Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بڑھتی ہوٸی مہنگاٸی کی چکی میں پستی ہوٸی غریب عوام تحریر:شمسہ بتول

    بڑھتی ہوٸی مہنگاٸی کی چکی میں پستی ہوٸی غریب عوام تحریر:شمسہ بتول

    یوں تو ہر دور میں ہی مہنگاٸی میں اضافی ہی ہوا ہے لیکن دور حاضر میں مہنگاٸی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے گۓ ہیں۔

    پہلے مہنگاٸی ایک مسٸلہ تھا مگر اب دن بہ دن یہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک لعنت کی شکل اختیار کرتی جا رہی یہ ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جس سے صرف کمزور اور دیہاڑی دار طبقہ پستا جا رہا ہے ۔

     دنیا کے دیگر ممالک بھی اس مسٸلے سے دوچار ہیں مگر انکی پالیسیز ایسی ہیں کہ کسی بے روزگار بندے کو خودکشی نہیں کرنی پڑتی کوٸی ماں اپنے بچوں سمیت نہر میں چھلانگ نہیں لگا دیتی کہ وہ اس کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہی کیونکہ ان کے ہاں Unemployment Insurance Benefit پالیسی بہت بہتر طریقے سے کام کر رہی کہ جب تک آپ بے روزگار ہیں آپ کے اخراجات ریاست کے ذمہ ہیں یہ سسٹم ہمارے خلفاۓ راشدین کے دور میں تھا کہ جو اس قابل نہیں ہیں کہ ضروریات زندگی خرید سکیں انکو ریاست کی طرف سے راشن بھیجا جاتا اور انکی ضروریات پوری کی جاتی مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے ان کی تعلیمات کو چھوڑ دیا اور غیروں نے انہیں اپنا لیا۔

    آج پورا ملک خطرناک Inflation کی زد میں ہے اگر اسے hyperinflation کہا جاۓ تو بے جا نہ ہو گا۔

    عالمی منڈی میں جب پیٹرول کی قیمت اوپر جاتی تو اس کے اثرات تمام ممالک پہ ہوتے لیکن ان ممالک کی کرنسی ہماری کرنسی کی نسبت زیادہ قدر رکھتی اور ان ممالک کے لوگوں کی فی کس آمدنی (Per Capita Income ) ہماری نسبت بہت بہتر ہے اس لیے انکی زندگیوں پہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہونے سے دیگر اشیاء کی قیمتوں میں جو اضافہ ہو گا اس کے اثرات کم ہونگے مگر ہمارے ہاں شخصی آمدنی بمشکل 12,000_10,000 روپے ہے اور حالیہ کچھ دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ 10 روپے کے حساب سے کیا گیا ہے جس کے اثرات صرف فیول انڈسٹری پہ نہیں بلکہ پورے ملک پہ مرتب ہوۓ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کراۓ بڑھیں گے اب جو بندہ مہنیہ بھر کا کما ہی 12,000 روپے رہا ہو وہ روزانہRs.150 تک کرایہ دے کر مزدوری کرنے جاۓ گا تو پر بیوی بچوں کو کیا کھلاۓ گا وہ گھر کا کرایہ یا بل دے گا یا راشن خریدے گا ؟ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے گھی ، چینی اور دیگر اشیاۓ خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ گٸی اب ایک مزدور تو دو وقت کے لیے تو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پوری ہو گی تو وہ اپنے خاندان کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کیسے فراہم کرے گا ؟ اس بچے جو اس قوم کا مستقبل ہیں وہ تعلیم تک رساٸی حاصل نہیں کر پاٸیں گے نتیجتاً ہمارے نسل لا شعور اور اندھیروں میں رہے گی ۔اور جو زیادہ دلبرداشتہ ہونگے وہ خودکشی کی طرف چلیں جاٸیں گے ایسے واقعات سے ہمارامعاشرہ بھرا پڑا ہے مگر نا جانے کب ہمارے لیڈران اپنی ذاتیات سے باہر نکل کر عام عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیز بناٸیں گے نہ جانے کب لاکھوں کی تنخواہ اور ضرورت سے زیادہ سرکاری مراعات لینے والے منسٹرز وطن عزیز کی ترقی کے لیے کام کریں گے نہ جانے کب ملکی فلاح و بہبود کے لیے بناٸیں جانے والے منصوبوں میں سیاستدان کرپشن نہیں کریں گے اور اس عوام کو ریلیف دیں گے۔

    ہمارے اوپر IMF کے قرضوں کا بوجھ ہے لیکن اس بوجھ کو کم کرنے کیلیے عوام پہ ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کی بجاۓ اگر سرکاری افسران اور منسٹرز کو ملنے والی آساٸیشات میں کچھ کمی کر دی جاۓ تو اس طرح بھی بہت سے اخراجات کم کیے جا سکتےلیکن سارا بوجھ عوام پہ ڈالنےسے مساٸل مزید بڑھیں گے کیونکہ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کہ باوجود بھی ابھی تک بیروزگار ہے وہ مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہیں دن بہ دن ڈالر کی اونچی اڑان اور  عالمی منڈی میں روپے کی گرتی ہوٸی قدر ہماری معیشت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی اگر وہ ہی کمزور ہو جاۓ یا تباہ حالی کا شکار ہو جاۓ تو اس ملک کی بنیادوں کو بھی کمزور کرنے لگتی ۔ ہمیں سنجیدگی سے اس مسٸلے پہ غور و فکر اور اس کے حل کیلیے مناسب اور Effective policies بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    @sbwords7

  • رحمۃ اللعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر:رضوان۔

    رحمۃ اللعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر:رضوان۔

    المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے اس فرمان میں ہے،قرآن آپ کا اخلاق ہے۔یعنی قرآن اور آپؐ کی زندگی ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ جس طرح قرآن پاک اپنی تعلیم میں اور پیغام کے لحاظ سے درخشاں ہے، اسی طرح آپؐ کا عمل بھی اور درخشاں ہے۔ اگر ہم قرآن پاک کو عملی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو حضور اکرمؐ کو دیکھ لیں”۔ جو بات اس میں مذکور ہے۔ ”آپؐ کی زندگی کا معمول تھی۔ جس معاشرے میں آپؐ نے زندگی بسر کی اور جن لوگوں کو آپؐ نے اسلام کی دعوت دی خود ان میں آپؐ صادق اور امین کے لقب سے مشہور تھے۔ قرآن کریم کی آیات مبارکہ 

     الفاتحہ-1: 1-3۔

     جس نے زمین کو تمہارا پلنگ بنایا اور آسمانوں کو تمہاری چھتری۔  اور آسمان سے بارش برسائی  اور اس سے تمہارے رزق کے لیے پھل لائے  پھر جب تم (حقیقت) جانتے ہو تو اللہ کے لیے اپنا حریف نہ بناؤ۔

     البقرہ – 2:22۔

     کیا تم نہیں جانتے کہ یہ اللہ ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔  اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست یا مددگار نہیں ہے؟

     البقرہ – 2: 107۔

     آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا!  جب وہ کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے صرف کہتا ہے: ہو جا!  اور یہ ہے.

     البقرہ – 2: 117۔

     اور تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے۔  کوئی معبود نہیں مگر وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

     البقرہ – 2: 163۔

     اللہ!  اس کے سوا کوئی معبود نہیں – زندہ ، خود قائم رہنے والا ، ابدی۔  کوئی نیند اسے نہیں پکڑ سکتی اور نہ ہی سو سکتی ہے۔  آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں اسی کی ہیں۔  کون ہے جو اس کی موجودگی میں سفارش کر سکے سوائے اس کے کہ وہ اجازت دے۔  وہ جانتا ہے کہ (اپنی مخلوق کے سامنے) ان کے پہلے یا بعد میں یا ان کے پیچھے۔  اور نہ ہی وہ اس کے علم کا کچھ احاطہ کریں گے سوائے اس کے کہ وہ چاہے۔  اس کا عرش آسمانوں اور زمین پر پھیلا ہوا ہے ، اور وہ ان کی حفاظت اور حفاظت میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔  کیونکہ وہ سب سے اعلیٰ ، عظمت والا ہے۔

     البقرہ – 2: 255۔

     کیا آپ نے اپنے خیال کو اس شخص کی طرف نہیں موڑا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا کیونکہ اللہ نے اسے اختیار دیا تھا؟  ابراہیم نے کہا: میرا رب وہ ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے۔  اس نے کہا: میں زندگی اور موت دیتا ہوں۔  ابراہیم نے کہا: "لیکن اللہ ہی ہے جو سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے ، تو کیا تم اسے مغرب سے طلوع کرواتے ہو؟”  اس طرح وہ الجھا ہوا تھا جس نے (تکبر میں) ایمان کو رد کیا۔  اور اللہ کسی ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

     البقرہ – 2: 258۔

     کہو: "اے اللہ! طاقت کے مالک (اور حکمرانی) ، جسے تو چاہتا ہے طاقت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے ، جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پست کرتا ہے  سب کچھ اچھا ، بے شک ، ہر چیز پر تجھے طاقت ہے۔

     "تم رات کو دن کو حاصل کرتے ہو ، اور دن کو رات کو حاصل کرتے ہو ، تم زندہ کو مردہ سے نکالتے ہو ، اور تم مردہ کو زندہ سے نکالتے ہو ، اور جس کو چاہو رزق دیتے ہو۔  پیمائش. ”

     آل عمران-3: 26-27۔

     جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے۔  وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

     آل عمران-3: 129۔

     اگر اللہ آپ کی مدد کرتا ہے تو کوئی بھی آپ پر غالب نہیں آ سکتا: اگر وہ آپ کو چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو آپ کی مدد کر سکے؟  اللہ پر تو ایمان والوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

     آل عمران-3: 160

     آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ کی ہے۔  اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

     آل عمران-3: 189

     اے بنی نوع انسان!  اپنے سرپرست رب کی تعظیم کریں جس نے آپ کو ایک ہی شخص سے پیدا کیا ، فطرت کی طرح پیدا کیا ، اس کا ساتھی اور ان میں سے بیشمار مرد اور عورتیں بکھرے ہوئے (بیجوں کی طرح)؛  اللہ سے ڈرو ، جس سے تم اپنے باہمی حقوق مانگتے ہو اور (رحم کرو) رحموں سے (جو تمہیں جنم دیتا ہے) کیونکہ اللہ تم پر نگاہ رکھتا ہے۔

     النساء – 4: 1۔

     اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو برائی کرتے ہیں ، نادانی میں اور جلد ہی توبہ کرتے ہیں۔  ان پر ، اللہ رحم کرے گا  کیونکہ اللہ علم اور حکمت سے بھرا ہوا ہے۔

     النساء – 4:17۔

     اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔  اللہ دوست کے طور پر کافی ہے اور اللہ مددگار کے طور پر کافی ہے۔

     النساء – 4:45۔

     کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے؟  وہ جس کو چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

    Twitter

    @RizwanANA97

  • حکومت اور مہنگائی یا حکومتی مہنگائی تحریر: محمد وقاص شریف

    حکومت اور مہنگائی یا حکومتی مہنگائی تحریر: محمد وقاص شریف

    دنیا میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن پر کسی ملک کی حکومت کا نہ تو کوئی کنٹرول ہوتا ہے اور نہ بس چلتا ہے۔ مثلاً سونا۔ پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ تیل کمپنیاں یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو گیئں کہ ہم سے ادھار میں تیل لے لیں اور جب جی چاہے پیسے دے دیں۔ اس سہولت سے بہت سے ملکوں نے فائدہ اٹھایا۔ اسی طرح وہ بھی دور تھا۔ جب پاکستان میں سونا 6 ہزار روپے تولہ بھی تھا۔ ڈالر 40 روپے کے برابر بھی پاکستان میں رہا ہے۔ مگر پچھلے چند سالوں سے یہ تینوں چیزیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ سونا تو اب ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ اور متوسط اور غریب لوگوں نے سونے کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ پوری دنیا میں مہنگائی کی شدید ترین لہر آ چکی ہے۔ اور پاکستان بھی اسی دنیا کا حصہ ہے۔ اور اس مہنگائی کا شکار ہے وجہ اس کی سونے کی بڑھتی قیمت ہو۔ پٹرولیم مصنوعات کا اوپر جانا ہو۔ ڈالر کی اڑان ہو۔ یا کرونا وائرس کے اثرات۔ مگر مہنگائی 90 درجے کے زاویے کے ساتھ اوپر جا رہی ہے۔ مہنگائی سے دنیا کے سبھی  ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ مگر پاکستان میں اس کا رونا پیٹنا سب سے زیادہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مہنگائی دنیا بھر میں بڑھی ہے۔ تو دیگر ممالک میں زیادہ ردعمل کیوں نہیں دیکھا جارہا۔ اس کی وجہ یہ ہے۔ کہ وہاں کی حکومتوں نے اپنے عوام کو مہنگائی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔ حالات واقعات کو دیکھتے ہوئے ان ممالک نے اپنے عوام کو سستی اشیائے ضروریہ فراہم کرنے کے لئے سبسڈی دی ہے لوگوں کے دکھوں میں وہ حکومتیں شریک ہوئی ہیں۔ انہوں نے مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے حکمت عملی بنائی ہے۔ انہوں نے اپنے اداروں کو مضبوط کر کے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ایکشن  لیے ہیں لوگوں کو براہ راست امداد فراہم کرکے ان کے معاشی مسائل کو حل کرنے کی عملی کوشش کی ہے۔ ان ممالک نے اپوزیشن کو ساتھ ملا کر مشترکہ کوشش کر کے اپنے عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نکالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس طرح کا کوئی بھی اقدام سامنے نہیں آیا جس سے یہ تاثر بھی ملے کہ حکومت اپنے عوام سے مخلص ہے۔ وزیراعظم کی سطح پر تمام ملبہ ڈالر۔ سونے پٹرولیم۔ اور درآمدات پر ڈال دیا گیا ہے۔ اور عوامی ریلیف سے منہ پھیر لیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں جنگل کا قانون تیزی سے پھیل رہا ہے جس کا جب جو جی چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ اب تو روزانہ کی بنیاد پر من مانے ریٹ بڑھائے جا رہے ہیں۔ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ پاکستانی عوام ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ حکومت کی ساری کی ساری توجہ اپوزیشن کو دبانے میں مرکوز ہے۔ بھرپور کوشش جاری ہے کہ کسی بھی طرح پانچ سال پورے کئے جائیں۔ ملک چاہے دس سال پیچھے چلا جائے اس کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ جب عوام سے توجہ ہٹ جائے اور معاملہ ذات کی طرف چلا جائے تو بربادی کا ایک طوفان آ تا ہے اور سب کو بہا لے جاتا ہے۔ عملی طور پر ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔ وزراء کے جاہلانہ بیانات نے اس حکومت کی غیر سنجیدگی کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر یہ بات بڑے آ رام سے کہی جا سکتی ہے کہ ملک میں حکومتی مہنگائی زیادہ اور دنیاوی مہنگائی کم ہے۔

    @joinwsharif7

  • پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا تحریر:۔ نعیم الزمان

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا تحریر:۔ نعیم الزمان

    کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان اور بھارت یا انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے کرکٹ میچز کو بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ نہ صرف دیکھتے ہیں۔ بلکے بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں کہ کب ان ٹیموں کے درمیان سیریز یا کسی بھی ایونٹس کے  میچز ہوں گے۔ خاص کر پاک بھارت کرکٹ میچ کا دونوں ہی ملکوں کی عوام کو بڑی بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک کے آپس میں تعلقات کافی کشیدہ رہتے ہیں۔ جس کے باعث دونوں ممالک کے مابین کرکٹ سیریز کافی عرصہ سے نہیں ہو پا رہی۔ اس وجہ سے بھی دونوں اطراف کی عوام کو بڑی بے چینی سے ورلڈ کپ یا کسی بھی آئی سی سی ایونٹس کا انتظار رہتا ہے جہاں دو روایتی حریف آپس میں مد مقابل ہوں۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں چند دن باقی ہیں پاکستان کا پہلا مقابلہ24 اکتوبر کو روایتی حریف بھارت سےہونا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ شائقین کرکٹ میں بےقراری بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی ٹیم کو خوب ڈیفنڈ کرتا نظر آ رہا ہے۔ جب بھی ٹی وی توڑنے اور پٹاخے پھوڑنے کی بازگشت شروع ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ پاکستان اور انڈیا کے میچ سے قبل مزاحیہ میمز اور تشہیری مہمات کا آغاز ہو گیا ہے۔ کچھ میڈیا چینلز اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میچوں پر اشتہار بھی بنا چکے ہیں۔ جس میں سب سے سرفہرست ہے "موقع موقع” جو انڈین چینلز پر ہر آئی سی سی کے ایونٹس میں پاک بھارت کرکٹ میچ سے قبل چلایا جاتا ہے۔ ہر بار ایک نئے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ جسے انڈیا میں بڑی پذیرائی ملتی ہے۔اور پاکستانی عوام کا ردعمل کافی غصے والا ہوتا ہے۔ مگر کبھی کبھار یہی اشتہار انڈیا کے لیے شرمندگی کا باعث بھی بنے ہیں ۔ جیسے دسمبر 2012 میں انڈین چینلز پر ایک اشتہار نشر کیا جاتا تھا جس میں کہا جاتا تھا "پاکستان ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز کھیلنے آرہا ہے” تو اس اشتہار میں چند بھارتی کھلاڑی یہ کہتے ہوئے دیکھائی دیتے تھے "کہ آنے دو” ۔ جب اس سیریز کا آغاز ہوا تو انڈیا کو منہ کی کھانی پڑی اپنی ہی سر زمین پر اپنے کراؤڈ کے سامنے ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز میں پاکستان سے شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ پاکستانی باؤلرز نے  انڈیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کی ایک نہ چلنے دی۔ اور پاکستانی بیٹسمینوں نے بھی خوب جم کر انڈین باؤلرز کی دھولائی کی۔ 

     اس میں کو شک نہیں کہ آئی سی سی کے ایونٹس میں بھارت کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ مگر چمپیئن ٹرافی 2017 میں بھی یہی صورتحال تھی پہلے میچ میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اس کی بعد پاکستانی ٹیم نے بقیہ میچز میں  اچھا کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اور فائنل میں ایک بار پھر مقابلہ آیا روایتی حریف بھارت کے ساتھ۔ مگر اس بار بھارت کو تاریخ ساز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے یہ ٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔ ٹیم کا وطن واپسی پر کراچی ائیرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ اپنی ٹیم کا استقبال کرنے موجود تھے۔ کراچی ائیرپورٹ پر ہاتھ میں ٹرافی تھامے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے موقع موقع گا کر پاکستانی شائقین کے دل بھی جیت لیے تھے۔ مقابلے سے پہلے ہی لفظی مقابلے شروع ہو جاتےہیں جو کافی انٹرسٹڈ ہوتے ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی پاکستانی ٹیم کافی پر اعتماد لگ رہی ہے۔ مگر اس سے پہلے تو ورلڈکپ کی تاریخ میں پاکستان کو شکست کا سامنا رہا ہے۔ انشاء اللہ اس بار امید کر سکتے ہیں کہ پاکستان روایت کو توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا ۔ 

     یو اے ای کی کنڈیشنز پاکستان کے لیے کافی سازگار رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان یو اے ای میں  بہت ساری اپنی ہوم سیریز کھیل چکا ہے۔  جس سے  کنڈیشنز  کی واقفیت پاکستان کے لیے پلس پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ تو اس بار بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ دل اور ٹی وی سرحد کے کس پار ٹوٹیں گے۔ اکثر اوقات پاکستان اور انڈیا کے میچز کے بعد سڑکوں اور چوکوں پر سرحد کی ایک طرف جیتنے والی ٹیم کے فینز جشن منا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ہارنے والی ٹیم کے شائقین ٹی وی توڑ کر غصے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ انشاء اللہ میری طرح ہر پاکستانی اس بار ٹیم پر کافی امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر پاکستانی کی یہی دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ خاص کر انڈیا سے۔ ۔ ۔

    Follow on Twitter@786Rajanaeem

  • انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    حصہ دوم:

    بلاگنگ بھی آن لائن پیسے کمانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔  ورڈپریس یا بلاگر کی
    مدد سے ایک ویب سائیٹ یا بلاگ بنائیں، اس پرعمدہ اور مفید مواد شائع کریں، پھر
    Monetization کے ذریعہ جیسا کہ گوگل ایڈسینس، پیسے کمانے کا آغاز کریں۔ اس کے
    لیےضروری ہے کہ آپ کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہو۔

    یوٹیوب اس وقت گوگل کے بعد سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائیٹ ہے اور
    یوٹیوب پر ایک لمحے میں سالوں کے برابرویڈیوز دیکھی اور اپلوڈ کی جارہی ہیں۔ آپ
     YouTube پر جائیں اور اپنا چینل بنا لیں۔ اور جب آپ کا چینل مونیٹایز ہونا
    شروعہوجائے تو ایڈسینس کے ذریعے پیسے کما سکتے ہیں۔ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں
     یوٹیوب چینل موجود ہیں۔ اگر آپ کیمرے کےسامنے آنے سے گھبراتے ہیں تو آپ
    ٹیوٹوریل ویڈیو بھی بنا سکتے ہیں۔

    اگر آپ کوئی کاروبار کر رہے ہیں تو آپ ایک عدد ویب سائٹ بنا کر آن لائن کاروبار
     کا بھی آغاز کر سکتے ہیں۔ آپ جو چیزیں دکان پربیچ رہے ہیں ان کو آن لائن بھی
    بیچ سکتے ہیں۔ shopify پر آپ اپنا آن لائن سٹور کھول سکتے ہیں۔

    اگر آپ کے پاس آن لائن کاروبار میں بیچنے کے لیے سرمایہ محدود ہے تو آپ ڈراپ
    شپنگ بھی کر سکتے ہیں۔ اس میں آپ اپنی ویبسائٹ پر دوسری سائٹس سے لے کر تصویریں
     لگاتے ہیں اور آرڈر ملنے پر اسی ویب سائٹ سے وہ پراڈکٹ لے لیتے ہیں۔ ڈراپشپنگ
    کے لیے علی بابا سب سے مشہور سائٹ ہے۔

    آپ ایک ایسی ویب سائٹ بھی بنا سکتے ہیں۔ جس پر مختلف کورسز بیچے جاسکتے ہیں۔ اس
     وقت یوٹیوب اور ورڈپریس پر بہت سےلوگ آن لائن کورسز کروا کر خوب پیسے کما رہے
    ہیں۔

    ہماری نوجوان نسل سارا دن سوشل میڈیا پر اپنا وقت برباد کرتی رہتی ہے۔ اگر وہ
    اپنے وقت کو ضائع کرنے کی بجائے اچھے طریقےسے استعمال کریں تو سوشل میڈیا کے
    ذریعے بھی پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ فیس بک پر اپنا پیج بنا کر اس پر بہترین
    مواد شائع کریں۔جب آپ کے فالوورز کی تعداد بڑھ جائے گی تو آپ کو اشتہارات بھی
    ملنا شروع ہو جائیں گے۔

    فیس بک پر بہت سے ایسے فری لانسنگ گروپ ہیں جہاں مختلف لوگ وقتا فوقتا مختلف
    جابز کے لیے پوسٹ لگاتے رہتے ہیں۔آپ گرافک ڈیزائنر ہیں یا ٹائپنگ کے ماہر یا
    لکھنا جانتے ہیں، اپنی مہارت کے مطابق پوسٹ پر اپلائی کر کے پیسے کما سکتے ہیں۔

    ٹویٹر کے ذریعے بھی آپ اپنے کاروبار کی تشہیر کر سکتے ہیں۔ صارفین کو نئی
    پراڈکٹس اور آفر سےمتعلق ٹویٹ کر کے اپنے کاروبار کووسعت دے سکتے ہیں۔

    اسکے علاوہ آن لائن فارم بھرنا، ویڈیو ایڈیٹنگ، سکرپٹ رائٹنگ،  White board
    animation ، ایڈ پوسٹنگ،  ڈیٹا انٹری غرض آن لائنپیسے کمانے کے بیش بہا طریقے
    ہیں۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی کام میں مہارت نہیں رکھتے تو پریشانی کی کوئی
    بات نہیں۔انٹرنیٹ پر بہت سے لوگ مفت یا معمولی رقم کے عوض یہ تمام کورسز کروا
    رہے ہیں۔ آپ آج سے ہی اپنی دلچسپی کا کوئی بھی ہنرسیکھنے کا آغاز کریں۔ ایسے
    بہت سے پلیٹ فارم موجود ہیں جہاں سے لاکھوں افراد سیکھ کر نہ صرف برسر روزگار
    ہو گئے ہیں بلکہ اپنیذاتی کمپنیاں بنا کر دوسرے لوگوں کو بھی روزگار فراہم کر
    رہے ہیں۔

    ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی کام کا آغاز کرنے سے پہلے اس میں
    مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ آپ وقتیطور پر کچھ کام حاصل کرنے میں تو کامیاب
     ہو جائیں گے، لیکن طویل مدت تک آپ بغیر مہارت کے پیسے نہیں کما سکیں گے۔
    انٹرنیٹ پر پیسے کمانا بھی کہیں نوکری کرنے کی طرح ہے۔ جس طرح نوکری میں ابتدا
    میں آپ کو کم معاوضے کے عوض کام کرنا پڑتاہے لیکن اگر آپ کے اندر صلاحیت ہو تو
    آپ پر ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر بھی ابتدا میں
    کامحاصل کرنے اور خود کو منوانے کے لیے بہت تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ ایک وقت تھا
    کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعےپیسے کمانے کا لالچ دے کر لوگ
    دوسروں سے پیسے بٹورتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ  جیسے دوسرے کاموں میں دھوکے کا
    امکان ہوتاہے اسی طرح یہاں  بھی مختلف قسم کے دھوکے باز موجود ہیں۔ لیکن وقت
    اور تجربے سے انسان سیکھ جاتا ہے کہ ایسے دھوکےبازوں اور فراڈ لوگوں سے کیسے
    بچا جا سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ فری لانسنگ کی دنیا میں پاکستان پانچویں
     نمبر پر ہے۔ہماری نوجوان نسل تیزی سے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اب ہماری ذمہ
    داری ہے کہ اس کے ذریعے نہ صرف پیسے کمائیں بلکہبہترین کارکردگی دکھا کر دنیا
    بھر میں پاکستان کا نام بھی روشن کریں۔

    ختم شد

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political

    Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے، تحریر:نوید شیخ

    شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے، تحریر:نوید شیخ

    شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے

    اس میں اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور مسلمان ہونے کی سزابھگت رہے ہیں؟

    ۔ کیونکہ جس طرح ان کے بیٹے آریان خان کی ضمانتیں کی درخواستیں بار بار مسترد کی جا چکی ہیں ۔ اس سے مزید سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ پھر جو ان کے بیٹے کو لے کر شاہ رخ خان کی
    character assisnation کی جارہی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ جو شاہ رخ خان کے نام کو بھارت میں گالی بنایا جا رہا ہے وہ بھی پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ آگے چل کر میں آپکو تفصیل سے بتاؤں گا کہ کیسے بھارتی حکومت ، ادارے اور میڈیا جھوٹی خبروں کو شاہ رخ خان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ۔ اور ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے ۔ ۔ حقیقت میں اس کیس نے نئے الزامات کو جنم دیا ہے کہ بھارتی حکومت ملک کے سب سے بڑے مسلمان اداکار کے بیٹے کو صرف ان کے مذہب کی وجہ سے ہراساں کر رہی ہے۔ ۔ یاد رکھیں جب آپ کی ایک نہ چلے ۔
    ۔ جب آپ کا روپیہ پیسہ ، اثر رسوخ اور تعلقات بھی کام نہ آرہے ہوں اور سب سے بڑھ کر جب آپکو انصاف نہ ملنے کی امید ہو ۔ تو پھر لوگ دعاوں کے ذریعے منتوں مرادوں کی تکمیل کی جانب راغب ہوتے ہیں اب ایسا ہی شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان نے بیٹے آریان خان کی رہائی کے لیے منّت مان لی ہے۔۔ اسوقت شاہ رخ خان اور ان کی پوری فیملی آریان خان کی گرفتار ہونے کی وجہ سے بہت تکلیف دہ اور مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ ساتھ ہی جو سلوک اس وقت بھارت میں ان کے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے شاہ رخ خان اور فیملی شدید مایوس ہیں ۔

    ۔ جہاں شاہ رخ خان بیٹے کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تو گوری خان بیٹے کی رہائی کے لیے مسلسل دعائیں کر رہی ہیں۔۔ اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ آریان خان کو جیل میں قیدی نمبر مل گیا ہے ۔ اب انہیں قیدی نمبر 956 کے نام سے پکارا جائے گا۔ مجھے تو یہ بھی ایک سازش اور پلان کا حصہ دیکھائی دیتا ہے کہ اریان کو اب اس نمبر 956کے ذریعے پکارا جائے اور یاد رکھا جائے ۔ ۔ جیل کے اندرونی ذرائع کے مطابق آریان خان جیل کا عام کھانا کھارہے ہیں لیکن اسے پسند نہیں کررہے ساتھ ہی انہیں باہرکا کھانا کھانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔۔ اس کے علاوہ جیل انتظامیہ کو آریان کی فیملی کی جانب سے ساڑھے چار ہزار روپے کا منی آرڈر موصول ہوا ہے جس پر 11 اکتوبر کی تاریخ درج ہے۔ یہ پیسے آریان کے کینٹین کے اخراجات کے لیے ہیں۔ جیل قوانین کے مطابق ایک قیدی کے لیے ایک ماہ میں صرف ساڑھے چار ہزار روپے کے منی آرڈر کی ہی اجازت ہے۔۔ دیکھا جائے تو آریان خان کی جیل میں زندگی انتہائی کربناک ہے کیونکہ شہزادوں کی طرح اپنے گھر میں رہنے والے آریان خان کو باتھ روم کے استعمال میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ۔ کیونکہ ممبئی کی سینٹرل جیل میں وہی پانی دستیاب ہے جو باتھ روم کے نلکوں میں آتا ہے۔ جیل کی دیواریں انتہائی گندی ہیں جن میں سے ہر وقت بو آتی رہتی ہے۔ جیل کے باتھ روم کے لاک بھی نہیں ہیں جب کہ باتھ روم کے باہر بھی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں جس کے باعث اپنی باری آنے پر ہی کوئی بھی ملزم اندر جاتا ہے۔۔ جیل میں چوہوں اور چھوٹے موٹے کیڑوں کی بھرمار ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس کو تنگ کرنے کے لیے بھی رات کو ایسے چیزوں کو چھوڑا جاتا ہے اور ان آوازوں کا استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ مسلسل ایک ڈر کی کیفیت میں رہے ۔ اس وجہ سے جیل اریان خان کے لیے ایک ڈراونا خواب بن چکی ہے ۔ ۔ اس کیس میں اب تک 18 مرد اوردو خواتین سمیت بیس افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ تمام گرفتار ملزمان کو دیگر قیدیوں سے الگ بیرکوں میں رکھا گیا ہے۔ پر آپ بھارتی میڈیا کی دونمبری چیک کریں آپ نے ابھی تک ان 18 میں صرف اریان خان کے باپ شاہ رخ خان کا نام ہی سنا ہوگا باقی کس کا کون باپ ہے ۔ خاندان کیا کرتا ہے ۔ اس بارے بھارتی میڈیا مکمل خاموش ہے ۔ کیونکہ ان کا ایجنڈہ صرف اور صرف شاہ رخ خان کو ٹارگٹ کرنا ہے ۔ پھر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے متضاد اور مضحکہ خیز خبریں پھیلائی جارہی ہیں ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ شاہ رخ خان اور اسکے بیٹے کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں عدالت میں تو ثابت نہیں ہوسکتیں ۔ مگر اس موقع پر ایسی من پسند خبریں چلوا کر نارکوٹکس کنٹرول بیورو شاہ رخ خان کے امیج کو وہ نقصان پہنچا رہے ہیں جس کا ازالہ شاید کبھی نہ ہوسکے ۔

    ۔ سب سے پہلے تو متواتر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے یہ خبر چلوائی جا رہی ہے کہ آریان خان نشے کا باقاعدہ عادی ہے۔ بالکل کہا جا رہا ہے کہ وہ سرٹیفائیڈ نشی ہے ۔ میڈیا پر بھونڈے قسم کے گانے لگا کر اس پر مختلف رپورٹس کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر بیچا جا رہا ہے ۔۔ پھر دوسرا پراپیگنڈہ یہ کیا جا رہا ہے کہ آریان خان منشیات کی غیرقانونی اسمگلنگ میں ملوث ہیں یہاں تک اس کے اس کا لنک دؤاد ابراہیم تک سے جوڑا جا رہا ہے ۔ اور اس کو انوسٹی گیٹیو اسٹوریز کا نام دیا جا رہا ہے ۔ ۔ بغیر ثبوت کے آریان کی واٹس ایپ چیٹ کا بھی خوب ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ اس میں زیادہ مقدار میں منشیات کا انکشاف ہوا تھا جو کہ صرف ایک شخص کے استعمال کے لیے نہیں ہوسکتی۔ پھر بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آریان کی جانب سے این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر واکھنڈے سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ایسا انسان بن کر دکھائیں گے کہ ایک دن آپ مجھ پر فخر کریں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ آریان نے دوران معاشی اور سماجی طور پر کمزور افراد کی مدد کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے اور وہ غلط راستے پر اب کبھی نہیں جائیں گے۔ یوں اس طرح کا بیان اریان خان سے منسوب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جیسے اریان خان نے اعتراف جرم کر لیا ہو کہ وہ نشہ بھی کرتے تھے ۔ خریدتے بھی تھے ۔ بیچتے بھی تھے ۔ پر یہ منجن بھارتی میڈیا پر عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے بیچا جا رہا ہے ۔ جب کہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے این سی بی کی پاس نہ تو ثبوت ہیں نہ کوئی گواہ ۔ یہ تو کچھ بھی نہیں اریان کو حراست میں رکھنے کے لیے بھی این سی بی کی پاس کوئی ٹھوس توجیح نہیں ۔ پر کیونکہ اس وقت بھارت میں ہندو راج ہے تو کسی بھی مسلمان کو جیل میں ڈالنے کے لیے نہ تو کسی قانون کی ضرورت ہے نہ ہی کسی ثبوت کی ۔

    ۔ اب ان سب اور تمام کہانیوں کے پیچھے کسی کو شک ہے کہ این سی بی ، بی جے پی اور آرایس ایس کا ہاتھ کارفرما نہیں تو پھر یا تو وہ اندھا ہے یا پھر ہندوتوا کا پجاری ۔ ان کا اصل مشن یہ ہے کہ کسی طرح شاہ رخ خان سے وہ درجہ واپس لیا جائے کہ وہ اب بھارت کا مزید سپرسٹار نہ رہے ۔ اس کو اتنا گندہ کیا جائے کہ اس کا نام ایک گالی بن جائے ۔ اس تمام کھیل میں جہاں بھارتی حکومت اور ادارے ملوث ہیں ۔ مودی کا گودی میڈیا بھی اس ایجنڈے پر لگا ہوا ہے ۔ جو ہر طرح کا گند اور جھوٹ شاہ رخ اور اریان خان پر تھوپ رہا ہے ۔

    ۔ دراصل بھارت میں ہر برائی کی جڑ مودی ہے ۔ اور جب سے یہ وزیر اعظم بنا ہے ۔ کوئی امیر مسلمان ہو ، اثر رسوخ والا مسلمان ہو ، مشہور مسلمان ہو یا پھر کوئی عام غریب مسلمان ہو ۔ مودی کے شر سے محفوظ نہیں ۔ بھارت کو مسلمانوں کے لیے جہنم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ مودی جو کچھ کر رہا ہے اس میں بنیادی کردار آرایس ایس کی ٹریننگ کا ہی ہے کہ مودی نے بطور وزیراعلیٰ ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا اور نہ کبھی انکے قتل پر پشیمان ہوا اور نہ ہی کبھی مذمت کی۔الٹا مودی تو فخر کرتا ہے کہ اس کو butcher of gujaratکہا جاتا ہے ۔۔ مودی کا وزیراعظم بننے کے بعد بھی رویہ ویسا ہی ہے جو گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر تھا جو اسکے انتہا پسند ہونے کی واضح دلیل ہے۔ بھارتی ریاستی ادارے بالخصوص انصاف کا نظام بی جے پی حکومت میں عملی طور پر مفلوج ہے۔ کیونکہ ایک جانب جہاں اڈانی مودی حکومت کی برکت سے ہیروئن سمگلنگ کے کیس میں بھی بچ جاتا ہے ۔ تو شاہ رخ خان کا بیٹا کوئی جرم کیے بغیر بھی جیل میں گل سٹر رہا ہے ۔ آپ دیکھیں بھارت میں انتہاپسند ہندؤ روزانہ کسی نہ کسی مسلمان کو سٹرکوں پر گھیر کر نشان عبرت بنا رہے ہوتے ہیں ۔ پر آج تک نہ تو ان میں سے کوئی پکڑا گیا ہے نہ اسکو سزا ملی ہے ۔ الٹا آپ بھارتی جیلوں میں جا کر دیکھیں تو مسلمانوں سے یہ بھری پڑیں ہیں ۔ جنونی ہندو اس وقت مسلمانوں کے خون کے پیسے ہیں ۔ آسام والا معاملے میں دیکھ لیں ۔ اب تو مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کی آنکھیں بھی کھول گئی ہیں اور انھوں نے پورے مشرق وسطی میں بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے لیے مہم شروع کردی ہے۔

    ۔ کویت اسمبلی کے ارکین بھارتی حکام اور انتہا پسند گروہوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف مظالم کی مذمت کر رہے ہیں ۔ تو عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد الخیلی نے کہا ہے کہ بھارت میں انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بھارتی حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ بین الاقوامی برادری اس جارحیت کو روکنے کے لیے مداخلت کرے۔۔ تو یہ ہے آج کا shinning indiaجہاں ہندو راج ہے ۔ ۔ جہاں کسی مسلمان ، سکھ ، مسیحی کا نہ مال محفوظ ہے نہ ہی جان ۔۔۔

  • "بارہ ربیع الاول اور دل گناہگار کی آرزوئیں” محمد عبداللہ

    "بارہ ربیع الاول اور دل گناہگار کی آرزوئیں” محمد عبداللہ

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں مبعوث ہونا ہمارے اوپر اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے جس کا تذکرہ اللہ نے قران مجید میں بھی ان الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے لقد من اللہ علی المومنین "لقد من الله على المؤمنين إذ بعث فيهم رسولا من أنفسهم يتلو عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة” اس بات پر جتنا بھی خوش ہوا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن اس خوشی کے منانے میں آپے سے باہر نہ ہوا جائے.
    جبکہ ہجری کیلنڈر کے مطابق آج کے دن نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخصت ہوجانا مدینہ میں قیامت ڈھا گیا تھا. ایک تابعی بیان کرتے ہیںمیں مدینہ پہنچا تو ہر طرف آہوں اور سسکیوں کا سماں تھا۔ میں نے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ لوگ کہنے لگے : ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رخصت ہو گئے ہیں!“
    ہمیں بھی اسی بات کا غم کہ اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ دیدار ہوا نہ آپ کی آواز سن سکے، نہ آپ کے گھٹنوں سے گھٹنے ملا کر دین سیکھ سکے.نہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سالاری میں کفر پر چڑھائی کرسکے، نہ کسی سفر میں آپ کے ہمرکاب ہوپائے.
    مسجد نبوی کے کچے صحن پر اپنے محبوب پیغمبر کے ہمراہ رب العالمین کے سامنے سربسجود نہ ہوسکے. بدر و احد میں حنین و احزاب میں، مکہ و تبوک میں آپ کے جانثار بن کر آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے نہ لڑ سکے، اپنی جان آپ پر نہ وار سکے. ابوبکر و عمر اور عثمان علی رضی اللہ عنھم اجمعین کے ساتھی نہ بن سکے.
    لیکن ان تمام غموں کو جو بات دور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حوض کوثر پر آپ کے ہاتھوں سے جام پیئیں گے. روز محشر آپ کے جھنڈے تلے جنت میں جائیں گے. جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملاقاتیں ہونگی.
    جنت میں آپ کے سامنے دوزانو بیٹھ کر آپ سے ہجرت کے واقعات سنیں گے. بدر میں اللہ کی مدد کے احوال سنیں گے، احد میں آپ کی استقامت کی داستان سنیں گے. آپ سے آپ کی دعوتی زندگی کے انداز سنیں گے. آپ کا مسکرانا دیکھیں گے. آپ کی شفقت و محبت سے فیضیاب ہونگے. ان شاءاللہ
    لیکن ان سعادتوں کو حاصل کرنے کے لیے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنانا پڑے گا سجود و قیام کی کثرت سے جنت میں آپ کا ساتھ حاصل کرنا پڑے گا. بلکہ بقول شاعر
    گر جنت میں جانے کا ارادہ ہو تمامی کا
    گلے میں پہن لو کرتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا
    محمد عبداللہ

  • دیکھنا کہیں دل مردہ نہ ہو جائے”تحریر: انیس الرحمن باغی

    دیکھنا کہیں دل مردہ نہ ہو جائے”تحریر: انیس الرحمن باغی

    ماہ ربیع الاوّل کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف در و دیوار برقی قمقموں سے سجائے جا رہے ہیں۔۔۔

    مبارکبادیں دی جارہی ہیں۔۔۔

    اک نئی عید کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔۔۔

    عشق رسول کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔۔۔

    منبر و محراب سے سیرت النبیؐ بیان ہو رہی ہے۔۔۔

    گویا منظر کچھ بدلا بدلا سا ہے،

    لیکن بات کچھ اس طرح ہے کہ خوشی بجا کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ اے بنی انسان تم پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہم نے تم کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیے۔۔۔

    محبت کے سب دعوے بجا۔۔۔

    سیرت میں زلف و رخسار مبارک کی باتیں بجا۔۔۔

    لیکن کیا سال میں کچھ دن یوں محبت کے خالی خولی اور ڈھونگ دعوئوں سے محبت کا حق ادا ہو جائیگا؟؟؟

    کیا گھروں پر چراغاں کرنے سے مردہ دل میں بھی کوئی ایمان کی حرارت جاگے گی؟؟؟

    کیا صرف صورت رسولؐ بیان کر کے سیرتِ رسولؐ کا حق ادا ہو جائیگا۔۔۔۔؟؟؟

    نہیں کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔!!!!

    کسی بھی صورت میں نہیں۔۔۔۔!!!

    کیونکہ۔۔۔

    کیا فائدہ اس چراغاں کا کہ دلِ مردہ میں حبِ نبی صلی الله عليه وسلم کی لو نہ جل سکے؟؟؟

    کیا فائدہ اس محبت کا جو زبان سے تو بیان ہو لیکن حلق سے نیچے نہ اترے ہمارے جسم و جاں اس عشق میں رنگے نہ جا سکیں؟؟؟

    کیا فائدہ اس سیرت النبیؐ کے بیان کرنے کا کہ جس میں نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی زلف کا ذکر ہو رخسار کا تو ذکر کر کے عوام سے داد وصول تو کروا لی جائے واہ واہ کے ڈونگرے برسا لیے جائیں لیکن نبی مکرمؐ کی سیرت سے حسن اخلاق اور دیگر اقوام کے ساتھ سلوک کو بیان نہ کیا جائے۔۔۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کو بیان نہ کیا جائے۔۔۔
    ان کے رحمتِ عالمؐ ہونے کے خصائص بیان نہ کیے جائیں۔۔۔

    ہاں سب کچھ بجا تم عشق و محبت میں سب کچھ کرو لیکن خدارا اس محبت کو در ودیوار اور ممبر و محراب، زبان و کلام، بیان و انداز سے نکال کر ذرا اس دل میں بھی جگہ دو پھر دیکھو کہ کیسے یہ محبت اپنا رنگ چڑھاتی ہے؟؟؟

    دیکھنا کہیں گھروں کو روشن کرتے رہو اور دلِ مردہ اسی طرح بجھا رہ جائے تو پھر یہ دعوے کسی کام کے نہیں رہیں گے ہمیں تو اس شعر کی عملی تفسیر بننا پڑیگا تب جا کر بات بنے گی۔۔۔

    مصور کھینچ وہ نقشہ جس میں یہ صفائی ہو
    ادھر ہو فرمانِ محمدؐ ادھر گردن جھکائی ہو

  • فیک نیوز; تحریر فرازرؤف

    فیک نیوز; تحریر فرازرؤف

    فیک نیوز پوری دنیا کا ایک مسئلہ ہے جسے کاؤنٹر کرنے کے لئے ہر ملک میں کوڈ آف کنڈکٹ بنایا گیا ہے، ایسے عناصر جو جعلی خبریں چلاتے ہیں انہیں سخت سے سخت سزا اور جرمانے کیے جاتے ہیں۔ لیکن کچھ سازشیں ایسی ہوتی ہیں جس میں فیک نیوز پھیلانے والے عناصر یا تو جعلی اکاؤنٹ کا سہارا لیتے ہیں یا پھر بیرون ملک بیٹھ کر اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کرتے ہیں۔

     دنیا میں کچھ ایسے ملک بھی ہیں جو مس انفارمیشن پھیلا کر دوسرے ملکوں کو ڈی سٹیبلائزر کرتے ہیں۔ جس کی حالیہ مثال بھارت کا وہ نیٹ ورک تھا جو فیک ناموں سے بیرونی ملک بیٹھ کر ملک اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے تاکہ مغربی ممالک پاکستان پر پابندیاں لگا سکیں۔

    یورپی یونین میں فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن پر کام کرنے والے ایک تحقیقی ادارے ‘ای یو ڈس انفو لیب’ کی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر سال قوام متحدہ کا انسانی حقوق سے متعلق اجلاس میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور انسانی حقوق سے متعلق جھوٹی من گھڑت ڈس انفارمیشن پھیلائی جاتی ہے۔

    یورپی یونین کے اس تحقیقاتی ادارے کے مطابق ڈس انفارمیشن پھیلانے والے ان اداروں کے تانے بانے بھارت سے جا ملتے ہیں۔ یہ تحقیقات اتنی وسیع ہیں کہ اس میں غیر سرکاری تنظیمیں اور این جی اوز، بڑے پیمانے پر فیک نیوز پھیلانے والی ویب سائٹس اور ان سے جڑی شخصیات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔ 

    اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنا اور بھارت کا نیریٹیو کو بڑھاوا دینا تھا۔ اس نیٹ ورک کی سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ یہ ڈس انفارمیشن اتنے بڑے پیمانے پر پھیلا دیتے تھے کے بظاہر ایسا لگے گا جیسے جو موقف پیش کیا جا رہا ہے اس کو ایک بہت بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل ہے۔ اس مقصد کے لیے این جی اوز کا استعمال کیا گیا جن کا کام انسانوں کی خدمت نہیں بلک پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینا اور خطرناک پراپیگنڈے کو مغربی ممالک میں پذیرائی دینا تھا۔

    اس نیٹ ورک کا سب سے اہم مقصد کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا اور یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو جو تجارتی مراعات "جی ایس ٹی پلس” کی صورت میں دی جا رہی ہیں ان کو روکنا تھا۔

    پاکستان نے یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کے وہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا کر سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی پر سخت نوٹس لے۔

    اسی طرح کا پراپوگنڈا اندرونی سطح پر بھی کیا جاتا ہے کچھ ایسے صحافی جن کا کام دن رات جھوٹی خبریں پھیلا کر ملک کے امیج کو بین الاقوامی سطح پر خراب کرنا ہے۔ اگر ایسے صحافیوں کو انہی کی پھیلائی ہوئی جھوٹی خبروں پر محاسبہ کیا جائے تو یہ آزاد صحافت کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ 

    عمران خان کی حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے فیک نیوز پر سب سے زیادہ نقصان اٹھایا دن رات ایسی جھوٹی من گھڑت کہانیاں چھاپی گی جن کا سرے سے کوئی وجود نہیں تھا۔ ایسے ایسے صحافی جو ٹی وی پر بیٹھ کر پاکستان کی معیشت پر تبصرے کرتے دیکھا گیا جن کا معیشت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، کیا ہم اسے محض صحافتی بد دیانتی کہیں یا ملک دشمنی؟

    لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں صاف دامن صحافی بھی موجود ہیں جن کے قلم کی روشنی سے صحافت کا مان زندہ ہے۔ اور ایسے صحافیوں کو حکومت اور عوام کی طرف سے سہرایا بھی جاتا ہے۔ 

    ضرورت کی چیز کی ہے کہ اب ہمیں بھی پاکستان میں ایک ایسا صحافتی رول آف بزنس بنانا ہوگا جس سے جھوٹی خبریں پھیلانے اور ملکی اداروں کے خلاف زہر اگلنے والے ایسے عناصر جو بیرونی ایجنڈوں کے ساتھ کام کرتے ہیں انہیں سخت قانون سازی سے قانون کی گرفت میں لایا جا سکے، اب یہ نہیں ہو سکتا کہ آزاد صحافت کے نعروں کے پیچھے چھپ کر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔

    تمام صحافتی ادارے آیا وہ پرنٹ میڈیا سے ہے یا ڈیجیٹل میڈیا سے انہیں مل بیٹھ کر حکومت کے ساتھ مخلصانہ لائے عمل ترتیب دینا ہوگا جس سے آنے والی نسلیں صحافت کے اس مقدس فریضے کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • تصویریں تحریر۔محمد نسیم

    فیس بک پر کسی کی کیمرے سے کھنچی گئ تصویریں دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ادوارِ ماضی کے وہ لمحات یاد آگئے جب کیمرے کی ایجاد ہماری زندگی میں آئی. آج کی نسل جو اینڈرئڈ موبائل سے مستفید ہورہی ہے اور اس کے استعمال میں اتنی ماہر ہے کہ وقتِ مشکل ہم بڑوں کو بھی اس کی رہنمائی کی ضرورت پڑ جاتی ہے شائد اس دلچسپ تجربے سے ناآشنا ہے
    ہمارے معاشرے میں کیمرا عمومی طور پر 80 کی دہائی میں وارد ہوا اس سے پہلے یہ کام فوٹو سٹوڈیو تک محدود
    تھا
    اس کیمرے کا استعمال جب فوٹو گرافر سے عام شہری تک آیا تو دلچسپ واقعات رونما ہوتے تھے مثلاً کیمرے کو چلانے کے لئے کسی پڑھے لکھے فرد کی خدمات حاصل کی جاتیں جو اندھوں میں کانا راجہ ہوتا کیمرے میں فلم ڈلوانا بھی ایک احتیاط طلب کام تھا فوٹو گرافر تاکید کرتا تھا کہ فلم کو رشنی نہ لگنے پائے ورنہ تصویرں ضائع ہوجائیں گی. تصویرکشی کے بھی انوکھے واقعات ہوتے خاص طور پر خواتین اس کے لئے پہلے سےخاص زرق برق لباس اور بناؤسنگھار کا اہتمام کرتیں اور یہ مفروضہ بھی عام تھا کہ میلے کچیلے کپڑوں میں تصویر صاف آتی ہے فوٹو سیشن کے وقت انوکھے پوز بنائے جاتے 36 تصویروں کی فلم کا کیمرے سے دھیان لگایا جاتا کے کتنی تصویریں باقی رہ گئی ہیں یہ فوٹو سیشن مختلف مراحل میں مکمل ہوتا. ساتھ میں فوٹو گرافر کی تاکید ہوتی کہ زیادہ دیر کیمرے میں فلم رہنے سے فلم ضائع ہوجائے گی چناںچہ اس خوف کے باعث تصویریں اتروانے کاکام جلد از جلد کم و بیش ایک ہفتے سے بھی پہلے مکمل کرلیا جاتا
    تصویریں صاف کروانے کے لئے ایک مرتبہ پھر فوٹو گرافر سے رجوع کیاجاتا اور فی کس تصویر دلھوائی کا ریٹ طے ہوتا فوٹو گرافر ایک نیم تاریک کمرے میں جا کر کیمرے سے فلم نکال کر کیمرا واپس کرتا اور تصویروں کی دھلوائی کا رسید کی صورت میں وقت دیتااور اس مقررہ وقت کا بڑی بیتابی سے انتظار ہوتا اپنے آپ کو رنگیں تصویر میں دیکھنےکا ہرکسی کو شوق ہوتا
    تصویروں کی دھلوئی پر فوٹو گرفر البم فری میں دیتا جس کی خوشی الگ ہوتی 36 کی فلم میں چند تصویریں لازم ضائع بھی ہوتیں اپنی تصویروں کو دیکھنے کا بھی عجب تجربہ ہوتا تصویروں کو دیکھنےپر مختلف لطیفے دیکھنے کو ملتے مثلاً تصویر بنوانے والے نے خوبصورت پوز بنایا ہے لیکن فلش لائٹ کے باعث آنکھیں بند بعض اوقات اناڑی کیمرامین کسی کی تصویر لیتے وقت اس کے پاؤں یا فرش کو ہی فوکس کرگیا گروپ فوٹو کی صورت میں میلوں دور سے تصویر لی جاتی جس کو بائو سکوپ کے بغیر دیکھنا ممکن نہ ہوتا
    وہ خواتین و حضرات جو اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتے کے وہ بہت حسین وجمیل ہیں اپنی تصویریں دیکھنے کے بعد سخت مایوسی کا شکار ہوتے ایک ایک تصویر کو بار بار دیکھا جاتا اور اس پر تبصرہ کیا جاتابعض تصاویر کو سیدھے اینگل سے دیکھنے کے کئے دیکھنے والے کو اپنی گردن کا اینگل الٹا کرنا پڑتاغرض آج کی انڈرئیڈ یوزرجنریشن اس پرلطف تجر بے کو کیا جانے

    @Naseem_Khera