکھ کر ڈیرے اور کاروباری بورڈ لگا کر سڑک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے۔تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صرف ایک دفعہ کے فوٹو سیشن تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اس کا فالو اپ بھی لیں۔

    (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر "وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • واٹس ایپ نے نیا ٹرانسلیشن فیچر متعارف کرادیا

    واٹس ایپ نے نیا ٹرانسلیشن فیچر متعارف کرادیا

    معروف میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نیا ٹرانسلیشن فیچر متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے صارفین ایپ سے نکلے بغیر ہی چیٹس کا فوری ترجمہ کر سکیں گے۔

    اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے یہ فیچر دنیا کے 180 ممالک میں دستیاب ہوگا۔ اینڈرائیڈ فون صارفین انگلش، ہندی، پرتگیز، روسی اور عربی زبانوں میں ترجمہ کر سکیں گے، جبکہ آئی فون صارفین کو 19 زبانوں کی سپورٹ ایپل ٹرانسلیشن کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔واٹس ایپ کے مطابق صارفین اب مختلف زبانوں کے میسجز کا ترجمہ چند سیکنڈ میں دیکھ کر جواب دے سکیں گے۔

    اینڈرائیڈ صارفین: مطلوبہ میسج کو دبائیں، اوپر دائیں جانب تھری ڈاٹ مینیو پر جائیں، Translate پر کلک کریں اور زبان کا انتخاب کریں۔ مستقبل میں آٹومیٹک ٹرانسلیشن بھی آن کی جا سکتی ہے۔آئی فون صارفین: میسج کو دبائیں، ترجمہ کے لیے آپشن منتخب کریں، لیکن آٹومیٹک ٹرانسلیشن دستیاب نہیں ہوگی۔

    یہ فیچر ون آن ون چیٹس، گروپ چیٹس اور چینل اپڈیٹس پر کام کرے گا، تاہم واٹس ایپ ویب اور ونڈوز ورژن میں ابھی دستیاب نہیں ہے۔واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچر مرحلہ وار تمام صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے اور بہت جلد ہر صارف تک پہنچ جائے گا۔

    ایشیا کپ: بنگلادیشی کپتان کا بھارتی کپتان سے ہاتھ ملانے سے انکار

    مسلم رہنماؤں اور ٹرمپ کی ملاقات: غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے پر زور

    جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز، ممکنہ اسکواڈ پر مشاورت مکمل

    ٹرمپ سے مسلم سربراہان کی ملاقات شاندار ، نتائج چند دن میں آئیں گے: خواجہ آصف

  • قاسم باغ کی گونج ۔۔۔۔ ڈاکٹر راشد قریشی نے ڈیرہ غازی خان کا نام روشن کردیا

    قاسم باغ کی گونج ۔۔۔۔ ڈاکٹر راشد قریشی نے ڈیرہ غازی خان کا نام روشن کردیا

    قاسم باغ کی گونج ۔۔۔۔ ڈاکٹر راشد قریشی نے ڈیرہ غازی خان کا نام روشن کردیا
    تحریر: جواد اکبر بھٹی، ڈیرہ غازی خان (چراغِ آگہی)
    ڈیرہ غازی خان کی سرزمین ایک بار پھر روشن چہرے کے ساتھ ملک بھر میں نمایاں ہوئی ہے۔ شہر کے نامور معالجِ بصارت، سماجی رہنما، خوش اخلاق شخصیت اور "فرینڈز آف غازی یونیورسٹی” کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر محمد راشد قریشی نے حال ہی میں ایک ایسا اعزاز حاصل کیا ہے جو نہ صرف ان کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ ہے بلکہ ڈیرہ غازی خان کی شناخت اور وقار میں بھی اضافہ ہے۔

    گزشتہ دنوں کراچی میں منعقدہ نیشنل ڈیٹ پام فیسٹیول میں ڈاکٹر راشد قریشی کے قائم کردہ کھجور فارم "قاسم باغ” کو پاکستان کا بہترین کھجور فارم قرار دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے ڈیرہ غازی خان کو پورے ملک میں سرخرو کر دیا اور اس خطے کے لیے فخر کا باعث بن گیا کہ یہاں کی زمین سے وہ ثمرات نکلے جنہیں قومی سطح پر پہلی پوزیشن عطا ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ سے اس پر بھرپور محنت کرتے رہے ہیں اور اپنے دوستوں و احباب کو اعلیٰ نسل کی کھجور نہ صرف کھلاتے بلکہ تحفے میں بھی دیتے۔ راقم الحروف کو بھی کئی مرتبہ ان کے ہاں اعلیٰ اور معیاری کھجور کا ذائقہ چکھنے کا موقع ملا۔

    غازی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد چٹھہ سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر راشد قریشی نے اس کامیابی کی خوشخبری دی۔ اس موقع پر انہوں نے جذباتی انداز میں کہا:
    "یہ اعزاز میرے والدِ محترم کی محنت، پسینے اور خوابوں کا ثمر ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحے ایک چھوٹے سے کھجور فارم کو پروان چڑھانے میں صرف کیے اور آج یہ فارم پاکستان بھر میں نمبر ون قرار پایا ہے۔”

    ڈاکٹر راشد قریشی نے مزید بتایا کہ وہ مستقبل میں غازی یونیورسٹی اور قاسم باغ کے باہمی اشتراک سے ایسے منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن کے ذریعے کھجور کی کاشت جدید خطوط پر فروغ پائے گی اور ساتھ ہی علاقے کی معیشت کو بھی نئی توانائی ملے گی۔

    یہ کامیابی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ خواب جب محنت اور اخلاص کے ساتھ پروئے جائیں تو وہ صرف ایک خاندان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی پہچان بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر راشد قریشی کا یہ اعزاز دراصل ڈیرہ غازی خان کے ہر باسی کا اعزاز ہے۔