Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گیس و پانی کو ترستے شہری .تحریر: قمرشہزاد

    گیس و پانی کو ترستے شہری .تحریر: قمرشہزاد

    گوجرخان ایک تاریخی اور اہم شہر ہونے کے باوجود، اس وقت متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے۔ شہریوں کو روزمرہ زندگی میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ کیا گوجرخان پنجاب پاکستان کے نقشے پر موجود نہیں؟ کیا یہاں کے بسنے والے انسان نہیں بلکہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں؟ یہ وہ تلخ سوالات ہیں جو آج گوجرخان کے گلی کوچوں میں گشت کر رہے ہیں۔ ایک طرف متعلقہ محکموں کی مجرمانہ خاموشی ہے اور دوسری طرف مافیاز کا وہ راج، جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ آج 2026 میں بھی گوجرخان کے باسی ان بنیادی حقوق کے لیے ترس رہے ہیں جو ریاست کی ذمہ داری تھی۔ تحصیل گوجرخان گیس کی سرزمین ہے مگر مکینوں کیساتھ زیرو پریشر کا مذاق جاری ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل پکار پکار کر کہتا ہے کہ جس زمین سے گیس نکلے گی، پہلا حق وہاں کے مکینوں کا ہو گا۔ مگر افسوس! تحصیل گوجرخان کی گیس دیگر بڑے شہروں کے چولہے تو جلا رہی ہے، لیکن یہاں کے مقامی باسیوں کے اپنے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ اہلیان گوجرخان گیس کی لوڈشیڈنگ اور زیرو پریشر کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ کیا محکمہ سوئی گیس کے حکام کو عوامی چیخیں سنائی نہیں دیتیں؟ یا پھر قانون کی کتابیں صرف لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے ہیں؟ دوسرا سب سے بڑا مسلہ سفید زہر کا کاروبار اور فوڈ اتھارٹی کی نیم خوابی کی بدولت گوجرخان کی سڑکوں پر نیلی سفید پلاسٹک کی ڈرمیوں اور ٹینکرز میں جو سفید مائع دوڑ رہا ہے، وہ دودھ نہیں بلکہ "سفید زہر” ہے۔ کیمیکل ملا یہ زہریلا دودھ نسلوں کو اپاہج بنا رہا ہے، مگر پنجاب فوڈ اتھارٹی شاید کسی بڑے حادثے کے انتظار میں ہے۔ صرف یہی نہیں، شہر کے نام نہاد فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر وہ گھٹیا اور جلا ہوا آئل استعمال ہو رہا ہے جو جگر کو چھلنی اور ہیپاٹائٹس کو عام کر رہا ہے۔ یہاں انسانی جانوں کی قیمت ایک برگر اور شوارمے سے بھی کم ہو چکی ہے۔ تیسرا بڑا بنیادی مسلہ سرکاری پانی کا بحران بھاری بھرکم بلز کی ادائیگی کے باوجود پیاسا ہے گوجرخان۔ واٹر سپلائی کا نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ شہری بوند بوند کو ترس رہے ہیں، لیکن واٹر مینجمنٹ کے دفاتر میں بیٹھے افسران کی "بند مٹھیاں” کھلنے کا نام نہیں لے رہیں۔ چوتھا اور سنگین مسلہ صحت کا شعبہ جہاں مسیحائی کے روپ میں قصائی بیٹھے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ تو محکمہ صحت کی ناک تلے ہو رہا ہے۔ اسے ڈرگ انسپکٹر کی مبینہ ملی بھگت کہیے یا غفلت، میڈیکل اسٹورز پر ٹھیکے کی غیر معیاری ادویات سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔ عطائی ڈاکٹرز، جو انسانی زندگی سے کھیلنا اپنا حق سمجھتے ہیں، گوجرخان کی گلی محلوں میں کلینکس سجا کر بیٹھے ہیں جہاں ایس او پیز کا نام و نشان تک نہیں۔ رہی سہی کسر نجی لیبز اور کلینکس کے ناتجربہ کار عملہ نکال کر شعبہ صحت کو چار چاند لگا رہا ہے۔ کیا تحصیل گوجرخان لاوارث تحصیل ہے؟ آخر اسکی کیا وجہ جو گوجرخان کو مسائل کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے؟ متعلقہ ادارے کیا کر رہے ہیں کس کام کی تنخواہ لے رہے کیا سب اچھا کی رپورٹس پیش کرنے کی تنخواہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دی جاتی ہے؟ اگر کوئی خبر لگے تو ہلچل مچتی ہے، انکوائری انکوائری کا کھیل کھیلا جاتا ہے مگر مافیاز کو ہاتھ نہیں ڈالا جاتا آخر اس سب کے پیچھے کونسی پوشیدہ طاقتیں ہیں جو اتنے مسائل کے باوجود بھی ادارے اپنا کام کرنے کے بجائے اپاہج ہو چکے؟

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف جو اس وقت شبانہ روز محنت سے اپنے صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں ان سے پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان تمام تر مسائل کا سختی سے نوٹس لیں اور تمام متعلقہ اداروں کے نااہل افسران کو فوری طور پر ضلع بدر کیا جائے، مزید برآں راولپنڈی انتظامیہ کو احکامات جاری کریں کہ کمشنر راولپنڈی اور دیگر حکام فوری طور پر ان مافیاز کے خلاف "گرینڈ آپریشن” کریں۔ زہریلا دودھ بیچنے والوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے اور عطائیوں کے ٹھکانوں کو ہمیشہ کے لیے سیل کیا جائے اور غیر معیاری ادویات کو فوری بند کروایا جائے۔ جبکہ وفاق گیس کے پریشر کو بحال کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔

  • نیا سال، نئے ارادے اور اپووا کے پی چیپٹر،تحریر:فائزہ شہزاد

    نیا سال، نئے ارادے اور اپووا کے پی چیپٹر،تحریر:فائزہ شہزاد

    ہر سال جنوری کے مہینے میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی نئی کابینہ تشکیل دی جاتی ہے اور نئے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ اپووا کے پی چیپٹر کا آغاز جون 2025 میں ہوا اور محض چھ ماہ کے قلیل عرصے میں مسلسل کامیاب ادبی تقریبات کے انعقاد نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو منزلیں خود بخود آسان ہو جاتی ہیں۔ بقول مولانا رومیؒ:
    "ہمتِ مرداں مددِ خدا است”۔

    سالِ نو کی پہلی ماہانہ میٹنگ 6 جنوری 2026 کو اپووا کے پی چیپٹر کی صدر محترمہ فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس میں نئے منتخب عہدیداران اور تمام ممبران نے نہایت جوش و خروش سے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز محترمہ جویریہ خان کی پُرسوز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد محترمہ فائزہ شہزاد نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیۂ نعت پیش کر کے روحانی سماں باندھ دیا۔

    محترمہ فائزہ شہزاد نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور نئے عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔ بعد ازاں اپووا کے پی چیپٹر کی جنرل سیکرٹری محترمہ ناز پروین نے تنظیم کی ششماہی کارکردگی پر مشتمل ایک جامع اور مفصل رپورٹ پیش کی۔ سالِ نو کے حوالے سے آئندہ سرگرمیوں، منصوبہ بندی اور نئے اہداف پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جس میں تمام ممبران نے بھرپور دلچسپی سے حصہ لیتے ہوئے اپنی قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ باہمی مشاورت سے پورے سال کا متفقہ ایجنڈا ترتیب دیا گیا۔

    نہایت سرد موسم کے باوجود تقریب میں وائس پریذیڈنٹ محترمہ روبینہ معین، جنرل سیکرٹری محترمہ ناز پروین، جوائنٹ سیکرٹری محترمہ لبنیٰ نوید، میڈیا کوآرڈینیٹر محترمہ فاطمہ افضال، ڈپٹی میڈیا کوآرڈینیٹر محترمہ رانی عندلیب، سیکرٹری انفارمیشن فرزانہ منور اور اپووا ہیلتھ ایڈوائزر محترمہ ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کے ساتھ ساتھ محترمہ نیلو فرسمیع، ڈاکٹر سیما شفیع، حنا امجد ملک، امامہ نوید، دید فاطمہ، جویریہ خان، عشا نصیر اور دیگر معزز اراکین نے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔

    تقریب کی یادگار لمحات کو محفوظ کرنے کے فرائض محترمہ حنا ملک نے انجام دیے۔ نئے سال کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور آخر میں گرما گرم چائے اور پُرلطف لوازمات سے تمام حاضرین کی تواضع کی گئی۔ صدرِ اپووا پی چیپٹر کی جانب سے تمام ممبران کو خوبصورت ٹی کپ بطور تحفہ بھی پیش کیے گئے۔یہ نشست خوشگوار یادوں، باہمی محبت اور فکری ہم آہنگی کا حسین امتزاج ثابت ہوئی۔ اگرچہ نشست دو گھنٹوں کے لیے طے تھی، مگر محفل کی دلکشی نے اسے چار سے پانچ گھنٹے تک جاری رکھا۔ دل یہی کہتا رہا:
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو…

    تمام شرکاء دل میں بے شمار حسین یادیں سمیٹے گھروں کو لوٹ گئے۔

  • تلہ گنگ  کی خونی یہاڑیاں اور  ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

    تلہ گنگ کی خونی یہاڑیاں اور ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

    ​آج صبح جب بستر کی تپش میں وٹس ایپ اوپن کیا تو کسی صحافی دوست کی بھیجی گئی ایک خونریز خبر نے گویا روح تک کو لرزا دیا۔ اسکرین پر بکھری لاشوں اور زخمیوں کی تصاویر دیکھ کر دماغ سن ہو گیا اور ماضی کے وہ تمام زخم ہرے ہو گئے جو تلہ گنگ کی ان سڑکوں نے ہمیں دیے ہیں۔

    ​اس دلخراش منظر کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں ہمارے پیارے ناصر محمود شیخ کی آواز گونجنے لگی۔ وہ شخص جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ناصر صاحب اکثر کہتے ہیں کہ "گاڑیوں کے مالکان کو صرف وقت کی فکر ہوتی ہے، انسانی جان کی نہیں”۔ مالکان کا ڈرائیورز پر ‘ٹائم’ پر پہنچنے کا دباؤ دراصل موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر ان دنوں جب پنجاب کی فضاؤں پر دھند کا راج ہے، کیا ہم چار سے چھ گھنٹے کا وقفہ نہیں کر سکتے؟ کیا چند گھنٹوں کا انتظار ان قیمتی جانوں سے زیادہ قیمتی ہے؟

    ​تلہ گنگ کی جغرافیائی صورتحال بتاتی ہے کہ تلہ گنگ کی کی دو خونی پہاڑیاں ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑی اب انسانی زندگیوں کے لیے مقتل بن چکی ہیں۔ ماضی قریب میں کوہاٹ سے آنے والی تبلیغی جماعت کی بس کا وہ ہولناک حادثہ جس میں 18 اموات ہوئیں، آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے (NHA) ان مقامات پر محض ‘خطرناک موڑ’ کے بورڈ لگانے کے بجائے ٹھوس حفاظتی بندوبست کرے۔ ان پہاڑیوں پر جدید ترین کیٹ آئیز، فلیشرز، اور حفاظتی دیواروں کی اشد ضرورت ہے تاکہ دھند میں راستہ بھٹکنے والے ڈرائیورز کسی بڑی کھائی میں نہ جا گریں۔

    ​جہاں یہ حادثات ہمیں غمگین کرتے ہیں، وہیں تلہ گنگ کی عوام کا ایثار دیکھ کر انسانیت پر مان بڑھ جاتا ہے۔ میں تلہ گنگ کے غیرت مند عوام اور نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو ہر مشکل گھڑی میں فرشتے بن کر نمودار ہوتے ہیں۔ چاہے وہ کوہاٹ کے بد قسمت مسافروں کے لیے تابوت بنوانا ہو یا آج کے حادثے میں اپنے نرم گرم بستر چھوڑ کر زخمیوں کو ملبے سے نکالنا، خان سعادت خان جیسے سماجی کارکنوں اور حاجی شیخ ندیم جیسے تاجروں نے ثابت کیا کہ تلہ گنگ کے لوگ مہمان نوازی اور ہمدردی میں اپنی مثال آپ ہیں۔​اسسٹنٹ کمشنر سلیمان منشاء، ڈی ایس پی ملک عزیز اور ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ذیشان اعوان کی ٹیم نے جس طرح اس ایمرجنسی کو سنبھالا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حادثے کے بعد امداد فراہم کرنے کے بجائے حادثہ ہونے سے روکنے کی طرف جائیں۔

    ​حکومت سے مطالبہ ہے کہ ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑیوں کے ڈیزائن پر نظرِ ثانی کی جائے اور ٹرانسپورٹ مالکان کو پابند کیا جائے کہ دھند کے دوران سفر روک کر انسانی جانوں کو تحفظ دیا جائے۔ ناصر محمود شیخ کی باتیں آج پکار پکار کر کہہ رہی ہیں: "وقت بچائیں، مگر زندگی کی قیمت پر نہیں”۔

  • عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن ،تحریر:ملک سلمان

    عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن ،تحریر:ملک سلمان

    اہم عہدوں پر فائز افسران کے بچوں کی شادیوں پر اکٹھی ہونی والی چار سے پانچ ارب کی سلامیوں کے قصے ہفتوں زبان زد عام رہے۔ اس مشہوری نے افسران اور سیاستدانوں کو پیسہ اکٹھا کرنے کی نئی راہ دکھا دی۔ ایک آفیسر کی شادی کیلئے گیسٹ لسٹ بن رہی تھی تو وہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک، ڈویلپر اور بڑے بڑے کاروباری حضرات کے نام لکھ رہا تھا حتیٰ کہ ان کاروباری شخصیات کے بھی جن سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی صرف گڈمارننگ کے میسجز والا تعلق تھا۔ ولیمے کیلئے کراچی ٹو خیبر تمام اہم شخصیات کے نام لکھے جارہے تھے میں نے اسے کہا کہ آپ اپنے بیج میٹ کے نام کیوں نہیں لکھ رہے اس نے فوراً سے پہلے جواب دیا کہ بھوکے ہیں انہوں نے کیا دینا۔

    لاہور میں ایک (پی ایس پی) پولیس آفیسر نے اپنی شادی میں ریکارڈ یافتہ کریمینل کو اس لیے بلایا کہ اس کے بارے مشہور ہے کہ وہ سلامی میں سونے کا سیٹ دیتا ہے۔ چند دن قبل ایک اسسٹنٹ کمشنر کی شادی تھی اس کے بیج میٹ بتا رہے تھے کہ یہ اتنا مطمئن بے غیرت ہے کہ سلامی اکٹھی کرنے کیلئے پراپرٹی ڈیلرز کو پہلے صوفوں پر جبکہ بیج میٹ کو پچھلی کرسیوں پر جگہ دی۔

    یہی افسران جو اپنی ذاتی شادی پر بھی غریب اور متوسط رشتہ دار اور دوستوں کو شادی پر اس لیے انوائیٹ نہیں کرتے کہ انہوں نے معمولی سلامی دینی ہے۔ دوسری طرف انہی ذہنی غریبوں کا کاروباری ماڈل یہ ہے کہ کوئی بھی افسر جب کسی اچھی پوسٹنگ پر ہوتا ہے تو وہ اپنے بہن بھائی حتی کہ کزن، بھتیجی اور بھانجے کی شادی پر بھی امیر افراد کو صرف لیے انوائٹ کرتا ہے کہ سلامی اکٹھی ہوجائے گی۔ وزیراعظم آفس، ایوان صدر، وزیراعلیٰ آفس، آئی جی اور چیف سیکرٹری آفس میں پوسٹڈ افسران سمیت اے سی، ڈی سی، کمشنر، سیکرٹری، ایس پی ،ڈی پی او، آرپی او جیسی اہم پوسٹنگ کے دوران مذکورہ افسران بہن بھائی اور دیگر رشتہ داروں کی شادی کے دعوت نامے بھی امیر دوستوں کو ہول سیل کے حساب سے بانٹتے ہیں۔ کیونکہ ان سیٹوں پر دوست اور ساتھی افسران بھی کم از کم بیس ہزار سے لیکر ایک لاکھ تک جبکہ کاروباری شخصیات دس لاکھ سے زائد کیش کے بینک چیک، لاکھوں روپے کے قیمتی جیولری سیٹ، نئی گاڑی، پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹر، بیرون ملک ہنی مون اور عمرہ پیکچ گفٹ کرتے ہیں۔

    یوں شادیاں بھی پیسے اکٹھا کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ لاکھوں روپے کی سلامی دینے والے اس انویسٹمنٹ کی ریکوری کیلئے کوئی کام لیکر جاتے ہیں تو اگر ہوجائے تو وہ ایک اور گفٹ دے آتا ہے نہ ہوتو ہر جگہ اس کی احسان فراموشی کی قصے عام کرتا ہے اس لیے افسران کو مشورہ ہے کہ آپ کے پاس کمانے کیلئے ہر روز مواقع ہوتے ہیں کم از کم شادی کے یادگار موقع کو کمائی کا اڈا بنا کر ان ذہنی غریب پراپرٹی ڈیلرز کو بلاکر ساتھی افسران اور معززین کو تو شدید رش میں خوار نہ کیا کریں۔ منشی اذہان افسر تو بن گئے لیکن اندر کی غربت کی ہاتھوں مجبور کوئی نہ کوئی ایسی چول حرکت ضرور کرتے ہیں کہ اچھی پوشاک بھی انکی اندرونی غربت کو چھپانے سے قاصر ہوتی ہے۔

    کاروباری اور عہدوں کی شادیوں کا دوسرا پہلو بھی جدید دور کا فیشن بن چکا ہے جہاں کاروباری شخصیات اپنی کاروباری ضرورت کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، کسٹم، ایف بی آر، آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس، ایم ایل سی اور پی ایم ایس افسران میں سے بہو اور داماد تلاش کرتے ہیں۔ سی ایس ایس کے باقی گروپس کاروباری حضرات کیلئے فائدے کا سودا نہیں ہوتا اس لیے کاروباری برادری میں انکی ڈیمانڈ نہیں ہوتی۔ بیج میٹ کے ساتھ شادیوں میں زیادہ تر محبت اور پسند کا عنصر غالب ہوتا ہے جو کہ ایک مثبت پہلو ہے کہ آپ اپنی ہم آہنگی والے جیون ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن بیوروکریسی میں بہت ساری شادیاں سانولی اور قبول صورت کے ساتھ بھی صرف اس لیے کی جاتی ہیں کہ اس کی سلیکشن پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس یا پولیس سروس آف پاکستان میں ہوگئی ہے۔ ایک تہائی سے زائد بیوروکریٹس کی شادیوں کی ناکامی کی وجہ عہدوں اور کاروبار کی وقتی کشش کے لیے کیے جانے والے جذباتی فیصلے تھے۔
    سیاست دانوں, کاروباری شخصیات اور سرکاری افسران کی شادیوں میں قانون دان اور قانون پر عملداری کروانے والے دونوں کی موجودگی میں سر عام ون ڈش کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ ملٹی ڈشز کے ساتھ اپنی شان و شوکت اور قانون کی اوقات بتائی جاتی ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ٹرمپ کی منفرد پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ کی منفرد پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کو ٹرمپ کو سمجھنا ہوگا۔ عالمی سیاست ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، اور اس موڑ پر سب سے بڑا سوال امریکہ نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ دنیا اگر آج بھی یہ سمجھے کہ ٹرمپ، اوباما، کلنٹن یا جو بائیڈن کے تسلسل کا نام ہیں تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ ایک فرد نہیں، ایک الگ طرزِ فکر، ایک مختلف سیاسی رویہ اور ایک منفرد پالیسی کا نام ہیں۔ ٹرمپ کی سیاست روایتی سفارت کاری، اخلاقی دعووں اور عالمی ذمہ داریوں سے زیادہ قومی مفاد، طاقت اور فوری فائدے کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا مشہور نعرہ “America First” محض انتخابی جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کے تحت دوست وہی ہے جو فائدہ دے اور معاہدہ وہی قابلِ قبول ہے جو امریکہ کو یکطرفہ برتری دے۔

    ٹرمپ کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ دہائیوں پرانے اتحاد لمحوں میں کمزور ہو گئے، عالمی معاہدے یک قلمی فیصلوں سے ختم کر دیے گئے اور بین الاقوامی ادارے دباؤ کا شکار رہے۔ نیٹو ہو یا اقوامِ متحدہ، تجارتی معاہدے ہوں یا ماحولیاتی سمجھوتے، ٹرمپ نے ہر چیز کو سودے کی میز پر رکھ دیا۔ ان کی پالیسیوں کی سب سے نمایاں خصوصیت غیر متوقع پن ہے۔ یہی عنصر عالمی منڈیوں، سفارت خانوں اور طاقت کے ایوانوں میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ مگر ٹرمپ کے نزدیک یہ غیر یقینی صورتحال ہی دباؤ کا مؤثر ہتھیار ہے، جس کے ذریعے وہ مخالفین کو دفاعی پوزیشن پر لے آتے ہیں۔ دنیا خصوصاً ترقی پذیر ممالک اور مسلم دنیا کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ ٹرمپ کے عہد میں اصولوں کی زبان کم اور مفادات کی زبان زیادہ سنی جاتی ہے۔ یہاں ہمدردی نہیں، طاقت کا توازن بولتا ہے۔ یہاں اپیلیں نہیں، سودے ہوتے ہیں۔ اس لیے عالمی قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ امریکہ کو نہیں بلکہ ٹرمپ کو سمجھنے کی حکمتِ عملی اختیار کرے۔ کیونکہ ٹرمپ کے امریکہ میں پالیسی مستقل نہیں، مگر مفاد مستقل ہے۔ جو اس مفاد کو پڑھ لے، وہی خود کو عالمی بساط پر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور اس بدلتی دنیا میں سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات جذبات سے نہیں، بلکہ حقیقت پسندی اور دور اندیشی سے نبھائے جائیں۔

  • دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ، حقائق، چیلنجز اور قومی عزم،تحریر:جان محمد رمضان

    دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ، حقائق، چیلنجز اور قومی عزم،تحریر:جان محمد رمضان

    دہشتگردی کے خلاف جنگ محض بندوق اور بارود کی لڑائی نہیں بلکہ یہ نظریات، بیانیوں اور قومی بقا کی جدوجہد کا نام ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس اسی حقیقت کی آئینہ دار تھی، جس میں انہوں نے نہ صرف زمینی حقائق کو اعداد و شمار کے ساتھ قوم کے سامنے رکھا بلکہ خطے میں جاری پیچیدہ حالات پر بھی دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کا موجودہ بیانیہ حقائق پر مبنی نہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی سرزمین آج بھی دہشتگرد اور کالعدم تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ دوحا معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ انہوں نے خوارج کو اسلام سے یکسر لاتعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر “فتنہ الہندوستان” ہیں، جن کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ بلوچستان اور بلوچیت سے۔ ان کا مقصد محض انتشار، خونریزی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا ہے۔ریاست پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے نہایت واضح ہے کہ دہشتگردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کو سراہا ہے، اور یہ اعتراف عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کی گواہی دیتا ہے۔پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اس جنگ کی شدت اور وسعت کو آشکار کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں 75 ہزار 175 آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658،بلوچستان میں 58 ہزار 778،ملک کے دیگر حصوں میں 1739 آپریشنز شامل ہیں۔اسی عرصے میں 27 خودکش دھماکے اور 5 ہزار 397 دہشتگردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں 1235 سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ 2597 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ اعداد قربانی، صبر اور استقامت کی طویل داستان ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یاد دلایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے موجود تھا، مگر سوال یہ ہے کہ اس پر مکمل اور یکساں عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا؟ انہوں نے اس امر پر بھی توجہ دلائی کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی شرح زیادہ کیوں ہے، جس کا جواب محض سیکیورٹی نہیں بلکہ پالیسی، حکمرانی اور سرحدی حقائق میں پنہاں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان اس وقت خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اتحادی افواج کے انخلاء میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں تھا، جبکہ افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ آج دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت دہشتگردوں کو مالی معاونت اور سرپرستی فراہم کرتا رہا ہے، اور “معرکۂ حق” میں بھارت کو مؤثر جواب دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق معرکۂ حق اور افغانستان میں کارروائی کے بعد دہشتگردی میں وقتی اضافہ ضرور ہوا، مگر ریاست دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بزورِ طاقت منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔

    پریس کانفرنس کا سب سے دوٹوک پیغام یہ تھا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ چند ہی گھنٹوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاستی ردِعمل نہ صرف مؤثر بلکہ بروقت بھی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ پریس کانفرنس قوم کیلئے ایک واضح پیغام تھی دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے، ریاست متحد ہے، اور دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اسے کسی صورت امن سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ جنگ قربانی مانگتی ہے، مگر اس کا انجام ایک پرامن، مستحکم اور خودمختار پاکستان ہے۔

  • وینزویلا،عالمی طاقت، خودمختاری اور اصولی سفارت کاری کی کشمکش،تحریر:جان محمد رمضان

    وینزویلا،عالمی طاقت، خودمختاری اور اصولی سفارت کاری کی کشمکش،تحریر:جان محمد رمضان

    دنیا کی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک نے اپنی خودمختاری، وسائل یا آزاد فیصلوں پر اصرار کیا، عالمی طاقتوں کی نظریں اس پر جم گئیں۔ وینزویلا میں حالیہ پیش آنے والے واقعات اسی سلسلے کی ایک اور کڑی محسوس ہوتے ہیں، جہاں ایک کمزور مگر خوددار ریاست کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کی بازگشت سنائی دی۔ یہ واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا عالمی نظام واقعی انصاف، قانون اور برابری پر قائم ہے، یا پھر طاقت ہی سب سے بڑا اصول بن چکی ہے؟یہ منظرنامہ ہمارے لیے اجنبی نہیں۔ ماضی میں پاکستان کو بھی مختلف ادوار میں اندرونی و بیرونی سازشوں، دباؤ اور جارحانہ منصوبوں کا سامنا رہا۔ انڈیا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والی خفیہ اور اعلانیہ کوششیں تاریخ کا حصہ ہیں، مگر قدرت کا شکر ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی بہادر، مضبوط اور پیشہ ور مسلح افواج نصیب ہوئیں جنہوں نے ہر آزمائش میں وطنِ عزیز کا دفاع کیا۔ پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی یہ تینوں ادارے مل کر ہماری قومی سلامتی کی مضبوط فصیل ہیں۔اس دفاعی استحکام کے پیچھے محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی عظیم ٹیم کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ ایٹمی صلاحیت نے پاکستان کو نہ صرف دفاعی تحفظ فراہم کیا بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور آزاد ریاست کے طور پر زندہ رہنے کا حق بھی دیا۔ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ بنتا تو شاید آج ہمارے حالات یکسر مختلف ہوتے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نعمت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کو حقیقی معنوں میں ایک مکمل خودمختار اور خوددار ریاست بنائیں۔

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا حالیہ اجلاس عالمی سیاست میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جہاں وینزویلا میں مبینہ امریکی فوجی کارروائی پر تفصیلی اور سنجیدہ بحث ہوئی۔ اس اجلاس نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ عالمی طاقتوں کے درمیان نہ صرف مفادات کا ٹکراؤ ہے بلکہ عالمی قوانین کی تشریح پر بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔اجلاس کے دوران روس اور چین نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وینزویلا میں امریکی کارروائی کو کھلے الفاظ میں بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔روسی نمائندے نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک کے اندر فوجی مداخلت عالمی امن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور یہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔چین نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، بلکہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی دیرپا امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔اس اجلاس میں سب سے دلچسپ پہلو کولمبیا کا مؤقف رہا، جو خطے سے تعلق رکھنے کے باوجود امریکی کارروائی پر تنقید کرتا نظر آیا۔ کولمبیا کے نمائندے نے واضح کیا کہ لاطینی امریکہ پہلے ہی سیاسی بے یقینی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، اور کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ اب خطے کے ممالک بھی طاقت کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔پاکستان نے اس اجلاس میں اپنی روایتی، سنجیدہ اور اصولی خارجہ پالیسی کا مظاہرہ کیا۔ براہِ راست کسی ملک کو ہدفِ تنقید بنانے کے بجائے پاکستانی مندوب نے بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا۔پاکستان کا مؤقف واضح تھا تنازعات کا حل بندوق، میزائل یا دباؤ سے نہیں بلکہ مکالمے، تحمل اور پرامن ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔یہی وہ متوازن سفارت کاری ہے جو پاکستان کو عالمی برادری میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔

    سلامتی کونسل کا یہ اجلاس اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ آج کی دنیا ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف طاقت کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کا رجحان ہے، تو دوسری طرف قانون، اصول اور خودمختاری کی بات کرنے والی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔روس اور چین جیسے ممالک کھل کر امریکی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ممالک محتاط مگر اصولی سفارت کاری کے ذریعے عالمی قوانین کی یاد دہانی کرا رہے ہیں۔ اگر دنیا نے واقعی امن اور استحکام کی راہ پر چلنا ہے تو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ طاقت وقتی طور پر غالب آ سکتی ہے، مگر تاریخ ہمیشہ حق، اصول اور انصاف کا ساتھ دیتی ہے۔

  • یونیورسٹیاں یا ٹارچر سیل؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    یونیورسٹیاں یا ٹارچر سیل؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    دنیا بھر میں تعلیمی ادارے علم و تربیت کے مراکز ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کئی ادارے تعلیمی یا علمی مرکز نہیں بلکہ ٹارچر سیل ہیں جہاں تعلیم و تربیت کے نام پر جسمانی اور ذہنی تشدد جائز سمجھا جاتا ہے۔ سکولوں میں بچوں کو زمانہ جاہلیت کی طرز پر جانوروں کی طرح مارا پیٹا جاتا ہے۔ اور جہاں ڈنڈے اور ہاتھ نہیں اٹھائے جاسکتے، وہاں ذہن کو نشانہ بنا لیا جاتا ہے۔ یہاں تمام اختیارات پروفیسر صاحبان کا حق، جبکہ سوال، طالب علموں کا جرم ہوتا ہے۔

    یونیورسٹی آف لاہور میں آج سے قریبا 15 روز پہلے اویس نامی طالب علم کی خود کشی اور آج ایک اور پھر اسی یونیورسٹی کی چھت سے کود کر ایک طالبہ کی خود کشی کی کوشش افسوسناک تو ہے ہی۔مگر اس سے کہیں زیادہ اس نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ آئے روز نوجوان نسل کے ایسے واقعات میں صرف ایک فرد ہی اپنا قاتل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ معاشرے کا اجتماعی قتل ہوتا ہے۔ قاتل کبھی استاد ہوتا ہے تو کبھی ادارہ،اور کبھی یہ کام والدین کرتے ہیں اور کبھی ہم سب یعنی یہ سماج۔

    یونیورسٹی پروفیسرز کے پاس آپ کی ڈگری کی تکمیل تک تمام اختیارات ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں پر نام کا احتساب تو ہوتا ہے۔مگر پروفیسرز کے اختیارات کے ناجائز استعمال پر سوال تک نہیں کیا جاسکتا۔ فیل کر دیا جائے،اسائنمنٹ میں گریڈز برباد کر دیے جائیں مگر آپ بول نہیں سکتے۔ بولیں گے تو سمجھو کہ ڈگری اب آسانی سے اور وقت پر تو مکمل نہیں ہونے والی۔ نفسیات میں اسے پاور ابیوز کہا جاتا ہے۔یونیورسٹی آف لاہور کا طالبعلم اویس بھی نفسیاتی دباؤ کا شکار رہا۔ اور پھر حالات اسے اس نہج پر لے گئے کہ جہاں اسے زندگی سے زیادہ موت کا رستہ آسان لگا۔ اور آج کے دن یونیورسٹی آف لاہور ہی کی فاطمہ نامی طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں۔ خودکشی کا خیال یونہی ایک دن میں ہی پیدا نہیں ہوجاتا۔ کبھی مہینوں تو کبھی سالوں کی ذہنی اذیت ہوتی ہے جو ایسے اقدامات پر انسان کو مجبور کر دیتی ہے۔ یہ اب پرانی نسل نہیں رہی صاحب!جسے آپ جیسے مرضی جس لاٹھی سے ہانپتے رہیں۔ یہ نئی نسل ہے، نئے ذہن ہیں، منفرد سوچتے ہیں۔ اور سمجھنے، سمجھانے کا طریقہ بھی الگ ہے انکا۔ اب وہ دور جاہلیت نہیں کہ باپ اور استاد کے ہر غلط صحیح کو یہ اخلاقی جواز حاصل ہو کہ چپ رہنا ہے، سہنا ہے۔

    کہنے والے تو یہ اس لیے بھی کہیں گے کیونکہ یہ آسان مگر جھوٹا بیانہ ہے کہ یہ دونوں کمزور اور بزدل تھے کہ مشکلات سب پر آتی ہیں۔اصل کمزور تو یہ نظام ہے، جو اختیار اور طاقت تو دیتا ہے مگر ساتھ ضمیر نہیں دیتا۔اگر آج بھی آپ اور میں نے اسے صرف دو طالب علموں یا ایک یونیورسٹی کا معاملہ سمجھ کر چھوڑ دیا تو کل اویس اور فاطمہ کی جگہ کوئی اور نام ہوگا، اور تب بھی ہم صرف یہ پوچھ رہے ہوں گے کہ آخر یہ بزدل جنریشن خودکشیاں کیوں کر رہی ہے۔

  • "لفظوں کی جادوگری یا ضمیروں کا قتل”،تحریر:  قمرشہزاد مغل

    "لفظوں کی جادوگری یا ضمیروں کا قتل”،تحریر: قمرشہزاد مغل

    شعر!
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

    دنیا بدل گئی، ہتھیار بدل گئے، مگر طاقتور کی انا اور بدمعاشی کا انداز نہیں بدلا۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں گولی سے زیادہ خطرناک بیانیہ بن چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت کا نشہ حد سے بڑھ جائے تو وہ لفظوں کے مفاہیم بدلنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ آج کے جدید دور میں، جہاں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے راگ الاپے جاتے ہیں، وہاں میڈیا کی ایک باریک واردات کے ذریعے پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔ وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ جسے دنیا بھر کا میڈیا گرفتاری پکار رہا ہے، وہ درحقیقت ایک آزاد ریاست کے سربراہ کا مبینہ اغوا ہے۔ چشم کشا حقیقت تو یہ ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی عدالت نے، خواہ وہ ہیگ کی عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) ہو یا عالمی فوجداری عدالت (ICC)، مادورو کے خلاف نہ تو کوئی فیصلہ سنایا اور نہ ہی ان کی گرفتاری کا کوئی وارنٹ جاری کیا تھا۔ یہ کارروائی کسی عالمی قانون کے تحت نہیں بلکہ ایک عالمی بدمعاش کی اپنی عدالتوں میں طے شدہ ایجنڈے کے تحت عمل میں لائی گئی۔ کیا اب طاقتور ممالک کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ جس ملک کا چاہیں دروازہ توڑیں اور وہاں کے منتخب سربراہ کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے جائیں؟ اگر یہی قانون ہے، تو پھر عالمی اداروں اور عدالتوں کی حیثیت ایک رسمی تماشے سے زیادہ کچھ نہیں۔ لفظوں کا یہ ہیر پھیر دراصل انسانی ضمیروں کو تھپکیاں دے کر سُلانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ جب خبر رساں ادارے اغوا کو گرفتاری کا نام دیتے ہیں، تو وہ غیر محسوس طریقے سے اس غیر قانونی فعل کو قانونی جواز فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے جب تک ہم اس ننگی جارحیت کو اس کے اصل نام اغوا سے نہیں پکاریں گے، ہم اپنی ذہنی غلامی کے طوق کو قانون کی حکمرانی کا زیور سمجھتے رہیں گے۔ آج وینزویلا کے صدر کی باری ہے، کل کسی اور ریاست کی خودمختاری کا جنازہ نکلے گا۔ کیا ہم محض تماشائی بنے رہیں گے؟ یا ہم میڈیا کے اس خود ساختہ بیانیے کو رَد کر کے ظالم کو اس کے اصل نام سے پکارنے کی ہمت کریں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ اس منافقت کو بے نقاب کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ یہ قانون کی بالادستی نہیں، بلکہ جنگل کا وہ قانون ہے جہاں صرف طاقتور کی مرضی ہی انصاف کہلاتی ہے۔ اگر آج انسانیت خاموش رہی، تو تاریخ اس گرفتاری کو نہیں بلکہ اس خاموشی کو سب سے بڑا جرم قرار دے گی۔ اپنے شعور کو بیدار کیجیے، خبر نہیں، خبر کے پیچھے چھپی سازش کو پڑھیے، اگر ہم نے آج اس باریک واردات کو بے نقاب نہ کیا، تو تاریخ ہمیں ایک ایسے دور کے باسی لکھے گی جنہوں نے زنجیروں کو زیور اور قاتلوں کو مسیحا تسلیم کر لیا تھا۔

    بقول شاعر!
    ظلم کو ظلم، اغوا کو اغوا نہ کہنا بھی جرم ہے
    خاموشی اگر طوق بنے، تو پھر زندگی وبال ہے

  • پاکستان کی بڑھتی سفارتی اہمیت،ریاستی ہم آہنگی کا ثمر ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی بڑھتی سفارتی اہمیت،ریاستی ہم آہنگی کا ثمر ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو حالیہ مہینوں میں امریکہ اور یورپ میں جو سفارتی توجہ اور پذیرائی حاصل ہوئی ہے، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ریاستی سطح پر ایک نسبتاً مربوط حکمتِ عملی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ عالمی سیاست میں جہاں مفادات مستقل اور دوستیاں عارضی ہوتی ہیں، وہاں کسی ملک کی اہمیت اس کے رویّے، استحکام اور پیغام کی یکسانیت سے متعین کی جاتی ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم، نے علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور اسٹرٹیجک توازن کے حوالے سے جو واضح اور ذمہ دار مؤقف اختیار کیا ہے، اس نے مغربی دارالحکومتوں میں پاکستان کے بارے میں سنجیدگی کو تقویت دی ہے۔ مغرب کے لیے خطے میں استحکام ایک کلیدی ترجیح ہے، اور پاکستان کا اس ضمن میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آنا ایک اہم سفارتی اثاثہ ہے۔ ساتھ ہی وزارتِ خارجہ اور وزیرِ خارجہ کی ٹیم نے حالیہ عرصے میں روایتی جوشِ خطابت کے بجائے خاموش، محتاط اور نتیجہ خیز سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ کثیرالجہتی فورمز پر متوازن بیانیہ، غیر ضروری تنازعات سے اجتناب اور عالمی طاقتوں کے ساتھ عملی مکالمہ یہ تمام عوامل پاکستان کے تشخص کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت ریاستی سطح پر پیغام کا تضاد کم نظر آ رہا ہے۔

    عسکری اور سفارتی بیانیے میں ہم آہنگی وہ عنصر ہے جسے عالمی طاقتیں نہایت سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ یہی ہم آہنگی پاکستان کو دوبارہ عالمی میز پر قابلِ گفتگو فریق بنانے میں مدد دے رہی ہے۔سفارتی کامیابی اسی وقت دیرپا ثابت ہوگی جب اسے معاشی بحالی، سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی میں تبدیل کیا جائے۔آخرکار پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ وہ وقتی طور پر عالمی توجہ حاصل کر لے، بلکہ یہ ہے کہ اس توجہ کو قومی مفاد میں ڈھالتے ہوئے خود کو ایک مستحکم، قابلِ اعتماد اور باوقار ریاست کے طور پر منوائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو وقتی پذیرائی کو مستقل احترام میں بدل سکتا ہے۔