Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان حصہ دوئم تحریر:اصغرعلی

    پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان حصہ دوئم تحریر:اصغرعلی

                                                       

    اس کے بعد جرمنی جو کہ بلجئیم پر قبضہ کر چکا تھا اور بیلجیئم کے راستے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب پہنچ چکا تھا اس کو ادھر  بر طانوی فوج کا سامنا کرنا پڑ گیا جیسے ہی برطانوی فوج کا سامنا ہوا تو ادھر جرمنی کی پیش قدمی پوری طرح رک چکی تھی کیونکہ فرانس اور برطانیہ  نے مل کر جرمنی کی فوج پر ایک بڑا حملہ کر دیا مجبورا جرمنی کو دفاعی پوزیشن لینی پڑی اور واپس اپنے ملک میں آہستہ آہستہ کر کے جرمن فوج چلی گئی اس لڑائی کو بیٹل آف برلن بھی کہا جاتا ہے ایک طرف سے جرمنی کو بری طرح شکست ہو چکی تھی لیکن دوسری طرف جرمنی نے روس کے تین لاکھ سپاہی مار دیے تھے یہی وہ وقت تھا جب نہ چاہتے ہوئے بھی مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت سلطنت عثمانیہ نے روس پر حملہ کر دیا اور اس طرح سلطنت عثمانیہ پہلی جنگ عظیم کا حصہ بن گیا یہی وہ غلطی تھی جس کا خمیازہ مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت یعنی سلطنت عثمانیہ کو اٹھانا پڑا کیونکہ اسی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور  سلطنت عثمانیہ کا نام و نشان تک ختم ہو گیا کیوں کہ سلطنت عثمانیہ نے جیسے ہی روس پر حملہ کیا تو اسی ٹائم روس کے فوجی اتحاد برطانیہ فرانس اور دو تین ملکوں نے سلطنت عثمانیہ پر مغرب والی سائیڈ سے ایک بڑا حملہ کر دیا لیکن سلطنت عثمانیہ بھی آخر کار عثمانی سلطنت ہی تھی اس نے مغربی اتحاد یعنی کے فرانس اور برطانیہ کی فوج کو  چند ہی گھنٹوں میں شکست سے دوچار کر دیا اور یہاں بھی مغربی اتحاد کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی یہ وقت انیس سو سولہ کا تھا اور اس وقت تک مغربی اتحاد کے ڈھائی لاکھ فوجی مارے جا چکے تھے ادھر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلطنت عثمانیہ نے سوئس کینال کے علاقے پر حملہ کر دیا یہ بہت اچھی حکمت عملی تھی کیونکہ اگر کسی بھی طرح س سوئس کینال اس وقت سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں آجاتی تو برطانیہ پہلی جنگ عظیم برے طریقے سے ہار جاتا اور اپنا سپرپاور سٹیٹس بھی گنوا بیٹھتا کیونکہ اس وقت دنیا کی تمام بڑی تجارتیں اسی سوئس کینال سے ہوا کرتی  تھی اور آج بھی یہ سوئس کنال ترکی کا حصہ سمجھی جاتی ہے مگر ایسا نہیں ہوا برطانیہ جو کہ سوپر پاور تھا اس نے سعودی عرب میں سعودی باغیوں  کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت پر اکسا  دیا اور ان کو فتح کی صورت میں آزادی دینے کا وعدہ کیا اس کے بعد انیس سو سولہ کے اختتام پر ایک اورجنگ ہوئی جس کو بیٹل اف سوم کے نام سے یاد کیا جاتا  ہے یہ اسرائیل کے محاذ پر ہوئی تھی جو کہ اس وقت سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اس جنگ میں ایک دن میں 80 ہزار فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ان میں سے زیادہ تر برطانوی اور کینیڈین سپاہی تھے اب جہاں جہاں ان ملکوں کی کالونی ہوا کرتی تھی ادھر بھی جنگ شروع ہوگئی اس کے علاوہ بحرالکاہل اور چائنا میں بھی جرمنی کی کچھ کالونیاں تھیں اس پر جاپان نے حملہ کر دیا کیونکہ جاپان کے ساتھ بھی برطانوی فوجی معاہدہ ہوا تھا اسی دوران مشہور گیلی پولی کی جنگ بھی ہوئی جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سپاہی  تھے یہاں پر سلطنت عثمانیہ  نے  آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ کے سپاہیوں کو شکست دی آپ ٹی وی پر یا اخبارات پر گیلی پولی میں مارے جانے والے سپاہیوں کی یاد میں اینڈ ڈے بناتے ہوئے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو دیکھتے ہوں گے اس کے بعد ایک محاذ کے دوران جرمنی اور برطانوی فوجیں آمنے سامنے آئیں برطانیہ نے جرمنی کے بحری جہازوں کو بری طرح شکست دی اس کے بعد برطانوی جہازوں کو کو دیکھتے ہیں جرمن جاز کھلے سمندر سے غائب ہو جاتے تھے اور جرمنی نیوی اکثر بر طانوی نیوی سے کتراتی تھی اور شدید خوف اور ڈر کی وجہ سے برطانوی نیوی جہازوں کے علاوہ سواریوں کے جہازوں پر بھی جرمن نے حملے شروع کر دیے لیکن یہاں ایک بہت بڑی غلطی جرمن سے ہوگی غلطی یہ تھی کہ امریکہ سے آنے والا مشہور جہاز لوزی تانیہ جو کہ بارہ سو لوگوں کو لے کر برطانیہ جا رہا تھا اس کو نشانہ بنا دیا گیا جس میں عملے کے 25 افراد سمیت  بار دو سو سے زیادہ امریکی شہری ہلاک ہوگئے اور یہ وہ وقت تھا کہ جب امریکا اس جنگ میں شامل ہوا اس سے پہلے ریاست ہائے متحدہ امریکا ورلڈ وار ون میں ابھی تک شامل نہیں ہوا تھا امریکہ کے آ جانے کے بعد  مغربی فوجی اتحاد روس فرانس اور برطانیہ کی طاقت ڈبل ہوچکی تھی مشرق کے سائیڈ پر جرمنی کو اس کے اتحادیوں سمیت زبردست شکست ہوگئی اس کے بعد مغرب والی سائیڈ پر امریکہ کے آجانے کے بعد  1918 میں ایک معاہدے کے تحت جرمنی نے ہتھیار ڈال دیئے اس کے بعد جرمنی کی مختلف کالونیاں جو کہ چائنہ اور افریقہ میں واقع تھی وہ فرانس اور روس نے آپس میں بانٹ لیں اور جرمنی کو پہلی جنگ عظیم  کا قصوروار یا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور اس پر بھاری تاوان ڈالا گیا یہ تاوان اتنا بڑا تھا کہ اس کی قسطیں یکم نومبر دو ہزار دس تک جرمنی ادا کرتا رہا اس کے بعد افریقہ  میں ایشیا میں اور یورپ میں ملکوں کے نئے بارڈر تشکیل دیے گئے پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر دنیا کی چار بڑی سلطنتیں بری طرح ٹوٹ چکی تھی تباہ اور برباد ہو چکی تھی اور مختلف ملکوں میں بٹ چکی تھی جن میں جرمن رشئین آسٹریا-ہنگیرین اور سلطنت عثمانیہ شامل تھیں اس کے بعد بہت سارے نئے ممالک نے جنم لیا جس میں آسٹریا-ہنگری پو لینڈ چیکوسلوواکیہ بوسنیا یوگوسلاویہ اور فن لینڈ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ مڈل ایسٹ سارا فرانس اور برطانیہ نے آپس میں بانٹ لیا تھا اور اسی جنگ عظیم کے بعد بہت ساری جدید ٹیکنالوجیز سامنے آئی تھیں جن میں ریڈیو مشین گن ٹائم بم میزائل ٹینک اور بہت سارا فوجی ساز و سامان شامل ہے اور اسی جنگ عظیم کے ختم ہونے کے ساتھ ہی دنیا میں اس وقت کی سب سے خطرناک بیماری سوائن فلو آ گئی جس سے ایک اندازے کے مطابق 5 کروڑ انسانوں کی جان گئی جبکہ پہلی جنگ عظیم میں ایک اندازے کے مطابق 80 لاکھ سے سوا کروڑ انسانی جانوں کا زیاہوا تھا یوں ایک جنگ جو کہ آسٹریا-ہنگری اور سربیا کے درمیان شروع ہوئی تھی پوری دنیا میں پھیلنے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی جنگ کے نتائج بہت ہی زیادہ تباہ کن تھے جس کی لپیٹ میں پوری دنیا آ گئی تھی اور اس جنگ کے بعد کچھ معاہدے ہوئے جو کہ جنگ عظیم دوئم کی وجہ بھی بنے

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @ali_ajkpti

  • این اے 56، پی پی 3 میں زلفی بخاری متحرک، رضی طاہر کی رپورٹ

    این اے 56، پی پی 3 میں زلفی بخاری متحرک، رضی طاہر کی رپورٹ

    رپورٹ: رضی طاہر

    وزیراعظم پاکستان کے سابق معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سردار محمد علی خان حلقہ این اے56اور پی پی3میں عوام کی محرومیوں کے ازالے کیلئے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں، حلقہ این اے56اور پی پی3میں ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حکومت میں آنے کے ایک ماہ بعد ہی اپنوں کی ہی نااہلی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے یہ حلقہ ترقیاتی کاموں اور مرکز کی توجہ سے محروم ہوگیا، لیکن گزشتہ چھ ماہ سے سید ذوالفقار عباس بخاری اور سردار محمد علی خان کے دوروں، عوامی رابطہ مہم اور کارنر میٹنگز کی وجہ سے عوام الناس بالعموم اور تحریک انصاف کے کارکنان میں بالخصوص امید کی کرن جاگی ہے،مختصر وقت میں حلقے میں کئی نمایاں ترقیاتی کاموں کا آغاز بھی اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں قائدین عوامی مسائل کے حل کیلئے خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

    سید ذوالفقار عباس بخاری:

    زلفی بخاری سے معروف ہونے والے سید ذوالفقار عباس بخاری ضلع اٹک کے بڑے سیاسی و عوامی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، بخاری خاندان گزشتہ چار دہائیوں سے اٹک کی عوام کی خدمت میں پیش پیش دکھائی دیتا ہے اورشاندار سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔آپ کے والدسید واجد حسین بخاری سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں، جبکہ آپ کے چچا سید منظور حسین بخاری، ذو الفقار علی بھٹو، جام صادق علی،کرنل معمر قذافی اور دیگر کئی عالمی راہنماؤں کے قریبی رفقا میں سے ہیں۔آپ کے دوسرے چچا سید اعجاز حسین بخاری 1983ء سے سیاست میں سرگرم رہے۔ وہ سب سے پہلے ضلع کونسل اٹک کے چیئرمین منتخب ہوئے اور اس کے بعد صوبائی سیاست میں وارد ہوئے اور گزشتہ الیکشن تک مسلسل منتخب ہوتے رہے۔اسی طرح زلفی بخاری کے کزن سید یاور عباس بخاری صوبائی اسمبلی کے ممبر اور صوبائی وزیر برائے بیت المال ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی درخواست پر سید زلفی بخاری نے لندن میں اپنے کاروبار کو خیرآباد کہتے ہوئے پاکستان کا رخ کیا اور اوورسیز پاکستانیز کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر کے طور پر خدمات سرانجام دینے لگے، حق و صداقت کے ایسے داعی نکلے کہ کرپشن کامحض الزام لگنے پر اپنے عہدے کو ٹھکرا دیا اور خود کو قانون اور انصاف کے سامنے پیش کیا، رنگ روڈ سکینڈل میں آپ پر الزامات لگانے والوں کو اس وقت منہ کی کھانا پڑی جب تحقیقات میں سید زلفی بخاری کو کلین چٹ ملی اور ان پر کرپشن کا ایک روپیہ بھی ثابت نہ ہوسکا۔آپ بھی اپنے خاندان کی طرح عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔

    سردار محمد علی خان:

    سردار محمد علی خان ضلع اٹک کے نامی گرامی سیاست دان ہیں، آپ دبنگ شخصیت کے مالک ہیں اور اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ہمیشہ نوجوانوں کا جھرمٹ اپنے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں، دھڑے کی سیاست آپ نے اپنے والد اور دادا سے سیکھی، آپ 2002میں موجودہ پی پی3سے ممبر صوبائی اسمبلی بنے اور اپنے پانچ سالہ دور میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا، آپ نے2010میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی، غالباً پاکستان بھر سے تحریک انصاف کی صفوں میں شامل ہونے والے اولین رہنماؤں میں سے ہیں، آپ نے2013میں تحریک انصاف کیلئے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا، اور حلقے میں لگ بھگ35ہزار ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے، آپ کے دادا سردار محمد اقبال خان عوامی شخصیت تھے جو 1953میں منتخب بلدیہ فتح جنگ کے پہلے منتخب صدر بنے، سردار محمد علی خان کے والد سردار اسد علی خان 1977کے انتخابات میں ممبر صوبائی اسمبلی بنے، سردار محمد اقبال خان اور سردار اسد علی خان دونوں شخصیات اٹک میں اپنے منفرد انداز سیاست کی وجہ سے مقبول ہیں، انہوں نے ہمیشہ عوام الناس کے حقوق کی جنگ لڑی اور اس کیلئے انہیں جو اقدامات کرنا پڑے کیے،80اور90کی دہائی میں ان شخصیات کی بدولت ہی اقتدار کے ایوانوں کے فیصلے ہوئے، اپنے حلقے میں کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار میں ان کی حمایت یا مخالفت کا کلیدی کردار رہا، یہی وجہ ہے کہ اب بھی لوگ سردار محمد علی خان کو ان کے بزرگوں کی بدولت یاد کرتے ہیں۔ سید زلفی بخاری کے ساتھ سردار محمد علی خان دونوں شخصیات شانہ بشانہ حلقے کی عوام کے اندر دکھائی دے رہے ہیں۔

    عوامی رابطہ مہم:

    سید زلفی بخاری اور سردار محمدعلی خان کی رابطہ مہم گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے، اس دوران انہوں نے جعفر، مہلو، ڈھوکڑی، باہتر نلہ کے علاقوں، منگیال، حطار، فتح جنگ شہر اور علاقہ نلہ میں کئی کارنر میٹنگز کرکے اہم شخصیات کو اپنے گروپ کا حصہ بنایا، ضلع اٹک چونکہ اپنی ثقافت اور بزرگان دین کے عروس کی وجہ سے بھی معرفت رکھتا ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ فتح جنگ اور گردونواح کی اہم درگاہوں پر عرس، میلے اور بیل دوڑ کے انعقاد میں دونوں شخصیات صف اؤل پر نظرآتی ہیں، اس دوران انہوں نے جعفر میں سوئی گیس منصوبے کا افتتاح کیا، فتح جنگ ٹی ایچ کیو میں ٹراما سنٹر زیر تعمیر ہے جبکہ5کروڑ سے زائد کے منصوبے مکمل ہوئے، تحصیل ایڈمنسٹریشن کے ساتھ سردار محمد علی خان کی ٹیم نے بڑھ چڑھ کر کام کیا اور شہر کو جناح پارک کا تحفہ دیا، اسی طرح سکول میں نئے بلاک کا قیام، گرین بیلٹ سمیت کئی اہم پروجیکٹس میں علاقہ مکینوں کی فلاح کیلئے ان کی ٹیم پیش پیش دکھائی دی، یہ منصوبے حکومتی امداد کے بغیر مکمل کیے گئے

  • نوجوان نسل اسلام سے دور کیوں ہے تحریر: ملک ضماد

    اللّٰہ رب العزت کا شکر ہے جس نے ہمیں ایک سچے دین سے نوازا،
    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے ۔۔
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا ۔۔
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں۔ ۔۔
    کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردارا۔۔

    آج کا نوجوان دین سے دور کیوں ہے؟ پہلے تو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آج کا نوجوان دین سے خود دور ہوا یا اسے دین سے دور کیا گیا ، کیونکہ خود دور ہو جانے اور دور کر دینے میں بڑا فرق ہے ۔۔۔
    کوئی فرد کسی گروہ یا کسی جماعت کو اپنے لئے پسند کرتا ہے تو اس گروہ ، جماعت کے لوگ اس فرد کےلئے رول ماڈل کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ وہ انھیں لوگوں کی حرکات سے اثر لیتا ہے اور بالآخر ان لوگوں کی طرح ہی ہو کر رہ جاتا ہے ۔۔۔
    دین اسلام کے خلاف سازش آج سے یا کچھ عرصہ قبل سے نہیں بلکہ اس سازش کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب برصغیر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے دور کا آغاز مختلف مسالک کی دینی درسگاہوں اور تدریسی کے جدا گانہ قیام سے ہوا تھا ۔ یہ انتہائی افسوس ناک بات تھی اس دور میں مختلف مکاتب فکر کے جدا جدا مدارس وجود میں آ گئے ، ان درسگاہوں سے تعلیم پانے والے طالب علم ایک مخصوص ماحول میں تحصیل علم کے بعد جب باہر نکلے اور مسند علم و ارشاد پر فائز ہوئے تو ان کے دل و دماغ اسی مسلک کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے اور انکے اعمال و کردار پر اس وابستگی کی گہری چھاپ نمایاں تھی ، علماء کی یہ کھیپ مساجد کے محراب و منبر سے دین کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے اپنے مسلک کا پرچار کرنے لگے ،
    بقول اقبال ~
    گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے تیرا ۔۔
    کہاں سے آئے صدا لاالہ الااللہ ۔۔۔
    اس طرح علماء ایک دوسرے کو تنقید و تنقیص کا نشانہ بنانے لگے، اور مسلکی رواداری کے برعکس انتہا پسندی جڑ پکڑ گئی۔۔
    پھر فرقہ پرستی اور تفرقہ پروری کی آگ بھڑک اٹھی ، جس سے انتشار فتنہ و فساد اور نا اتفاقی نے جنم لیا اور وحدت ملی کے تصور کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، نتیجتاً امت گروہوں اور دھڑوں میں بٹ گئی، اس سے اسلام کی اجتماعی حیثیت ضعف و انحطاط کی زد میں آ گئی ۔
    دوسری طرف برطانوی استعمار نے برصغیر میں وارد ہو کر سب سے پہلا تخریبی کام یہ کیا کہ مسلمانوں کا وہ نظام تعلیم جو مدت سے یہاں رائج تھا اس نظام تعلیم کو تباہ کر دیا ایسا کرنے میں ان کے اپنے سامراجی عزائم کار فرما تھے ، عام تعلیم کو لا دینیت کے رنگ میں رنگ دینے سے مسلمانوں کی شاندار اقدار زوال پزیر ہو گئیں ۔۔
    آج سے ڈیڑھ سو سال قبل تک مسلمانوں کے دینی اور دنیاوی تعلیم کے مدارس ایک ہی ہوتے تھے۔اور جدا گانہ نظام تعلیم کا کوئی تصور موجود نہ تھا ، ایک ہی درسگاہ سے طلبا کو سائنس ، ریاضی، فلسفہ، منطق ، حدیث و قرآن اور فقہی علوم پڑھائے جاتے تھے، گویا دینی اور عصری علوم و فنون ایک ہی نصاب کا حصہ تھے، انگریز کے شاطر دماغ نے اپنی ریشہ دوانیوں سے ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے سیکولر نظام تعلیم ملک بھر میں رائج کر دیا اقبال اس نظام کے بارے میں فرماتے ہیں ~
    شکایت ہے مجھے یارب خداوندان مکتب سے۔۔
    سبق شاہین بچوں کو دے رہا ہے خاکبازی کا۔۔۔
    ایسے نظام تعلیم سے عالم اسلام میں کوئی رومی، رازی ، فارابی، جامی اور ابن رشد جیسا ہمہ جہت عالم، مفکر اور دانشور کیسے پیدا ہو سکتا تھا ؟ لہذا نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ دینی اداروں سے فارغ التحصیل علماء مولوی تو بن گئے جن کا کام نکاح خوانی اور مردوں کی تجہیز و تکفین کے علاؤہ کچھ نہ تھا,
    لیکن علمی دنیا پہ حکمرانی کے لئے سکالر نہ بن سکے ، ایک زمانہ تھا کہ مولوی کا لفظ آج کے پی ایچ ڈی اور علوم و فنون کے ماہر کے مترادف تصور کیا جاتا تھا۔۔
    تاریخ میں ملا علی قاری کے پائے کے محدث اور عبد الرحمٰن جامی جیسے فقیہہ کا زکر بڑے احترام سے ملتا ہے جو اپنے زمانے میں ملا کہلایا کرتے تھے ، آج ملا کا لفظ تحقیر و نفرت کی علامت بن گیا ہے ۔۔
    یہ عام مشاہدہ ہے کہ دینی مدرسوں کے فاضل علماء نورو بشر اور حاضر و ناظر جیسے موضوعات پر تو گھنٹوں تقریر کر سکتے ہیں لیکن ان سے اسلام کے معاشی نظام ، بین الاقوامی تعلقات، اقوام عالم کے ساتھ جنگ و صلح کے ضابطوں اسلامی تہزیب و ثقافت، سیاسی پالیسی ، اسلامی تعزیرات اور اسلامی معاشرت کے ضابطوں کے بارے میں اظہار خیال کرنے کو کہا جائے تو وہ پانچ منٹ سے زیادہ کسی موضوع پر نہیں بول سکتے ، یہی وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل دینی علوم سے بے بہرہ اور فرقہ پرست علماء سے حد درجہ بے زار نظر آتی ہے ، کیونکہ ان کے نزدیک بقول اقبال ~
    فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں
    کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔۔؟
    آخر میں یہی کہوں گی کہ اگر ہمیں دین کے ساتھ سچی لگن ہے تو ہمیں اپنی انا کو بھول کر دین اسلام کے لئیے ایک ہونا ہو گا ، دین رہ گیا تو ہمارا مقام رہے گا ورنہ ہم نہ دنیا کے رہیں گے نہ عقبیٰ کے ۔۔
    بقول اقبال ~
    قو م مذہب سے ، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
    جذب باہم جو نہیں محفلِ انجم بھی نہیں۔ ۔

    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ~
    منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
    ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
    حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
    کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

  • اعتماد کا انویسمنٹ اور بدگمانی کا وائرس تحریر:حمزہ بن شکیل

    ہم لوگوں کو بدگمانی سے بچنے کی نصحت تو کرتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ معاشرے میں بدگمانی کی وبا پھیلانے والے عناصر کون سے ہیں ؟

    معاملہ یہ ہے کہ ہر انسان میں اعتماد کرنے کی صلاحیت ایک خاص مقدار میں خالق کائنات نے ودیعت کی ہے ۔ اعتماد ہمارا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے ، جب کسی پر ہم اپنے اعتماد کا سرمایہ انویسٹ کرتے ہیں تو ہم امید کرتے ہیں کہ وہ سامنے والا ہمارے اعتماد کا بدلہ اپنے حسن کردار سے دے گا، سامنے والا جب اپنے حسن کردار سے ہمارے اعتماد کو وقار بخشتا ہے، ہمارے بھروسے پر کھرا اترتا ہے تو ہمارا اعتماد کا سرمایہ بڑھتا ہے، لوگوں پر بھروسہ کرنے کا ظرف وسیع ہوتا ہے۔

    لیکن اگر جس پر بھروسہ کیا وہ بدکردار نکل گیا، تو اعتماد کرنے کی ہماری قوت کمزور پڑ جاتی ہے، دھوکہ کھایا ہوا شخص کسی پر بھروسہ کرنے کے قابل نہیں رہ جاتا ہے، ایسے شخص کو حسن ظن کی تلقین تو کی جاسکتی ہے لیکن جس شخص کو زندگی کے تجربے نے صرف دھوکے باز لوگ دیے ہوں محض تلقین اس کے اندر اعتماد کرنے کا ظرف پیدا نہیں کرسکتی۔

    لہذا بدگمانی پھیلانے میں سب سے مؤثر کردار ان دھوکے باز لوگوں کا ہے جو لوگوں کا اعتماد توڑتے ہیں۔ اپنی زبانوں سے لوگوں کا بھروسہ جیتتے ہیں اور اپنے کردار سے ان کو دغا دے جاتے ہیں، ایک دھوکے باز انسان اپنی زندگی میں اپنے غلیظ کردار سے سیکڑوں لوگوں کو بدگمانی کے جراثیم سے متاثر کردیتا ہے۔
    اس لیے غدار صرف اس شخص کا مجرم نہیں ہوتا جس کا سرمایہ اعتماد اس نے لوٹ لیا ہے اور اس کو اب کسی پر اعتماد کے لائق نہیں چھوڑا، وہ معاشرے کے ان تمام نیک کردار لوگوں کا بھی مجرم ہوتا ہے جو قابل اعتماد تھے لیکن اس غدار کی پھیلائی بدگمانی نے معاشرے سے ان نیک کردار لوگوں کا اعتبار بھی ختم کردیا ہے۔ اس طرح یہ نفاق صفت دھوکے باز پوری قوم کے مجرم ہوتے ہیں۔ اور انکا جرم بدگمانی سے بھی بڑا ہے۔

    زبان اور کردار میں فرق منافقت ہے ، حدیث میں بتایا گیا ہے کہ منافق کی علامت ہے کہ وعدہ کرکے وعدہ خلافی کرتا ہے،بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور امانت دی جائے تو خیانت کرتا ہے۔
    ذرا غور کریں! جس معاشرے میں منافقین کی کثرت ہو اس معاشرے میں کسی کو ہر کسی سے حسن ظن کی تلقین کرنا کوئی سمجھداری کی بات ہے؟ بلکہ ہر کسی پر اندھا اعتماد بے وقوفی ہے۔

    اک عمر ہم کسی پہ بھروسا کیے رہے
    پھر عمر بھر کسی پہ بھروسا نہیں کیا

  • عشرہ شانِ رحمت اللعالمین ﷺ کے سلسلے میں فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ میں محفل میلاد کا انعقاد

    عشرہ شانِ رحمت اللعالمین ﷺ کے سلسلے میں فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ میں محفل میلاد کا انعقاد

    عشرہ شانِ رحمت اللعالمین ﷺ تقریبات کے سلسلے میں فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے زیر اہتمام محفل میلاد کا انعقاد ہوا۔محفل میلاد میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کاشف رضا اعوان، جی ایم آپریشن کرنل (ر) عماد اقبال گل،سینئر منیجر آپریشن محمد اعجاز بندیشہ اور دیگر افسران سمیت تمام ملازمین نے بھرپور شرکت کی۔محفل میلاد مصطفی ﷺ میں سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں ہدیہ نعت و سیرت طیبہ کے موضوع پر علماء و مشائخ حضرات نے تقاریر بھی کیں۔محفل میلاد کے آغاز پر تلاوت قرآن مجید قاری شہادت علی جبکہ نعت خواں میں مہران علی قادری،محمد طلحہ،پیر سید راشد حسین گیلانی،نقابت اشفاق زائر قادری اور خصوصی خطاب و دعائیہ کلمات قاری اظہر نے ادا کئے۔سی ای او ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کرنا بہت بڑا اعزاز اور انعام ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان تو انسان فرشتے بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور تا ابد بھیجتے رہیں گے۔اس موقع پر ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی اور امن وسلامتی کی دعا بھی کی گئی۔

  • غسل کے احکام ومسائل تحریر حسینہ کھوسہ

    غسل کے احکام ومسائل تحریر حسینہ کھوسہ

    غسل کا مطلب ہوتا ہے انسان کا اپنے پورے بدن پر ایک مخصوص طریقہ سے پانی بہانا۔ غسل کو واجب کرنے والی چیزیں چھ ہیں: 

    (۱) کسی مرد یا عورت کا احتلام ہو جانا مین می کا

    قوت کے ساتھ شرم گاہ سے باہر آنا۔

     (۲) میاں بیوی کا ہم بستری کرنا۔

     (۳) کسی کافر کا اسلام

    لے آنا۔ 

    (۴) کسی مسلمان کا مر جانا۔ واضح رہے کہ راہ خدا میں شہید ہونے والے کے علاوہ ہر

    میت کونسل دینا واجب ہے۔ 

    (۵) عورت کا حیض (ماہواری) کے خون سے پاک ہونا۔ (6)عورت کا نفاس (بچہ جننے کے بعد نکلنے والا فاضل خون) کے خون سے پاک ہونا۔

    غسل کرنے کے دو طریقہ ہیں : پسندیدہ ومحبوب طریقہ اور بقدر ضرورت جائز طریقہ۔

    پہلے طریقہ غنسل کرنے سے غسل کامل و مکمل اور شریعت کی نگاہ میں محبوب ہوتا ہے جبکہ دوسرے

    طریقہ سے غسل کرنے میں غسل کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ ویسے دونوں طر لیے جائز ہیں۔

    پہلے طریقہ یعنی کامل و مکمل کرنے کا انداز یہ ہے

    غسل کی نیت دل میں کی جائے اور بسم الله پڑھا جائے۔

     دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا جائے اور شرمگاہ کو دھویا جائے۔

     پھر پورا وضو کیا جائے جس طرح سے نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے۔

     پھر تین بار سر پر پانی ڈالا جائے تا کہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے۔

    = پر پورے بدن پر پانی ڈالا جائے۔ پانی ڈالنے میں جسم کے دائیں حصہ پر پہلے ڈالا

    جائے اس کے بعد بائیں حصہ پر پانی ڈالا جائے جسم کو ہاتھوں سے رگڑا جائے تا کہ کوئی جگہ

    سوکھی نہ رہ جائے۔ اس مرحلہ میں صابون ، شیمپو وغیرہ کا استعمال کرنا بھی جائز ہے۔

    غسل کا دوسرا بقدر ضرورت طریقہ یہ ہے کہ ایک ساتھ ہی پورے بدن پر پانی ڈال لیا

    جائے۔ واضح رہے کہ اس طریقہ میں منہ اور ناک میں پانی ڈال کر انہیں صاف کرنا ضروری ہے۔

    پہلے طریقہ میں وضو کرنے میں یہ دونوں چیز میں آ جاتی ہیں۔

    ویسے تو انسان غسل کسی بھی وقت کرسکتا ہے۔ تاہم غسل جن موقعوں پر کرنا شریت

    کی نگاہ میں مستحب ہے وہ یہ ہیں:

    عید کی نماز کے لیے۔ اس میں عید الفطر اورعیدالانی دونوں شامل ہیں۔

    جمعہ کی نماز کے لیے۔

    = حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھنے سے پہلے۔

    = وہ عورت جسے کی بیماری کی وجہ سے خون آرہا ہو

    ، اس کے لیے شرعا پسندیدہ ہے کہ وہ

    ہرنماز سے پہلے غسل کرے۔ اگرچہ واجب نہیں۔ بلکہ ہر نماز سے پہلے صرف وضواجب ہے۔

    یہاں ذہن میں رہنا چاہیے کہ ان موقعوں پرنہانا محض مستحب ہے، فرض نہیں۔ لیکن اگر

    کوئی ان مواقع پر نہاتا نہیں ہے تو وہ کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا۔

    خواتین کے لیے غسل کے چند اہم مسائل درج ذیل ہیں:

    1) عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کے ہر حصہ کو جانچ لے کہ وہاں پانی پہنچا

    کہ نہیں۔ 

    اس میں بالوں کی جڑوں کو حلق کے نیچے، بغلوں میں، ناف کے نیچے گھنٹوں کے

    موڑنے کی جگہوں کو بطور خاص دیکھ لینا چاہیے۔ اگر کوئی انگوٹی یا گھڑی پہن رکھی ہے تو نہاتے

    ہوئے انہیں گھما اور ہلا لینا چاہیے تاکہ پانی ان کے نیچے تک پہنچ جائے ۔

    ۲) عورتوں کو غسل میں دو چیزوں کا خاص طور سے اہتمام کرنا چاہیے: ایک تو یہ کہ غسل مکمل کیا جائے یعنی جسم کی کھال کا کوئی حصہ ایا باقی نہ رہنے پائے جس تک پانی نہ پہنچا ہو۔

    دوسری بات یہ کہ بلاوجہ پانی کا اسراف نہ کیا جائے۔ شریعت میں جس بات ک تعلیم دیتا ہے وہ یہ

    ہے کہ غسل مکمل کیا جائے لیکن اس میں کم سے کم پانی استعمال کیا جائے۔ اللہ کے رسول کے

    بارے میں حدیث گزر چکی ہے کہ آپ کا وضو ایک مد میں اور غسل ایک صاع کے برابر پانی

    میں ہوجاتا تھا۔ یہ مد اور صاع دو پیمانے ہیں جن سے عربوں میں سیال اشیا کوناپا جاتا تھا۔ موجودہ

    زمانے کی اصطلاح میں مد آدھی کلو کے برابر ہوتا ہے اور ایک صاع دوکلو کے برابر ہوتا ہے۔

    ۳) ناپاک عورت کے لیے اسی حالت میں سونا جائز ہے، تاہم افضل یہ ہے کہ سونے

    سے پہلے وضو کر لیا جائے۔

    4)اگر عورت کے بال گھنے ہیں یا چٹیا میں گندھے ہوئے ہیں تو اس کے لیے ضروری

    نہیں ہے کہ انہیں کھول کر ہی نہائے ۔ جو چیز ضروری ہے وہ یہ کہ پانی کو بالوں کی جڑوں تک پہنچایا

    جائے۔ اس میں بہتر ہے کہ پوری چٹیا کوایک بارفواره یائونٹی کے نیچے رکھ کر بھگولیا جائے اور پھر سر 

    پرہی اسے نچوڑ دیا جائے تا کہ سارے بالوں میں پانی پہنچ جائے

  • عملی زندگی میں کامیابی کے لیے صرف نمبرات کافی نہیں! تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    نمبرات کی دوڑ ہمیں جس طرف لے جا رہی ہے وہاں سامنے اندھا کنواں ہے اور سسٹم اس قابل نہیں کہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لا سکے۔ اور یہ چیز آنے والی عملی زندگی میں طلباء کو محسوس ہوگی جب انکو عملی طور پر کام کرنا ہوگا مگر وہ اپنی صلاحیت کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں پھنس جائیں گے۔ اور اسکے نتائج نظر آنا شروع بھی ہوگئے ہیں کیوں کہ حالیہ میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں بہت سے نمبروں کے سلطان ڈھیر ہوگئے کیوں کہ انکے پاس ایک محدود حد تک رٹہ تھا جو صرف نمبر لا سکا مگر عملی طور پر وہ کچھ بھی نہ سیکھ سکے اور جب ٹیسٹ میں تصوراتی بنا پر سوال کیے گئے تو جواب دینے سے قاصر رہے، اور یہی چیز پھر آگے چل کے اُنکو عملی زندگی میں مشکل میں ڈال دیتی ہے اور پھر طلباء ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ بطور یونیورسٹی اسٹوڈنٹ میں اس چیز کو محسوس کر رہا ہوں  کیوں کہ نمبر میرے بھی اپنے وقت میں بہت اچھے تھے میں بھی بہت خوش تھا اور ہر طرف نمبروں کا ہی چرچا تھا اور یہی چیز اب بھی ہے نمبر ہم پر نفسیاتی طور پر اس قدر حاوی ہیں کہ ہم انہی کی خاطر دوڑ میں لگے ہیں اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں کیوں والدین ، اساتذہ اور رشتے دار یہ بچوں کی ذہن سازی ہی ایسی کر رہے ہیں کہ وہ پھر سب چیزیں بھول کر صرف اچھا اسکور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس اسکور میں رٹہ ہوتا ہے جو صرف مخصوص وقت تک رہتا ہے۔ میں خود سائنس کا طالب علم ہوں اور ابھی یونیورسٹی سطح پر ہوں اور با خوبی سمجھ چکا ہوں کہ میں نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے پایا تو خیر کچھ نہیں مگر اب کوشش میں لگے ہیں کہ کچھ حاصل ہو جائے۔ میری عزیز طلباء سے یہی گزارش ہے کہ بس کوشش کریں کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کریں اپنے تصوارت اور مشاہدات کو وسیع کرتے جائیں اگر ابھی سے آپ ایسا کریں گے تو جب آگے جائیں گے تو خود کو جلد کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں اور جب آپ یونیورسٹی میں آئیں گے تو آپکو آسانی ہوگی۔ آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور لوگ ڈیجیٹل زون کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پیسہ بھی اسی طریقے سے کمانے کی کوشش میں ہیں۔ اب تو حکومتی سطح پر بھی ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جہاں انٹرنیٹ کے ذریعے آنلائن پیسے کمانے کی طرف رجحان کو بڑھایا جا سکے۔ یونیورسٹی سطح پر پہنچ کر کم سے کم ایک طالب علم کو یہ احساس ضرور ہونا ضروری ہے کہ وہ اب عملی زندگی میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والے وقت میں اس نے بہت سے زمہ داریاں اٹھانی ہیں اور ایسے ایک طالب علم کو اپنی سکلز کو کو بڑھانے کے بہت ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ خود کو مالی طور پر خود کفیل بھی بناتا جائے۔ کیوں کہ یونیورسٹی سے آپکی عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ اور یہاں آپکو صرف گائیڈ کیا جائے گا آپ پر اسکول اور کالج کی طرح سختی نہیں ہوتی یہاں وہی چل سکتا ہے جس کو سیکھنے کا شوق ہوگا۔ وہ طالب علم جو یونیورسٹی کی سطح پر خود کو تیار کرنا شروع کر دیتا ہے اور حالت کے تقاضے سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو ترتیب دیتا ہے وہ جب اپنی تعلیم سے فراغت حاصل کرتا ہے تو پھر معاشرہ اسے خوش آمدید کہتا ہے اس کے پاس حالت سے نپٹنے کی سکت زیادہ ہوتی ہے ، اور دوسری اہم چیز اُسکے تصورات اور مشاہدات اس قدر وسیع ہو چُکے ہوتے ہیں کہ موجودہ صورت حال کے مطابق تمام مسائل کے حل نکال کر لے آتا ہے۔ اسلئے بطور یونیورسٹی طالب علم میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنا پر آپ سے یہ سب کہہ رہا ہوں اس پر غور لازمی کیجئے گا میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جب آپ یونیورسٹی میں جائیں گے تو آپ ان سب چیزوں کو ہوتا دیکھیں گے۔ اسلیے میں اسے اپنا فرض سمجھتا تھا کہ آپ کو ایک اچھا مشورہ دوں اور آپکو اپنے مستقبل کے حوالے سے کچھ آگاہی بھی ہو جائے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آپکی دعاؤں کا طالب

    TA: @AhtzazGillani

  • پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کیسے آئے گی : تحریر :    عزیز الرحمن 

    پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کیسے آئے گی : تحریر :  عزیز الرحمن 

    ‏پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنا دوسرا قومی رابطہ جاری کیا ، کے پی میںایسی زمین کی تزئین کو دیکھنے کے لیے ، آپ کو کے پی ٹاپ نوشہرہ نظام پور وادی کے پی کے پاکستان کی پہاڑیوں پر جانا ہوگا۔ یہ ٹور آپ کا ایڈونچر ٹور ہوگا۔ اس جگہ کو نظام پور کہا جاتا ہے اور وہاں جانے کے لیے آپ کو شمال کی طرف شمال میں ایک پہاڑ پر چڑھنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں جو 10 بلین درخت شروع کرنے والے ارب درختوں کو مکمل کرنے کے بعد موسمیاتی تبدیلی کی طرف ٹھوس عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان میزبانی کر رہا ہے۔ عمران خان نے اس منصوبے کا آغاز ہمارے زمین کی تزئین ہمارے ماحول اور مناظر کو بدلنے کے وژن کے ساتھ کیا تھا۔

    میرے وزیر اعظم عمران خان کے خیال میں پاکستان میں درخت زیادہ تر ممالک سے کم ہیں۔ پاکستان میں فی شخص صرف 5 درخت ہیں جبکہ باقی دنیا میں اوسطا2 فی شخص 422 درخت ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ حکومت اس سال ملک بھر میں 10 ارب درخت لگائے گی۔ آسٹریلیا 3266 ، امریکہ 699 ، چین 130 ، برطانیہ حکومت 47 ، میرا ملک صرف 5 درخت فی شخص۔

    اگر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹا نہیں گیا تو یہ عالمی پر غذائی تحفظ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو پودے لگانے اور بچانے کے لیے قدرتی فنڈ قائم کرنا چاہیے۔ پاکستان کو درخت لگانے چاہئیں اور ہریالی کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ ملک کو 10 ارب درختوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے ہم صاف اور سرسبز پاکستان چاہتے ہیں۔ کلین اینڈ گرین پاکستان (سی جی پی) مائی پی ایم عمران خان کی پانچ سالہ مہم اس مہم کے تحت حکومت نے عملدرآمد کرنا ہے۔ اگر آپ ایک درخت لگاتے ہیں تو آپ ایک زندگی ، پاکستان اور اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کے لیے پودے لگاتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے ادارے نے حکومت کے ارب درختوں کے منصوبے کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ یہاں پرندوں کی آواز چاہتے ہیں تو پنجرہ نہ خریدیں۔ ایک لمحہ ایک دن بدل سکتا ہے ایک دن زندگی بدل سکتا ہے اور ایک زندگی دنیا بدل سکتی ہے۔ درخت لگانے کا بہترین وقت بیس سال پہلے ہے ، ایک درخت فطرت کے ساتھ ہمارا سب سے گہرا مواد ہے ، درخت کو زمین کے پھیپھڑے کہا گیا ہے۔ تو آئیے ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں ان میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں اور پاکستان کو سرسبز بنائیں۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ، گلوبل وارمنگ ایک حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت ابلتے پانی کی طرح بڑھ رہا ہے۔ انسانی حقوق سے گہرا تعلق لاکھوں ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ تو کچھ جگہ یہ کافی عرصے سے خشک ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان بھر میں بیماریوں کے پھیلنے میں معاون ہے۔ اگر ہم جلد ہی موسمیاتی تبدیلیوں کو سست نہ کریں تو مزید مہلک وبائیں آئیں گی۔ آب و ہوا کی تبدیلی اب کوئی مسئلہ نہیں ہے جو یہاں ہو رہا ہے یہ اب ہو رہا ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی جنگ کے لیے زیادہ تر نوجوانوں کی تعداد نبرد آزما ہے۔

    ‎@Aziz_khattak1

  • بچوں کی مشین تحریر :ذیشان اخوند خٹک

    بچوں کی مشین

    آپ نے بچوں کی مشین کا نام دیکھ کر ضرور سوچا ہوگا کہ انگریزوں نے کوئی روبوٹ یا مشین ایجاد کیا ہوگا جو کہ بچے کو تیار کریگا مگر حقیقت کچھ اور ہی ہے کہ یہ مشین ہم لوگوں نے ہی ایجاد کی ہے اور یہ مشین کسی لوہے سے نہیں بنائی ہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان سے بنائی ہے اور اس بدنصیب جیتی جاگتی کو معاشرہ میں عورت کے نام سے پکارا جاتا ہے.

    پاکستان میں اس ظلم کی شرح شہروں کے مقابلے میں گاوں میں بہت زیادہ ہے. اس ظلم کے خلاف معروف ڈرامہ نگار نور الہدی شاہ نے 2017 میں سمی کے نام پر ایک ڈرامہ لکھا جو کہ ہم ٹی وی پر نشر ہوگیا. وہ ڈرامہ تو دراصل ونی مطلب دیت میں لڑکی دینے کے مکروہ عمل کے خلاف تھا مگر انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ڈرامہ سیریل میں بچوں کی مشین کی مسئلہ بھی اجاگر کیا.
    پاکستان دنیا میں عورتوں کے بدترین حالت میں نویں نمبر پر ہے.

    آج سے چودہ سو سال پہلے عرب میں یہ رواج شروع ہوگیا تھا کہ زندہ بیٹیوں کو دفنا دیتے تھے مگر آج کل تو یہ عمل ان سے بھی بدتر ہورہا ہے کیونکہ مرد کی غلطی بھی عورت کے جھولی میں ڈال دیتی ہے اور اسے پھر ساری زندگی طعنے دیتے رہتے ہیں اور وہ بیچاری روزمرہ کے طعنوں کی وجہ سے روزانہ زندہ اور مرتی ہے.

    آج کل ایک بیٹا پیدا کرنے کیلئے مرد اور ان کے سسرال اس بیچاری کو بچوں کی مشین بنادیتے ہیں اور اس زیادہ بچے پیدا ہونے کی وجہ سے عورت کے جسم میں خون ناپید ہوجاتا ہے. جس سے ان کی زندگی کمزوری کی وجہ سے زندہ لاش بن جاتی ہے اور ہر بیماری ان کے جسم میں پیدا ہوجاتی ہے اور پھر ان بیچاری عورت کو ہر وقت بیمار رہنے کی طعنے بھی سننے پڑتے ہیں.

    ہم تو بس نام کے مسلمان ہے اور اس موقعہ پر ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے کہ وہ کس کو بیٹیوں سے نوازتا ہے اور کسی کو بیٹوں سے اور کسی کو بے اولاد کر دیتا ہے. پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ بانجھ عورت تھی مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت اسحاق علیہ السلام جیسے بیٹے سے نوازا.

    عورت معاشرہ کا ایک حصہ ہے اور انہیں وہ مقام اور عزت دے جو انہیں اسلام نے عطا کردیا ہے. بیٹے کے نام پر عورت کی تذلیل نہ کرے کیونکہ اولاد باپ کے نصیب سے پیدا ہوتے ہیں. بیٹی پیدا ہونے میں ماں کا کوئی قصور نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک تقسیم ہے. بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہوتی ہیں. جو شخص اپنے دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کرتا ہے اسے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی.

    بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہے۔
    گھر جو خدا کو پسند ہوتا ہے وہاں ہوتی ہے

    ٹویٹر ہینڈل
    @ZeeAkhwand10

  • پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان  تحریر اصغر علی                                        

    پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان تحریر اصغر علی                                        

               

    یہ بات 28 جولائی 1914 کی ہے جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو اس ٹائم یہی گمان کیا جا رہا تھا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہے اور اس کے بعد کوئی بھی اس طرح کی بڑی جنگ نہیں ہو سکتی اور کئی لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دنیا کی آخری جنگ ہے لیکن سب کے اندازے غلط نکلے کیونکہ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد انیس سو انتالیس میں جنگ عظیم دوئم شروع ہوگی پہلی جنگ عظیم آسٹریا اور ہنگری نے اس وقت شروع کی کہ جب ان کے ایک بہت ہی قریبی لیڈر کو مارا گیا اس کے بعد اسی جنگ کے دوران دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی ایک طرف دنیا کی سپر پاور سے اور دوسری طرف دنیا کے باقی ممالک ان میں سپر پاور برطانیہ روس اور فرانس ایک ساتھ تھے اور ان کے ساتھ کچھ اور ملک بھی تھے جنگ شروع ہونے کے کچھ عرصے کے بعدامریکہ جاپان اور اٹلی بھی اس اتحاد کے ساتھ شامل ہوگئے تھے  ان کے مد مقابل تھے سینٹرل پاور جن میں آسٹریا-ہنگری  سلطنت عثمانیہ جرمنی اور چھوٹے کافی ملک تھے پہلی جنگ عظیم سے پہلے یورپ ہتھیاروں کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکا تھا جس میں مشین گن ٹائم بام ٹینک اور جدید قسم کا اس وقت کے مطابق اسلحہ یورپ میں تیار ہونے لگا تھا برطانیہ اور جرمنی یورپ میں خوب ترقی کر رہے تھے اور دونوں نے اپنے ان ہتھیاروں کو اپنی اپنی سلطنتوں کو بڑھانے میں بھی کافی استعمال کیا تھا ان دنوں میں یورپ میں طاقت کا توازن باربار بگڑا تھا اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ملکوں نے آپس میں اتحاد بنانا شروع کر دیئے تھے ان ملکوں نے آپس میں فوجی اتحاد کے علاوہ خفیہ معاہدے بھی کرنا شروع کر دیے تھے ان اتحادوں میں دو اتحاد قابل ذکر ہیں triple alliance 1882 یہ جنگی اتحاد آسٹریا-ہنگری جرمنی اور اٹلی کے درمیان طے پایا اس اتحاد کا نعرہ یہ تھا کہ اگر کوئی بھی دنیا کا ملک ان تینوں میں سے کسی بھی ملک پر حملہ کرتا ہے تو یہ تینوں مل کر اس کا مقابلہ کریں گے اور ایک دوسرے کا مشکل وقت میں دفاع کریں گے جس میں بہت سارے فوجی معاہدے بھی سائن کیے ہوئے تھے جس میں ایک دوسرے کے بارڈرپر اپنی فوج ایک دوسرے کی سرحد کے اوپر سے اپنے جہاز گزارنا اور اس طرح کی بہت سارے معاہدے تھے اس اتحاد کے بعد انیس سو سات میں ایک اور بڑا جنگ اتحاد قائم ہوا جو کہ فرانس روس اور برطانیہ کے درمیان تھا اٹلی نے لڑائی کے دوران ان اپنا اپنا معاہدہ چھوڑ کر برطانیہ فرانس اور روس کے ساتھ ساتھ معاہدہ کر لیا تھا اٹلی کا اپنا اتحاد  سے الگ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اٹلی کے کچھ علاقے پر آسٹریا-ہنگری نے قبضہ کر رکھا تھا جتنے بھی طاقتور ممالک تھے وہ افریقہ اور ایشیا میں اپنی اپنی کالونی کو بنانے میں لگے ہوئے تھے کالونیاں بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ان جگہوں پر ان ملکوں کا قبضہ تھا اور یہ وہ دور تھا کہ جب ورلڈ وار شروع ہوئی انیسویں صدی کی شروعات میں سب سے کامیاب برطانیہ تھا کیونکہ برطانیہ نے برصغیر پاک و ہند آسٹریلیا اور 25 فیصد دنیا پر اپنا قبضہ جما لیا ہوا تھا اور یہ وہی وقت تھا جس کا ذکر بہت ساری کتابوں میں بہت سارے آرٹیکلز میں اور بہت ساری موویز میں دیکھنے کو یا سننے کو یا پڑھنے کو ملتا ہے کہ سلطنت برطانیہ اپنے عروج پر تھی اور اس کے عروج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا یہی وجہ تھی کہ برطانیہ کے پاس بہت سارے ذریعے اور بہت زیادہ طاقت تھی کیونکہ پوری دنیا پر برطانیہ کا راج چلتا تھا پہلی جنگ عظیم میں 13 لاکھ لوگ برصغیر پاک و ہند سے صرف برطانیہ کے لیے لڑے تھے کیونکہ اس وقت برصغیر پاک وہند برطانیہ کی ایک کالونی تھا انیسویں صدی کی شروعات میں یورپ میں نیشنل ازم اپنے عروج پر تھی اس وقت یہ تصور عام تھا کہ دنیا کا سب سے کامیاب ملک وہ ہے جس نے سب سے زیادہ جنگ لڑی اور جیتی ہے یہی وجہ یا یہی وہ تصور تھا جس کی وجہ سے اس دور میں جنگیں بہت زیادہ ہوا کرتی تھی یہی وہ وجہ تھی کہ آسٹریا-ہنگری کے بادشاہ جو کہ بوسنیا میں گئے اور وہاں پر ان کو قتل کر دیا گیا ان کو قتل کرنے والا گلیلیو تھا یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کو اکیلا گیلیلیو نہیں بلکہ اور بھی بہت سارے لوگوں نے مل کر قتل کیا تھا جس کی وجہ سے آسٹریا ہنگری نے میں نے صرف یہ سے ہتھیار ڈالنے کو اور آسٹریا-ہنگری کا حصہ بننے کو کہا مگر سربیا نے اس کی یہ بات نہیں مانی اور اس نے روس سے مدد لینا چاہیے چاہیے رؤف جو کہ پہلے ہی تیار بیٹھا تھا تھا اس نے اپنی بھرپور مدد دینے کا اعلان کیا اور اس کے بعد آسٹریا-ہنگری نے جرمنی سے مدد مانگی جرمنی اور آسٹریا-ہنگری کا 1882 میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق ایک دوسرے کا مشکل وقت میں ساتھ دینا شامل تھا اس کے بعد جرمنی نے آسٹریا-ہنگری کے ساتھ مل کر سربیہ پر حملہ کردیا جس کے فورا بعد بعد روس نے جرمنی پر حملہ کر دیا یا روس کے حملہ کرنے کے بعد فرانس جو کہ روس کا اتحادی تھا اس نے بھی جرمنی پر حملہ کر دیا یوں یہ جنگ جو کہ آسٹریا-ہنگری اور سربیا کے درمیان کی تھی وہ جنگ اب آسٹریا-ہنگری سربیہ جرمنی روس اور فراس  تک پہنچ چکی تھی اس کے بعد جرمنی جس پر دونوں اطراف سے حملہ ہو چکا تھا اس نے ایک سائیڈ پے میں روس اور دوسری سائیڈ پر فرانس کے ساتھ جنگ میں بری طرح الجھنے کی وجہ سے مغرب والی سائیڈ میں روس کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی کیونکہ روس کی فوج بہت طاقتور اور تعداد میں بہت زیادہ تھی اس لیے لیے جرمنی نے روس کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی اور مشرق والی سائیڈ سے اس نے بیلجئیم کے راستے فرانس پر حملہ کرنا چاہا اس لیے جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تاکہ وہ بلجئیم کے راستے فرانس کی فوج پر پر اس کی پچھلی سائیڈ سے حملہ آور ہو کر اس کو تہس نہس کر دے اس کے بعد جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کر دیا بیلجیم پر حملہ ہونے کے ساتھ  کا ہیں بیلجیئم کا فوجی اتحادی برطانیہ بھی جنگ میں کود پڑا برطانیہ نے نے جرمنی پر حملہ کر دیا یوں اب جرمنی تین اطراف سے بری طرح جنگ میں گر چکا تھا اور اب اب پہلی جنگ عظیم برطانیہ سمیت دنیا کے  7  ممالک میں پھیل چکی تھی زبر دست فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک دوسرے کی جانب سے دیکھنے کو مل رہا تھا کیونکہ برطانیہ اور روس اس وقت سپرپاور تھے اور فرانس بھی ان کا اتحادی ہونے کے ناطے اس جنگ میں کود پڑا تھا اس طرح 1907 میں بننے والا اتحاد فرانس روس اور برطانیہ یہ تینوں ہی سپرپاور اور اس جنگ عظیم میں شامل ہو چکے تھے جس کا مطلب صاف تھا کہ یورپ میں شدید تباہی آنے والی ہے اس کے بعد کیا ہوا کس طرح سلطنت عثمانیہ  آٹومن امپائر اس جنگ کا نہ چاہتے ہوئے بھی حصہ بن گئی آرٹیکل جاری ہے 

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @Ali_AJKPTI 

    Twitter id : https://twitter.com/Ali_AJKPTI