Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مالیاتی تعلیم: خوشحال معاشرے کی بنیاد،تحریر:عمر افضل

    مالیاتی تعلیم: خوشحال معاشرے کی بنیاد،تحریر:عمر افضل

    "کیا واقعی اچھی ڈگری اور اچھی نوکری ہی کامیابی کی ضمانت ہیں؟”
    ہمارے معاشرے میں بچپن سے یہی سوچ ذہنوں میں بٹھا دی جاتی ہے کہ امتحان میں اچھے نمبر لاؤ، ڈگری حاصل کرو اور پھر ایک اچھی نوکری کے ذریعے "بڑے آدمی” بن جاؤ۔ لیکن حقیقت اس سوچ سے کہیں مختلف ہے۔ آج بہترین ڈگری رکھنے والے نوجوان بھی بے روزگاری کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور نوکری مل بھی جائے تو وہ مالی آزادی دینے سے قاصر ہے۔
    "معروف کتاب Rich Dad Poor Dad کے مصنف رابرٹ کیوساکی کے مطابق: ‘غریب اور متوسط طبقہ پیسے کے لیے کام کرتا ہے، جبکہ امیر طبقہ پیسے کو اپنے لیے کام پر لگاتا ہے’۔” یہی بنیادی فرق ہمارے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارا تعلیمی نظام، جو نوآبادیاتی دور کی باقیات میں سے ہے، طلبہ کو صرف ملازمت کا غلام بناتا ہے، مگر یہ نہیں سکھاتا کہ پیسے کو کس طرح اپنے لیے کام پر لگایا جائے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں رٹنے کا رجحان عام ہے، طلبہ کو صرف وہ معلومات یاد کرائی جاتی ہیں جن کی بدولت وہ امتحان میں کامیاب ہوسکیں، مگر عملی زندگی کے مسائل حل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ناکام رہتے ہیں۔ یونیورسٹیاں ڈگریاں تو بانٹ رہی ہیں، لیکن وہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند نوجوان پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔ اکنامک سروے 2024 کے مطابق، ملک کی 26 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کی عمر کے درمیان ہے، لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد کے پاس ایسے عملی ہنر موجود نہیں جو مارکیٹ کی ضرورت ہیں۔ اگر یہ نوجوان مالیاتی شعور اور ہنر سے لیس ہوں، تو ملکی معیشت کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

    اگر ہم عملی تربیت کی مثال دیکھنا چاہیں تو پشتون معاشرے کو دیکھ سکتے ہیں، جہاں بچے صرف اسکول نہیں جاتے بلکہ بچپن ہی سے اپنے والد کے ساتھ دکان یا کاروبار میں ہاتھ بٹاتے ہیں، اور یہی تربیت انہیں محنت کی عادت، مالی نظم و ضبط اور کاروباری ہنر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے خود بھی روزگار کماتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرزِ فکر کو ہم سنگاپور اور جرمنی جیسے ممالک کے تعلیمی ماڈلز میں بھی دیکھتے ہیں، جہاں نوجوانوں کو شروع ہی سے عملی ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ دنیا کی بڑی معیشتیں اسی سوچ کے تحت آگے بڑھی ہیں کہ نوجوان صرف نوکری کے خواہاں نہ ہوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی نوکریاں پیدا کرنے والے ہوں۔

    ہمارے تعلیمی اداروں کو نوکری کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے ذہن تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات اہم ہیں
    بچوں کو بچت، بجٹ سازی اور سرمایہ کاری کے بنیادی اصول سکھائے جائیں۔
    رٹے کے بجائے پروجیکٹ بیسڈ لرننگ متعارف کرائی جائے، مثلاً چھوٹے کاروباری منصوبے شروع کروائے جائیں۔
    اساتذہ کو مالیاتی اور کاروباری تعلیم سکھانے کی خصوصی تربیت دی جائے۔
    ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کو چاہیے کہ مالیاتی تعلیم کو پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے نصاب میں لازمی شامل کرے۔

    بحیثیت والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ بچوں کو صرف ڈگری کے پیچھے دوڑانے کے بجائے انہیں اعتماد، تخلیقی صلاحیت اور خطرہ مول لینے کا حوصلہ دینا ہوگا۔ نوکری ایک ذریعہ ہے، حتمی مقصد نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ممکن ہے جب نوجوان روزگار پیدا کرنے والے اور مالی طور پر آزاد ہوں۔
    یہی وہ راستہ ہے ،جو پورے معاشرے کو خوشحالی اور معاشی آزادی کی جانب لے جا سکتا ہے۔اگر آج ہم نے اپنی سوچ اور نصاب کو نہ بدلا، تو آنے والی نسلیں بھی اسی گرداب میں پھنستی جائیں گی۔

  • شہباز شریف کا دورہ قطر ایک جائزہ،تحریر:یوسف صدیقی

    شہباز شریف کا دورہ قطر ایک جائزہ،تحریر:یوسف صدیقی

    انڈیا کو بہت تکلیف ہو رہی ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں آگے بڑھ کر قیادت کیوں کر رہا ہے۔ انڈیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک نیو کلیئر طاقت ہے، جس کے پاس دنیا کی سب سے مضبوط بری، بحری اور فضائی قوت، یعنی پاک افواج، موجود ہے۔ پاکستان کی فوج ہر وقت تیار ہے اور کسی بھی خطرے کے خلاف پہرے پر ہے۔ یہ حقیقت نہ صرف پاکستان کی دفاعی طاقت بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ اور اعتماد کا لازمی حصہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مستحکم ملک کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

    اسی پس منظر میں وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ قطر دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ نہ صرف قطر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے تھا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے اصولی موقف اور عرب دنیا میں اس کے اثر و رسوخ کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر دوحہ کا دورہ کیا اور قطری قیادت کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کا یہ اقدام عالمی سطح پر پاکستان کے مؤثر کردار اور عرب دنیا میں اہم مقام کا عملی ثبوت ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی دور اندیش قیادت نے عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف قطر کے ساتھ تعلقات مستحکم کیے بلکہ خطے میں امن و استحکام اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصولوں پر مبنی رہی ہے، اور شہباز شریف کی قیادت میں یہ اصول اور بھی واضح انداز میں عالمی منظرنامے پر سامنے آئے ہیں۔

    پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت کی ہے اور عرب دنیا کے مسائل میں ثالثی اور قیادت کا کردار ادا کیا ہے۔ شہباز شریف کا قطر دورہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور فعال کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف عرب دنیا میں معتبر اور مؤثر حیثیت رکھتا ہے بلکہ ہر وقت امن، انصاف اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داری کو بخوبی سمجھتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی خارجہ پالیسی کی کامیابی بھی واضح طور پر نظر آئی ہے۔ عرب دنیا میں ان کا ذاتی قیادت کا مظاہرہ نہ صرف پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج بھی قائم کرتا ہے۔ ان کی دور اندیش قیادت نے پاکستان کو ایک فعال اور دلیرانہ کھلاڑی کے طور پر پیش کیا، جو خطے میں امن اور تعاون کے فروغ کے لیے مصمم ارادے والا ہے۔ شہباز شریف کی دوحہ میں دی گئی تقریر نے عالمی دنیا کو بالعموم اور انڈیا کو بالخصوص ہلا کر رکھ دیا، جبکہ اسرائیل میں بھی پاکستان کے حوالے سے ہلچل پیدا ہو گئی کہ پاکستان عرب ممالک کی سرپرستی اور رہنمائی کے لیے مشرق وسطیٰ میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کامیابی نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان نہ صرف نیو کلیئر اور دفاعی طاقت کے حوالے سے مضبوط ہے، بلکہ عالمی سیاسی و سفارتی میدان میں بھی ایک مؤثر اور قائدانہ حیثیت رکھتا ہے۔

    یہ دورہ اور پاکستان کا ردعمل عالمی سطح پر اس بات کا عملی مظاہرہ ہے کہ ہمارا ملک اصولوں پر مبنی خارجہ پالیسی کے ساتھ عرب دنیا میں اتحاد اور رہنمائی کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف دفاع اور نیو کلیئر طاقت کے حوالے سے مضبوط ہے بلکہ عالمی سیاسی، سفارتی اور اقتصادی میدان میں بھی ایک مؤثر اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

    مزید برآں، اس دورے نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی اور عالمی سیاست میں اس کی فعال شرکت کو نمایاں کیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان صرف علاقائی محاذ پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اصولی، مستحکم اور قابل اعتماد شریک ہے، جو امن، ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے مستقل کوشاں ہے۔

  • سعودی امداد پر پروپیگنڈا، حقیقت اور جواب،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی امداد پر پروپیگنڈا، حقیقت اور جواب،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں جب مفادات کی سیاست اپنے عروج پر ہے، ایسے وقت میں کچھ رشتے خالص جذبوں اور بے لوث قربانیوں کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ انہی پاکیزہ رشتوں میں پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کا تعلق سب سے نمایاں ہے۔ یہ تعلق محض دو ریاستوں کا نہیں بلکہ دو دلوں کا ہے جو ایمان، اخوت، قربانی اور بھائی چارے کے رشتے سے جُڑے ہوئے ہیں۔تاہم افسوس کا مقام ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ شرپسند عناصر نے سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی امداد پر جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا آغاز کیا ہے تاکہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ یہ محض ایک جھوٹی مہم نہیں بلکہ ایک عالمی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلم دنیا کو باہمی اتحاد اور اعتماد سے محروم کرنا ہے۔
    اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی حمایت کی بلکہ مالی اور سفارتی سطح پر بھی بے مثال تعاون فراہم کیا۔ 2005ء کے قیامت خیز زلزلے میں سعودی عرب نے سب سے پہلے ریلیف طیارے پاکستان بھیجے۔ لاکھوں خیمے، ٹنوں ادویات، خوراک اور اربوں روپے کی مالی امداد سعودی عرب کی طرف سے فوری طور پر پہنچائی گئی۔اسی طرح 2010ء کے سیلاب میں جب پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا، سعودی عرب نے کھلے دل کے ساتھ امداد فراہم کی۔ سعودی عوام نے اپنے بھائیوں کے لیے زیورات تک عطیہ کیے۔ یہ وہ اخوت ہے جسے کوئی منصف مزاج شخص جھٹلا نہیں سکتا۔

    پاکستان کی معیشت کئی بار شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔ ایسے مواقع پر سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کو سہارا دیا۔ کبھی اربوں ڈالر کے قرضے دیے گئے، کبھی تیل مؤخر ادائیگی پر فراہم کیا گیا، اور کبھی سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گئے۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار کے ذریعے اپنے گھروں اور ملکی معیشت کا سہارا ہیں۔یہ تعلق محض سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ روحانی بنیادوں پر قائم ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے پاکستانی عوام کا والہانہ تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حج و عمرہ کے دوران سعودی حکومت کی جانب سے مہمانوں کو جو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں وہ لائقِ تحسین ہیں۔ یہ وہ تعلق ہے جسے کوئی سازش یا پروپیگنڈا کمزور نہیں کر سکتا۔ تاہم اس کے باوجود بدقسمتی سے بعض عناصر سعودی عرب کی نیک نیتی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ گروہ ہیں جو دراصل بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ کبھی فلسطین کے مسئلے پر اختلافات کو ہوا دی جاتی ہے، کبھی ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اب پاکستان و سعودی عرب کے رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کے عالمی منصوبے کا حصہ ہے۔

    پاکستانی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ سعودی عرب ان کا مخلص بھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر سعودی عرب کے لیے محبت اور عقیدت ہمیشہ قائم رہی ہے۔ یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستانی میڈیا، اہلِ قلم اور دانشور آگے بڑھیں اور اس جھوٹے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیں۔ سعودی عرب کی خدمات اور قربانیوں کو فراموش کرنا محسن کُشی کے مترادف ہے اور یہ رویہ دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔
    آج امتِ مسلمہ فلسطین، کشمیر، افغانستان، عراق اور شام جیسے مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کا اتحاد پوری امت کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگر یہ رشتہ مضبوط رہا تو دشمن کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

    آئیے ہم سب اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ دلوں کی دھڑکنوں سے جڑا ہے۔ جب پاکستان مصیبت میں گھرتا ہے تو سعودی عرب کا ہاتھ ہمیشہ بڑھتا ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں گے اور اپنے محسن کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔اے اللہ! پاکستان اور سعودی عرب کے تعلق کو ترقی اور استحکام عطا فرما۔ دونوں ممالک کو ہر سازش اور ہر فتنے سے محفوظ رکھ۔ امتِ مسلمہ کو اتحاد کی لڑی میں پرو دے تاکہ تیرے دین کا پرچم بلند ہو۔ آمین ثم آمین ۔

  • سیلاب اور مرکزی مسلم لیگ کاریسکیو و ریلیف آپریشن

    سیلاب اور مرکزی مسلم لیگ کاریسکیو و ریلیف آپریشن

    قدرتی آفات انسان کے لیے نہ صرف آزمائش ہوتی ہیں بلکہ اس کے صبر، حوصلے اور قربانی کے جذبے کی کسوٹی بھی، جب بادل پھٹتے ہیں، ندی نالے دریا بن جاتے ہیں، پہاڑوں سے گرتا پانی بستیاں بہا لے جاتا ہے، تو زمین پر انسان کی فانی حیثیت کا منظرنامہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی عالم رواں برس خیبر پختونخوا کےعلاقوں باجوڑ، بونیر، سوات، مینگورہ، گلگت اور سکردو میں دیکھنے کو ملا، جہاں شدید سیلاب نے قیامت صغریٰ برپا کر دی،یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسانیت، بھائی چارے، اور خدمت خلق کے جذبے کی حقیقی روح سامنے آتی ہے ،پاکستان مرکزی مسلم لیگ اپنے منشور خدمت کی سیاست کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 15 اگست سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے.خدمتِ خلق مرکزی مسلم لیگ کے چیئرمین، شفیق الرحمان وڑائچ، بونیر میں آنے والے ہولناک سیلاب کی اطلاع ملتے ہی مرکزی مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صدر عارف اللہ خٹک کے ہمراہ فوری متاثرہ علاقے پہنچےاورحالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اورمرکزی قیادت کو نقصانات پر بریفنگ دی۔مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو ، سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،نائب صدر حافظ طلحہ سعید،سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ اور پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری کی ہدایت پر لاہور ،اسلام آباد،فیصل آباد،راولپنڈی، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور پنجاب کے دیگر اضلاع جبکہ فیصل ندیم کی ہدایت پر کراچی ،حیدرآباد اور دیگر شہروں سے مرکزی مسلم لیگ کے رہنما اور رضاکار انصارکا کردار نبھاتے ہوئے، سیلاب سے متاثرہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں پہنچے۔ جہاں انہوں نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا،گھروں کی صفائی کی، کیچڑ نکالا،متاثرین کے گھروں تک کھانا پہنچایا، مرکزی مسلم لیگ کی مرکزی، صوبائی قیادت محمد سرور چوہدری، حمید الحسن، انجینئر حارث ڈار، حافظ یاور آفتاب،عمران لیاقت بھٹی،عبدالغفار منصور،شیخ فیاض احمد،احسان اللہ منصور،فیصل ندیم،انس محصی،عبدالغفار،انس و دیگر بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لیے پہنچے،مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی،فیصل آباد کے سیکرٹری جنرل احسن تارڑ،راولپنڈی کے انجینئر مبین صدیقی، گوجرانوالہ کے محمد راشد سندھو،کراچی سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان،حیدر آبار سے عقیل لغاری و دیگر مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے ہمراہ ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف رہے.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سےخیبر پختونخوا ،گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں باجوڑ، بونیر، مینگورہ، سوات، اورگلگت،سکردو میں مجموعی طور پر 25 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے، مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے 7 لاکھ سے زائد افراد میں پکا پکایاکھانا تقسیم کیاگیا ہے ،مرکزی مسلم لیگ کی 32میڈیکل ٹیمیں،250ڈاکٹر، پیرا میڈیکل سٹاف خدمت میں مصروف ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے 450 میڈیکل کیمپوں میں6 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے،سیلاب متاثرین میں 30 ہزار سے زائد بستر،چار ہزار مچھر دانیاں، آٹھ ہزار گھروں میں برتن تقسیم کئے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے 2000 سے زائد گھروں کا ملبہ صاف کر دیا گیا،مرکزی مسلم لیگ نے گھروں کی صفائی کیلیے مرکزی مسلم لیگ نے 6000 بیلچے،4000 ہاتھ ٹرالی تقسیم کر دی،گلگت بلتستان کے دوردراز علاقوں میں سیلاب سے تباہی ہوئی، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم گلگت پہنچے، مرکزی مسلم لیگ گلگت کے رہنما مقصود حسین سندھو، عبدالرشید ترابی بھی متاثرہ علاقوں میں خدمت انسانیت میں مصروف رہے، خشک راشن ،خوراک کی تقسیم کے علاوہ گلگت میں ایک لاکھ فٹ پانی کا پائپ منگوا کر دے دیا،غذر میں مصنوعی جھیل بننے سے راستوں کی بندش ہوئی تو فری بوٹ سروس بھی شروع کی گئی،مرکزی مسلم لیگ کراچی کی جانب سے گلگت کے متاثرین کے لئے امداد کی خصوصی کھیپ پہنچائی گئی،

    بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں پنجاب کے 25 اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لئے پنجاب بھر میں متحرک ہیں، پنجاب میں سیلاب آیا تو خیبر پختونخوا کے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار پیچھے نہ رہے، پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں 86 ہزار سے زائد شہریوں کو کشتی سروس کے ذریعے ریسکیو کیا گیا،25 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا چکی ہے، میڈیکل کیمپوں میں19 لاکھ 40ہزار سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے،46 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے،سیلاب متاثرہ تمام اضلاع میں کشتی سروس جاری ہے .بہاولپور،اوکاڑہ، مظفر گڑھ، جلال پور پیر والا،ملتان میں بھی خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،چیئرمین خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ شفیق الرحمان وڑائچ امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں،لاہور،قصور،سیالکوٹ، ننکانہ، چنیوٹ، شیخوپورہ، سرگودھا، پنڈی بھٹیاں، وزیرآباد، نارووال،جہلم،اوکاڑہ،بہاولپور، بہاولنگر، حافظ آباد،منڈی بہاؤالدین، گجرات، ساہیوال، ملتان،جھنگ،مظفر گڑھ،بوریوالہ،پاکپتن،گوجرانوالہ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرکزی مسلم لیگ کے 10 ہزار سے زائد ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہیں، سیلاب متاثرین ،انکے سامان، جانوروں کو کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کیا جا رہا ہے جبکہ متاثرین میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے

    مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ اضلاع میں 14 خیمہ بستیاں قائم ہیں،مرکز ی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں24 ہزار سے زائد افراد مقیم ہیں، خیمہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ بھی قائم ، مریضوں کا مفت علاج معالجہ کیا جا رہا ہے،جلال پور پیروالا میں خیمہ بستی سیلابی پانی کی زد میں آ گئی، لاہور،قصور،بہاولپور،مظفر گڑھ،ملتان، لودھراں، جلال پور پیروالا سمیت 14 خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں خواتین ،بچے بھی مقیم،تین وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے،لاہور کی خیم بستی میں بچوں کے لئے سکول بھی قائم،خواتین کے لئے الگ واش رومز بناے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں نماز کی ادائیگی کے لئے مساجدبھی قائم کی گئی ہیں، خیمہ بستیوں‌میں مقیم بچوں میں مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے گفٹ بھی تقسیم کئے گئے ہیں،موہلنوال کی خیمہ بستی میں 5 بچوں کی پیدائش ،مٹھائی تقسیم کی گئی،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے خیمہ بستی میں خواتین میں کپڑے و دیگر اشیا بھی تقسیم کی گئیں،جلال پور پیر والا ،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ سٹی کوسیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،سینکڑوں خیموں پر مشتمل خیمہ بستی مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی۔مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نےمتاثرہ خاندانوں کو بروقت محفوظ‌مقام پر منتقل کر دیا،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے لئے دو کشتیاں خدمت خلق کے حوالے کر دیں،مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن نے بھی کشتیاں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے حوالے کیں.

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث مرکزی مسلم لیگ نے ریسکیو آپریشن مزید تیز کردیا ہے۔ متعدد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔مرکزی مسلم لیگ سندھ کے رضاکاروں نے گھوٹکی کے علاقے امیر بخش چاچڑ گوٹھ، لوپ بند اور کچے کے مختلف دیہات سے ہندو کمیونٹی سمیت درجنوں خاندانوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات تک پہنچایا۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اس وقت گڈو، کشمور، گھوٹکی، منڈو دیرو، روہڑی اور دریائے سندھ کے دیگر متاثرہ مقامات پر ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ کچے کے علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کرکے متاثرین کو علاج معالجے اور ادویات کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کا کہنا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں کسی بھی خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ریلیف آپریشن بھرپور انداز میں جاری رکھا جائے گا

    مسلم اسٹوڈنٹس لیگ بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں متحرک ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں لاہور، باجوڑ،بہاولپور میں مددگار اسکول قائم کر دیئے ہیں،سیلا ب متاثرہ بچوں‌کو سکولوں میں تعلیم دی جا رہی ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو سکول بیگ، کتابیں، کاپیاں تحفتا دی گئی ہیں، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی مددگار ٹیم نے لاہور،موہلنوال میں خیمہ بستی میں سکول کے بعد باجوڑ خیبر پختونخواہ میں مددگار سکول قائم کیا جس کی افتتاحی تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر خار باجوڑ کلیم جان، صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی، جنرل سیکرٹری ایم ایس ایل عمر عباس، صدر مددگار ٹیم حماد عبدالرزاق، کو آڈینیٹر ایم ایس ایل کے پی کے معاویہ اعجاز اور دیگر معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر متاثرہ بچوں میں قرآن مجید کے ساتھ ساتھ ایجوکیشنل گفٹس بھی تقسیم کیے گئے۔بہاولپور میں خیمہ بستی میں مددگار اسکول کے افتتاح کے موقع پر صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی اور علاقائی معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر انس محصی کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لئے مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے نوجوان بھی متحرک ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیلاب متاثرین کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقت ضائع نہ ہو اسی لئے خیمہ بستیوں میں ہی سکول بنائے گئے ہیں ،مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے دیگر خیمہ بستیوں میں بھی مددگار سکول بنائے جائیں گے.

    قدرتی آفات کے اس المناک موسم میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی بے لوث خدمت کی سرگرمیاں ایک دیگر سیاسی جماعتوں کے لئے ایک روشن مثال ہیں جو ووٹ لے کر عوام کو بھول جاتی ہیں،خیبر پختونخوا سے گلگت اور پھر پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کی شب و روز جدوجہد، متاثرین کی مدد ٹوٹے دلوں کا سہارا بنی، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اس کارِ خیر کا حصہ بنیں، اور متاثرین کے دکھ بانٹیں، آئیے، قدم سے قدم ملا کر ہم بھی مرکزی مسلم لیگ کے خدمت کے اس قافلے کا حصہ بنیں۔
    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

  • اپووا کا نعتیہ مشاعرہ،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کا نعتیہ مشاعرہ،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام، حضور اقدس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے 1500 ویں سالانہ جشنِ ولادت کے بابرکت سلسلے میں، ہوٹل پاک ہیری ٹیج میں ایک پرنور محفل کا انعقاد ہوا، جہاں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو ہر سو بکھر رہی تھی۔ یہ محفل محض ایک تقریب نہیں تھی بلکہ ایمان کو تازہ کرنے والی ایک روحانی نشست تھی۔ اس پورے پروگرام کی نظامت کے فرائض جنرل سیکرٹری اپووامدیحہ کنول نے اس خوبصورتی سے انجام دیے کہ سامعین کی توجہ شروع سے آخر تک قائم رہی۔ اس بابرکت محفل کی نگرانی ایم ایم علی کر رہے تھے جبکہ اس کی سرپرستی کا اعزاز ملک یعقوب اعوان کے حصے میں آیا۔​اس نعتیہ مشاعرے کے صدارت، نہایت محترم اور سینئر شاعر ناصر بشیر نےکی ، جن کی موجودگی نے اس محفل کو مزید وقار بخشا۔

    سب سے پہلے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت سفیان علی فاروقی نے حاصل کی اور اپنی پرسوزآواز کی بدولت پورے ہال میں ایک روحانیت کی فضا قائم کر دی۔ ان کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کے لیے خنیس الرحمان اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے اور اپنے دلنشیں انداز میں نعت سنا کر حاضرین کے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ کی تپش سے گرمایا۔​اس کے بعد، ملک بھر سے آئے ہوئے شعرائے کرام کی ایک کہکشاں نے نبی اکرم ﷺ کی شان میں اپنے جذبوں کا اظہار کیا۔ ہر شاعر نے عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب کر اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد و تحسین وصول کی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر نعت کے ساتھ اس پرنور محفل میں انوار کی بارش ہو رہی ہو۔ کلام پیش کرنے کے بعد، کچھ مہمانانِ گرامی نے اس بابرکت محفل سے خطاب کیا اور نعتیہ شاعری کی اہمیت پر ایسی روشنی ڈالی کہ ایمان مزید تازہ ہو گیا۔​اس روح پرور تقریب سے پہلے، تمام مہمانانِ گرامی کے لیے اپووا کے سنیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب کی طرف سے پُرتکلف لاہوری ناشتے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مشاعرے کےآخر میں، صدرِ محفل ناصر بشیر نے اپنا کلام پیش کیا جسے تمام حاضرین نے بہت سراہا، اور یوں ان کی سرپرستی میں یہ بہترین تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ یہ مشاعرہ نہ صرف ایک ادبی محفل تھی بلکہ عشقِ رسول ﷺ کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ثابت ہوا۔

    مشاعرے میں حمزہ ارشد،چوہدری غلام غوث،حاجی عبدلطیف ،عافیہ بزمی،سائرہ حمید تشنہ،معروف شاعرہ ثوبیہ خان نیازی،معروف شاعرہ رقیہ غزل،معروف شاعرہ عروج درانی اور سنیئر شاعر مشتاق قمر نے اپنا اپنا نعتیہ کلام سنانے کی سعادت حاصل کی۔

    نعتیہ مشاعرے کے بعد دوسرے سیشن آغاز ہوا جس سے معروف دانشور و ادبی شخصیت ریاض احمد احسان،استاد ،تربیت کار اور معروف لکھاری اشفاق احمد خان ،ڈی ایس پی شہزادی گلفام،اور اپووا کے سنیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے خطاب کیا اورنبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر روشنی ڈالی تقریب کے اختتام پر اپووا قصور کے کو آرڈنیٹر اور معروف صحافی طارق نوید کی طرف سے تمام شرکاء میں قصور کی مشہور سوغات قصوری اندرسے تقسیم کئے گئے۔دیگر شرکاء میں محمد اسلم سیال،ایمن سعید ،لاریب اقرء،غلام زادہ نعمان صابری،عبدلصمد مظفر،محمد بلال، معروف صحافی مہر اشتیاق احمد، معروف کالم نگار فیصل رمضان اعوان ،محمد ہشام ہاشمی،صائمہ محمد علی ، سنئیر صحافی غلام زہرہ،نمرہ امین،خولہ رضویہ سمیت کثیر تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔

  • فوجی قربانیوں کا جواب، دہشت گردوں کا خاتمہ قریب ،تحریر:یوسف صدیقی

    فوجی قربانیوں کا جواب، دہشت گردوں کا خاتمہ قریب ،تحریر:یوسف صدیقی

    وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں کا دورہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں جنوبی وزیرستان میں شہید ہونے والے 12 بہادر جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور زخمیوں کی عیادت شامل تھی، یہ پاکستان کی قربانیوں اور افواج کے عزم کی ایک ناقابلِ فراموش علامت ہے، اور یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کے دشمن چاہے داخلی ہوں یا خارجی، ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں، اور قوم کے بہادر جوانوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ فورسز کے آپریشنز میں بھارتی پراکسیز کے 35 دہشت گرد ہلاک اور 12 بہادر جوان شہید ہوئے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام، افواج اور ریاست متحد ہو کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر بلا شبہ اور بلا ابہام واضح کیا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی یا نرم رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، افغان حکومت کو صاف اور سخت پیغام دیا گیا کہ یا تو پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں یا خارجی دہشت گردوں اور بھارتی پراکسیز کو پناہ دینے کا خطرناک کھیل فوراً بند کریں، کیونکہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے میں کسی بھی طرح کے سیاسی کھیل، گمراہ کن بیانیے یا نرم گوشے کو برداشت نہیں کرتی، اور ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر افواج کے جوان اس ایک موقف پر متحد ہیں۔

    پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کے استعمال پر آئی ایس پی آر نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور انٹیلی جنس رپورٹس سے تصدیق ہوئی ہے کہ افغان شہری بھی پاکستان مخالف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، جبکہ فتنہ الخوارج کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے، جو پاکستان میں خون کی ہولی کھیلنے اور دہشت پھیلانے کے لیے افغان سرزمین کا بدترین استعمال کر رہا ہے، اور یہ ایک ناقابلِ برداشت حقیقت ہے کہ بھارت نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے بلکہ ان کے کام کو سہولت بھی فراہم کر رہا ہے۔ آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ افغان عبوری حکومت اپنی زمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے، اور علاقے میں موجود ہر بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔

    یہ ایک تلخ اور ناقابلِ برداشت حقیقت ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ دہشت گردوں اور خوارج کے خونریز ماضی کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں "بھٹکے ہوئے بھائی” کہہ کر پیش کیا، حالانکہ یہ وہی خونریز عناصر ہیں جنہوں نے ہزاروں معصوم پاکستانیوں کا خون بہایا، ملک کو خوف، دہشت اور بدامنی میں دھکیل دیا اور عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا، اور ان کے نرم رویے اور سیاسی جواز کی وجہ سے خوارج اور بھارتی پراکسیز نے طاقت پکڑی، جس کا خمیازہ آج بھی پاکستانی عوام بھگت رہی ہے، اور یہ وقت ہے کہ ان تمام سازشی عناصر کے خلاف فیصلہ کن اور کڑوی کارروائی کی جائے، تاکہ کوئی بھی یہ غلط فہمی نہ رکھ سکے کہ پاکستان میں دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کو کوئی رعایت حاصل ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں، پاکستانی عوام، ریاست اور افواج متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہیں، اور یہ واضح پیغام ہر دشمن کے لیے ہے کہ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والوں، داخلی خوارج یا خارجی پراکسیز، چاہے وہ افغان سرزمین سے کارروائی کریں یا بھارتی سرپرستی میں ہوں، ان کے لیے کوئی معافی نہیں، ان کا مکمل خاتمہ ہو گا اور ملک کو ہر قسم کی بدامنی سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا، کیونکہ یہ وقت صرف بیان بازی، ڈھونگ یا سیاسی کھیل کا نہیں بلکہ عمل، قربانی، اور دشمنوں کے خلاف بلا تفریق فیصلہ کن کارروائی کا ہے، اور افواج پاکستان کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

  • امن و انصاف کے معمار اور عوام کے محسن:کامران خان

    امن و انصاف کے معمار اور عوام کے محسن:کامران خان

    امن و انصاف کے معمار اور عوام کے محسن:کامران خان
    تحریر: حسنین رضا

    کامران خان پاکستان کے ایک سینئر پولیس افسر ہیں جو اس وقت ساؤتھ پنجاب پولیس میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (IGP) کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل لاجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹ اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے عہدوں پر فائز رہے، جہاں انہوں نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے چیف ایڈمن آفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ نہ صرف ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار افسر ہیں بلکہ ایماندار، نیک سیرت اور خوبصورت شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ ان کی شرافت، وقار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے عوام اور پولیس فورس دونوں میں ان پر اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔

    بطور ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب، کامران خان نے عوام دوست پولیسنگ کا تصور متعارف کرایا، جس سے شہریوں کو پولیس تک رسائی آسان ہوئی اور ادارے پر اعتماد بحال ہوا۔ انہوں نے پولیس شہداء کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے، ویلفیئر فنڈز اور سہولیات فراہم کیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پولیس فورس کو ایک خاندان سمجھتے ہیں۔ ان کی اولین ترجیح جنوبی پنجاب کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، انصاف کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔

    کامران خان نے پولیس کو جدید اسلحہ، بکتر بند گاڑیاں اور اضافی نفری فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ چیک پوسٹس اور پولیس لائنز کی تعمیر و مضبوطی پر بھی توجہ دی۔ جھنگی چیک پوسٹ اور ملتان پولیس لائنز میں ان کے اقدامات عوامی تحفظ کی ضمانت ہیں۔ وہ منشیات فروشوں، اشتہاری مجرمان اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں، جس کے لیے اجلاسوں اور عملی حکمت عملی کے ذریعے پولیس فورس کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے۔

    ان کی قیادت میں ضلعی افسران اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملا ہے۔ ان کا نرم گفتار اور بردبار رویہ انہیں ایک منفرد اور دلکش رہنما بناتا ہے۔ کامران خان کو صدرِ پاکستان پولیس میڈل (PPM)، اقوام متحدہ امن میڈل (UNPM) اور برٹش چیوننگ اسکالرشپ سمیت کئی اعزازات ملے ہیں۔ وہ امریکی انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (IVLP) ایوارڈ یافتہ بھی ہیں اور تمغۂ شجاعت کے لیے نامزد ہوئے ہیں۔

    پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اور بلوچستان میں خدمات کے دوران انہوں نے مشکل حالات میں بہترین فیصلے کرنے کی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ کامران خان کی تقرری جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے ایک خوش آئند فیصلہ ہے۔ ان کی قیادت میں امن و امان کی بہتری، پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہونے اور شہداء کے خاندانوں کے لیے سہولیات کے فروغ کی توقع ہے۔

  • سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    رات کے سناٹے میں اچانک شور اٹھا۔ پانی کی بے قابو لہروں نے گلیوں اور گھروں کو روند ڈالا۔ سانس لینے کا موقع تک نہ ملا؛ لمحوں میں بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ وہ منظر ایسا تھا جیسے قیامت اتر آئی ہو۔ مائیں اپنے بچوں کو چادر میں لپیٹ کر بھاگ رہی تھیں، مگر پانی کے تیز بہاؤ نے ان کے قدم اکھاڑ دیے۔ بوڑھے کسان اپنی زندگی کی کمائی بچانے کی کوشش کرتے رہے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے کھیت، فصلیں اور مویشی سب سیلاب میں بہہ گئے۔

    علی پور کی گلیاں، جو کل تک زندگی سے بھری تھیں، آج پانی، کیچڑ اور موت کے سناٹے میں ڈوبی ہیں۔ وہ کھیت جہاں فصلیں لہلہاتی تھیں، وہاں اب کھڑا پانی پڑا ہے اور کسان اپنی محنت آنکھوں کے سامنے ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔ جانور، جو کبھی روزگار کا سہارا تھے، کھیتوں میں ڈوب گئے۔ لوگ جانیں بچانے کے لیے دوڑے، لیکن نہ راستہ بچا اور نہ ہی کشتی دستیاب تھی۔ جو کشتیاں ملیں بھی تو وہ کشتی مافیا کے ہاتھ میں تھیں جنہوں نے کرایہ کئی گنا بڑھا دیا تھا۔ غریبوں کی جان بھی یوں نیلام ہو گئی۔ کتنی مائیں اپنے بچوں کو بازوؤں میں اٹھائے مدد کے لیے چیختی رہیں، مگر کشتی والوں نے سننے تک گوارا نہ کیا۔

    جلال پور پیر والا میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ جب دریا کی لہر بے قابو ہوئی تو لوگ چھتوں پر چڑھ گئے۔ گھروں کے دروازے، کھڑکیاں اور دیواریں پانی نے نوچ لیں۔ بازاروں میں مایوسی کے سوا کچھ نہ رہا۔ وہ گھر جو برسوں کی محنت سے بنے تھے، لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ بچے چیختے رہے، عورتیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی رہیں اور بزرگ زمین پر بیٹھ کر آنکھوں سے آنسو بہاتے رہے۔

    یہ سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ایک سخت حقیقت بھی ہے۔ یہ چیخ کر بتا رہا ہے کہ لاہور کے ایوانوں سے جنوبی پنجاب کے دکھ سمجھے نہیں جا سکتے۔ فیصلے وہاں بیٹھے لوگ کرتے ہیں، جنہیں نہ یہاں کے دریاؤں کا شور سنائی دیتا ہے اور نہ ہی یہاں کے جنازوں کی سسکیاں۔ ہر بار یہی ہوا: پانی آیا، سب کچھ بہا لے گیا، اور پھر سب کچھ بھلا دیا گیا۔ مگر اس بار درد اور تلخ ہے—کیا جنوبی پنجاب کے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے؟

    لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ خیموں میں بچے بھوک سے بلکتے ہیں، عورتیں خالی برتن لیے کھڑی ہیں، اور مرد لاچارگی میں اپنی ہی زمین کو کوس رہے ہیں۔ پانی اتر بھی جائے گا مگر یہ زخم نسلوں تک رہیں گے۔ ہر بچہ جو آج خالی پیٹ سو رہا ہے، کل بڑا ہو کر پوچھے گا کہ ہمارے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہوا؟

    اب وقت صرف تعزیت کا نہیں بلکہ فیصلے کا ہے۔ جنوبی پنجاب کو اس کا حق دیا جانا چاہیے۔ ایک نیا صوبہ بنایا جائے تاکہ فیصلے وہ لوگ کریں جو اس مٹی کے باسی ہیں، جو ان دریاؤں کے کنارے رہتے ہیں، جو ہر سیلاب میں اپنے پیاروں کو دفناتے ہیں۔ یہ الگ صوبہ سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔

    سوال یہی ہے: کتنی اور لاشیں، کتنے اور جنازے، کتنے اور گھر ڈوبیں گے، تب جا کر کوئی مانے گا کہ جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے؟۔۔

  • بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں وقتا فوقتا ریاستی سلامتی کے اداروں اور تنصیبات پر حملے ہوتے رہے ہیں اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بعض کالعدم تنظیمیں اور عسکریت پسند گروہ ریاستی اداروں کو ٹارگٹ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی نظریاتی یا ریاستی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ حملے زیادہ تر ایسے گروہوں کی طرف سے ہوتے ہیں جو پاکستان کے آئینی اور ریاستی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور خطے میں اس کے کردار کی وجہ سے بعض بیرونی قوتیں جس میں بھارت بھی شامل ہے ایسی سرگرمیوں کو ہوا دیتی ہیں تا کے ملک میں عدم استحکام رہے۔ افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کی صورتحال بھی اس میں اثر انداز ہوتی ہے۔ معاشی بحران سیاسی عدم استحکام اور گورننس کے مسائل بھی شدت پسندی کو تقویت دیتے ہیں۔ جب ریاست کے اندرونی مسائل بڑھتے ہیں تو دہشت گرد گروہوں کو اپنے نیٹ ورک پھیلانے کے لیے ماحول سازگار مل جاتا ہے۔ آج کے دور میں دشمن صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتا بلکہ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا مہم اور اداروں پر حملے کروا کے ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ریاستی ادارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ اگر عوام کے ذہن میں ان اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے تو پورے نظام پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔

    حال ہی میں ریاستی فورسز نے افغان سرحد کے نزدیک چند خفیہ ٹھکانوں پر کاروائیاں کیں خصوصا باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور دیگر اضلاع میں شدت پسند ہلاک ہوئے ہمارے فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال بلوچستان میں دیکھی جا رہی ہے۔ جعفر ایکسپریس واقعہ بھی ہوا جہاں شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بھی بنایا اور شہید بھی کیا۔ فوجی اور سلامتی اداروں کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کہ وہ ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر یہاں سرحدی قربت، پہاڑی جغرافیہ، افغان طالبان کی حمایت اور مقامی نیٹ ورکس کی موجودگی سہولت دیتی ہے۔ بلوچستان علیحدگی پسند گروہ مکران، پنجگور، کیچ، اور کوئٹہ کے اطراف میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ سرحد پر حملے صرف افغانستان سے داخل ہو کر خودکش بم دھماکے، چوکیاں، قافلے، بکتر بند گاڑیاں ٹارگیٹڈ حملے کرتے ہیں۔ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا وار، عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے سرحدی کنٹرول کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی بیس، انٹیلیجنس مانیٹر کا بہتر استعمال کرنا ہوگا۔ فوج، پولیس اور سول انٹیلیجنس اداروں کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ سیاسی شمولیت قبائلی اضلاع میں عوامی نمائندگی بڑھانا ہوگی۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں خصوصی اکنامک، تعلیم، روزگار، اور صحت پر توجہ دینا ہوگی۔ جو عسکریت پسند ہتھیار ڈالنے کو تیار ہوں ان کی معافی اور بھاری پروگرام جیسا کہ سری لنکا نے تامل باغیوں کے بعد کیا کرنا ہوگا۔ علماء اور سول سوسائٹی کو شامل کر کے شدت پسندانہ بیانیے کا علمی و مذہبی توڑ کرنا ہوگا۔ دشمن کے پروپیگنڈا مہم کا جواب موثر اور عوامی رابطہ مہم سے دینا ہوگا۔ سیاسی قوتوں کو قومی سلامتی کے معاملات پر متفق کرنا ہوگا تاکہ شدت پسند درمیان کی خالی جگہ استعمال نہ کر سکیں۔ سفارتی ذرائع سے طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور حتی کہ امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل کرنا ہوگا۔ پاکستان کے سلامتی اداروں پر حملے زیادہ تر کے پی کے (قبائلی اضلاع) اور بلوچستان میں ہوتے ہیں جہاں جغرافیائی سیاسی اور سماجی محرکات شدت پسندوں کو سہولت دیتے ہیں اس کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ جبکہ اس میں مضبوط سفارتی پالیسی شامل ہونی چاہیے۔

  • سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ

    سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ

    سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں جہاں لاکھوں افراد اپنے گھروں، کھیتوں اور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں،وہاں حکومتی ریلیف کی تقسیم متاثرین کے لیے امید کی ایک کرن ہونی چاہیے تھی۔ قدرتی آفات کے بعد عوام کی نظریں ہمیشہ ریاست پر لگی ہوتی ہیں کہ وہ کس طرح ان کے دکھوں کا مداوا کرتی ہے۔ مگر پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز شریف کی تصویر والے بیگ اور باکسز کی تقسیم نے عوامی سطح پر امید کے بجائے غصے اور مایوسی کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیگ واقعی سیلاب متاثرین کے آنسو پونچھ رہے ہیں یا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں؟ کیا ان بیگز کی تیاری پر خرچ ہونے والا پیسہ متاثرین کی زندگی میں کوئی حقیقی آسانی لا رہا ہے یا یہ سب صرف سیاسی تشہیر اور ذاتی برانڈنگ کا کھیل ہے؟ اور سب سے اہم سوال، کیا عوامی ٹیکس سے حاصل شدہ پیسہ ایک منتخب نمائندے کی ذاتی تشہیر پر ضائع کیا جا سکتا ہے؟

    سیلاب کی تباہ کاریوں کی حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پنجاب کے کئی اضلاع میں موسلا دھار بارشوں اور دریاؤں کے طغیانی نے ایسی بربادی مچائی کہ لاکھوں خاندان بے گھر ہو گئے، کسانوں کی محنت سے اگائی گئی فصلیں برباد ہو گئیں اور مویشی تک ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ دیہات سے شہروں تک ہر جگہ پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جہاں ہر لمحہ زندگی اور موت کے بیچ کا فرق بن جاتا ہے۔ ایسے میں حکومتی ریلیف پیکیج عوام کے لیے سہارا بن سکتا تھا۔ مگر جب یہ ریلیف متاثرین تک مریم نواز کی بڑی بڑی تصاویر والے بیگ میں پہنچا تو عوامی ردعمل بالکل مختلف نکلا۔

    سوشل میڈیا پر عام شہریوں نے ان بیگسز کو مذاق اور دکھ کے امتزاج سے تعبیر کیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان بیگز میں موجود اشیاء جیسے دو پیکٹ بسکٹ، ایک جوس کا چھوٹا ڈبہ جن کی قیمت بمشکل 50 روپے بنتی ہے، اس کے مقابلے میں بیگ کی تیاری اور پرنٹنگ پر سو روپے سے زیادہ خرچ آ رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار عوام کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ترجیحات کہاں ہیں؟ کیا مقصد سیلاب زدگان کی فوری بحالی ہے یا اپنی شخصیت کو عوام کے ذہنوں پر مسلط کرنا؟ ایک رپورٹ کے مطابق یہ ریلیف جیسا اقدام دراصل ایک ’’پی آر ڈیزاسٹر‘‘ ثابت ہوا ہے کیونکہ امداد کی اصل لاگت کے مقابلے میں بیگ اور اس کی برانڈنگ کی لاگت کہیں زیادہ ہے۔

    یہی نہیں ان بیگز کی تقسیم نے سیاسی پروپیگنڈے کا رنگ بھی اختیار کر لیا۔متاثرین کی جھونپڑیوں میں، سکولوں میں بنائے گئے ریلیف کیمپس میں اور حتیٰ کہ مساجد تک میں یہ بیگ بانٹے گئے، جن پر مریم نواز کی تصاویر نمایاں تھیں۔ یہاں تک کہ مساجد کے سائن بورڈز کو بھی مریم نواز شریف کی تصاویر سے مزین کر دیا گیا، جس نے عوامی ردعمل کو مزید بھڑکا دیا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اللہ کے گھر کے باہر بھی سیاست کی تشہیر کا یہ طریقہ درست ہے؟ ناقدین نے اسے محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ ایک طرح کی ’’نارسیسٹک‘‘ سوچ قرار دیا جس میں عوام کے دکھ درد کے مقابلے میں ذاتی تشہیر زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سینکڑوں ویڈیوز اور پوسٹس وائرل ہوئیں جن میں متاثرین نے خود اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بیگ یا ڈبے پر لیڈر کی تصویر لگانے سے انہیں کوئی سہولت نہیں ملتی۔ بعض صارفین نے لکھا کہ ’’ہمیں کھانے کو روٹی چاہیے، رہنے کو چھت چاہیے، دوا چاہیے، یہ تصویریں ہمارے زخم نہیں بھرتیں‘‘۔ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ اب پنجاب میں صرف کفن پر مریم نواز کی تصویر لگنا باقی ہے، عمومی رائے کے مطابق یہ بیگ دراصل حکومتی نااہلی اور عوامی احساسات سے بیگانگی کی علامت بن چکے ہیں۔

    ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے۔ یہ بیگ اور باکسز عوامی ٹیکس کے پیسوں سے تیار کیے گئے۔ جب متاثرین دیکھتے ہیں کہ انہی کے ٹیکس سے جمع ہونے والے وسائل کو ان پر براہ راست خرچ کرنے کے بجائے ایک فرد یا خاندان کی سیاسی تشہیر پر لگایا جا رہا ہے تو ان کے دلوں میں بداعتمادی اور غصہ مزید بڑھتا ہے۔ پنجاب میں صرف فوڈ بیگز نہیں بلکہ دودھ کے ڈبوں اور پھلوں پر بھی مریم نواز کی تصاویر دیکھی گئیں۔ یہ سب اقدامات عوام کو اس نتیجے پر پہنچا رہے ہیں کہ ریاست ان کے دکھ درد پر سنجیدگی سے نہیں بلکہ تشہیر کی نیت سے توجہ دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اسے ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ کہا گیا اور بعض صارفین نے طنزیہ لکھا کہ ’’اب شاید بارش کے پانی پر بھی مریم نواز کی تصویر چھاپ دی جائے‘‘۔

    یہ رویہ کسی ایک صوبے یا ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ ہماری مجموعی سیاست کی خودغرضی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سیاستدان خدمت سے زیادہ تشہیر کو ترجیح دیتے ہیں۔ قدرتی آفات کے وقت عوام کو سب سے زیادہ ضرورت خوراک، پینے کے صاف پانی، ادویات اور سر چھپانے کے لیے چھت کی ہوتی ہے۔ لیکن جب ان کی جگہ رنگین بیگ اور تشہیری مہم چلائی جائے تو یہ صرف مایوسی کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام پہلے ہی معاشی بحران اور بے روزگاری سے دوچار ہیں، وہاں اس طرح کی حکمتِ عملی ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں مزید تکلیف دیتی ہے۔

    اصل ضرورت یہ ہے کہ حکومت اپنے وسائل براہ راست متاثرین کی بحالی پر خرچ کرے۔ اگر بیگ اور ڈبوں کی پرنٹنگ پر لگنے والا پیسہ متاثرہ خاندانوں کو صاف پانی، ادویات یا عارضی رہائش کی فراہمی پر استعمال کیا جاتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ اس کے برعکس موجودہ پالیسی نے حکومت کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی سطح پر یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ حکومتی اقدامات کا مقصد خدمت نہیں بلکہ اشتہار بازی ہے۔

    اس سارے تناظر میں ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ حکومت کو اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ اگر لیڈرز واقعی عوامی نمائندے ہیں تو انہیں عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے، نہ کہ تصویر والے بیگز کے ذریعے ان کے زخموں کو کھرچا جائے اور دکھ کم کرنے کے بجائے ان کے دلوں میں مزید نفرت کے بیج بوئے جائیں۔ سیلاب زدگان کو ضرورت ہے خوراک، دواؤں، رہائش اور معاشی مدد کی، نہ کہ پبلسٹی کی۔ اگر یہ رویہ جاری رہا تو عوام کی مایوسی اور بداعتمادی ایک بڑے احتجاجی طوفان میں بدل سکتی ہے، جس کے اثرات صرف ایک سیاسی خاندان پر نہیں بلکہ پورے نظام پر پڑیں گے۔