Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایرک ہابز بام تحریر : اقصٰی صدیق

    ایرک ہابز بام تحریر : اقصٰی صدیق

    اکتوبر 2012 ء میں تاریخ نویسی کا ایک بہت بڑا نام ایرک ہابز بام اس دنیا سے گزر گئے۔ہابز بام 1917ء میں مصر میں پیدا ہوئے، ان کا بچپن آسٹریا اور جرمنی میں گزرا۔ ان کے والدین یہودی تھے اور بچپن ہی میں فوت ہوگئے تھے۔ایرک ہابز بام نے پچانوے برس عمر پائی۔
    یہ برطانوی مؤرخ بیسویں صدی کی تاریخ نویسی پر چھائے ہوئے ہیں۔ اور دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات میں ابھی بھی تاریخ کا کوئی نصاب ان کی کتابوں اور مضامین کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جاتا۔
    1930 ء میں جب جرمنی میں ہٹلر کی آمریت کا آغاز ہوا تو ہابز بام اپنے چچا کے ساتھ لندن منتقل ہوگئے۔ جہاں انہوں نے تعلیم میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیمرج یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے وظیفہ حاصل کیا اور وہی ان کے علمی سفر کا شاندار آغاز ثابت ہوا۔
    ہابز بام نے تقریباً ایک صدی پر محیط اپنی زندگی میں میں ہونے والے واقعات پر نہ صرف بہت گہری نظر رکھی، بلکہ بہت کچھ لکھا۔ اور ان کی موت کے وقت ان کے بستر پر موجود واحد چیز اخبارات تھے جن سے وہ حالات سے آگاہ رہتے تھے۔

    ایرک ہابز بام کی تاریخ نویسی کی خاص بات یہ ہے، کہ وہ حال کی سیاست اور معیشت کو ماضی کے اسباق کی روشنی میں بڑے دلچسپ انداز سے بیان کرتے تھے آخری دنوں میں دیے جانے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مغربی بنگال میں سی پی ایم حکومت کی فتح پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ وہ تاریخی سوالات پر سیدھا جواب دینا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ بہت سارے پہلوؤں کا احاطہ کرنے پر زور دیتے۔

    انہوں نے تاریخ نویسی کو ایک نئی جہت سے روشناس کروایا۔جس کی خاص بات سماجی اور ثقافتی تاریخ پر بہت زیادہ زور دیا جانا تھا۔
    ایرک ہابز بام نے اپنی تاریخ نویسی کا آغاز اس بات پر غور و خوض سے کیا کہ تاریخ میں سماجی احتجاج کی کونسی پرتیں رہی ہیں وہ صرف اس بات سے قائل نہیں ہوتے تھے کہ کوئی ایک محرّک مثلاً مذہب، معیشت یا روایات لوگوں کو احتجاج پر مجبور کرتی ہیں۔ سماجی احتجاج کی تاریخ میں مختلف مثالوں کو کریدنے کے بعد انہوں نے اس موضوع پر بھی بہت کچھ لکھا۔ کہ کس طرح سماج میں مختلف طبقات کس طرح روایات گھڑتے ہیں اور کیسے ان” گھڑی ہوئی روایات” کو اجتماعی یادداشت کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

    ان کے مطابق روایات گھڑنے میں عوام سے زیادہ ریاست یا قوم پرست اور فرقہ پرست عناصر اپنا کردار ادا کرتے ہیں ان کی مشہور ترین کتاب” یورپ کا عہدِ انقلاب” تھی
    ۔جس میں انہوں نے 1789ء کے انقلاب فرانس سے 1848ء کے یورپی انقلابات کا احاطہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے انیسویں اور بیسویں صدی کی تعریف پر بیش بہا کتابیں لکھیں۔ ہابز بام کا کہنا تھا کہ قوموں کے ارتقاء اور قوم پرستی کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے خود کو لگی بندھی تعریفوں سے دور رکھنا ضروری ہے، کیونکہ” قوم” بذات خود ایک گمراہ کن تصور ہے جسے ریاست اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔
    اور قوم پرست اپنے مقاصد کے لیے اور دونوں صورتوں میں یہ تنگ نظری کا باعث بنتا ہے، لوگوں کا کوئی بھی گروہ جمع ہوکر خود کو” قوم” کہلوانا شروع کر دیتا ہے یا ریاست۔

    ایرک ہابز بام کا کہنا تھا کہ قوم کا تصور اور قوم پرستی کے مبلغ ہی پروان چڑھاتے ہیں اور قوموں کی تشکیل میں سوشل انجینئرنگ یا سماجی کارگری کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔ قوم کوئی فطری یا خداداد اکائی نہیں۔ جس طرح اچھی یا بری اکائیاں تشکیل دی جاتی ہیں اسی طرح قوموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ جسے ریاستیں اپنے طریقے سے اور قوم پرست عناصر اپنے انداز سے پختہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے مختلف سچی جھوٹی روایات کااستعمال کیا جاتا ہے۔

    ایرک ہابز بام کہتے ہیں کہ قوموں کو سمجھنے کے لئے صرف سیاسی تاریخ نہیں، بلکہ سماج، معیشت، نفسیات اور ثقافت وغیرہ کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہابز بام کے تجزیے میں قوموں کی تشکیل کے تین مرحلے ہیں۔
    پہلے مرحلے میں جو ہزاروں سال پر محیط ہو سکتا ہے صرف ایک لوک صحافت ہوتی ہے جو رفتہ رفتہ ادبی شکل اختیار کر لیتی ہے مگر اس کی کوئی سیاسی یا کوئی قومی شکل نہیں ہوتی، بس لوگ ساتھ رہے ہوتے ہیں اور مشترکہ ناچ گانے اور کہانیاں پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں۔

    جبکہ دوسرے مرحلے میں چند قوم پرست نمودار ہونے لگتے ہیں، جو دیگر اقوام کی بالادستی کی نشاندہی کرتے ہیں جو بڑی حد تک درست بھی ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ بالادست قوم کے حکمرانوں کے بجائے اس کی قوم کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
    تیسرے مرحلے میں اس "قومی تصور”کو عوامی حمایت حاصل ہو جاتی ہے۔
    اور چند جنگجو قوم کے ترجمان بن بیٹھے ہیں، ہابز بام کا کہنا تھا کہ سنجیدہ مورخ خود کبھی بھی قوم پرست نہیں ہو سکتا، کیوں کہ کسی بھی فرقہ پرست کی طرح کوئی قوم پرست صحیح تاریخ نہیں لکھ سکتا۔کوئی قوم اس وقت تک قوم نہیں بن سکتی جب تک کہ وہ تاریخ کو توڑ مروڑ کر مسخ نہ کر دے۔
    جبکہ کہ اچھے مورخ کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ تاریخ کو مسخ ہونے سے بچائے۔ ہابز بام ایک عظیم مورخ اور سماجی تجزیہ نگار تھے۔جن کی تحریروں سے نہ صرف یورپ بلکہ دیگر علاقوں کے سماجی ارتقاء کو بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ کاش! ہمارے سیاستدان فوجی اور افسر شاہی سے تعلق رکھنے والے مجھے خود ساختہ تجزیہ نگار بھی ایرک ہابز بام کی کتابیں پڑھ کر کچھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

    @_aqsasiddique

  • پنڈورا پیپر کپتان پھر سرخرو نیا پاکستان  تحریر چوہدری عطا محمد

    پنڈورا پیپر کپتان پھر سرخرو نیا پاکستان تحریر چوہدری عطا محمد

    جیسے ہی پینڈورا پیپرز کے شائع ہونے کی خبر منظر عام پر آئی تو پاکستان میں تحریک انصاف کے مخالفین خصوصا ن لیگ اور اس کے حامی صحافیوں نے بغلیں بجانا شروع کر دی یہاں تک کے ن لیگ کے سنئیر رئینماء احسن اقبال نے تو باقاعدہ پیپرز کی اشاعت سے پہلے کہنا شروع کر دیا کہہ کپتان استعفی دیں احسن اقبال نے تو پہلے ہی کہہ دیا کہہ کپتان وزیز اعظم پاکستان کا نام آگیا ہے لہٰذا وہ استعفی دے دیں اصل میں یہ سب کیسے ہوا اس کیوجہ ہے عمر چیمہ اس کے اندر تحقیقات کا حصہ تھے اور لگ ایسے رہا ہے کہہ کپتان کو پینڈورا پیپرز میں فکس کرنے کی بڑی کوشش کی گئ۔ کپتان کو زمان پارک میں ایک دوسرے ایڈریس میں رئینے والے فرید الدین صاحب سے بھی منسلک کرنے کی ناکام کوشش کی گئ اگر پیپرز پڑھیں تو اس میں کپتان کا نام اس امر میں ہے ہے یہ پیپرز بہت واضح تصدیق کرتے ہیں کہہ کپتان کی کوئی بھی آفشور کمپنی نہیں ہے کئ ن لیگ کے حمایت یافتہ اور سرکردہ لوگوں کے خواب ایک بار پھر ٹوٹ گے مٹھائیاں پھر ہضم نہ ہوئیں غور طلب بات یہ ہے کہہ پینڈورا پیپرز سے دو تین دن پہلے نواز شریف نے لندن میں اور احسن اقبال نے پاکستان میں یہ کیسے کہا کہہ احتساب تو اب عمران خان کا ہوگا۔ اصل میں اسکی بڑی وجہ ان کے کچھ قریبی صحافی اور میڈیا کا ایک ادراہ تھا جس نے ان کو کہا تھا کہہ ہماری اطلاعات کے مطابق عمران خان کا نام ہے ان پیپرز میں۔ بات تو صیح ہے عمران خان کا نام تو ہے لیکن وہ نام اس لئے ہے کہہ تصدیق کی گئ ہے کہہ کپتان کے نام پر کوئی آفشور کمپنی نہیں ہے
    اصل میں ن لیگ نے حسب روایت جلدی مٹھائی کھا لی ان کو جب کہا گیا کہہ کپتان کانام ہے تو ن لیگ نے سمجھا ایسے ہی نام ہوگا جیسے ہمارا نام آیا تھا
    سچ بات تو یہ ہے کہہ پاکستان میں کوئی بھی سیکنڈل آۓ تو ممکن ہی نہیں اس میں ن لیگ کانام نہ ہو اس بار بھی ان کی اپنی فیملی کے نام موجود ہیں اسحاق ڈار کا بیٹا اور مبینہ طور پر مریم نواز کے داماد کا نام ان پینڈورا پیپر میں موجود ہے شاید

    لیکن کپتان جناب وزیز اعظم عمران خان نے اسپر بھی ہتھوڑا مارا اور پینڈورا پیپیرز کو اپنی ٹوئیٹ کے زریعے ویلکم کیا اس سے اب زیادہ پریشانی ہو گی ن لیگ اور تمام ناجائز آفشور کمپنیاں رکھنے والوں کو۔
    آپ کو یاد ہوگا کہہ جب پانامہ پیپرز آۓ تھے تو اس وقت کی ن لیگ کی حکومت نے اس کو سازش قرار دیا۔ اور کسی نے کہا کہہ یہ غیر ملکی سازش ہے کسی نے کہا کہہ عوام بھول جاۓ گی مولانا فضل رحمان نے کہا کہہ نواز شریف ڈٹ جاؤ

    لیکن اب پاکستان بدل چکا ہے۔ آج کے انٹرنیشل صادق و امین وزیز اعظم نے پیپرز کو سازش نہیں کہہ رہے بلکہ خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اور ان پیپرز کے اندر آنے والے لوگوں سے ان کی آفشور کمپنیوں کی تحقیق کے لئے اپنی سربراہی میں پیپرز آنے کے چوبیس گنٹھے کے اندر ایک سیل قائم کر دیا یہ ہی تو ہے نیا پاکستان
    الحمدللّٰہ کپتان لو اللہ نے ایک بار پھر سرخرو کیا اور کپتان نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہہ پاکستان اب بدل چکا ہے پاکستان کے وزیز اعظم کانام اب کسی انٹرنیشنل کرپشن کیسز میں نہیں آتا بلکہ تمام دنیا میں وزیز اعظم پاکستان کے کاموں کو سراہا جاتا الحمدللّٰہ نیا پاکستان۔

    ‏@ChAttaMuhNatt

  • گزشتہ جمعہ یوم استغفار تھا تحریر عثمان

    گزشتہ جمعہ یوم استغفار تھا تحریر عثمان

    میری لاہوری قیام گاہ سے خاصی دور جلسہ گاہ ہے جہاں اس وقت ایک بڑے یا بہت بڑے جلسے کی تیاریاں جاری ہیں ۔ جب آپ یہ سطریں  زہر مار کر رہے ہوں گے تو یہ چھوٹابڑا یا بہت بڑا جلسہ ہو چکا ہو گا، اس کے بارے میں کسی پیش گوئی کی ضرورت نہیں ۔ شاہی قلعے اور شاہی مسجد کے نزدیک ترین پڑوس میں مینار پاکستان اور اس کا سبزہ زار واقع ہے ۔ یہ جگہ اس شہر کی سیاسی جلسہ گاہ نہیں ۔ اس شہر کی تاریخی جلسہ گاہ اور سیاسی علامت باغ بیرون موچی دروازہ ہے۔  لیکن پرانی سیاست والا موچی دروازہ اب عہد حاضر کی حاضری کی وسعت کو سمیٹ نہیں سکتا۔ آج کے سامعین جلسہ کو نظریات اور سیاسی مقام و مرتبہ سے کہیں زیادہ مال و دولت کی فراوانی دکھائی جاتی ہے۔ جس کی بہتر نمائش مینار پاکستان میں ہوتی ہے۔ جلسہ عام جدید سیاستدانوں کا ہو یا جبہ ود ستار والوں کا، سب کے انداز خسروانہ ہی ہوتے ہیں ۔ موچی دروازے کا ڈیڑھ دو سو روپے خرچ والا پبلک جلسہ آج کروڑوں بلکہ ان سے بھی زیادہ کے خرچ سے منعقد ہو تا ہے ۔اس سیاسی انقلاب کا ایک خوفناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایسے بڑے بڑے جلسے کر نے والے ان کا خرچہ سیاست سے وصول کرتے ہیں۔ اور ہم سب کھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن پھر کیا کر تے ہیں، اسے مت پوچھئے۔ ہماری حالت دیکھئے کہ اب کوئی ایسا گہر اکنواں بھی باقی نہیں رہا جس میں ہمارے زوال کا گوشوارہ گرتے گرتے گم ہو جاۓ ۔ ہمارے اس ملک کی سرحد میں ابھی تک کیوں باقی ہیں اور ہمارے مٹانے والے کن سوچوں میں پڑے ہیں معلوم نہیں۔ لیکن عمرانی حکیموں اور قوموں کے حالات سے تعارف رکھنے والوں نے ایک خیال یہ ظاہر کیا ہے کہ فی الحال ہمارے آقا ہمیں زندہ تو رکھنا چاہتے ہیں مگر بہت کمزور ،کسی ایٹمی قسم کے نخرے اور نخوت کے بغیر ۔ معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی اور جناب آصف زرداری کی پانچ برس کی حکومت نے ان کا بہت سارا کام نپٹا دیا ہے اور اس ملک کے معاشرے میں کر پشن کا زہر گھول کر اسے بے جان کر دیا ہے ۔اب میں دفاع کے قابل نہیں رہا۔ ادھر بھارت نے عام لام بندی کا پروگرام شروع کر دیا ہے۔ جس میں ہر بھارتی کو فوجی تربیت دی جائے گی اور اس کی فوج میں بھرتی بھی ہو گی، اسرائیل کی طرح۔ 

     میں نے اپنی ذاتی اور قوم کی حالت دیکھ کر دل کو جو پریشانی لگا لی  تھی۔  اس سے گھبرا کر میں ایک روحانی رہنما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کا خیال تھا کہ ”ایک وہ زمانہ تھا جب قومیں بنے اور بگڑنے میں برسوں لگادیتی تھیں یعنی وہ بننے اور پھر مٹنے میں بھی کئی برس اور نسلیں لگا دیتی تھیں۔ لیکن اب زمانہ بہت تیز ہو چکا ہے۔ برسوں کے کام مہینوں میں ہو رہے ہیں۔ ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لئے جو ہو سکتا ہے وہ کرتے رہیں۔ قلبی اطمینان کی حالت میں ان حالات سے گزر جائیں۔ ہم نے خود یہ ثابت کیا ہے کہ ہم ایک جدید ریاست چلانے کے اہل نہیں ہیں۔ نہ ہمارے اندر اس کاجذ بہ ہے نہ ہماری نیت درست ہے اور نہ ہی سمجھ بوجھ۔ ہمارے بانی اور قائد کی جیب میں کھوٹے سکے تھے اور ہمارے سابقہ حکمرانوں کے ایک مستند دانشور نے فیصلہ دیا تھا کہ ہم ابھی آزادی کے اہل نہیں ہیں ۔ ہندو ہم سے کچھ بہتر ثابت ہوۓ جو زوال

    نہیں استقلال کی طرف بڑھ رہے ہیں”۔ ہماری ایک مذہبی جماعت کے سربراہ سید منور حسن نے حالات سے گھبرا کر قوم سے استغفار کی اپیل کی ۔ گزشتہ جمعہ کو قوم نے اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ یہ ایک بڑا ہی مشکل کام ہے ، پہلے گناہ کا اعتراف کر نا پڑ تا ہے اور پھر اس کی معافی اور یہ سارا عمل خاموشی کے ساتھ بندے اور اس کے آقا کے درمیان رہتا ہے ۔ استغفار کا مطلب ہے پہلے کسی کو اپنا آقا تسلیم کر نا پھر اس سے معافی مانگنا۔ یہ ایک بڑاہی نیک انسانی عمل ہے جو کسی کسی کے

    نصیب میں ہو تا ہے۔ ایک برقی پیغام ملا جس نے استغفار کا ایک انتہائی مؤثر واقعہ بیان کیا ہے۔ میں آپ کو اس میں شریک کر تاہوں۔ حضرت امام احمد بن حنبل کو سفر میں رات آگئی تو وہ قریبی گاؤں کی مسجد میں رات بسر کرنے چلے گئے اور صحن میں لیٹ گئے۔ چوکیدار آیا اور اس نے انہیں مسجد سے باہر نکال دیا۔ وہ مسجد سے باہر ایک جگہ پر لیٹ گئے تو وہی چوکیدار پھر آیا اور ان کو پاؤں اور ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا دور لے جاکر پھینک دیا۔ اس وقت ایک صاحب آئے اور انہیں گھر لے گئے ۔ وہ کچھ پڑھتے رہے ۔ امام نے پوچھا کیا پڑھ رہے ہیں ؟ اس نے جواب میں کہا استغفار کرتا رہتا ہوں۔ اس کا فائدہ کیا ہو تا ہے ، امام کے اس سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ میری ہر دعا قبول ہوتی ہے البتہ میری ایک دعا ابھی تک قبول نہیں ہوئی اور وہ ہے امام احمد بن حنبل سے ملاقات، جس کی مجھے شدید خواہش ہے۔اس کے جواب میں امام نے کہا کہ قدرت اسے تو زمین پر گھسیٹ کر تمہارے پاس لے آئی ہے۔ 

    @candiusman

  • زندگی کیا ھے   تحریر :سریر عباس 

    زندگی کیا ھے  تحریر :سریر عباس 

    زندگی ایک کتاب ھے جسکے پہلے صفحے پر پیدائش اور آخری صفحے پر موت لکھا ھوتا ھے. بیچ کے سارے صفحات خالی ھوتے ھیں آپ جو چاہیں لکھیں. لیکن لکھتے وقت یہ ضرور سوچیں کہ احکام الحاکمین جب دیکھیں تو دیکھتے وقت شرمندگی نہ ھو. 

    مولانا روم علیہ السلام نے ایک بڑا خوبصرت واقعہ لکھا آپ لکتھے ھیں کہ ایک شخص کو قیمتی ھیرا ملا انمول ھیرا وہ اسے لے کر جوھری کے پاس گیا. اور اسکی قیمت وچھی تو جوہری نے ہیرا دیکھا اور کہا کہ میں اپنی پوری دکان بیچ دوں تو اسکی قیمت ادا نہیں ھو گی اس پورے بازار میں اسکی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا. تم ایسا کرو یہ ھیرا بادشاہ وقت کے پاس لے جاؤ کیا پتا انکے پاس اسکی قیمت ھو وہ شخص ھیرا لے کر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا. بادشاہ نے جب وہ ھیرا دیکھا تو وزیر سے کہا اسکی قیمت کیا ھو گی. تو بادشاہ کو بتایا گیا کہ اگر ھم اپنا تخت و تاج بھی بیچ دیں تو اسکی قیمت ادا نہیں ھو گیبادشاہ نے مجھےکسی صورت میں یہ ھیرا چاہیے تو وزیر نے کہا. آپ یہ کام مجھ پر چھوڑ دیں اس نے اسے کہا آپ یہ ہیرا مجھے دے دیں. اور صبح سورج طلوع سے غروب آفتاب تک آپ محل سے جو چاھو لے کر جا سکتے ھو وہ شخص چلا گیا. ساری رات اسکو نیند نہیں آئی صبح صبح طلوع آفتاب سے پہلے وہ محل داخل ھو گیا. اسکو کسی نے بھی نہیں روکا وہ جب پہلے کمرے میں داخل ھوا تو ادھر شاھی لباس ٹانگے ھوئے تھے اس نے پہلے کبھی شاھی لباس نہیں پہنا تھا. اس نے سوچا ابھی صبح کا وقت ھے اس نے ایک لباس پہنا شیشے میں دیکھا پھر دوسرا پہنا بڑی دیر کے بعد اسکو ایک لباس پسند آیا اس نے کہا واہ بھائی میں تو شہزادہ لگ رھا ھوں پھر وہ دوسرے کمرے میں داخل ھوا وہاں طرح طرح کے کھانے بنے ھوئے تھے وہ بیچارہ رات کا بھوکا تھا اس نے کھانہ شروع کر دیا کبھی یہ کھا رھا ھے. کبھی وہ کہا رہا ھے پھر اس نے اسیر بھر کر کھانا کھایا پھر وہ تیسرے کمرے میں داخل ھوا ادھر شاھی بستر لگا ھوا تھا. کنیزیں پنکھے ہاتھ میں لیےکھڑی تھیں اس نے ابھی بہت وقت ھے تھوڑا آرام کر لوں وہ رات کا سویا ھوا نہیں تھا جیسے ھی لیٹا سو گیا. پھر وقت ختم ھو گیا دربان نے آکر اسے اٹھایا جیسے ھی اسکی آنکھ کھلی انہوں نے کہا اٹھو بھائی ٹائم ختم ھو گیا. وہ اٹھتے ھے چیزیں اٹھانے لگا دربان نے بولا ابھی تم ایک سوئی بھی نہیں لے کر جا سکتے اس نے کہا میں نے تو کچھ بھی نہیں اٹھایا انہوں نے اسے محل کے باھر پھینک دیا. 

    مولانا روم علیہ السلام فرماتے اس نے قیمتی ھیرے کو ضائع کر دیا وہ اگر معقول لباس پہنتا مختصر کھانا کھاتا بجائے اچھا کھانا کھانے کے اور وہ نہ سوتا دن بھر سمان نکال کے محل سے باھر رکھتا شام تک اسکا اپنا محل تیار ھو چکا ھوتا. 

    ھم اپنی زندگی بھی یونہی اچھے اچھے لباس پہننے اور اچھے اچھےکھانہ کھانے میں اور سونے میں گزار دیتے جب موت کا فرشتہ آتا ھے تو ھم کہتے ھیں کہ تھوڑی سی مولت دے دو میں دو رکعت نفل ادا کر لوں موت کا فرشتہ کہتا ھے اب نہیں وہ بولتا ھے ایک بار الحمد للہ سبحان اللہ کہ لینے دے لیکن موت کا فرشتہ کہتا ھے اب تمہارا ٹائم ختم ھو گیا علمند  انسان وہ ھے.  وہ دنیاکی اتنی تیاری کرے جتنا اس نے دنیا میں رہنا ھے اور آخرت کی اتنی تیاری کرے جتنا اس نے آخرت میں رہناھے

    @1sareer

  • لہجوں میں بڑھتی تلخیاں تحریر: اویس کورائی

     آج ہم لفظ کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے– کیا ہوتے ہیں؟ کب،کہاں اور کیسے ادا کیے جائیں–؟ شاید بہت کم،نایاب لوگ الفاظ، پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ لفظوں کے سہارے سے ہم روز مرہ زندگی میں اپنی بات مکمل کرتے ہیں۔ معاشرے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے،جیسے الفاظ کی ردوبدل میں کافی حد تک اختلاف پایا جاتا ہے۔

    دراصل لفظ ہی وہ واحد ذریعہ ہے ہیں جو ہمیں جوڑتے—- سنوراتے—بکھیرتے—-گھائل کرتے ہیں۔رشتوں کی طرح الفاظ کی نزاکت کو سمجھنا اور پرکھنا بھی انتہائی مشکل کام ہے۔دیکھا جائے تو کچھ لوگ کہتے ہیں الفاظ سے کیا ہوتا ہے۔ وہ اچھے ہوں یا برے شاید وہ حقیقت سے آشنا نہیں ہوتے—کبھی کبھی اپنے ہی کہے بے جا لفظ ہمیں خود انتہا اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ہم دنیا کے دستور کے مطابق لوگوں کی بے تکی اور فضول باتوں کی طرف توجہ تو مرکوز کرتے ہیں۔۔۔۔لیکن کبھی اپنے سے ہونے والی غلط فہمیوں اور تلخ لہجوں پر غور وفکر کیوں نہیں کرتے۔؟

                        الفاظ کے غلط استعمال سے ہی لحجوں میں تلخیاں بڑھتی ہیں۔ روزمرہ کے لین دین ،گفتگو کے دوران ہم کبھی کبھی ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جن کا ہمیں اندازہ اور پچھتاوا کچھ عرصے بعد ہوتا ہے۔—- ۔ اور ہمیں چیخ چیخ کر اپنے اختیار کیے گئے غلط رویوں اور الفاظ پر دل ہی دل میں شرمندگی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔

                لیکن یہاں ایک بہت ہی اہم نقطہ نظر آتا ہے غصہ تو سب کو آتا ہے لیکن کیا نظر انداز کوئی کرتا ہے—؟؟؟ کیا ہم میں سے کوئی انسان اس بات کا فیصلہ کرسکتا ہے غصے میں ساری حدود پار کر کے کسی بھی انسان کی دل آزاری کی جاۓ۔ہم میں سے بہت کم لوگ ہوں گے جو دوسروں کے تلخ رویوں کو جانتے بوجھتے بھی ہنس کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید انھیں غصہ نہیں آتا یا دوسری صورت میں وہ یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ ان کے پاس ہمارے کیے گے بے جا سوالات کے جوابات نہیں ہیں۔ میری نقطہ نظر کے مطابق خود سے کسی طرح کی قائم کردہ راۓ بالکل ہی غلط ثابت ہوتی ہے بعض اوقات۔ زندگی تو نام ہی مشکلات کا ہے پر ہم بہادر اور نڈر بننے کی جاۓ کیوں اپنے رویوں میں بدالو نہیں لاتے۔ط

              ہم میں سے کوئی انسان اس بات کا فیصلہ کر سکتا ہے کہ ہماری گلی سڑی کھوپڑیوں— لاشوں کا منظر بھی دہشت ناک ہے، ہمارے مرجھائے ہوئے دلوں—- لفظوں– تلخ لہجوں اور رویوں سے زیادہ وحشت ناک ہے——–!! سوچیں اس بات کو —–مکمل ہوش و ہواس—– اطمینان کے ساتھ۔

     اخر کار ہم خود کو سدھارتے کیوں نہیں— دوسروں کا غصہ ان کے بولے گئے بے معنی الفاظ کسی کو بھی جانے انجانے میں بول دیتے ہیں۔ بعض اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ چیزوں کی توڑ پھوڑ سے ہماری بے چینی — ہمارا غصہ سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔ کیا آپ میں سے کوئی ہے جو اس حقیقت پر اتفاق کرے۔ ہر گز نہیں—– ایک بات تو طے ہے کہ راویوں اور لہجوں میں تلخیاں—- لفظوں کا بولنا—- غصہ کرنا یہ سب تو ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔

                                اپنے اور دوسروں کے درمیان ہونے والی غلط فہمیاں—بدگمانیاں دور کرنے کی بجائے کیوں اتنی زیادہ حد تک بڑھاتے جا رہے ہیں۔

    ہمارے لہجوں میں تلخیاں کم ہونے کے بجائے آۓ روز بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ کچھ ایسے الفاظ جن کا وجود کبھی ہماری زندگی میں ہی نہیں ہوتا ہم ان کو سننے کے بعد وقتی طور پر نظر انداز تو کرتے ہیں لیکن—– یوں اچانک پلٹ کر ایک دن واپس کیسے آ جاتا ہے۔وہی چند الفاظ اچانک یاد آجائیں تو چبھنے لگتے ہیں کوئی بھی انسان کتنی بے باکی سے آپ کو چند الفاظ سنا کر چلا جاتا ہے — بولنے سے پہلے ایک دفعہ سوچتا شاید مجھے بھی تکلیف ہو گی۔

                                  لفظوں کے ساتھ بھی ہمارا تعلق انتہائی گہرا ہوتا ہے۔جیسے ماں باپ ک ساتھ ہمارا رشتہ بہت ہی پختہ ہوتا ہے۔ اسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا ہم نے کبھی اپنے سخت الفاظوں—- تلخ رویوں پر غور وفکر کیا ہے—؟؟؟؟؟نہیں —- آخر —- ایسا کیوں–!!!

    تو آئیں ایک بہت ہی سادہ سی مثال سے اسے سمجھتے ہیں :::

                    "”””آۓ روز ہم بے شمار الفاظ استعمال کرتے ہیں جن میں thanks ,sorry, welcome, I love u سے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جب کوئی اجنبی آپ کو یہ الفاظ آ کر بولے تو کیا آپ فوراً اس کے قائل ہو جاتے ہیں۔نہیں——- ہرگز نہیں—–کچھ لوگ انھیں محض دکھاوے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ان کے پیچھے چھپی حقیقت کچھ اور ہی رنگ دکھاتی ہے۔

    ہمارے لیے ان سب الفاظ پر زندگی میں بھروسہ کرنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا کہ کوئی انھیں محض دکھاوے کے لیے استعمال کر رہا ہے یا سچ دل سے۔ کسی بھی انسان کے دماغ میں کیا چل رہے ہمیں بھلا کیا معلوم۔

            ہم جیسے لوگ الفاظ بولنا تو جانتے ہیں شاید ان کی قدر کرنا نہیں جانتے—– وہ بھی ہمارے لئے کتنے نایاب ہیں۔تو آئیں سماجی رویوں میں بڑھتی تلخیاں 

    کم کریں اور آپس میں ہونے والی دوریوں کا فرق مٹائیں— ایک دوسرے کی قدر کرنا سکھیں—- اوروں کو اذیت سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں——-!!!

    مناسب رویے اور الفاظ زیر استعمال لائیں۔

    اچھا رویہ اور خلوص تو ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ پھر ہم کیوں دوسروں کو مایوس کرتے ہیں اپنا تلخ رویہ اختیار کر کے۔

    @korai92

  • احیائے اُردو، تحریر:سید غازی علی زیدی

    بعد نفرت پھر محبت کو زباں درکار ہے
    پھر عزیز جاں وہی اردو زباں ہونے لگی

    ٹویٹر نے اردو زبان پر وہ احسان کیا ہے جو ہماری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ اردو زبان جس کا نام ونشان پاکستان سےمٹتا جا رہا تھا اچانک سے ایسی چمک دمک کیساتھ شہرت کی بلندیوں کو چھو رہی کہ مثال نہیں ملتی۔ ٹویٹر نے تو خاک سے اٹھا کر سونا کیا ہیرا کردیا۔ سکول و کالج کا سب سے زیادہ مظلوم ترین مضمون اس وقت سب سے زیادہ مانگ میں ہے۔ وہ لوگ جن کی رہی سہی کسر رومن اردو اور میسج ٹائپنگ نے بگاڑ دی تھی۔ وہ راتوں رات اردو دان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو ایک جملہ درست نہیں لکھ سکتے تھے وہ پورے پورے مضمون لکھ رہے۔ جنہوں نے کبھی فیس بک کے علاوہ کوئی کتاب نہیں کھولی تھی وہ ذوق و شوق سے اردو ادب پڑھ رہے اور تبصرے بھی کر رہے۔
    کہتے ہیں جو کچھ بھی ہوتا قدرت کی طرف سے اچھے کیلئے ہوتا۔ قلمکار کی ناچیز رائے میں یہ اللّٰہ تعالیٰ کیطرف سے اشارہ ہے کہ مستقبل اردو زبان کا ہے۔ بیشک ابھی الفاظ و افکار مستعار لئے گئے ہیں، کاپی پیسٹ کی بھی بھرمار ہے لیکن یہیں سےاردو زبان وبیان کا از سر نو احیاء ہوگا۔ کتب بینی دوبارہ عام ہوگی۔ پر تاثیر و پردرد الفاظ کا جب ذخیرہ عام ہوگاتو یہی الفاظ ذہنی سوچ و فکر کو بھی بدلیں گے ان شاءاللہ۔
    ہر نیا رجحان نئی ترجیحات طے کرتا۔ گو کہ تخلیق کا عمل سہل نہیں قلمکار کوئ بھی شاہکار تخلیق کرنے کے دوران ایک مخصوص ذہنی عمل سے گزرتا ہے کسی کرب کو سہتاہے کوئ محرک اسے لکھنے پرمجبور کرتا ہے تب ہی بہترین تخلیق جنم لیتی ہے
    یہاں تک بہترین مزاح بھی نمناک ہوسکتاہے۔ فی الحال یہ بات تازہ بہ تازہ لکھاریوں کو سمجھ نہیں آئے گی لیکن کل کو انہی میں سے کوئی اشفاق احمد کوئی بانو قدسیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شاندار ادب تخلیق کرے گا۔ کاپی پیسٹ کرنے والے کل کو اپنے مخصوص انداز تحریر کےمالک ہونگے۔ ان کی تحریریں میں قلمکار کی ذات بھی جھلکے گی اور دلی جذبات بھی عیاں ہوں گے۔
    مانا کہ لکھنا ایک مشکل امر ہے لیکن شوق و جذبہ ہو تو ناقابلِ تسخیر چوٹیاں تک سر ہوجاتی یہ تو پھر قلم کے قدم بہ قدم دوستانہ سفر ہے۔ بس یہ عہد کرلیں کہ بلیو ٹک کی شرط ہو نہ ہو ہمیں لکھتے رہنا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کل کو ہم بہترین قلمکار نہ بن سکیں۔
    صفحہ کاغذ پہ جب موتی لٹاتا ہے قلم
    ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم

    @once_says

  • سعودی کمپنی آرامکو کی مالی قدر میں اضافہ، امریکی کمپنی ایپل کو دباؤ کا سامنا

    سعودی کمپنی آرامکو کی مالی قدر میں اضافہ، امریکی کمپنی ایپل کو دباؤ کا سامنا

    سعودی عرب کی سرکاری تیل کی کمپنی آرامکو امریکہ کی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو ٹکر دینے کی تیاری میں ہے-

    باغی ٹی وی : بزنس انسائیڈر کے مطابق آرامکو دنیا کی بیش قدر کمپنی بننے سے چند قدم کی دوری پر ہے سعودی عرب کی تیل کمپنی کا مارکیٹ قدر میں حجم 20 کھرب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے جس کے بعد تیل کمپنی ایپل فرم سے صرف تیس ارب ڈالر پیچھے رہ گئی ہے۔

    یاد رہے کہ اب تک امریکہ کی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل دنیا کی بیش قدر فرم ہے جس کی مالی قدر 20 کھرب 30 ارب ڈالر ہے اس وقت ایپل کو دباؤکوسامنا ہے کیونکہ سرمایہ کار اس ٹیکنالوجی فرم کے مہنگے اسٹاک کے بارے میں محتاط ہیں جبکہ بانڈ سے کمائی یا منافع میں اضافہ ہورہا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آرامکو کمپنی کی مالی قد ر میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں کمپنیوں کے حصص کی قدر میں تبدیلی صارفین کے رجحان کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔

    فاسٹ فوڈز اور ٹریفک حادثات وقوانین کی خلاف ورزی کے درمیان حیران کن تعلق کا انکشاف

    کورونا وبا کی وجہ سے گزشتہ سال تیل کمپنیوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا صارفین گھروں سے باہر نکل رہے ہیں جس کی وجہ سے ایپل کمپنی کے حصص پر منفی اثر پڑا ہے اور آمد و رفت میں اضافے سے تیل کھپت پھر سے بڑھ گئی ہے جس کا براہ راست فائدہ تیل کمپنی آرامکو کو ملا ہے۔

    تیل کی قیمتوں کے لیے عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ کی قیمت ستمبر میں تقریبا 71 ڈالر فی بیرل سے شروع ہوئی تھی ۔ آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق ۔ منگل کو اس کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل سے زیادہ پر پہنچ گئی ہے۔

    سروسز متاثر ہونے کے بعد فیس بُک کواسٹاک مارکیٹ میں 50 ارب ڈالر کا نقصان

    بنک آف امریکا کارپوریشن کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں توانائی کے بحران سے تیل کی قیمتوں میں اضافے میں مدد مل سکتی ہے اور 2014ء کے بعد پہلی مرتبہ خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ جبکہ سعودی حکومت سعودی آرامکو کمپنی کی 98 فیصد مالک ہے اور باقی حصص سعودی اسٹاک ایکسچینج میں دستیاب ہیں یہ کمپنی پہلے بھی دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی رہ چکی ہے۔

    فیس بک انسٹاگرام اور واٹس ایپ 7 گھنٹوں بعد ، مارک زکر برگ کا کتنا نقصان ہوا؟

  • ورزش کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات :تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ورزش کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات :تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہماری مصروفیات کافی زیادہ ہوتی ہیں اور اُن مصروفیات کی وجہ سے ہم لوگ ذہنی طور پر بہت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور ہمارا ذہن بھی صحیح سے کام نہیں کر پاتا ، ہم لوگ اپنے روز مرہ کے کام اچھے سے نہیں کر پاتے۔ ایسے میں ہمیں ایک ایسی دوا کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں ذہنی سکون دے اور ورزش ہی وہ واحد چیز ہے جو ہمیں یہ سکون مہیا کر سکتی ہے۔ ورزش کے ہماری زندگی پر بہت مثبت اثرات ہیں اور روزآنہ کی بنیاد پر اگر ہم ورزش کریں گے تو ہم خود کو بہت چست اور توانا محسوس کریں گے۔ ورزش کی وجہ سے ہم جسم میں ایک عجیب سی طاقت کو محسوس کرتے ہیں اور کوئی بھی کام ہو ہم میں اسکو کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ورزش کے انسان کی صحت پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اُن پر بات کرتے ہیں۔
    اگر ہم ہر روز ایک مخصوص وقت پر ورزش کریں گے تو ہمارا وزن متوازن رہے گا اور موٹاپے جیسی بیماری سے نجات حاصل ہو جائے گی۔
    ورزش کی وجہ سے ہم بہت سی سنگین نوعیت کی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں جیسا کہ دل کی بیماریاں جو کہ آجکل بہت عام ہوتی جا رہی ہیں اُنکا خطرہ کم ہوتا جاتا ہے اور ہماری صحت پر بہت ہی اچھا اثر پڑتا ہے۔
    اسّی طرح شوگر کی بیماری بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگر ہم اس سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہ ورزش کو اپنا روز کا معمول بنانا ہوگا۔
    اگر کوئی کسی نشے میں مبتلا ہے جیسا کہ سیگریٹ وغیرہ تو ورزش کے ذریعے ان چیزوں سے بچا جا سکتا ہے۔
    اگر ہم ورزش کرتے ہیں تو ہماری ذہنی صحت اور رویہ بہت بہت اچھا ہو جاتا ہے کیوں کہ ورزش کے دوران ہمارا جسم کیمیکل کا اخراج کرتا ہے اور یوں ہم سکون محسوس کرتے ہیں۔
    اسکے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ورزش سے ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں بڑا اضافہ ہوتا ہے ہم میں عمر کے ساتھ ساتھ مشکلات کو حل کرنے کے بہتر سے بہتر طریقے مل جاتے ہیں کیوں کہ ورزش سے ہمارا جسم پروٹینز اور دوسرے کیمیکلز کا خراج کرتا ہے جس سے ہمارا دماغ بہتر کام کرتا ہے۔
    آخر میں اہم چیز یہ ہے کہ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ کیسے بنایا جائے ؟
    اسکا سب بہتر حل یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے آگے بڑھا جائے اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارا جائے۔ ورزش کو فن کی طرح لیا جائے اور زیادہ پرجوش طریقے سے کیا جائے اس سے ہم آسانی سے ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
    TA: @AhtzazGillani

  • نیوزی لینڈ نے دورہ پاکستان ری شیڈول کرنے کی تیاریاں شروع کردیں      پی سی بی

    نیوزی لینڈ نے دورہ پاکستان ری شیڈول کرنے کی تیاریاں شروع کردیں پی سی بی

    پی سی بی چئیرمین رمیز راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے اچھی خبر ملے گی-

    باغی ٹی وی : پی سی بی چئیرمین رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے اچھی خبر ملے گی نیوزی لینڈ نے دورہ ری شیڈول کرنے کی تیاریاں شروع کردیں ہیں-

    واضح رہے کہ ذرائع کے مطابق نیوزی لینڈ نے یک طرفہ سیریز منسوخی کے فیصلے کے بعد پہلی بار پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے رابطہ کیا نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی سے دوبارہ سیریز شیڈول کرنے پر بات چیت کی گئی اور نیوزی لینڈ کرکٹ نے سیریز منسوخی کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ،پی سی بی کو لاکھوں کا بل آ گیا

    ذرائع کے مطابق دونوں بورڈز کا سیریز کے لیے نئی جگہ تلاش کرنے پر غور کیا اور کہا گیا کہ موجودہ ونڈو میں دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز ممکن نہیں۔

    پاکستان نے ورلڈ کپ کے بعد ویسٹ انڈیز، سری لنکا، بنگلہ دیش اور آسٹریلیا سے بھی سیریز کھیلنی ہیں۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے معاملے پر نتیجے پر پہنچ گئے ہیں شیخ رشید

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے چئیرمین انگلش کرکٹ بورڈ

    اس ضمن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم کیلئے ان کی فوج سے زیادہ سکیورٹی فورس تعینات کی گئی، نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر بھارت نے غلط خبریں پھیلائیں، ہمارے لوگ کرکٹ کو پسند کرتے ہیں مگر نیوزی لینڈ ٹیم کے جانے سے ہم مرے نہیں جارہے۔

    بھارتی چالوں سے دور رہتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرنے چاہیئے، آفریدی کا دیگر ممالک کو…

  • قلم کی عظمت    تحریر : شاہ زیب

    قلم کی عظمت   تحریر : شاہ زیب

     دنیا نے گلوبل ویلج سے گلوبل سٹی کا سفر قلم کے بازوں پر کیا دنیا میں کہیں بھی معاہدہ طے پایا جائے تو قلم کی سیاہی سے ابتدا کی جاتی ہے ترقی امن ومان سلامتی یا دہشت گردوں سے مذاکرات قلم کی طاقت سے شروع ہوتے ہیں۔

     یوں تو قلم کا ہم سے صدیوں پرانا رشتہ ھے مگر قدیم زمانے میں پیغام یا معدہ کرتے وقت پرندوں کے پروں کو استعمال کیا جاتا تھا جیسے ہی زمانہ ترقی یافتہ ہوتا گیا تو ہماری شان قلم کو بھی ترقی سوجھی اور نئے طرز کا قلم بن گیا۔

     قلم ایک ایسا انمول قیمتی سرمایہ ھے جو تلوار سے تیز اور طاقت وار بھی جانا جاتا ھے قلم کو دودھاری تلوار اس لیے کہا جاتا ھے قلم کی سیاہی کی بدولت ظالم اور مظلوم کی پہچان اور حق پر ڈٹے ہوئے مجاہدین کی تحریریں لکھی جاتی ہیں اگر غیر جانبداری سے قلم کا استعمال کیا جائے تو ہی قلم کی سیاہی کی عظمت و عزت برقرار ہے۔

    افسوس کے ساتھ بتاتا چلوں قلم کی عظمت کو سب سے زیادہ نقصان دور حاضر کے صحافیوں نے کیا صحافت جو ریاست کا چوتھا ستون جانا جاتا ہے لیکن قلم فروشوں نے چند ڈالروں کے عوض قلم کی سیاہی کی قیمت لینا شروع کر رکھی ہے کسی بھی شخص کی کردار کشی کر کے سماج کی نظروں میں گرانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

    قلم فروش سمجھتے ہیں وہ کسی کی کردار کشی کر کے انسان کو نیچا دیکھاتے ہیں تو یہ ان کی غلطی فہمی ہے اسطرح سے قلم فروش کسی انسان کی نہیں بلکہ قلم کی نوک جس کا دوسرا نام علم ھے اس قلم کی عظمت و عزت پامال کر رہے ہیں نہایت ہی ادب کے ساتھ اپنے دوست لکھاریوں کے لیے پیغام ھے میں کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہا ایک حقیقت ہے جو آپ کو بتائی ھے دوستوں جہاد بالقم کے ساتھ کھڑے رہنے سے حق بات دوسروں تک پہنچائی جا سکتی ہے اگر آپ قلم کی عظمت و سیاہی کی قیمت وصول کرنے لگ جائیں گے تو پھر آپ میں اور جسم فروش طوائف میں کوئی فرق نہیں۔

    اب ففتھ جنریشن وار  قلم سے لڑی جا رہی ہیں اور دشمن کے غلط پروپیگنڈہ کا مقابلہ اسی کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا بہت مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن درست اور ٹھوس حقائق کو سمجھنے والا ہی ان نا پاک عزائم رکھنے والوں کا قلم کی طاقت سے قلع قمع کرتا ہے اور قلم تو ویسے بھی تلوار سے زیادہ طاقت رکھتی ہے اور سچ ہمیشہ چاقو کی طرح تیز کاٹتا ہے ہمیشہ ایک چیز اپنے پلے باندھ لیں غلط چیزوں کو وقتی سکون فیم کے لیے مت لکھیں ہمیشہ دلیل کے ساتھ بات کریں کیونکہ اپ کا پڑھا جانے والا ایک ایک لفظ اپ کی شناخت ہوتی ہے یہ بس دھیان رکھیں کہیں اپ کی شناخت اپ کے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت نہ ہو کیونکہ ہم سب وار فئیر کے اُس حصے میں جہاں دشمن ہمیں اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا لیکن اللہ کے فضل سے چال بازوں کی چالیں قلم سے ناکام بنا دیتے اور میرا یہ ایمان ہے کہ جذبہ ایمانی سے سرشار قومیں کبھی ہار نہیں مانتی۔۔

    اللّٰہ رب العزت سے دعا ہے میری

      قلم جو میری پہچان ھے اور سچ لکھنے والوں کی حفاظت فرمائے آمین یارب العالمین

    Twitter handle.

    @shahzeb___