Baaghi TV

Category: بلاگ

  • این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع ، بلوچستان کی ترقی کی نئی راہ

    این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع ، بلوچستان کی ترقی کی نئی راہ

    بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں قدرتی وسائل کی فراوانی اور جغرافیائی اہمیت ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔ تاہم اس ترقی کی بنیاد مضبوط انفراسٹرکچر، بہتر سفری سہولیات اور محفوظ شاہراہوں سے ہی ممکن ہے۔ انہی قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع کا عظیم منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے معاشی سرگرمیوں کا نیا دروازہ ثابت ہو رہا ہے۔این-25 قومی شاہراہ بلوچستان کے دل میں موجود اہم شہروں مستونگ، کچلاک، کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور چمن کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ سڑک اہم تجارتی راستے کا حصہ بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ روزانہ ہزاروں مسافر، ٹرک، بسیں اور تجارتی گاڑیاں اس شاہراہ پر سفر کرتی ہیں۔ تاہم ماضی میں اس سڑک کی خستہ حالی، تنگ گزرگاہیں اور خطرناک موڑ ٹریفک حادثات اور سفر میں دشواریوں کا سبب بنتے رہے۔ یہی وجوہات اس منصوبے کی فوری ضرورت کی بنیاد بنیں۔

    این-25 کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ مجموعی طور پر 198 کلومیٹر طویل ہے جسے تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے،
    پہلا حصہ،مستونگ تا کچلاک 88 کلومیٹر،اس حصے میں پرانی روڈ کی مرمت، کشادگی اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
    دوسرا حصہ کچلاک تا قلعہ عبداللہ 62 کلومیٹر،یہ حصہ نہ صرف ٹرانسپورٹ کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ کوئٹہ شہر کی ٹریفک لوڈ کو بھی کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
    تیسرا حصہ قلعہ عبداللہ تا چمن 48 کلومیٹریہ مرحلہ سب سے اہم اور چیلنجنگ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں خوجک ٹنل (2.5 کلومیٹر)،چمن باؤنڈز (2.5 کلومیٹر)جیسے اہم اسٹرکچرز شامل ہیں۔اسی تیسرے حصے پر پہلے مرحلے میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیزی سے کام جاری ہے۔ قلعہ عبداللہ تا چمن سیکشن نہ صرف سب سے زیادہ ٹریفک لوڈ برداشت کرتا ہے بلکہ ملکی و غیر ملکی تجارت کے لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سیکشن کی کشادگی اور بہتری سے پورے خطے میں سفری اور تجارتی سہولت میں انقلاب آ جائے گا۔

    خوجک ٹنل بلوچستان کا ایک تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل حصہ ہے۔ اس 2.5 کلومیٹر طویل ٹنل پر جدید طرز پر بحالی اور توسیع کا کام فروری میں شروع کیا جا رہا ہے۔ نئی ڈیزائننگ، حفاظتی دیواریں، وینٹی لیشن سسٹم اور لائٹنگ سسٹم خوجک ٹنل کو عالمی معیار کے برابر لے آئیں گے۔ اس ٹنل کی بہتری سے سردیوں میں برفباری کے دوران ٹریفک جام اور حادثات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔منصوبے کی تعمیر پاکستان کے معروف انجینئرنگ ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے سپرد کی گئی ہے۔ ایف ڈبلیو او مشکل ترین علاقوں میں اعلیٰ معیار کے انفراسٹرکچر بنانے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بھاری مشینری، محفوظ روڈ الائنمنٹ، ڈرینیج سسٹمز، فلائی اوورز اور حفاظتی دیواروں کی تنصیب جیسے چیلنجز ایف ڈبلیو او کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا عملی ثبوت ہیں۔

    چونکہ این-25 نہ صرف تعمیراتی لحاظ سے حساس منصوبہ ہے بلکہ اس پر روزانہ عوام اور تجارتی ٹریفک بھی چلتی ہے، اس لیے اس کی مجموعی سیکیورٹی پاک فوج اور ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ذمہ ہے۔ یہ ادارے تعمیراتی عملے، مشینری اور مقامی آبادی کی مکمل حفاظت یقینی بنا رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی موجودگی سے علاقے میں اعتماد اور امن کا ماحول فروغ پا رہا ہے۔یہ منصوبہ بلوچستان اور پاکستان کی معاشی، سماجی اور تجارتی ترقی کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

    چمن بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے بڑا زمینی تجارتی دروازہ ہے۔ بہتر شاہراہ سے تجارتی ٹرکوں کی آمدورفت تیز ہوگی، جس سے درآمدات و برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔کشادہ سڑکوں اور بہتر الائنمنٹ کی بدولت سفر کم وقت اور زیادہ آرام دہ ہو جائے گا۔ ٹوٹ پھوٹ، کھڈوں اور تنگ موڑوں سے نجات ملنے سے مسافروں کو بڑی سہولت میسر آئے گی۔منصوبے میں مقامی لیبر، مشین آپریٹرز، ٹیکنیشنز، ڈرائیورز، کھانے پینے کی سروسز اور دیگر شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ طویل المدتی طور پر بھی یہ شاہراہ تجارت میں اضافے کے ذریعے روزگار کے نئے دروازے کھولے گی۔سرد علاقوں خصوصاً خوجک ٹاپ پر برفباری کے دوران حادثات عام تھے۔ نئی سڑک، ٹنل کی بہتری، حفاظتی گارڈریل اور جدید سائن بورڈز کے بعد حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔سڑکوں کی بہتری ہمیشہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔ جب علاقے میں تجارت بڑھے گی، روزگار ملے گا تو امن و استحکام خود بخود مضبوط ہوں گے۔ این-25 اس سلسلے میں حقیقی معنوں میں خوشحالی کی شاہراہ ثابت ہو گی۔

    این-25 کی کامیاب تکمیل عوام کے تعاون، حکومتی ذمہ داری اور سیکیورٹی اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ منصوبہ بتا رہا ہے کہ جب ریاست اور عوام ایک سمت میں قدم بڑھائیں تو ترقی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ بلوچستان کی عوام اس منصوبے کو امن، ترقی اور معاشی روشنائی کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔این-25 شاہراہ نہ صرف آج کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل قریب میں یہ سی پیک، وسطی ایشیائی ریاستوں، گوادر پورٹ اور افغانستان کے درمیان تجارت کا مرکزی راستہ بن جائے گی۔ بین الاقوامی سطح پر روابط بڑھیں گے، خطے میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور بلوچستان کو وہ اہمیت ملے گی جس کا وہ برسوں سے مستحق ہے۔

  • راز، رشتے اور احساس کی آبرو ،تحریر: حنا سرور

    راز، رشتے اور احساس کی آبرو ،تحریر: حنا سرور

    زندگی کے ہجوم میں کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمارے دل پر نرم تتلیوں کی طرح بیٹھتے ہیں۔ کبھی خونی نسبتوں کی صورت، کبھی دوستی اور کبھی خاموش چاہت کے روپ میں۔ مگر زمانہ اپنے قوانین پر چلتا ہے ہر رشتہ ہمیشہ کے لیے مقدر نہیں ہوتا۔ کوئی لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب راستے بچھڑ جاتے ہیں، ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں اور رہ جاتی ہے صرف یاد کی دھیمی خوشبو،لیکن اصل کمال وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں تعلق ختم ہوتا ہے۔اسی کیفیت کو ایک جملے میں یوں سمیٹا گیا ہے "اگر تعلق ختم ہونے کے بعد بھی راز اور عزت محفوظ رہے تو سمجھ جانا کسی خاندانی اور نسلی شخص سے واسطہ پڑا تھا۔”

    یہ جملہ تہذیب اور نجابت کی چادر میں لپٹا ہوا کردار کا آئینہ ہے۔اصل شرافت، بچھڑنے کے دنوں میں پہچانی جاتی ہے،ساتھ رہ کر محبت جتانا، وفا کے قصے کہنا اور احترام کے پل باندھنا کوئی فن نہیں۔ اصل فن وہ ہے کہ جب دو دلوں کے راستے جدا ہو جائیں،خوابوں کی گلیاں خالی ہو جائیں،رشتے کا سایا پیچھے رہ جائے،پھر بھی زبان وہی مٹھاس رکھے، نگاہ وہی حیا اور دل وہی پاکیزگی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی اصل نسل، اصل تربیت اور اصل ظرف سامنے آتا ہے۔خاندانی لوگ جو رشتوں کی قبروں پر بھی بدگمانی کے پتھر نہیں رکھتے،خاندانی ہونا نصیب کی بات نہیں، اسلوبِ زندگی کا انتخاب ہے۔ ایسے لوگ راز کو امانت سمجھ کر سینے میں دفن کر دیتے ہیں،ان کے نزدیک اعتماد ٹوٹ جانے سے اعتماد کی حرمت کم نہیں ہوتی۔ جدائی کے بعد بھی زبان کا وقار قائم رکھتے ہیں،وہ بچھڑتے ہوئے بھی بدذوق جملوں کا سہارا نہیں لیتے۔ محبت ختم ہونے پر بھی احترام کا دامن نہیں چھوڑتے،کیوں کہ ان کے نزدیک عزت دینا خود کی پرورش کی علامت ہے، دوسروں کا حق نہیں۔ دل شکستہ ہو کر بھی نیت کا دامن میلا نہیں ہونے دیتے،جو اپنے اندر کی صفائی نہ کھوئے، وہی اصل میں خاندانی ہوتا ہے۔

    جدائی انسان کی تھکن نہیں بتاتی، اس کا ظرف بتاتی ہے۔ جب کوئی شخص بچھڑ کر بھی آپ کے بارے میں کوئی تلخ لفظ نہ کہے،آپ کی کسی کمزوری کو تماشہ نہ بنائے،آپ کی خاموشیوں کو بازار میں نہ بیچے،آپ کی عزت کو اپنی شکست کا بدلہ نہ بنائے،تو سمجھ لیں کہ آپ نے ایک ایسا کردار دیکھا ہے جو اب زمانوں میں کم پیدا ہوتا ہے۔ہمیں سیکھنا چاہیے کہ رشتے ٹوٹنے سے اخلاق نہیں ٹوٹتا،محبت ختم ہونے سے تہذیب ختم نہیں ہو جانی چاہیے،بچھڑ جانا دشمنی نہیں بن جانا چاہیے،راز اگر کبھی امانت بن جائے تو قیامت تک امانت ہی رہنا چاہیے،اصل شرافت وہ ہے جو جدائی کے لمحوں میں روشن رہے۔

    اگر زندگی میں کبھی کوئی ایسا شخص ملے جو رخصت ہوتے ہوئے بھی آپ کے لیے عزت ہی چھوڑ جائے،جو خاموش ہو کر بھی آپ کی بھرم داری نبھائے،جو بچھڑ کر بھی آپ کی ساکھ کو بدنما نہ ہونے دے،تو یقین جانیے، آپ نے کسی بڑے دل، بڑے ظرف اور بڑی تربیت والے انسان کو چھوا ہے،ایسے لوگ قسمت کی بارش ہوتے ہیں،کم چھوٹتے ہیں، مگر دل پر ہمیشہ کے لیے نشان چھوڑ جاتے ہیں۔

  • بدلتی عالمی صورتحال پر توجہ کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    بدلتی عالمی صورتحال پر توجہ کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں شور شرابے سے باہر نکل کر بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پر توجہ دیں۔ ریاستوں کے تعلقات، معاشی تعاون اور علاقائی توازن نئی سمتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ داخلی ہم آہنگی کو مضبوط بناتے ہوئے باہمی احترام، مکالمے اور تعاون پر مبنی حکمت عملی اپنائیں۔ عالمی، تبدیلیاں ان ممالک کے لیے مواقعے پیدا کرتی ہیں جو اتحادِ فکر، استحکام اور دوراندیش سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ملک کی اصل ضرورت یہ نہیں کہ کون کس کا ذمہ دار ہے، اصل ضرورت یہ ہے کہ اجتماعی دانش کو بیدار کیا جائے، پالیسیوں میں تسلسل لایا جائے اور سماجی رویوں میں اعتدال پیدا کیا جائے۔ جب تک قوم جذبات کے بجائے بصیرت کو اپنا رہنما نہیں بناتی ترقی کے امکانات محدود ہی رہیں گے۔ دنیا میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں مگر افسوس کہ ہم اب تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہم تبدیلیوں کا حصہ بننا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ دنیا اس وقت ٹیکنالوجی، جدید معاشی طریقے کار اور سائنسی تحقیق کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اقوام اپنے مستقبل کی سمت متعین کر رہی ہیں، معیشتوں کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کر رہی ہیں اور ذہنی صحت کو سماجی پالیسی کا بنیادی حصہ بنا رہی ہیں۔ اس کے برعکس وطن عزیز اب بھی توانائی، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام جیسے بنیادی مسائل کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔ نتیجتاً ہم ترقی یافتہ دنیا کی رفتار سے مسلسل پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے صورتحال کو مزید بگاڑا ہے، تحقیق، دلیل اور تنقیدی شعور کمزور پڑ گیا ہے۔ جبکہ جذباتی ردعمل، سطحی رائے اور غیر سنجیدہ گفتگو عام ہوتی جا رہی ہے۔ یہ رجحان معاشرے کی فطری کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔

    سیاسی جماعتوں کا طرز عمل بدستور محاذ آرائی اور الزام تراشی کے گرد گھوم رہا ہے۔ قومی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی لائحہ عمل اختیار کرنے کے بجائے سیاسی بیانیے، ذاتی مفادات اور جماعتی ترجیحات غالب ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کے پاس ملک کو سمت دینے کی سکت کم اور مخالفین کو زیر کرنے کی خواہش زیادہ ہے۔ اسی سبب عوام میں شدید بےچینی اور بداعتمادی جنم لے رہی ہے۔ وطن عزیز اس وقت جس پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اس پر سنجیدہ اور بامعنی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ توانائی بحران، مہنگائی، اقتصادی ابتری اور حکومتی بے سمتی اپنی جگہ موجود ہے۔ مگر حالیہ ایام میں جو بحث غیر ضروری طور پر زور پکڑ رہی ہے وہ معاشرتی رویوں کی وہ کیفیت ہے جسے عمومی طور پر ذہنی بے سمتی یا نفسیاتی انتشار کہا جا رہا ہے۔ تاہم قوم میں جذبہ بہت ہے، بس سمت کی کمی ہے۔ ہمارا بحران صلاحیت کا نہیں ترجیحات کا ہے اگر ہم جذباتی فیصلوں کے بجائے فکری و اجتماعی ذمہ داری کی طرف آئیں تو آج بھی بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز کے بدنصیبی یہ نہیں کہ دنیا بدل رہی ہے بدنصیبی یہ ہے کہ ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پا رہے کہ ہم بدلنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔

  • ٹریفک قوانین اور ہمارا معاشرہ

    ٹریفک قوانین اور ہمارا معاشرہ

    ٹریفک قوانین اور ہمارا معاشرہ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    قانون خود راستہ بناتا ہے یہ تو آپ نے اکثر سنا بھی ہوگا اور آج کل دیکھا بھی جاسکتا ہے مگر کیا یہ حقیقت ہے کہ ہماری قوم صرف ڈنڈے کو مانتی ہے تو شاید یہ غلط نہ ہوگا۔ اس کا اندازہ صرف ایک دن کی کارکردگی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

    ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لئے جو سختیاں آج ہم دیکھ رہے ہیں دراصل یہ ہمارے معاشرے کا وہ پہلو ہے جو ہم بحیثیت قوم قانون شکنی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ یقینا اچھی قومیں اپنے قوانین پر عملدرآمد اس وقت شروع کردیتی ہیں جب سے وہ نافذ العمل عمل ہوتا ہے، مگر ہمارے ہاں آج بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ہی قانون شکنی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آج ہم ٹریفک قوانین پر تفصیلی بات کرتے ہیں۔

    دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے، مگر پاکستان میں آج سے پہلے نہیں۔ سڑکیں اسی وقت محفوظ بنتی ہیں جب عوام خود بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ قوانین سے لاپرواہی، تیز رفتاری، اور بغیر لائسنس ڈرائیونگ ہے۔ اگر ہم اپنی اور دوسروں کی جان کو اہم سمجھیں تو ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ایک ضرورت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔

    ٹریفک قوانین کا سب سے بڑا مقصد انسانی جان کی حفاظت ہے۔ ایک لمحے کی غلطی نہ صرف اپنی زندگی بلکہ سڑک پر موجود بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس کا تذکرہ ہم روزانہ کی بنیاد پر دیکھتے اور سنتے ہیں۔ سگنل توڑ دینا، غلط اوورٹیکنگ یا تیز رفتاری کئی خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے غم میں مبتلا کر دیتی ہے۔

    شہروں میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ قوانین پر عمل کے بغیر سڑکوں پر بے ترتیبی، جام، اور حادثات معمول بن جاتے ہیں۔ جب ہر شخص اپنی مرضی سے گاڑی چلائے تو نہ ٹریفک رواں رہ سکتی ہے اور نہ ہی لوگ محفوظ۔

    موٹر سائیکل پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سواری ہے، لیکن افسوس کہ حادثات بھی سب سے زیادہ اسی سے ہوتے ہیں۔ ہیلمٹ کو عام طور پر اضافی بوجھ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ زندگی بچانے والی سب سے اہم چیز ہے۔

    موٹر سائیکل حادثات میں سب سے زیادہ چوٹ سر پر لگتی ہے، اور یہی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ مگر پاکستان میں بھی جب سے ہیلمٹ پہنے پر سختی کی گئی ہے، سر کی چوٹ کا تناسب کم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ عالمی تحقیقات کے مطابق ہیلمٹ پہننے سے موت کا خطرہ 40% اور شدید چوٹ کا خطرہ 70% تک کم ہو جاتا ہے۔

    قانونی طور پر ہیلمٹ کا استعمال ضروری ہے۔ بغیر ہیلمٹ ڈرائیونگ نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ آپ کے گھر والوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ آپ کے گھر والے آپ کی حفاظت چاہتے ہیں، لہٰذا ہیلمٹ پہننا اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

    ہیلمٹ پہن کر آپ دوسروں کے لیے مثال قائم کرتے ہیں۔ یہ ایک بیداری کی علامت ہے کہ آپ اپنی اور دوسروں کی زندگی کو اہمیت دیتے ہیں اور باشعور قوم کی پہچان ہے۔

    پاکستان میں خاص طور پر نوجوانوں میں بغیر لائسنس ڈرائیونگ عام دیکھی جاتی ہے، جو نہایت خطرناک عمل ہے۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانا ایک جرم ہے جس کی سزا میں بھاری جرمانہ، گاڑی بند ہونا اور بعض صورتوں میں جیل بھی شامل ہے۔

    لائسنس اس بات کی تصدیق ہے کہ ڈرائیور نے گاڑی چلانے کی تربیت لی ہے۔ بغیر تربیت کے گاڑی چلانا ایسا ہے جیسے بغیر تیاری کے خطرناک مشن پر نکل جانا۔ ایسے لوگ نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    اگر کوئی شخص بغیر لائسنس حادثے کا شکار ہو جائے تو انشورنس کمپنیاں کلیم ادا نہیں کرتیں۔ اس کا مالی نقصان لاکھوں روپے تک پہنچ جاتا ہے۔

    ڈرائیونگ ایک ذمہ داری کا نام ہے۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانا غیر ذمہ داری، لاپرواہی اور دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    ٹریفک قوانین پر عمل درآمد صرف جرمانوں سے بچنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ایک باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو سڑک پر بھی ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ لہٰذا:
    ہمیشہ ٹریفک قوانین پر عمل کریں
    ہیلمٹ لازمی پہنیں
    بغیر لائسنس گاڑی ہرگز نہ چلائیں
    دوسروں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں

    اگلا مرحلہ صفائی ستھرائی کے حوالے سے ہوگا، اس پر بھی قانون شکنی کرنے والوں پر شکنجہ سخت ہوگا۔

  • رومن رسم‌الخط کے نقصانات،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    رومن رسم‌الخط کے نقصانات،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    ہم پچھلے 75 سالوں سے پڑھتے آ رہے ہیں کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔
    یہ صرف ایک خواہش ہی رہی کہ قومی زبان کو سرکاری و دفتری سطح پر رائج کیا جائے، مگر اس سے پہلے کہ اردو کا نفاذ ممکن ہوتا، ہماری قومی زبان اردو پر رومن رسم‌الخط کے خطرات منڈلانے لگے۔دورِ حاضر پر نظر ڈالیں تو ہمیں انگریزی سے زیادہ رومن رسم‌الخط سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

    نئی نسل اردو لکھنا بھولتی جا رہی ہے، اور قوم ہر گزرتے دن کے ساتھ رومن رسم‌الخط کی عادی بنتی جا رہی ہے۔آج اگر ہم سماجی ذرائع ابلاغ پر نظر ڈالیں یا اپنے حلقۂ احباب کا مشاہدہ کریں، تو اکثریت رومن رسم‌الخط میں پیغام رسانی کرتی نظر آتی ہے۔

    اب نوجوان نسل کو رومن رسم‌الخط میں لکھنا تو آسان لگتا ہے، مگر اردو رسم‌الخط میں لکھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔
    مختلف حلقوں میں موجود نامور ادبی شخصیات کو دیکھیں تو بہت کم ایسے افراد ہیں جو اردو رسم‌الخط میں پیغامات لکھتے ہیں۔

    وہ ادیب اور مصنفین، جنہیں اردو نے شہرت بخشی اور آج بھی دے رہی ہے، وہ بھی رومن رسم‌الخط یا انگریزی میں لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ اردو ادب سے منسلک لکھاریوں پر زیادہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اردو کو ترجیح دیں اور محبت سے اسے اپنائیں۔

    آج، بحیثیتِ پاکستانی، ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے اگر ہم اپنی قومی زبان اردو کو عزت اور ترجیح نہیں دیں گے، تو کون دے گا؟

  • اب آگ گھر کے آنگن میں ہے،تحریر:رقیہ غزل

    اب آگ گھر کے آنگن میں ہے،تحریر:رقیہ غزل

    یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ہر حادثہ اپنے ساتھ ایک اور سانحہ لاتا ہے اور وہ ذمہ داروں کی بے حسی اور انسانیت سے عاری ردعمل ہوتا ہے۔ کسی بھی سانحے کی پہلی چیخ سڑک پر گونجتی ہے۔ دوسری سوشل میڈیا پر اور تیسری کسی پریس ریلیز میں دب کر رہ جاتی ہے۔ باقی سب ایک ایسی خاموشی میں گم ہو جاتا ہے جسے ہم ’’قومی مزاج‘‘ کا نام دے کر خود کو تسلی دے دیتے ہیں۔ جیسے ہم نے اجتماعی طور پر یہ طے کر لیا ہو کہ مسئلہ حل کرنے سے بہتر ہے کہ وقت کے ڈھیر تلے دبا دیا جائے اگر بدبو اٹھے بھی تو ناک پر ہاتھ رکھ کر گزر جائیں مگر کچھ بدبوئیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف ناک نہیں، روح کو بھی جلا دیتی ہیں اورجب روح جلتی ہے تو سوال اٹھتے ہیں جس کا جواب یوں ملتا ہے کہ اب میں ڈھکن کہاں کہاں لگائوں ؟

    کراچی کے دل گلشن اقبال میں تین سالہ بچے کا کھلے گٹر میں گر جانا ایسا ہی حادثہ تھا۔ منظر کوئی ڈرامائی نہیں بلکہ روز مرہ کی حقیقت ہے۔ چیخ اٹھتی ہے، لوگ بھاگتے ہیں، کالیں کی جاتی ہیں مگر پھر شہر کی پوری انتظامی مشینری ایک اندھی تلاش میں گھومتی رہتی ہے کہ تاریک سرنگ میں ہاتھ پیر مارتے ہوئے پندرہ گھنٹے گزرنے کے بعد اس بچے کی لاش کئی سو میٹر دور ایک دوسرے کھلے مین ہول سے خاکروب نکالتا ہے جسے شاباش نہیں الٹا ہتک آمیز رویہ تحفے میں ملتا ہے جیسے کوئی گناہ کر دیا ہو۔ دکھ اپنی جگہ، ملال اپنی جگہ، مگر خوف اس بات کا ہے کہ یہ المناکیاں ہمیں اب حیران بھی نہیں کرتیں ؟ جیسے ہم نے شہر کی بدنظمی کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ کر لیا ہو کہ ’’تم بے حس رہو، ہم صبر کرتے رہیں گے۔‘‘ریسکیو ادارے صاف کہتے ہیں کہ وہ بلائنڈ آپریشن کرتے ہیں۔ یعنی شہر کی نالیاں آج بھی کسی پراسرار غار کے نقشے کی طرح ہیں جنہیں شاید بنانے والوں نے بھی کبھی مکمل نہیں دیکھا۔ برسوں کے سیاسی جوڑ توڑ نے نالوں کا ایسا تھیلا بنا دیا ہے جسے محکمے خود کھولنے سے گھبراتے ہیں۔ اوپر سے حکم کہ رات کو سرچ کرنا ممنوع ہے۔ یعنی کہ شہر رات میں حادثے کرے مگر ادارے صبح کے سورج کے بغیر آنکھ نہیں کھول سکتے۔

    بالفرض کھل بھی گئی تو بیانات کا سیلاب اور عمل کی قحط سالی کے سواکچھ نہیں ملتا۔ یہ درد کے لمحے پہلے ہی طویل تھے ہی کہ ایک اور دلخراش واقعے نے کہانی کا رخ موڑ دیا جب اسلام آباد کی ایک سجی ہوئی سڑک پر، ایک جج صاحب کا سولہ سالہ شہزادہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ گاڑی میں مستیاں کرتے ہوئے دو نوجوان لڑکیوں کو سکوٹی سمیت کچل گیا۔ ایک لمحہ، ذرا سی بے احتیاطی اور دو گھر ہمیشہ کے لیے لاوارث ہوگئے۔ مگر ہمارے پاس پھر وہی روایتی ہلچل، وہی کاغذی کارروائیاں، سیاسی اور قانونی بحثیں اور پھر وہی سوال جو ہر شہری کی آنکھ میں ٹھہر گیا ہے کہ اس بار بھی انصاف طاقتور کے جوتے کے نیچے دب جائے گا؟ کیونکہ یہاں جرم کا تعین عدالت نہیں بلکہ جیب اور عہدہ کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ہاں گٹر کا ڈھانچہ ضروری نہیں رہابلکہ پورا نظام اب اصلاح چاہتا ہے تاکہ طاقتوروں کی غلطیاں واقعات اور کمزوروں کی لغزشیں جرائم نہ کہلائیں۔

    ایسے کڑے حالات میں ریاستی ترجیحات مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں کہ عوام کا ذکر روزمرہ ایجنڈے میں تو دور کی بات کسی ضمنی خانے میں بھی نہیں ملتا۔ ہر روز کوئی نئی خبر ملتی ہے کہ فلاں سیاسی رہنما کا سیل بدل دیا گیا، فلاں کے بیان کو مبینہ طور پر اے آئی کے ذریعے مسخ کر کے پھیلایا گیا، فلاں کی بہنوں کے بیانات کو ریاستی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جیسے پوری قوم صرف تین چار شخصیات کے آس پاس گھومتی ہو، اور باقی کروڑوں لوگ کسی اور کائنات کی مخلوق ہوں جن کا وجود صرف بل اور ٹیکس کی حد تک مانا جاتا ہے حالانکہ آئی ایم ایف کی رپورٹ ایک واضح تنبیہ ہے کہ سنبھل جانے کا وقت ابھی ہے! درحقیقت معیشت کا حال بھی کسی سے نہیں چھپا کہ بازاروں میں قیمتیں دیکھ کر بھی انسان سوچتا ہے کہ شاید ٹیگ غلط لگ گیا ہو، مگر پھر معلوم ہوتا ہے کہ غلطی ٹیگ کی نہیں، امید کی تھی۔ تنخواہیں دھوپ میں رکھے پانی کی طرح اڑ رہی ہیں، ٹیکسوں کی یلغار کسی موسم کی طرح نہیں رکتی، ٹریفک چالان آندھی کی طرح آتے ہیں اور پٹرول کی قیمتیں یوں اچھلتی ہیں جیسے رسّی تڑوا کر بھاگا ہوا گھوڑا کسی کو روندتا ہوا آگے نکل جائے۔ بجلی کے بل عوام کی جیب میں نہیں، دل میں بجلی گراتے ہیں۔ مگر۔۔ریاست اپنی دنیا میں گم کہ نوٹیفکیشن آیا یا نہیں اور اگلی باری کس کی؟ گویا ملک کے تمام مسائل حل ہوچکے !جس میں ذاتی مفاد مقدم ہو، زمینی حقائق کی پرواہ نہ کی جائے جس میں ملکیت و قومی مفادات کو ذاتی خواہشات کے سامنے قربان کیا جائے دراصل یہی رویہ کہ پہلے ہم، بعد میں عوام اصل’’ کھلا گٹر ‘‘ہے اورگٹر تو ایک جان لیتا ہے مگر بے حسی پوری قوم کی امید کا جنازہ اٹھا دیتی ہے۔ فیصلے طاقت کے کمروں میں تیار ہوتے ہیں، سیاست سکرینوں پر کھیلی جاتی ہے اور عوام کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا جاتا، سوائے اس کے کہ وہ اندھیری سرنگ میں چلتے رہیں، اس امید پر کہ شاید کبھی روشنی نظر آ جائے جبکہ نہ رہنمائی ہے، نہ نقشہ، نہ کوئی سمت۔ بس تجربے پر تجربہ، جیسے ملک نہیں کوئی لیبارٹری ہو جس میں ہر روز ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ کبھی سیاسی انجینئرنگ، کبھی انتظامی اکھاڑ پچھاڑ، کبھی معاشی نسخے جنہیں آزماتے آزماتے عوام کی کمر ٹوٹی جا رہی ہے لیکن ناکامیوں پر عوام ہنس بھی نہیں سکتے، کیونکہ ہنسی بھی مہنگی پڑتی ہے کہ ناکامی کا پھندا گلے میں ڈال کر کہا جاتا ہے کہ۔۔گھبرائیں نہیں، یہ سب آپ کی بہتری کے لیے ہے۔۔مگر عوام اب اس جملے پر ایمان نہیں رکھتے اوروہ جانتے ہیں کہ آگ اب صرف گلی کے گٹر تک محدود نہیں رہی، بجلی کے بلوں میں جھلستی ہے، بچوں کی فیسوں میں روتی ہے، دکانوں کی مہنگی روشنیوں میں تڑپتی ہے، گیس، پیٹرول، پانی، روزگا رسب اس آگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ آگ اب دہلیز پر نہیں، گھر کے آنگن میں دہک رہی ہے۔بہر حال اگر ہم آج بھی نہ جاگے تو کل اخبار میں یہ نہیں لکھا جائے گا کہ ’’ایک بچہ گٹر میں گر کر جاں بحق ہوا‘‘ ممکن ہے یہ لکھا جائے کہ یہ قوم بہت پہلے اپنے اجتماعی گٹر میں گر چکی تھی، فرق صرف اتنا ہے کہ اسے گرنے کا احساس ہی نہ تھاکیونکہ وہ تماشے دیکھنے میں مصروف تھی اور جب قومیں تماشوں میں گم ہو جائیں ،خوف آخرت سے خالی ہوں، وہ خود اپنی بربادی لکھتی ہیں۔ لہذااب سوال یہ نہیں رہاکہ جگر گوشے کیوں نہ بچ سکے بلکہ سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم اپنا باقی بچا ہوا شعور، بچی ہوئی غیرت اوربچا ہوا ملک‘ بچا سکیں گے یا نہیں؟

  • فوج جو نہ کسی فرد، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی ہے بلکہ 25 کروڑ عوام کی .تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج جو نہ کسی فرد، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی ہے بلکہ 25 کروڑ عوام کی .تجزیہ:شہزاد قریشی

    جب کوئی قوم اپنی ہی فوج پر انگلیاں اٹھانے لگے تو وقت ثابت کرتا ہے کہ قومیں اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں

    آج فوج کو سیاست کے شور میں کھڑا کرکے نشانے پر رکھا جا رہا ہے ہر کوئی اپنے مفاد کی آگ بھڑکھانے میں مصروف ہے

    آج سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان بڑھتے فاصلوں نے صورتحال خطرناک بنا دی ہے ریاستیں بیانیوں پر نہیں اتحاد پر چلتی ہیں

    جو اس ملک کے ہر انچ کی حفاظت کرتا ہے، اس کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ نہیں، بات چیت، احترام اور ذمہ داری کا راستہ اپنانا ہو گا

    اگر فوج سلامت ہے تو پاکستان سلامت ہے اور اگر پاکستان سلامت ہے تو ہم سب سلامت ہیں سیاستدان اپنی پالیسیوں زبان اور رویوں پر اَزسرِنو غور کریں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    وطن عزیز دنیا میں ایک ایسا ملک ہے جو آزمائشوں میں گِھرا رہا دہشتگردی، انتہا پسندی، بیرونی دباؤ، داخلی انتشار مگر ایک ستون ایسا تھا جو ہر وقت کھڑا رہا۔ ایک ادارہ ایسا جو راتوں کی نیندیں چھوڑ کر قوم کی نیند محفوظ بناتا رہا وہ ادارہ ہے پاکستان کی فوج جو نہ کسی فرد کی ہے، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی، یہ 25 کروڑ لوگوں کی فوج ہے۔ اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی، اس کی ڈھال، اس پہچان مگر افسوس آج اسی فوج کو سیاست کے شور میں کھڑا کرکے نشانے پر رکھا جا رہا ہے۔ بیانیے ایسے بن رہے ہیں جیسے فوج دشمن ہو اور سیاست دان ریاست کے ٹھیکیدار سوشل میڈیا نے نفرت کو ایسے پروان چڑھایا جیسے آگ کے سامنے خشک گھاس رکھ دی جائے۔ ہر کوئی اپنے مفاد کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہے مگر سوچ کوئی نہیں رہا کہ اس آگ میں آخر جلتا کون ہے؟ (پاکستان) وطن عزیز کی فوج دنیا کی چند سب سے ڈسپلن اور موثر افواج میں شمار ہوتی ہے۔ امریکہ سے لیکر یورپ تک طاقت ور ملک اس پروفیشنل ازم کو تسلیم کرتے ہیں ہم جس فوج کو روز تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہی فوج آج بھی دنیا بھر میں ایک مضبوط فورس کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ وہی فوج ہے جس نے اپنی جانوں کی قربانی دیکر دہشتگردی کا وہ طوفان روکا جس نے ملک کو جکڑ لیا تھا یہ وہی فوج ہے جس نے ماؤں کے بیٹے کھوئے مگر پاکستان اور قوم کو بچائے رکھا۔ آج سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان بڑھتے فاصلوں نے صورتحال خطرناک بنا دی یے۔ ایک طرف سیاست اپنے بیانیوں کے نشے میں ہے دوسری طرف ادارے ریاست کو سنبھالنے کی کوشش میں، لیکن ریاستیں بیانیوں پر نہیں اتحاد پر چلتی ہیں اور جب کوئی قوم اپنی ہی فوج پر انگلیاں اٹھانے لگے تو وقت ثابت کرتا ہے کہ قومیں اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں۔ اگر سیاست اور فوج ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہوں تو نقصان صرف ایک کا نہیں پورے پاکستان کا ہوتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں ہوتا مگر اداروں کو متنازعہ بنانا یہ دشمنی ہے وطن سے بھی اور اپنے مستقبل سے بھی۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو لمحہ فکریہ لینا ہو گا کہ ہم اپنے ہاتھوں سے کیا آگ لگا رہے ہیں؟ کیا ہم دوبارہ اس ملک کو انتشار کے اس گڑے میں دھکیلنا چاہتے ہیں جس سے نکلنے میں ہمیں دہائیاں لگیں؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست دان اپنی پالیسیوں، اپنی زبان اور اپنے رویوں پر اَز سرِ نو غور کریں جو ادارہ ہمیں دہشتگردی سے نکال کر لایا جو اس ملک کے ہر انچ کی حفاظت کرتا ہے اس کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ نہیں بات چیت، احترام اور ذمہ داری کا راستہ اپنانا ہو گا۔ وطن عزیز کو مزید لڑائیاں نہیں چاہیں اسے امن چاہیے، اتفاق چاہیے، ترقی چاہیے یہ ملک ہم سب کا ہے اور فوج بھی۔ اب وقت ہے کہ ہم سب ملکر اسی ایک سچ کو پہچانیں اگر فوج سلامت ہے تو پاکستان سلامت ہے اور اگر پاکستان سلامت ہے تو ہم سب سلامت ہیں۔

  • غریب کی مجبوری پر وار  بینظیر انکم سپورٹ کی آڑ میں ابھرتا نیا مافیا ،تحریر:  آمنہ خواجہ

    غریب کی مجبوری پر وار بینظیر انکم سپورٹ کی آڑ میں ابھرتا نیا مافیا ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ ملک شاید ترقی کے لیے نہیں، ہر روز ایک نیا مافیا پیدا کرنے کے لیے بنا ہے۔ کبھی آٹے کا بحران، کبھی چینی کا، کبھی پٹرول کی مصنوعی قلت، اور اب باری ہے غریب کے حق پر ڈاکا ڈالنے والوں کی وہ لوگ جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے نام پر والٹ اکاؤنٹ کھولنے کیلئے فی بندہ 1000 روپے مانگ رہے ہیں۔
    یہ دھندا اس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ دیہات، قصبوں اور چھوٹے شہروں میں جعلی ریٹ لسٹیں جعلی دفتر، جعلی اہلکار، اور جعلی فارم تک گردش کرنے لگے ہیں۔

    یہ کالم اُن ہی غریبوں کی آواز ہے جو اپنے بچوں کے لیے سہارے تلاش کرتے ہیں، مگر ان کے نصیب میں سہارا نہیں، استحصال لکھ دیا گیا ہے۔یہ پروگرام غریب عوام کے لیے بنایا گیا تھا، ان خواتین کے لیے جن کے گھروں میں چولہا جلا رہتا ہے یا نہیں یہ حکومت کی طرف سے ایک مستحکم مدد ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جیسے ہی کسی پروگرام کا نام مشہور ہو جائے، ہمارا معاشرہ اسے ثواب کی جگہ کمائی سمجھ لیتا ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ جعل ساز گروہ، مقامی دکاندار، ایجنٹس اور نام نہاد “رجسٹریشن سنٹر” لوگو‌ں سے کہتے ہیں “بینظیر انکم سپورٹ والٹ کھل رہا ہے 1000 روپے فیس دو، فائدہ اٹھاؤ۔حالانکہ حقیقت میں آن لائن والٹ ہو، موبائل اکاؤنٹ ہو، یا ریگولر رجسٹریشناس کی بروکری، اس کی فیس، اس کی رشوت صفر روپے ہے۔مگر جب علم کم ہو، اور ضرورت زیادہ، تو مافیا کو پنپنے میں دیر نہیں لگتی۔

    غریب عوام: امید کے نام پر دھوکہ
    دیہات کی خواتین جنہوں نے کبھی موبائل استعمال تک صحیح سے نہیں کیا، وہ جب سنتی ہیں کہ ’’1000 روپے دو، نام اپڈیٹ ہو جائے گا‘‘… تو کسی نہ کسی طرح پیسے جوڑ کر دے دیتی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید اگلے ماہ 10-12 ہزار روپے ان کے ہاتھ لگ جائیں۔یعنی ایک طرف غربت، دوسری طرف اندیشہ کہ اگر 1000 روپے نہ دیے تو شاید حکومت کی امداد ملنا ہی بند نہ ہو جائے۔یہ خوف ہی مافیا کی اصل کمائی ہے۔

    جعلی رجسٹریشن سنٹر۔ ایک نیا کاروباری ماڈل
    کئی شہروں میں لوگوں نے کرسی، ٹیبل، ایک بینر اور چند موبائل فون لگا کر جعلی BISP مراکز بنا لیے ہیں۔
    یہ لوگ نہ صرف پیسے لیتے ہیں، بلکہ غریب عورتوں کا ڈیٹا بھی چوری کرتے ہیں، جس کا آگے جا کر غلط استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔شناختی معلومات کی چوری ایک بڑا جرم ہے، مگر یہاں اسے کاروبار بنا لیا گیا ہے۔
    حکومت نے کئی بار وضاحت کی کہ رجسٹریشن مفت ہے،کوئی والٹ اکاؤنٹ فیس کے بغیر بنتا ہے،BISP کا عملہ گھر گھر جا کر پیسہ نہیں لیتا،لیکن زمین پر کیا ہو رہا ہے؟کسی ضلع میں کوئی پکڑا نہیں جاتا، اور اگر پکڑا بھی جائے تو اگلے دن پھر یہی کاروبار شروع ہو جاتا ہے۔غریب کی جیب تو خالی ہوتی ہے،مگر حکومت کی عملداری بھی شاید خالی ہے۔

    معاشرہ کیوں خاموش؟
    ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری، اور پریشانی نے عوام کو اتنا مصروف کر رکھا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو ظلم سمجھتے ہی نہیں۔لوگ کہتے ہیں “چلو 1000 ہی تو ہیں، اگر نام لگ گیا تو کیا مسئلہ؟”یہ سوچ ہی مافیا کی طاقت ہے۔یہ عوامی سطح پر آگاہی کا وقت ہے، ورنہ یہ دھندا بڑھ کر ہر گھر تک پہنچ جائے گا۔ یاد رکھیں، بینظیر انکم سپورٹ کی رجسٹریشن مفت ہے۔کوئی فیس، کوئی چارج، کوئی ٹوکن کچھ نہیں۔ کوئی والٹ اکاؤنٹ، موبائل اکاؤنٹ، یا ATM سسٹم 1000 روپے نہیں لیتا۔ جعلی ایجنٹوں سے بچیں، صرف سرکاری مراکز پر جائیں۔ اپنا ڈیٹا کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

    شکایت کریں خاموشی جرم کو مضبوط کرتی ہے،اسٹیشنری دکانوں پر مافیا” کیوں پنپتا ہے؟اکثر دکاندار یہ سوچ کر یہ دھندا شروع کرتے ہیں کہ“ہم تو خدمت کر رہے ہیں، تھوڑے پیسے لے رہے ہیں تو کیا ہوا؟”مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ خدمت نہیں، استحصال کر رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح کے غیر ذمہ دار رویوں نے ہر شعبے میں بدنیتی کو جنم دیا ہے۔یہ سچ ہے کہ ایسے فراڈ صرف کمزور معاشروں میں پنپتے ہیں، جہاں قانون سست ہو،اداروں کی آنکھ پر پٹی بندھی ہو،میڈیا سنجیدہ مسائل چھوڑ کر سیاست کے پیچھے لگا رہے،پولیس کو رشوت زیادہ اور ذمہ داری کم دکھائی دے،اگر حکومت بروقت کارروائیاں کرے، تو ایک ہفتے میں یہ پورا دھندا ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن جب سب کی نظریں دوسری طرف ہوں، تو مافیا کو پھلنے پھولنے میں دیر نہیں لگتی۔

    یہ کالم صرف الفاظ نہیں ایک چیخ ہے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس معاشرے کو ایسی سمت میں جانے دیں گے جہاں غریب کی بے بسی ہی اس کا جرم بن جائے؟غریبوں کو امداد نہیں چاہیے،انہیں احترام چاہیے، عزت چاہیے اور ان کا حق لوٹنے والوں سے حفاظت چاہیے۔بینظیر انکم سپورٹ کے نام پر ہو رہا یہ لوٹ مار صرف ایک دھندا نہیں ایک بدنیتی کی علامت ہے۔اور جب تک ہم اجتماعی طور پر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے، یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔

  • قوم کے حقیقی خدمت گار ،تحریر:چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ

    قوم کے حقیقی خدمت گار ،تحریر:چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ

    پانچ دسمبر کو دنیا بھر میں عالمی والنٹئیزز ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد خدمت ِ خلق اور دوسروں کی مدد کرنے کی ترغیب دینا اور یہ باور کروانا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اعمال اور رضاکارانہ خدمات معاشرے میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں۔ یہ دن لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور باہم تعاون کرنے کی طرف بھی مائل کرتا ہے۔ یہ دن 1985ء میں اقوام متحدہ نے متعارف کروایا تھا۔ لیکن اگر ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے والنٹئیر ڈے کے مقاصد کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے دین نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا۔ رسول مقبول ﷺ کے سر پر اللہ نے جہاں نبوت کا تاج رکھا وہاں آپ ﷺ خدمت خلق کا اعلی ترین نمونہ بھی تھے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اس کا ”شعبہ خدمت ِ خلق“ بھی رسول مقبول ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے خدمت ِ خلق کو حرزجان بنائے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک عام کارکن سے لے کر اعلیٰ عہدیدار تک سب ہی والنٹئیرز ہیں۔یہ وہ جوان ہیں جن کے قدموں میں خاکِ وطن کی مہک ہے اور دلوں میں امتِ مسلمہ کا درد ہے۔یہ کہیں بوڑھوں کے کندھوں پر مدد کا ہاتھ رکھتے ہیں، کہیں بیواؤں کے آنگن میں کھانا ہے، کہیں یتیم کے سر پر سایہ ہے اور کہیں کسی بے بس کی فریاد کے جواب میں اٹھتی ہوئی اور دوڑتی قدموں کی چاپ ہے۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے والنٹیئرز کی سب سے بڑی خوبی یہ جہاں بھی جہاں جاتے ہیں وہاں امید کے دیئے روشن ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں اگر راشن کا بیگ ہوتا ہے تو ساتھ ہی دعاؤں کی خوشبو بھی ہوتی ہے۔ اگر یہ کسی علاقے میں میڈیکل کیمپ لگاتے ہیں تو دراصل وہ زخموں پر مرہم نہیں بلکہ دلوں پر اعتماد اور محبت کا مرہم رکھتے ہیں۔ ان کے قدموں میں تھکن تو ہوسکتی ہے مگر ارادوں میں پختگی ہے۔یہ طعنوں کی پروا نہیں کرتے، مخالفتوں سے نہیں گھبراتے کیونکہ ان کا محور رضائے الٰہی ہے۔

    ان کی خدمات کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ ان کی جدوجہد اور محنت سے سینکڑوں گھروں میں سکون، امید اور شکرگزاری کی روشنی پہنچتی ہے۔ ایک وقت آئے گا جب تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ اس ملک میں ایسے والنٹئیرزبھی تھے جو تقسیم اور تخریب کی سیاست نہیں، تعمیر کے سفر سے جڑے ہوئے تھے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے والنٹیئرز نے قوم کو یہ احساس دلایا ہے کہ خدمت محض ایک لفظ نہیں یہ ایک طرزِ فکر، ایک اخلاقی فرض اور ایک روحانی نظم ہے۔ یہ لوگ ملک کے لیے وہ کام کر رہے ہیں جو بڑے بڑے ادارے بھی نہیں کر پاتے۔ یہ نعروں کے بیوپاری نہیں، عمل کے شہسوار ہیں۔ ان کے کردار سے سادگی جھلکتی ہے، مگر ان کے اثرات میں عظمت کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔یہ والنٹیئرز اس قوم کے اصل رہنما ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس کوئی وزارت نہیں مگر ان کے ساتھ ہزاروں دلوں کی دعائیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی پروٹوکول نہیں مگر آسمان کے فرشتے ان کیلئے پر بچھاتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت ِ خلق کی خدمات کی بات کی جائے تو اس کیلئے ہزاروں صفحات بھی کم ہوں گے۔ اس کی خدمات اور کام کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہمارے ملک کو بدترین سیلاب کاسامنا کرنا پڑا۔گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ سے کئی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، پل ٹوٹ گئے اور راستے بند ہوگئے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جب بھارت نے پانی چھوڑا تو ہمارے تمام دریا بپھر گئے اس سے بھی درجنوں بستیوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ یہ تاریخ کا بدترین سیلاب تھا۔ یہی وہ لمحے تھے جب چشم فلک نے دیکھا کہ قوم کے حقیقی خدمت گار کون ہیں!۔مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے وہ کام کئے جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ ایک لاکھ 71ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ 138ریسکیو کشتیاں اور 16ہزار سے زائد رضاکار بحالی مہم کا حصہ بنے۔ 25ہزار سے زائد افراد کو ٹینٹ ویلج بستیوں میں پناہ دی گئی۔چالیس لاکھ سے زائد پکے پکائے کھانے کے پیکٹ تقسیم کئے گئے۔ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار سے زائد خشک راشن بیگز اور انیس لاکھ سے زائد پینے کے صاف پانی کی بوتلیں، متاثرین کو بستر، مچھر دانیاں اور ہزاروں افراد کو برتن سیٹ پہنچائے گئے۔ میڈیکل ریلیف کیلئے 1500سے زائد فیلڈ میڈیکل کیمپس سے سات لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی قائم کردہ کئی بستیوں میں نوزائیدہ بچوں نے جنم لیا۔ مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے 20مددگار سکول قائم کئے۔ بچوں کے چہروں پر خوشیاں واپس لانے کیلئے گفٹ پیک، کھلونے اور دودھ کے ڈبے تقسیم کئے گئے۔

    سیلاب تو ختم ہوگیا مگر سیلاب متاثرین کے مسائل ابھی ختم نہیں ہوئے۔ ریسکیو اور ریلیف ہنگامی کام تھا اصل کام سیلاب متاثرین کی بحالی ہے۔ اس مقصد کی خاطر مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق کے رضاکار گھروں کی تعمیر اور کسانوں کی معاونت کاکام شروع کرچکے ہیں۔ بحالی کا یہ کام دنوں اور ہفتوں کا نہیں بلکہ مہینوں پر مشتمل ہے جس کیلئے ہمارا شعبہ خدمت ِ خلق دن رات مصروف عمل ہے

    ہمارے ملک کو تقریباََ ہر سال ہی تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ بھی یہ بات ہمیں بار بار باور کرواچکا ہے۔ ان حالات میں مرکزی مسلم لیگ شکوہ ظلت شب کی بجائے اپنے حصے کا دیا جلانے پر یقین رکھتی ہے۔اقوام متحدہ کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے ہرسال ملک میں وسیع پیمانے پر شجر کاری کی جاتی ہے۔

    شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ قدرتی آفات، حالات اور سیلاب سے نمٹنے کیلئے کئی طرح کے اقدامات کر رہا ہے۔ ایک وہ جو ہنگامی اقدامات ہیں۔ دوسرے اقدامات وہ جو مستقل بنیادوں پر قائم ہوں گے۔ مثلاََ ملک بھر میں ضلعی سطح پر ریسکیو سنٹر بنائے جائیں گے، جن میں ہنگامی امداد، فائر اور واٹر ریسکیو سمیت میڈیکل کی تمام سہولیات میسر ہوں گی۔تمام ریسکیو سنٹرز پر ہفتے کے سات دن اور چوبیس گھنٹے تربیت یافتہ والنٹئیرز موجود ہوں گے۔ جدید اکیڈمیز بنائی جائیں گی جہاں ہزاروں نوجوانوں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے، مشکلات میں پھنسے لوگوں کی زندگیاں بچانے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ خواتین کو باعزت روزگار کی فراہمی کیلئے خواتین ووکیشنل سنٹرز، صاف پانی کی فراہمی، فوڈ پروگرام ”کھانا سب کیلئے“ کے تحت ملک بھر میں روزانہ پبلک مقامات اور ہسپتالوں کے باہر سینکڑوں دستر خوان سجائے اور بچھائے جاتے ہیں جہاں سے لاکھوں مزدور اور محنت کش مستفید ہوتے ہیں۔رمضان المبارک میں ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں دیہاتوں میں چلنے والا پروگرام سحری سب کیلئے اپنی مثال آپ ہے۔

    آج جبکہ دنیا والنٹئیرز ڈے منا رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ مشکلات کے اندھیروں میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق کے والنٹیئز امید کی پہلی کرن ہیں۔ ان میں سے ہر فرد عزم وہمت کی ایک مکمل داستان ہے۔ کوئی طالب علم ہے جو اپنے وقت کا کچھ حصہ خدمت کے نام کرتا ہے؛ کوئی ملازم ہے جو چھٹی کے دن غریبوں کے گھروں تک پہنچتا ہے؛ کوئی تاجر ہے جو رزق کی گردش میں دوسروں کے لیے آسانیاں تلاش کرتا ہے۔کوئی ڈاکٹر ہے جو اپنی پریکٹس اور آرام تج کرکے بیماروں کا علاج کرتا ہے۔ یہ سب اپنی خوشیاں اور آرام کو بالائے طاق رکھ کر دوسروں کیلئے آرام اور خوشی کا اہتمام کرتے ہیں۔
    میں آخر میں قوم کے نام یہ پیغام دنیا چاہوں گا
    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلاکے سرعام رکھ دیا ہے

  • نریندر مودی کی باریک وارداتیں،تحریر: علی ابن ِسلامت

    نریندر مودی کی باریک وارداتیں،تحریر: علی ابن ِسلامت

    نریندر مودی کی باریک وارداتیں جو وہ پاکستان کو کمزور کرنے اور نقشے سے مٹانے کیلئے کر رہا تھا وہ وارداتیں مودی کو ہی کھا گئیں، انڈیا میں جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے اور نریندر مودی وزیراعظم بنا تب سے انڈیا پاکستان تعلقات کشیدہ سے کشیدہ ہیں ۔کوئی شک نہیں کہ پہلی ٹرم میں مودی پاکستان کیلئے خطرناک جبکہ انڈیا کیلئے مضبوط لیڈر بن کر ابھراکیونکہ انڈیا کی سفارتی کوششوں سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں چلا گیا تھا، یہاں بہت سی سیاسی غلطیاں ایک شخص نے کیں جس کا نام عمران خان تھا ، عجلت میں عمران خان کی حکومت نے قانون پہ قانون پاس کروائے ۔ آخر کارسالوں کی جدوجہد کے بعد پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلا لیکن اس وقت تک مودی اور کئی معاملات پر باریک واردتیں ڈالنے کی تیاری کر چکا تھا ۔مثال کے طور پر جیسے ہی پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلا اس کے بعد مودی نے کشمیر میں اوڑی حملہ کروا کے پاکستان کے ساتھ بارڈر گرم کر دیا اور دونوں ملکوں کی فوجیں بارڈر پر پہنچ گئیں مودی نے اپنے شہریوں کو مروا کر ان کی لاشوں کو پاکستان کیخلاف استعمال کیا۔

    14 فروری 2019 کو پلوامہ حملے کا ڈرامہ رچایا گیا اور انڈیا نے فالس فلیگ آپریشن کرکے خود ہی اپنے تین درجن سے زائد فوجی مار دئیے۔ تب بھی الحمدللہ پاکستان حسب روایت عسکری سطح پر اپنا دفاع کرنے میں کامیاب ہوا، اور مودی کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا تھا ، لیکن پلوامہ ڈرامے کے بعد مودی نے کشمیر کے معاملے پر انتہائی باریک واردات ڈالی اور پاکستان کو دائیں دکھا کر بائیں ماری گئی۔پلوامہ کے بعد 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا۔جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی۔پلوامہ فالس فلیگ آپریشن کا پاکستان کو شدید نقصان پہنچا،کیونکہ ایک طرف پاکستان کو عالمی سطح پر الزامات کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری طرف کشمیر کے حوالے سے سفارتی سطح پر بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ ہو سکے، سفارتی سطح پر ہمیں ناکامی ایک نالائق حکومت کی وجہ سے ہوئی کیونکہ یہاں عمران حکومت کے چند سیاسی مفاد پرستوں کی کمزوریوں نے مودی کو سیاسی فائدے حاصل کروا دئیے تھے۔ مارچ2019 میں ابوظہبی میں ہونے والے او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں انڈیا کو پہلی بار "گیسٹ آف آنر” کے طور پر مدعو کیا گیا۔ اُس وقت کی انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا، یہ دعوت ایک ایسے وقت میں دی گئی تھی جب پلوامہ ڈرامے کے بعد پاک بھارت کشیدگی عروج پر تھی، او آئی سی میں انڈین وزیر خارجہ کا جانا اور خطاب کرنا اوپر سے پاکستان مخالف خطاب کرنا ، یہ بھی نریندر مودی کی باریک واردات تھی ۔

    پلوامہ ڈرامے کی پوری ڈویلپمنٹ کے بعد مودی نے پاکستان مخالف کاروائیوں کے نام پر ووٹ لئے اور پھر سے وہ انڈیا کا وزیر اعظم بن گیا اور نئی سازشیں رچنا شروع ہو گیا ، لیکن اندورونی معاملات کی خرابی باعث کوئی بڑا ایڈونچر نہ کر سکا۔لیکن اس دوران خطے میں بہت بڑی پیشرفت ہوئی اور افغانستان سے امریکی فوج نے انخلاء کا اعلان کر دیا جس کو پاکستان کی اہم کامیابی سمجھا گیا جس کو عمران خان نے ایک بار طالبان کے اقتدار کو سیلیبریٹ کیا اور ایک وقت کیلئے لگا کہ مودی کی اشرف غنی دور میں کی گئی ساری انویسٹمنٹ ڈوب گئی ہے لیکن یہاں بھی پاکستان سفارتی طور پر ناکام ہوا اور مودی کامیاب اور یہ سب عمرا ن خان کی وجہ سے ہوا ،کیونکہ طالبان انڈیا کے معاملے میں اشرف غنی کی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہیں اور اس وقت مودی کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں جو کہ مودی ایک واردات تھی ۔اب مودی کی تیسری ٹرم چل رہی ہے جس میں اس نے پلوامہ ٹو کیا یعنی پہلگام اٹیک۔۔ 22 اپریل کو کشمیر میں پہلگام کے مقام پر اپنے ہی لوگوں کیخلاف ایک اور فالس فلیگ آپریشن کرکے دو درجن سے زائد سیاح مار دئیے اور ایک بار پھر اس وقوعہ کا سارا الزام لگایا اور بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے پاکستان پر لگا حملہ کر دیا، پھر جو پاکستان نے انڈیا کا اور انڈین گجرات کے قصاب کا حال کیا وہ پوری دنیا نے دیکھا ہے ۔ سندھ طاس معاہدہ جس کیلئے مودی نے پورا ڈرامہ رچایا اور پہلگام کرکے جنگ کا سٹیج سجایا ، پھر دیکھا کہ کیسے پاکستان نے طلبل بجایا۔

    ابھی بھی مودی باریک وارداتیں ڈال کر انڈیا کو عارضی کامیابیاں دلوا رہا ہے لیکن مستقبل میں یہ کامیابیاں اس کی ناکامی میں بدلیں گی، اور اب بھی اگر مودی کی باریک وارداتوں کے نقصانات دیکھیں تو نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر اس کو شدید الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اور جو اس کی انتظامی اور سفارتی ناکامی کا منہ بولتا ہے ۔مودی کے آشیرباد سے منی پور میں نسلی فسادات ، انڈین آرمی کے ہاتھوں کشمیریوں کیساتھ ناگالینڈ میں نہتے شہریوں کا قتل ، دوسری جانب سیون سسٹرز اسٹیٹ میں آزادی کی تحریک، یہ سب مودی کی باریک وارداتوں کے نقصان ہیں کیونکہ سب کو دشمن بنا چکا ہے کوئی مودی کا دوست نہیں بچا۔ نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان، چائنا، کینیڈا، سری لنکا، چائنا، سب مودی کے ڈسے ہوئے ہیں، یہ ایک سانپ ہے جو اپنے ہی بچے کھا جاتا ہے، انڈیا میں رہنے والے سکھوں کو نہیں بخش رہا۔

    کسان تحریکیں ، گلوان وادی میں فوجی جھڑپیں،منی پور، ادھم پور، این آر سی کا تنازع ، اروناچل پردیش تنازع ، نیپال سرحدی تنازع، ان سب کا نقصان بھارت کو ہو رہا ہے ۔ یہ سب اس لیے کہ نریندر مودی کی ناکام چالاکیاں ، سازشیں ، باریک وارداتیں پوری دنیا میں عیاں ہو چکی ہیں، کینیڈا میں خالصتان رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ،کینیڈا بھارت سفارتی تناؤ، امریکہ کی بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر متعدد وارننگز بھارت کی تباہی کا سامان پیدا کرچکی ہیں۔سب سے بڑا کارنامہ بنگلہ دیش میں مودی کی پراکسی حسینہ واجد کا اقتدار تمام ہوا جو مودی کی بہت بڑی ناکامی تھا ، فرانس، جرمنی، اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے انسانی حقوق پر تشویش ، اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے پر عالمی دباؤ،اورعالمی میڈیا میں بھارت کا امیج "ہندو انتہا پسندی” بن کر ابھر رہا ہےجو صرف مودی نہیں بلکہ مودی کو ماننے والوں کی نسلوں کو کھا جائے گا۔آج نہ صرف امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پایا گیا ہے بلکہ عالمی میڈیا ، بلوم برگ ، بی بی سی، سی این این، الجزیرہ، سکائی نیوز، واشنگٹن پوسٹ مودی کی ناکام پالیسیوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں