Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "سافٹ بلاک” ٹوئٹر کا صارفین کے لئے نیا پرائیویسی فیچر

    "سافٹ بلاک” ٹوئٹر کا صارفین کے لئے نیا پرائیویسی فیچر

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرنے اپنے صارفین کے لیے پرائیوسی فیچر متعارف کرایا ہے-

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر انتظامیہ کے مطابق صارفین اپنے کسی فولور سے تنگ ہیں تو وہ بڑے آرام سے اسے اپنے فولورز کی لسٹ سے ہٹا سکیں گے جس کا نوٹیفکیشن بھی اس شخص کو موصول نہیں ہوگا جبکہ لسٹ سے نکالے گئے افراد اپنی ٹائم لائن میں آپ کی ٹوئٹس نہیں دیکھ سکیں گے مگر ان کے پاس ڈائریکٹ میسج کا آپشن ضرور ہوگا۔

    واٹس ایپ،فیسبک، انسٹاگرام ڈاؤن: ٹوئٹر خوش، معروف کمپنیوں کے دلچسپ ٹوئٹس

    کمپنی کے مطابق لسٹ سے ہٹانے والے صارفین کو آگاہ نہیں کیا جائے گا جبکہ وہ دوبارہ اس صورت میں فالو کرسکیں گے اگر آپ نے انہیں بلاک نہیں کیا ہوگا اس فیچر کی آزمائش ایک ماہ سے جاری تھی اور اب اسے متعارف کرایا گیا ہے اس فیچر کو سافٹ بلاک کا نام دیا گیا ہے۔
    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1447630725746987013?s=20
    اس سے پہلے صارفین کے پاس ان فولو کا آپشن نہیں تھا بلکہ انہیں اس کے لیے اس مخصوص شخص کو بلاک کرنا پڑتا تھا۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ کی تصدیق کیسے کروائیں، تحریر:ام سلمیٰ

    اس فیچر کو استعمال کرنے کا طریقہ:

    اس فیچر کے استعمال کے لیے صارفین کو اپنی پروفائل میں فولورز میں جانا ہوگا اور وہاں تھری ڈاٹ آئیکن پر کلک کرنا ہوگا اور وہاں فالوور کو ہٹانے والے آپشن کا انتخاب کرنا ہوگا فیچر کے تحت ان فولو کرنے والوں کو نوٹیفیکشن نہیں بھیجا جائے گا جس سے اسے یہ پتہ چل سکے کہ وہ لسٹ سے نکالا جا چکا ہے لیکن اگر اسے یہ معلوم ہو جاتا ہے تو وہ دوبارہ فولو کر سکتا ہے۔

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

  • سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا انٹر ایکٹیوسائنس سینٹر

    سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا انٹر ایکٹیوسائنس سینٹر

    کراچی: سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا سائنس سینٹر داؤد فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم کیا گیا ہے جسے دی میگنفی سائنس سینٹر کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی "ہم نیوز” کے مطابق تین منزلوں پر مشتمل اس سینٹر کو مختلف سائنسی موضوعات کے لیے وقف کیا گیا ہے جن میں انسانی جسم، آواز، روشنی، فریب نظر، نقل و حمل اور قابل تجدید توانائی سمیت قوت و حرکت جیسے سائنسی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

    اس سینٹر میں طلبا و طالبات انتہائی دلچسپ طریقے سے نہ صرف انسانی اعضا کے بارے میں جان سکتے ہیں بلکہ عملی طور پر تجربات کرکے بھی دیکھ سکتے ہیں سینٹر کا ہدف سائنسی تصورات اور اصولوں کو بہتر انداز میں سمجھا کر سائنس کو مقبول بنانا اور سینٹر آنے والوں میں تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

    اس میں تمر یعنی میگروز کے جنگلات کے ماحولیاتی نظام کو بھی سینٹر کا حصہ بنایا گیا ہے صرف یہی نہیں بلکہ مختلف کھیلوں کی سرگرمیاں بھی سینٹر کا حصہ ہیں جن سے صرف بچے ہی محظوظ نہیں ہوں گے بلکہ بڑے بھی اپنا اچھا وقت گزار سکیں گے۔

    میگنفی سائنس سینٹر میں کراچی محلہ بھی بنایا گیا ہے اس محلے میں انتہائی دلچسپی کا پہلو پوشیدہ ہے کھیل کھیل میں کراچی کا عکس دیکھنے کو بھی مل جاتا ہے۔

    طلبہ کو ابتدائی طبی امداد کے حوالے سے آگہی دینے کے لیے ایک ایمبولنس کا ماڈل بھی یہاں رکھا گیا ہے۔ انسانی دل بھی ڈسپلے کیا گیا ہے جس میں برقی آلات کی مدد سے جان ڈالی گئی ہے اس وجہ سے وہاں آنے والوں کو دل دھڑکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    ریلوے روڈ پر قائم یہ عمارت رلی برادرز کی تھی جسے 1888 میں قائم کیا گیا تھا۔ برطانوی راج میں یہاں ویئر ہاؤس موجود تھا داؤد فاؤنڈیشن نے 1969 میں یہ عمارت خریدی جسے 1974 میں ایشین کوآپریشن بینک کو منتقل کردیا گیا لیکن داؤد فاؤنڈیشن نے 1976 میں عمارت دوبارہ خرید لی۔

    داؤد فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سبرینا داؤد نے یقین ظاہر کیا ہے کہ میگنفی سائنس سینٹر ملک میں سائنس کی تعلیم کو سب تک پہنچانے، اسے بہتر بنانے اور نئی نسل میں سائنس کی جستجو بڑھانے میں معاون و مددگارثابت ہوگا۔

    سائنس سینٹر کی تقریب رونمائی سے قبل ہی اس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر سائنس سینٹر میں داخلے کی فیس 8 سو روپے مقرر کی گئی ہے۔

  • آزادکشمیرکے اسپتال میں آتشزدگی ، ایک ملازم  زخمی

    آزادکشمیرکے اسپتال میں آتشزدگی ، ایک ملازم زخمی

    آزاد کشمیر: میرپور کے اسپتال میں آتشزدگی کی وجہ سے ایک ملازم جھلس کر زخمی ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق میر پور کے ڈی ایچ کیو اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں آکسیجن سلنڈر کی تبدیلی کے دوران اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

    اسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے کے باعث ایک ملازم جھلس کر زخمی ہوگیا، زخمی ملازم کو طبی امداد دی جارہی ہے۔

    ٹرانسفارمر پھٹنے کا کیس: حیسکو پر 2 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ عائد

    اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ سے دیگر عملہ، مریض اور ان کے لواحقین محفوظ رہے ہیں جبکہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ تحصیل شجاع آباد میں موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے ایک خاتون کرنٹ لگنے سے جھلس گئی تھی سعدیہ بی بی نامی خاتون اپنے گھر میں موبائل چارجنگ پر لگانے لگی تو اسے کرنٹ لگا جس کے فوری بعد اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی تھی-

    لبنان:آئل فیکٹری میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی

    آگ لگنے کے باعث خاتون بری طرح جھلس گئی متاثرہ خاتون کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال شجاع آباد منتقل کیا گیا تاہم حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں نشتر ہسپتال ملتان ریفر کردیا گیا تھا-

    ساس بہو کے جھگڑے نے ایک شخص کی جان لے لی

    موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے خاتون کے کپڑوں کو آگ لگ گئی،حالت تشویشناک

  • شادی اور فضول رسم و رواج  تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    شادی اور فضول رسم و رواج تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    Twitter Handle: @IamYasif

    پاکستان میں اکتوبر سے مارچ شادیوں کا موسم ہوتا ہے، ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی شادی طے ہوتی ہے۔ اکتوبر کا مہینہ آتے ہی ہر طرف سے شادی کارڈ آنے شروع ہوجاتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے "جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں” لیکن یہ لکھتے وقت ہمارا معاشرہ بھول جاتا ہے کہ جوڑے بے شک آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن مشکلات ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ تقسیم ہند سے پہلے کئی صدیاں مسلمان، سکھ اور ہندو ایک ساتھ رہے، یوں ایک دوسرے کے رسم و رواج بھی اپنا لئے گئے۔ پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا لیکن بدقسمتی سے ہندووانہ رسم و رواج آج بھی ہماری شادی بیاہ میں قائم و دائم ہیں۔

    شادیوں پر لاکھوں اڑانے کے بجائے سادگی سے نکاح کرکے بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا ہے لیکن ایک جملہ آڑے آجاتا ہے اور وہ ہے "لوگ کیا کہیں گے”۔ آج اسی جملے پر بات کرتے ہیں اور غور کرتے ہیں کہ یہ جملہ کہاں کہاں ہمیں فضول رسم و رواج کی طرف دھکیل رہا ہے

    پہلی رسم کا نام ہے منگنی جس پر ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق ہزاروں سے لے کر کروڑوں روپے لگاکر جھوٹی شان و شوکت قائم کرتا ہے، اگر یہ رسم نہ کریں اور سادگی سے رشتہ طے کریں تو "لوگ کیا کہیں گے” جیسے جملے سنائی دینے لگتے ہیں۔ منگنی کے بعد اکثر اوقات معمولی اختلاف پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور پھر خاندان کئی کئی سال ایک دوسرے سے ناراض رہتے ہیں۔

    منگنی کے بعد الگ سے شادی کی تاریخ رکھنے کے لئے ایک فنکشن ہوتا ہے جس میں خاندان بھر کے لوگ اکٹھے کرکے دوبارہ سے کھانا پینا کیا جاتا ہے، عام طور پر یہ رسم لڑکی کے گھر کی جاتی ہے، جس سے لڑکی کے خاندان پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، حالانکہ شادی کی تاریخ دونوں کے والدین سادگی سے طے کرسکتے ہیں لیکن یہاں بھی لوگ کیا کہیں گے؟ کی وجہ سے سب خاموش ہوجاتے ہیں۔

    شادی کی شروعات ڈھولکی سے ہوتی ہے، جہاں کئی دن ڈھول اور اونچی موسیقی لگاکر ہمسایوں کو تکلیف پہنچائی جاتی ہے، مہندی سے قبل سنگیت اور اُبٹن جیسی ہندووانہ رسمیں بھی شادی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں، مہندی کی رسم عموماً دو دن ہوتی ہے پہلے لڑکی کی مہندی اور پھر لڑکے کی مہندی۔ آج کل کئی شادیوں پر مشترکہ شادیوں کا رجحان بھی آچکا ہے۔

    ایک اور رسم جس کا نام گھڑولی ہے جو بارات والے دن کی جاتی ہے، سر پر پانی کا گھڑا رکھ کر خواتین کسی رشتہ دار کے گھر سے پانی بھر کر لاتی ہیں، یقینا یہ رسم بھی ہمیں بھارت سے ہی ملی ہے۔ بارات کی رسم سے شروعات سے قبل جہیز کے معاملات طے ہوجاتے ہیں، لڑکی کو فرنیچر، برتن اور الیکٹرانک مصنوعات سمیت بعض لوگ گاڑی اور گھر تک دیتے ہیں۔ جہیز سے متعلق واقعات تو ہم اکثر پڑھتے اور دیکھتے ہیں کہ کیسے لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے ساری عمر کنواری بیٹھی رہتی ہیں لیکن لڑکوں کے ساتھ بھی کوئی اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ حق مہر کے علاوہ دلہن کے سونے کے زیورات اور رشتے داروں کے مہنگے لباس کی رسم بھی موجود ہے۔ بارات کے آتے ہی دولہا کو صوفے پر جگہ دینے کے نام پر رقم بٹوری جاتی ہے، اسکے بعد جوتا چھپائی اور دودھ پلائی جیسی متعدد رسومات کے نام پر دولہے کی جیب خالی کی جاتی ہے۔ ولیمہ کی رسم میں کو بھی شاہانہ طرز دینے کی وجہ سے نوبیاہتا جوڑے پر مالی دباو آتا ہے، مہنگے شادی ہال اور لذیز پکوان ضروری تصور کئے جاتے ہیں

    نیچے دی گئی چند احادیث کی روشنی میں نکاح کی اہمیت کا اندازہ کریں

    حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں انبیاء کرام (علیہم السلام) کی سنت میں سے ہیں:حیاء ،خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور نکاح‘
    (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶)

    ابن ابی نجیح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ: مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ بہت مال والا ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں! اگرچہ وہ بہت مال والا ہو، پھر فرمایا: مسکین ہے، مسکین ہے وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو، لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ بہت مالدار ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں! اگرچہ مال والی ہو‘‘۔
    (مجمع الزوائد ،ج:۴،ص:۳۲۸،بحوالہ معجم طبرانی اوسط )

    حضور اکرم ا کا ارشاد ہے:
    ’’اے جوانو!تمہیں نکاح کرلیناچاہیے، کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والا اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہے،اور جو اس کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے‘‘۔ (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶)

    ’’جو شخص نکاح کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود نکاح نہ کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے(یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)‘‘۔ (مجمع الزوائد،ج:۴،ص:۳۲۷)

    ہمیں سوچنا چاہیئے کہ نکاح کو ہم نے آخر کیوں مشکل بنادیا ہے، اگر ہم اسلامی احکامات پر عمل کریں تو ان فضول رسومات سے بچ سکتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نکاح میں تاخیر سے معاشرے میں بےراہ روی بڑھی ہے۔ اللہ پاک ہمیں سادگی اور میانہ روی احتیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

    Chaudhry Yasif Nazir is a freelance journalist, Columnist, Writer and social media activist who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter

    account @IamYasif

    https://twitter.com/IamYasif

  • ایک قوم ایک نصاب اور طبقاتی نظام تعلیم

    ایک قوم ایک نصاب اور طبقاتی نظام تعلیم

    تحریر: رضی طاہر

    کہتے ہیں سیاست دان ایسے اقدامات کرتے ہیں جن کے بارے میں انہیں علم ہوتا ہے کہ ان کاموں کے نتائج انہیں اگلے انتخابات میں ملیں گے لیکن قائدین کی نظر اگلے انتخابات پر نہیں بلکہ اگلی نسل پر ہوتی ہے، وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جس کے پھل سے نسلیں سیراب ہوتی ہیں، ایک قوم ایک نصاب کے اقدام کی بھی مثال ایسی ہی ہے، ممکن ہے کہ ابھی اگلے چند سالوں میں اس کے نتائج سامنے نہیں آئیں گے لیکن اگلے دو عشروں میں ایک نئی نسل جب سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں مختلف بجٹ کے ساتھ ایک جیسا نصاب پڑھ کر کسی مقابلے کے امتحان میں جائے گی تو کوئی امیر و غریب، انگلش و اردو میڈیم کی تفریق کے بغیر قوم کے نوجوان بیٹھے ہوں گے۔ یقینا اس کے نتائج تب سامنے آئیں گے، دیہاتوں میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ غریب کا لڑکا نمبردار نہیں بن سکتا لیکن ایک قوم ایک نصاب دراصل انہی نمبرداریوں کو ختم کرنے کی جانب بارش کا پہلا قطرہ ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تیسرے سال کو مکمل کرچکی ہے ایسے میں حکومت کی جانب سے عوام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات میں سب سے بڑا قدم ہمارے مستقبل کے معماروں کو ایک نصاب پڑھانا ہے، حکومت کی جانب سے اس کے اعلان کے بعد اشرافیہ میں کھلبلی سے مچ گئی ہے اور تعلیمی اداروں کے نام پر بڑے کاروباری مراکز کے مالکان نے عدالتوں کے چکر کاٹنا شروع کردیئے ہیں، وہ اپنی دوکانداریاں اور نمبرداریاں ختم کرنے کیلئے یہ چاہتے ہیں کہ عدالت آئین کے متصادم فیصلہ دے، لیکن ایسا ممکن نہ ہوگا۔ پاکستان کا آئین ملک کے ہربچے کو تعلیم کا حق دینے کے ساتھ ساتھ مساوات کا بھی درس دیتا دکھائی دیتا ہے اور مستقبل کے تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک پاکستان کے ایوان میں کسی نوجوان کی جگہ نہیں تھی لیکن گزشتہ انتخابات نے کئی بڑے بڑے برج الٹادیئے اور ان کی جگہ نوجوانوں نے لی، اب ایک وقت ایسا آئے گا کہ کسی دیہاڑی دار مزدور کا باصلاحیت بچہ بھی اسسٹنٹ کمشنر بن سکے گا، مقابلے کے امتحان میں بازی لے گا اور سول سروسز میں ایمانداری کو زیور بناتے ہوئے اپنی جگہ بنائے گا۔

    ایک قوم ایک نصاب کا آغاز دراصل وزیراعظم عمران خان کے انتخابی مہم میں لگائے گئے نعرے کی تکمیل کی جانب بڑا قدم ہے، مینار پاکستان کے سائے تلے دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگا تھا، اب وہ وقت دور نہیں کہ جب یقینا نمبردار کے بیٹے کے مقابلے میں کئی نمبردار مقابلے میں تیار ہوں گے۔ایک قوم ایک نصاب طبقاتی تقسیم کے بت کو پاش پاش کردے گا، پاکستان میں ہمیشہ سے ایسے نہیں تھا، لیکن جب سے ہم نے اکیسیویں صدی میں قدم رکھا، پاکستان میں تعلیم کے ساتھ تجارت نتھی ہوگئی اس وقت سے طبقاتی فرق نے جنم لیا، جب تعلیم کو سمجھنے، سمجھانے اور تربیت حاصل کرنا کا ذریعہ اور حصول علم کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا تب کوئی طبقاتی تفریق نہیں تھی۔

    پاکستان میں ویسے تو کئی نظام تعلیم رائج ہیں اور لاتعداد نصاب، لیکن اگر ہم بالخصوص تقسیم کی بات کریں تو ہمارے زوال پذیر تعلیمی نظام نے چار طبقات میں تقسیم نسل تیار کی، یا یوں کہہ لیں کہ ہمارا نظام چار حصوں میں تقسیم ہے، پہلا نظام روایتی سکولوں میں رائج ہے جس میں اردو میڈیم، نیم انگریزی میڈیم یا اگر سندھ کی بات کی جائے تو وہاں سندھی میڈیم سکول قائم ہیں، دوسرا طبقہ یا نظام مکمل انگریزی میڈیم سکولوں کی صورت میں رائج ہے جہاں کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے، تیسرا طبقہ او اور اے لیول کا ہے اس طبقے میں وہی تعلیم حاصل کرپائے گا جو ماہانہ پچاس، ساٹھ ہزار فیس بھر سکتا ہو، گویا پیسے کی بنیاد پر تقسیم کردی گئی، اب غریب کا بچہ چاہے جتنا بھی باصلاحیت کیوں نہ ہو، یہاں اس کے والدین کے پر جلتے ہیں۔ چوتھا طبقہ مدارس کا ہے جہاں پر حکومتی نصاب کے ساتھ خاص فرقے یا مذہب بھی گھول کر پلایا جاتا ہے،لاکھوں کی تعداد میں بچے مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ دیگر اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے اور مدرسے سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں زمین آسمان کا فرق واضح محسوس کیا جاسکتا ہے۔

    اب یہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے، ایک دوسرے کی سننے کی بجائے ایک دوسرے کے مخالف ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے کی رائے اور سوچ کو رد کرتے ہیں۔ اس طبقاتی تقسیم کے نتیجے میں ہم نے مختلف نصاب، مختلف ماحول میں پڑھا کر جو کھیپ تیار کی تھی وہ ہمارے سامنے ہیں، وہ ہم لوگ ہیں جو 20سے30کے درمیان ہیں، تقسیم در تقسیم،اختلاف برائے اختلاف، سوشل میڈیا پر قوم کی یکجہتی کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں، تاہم ا ب حکومت وقت نے ایک قوم ایک نصاب کا فیصلہ کرکے طبقاتی نظام کو سمندر برد کرنے کاآغاز کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے ملک کے تمام ادارے، سیاسی جماعتیں، مذہبی قائدین اور مشائخ ایک قوم ایک نصاب کو رائج کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں،یہ ہی واحد صورت ہے جو طبقاتی نظام کی تنسیخ کے لیے ضروری ہے۔

  • بلوچستان زلزلہ تحریر   ار کے

    بلوچستان زلزلہ تحریر ار کے

    ترجمہ ۔
    "”ہم تولوگوں کوڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں "” الاسراء ( 59 ) ۔
    چھ اکتوبر کو ایک دوست کی دعوت پر کراچی سے شام چھ بجے کوئٹہ بلوچستان پہنچا۔ پرتکلف عشائیے کے بعد دن بھر کے سفر سے نڈھال میزبان کے کثیر منزلہ بیٹھک ( مہمان خانہ ) کے اوپری منزل میں تقریبا رات گیارہ بجے لیٹا ہی تھا ،کب کیسےانکھ لگی پتہ ہی نا چلا۔
    ادھی رات کو مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی میرے بیڈ کو جھولا دے رہا ہو بِلبِلا کر اٹھا ۔
    بیڈ مسلسل ہچکولے کھارہا تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آ ریا تھا اٹھتے ہی موبائل ٹارچ ان کیا تو  ٹائم تین بج کر دو منٹ تھا بیڈ ہی نہیں پورا بنگلہ جھول رہا تھا ۔
    کھڑکیوں اور دروازوں کے کھڑکھڑانے کی خوفناک اوازوں سے اور بھی سہم گیا تھا۔
    مجھے سمجھنے میں زیادہ دیر نا لگی۔ خوف اور زلزلے کی تباہ کاریاں جاننے کے باوجود پژمردگی سےاپنے حواس پر قابو رکھا اور مسلسل ایات الکرسی کاورد کرنے لگ گیا تھا۔
    اتنی دیر میں چند اور مہمان جو نچلی منزل میں ٹھہرے تھے اور میزبان ساتھیوں کا شور سنائی دیا وہ چیخ رہے تھے باہر نکلو زلزلہ ہے۔
    زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکلے ہوئے تھے  جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی شروع ہو چکی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جاگ کر باہر نکل سکے۔
    مسجدوں میں اعلانات اور اذانیں بھی شروع ہو گئیں۔
    کوئٹہ واسی کافی چوکس تھے یاد رہے مئی 1935 کا تباہ کن زلزلہ بھی رات تین بج کر تین منٹ پر ایا تھا ، جس سے چند ہی سیکنڈ میں کوئٹہ ملیا میٹ ہوا تھا اور 70 ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے تھے ،اس کے مقابلے میں موجودہ کوئٹہ کافی گنجان اباد اور خطرناک ہے ۔ کیونکہ کوئٹہ خطرناک فالٹ لائن پر واقع ہے۔
    میں کچھ دیر بیڈ پر ساکت بیٹھا رہا جھٹکے تقریبا رک چکے تھے میں اٹھا وضو کر کے تہجد کی نماز پڑھنے بیٹھ گیا۔ ربّ سے اپنے کردہ ناکردہ ،جانے انجانے گناہوں کی معافیاں مانگتا رہا اور امت رسول ﷺ کی حفاظت و خیریت کی دعائیں مانگتا رہا۔
    اتنی دیر میں دوست اوپر میرے پاس پہنچا اور باہر روڈ پہ نکلنے کی ضد شروع کر دی، میں نے  باہر نکلنے کی حامی بھری اور دوست کے ہمراہ باہر مین روڈ پہ نکل ایا۔
    باہر ا کر انگشت بدنداں رہ گیا۔ روڈوں پہ جمِ غفیر امڈ ایا تھاہر طرف لوگ ہی لوگ۔خواتین بوڑھے اور بچوں سے روڈ بھرے تھے۔ہر چہرہ خوفزدہ تھا  نفسا نفسی کا عالم تھا سب نوح کناں تھے۔
    ہر ایک کی لبوں پہ ذکر قرانی تھا کچھ با اواز بلند ذکری کلمات پڑھ رہے تھے اور کچھ گڑ گڑا کر اپنی گناہوں کی معافیاں مانگ رہے تھے۔
    ہلکی سردی محسوس ہو رہی تھی لیکن اللہ تبارک تعالی کا کرم خاص تھا کہ موسم زیادہ سرد نا تھا اگر کچھ دن کے فرق سے یہ زلزلہ اتا تو زلزلے کے ساتھ ساتھ سردی کی تباہ کاریاں بھی مشکلات میں اضافہ کر سکتی تھیں۔
    مں نے رب کا شکر ادا کیا کہ اس پاس پڑوس سے ابھی تک  کسی جانی یا  مالی  نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔
    ایک اور بات جو میں نے مشاہدہ کی تھی کہ فرقہ پرستی کو فروغ دینے والےبدعتی لوگ ،  دولت ،شہرت و بلند مرتبوں کے زعم میں مبتلا  گمراہ لوگ ،  سب کچھ بھول کر اپنے عہدوں پیسوں اور فرقوں سے بالاتر ہو کر، بے سر و عالم ایک اللہ کی طرف متوجہ تھے ۔
    فجر کے اذانوں تک اکثر لوگ باہر تھے اذانوں کے بعد بغرض باجماعت  نماز دوست کے ہمرا مسجد کا رخ کیا تو خلاف توقع مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی ۔
    بے شک ، میرے ربّ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
    "زُلْزِلَتْ” زلزال سے ہے یعنی ہلادیا جانا۔ اَلاَرْضُ کے معنی زمین کے ہیں
    ایک پارسا مسلمان  کا پختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ زلزلے بلاسبب نہیں اتے اور  ان کیلیےزلزلوں کے دنیاوی اسباب سے انکار ناممکن  ہے بلکہ اس کے پیچھے اللہ سبحان تعالی کا حکم کار فرما ہونا ہی سمجھتا ہے۔
    قران و حدیث کی رو شنی میں ،لوگوں کے برے اعمال زنا، سُود اور شراب نوشی کا عام ہونا۔ لوگوں کا گانے بجانے کو اپنا مشغلہ بنانا۔ اچھائیوں کا حکم اور برائیوں سے لوگوں کو روکنے کا عمل بند کردینا۔ لوگوں کا ان بُرے اعمال کو نا صرف کرنا ہی نہیں بلکہ انہیں جائز اور وقت کی ضرورت سمجھنے لگنا، رشوت خوری ،حلال حرام کی تمیز  سے مبرا ہوکر صرف دولت جمع کرنا ،زکواۃ نا دینا ،غریبوں یتیموں کے حق پہ ڈاکہ مارنا ہی دراصل زلزلوں  کے اسباب ہیں۔
    اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں
    کیا پھربھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگۓ ہيں کہ ان پرہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے اور وہ سو رہے ہوں ، اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگۓ ہیں کہ ان پرہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے اوروہ کھیل کود میں مصروف ہوں ، کیا وہ اللہ تعالی کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگۓ ہیں تواللہ تعالی کی پکڑ سے نقصان اٹھانے والوں کے علاوہ اورکوئی بے فکر نہیں ہوتا ۔ 
    الاعراف ( 97 – 99 ) ۔
    زلزلے آنے پر ہمیں اپنی سر کشی سے گریز کرنا چاہیے اور اس عہد کے ساتھ کہ آئندہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہو ئے زندگی گزاریں گے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے کردہ گناہوں کی معافی بھی مانگنی جائے۔تو اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہمارا رب غفور و رحیم ہے اور اپنے بندوں کیلیے توبہ کے دروازے  ہمیشہ کُھلے رکھتا ہے اور افتیں بھی ٹال دیتا ہے۔تحریر : اے ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan 

  • ڈاکٹر عبدالقدیر قومی ہیرو؟ تحریر۔ ثناالله

    ڈاکٹر عبدالقدیر قومی ہیرو؟ تحریر۔ ثناالله


    کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو تھے؟
    جی نہیں معذرت کے ساتھ مجھے جمھور سے اختلاف ہے میری رائے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو نہیں تھے  اُن کے کچھ ایسے راز جو ہم نہ جان سکے اُن کی کچھ باتیں جو ان کے حیات ہونے کے دوران پسِ پردہ رہیں !
    حدیث نبوی ہے "تیر بنانے والا” تیر پہنچانے والا اور تیر چلانے والا تینوں جنتی ہیں
    قارئین تیر اندازی والوں کے لئیے یہ بشارت کس لئیے ، یہ بشارت اس لئیے نہیں کہ انہوں نے تیر ایجاد کیا بلکہ یہ بشارت اس لئیے ہے کہ انہوں نے اس ایک تیر سے غلبہ اسلام کی کوششیں کی تھیں ۔دین حق کی سر بلندی کے لئیے نعرہ لگانے کا ثمر یہ ملا کہ اس تیر کی تیاری سے لے کر اس کے آخری استعمال تک اس کار خیر میں حصہ لینے والوں کو جنت کی بشارت دے دی گئی
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نہ صرف ایٹم بم نہیں بنایا بلکہ عالم اسلام کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرکے دنیائے کفر میں ایک امر حقیقت کے طور پر ثابت کیا
    قارئین یہ وہ وقت تھا کہ جب دنیائے گفر کی طاقتیں "ایٹم بم "کے زور پر ایک دوسرے زیرو زبر کررہی تھیں اس وقت اسی کا ڈنکہ ہوتا تھا جس کے پاس جس ایٹمی ہتھیار ہوتے تھے
    تاریخ کائنات میں وہ موڑ تھا جب عالم اسلام عالمِ کفر کے زیرنگیں تھااور انہی کے رحم وکرم پر اپنی بقا چھوڑے ہوئے تھے
    تبھی رب کائنات نے پاکستان کی سرزمین کا ایک سپوت چُنا اس وقت اس کے پاس دُنیا کمانے کے لئیے بہت کچھ تھا وہ چاہتا تو اس کی نسلیں عیش کرتی وہ ایک عام انسان نہ تھا بلکہ اعلٰی تعلیم یافتہ سائنسدان اس کو دنیائے کفر کی خدمات کے لئیے بڑا معاوضہ ملتا تھا لیکن اسے جانے کیا سوجھی دنیا کی عیش و عشرت،مال و متاع چھوڑ پاکستان کی جانب چل دیا اور دنیا سے تعلق توڑ عالم اسلام کو ایک عالمی طاقت بنانے کی خواہش لئیے پاکستان میں ڈیرے ڈال دئیے
    قارئین پاکستان کے بارے میں یہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کوئی ملک نہیں یہ رب کریم کا معجزہ ہے اور اس پاک ذات کے رازوں میں ایک راز ہے 27 رمضان کو پاکستان کا قیام بذات خود ایک معجزہ ہے اور سرزمین پاکستان اسی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد عالمِ اسلام کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بنے کھڑی ہے اور جب جب اسلام پرطکچھ مشکل وقت آیا تو پاکستان یا اس کے سپوتوں نے خدمت اسلام کو جہاد سمجھ کر سر پر کفن باندھ کر اسلام کا نام سر بلند کیا
    اسلام کو ناقابلِ فراموش عالمی حقیقت بنانے کے لئیے بھی رب جلال نے سرزمینِ پاکستان اور اس کے مجاہد سپوتوں کا انتخاب کیا اور 6 مئی 1998 کو اقوام عالم نے وہ منظر دیکھا جس کے بعد وہ جان گئے کہ اب اسلام کو تا قیامت کوئی دبا نہ پائے گا
    قارئین یہاں یہ بات قابل فکر و تدبر ہے کہ جب پاکستان نے ایٹم بم بنایا تب سے اب تک دُنیائے کفر اسے "اسلامی بم” کے نام سے جانتی ہے گویا یہ ایٹم بم بنانے کا جو معرکہ تھا وہ کوئی ملکی یا قومی معرکہ نہ تھا بلکہ یہ کفر اور اسلام کا معرکہ تھا یہ حق اور باطل کی تفریق کا معرکہ تھا
    یہ تاریخ اسلام میں مسلمانوں کی دنیوی زبوں حالئ کے باوجود دنیا میں اپنے نام کو قائم و دائم اور سربلند رکھنے کا معرکہ تھا تو یہ معرکہ "ڈاکٹر عبدالقدیر خان ” نے سر کیا اور حق و باطل میں پھر سے حدِ فاصل قائم کردی !
    قارئین اب چلتے ہیں میرے آرٹیکل کے شروع میں دئیے گئے جواب کی جانب اس دلیل پر میں حق پر ثابت ہوا کہ "ڈاکٹرعبدلقدیر خان” قومی ہیرو نہیں بلکہ اسلام کے ہیرو ہیں
    اب یہ امر افسوس ناک ہے کہ ہم نے رب کے دئیے ہوئے اس معجزے کو پہچان نہ دی ہم نصابی  اور تاریخی کتب میں اسلامی ہیروز کے نام تو پڑھتے رہ گئے لیکن اس مرد مجاہد کی اس کی اصل پہچان نہ دی
    اسلام پہ کئے  گئے اس احسان کو احسان نہ مانا اور اللہ کے اس ولی کے فیض سے محروم رہ گئے
    ہم طارق بن زیاد کوتو یاد کرتے ہیں ہم سلطان صلاح الدیین ایوبی کی بہادری کے ڈنکے توبجاتے ہیں ہم سلطان محمودغزنوی کو امت کا لیڈر تو مانتے ہیں لیکن امت مسلمہ کے اس جانباز اور درخشندہ ستارے کو کبھی پہچان نہ پائے اب اسے کامیابی کہیے یا ناکامی قومی خوشنصیبی کہیے یا بدنصیبی ۔اخلاقی انحطاط کانام دیں یا اخلاقی عروج کا اسے سزا سمجھیں یا جزا حقیقت یہی ہے کہ رب کریم نے ہم میں ایک اپنا چُنا ہوا بندہ بھیجا اس سے عالم اسلام کی خدمت کاکام لیا ولیوں جیسی گمنام زندگی دی اور اسی خاموشی سےاسے اپنی طرف بلالیا
    ہم نہ تو اس کی خدمات سے فیض لے پائے نا اس ولی اللہ کی پہچان کر اسکی خدمت کا موقع بھی فراہم ہوا
    اللہ پاک مرحوم کوکروٹ کروٹ سکون و بخشش نصیب فرمائے اور ہم جیسے بندہ ناچیز سے بھی عالم اسلام کی سربلندی کے لئیے چھوٹاموٹا کام لےلے تاکہ ہمیں بھی شفاعت کا کوئی ذریعہ نصیب ہو
    آمین
    ستارے تو روز ہی ٹوٹ کر گرتے ہیں
    غضب ہوا آج تو آفتاب ٹوٹا ہے 💔

    ‎@sanaullahakhtar

  • ربیع الاول اور وزیراعظم کے اقدامات تحریر : سید محمد مدنی 

    ربیع الاول اور وزیراعظم کے اقدامات تحریر : سید محمد مدنی 

    وزیراعظم عمران خان جب سے حکومت میں آئے ہیں ربیع الاول اور رسول ﷲ ﷺ سے متعلق بہترین کام کئے ہیں وزیراعظم پر مختلف قسم کے فتوے لگے کہ یہ فلاں ایجنٹ ہے تو یہ ہے تو وہ ہے مگر آج اگر وزیراعظم کے کیے گئے اقدامات پر نظر دوڑائیں تو یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کچھ نہیں کیا گیا.

    وزیراعظم نے قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح پر رسول ﷲ ﷺ سے متعلق معاملات کو اجاگر کیا اور خاص کر آپ رسول ﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے عناصر جن میں خاص کر یورپی ممالک کو یہ احساس دلایا کہ یہ جو آپ کام کرتے ہیں اس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوتے ہیں آپ کو اندازہ نہیں کہ مسلمان کس تکلیف سے گزرتا ہے.

    اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے جو تقریر کی اس میں انھوں نے رسول ﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں اور غیر مسلم کو یہ باور کرایا کہ آپ رسول ﷲ ﷺ مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ او آئی سی اور مسلمان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم سے ملاقات کر کے اس حساس معاملے کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلمان ممالک ایسی کوئی قرار داد پاس کریں کہ آئندہ کسی کی بھی  ہمت  نہ ہو یہ حرکت کرنے کی.

    پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے ہی دور میں قومی اسمبلی کی کارروائیوں میں ایک تبدیلی کروائی گئی کہ جب بھی رسول ﷲ ﷺ کا نام لکھا جائے تو نام سے پہلے آخری نبی لکھا جائے. اس کے علاوہ ملک بھر میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے کانفرینسز منعقد کروانے کا سلسلہ بھی شروع کروایا. مجھے آپ یہ بتائیں کہ جو شخص (وزیراعظم عمران خان) پاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بنانا چاہے تو وہ بھلا کسی بھی حساس معاملے کے خلاف کیسے جا سکتا ہے کیا اس سے پہلے اس معاملے پر کوئی ٹھوس کا ہؤا جیسے کہ او آئی سی یا اقوام متحدہ میں رسول ﷲ ﷺ سے متعلق معاملات کو اٹھایا گیا ؟

    اس بار بھی ہمیشہ کی طرح وزیراعظم عمران خان نے بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے بہترین اقدامات کروائے ہیں عشرہ رحمت العالمین کے ﷺ پر تمام اسکول کالجز جامعات درسگاہوں میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے تقاریر سیمینار وغیرہ منعقد کروائے جائیں گے اور علماء کرام طلباء کو اس کی اہمیت پر لیکچر دیں گے. حکومتی چینلز اور میڈیا پر سیرت النبی صلعم سے متعلق پروگرامز بھی دکھائے جائیں گے اور وزیراعظم کی ہدایات پر ٣ ربیع الاول سے ١٣ ربیع الاول تک عشرة ربیع الاول منایا جائے گا.

    وزیراعظم نے رسول ﷲ ﷺ کی تعلیمات اور ان کی سنت پر عمل کرنے کا زور دیا مزید کہ ہم جمعة کی نماز پڑھنے جاتے تو ہیں مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رسول ﷲ ﷺ نے کیا فرمایا کن باتوں پر عمل کرنے سے منع فرمایا اور کن باتوں پر عمل کرنے کو کہا انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان رسول ﷲ ﷺ پر جان بھی قربان کر سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل بھی تو کریں ناں اور یہ بھی تو دیکھیں کہ آیا ہم ان کے کردار سے کچھ سیکھ بھی رہے ہیں یا نہیں عشرہ ربیع الاول ﷺ کی مناسبت سے ایک بہت عمدہ جملہ وزیراعظم نے کہا کہ

    میرا یہ ایمان ہے اگر ایک انسان نے عظیم انسان بننا ہے تو نبی ﷺ کو رول ماڈل بنالے اور اگر ایک قوم نے عظیم بننا ہے تو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلے. 

    وزیراعظم کے خلاف جتنی نامناسب باتیں میڈیا اور صحافت میں ہوئی ہیں وہ انتہا کو پہنچیں صرف اس لئے کہ وزیراعظم ﷲ اور اس کے رسول ﷲ ﷺ کے باتیں کیوں بتا رہا ہے. ہم اگر ﷲ کے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کریں گے تو ہی ہماری آخرت میں کامیابی ہوگی اور یہی چیز وزیراعظم بار بار کہتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ کی تعلیمات کو اپناؤ. 

    غرض یہ کہ بے فکر رہیں وزیراعظم ہر ممکن اقدامات کریں گے اس معاملے اسی کے ساتھ میری تحریر کا اختتام ہوتا ہے.

    Twitter Id ‎@M1Pak

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری پٹیشن اور پی ایم سی تحریر: ناصر بٹ

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری پٹیشن اور پی ایم سی تحریر: ناصر بٹ


    ‎@mnasirbuttt

    یوں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پوری زندگی سائنسی تجربات، قوم کے درد اور کمزوروں کا سہارا بنتے گزری لیکن زندگی کے آخری ایام میں بھی قوم کے مستقبل یعنی سٹوڈنٹس کا درد ان کے دن میں موجود تھا، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر پاکستان میڈیکل کمیشن، میڈیکل سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کو آمنے سامنے دیکھا، متاثرہ سٹوڈنٹس کا دکھ برداشت نہ ہوا اور کمزوری کی حالت میں بھی طلبا کے شانہ بشانہ چلنے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل وقاص ملک ایڈووکیٹ کو بلاتے ہی کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان میڈیکل کمیشن کو لیکر چلیں، میں بھی دیکھتا ہوں اس قوم کے سٹوڈنٹس کے ساتھ میرے ہوتے ہوئے کون زیادتی کرتا ہے، دکھ اس بات کا ہے اور شائد اب ساری زندگی ساتھ چلے کہ قوم کے اس محسن کو بس پاکستان میڈیکل کمیشن کے خلاف دائر کی جانے والے پٹیشن پر دستخط کرنے کا ہی موقع مل سکا اور کیس سماعت کے لیے مقرر ہونے سے پہلے ہی ان کا مقررہ وقت آن پہنچا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے، آج جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تو اس میں انہوں نے پی ایم سی کے کنڈکٹ آف ایگزامنیشن ریگولیشن 2021 کو کاالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹوڈنٹس پر پولیس کے لاٹھی چارج سے دنیا بھر میں ایٹمی پاکستان کا امیج خراب ہوا اور طلبا کو مناسب وقت دیے بغیر امتحان کا نیا سسٹم متعارف کرانا درست نہیں، ایڈووکیٹ وقاص ملک سے بات ہوئی تو انہوں نے واضع کہہ دیا کہ مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ینگ ڈاکٹرز کے لیے پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کی اور یوں محسن پاکستان کی آخری دستخط شدہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہے، اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے وفد کی وقاص ملک ایڈوکیٹ سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد میں شامل صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر فیض اچکزئی اور چیرمین ڈاکٹر حیدر عباسی نے وقاص ملک ایڈووکیٹ کو مکمل سپورٹ فراہم کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایم ڈی کیٹ، این ایل ای سمیت پی ایم سی کے کسی بھی غیر قانونی اقدام کی بھرپور مخالفت کریں گے، دوسری جانب آگ میں تیل کا کام پی ایم سی صدر و نائب صدر کی جانب سے پریس کانفرنس میں تب ہوا جب حکام کی جانب سے یہ کہہ کر پریس کانفرنس چھوڑنے کر جانے کی راہ لی گئی کہ صحافیوں کے تمام سوالات پلانٹڈ ہیں جس پر صحافیوں کی جانب سے بھی خوب اظہار ناراضگی اور شدید احتجاج کیا گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس معاملے پر کس حد تک نظر ڈالتی ہے

  • عورت  کا مطلب ہے پوشیدہ چھپی ہوئی چیز    تحریر  غلام مرتضیٰ

    عورت  کا مطلب ہے پوشیدہ چھپی ہوئی چیز تحریر غلام مرتضیٰ

    ، وہ ہیرا 💎جس کی چمک سب کو میسر نہیں ہوتی ،جس کی چمک سب کو خیرہ نہیں کرتی،.                                               جس کا وجود سب کے لیے تسکین نہیں ہوتا ،ہاں اپنے محرم رشتوں کی ابیاری کرنے والا یہ نازک وجود السلام کی نظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے،                                                                          باحثیت بیٹی یہ عورت اپنے باپ کے انگن کی بلبل ہے جس کی چہک سے باپ کے ہونٹوں کی مسکراہٹ قائم ہے ،باعث رحمت ہے وجود اس کا،                                                                                اپنے والدین اور بھائیوں کا درد دل سے محسوس کرنے والی یہ ہی صنف نازک ہے ، اس کی  بےلوث دعائیں ہمیشہ اپنے باپ اور بھائیوں کے گرد حصار رکھتی ہیں،                                        اور تو اور دین اسلام نے عورت کو  وہ مقام دیا جو کسی  مزہب میں نہیں دیا گیا باحثیت ماں پاوں میں جنت ہی رکھ دی گئی سبحان اللہ،                                                                            یہ ہی عورت بیوی ہونے کی حثیت سے اپنے شوہر کے دل کا سکون بھی ہے اور اس کا ایمان قائم رکھنے کی علامت بھی اپنے گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنا نے کی کاریگر بھی ،           اللہ اکبر کبیرا ،.                                                                 کتنا بلند مقام ہے عورت کا تو پھر کون سی ایسی چیز ہے جو عورت کو لبرل ازم کے طریقوں پر چلا رہی ،کیوں مرد حضرات اپنی خواتین کو جدت پسندی ،مغربی تہزیب سے بچا نہیں رہے؟؟   

    بیوی کی صورت میں تمام تر ذمہ داری مرد پے دے کر عورت کو شان سے بیٹھنے کا حکم دیا مرد ہی کمائے گا اور پوری کرے گا یہ ذمہ داری اسی چار دیواری میں ایک بیوی ایک ماں بنتی ہے جنت پاؤں میں آ جاتی ہے اسلام نے عورت کو جو عزت مقام دیا  روئے زمین پر آج تک کسی مذہب میں عورت کو وہ مقام حاصل نہیں ہے  بلکہ عورت اگر غیر مسلم بھی ہے اس کو بھی حقوق دیے دوران جنگ جہاں مرد کو لڑنے کا حکم دیا وہی پر عورت کو ہاتھ تک لگانے کی اجازت بھی نہیں دی  بلکہ ایک لونڈی کی بھی حد رکھ دی حقوق دیے  اور بے شک یہی سچا دین ہے جو ہم سب کی کامیابی کا راستہ ہے

    لیکن اگر کچھ مرد جواتین کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہے اسے قطعاً مذہب کے ساتھ مت جوڑا جائے
    دین اسلام نے سارا سال بلکہ ساری زندگی کے حقوق طے کر دیے تو عورتوں کا ایک دن عورتوں کے حقوق پے قدغن لگانے کے مترادف ہے

    اور یہود و نصاریٌ  ، یورپ اور  ایلومینٹی

    عورت کو کال گرل فاحشہ وحشیہ طوائف بائی اور بھی عجیب گھٹیہ نام دے کر عورت جیسے عظیم نام کی  توہین کی جاتی ہے  ایک لڑکی کو جسم فروشی سے پیسا کمایا جاتا ہے اور بچے پیدا کراوئے جاتے ہے پھر شادی کی جاتی ہے اور وہی بچہ بڑا ہو کر ان کو اولڈ ہاؤس داخل کروا دیتا ہے
    ہالی وڈ سے لیکر بالی وڈ صرف جسم کی نمائش کی جاتی ہے کپڑے اتارے جاتے ہے پھر جا کے کچھ پیسے ملتے ہے اور تو اور پھر اسی عورت کو پورن گرافی بھی کروائی جاتی ہے اور اس پے ایوارڈ دیے جاتے ہے فگر سٹائل کو مدنظر رکھ کے کیا اسلامی معاشرے کی عورتیں اسی قسم کی آزادی چاہتی ہے
    اللہ کی قسم یہ آزادی ہے بلکہ شیطان کی غلامی ہے پتا نہیں کتنی ہی بہنیں اس دھوکے میں آ کے زلیل و رسوا ہوگئی خدارا میں اپنی بہنوں سے درخواست کروں گا کیا اتنے خوبصورت جسم اللہ نے آگ میں جلنے کے لیے پیدا کیے ہیں  آج تم فطری طور پر چھپکلی کاکروچ کو دیکھ کر ڈر جاتی ہو تو قبر میں سانپ بچو کاٹے گے تو سوچو کیا ہو گا جس حسن کو آج لوگوں کو دکھا دکھا کر فخر محسوس کرتی ہو  کل کو آگ کی نظر ہو جائے گا خدارا لوٹ آؤ سچے دین کی طرف اپنی جانوں پے ظلم مت کرو

    معزرت کے ساتھ اب وقت ہے کہ مرد حضرات کو  لا دینیت، اور دیوثیت کی زنجیریں توڑ کر اپنی بچیوں،اور خواتین کی تربیت السلام کے اصولوں پر کریں تاکہ کفار جو بے حیائی کا بیج ہمارے معاشرہ میں بو رہے ہیں وہ تناور درخت بنے اس سے پہلے ہم مسلمانوں کو اس کی جڑیں کاٹ دینی چاہیے،                                                                                                  تاکہ۔اللہ کے سامنے ہم منہ دکھا نے کے قابل رہیں ،عورت ہیرا ہے اس کی تراش محرم مرد کرتے ہیں ،اٹھیں ہمت کریں اج اور ابھی سے باریک بینی سے مشاہدہ کریں کہ گھر کے ماحول کو با پردہ کیسے بنانا ہے اللہ مدد کرے گا

    ‎@__GHulamMurtaza