Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کرونا وبا کے مثبت اثرات کیا تھے؟ تحریر: کائنات فاروق

    دنیاوی تاریخ میں دیکھا جائے تو وبا کے بڑے طویل مدتی اثرات مرتب ہوئے ہیں، خاندانوں کے زوال سے لے کر نوآبادیاتی نظام میں اضافہ اور یہاں تک کہ آب و ہوا میں تبدلیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔

    ١٣۵٠ء میں یورپ میں پھیلنے والے طاعون کا پیمانہ خوفناک تھا جس نے یورپی کے تقریبا ایک حصے کو ختم کردیا تھا۔ اس ہی طرح ١۵ ویں صدی کے اختتام پر امریکہ میں چیچک اور نوآبادیات نے اتنے لوگوں کو ہلاک کیا کہ جو شاید دنیا کی آب و ہوا کو تبدیل کرنے کا باعث بنا ہو۔ ١٨٠١ء میں زرد بخار اور غلاموں کی بغاوتوں کے نتیجے میں ہیٹی میں فرانسیسی حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ اس ہی طرح رینڈپسٹ نامی جانوروں کو متاثر کرنے والی ایک مہلک بیماری نے افریقہ میں یورپ کے نوآبادیات کو تیز کرنے میں مدد فراہم کی۔ اس بیماری نے افریقہ کے مویشیوں کا ایک بڑا حصہ ہلاک کیا۔ ١٨٧٠ء کی دہائی میں افریقہ کا صرف دس فیصد حصہ یورپی کنٹرول میں تھا لیکن ١٩٠٠ء تک یہ بڑھ کر نوے فیصد ہوچکا تھا۔ اور اس اراضی پر قبضہ رینڈپسٹ پھیلنے کی وجہ سے افراتفری کی مدد سے ہوا۔ ١٦۴١ء میں چین میں طاعون منگولوں کے زوال کا سبب بنا۔

    وبا کی دنیاوی تاریخ دیکھی جائے تو ہمیں خوفناک اور منفرد تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس ہی طرح آج کی دنیا میں بھی کرونا وائرس کے پھیلاو کے بعد ہم نے دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو اپنی زندگی بسر کرنے کے انداز کو ڈرامائی انداز میں بدلتے ہوئے دیکھا۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق ٣١ دسمبر ٢٠١٩ کو چین میں ایسے نمونیا کے کیسز

    کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو ووہان میں کسی نامعلوم وجہ کے باعث سامنے آئے۔ تقریبا ایک سال کے بعد اسے نوول کرونا وائرس یا کووڈ – ١٩ کا نام دیا گیا۔ اس وبا کو اس سال دسمبر میں دو سال مکمل ہونے کو ہیں اور سائنسدان تاحال اس وبا کو نہ ہی مکمل طور پر سمجھ سکے ہیں نہ اس کا علاج دریافت کرسکے ہیں۔

    اس وائرس کے سبب دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے

    معمولات زندگی تھم چکی تھیں۔ عالمی معیشت کرونا وائرس کی پہلی لہر کے باعث ہونے والے لاک

    ڈاؤن کے سبب پڑنے والے جٹھکے سے خود کو سنبھالنے کی جدوجھد میں لگی رہی اور تاحال عالمی معیشت خود کو مضبوط کرنے کی ان تھک کوششوں میں لگی ہے۔ 

    دیکھا جائے تو اس وبا کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں اور زیادہ تر منفی پہلوؤں کو زیر غور لایا گیا ہے جیسے اس عالمی وبا کی وجہ سے بے وقت اموات کا سلسلہ اور صنعتوں کی بندش کے باعث لاکھوں لوگوں کی بےروزگاری وغیرہ۔

    کرونا وبا کے جہاں منفی اثرات نے خاص کر ہر سطح اور ہر طبقے کو متاثر کیا تھا اس کا ازالہ کرنے کی کوشش میں کئی لوگ آج تک لگے ہیں۔ لیکن جہاں اس وبا کے نقصانات دیکھے گئے وہیں یہ وبا سماجی سطح پر بھی ہمارے معموالات زندگی اور ماحولیات پر چند مثبت تبدیلیوں کا سبب بھی بنی ہے۔

    ان چند مثبت پہلوؤں کو زیر غور لاتے ہوئے ان کا ذکر کرتے ہیں، کرونا وائرس کے باعث سب سے مثبت اثر ماحولیات پر پڑا۔ صنعتوں کی بندش کے باعث کاربن کے اخراج میں کمی آئی جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں پچاس 

    فیصد کمی دیکھی گئی۔

    کرونا وبا کی شدت پکڑتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو کرونا وائرس کے باعث صنعتوں کا بند ہونا اور کئی ملکوں اور شہروں میں نافذ لاک ڈاؤن تھا جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں واضح فرق پڑا تھا۔ 

    مسلمانوں پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے جس کے لیے پانچ وقت وضو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور سائنسی اعتبار سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دن میں کم از کم ۵ سے

    ۶ مرتبہ ہاتھوں کو صفائی سے دھونا ضروری ہے،

    ماہرین کی جانب سے مسلسل تلقین کی جاتی رہی کہ اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں۔ 

    اس طرح لوگوں نے خوشی سے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اس عادت کو اپنا لیا ہے۔

    گلیوں اور سڑکوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جارہا تھا، لوگ خود کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو خودساختہ طور پر صاف رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔

    لوگوں کو ٹیلی ورکنگ سیکھنے کا موقع ملا۔ لوگوں نے وقت کو بچا کر گھر بیٹھے

    کام کو کس طرح مکمل کیا جاسکتا ہے یہ سیکھا، جس کے باعث دنیا اب ڈیجیٹل ورلڈ بننے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 

    لاک ڈاون کے باعث بازاروں کا جلدی بند ہونا اور شادی بیاہ میں غیر ضروری رسومات میں کمی اور سادگی کے رجحان کا بڑھنا بھی دیکھا گیا۔ کرونا وائرس کے باعث دنیا جہاں ورک فرام ہوم اور آئن کالسز پر آگئی تھی، اس وجہ اہل خانہ کے ساتھ گزارنے اور عبادتوں کی لیے لوگوں کو ایک اچھا وقت ملا، اس وبا کی وجہ سے ملنے والے وقت نے لوگوں کو عبادات میں باقاعدگی کا موقع بھی فراہم کیا۔

    کرونا وائرس نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ انسان کس قدر بے اور بس ہے اور بڑی سے بڑی دنیاوی طاقتیں بھی قدرتی آفات کے سامنے ڈھیر ہیں، سپر پاور ہونے کا دعوی کرنے والے بھی خدا کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، یہ بات سمجھنے والوں پر واضح ہوگئی کہ زندگی بہت مختصر ہے اور دنیا فانی ہے، ایک وبا پوری دنیا کی معیشت و کاروبار پر تالے لگوا سکتی ہے۔

    یہ کچھ مثبت پہلو وہ ہیں جو کرونا وبا کے باعث ہماری زندگی پر پڑے یا شاید اب تک پڑ رہے ہیں، 

    لیکن ہم نے دیکھا کہ لاک ڈاؤن میں جہاں کچھ رعایت ملی وہاں لوگ اپنے معموالات زندگی میں واپس لوٹتے ہوئے ان مثبت اثرات اور عادتوں سے بھی دور ہونے لگے، 

    کرونا وبا نے ہمیں زندگی کے کئی مثبت پہلووں سے آشنا کرایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ وبا

    ختم ہونے کے بعد بھی وبا کے دوران ہماری زندگی پر اثرانداز ہونے والے مثبت پہلوؤں اور تبدیلیوں سے دور نہ ہوں۔ بلکہ صفائی اور عبادت جیسی چند مثبت عادتوں، سادگی سے شادیاں اور سادہ معمولیات زندگی جیسے رجحانات کو اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لیے شامل کرلیں۔

    @KainatFarooq_

  • پیٹرول کا بم گرگیا اور مہنگائی دیکھو”  تحریر: حسیب احمد

    پیٹرول کا بم گرگیا اور مہنگائی دیکھو” تحریر: حسیب احمد

     

    آئے روز ہمیں ہر کسی چیز میں مہنگائی کا سامنا کرنے کو مل رہا ہے۔ پیٹرول اس میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے عوام کی جیبوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ پیٹرولیم کمپنیاں ریٹ بڑھا دیتی ہیں پھر بیچاری عوام مہنگے داموں خرید کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

    علمی منڈی میں ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے روپے کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے جس سے ہمیں مہنگے داموں میں خریدنا اور پھر عام کو بیچنا پڑتا ہے۔

    ہمارے ہاں لوگ باہر کی کرنسی خرید کر رکھ لیتے ہیں اور جیسے ہی وہ مہنگی ہوتی تو بیچ کر اپنے ہی پاکستانی روپے کو گراتے ہیں۔ پھر لوگ اپنی غلطی کا ملبہ حکومت پاکستان پر ڈال دیتے ہیں۔ کیا حکومت نے کہا تھا اپنے روپے کو استعمال نا کرو باہر کی کرنسی کو اہمیت دو؟

    لیکن ہاں کہیں نا کہیں حکومت پاکستان کی بھی تھوڑی سی خامیاں ہیں وہ اپنے ان تین سالوں میں 3 وزیر خزانہ تبدیل کرچکے ہیں اور یہ وہی ہیں جنہوں نے پیچھلی حکومت میں بھی مہنگائی کا جن بےقابو کر رکھا تھا۔ ایسے لوگ ہیں معیشت کی ترقی کے بجائے آئے روز مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی ستائی عوام کو روز روز نئے داموں کے تجربات سے جھٹکے دیتے ہیں۔

    ہمیں اپنے لوگوں کو جوکہ قابل ہیں اور ماہرین معاشیات ہیں ان کو آگے بڑھاتے ہوئے ان سے مہنگائی کے خاتمے کا حل تلاش کروانا چاہیے۔ ہمیں اپنے روپے کو قدر اور اپنی پالیسیوں کو دوبارہ صحیح سے ترتیب دینا چاہیے۔

    2020 میں پاکستان کی افراط زر کی شرح 9.74٪ تھی ، جو 2019 سے 0.84 فیصد کمی تھی۔ 2017 کی شرح 4.09 فیصد تھی جو کہ 2016 سے 0.32 فیصد زیادہ ہے۔

    مہنگائی سے مراد قیمتوں میں اضافہ ہے جو کسی قوم کی قوت خرید میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ افراط زر ایک عام معاشی ترقی ہے جب تک سالانہ فیصد کم رہے۔ ایک بار جب پہلے سے طے شدہ سطح پر فیصد بڑھ جاتا ہے ، اسے افراط زر کا بحران سمجھا جاتا ہے۔ اصطلاح "افراط زر” ایک بار رقم کی فراہمی میں اضافے کا حوالہ دیتا ہے (مالیاتی افراط زر) تاہم ، پیسے کی فراہمی اور قیمت کی سطح کے درمیان تعلقات کے بارے میں معاشی مباحثوں نے قیمتوں کی افراط زر کو بیان کرنے میں آج اس کا بنیادی استعمال کیا ہے۔ افراط زر کو پیسے کی حقیقی قدر میں کمی کے طور پر بھی بیان کیا جا سکتا ہے-زر مبادلہ کے ذریعے قوت خرید میں کمی جو کہ اکاؤنٹ کی مالیاتی اکائی بھی ہے۔ جب قیمت کی عمومی سطح بڑھ جاتی ہے ، کرنسی کا ہر یونٹ کم سامان اور خدمات خریدتا ہے۔ عام قیمت کی سطح کی افراط زر کا ایک اہم پیمانہ عام افراط زر کی شرح ہے ، جو کہ ایک عام قیمت کے انڈیکس ، عام طور پر کنزیومر پرائس انڈیکس میں وقت کے ساتھ فیصد میں تبدیلی ہے۔ مہنگائی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ، مستقبل کی افراط زر کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری اور بچت کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ زیادہ افراط زر اشیا کی قلت کا باعث بن سکتا ہے اگر صارفین اس خدشے کے باعث ذخیرہ اندوزی شروع کردیں کہ مستقبل میں قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ 

    اللہ پاک سرزمین کے ہر مسائل کو حل کرنے میں ہمارے مددگار ثابت ہوں۔ اور پاکستان کو لوگوں کو ان تکالیف سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھے۔ اور پاکستان کو دنیا میں عظیم و ترقی والا ملک بنائے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کی پذیرائی ہو اور نیک نامی میں اضافہ ہو۔

    من

    مہنگائی آتی رہتی ہے بس اپنے گھبرانا نہیں اللہ پر بھروسہ رکھنا۔۔۔

    تحریر: حسیب احمد

    @JaanbazHaseeb 

  • سیاسی زبان درازی ۔۔ مخالفین سے عوام تک  تحریر ؛ علی خان

    سیاسی زبان درازی ۔۔ مخالفین سے عوام تک تحریر ؛ علی خان

     

    @hidesidewithak 

    سیاست کریں بدتمیزی نہیں اس کے ساتھ یہ بھی نہ بھولیں کہ آج آپ جس بھی جگہ ہیں وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں 

    کی وجہ سے ہیں 

    سیاست کو عموماً مصلحت پسند یا اگر صاف الفاظ میں کہیں تو منافقوں کا پیشہ کہا جاتا ہے لیکن وطن عزیر میں الٹی گنگا بہتی ہے،،، سیاست میں نامناسب الفاظ کے استعمال کا سلسلہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں شروع ہوا،،، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ڈکٹیٹر ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے پر کردار کشی کی گئی،،، پھر "قائد عوام "ذوالفتار علی بھٹو  کا دور آیا اور سیاست میں مخالفوں کے لیے عوامی کی بجائے بازاری زبان استعمال ہونے لگی۔۔۔  قائد عوام کی سرکردگی میں ہی شروع کردہ تحریک کے دوران فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف کتا کتا کے نعرے لگائے گئے۔۔۔  اپنے حریف ائیر مارشل ایوب خان کو آلو جیسے القابات دینا بھی انہی کا خاصہ رہا

    اس زبان درازی کے سلسلے سے  ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو بھی محفوظ نہ رہ سکیں اور انہیں مختلف مخالفین کی جانب سے بدتہذیبی اور ناشائستہ زبان کے اس سلسلے کا سامنا کرنا پڑا ۔ اپنے ساتھ ہونے والی اس ناشائستگی کو محترمہ نے ہمیشہ  یاد رکھا۔ انکی جماعت کے رہنما رانا ثنااللہ نے مخالف جماعت نواز  لیگ کی رہنما مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ اور مریم نواز پر رکیک حملہ کیا تو محترمہ نے  راناثنااللہ کو فوراً پارٹی سے  نکال دیا۔  ستم ضریفی  دیکھئے کہ  انہی رانا ثنااللہ کو نواز لیگ نے ہی اپنی پارٹی میں شامل کرلیا اور پھر وہ پیپلزپارٹی کے مرحوم گورنر سلمان تاثیر کے اہل خانہ پر ذاتی حملوں میں ملوث رہے

    سربراہ تحریک انصاف عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان بار بار ذاتی حملوں کے سبب عمران خان سے علیحدگی اختیار کرنے اور واپس برطانیہ جانے پر مجبور ہوگئیں۔  دوسری جانب تحریک انصاف کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے  مریم نواز  کو بار بارگھر سے بھاگنے کا طعنہ دیا جاتا رہا۔ جمیعت علمائے اسلام کے حافظ حمداللہ کی جانب سے سماجی کارکن کو آن ائیر  غلیظ جملوں کا نشانہ بنائے جانے اور موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے بلاول بھٹو بارے معنی خیز گفتگو  بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے

    ہمارے یہ رہنما عوام کو بھی اس بدزبانی کی دلدل میں گھسیٹنے سے باز نہیں آتے ۔  سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بیان  دیا ” نئے پاکستان کیلئے ووٹ دیا ہے تو عوام بھگتیں”۔  موجوہ وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے انتخابی مہم جلسے میں  اپنے ہی ووٹرز کو شدید نازیبا الفاظ سے پکارا جانابھی کوئی زیادہ دور کی بات نہیں۔ ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین کی بدزبانی اور لغو زبان کا استعمال بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں ۔  ایک مرتبہ چودھری نثار کے بیان پر ایم کیو ایم رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر بھی آپے سے باہر ہوگئے اور کہا پنجاب میں ہر گھر میں مجرے ہو رہے ہیں،،، ن لیگ کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے تو گالم گلوچ کو پنجابی کلچر کا حصہ ہی قرار دے  ڈالا ۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ کے علی گوہر بلوچ اور تحریک انصاف کے علی نواز اعوان  کی اخلاق باختہ زبان درازی شاید سب کو ہی یاد ہوگی

    عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید نے مہاجرین کے منہ پہ چماٹ مارنے یا انہیں پاگل خانے بھیجنے کا بیان دیا۔  سابق پی پی اور اب جی ڈی اے رہنما ذوالفقار مرزا نے مہاجر صوبے کی بات کرنے والوں کو بھوکا ننگا  قرار دیا۔  عبدالقادر بلوچ نے ایم کیو ایم کے ورکرز کو جانور قرار دیا۔  پختونخواہ میپ کے محمود اچکزئی نے لاہوریوں کو افغان پشتون وطن پر قبضے کی کوششوں میں انگریزوں کا معاون ہونے کا طعنہ دے ڈالا۔ سابق  صدر پرویز مشرف کا ریپ کا شکار خواتین بارے قابل مذمت بیان اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا تقریر کو عورت کی اسکرٹ سے تشبیہ دینا بھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا،،، یہ عوامی نمائندے ہمارے ہاں اخلاقی  معیار کی پستی کے  بڑے ذمہ داروں میں سے ایک ہیں۔ خود کو اقتدار میں لانے والے ووٹرز کو گالی دینا اسی وڈیرہ اور جاگیر دار کلچر کا عکاس ہیں جو آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں غریبوں پر ظلم کا باعث ہیں۔ ان سیاستدانوں کوروش بدلنا ہوگی اور تاریخ سے یہ سبق سیکھنا ہوگا کہ دوسروں کے لیے لگائی آگ ضرور اپنے گھر تک پہنچتی ہے

  • انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ

    انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ

    حصہ اول۔

    وہ کون سے عوامل ہیں جو قوموں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں؟ یہ جاننے کے
    لیے ہمیں ویت نام کی تاریخ میں جھانکنا ہو گا۔ویت نام کے دارالحکومت ہا نوئی
    میں گھومتے ہوئے ، آپ  ترقی کی جانب بڑھتے قدموں کی چاپ واضح طور پر سن سکتے
    ہیں ۔ لوگگاڑیوں میں گھومتے ہیں ، ان گنت چھوٹی دکانوں میں فون سے لے کر کھانے
    تک سب کچھ خرید و فروخت کرتے ہیں ، اور اسکول یاکام پر جانے کے لیے ادھر ادھر
    بھاگتے ہیں۔ ویت نام تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے آگے
    بڑھ رہا ہے۔  یہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ محض 30 برس پہلے ، یہ ملک دنیا کے
    غریب ترین ممالک میں سے ایک تھا۔ جہاں مہنگائی کی شرح 700 فیصد تھی، کسان بھوک
    سے مر رہے تھے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے سوویت یونین سے یومیہ 4 ملین
    ڈالر کی امداد لی جا رہیتھی۔

    45 برس قبل جب جنگ ختم ہوئی اور غیر ملکی افواج کا ویتنام سے انخلا شروع ہوا تو
     ہر طرف تباہی اور بربادی کی داستان رقم تھی۔تقریبا 20 سال طویل جاری رہنے والی
     جنگ جب ختم ہوئی توہر کوئی بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھا۔ طویل جنگوں کے بعد
    ملکیمعیشت اور انفراسٹرکچر تو تباہ ہوتا ہی ہے، لیکن افرادی قوت بھی بری طرح
    متاثر ہوتی ہے۔ جنگ بھی اتنی طویل جس میں ایکنسل جوان ہو جائے۔ کوئی نہیں جانتا
     کہ اتنی طویل جنگ دیکھنے کے بعد وہاں کے عوام کی نفسیاتی کیفیت کیا ہو گی۔ وہ
    دوبارہ سےاپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں گے کہ نہیں۔ تقریبا 20 لاکھ شہری اس جنگ
    کے دوران مارے گئے،  دو لاکھ فوجی اس کے علاوہتھے۔ تقریبا ڈھائی ملین افراد نے
    فلپائن، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں پناہ لی۔

    ویت نام میں تاریخ کی سب سے زیادہ بمباری ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم میں 2.1 ملین ٹن
     کے مقابلے میں 6.1 ملین ٹن سے زیادہ بمگرائے گئے۔ 3 امریکی طیاروں نے 20 ملین
    گیلن جڑی بوٹی مار دواؤں کو ویت کانگ کے چھپے ہوئے مقامات کو ناکارہ بنانے کے
    لیےاستعمال کیا۔ جس نے 5 ملین ایکڑ جنگل اور 500،000 ایکڑ زرعی زمین کو ختم کر
    دیا۔

    یہ جنوب مشرقی ایشیائی قوم ایک درمیانی آمدنی والا ملک کیسے بنی؟ جب 20 سالہ
    ویت نام جنگ 1975 میں ختم ہوئی تو ویت نام کیمعیشت دنیا کی غریب ترین معیشتوں
    میں سے ایک تھی۔  1980 کی دہائی کے وسط تک ، فی کس جی ڈی پی $ 200 اور $ 300 کے
    درمیان پھنس گیا تھا۔ لیکن پھر سب کچھ بدل گیا۔

    ویت نام کی کامیابی کی کہانی 1986 کی Doi Moi ("rejuvenation”) اصلاحات سے شروع
     ہوتی ہے۔ اس ماڈل کے تحت ابتدائیطور پر زیادہ توجہ تعلیم کے شعبہ کو دی گئی.
    ویتنام کی حکومت نے ابتداء ہی میں یہ حقیقت جان لی کہ کوئی بھی ملک صحیح معنوں
    میںمستقل ترقی کا خواہش مند ہے تو اس کو سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام میں
    اصلاحات کرنا ہونگی۔ یہی وجہ ہے کہ طویل جنگ سےنبردآزما ہونے والا ملک ویتنام
    بھی ہم سے ترقی کی راہ میں بہت آگے نکل گیا کیونکہ انھوں نے جنگ کے بعد معاشی
    اور تعلیمیاصلاحات پر زور دیا۔

    یہاں کی آبادی  آج 95 ملین ہے ، جن میں سے نصف 35 سال سے کم ہیں۔ بڑھتی ہوئی
    آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئےیہاں کی حکومت نے پرائمری تعلیم میں بڑے
    پیمانے پر عوامی سرمایہ کاری کی۔ کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کا مطلب ملازمتوں کی
    بڑھتیہوئی ضرورت بھی ہے۔ ویت نام نے بنیادی ڈھانچے میں بھی بہت زیادہ سرمایہ
    کاری کی ، جس سے انٹرنیٹ تک سستے پیمانے پررسائی کو یقینی بنایا گیا۔ ویتنام
    میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں تعلیم کا بجٹ
     20 فیصد ہے۔

    معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے ویت نام کی حکمت عملیوں میں سے ایک اس کے تعلیمی
    نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری کے حصول کا
    ذریعہ نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جس کو صنعتی نظام کے ساتھ
    منسلک کیا جا سکے اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہو۔

    ویت نام کی حکومت انگریزی زبان کی تعلیم، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے
    اور آسٹریلیا ، فرانس ، امریکہ ، جاپان اور جرمنیجیسے ممالک کے ساتھ تبادلے کے
    لیے کوشاں ہے۔ حکومت بیک وقت ویت نام میں غیر ملکی طلباء اور محققین کی تعداد
    بڑھانے کیکوشش میں مصروف عمل ہے۔

    مرکزی حکومت نے معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا ، جس کا
    بنیادی مقصد جدید صنعت اور سرمایہ کاری کیصلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس منصوبے
    کو DRV ماڈل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس نے صنعتوں کو پیداوار کے حجم کوبڑھانے
    کی ترغیب دی۔ ریاست نے سبسڈی کے ذریعے کسی بھی نقصان کو پورا کیا۔ انڈسٹری نرم
    بجٹ کی پابندی کے تحت چلائیگئیں ۔ ریاست نے اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا۔
    کمپنیوں کو پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف قسم کی مفت گرانٹ دی گئی،
    جنہیں کیپٹل اسٹاک میں اضافے کے طور پر محسوس کیا گیا۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • کورونا وائرس میں کمی اور معمولات زندگی بحال تحریر؛ ناصر بٹ

    کورونا وائرس میں کمی اور معمولات زندگی بحال تحریر؛ ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    اور یوں دنیا بھر کی بڑی بڑی معاشی قوتوں کو تگنی کا ناچ نچانے والی مہلک بیماری کورونا وائرس میں کمی ہونے لگ گئی، حالات معمول پر آنے لگے، کاروباری سیکٹرز میں لگی پابندیاں ختم تو مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معاملات کو بھی کورونا سے پہلے کی زندگی پر بحال کرنے کی کوشش شروع ہوچکی، ساری صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تعلیمی سیکٹر کو بھی مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا گیا وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں این سی او سی اجلاس کے بعد فیصلوں میں سب سے اہم فیصلہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے ہوا اور ہفتے میں تین روز کلاسز کی چھوٹ کو ختم کرتے ہوئے پرانی روٹین کو بحال کر دیا گیا وجہ پوچھی گئی تو کہا گیا کہ کورونا کی صورتحال اب قدرے بہتر ہوچکی، کل سے اب تک کا بھی جائزہ لے لیں تو محض 26 افراد ہی موت کے منہ میں گئے حالانکہ ایک وقت بھی ایسا بھی پاکستان نے دیکھا کہ جب ایک ہی دن میں 300 افراد بھی جان سے گئے اس کے علاوہ نئے کیسز کو بھی دیکھا جائے تو کل سے اب تک 912 شہری کورونا کی گرفت میں آئے جبکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ملک میں 6 ہزار سے بھی زائد یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے، مجموعی طور پر صورتحال کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں ٹوٹل ایکٹو کیسز کی تعداد 43 ہزار 658 ہوچکی تاہم ٹیسٹوں کہ صلاحیت میں روز بروز اضافہ کرنے کی کوشش جاری ہے جو کہ کامیاب بھی ہوچکی ملک میں گزشتہ ماہ ایک ہی روز میں 70 ہزار سے زائد ٹیسٹ بھی کیے گئے لیکن چونکہ بیماری کی شدت میں کمی آگئی اور پریشر بھی کم ہوتا نظر آرہا تو شہریوں کی جانب سے ٹیسٹ کروانے کا رجحان بھی قدرے کم نظر آرہا کل سے اب تک 45 ہزار 610 افراد نے ہی کورونا ٹیسٹ کروائے، وفاقی وزیر سمیت پورے این سی او سی کو کم ہوتا کورونا کیوں نظر آیا اس کا سارا کریڈٹ روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ویکیسن کی تعداد پر ہے، ویکسینٹڈ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو بھی کیوں نہ حکومت نے ٹرانسپورٹ سے لیکر سرکاری دفاتر اور بڑے شاپنگ مالز تک بغیر ویکسین داخلے پر جو پابندی عائد کر دی، اب حالات یہ ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر 1 ملین سے زائد شہریوں کو کورونا ویکسین لگائی جارہی ہے این سی او سی کی جانب سے جاری کیے گئے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ایک روز میں11 لاکھ 90 ہزار 424 افراد ویکسین کی سہولت سے مستفید ہوسکے جبکہ اب تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 77 لاکھ 41 ہزار 79 شہری کورونا ویکسینیشن کروانے کے بعد خود کو جان لیوا وبا سے محفوظ بنا چکے، حکومت 80 سال سے شروع ہوکر اب 12 سال تک کے ننھے شہریوں کو بھی کورونا ویکسینیشن سہولت فراہم کرتی نظر آتی ہے جس کے لیے سکولز کی سطح پر خصوصی ٹیمز پولیو کی مانند بچوں کو ٹارگٹ کرتی نظر آرہی ہیں بظاہر لگ رہا کہ حکومت کورونا سے کامیابی سے نمٹنے میں کامیاب ہو گئی اور زندگی دوبارہ سے اپنے خوبصورت رنگوں کو سمیٹنے کی راہ پر چل نکلی ہے لیکن رکیے!!! ابھی خطرہ ٹلا نہیں بس نام بدل گیا، ایک اور پرانی جان لیوا بیماری موسم کی کروٹ بدلتے ہی لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے آچکی، ڈینگی وائرس سے کئی افراد جاں کی بازی بھی ہار چکے اور متاثرین کی تعداد اتنی ہے کہ سرکاری ہسپتال میں مزید داخلوں کو بند کر دیا گیا ہے لیکن امید ہے اس پر حکومت قابو پاسکے گی جیسے عالمی وبا کورونا وائرس پر گرفت مضبوط کی جاچکی ہے

  • گوجرانوالہ میں عشرہ شان رحمت اللعالمین مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا اعلان

    گوجرانوالہ میں عشرہ شان رحمت اللعالمین مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا اعلان

    گوجرانوالہ میں عشرہ شان رحمت اللعالمین مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا اعلان

    گوجرانوالہ: گوجرانوالہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عشرہ شان رحمت اللعالمینﷺ” مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
    تفصیلات کے مطابق وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارکی ہدایات کی روشنی میں گوجرانوالہ میں یکم ربیع الاول سے 12ربیع الاول” عشرہ شان رحمت اللعالمینﷺ” دینی ومذہبی جو ش وخروش اور شایان شان طریقےسے منایاجائے گا۔
    ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ دانش افضال نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کہا کہ عشرہ شان رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں پہلی مرکزی شان رحمت اللعامین صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس اتوارکے روز ڈویژنل پبلک سکول میں ہوگی۔
    اس کے علاوہ سکول ایجوکیشن، ہائرایجو کیشن، محکمہ اوقاف ومذہبی امور، محکمہ صحت، آرٹس کونسل، بلدیاتی ادارے ودیگرمحکمے محافل نعت، محفل حسن قرات، نعتیہ مشاعرے اورتقریری مقابلوں کا انعقاد کریں گے۔

  • وکیل اور خدمت تحریر:عابد حسین رانا

    @AbidRana876
    آج ہم ذکر کریں گے ممتاز قانون دان عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا آپ کا شمار وزیرآباد اور گردونواح کے اعلیٰ ترین وکلاء میں ہوتا ہے
    عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا تعلق وزیرآباد محلہ کانواں والا کے متوسط کاروباری شخصیت حاجی فیروز دین مرحوم کے گھرانے سے ہیں جو ان کے دادا تھے
    آپ کی پیدائش 14 مارچ 1974 کو میں ہوئی آپ کا تعلق آرائیں برادری سے ہے
    میٹرک تک تعلیم پبلک ہائی اسکول وزیرآباد سے حاصل کی ایف ایس سی FSC مولانا ظفر علی خان ڈگری کالج وزیرآباد سے کیا بعد ازاں بی کام b.com اور ڈی سی ایم اے DCMA ایم اے MA پنجاب یونیورسٹی لاہور اور بی بی اے BBA علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کرنے کے بعد ایل ایل بی LLB کی ڈگری لاء کالج پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی آپ تعلیم کے ساتھ سپورٹس مین بھی تھے اچھے فٹبالر ہونے کی وجہ سے دورانِ تعلیم وزیرآباد کی تھری سٹار فٹبال کلب اور لاء کالج پنجاب یونیورسٹی کے کپتان بھی رہے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد فوجداری وکالت کا آغاز آفتاب احمد باجوہ سابقہ سیکرٹری سپریم کورٹ آف پاکستان کے آفس میں ہی سال 2000 سے کیا ایک سال تک ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد لاہور ہی میں اپنا ذاتی آفس بنا کر وکالت شروع کی تقریباً 7 سال لاہور میں وکالت کے بعد نومبر 2006 میں واپس وزیرآباد آ کر مدینہ مارکیٹ میں آفس بنا کر وزیرآباد میں باقائدہ وکالت شروع کی اور دو تین سال کے اندر ہی تحصیل وزیرآباد کے فوجداری وکلاء میں ایک الگ مقام حاصل کیا سال 2010/2011 میں بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے سیاست میں قدم رکھا تو ابتدائی دنوں میں تحریک انصاف کے سیکرٹری اور بعد میں تحصیل صدر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے مگر وکالت میں مصروفیت کی وجہ سے لوکل سیاست کو خیر باد کہہ دیا آپ نے مشہور مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے لاہور راولپنڈی گوجرانولہ گجرات نوشہرہ ورکاں میں فرائض سر انجام دیئے حال ہی میں گوجرانولہ بار کونسل کا الیکشن لڑا اور اب تک وزیرآباد میں الیکشن لڑنے والوں میں سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیئے اس وقت وزیرآباد گوجرانولہ اور لاہور ہائی کورٹ میں یکساں مصروف ہیں آپ نے 300 سے زائد 302 کے مقدمات کی پیروی کی اور ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا وزیرآباد اور گردونواح کی اعلیٰ شخصیات کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے ان کے کیسسز کی پیروی عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ ہی کریں

  • اگر کوئی پوچھے کہ میلاد منانا کہاں لکھا ہے تُو اس سے کہو ہماری قسمت میں  تحریر محمد کاشف وارثی

    اگر کوئی پوچھے کہ میلاد منانا کہاں لکھا ہے تُو اس سے کہو ہماری قسمت میں تحریر محمد کاشف وارثی

    ہماری استاد فرماتے ہیں 

    کے اگر ساری ذندگی اس بات پر شکر ادا کرتے رہیں کے اپ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم   دنیا میں تشریف لائے اور ہماری نجات بنے تو بھی کم ہے میں دیکھتا ہوں جدید انسان نے اس میں بھی کمی کر دی نہ درود نہ دعا میں سمجھتا ہوں اس وقت بہت عقیدت سے منانا چاہیے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد مبارک تاکہ جو ناپاک لوگ اپ کے خاکے بنانے کا سوچتے ہیں ان کو لگ پتہ جائے کے مسلم اج بھی سب سے ذیادہ محبت اپنے اخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں اور ہر وقت مر مٹنے کے لیے تیار ہیں 

    جو بھی مانگا وہ ملا ان کے کرم کے صدقے 

    ذندگی جتنی بھی باقی ہے ان کے قدموں میں گزر جائے دعا کرتے ہیں 

    ایک نعت کا شعر 

    ملتی نہ اگر بھیک خضور اپ کے در سے 

    اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نیں ہوتے 

    یہ ناز یہ انداز ہمارے نیں ہوتے 

    جھولی میں اگر ٹکرے تمارے نیں ہوتے 

    اپ سب کو یاد ہوگا کے جب میلاد کا مہنہ اتا تو ہر طرف روشنیاں ہوتی 

    بارہ ربیع اول کی تیاریاں ہوتی تھیں اب دیکھنے میں اتا ہے کے لوگ ازادی کا مہنہ اور باقی ایونٹ تو بڑے جوش سے مناتے ہیں مگر اس طرف بس محفل میں چلا گیا اور نعتن سن لیں بس فرض ادا ہوگیا 

    مجھے لگتا ہے نوجوانوں میں اس بات کو دوبارہ ذندہ کرنا ہوگا 

    مجھے یاد ہے جب ہم جھوٹے تھے تو ہمارے بڑے ہمیں ساتھ لے کے جاتے میلاد شریف کے جلوس میں مگر اب وہ چیزیں کم دیکھائی دیتی ہیں 

    جہاں تک بات مجھے سمجھ لگتی ہے کے اب لوگ اپنے بچوں کی دنیاوی تعلم کے لیے تو ٹیوشن اور اچھے سکول دیکھتے اور ساتھ ساتھ چیک بھی کرتے ہیں کے بچہ سہی جا رہا کے نیں مگر دینی تعلم کی طرف توجہ کم ہے میں پڑی لکھی ماوں سے کہنا چاہتا ہوں پلز خدا رہ اس طرف بھی تھوڑی توجہ کریں  خدا کی قسم ہماری مائیں اتنی پڑی نیں تھیں مگر سپارہ پڑنے لازمی بھجتی تھیں نعتیں سنتی تھی خاص کر کے جمعہ والے دن ہم مسجد جاتے اور اماں گھر میں نعت سنتی جب جمعہ پڑ کے اتے تو گھر سے انعام ملتا اور وہ شوق اج بھی سلامت ہے کریم اللہ یہ شوق سلامت رکھے 

    اپنے گھروں کو سجائیں بچوں کو سمجھائیں کے اگر ہم اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اتنی اچھی منائیں تو اس بڑی اور پاک خوشی کو بھی اعلی انداز میں منائیں 

    میں کسی مذہبی بعث میں نیں پڑنا چاہتا بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کے سب مل کے سرکار کی امد پر درود شریف کی محفلیں سجائیں نعتیں پڑیں جس طرح اج کل کے فتنے نکل رہے ہیں ہم کو ہر طرح سے اپنی نسلوں کو یہ عشق کی روشنی دے کر جانی چاہیے ورنہ خدا نہ کرے جس طرح اجکل نوجوان دین سے دوری رکھے ہوئے ہے یہ لوگ نعت گوئی اور درود شریف کی محفل سے دور نہ ہو جاہیں 

    ایک نعت میں ہے

    بے دام ہی بیک جاوں میں بازار نبی میں 

    اس شان کے سودے میں خسارے نیں ہوتے 

    اے رب ذولجال ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا عشق عطا فرمائے کریم اللہ ہماری انے والی نسلوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی لذت عطا فرمائے 

    وسلام

  • اللہ خالق و مالک کی پہچان تحریر : ذیشان رشید راشدی

    اللہ خالق و مالک کی پہچان تحریر : ذیشان رشید راشدی

    اللہ تعالیٰ واحدہ لا شریک ذات ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔ اللہ تعالٰی ازل سے ہے  ابد تک رہے گا۔ اس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔ اس میں زمین کا فرش بچھایا ، پہاڑوں کی میخیں لگائیں اور آسمان کی نیلی چھت بنائی ۔ چرند پرند ، مویشی ، انسان ، جنات اور ایسی مخلوقات کی خلقت فرمائی جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے ۔ کائنات کی تمام مخلوقات اس کی عبادت کرتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات  کو پیدا کیا تو ان کی پیدائش کا مقصد اپنی عبادت کو ٹھہرایا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے آخری نبی خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے سینہ اطہر پر نازل ہونے والی آخری اور حتمی  کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں  

    وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

    اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔

    الذاريات : 56

    اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اور بھی بہت سے مقامات پر اپنی عبادت کا حکم دیا ہے جن میں سے چند ایک آیات یہاں درج کی جاتی ہیں 

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

    اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔

    البقرة : 21

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمھیں عطا فرمائی ہیں اور اللہ کا شکر کرو، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔

    البقرة : 172

    وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا

    اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔

    النساء : 36

    قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ قُلْ لَا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ

    کہہ دے بے شک مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کہہ دے میں تمھاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا، یقینا میں اس وقت گمراہ ہوگیا اور میں ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں۔

    الأنعام : 56

    إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ

    بے شک جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔

    الأعراف : 206

    زمین اور آسمان کی تخلیق کے بارے میں خالق کائنات نے فرمایا 

    إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

    بے شک تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ کوئی سفارش کرنے والا نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد، وہی اللہ تمھارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو۔ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

    يونس : 3

    اللہ خالق و مالک نے انسان کو دو راستے دکھائے اور ان کا انجام بھی بتایا ۔ اللہ نے بتایا کہ اگر نیکی کے راستے پر چلو گے تو تمہارے لیے اللہ کے ہاں جنتیں ہیں جہاں لازوال نعمتیں ہوں گی۔ اور اگر برائی کے راستے پر گامزن ہو جاؤ گے تو تمہارے لیے دوزخ کا دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے ۔ 

    ارشاد باری تعالیٰ ہے 

    وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

    اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

    البقرة : 82

    جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی کامیابی قرار دیا ہے 

    اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا 

    كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ

    ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور تمھیں تمھارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے، پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔

    آل عمران : 185

    وہ لوگ جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کو نہیں مانتے اس سے اعراض کرتے ہیں ان کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہنم کا درناک عذاب تیار کیا ہوا ہے 

    اللہ مالک کائنات نے قرآنِ حکیم فرقانِ حمید میں ارشاد فرمایا 

    قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ

    ان لوگوں سے کہہ دے جنھوں نے کفر کیا کہ تم جلد ہی مغلوب کیے جاؤ گے اور جہنم کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

    آل عمران : 12

    اللہ تعالٰی کی معرفت کا حاصل کرنا ایک انسان خصوصاً مسلمان کے لیے لازم ہے ۔ اگر کائنات اور اس کی وسعتوں ، چرند پرند ، جانوروں اور انسانوں کو تفکر اور تدبر سے دیکھا جائے تو خالق اور مالک کی پہچان ہوجاتی ہے کہ کوئی تو ذات ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور وہ ذات اللہ وحدہ لا شریک ذات ہے‍ ۔ اللہ کی حمد و ثناء لکھنے کے لیے اگر سارے سمندروں کو سیاہی بنادیا جائے اور تمام درختوں کی قلمیں بنادی جائیں تو پھر بھی اس پروردگار کی تعریفیں اور حمد و ثناء ختم نہیں ہوتی ۔ 

    اس بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس طرح بیان فرمایا ہے 

    قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا

    کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔

    الكهف : 109

    وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

    اور اگر ایسا ہو کہ زمین میں جو بھی درخت ہیں قلمیں ہوں اور سمندر اس کی سیاہی ہو، جس کے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی، یقینا اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔

    لقمان : 27

    ( ترجمہ از تفسیر القرآن الکریم حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ )

  • لاک ڈاؤن اور  طلباء پر اس کے اثرات تحریر: تیمور خان

    لاک ڈاؤن اور طلباء پر اس کے اثرات تحریر: تیمور خان

    @ImTaimurKhan

    لاک ڈاؤن ، ایک بار پھر! یہ سب 2019 میں شروع ہوا جب ہمارا طرز زندگی ایک وسیع وائرس کی وجہ سے بیرون سے مکمل طور پر انڈور میں بدل گئی اور اس وائرس کو آج COVID-19 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہماری زندگیاں بورنگ اور اندرونی سرگرمیوں کا شکار ہوئیں کیونکہ حکومتوں نے لاک ڈاؤن اور ایس او پیز کے ذریعے اس وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت یہ سب کچھ ضروری معلوم ہوتا تھا لیکن اب تک 2021 تک ویکسینیشن جاری ہے اور لوگوں کو وائرس کے بارے میں مکمل آگاہی ہے اب یہ مکمل طور پر بیکار لگتا ہے اور سب سے بڑی ، سب سے بڑی بے معنی بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن صرف تعلیمی اداروں تک محدود ہے کھلا ہے. لوگ سڑکوں پر آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایس او پیز پر کوئی مناسب عمل درآمد نہیں کیا جا رہا لیکن تعلیم کا شعبہ بند ہے۔

    کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے تعلیمی ادارے حکومت کے حکم پر 4 ستمبر سے 13 ستمبر تک بند رہنے والے ہیں لیکن جب میں اپنے گھر سے باہر نکلتا ہوں تو مجھے کوئی لاک ڈاؤن اور بیماری کی شدت نظر نہیں آتی ابھی تک تعلیمی ادارے بند ہیں۔ تعلیم کیوں قابل خرچ ہے؟ طلباء آن لائن تعلیمی نظام سے تباہ ہو چکے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے کمیوں اور وقت کے ضائع ہونے سے بھرا ہوا ہے۔ بڑی تعداد میں طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں جو مسلسل اپنی کلاسوں سے محروم رہتے ہیں جو ان کی 4 یا 5 سال کی پیشہ ورانہ تعلیم میں بہت بڑا خلا پیدا کرتے ہیں۔ اساتذہ اور طلباء کے مابین ایک بہت بڑا تکنیکی خلا موجود ہے۔ اساتذہ ان ٹیکنالوجیز سے واقف نہیں ہیں جو ذہنوں میں مناسب علم کی فراہمی میں ناکامی کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ سے وقت ، وسائل اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔

    حال ہی میں ، امتحانات ہوئے اور طلباء سب اپنے نئے سالوں اور سمسٹروں کے لیے پرجوش ہیں لیکن آن لائن تعلیم کے اسی تباہ کن طریقے سے ان کا آغاز کرنا ہمارے تعلیمی سالوں کو شروع کرنے کا بہترین طریقہ نہیں ہے۔ طلباء اپنے مستقبل اور اپنی تعلیم کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہو رہے ہیں کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں پہلے ہی کم عملیت تھی اور آن لائن نظام نے بھی اسے دور کر دیا۔

    لہذا ، طلباء تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں گویا صورت حال اتنی ہی خراب تھی جتنا کہ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دیگر تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سنجیدہ اقدامات کیے جاتے۔ اور اگر یہ اتنا ہی برا ہے جتنا کہ وہ کہتے ہیں تو اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلباء کے لیے بھی ورکشاپس ہونی چاہئیں تاکہ اس تکنیکی خلا سے نمٹا جاسکے اور آن لائن تعلیم کو بہتر بنایا جاسکے اور اس کے لیے قابل وقت نظام خرچ کیا جائے۔ سکولوں اور کالجوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ عام طور پر کام کرنے کے لیے تاکہ طلباء معمول کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں۔