Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تعلیمی انقلاب یا تعلیمی بحران؟ خودکشی کرنے والے پنجاب بورڈز کے دو سٹوڈنٹس کا معصومانہ سوال تحریر ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    پنجاب میں تعلیمی انقلاب نہیں تعلیمی بحران آنے کو تیار ہے، دو سٹوڈنٹس پنجاب بورڈز کی نااہلی کی وجہ سے ایک بہتر مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے آنکھیں بند کر گئے، ہزاروں اس سوچ میں ہیں کہ اگر بورڈ نے ہاتھ نہ پکڑا تو شائد وہ زندگی سے ہاتھ دھونے پر مجبور ہوجائیں، اس ساری صورتحال میں بورڈ حکام خاموشی کی نیند سے بیدار ہونے کو تیار نہیں، اگر ہزار کوشش کے بعد بات کا موقع مل بھی جائے تو یہ کہ کر معاملہ ختم کیا جارہا ہے بورڈز کی جانب سے بہترین نتائج دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن چیکر کی جانب سے دئیے گئے مارکس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، اب کون نہیں جانتا کہ ان بورڈز میں چیکر کس طرح 18 روپے فی پیپر کی گیم میں زیادہ سے زیادہ پیسے بنانے کی ریس میں کس طرح اپنے ہاتھوں سے بچوں کے مستقل کو کچلتے ہوئے پیسہ بناتے ہیں اور اس بار تو 5 فیصد اضافی نمبرز کا فارمولہ، صرف تین سائنسی سبجیکٹس اور باقی فارمولہ کی بنیاد پر مارکس کی بے دریغ تقسیم یعنی بہتی گنگا میں بڑے بڑے تعلیمی اداروں کی خوب ڈبکیاں لگوائی گئیں، جس کو دیا گیا چھپڑ پھاڑ کر کہ ایک ہی سکول ایک ہی کلاس کے 30 بچوں کے 1100 میں سے 1100 آگئے لیکن دوسری جانب میٹرک میں 90 فیصد سے زائد نمبرز لینے والوں کو جیسے کہیں کا نہ چھوڑا گیا کوئی 40 فیصد کوئی 42 فیصد پر آگرا، اب معاملہ کچھ یوں ہے کہ سال تو ضائع ہو ہی گیا لیکن جوا شروع کر دیا گیا یعنی آفر کچھ یوں دی گئی کہ اگر آپ کو بورڈ کی جانب سے دئیے گئے نمبرز پسند نہیں تو آپ ایک حلف نامہ جمع کروائیں اور بورڈ حکام کے نام درخواست دیں جس میں آپ یہ تحریر کریں کہ موجودہ نتائج غیر تسلی بخش ہونے کی وجہ سے میں یہ نتیجہ قبول نہیں کرنا چاہتا اس لیے اسے کینسل کرتے ہوئے مجھے دوبارہ نومبر میں ہونے والی حکومت کی خصوصی مہربانی کی بدولت سپیشل امتحانات میں بیٹھنے کا موقع دیا جائے یہاں تک سب بظاہر ٹھیک ہوتا ہے لیکن معاملہ کچھ یوں ہے کہ اگر آپ نومبر میں بھی بورڈ چیکرز کی نااہلی کا نشانہ بن گئے تو واپسی کا راستہ نہیں ہوگا، ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ کو آئندہ سال امپروومنٹ کا چانس ملے گا لیکن ممکنہ طور پر کتابیں بھی 12 ہونگی اور سلیبس بھی پورا۔۔۔ اب معاملہ یہ ہے کہ میٹرک میں 94 فیصد والوں کو جب 39 فیصد کی خبر ملی تو ان کی جانب سے جینے کی امید چھوڑ دی گئی باقی دوسری جانب ایسے خوش نصیبوں کی تعداد بھی تھوڑی نہیں جن کو میٹرک کے تھوڑے نمبرز کے باوجود انٹر میں ٹاپ پوزیشنز سے نواز دیا گیا، اب صورتحال کچھ یوں بن چکی کہ بظاہر خوش نظر آنے والے ٹاپرز بھی اندر سے پریشان ہیں ان کو لگتا ہے کہ اگر بورڈ کی جانب سے کوئی انکوائری ہو گئی تو خوشیاں واپس جانے کے امکانات ہیں، بورڈ حکام سے امید تھی کہ انٹر کے بعد میٹرک میں وہی کارنامے سرانجام دینے کا عمل دہرایا نہیں جائے گا لیکن میٹرک میں تو ریکارڈز ہی توڑ ڈالے گئے مارکس کی بندر بانٹ بالکل اسی طرز پر ہوئی یعنی ایک مخصوص سوچ کو نواز دیا گیا اور باقیوں کو کوڑیوں سے داموں بیچ دیا گیا، موجودہ صورتحال میں تبدیلی سرکار کے بلندوبانگ دعوے پھیکے پڑتے نظر آتے ہیں تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کرنے کی دعویدار بزدار سرکار اس ساری صورتحال میں بھنگ کے نشے میں چور دکھائی دیتی ہے مریم نواز کے فیصل آباد جلسے پر تبصرے کرنے کے لیے تمام حکومتی وزرا کی فوج تیاری کے ساتھ پریس کانفرنس، ٹاک شوز میں تقاریر جھاڑتی نظر آتی ہے سوشل میڈیا پر ہر دو منٹ بعد ایک نیا فلسفہ متعارف کرواتے ہوئے نیا بیان بھی داغ دیا جاتا ہے لیکن قوم کے مستقبل پر بات کرنے کو بظاہر کوئی تیار نظر نہیں آتا، حکومت کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر سڑکوں پر ہونگے لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وزیراعظم کو مدد کی اپیل کرتے نظر آئیں گے لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر احتجاج، دھرنے اور پولیس کی لاٹھیوں کا نشانہ بنتے نظر آئیں گے اس کے بعد کہیں جاکر پنجاب حکومت شائد کوئی کمیشن کوئی انکوائری کمیٹی بنا دے اور ایک نیا لولی پاپ بچوں کو تھما دیا جائے، کیا ہی اچھا ہو کہ وزیراعظم عمران پنجاب میں اپنے وسیم اکرم یعنی بزدار صاحب کو معاملے کی انکوائری کی ہدایات کریں اور دونوں لاڈلے وزرائے تعلیم مراد راس اور ہمایوں سرفراز کی سربراہی میں ایک ٹیم بنا دی جائے جس میں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران خصوصا ڈپٹی سیکرٹری بورڈز اور پی بی سی سی کے دیگر عہدیداروں کو حصہ بنا کر ایک انکوائری کر لی جائے جس میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا یہ نہ ہوا تو بورڈز کے ان نتائج کے اثرات دورس ہونگے اور اثرات صرف کم مارکس والے بچوں کی نہیں فل مارکس والے بچوں کی زندگیوں پر بھی اثر انداز ہونگے اور سب سے بڑھ کر پنجاب بورڈز کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوگی اب فیصلہ حکومت کے ہاتھوں میں ہے

  • ایک بوند زندگی  تحریر : سید وسیم

    twitter / @S_paswal 
     

    وہ شخص سنسان صحرا میں پیاس کی شدت سے نڈھال بیٹھا کسی معجزے کا انتظار کر رہا تھا ۔ گرمیوں کی تیز دھوپ میں صحرا کے میدان میں پانی کی تلاش ۔ یہ تو ایسا ہی تھا کہ کسی مردے کو جگانا ۔ 

    ‏پانی قدرت کی ایک بہترین نعمت ہے جو فقط انسانوں کے لئے نہیں بلکہ جانوروں کے لئے بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے ۔ پانی کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں ۔ کائنات کی تکمیل سے لے کر انسان کی تشکیل تک پانی ایک ایسا عنصر ہے جسکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن جب بھی انسان کسی شے کا بے دریغ استعمال کرتا ہے تو قدرت کو یہ چیز پسند نہیں آتی ۔ اب غلط استعمال کی وجہ سے پانی کی قلت کے خطرات منڈلا رہے ہیں ۔ 

    ‏لفظ پانی دراصل سنسکرت سے ماخوذ ہے۔ انگریزی میں’ واٹر’، فارسی میں’ آب’ اور عربی میں’ ماء’ کہاجاتا ہے۔ ایک تحقیق کےمطابق زمین کا 70.9 حصہ پانی سے گھرا ہوا ہے۔ ارسطونے اس کائنات کو آگ ، مٹی ہوا اور پانی کا مجموعہ قراردیا ہے ۔کائنات کی تشکیل میں پانی کا اہم حصہ ہے ۔

    ‏پانی کا مسئلہ نیا نہیں یہ مسئلہ تو شروع سے چلا آ رہا ہے کبھی اسی پانی کے چشمے پھوٹے تو کبھی اس کے کنوؤیں غریبوں میں بانٹ دئیے گئے ۔ اسی طرح یہ مسئلہ پاک و ہند کا بھئ ہے ۔ فقط یہی نہیں یہ مسئلہ تو پوری دنیا کا ہے شاید ۔ کیونکہ دریائے نیل  ترکی مصر اور دیگر ممالک میں مسائل کا سبب ہے ۔ یہ بات بھی ممکن ہے کہ تیسری جنگ عظیم کی وجہ پانی ہو۔ اس کے علاوہ زیر زمین پانی میں کمی زندگی کیلئے ایک خطرہ ہے ۔ پانی کی قلت اوراس سے متعلق اگاہی کیلئے ہر سال 22 مارچ کو منایا جاتا ہے اور اس مہم کا آغاز 1993 میں ہوا۔  22 مارچ یوم آب کہلاتا ہے ۔ اور اس دن پانی کو بچانے اور اس کے تحفظ پہ آگاہی دی جاتی ہے تدریسی اداروں میں سیمینار اور ورک شاپس منعقد کی جاتی ہیں ۔ 

    ‏اسلامی نقطہ نظر سے انسان کی پیدائش کو پانی سے جوڑا گیا ۔ انسان کی تکمیل پانی اور مٹی سے ہوئی ۔ اللہ تعالی نے بیشتر مقامات پہ انسان کی پیدائش کو پانی کے ننھے قطرے سے جوڑا ۔ لیکن یہ پانی وہ نہیں جو ہمارے ادر گرد موجود ہے یہ وہ خاص قطرہ ہے جسے مادہ منویہ کہا جاتا ہے ۔ پھر انسان یہی غور کر لے کہ اس کی پیدائش کس چیز سے ہوئی۔ ایک اُچھلنے والے پانی سے اس کی پیدائش ہوئی جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتاہے۔ ( الطارق 7,8) 

    ‏”پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی سے چلائی” 

    ‏(السجدہ آیت نمبر 8) 

    ‏صرف یہی نہیں قران کریم کی گیا رہ آیات ایسی ہیں جن میں لفظ ماء کو انسان کی پیدائش سے جوڑا گیا ۔ اسکے علاوہ دین میں وضو ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے پانی بہت ضروری ہے مگر کیونکہ ہمارا دین ہمیں ہر معاملے میں میانہ روی کا درس دیتے ہوئے اسراف اور بخل سے بچنے کا حکم دیتا ہے اس لئے وضو کرتے ہوئے بھی پانی کو ضائع کرنے سے منع فرماتے ہوئے میانہ روی کا درس دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جہاں زندگی کے تمام پہلو پہ روشنی ڈالی وہی ہر معاملے میں درمیانی راستہ اختیار کرنے کا درس دیا ۔ اسلامی نقطہ نظر میں پانی کو طاہر یا امطہر کہا گیا اور اسے طہارت اور پاکیزگی سے جوڑا گیا ۔ پانی ایک ایسا عنصر ہے جس سے ہم پاکی حاصل کرتے ہیں ۔ یعنی ایسا پانی جو بے رنگ اور بدبو سے پاک ہو اسے پاک پانی کہا گیا اور اس سے طہارت کو جوڑا گیا ۔ 

    ‏آج ہمارے لئے ایک غوروفکر اور تشویش ناک کام یہ ہے کہ ہم ہر جگہ ہی اسراف کی زندہ مثال بنے بیٹھے ہیں ۔ آج گھر سے لے کر عبادت گاہ تک فیکٹری سے لے کر کارخانے تک ہر جگہ پانی کا ضیاء ہو رہا ہے ۔ پانی کا بے دریغ استعمال ہمیں اور ہماری زندگی کو ایک اور مقام پہ لے جائے گا ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس پہ بہت غوروفکر کی کی ضرورت ہے ۔ پانی کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے بہت سی کتابیں لکھی جا چکی جن میں پانی، ایک خنجر پانی میں، بہاؤ، اور پانی پر نشان وغیرہ شامل ہیں ۔ عالمی سطح پہ ماحولیات سے متعلق بہت کام ہورہا ہے جس میں گرین انیشیٹو اور گرین ڈپلومیسی بھی سر فہرست ہیں ۔ جس میں پانی کی آلودگی سے لے کر پانی کے ضیاء پہ آگاہی فراہم کی جاتی ہے ۔ عالمی سطح پہ ابھی مزید کام ہونے کی ضرورت ہے ابھی اس معاملے میں عالمی اداروں کو ساتھ ملُکر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ تدریس گاہوں میں اس پہ بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ میں آگاہی پھیلائیں اس سلسلے میں تقاریب مرتب کی جائیں ۔ اور آگاہی مہم کی سب سے زیادہ ضرورت دیہی علاقوں میں ہے کیونکہ وہاں لوگ تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ان چیزوں سے بے خبر ہیں ۔ پانی کا مسئلہ زندگی سے جڑا ہواہے۔ قرآن سے منسلک ہے ۔ حدیثوں میں اس کے متعلق احکامات ہیں ۔ کیوں کہ پانی وہ دھوری ہے جس کے ارد گرد ہماری زندگی کی چکی گھوم رہی ہے۔ تو آئیں ایک بوندہ زندگی کی اگلی نسل کیلئے بھی بچا کر رکھیں اور پانی جیسی نعمت کی قدر کریں ۔

  • چین کیسے معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا؟   تحریر: حماد خان

    چین کیسے معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا؟ تحریر: حماد خان

    جب چین کو آزادی ملی تو یہ ایشیا کے غریب ترین ملکوں میں سے ایک تھا۔بہت سے یورپی اور مغربی ممالک اس وقت چین کو ایک ملک بھی نہیں سمجھتے تھے. لیکن اب پچھلے ستر سالوں میں چین دولت اور فوج دونوں کے لحاظ سے ایک عالمی سپر پاور بن کر ابھرا ہے. چین اس مختصر وقت میں یہ کیسے کر پایا۔ آئیے اس مضمون میں دیکھیں.

    1987 میں چین کی فی کس جی ڈی پی 155 ڈالر تھی جو 2014 میں بڑھ کر 7590 ڈالر ہو گئی۔

    چینی معیشت پر ایک نظر, 

    چین دنیا کے 80 فیصد ایئر کنڈیشنر ، 70 فیصد موبائل فون ، 60 فیصد جوتے ، 74 فیصد سولر سیل ، 60 فیصد سیمنٹ ، 45 فیصد جہاز اور 50 فیصد سٹیل تیار کرتا ہے۔

    23.25 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ ، چینی معیشت دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر ابھری ہے۔ 2.2 ٹریلین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ ، چینی معیشت امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا نمبر ایک برآمد کنندہ بن گئی. 

    چین اپنی زمین پر 60 فیصد برانڈڈ لگژری سامان تیار کرتا ہے ، اس طرح اس تصور کو مسترد کرتا ہے کہ وہ صرف سستا سامان تیار کرتا ہے۔

    بڑے پیمانے پر پیداوار اور ڈمپنگ۔

    چینی معاشی اصلاحات نے ان کی پیداوار کو اتنے بڑے پیمانے پر بڑھانے میں مدد کی ہے کہ اس کی پیداواری لاگت بہت کم ہو گئی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر پیداوار کا گھر بن گیا ہے۔چینی صنعت کار اپنے وسائل اور توانائی کو جدت میں ضائع نہیں کرتے۔

    اس کے بجائے ، وہ ترقی یافتہ ممالک سے ٹیکنالوجی کاپی کرتے ہیں اور اپنی مصنوعات خود بنانا شروع کردیتے ہیں۔

    یہ ان کے اخراجات اور وسائل کو جدت ، R&D ، اور IPR پر بچاتا ہے۔چینی لیبر انتہائی پیداواری ہے. چینی حکومت نے صنعتوں کے ساتھ مل کر لیبر فورس کی مہارت کی ترقی پر کام کیا۔

    اس کے نتیجے میں چینی مزدوروں کی پیداوار ہندوستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

    اس کے برعکس ، ہندوستان میں ، ہنر کی ترقی اتنی مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کی گئی ہے۔ نتیجے کے طور پر ، زیادہ سے زیادہ لیبر فورس یا تو غیر پیداواری یا کم پیداواری ہے۔

    ہندوستانی مزدور ایک گھنٹے میں 10 موبائل بناتا ہے ، جبکہ چینی مزدور ایک گھنٹے میں 50 موبائل بناتا ہے. گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ، چین دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کے لیے پہلی پسند بن گیا ہے۔

    اس کے برعکس ، بھارت نے ابھی مینوفیکچرنگ کلسٹر قائم کرنا شروع کیا ہے جس میں تجربہ کار ہنر مند مزدور پیدا کرنے میں وقت لگے گا ، جبکہ یہ چین کے ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔

    سیاسی استحکام مینوفیکچرنگ کی ایک مقبول منزل کے طور پر چین کے ابھرنے کی بنیادی وجہ ہے۔

    چین اپنے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بھارت کے مقابلے میں عالمی شراکت دار کے لیے زیادہ مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ہندوستان میں ، بیوروکریٹک ریڈ ٹیپزم کی وجہ سے ، کاروبار شروع کرنے کے لیے کلیئرنس حاصل کرنے میں زیادہ وقت اور توانائی درکار ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھارت آنے سے گریزاں ہیں. چین معاشی سپر پاور بننے کے پیچھے سب سے اہم عنصر اس کے تعلیمی نظام کے سوا کچھ نہیں ہے۔

    چین نے تعلیم کو مزید عالمی اور عملی بنا کر بڑی اصلاحات لائی ہیں۔

    دوسری طرف ، ہندوستانی تعلیمی نظام اب بھی اس کے گرد گھوم رہا ہے جسے برطانوی میراث کہا جاتا ہے۔

    اس کے نتیجے میں ، چین میں ہندوستان کے مقابلے میں شرح خواندگی زیادہ ہے اور وہ ہندوستان کے مقابلے میں ہر سال گریجویٹس کی زیادہ تعداد پیدا کرتا ہے۔

    . صنعتی نیٹ ورک کلسٹرنگ۔

    چین نے مختلف مصنوعات کی تیاری کے لیے صنعتی کلسٹروں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔

    انہوں نے سپلائی چین شہروں اور کلسٹروں کو ایک ہی جگہ پر پروڈکٹ تیار کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔

    مثال کے طور پر

    – موبائل فون بنانے کے لیے ، انہوں نے کلسٹر تیار کیے ہیں جہاں موبائل فون کے ہر حصے کو ایک ہی جگہ پر تیار کیا جاتا ہے۔

    بجلی کی لاگت

    چین میں ، بجلی بہت کم قیمت پر چوبیس گھنٹے دستیاب ہے ، جبکہ انڈیا میں صنعتی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے جس سے ان کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے.

    ایک نتیجے کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چینی حکومت کے بہتر انتظام کی وجہ سے ، چینی رہنماؤں کی بہتر منصوبہ بندی کی وجہ سے چین خطے میں معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا۔ پاکستانی رہنماؤں کو اپنے چینی ہم منصبوں سے کچھ سبق لینا چاہیے تاکہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اسی طرح کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے. 

  • کینسر جسم میں کیسے سرایت کرتا ہے تحریر محمّد اسحاق بیگ

    کینسر جسم اور جسم کے خلیوں پر بنیادی ذہنی  دباؤ کی صرف ایک جسمانی علامت ہے۔  لیکن ذہنی  دباؤ جسم میں کینسر کا سبب کیسے بنتا ہے؟  اور ذہنی  دباؤ صرف کچھ لوگوں میں کینسر کا سبب کیوں بنتا ہے ، جبکہ دوسروں میں نہیں؟

     لوگوں کی اکثریت  ، تناؤ اور انتہائی دباؤ یا تکلیف دہ واقعات یا تنازعات کا مقابلہ نسبتا آسانی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔  اگرچہ اس بڑی بیماری  کے لوگ تناؤ ، دباؤ والے واقعات ، صدمے اور تنازعات کے تباہ کن اثرات کو محسوس کرتے ہیں ، بشمول غم اور نقصان – دباؤ والے واقعات کو زندگی کے چیلنجوں ، زندگی کے اتار چڑھاؤ کے حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے ، اور وہ زیادہ تر متوقع اور  مکمل طور پر غیر متوقع نہیں.  یہ لوگ اپنی زندگی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

     جو لوگ کینسر کے لیے حساس ہوتے ہیں ، وہ زندگی کے دباؤ اور صدمے کے لیے انتہائی کمزور ہوتے ہیں ، اور جب آپ کی  زندگی اس راستے پر ڈال دیتی ہے تو اس کا مقابلہ کرنے سے قاصر محسوس کرتی ہے۔  یہ لوگ پرفیکشنسٹ ہوتے ہیں اور تنازعات ، دباؤ ، صدمے اور نقصان کے خوف میں رہتے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والے منفی واقعات سے شدید خوفزدہ رہتے ہیں ۔  اور جب کسی انتہائی دباؤ یا تکلیف دہ واقعے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی توقع نہیں کی جاتی ، جو ان کی زندگی کے دوران لامحالہ ہوتا ہے ، منفی رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔

     وہ ناقابل تسخیر صدمے کا تجربہ کرتے ہیں اور تجربے سے شدید متاثر رہتے ہیں۔  انہیں اپنے اندرونی غم ، ان کے اندرونی درد ، ان کے اندرونی غصے یا ناراضگی کا اظہار کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور حقیقی طور پر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اندر جو درد ہے اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔  اور چونکہ ان کا ذہن یہ نہیں سمجھ سکتا کہ کیا ہوا ہے ، اور پریشانی  کی حالت میں رہتا ہے ، یہ اندرونی تکلیف دہ احساسات مستقل طور پر برقرار رہتے ہیں ، تناؤ کے ہارمون کی سطح کو بڑھاتے ہیں ، میلاتون اور ایڈرینالین کی سطح کو کم کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے جذباتی اضطراری مرکز کی آہستہ آہستہ خرابی ہوتی ہے۔

       

     دماغ ، اور جسم میں کینسر کا آغاز۔

     

     جب کسی بڑے صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ، کینسر کی تشخیص محسوس کرتا  ہے اور تکلیف دہ تجربے کی یادداشت اور تجربے کے تکلیف دہ احساسات سے فرار ہونے سے قاصر ہوتا ہے ۔  سٹریس ہارمون کورٹیسول کی سطح بلند ہو جاتی ہے اور اوپری  سطح پر رہتی ہے ، جو کہ مدافعتی نظام کو براہ راست دباتی ہے ، جس کا کام کینسر کے خلیوں کو تباہ کرنا ہے جو ہر انسان میں موجود ہیں۔  اعلی تناؤ کی سطح کا عام طور پر مطلب ہے کہ کوئی شخص اچھی طرح سو نہیں سکتا ، اور گہری نیند کے دوران کافی میلاتونن پیدا نہیں کر سکتا۔  میلاتون کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے کا ذمہ دار ہے۔  اس کا مطلب ہے کہ کینسر کے خلیے اب آپ کے جسم  کے لیے آزاد ہیں۔  ایڈرینالین کی سطح بھی شروع میں آسمان کو چھوتی ہے ، لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ خشک اور ختم ہو جاتی ہے۔  یہ خاص طور پر کینسر کی شخصیت کے لیے بری خبر ہے۔

     ایڈرینالائن شوگر کو خلیوں سے دور لے جانے کا ذمہ دارہوتی ہے ۔  اور جب جسم کے خلیوں میں بہت زیادہ چینی ہوتی ہے تو جسم تیزابیت کا شکار ہو جاتا ہے۔  اس کا مطلب ہے کہ جسم کے عام خلیے کم آکسیجن کی وجہ سے صحیح سانس نہیں لے سکتے۔  کینسر کے خلیے کم آکسیجن کی حالت میں پروان چڑھتے ہیں ، جیسا کہ نوبل انعام یافتہ اوٹو واربرگ نے دکھایا۔  کینسر کے خلیے چینی کو زندہ رکھنے کے لیے بھی پروان چڑھتے ہیں۔  سیدھے الفاظ میں ، بہت زیادہ اندرونی دباؤ ایڈرینالین کی کمی کا سبب بنتا ہے ، جسم میں بہت زیادہ شوگر کا باعث بنتا ہے ، جس کے نتیجے میں کینسر کے خلیوں کے جسم میں پروان چڑھنے کے لئے بہترین ماحول ہوتا ہے۔

     کینسر کی شخصیت کے لیے ، کینسر کی تشخیص ہونے کی خبر اور موت کا خوف اور غیر یقینی صورتحال ایک اور ناگزیر جھٹکے کی نمائندگی کرتی ہے ، جس سے تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کی سطح میں ایک اور اضافہ ہوتا ہے ، اور میلاتون اور ایڈرینالین کی سطح میں مزید کمی آتی ہے۔  دماغ میں جذباتی اضطراری مرکز کی مزید خرابی بھی ہے جس کی وجہ سے متعلقہ عضو کے خلیات آہستہ آہستہ ٹوٹ جاتے ہیں اور کینسر کا شکار ہو جاتے ہیں۔

     سیکھی ہوئی بے بسی کینسر کی شخصیت کا ایک کلیدی پہلو ہے جب ایک سمجھے جانے والے ناگزیر صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور یہ کینسر کا ایک مضبوط عنصر ہے۔  محقق میڈیلون ویزنٹینر نے چوہوں کے تین گروہوں کو لیا ، ایک کو ہلکا سا فرار ہونے والا جھٹکا ، دوسرا گروپ کو ہلکا پھلکا جھٹکا ، اور تیسرا کوئی جھٹکا نہیں۔  اس کے بعد اس نے ہر چوہے کو کینسر کے خلیوں سے لگایا جس کے نتیجے میں عام طور پر 50 فیصد چوہے ٹیومر پیدا کرتے ہیں۔  اس کے نتائج حیران کن تھے۔

     ایک مہینے کے اندر ، 50 the چوہوں نے بالکل حیران نہیں کیا تھا۔  یہ عام تناسب تھا  جہاں تک چوہوں نے اسے بند کرنے کے لیے ایک بار دباکر جھٹکا حاصل کیا ، 70 فیصد نے ٹیومر کو مسترد کردیا۔  لیکن بے سہارا چوہوں میں سے صرف 27 فیصد ، چوہے جنہوں نے فرار ہونے والے صدمے کا سامنا کیا تھا ، نے ٹیومر کو مسترد کردیا۔  یہ مطالعہ ان لوگوں کو ظاہر کرتا ہے جو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے صدمے / نقصان سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ان کے جسم کے اندر بننے والے ٹیومر کو مسترد کرنے کے امکانات کم ہیں ، اس وجہ سے کہ دباؤ کی اعلی سطح مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہے۔  [سلیگمین ، 1998 ، صفحہ 170]

     کینسر سیلولر لیول پر ہوتا ہے۔  اور کئی عوامل ایسے ہیں جو جسم کے خلیوں پر دباؤ پیدا کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے وہ (1) ایڈرینالین کی کمی ، (2) شوگر کی زیادہ اور (3) کم آکسیجن کی ، جہاں وہ زیادہ تغیر پذیر ہوتے ہیں اور کینسر بن جاتے ہیں  .  ایڈرینالین کی کمی کی وجہ سے سیل میں شوگر کا مواد جتنا زیادہ ہوتا ہے ، اور آکسیجن کا مواد کم ہوتا ہے ، عام خلیوں کے تبدیل ہونے اور کینسر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

     بہت سارے عوامل ہیں جو ایک عام سیل کو ایڈرینالین کی کمی ، چینی میں زیادہ اور آکسیجن کی کمی میں حصہ ڈالتے ہیں۔  جسمانی دباؤ میں شامل ہیں (اور ان تک محدود نہیں)  دبے ہوئے احساسات ، افسردگی ، تنہائی ، ناقص نیند ، جذباتی صدمہ ، بیرونی تنازعہ وغیرہ۔

     کینسر میں مبتلا افراد کی اکثریت میں ، نفسیاتی اور جسمانی دباؤ دونوں کا ایک مجموعہ موجود ہے جس نے جسم کے خلیوں کو ایڈرینالین کی کمی ، چینی میں زیادہ اور آکسیجن کی کمی کا باعث بنا ہے ، جس کی وجہ سے وہ تبدیل ہو جاتے ہیں اور کینسر بن جاتے ہیں۔

    @Ishaqbaig___ 

  • بچوں کی پرورش تحریر: صداقت حسین علوی

    بچوں کی پرورش تحریر: صداقت حسین علوی

    آج ایک انتہائی اہم عنوان پر قلم کو جنبش دینے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ میں بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں وہ ہے بچوں کی تعلیم و تربیت۔

     دین اسلام کے مطابق بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت والدین پر فرض کی گئی ہے آج ہم معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ بچے والدین کا احترام نہیں کرتے اور آئے دن ویڈیو سوشل میڈیا کی زینت بن رہی ہیں جن میں بچے والدین کو مار پیٹ رہے ہوتے ہے اور بعض تو گھر سے نکال دیتے ہیں 

    آج اسکول کیا کالج کیا یونیورسٹیوں میں بھی لوگ غلط کاریوں میں مصروف ہیں لڑکیوں کی خریدوفروخت کا دھندا بھی عروج پر ہے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ٹیچرز کا احترام نہیں کیا جاتا یہ سب کچھ اس وجہ سے ہو رہا ہے ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی کرتے ہیں آج نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی چرس شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتی نظر آ رہی ہیں بچے زناء کا ارتکاب کرتے نظر آ رہے ہیں موبائل جیسی لعنت نے اتنا بگاڑ پیدا کر دیا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو غیر اخلاقی تصاویر شیئر کر رہے ہیں جو اکثر اوقات لیک ہو جاتی ہیں جو نہ صرف انکی بلکہ انکے والدین کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں آج شادیوں میں مجرا پارٹیاں کروائی جا رہی ہیں جن میں بچوں کی پرورش پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے 

    یقیناً سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے دنیا نے ترقی بھی حاصل کی ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس نے معاشرے میں بہت زیادہ نقصانات بھی پہنچایا ہے آج اگر پوری دنیا میں سروے کیا جائے تو سب سے زیادہ پاکستانی عوام غیر اخلاقی مواد انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں بچے اکثر اوقات موبائل میں غیر اخلاقی مواد رکھتے ہیں جس سے انکی ذہنی نشوونما خراب ہو رہی ہے اور انکو طرح طرح کی جسمانی بیماریوں کا مسئلہ درپیش آتا ہے  

    اس لئے اپنے بچوں کو برائیوں سے دور رکھنے کے لئے ان کی بہترین تعلیم و تربیت پر توجہ دینی چاہیے اور ان کی روزمرہ کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھنی چاہیے 

    اسلام نے بچوں کی پرورش یعنی تعلیم و تربیت کے لیے کئی رہنما اصول وضع کیے ہیں جن پر عمل کرکے ہم معاشرے کو بہتر سے بہتر افراد مہیا کر سکتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکی اہلبیت علیہ السّلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے بچوں کو بہترین تعلیم و تربیت دی ہمیں انکی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی پرورش کرنی چاہیے

    جب آپ اپنے بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم دلوائیں گے تو یقیناً وہ نہ صرف والدین کا احترام کریں گے بلکہ خود بھی معاشرہ میں عزت دار تصور ہوں گے معاشرہ بھی انکی تعریف کرتا نظر آئے گا جب معاشرے میں آپ کے بچوں کی تعریف ہوگی تو یقیناً والدین کا بھی دل باغ باغ ہو گا 

    موجودہ حکومت نے اسی چیز کے پیش نظر نصاب کو اسلام کے مطابق بنایا ہے اور کوشش کی ہے کہ قرآن و حدیث کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے پرائیویٹ اسکولز کو بھی حکومت نے پابند بنایا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کو اپنے نصاب میں شامل کریں یقینا اس حکومت نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ پورے پاکستان میں ایک نصاب ہوگا الحمدللہ

    اس لیے اسلام کے مطابق بچوں کی تعلیم و تربیت کو یقینی بنائیں تاکہ بہترین معاشرہ معرض وجود میں آئے جب بہترین معاشرہ پرورش پائے گا تو نا صرف خاندانی ترقی ہو گی بلکہ ملکی ترقی میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔ 

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو بچوں کی بہترین پرورش کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثمہ آمین

    Twitter I’d: @AlviViews

  • باحجاب خواتین تحریر:رضوان۔

    بعض نام نہاد پروفیسر سرکولر طبقہ جس نے ستمبر میں ایک پروفیسر ہود نامی شخص کے بیان کے تناظر میں خواتین کے حجاب کو لیکر باحجاب خواتین کو یہ کہہ رہے تھے کہ وہ نارمل نہیں ہوتی کیوں نارمل نہیں ہوتی کیا حجاب پہننے سے دماغ کمزور ہوتا ہے؟ کیا حجاب کے وزن سے انرجی ضائع ہو جاتی ہے؟ ہرگز نہیں حجاب والی خواتین ناصرف نارمل ہوتی ہے بلکہ سب سے اوپر درجہ کی عزت رکھتی ہے ہر کوئی ان کو گردن نیچ کر کے آداب و سلام کرتا ہے معاشرے میں ان کے آنے سے لفنگر بھی راستے چھوڑ دیتے ہیں بلکہ باحجاب خواتین صحافی اس وقت بھی پاکستانی میڈیا میں کام کر رہی ہے  مردان میں باحجاب لڑکی نے انٹرمیڈیٹ بورڈ میں ٹاپ کیا ہے 

     قرآن پاک حجاب کی بات کرتا ہے۔  قرآن مجید کی سورہ 24 کی آیات 30-31 جو کہ معنی دیتی ہیں:

     *{مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور حیا کریں۔  یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔  لو!  اللہ ان کے کاموں سے باخبر ہے۔  اور مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور نرمی اختیار کریں اور اپنی زینت کو صرف ظاہر کریں اور اپنے سینوں پر پردہ ڈالیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں اور باپوں یا شوہروں کے۔  باپ ، یا ان کے بیٹے یا ان کے شوہروں کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا ان کے بھائیوں کے بیٹے یا بہنوں کے بیٹے ، یا ان کی عورتیں ، یا ان کے غلام ، یا جوان جوان جوش و خروش سے محروم ہیں ، یا وہ بچے جو عورتوں کی برہنگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔  اور وہ اپنے پاؤں پر مہر نہ لگائیں تاکہ وہ اپنی زینت کو چھپائیں۔  اور اللہ کی طرف رجوع کرو اے ایمان والو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ}}*

     نیز سورہ کی آیت 59 ، جس کے معنی یہ ہیں:

     *{اے نبی!  اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہو کہ جب وہ بیرون ملک جاتے ہیں تو اپنے چادر ان کے قریب رکھیں۔  یہ بہتر ہوگا ، تاکہ وہ پہچانے جائیں اور ناراض نہ ہوں۔  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔}*

     مندرجہ بالا آیات بہت واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خود اللہ تعالی ہے ، جو عورتوں کو حجاب پہننے کا حکم دیتا ہے ، حالانکہ مذکورہ آیات میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔  درحقیقت ، اصطلاح حجاب کا مطلب جسم کو ڈھانپنے سے کہیں زیادہ ہے۔  اس سے مراد ضابطہ اخلاق ہے جو اوپر بیان کردہ آیات میں بیان کیا گیا ہے۔

     استعمال شدہ تاثرات: "ان کی نگاہیں نیچی رکھیں” ، "معمولی رہیں” ، "اپنی زینت نہ دکھائیں” ، "ان کے سینوں پر پردہ ڈالیں” "ان کے پاؤں پر مہر نہ لگائیں” وغیرہ۔

     یہ کسی بھی سوچنے والے شخص کے لیے واضح ہونا چاہیے کہ قرآن کریم میں مذکورہ بالا تمام بیانات سے کیا مراد ہے۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں ایک قسم کا لباس پہنتی تھیں جو سر کو ڈھانپتا تھا ، لیکن سینے کو صحیح طریقے سے نہیں۔  چنانچہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی چھاتیوں پر اپنے پردے کھینچیں تاکہ ان کی خوبصورتی ظاہر نہ ہو ، تو یہ بات واضح ہے کہ لباس کو سر کے ساتھ ساتھ جسم کو بھی ڈھانپنا چاہیے۔  اور بالوں کو دنیا کی بیشتر ثقافتوں میں لوگ سمجھتے ہیں – نہ صرف عرب ثقافت میں – عورت کی خوبصورتی کا ایک پرکشش حصہ۔

     انیسویں صدی کے اختتام تک ، مغرب میں خواتین کسی قسم کا ہیڈ گیئر پہنتی تھیں ، اگر پورے بالوں کا احاطہ نہیں۔  یہ خواتین کے لیے اپنے سر ڈھانپنے کے بائبل کے حکم کے مطابق ہے۔  یہاں تک کہ ان تنزلی کے اوقات میں ، لوگ معمولی لباس زیب تن کرنے والی خواتین کو زیادہ احترام کرتے ہیں ، کم لباس پہننے والوں کے مقابلے میں۔  ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ایک خاتون وزیراعظم یا ملکہ نے کم کٹ بلاؤز یا منی سکرٹ پہنے تصور کریں!  کیا وہ وہاں اتنی عزت دے سکتی ہے جتنی اسے ملتی اگر وہ زیادہ معمولی لباس میں ہوتی؟

     مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر ، اسلام کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اوپر بیان کردہ قرآنی آیات کا واضح مطلب ہے کہ عورتوں کو سر اور پورے جسم کو ڈھانپنا چاہیے سوائے چہرے اور ہاتھ کے۔

     کیا حجاب عورت کو اپنے روز مرہ کے فرائض انجام دینے سے روکتا ہے؟

     ایک عورت عام طور پر اپنے گھر میں حجاب نہیں پہنتی ، اس لیے جب وہ گھر کا کام کر رہی ہو تو اس کے راستے میں نہیں آنا چاہیے۔  اگر وہ مشینری کے قریب یا کسی لیبارٹری میں کسی فیکٹری میں کام کر رہی ہے ، مثال کے طور پر – وہ ایک مختلف انداز کا حجاب پہن سکتی ہے جس میں ڈریگنگ اینڈز نہیں ہیں۔  دراصل ڈھیلا پتلون اور لمبی قمیض مثال کے طور پر اسے قدموں یا سیڑھیوں کو موڑنے ، اٹھانے یا چڑھنے کی اجازت دیتی ہے ، اگر اس کا کام اس کی اجازت دیتا ہے۔  اس طرح کا لباس یقینی طور پر اسے نقل و حرکت کی زیادہ آزادی دے گا جبکہ ایک ہی وقت میں اس کی شائستگی کی حفاظت کرے گا۔

     تاہم یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ وہی لوگ جو خواتین کے اسلامی ڈریس کوڈ میں عیب تلاش کرتے ہیں وہ راہبہ کے لباس میں کسی بھی چیز کو نامناسب نہیں سمجھتے۔  یہ واضح ہے کہ مدر ٹریسا کے "حجاب” نے اسے سماجی کام سے نہیں روکا!  اور مغربی دنیا نے اسے نوبل انعام سے !  لیکن وہی لوگ بحث کریں گے کہ حجاب ایک مسلمان لڑکی کے لیے سکول میں یا ایک مسلمان خاتون کے لیے سپر مارکیٹ میں کیشیئر کے طور پر کام کرنے میں رکاوٹ ہے۔  یہ ایک قسم کی منافقت یا دوہرا معیار ہے جو کہ متضاد طور پر کچھ "نفیس” لوگوں کو فیشن لگتا ہے!

     کیا حجاب ظلم ہے؟  یہ یقینی طور پر ایسا ہوسکتا ہے ، اگر کوئی عورت کو پہننے پر مجبور کرے۔  لیکن اس معاملے کے لیے ، نیم عریانی بھی ایک ظلم ہوسکتی ہے ، اگر کوئی عورت کو اس طرز کو اپنانے پر مجبور کرے۔  اگر مغرب میں یا مشرق میں عورتوں کو اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کی آزادی ہے تو مسلم خواتین کو زیادہ معمولی لباس کو ترجیح دینے کی اجازت کیوں نہیں

    Twitter @RizwanANA97

  • پاکستان کے مسائل  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کے مسائل تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    یوں تو جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے،ہر وقت کسی نہ کسی طرح کے مسائل سے دوچار رہا ہے۔

    پاکستان بننے کے بعد یہ مسائل کم تھے۔

    مگر آہستہ آہستہ ان میں آنے والے کرپٹ حکمرانوں کی بدولت اضافہ ہوتا گیا۔

    جو حکمران بھی آیا،

    اُس نے لوٹ مار پر زیادہ فوکس کیا اور یہ مسائل انبار کی شکل اختیار کرتے گئے۔

    کسی نے بھی ان مسائل پر توجہ نہیں دی۔

    جو بھی آیا اُس نے اپنی تجوریاں تو خوب بھریں مگر ملکی خزانہ خالی ہوتا گیا۔

    پی ٹی آئ کی موجودہ حکومت اسی وجہ سے گوناگوں مسائل کا شکار ہے کہ اسے ملنے والی حکومت ماضی کے حکمرانوں کی بد اعتدالیوں کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کے قریب تھی۔حکومت ملتے ہی وزیر اعظم 

    عمران خان کو قرضوں کی ادائیگی کی ایمرجنسی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوست ممالک کے ہنگامی دورے کرنے پڑے۔

    عمران خان کی تگ و دو سے ملک فوری طور پر دیوالیہ ہونے سے تو بچ گیا مگر ان مسائل سے نبٹنا اب بھی اس حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

    موجودہ حکومت جن مسائل کا اس وقت سامنا کر رہی ہے،

    اُن میں مہنگائ سرفہرست ہے

    مہنگائ کی موجودہ ہوش رُبا لہر حکومت کے گلے پڑے ہوئ ہے۔

    اس مہنگائ میں موجودہ حکومت کا کردار کتنا ہے؟

    یہ غور طلب بات ہے

    مہنگائ کے ضمن میں سب سے پہلی وجہ تو کرونا کے بعد پوری دنیا میں چیزوں کا مہنگا ہو جانا شامل ہے۔

    برطانیہ،کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اپنے آپ کو اس صورتحال سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔

    تیل کی بڑھتی قیمتوں نے خاص طور پر دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔

    تیل کی قیمت بڑھنے سے ہرچیز پر اثر پڑتا ہے۔برطانیہ جیسے ملک میں اس بحران کی وجہ سے انہیں فوج طلب کرنا پڑی تاکہ پٹرول پمپس پر تیل کے حصول میں لگی لمبی لائنوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔

    اس وقت کئی یورپی ممالک میں مہنگائ اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    اگر ترقی یافتہ ممالک کا یہ حال ہے تو بھلا پاکستان اس سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟

    جہاں لوٹ مار سے خزانہ پہلے ہی خالی ہے اوپر سے ماضی کے حکمرانوں کی طرف سے لئے گئے قرضوں کی واپسی کے لئے مزید قرضوں کا حصول 

    یک نہ شُد،دو شُد والی بات ہے۔

    مہنگائ کی بین الاقوامی وجوہات اپنی جگہ،

    ماضی کے حکمرانوں کی عیاشیوں کی بدولت ملکی معیشت کی تباہ حالی اپنی جگہ

    مگر موجودہ حکومت نے مہنگائ کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنی طرف سے بھی کچھ خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھاۓ۔

    اکثر وزرا مُشرا رام لیلی کی کہانی ٹیلی وژن پر آکر سناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ سرخرو ہو گئے۔

    ایسا قطعا” نہیں،

    عوام کو مطمئن کرنے کے لئے کم ازکم مصنوعی مہنگائ کا توڑ تو کیا جاۓ؟

    کم ازکم اُن مافیاز کو تولگام ڈالی جاۓ،

    جو جان بوجھ کر چیزوں کی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ اس خود ساختہ مہنگائ سے موجودہ حکومت کی ساکھ خراب ہو اور ماضی کے چوروں کو ایکبار پھر واپسی کا موقع مل سکے۔

    یہ مافیاز درپردہ انہیں سابق حکمرانوں کے اشارے پر چلتے ہیں،

    انکی ڈوریاں وہیں سے ہلائ جاتی ہیں۔

    یہ سب لوگ اسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں،

    جو مل کے لوٹ مار کرتا تھا ،

    مل کے بندر بانٹ کرتا تھا اور پھر اقرار بھی کرتا تھا کہ کھاتا ہے تو کھلاتا بھی ہے۔

    حکومت ان سب باتوں کے باوجود اپنے آپ کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔

    زخیرہ اندوزوں اور چوربازاری کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا بہت زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    موجودہ حکومت کی کوششوں سے ملکی معیشت کے مثبت اعشاریے مہنگائ کی اس لہرکی وجہ سے ماند نظر آتے ہیں۔

    اس مہنگائ کو کم کرنے کے لئے حکومت کو ہی کچھ کرنا ہو گا۔

    کسی غیبی امداد کا منتظر رہنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔

    کالم لکھنے کے دوران ہی پتہ چلا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں ایکبار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔

    یہ اضافہ بے شک تیل کی قیمت میں بین الاقوامی طور پر ہونے والے اضافے ہی کا شاخسانہ ہے۔

    مگر یہ اضافہ عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثرکر رہا ہے،

    حکومت کو پٹرولیم مصنوعات میں مزیدسبسڈی دینے کے لئے کوئ منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

    اگرچہ ایک مقروض ملک کے لئے یہ آسان ہرگز نہیں مگر کبھی کبھار عوام کی خاطر کچھ کڑوے گھونٹ پی لینے میں کوئ مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔

    خطے میں اب بھی پاکستان میں تیل کی قیمتیں دوسرے ممالک کی نسبت کم ہیں۔

    مگر یہ مفروضہ عوام کے دُکھوں کا مداوا ہر گز نہیں۔

    ان مشکل حالات میں عوام کو بھی حکومت کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوۓ چھوٹی چھوٹی بچتوں پر کام کرنا ہوگا۔

    اس سے نہ صرف ان کا فائدہ ہوگا بلکہ ملک کے لئے بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔

    قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔

    ہم اس ملک کا نہیں سوچیں گے تو دوسراکون سوچے گا؟

    ہم سب کو مل کے ان مشکلات کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

    سب کچھ کرنا اکیلے حکومت کے بس کی بات نہیں۔

    ہم سب کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

    ہمیں اس بے بنیاد پروپیگنڈے سے بچنا ہو گا،

    جو اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے کیا جا رہا۔

    ہمیں اس ففتھ جنریشن وار میں ریاست کے ہاتھ مضبوط کرنا ہونگے۔

    یہ یاد رکھیں کہ یہ ملک ہے تو ہم سب بھی ہیں۔

    ہمیں سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    بدقسمتی یہ ہے کہ کسی بچت یا ملکی مفاد میں جب بھی کوئ  مشورہ   دیا جاتا ہے لوگ حکومت کا مذاق اڑانا شروع کر دیتےہیں۔

    لوگ بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کو 70سال لگاتار برباد کیا گیا،

    اسے درست کرنے کے لئے کچھ وقت تو لگے گا،

    موجودہ حکومت کو ابھی 3سال ہوے ہیں آۓ ہوۓ۔

    ابھی سے کچھ گماشتے یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ جنہوں نے دہائیوں اس ملک کو لُوٹا،

    جو اس ملک کی بربادی کے زمہ دار ہیں،

    انہیں کو واپس لے آئیں۔

    واہ کیا منطق ہے،گویا

    میر کیا سادےہیں،بیمار ہوۓ جس کے سبب

    اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • پاکستان اور عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمت:  تحریر: تیمور خان 

    پاکستان اور عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمت: تحریر: تیمور خان 

     حکومت نے یکم اکتوبر سے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا اور یہاں تک کے 

     حکومت نے جمعرات 30 ستمبر  کو پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔

     دریں اثنا ، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمتوں میں بالترتیب 7.05 روپے اور 8.82 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔

     یکم اکتوبر سے پٹرول کی قیمت 127.30 روپے فی لیٹر ، ہائی سپیڈ ڈیزل 122.04 روپے فی لیٹر ، مٹی کا تیل 99.31 روپے اور لائٹ ڈیزل کا تیل 99.51 روپے فی لیٹر ہوگا۔

     ایک پریس ریلیز میں ، فنانس ڈویژن نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گزشتہ دو ہفتوں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایکسچینج ریٹ کی مختلف حالتوں کی بنیاد پر پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

     تاہم ، وزیر اعظم عمران خان نے "سفارش کے خلاف فیصلہ کیا اور صارفین کو قیمتوں میں کم سے کم اضافے کی منظوری دی”۔

     نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے پٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس میں کمی کے ذریعے قیمتوں کے زیادہ بین الاقوامی دباؤ کو جذب کیا۔

     اس نے مزید کہا ، "پاکستان میں پٹرولیم کی قیمتیں خطے میں سب سے سستا ہیں۔”

     15 ستمبر کو حکومت نے تمام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے 6 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی کا اثر ہو۔

     پٹرول اور ایچ ایس ڈی دو بڑی مصنوعات ہیں جو ملک میں بڑے پیمانے پر اور بڑھتی ہوئی کھپت کی وجہ سے حکومت کے لیے زیادہ تر آمدنی پیدا کرتی ہیں۔  اوسطا petrol پٹرول کی فروخت 750،000 ٹن تک پہنچ رہی ہے جبکہ ماہانہ 800،000 ٹن HSD کی کھپت ہے۔  مٹی کے تیل اور ایل ڈی او کی فروخت عام طور پر 11،000 اور 2000 ٹن سے کم ہے۔

     نظر ثانی شدہ میکانزم کے تحت ، حکومت تیل کی قیمتوں کو پندرہ روزہ بنیادوں پر نظر ثانی کرتی ہے تاکہ پاکستان اسٹیٹ آئل کی درآمدی لاگت کی بنیاد پر ماہانہ حساب کتاب کے سابقہ ​​طریقہ کار کے بجائے پلاٹ کے آئل گرام میں شائع ہونے والی بین الاقوامی قیمتوں کو منتقل کیا جا سکے، اور آخر کار 15 دن بعد یعنی 16 اکتوبر کو ایک مرتبہ پھر حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 10.49 اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12.44 روپے فی لیٹر اضافہ کیا اب سوال یہ ہے کہ پٹرول تو پورا دنیا میں ایک بحران بنا ہوا ہے تو اس سے چھٹکارا کیسے پایا جا سکے جو پٹرول پرائز ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے ہال پر رحم فرمائے۔

    @ImTaimurKhan

  • اکیسوی صدی میں سائنسی ترقی تحریر : راجہ فہد علی خان

    کائنات کی تخلیق، انسان کی پیدائش، یہ روشن جہاں،یہ ارض و سماء، یہ اندھیری راتیں، چرندوپرند، یہ حیوان وانسان، بروبحر ، خشکی و تری الغرض ہر چیز اس مالک دو جہاں کی قدرت کے کرشمے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اللّٰہ رب العزت کی ان تخلیق کردہ چیزوں، مخلوقات سے متاثر ہونے اور کچھ فطری تحقیق و تجسس کے نتیجے میں انسان نے اپنی بڑھتی ہوئی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی ٹھانی اور اس کا نتیجہ سائنس کی شکل میں سامنے آیا۔   جوں جوں کرہ ارض پر انسانی آبادی بڑھتی گئی، انسانی ضروریات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا وہ ضروریات انسانی کوششوں سے پوری بھی ہونے لگیں لیکن انسان کا فطری تجسس اور کھوج کا عمل نہ تھم سکا اور یہ سلسلہ صدیوں سے برابر چلتا آرہا ہے۔ عصر حاضر میں جہاں آپ نظر دوڑائیں گے آپ کو سائنس کی ترقی نظر آئے گی۔ایک نومولود کی پیدائش سے لے کر اس کی تمام ضروریات زندگی تعلیم، صحت، کاروبار، ادویات، سفر، چاہے امن کا زمانہ ہو یا جنگ کا سائنس زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔موجودہ جدید دور میں علومِ سائنس اور سائنسی ایجادات قابلِ تعریف ہیں۔اسلام اور قرآنی تعلیمات بھی سائنس کی ترغیب دیتے ہیں۔

    اکیسویں صدی میں ضروریات کے پیشِ نظر جدید ٹیکنالوجی ہماری ایک ضرورت بن چکی ہے جس کے بغیر ہمارا گزارہ اگر ناممکن نہیں تو آسان و سہل بھی نہیں۔ گزشتہ ادوار میں اگر کوئی چیز ایجاد ہوتی تھی تو اس میں ضرورت وقت کے مطابق جدت لانے کے لیے وقت درکار ہوتا تھا جبکہ زمانہء حاضر میں اس معیاد میں کوئی نئی چیز متعارف کروا دی جاتی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں آنے والے دس سال اس سے کہیں زیادہ مختلف ہوں گے اور اس زمانے میں موجودہ دور کی ٹیکنالوجی بےکار اور ناکارہ تصور کی جانے لگے گی۔

    اگر ہم صحت کے میدان کے بات کریں تو سائنس نے ہمارے نظامِ صحت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور شعبہ صحت بہت زیادہ بہتری کی طرف گامزن ہوا ہے۔ گزشتہ ادوار میں بچے کی پیدائش بھی ہسپتالوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے گھروں میں ہوتی تھی اور کتنی جانیں چلی جاتی تھیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی نے ان مسائل کا حل نکالا ۔اگرچہ سائنس وٹیکنالوجی کی وجہ سے بہت سے موذی امراض تشخیص ہوئے لیکن بیک وقت ان موذی امراض کا علاج بھی دریافت کر لیا گیا۔

    شعبہ تعلیم کو دیکھا جائے تو سائنسی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی نے ہمارے نظامِ تعلیم کو بہت ہی آسان اور جدید طرز کا کر دیا ہے۔ پرانے زمانے میں فقط دو شعبے ہی پڑھنے کے لیے میسر ومخصوص سمجھے جاتے  تھے۔ طالبعلم شعبہ طب ، انجینئرنگ اور فوج میں جانے کے لیے بھاگ دوڑ کیاکرتے تھے۔ جدیدسائنس وٹیکنالوجی کی بدولت اب تعلیمی میدان میں ہزاروں نئے شعبے متعارف کروا دیے گئے ہیں۔تعلیمی میدان میں سائنس نے مختلف موضوعات کا تصور و خیال دے کر نوجوان کو مختلف میدانوں میں ترقی کے مواقع حاصل کرنے کا حق دیا ہے۔ یہ کہنا حق بجانب ہے کہ سائنسی عروج نے ہمارے تعلیمی نظام کو بہت ہی آسان اور وسیع کر دیا ہے۔اب ہمارے نوجوان کو محض طب کے میدان میں ہی مختلف اور کئی قسم کے شعبے میسر ہیں اور سائنسی ایجادات نے ہمیں گھر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کا موقع مہیا کیا ہے۔

    گھر بیٹھے روزگارکی فراہمی بھی سائنس وٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے اب ہمارے نوجوان گھر بیٹھے اپنی  مالی ضروریات پوری کر سکتے ہیں،گھر بیٹھے اپنا کاروبار چلا سکتے ہیں۔ 

    جنگ کے میدان میں بھی ٹیکنالوجی کا بہت اہم کردار ہے جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کسی بھی ملک کے لیے اپنی سرحدوں کا دفاع لازم ہے۔سائنسی ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ہمارا ملک ایٹمی طاقت بنا جس میں عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر کا کلیدی کردار ہے۔ سائنسی ترقی نے ملکی دفاع کو مضبوط، ہمہ وقت چوکنا بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم اپنے ملک کی سرحدوں سے چوبیس گھنٹے اپنے دشمن ممالک کے حالات و واقعات سے با خبر رہ سکتے ہیں۔

    یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا کہ سائنسی ایجادات نے ہمارے نظامِ زندگی زندگی کو آسان ترین بنا دیا ہے۔جدید سیل فون، لیپ ٹاپس، کمپیوٹرز اور دیگر سائنسی آلات کی بدولت ہماری زندگی ایک کلک کی محتاج ہے اور سارے کام سمٹ کر ایک بٹن کی دوری پر ہیں حتیٰ کہ اب خریداری بھی گھر بیٹھے ایک آسان اور پر آسائش کام بن گیا ہے۔گھر بیٹھے بٹھائے انسان اپنی من پسند چیز منگوا سکتا ہے اور محض یہ ہی نہیں اس طرح کا ہر کام محض حکم کا محتاج ہے اور پھر پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ جہاں سائنسی ترقی نے ہمیں کاروبار، صحت، تعلیم الغرض ہر قدم پر مواقع فراہم کیے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ سفری آلات میں بھی ایک جدت آئی ہے۔ اگر پچھلی صدی کی ہی بات کر لی جائے تو تب زیادہ تر سفر پیدل طے کیا جاتا تھا یا بیل گاڑیوں کا استعمال معمول تھا۔اب اگر موجودہ وقت کی بات کریں تو ہمارا سفر نہایت آسان اور سہل کر دیا گیا ہے۔ ہم کسی بھی جگہ  بیٹھ کر اپنی مرضی کی گاڑی منگوا کر نہایت ہی مناسب پیسوں پر آرام دہ سفر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ سائنسی ترقی نے ہمیں ہر قدم پر آسانی اور سکون مہیا کرنے کی کوشش کی ہے۔

    المختصر یہ کہ سائنس نے ہمارے معیار زندگی کو بلند کرنے، جینے کے ڈھنگ کو سہل اور آسائشوں سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گو کہ سائنسی ایجادات اور سائنسی ترقی اپنے جوبن پر ہے مگر حضرت انسان کی تحقیق و تجسس اور کھوج کی جستجو ابھی اختتام کو نہیں پہنچی اور اس اولاد آدم نے ابھی مزید میدان سر کرنے ہیں اور کائنات کو تسخیر کرنا ہے۔

    @FahadRaja6720

  • منفرد اور ممکنہ جنگ عظیم سوئم اور نوجوانوں کی عفلت.  تحریر. واحید خان

    منفرد اور ممکنہ جنگ عظیم سوئم اور نوجوانوں کی عفلت. تحریر. واحید خان

    پاکستان کے نامناسب تعلیمی نظام اور فرسودہ سیاسی نظام کا سب سے بڑا نقصان جو ہمارے نوجوان نسل کے ترجیحات اور تصورات سے اج واضح ہے وہ 74 سال گزرنے کیعبد بھی یہی ہے کہ ہمارا نوجوان موجود مسائل اور مشکلات کی وجہ سے افراد کے بجائے, شخصیات کے بجائےاور پالیسیوں کے بجائے ریاست اور اداروں سے نفرت کرنے لگے ہیں اور یہ خود سے ہوبھی نہیں رہا ہیں بلکہ اسکے پیچھے باقاعدہ ملک دشمن اور اسلام دشمن خفیہ تنظیمیں انتہائی فعال کردار ادا کررہے ہیں.

    اس وقت اگر ہمارے نوجوانوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے خفیہ اداروں میں اسلامی خلافت کے تحفظ قیام اور دفاع کیلئے جو عظیم ہستیاں موجود ہیں بخدا اگر اپ انکے کام اور مشکلات کے بارے میں اگاہ ہوجائے تو اپ انکے قدم بوسی کی خواہش کرینگے .اپ انکے پھیر چومے نگے اپ ان سے ملنے کی خواہش کرینگے مگر یقین مانئے انکو اپنے پیاروں سے ملنے کیلئے مہینوں مہینوں اور سالوں تک ملنے کا موقع نہیں ملتا .کچھ تو ساری زندگی مل نہیں پاتے .کوئی سمندروں میں اپنے عظیم مقاصد کیلئے مچھلیوں کا خوارک بن جاتے ہیں تو کوئی صحراوں میں وحشی درندو کا شکار بن جاتے ہیں .کوئی ان دیکھی زندانوں میں راکھ بن جاتے ہیں اور انکی لاشوں تک کو کوئی نہیں دیکھ پاتا اور کوئی اپنے بیرونی دنیاں کے مختلف اہم مقامات میں اپنی فطرت اور اپنے مزاج کے برعکس زندگی کے عظیم مقصد اور اسلامی احیاء کیلئے جینے پر مجبور ہیں اور یہ کوئی افسانہ نہیں ہے یہ کوئی لفافہ صحافت کی بات نہیں ہے بلکہ ٹھوس اور اٹل حقیقت ہے اور اسی کے بدولت عظیم روسی طاقت کراچی کے گرم پانیوں کے خواھش میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور انہی ہستیوں کے بدولت پاکستانی ایٹم بم کو کھلونا بنانے کے شوق میں افغانستان پر چڑھائی کرنیوالی نیٹو ذلیل وخوار ہوکر اج اسی ملک سے منتیں کررہاہے کہ اپنا سامان واپس لیجانے کیلئے چند دن تو اپنے پاس محفوظ راتیں دیدیں .مگر بد قسمتی انکے یہ عظیم کام اور یہ راز انکے بیوی بچوں تک پر عیاں ہونا انکے فرائض منصبی کے تحت منع ہے پھر ہمارے نوجوان کو کیسے معلوم ہوگا کہ کون کہاں اور کیسے جی رہاہے انکو تو اپنے عقل کے استعمال کیلئے بھی اللہ تعالی نے تاکید فرمائی ہے. جب نہ انکو نام ظاہر کرنے کی اجازت نہ انکو کام ظاہر کرنے کی اجازت نہ انکو تصویر بنانے کی اجازت نہ انکو شاباش لینے کی اجازت نہ انکو پھولوں کی لڑیاں گلے میں ڈالنے کی اجازت مگر وہ لڑ رہے ہیں وطن کیلئے ریاست کیلئے اسلام کیلئے خلافت کیلئے..وہ لڑ رہے ہیں صحراوں میں طوفانوں سے وہ لڑ رہے ہیں پہاڑوں میں سنگلاخ چٹانوں کے اوپر وحشی درندو سے وہ لڑ رہے ہیں گرمی سے سردی سے سیلابوں کے طوفان خیز ھنگاموں سے وہ لڑ رہے ہیں بے سروسامانی کے حالت میں دنیاں کے عظیم ترین اور جدید ترین شہروں میں جدید ترین سرچ اینڈ سٹرائیک ٹیکنالوجی سے وہ لڑرہے ہیں تو ہمیں از خود انکا احساس کرنا ہوگا ..ہواوں میں یہ موجود سمندروں میں یہ موجود راتوں کے اندھیروں میں یہ موجود دنیاں کے کونے کونے میں یہ موجود .دنیاں کے حساس ترین مراکز میں یہ موجود دنیاں کے اہم رازوں میں یہ موجود مگر پھربھی ہمارا نوجوان ایک سیکنڈ میں انگلی کے معمولی جنبش سے ریاست کے ان عظیم ہستیوں کے بارے میں خرافات لکھ دیتے ہیں جو عالمی طاقتیں باوجود انتہائی طاقت رکھنے کے کہنے سے ڈرتے ہیں .لکھنے سے ڈرتے ہیں .بیان کرنے سے ڈرتے ہیں.

    کیا اس پاکستانی جوان کو معلوم نہیں کہ دنیاں میں تیسری منفرد عالمی جنگ کی تیاری ہورہی ہیں اور اسکے لئے عالمی قوتوں کے درمیان گٹھ جوڑ کا سلسلہ کافی تیزی سے چل رہاہے .اس وقت دنیاں دو بلاکس میں تقسیم ہوچکی ہے .ایک بلاک میں امریکہ برطانیہ بھارت اسرائیل نمایا ممالک جبکہ دوسرے گروپ میں چائنا پاکستان روس اور ایران اہم ممالک ہیں .ایک طرف اگر سمندری راستے سے چائنا کو اقتصادی طور پر کورڈن اف کرنے کیلئے اسرائیل امریکہ کے زریعے بھارت کو اگے کررہاہے اور ابنائے ملاکا کو چائنا کے اسی فیصد سیل کیلئے بند کرنا چاہتا ہے.امریکہ پہلے سے ساوتھ سی میں اپنے جنگی ائیرکرافٹ کیرئیر پہنچاچکاہے .دوسری طرف چائنا مکمل اس بات کا ادراک کررہاہے اور ریاست سکم کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور جیسے ہی بھارتی نیوی ابنائے ملاکا کو بند کرے گی چائنا ریاست سکم پر قبضہ کرکے ہندوستان کے سات ریاستوں اسام ناگالینڈ اروناچل پردیش میگہالیہ میزورام منی پور تریپور ہندوستان سے الگ کردے گا اور بھارت مکمل اس سلسلے میں لاچار ہیں اسلئے خاموش ہے اور اب وہ تبت کارڈ کو امریکہ کے زریعے استعمال کیلئے دلائی لامہ کو پوری دنیاں کے سیاسی دورےکرائے گا اور اسکو چین کے خلاف استعمال کرے گا.اسکے بدلے بھارت کو لگام ڈالنے کیلئے چائنا کشمیر کو سکرین پر لائے گا اور ازادی کی تحریک کو پروموٹ کرے گا..

    ہمارے نوجوان نسل کو یہ تک نہیں معلوم کہ جن ہستیوں اور جس ریاست کے خلاف وہ غیروں کے اشارے پر بھونکتے ہیں وہ ان حالات میں ایک اہم جینیس مائینڈڈ گیمر ہے.اور عالمی گیم تبدیل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن قوتو کی اولین وار ہی ان پاکستانی نوجوانوں کے زہنی ترجیحات کی تبدیلی کا ہے اور یہ جو کچھ اب افغانستان میں حالات تبدیل ہونے کے بعد وہ سوشل میڈیا پر لکھ رہے ہیں مغرب اور یہودی یہی تو چاہتے ہیں . میں اپکو اپنے کم علمی مشاہدے اور تجربے کے بنیاد پر یہ یقین دلاتا ہو کہ پاکستان کے ان اداروں کے شاہینوں کا اس عالمی بدلتی ہوئی حالات پر مکمل گرفت موجود ہے اگر انکی کوئی کمزوری ہے تو وہ یہی ہے کہ انکے پاس اپنے سیاسی حقوق کے نام پر فروخت شدہ ضمیروں کو چپ کرانے کیلئے سوائے قیدوبند اور کوئی اپشن نہ رہا. اگر ریاست کے اندر بھارتی اور اسرائیلی غداروں کو غائب کیا جاتاہے تو انکو ھیرو بنایاجاتاہے اور جو ریاست کیلئے شہید ہوتا ہے وہ انکو زیرو بنایا جاتا ہے.

    مجھے یقین ہے کہ میرے اوپر بھی اداروں کیلئے کام کرنے کا الزام لگا کر اس اہم ایشو کو غیر اہم بنانے کے سینکڑوں کمنٹس درج ہوجائے نگے لیکن اس سے پہلے میں دوباتیں واضح کردو کہ اداروں کے اندر افراد نے میرے ساتھ جو تاریخی جبر وظلم کیا ہے وہ شاید کسی پاکستانی کیساتھ ہواہو لیکن میں ریاست کا بچہ ہو افراد کا نہیں اس ریاست کیلئے اگر کوئی اج بھی خدمت کررہاہے تو بخدا میں انکے بوٹ پالش کرونگا اور یہ میں اپنے لئے عبادت سمجھونگا.میری دشمنی فرد سے توہوسکتی ہے ریاست سے نہیں اداروں سے نہیں .ازادی سے نہیں ..

    خداراہ عالمی بدلتی ہوئی حالات میں ایک گلاس پانی میں ڈوب کر نہ سوچئے ایک مسلمان اور ایک پاکستانی بن کر سوچئے .اب عرب دنیاں کو موڑنے کی کوششیں ہورہی ہیں اب اسلامی دنیاں کو تقسیم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اب نئے بلاکس بن رہے ہیں اب نئے نئے جنگ چھیڑے جائے نگے.یہ عدم تشدد والے بھائی اپنے امن کے ایمپورٹ فارمولے کہیں دفن کرے.یہ نئے میری جسم میری مرضی والے اپنے عیاشیوں کو اپنے دہلیز تک محدود رکھے.اپنے انگن کی فکر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کیجئے ان لوگوں کو اپنے دعاوں میں یادرکھئے جو خفیہ ہیں اور قران وحدیث سے ظاہر ہیں کہ ہر دور میں چالیس ابدال اور بارہ قطب زندہ رہینگے..وہ کوئی اسمانی مخلوق نہیں ہیں وہ انہی ریاستی اداروں میں ہونگے انہی مساجد ومدارس میں موجود ہونگے انکو کسی بلٹ پروف گاڑی کی ضرورت نہیں ہے انکو کسی کیمرے اور سٹوڈیوں کی رنگینیوں کی ضرورت نہیں ہیں .وہ سوتے میں بھی اسلام کیلئے کام کررہے ہوتے ہیں انکا جاگنا سونا جانا بیٹھنا سب کچھ اسلام اور ریاست کیلئے ہیں .یادرکھئے مضبوط اسلامی خلافت کے قلعے کھبی باہر سے کسی کافر نے فتح نہیں کئے ہیں بلکہ انکو اپنے غداروں کے زریعے اندر سے ہی توڑوایاگیا ہے .سو سنجیدہ رہئے اور جس بات کے بارے میں علم نہیں رکھتے اس پر بناء سوچے سمجھے زندہ باد مردہ باد کہنے سے باز رہئے.اس ریاست میں ابدال لگے ہوئے ہیں قطب کے رہنمائی میں خلافت مضبوط ہورہی ہیں دنیاں تمھارے سامنے سرنگو رہیگی مگر اپنے صفوں میں اعتماد پیدا کرے اپنے ریاست پر یقین پیدا کرے اپنے خفیہ اداروں کیساتھ تعاون کرے 

    Twitter Handle

    @PTI58