۔
یہ مقام ، شمالی مدینہ میں ہے ، جہاں احد کی جنگ 3 ہجری (624 عیسوی) میں ہوئی۔ یہ مسلمانوں اور کافر مککین افواج کے مابین دوسری جنگ تھی۔ ابتدائی فتح مسلمانوں کے لیے شکست میں بدل گئی جب کچھ جنگجوؤں نے اپنی پوزیشن چھوڑ دی ، غلطی سے یہ سمجھتے ہوئے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔
ایک سال قبل بدر کی جنگ میں ذلت آمیز شکست کے بعد ، مکہ کے قریش نے مسلمانوں سے دوبارہ لڑنے اور انتقام لینے کے لیے ایک عظیم فوج جمع کرنے کی تیاری کی۔ انہوں نے 300 اونٹوں ، 200 گھوڑوں اور 700 کوٹ ڈاک کے ساتھ 3000 سپاہیوں کی فوج جمع کی۔ بدر میں مقتول سرداروں کی بیویاں اور بیٹیاں فوج کے ہمراہ قاتلوں کے مارے جانے کا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھتی تھیں۔ ابو سفیان مکہ فوج کا کمانڈر انچیف تھا اور اس کی بیوی ہند نے خواتین کے سیکشن کی کمان کی۔ دونوں اس وقت غیر مسلم تھے اور اسلام کے سخت دشمن تھے۔ بائیں اور دائیں طرف کا حکم بالترتیب عکرمہ ابن ابی جہل اور خالد بن ولید نے دیا۔ عمرو بن العاص کو گھڑ سوار کا کمانڈر نامزد کیا گیا اور ان کا کام گھڑ سوار پروں کے درمیان حملے کو مربوط کرنا تھا۔ (تینوں بعد میں مسلمان ہوئے اور اسلام کے عظیم جرنیل بن گئے)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف 700 مسلمانوں کی فوج کے ساتھ کوہ احد کی وادی کے لیے مدینہ چھوڑا اور اپنی فوج کو جنگ کے لیے کھینچ لیا۔ جنگ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 50 تیراندازوں کو عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ماتحت رکھا تھا۔ اس نے (ﷺ) انہیں سختی سے حکم دیا کہ اگلے احکامات تک وہیں رہیں ، جو بھی شرط ہو۔ اگر وہ پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کریں تو وہ دشمن کو روکیں گے۔
دونوں لشکر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ایک شدید جنگ شروع ہوئی۔ مسلمان سپاہیوں نے اپنے حملے کو کافروں کے گیارہ معیاری علمبرداروں پر مرکوز رکھا یہاں تک کہ وہ سب ختم ہو گئے۔ جیسے ہی دشمن کا معیار زمین پر گرتا گیا ، مسلمان سپاہیوں نے اپنے آپ کو دشمن کے خلاف پھینک دیا۔ ابو دجانہ (رضي اللہ عنه) اور حمزہ (رضي الله عنه) نے بڑی بے خوفی کے ساتھ جنگ کی اور میدان جنگ میں ان کی بہادری کے کارنامے مسلم فوجی تاریخ میں افسانوی بننے والے تھے۔
حمزہ (رضی اللہ عنہ) کے نقصان کے باوجود ، مسلمان ان کافروں پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے جنہیں ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ، بھاگنے لگے۔ کافر عورتیں بھی بکھر گئیں جب کچھ مسلمان فوجیوں نے پیچھا کیا۔
یہ سمجھی ہوئی فتح کے اس مقام پر تھا کہ واقعات نے بے نقاب ہونا شروع کیا۔ تیر اندازوں کو جنہیں اپنے بھائیوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی پیغمبر کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ جنگ ختم ہوچکی ہے اپنے اسٹیشنوں کو چھوڑ دیا۔ چالیس پچھلے پہاڑ پہاڑ سے اترے اور مسلمانوں کو دشمن کے جوابی حملے کا شکار کر دیا۔
خالد بن ولید نے دیکھا کہ اچانک خلاء پیچھے کے محافظ کے غائب ہونے سے پیدا ہوا اور اس کے گھڑسواروں نے پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کیا ، اس عمل میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ جب مسلمانوں نے اپنے آپ کو گھرا ہوا دیکھا تو وہ گھبراہٹ اور انتشار سے دوچار ہو گئے اور ایک مربوط منصوبہ بنانے میں ناکام رہے۔
دشمن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اپنا راستہ لڑا جسے پتھر سے مارا گیا اور آپ کے پہلو میں گر گیا۔ اس کے سامنے کے دانتوں میں سے ایک کاٹا گیا ، اس کا نچلا ہونٹ کاٹا گیا ، اور اس کا ہیلمٹ خراب ہو گیا۔ جب دشمن کے ایک سپاہی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار پھینکی تو اس نے اپنی ہڈی کو آنکھ کے نیچے اور دو کو پکڑ لیا۔
Twitter Account @SikandrKhosa
Category: بلاگ
-

جنگ احد تحریر سکندر کھوسہ
-
زندگی میں ہمیں وہی ملتا ہے جو ہم مانگتے ہیں۔ تحریر:محمد اسحاق بیگ
اب آپ ضرور سوچیں گے کہ یہ سچ نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ اپنے لیے آزادی اور خوشی مانگتے ہیں پر آپ کو جو کچھ ملا وہ اس کے بر عکس ہے اور آپ اسے برا محسوس کر رہے ہوتے ہیں اپنے آپ کے لیے ۔
آئیے اس پر گہری نظر ڈالتے ہیں کہ تخلیق کیسے کام کرتی ہے اور ہمارا لاشعوری ذہن کیسے کام کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ایک ہی ہے۔
ہر چیز جو موجود ہے کسی کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔ ہر چیز ایک سوچ سے شروع ہوتی ہے۔ سوچ ایک توانائی ہے۔ توانائی خود کو ظاہر کرنا چاہتی ہے۔ ایک ہی سمت میں بہت سارے خیالات ، یہ یقینی طور پر ، حقیقی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور ایسا ہی چلتا رہے گا ۔
یہ تخلیق کا عمل ہے۔
ہم اسی عمل سے پیدا ہوئے ہیں۔ ہم تخلیق کے اس عمل کو ہر وقت استعمال کرتے ہیں ،
اسے جانے بغیر
جب ہم ہوش میں نہیں ہوتے ، تب ہم زیادہ تر لوگوں کی طرح ہوتے ہیں اور اس طاقت کو منفی زندگی بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب ہم منفی سوچ رکھتے ہیں تو منفی نتائج حاصل کرتے ہیں۔ اتنا تو ہر ذی شعور انسان بہت اچھے سے جانتا ہے ۔
ایک بار جب ہم مثبت خیالات سوچنا سیکھ لیں گے تو ہم اپنی زندگی میں مثبت نتائج حاصل کریں گے۔
کس طرح آیا؟ ہمارا لاشعور۔۔۔۔۔۔
دماغ زمین کی طرح ہے۔ جو ہم بوتے ہیں اس میں مداخلت نہیں کرتا۔ زمین یہ نہیں کہتی: ” میرے پاس ان گاجروں کی کافی مقدار ہے ، یہ ہر بار ہم جب بھی گاجر لگایئں گے زمین گاجر ہی دے گی یہ ایک ہی چیز ہے ، میں اس کے آلو بناؤں گا!” زمین یہ نہیں کہتی: ” مجھے سرخ پھول پسند نہیں ، میں ان گلابوں کے لیے سرخ کو نیلے رنگ میں بدل دوں گا!” زمین مداخلت نہیں کرتی۔ زمین صبر کرتی ہے ، خاموشی سے کام کرتی ہے اور ہمیں وہی دیتی ہے جو ہم اس میں ڈالتے ہیں۔ اور ہم یہ جانتے ہیں!
ہم جانتے ہیں کہ ہمیں وہی ملے گا جو ہم زمین میں ڈالتے ہیں۔ جب ہم اس میں پیلے رنگ کے پھول ڈالتے ہیں ، ہم توقع نہیں کرتے کہ جب وہ کھلیں گے تو وہ سرخ ہوں گے۔ جب ہم باغ میں گلاب بوتے ہیں تو ہم توقع نہیں کرتے کہ موسم بہار میں پیاز نکل آئے گا!
اور پھر بھی ہم حقیقی زندگی میں اسی طرح کا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ہم پیاز بوتے ہیں اور گلاب کی توقع کرتے ہیں۔ ہم اپنے ذہن (پیاز) میں منفی خیالات بوتے ہیں اور اچھی چیزیں (گلاب) نکلنے کی توقع رکھتے ہیں!
ہم خود کو بیوقوف بناتے ہیں! اور ہم دوسروں پر الزام لگاتے ہیں۔ ہم تلاش کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس کا قصور کون ہو سکتا ہے (عام طور پر ہم والدین یا شوہر/بیوی کو ہماری زندگی میں جو غلط ہو رہا ہے اس کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں)۔ اور پھر ہم روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں کوئی قسمت نہیں ہے۔ ہم پڑوسی کی طرف دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہے کیونکہ اس کے باغ میں گلاب ہیں ، اور ہم حیران ہیں کہ ہم نے اپنے باغ میں صرف پیاز کے مستحق ہونے کے لیے دنیا کے ساتھ کیا کیا!
جب آپ کے خیالات کا مرکزی دھارا منفی ہے ، تو آپ جتنی بھی کوشش کر لیں جب تک آپ اپنے ذہن سے منفی سوچ کو نکال باہر نہیں کر لیتے تب تک نتیجہ منفی ہی ہوگا۔
آپ کے خیالات آپ کے لاشعوری ذہن میں آتے ہیں ، جو آپ اس میں ڈالتے ہیں۔ یہ زمین کی طرح ہے۔ یہ کمپیوٹر کی طرح ہے۔ جب آپ اپنے کمپیوٹر میں ٹائپ کرتے ہیں: "میں بیوقوف ہوں ، میں موٹا ہوں ، میں بدصورت ہوں ، کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا” ، کیا آپ اپنے پرنٹر سے ناراض ہیں جب کاغذ باہر آتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ
"میں بیوقوف ہوں ،
میں موٹا ہوں ،
میں بدصورت ہوں”
کوئی مجھ سے محبت نہیں کرتا”؟
کیا آپ اپنے کمپیوٹر پر جوتا پھینکتے ہیں اور کیا آپ اس پر چیختے ہیں کہ وہ ہر اس چیز کا قصور ہے جو غلط ہو رہی ہے؟ نہیں ، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اس معلومات کو اس میں ڈال دیا ہے اور آپ کا کمپیوٹر مداخلت نہیں کرتا ہے۔ آؤٹ پٹ بالکل ان پٹ سے مماثل ہے۔
یہ ہمارے لاشعوری ذہن پر کام کرتا ہے۔ اگر آپ کو آؤٹ پٹ پسند نہیں ہے تو ، ان پٹ کو تبدیل کریں۔ آپ کو وہی ملتا ہے جو آپ مانگتے ہیں
جو آپ پورے دن کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اپنی زندگی سے ناراض نہ ہوں۔ آپ پیاز سے ناراض تو نہیں ہیں؟ کیا آپ اپنے کمپیوٹر سے ناراض نہیں ہیں؟ ناراض ہونے کے بجائے ، یہ سیکھیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے اور اپنی زندگی میں مثبت نتائج حاصل کرنا سیکھیں۔ مثبت سوچ سوچنا شروع کریں۔ صرف وہی سوچیں جو آپ حقیقی زندگی میں ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ صرف وہی سوچیں جو آپ سچ بننا چاہتے ہیں۔ اور تھوڑی دیر انتظار کرو ، صبر کرو۔ ایک دن آپ اپنی سلائی کی فصل کاٹ لیں گے ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین آپ کو وہ چیز واپس دے گی جو آپ نے اس میں ڈالی ہے۔ یہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔
بس انتظار کرو اور دیکھو.
آپ سب کی محبتوں کا شکریہ جو آپ میری تحریر کو پڑھتے ہیں ۔آپ سب سے دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں
@Ishaqbaig___
-

سوشل میڈیا اور اسکا استعمال: تحریر نعمان سرور
آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر گھر میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے ہر دوسرا بندہ سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آج تک میڈیا کو ایسی آزادی نہیں ملی جو موجودہ دور میں ہے۔ ہر شخص سمجتا ہے کہ وہ آزاد ہے اپنی بات دنیا کے سامنے رکھ سکتا ہے۔”آزادی رائے” کے نام پر جس کا جو دل چاہتا ہے وہ کہتا ہے۔
بزرگوں اور استادوں سے سنتے آئے ہیں کہ الفاظ ہماری شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ آپ کے بولنے سے آپ کی شخصیت تربیت اور اخلاق کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بات سولہ آنے سچ ہے۔
سوشل میڈیا کا استعمال چھوٹا ہو یا بڑا خواتین ہو یا مرد ہر کوئی کر رہا ہوتا ہے یہ ایک ایسی لت کہہ لیں پڑ جاۓ تو اس سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہے۔ اسکے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ اگر آپ اسکا درست استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کی سوچ میں وسعت پیدا کرتا ہے آپ کی شخصیت کو مزید اُبھارتا ہے-
مگر بد قسمتی سے ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا مثبت کم ہاں مگر منفی استعمال زور و شور سے کیا جاتا ہے دیکھا جاۓ تو اس منفی استعمال سے ہمارا مذہبی، معاشرتی اخلاقی اور خاندانی نظام کھوکھلا ہو کر رہ گیا ہے رہی سہی کسر ہمارے میڈیا نے پوری کر دی ہے.
سوشل میڈیا پر مجھے بہت حیرت ہوتی ہے چھوٹے بچوں کو دانشور بنے دیکھ کر جس عمر میں ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے ہمارے بچے موبائل ہاتھ میں لے فلسفہ جھاڑ رہے ہوتے ہیں لوگوں کی کردار کشی ٹرولنگ کرنے میں اخلاقیات کا جنازہ نکال دیتے ہیں اس کام میں اگر میں کہوں کہ بس ہمارے لڑکے شامل ہیں تو غلط ہو گا لڑکیاں بھی پیچھے نہیں ہمارا معاشرہ دن بدن اخلاقی پستی کی طرف جا رہا ہے اور ہماری نوجوان نسل وہ تو اخلاقیات سے عاری ہوتی جا رہی ہے ۔ یہ ہم سب کے لئے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
اظہار رائے کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انتہائی موثر ذریعہ ہے ایک عام آدمی اپنی بات دنیا کے ہر کونے میں باآسانی پہنچا سکتا ہے مگر آج ہمارے بچوں کے پاس شاہد دلیل کی شدید کمی ہے اسی لئے گالم گلوج کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اکثریت کو اپنی بات کے لیے قائل کر سکیں۔
سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ سیٹ ہے ہر سیاسی جماعت نے نوجوانوں کو اپنے فائدے کے لئے رکھا ہوا ہے اور منافقت کا یہ عالم ہے کہ ہر شخص اپنی سیاسی جماعت کی برائی کو پس پشت ڈال کر دوسری جماعتوں کی خرابیوں کو ڈسکس کرتا رہتا ہے یا یہ کہہ لیں آجکل کا نوجوان نام نہاد حکمرانوں کی شخصیت پرستی میں اتنا مگن ہو گیا ہے کہ یہ تک بھول چکا ہے کہ اللّٰہ نے اسے بھی ایک شخصیت دی ہے جس میں ایک سوچنے والا دماغ ہے جو تفکر و تدبر اور عقل و شعور کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان مسلط شخصیات نے نوجوانوں کی تنظیمی طاقت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اُنہیں ایک دوسرے کے مقابلے لا کھڑا کیا ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا انکا مشن بنا دیا ہے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میڈیا سیل کے تابع کر کے نوجوان کی اپنی شخصیت تباہ کر دی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اس ملک کا نوجوان ان لٹیروں اور مافیاز سے کہیں زیادہ عزت والا ہے۔
ہر چیز کے نقصانات کے ساتھ اسکے فائدے بھی ہوتے ہیں اگر ہمیں اس بات کا شعور ہو جاۓ تو معاشرے میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کسی ایشو کو موثر انداز میں سوشل میڈیا پر اٹھایا جاۓ تو انتظامیہ اس پر ضرور نوٹس لیتی ہے اس پر ایکشن لیا جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے سوشل میڈیا کا درست سمت میں استعمال کیا جائے اس میں کوئی شک نہیں یہ بہت بڑی طاقت ہے. مگر اس کا چیک اینڈ بیلنس ہونا بھی بے حد ضروری ہے اسکا استعمال کریں بھر پور کریں مگر اپنے بچوں کو مانیٹر کریں اسے اچھے مقاصد کے لیے استعمال کریں. لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں اور مشکلات میں ان کا ساتھ دیں اور اس بات کا خیال رکھیں کے آپ کا وقت سوشل میڈیا پر وطن عزیز کے دفاع میں ہو آجکل ہمارے ملک کے خلاف کئی ممالک محاذ کھول چکے ہیں ایسے میں ہماری زمہ داری بحثیت شہری اور بڑھ جاتی ہے کے ہم اپنے وطن کا دفاع کریں اور اس کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ بنیں سچے پاکستانی بنیں اور ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دیں جو سب کے لئے راحت اور سکون میسر کرے یقین جانیں یہ صدقہ جاریہ ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔
ٹوئٹر اکاونٹ @Nomysahir
-

ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں تحریر:ہارون خان جدون
ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں
عربی زبان میں ربیع کے معنی بہار کے ہیں اور اول کے معنی پہلا ہے بہار ہےیعنی ربیع اول کا مہینہ اسلامی کلینڈر کے حساب سے تیسرا مہینہ ہے اس مہینے کی مسلمانوں کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے کیوں کے اس مہینے میں 12 ربیع الاول کے دن آقا نامدار حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تشریف لائے.
حضرت محمّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اللہ تمام جہانوں کے لئے رحمت العالمین ہیں اور وہ اللہ کے آخری نبی ہیں اور انکے بعد کوئی نبی نہیں آے گا مسلمان ہر سال میں اس مہینے کو بڑی عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں خوشی کا اظہار کرتے ہیں اپنے گھروں کو سجاتے ہیں اور ہر طرف چراغاں کیا جاتا ہے گھروں اور مساجد میں عیدمیلادالنبی کی محفلیں کا انقاد کیا جاتا ہے ہمیں بلکل اسی طرح ہے سال اس دن کو خوشی کے ساتھ منانا چاہیے اور اپنے والدین سے پوچھنا چاہیے کے ہم اس دن کو کیوں مناتے ہیں اور والدین کو اس دن کی اہمیت اپنے بچوں کو بتانی چاہیے اور ہم سبکو حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کرنا چاہیے اور انکے بتاۓ ہوے طریقوں پر چل کر اپنی زندگی گزارنی چاہیے کیوں اللّه کے رسول ﷺ کے آنے سے جہالت کا خاتمہ ہوا اور اسلام کا بول بالا ہوا سرور کائنات دنیا میں تشریف نا لاتے تو ابھی تک دنیا میں اندھیرا ہی ہوتا اور دنیا آج تک اندھیرے میں ہی ہوتی انکے آنے سے دنیا میں اجالا ہوا اور حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ہمیں سیدھا رستہ دکھایا آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے
آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم پر اللہ پاک ہر وقت رحمتیں نازل فرماتے ہیں
آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم پر فرشتے ہر وقت درود بھیجتے ہیں
آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سے آگے بڑھنے کی اہل ایمان کو اجازت نہیں ہے
آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت میں جنت ہے اور دنیا اور آخرت کی بہتری ہے
جہاں اللہ پاک نے ہمیں آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت کا حکم دیا ہے وہاں ہی ہمیں آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سے محبت بھی لازم ہے
اللہ پاک نے ہمیں آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اتباع کا حکم دیا ہے کیوں کے دنیا میں انکی پیروی سے ہی نجات ہے
پوری کائنات کا وجود انکی نسبت سے ہے اگر آپ دنیا میں نا آتے تو دنیا میں کچھ نا ہوتا میرے اور آپ کے نبی حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم آخری نبی ہیں آپ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے یہی ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے اسی عقیدے کی نسبت سے اللہ پاک کل روز محشر ہمارے لئے آسانی کرے گا کیوں ہم تو خطاکار ہیں گناہگار ہیں بس یہی آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی شفاعت کا واحد آسرا ہے ہمارے پاس، ہمیں چاہیے کے ہم کثرت سے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم درود و سلام بھیجیں.
ارشاد باری تعالی ہے جس نے میرے محبوب محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔۔
رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ اور شفاف زندگی کو سیکھ کر اور اس پر عمل کر کے ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اپنی ساری زندگی کو آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی سیرت کے سانچے میں ڈال دینا ہی اصل محبت ہے
اگر اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے سچی محبت کے دعوےدار ہیں تو پھر اپنی اپنی زندگی کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق گزاریں، اچھے اعمال کریں، صلح رحمی اختیار کریں، یتیموں کا خیال رکھیں، حقوق العباد کا خیال رکھیں اپنے ارد گرد لوگوں کی مشکلات کو دیکھ کر انکی مدد کریں، کسی کی حق تلفی نا کریں، کسی کو تکلیف نا دیں، اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاو کریں اور لوگوں تک آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا دین پنچاہیں کیوں کے اب امت میں دین کا کام ہم امتیوں پر فرض ہے
اگر ہم یہ کام کریں گے تو ہماری اپنی دنیا اور آخرت سنورے گی اور ساتھ ساتھ دوسروں دین سے بٹکے ہوے لوگوں کا بھی بلا ہوگا
اللہ پاک آپکو اور مجھے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت اور پیروی کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ اور ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور مرتے وقت كلمہ نصیب کرے ۔۔۔آمین
@ItzJadoon
-

پیرِکاملﷺ تحریر: فضیلت اجالہ
”پیرکامل وہ انسان جس میں کاملیت ہوتی ہے۔ کاملیت یعنی دینی و دنیاوی ہر لحاظ سے مکمل، جس کی عبادات خالص رضائے الہی کیلیے ہوتی ہیں، جو نیکی و پارسائ کا منہ بولتا ثبوت ہو، جس کی ہر دعا کو قبولیت کی سند حاصل ہو، جس کے کلام کی تاثیر سے پتھر موم ہو جائیں، جس کو الہام نہیں وجدان حاصل ہو، ایسا انسان کامل جس پر خواب نہیں وحی اترتی ہو اور وحی بھلا عام انسانوں پر کہاں اترتی ہے
سائنس جتنی مرضی ترقی کر لے ،انسان شہرت و کامیابی کی بلندیوں کے عروج پر بھی پہنچ جائیں پھر بھی کہیں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ پیر کامل کی ضرورت محسوس کرتا ہے، ہر زی روح کی کتاب حیات میں کہیں ایسا ورق ضرور کھلتا ہے جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے لبوں سے نکلی ہر دعا اور دل سے نکلی ہر صدا بے اثر ہے، اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ خدائے بزرگ و برتر کی نعمتوں و رحمتوں کا رخ اپنی طرف موڑنے سے کاثر ہیں، اس لمحے روح و دل کا وہ تعلق جو خدا سے ہے وہ ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے تو پھر انسان پیر کامل کی تلاش کی جستجوں لیے ایسے انسان کی تلاش میں دوڑتا ہے جو اسکے لیئے خدا کے سامنے گڑ گڑائے، جس کی دعائیں رد نا ہوتی ہوں جو الہام نہیں وجدان رکھتا ہو
پیرکامل کی یہ تلاش آج کی بات نہیں یہ ارتقاء انسانی سے جاری ہے ۔ ایک ایسی تلاش جس کی خواہش اللہ خود قلب انسانی میں پیدا کرتا ہے۔ انسان کی یہی تلاش ہی تھی جو اسے ہر زمانے میں اتارے جانے والے پیغمبروں کی طرف لے جاتی رہی، جس نے انسانوں کو پیغمبروں پہ یقین کا راستہ دکھایا۔
انسان کی فلاح و بہبود کیلیے بھیجے گئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے خدائے برتر کا ہر پیغمبر کامل تھا مگر پیرکامل صرف ایک ،جس کو بھیجنے کا بعد خدا نے سلسلہ نبوت کا اختتام فر مادیا، جسے رحمت العالمین کا خطاب دیا، جس سے دو جہاں کی تاریکیوں نے روشنائی پائی۔جس سے اپنے تو اپنے غیروں نے بھی شفا حاصل کی،، جس کے جیسا کوئ دوسرا تو کیا انکا سایہ بھی تخلیق نا ہوا
رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں،
جس کی امت کو تمام امتوں کا سردار کہا گیا ہو کیا اس امت کو کسی اور پیر کامل کی ضرورت ہو سکتی ہے؟
پیر کامل صرف میرے نبی کی زات ہے نا ان سے پہلے نا انکے بعد کوئ ایسی ہستی ہو گی جسے محبوب خدا سے بڑھ کر کاملیت کا درجہ دیا جائے ۔
رسول اللہ کے ہوتے ہوئے کسی اور پیر کی تلاش کیوں؟ جب ہم نبی آخر الزماں کے امتی ہیں ختم الرسل کے بیعت شدہ ہیں تو پھر کسی اور کی بیعت کیا ضرورت؟
دین اسلام ہمیں توحید و اخوت کا درس دیتا ہے، جب تمام مسلمانوں کے لیے ایک اللہ، ایک آخری رسول ،ایک آخری کتاب ایک ہی سنت ہے تو پھر اس راستے کو چھوڑ کر فرقوں، گروہ بندیوں اور نت نئے راستوں کی تلاش کیوں؟
کیا ہمارے نبی کا کوئ فرقہ تھا؟ وہ تو رحمت اللعالمین ہیں،وہ ہر فرقے سے بالاتر ایک مسلمان تھے جو صراط مستقیم کے راہی تھے جنہوں نے ہر زی روح کو صرف ایک خدا اور دین اسلام کا پیغام دیا ،جو محسن انسانیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ یہ سیکھایا کہ خدا کی طرف جانے کا راستہ صرف ایک ہی ہے اگر سیدھے راستے پہ چلیں گے تو جنت اور اگر سیدھے راستے کو چھوڑ دیں گے تو جہنم
صراطِ مستقیم کا درس دیتے ہوئے میرے نبی نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فرمادیا ہے،کہ جس کام کا اللہ حکم دے وہ کرو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ ۔ آقائے دوجہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وسلم قرآن مجید کی عملی تفسیر ہیں جس میں کوئ ابہام نہیں ہے، کسی چیز کو کسی بات کو، کسی شریعت کو پردے میں نہیں رکھا گیا ہر چیز کو ہر مسلے کو کھول کر بیان کیا گیا ہے،
آپ کی زات مبارکہ وہ واحد زات ہے جسے ”دانائے سبل مولائے کل ختم الرسل” کے لقب سے نوازا گیا۔
ذات محمدی ﷺ ابر رحمت کی مانند ہے ہے جس نے عرب وعجم کے مردہ دلوں کو جلا بخشی ، ہم پہ تو احسان عظیم کیا گیا ہے کہ ہم پیدا ہی انکی امت میں کیئے گئے ہیں ،ہمارے لئیے تو راہ حیات پہلے سے مقرر فرما دی گئی ہے کہ
راہ ھدائت کی تلاش ہے تو قرآن سے مدد لیجیے درگاہوں سے نہیں،
دعا قبول نہیں ہوتی تو درباروں اور تعویزوں کا سہارا ڈھونڈنے کی بجائے اللہ سے تعلق مظبوط بنائیں، الفاظ نہیں مل رہے تو بھی بس ہاتھ پھیلا دیجیے وہ تو شہ رگ سے بھی قریب ہے وہ تو بن کہے بھی جان لیتا ہے اور اگر پھر بھی وہ آرزو پوری نہیں ہو رہی تو صبر کر لیجیے کہ اسی میں بہتری ہے
زندگی کی سمجھ نہیں آرہی تو اسوہ حسنہ سے مدد لیجیئے ۔
ولی اللہ، اولیائے اکرام، شہداء، صالحین، بزرگان دین، پیر، فقیر سب سے عقیدت رکھیں سب کا احترام بھی کریں لیکن مدد صرف اس زات سے مانگیں جو وجہ تخلیق کائنات ہیں۔ اطاعت و بندگی صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کریں، کیونکہ انہوں نے جو کچھ ہم تک ہم پہنچایا اس میں سے ایک لفظ بھی انکا خود کا شامل کردہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ احکامات ہیں ۔
نبی ختم المرسلین کی زات مبارکہ نا صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی باعث شفاعت و نجات ہے، آپ کی مدح سرائ میرے حقیر الفاظ کے بس میں نہیں قصہ مختصر آپ ﷺ کی سوانحہ حیاتی کا ہر لمحہ ہر پہلو نوح انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور سراج منیر ہے جس سے ہر دور میں ہر کوئ ہر شعبۂ زندگی سے متعلق فیض حاصل کر سکتا ہے ۔
تھکی ہے فکر رساں ، مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا، مدح باقی ہے
ورق تمام ہوا ، مدح باقی ہے
اورعمر تمام لکھا، مدح باقی ہے
@_Ujala_R
-

صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا دامن تھامنے والا کبھی شرمندہ نھیں ہوتا، یغورعطاری
گوجرانوالہ: دعوت اسلامی کے تحت نجی میرج ہال اعوان چوک میں اجتماع منعقد ھوا جس میں رکن شوری حاجی یعفور عطاری نے خطاب فرمایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسان کے اچھے اخلاق، نرم گفتار، اور ستھرے کردار کی وجہ سے معاشرے میں اس کی عزت ہوتی ہے۔آسامی معاشرے میں بہترین اخلاق اپنانے پر بہت زور دیا گیا ہے۔اگر انسانی رویے بہتر ہونگے تو معاشرے میں بہتری آئے گی۔نرم لہجے و انداز کے سبب عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا دامن تھامنے والا کبھی شرمندہ نھیں ہوتا۔گھریلو، سماجی اور معاشرتی مسائل کو اچھے اخلاق سے حل کیا جا سکتا ہے۔دوسروں کی عزت کرنے والا خود بھی عزت پاتا ہے۔ہر انسان عزت کا طلبگار ہے آپ جس کو عزت دینگے وہ آپکی عزت بھی کریگا۔اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ دوسروں کی عزت کرو، کمزوروں کی مدد کرو، جو قطعہ تعلقی کرے اس سے تعلق جوڑو، جو محروم کرے اسے عطا کرو، جو ظلم کرے اس معاف کر دو۔اس سے بہترین معاشرہ وجود میں آتاہے۔انسان کی سوچ تعمیری ہونی چاہیے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی بہت لازم ہے۔جو دوسروں کے لیے سکون و خوشی کا سبب بنتا ہے اللہ پاک اس سے راضی ہوتا ہے۔اس اجتماع میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے بلڈ کیمپ بھی لگایا گیا جس میں دعوت اسلامی کے کارکنان نے اپنا خون عطیہ کیا۔اس اجتماع میں مولانا یعقوب عطاری، مولانا خوشی مدنی ،جہانزیب عطاری اور فیصل عطاری نے بھی شرکت کی آخر میں ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔
-

آزاد کشمیر صمنی انتخابات، 2 حلقوں میں پولنگ جاری
آزاد کشمیر کے 2 حلقوں ایل اے 12 کوٹلی اور ایل اے 3 میر پور پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے-
باغی ٹی وی : پولنگ کسی وقفے کے بغیر شام 5 بجے تک جاری رہے گی رپورٹس کے مطابق آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 3 میر پور میں 148 پولنگ اسٹیشنز قائم کیئے گئے ہیں، یہ سیٹ پی ٹی آئی کے بیرسٹر سلطان محمود کے آزاد کشمیر کے صدر بننے سے خالی ہوئی تھی۔
ایل اے 3 کے 148 پولنگ اسٹیشنز کے لیے 147 پریزائڈنگ افسران اور 57 دیگر عملے کے افراد تعینات کیئے گئے ہیں حلقے میں کل ووٹرز کی تعداد 85 ہزار 917 ہے، یہ انتخابی حلقہ خان پور، کھاڑک، رٹھوعہ محمد علی، تھوتھال، سنگھوٹ، میونسپل کارپوریشن کے علاقوں اور نیو سٹی کے اے سے لے کر ایف تک سیکٹرز کے اعلاقوں پر مشتمل ہے۔
تحریک آزادی کشمیرکےسرگرم رہنما:سابق صدر،وزیراعظم آزادکشمیرسردارسکندرحیات قضائے…
حلقہ ایل اے 3 میں نمایاں امیدواروں میں مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد سعید، پی ٹی آئی کے یاسر سلطان چوہدری اور پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد اشرف شامل ہیں۔
دوسری جانب ایل اے12، کوٹلی 5 چڑھوئی میں 198 پولنگ اسٹیشنز قائم کیئے گئے ہیں، جن میں سے 101 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین اور 36 حساس قرار دیئے گئے ہیں حلقے کی حساس صورتِ حال کے باعث یہاں پاک فوج کے دستے کوئیک رسپانس فورس کے طور پر موجود ہوں گے۔
اس حلقے میں کل ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 6 ہزار 428 ہے، یہ حلقہ دولیا جٹاں، کالا ڈب، چڑھوئی شہر، دھمال اور لائن آف کنٹرول تک پھیلا ہوا ہے۔
ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری محمد یاسین 2 حلقوں ایل اے 10 اور 12 سے کامیاب ہوئے تھے جس کے بعد انہوں نے 1 نشست ایل اے 12 چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
ایل اے 12 کوٹلی میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر 14 امیدوار حصہ لے رہے ہیں یہاں پیپلز پارٹی کے عامر یاسین، پی ٹی آئی کے شوکت فرید ایڈووکیٹ اور راجہ ریاست خان کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
حالیہ عام انتخابات میں یہاں 2 افراد کے قتل کا افسوس ناک واقعہ بھی ہو چکا ہے جس کے الزام میں پی پی پی کے امیدوار جیل سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
-

سانحہ 8 اکتوبر 2005 قیامت صغریٰ تحریر۔ نعیم الزمان
8 اکتوبر 2005 کا دن ایک المناک دن تھا۔ تین رمضان المبارک بروز ہفتہ کی صبح 8 بج کر 52 منٹ پر آزاد کشمیر سمت پاکستان کے مختلف علاقوں پر ہولناک زلزلہ آیا ۔ جس نے چند ہی منٹ میں بہت سارے شہروں اور دیہات کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ یہ دن قیامت صغریٰ کا مناظر پیش کر رہا تھا۔ جس نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں تباہی مچائی ۔اس زلزلے کا مرکز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ کے قریب تھا۔جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کیا گیا۔
اس ہولناک زلزلے میں لاکھوں کی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔اربوں روپوں کا املاک کو نقصان پہنچا۔ لاکھوں کی تعداد میں بوڑھے، جوان ،بچے زخمی ہوئے۔اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ معذور ہوئے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔ ہر امیر اور غریب اس سانحے کا شکار ہوا۔ مال مویشی گھر سکول کالج ہسپتال تمام سرکاری دفاتر مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔کھانے اور پینے کو کچھ نہیں مل رہا تھا۔ کچھ لمحے کے لیے پانی خشک ہو گے تھے۔اگر کہیں تھوڑی مقدار میں پانی موجود بھی ہوتا تو اس کو نکالنے اور پینے کے لیے برتن موجود نہیں تھا۔ ختہ کے لوگوں نے جوتوں میں پانی پیئا۔ نفسا نفسی کا عالم تھا۔ ہر کوئی اپنے عزیزواقارب کی تلاش میں لگا ہوا تھا۔ کوئی اپنے عزیزوں کی میتں نکالنے میں مصروف تھا ۔ اور کوئی اپنی مدد اپنے تحت ہزاروں من ملبے تلے دھبے زخمیوں کو نکالنے میں مصروف تھے۔ والدین اپنے بچوں کو سکولز اور کالجز میں ڈھونڈ رہے تھے۔بچےکسی کو زخمی حالت میں ملتے اور کسی کو معذوری کی حالت میں اور کوئی بد قسمت والدین جو اپنے دل کے ٹکڑوں کی میت اٹھائے واپس آئے۔اور اتنا خوفناک منظر تھا کہ کسی کو دوبارہ زندگی کی بہتری کی کوئی امید نہیں تھی۔ کوئی پتہ نہیں تھا کب پھر خوفناک زلزلہ دوبارہ آئے اور سب کچھ ختم ہو جائے۔ زلزلے کے جٹکے وقفے وقفے سے جاری تھے۔ ہر طرف سے چیخو پکارا کی کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔ بچے بھوک سے نڈھال تھے زخمی درد کی شدت سے چیخ رہے تھے۔ کوئی امدادی کارروائیاں شروع نہیں ہوئی تھی۔ اوپر سے شام کے وقت انتہائی شدت سے بارش برسی۔ کسی کے پاس اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ مشکل سے میتوں اور زخمیوں کے اوپر کچھ پٹے پرانے کپڑے جو گھروں سے باہر پڑے ہوئے تھے وہ گھاس اور لکڑیاں وغیرہ رکھ کر ان کو بھیگنے سے بچایا ۔ مشکلات سے پہلی رات گزاری۔ سردی کی انتہا تھی کیونکہ کے کپڑوں کی قلت تھی کپڑے مکانون تلے دبے ہوئے تھے۔آگ جلانے کیلے لائیٹر ماچس تک نہیں تھے۔ دوسرے دن سے امدادی کارروائیاں شروع ہوئی۔ میتوں کی اجتماعی تدفین کی گئی۔زخمیوں کو امدادی سنٹر تک لایا گیا۔جو زیادہ زخمی تھے انہیں ہیلی کاپٹر تک پہنچایا گیا جو انہوں اسلام آباد اور مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر رہے تھے۔ دو سے تین دن تک ایک جیسی صورت حال کا سامنا رہا۔ اس کے بعد پاک فوج نے تقریباً ہر علاقے میں کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ متاثرین کو امداد فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ سڑکیں مکمل تباہ ہو چکی تھے اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین تک امدادی سامان پہنچنا شروع ہو ا۔ متاثرین میں کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گی۔متاثرین کے لیے اجتماعی کیمپ تیار کیے گئے۔ بعد ازاں بیرونی امداد پہنچنے پر ہر فیملی میں خیمے اور گرم کپڑے وغیرہ تقسیم کیے گئے۔ سردیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔آئے دن متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا تھے۔لیکن افواج پاکستان، عالمی اداروں نے جس میں سرفہرست ڈبلیو ایف پی، ریڈ کریسنٹ، اسلامک ریلیف، یو این ، یونیسیف اور بہت ساری مختلف ممالک کی امدادی تنظیموں نے قلیل وقت میں ہر طرح کی امدادی کارروائیاں جاری رکھی۔ متاثرین کو ممکنہ ریلیف فراہم کی۔ مشکل کی اس گھڑی میں دنیا کے تمام ممالک نے امدادی فراہم کی۔آہستہ آہستہ تعمیر نو کا آغاز کیا گیا۔پہلے مرحلے میں شیلٹر ہوم اور گھریلو سامان اور کپڑے فراہم کیے گئے۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کی جانب سے مکانات کیلئے نقد امدادی رقم فراہم کی گی۔ سکولز اور کالجز اور دیگر سرکاری عمارات کے لیے بھی شیلٹر ہوم فراہم کیے گئے۔ تقریباً چھے سات ماہ کے بعد حالات بہتری کی جانب گامزن ہوئے۔ بچوں نے دوبارہ سکولوں کا روخ کیا۔متاثرہ علاقوں کی از سر نو تعمیر کا آغاز ہوا۔جو بد قسمتی سے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ایرا اور بہت سارے سرکاری اداروں کے گپلے کی وجہ سے بہت ساری سرکاری عمارات ابھی تک تعمیر نہ ہو سکی۔ زندگی کو معمول پر آنے میں دو سے تین سال لگے۔زندگی ایک بار پھر مسکرائی۔ 8 اکتوبر 2005 کو آج بھی ہر سال یاد کیا جاتا ہے۔لوگ اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کرواتے ہیں۔ قرآن خوانی کرواتے ہیں۔ لوگ اپنے بچھڑے ہوؤں کو یاد کرتے ہیں۔ان کے زخم پھر سے ترو تازہ ہوتےہیں۔ میں آج بھی وہ لمحے یاد کرتا ہوں تو خوف زدہ ہو جاتا ہوں۔کیونکہ یہ سارے مناظراپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں۔ میں نے اور اس سانحے میں متاثرہ لوگوں نے قیامت سے پہلے ایک قیامت دیکھی ہے۔ اللہ پاک نے مجھے اس سانحے میں نئی زندگی بخشی ہے۔میں اس بےبرحم زلزلے کی وجہ سے اپنے گھر کے نیچے کہیں گھنٹوں تک دھبا رہا۔ خوش قسمت رہا کہ کسی بڑی انجری سے بھی اللہ پاک نے محفوظ رکھا۔ الحمدللہ ہم گھر والے سارے محفوظ رہے۔ مگر ہماری فیملی میں تقریباً 40 افراد جن میں چھوٹے بڑے مرد خواتین اور بچے شامل تھے ان کا جانی نقصان ہوا۔ وہ ہم سے جدا ہوئے ۔ ان کا خلا کبھی پورا نہیں ہو گاجو کبھی بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔
اللہ کے حضور دعاگو ہیں کہ شہدائے زلزلہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے
اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کی مغفرت فرمائے جو اس سانحے میں شہید ہوئے۔ اللہ پاک ہم سب کو ایسی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ ہم سب پر اپنا خصوصی فضل فرمائے۔ یقین جانیے وہ لمحے یاد کر کے دل آج بھی خون کے آنسوں روتا ہے۔ اللہ ہم سب کو اپن پناہ میں رکھے اور سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔
@786Rajanaeem
-

پاکستان، سیاستدان اور ہم تحریر: شمسہ بتول
ارضِ پاک کو وجود میں آۓ 74 سال کا عرصہ بیت چکا مگر ہم آج بھی ان ممالک سے ترقی کی رفتار میں بہت پیچھے ہیں جو ہمارے وطن عزیز کے بعد وجود میں آۓ۔ اس کی ذمہ دار صرف کوٸی ایک فرد یا سیاسی پارٹی نہیں بلکہ پوری قوم ہے۔ لاتعداد قربانیوں کے بعد جو وطن عزیز حاصل کیا گیا ہم آج تک ان کا حق ادا نہیں کر سکے ہمارے آباٶاجداد نے بے شمار قربانیاں دیں تاکہ ہم غلامی سے نجات حاصل کر کے ایک کھلی فضا میں سانس لیں سکیں ایک آزاد اسلامی ریاست تشکیل دی جاۓ تا کہ ہم اپنے مذہب کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں مگر افسوس کہ بظاہر تو ہم نے انگریز کی غلامی سے آزادی تو حاصل کر لی مگر آج بھی ہم ذہنی غلام ہیں خواہشات کے ضرورتوں کے غلام ہیں ہم خود غرض قوم ہیں جسے وطن عزیز کی سالمیت یا اسکی فلاح سے کوٸی واسطہ نہیں رہا بلکہ صرف اپنے مفاد اپنی انا کی پڑی ہے۔
پاکستان کے معرض وجود سے لے کر اب تک ہم میں سے کسی نے ایک دن بھی پاکستان کے بارے میں نہیں سوچا ہم نے اپنے آباٶاجداد کی قربانیوں کو علامہ اقبال اور قاٸداظم کے فرمان کو نظریہ پاکستان کو بھلا دیا ۔ آج ہم مساٸل کا رونا روتے ہیں مگر ان مساٸل کو پیدا کرنے والے اور انکی افزاٸش کرنے والے بھی ہم خود ہیں۔ ہمارے سامنے بحیثیت لیڈر محمد صلى الله عليه واله وسلم ، صحابہ کرامؓ اور تاریخ کے بڑے بڑے عظیم مسلمان حکمرانوں اور قاٸداعظم کی مثالیں موجود تھی مگر پھر بھی ہم نے ایک بار نہیں بلکہ بہت بار کرپٹ، بے ایمان حکمرانوں کو چنا۔ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں جتنی بار بھی ووٹ کاسٹ کیا صرف روٹی، کپڑے، مکان کے نا پہ کیا کبھی بھی پاکستان کے مستقبل یا اسکی فلاح کے لیے نہیں کیا۔ ہم نے یا تو جیالا بن کے یا ن لیگی بن کے یا کپتان کے ٹاٸیگرز بن کے ووٹ ڈالا ہم نے کبھی بھی بحیثیت پاکستانی بن کر ووٹ کاسٹ نہیں کیا کیونکہ ہم چند لوگوں کے ہاتھوں ذہنی غلام بن چکے ہیں ۔
ہم نے آج تک کبھی نظریہ پاکستان کی بات نہیں کی ہم نے کبھی بھی اس نظریہ کو مدنظر رکھ کر ووٹ کاسٹ نہیں کیا جو علامہ اقبال اور قاٸداعظم نے ہمیں دیا تھا اور جس پہ پاکستان بنا تھا یہی وجہ ہے ہم ابھی تک ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہم نے ذاتیات کی بنیاد پہ ووٹ ڈالا اور ڈاکو چوروں کو منتخب کر لیا ۔ غلطی تو ایک بار کی جاتی دوسری بار بھی وہی کرنا بے وقوفی کہلاتا یا جہالت
ہم اگر پاکستانی بن کر سوچتے اور پاکستان کی خاطر اس کے نظریے کی خاطر ووٹ کاسٹ کرتے تو شاید آج اس موڑ پہ نہ کھڑے ہوتے۔ پانامہ کیس ، شوگر ملز کیس، منی لانڈرنگ ، فارن فنڈنگ کیس غرض ان تمام نام نہاد سیاسی جماعتوں پہ کرپشن کیسیز اور بدعنوانیوں کے کیسیز چل رہے لیکن اس کے بعد بھی ہم ان کا احتساب کرنے کی بجاۓ کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کہاں جاتا رہا پوچھنے کی بجاۓ ہم پھر بھی انکے ساتھ کھڑے ہیں محض زات اور علاقے اور برادری کی وجہ سے کیا یہ سب وطن عزیز سے منافقت اور بے وفاٸی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا اس وطن کو لوٹنے والے قرض میں ڈبونے والے اور غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹ کر اپنی جاٸیدادیں بنانے والے کیا اس قابل ہیں کہ ہم انہیں اس وطن عزیز پہ مسلط کر دیں۔
سیاستدان باہر رہتے باہر جاٸیدادیں بناتے علاج کے لیے اور چھٹیاں منانے کے لیے باہر جاتے اور پھر آ کر کہتے کہ ہمیں منتخب کریں جس کا سب کچھ باہر ہو وہ پاکستان کے مساٸل کو کیسے سمجھ سکتا۔ ہمیں نچلے طبقے کو اوپر لانا ہو گا جو غریب عوام کے مساٸل کو سمجھ سکے۔ جیسے ایک مثال ہے کہ اے سی میں بیٹھا شخص کبھی بھی سورج تلے شدید گرمی میں کھڑے شخص کی تکلیف محسوس نہیں کر سکتا اسی طرح باہر رہنے والے یا اونچے اونچے محلوں میں بنگلوں میں رہنے والے حکمران کبھی بھی جھونپڑی میں رہنے والی عوام کے مساٸل نہیں سمجھ سکتے۔ ووٹ ایک قوم کے پاس اس کے وطن کی امانت ہوتی مگر ہم نے ہمیشہ اس وطن عزیز کی امنت میں خیانت کی کبھی اپنے روٹی کپڑے کے نام پہ تو کبھی فیورٹیزم کے نام پہ تو کبھی برادری کے نام پہ ووٹ ڈال کے۔ اب ہمیں خود میں شعور اجاگر کرنا ہو گا بحیثیت قوم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا ۔ پاکستان کی بقاء اور سالمیت کے لیے انہیں چننا ہو گا جو واقع ہی وطن عزیز کے ساتھ مخلص ہوں۔ ذات پات ، برادری ، فرقہ پسندی وغیرہ کی رسومات کو توڑ کر نظریہ پاکستان کی خاطر اپنے ووٹ کو ڈالنا ہو گا۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جاۓ اب ہمیں ایک دوسرے میں شعور اجاگر کرنا ہے اور ایک پاکستانی بن کر حقیقی معنوں میں فقط پاکستان کے بارے میں سوچنا ہے🌟
@sbwords7
-

نماز کی اہمیت تحریر مدثر خورشید
نماز اسلام کا اہم ترین رکن ہے، نماز کو دین کا ستون بھی کہا گیا، نماز مومن اور کافر کے درمیان فرق کرتی ہے، نماز کا قرآن میں سینکڑوں جگہ اور احادیث میں تو ہزاروں بار ذکر آیا ہے،
چند آیات اور احادیث پیش خدمت ہیں،
جو بے دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں ، اور نماز قائم کرتے ہیں ، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے ( اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں ) خرچ کرتے ہیں، بقرہ 3
نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو ، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو
بقرہ 43
اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو ۔ نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے ، مگر ان لوگوں کو نہیں جو خشوع ( یعنی دھیان اور عاجزی ) سے پڑھتے ہیں، بقرہ 45
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ، اور ( یاد رکھو کہ ) جو بھلائی کا عمل بھی تم خود اپنے فائدے کے لیے آگے بھیج دو گے اس کو اللہ کے پاس پاؤ گے ۔ بیشک جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے ۔ بقرہ 110
اور تم جہاں سے بھی ( سفر کے لیے ) نکلو ، اپنا منہ ( نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف کرو ۔ اور یقینا یہی بات حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہے ۔ ( ٩٨ ) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے ۔ بقرہ 149
اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو ۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بقرہ 153
یہ تو چند آیات تھیں اس کے علاوہ بے شمار آیات ہیں اب چند مشہور احادیث ملاحظہ فرمائیں،
آپ نے فرمایا کہ عصر کی نماز جلدی پڑھ لو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا نیک عمل ضائع ہو گیا۔ صحیح بخاری 553
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، آدمی اور شرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز چھوڑنا ہے ، مسلم 247
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ ارادہ ہے کہ میں جوانوں کو جلنے والی لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پیچھے چلا جاؤں اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ اسے نماز میں حاضر ہونے پر گوشت والی اچھی سی ہڈی یا دو کھر ملیں گے تو وہ ضرور آئے گا، اور اگر ان کو پتہ چل جائے کہ اس نماز میں کتنا اجر وثواب ہے تو یہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے،
مسند احمد 2468
تمام آیات اور احادیث کو لکھنا ناممکن ہے لیکن آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنی سخت وعید ہے نماز چھوڑنے پہ لہذا ہمیں کسی بھی حالت میں نماز نہیں چھوڑنی چاہیئے، یہ سب شیطان کا بہکاوے ہیں کہ کل سے شروع کروں گا لیکن کل کل کرتے سالوں بیت جاتے ہیں،
اگر ہم بستر سے اٹھ کر نماز کے لیئے مسجد نہیں جا سکتے تو ہم کیسے امید لگا سکتے ہیں کہ ہم مر کے سیدھے جنت میں جائیں گے؟ تمام بہن بھائیوں سے گزارش ہے کہ کل نہیں بلکہ آج اور ابھی سے نماز شروع کریں اور اس کا آسان حل مجھے یہ نظر آیا آپ بھی آزمائیں ان شاء اللہ آپ بھی نمازی بن جائیں گے میرا آزمودہ عمل ہے کہ جب بھی اذان کی آواز سنیں اسی وقت سب کام چھوڑ کر صرف وضو کر لیں، جب آپ کی یہ عادت بن جائے گی تو یقین کیجیئے نماز آسان ہو جائے گی لیکن کرنا یہ ہے کہ اذان سنتے ہی موبائل فون رکھ دیں سارے کام چھوڑ دیں اور وضو بنا لیں بس
کیپ ٹاؤن ساوتھ افریقہ
@Mudasir_SA