Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اولیا کرام کی اسلام کے لئے خدمات… تحریر جام محمد ماجد..

    اولیا کرام کی اسلام کے لئے خدمات… تحریر جام محمد ماجد..

    اللّه کریم رحمن و رحیم جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے جس نے ساری کائنات بنائی اور اس میں سے انسان کو اعلی مقام دے کر اشرف المخلوقات بنا کر پوری کائنات میں دیگر تمام مخلوقات میں فضیلت عطا فرمائی حضرت آدم علہیہ السلام کو تخلیق فرما کر ابو البشر بنایا اور اللّه پاک نے تمام فرشتوں کو انھیں سجدہ کرنے کو کہا تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل کی سواے ابلیس نے پس وہ مردود ہوا اور حکم ماننے سے انکار کیا تو ذلیل و خوار اور رسوا ہوا اور اسی طرح سے اس دن سے لے کر بہکانا شروع کیا اور آج تک بہکاتا آیا ہے تو اللّه تعالیٰ نے انسانوں کو راہ راست پے لانے کے لئے انبیا کرام کو کو نازل کیا جنہوں نے بھٹکے ہووں کو راہ راست پے لیا اور اللّه کی وحدانیت اور اللّه کے دین کی تعلیم دی اسی طرح سے یہ سلسلہ چلتہا یہاں تک کے ہمارے پیارے نبی پاک نبی آخر زماں حضرت محمد صلی اللّه علیہ وسلم تشریف لاے جو کے اللّه کے آخری رسول اور نبی ہیں آپ صلی اللّه علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلم ہو گیا ہے آپ صلی اللّه علیہ وسلم کی تعلیمات کو رہتی دنیا تک انسانیت کی فلاح و بہبود کا ذریعہ قرار دیا گیا حضور پاک صلی اللّه علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضی اللّه عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے دین حق کی تبلیغ کی اور اسلام کو پھیلایا ان کے بعد دین اسلام کی تبلیغ کو اللّه کے نیک کامل بندوں نے سنبھالا اور لوگوں کو اللّه تعالیٰ اور حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے دین کی پہچان کرائی جس سے یہ نیک لوگ اولیا اللّه کے منصب پر فیض ہوے اور انہیں نیک بندوں کے بارے میں اللّه تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا کے انھیں نہ کسی بات کا خوف ہو گا نہ ہی کسی چیز کا ڈر ہو گا
    اللّه کریم کے یہ نیک صالح بندے اپنی عادت و اطوار میں حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور سنتوں پر سختی سے کاربند ہوتے ہیں برصغیر پاک و ہند میں انہی نیک صالح اولیا اللّه کی وجہ سے اللّه پاک نے اسلام کو طاقت بخشی جس کی وجہ سے یہاں اسلام غالب آیا کیوں کے اولیا اللّه کی آمد فتح سندھ کے ساتھ ہی شورع ہو گئی تھی اور نیک لوگوں کی محبت سے لوگ جوق در جوق دین اسلام کی طرف کھنچے چلے آے کیوں کے اس سے پہلے برصغیر اندھیروں بتوں کی پوجا اور کفر سے ڈوبا ہوا تھا بعد میں اسلام کی روشنی سے مالامال ہو گیا اور یہ سب اللّه کے نیک بندوں کی محبت سے پھیلای گئی تبلیغ کا نتیجہ ہے اور اس طرح اللّه کے کامل اور صالح لوگوں کے فیض سے ہر سو روشنی پھیل گئی اور برصغیر پاک و ہند اسلام کا مرکز بن گیا .
    اللّه پاک ہمیں سہی معنوں میں اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماے اور پاکستان کو رہتی دنیا تک اسلام و امن کا گہوارہ بناے آمین…
    پاکستان زندہ باد

    ٹویٹر ہینڈل @Majidjampti

  • فاطمید فاؤنڈیشن؛ امید کی روشن کرن  تحریر: محمد بلال

     پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں خدمت ِ خلق کے جزبےسے سرشار ایک زندہ قوم بستی ہے۔ اسی جزبہ سے سرشارایک ادارہ فاطمید فاؤنڈیشن ہے جو تھلیسیمیا کے مریضوں کےلیے ایک امید کی روشن کرن ہے۔

    ٓآج میرا یہ مضمون لکھنے کا مقصد اس ادارہ کے متنظمین کی حوصلہ افزای کرنا ہے۔

     آئیے، جانتے میں کہ یہ ادارہ کیسے شروع ہوا ہے۔برٹو روڈ، کراچی، پاکستان کے ایک چھوٹے سےکمرے سے شروع ہونے والا یہ سفر آہستہ آہستہ سب سےبڑی رضاکارانہ صحت کی دیکھ بھال اور خون کی منتقلی کی خدمت میں داخل ہو گیا ہے جو ہر مہینے اپنے ہزاروں مریضوں کو ہزاروں بیگ صحت مند مکمل طور پر جانچنے والے خون اورخون کی مصنوعات فراہم کرتا ہے۔ (جن میں اکثریت بچےہیں) خون کے خوفناک امراض یعنی تھیلیسیمیا، ہیمو فیلیا اورخون کے دیگر امراض میں مبتلا ہیں۔آج فاطمید مراکز کراچی،لاہور، پشاور، ملتان، کوئٹہ، حیدرآباد، رشید آباد (ٹنڈو الہ یار)،خیرپور اور لاڑکانہ میں ہیں۔ قارئین، سب سے اہم موضوع یہ ہے کہ یہ وجود میں کیوں آیا؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز کی مناسب، موثر، محفوظ فری چارجز کی عدم موجودگی صحت کے نظام کا ایک اہم مسئلہ ہے جس کاآج پاکستان کو سامنا ہے۔پاکستان میں ممکنہ طور پر روکنے کےقابل زچگی کی بیماری اور اموات کے لیے خون کی منتقلی کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ کینسر سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، رینل ڈائلیسس، رینل ٹرانسپلانٹیشن، کارڈیو ویسکولر بائیپاس سرجری، تھیلیسیمیا، ہیمو فیلیا، لیوکیمیا وغیرہ کے لیے خون کے انتہائی ماہر مراکز کی تشکیل، خون اور خون کی مصنوعات کی اس سے بھی زیادہ ضرورت کا باعث بنی ہے۔ایک اندازےکے مطابق، پاکستان کو روزانہ تقریبا، 8000 یونٹ خون کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ خون کی موجودہ دستیابی سے باہر نکلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہیپاٹائٹس بی کے کافی زیادہ پھیلاؤ کی شرح کے ساتھ محفوظ خون کی جمع اور فراہمی مزید کم ہو گئی ہے۔اگرچہ ملک کے تمام علاقوں میں منظم سروے نہیں کیے گئےہیں، لیکن اندازہ لگایا گیا ہے کہ تقریبا دس ملین لوگ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے وائرس سے متاثر ہیں، یہاں تک کہ پاکستان جیسے کم واقعات والے ملک میں بھی ایچ آئی وی انفیکشن پھیلنے کا خطرہ مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ خون اور خون کی مصنوعات کے ذریعے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس انفیکشن کی منتقلی، لہٰذا منتقلی کے لیے غیر متاثرہ ‘محفوظ خون’ کی مناسب فراہمی کا مطالبہ کرتا ہے۔ پاکستان میں معاشی مسائل کےباوجود فاطمیدفاؤنڈیشن وہ ادارہ ہے جس کے تمام مراکز جدیدترین بلڈ اسکریننگ سسٹم سے لیس ہیں جو اعلیٰ معیار کی بلڈاسکریننگ کٹس کے ساتھ چل رہے ہیں۔فاطمید کے مریض(ان کی بڑی اکثریت بچے ہیں) غریب اور ضرورت مند ہوسکتے ہیں لیکن ان کے لیے خون کا محفوظ ترین معیار حاصل کرناانسانیت کا تقاضا ہے اور بلا شبہ ہونا بھی چاہیے۔ یقینا یہی طریقہ ہے، جس کے ذریعہ بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتاہے۔ واضح رہے،

    فاطمید فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو پاکستان میں رضاکارانہ طور پر خون کی منتقلی کی خدمات کا علمبردار ہے۔ یہاں تک کہ خون اور خون کی مصنوعات کی مقداری پیداوار کے لحاظ سے بھی، فاطمید فاؤنڈیشن پاکستان میں خون کی منتقلی کی خدمات کی برادری کی رہنما ہے۔بلڈٹرانسفیوژن سروس سینٹر میں خون کی خرابی کے مریضوں کےلیے خصوصی خدمات کی فراہمی پاکستان میں ایک نایاب واقعہ ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن آج کراچی، لاہور، پشاور، ملتان،لاڑکانہ، خیرپور اور رشید آباد (ٹنڈو الہ یار) میں اپنے مراکز کےذریعے ہر مہینے 8000 سے زائد تھیلوں سے صحت یاب خون اور خون کی مصنوعات اپنے رجسٹرڈ مریضوں کو منتقل کرتا ہےاور اللہ کے کرم سے یہ سلسلہ کرونا جیسے وبائی مرض کےباوجود جاری ہے۔ اللہ رب العزت انہیں اس کام کا اجروثواب دیں۔آمین یارب العالمین 

    @Bilal_1947

  • دوہرا معیار اور معاشرتی بگاڑ  تحریر: نصرت پروین

    دوہرا معیار اور معاشرتی بگاڑ تحریر: نصرت پروین

    ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ تمام مذہبی اور معاشرتی تعلیمات سب کے لئے مساوی ہوں اور حکمران اور نوکر سب کے لئے ان تعلیمات کا نفاذ بلا تفرہق ہو۔ مذہبی اور معاشرتی تعلیمات اور اصول و ضوابط کسی بھی معاشرے میں وہی مرکزی حثیت رکھتے ہیں جو انسانی جسم میں قلب رکھتا ہے۔ کسی بھی انسانی معاشرے میں بہترین زندگی گزارنے کی عملی صورت وہاں کی مذہبی اور معاشرتی تعلیمات کی پیروی ہے۔ اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔ اور اصول و ضوابط امیر، غریب، حکمران، نوکر، سب کے لئے مساوی ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا نظام اس کے برعکس ہے ہماری مذہبی و معاشرتی تعلیمات اصول و قوانین صرف غریب کے گرد گھومتے ہیں جبکہ حکمران اور سیکولر طبقے کا ان سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ تمام برائیوں کا گہوارہ بنتا جارہا ہے۔ اور صورتِ حال کافی تشویشناک ہے۔ آج سے کچھ سال قبل اخبارات میں جرائم اور برائی سے متعلق خبریں پڑھ کر یا سوشل میڈیا پر برائی کا سن کر اطمینان ہوتا تھا اور اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ الحمدللہ ہمارے مسلم افراد کا نام نہیں ہے۔ لیکن آج مسلم معاشرے میں بے حیائی کی ایسی وبا پھیلی کہ اب اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے جرائم کی خبروں کا صفحہ کھولا جاتا ہے یا سوشل میڈیا پہ جہاں کہیں برائی اور جرائم کی خبر ملتی ہے تو مسلمان ملوث نظر آتا ہے۔ وہ تمام برائیاں جو پہلی قوموں میں تھیں اور ان کی بناء پر انہیں اللہ کے غضب نے گھیرا آج کا مسلم معاشرہ ان تمام برائیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اصول و ضوابط اور سزا کا نظام صرف غریب اور نچلے طبقے کے لئے، یا مذہب سے بیزار ہوکر مولوی تک محدود کر دیا گیا ہے جب کہ سیکولر اور امیر طبقہ ان اصول و ضوابط اور سزاؤں کو نظر انداز کر کے بہیمانہ افعال انجام دیتا ہے تو اس کا دفاع کیا جاتا ہے بلکہ اسے سراہا جاتا ہے۔ کوئی مولوی یا غریب کوئی برائی کرے تو اس پر قانون لاگو کر کے فوراً سزا دی جاتی ہے اس کے بر عکس اگر یہ ہی جرم کوئی حکمران، اور سیکولر طبقے کا کوئی فرد کرے تو اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس سب کی جیتی جاگتی مثال گزشتہ دنوں میں محمد زبیر کی وائرل ہونے والی ویڈیو اور پھر ان پر انکے حکمرانوں کا انکا دفاع کرنا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کی ٹوہ میں نہیں لگنا چاہیے اس طرح کسی کے برے عمل کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا بہر حال گناہ ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر انسان کسی کا ایسا کوئی عیب دیکھے تو خود اس شخص سے شئیر کرے اور اسے اس گناہ سے بچنے کی ترغیب دے لیکن ہمارا معاملہ یہاں بھی المناک ہے سوشل میڈیا پر ایک طبقہ ایسا ہے جو اسلام کی تعلیمات کے مطابق کہ "برائی کو نشر نہ کیا جائے بلکہ برا سمجھا جائے اور روکا جائے” کو نظر انداز کر کے اس برائی کو پھیلانا اور دکھانا اپنا بہترین مشغلہ سمجھتا ہے۔ اس طرح دوسرے لوگوں تک ایسی ویڈیوز کو گناہ جاریہ کے طور پر شئیر کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً معاشرے میں فحاشی عام ہوجاتی ہے اور پھر ہمارے حکمران ایسے ہیں جو اپنی تنگ نظری کی بدولت تمام انسانیت کے مساوی تقاضوں کو نہیں دیکھ سکتے بلکہ ایسے حکمران مصالح کلیہ سے نظریں چرا کر جزوی مصلحتوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اور پھر فحش اعمال پر اپنے ساتھیوں کا دفاع کرتے ہیں۔ پھر حکمرانوں کے ان اعمال کے سبب معاشرے میں بگاڑ پھیل جاتا ہے۔ لہذا بگاڑ سے بچنے کے لئے حکمرانوں کو اس معاملے میں ایکشن ضرور لینا چاہیے بطور مسلم معاشرہ ہمارے حکمرانوں کو مذہبی تعلیمات کا بہترین علم ہونا چاہیے اور ان کا نفاذ بھی کرنا چاہیے۔ لیکن اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور پھر لوگ قیادت میں آکر ایسے فحش اعمال انجام دیتے ہیں جن کے سبب معاشرے میں بگاڑ پروان چڑھتا ہے۔ ایسی صورت میں معاشرے کا اخلاقی نظام بلکل پست ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے حکمرانوں کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے گمراہی کے گڑھے میں گر جاتے ہیں۔ حکمران اور اونچے طبقے کے لوگ عیش و عشرت میں اتنا مگن ہوجاتے ہیں کہ انہیں مادی دنیا سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ ایسی صورت میں معاشرے کے افراد اخلاقی اور روحانی تقاضوں سے بے توجہ ہوجاتے ہیں۔ ان حالات میں معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ زائد مال و دولت کا مالک بن کر فحش اعمال کا عادی جاتا ہے اس کے مقابلے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد فاقے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اس طرح مالدار طبقے کو مال کی زیادتی اور محتاج طبقے کو اس کی کمی نکما کر دیتی ہے۔ دونوں گروہ اخلاقی عیوب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ تشوشناک صورتِ حال آج ہماری ہے۔
    ان سارے حالات کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہم سب ہیں جہاں ہمارے حکمران غلطی کرتے ہیں ہم بھی ان کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں۔ اور پھر ان کا دفاع کیا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ دوہرے معیار کو ترک کرتے ہوئے کوئی بھی فرد جرم کرے اسے ضرور سزا دی جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی قومیں اسی لئے برباد ہوئی کہ جب کوئی بڑے طبقے کا فرد جرم کرتا تو اسے معاف کر دیا جاتا اور اگر نچلے طبقے کا کوئی فرد جرم کرتا تو اس سزا دی جاتی۔ یہ ہی دوہرا معیار آج ہمارا ہے۔ ہم سب جہاں بھی ہوں دوہرے معیار کو اپناتے ہیں جزوی مصلحتوں کو اپناتے ہیں۔ اگر ہم معاشرے میں بگاڑ کا خاتمہ اور امن کا قیام چاہتے ہیں تو ہم سب کو بطور فردِ واحد دوہرا معیار چھوڑنا ہوگا تب ہی معاشرے کی بقا ممکن ہے۔
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    از قلم نصرت پروین
    @Nusrat_writes

  • پی ایم سی کے باہر ڈاکٹر پولیس آمنے سامنے اور خوار ہوتا مریض تحریر: ناصر بٹ

    پی ایم سی کے باہر ڈاکٹر پولیس آمنے سامنے اور خوار ہوتا مریض تحریر: ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    روزانہ کی بنیاد پر احتجاج, ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا ہے, مظاہرین سخت نعرے بازی اور دھرنوں کی حکمت عملی سے جب میڈیا اور حکام بالا کی توجہ اپنی طرف مبزول کروانے میں ناکام ہو جائیں تو پرتشدد کاروائیوں کا آغاز کیا جاتا ہے, احتجاجی دھرنوں کی تاریخ اٹھا لیں تو یہ چیز عام ہے کہ جب تک پرتشدد حالات پیدا نہ کیے جائیں مجال ہے اخباری سرخیوں یا ٹی وی ہیڈلائینز یا یوں کہیں سوشل میڈیا کی نیوز فیڈ میں آپ کو جگہ مل سکے, جوں ہی مار دھاڑ کا سلسلہ چل پڑتا ہے تو بڑے نام آپ کے نام کی ٹویٹ بھی داغتے ہیں اور بڑے چینلز آپ کو ہیڈلائن کا حصہ بھی بنانے پر مجبور ہوتے ہیں, یہ ہی ہوا کل جب این ایل ای امتحان کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ملک بھر سے پاکستان میڈیکل کمیشن کی بلڈنگ کے سامنے پہنچے, پہلے تو کئی گھنٹے نعرے بازی اور تقاریر کا سلسلہ جاری رہا لیکن جب کام نہ بنا تو ڈاکٹرز کی جانب روڑ بلاک کرکے دھرنا دے دیا گیا, اس ساری صورتحال میں اب تک ایس پی صدر نوشیروان علی کی سربراہی میں خاموش تماشائی کا ہی کردار ادا کرتی رہی لیکن جب مشتعل ڈاکٹرز کی جانب سے پی ایم سی کی بلڈنگ میں داخل ہونے کی مبینہ کوشش کی گئی تو پرسکون انداز میں کھڑی اسلام آباد پولیس حرکت میں آگئی اور پھر کیا تھا میدان جنگ کے مناظر تھے, پولیس اہلکاروں کی کوشش تھی کہ کوئی ڈاکٹر پاکستان میڈیکل کمیشن کی عمارت میں نہ گھس سکے تو ڈاکٹرز کے سر پر پی ایم سی کی بلڈنگ میں فتح کا جھنڈا گاڑنے کا جنون سوار تھا, اسی کشمکش میں ڈاکٹرز اور پولیس گھتم گتھا ہوئی, پولیس نے لاٹھی چارج کیا تو ڈاکٹرز نے بھی بے دریغ اینٹیں برسائیں, اس دوران کئی ڈاکٹر کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئی, آگ کو ہوا دینے کا لمحہ تب آئے جب ینگ ڈاکٹرز کے ایک رہنماء کی جانب سے بیچ بچاؤ کروانے والے ایس پی صدر نوشیروان پر حملہ کیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس دوران پولیس افسر کی عینک ٹوٹ گئی اور وردی کو پھاڑ دیا گیا جبکہ ایس پی پولیس زخمی ہوگئے تاہم جوابی کاروائی میں اہلکاروں کی جانب سے ڈاکٹرز کی بھی درگت بنائی گئی, اس ساری صورتحال میں ایس پی پولیس اور ڈاکٹرز کی ہاتھا پائی کی ویڈیو نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ مین سٹریم میڈیا میں بھی اپنی جگہ بنائی اور افسوسناک واقعہ پر حکام بالا میں بھی غم و غصہ پایا جاتا رہا تاہم معاملات کو نمٹانے کی غرض سے ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات, ایڈیشل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد رانا وقاص, متعلقہ اے سی, قائمقام ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد ملک جمیل ظفر بھی موقع پر پہنچ گئے تاہم ڈاکٹرز کی جانب سے دو مطالبات سامنے رکھ دئیے گئے, پہلا مطالبہ گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا تھا جبکہ دوسرے مطالبے میں نائب صدر پی ایم سی کا استعفی مانگا گیا, شام تک وزارت صحت حکام کی موجودگی میں مزاکرات ہوئے اور بالاآخر گرفتار ڈاکٹرز کو رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹرز نے اس واقعہ کے خلاف ملک بھر کے ہسپتالوں میں او پی ڈی سروس بند کرنے کا اعلان کر دیا اور مریضوں کی خواری کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اب ہسپتالوں میں سماں یہ ہے کہ بیماری ساتھ لیے جیب میں چند روپے ڈال کر علاج کی غرض سے ہسپتالوں کا رخ کرنے والے غریب مریض گیٹ پر لگے بڑے بڑے تالے اور ینگ ڈاکٹرز کے نعرے سنتے ہوئے مایوس ہوکر واپسی کا رخ اختیار کر رہے ہیں, اب سوال بس اتنا ہے کہ مانا کہ مطالبات جائز ہونگے, مانا کہ پولیس نے سختی کی ہوگی لیکن اس ساری صورتحال میں اس غریب مریض کا قصور کیا ہے جو ٹیکس دیکر بھی حکومت کی فراہم کردہ بنیادی صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہوگیا؟؟؟

  • محسنِ انسانیت بحثیت معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم  (عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے)   تحریر: عرفان صادق

    محسنِ انسانیت بحثیت معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم (عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے) تحریر: عرفان صادق

    رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شمار دنیا کی ان چیدہ چیدہ اثرانگیز ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کو کئی اہم معاملات میں نئے اسالیب اور جہات سے متعارف کروایا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کامل شخصیت تھے جنہوں نے نا صرف اپنی کمال تربیت بلکہ اپنے کردار سے بھی ایسی جماعت تیار کی جن میں انسانیت کا وجودِ کامل نظر آتا ہے۔ حضرتِ انسان نے اپنی تخلیق سے لے کر رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تک ہر ایک ذات میں کوئی نہ کوئی کمی، کوتاہی یا غلطی پائی لیکن آمنہ رضی اللہ تعالی عنھا کے بطنِ اطہر سے پیدا ہونے والے لعل نے انسانیت کے لیے ایسا نادر نمونہ پیش کیا جو ہر قسم کی ھفوات سے مبرّا تھا۔ بے شمار خصائصِ جمیلہ و اوصاف حمیدہ کے مرکّب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور معلّم اور مدرّس بے مثل کردار پیش کیا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے زیادہ متاثر کن معلّم آپ کا اخلاق تھا۔ذیل میں ہم ان چند اصولِ تدریس کا ذکر کریں گے جو حیاتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ماخوذ ہیں ۔
    پہلے شاگردوں میں حصولِ علم کا شوق و جستجو پیدا کرنا پھر علم منتقل کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تدریسی طریقہ تھا ۔ کئی مواقع پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو مخاطب کرکے پہلے ان میں حصول علم کا اشتیاق پیدا کرتے پھر انتقال فرماتے ہیں مثلا: الا اخبرکم؟ (کیا میں تمہیں خبر نہ دوں ) ، الا ادلکم۔؟(کیا تمہیں ایسی چیز کی رہنمائی نہ کروں) ، اتدرون ما الغیبۃ؟ (کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے )
    اور ایسے کئی الفاظ جو انسان کو چوکنا کر دینے کو کافی ہوتے تھے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موقعہ کی مناسبت اور طالب علم کی کیفیت دیکھ کر تعلیم دیتے مثلا ایک ہی سوال” اسلام میں سب سے افضل عمل کونسا ہے ؟” مختلف صحابہ کرام رضی اللہ تعالی نے مختلف اوقات میں پوچھا تو ہر ایک کو ان کے ذاتی معاملات اور موقعہ کی مناسب دیکھ کر مختلف جواب دیا ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کے ساتھ نرمی اور شفقت کا معاملہ کرتے اور بے جا مارپیٹ اور زود و کوب کرنے سے اجتناب کرنا بھی تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی خاصہ تھا۔
    حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور خادم و طالب علم دس سال گزارے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج تک کبھی مجھے مارنا تو دور کی بات غصہ تک نہ ہوئے حتی کہ مجھے یہ تک نہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا یہ کام کیوں نہ کیا۔؟ سبحان اللہ العظیم ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو سمجھانے کے لیے کچھ کر کے پیش کرتے ہیں یا کرواتے ۔جسے ہم آج کے جدید دور میں (Activity Based Learning) کا نام دیتے ہیں جس سے موضوع کا فہم اور ادراک صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے قلوب و اذہان میں ازبر ہو جاتا ۔مثلا ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عصا سے زمین پر ایک سیدھا خط کھینچا اور کہا یہ میرا سیدھا راستہ ہے جو اس پر چلا وہ کامیاب ہوگیا ۔ اور پھر اس خط کے گرد کئی خطوط کھینچے اور کہا یہ گمراہی کے راستے ہیں۔
    اس کے علاوہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم ہر میسر آنے والے موقعے میں تعلیم کے پہلو کو اُجاگر کر کے اسے اپنے طلبہ تک پہنچاتے۔ آپنے پاس بغرضِ علم آنے والے طلباء کا خیر مقدم کرتے گفتگو کرتے ہوئے طلباء کو اپنے قریب بٹھاتے اور پھر ان کی طرف اتنی توجہ کرتے ہیں کہ سامعین بھی ہمہ تن گوش ہو جاتے اور کلام کا ایسا انداز اختیار کرتے کہ سننے والے دم سادھ کر بیٹھتے اور ایک ایک بات بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ ازبر کر لیتے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان سے نکال دیتےاحادیث کے بے شمار مجموعے اس بات کی کامل دلیل ہیں۔یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم Communication Skills) میں کمال مہارت رکھتے ۔
    شاگردوں سے محبت کے اظہار کے لئے کبھی ان کو مختصر نام یا کبھی کنیت سے پکارتے تھے ۔جیسے ایک دن ایک صحابی کو بلیوں سے کھیلتے دیکھا تو ابوہریرہ کہہ دیا اور پھر وہ تاابد راوی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بن کر رہ گئے ۔
    ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مٹی سے کھیلتے دیکھا تو ابوتراب کہہ دیا ۔
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے اپنے طلباء کے لیے تعلیم و تربیت کا بندوبست کرتے ایسے اپنے طلباء کے لئے دعائیں بھی خوب کرتے ۔مثال کے طور پر ایک دن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قرآن مجید سے محبت کا عالم دیکھا تو ان کے لئے دعا کی کہ "اللھم علمہ القرآن”
    اے اللہ ان کو قرآن کا عالم بنا دے ۔ایسی دعا کی کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ تفسیرِ قرآن کے ماخذ شمار کیے جاتے ہیں ۔
    رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب طلباء سے بات کرتے ہیں تو ان کی گفتگو میں ٹھہراؤ ہوتا اور اپنی بات کو خوب وضاحت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور حسبِ ضرورت اپنی بات کا اعادہ بھی فرما دیتے ۔ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کو تعلیم دیتے ہوئے ہاتھوں سے مناسب اشارے یعنی باڈی لینگویج کا بھرپور استعمال کرتے ۔ مثلا ایک دن فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایسے ہوں گے اور ساتھ ہی اپنی شہادت والی اوردرمیانی انگشت مبارک کوملا کر ہوا میں لہرایا۔
    معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کے فہمِ کامل کے لئے مثالوں کا استعمال کرتے ہیں مثلا ایک دفعہ فرمانے لگے کہ اللہ کو گناہ گار کا توبہ کرنا اس قدر خوشگوار لگتا ہے جیسے کسی بھوکے صحرائی مسافر کو اپنے گمشدہ زادِراہ مل جائے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مناسب اور علم طلب سوال سے خوش ہوتے اور بےکار اور باعثِ مشقت سوال پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے اور کسی سوال کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ ہوتا تو بجائے اپنی طرف سے جواب دینے یا اٹکل پنجو لگانے کے خاموش ہو جاتے اور وحیِ الٰہی کا انتظار فرماتے ۔ کسی قابلِ شرم مسئلہ پر تفہیم مقصود ہوتی تو اس سے ہرگز صرف نظر نہ کرتے لیکن ایسی باتوں کو اشارہ کنایہ کی زبان میں ایسے سمجھاتے کہ انتقالِ علم بھی ہو جاتا اور شرم و حیا کا دامن بھی سلامت رہتا۔
    ایسے ہی آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم طلبہ کسی کے عمل کو آسان بنانے کے لئے پہلے اجمالاً بیان کرتے پھر مکمل تفصیل کے ساتھ مکمل جزئیات کو سمجھاتے اگر کہیں مناسب سمجھتے ہیں کہ تھوڑے کلام سے یہ بات مکمل سمجھ آ جائے گی تو اس پر اکتفا کرتے۔ ایسی احادیث جن میں تھوڑے کلام میں گہری بات کہہ دی جائے ان کو جوامع الکلم کہا جاتا ہے مثلا "لا ضرر ولا ضرار” "اسلام میں نہ خود کو نقصان پہنچانا جائز ہے نہ کسی دوسرے کو "۔
    الغرض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطور استاد ایک کامل ترین معلّم تھے جن کے مکتب سے نکلنے والے طلباء عرب و عجم کے ایسے حکمران بنے کہ وہ عوام کے اجسام کے ساتھ ساتھ ان کے قلوب و اذہان کے بھی حکمران ہوتے تھے۔

  • اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار تحریر۔نعیم الزمان

    اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار تحریر۔نعیم الزمان

    اولاد اللہ تعالیٰ کی انسان کو عطاء کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اولاد کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” یعنی اللہ تعالیٰ نے جو اولاد تمہارے لیے مقدر فرمائی ہے اس کو نکاح کے ذریعے تلاش کرو”۔

     حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جتنے بھی انسان اس دنیا میں آئے اور اپنی زندگی بسر کرنے کے بعد اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔مگر اللہ پاک نے ہر انسان کو اولاد کی صورت میں اپنے بندوں کی پرورش کی توفیق بخشی اور اللہ نے سب کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ سب اپنے پیچھے دین اور دنیا کا جانشین چھوڑ کر جائیں۔ اولاد کی پیدائش پر رب العالمین کے آگے سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور اولاد میں خیروبرکت کے لیے دعا مانگی چائیے۔ اولاد نہ ہونے کی صورت میں اللہ کے حضور نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگنی چاہیے۔ 

    بچے قدرت کا انمول تحفہ ہوتے ہیں۔زندگی میں خوشیاں اولاد ہی کی بدولت ہوتی ہیں۔ اگر کسی گھر میں بچے نہ ہوں وہ گھر تمام تر نعمتوں کے باوجود خالی خالی سا لگتا ہے۔ اولاد کے لیے گھر پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ بچے اپنی ابتدائی عمر میں والدین سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔اور اپنے والدین کے نقشے قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی لیے بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ذمہ داری خاص کر والدہ پر زیادہ عائد ہوتی ہے جس کو اولاد کی پہلی معلمہ کا درجہ دیا گیاہے۔ اکثر اوقات والدین بچوں کو مہنگے ترین سکولوں میں داخل کروا کر ان کی ضروریات پوری کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زمہ داری پوری کر لی ۔ لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہوتا ہے جب آپ اور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو اچھی تربیت دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اولاد کی تربیت کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "ماں باپ کا اپنی اولاد کو سب سے بہترین عطیہ اچھی تربیت ہے” 

    بغیر تعلیم و تربیت کے لاڈ اور پیار سے اگر گھر کا ایک بچہ بگڑ جائے تو پورے گھر کا عیش و عشرت برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی لیے اچھی پرورش ،تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو ہر والدین پر قرض ہے۔ اولاد ہر والدین کو پیاری ہوتی ہے۔چاہے والدین غریب ہوں یا امیر۔ والدین اپنی اولاد کی پرورش اور تعلیم کے لیے ہر طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کر تے ۔اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ اولاد کی تربیت پر زیادہ توجہ دی جائے ۔ بچوں کو ابتدا سے ہی اچھی عادتیں ڈالیں۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ کر ابتدا کرنا گھر میں موجود بڑوں سے اخلاق سے پیش آنا گھر میں بغیر اجازت کس کمرے میں نہ جانے کی عادتیں ڈالیں۔ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کی عادت ڈالیں۔بچوں کے مثبت کاموں پر حوصلہ افزائی کر یں ۔ بچوں کا مذاق اڑانے سے گریز کریں۔اور غلط کاموں پر فوری سرزنش کرنی چاہیے تا کہ بچوں میں غلط عادتیں پروان نہ چڑھ سکیں۔ والدین کو بچوں کے سامنے لڑنے جھگڑنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے اقدامات بچوں کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ بچوں کو کسی بھی غلطی پر ڈانٹے سے پہلے اس کی تحقیقات کر لینی چاہیے۔ بلاوجہ ڈانٹنے پیٹنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے بچے احساس کمتری ذہنی اور جسمانی  کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اس سے بچے کی پرورش اور پڑھائی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔والدین بچوں پر تنقید سے گریز کریں جن بچوں پر زیادہ تنقید کی جاتی ہے وہ زندگی میں کو شش کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ بچوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنے رویے میں غصہ محسوس نہ ہونے دیں اور دوستانہ رویے سے پیش آئیں۔ بچوں کو کھیل کود اور سیر تفریح کے لیے بھی مناسب وقت دیں۔تا کہ وہ زیادہ تنگی کا شکار نہ ہو جائیں ۔ بحثیت والدین بچوں کو کبھی بھی مہمانوں اور باہر کے لوگوں کے سامنے برا بھلا کہنے سے گریز کریں۔ اس سے بچوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ بہت ساری منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کے سامنے بچوں کی خوبیاں بیان کرنی چاہیے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اچھے کاموں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔کوئی بھی قوم اخلاق کے بغیر خاک کے ڈھیر کی ماند ہوتی ہے۔ اس لیے اخلاقیات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اخلاقی تربیت سیکھانے کا بہترین وقت بچپن کا  ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو ابتدا سے ہی اخلاقی اصولوں سے اچھی طرح روشناس کر دیں تو یقیناً بچوں کے بالغ ہونے کے بعد ان کے بد اخلاق ہونے اور جرائم کی دنیامیں بھٹکنے کے مواقع تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔موجودہ حالات کے پیش نظر بچوں کو بلاوجہ گھروں سے باہر نہ جانے دیں ۔اگر جانا ضروری بھی ہو تو کسی بڑے کا ساتھ ہونا لازم ہے۔ایک متوازن  پرورش اور تربیت ہی بچے میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔جو زندگی گزارنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے ہم سب کو اپنے بچوں کو رزق حلال کھلانے ان کی اچھی پرورش اور تعلیم و تربیت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔اور ان تمام احباب کو اولاد نرینہ عطاء فرمائے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ اور بچوں کو اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے۔ دنیا اور آخرت میں خیر کا باعث بنائے ۔آمین 

    @786Rajanaeem

  • صنعت اور پاکستان    _تحریر: فیصل فرحان

    صنعت اور پاکستان   _تحریر: فیصل فرحان

    صنعت کسی بھی ملک کی معیشت کا بنیادی جزو  ہے صنعت کا ارتقاء 1835 سے ہوا دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنی صنعت کے ذریعے اپنے ملک کی معیشت میں انقلاب برپا کئے صنعت 1835 میں  برطانیہ سے شروع ہوئی برطانیہ نے ٹیکسٹائل صنعت کا آغاز کیا بعدازاں امریکہ اور یورپ نے اپنی صنعت پر کام کیا اور اپنا لوہا منوایا 1870 میں صنعت کے کام میں تیزی سے اضافہ ہوا

    ترقی یافتہ ممالک کی ترقی میں صنعت کا بہت اہم کردار ہے  عمومی طور پر صنعت دو طرح کی ہوتی ہے چھوٹی صنعت بڑی صنعت ۔

    چھوٹی صنعت سے مراد ایسی صنعت ہوتی ہے جس میں بیس سے کم لوگ کام کرتے ہوں ، ایسی صنعتیں آپ کو پاکستان میں مختلف مقامات پر نظر آئیں گی جیسا کے کپڑے اور دھاگے کی صنعتیں وغیرہ، ایسی صنعتوں سے علاقہ میں بے روزگار افراد کو روزگار مہیا کیا جاتا ہے اور نوجوان اپنے شہر سے روزگار کے لیےہجرت کرنے سے بچ جاتے ہیں اس سے لوگوں میں ملکی مصنوعات کے استعمال کا رجحان بھی بڑھتا ہے

    چین بنگلہ دیش امریکہ اور جاپان جیسے ممالک کے لوگ اپنی ضرورت کی اشیاء اپنے ملک میں ہی بناتے ہیں اور اپنے ملک کی بنائی گئی اشیاء کو استعمال کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ پاکستان انڈیا عرب ممالک اور افریقی ممالک مضبوط صنعت نا ہونے کی وجہ سے  اپنی ضروریات کی اشیاء بھی اپنے ممالک سے پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے انہیں دوسرے ممالک کی بنائی گئی اشیاء پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے معیشت پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔

    بنگلہ دیش نے اپنی صنعت کے لیے مؤثر پالیسیاں بنائی آج بنگلہ دیش کی صنعت پاکستان کے مقابلہ میں بہت بہتر ہے  بنگلہ دیش کی جی ڈی پی کا 28٪ فیصد حصہ صنعت سے آتا ہے   جبکہ پاکستان کی صنعت صرف 17 فیصد حصہ جی ڈی پی میں شامل کرپاتی ہے

    دوسری مثال چائنہ کی سب کے سامنے ہے جو اس وقت دنیا میں نمبر ون معاشی طاقت بن چکا ہے، اس کا مقابلہ اب امریکہ اور روس سے ہے۔ یہ وہی چائنہ ہے جو پاکستان کو 74 کی دہائی میں  رول ماڈل سمجھتا لیکن آج وہ کہاں پہنچ گئے اور ہم وہی کے وہی کھڑے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے چھوٹی صنعتوں پر توجہ دی، اپنے گھروں کو کاروباری صنعتوں میں تبدیل کر دیا یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں 60% چیزیں چائنہ کی فرخت ہو رہی ہیں 

      لیکن پاکستان پچھلے 74 سالوں میں اپنی صنعت کے لیے کوئی مؤثر پالیسیاں بنانے میں ناکام رہا ہے

    موجودہ حکومت کی کوششوں اور پالیسیوں سے پاکستان میں کاروں  کی انڈسٹری اور موبائل فونز کی انڈسٹری کا آنا ایک خوش آئند بات ہے جس سے نا صرف ملک کے ریوینیو میں اضافہ ہوگا بلکہ لوگوں کو روزگار بھی ملے گا امید ہے کہ موجودہ حکومت باقی صنعتوں لیے بھی مؤثر پالیسیاں بنائے۔ خدا میرے ملک کو زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کامیابی و کامرانی عطاء فرمائے۔ آمین۔

    Twitter handle: @Farhan_Speaks_

  • نواز شریف کے سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی بےنظیر کا حوالہ دے کر انصاف مانگے مریم نواز شریف تحریر:سفینہ

    رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے ساتھ اسلام ہائی کورٹ کے سپیشل بینچ نے بروز بدھ کو مسلم لیگ ن لی نائب صدر مریم نواز صاحبہ کی درخواست پر سماعت کی ہے ۔ اس بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروقی شامل ہیں۔ اس پیٹیشن میں تقریبا وہی سب کچھ شامل کیا گیا ہے جو ان کی مرکزی درخواست میں شامل تھا۔

    اس درخواست میں مریم نواز نے الزام لگایا ہے۔ کہ میں اور میرے شوہر (ر) کیپٹن صفدر اور میرے والد سابق وزیراعظم نواز شریف کی ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں ہر مشتمل درخواست  کو دوبارہ سنا جائے۔

    مریم نواز نے اپنے وکیل عرفان قادر کے ذریعے ہائی کورٹ پر زور دیا کہ وہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں احتساب عدالت کے فیصلے کو سنگین خلاف ورزیوں پر کالعدم قرار دے۔

    مریم نواز اور ان کے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 6 جولائی 2017 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سزا سنائی تھی ، جنہوں نے مریم نواز کو سات سال اور نواز شریف صاحب کو دس سال اور ر کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں آئی ایچ سی نے ان کی سزائیں معطل کر دیں تھیں۔

    اس درخواست میں مریم نواز نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کا بار کونسل میں خطاب کے دوران کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے۔

     کہ ایون فیلڈ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کنڑول کر رہے تھے ۔ اور انھیں سچ بولنے کی پاداش میں برطرف کر دیا گیا تھا۔

    درخواست میں سپریم کورٹ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے کیس کی تفتیش کے ساتھ ساتھ پراسیکیوشن کی نگرانی بھی کی ۔ جس کی کہیں مثال نہی ملتی ۔ کیونکہ آئین میں عدالت کا کام تفتیش کار یا کسی پراسیکیوٹر کا نہی ہے۔

    درخواست میں مزید لکھا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے آمدنی سے زائد اثاثوں میں تین الگ الگ ریفرنس دائر کئے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اور نیب شفاف طریقے سے کام کرنے میں ناکام رہا۔ جس کے وجہ سے اس ریفرنسز کے نتیجے میں کیا جانے والا ٹرائل ایک زبردستی دھونس کے ذریعے کروائے گئے فیصلے کا نتیجہ ہے۔

    مریم نواز نے اس درخواست میں دوبارہ مرحوم جج ارشد ملک کی ویڈیوز کا بھی حوالہ دیا ہے ۔ کہ انھیں کیسے پریشرائز کر کے فیصلے ہمارے خلاف کروائے گئے۔

    یہاں ایک اور بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ مریم نواز نے مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف دئیے گئے فیصلے اور پھر سابق جج جسٹس عبدالقیوم صدیقی کی آڈیو ٹیپ کا حوالہ دیا جس کی وجہ سے مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف فیصلوں کو آن ڈو کیا گیا تھا۔

    ان تمام واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے مریم نواز نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر ایون فیلڈ کیس میں دی گئی سزائیں ختم کر دیں جائیں۔آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروقی اور جسٹس محسن اختر کیانی نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف اپیل کی درخواست کو 13 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

    آج مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس کیس کا تعلق مسلم لیگ ن سے نہی ہے۔ہم کسی ادارے یا شخص کے خلاف نہی بلکہ ایک مائنڈ سیٹ کے خلاف ہیں۔

    کیا ان کے اب معاملات جنرل باجوہ سے سیٹ ہو گئے ہیں ؟ یا جان بوجھ کر جرنل فیض حمید کی افغانستان میں کامیابی اور ان کی انٹرنیشلی مثبت کریڈبلٹی کو ڈیمنج کرنا چاہ رہی ہیں ؟ کیونکہ آج کے دن ہی جنرنل فیض حمید ڈی جی ، آئی ایس آئی کے عہدے پر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد کور کمانڈر پشاور تعینات ہو گئے ہیں۔

    کیونکہ آرمی چیف بننے کیلئے کم از کم ایک کور کی کمانڈ کرنا ضروری ہوتی ہے۔ اور جنرنل فیض حمید کے مستقبل کے آرمی چیف بننے کی راہ میں یہی ایک راہ میں رکاوٹ تھی۔ جو اب ختم ہو جائے گی، اور اب وہ آنے والے سالوں میں موسٹ فیورٹ بننے والے آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔

    کیا یہ اس خوف کی وجہ سے کور کمانڈر پشاور فیض حمید کو ٹارگٹ بنا رہی ہیں؟اور ان کی شخصیت کو جان بوجھ کر متنازع بنا رہی ہیں ؟

    پھر مریم نواز کہتی ہیں ۔ کہ جسٹس شوکت صدیقی اور جنرنل فیض حمید کو کٹہرے میں کھڑا کریں ان سے حلف لیں کہ وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہیں کہ ان پر لگے الزامات جھوٹ ہیں۔ کیونکہ اگر یہ جھوٹ ہوتے تو آج تک تردید ہو چکی ہوتی۔

    تو مریم نواز صاحبہ کی خدمت میں عرض ہے عدالتیں ثبوتوں پر فیصلے کرتیں ہیں اور اسی کی بنیاد پر جسٹس شوکت صدیقی کے بیانات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔کیونکہ وہ اپنی باتوں کا پروف دینے میں ناکام رہے تھے۔ لہذا ان کی گواہی اب میرے نزدیک کوئی معنے نہی رکھتی۔

    اب بات ہو جائے مرحوم جج ارشد ملک کی جن کا حوالہ بار بار مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف دیتے ہیں۔ پہلی بات تو اب وہ جج اس دنیا میں ہی نہی ہیں اور دوسرا مرحوم جج ارشد ملک مریم نواز کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیوز کے بارے میں اپنی زندگی میں ہی پریس ریلیز جاری کر چکے ہیں ۔

     جس میں مرحوم لکھتے ہیں کہ مریم صفدر صاحبہ نے جو ویڈیوز اپنی پریس کانفرنس میں دکھائی ہیں وہ ویڈیوز نا صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ ان مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاہ و سابق سے ہٹ کر پیش کرنے کی مذہوم کوشش کی گئی ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایا جائے اور وہ یہ ہے کہ نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بار ہا نا صرف رشوت کی پیش کش کی گئی بلکہ تعاون نا کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں گئیں۔ جن کو میں نے سختی سے رد کرتے ہوئے حق اور سچ پر قائم رہنے کا عزم کیا اور اپنے جان و مال کو اللہ کے سپرد کر دیا وغیرہ ۔

    مرحوم جج ارشد ملک کی مکمل پریس ریلیز ہر طرف دستیاب ہے ۔ لہذا ایک شخص جب اپنی زندگی میں ہی ان کے الزامات کی تردید کر چکا اب اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد کورٹ ان ویڈیوز کو کیسے سچ مان لے گی ؟ اس کے باوجود اگر کورٹ چاہیے تو مریم نواز سے تمام مواد ویڈیو وغیرہ اویجنل فون اور رکارڈینگ گیجٹ بمع اس شخص کے جنہوں نے ریکارڈ کیا ۔ سب کچھ اویجنل ڈیٹا مانگ سکتی ہے۔

    لیکن میری رائے کے مطابق مریم نواز ان ویڈیوز کا اوریجنل ڈیٹا عدالت میں ہیش نہی کریں گی۔ اور نا ہی اس کیس کے اندر جان ہے ۔ یہ کیس زیادہ دور تک نہی جا پائے گا۔

    اب ہم بات کرتے ہیں بہت ہی اہم اور نئے پوائنٹ پر مریم نواز نے سابقہ وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف ایک آڈیو آ جانے پر ان کے خلاف کئے گئے فیصلے بھی آن ڈو کر دئیے گئے تھے۔ تو پھر ہمارے کیسیز میں ویڈیو پروف آ جانے کے بعد ہمارے کیس کیوں ختم نہی کئے جا سکتے۔

    مطلب ماضی میں سابقہ وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کی طرف سے مریم نواز کے والد سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے چچا شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے سسر سیف الرحمن کے خلاف لگائے گئے الزامات درست تھے؟

    کہ ماضی میں ان کے والد انکے چچا اور انکے سمدھی نے جسٹس ملک عبدالقیوم کو فون کر کے محترمہ بےنظیر بھٹو کے خلاف فیصلے کرنے کا کہا گیا؟اور ان کی آڈیو لیک ہونے کے بعد محترمہ بےنظیر بھٹو نے ثبوت کے طور پر کورٹ میں پیش کیا اور اپنے خلاف ہوئے فیصلوں کو آن ڈو کروایا۔

    ہمارے پاکستان میں اقتدار کی خاطر ایک دوسرے پر الزامات لگا کر زبردستی گرانے کا گندہ کھیل عرصہ دراز سے جاری ہے۔اور پاکستان میں کوئی ایسا شخص نہی جو اس گھناونے اور گندے کھیل میں شامل نا ہو۔ 

    آج بھی سب اسی کھیل کا تسلسل کا حصہ ہے۔ ماضی میں نواز شریف صاحب اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کے طور پر کام کرتے رہے۔  بےنظیر کیُ دونوں حکومتوں کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا مرحومہ کو زبردستی سزائیں دلوانے میں شامل رہے اور آج قسمت کا کھیل دیکھیں نواز شریف صاحب کی اپنی صاحبزادی مریم نواز اپنے والد کے ہاتھوں  ظلم ، ناانصافیوں اور سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی پاکستان کی پہلی سابقہ خاتون وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے کیس کا حوالہ دے کر انصاف مانگ رہی ہیں

  • خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    انسان کی کامیابی کا راز خوش اخلاقی میں چھاپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان دوسروں کے دل جیت سکتا ہیں ۔ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر سکتا ہے خوش اخلاقی ایک سرمایہ ہے خوش اخلاقی اچھے برتاو کا نام ہے بد اخلاقی انسان کے دلوں میں صرف نفرت پیداکرتی ہے ہم میں سے ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ اسن کے ساتھ عزت اور اخلاق سے بات کی جائیں یقین جانیئے اچھے اخلاق سے آپ لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں۔
    جس طرح بغیر خوشبو اور رنگ کے کوئی پھول پھول کہلانےکا مستحق نہیں اس ہی طرح انسانیت اور خوش اخلاقی کے بغیر کوئی انسان انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ ایک خوش اخلاق شخص میں عاجزی اورانکساری کی صفت موجود ہوتی ہے خوش اخلاقی بہت بڑی خوبی ہے۔ خوش اخلاقی عظمت اور اشرفت کی دلیل ہےانسانیت کی بیناد اخلاق پر قائم ہےاخلاق انسانی سیرت وکردار پر مبنی رویے کا نام ہے اچھے اخلاق کا خلاصہ ہے کہ انسانیت کو تکلیف نہ دینا ہے خوش اخلاقی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے خقش اخلاقی ایمان کامل کی علامت بھی ہےایک حدیث نبوی ؐ کے مطابق مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جو اچھے اخلاق کا مالک ہو اور سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہو۔
    اعلیٰ اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویے کی پرواء کیے اخلاق دیکھے بغیر اپنا رویہ اور اخلاق متعین کرےحضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :جس کے اخلا ق اچھے ہوں وہ کامل ترین ایمان والا ہے اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہو۔)

    اسلام میں اخلاقیات کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایمان و عقائد کی درستی کے بعد نیک اعمال و افعال کرتے ہوئے جب تک ایک مسلمان حُسنِ اخلاق جیسی صفت سے ہمکنار نہ ہوجائے اس کی زندگی دوسروں کے لیے نمونۂ عمل نہیں بن سکتی ۔
    اخلاقی اصول ایسے رویہ کی جانب راہنمائی کرتے ہیں جس سے خوشی ملتی ہے دل سکون میں ہوتا ہے اخلاق ضبط نفس پیدا کرتا ہے برائی کا جواب اچھائی میں دینا افضل اخلاق ہے اچھے اخلاق والے کامل مومن ہیں۔اچھے اخلاق دل جیتنے کا زبردست نسخہ ہےمسلمان کے اچھے اخلاق کی برکت سے غیر مسلموں کو دولتِ ایمان نصیب ہوتی ہےاچھے اخلاق کی بدولت دین کا کام خوب ترقی کرتا ہےاچھے اخلاق کی سے دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں اچھے اخلاق کی برکت سے انفرادی کوشش میں مشکلات پیش نہیں آتیں۔
    اللہ پاک ہمیں بھی اچھے اعلی اخلاق کی لازوال دولت سے مالا مال فرمائے اور بد اخلاقی سے ہمیں دور کرے

    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • شاہ رخ خان کے بیٹے کی آڑ میں کیا چھپایا گیا؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    شاہ رخ خان کے بیٹے کی آڑ میں کیا چھپایا گیا؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارتی میڈیا پر اس وقت ایک سٹوری کا بہت زیادہ چرچا ہوا رہا ہے اور وہ ہے بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی گرفتاری۔لیکن کیا آپ کو پتہ ہے اس خبر کو اتنا زیادہ بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟اس کی آڑ میں وہ کون سی اہم خبریں ہیں جن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟کس طرح سے مودی سرکار اور بھارتی میڈیا اپنی ہی عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟

    شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کو تین اکتوبر کو گرفتار کیا گیا اس کے بعد آج اس کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور اب سات اکتوبر تک کے لئے ریمانڈ پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے حوالے کر دیا گیا ہے آریان خان کو ممبئی کے ساحل سے دور ایک کروز شپ پر پارٹی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اس پارٹی میں منشیات کا استعمال کیا۔ ویسے سب سے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ شدت پسند مودی کے بھارت میں جہاں شراب کی فروخت قانونی ہے وہاں چرس پینے کے الزام میں شاہ رخ خان کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا۔
    خیر آریان کی گرفتاری کی اطلاع جیسے ہی سامنے آئی تو سلمان خان بھی فورا شاہ رخ خان کو تسلی دینے کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے۔ جس کے بعد پاپا رازی کی ایک بڑی فوج شاہ رخ خان کی رہائش گاہ کے باہرنظریں جمائے بیٹھی ہے تاکہ ہر آنے جانے والے پر نظر رکھی جائے اور ان کی تصاویر بنائی جائیں۔ جس کی وجہ سے شاہ رخ خان کی سیکیورٹی ٹیم نے بالی ووڈ کے ستاروں کو ہدایت جاری کردی ہے کہ وہ وہاں آنے سے گریز کریں۔ لیکن ٹیلی فون پر دپیکا پڈوکون ، کرن جوہر ، روہت شیٹی، سنیل شیٹی سمیت تقریبا تمام ہی اداکار اور اداکارائیں ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی بالی وڈ کے تمام لوگ آریان کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ آج امید تو یہ کی جا رہی تھی کہ آریان خان کو آج ضمانت مل جائیگی لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاہ رخ خان کا بیٹا اور اس کو ضمانت تک نہیں مل سکی۔ ویسے تو اس حادثے کے بعد شاہ رخ خان کو بھی احساس ہوا ہو گا کہ انڈیا میں جب عام مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو وہ کیسا محسوس کرتے ہوں گے۔ وہ ظلم جس پر شاہ رخ خان کبھی بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے، خاموش رہتے ہیں بلکہ بعد میں جاکرمودی کے ساتھ دعوتوں میں شریک ہو کر سیلفیاں بناتے ہیں۔ لیکن آج وہ مودی سرکار ان کے کام نہیں آ رہی ان کے بیٹےکو ضمانت تک نہیں دی جا رہی۔ بلکہ اس خبر کو اور زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ صرف بھارتی میڈیا کے آج تک نیوز نے اس خبر پر سو سے زیادہ ٹوئیٹس کئے ہیں۔اب میں آپ کو اس کی وجہ بتاتا ہوں کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟آپ خود سوچیں کہ آریان خان خود کوئی Celebrity
    تو تھا نہیں کہ اس کا اتنا چرچا ہو رہا ہے۔ اور نہ ہی یہ کوئی اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے اس پہلے بھی کئی بالی وڈ شخصیات کے بچے یا خود کامیاب اداکاراور اداکارائیں ڈرگز کے استعمال پر یا دوستوں کے ساتھ ڈرگز پارٹیاں کرنے کے الزامات میں گرفتار ہوتے رہے ہیں۔ اب ہو سکتا ہے کہ آپ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ ڈرگز سے متعلق خبر تھی اس لئے اس کو اتنی اہمیت دی گئی تو ایسا بھی نہیں تھا کیونکہ کچھ ہی ہفتے پہلے بھارتی گجرات کے Mundra port پر تقریبا تین ہزار کلو ڈرگز پکڑی گئی تھی جس کی مالیت تقریبا اکیس ہزار کروڑ ہندوستانی روپے بنتی تھی۔ لیکن اس پر یہ پورا بھارتی میڈیا خاموش رہا تھا اس خبر پر اتنی ہزار ٹوئیٹس نہیں ہوئیں تھیں جتنی آریان خان پر خبریں بنا کر ٹوئیٹس کی جا رہی ہیں۔ آریان کے حوالے سے شاہ رخ خان کی پرانی پرانی ویڈیوز کو بھی نکال کر دوبارہ سے وائرل کیا جا رہا ہے۔

    اس کے پیچھے مودی سرکار کی سازش کیا ہے جس میں بھارتی میڈیا بھی پارٹنر بنا ہوا ہے۔دراصل اس واقع کی آڑ میں دو بہت ہی اہم خبروں کو چھپایا جا رہا ہے۔ایک خبر تو یہ ہے کہ بی جے پی پارٹی کی حکومت والی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے روڑکی میں ایک چرچ پرتین اکتوبر کو 200 سے زائد شرپسندوں نے حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی تھی۔ اور یہ شر پسند آپ خود جانتے ہیں کہ کون ہو سکتے ہیں۔ یہ شر پسند ہندو انتہا پسند تنظیموں کے لوگ تھے جن کو مودی سرکار کی پوری سپورٹ حاصل ہے۔ اس حملے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اور ان ہندو انتہا پسندوں نے فرنیچر، تصویریں اور موسیقی کے آلات وغیرہ بھی توڑ دیے تھے۔ وہ حملہ کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے بھی لگاتے جا رہے تھے۔
    اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کو روکنے کے لئے پولیس نہیں پہنچی۔ چرچ انتظامیہ کی شکایت کے باوجود پولیس نے اب تک کسی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا بلکہ الٹا مسیحی برادری اور چرچ کے ہی نو افراد کے خلاف کیس درج کر دیا۔ اور ان پر ایک خاتون کو دھمکی دینے اور حملہ کرنے کے الزامات لگا دئیے گئے۔حالانکہ اب چرچ کے قریب ایک گھر کے پاس لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔ لیکن سیاسی دباو کی وجہ سے اب تک متاثرین کے خلاف درج کرایا گیا کیس منسوخ نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی حملے میں ملوث لوگوں کی شناخت کے باوجود ان کو گرفتار کیا گیا۔اور اس طرح کی کاروائیوں کے پیچھے ہمیشہ مودی سرکار کے پاس ایک ہی گھسی پٹی وجہ ہوتی ہے۔۔ جو کہ بی جے پی کے ریاستی صدر مدن کوشک نے اپنے بیان میں بتا بھی دی ہے کہ اس چرچ کا استعمال ہندووں کا مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہو رہا تھا۔ اس واقعے میں جو لوگ ملوث ہیں، وہ دراصل اسی کالونی کے رہنے والے تھے اور چرچ کو مذہب کی تبدیلی کے لیے استعمال کیے جانے کی وجہ سے ناراض تھے۔ اس لئے انہوں نے یہ حملہ کیا۔حالانکہ اس چرچ کو چلانے والی سادھنا لانس ایک ریٹائرڈ سرکاری اسکول ہیں جو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اب اس چرچ کو اپنی جمع کردہ رقم اور پینشن کے پیسوں سے چلاتی ہیں۔ اور وہاں ایسی کوئی کاروائی نہیں ہوتی رہی جس کا الزام ان پر لگایا جا رہا ہے۔

    اس کے علاوہ دوسری خبر جس کو آریان خان کے کیس کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ کسانوں کو معاملہ ہے۔ یہ ہنگامہ بھی تین اکتوبر کو ہی شروع ہوا تھا۔ اتوار کے روز اتر پردیش کے نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ لکھیم پور کھیری میں کچھ سرکاری منصوبوں کا افتتاح کرنے والے تھے جس کے بعد انہوں نے وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کے آبائی گاؤں میں ایک پروگرام میں شرکت کرنا تھی۔مودی حکومت کی زراعت کے حوالے سے پالیسیوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے کسان وہاں بڑی تعداد میں جمع ہونا شروع ہو گئے جہاں یہ تقریب منعقد ہونا تھی۔ کیشو پرساد موریہ پہلے اس پروگرام میں شرکت کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آنے والے تھے، لیکن بعد میں ان کے پروٹوکول میں تبدیلی کی گئی اور وہ بذریعہ سڑک لکھیم پور پہنچے۔اتوار کو دوپہر ڈیڑھ بجے جب سنگ بنیاد کا پروگرام مکمل ہوا اس وقت تک وہاں کوئی ہنگامہ نہیں تھا۔ کسانوں کا احتجاج بھی پر سکون تھا۔ حالانکہ کچھ دن پہلے اجے مشرا نے اپنے بیانات میں کسانوں کو کافی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ انھوں نے کالے جھنڈے دکھانے والے کسانوں کو خبردار کیا تھا کہ میں صرف وزیر یا رکن اسمبلی نہیں ہوں۔ جو لوگ مجھے ایم پی اور ایم ایل اے بنانے سے پہلے میرے بارے میں جانتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں کسی بھی چیلنج سے بھاگنے والا نہیں اور جس دن میں نے اس چیلنج کو قبول کر کے کام شروع کیا اس دن پالیا ہی نہیں بلکہ لکھیم پور تک چھوڑنا پڑ جائے گا، یہ یاد رکھنا۔لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب اجے مشرا کی تین گاڑیوں کا قافلہ تیکونیا کے قریب پہنچا جہاں کسان سڑک روک کر احتجاج کر رہے تھے۔وہاں ان کی کسانوں کے ساتھ گرما گرمی ہوئی اجے مشرا کے ساتھ موجود لوگوں میں سے کسی نے گولی چلائی جو ایک کسان کے سر پر لگی اور اس کے بعد حالات بگڑ گئے۔ جس پر انہوں نے اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں بھی ان کی گاڑیوں نے کسانوں کے ہجوم کو تیزی سے روندنا شروع کر دیا جس میں چار کسان کچل کر مر گئے اور تقریبا ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں کسانوں کی لاشیں سڑک کے کنارے پڑی دکھائی بھی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور دو گاڑیوں کو آگ بھی لگائی گئی۔ ایک صحافی بھی اس میں مارا گیا۔ اور کل آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔اور جب اپوزیشن رہنماوں نے وہاں پہنچنے کی کوشش کی تو ان کو بھی زبردستی روکا گیا۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کو سیتا پور کے مقام پر حراست میں لے لیا گیا جس پر راہل گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کیا حکومت پرینکا کی ہمت سے خوفزدہ ہے؟ پرینکا میں جانتا ہوں کہ آپ پیچھے نہیں ہٹیں گی- وہ آپ کی ہمت سے ڈر گئے ہیں۔ ہم انصاف کی اس عدم تشدد والی لڑائی میں ملک کے کسان کو جیت دلا کر رہیں گے۔اس کے علاوہ پارٹی عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کو بھی لکھیم پور کے راستے میں ہی روک لیا گیا۔ تاکہ کوئی وہاں پہنچ کر اصل صورتحال نہ جان سکے اور نہ ہی کسانوں کے ساتھ کسی طرح کی حمایت کا اظہار کیا جائے۔اب آپ سوچیں کہ انڈیا میں وہ اتنے بڑے واقعات ہوئے جن میں اتنے لوگ مارے گئے لیکن مودی سرکار اور ان کا چہیتا میڈیا صرف شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی خبر میں Interested تھا۔ انڈیا میں کسانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور Minoritiesکے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ دکھانے میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسی لئے آریان کو ابھی ضمانت بھی نہیں دی گئی تاکہ ابھی مزید کچھ دن تک میڈیا اسی خبر پر لگا رہے پھر باقی دونوں معاملات دب جائیں گے تو آریان کو بھی چھوڑ دیا جائے گا۔ تو یہ ہے مودی سرکار اور ان کے جعلی میڈیا کا اصل چہرہ کہ کیسے سازشیں کرکے اصل واقعات کو عوام کے سامنے آنے سے روکا جاتا ہے۔

    @afeefarao