Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کنگ آف کامیڈین عمر شریف تحریر:عثمان

    کنگ آف کامیڈین عمر شریف تحریر:عثمان

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی۔۔۔ 

    ایک شخص سارے جہان کو ویران کر گیا۔۔۔

    اسٹیج کے بے تاج بادشاہ کامیڈی کنگ عمر شریف جرمنی میں انتقال کر گئے اور کروڑوں مداحوں کو افسردہ چھوڑ گئے .کامیڈی کنگ عمر شریف 19 اپریل 1955 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیدا ہوئے . انہوں نے اپنے کیرئر  کا آغاز 1974 میں 14 سال کی عمر میں اسٹیج اداکاری سے کیا 1980 میں پہلی بار انہوں نے آڈیو کیسٹ سے اپنے ڈرامے ریلیز کیے۔ عمر شریف کی اداکاری سے بے ساختہ قہقہوں کا طوفان سا آجاتا تھا۔ ٹی وی، اسٹیج ایکٹر، فلم ڈائریکٹر، کمپوزر ،شاعر، مصنف اور پروڈیوسر یہ تمام صلاحیتیں عمر شریف کی شخصیت کی پہچان تھی ۔ساتھی فنکاروں کا کہنا تھا کہ عمر شریف  اپنی ذات میں انجمن تھے جن سے تمام کامیڈینز نے سیکھا ہے۔اسٹیج اور تھیٹر کی تاریخ عمر شریف کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے ۔نامور فن کار نے اپنی اداکاری کے ذریعے نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ۔ یہ ستارا جو کروڑوں لوگوں کو ہنساتا تھا آج سب کو رُلا گیا چند روز قبل خبر آئی کہ پاکستان کے معروف کامیڈین عمر شریف کی طبیعت اچانک زیادہ خراب ہوگئی ہے ۔ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل تھیں جن میں انہیں  وہیل چیئر پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے ۔عمر شریف کے کروڑوں مداح اپنے پسندیدہ قومیڈین کی جلد صحت یابی کے لئے دعا گو تھے۔ عمر شریف نے زیادہ طبیعت خراب ہونے پر اپنے ارباب اختیار سے علاج کے لیے درخواست بھی کی تھی کیوں کہ ڈاکٹروں کے مطابق عمر شریف کا علاج امریکہ یا جرمنی میں ممکن تھا ۔تو شرم کی بات اس قوم کے لئے یہ ہے کہ ایک قومی ہیرو جس نے اس ملک پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا وہ کافی دنوں سے بیمار تھے تو یہ بات پورے پاکستان کو پتہ تھی کہ عمر شریف بیمار ہے بجائے اس کے کہ کوئی سماجی یا سیاسی شخصیت اس قومی ہیرو کی جیتے جی مدد کرتے اس قومی ہیرو کے شدید بیمار ہونے کا انتظار کرتے رہے۔۔۔۔ پھر عمر شریف جب زیادہ بیمار ہوئے تو مجبوراً عمر شریف نے خود ہی علاج کی لیے مدد کی اپیل کی اور فلم نگاروں نے بھی سوشل میڈیا پر عمر شریف کی علاج کے لیے مدد کی اپیل کی اور دعاگو بھی رہے ۔ تو کچھ دنوں بعد سندھ حکومت کو ہوش آیا اور عمر شریف کے علاج کا ذمہ اٹھایا پھر اس علاج کا کیا فائدہ جب بندہ  اتنا بیمار ہوجائے کہ اسے ہوش ہی نہ رہے۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ جو قسمت میں ہوتا ہے وہی ہوتا ہے لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ” کوشش قسمت کو بدل دیتی ہے ” تو سندھ حکومت نے عمر شریف کے علاج کے لئے 4 کروڑ روپے دینے کا اعلان کر دیا ساتھ ہی ‏ایئر ایمبولینس کا انتظام  کیا جس میں عمر شریف امریکہ کی طرف  روانہ ہوگئے پھر راستے میں عمر شریف کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو ایئرایمبولینس کو جرمنی اتارا گیا تو وہیں اسٹیج کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کامیڈی کنگ عمر شریف انتقال کر گئے اور کروڑوں مداحوں کو افسردہ چھوڑ گئے یہ خبر سنتے ہی کروڑوں مداح، فنکار، اداکار، سیاسی، سماجی رہنماؤں، ڈرامہ نگار، کامیڈین سمیت انڈین بالی ووڈ اسٹار امیتابھ بچن،شاہ رخ خان ، عامر خان، سلمان خان،کامیڈین کپل شرما،سدھوں پاجی نے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی ان اسٹاروں کا کہنا تھا کہ اب شاید ہی کوئی عمر شریف جیسا کامیڈی کنگ اس دنیا میں آئے ۔پہلے کمیڈین معین اختر پھر سکندر صنم اور اب عمر شریف اس دنیا سے کوچ کر گئے اور قومیڈی میں خلا چھوڈ گئے اب شاید ہی کوئی اس خلا کو پورا کریں ۔اور پھر  عمر شریف کو ان کی خواہش کے مطابق” عبداللہ شاہ ہجویری ” میں سپر د خاک کر دیا گیا ۔ہماری یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی عمر شریف کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے آمین ۔۔

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمیں ۔۔۔

    سو گئے ہم داستان کہتے کہتے ۔۔۔

    Twitter’ @Usmankbol

  • تعلیم یافتہ اور ڈگری یافتہ تحریر:شمسہ بتول

    ہم نے بہت بار یہ جملہ سنا کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے ۔ ایک پڑھا لکھا شخص اور ایک ان پڑھ شخص میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اس بات کو مکمل طور پہ آج تک سمجھ نہیں پاۓ۔ ہم نے اس بات کا الٹا مطلب لے لیا کہ جو ان پڑھ ہو گا وہ جاہل ہو گا اور جس کے پاس ڈگری ہو گی وہ عالم ہو گا مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہو ان پڑھ اور جاہل میں بھی فرق ہوتا ہے سب ان پڑھ جاہل نہیں ہوتے اور سب پڑھے لکھے عالم نہیں ہوتے ۔ 

    کیا وجہ ہے کہ اتنے ہاٸی سٹینڈرڈ کے سکول اور کالجز اور یونیورسیٹیز میں پڑھنے کہ باوجود بھی ہمارے بچوں اور نوجوان نسل میں اخلاقیات کی کمی ہے کیا ۔ کیا وجہ ہے کہ نوجوان نسل بڑوں کا ادب اور اپنی اقدار اور روایات کو بھلا رہی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ اتنی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی وہ دین سے دور ہیں اور اسلامی روایات کو بھلا بیٹھیں ہیں؟ جبکہ ہماے آباٶاجداد نہ تو بڑے اداروں سے پڑھے اور نہ ہی زیادہ تعلیم یافتہ تھے مشکل سے کوٸی میٹرک یا ایف اے پاس ہوتا تھا مگر با ادب اور اعلی اخلاقیات انکا شیوہ تھیں اور اسلامی روایات کو بہت خوبصورتی سے لے کر چلتے رہے کیونکہ اس وقت کا تعلیمی نظام رٹا سسٹم یا GPA کی دوڑ پہ مبنی نہیں تھا بلکہ علم کے حصول پہ مبنی تھا والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کرتے تھے ۔ مختصر کہا جاۓ اگر تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم نے

     ہم نے اعلی تعلیم یافتہ جاہل بھی دیکھے اور کم تعلیم یافتہ عالم بھی دیکھے ”

    علم کی تعریف یہ نہیں ہے کہ تمہارے پاس ڈگریاں ہوں بلکہ علم کا مطلب تو یہ ہے کہ تم صحیح اور غلط اور حق و باطل میں اور جاٸز و ناجاٸز میں فرق کر سکو۔

    ہمارے نوجوان نسل جو یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہو رہی ہے اگر ہم جاٸزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ان کے پاس اسناد تو ہیں مگر علم کی کمی ہے۔ ان میں اخلاقیات او تہذیب اور ادب و آداب کی کمی ہے کیونکہ ہمارا تعلیمی نظام اس قدر تباہ ہو چکا ہے کہ ہم نے بچوں کو مارکس اور رٹا سسٹم پہ لگا دیا ہم نے انہیں شعور نہیں دیا ہم نے انکی تربیت نہیں کی اخلاقیات نہیں سکھاٸی ۔

    اور جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل تباہی کی طرف جا رہی ۔ ڈگری تو صرف ایک رسید ہوتی کہ آپ نے تعلیم حاصل کی مگر آپ کے علم و قابلیت کا پتہ تو آپ کی اخلاقیات و اقدار سے پتہ چلتا

    جس کا ہمارے ہاں بہت زیادہ فقدان ہے اور اس کا ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہمارا تعلیمی نظام بھی ہے

    مثال کے طور پہ ہم نے اکثر یہ دیکھا ہو گا کہ کالجز یونیورسیٹیز کے سٹوڈنٹس اپنے ہی کالجز اور یونیورسیٹیز میں کچرا جہاں چاہا پھینک دیا کلاس روم میں کچرا پھیلا دیا کہ صفاٸی تو خاکروب کا کام ہے۔ تو ایسے تعلیم یافتہ او جاہل میں کیا فرق باقی رہ گیاہم تو یہاں پڑھنے آتے یہ کونسی تعلیم دی ہم نے انہیں  جو ان میں اتنا شعور بھی نہ پیدا کر سکی کہ وطنِ عزیز کا ہر ایک کونہ ہمارا گھر ہے اور بحیثیت پاکستانی ہم اس گھر کے فرد ہیں اور ہمیں اسکی تزٸین و آراٸش کا خیال رکھنا ہے تو ایسے تعلیم یافتہ ات جاہل میں کیا فرق باقی رہ گیا۔

    مختصر یہ کہ ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگ  کچرا پھینکتے اور پراٸمری یا مڈل پاس وہ کچرا اٹھاتا تو سوال یہ ہے کہ واقع ہی ہم اپنی درسگاہوں میں علم کی روشنی پھیلا رہے شعور اجاگر کر رہے یا صرف ڈگریاں بانٹ رہے؟

    ہمارے سیاستدان جو آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں لیکن انکے علم کا پتہ انکی الزام تراشیوں اور اخلاقیات سے چلتا۔ محض چند سیٹوں کے لیے ایک دوسرے کو گالیاں دینا یا کردار کشی کرنا تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی نہیں بلکہ جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ تعلیم  حاصل کرنے کے بعد بھی کرپشن رشوت بدعنوانی سفارش اور گالم گلوچ کا کلچر  یہ سب علم کی توہین کے زمرے میں آتا

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو ٹھیک کریں اور والدین اور اساتذہ مل کر ایک تربیت یافتہ نسل تیار کریں ۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہی مگر افسوس کہ ہم نے اسے GPA اور گریڈ تک محدود کر دیا اور اس میں اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے اساتذہ اور والدین بھی شامل ہیں ۔ ہر سال ہمارے ہاں اتنی وافر مقدار سے سٹوڈنٹس کالجز اور یونیورسیٹیز میں ٹاپ کر رہے مگر عملی زندگی میں کوٸی بھی اس ملکی ترقی کے لیے کچھ نہیں کر پا رہا کیونکہ ہم نے انہیں رٹا سسٹم سکھایا انہیں حقیقی معنوں میں تعلیم و شعور  نہیں دیا ۔ یونیورسیٹیز کو GPA کی فیکٹریاں بنانے کی بجاۓ اصل معنوں میں علم و شعور کی درسگاہیں بناٸیں تا کہ مستقبل میں ہماری نوجوان نسل اس قوم کی ترقی کا باعث بنے نہ کہ شرمندگی کا۔

    "خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے”

    اس لیے رٹا سسٹم کی بجاۓ بچوں کو عملی طور پر تعلیم سے روشناس کراٸیں کیونکہ ڈگری صرف یہ بتاۓ گی کہ آپ نے یہ پڑھا ہے مگر آپکا عمل اور کردار اور آپکی اخلاقیات بتاٸیں گی کہ آپ واقع ہی اہل علم ہیں۔

    @sbwords7

  • کراچی کے ذائقے تحریر: فہد احمد خان

    کراچی کے ذائقے تحریر: فہد احمد خان

    ویسے تو پاکستان کے دیگر شہروں کے کھانے بھی بہت مشہور ہیں جیسے لاہور کے مرغ چھولوں اور بلوچستان کی سجی کی تو کیا ہی بات ہے، لیکن بات کی جائے کراچی کے کھانوں کی تو کراچی سا ذائقہ پورے پاکستان میں کہیں ڈھونڈتے نہیں ملتا۔ اس بات سے وہ لوگ بخوبی واقف ہوں گے جو کراچی میں رہائش پذیر ہوں اور کسی بھی سلسلے میں پاکستان کے دوسرے شہروں میں سفر کیا ہو، ایسے افراد بھی واقف ہوسکتے ہیں جنھوں نے مختلف شہروں کا سفر کیا ہو اور ہر جگہ کے ذائقوں سے واقف ہوں۔ کراچی کے ذائقے کا مدمقابل کوئی نہیں اس بات کا اعتراف غیر ملکی بھی کرتے ہیں۔

    اگر لزیز اور چٹخاروں کے شوقین کراچی آجائیں تو یہ شہر انہیں کسی صورت مایوس نہیں کرے گا … کراچی کی مشہور فوڈ اسٹریٹس ہر قسم کے ذائقے کا ذخیرہ رکھتی ہیں جن میں برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ، بوٹ بیسن فوڈ اسٹریٹ، حیسن آباد فوڈ اسٹریٹ، سندھی مسلم فوڈ اسٹریٹ، نارتھ ناظم آباد فوڈ اسٹریٹ، ساحلے سمندر ایک حسین اور تازی ہوا کے ساتھ دو دریا فوڈ اسٹریٹ بھی موجود ہے۔

    انہیں میں سے ایک برنس روڈ ہے جو کہ تاریخی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ ذائقوں کا مرکز بھی بنتا جارہا ہے، پہلی ہی دہلی ربڑی, فریسکو بیکری اور آزاد بن کباب کے لئے مشہور تھا مگر اب تو شنواری سے لے کر کراچی حلیم اور وحید کباب تک سارے ہی ذائقہ ایک سڑک پر مل جاتے ہیں،

     دن بھر کی مصروف ترین اس سڑک پر رات کا اندھیرا پھیلنے کے بعد اس سڑک کے دونوں اطراف کو ٹریفک کے لئے بند کردیا جاتا ہے مغرب کے بعد ماحول ہی تبدیل ہوجاتا ہے پورا دن جہاں ٹریفک کا شور، دھواں، ہارن کی آواز یہ سب پُر سکون ماحول میں تبدیل ہوجاتی ہیں پوری فضا ہی آپ کا مصالحہ دار خوشبووں کے ساتھ استقبال کرتی نظر آئے گی …

    نہ صرف برنس روڈ بلکہ کراچی کے بیشتر علاقوں میں مشہور فوڈ اسٹریٹس قائم ہیں، جن کی شہرت نہ صرف پورے پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پائی جاتی ہے۔ جن میں برنس روڈ کے علاوہ بوٹ بیسن، سندھی مسلم سوسائٹی، محمد علی سوسائٹی، حسین آباد اور زمزمہ شامل ہیں۔

    بوٹ بیسن کی فوڈ اسٹریٹ بھی کراچی کی پرانی فوڈ اسٹریٹ میں شامل ہیں، یہاں ہر طرح کے میسر ہیں، دیسی کے ساتھ ساتھ یہاں ولایتی کھانوں کی ورائٹی بھی پائی جاتی ہے۔

    کراچی کے پوش علاقے پر واقع سندھی مسلم سوسائٹی کی فوڈ اسٹریٹ بھی اپنی مثال آپ ہے، یہاں صرف بڑے ریسٹورانٹ ہی واقعی نہیں بلکہ کھانے کے ساتھ ساتھ لسی، جوس، کافی، اور چٹخاروں جیسی ورائٹی بھی ملتی ہے۔

    اگر کراچی کے علاقے عائشہ منزل پر واقع حسین آباد فوڈ اسٹریٹ کی بات کریں تو اس کی ایک الگ ہی بات ہے، یہاں صبح کے چار بجے بھی رات دس بجے جیسا سماع ہوتا ہے۔ یہاں ہر طرح کے کھانے ملتے ہیں لیکن یہاں کی سب سے مشہور ڈش کٹاکٹ ہے، یہاں ایک گلی گولہ گنڈا اور سوپ کی دوکانوں کی بھرمار کی وجہ سے گولہ گنڈا اور سوپ گلی کے نام سے مشہور ہے۔

    زمزمہ فوڈ اسٹریٹ کے تو کیا ہی کہنے ہیں، صبح کا ناشتہ ہو یا رات کے کسی بھی پہر لگی بے وقت بھوک، نفاست پسندوں کے لیے کراچی میں زمزمہ فوڈ اسٹریٹ سب سے بہتر انتخاب ہے، یہاں جیب ہلکی کردینے والی لیکن بہترین کھانوں کے ہے طرح کے ریسٹورانٹ موجود ہیں۔

    کراچی کے ذائقے شہر قائد کے سوا کہیں اور ملنے مشکل ہی نہیں ناممکن ہی ہوتے سوائے ایک صورت میں جب کہ پکانے والا کراچی کا ہو … 

    کراچی آنے والا کوئی شخص ان ذائقوں سے لطف اندوز ہوئے بغیر چلا گیا تو اس نے کراچی کو دیکھا تو ضرور مگر حق ادا نا کرسکا ….

    ٹیوئٹر: @fahadpremier

  • نوجوان نسل اور سمارٹ فونز ۔     تحریر اویس چغتائی

    نوجوان نسل اور سمارٹ فونز ۔     تحریر اویس چغتائی

    ہماری نوجوان نسل  بہت سارے مسائل کا شکار ہے ، جسکی بہت ساری وجوہات بھی ہیں__ آج کے دور میں ہر طرف افراتفری، انتشار ، فتنہ فساد ، فرقہ واریت ، بے راہ روی، بے حسی ،درندگی ، بے حیائ پھیل رہی ہے، اور نت نئی ساری نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جس بہت بڑی وجہ موبائل فونز کا بے جا استعمال ہے ، 

    موبائل فونز یا سمارٹ فونز  نے بہت زیادہ فوائد بھی دئیے ہیں__، آج سیکنڈز میں انفارمیشنز شیئر کی جاتی ہیں  ،اس نے  ایک ملک سے دوسرے ملک تک کا فاصلہ ختم کر دیا ہے، آج گھر بیٹھے بیٹھے آپ دوسرے ملک میں موجود اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے رابطے میں رہتے ہیں ، ہر خبر سے باخبر رہتے ہیں_ گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر آنلائن جابز کی جاتی ہیں،_ تعلیم کے حصول کے لیے ہر طرح کی سہولت اب چھوٹے سے سمارٹ فون میں موجود ہے ، جس نے بہت سارے کام آسان کر دے ہیں ، اب ہر طرح کا  کام گھر بیٹھے موبائل فون پر کیا جاتا ہے،  نیز اس نے ہر طرح کے فوائد فراہم کیے ہیں ، لیکن اسکے غلط استعمال نے بہت سے مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں جو کے۔ ہماری نئی نسل کو تباہی اور بربادی کا سبب بن رہے ہیں __ 

      موبائل فون اور بے حد سوشل میڈیا ایپس نے نوجوان نسل کو اپنی زنجیروں میں جکڑ کر رکھ دیا ہے، 

    جہاں نوجوانوں کے ہاتھ میں قلم اور کتاب ہوا کرتی تھی، وہاں آج بچے بچے کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتے ہیں ،پہلے جہاں بچے  دوستوں کے ساتھ اچھی گفتگو کرتے ہوئے گھر جیا کرتے تھے ، آج کانوں میں ہینڈ فری ڈال کر گانے سنتے بجاتے  گھر جاتے ہیں،   

    پہلے وقتوں میں لوگ ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے تھے ، گھر گھر لگتا تھا، جہاں عزت احترام ، مروت ، اصول و ضوابط  ہوا کرتے تھے ،سب اک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے تھے ، احساس رکھتے تھے ، 

    لیکن آج کے دور میں موبائل فونز نے جہان ایک ملک سے دوسرے ملک تک کا فاصلہ مٹا دیا ہے ،وہی ایک ہی گھر کے اندر موجود لوگوں کو ایک دوسرے سے میلوں دور کر دیا ہے ، گھر میں موجود ہر شخص ہر وقت اپنے میں فون میں مصروف رہتا ہے، کسی کو کسی کی خبر نہیں ہوتی ، ۔۔ دن رات موبائل فون کے ایسے  عادی بن گئے ہیں کہ چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے ، کھانا کھاتے وقت بھی موبائل فون ہاتھ میں لئے رکتھے ہیں،۔۔۔ رات گئے سحر ہونے تک فون استعمال کرتے ہیں، اور دن سارا سوئے رہتے ہیں، یعنی آوے کا آوا ہی بگڑ کر رہ گیا ہے ۔۔۔

    موبائل فون کو انسان کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا لیکن ہم نے اسکا بے جا اور غلط استعمال انسان کا اپنا کیا دھرا ہے ، یہ انسان کے اپنے ہاتھ میں کی وہ اسکو کس طرح استعمال کرتا ہے__ لیکن جیسے جیسے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جاتی ہے ، نئی ایپس ، سوشل میڈیا ایپس کی بھرمار ہو رہی ہے ، جو انسانوں کو مزید اپنے اندر جھکڑںے میں کامیاب ہو رہی  ہیں،۔۔ 

    سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے جہاں لوگ آنلائن کئی لوگوں کے ساتھ  مصروف رہتے ہیں وہیں پاس بیٹھے افراد انکو نظر بھی نہیں آتے __، انسان اتنا کھو گیا ہے موبائل اور سوشل میڈیا پر کے اسکے سامنے ہونے والے کئی واقعات بھی اسے سوشل میڈیا جے ذریعے ہی پتا لگتے ہیں ، یا پھر وہ خود ان واقعات کی روک تھام کے بجائے ویاں تماشائی بن کر بس سوشل میڈیا پر ڈال کر وائرل ہونے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں، انکو یہ اندازا بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس قسم کے جرائم اور بے حیائی کے واقعات کو فرغ دے رہے ہوتے ہیں ، 

    سوشل میڈیا یا کوئی بھی موبائل ایپ اس وقت سب سے زیادہ بے حیائی کے کام کو فرغ دے رہی ہیں، مثلاً فیس بک ؛ فیس بک پر جہاں اسلامی اچھی اخلاقی پوسٹس ویڈیوز شئیر کی جاتی ہیں لیکن اس سے کئی زیادہ فحاش ، کونٹنٹ شئیر کیا جاتا ہے ، جس سے نوجوان میں بے حیائی اور برائی جنم لیتی ہے،۔۔۔ ایسی بے حیائی یا غیر اخلاقی چیزیں دیکھ دیکھ کر ہم اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اب ہمیں وہ برائی نہیں لگتی ،_ نت نئے ٹرینڈز چلتے ہیں ، فیس بک ، ٹوئیٹر ، انسٹاگرام، یوٹیوب ہر جگہ بس وائرل ہونے کے لیے ہو غلط غیر اخلاقی مواد شیئر کیا جاتا ہے،۔۔ جن کو اب غلط بھی نہیں سمجھا جاتا، افسوس کے ساتھ ہم سب اسکا حصہ بنتے جارہے ہیں۔۔۔

    ہمیں موبائل فون اور سوشل میڈیا نے اتنا جکڑ لیا ہے کی اس سے باہر آنا اب ناممکن ہو گیا ہے،۔۔ یہ سب اب آکسیجن کی طرح ضروری بن گیا ہے، اور کا سب سے زیادہ شکار ہماری نوجوان نسل ہو رہی ہے۔۔ وہ نوجواننوجوان ملک سمبھالنا تھا ، سائنس دان ، دانشور ، فلاسفرز بننا تھا ، وہ صرف و صرف تباہی و بربادی کی طرف جا رہے ہیں، اپنی روایات ، اقدار، کلچر کو فروغ دینے کے بجائے مغربی کلچر کو پرموٹ کیا جاتا ہے ، 

    موبائل فون اور سوشل میڈیا  نے جہان نوجوانوں کو وقت برباد کرنے اور اپنوں سے دور کرنے ، بے حیائی اور غلاظت میں ڈبونے میں کو کسر نہیں چھوڑی وہیں، بہت ساری بیماریوں سے دوچار کر دیا ہے، _ ڈیپریشن، سٹرس ، جسم اور پٹھوں کی کمزوری ، دلوں کی بیماریوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ،  لوگ نے فیزیکل ایکسرسائز ، چلنا پھرنا بند کر دیا ہے ،  یہاں تک کے شاپنگ تک آنلائن شروع کر دی گئی ہے ،۔ خواتین گھر بیٹھے آنلائن کھانا آرڈر کرتی ہیں۔۔ جس نے ہر انسان ، مرد عورتوں کو نکارا کر دیا ہے۔۔۔_  خود کشی کی شرح   بھی خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے ، 

    میں موبائل فون کے استعمال کی خلاف ہر گز نہیں ہوں ، لیکن موجودہ صورت حال بہت خطرناک حد تک بڑھ چکی  ،۔۔ الغرض یہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے، موبائل فون کی ایجاد یا نئی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا  ہر گز غلط نہیں ہے ، اسکے فوائد نہایت قابلِ قدر ہیں ، لیکن اسکا غلط استعمال اور اسکے نقصانات انتہائی بربادی کی طرف لے جا رہے ہیں، خاص کر مسلمان معاشرہ بہت متاثر ہو رہا ہے، سب سے پہلے والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو بالغ ہونے تک موبائل فون سے دور رکھیں ،اور انکی تعلیم پر خاص توجہ دیں ، اور انکی اسلام کے مطابق تربیت کریں ، اور ہم نوجوان پر لازم ہے کہ برائی سے بچیں، بے حیائی کی روک تھام کریں،۔۔۔ اور معاشرے کو غیر اخلاقی ، چیزوں سے محفوظ رکھیں  ، اور اسلامی تعلیمات پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کر تلقین کریں ، ۔۔۔ کیونکہ یہ آپکے اپنے ہاتھ میں ہے آپ اسکا استعمال کیسے کرتے ہیں ، ۔۔۔۔آپ سارا الزام سوشل میڈیا اور موبائل فون پر نہیں ڈال سکتے ،۔۔ یہ آپکے اختیار میں اپ سکا استعمال کیسے کرتے ہیں ، اور حکومت کا بھی فرض ہے وہ غیر اخلاقی و قانونی مود پو پابندی لگائیں ،۔۔

     معاشرے کا اعلیٰ  اخلاق کو برقرار رکھنے کے لیے ہر شخص کو کردار ادا کرنا ہوگا__ 

  • سیر وسیاحت تحریر:سعد اکرم

    سیر وسیاحت تحریر:سعد اکرم

     

    دنیا بھر میں سیاحت کا شعبہ سیر وتفریح ہی نہیں بلکہ اب موجودہ دور میں معیشت کا ایک پہیہ بن چکا ہے  اور دنیا بھر میں ہر سال 27 ستمبر کو یوم سیاحت منایا جاتا ہے سیاحت کی وجہ سے ایک ملک کے شہریوں کو دوسرے ملک دیکھنے کا شوق اور موقع ملتا ہے   سیاحت کے شعبہ میں سب سے پہلے سوئٹزرلینڈ  آسٹریا مریکہ کی کچھ ریاستیں جرمنی فرانس برطانیہ جہاں پر سیر وتفریح کے مقامات کے علاوہ سیر وتفریح کی سہولیات دی جاتی ہیں جس سے زرمبادلہ کا تبادلہ مختلف ملکوں کے درمیان جڑا رہتا ہے پاکستان میں 80 کی دہائی کے بعد پاکستان کے شمالی علاقہ جات خیبر پختون خواہ کے علاقے سوات مالم جبہ چترال شانگلہ کوہستان گلیات کاغان ناران  شوگران اور گلگت بلتستان کے خوبصورت مقامات غیر ملکی سیاحوں کی دریافت ہیں پنجاب میں بھوربن مری کیھوڑہ بہاولپور ڈیرہ غازی خان کے مقامات بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں

    سیاحت ایک شوق ہی نہیں بلکہ کل وقتی صنعت ہے اس سے وابستہ افراد ہوٹل ٹرانسپورٹ ٹریولنگ ایجنسی اور خوراک کی سہولیات دیتے ہیں لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے دوسرے ممالک کی طرح اب پاکستان میں بھی سیاحت ایک ادارہ بن کر فروغ پا رہی ہے جس میں حکومتی اور سماجی شراکت دار نہ خود مستفید ہوتے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے کاروبار میں معاون کا کردار بھی ادا کرتے ہیں سیاحت انڈسٹری کی شکل اختیار کرنے کے بعد جہاں پر لاکھوں لوگ نہ صرف روزگار حاصل کرتے ہیں وہاں پر کروڑوں افراد سیر وسیاحت کرتے ہیں خن کیلئے ان سیاحتی مقامات پر  

    سرکاری یہ غیر سرکاری طور پر رہائش کھانا یہ ٹرانسپورٹ کے نرخنامے مقرر نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے ان سیاحوں سے سیاحتی انڈسٹری کا درجہ رکھنے والے افراد دگنا ریٹ وصول کرتے ہیں جس میں سیاحت کو کمی کا خطرہ ہے اس طرح سیاحتی ایریا جہاں پر خوبصورت مقامات موجود ہیں وہاں پر پختہ سڑکیں نہیں بنی ہوئی جس کی وجہ سے سیاحوں کو وہاں پہنچنا دشوار ہوتا ہے ایک طرف سیاحوں کو وہ مقامات دیکھنے کا موقع نہیں ملتا دوسری طرف ان ہی مقامات پر کھانے پینے یہ دیگر سہولیات کی فراہمی کے انتظامات نہ ہونے سے مقامی افراد بے روزگاری کا شکار ہیں اگر سیاحت کا دعوٰی سچ ثابت کرنا ہے تو حکومتوں کو ان مقامات کیلئے سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی طرف شعور اور آگاہی اجاگر کرنا اور ٹیکس کی شرائط ختم کرنا ہوں گی کاغان ویلی میں اب بھی پہاڑوں پہ کئ ایسی جھیلیں موجود ہیں جہاں پہ سیاح یہ مقامی افراد نہیں جا سکتے ہیں اس ویلی کی سب سے خوبصورت جھیل دودی پت سر پہ جانے کیلئے آپ کو دو دن پیدل ٹریک پر سفر کرنا پڑتا ہے بابو سر ٹاپ کے پاس دو خوبصورت جھیلیں موجود ہیں  دھرم سر جھیل اور سمبک سر جھیل جن پر سیاح اپنی فیملیز کے ساتھ نہیں جا سکتے وہاں پر کئ بار سیاحوں کے ساتھ لوٹ مار کے واقعات رونما ہوئے ہیں یہ علاقہ سال میں صرف پانچ مہینے کھلا رہتا ہے باقی برفباری کی وجہ سے سارا سال بند رہتا ہے اور یہی شاہراہ گلگت تک جاتی ہے صوبائی حکومت کو چاہیئے اس راستے پر پولیس چوکیاں قائم  کی جائیں تا کے سیاح اور مقامی افراد بھی بغیر کسی خوف خطرے  دن رات سفر کر سکیں یہ مقامی لوگوں کیلئے بہت فائدے مند ثابت ہو گا کیونکہ مقامی آبادی ٹورازم سے وابستہ ہے اور اس سے مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے گزشتہ دنوں جب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ناران تشریف لائے تھے تو انھوں نے بھی ٹورازم کو پروموٹ کرنے کی بات کی تھی جو کچھ حد تک درست ثابت ہوئ جن میں کاغان ویلی سے اب جنگلات کا کٹاو ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے بے دریغ جنگل سے لکڑی کاٹ کے سمگل کی جاتی تھی ٹراوٹ فش جو دریائے کنہار کی ایک نایاب سوغات ہے اور بلکل ختم ہونے کے قریب تھی  اس کے شکار پر بھی پابندی لگائ گئ اور شکار کرنے والوں کو  جرمانے اور سزائیں دی گی پاکستان میں دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑ اور ان پہاڑوں پہ چار موسم اور خوبصورت جنگلات لہلہاتے کھیت اور درجنوں آبشار کھلے میدان اور پرانے قلعے سیاحت کے حب ہیں ضرورت اس امر کی ہے ان سیاحتی مقامات تک رسائی قمیتوں میں کمی اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے

    @SaadAkram_9           twiter handle

  • ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا مستقبل اور ماضی میں جانا تحریر اصغر علی                                    

    ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا مستقبل اور ماضی میں جانا تحریر اصغر علی                                    

                   

    ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا آج کی دنیا  میں جب سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے ممکن ہے یا نہیں اسی موضوع پر آج کا کالم ہے
    انسان کی خواہشات لامحدود ہیں سائنس میں آج اتنی ترقی کرنے کے بعد انسان وہ سب کچھ کرنے کی خواہش رکھتا ہے جو آج سے سو سال پہلے کا انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن آج بھی سائنس کی بے انتہا ترقی کے باوجود بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس میں انسان بے بس نظر آتا ہے اور بہت سے ایسے سوالات انسان کے سامنے آتے ہیں کہ جن کے جوابات ابھی تک اسے نہیں مل پائے انہی سوالوں میں سے ایک سوال ٹائم ٹریولرز یا وقت میں سفر کرنا ہے جس کا مطلب آپ اپنے مستقبل سے ماضی میں یا ماضی سے مستقبل میں جا سکیں یہ سب جانتے ہیں کہ گیا وقت کبھی ہاتھ میں واپس نہیں آتا ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا آخر ہے کیا اس کی اسان مثال لی جائے ہم سب وقت میں آگے کی طرف سفر کر رہے ہیں اور ہر سال ہماری سالگرہ منائی جاتی ہے اور ہماری زندگی میں ایک سال مزید شامل ہو جاتا ہے لیکن ہم سب کی کی رفتار ایک جیسی ہوتی ہے ہم ایک سیکنڈ میں ایک سیکنڈ ہی گزارتے ہیں کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم وقت میں تیزی سے سفر کرتے ہوئے آگے نکل جائیں یا وقت سے پیچھے رہ جائیں اس پر کافی سائنسدانوں نے اپنی تھیوریز پیش کی  ہیں کچھ کا خیال ہے یہ ممکن ہے اور کچھ کا خیال ہے یہ محض ایک کہانی ہے ٹائم ٹریول کے بارے میں سب سے مشہور تھیوری آئن سٹائن کی تھیوری کو سمجھا جاتا ہے دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتار روشنی کی ہوتی ہے اور کوئی بھی روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کر سکتا ایک اور مثال میں اگر اس کو سمجھیں تو وہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر ہم ایک ٹرین کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمیں سامنے والا انسان جو ہمارے سامنے بیٹھا ہے وہ اور جتنے بھی لوگ اس ڈبے میں یا اس کیبن میں بیٹھے ہوئے ہیں ہمیں وہ ساکن نظر آئیں گے کیونکہ وہ ہمارے لئے ساکن ہے اس کے برعکس اگر کوئی باہر سے ٹرین کو دیکھتا ہے تو اس کو وہ سب انسان حرکت کرتے ہوئے نظر آئیں گے جو ٹرین میں بیٹھے ہوئے ہیں اس لیے ہر انسان کا وقت اس کے اپنے حساب سے گزرتا ہے ہے ایک تو یہ تھیوری ہے آئن سٹائن کی اور اس کا ایک اور پہلو کچھ اس طرح ہے  فرض کریں کوئی بھی شخص ایک سپیس شپ میں روشنی کی رفتار سے سفر کر رہا ہے ہے تو کچھ سالوں بعد تھیوری آف ریلیٹیویٹی یا آئنسٹائن کے مطابق وہ اپنے ہم  عمر جڑواں بھائی جو زمین پر ہے اس سے چھوٹا رہ جائے گا کیوں کہ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کی وجہ سے اس کا وقت آہستہ گزر رہا ہے اس کو ٹائم ڈائیلیشن کہتے ہیں یا آپ کو ایک بات اور بتاتے چلیں کہ مشہور سائنسدان آئنسٹائن کے مطابق وقت چو تھی ڈائمنشن ہیں جبکہ باقی تین ڈائمینشن میں لمبائی چوڑائی اور اونچائی شامل ہیں یہ تینوں ٹائم نشنز ہمیں لوکیشن بتاتی ہے اور چوتھی ڈائمنشن ہمیں ڈائریکشن بتاتی ہے اور یہ صرف آگے کی طرف جاتی ہے یعنی وقت ہمیشہ آگے کی طرف سفر کرتا ہے کبھی واپس پیچھے کی طرف نہیں آتا وقت میں سفر کرنے کا ایک طریقہ وارم ہول یعنی ہم ایک ایک ہول سے داخل ہوں اور اس کا دوسرا سرا آج سے سو سال سال پیچھے یا سو سال آگے ہوگا لیکن یہ سب چیزیں میں اور اور فلموں میں دکھائی جاتی ہے کیونکہ حقیقت میں اس طرح کے ہول نہ آج تک دریافت ہوئے ہیں اور نہ ہی کسی کو ان کے بارے میں کچھ پتہ ہے تو ٹائم ٹریولنگ کے بارے میں جتنی بھی باتیں ہیں وہ محض کہانیاں اور افسانے ہیں ہیں کسی بھی سائنسدان نے آج تک کیا کسی بھی انسان نے آج تک وقت پر سفر نہیں کیا یعنی ٹائم ٹریول نہیں کیا اور یہاں پر ٹائم ٹریول کے بارے میں کافی سارے لوگوں نے کافی اعتراضات بھی کئے ہیں جن میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی انسان ٹائم ٹریول کرکے اپنے ماضی میں جاتا ہے تو کیا وہ اپنی ماضی میں کی ہوئی غلطیوں کو سدھار سکتا ہے  یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماضی میں جائیں اور اپنے دادا یا پر دادا کو قتل کردے اب دادا یا پر دادا ہی نہیں رہے تو اس شخص کا پیدا ہونا کیسے ممکن ہے ٹائم ٹریول کے بارے میں بہت سارے لوگوں نے اپنے بہت ساری جھوٹی کہانیاں انٹرنیٹ پر ڈالی ہوئی ہیں جس میں  ایک کہانی ہے کہ ایک انسان نے سن دو ہزار سے سن دوہزار 36 میں گیا اور  واپس آیا کچھ دنوں تک وہ لوگوں کے میسجز اور پیغامات کا جواب دیتا رہا اور بعد میں وہ غائب ہو گیا غرض ٹائم ٹریول کے بارے میں آج تک جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں ان میں آج تک کوئی بھی اتھنٹک نہیں ہے لوگ ٹائم ٹریولنگ کے بارے میں سب سے زیادہ اتھنٹک تھیوری آئن سٹائن کی تھیوری کو ہی سمجھتے ہیں            

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @ali_ajkpti

  • خودی کی تلاش تحریر : اسامہ جہانزیب خان

    خودی کی تلاش تحریر : اسامہ جہانزیب خان

    انسان پیدا ہوتا ہے اور اس کی دنیا کے معاملات شروع ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے دنیا کے معاملات میں اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ اپنے آپ کو تلاش کرنا ہی بھول جاتا ہے وہ بھول جاتا ہے کہ وہ بھی ایک انسان ہے وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی بھی اپنی کچھ خوشیاں ہیں وہ بھول جاتا ہے کہ اس کو خود کو تلاش کرنا ہے تاکہ اس کی مشکلات کم ہو سکی اگر انسان خود کو تلاش کرلے تو بہت سی مشکلات ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ جب انسان خود کو تلاش کر لیتا ہے تو اس وقت وہ پھر اپنی خامیوں پر کام کرتا ہے تاکہ کسی دوسرے انسان کے سامنے اس کو شرمندہ نہ ہونا پڑے لیکن بہت سے ایسے لوگ ہیں جو خودی پر کام نہیں کرتے جیسے اقبال کا شعر ہے نا خودی کو کر بلند اتنا کہ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے اس میں علامہ اقبال صاحب فرمانا چاہ رہے ہیں کہ اے  بندیاں سب سے پہلے تو خود کو تلاش کر تجھے دنیا میں لائے اس لئے گیا تجھے دنیا میں لے کے آنے کا مقصد کیا تھا یہ اللہ تعالی نے کس لئے پیدا کیا جب تو یہ مقصد سمجھ جائے گا تو پھر اپنی خامیوں پر کام کر تاکہ تو ایک قابل انسان بن سکے جب تو اپنی خامیوں پر کام کرنے اور اپنی خودی کو پہچان جائے تو تب خدا بھی تم سے پوچھے گا کہ بتا تیری رضا کیا ہے لیکن اس سے پہلے جو اہم بات ہے وہ خود ہی ہے یہ خود ہی وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بنائے رکھتی ہے انسان کے اندر انسانیت پیدا رکھتی ہے اور انسان کو دوسروں کے ساتھ میل جول رہن سہن کے طریقے بتاتی ہے کیونکہ جب انسان خود کو پہچان جاتا ہے اور اپنی خامیوں پر کام کر لیتا ہے تو سب لوگوں کے لیے بھی اہم ہو جاتا ہے اور اس کا کردار بہت اعلی ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا اخلاق ہی اتنا اچھا ہو جاتا ہے قسم لوگ اس کی طرف اور اس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کیوں کہ اس کے ساتھ رہ کر ایک الگ ہی مزا آتا ہے یہ محبت یہ لگن اللہ طرف سب انسانوں کے دلوں میں ڈالی جاتی ہے جب انسان خودی کو پہچان جاتا ہے اردو سروں کے ساتھ بھی پیارا خلوص کے ساتھ پیش آتا ہے۔ آج بہت سے لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جن میں سے یہ مسئلہ ہے وہ پیار اخلاق سے بات نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے ان کے گھر بار تباہ ہو جاتے ہیں لیکن نہ تو اپنی خودی کو پہچاننا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے لئے انکی انا سب سے زیادہ ہے سب سے بڑی ہے کاش ہم اس بات کو سمجھیں اور خودی پر کام کریں اور اخلاق سے سب لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں اگر ایسے کرنے لگ جائے تو آدھے سے زیادہ مسئلہ تو یہی حل ہوجائیں گے جب ہم سب کے ساتھ پیار محبت اور اخلاق کے ساتھ بات کرنا شروع کر دیں گے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان پیار کا بھوکا ہوتا ہے جہاں اس کو پیار ملتا ہے وہی جاتا ہے تو کیوں نا انسان اس کو دیکھ کر کام کرتے ہوئے پیار اخلاق ان سب چیزوں کو اپنی زندگی میں لے کر آئے تاکہ اس کی زندگی خوشحال بن سکے اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو اللہ تعالی بھی خوش ہوتے ہیں کہ یہ میرے بندے میری عبادت بھی کرتے ہیں اور میرے بندوں کے ساتھ پیار اخلاق سے پیش آتے ہیں جیسے مجھ سے امید رکھتے ہیں اگر انسان اپنی خودی کو پہچان جائے تو اس کے ساتھ کامیاب انسان پوری دنیا میں اور آخرت میں نہیں پایا جائے گا انسان کی سب سے بڑی مثال ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

    Twitter handle: @usamajahnzaib

  • پاناما پیپرز کے بعد پینڈورا پیپرز : تحریر سید محمد مدنی

    پاناما پیپرز کے بعد پینڈورا پیپرز : تحریر سید محمد مدنی

    پہلے پاناما پیپرز آئے جس میں دنیا جہان کے لوگوں کی آفشور کمپنیوں سے متعلق انکشافات ہوئے کہ ٹیکس سے بچنے کے لئے یہ کام کرتے تھے اور اربوں کھربوں پیسہ اکاؤنٹس میں ہوتا تھا اس کے بعد اب پینڈورا پیپرز کا کچھ دن پہلے انکشاف ہؤا ہے.

    پینڈورا پیپرز بھی دراصل پاناما پیپرز کی دوسری قسط ہے اور اس بار حکومتی جماعت کے وزراء کے بھی نام سمیت کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران کے نام بھی سامنے آئے ہیں.

    وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خلاف پہلے دن سے کھڑے ہیں اور مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یہاں تک کہا کہ سب چیزوں پر بات ہوسکتی ہے مگر کرپشن پر نہیں.

    حکومتی وزراء کے نام آنے کے بعد ان وزراء نے برملا کہا کہ جلد از جلد کمیشن تشکیل دے کر سوالات اور تحقیقات کی جائیں بلکہ مجھ سے شروع کریں سب واضح کروں گا.

    وزیراعظم عمران خان نے ایک اعلی سطح کا کمیشن مقرر کروایا ہے جو تحقیقات کرے گا اور ایف بی آر ایف آئی اے نیب جیسے ادارے پھر مزید کام کو آگے بڑھائیں گے.

    حکومتی وزراء کا یہ عمل احسن ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم کسی کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں برتیں گے وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں سب سے سوالات ہوں گے تحقیقات ہوں گی اور جو بھی قصور وار ہوگا سزا کا مستحق ہوگا.

    اب بات کرتے ہیں کچھ ریٹائرڈ فوجی حضرات کی ایک ریٹائرڈ فوجی نادر پرویز صاحب جن کا کہنا ہے کہ ٦٥ کی کچ کی لڑائیوں”کے ران” کا ہیرو ہوں ٦٥ اور ٧١ کی جنگوں میں دو ستارہ اول جرات بہادری ایوارڈز کے وصول کئے ملٹری کراس یا سلور سٹار کے برابر ایوارڈ ملا آئی سی آئی جے نے ایک پاکستانی ہیرو کو بدنام کیا ہے کوئی آفشور کمپنی نہیں.

    اگرچہ کوئی بھی انسان فرشتہ نہیں لیکن کہیں نا کہیں کوئی گڑبڑ ضرور ہے آئی سی آئی جے ہر ہرگز ہرگز شک نہیں مگر کچھ صحافی باقاعدہ کسی نا کسی سیاسی پارٹی کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں اور وہ بیانیہ ریاست کے خلاف والا بیانیہ ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ادارے کا سہارا لے کرچند خاص شخصیات کو بدنام کیا جا رہا ہے ﷲ بہتر جانتا ہے کیونکہ غیب کا تو علم اسے ہی ہے.

    پاکستان مسلح افواج کا معیار اور لیول تو دنیا جانتی ہے کہ کس قدر پروفیشنل ہوتے ہیں مگر یہ صاف ظاہر ہوتا کے کہ کچھ بہت بڑی گڑبڑ ہے.

    اگر سول ادارے کی بات کی جائے تو وزیراعظم برملا کہہ چکا کہ تحقیقات اور پھر الزام درست ثابت ہونے پر کاروائی کی جائے گی.

    جب پینڈورا پیپرز سامنے آئے تو وزیراعظم کے لاہور زمان پارک والے گھر کے تعلق کو ان پیپرز سے جوڑا گیا جبکہ لاہور کا ریہائشی فرید الدین سامنے آیا اور اس نے بیان دیا کہ یہ میری کمپنیاں ہیں انھیں وزیراعظم سے جوڑا جا رہا ہے جو غلط ہے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ وزیراعظم کے خلاف بھی ایک کیمپینگ شروع کی گئی جو ناکام ہوئی کیونکہ جھوٹ پر مبنی جو تھی کیونکہ مخالفین بھی یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران کرپٹ نہیں.

    پہلے کچھ عناصر نے ڈان لیکس کروایا تو ریاست کا ایک ستون بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اب دوبارہ اسی ریاستی ستون کو ٹھیس پہنچانے کے لئے کام کیا گیا جو الحمدلله ناکام ہؤا لیکن ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کسی نا کسی چیز کا سہارا لے کر کسی کو بدنام کرتے ہیں جبکہ ثبوت نہیں ہوتے اور پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا کہ جب اثاثے ڈکلیئرڈہیں تو پھرصحافت کے پیشے سے تعلق رکھنے والے عناصر نے ادارے آئی سی آئی جے کو انفارم کیوں نہیں کیا.

    اس طرح سے بہت سے سوالات جنم لیتے جا رہے ہیں دعا ہے کہ ﷲ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین.

    انھی الفاظ کے ساتھ یہ تحریر بھی اختتام پذیر ہوتی ہے.
    .

    "Syed Muhammad Madni is a freelance journalist who write columns for Baaghi Tv. Follow him on Twitter @M1Pak.

    https://twitter.com/M1Pak.

  • سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 3)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

     ہمارے بیرونی قرضے تقریباً 105 ارب ڈالر تک تھے جس میں 11.3 ارب ڈالر پیرس کلب، 27 ارب ڈالر دوست ممالک اور دیگر ڈونرز، 5.7 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی یورو اور سکوک بانڈز شامل ہیں۔ ہمارا آدھا سے زیادہ ریونیو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں۔ ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46 ہزار روپے، 2013ء میں 61 ہزار روپے اور آج 1 لاکھ 81ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ معیشت کا احیا تو کجا‘ الٹا ہماری آزادی اور بقا خطرے میں ہے۔ دراصل یہ اقتصادی دانشور ایک سازش کے تحت ہمیں سمجھانے پاکستان آتے ہیں اور ہر بار ہمیں ایٹمی پروگرام، کشمیر اور دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی تلقین کرکے قرضوں کا سلسلہ دوبارہ چالو کرا دیتے ہیں۔ میرے خیال سے اقتصادی اور سیاسی تنہائی پاکستان کے حق میں خوش بختی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے یقین کے پیچھے ٹھوس دلائل ہیں

    اگر ہم سود کو ہی نہ چھوڑیں گے تو ہم براہ راست اللہ سے جنگ کرنے میں شامل ہیں ۔ عالمگیر سودی نظام کی جڑیں ہمارے اندر تک پیوست ہوگئی ہیں ۔ ہم اس سودی نظام کی گرفت سے آزاد نہ ہو گے تو اللہ کی مدد بھی ہمیں کبھی حاصل نہ ہوگی ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے شعیب ابی طالب میں رہ کر اقتصادی مقا طعے کا سامنا کیا ۔ اور چند سالوں بعد جنگ احزاب میں دشمنانِ اسلام کی متحدہ قوت کو پسپا کر دیا۔ تو یہ کہنا تو سراسر زیادتی ہوگی کہ ہم اس نظام کو کم از کم پاکستان سے ختم نہیں کر سکتے۔

    پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایک زرعی ملک بھی ۔ اول تو اسے سیاسی طور پہ تنہا رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوتا بھی ہے عین ممکن ہے تو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہمارا قرض اتارنے میں ہماری مدد ضرور کریں گے اگر وہ ممالک مغربی افواج پہ اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو ہماری مدد کیوں نہیں کریں گے ۔ دوسری بات پاکستان میں قیادت کا بحران اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ ہم غیر ملکی طاقتوں کی جکڑ میں ہیں ۔ اور عالمی طاقتوں نے اپنے ایجینٹ اور کرائے کے لیڈر ہم پہ مسلط کر رکھے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 73 سال کے اس طویل عرصے میں کوئی ایسا رہنما پیدا نہ ہو سکا ۔ جو حقیقی معنوں میں لیڈر کہلانے کے لائق ہو ۔ پاکستان کی تنہائی عوامی مزاحمت کی رہنمائی کرنے والی حقیقی قیادت کو ابھارے گی

  • "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا” تحریر:فرزانہ شریف

    "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا” تحریر:فرزانہ شریف

    سیاست میں برداشت کی عدم دستیابی دن بدن بڑھتی جارہی ہے اس کی وجہ ملک میں حد سے ذیادہ بےانصافی اداروں کی بےتوقیری ۔عدالتیں اشرافیہ کی مٹھی میں ۔۔اپنے من پسند فیصلے چٹکیوں میں کروا لیتے ہیں غریب بے چارےسالوں عدالتوں کے دھکے کھانے کے بعد آخر مایوس ہوکر فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔چور ڈاکو سرے عام ملک میں دندناتے پھرتے ہیں اور بے گناہ ناکردہ گناہ کی سزا بھگت کر جب مرجاتے ہیں تو ان کے مرنے کے بعد جب فیصلہ آتا ہے فلاں بندہ بے قصور ہے اسے بری کردیا جائے تو پتہ چلتا ہے اسے جیل میں ایڑیاں رگڑتے مرے ہوئےدو سال ہوچکے ہیں۔۔!!اگر ملک میں انصاف کا بول بالا ہوجائے تو ملک کے 70%مسائل اور منفی سرگرمیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن وہی بات "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا”کے مصداق ہر کام غریب غربا آخرت پر چھوڑنے پر مجبور ہیں ۔

    ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے گذشتہ 30سال سے کرپٹ ترین حکمران ملے ہیں جھنوں نے نہ صرف خود ملک کو خوب نوچا ہے بلکہ اپنی نئی نسل بھی تیار کرلی ہے کہ رہتی کسر وہ پوری کرلیں ۔اس کے لیے وہ ہر وہ قدم اٹھارہے ہیں جس میں ان کو اقتدار ملنے کی تھوڑی سی بھی امید ہو دشمن ممالک کو اپنے بیانات سے ہرممکن کوشش کررہے ہیں خوش کرنے کی ۔ نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان کینسل ہونے پر جس قدر مریم نواز نے خوشی کا اظہار کیا تھا وہ ہم سب کے لیے حیران کن نہیں تھا کیونکہ ہم اس سے پہلے بھی اس کے ایسے بیانات سن چکے تھے بس دکھ کی بات یہ ہے کہ اس کے سپوٹرز یہ سب جاننے کے بعد بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اس کی سرے عام خان صاحب کو دی ہوئی گالیاں بھی ریکارڈ پر ہیں اور خان صاحب کے کردار پر رکیک جملے کسے جو ایک خاتون ہوتے ہوئے نہائت غیر مناسب تھے ایسا جملہ بولنے سے پہلے عام عورت مر جانا پسند کرتی ۔۔

    حالیہ دنوں میں خاتون اول پر اس کے لگائے الزام نے قوم میں غم وغصہ کی فضا قائم کی ہوئی ہے جو ابھی تک کم ہونے میں نہیں آرہی اور دو دن مسلسل مریم نواز پر تنقید کا سلسلہ جاری رہا ٹاپ ٹرینڈ بنے اس کے خلاف ۔سوشل میڈیا پر جتنا ذیادہ اپنی نفرت ۔غم وغصے کا اظہار کرسکتا تھا اتنا پی ٹی آئی ورکرز نے کیا ۔۔!!ایک سزا یافتہ مجرمہ کو یوں سرے عام اداروں پر کیچڑ اچھالتے دیکھ کر سوچتی ہوں کہ عام عوام میں مایوسی کیوں نہ پھیلے جہاں پورا ملک لوٹ کر کھاجانے والوں کواداروں نے اتنی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ جب چاہیں جو چاہیں کریں کوئی ان سے کچھ بھی پوچھنے کی جرآت نہیں کرسکتا ایک عام روٹی چور کو اپنی باقی کی ذندگی جیل میں سڑتے گزارنی پڑجاتی ہے اگر وہ بدقسمتی سے پکڑا جاتا ہے تو۔۔۔! باپ ۔بیٹے لندن میں مزے سے ذندگی گزار رہے ہیں اور بیٹی کو اداروں پر چڑھائی کرنے کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔۔جتنا دوسروں کے کردار پر کیچڑ اچھالتے میں نے نون لیگ کو دیکھا اتنا کسی سیاسی پارٹی کو گرتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔!!چاہے وہ بےنظیر کی ہیلی کاپٹر سے تصویریں پھینکنے کی بات ہویا پھر پی ٹی آئی کی خواتین پر کیچڑ اچھالنا یا پھر جمائمہ پر جھوٹے الزمات لگانا خان صاحب کے کردار پر رکیک الزامات لگانا ۔۔

    آصف زرداری بےشک بہت بڑا چور ہے کم ازکم ان کے منہ سے مخالف جماعتوں کی خواتین کے کردار پر بات کرتے نہیں دیکھا تو کیا وجہ ہے کچھ لوگوں نے اس کی بیٹی کے کردار پر کیچڑ اچھالا کیا ہم اتنے شدت پسند ۔ہماری ذہنی پستی اس حد تک چلی گی ہے کہ دوسروں کی بیٹیوں پر ایسے الزمات لگائیں ان کا کردار ان کی اولاد تک کو مشکوک بنادیں بختاور بھٹو کا کیا یہ قصور ہے کہ وہ زرداری کی بیٹی ہے؟
    جیسے ہی سوشل میڈیا پر بختاور بھٹو کی خوشی کی خبر چلی پتہ چلا اسے اللہ نے نعمت سے نوازا تو ایک طوفان بدتمیزی مچ گیا ہر بندے نے حسب توفیق اس میں حصہ ڈالنے کی پوری کوشش کی گھٹیا تبصرے کرکرکے ۔۔کیا آپ اپنی بیٹی کے بارے میں ایسے الفاظ ایسے تبصرے برداشت کرسکتے ہیں جو بختاور بھٹو کے لیے کیے گے اور سننے والوں نے سر دھنا۔کیا اللہ کو جان نہیں دینی اگر آپ عمر خضر بھی لکھوا کر آئے ہیں تب بھی کسی پر تمہت لگانا دل آزاری کرنا حرام فعل ہے اور یہ عمل دل کو کبھی سکون نہیں لینے دیتا اس لیے اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگیں جس جس نے بھی اس کے خلاف ٹوئٹس کیے ہیں آپکے الفاظ آپ کی شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں جو بھی لکھیں بس یہ سوچیں آپ اپنی شخصیت الفاظ کی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کررہے ہوتے ہیں ۔۔

    رہی بات بلاول بھٹو کی یہ اور مریم نواز سکہ کے دو رخ ہیں جیسے زرداری اور نواز شریف ۔اقتدار کے لیے ملک کا سودا بھی کرنا پڑ جائے تو بھی یہ کر گزریں گے یہ میرا خیال ہے سب کا میری اس بات سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔میں نے آج تک جس انسان کو اپنی بات پر کھڑے ہوتے دیکھا جس کی باتیں آپکو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں آپکو ہمت جرآت کا سبق دیتی ہیں وہ وزیراعظم عمران خان ہیں اس انسان کے جو خیالات الفاظ 22سال پہلے کی تقریر میں تھے وہ ہی آج بھی ہیں اس انسان سے ذیادہ محب وطن حکمران میں نے اپنی ذندگی میں نہیں دیکھا ۔خان صاحب کی یہ جرآت ہی ہے کہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو انکی اوقات یاد دلا دی اور آج امریکہ کی سفیر ایک سیاسی مجرمہ سے ملنے کے لیے مجبور ہوئی یہ بھی پاکستان کی جیت ہے کہ دنیا کا سپر پاور بھی خان صاحب کے آگے پانی بھرتا لوگ دیکھ رہے ہیں ۔

    خان صاحب کو بہت مشکل سے وزیراعظم بنایا تھا بہت امیدوں کے ساتھ کہ وہ ان چوروں کے جبڑوں میں ہاتھ ڈال کر پاکستان کا لوٹا پیسہ نکال لیں گے جس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے لیکن ابھی بہت سے کام ہونے باقی ہیں جو ان دو سالوں میں ممکن نہیں اللہ کرے اگلی دفعہ خان صاحب بھاری اکثریت سے الیکشن جیت جائیں ۔گزشتہ الیکشن والا حساب ہوا ۔پھر خان صاحب کے ہاتھ بندھ گئے تو خان صاحب کے نئے پاکستان کا خواب پورا ہونا مشکل ضرور ہوجائے گا لیکن ناممکن ہرگز نہیں کیونکہ خان صاحب کے ساتھ عوام کی طاقت اوراللہ کی خاص مدد ہے پھر بھی دعا ہے اللہ کرے نیکسٹ الیکشن میں ۔ایم کیو ایم ۔چوہدری برادران کا دم چھلہ خان صاحب کے پیچھے سے اتر جائے خان صاحب اپنی مرضی کے فیصلے کرسکیں عدلیہ کو بھی اللہ ہدایت دے کہ ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والے کے ساتھ مل کر ملک میں انصاف کا علم بلند کردے تو یہ نفرت غصہ ۔بے اعتمادی کی فضا بھی ختم ہوجائے گی۔ ان شاءاللہ
    پھر خان صاحب دنیا کی سپر پاور چین کے ساتھ مل کر ملک کو بلندیوں پر پہنچا دیں گے لوگ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرکے فخر محسوس کیا کریں گے ان شاءاللہ ۔۔
    @Farzana_Blogger