Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نریندر مودی کی باریک وارداتیں،تحریر: علی ابن ِسلامت

    نریندر مودی کی باریک وارداتیں،تحریر: علی ابن ِسلامت

    نریندر مودی کی باریک وارداتیں جو وہ پاکستان کو کمزور کرنے اور نقشے سے مٹانے کیلئے کر رہا تھا وہ وارداتیں مودی کو ہی کھا گئیں، انڈیا میں جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے اور نریندر مودی وزیراعظم بنا تب سے انڈیا پاکستان تعلقات کشیدہ سے کشیدہ ہیں ۔کوئی شک نہیں کہ پہلی ٹرم میں مودی پاکستان کیلئے خطرناک جبکہ انڈیا کیلئے مضبوط لیڈر بن کر ابھراکیونکہ انڈیا کی سفارتی کوششوں سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں چلا گیا تھا، یہاں بہت سی سیاسی غلطیاں ایک شخص نے کیں جس کا نام عمران خان تھا ، عجلت میں عمران خان کی حکومت نے قانون پہ قانون پاس کروائے ۔ آخر کارسالوں کی جدوجہد کے بعد پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلا لیکن اس وقت تک مودی اور کئی معاملات پر باریک واردتیں ڈالنے کی تیاری کر چکا تھا ۔مثال کے طور پر جیسے ہی پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلا اس کے بعد مودی نے کشمیر میں اوڑی حملہ کروا کے پاکستان کے ساتھ بارڈر گرم کر دیا اور دونوں ملکوں کی فوجیں بارڈر پر پہنچ گئیں مودی نے اپنے شہریوں کو مروا کر ان کی لاشوں کو پاکستان کیخلاف استعمال کیا۔

    14 فروری 2019 کو پلوامہ حملے کا ڈرامہ رچایا گیا اور انڈیا نے فالس فلیگ آپریشن کرکے خود ہی اپنے تین درجن سے زائد فوجی مار دئیے۔ تب بھی الحمدللہ پاکستان حسب روایت عسکری سطح پر اپنا دفاع کرنے میں کامیاب ہوا، اور مودی کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا تھا ، لیکن پلوامہ ڈرامے کے بعد مودی نے کشمیر کے معاملے پر انتہائی باریک واردات ڈالی اور پاکستان کو دائیں دکھا کر بائیں ماری گئی۔پلوامہ کے بعد 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا۔جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی۔پلوامہ فالس فلیگ آپریشن کا پاکستان کو شدید نقصان پہنچا،کیونکہ ایک طرف پاکستان کو عالمی سطح پر الزامات کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری طرف کشمیر کے حوالے سے سفارتی سطح پر بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ ہو سکے، سفارتی سطح پر ہمیں ناکامی ایک نالائق حکومت کی وجہ سے ہوئی کیونکہ یہاں عمران حکومت کے چند سیاسی مفاد پرستوں کی کمزوریوں نے مودی کو سیاسی فائدے حاصل کروا دئیے تھے۔ مارچ2019 میں ابوظہبی میں ہونے والے او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں انڈیا کو پہلی بار "گیسٹ آف آنر” کے طور پر مدعو کیا گیا۔ اُس وقت کی انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا، یہ دعوت ایک ایسے وقت میں دی گئی تھی جب پلوامہ ڈرامے کے بعد پاک بھارت کشیدگی عروج پر تھی، او آئی سی میں انڈین وزیر خارجہ کا جانا اور خطاب کرنا اوپر سے پاکستان مخالف خطاب کرنا ، یہ بھی نریندر مودی کی باریک واردات تھی ۔

    پلوامہ ڈرامے کی پوری ڈویلپمنٹ کے بعد مودی نے پاکستان مخالف کاروائیوں کے نام پر ووٹ لئے اور پھر سے وہ انڈیا کا وزیر اعظم بن گیا اور نئی سازشیں رچنا شروع ہو گیا ، لیکن اندورونی معاملات کی خرابی باعث کوئی بڑا ایڈونچر نہ کر سکا۔لیکن اس دوران خطے میں بہت بڑی پیشرفت ہوئی اور افغانستان سے امریکی فوج نے انخلاء کا اعلان کر دیا جس کو پاکستان کی اہم کامیابی سمجھا گیا جس کو عمران خان نے ایک بار طالبان کے اقتدار کو سیلیبریٹ کیا اور ایک وقت کیلئے لگا کہ مودی کی اشرف غنی دور میں کی گئی ساری انویسٹمنٹ ڈوب گئی ہے لیکن یہاں بھی پاکستان سفارتی طور پر ناکام ہوا اور مودی کامیاب اور یہ سب عمرا ن خان کی وجہ سے ہوا ،کیونکہ طالبان انڈیا کے معاملے میں اشرف غنی کی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہیں اور اس وقت مودی کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں جو کہ مودی ایک واردات تھی ۔اب مودی کی تیسری ٹرم چل رہی ہے جس میں اس نے پلوامہ ٹو کیا یعنی پہلگام اٹیک۔۔ 22 اپریل کو کشمیر میں پہلگام کے مقام پر اپنے ہی لوگوں کیخلاف ایک اور فالس فلیگ آپریشن کرکے دو درجن سے زائد سیاح مار دئیے اور ایک بار پھر اس وقوعہ کا سارا الزام لگایا اور بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے پاکستان پر لگا حملہ کر دیا، پھر جو پاکستان نے انڈیا کا اور انڈین گجرات کے قصاب کا حال کیا وہ پوری دنیا نے دیکھا ہے ۔ سندھ طاس معاہدہ جس کیلئے مودی نے پورا ڈرامہ رچایا اور پہلگام کرکے جنگ کا سٹیج سجایا ، پھر دیکھا کہ کیسے پاکستان نے طلبل بجایا۔

    ابھی بھی مودی باریک وارداتیں ڈال کر انڈیا کو عارضی کامیابیاں دلوا رہا ہے لیکن مستقبل میں یہ کامیابیاں اس کی ناکامی میں بدلیں گی، اور اب بھی اگر مودی کی باریک وارداتوں کے نقصانات دیکھیں تو نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر اس کو شدید الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اور جو اس کی انتظامی اور سفارتی ناکامی کا منہ بولتا ہے ۔مودی کے آشیرباد سے منی پور میں نسلی فسادات ، انڈین آرمی کے ہاتھوں کشمیریوں کیساتھ ناگالینڈ میں نہتے شہریوں کا قتل ، دوسری جانب سیون سسٹرز اسٹیٹ میں آزادی کی تحریک، یہ سب مودی کی باریک وارداتوں کے نقصان ہیں کیونکہ سب کو دشمن بنا چکا ہے کوئی مودی کا دوست نہیں بچا۔ نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان، چائنا، کینیڈا، سری لنکا، چائنا، سب مودی کے ڈسے ہوئے ہیں، یہ ایک سانپ ہے جو اپنے ہی بچے کھا جاتا ہے، انڈیا میں رہنے والے سکھوں کو نہیں بخش رہا۔

    کسان تحریکیں ، گلوان وادی میں فوجی جھڑپیں،منی پور، ادھم پور، این آر سی کا تنازع ، اروناچل پردیش تنازع ، نیپال سرحدی تنازع، ان سب کا نقصان بھارت کو ہو رہا ہے ۔ یہ سب اس لیے کہ نریندر مودی کی ناکام چالاکیاں ، سازشیں ، باریک وارداتیں پوری دنیا میں عیاں ہو چکی ہیں، کینیڈا میں خالصتان رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ،کینیڈا بھارت سفارتی تناؤ، امریکہ کی بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر متعدد وارننگز بھارت کی تباہی کا سامان پیدا کرچکی ہیں۔سب سے بڑا کارنامہ بنگلہ دیش میں مودی کی پراکسی حسینہ واجد کا اقتدار تمام ہوا جو مودی کی بہت بڑی ناکامی تھا ، فرانس، جرمنی، اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے انسانی حقوق پر تشویش ، اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے پر عالمی دباؤ،اورعالمی میڈیا میں بھارت کا امیج "ہندو انتہا پسندی” بن کر ابھر رہا ہےجو صرف مودی نہیں بلکہ مودی کو ماننے والوں کی نسلوں کو کھا جائے گا۔آج نہ صرف امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پایا گیا ہے بلکہ عالمی میڈیا ، بلوم برگ ، بی بی سی، سی این این، الجزیرہ، سکائی نیوز، واشنگٹن پوسٹ مودی کی ناکام پالیسیوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • کراچی پھر ماتم کناں ہے.تحریر: شازیہ عالم شازی

    کراچی پھر ماتم کناں ہے.تحریر: شازیہ عالم شازی

    کراچی ایک بار پھر ماتم کناں ہے ایک ایسا ماتم جو صرف ایک گھر کا نہیں بلکہ سارے شہر کے ضمیر کا ماتم ہے تین سالہ ابراہیم کا کھلے مین ہول میں گر کر جان گنوا دینا کوئی حادثہ نہیں، یہ اس بوسیدہ نظام کا کھلا اعتراف ہے جو شہریوں کی زندگیوں کو محض اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے۔یہ سانحہ ایک معصوم بچے کی موت نہیں بلکہ ہمارے بلدیاتی ڈھانچے کی سنگین نا اہلی اور شہری حکومت کی شرم ناک بے حسی کا نوحہ ہے ،یہ واقعہ صرف ایک معصوم بچے کی جان کا سانحہ نہیں، بلکہ ہمارے بلدیاتی نظام کی سنگین نااہلی اور شہری حکومت کی مجرمانہ بے حسی کا نوحہ ہے۔ نیپا چورنگی جیسے مصروف مقام پر کھلا مین ہول کئی دنوں، بلکہ ہفتوں سے شہریوں کے لیے موت کا پھندا بنا ہوا تھا، مگر جسے صرف متعلقہ ادارے ہی نہ دیکھ سکے، نہ کسی کی فریاد سن سکے، نہ ہی حرکت میں آئے۔ تین سالہ ابراہیم کا اندوہناک موت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہمارے شہر میں جان کی قیمت صفر ہے اور ذمہ داری نام کی کوئی چیز موجود نہیں، بلدیاتی ادارے جن کا کام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، وہ خوابِ غفلت میں ڈوبے رہتے ہیں، اور ہر حادثے کے بعد صرف میڈیا پر ان کے بیانات کی بازگشت سنائی دیتی ہے ،تحقیقات کا اعلان کیا جاتا ہے کمیٹیوں کے قیام کی خبریں چلتیں ہیں اور دھیرے دھیرے معاملے کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے اوت پھر مکمل خاموشی، شہری حکومت کی یہ بے حسی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا کراچی کے لوگوں کی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں کوئی اہمیت حاصل بھی ہے یا نہیں؟

    ایک کھلا گٹر، ایک چھوٹا سا مین ہول ڈھکن، اور ایک لمحہ کی کوتاہی ، اتنی معمولی سی چیزیں اگر زندگی اور موت کا فیصلہ بن جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ریاست اپنے شہریوں سے اپنا بنیادی فرض ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ابراہیم کی موت نظام کی ناکامی کا ایسا ثبوت ہے جسے کوئی بھی صفائی، کوئی بھی بیان، اور کوئی بھی سیاسی جواز نہیں چھپا سکتا۔یہ وقت ہے کہ شہری حکومت سامنے آئے اور عوام کو جواب دے تاکہ واقعہ کے ذمہ داروں کا تعین ہو، اور کراچی کے لوگوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی زندگیاں کسی کے سفارشی نظام، نااہلی، یا غفلت کی بھینٹ نہیں چڑھیں گی۔ورنہ کل کا ابراہیم کوئی اور ہوگا اور اس شہر کی ماتم کن آوازیں یونہی گونجتی رہیں گی۔

    کراچی آج صرف حادثوں کا نہیں، بے حسی کا شہر بن چکا ہے۔ سانحات پر آنسو خشک ہونے سے پہلے ہی حکمرانوں کی رعونیت بھری گفتگو زخموں پر نمک چھڑک دیتی ہے۔ میئر کراچی کی حالیہ پریس کانفرنس اسی تکبر، اسی حددھرمی اور اسی سنگدلی کا کھُلا اعلان تھی جیسے وہ شہریوں کے منتخب نمائندے نہیں، بلکہ کسی اونچے تخت پر بیٹھے خود ساختہ فرمانروا ہوں ، پریس کانفرنس سن کے یوں لگا جیسے یہ لوگ اپنے آپ کو جوابدہی سے ماورا، تنقید سے بالاتر اور خدائی دعوے کے قریب سمجھ بیٹھے ہیں۔اس پریس کانفرنس میں ایسا زعم، ایسی برتری، اور ایسا تکبر جھلک رہا تھا کہ گویا گردن میں سریا گاڑھ دیا گیا ہو نہ جھکنے کی گنجائش، نہ سننے کی صلاحیت، نہ ماننے کی ضرورت، یہ طرزِ گفتگو کسی خدمت گزار عوامی نمائندے کا نہیں، بلکہ اس ایلیٹ کلاس وڈیرہ شاہی کا ہے جو صدیوں سے عوام کو رعیت سمجھنے کی عادت میں مبتلا ہے۔یہ لوگ قوم کے خیرخواہ نہیں بن سکتے، کیونکہ خیرخواہی کے لیے دل میں درد چاہیے، اور درد وہاں ہوتا ہے جہاں اختیار کے بجائے احساس ہو۔

    کراچی کا شہری آج بدترین بلدیاتی بداعمالیوں، غفلتوں اور بدانتظامیوں کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم فریاد لے کر کس کے پاس جائیں؟ کون ہے جو سنے؟ کون ہے جو بولے؟ کون ہے جو جائے وقوعہ تک قدم رکھے؟ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں شہرِ کراچی کے لوگ روزانہ جنازوں جیسے راستوں سے گزرتے ہیں سڑکوں پر ابلتے گٹر، گندگی کے ڈھیر، ٹوٹی پگڈنڈیاں، تعفن زدہ ماحول، اور کھنڈرات میں بدلتے محلے یہ وہ شہر نہیں جسے کبھی روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا۔

    ہم صبح گھروں سے نکل کر جس اذیت ناک منظر اور تعفن سے گزر کر دفتر پہنچتے ہیں، یہ صرف ہم ہی جانتے ہیں اور شام کو جب تھکن زدہ جسم گھر آتا ہے تو کئی گھنٹوں تک اس قابل نہیں ہوتا کہ زندگی کی کوئی اور ذمہ داری نبھا سکے۔ یہ تھکن جسمانی سے زیادہ ذہنی ہےایک شہر کی حالت دیکھ کر پیدا ہونے والی مایوسی کی تھکن، حکمرانوں کے رویے سے جنم لینے والی بے بسی کی تھکن۔یہ شہر ٹیکس سب سے زیادہ دیتا ہے، مگر بدحالی سب سے زیادہ سہتا ہے۔یہاں سانحات بھی عوام کے نصیب میں ہیں، اور حکمرانوں کا تکبر بھی کراچی کے شہریوں کا صبر اب آخری حدوں کو چھو رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران تخت و تاج والی ذہنیت کو ترک کریں، زمین پر آئیں، عوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیں، ذمہ داری قبول کریں، اور اس شہر کو اس کے بنیادی حقوق فراہم کریں۔اگر ایسا نہ ہوا تو کراچی کی چیخیں صرف ایک بچے کی موت پر نہیں، نظام کے ہر زخم پر بلند ہوں گی اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی شہر چیخیں، تخت لرز جاتے ہیں۔

  • آنے والا کل ہماری امید، ہماری طاقت.تحریر: رخسانہ سحر

    آنے والا کل ہماری امید، ہماری طاقت.تحریر: رخسانہ سحر

    ہمیشہ یہی سوچ کر جِئیں کہ آج سے بہتر میرا آنے والا کل ہوگا۔
    یہ جملہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مثبت انداز ہے۔ انسان کی سب سے بڑی طاقت اُس کا یقین ہے وہ یقین جو مشکل ترین حالات میں بھی اندر کی امید کو زندہ رکھتا ہے۔ جب ہم یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہمارا کل آج سے بہتر ہوگا، تو دراصل ہم اپنی سوچ کو روشن سمت میں ڈال دیتے ہیں، اور یہی سوچ ہمیں آگے بڑھنے کی ہمت دیتی ہے۔

    زندگی کی دوڑ میں کبھی ہم تھک جاتے ہیں، کبھی حالات اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہے اب کچھ اچھا نہیں ہوگا۔ مگر یقین مانیے، دنیا کے ہر بڑے انسان کے پاس ایک ہی چیز مشترک تھی مثبت سوچ۔ اُنہوں نے حالات کو نہیں، اپنے اندر کے یقین کو اہمیت دی۔

    آج اگر آپ مشکل میں ہیں، ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں، یا حالات آپ کی مرضی کے مطابق نہیں چل رہےتو ایک لمحے کے لیے رُکیں، سانس لیں، اور خود سے صرف اتنا کہہ دیں: “میرا آنے والا کل آج سے بہتر ہوگا۔”
    یہ جملہ آپ کے اندر ایک نئی توانائی بھر دے گا، آپ کے ارادے مضبوط کرے گا اور آپ کو بتائے گا کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔خدا بھی اُس بندے کے ساتھ ہے جو ترقی کرنے کے عزم پر قائم رہے، چاہے حالات اُس کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔یقین رکھیں، ہر نیا سورج اپنے ساتھ نئی امیدیں لے کر طلوع ہوتا ہے۔ اگر آج کا دن سخت ہے تو کل کی صبح بہتر ہوگی اور اگر کل بہتر ہوا تو پرسوں بہترین ہو جائے گا۔اصل راز یہی ہے کہ سوچ کو مثبت رکھیں، نیت کو مضبوط کریں اور محنت جاری رکھیں۔ پھر دیکھئے گا وقت کیسے آپ کی زندگی میں خوشگوار تبدیلیاں لاتا ہے۔
    اس طرح آپ کا کل بہتر سے بہترین ہوتا جائے گا۔
    زندگی کی گہماگہمی میں ایک جملہ ہمیشہ دل کو تھامے رکھتا ہے:
    ’’ہمیشہ یہی سوچ کر جِئیں کہ آج سے بہتر میرا آنے والا کل ہوگا۔‘‘
    یہ جملہ بظاہر سادہ سا لگتا ہے مگر حقیقت میں یہ انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دینے کی طاقت رکھتا ہے۔
    دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، کامیاب لوگ وہی تھے جنہوں نے حالات سے نہیں، اپنی امید سے سیکھا۔ وہ گر بھی گئے، ٹوٹے بھی، مگر ہر بار خود کو یہی تسلی دی کہ ’’اگلا لمحہ، اگلا دن، اگلا کل… آج سے بہتر ہوگا۔‘‘
    مایوسی آہستہ آہستہ انسان کے اندر کے چراغ بجھاتی ہے۔
    یہ قوتِ ارادی کم کرتی ہے اور مستقبل کا خوف بڑھاتی ہے۔
    لیکن امید اس کے بالکل برعکس ہے۔
    یہ ٹوٹی ہوئی ہمتوں کو جوڑتی ہے، سوچ کو روشن کرتی ہے، اور انسان کے اندر وہ روشنی پیدا کرتی ہے جو اندھیری راتوں میں بھی راستہ دکھا دیتی ہے۔
    کامیابی کا پہلا قدم مثبت سوچ ہے۔
    اگر آپ یہ طے کر لیں کہ ’’میرا آنے والا کل آج سے بہتر ہوگا‘‘ تو آپ کی ہر کوشش خودبخود اسی سمت میں چل پڑے گی۔
    سوچ جب روشن ہوتی ہے تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔
    اگر آج ناکامی ملی ہے تو کل کامیابی کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
    اگر آج راستہ مشکل ہے تو کل کوئی نیا موقع مل سکتا ہے۔
    اگر آج کوئی آپ کو نہیں سمجھ رہا تو کل حالات بدل سکتے ہیں۔
    اصل بات حوصلہ رکھنے کی ہے۔
    خدا فرماتا ہے:
    "میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔”
    یعنی جو نیت لے کر انسان آگے بڑھتا ہے، خدا اُس کے ساتھ ویسی ہی مدد کرتا ہے۔
    اگر آپ یقین رکھیں کہ آپ کا مستقبل بہتر ہونے والا ہے تو اللہ آپ کے لیے وہی راستے ہموار کرتا ہے۔
    بس شرط یہ ہے کہ نیت صاف ہو، اور محنت سچی۔
    یہ کائنات ہمیں ایک سبق دیتی ہے:
    رات جتنی بھی لمبی ہو، آخر سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔
    اسی طرح زندگی کا ہر مشکل مرحلہ ایک نہ ایک دن ختم ہو جاتا ہے۔
    بس انسان کو ٹوٹ کر بیٹھ جانے کے بجائے خود کو سنبھالنا ہوتا ہے۔
    آج اگر حالات سخت ہیں تو کل نرم ہوں گے۔
    آج اگر تاریکیاں زیادہ ہیں تو کل روشنی ضرور آئے گی۔
    اور یہی یقین انسان کو زندہ رکھتا ہے۔
    آپ بس اپنا مقصد واضح کرنے، محنت کرنے اور مثبت سوچ رکھنے کا عزم کریں۔
    وقت وہی لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو خود کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔
    یقین کیجیے
    اگر آپ آج یہ فیصلہ کر لیں کہ ’’میرا آنے والا کل بہتر ہوگا‘‘ تو واقعی آپ کا کل بہتر سے بہترین ہوتا جائے گا۔

  • افسانہ،جامہ جاہ  ،تحریر:پارس کیانی

    افسانہ،جامہ جاہ ،تحریر:پارس کیانی

    سائرہ آج یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہوئے وہ اپنے سادے کپڑوں کو دیکھ کر دبی آواز میں بولی،
    "کاش… کبھی میں بھی اچھی لگوں۔”
    اس کی آواز میں حسرت تھی، مگر وہ جانتی تھی کہ گھر کے حالات مہنگی خواہشوں کی اجازت نہیں دیتے۔

    دروازہ کھلا تو امی اندر آئیں۔ ہاتھ میں ایک بیگ تھا۔
    "یہ لو بیٹا… آج تم یہ پہن کر جاؤ۔”
    سائرہ نے حیرت سے پوچھا، "امی! یہ… یہ تو نیا ہے؟ اور کافی مہنگا بھی لگ رہا ہے۔ کہاں سے لیا؟”

    امی نے مصنوعی مسکراہٹ کی اوٹ میں اپنی تھکن چھپاتے ہوئے کہا، "بس لے لیا۔ کبھی کبھی بیٹیوں کے لیے دل چاہتا ہے کچھ کر دوں… تم پہنو گی تو اچھی لگو گی۔”
    سائرہ نے کپڑے ہاتھ میں لیے تو محسوس ہوا جیسے کپڑا نہیں، امی کی کئی قربانیاں اس کی ڈنت میں میں لگی ہیں۔
    “امی۔۔۔۔۔ ضرورت نہیں تھی۔”
    امی نے نرمی سے جواب دیا، “ضرورت کبھی کبھی دل کی بھی ہوتی ہے، صرف جسم کی نہیں۔ جاؤ بیٹا، پہنو۔”

    سائرہ نے وہ کپڑے پہنے تو پہلی بار اسے لگا کہ شاید وہ واقعی اچھی لگ سکتی ہے۔ مگر دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔ جیسے اس لباس کی قیمت اس کی اپنی شخصیت سے کہیں زیادہ ہو۔
    یونیورسٹی پہنچی تو ماحول یکسر بدل گیا۔
    علی نے اسے دیکھتے ہی کہا،
    سائرہ! آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو!”
    نمرہ نے حیرت سے پوچھا، “یہ ڈریس کہاں سے لیا؟ بہت اسٹائلش ہے!”
    ایک اور لڑکی بولی، “یار، سائرہ! تمہاری کلاس” تو آج ہی بنی ہے!”

    سائرہ ان کی باتیں سنتی رہی، مگر تعریف کا ہر ہر تیر کی طرح دل میں چبھ رہا تھی۔
    اس نے دھیرے سے پوچھا، “میں اچھی لگ رہی ہوں… یا یہ کپڑے اچھے ہیں؟”

    نمرہ ہنس کر بولی، "ارے کپڑے تو انسان کو نکھار دیتے ہیں۔ آج تو تم پوری برانڈ لگ رہی ہو!”

    یہ لفظ” برانڈ” اس کے دل پہ بجلی بن کر گرا۔

    پورے دن وہ ہنستی رہی، باتیں کرتی رہی، مگر اندر اتھل پتھل جاری رہی۔
    اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے لوگ اسے نہیں، اس کے لباس کو دیکھ رہے ہوں۔
    اس کی ذات کہیں پیچھے،
    اور اس کا لباس اس کا تعارف بن گیا ۔۔۔۔۔لباس کی اہنی دیوار کے پیچھے سے وہ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر جھانک رہی تھی کہ لوگوں کو بتا سکے "میں یہاں ہوں” لیکن وہ گونگی چیخیں کسی کو سنائی نہ دیں۔

    شام کو واپس گھر پہنچ کر وہ سیدھی اپنے کمرے میں گئی۔ کپڑے اتار کر تہہ کرتے ہوئے اس نے امی کو آواز دی، "امی، لوگ۔۔۔۔۔( الفاظ گلے میں اٹک گئے )

    آج سب بہت اچھے تھے۔ سب تعریفیں کر رہے تھے۔”

    امی خوش ہو کر بولیں، "میں نے کہا تھا نا؟

    اچھا لباس انسان کو اعتماد دیتا ہے۔”
    ( کبھی کبھی اندر کے عقلمند انسان کو مار کر ،بظاہر ایک بے وقوف انسان کو بھی جینے کا حق دینا چاہیے )۔سائرہ کی ماں خود کلامی کے انداز میں گویا ہوئی۔

    سائرہ نے کپڑے کو ہاتھ میں پکڑا، پھر امی سے نظریں چرا کر آہستہ سے پوچھا، "امی… اگر میں یہی تعریفیں اپنے پرانے کپڑوں میں سن لیتی… تو شاید مجھے یقین آ جاتا کہ یہ میری اپنی قیمت ہے۔ لیکن آج… یہ سب سن کر میں عجیب الجھن میں ہوں۔”

    امی کچھ لمحے خاموش رہیں۔ پھر بولیں، “لوگوں کی نظر بدلتے دیر نہیں لگتی۔”

    سائرہ نے تلخی سے کہا، “ہاں امی… پر مسئلہ یہ ہے کہ آج ان کی نظر میں میں نہیں تھی… یہ برانڈ تھا۔ یہ کپڑے تھے۔ یہ قیمت تھی۔”

    امی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر سائرہ کی آنکھوں میں وہ تیز چمک تھی جو کسی گہری سمجھ بوجھ کے بعد پیدا ہوتی ہے۔

    رات گئے وہ تنہا بیٹھی رہی۔ کھڑکی سے باہر اندھیری گلی دیکھتی، اور اندر روشنی میں رکھے ہوئے ان کپڑوں کو۔
    اس نے دھیرے سے، جیسے خود کو سمجھاتے ہوئے کہا:

    “اگر میری عزت، میرا وقار، میری اہمیت… کسی کپڑے کی قیمت سے وابستہ ہو سکتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اصل میں میری کوئی قیمت تھی ہی نہیں۔”

    اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی، مگر الفاظ بہت صاف تھے:

    “لوگوں کی نظر میں میں وہی تھی… بس آج دس ہزار کے کپڑوں نے مجھے بدل دیا۔”

    وہ نیچے دیکھ کر کپڑوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔
    کپڑے نرم تھے، مگر حقیقت بہت کڑی۔
    اور اس وقت سارا نے اپنے ہاتھوں سے جلدی جلدی اپنے پورے جسم کو ٹٹول ڈالا، ایستادہ پنڈلیاں،نرم سینہ، چمکتے ،لہکتے بازو ،
    مہندی لگے ہاتھ ، روشن ماتھا ،دہکتے گال ،شکایت أمادہ گلابی ہونٹ ،مغرور ستواں ناک ،شفاف گردن ایسی کہ اندر پانی جاتا بھی دکھائی دے ،اور کچھ نہیں تو قیمتی دل ،آرزوؤں سے بھرا ہوا دل ،محبتیں بانٹنے اور محبت پا لینے کے لیے بے تاب دل ۔۔۔۔۔۔وہ جسم کے روئیں روئیں کی قیمت بنا رہی تھی کہ شاید اس کے لباس سے زیادہ قیمت کے نکل آئیں

    کیونکہ اس کے اندر کوئی چیخ رہا تھا ۔۔۔۔۔ُ
    سائرہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔! ! ! ! !

    “تمہاری قیمت دس ہزار بھی نہیں تھی لوگوں کی نظر میں۔”۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  • ابھرتی ہوئی شاعرہ  لیلی رب نواز کے اعزاز میں "شام پزیرائی” کا انعقاد،تحریر:  صائمہ اختر

    ابھرتی ہوئی شاعرہ لیلی رب نواز کے اعزاز میں "شام پزیرائی” کا انعقاد،تحریر: صائمہ اختر

    وہ خوبرو جو بچھڑنے کی بات کرنے لگا
    خزاں نے گھیر لیا خوش مزاج لڑکی کو
    تحریک دفاع قومی زبان و لباس شعبہ خواتین کی یہ روایت ہے کہ ہمیشہ نوجوان نسل، ان کے علم و فن / قابلیت اور جذبے کو سراہتی ہے۔ نئی ابھرتی ہوئی شاعرات اور لکھاریوں کے فکر و فن کو ادبی حلقوں سے روشناس کراتی ہے اور ان کے لیے ادب کی دنیا کی راہیں ہموار کرنا ہماری تحریک کا اولین مقصد ہے تاکہ ان کو وہ مقام و مرتبہ ملے جس کی وہ حق دار ہیں۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خوبصورت لب و لہجے کی مالک شاعرہ لیلی رب نواز کے اعزاز میں 3 نومبر 2025ء بروز بدھ ایک بزم "شام پذیرائی” کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت بانی و سرپرست عمارہ کنول نے کی۔ عمارہ کنول نے بزم میں شریک تمام سامعین کو خوش آمدید کہا ۔بزم کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت پرتاثیر آواز کی مالک حافظہ آصفہ ارشاد کو حاصل ہوئی۔ عائشہ راجپوت نے اپنے منفرد اور دلکش انداز میں حمدیہ اشعار پیش کیے۔ نظامت کے فرائض بھی محترمہ عائشہ راجپوت نے بڑی خوبصورتی اور احسن طریقے سے نبھائے۔ اس یادگار بزم میں محترمہ ام کسوہ، ندا عباس ( انگلستان)فہیمہ شیرازی ،عائشہ راجپوت ،نغمہ عزیز ،عنبرین فاطمہ ،عائشہ صدیق ،حمیرا انور،عائشہ فاطمہ ،فاطمہ اعجاز،عابدہ صابر، محترمہ تاشفہ،عائشہ سعد ،عائشہ یاسین اور راقمہ صائمہ اختر نے شرکت کی۔ محترمہ فہیمہ شیرازی ے بہت پیارے اور منفرد انداز میں میٹھی بولی سرائیکی میں اپنا کلام پیش کیا۔

    لیلی رب نواز کو دعوت سخن دیا گیا انہوں نے اپنا پسندیدہ خوبصورت کلام سنا کر سامعین سے خوب داد سمیٹی۔ عائشہ راجپوت ے لیلی رب نواز صاحبہ سے کچھ سوالات کیے شاعرہ نے بہت خوبصورت انداز میں تمام سوالات کے جوابات دئیے۔ انہوں نے بتایا ان کے پسندیدہ شاعر محسن نقوی ہیں۔ لیلی رب نواز نے اپنی شاعری کے موضوعات پر بات کی۔ محبت، احساس، قدرت کی خوبصورتی پیڑ، پہاڑ اور پھول ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ انہوں نے زندگی کے تلخ حقائق کو بہت کم موضوع سخن بنایا ہے۔ شعری فن کی خوبصورتی، الفاظ کا انتخاب اور وزن و بحر کا استعمال ذہنی سکون اور خوشی کا سبب بنتا ہے لیلی رب نواز کی شاعری سن کر بالکل ایسا ہی لگا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں داخلی کیفیات، احساسات اور درد کی شدت کو بڑی سچائی اور خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں جذبات و احساسات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اختتام میں عمارہ کنول نے تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا یوں ایک خوبصورت اور یادگار محفل اختتام کو پہنچی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے تحریک دفاع قومی زبان و لباس اسی طرح ترقی کرتی رہے اور نو آموز لکھاریوں کے لیے ایسی محافل کا انعقاد کرتی رہے تاکہ ہم ادب اور اپنی زبان سے جڑے رہیں

  • شور نہیں شعور کا راستہ چنیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    شور نہیں شعور کا راستہ چنیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی قوم کا اجتماعی شعور تھکا ہوا ہو۔ دل بوجھل ہو اور نظر دھندلا گئی ہو ملک کے سیاسی منظرنامے پر جو شور، الزام تراشی، بدزبانی اور عدم برداشت چھایا ہوا ہے، اسے دیکھ کر شائبہ ہوتا ہے جیسے کہ ہم ایک ایسی کھائی کے کنارے کھڑے ہیں جہاں سے واپس پلٹنے کے لیے بہت مضبوط ارادہ درکار ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں اداروں پر تنقید ہوتی ہے مگر وہ تنقید دلیل کے ساتھ اور تہذیبی دائرے میں کی جاتی ہے۔ مگر وطن عزیز میں حالیہ برسوں میں جو زبان، جو لہجہ اور طرز بیان اختیار کیا گیا ہے وہ ریاستی اداروں سمیت ہر اس ستون کے لیے مایوس کن ہے جو کسی قوم کی بقا کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ یہ محض زبان کا بگاڑ نہیں ایک گہری سماجی بے چینی کی علامت ہے۔ اصل مسلہ یہ ہے کہ ملک میں قیادت کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے ہمارے سیاسی رہنماؤں میں برداشت، بردباری، حکمت اور وقار کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جذباتیت اور ردعمل نے وسعتِ نظر کی جگہ لے لی ہے۔ سیاست دلیل سے ہٹ کر نعروں تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ وہ چند لوگ جو تحمل اور وقار سے بات کرنا جانتے ہیں انکی آواز شور میں دب کر رہ گئی ہے۔

    یہ بحران صرف سیاست تک محدود نہیں معاشرتی رویے بھی اسی انتشار کی جھلک دکھاتے ہیں۔ اختلاف رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے۔ گفتگو کا معیار گر گیا ہے عوام مہنگائی، بیروزگاری اور غیر یقینی کے بوجھ تلے مایوسی کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ اور جب قوم کے دل میں امید کم ہو جائے تو زبان میں سختی اور رویوں میں تلخی بڑھ جایا کرتی ہے۔ مگر یہ تصویر پوری نہیں حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں آج بھی بیشمار سمجھدار، معتدل، باشعور اور سنجیدہ افراد موجود ہیں۔ سیاست دان، دانشور، صحافی، سرکاری افسران، نوجوان اور عام شہری جن کی سوچ میں توازن اور دل میں ملک کے لیے اخلاص موجود ہے مگر انکی آوازیں کمزور ہیں جبکہ جذباتی بیانیہ زیادہ زور سے بولا جا رہا یے۔ وطن عزیز کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ دلیل پر مبنی مکالمہ، شائستگی کی بحالی اور ایسی قیادت جو قوم کو تقسیم نہیں، جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو، قیادت وہی جو صرف سیاسی قوت نہ رکھتی ہو بلکہ اخلاقی قوت بھی رکھتی ہو جو قوم کے زخموں کو پہچانے اور ان ہر مرہم رکھ سکے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں بحران سے گزرتی ہیں مگر جو قومیں بحران کو اپنا استاد بنا لیں وہ ٹوٹتی نہیں سنورتی ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ شدید ضرور ہے مگر ناقابل حل ہرگز نہیں بس ضرورت اس امر کی ہے ہم بطور قوم فیصلہ کر لیں کہ ہمیں شور نہیں شعور کے راستے پر چلنا ہے۔

  • چڑیا چُک سے چالان چُک تک، پنجاب کی سڑکیں شاہراہِ خوف بن گئیں

    چڑیا چُک سے چالان چُک تک، پنجاب کی سڑکیں شاہراہِ خوف بن گئیں

    چڑیا چُک سے چالان چُک تک، پنجاب کی سڑکیں شاہراہِ خوف بن گئیں
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    یہ شاید نوے کی دہائی کی بات ہے یا اس سے پہلے کی ہو۔ پنجاب کے ایک پرانے ریسٹ ہاؤس کو تھانہ بنا دیا گیا تھا۔ چھت کے روشن دان میں ایک چڑیا نے گھونسلا بنایا ہوا تھا۔ بچے تھے، جو بار بار گرتے تھے۔ SHO رحمدل تھا، خود اٹھاتا اور واپس رکھ دیتا۔ پھر سنتری لگ گیا، پھر روزنامچے میں اندراج ہوا کہ ’’چڑیا چُک‘‘ کی ڈیوٹی لگائی جائے۔ کئی SHO بدل گئے، کئی محرر آئے گئے، چڑیا کے بچے اُڑ گئے، گھونسلا خالی ہو گیا مگر ’’چڑیا چُک‘‘ کی ڈیوٹی روزانہ لگتی رہی۔ آخر ایک اعلیٰ افسر نے وزٹ کیا، پوچھا: ’’یہ چڑیا چُک کیا ہے؟‘‘ ساری کہانی سنی تو ہنستے ہنستے وہ ڈیوٹی ختم کر دی۔

    آج 2025 ہے۔ چڑیا چُک تو ختم ہو گئی مگر اب ’’چالان چُک‘‘ کا نیا کھیل شروع ہو گیا ہے، اور یہ کھیل اتنا بے رحم ہے کہ چڑیا کے بچے بھی رونے لگیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں چھیاسٹھ ہزار سے زائد چالان، آٹھ کروڑ سے زیادہ جرمانے، چوبیس ہزار کے قریب گاڑیاں تھانوں میں بند، اٹھائیس ہزار ہیلمٹ چالان، اور صرف ہیلمٹ نہ پہننے پر ساڑھے چار ہزار مقدمات۔ یہ اعداد و شمار نہیں، ایک جنگ کے اعداد و شمار ہیں—وہ جنگ جو عوام کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔

    میں نے خود اپنے شہر میں دیکھا کہ پولیس والا موٹر سائیکل روکتا ہے۔ ’’ہیلمٹ کہاں ہے؟‘‘ جواب: ’’گھر بھول گیا سر۔‘‘ ’’چالان کروں؟ دو ہزار کا۔‘‘ ’’سر کچھ کر لیں۔‘‘ ’’ہزار دے دو، جان چھوڑو۔‘‘ ایک منٹ میں معاملہ طے۔ نہ چالان ہوا نہ مقدمہ۔ یعنی جو ہزار دے سکتا ہے وہ بچ گیا اور جو نہیں دے سکتاتواس کا دو ہزار کا چالان، گاڑی ضبط، تھانے کے چکر، عدالت کے چکر۔ یہ قانون کی عملداری نہیں، غریب دشمنی ہے۔ مگر سڑک کنارے کھڑا وہی وردی والا پانچ سو سے ہزار لے کر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ قانون نافذ کر رہے ہیں یا نیا ٹیکس سسٹم چلا رہے ہیں؟

    مریم نواز نے بالکل درست کہا تھا کہ حادثات بہت بڑھ گئے ہیں، ہیلمٹ لازمی ہونا چاہیے، ٹریفک قوانین پر عمل ہونا چاہیے۔ مگر جس بے رحمی اور جلد بازی سے یہ مہم چلائی گئی، اس نے اچھی نیت کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔ یہی پولیس ہے جس نے دس سال تک چڑیا چُک کی ڈیوٹی لگائی، یہی پولیس ہے جس نے آر پی او کے بچوں کے لیے رات نو بجے گھوڑے بھیج دیے کیونکہ ’’صبح پانچ بجے‘‘ کا پیغام رات گیارہ بجے سے پہلے پہنچ گیا تھا۔ اب یہی پولیس چوبیس گھنٹے میں چھیاسٹھ ہزار چالان کر رہی ہے؟ یہ کارکردگی نہیں، انتقام ہے۔

    واٹس ایپ پر ویڈیوز گردش کر رہی ہیں: بوڑھا رو رہا ہے، بیٹی کی شادی کے پیسے جمع کیے تھے، موٹر سائیکل ضبط ہو گئی۔ خاتون بچوں سمیت سڑک پر کھڑی ہے، کار ضبط—شوہر دفتر سے آئیں گے تب گھر جائیں گی۔ طالب علم تھانے بیٹھا رو رہا ہے، یونیورسٹی جانے نکلا تھا۔ پورا پنجاب ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جو وزیراعلیٰ چند ماہ پہلے عوام کے دلوں پر راج کر رہی تھی، آج ایک فیصلے نے اسے زیرو پر لا کھڑا کیا ہے۔ عوام کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ووٹ اس لیے نہیں دیا تھا کہ سڑک پر نکلنا گناہ بن جائے۔

    اچھی نیت کافی نہیں ہوتی۔ ہیلمٹ لازمی ہو مگر پہلے پانچ سو سات سو والا اچھا ہیلمٹ مارکیٹ میں دستیاب ہو۔ پہلے مہینے صرف وارننگ ہو، پھر چالان ہو۔ جو غریب دو ہزار نہیں دے سکتا اسے قسطیں دی جائیں۔ رشوت لینے والے کو فوری معطل کیا جائے۔ چالان کی رقم کا بڑا حصہ ہیلمٹ سبسڈی پر لگے۔ ورنہ یہ مہم چند دنوں میں ختم ہو جائے گی، جیسے چڑیا چُک ختم ہوئی تھی، مگر تب تک عوام کا اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہو گا۔

    مریم نواز صاحبہ، عوام کو سڑک پر خوفزدہ کر کے حادثات کم نہیں ہوتے۔ ہیلمٹ پہننا سکھانا پڑتا ہے، زبردستی نہیں کروایا جاتا۔ ورنہ تاریخ لکھے گی کہ ایک وزیراعلیٰ نے حادثات روکنے کے لیے مہم شروع کی، اور چند دنوں میں عوام نے انہیں دل سے نکال دیا۔ چڑیا چُک تو ختم ہو گئی تھی، اب چالان چُک کا کیا کریں گے؟

  • آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے غلط رویہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے غلط رویہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کے سیاسی ماحول میں ایک خطرناک رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے۔ سیاسی اختلافات، ذاتی مفادات اور سستی شہرت کی دوڑ نے کچھ عناصر جن میں یوٹیوبرز، غیر ذمہ دار سوشل میڈیا اور دوسرے ویلاگرز نے اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف من گھڑت افواہیں پھیلانا اپنا معمول بنا چکے ہیں۔ یہ طرز عمل نہ صرف اخلاقی انحطاط کا مظہر ہے۔ بلکہ قومی سلامتی پر براراست حملہ بھی ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے ادارے خصوصا عسکری قوت اس ملک کی دفاعی دیوار ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جنکے افسران اور جوان ہر لمحہ اپنی جان کو داو پر لگا کر ملک کی سرحدوں کے محافظ بنے کھڑے ہیں۔ ان میں سے کئی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں ایسے میں ان کے خلاف جھوٹے الزامات اور بے بنیاد پروپیگنڈہ نہ صرف شہداء کے خون کی توہین ہے بلکہ معاشرے میں انتشار اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔

    بلاشبہ اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر اس آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے کرنا انکی ساکھ مجروح کرنا اور عوامی اعتماد کو متنززل کرنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ دنیا کی ذمہ دار ریاست میں ایسی منفی سرگرمیوں کے خلاف سخت قوانین موجود ہوتے ہیں اور ان قوانین کا نفاذ قومی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے پھیلاو کو روکنے کے لیے واضح اور سخت حکمت عملی وضع کی جائے ساتھ ہی عوام کو معلومات کی تصدیق اور ذمہ دارانہ رویے کی اہمیت سے آگاہ کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت مدنظر رکھنا چاہیے کہ ریاست ہمیشہ مقدم رہتی ہے سیاست بعد میں۔ اگر سیاسی فائدے یا ذاتی شہرت کے لیے اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا تو اسکے اثرات قوم کی اجتماعی وحدت، سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

    وطن عزیز اس وقت جن چیلنجز سے دوچار ہے وہ ہم سے زیادہ ذمہ داری، اتحاد اور سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ افواہوں کی سیاست کے خلاف اجتماعی شعور اور ریاستی سطح پر مضبوط کاروائی ہی ملک کو اس خطرناک رجحان سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

  • جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاست کے بدلتے ہوئے تناظر میں جماعت اسلامی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گزستہ دنوں لاھور میں ہونے والا جماعت اسلامی پنجاب کا تاریخی اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی ایک بار پھر اپنی تنظیمی طاقت بحال کرنے اور عوامی سیاست میں نئی روشنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لاہور کا اجتماع صرف ایک تنظیمی تقریب نہیں تھا بلکہ یہ جماعت کی سیاسی سمت کے تعین میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کی حالیہ مقبولیت اس اسکے سیاسی مستقبل کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں جماعت نے جس موثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف شہری طبقات میں اسکی ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ یہ تاثر بھی قوی ہوا کہ جماعت اسلامی ابھی صرف نظریاتی ووٹرز تک محدود نہیں بلکہ شہری مسائل کے حل کے لیے ایک سنجیدہ متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ، پانی، نکاسی، تجاوزات اور شہری سہولیات جیسے مسائل پر جماعت کی مسلسل مہم نے اسے دیگر جماعتوں کے مقابلے میں عملی سیاست کا نیا چہرہ فراہم کیا۔ یہ وہ کریڈٹ ہے جو اب پنجاب سمیت دیگر صوبوں تک منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پنجاب تاریخی طور پر مذہبی اور نظریاتی سیاست کے لیے زرخیز رہا ہے مگر گزشتہ دہائیوں میں جماعت اسلامی جہاں مطلوبہ انتخابی نفوس پیدا نہ کر سکی تاہم لاھور میں حالیہ اجتماع نے یہ تاثر بدلا ہے۔ اس اجتماع میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت سے یہ واضح ہوا کہ جماعت اب پنجاب میں ایک نئے بیانیے اور نئی تنظیمی حکمت عملی کیساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ جماعت کی نئی حکمت عملی تین اہم نکات ہر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ تنظیمی ڈھانچے کی بھرپور بحالی۔ بلدیاتی سطح پر فعال موجودگی۔ عوامی مسائل کے حل کو نظریاتی سیاست کیساتھ جوڑنا۔ اگر جماعت اپنے بیانیے کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی تو پنجاب میں اسے پہلے سے بہتر عوامی پزیرائی مل سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کا نوجوان منظر نامہ، مواقعے اور چیلنجز دونوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف عوام کی نظریاتی سیاست سے مایوسی جماعت کے لیے جگہ پیدا کر رہی ہے، تو دوسری طرف روایتی بڑی جماعتوں کا دباؤ اس کے لیے سخت امتحان بھی ہے۔ سیاسی منظر نامے میں جماعت اسلامی کا مستقبل چند باتوں پر منحصر ہو گا۔ کیا جماعت اسلامی کراچی ماڈل کو پنجاب میں دہرا سکے گی؟ کیا قیادت نوجوان ووٹرز تک رسائی برھا سکے گی؟ کیا جماعت اپنی عوامی سیاست کو جدید میڈیا اور تنظیمی اسٹرجیٹی کے مطابق ڈھال سکے گی؟ اگر یہ تینوں سوالات کے جوابات مثبت ہوئے تو جماعت اسلامی نہ صرف پنجاب میں بلکہ قومی سطح پر بھی اپنی سیاسی حیثیت بہتر بنا سکتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک بار پھر پاکستانی سیاست کے افق پر نئی توانائی کیساتھ ابھر رہی ہے۔ لاھور کا اجتماع اس سفر کا نیا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ کراچی کی کامیابی جماعت کے لیے اعتماد کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر جماعت اپنی پالیسیوں میں یکسوئی برقرار رکھتی ہے تو وہ پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی سیاست بدلتے موسموں کی کہانی کی طرح ہے۔ کبھی کوئی جماعت مرکز نگاہ بنتی ہے، تو کبھی کوئی تحریک دھڑکنوں میں اتر آتی ہے۔ تاہم پاکستان کی سیاست میں خلا موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی اس خلا کو کیسے اور کس حد تک پر کرتی ہے۔ جماعت اس جگہ کو عملی سیاسی قوت میں بدل سکے گی یا نہیں۔ پنجاب کا سیاسی نقشہ فیصلہ کن رہا ہے یہاں کے ووٹر کا رحجان ملک کی مجموعی سیاست کی سمت تعین کرتا ہے۔ لاھور کے حالیہ اجتماع نے یہی پیغام دیا کہ جماعت اسلامی پنجاب میں ایک نیا آغاز چاہتی ہے اور شاید کر بھی چکی ہے۔

  • رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    ادب کے وسیع آسمان پر کچھ شخصیات ستاروں کی طرح نہیں، ماہتاب کی طرح طلوع ہوتی ہیں؛ ان کی روشنی میں چاندنی بھی ہوتی ہے، لطافت بھی، اور ایک ایسی شائستگی بھی جو نگاہ کو ٹھہرنے پر مجبور کر دے۔رقیہ غزل انہی ماہتاب چہروں میں سے ایک ہیں،ایک مکمل جمالیاتی تجربہ،ایک دلنشیں احساس،اور ایک ایسی خالص روشنی جو لفظوں کے کینوس پر اپنا عکس چھوڑ جاتی ہے۔

    رقیہ غزل کی خوبصورتی صرف ظاہری رنگ و نگار کا نام نہیں،یہ ایک تہذیبی جمال ہے، جس میں پاکستانی اقدار کی مہک اور نسائی وقار کی چمک ہم آہنگ ہو کر دل پر اترتی ہے۔ان کی موٹی، خواب رنگ آنکھیں ایسے لگتی ہیں جیسے ہر پل کسی نئے استعارے کو جنم دینے والی ہوں۔ان کی موجودگی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ محفل کا موسم بدل گیا ہو،ہوا میں نرمی گھل گئی ہو،لفظوں میں تازگی اتر آئی ہو،اور فضا میں ایک مسحورکن سا سکوت بکھر گیا ہو۔

    جب وہ پاکستان کے روایتی لباس میں ملبوس، سر پر نفاست سے رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھے محفل میں قدم رکھتی ہیں، تو دیکھنے والے کے دل میں پہلی ہی نظر میں یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ ادب ابھی زندہ ہے، اقدار ابھی سانس لے رہی ہیں۔
    دوپٹے کی نرم لہریں ان کے وجود پر یوں مہکتا ہوا سایہ ڈالتی ہیں جیسے شخصیت کے گرد روشنی کا ہالہ ہو،پاکیزگی، ذہانت اور لطافت کا امتزاج،رقیہ غزل جب بولتی ہیں تو لگتا ہے الفاظ زبان سے نہیں، نیلے آسمان سے اترتے ہیں۔ان کے لہجے میں نرم روشنی بھی ہے اور ہمت بھی،وہ سچ کہتی ہیں، وہ دلیل دیتی ہیں، مگر دل کی زمین کو زخمی نہیں کرتیں۔

    نوائے وقت میں ان کے کالم پڑھنے والا جانتا ہے کہ یہ صرف تحریر نہیں،سوچ کے دریچوں میں پڑتی ہوئی وہ دھوپ ہے جس سے بصیرت کا جگنو روشن ہوتا ہے۔ادبی محفل ہو اور رقیہ غزل موجود نہ ہوں تو محفل ایک رنگ کم محسوس ہوتی ہے۔وہ آتی ہیں تو محفل کا لہجہ بدل جاتا ہے،مشاعرہ گویا ایک نعتیہ سکون میں ڈھل جاتا ہے،اور سامعین ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں جیسے کوئی نادر نسخۂ کمال کھلنے ہی والا ہو۔ان کی شخصیت، ان کے لب و لہجے، ان کے اندازِ نشست و برخاست میں ایک ایسا جمال ہے جو ایک پوری محفل کو معنوی بنادیتا ہے۔

    اگر ایک جملے میں ان کا تعارف ممکن ہو تو یوں کہا جائے رقیہ غزل وہ خوبصورت تحریر ہے جسے خدا نے انسان کی صورت میں لکھا۔رقیہ غزل ادب کی وہ شخصیت ہیں جن کے ہونٹوں سے نکلا ہوا ہر شعر، ہر کالم، ہر جملہ ایک نئے سفر کی دعوت دیتا ہے۔ وہ صرف لکھتی نہیں وہ زندگی کے تجربات کو لفظوں میں ڈھال کر دوسروں کے دلوں میں رکھ دیتی ہیں۔
    ادب کے ایسے چراغ کم جلتے ہیں، مگر جب جلتے ہیں تو صدیوں تک روشنی دیتے رہتے ہیں