Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دانتوں سے خون آنا ،تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    دانتوں سے خون آنا ،تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    اکثر لوگ کلینک میں شکایت لیکر آتے کہ دانتوں سے خون بہت آتا اور اسکے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی سب سے زیادہ دانتوں کے حوالے سے یہی سوال اٹھایا جاتا کہ دانتوں سے خون آنے کی وجہ کیا ھے آج میرا کالم اسی ٹاپک پر ھوگا سب سے پہلے تو ھم یہ سمجھ لیں کہ خون دانتوں سے نہیں مسوڑوں سے آتا ھے دانت بذات خود ایک ھڈی ھوتے اسلئے ان سے خون ایک ھی صورت نکل سکتا جب ان میں کیڑا اتنا گہرا لگا ھو کہ دانت پورا جڑ تک کھل جائے اور جڑ میں موجود خون کی نالی میں چوٹ یا انفیکشن بن جائے تو وہاں سے خون نکلے یہ ایک یا دو تین دانتوں ساتھ ھی ھوتا اگر کوی یہ کہے کے پورے منہ سے خون آتا رات سوتے میں یا صبح جاگتے سمے تو اسکا مطلب یہ مسئلہ دانتوں کا نہیں مسوڑوں کا ھے اور اسکا حل اگر تلاش کرنا تو ھمیں مسوڑوں کی ساخت انکے مسائل انکی بیماریوں کی وجہ اور ان بیماریوں کے حل کے طریقے دیکھنے ھونگے سب سے پہلے تو یہ کہ اللہ نے جسم میں سب سے مضبوط دانت کی ھڈی اور نازک حصوں میں مسوڑوں کو بنایا ھے یہ ایک ایسا حسین امتزاج ھے کے اللہ کی اس قدرت کو دیکھ کر انسان عش عس کر اٹھتا ھے اور جو ان مسوڑوں کا حال مریض کر لاتے دیکھ ڈاکٹر غش کر بیٹھتا خیر یہ تو ازراہ مزاح بات کی اصل بات یہ کہ ان Gums میں ایک چیز ھوتی جسکو ھم collagen کہتے انکی مضبوطی کمزوری کا تعلق Gums میں سے خون آنے کو تہہ کرتا
    دنیا میں سب سے زیادہ موجود بیماری کا نام Gingivitis ھے اسکا آسان الفاظ میں مطلب مسوڑوں سے خون آنا ھے یہاں سے پتہ چلتا کہ یہ کتنی اہمیت کی حامل بیماری ھے اگر اسکا بروقت علاج نا کیا جائے تو انسان کو دل کا مرض معدے کا اور جگر کے امراض جیسے کینسر تک بھی ھوسکتے

    اب اس بیماری کی وجوہات ھین جن میں سے کچھ منہ میں موجود کچھ منہ سے باھر کی ھیں منہ میں موجود بیماری کی وجوہات میں سے کچھ دانتوں کا صاف نا ھونے کی وجہ سے ماس خورا یعنی Calculus لگ جانا یہ سب سے پہلے ایک گندی تہہ کی صورت دانتون پر لگتی پھر اسکے بعد اس پر دانت کا کیلشیم اور منہ میں موجود چینی یعنی گلوکوز کے ذرہ جڑتے اب یہ Plaque بن جاتی پھر اسکے اوپر وقت گزرنے کیساتھ بیکٹیریا بھی شامل جوکر Calculus بنادیتے اب مسوڑے کمزور ھوکر نیچے چلے جاتے اور گھر یعنی منہ گندا ھوجاتا منہ سے بو آتی دانت ھلنا شروع ھوجاتے اسکے بعد دوسری منہ کی بیماری جیسے میں نے اوپر بتایا کہ وہ دانتوں میں کیڑا لگنا ھے اور تیسری وجہ منہ میں چھالے بننا ھے اس سے بھی یہ مسئلہ پیدا ھوسکتا پھر باری آتی باھر کے معاملات کی تو اس میں سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر معدہ ھے تیزابیت والے کھانے معدے کو خراب کرنے والی خوراک کے سب سے زیادہ اثرات منہ میں جاتے اب یہ ایک دو طرفہ ٹریفک ھے یعنی منہ کے معاملات ٹھیک نہیں تو معدہ ٹھیک نہیں رہ سکتا اور دوسرا اگر معدہ ٹھیک نہیں تو منہ نہیں ٹھیک رہ سکتا اسلئے تیزابیت والی چیزوں کا استعمال کم رکھیں اور ایسی چیزیں جو ٹھنڈی تاثیر پیدا کریں جیسے تازہ پھل اور سبزیاں انکا روز مرہ زندگی کا معمول بنایئں اسکے بعد باری آتی شوگر بلڈ پریشر کی انکی وجہ سے بھی Collagen فائبر کمزور ھوتے اور مسوڑھے خراب ھوتے پھر گردے جگر کی بیماریوں سے بھی یہ مرض ھوجاتا

    اب اسکا ایک علاج ٹھنڈی تاثیر کی چیزیں کھانا صبح ناشتے کیبعد رات سونے سے پہلے دانت صاف کرنا اچھا سا ماؤتھ واش لیکر اس سے دانت صاف کرنا کلی کرنا تین سے چار بار ھے کے کیسز میں معاملات ان سے حل نہیں ھوتے تو پھر ڈینٹل کیلنک پر ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ھوجاتا ایسے میں وہاں ڈاکٹر مرض کی تشخیص کرتا اگر صفائ کی ضرورت ھے تو لازمی کروائیں اور اگر کسی دانت کا مسئلہ تو حل کروائیں جیسے rCt یا نکلوائیں اور اگر مسئلہ بیرونی تو پھر آپکو ھر 6 ماہ بعد لازمی دانتوں کی صفائی کروانی پڑنی جب تک کہ وہ مسئلہ حل نہیں ھوتا سکیلنگ دانتوں کی صفائی اور RCt کی تفصیل میں پچھلے کالمز میں لکھ چکا ھوں انکو لازمی پڑھ لیں اس سے یہ ٹاپک سمجھنا اور آسان ھوجایئگا

    آخر میں سب سے بڑھ کر صفائی نصف ایمان ھے پر عمل ھمیں کئی بیماریوں اور آفات سے بچاتا ھے اس پر عمل کریں لازمی کریں شکریہ

  • الفاظ کی اہمیت، انتخاب اور نرم مزاجی تحریر: علی حمزہٰ

    الفاظ کی اہمیت، انتخاب اور نرم مزاجی تحریر: علی حمزہٰ

    الفاظ کی ہماری زندگی میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ آپ کسی سے بات کرتے ہوئے کس قسم کے الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں یہ آپ کی شخصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بلکہ سامنے والے کے دل پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے کہ آپ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں تو آپ کو بہترین الفاظ کا انتخاب کرنا چاہیے۔

    انسان کے دماغ میں جو کچھ چل رہا ہوتا ہے وہ اس کے رویے کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ ہم لوگ اکثر دورانِ گفتگو یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہمارے منہ سے نکلنے والے الفاظ کی وجہ سے کسی کے دل کو ٹھیس بھی پہنچ سکتی ہے۔ لہٰذا الفاظ ہی ہیں جو کسی بھی شخص کی تربیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے استعمال کیے ہوئے غیر ضروری الفاظ کے اثرات کا اندازہ بھی ہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہمیشہ اچھے اور معیاری الفاظ کا استعمال کیا جائے۔

    گفتگو میں مٹھاس اور لہجے میں نرم مزاجی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ سرور کائنات حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لب مبارک سے کبھی ایسی بات نہیں نکلی جس کی وجہ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو اتنی آرام اور ٹھہر ٹھہر کر فرماتے کہ اگر کوئی شخص آپ کے الفاظ مبارک کو گنتی کرنا چاہے تو آرام سے کر لیتا تھا۔

    ” اور اے محمدؐ، میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے”

    قرآن سورت الاسراء آیت پینتیس میں ہمیں صرف وہی کہنے کی ہدایت دیتا ہے جو بہترین ہے۔ انہیں ہمیشہ اچھے الفاظ کہنے کی عادت رکھنا چاہئے۔ (۱۷:۳۵)

    ہمیشہ وہی بات کرنی چاہیے جو سچی، صحیح اور کھڑی ہو۔ جھوٹی اور غیر معیاری گفتگو کرنے سے پہلے یہ معلوم ہو جانا چاہیے کہ اس کے برے اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    اور زمین پر اتراتا ہوا نہ چل بے شک تو نہ زمین کو پھاڑ ڈالے گا اور نہ ہی بلندی میں پہاڑوں تک پہنچے گا۔ ۱۷:۳۷ ۔

    زبان کے استعمال کے متعلق سورۃ آل عمران آیت نمبر ۱۶۷ میں اللہ منافقوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ الفاظ کو اس طرح چبا کر بولتے ہیں، جس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اُن کا مقصد کیا ہے ،

    "وہ اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللّٰه اس کو خوب جانتا ہے۔” ہمیں اس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ جب بھی بولو بات واضع ہو، اور ذو معنی الفاظ نہ استعمال کیے جائیں۔ یہی بات اللہ سورۃ البقرۃ میں آیت نمبر ۴۲ میں فرماتا ہے، باطل کو سچائی کے ساتھ گھول کر غلط بیانی سے لوگوں کو مغالطہ میں مت ڈالو۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش نا کرو۔[۲:۴۲] جب الفاظ اخلاص اور یقین کے ساتھ نہیں بولے جاتے ہیں تو، الفاظ اپنا اثر کھو دیتے ہیں۔ انسان کے اعتقادات بے معنی ہیں جب تک کہ اس کے کردار اور طرز عمل ان عقائد کا عملی ترجمہ نہ ہوجائیں۔ جب کسی انسان کا طرز عمل اس کے الفاظ کی عکاسی کرتا ہے ، چاہے یہ الفاظ کتنے ہی سادہ اور عام ہوں، لوگ اس پر اعتماد کریں گے اور اسے سنجیدگی سے لیں گے۔ ان الفاظ کی طاقت اور اثر کو اس میں پوشیدہ اخلاص اور ایمانداری لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، جس انداز میں وہ بولے جاتے ہیں، وہ بیانات یا فصاحت سے نہیں بلکہ جن الفاظ میں مخاطب کیا جا رہا ہو وہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔ایسے بول اپنے آپ میں خود ایک طاقت ہوتے ہیں۔

    ایک اور جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ رکھنے والے اور رات بھر عبادت کرنے والے کے درجہ کو حاصل کرلیتا ہے۔ (ابوداؤد)۔

    اللہ رب العزت کے حضور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • بغض عمران خان تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    بغض عمران خان تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    عمران خان نے اپنی حکومت پاکستان میں سن 2018 میں بنائی اس سے پہلے تیس سال نواز شریف پاکستان پر حکومت کرتے رہے اور دیگر پارٹیاں بھی اپنے حصے کی حکومت کرتی رہی عمران خان کی حکومت سے پہلے نواز شریف کی حکومت تھی جو کی کرپشن کیس کی وجہ سے ان کو وزیراعظم گھٹا دیا گیا تو اس کے بعد شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے معمول کے مطابق مختلف ممالک کو کا دورہ کیا جس میں امریکہ بھی شامل تھا لیکن جب انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تھا امریکہ والوں نے ایئرپورٹ پر ہیں ہمارے نئے نویلے وزیراعظم کی پینٹ اتر وادی اور چیکنگ کی نون لیگ پارٹی کو اس وقت شرم نہ آئی لیکن جب عمران خان کی حکومت آئی تو کوئی ایسا موقع نہ چھوڑا جس سے عمران خان بد نام ہو سکیں جب کوئی ایسا موقع نہ ملا عمران خان کو بد نام کرنے کا تو عمران خان کے ایک وزیر کی فوٹو کہیں سے بنوا کر سوشل میڈیا پر لگا دیں کہ یہ امریکہ میں پینٹ کروا رہے تھے یہ لوگ بغض عمران میں اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ ان کو ملک پاکستان کی کوئی پرواہ نہیں ہے ان کو صرف فرق پڑتا ہے تو اپنی سیاست سے اپنے اقتدار سے اور اپنے پیسوں سے لیکن ان کو ملک سے کوئی پروا نہیں ہے پر ہوگی بھئی کیسے 30 سال جو عوام کا پیسہ کھاتے رہے آپ جب پاکستان کو ایک مخلص لیڈر ملا ہے تو ان سے کیسے برداشت ہوگا کیونکہ ان کے کمانے کا ذریعہ تو یہی تھا جو عمران خان نے بند کر دیا یہ عمران خان کو اس حد تک برا کہتے ہیں کہ یہ مسلمان ہی نہیں ہے اگر عمران خان مسلمان نہیں ہے تو اس نے رحمۃاللعالمین تھوڑی کیوں بنائی اگر عمران خان مسلمان نہیں ہے تو اس نے امریکہ کو منھ توڑ جواب کیوں دیا اگر عمران خان ملک پاکستان کے لیے مخلص نہیں ہے تو آج  پوری دنیا پاکستان کے گیت کیوں گا رہی ہے ان کے دور میں انہوں نے یہ گیت کیوں نہیں گئے کیونکہ ان کا دھیان صرف اور صرف کرپشن پر تھا نہ کہ ملک کو آگے لے جانے میں ان کے دور میں پاکستان تنہا رہ گیا تھا پوری دنیا میں آج جب پاکستان دوبارہ ابھر رہا ہے تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے اور ہوگی بھئی کیسے نہیں یہی تو وہ لوگ تھے جو پاکستان کو ٹانگوں سے پکڑ کر نیچے کھینچ رہے تھے یہی تو وہ لوگ تھے جو ڈرون حملوں کے پیسے لے کر چپ کر جاتے تھے یہی تو وہ لوگ تھے جو اپنی جیبیں بھاری کرتے تھے اور عوام پر تشدد اور ظلم کرواتے تھے آج جب ان کو نظر آرہا ہے کہ عوام کے سامنے ہمارا سچا رہا ہے اور کل کو ہم یہ سب کچھ نہیں کر پائیں گے تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے اور یہ بغض عمران میں اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کاش انہوں نے ایک بار بھی پاکستان کے لیے سوچا ہوتا تو آج پاکستان بہت آگے ہوتا یہ عمران خان سے سوال پوچھتے ہیں کہ تم نے تین سالوں میں کیا کیا لیکن ہم ان سے سوال پوچھتے ہیں کہ آپ نے تیس سالوں میں کیا کیا یہ چاہتے ہیں کہ جو تیس سالوں میں انہوں نے کیا وہ یہ تین سال میں عمران خان کر کے دکھا دے لیکن یہ راضی تب بھی نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی کرپشن کا راستہ بند ہو چکا ہے پاکستانی عوام کو سمجھنا چاہیے پاکستان کے لیے کون مخلص ہے اور پاکستان کے لئے کون بہتر کام کر رہا ہے اور پاکستان کو آج اس مقام پر کون لے کر آیا ہے جہاں امریکہ جیسا سپرپاور بھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان ایسے ہی ترقی کرتا رہے تو بغض عمران سے ہٹ کر پاکستان کے لئے سوچیں تاکہ ہم سب مل کر پاکستان کو آگے لے کر جا سکے

    Twitter Handle : @WaseemjuttMalik

  • کشمیریوں کا سکندر – سکندر حیات خان تحریر : تابش عباسی

    کشمیریوں کا سکندر – سکندر حیات خان تحریر : تابش عباسی

    آج کی تحریر ارض وطن ، کشمیر کے اس بیٹے کے نام جس کو دنیا سردار سکندر حیات خان کے نام سے جانتی تھی – جس کا نام ہی ” حیات ” ہو اس کے نام کے ساتھ مرحوم لکھتے وقت ہاتھ اور بولتے وقت زبان ساتھ چھوڑ جاتی ہے-

    سردار سکندر حیات احمد خان یکم جون 1934 کو کشمیر کی ایک مشہور سیاسی گھرانے ، سردار فتح محمد کریلوی کے گھر پیدا ہوئے -آپ کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل نکیال سے تھا ۔

    سردار سکندر حیات خان صاحب نے ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں کریلہ اور کوٹلی سے ہی حاصل کی – آپ نے 1956 میں گارڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن مکمل کی اور 1958 میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی لاہور کا انتخاب کیا –

    وکالت کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد واپس کوٹلی تشریف لائے اور بار کونسل کے صدر بھی منتخب ہوئے -1972 میں پہلی مرتبہ ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر منتخب ہوئے اور وزیر مال بنے –

    1970 سے لے کر 2001 تک سردار سکندر حیات خان صاحب ہمیشہ الیکشن جیت کر اپنے حلقے سے ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر منتخب ہوتے رہے – ایک دو مواقع پر آپ ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب نہ ہوئے کیونکہ آپ آزاد کشمیر کے صدر کے عہدے پر فائز تھے- اس دوران آپ کے بھائی سردار محمد نعیم انتخابی سیاست میں حصہ لے کر ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوتے رہے -1985-90 اور 06-2001 کے دو ادوار میں وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر منتخب ہوئے-

    آپ پوری عمر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ساتھ ہی منسلک رہے پر 2011 میں جماعت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن (آزاد کشمیر) بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا- مگر ایک بات ، جس کا گلہ سردار سکندر حیات خان صاحب کے اکثریتی کارکنوں کو تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر ، سردار سکندر حیات خان صاحب کو وہ عزت ، وہ مقام ، وہ رتبہ نہ دے سکی جو سردار صاحب کے شایان شان تھا ۔فروری 2021، میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و قاہد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے دھیرکوٹ کے ایک جلسہ میں دعویٰ کیا کہ ” انشاء اللہ ، اپنی زندگی میں مجاہد اول سردار عبد القیوم خان صاحب والی مسلم کانفرنس کو بحال کروں گا ” – اس دعویٰ میں پہلا قدم ، سردار سکندر حیات خان صاحب کی مسلم کانفرنس میں واپسی کی صورت میں تھا – سردار سکندر حیات خان صاحب نے جماعت میں واپسی کا کریڈٹ چیئرمین یوتھ ونگ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عثمان علی خان کو دیا اور عثمان علی خان کی سیاسی تربیت کی کھل کر تعریف بھی کی -سردار سکندر حیات خان صاحب کی مسلم کانفرنس میں واپسی کے اعلان کے بعد ، سردار سکندر صاحب کے صاحبزادے سردار فاروق سکندر ( جو اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی حکومت میں وزیر مال تھے) نے والد کے فیصلے کی تائید کی اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں واپسی کا فیصلہ کیا اور اپنی رکنیت سازی کی تجدید کی –

    سردار سکندر حیات خان صاحب کے دور حکومت میں آزاد کشمیر میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے جن کی مثال آج بھی کہیں کہیں ہی ملتی ہے – آزاد کشمیر میں سڑکوں کا جال بچھایا ، تعلیمی اصلاحات پر کام کیا اور سب سے بڑھ کر مجاہد اول سردار عبد القیوم خان صاحب کے دست و بازو بن کر "کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے خوب جدوجہد کی-

    نہ صرف آزاد کشمیر ، بلکہ پاکستان کے سیاستدان بھی سردار سکندر حیات خان کی سیاسی بصیرت کے مداح تھے – بھٹو دور ہو یا ڈکٹیٹرشپ ، میاں صاحب ہوں یا بی بی شہید ، پرویز مشرف ہو یا کوئی بھی سیاسی حریف و حلیف ، سردار سکندر حیات خان صاحب سب کے ساتھ ان کے انداز سے چلنا جانتے تھے – پر جہاں مزاحمت کی ضرورت پڑی ، وہاں تاریخ نے دیکھا کہ سردار سکندر حیات خان ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے-

    9 اکتوبر 2021 ،کو سردار سکندر حیات خان صاحب کی جب کوٹلی میں وفات ہوئی تو پورے دنیا میں پسنے والے کشمیری بالخصوص جبکہ ان کے سیاسی پیروکار بالعموم افسردہ تھے – کشمیری قوم تو ابھی سید علی گیلانی صاحب و شیخ تجمل صاحب کا دکھ نہ بھولی تھی کہ سردار سکندر حیات خان صاحب بھی داغ مفارقت دے گئے – شاید اسی موقع کے لیے شاعر نے کہا تھا کہ

    کوئی روکے کہیں دست اجل کو

    ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں

    سردار سکندر حیات خان صاحب کی وفات پر ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو آنسو بہاتے اور غمگین دیکھا- سردار سکندر حیات خان صاحب کی تدفین ان کے والد محترم سردار فتح محمد کریلوی کے پہلو میں کریلہ کے مقام پر کی گئی -اللہ تعالیٰ سردار سکندر حیات خان صاحب کی بخشش و مغفرت فرمائیں اور تحریک کشمیر و تحریک تکمیل پاکستان کے لیے ان کی جدوجہد و محنت قبول فرمائیں – بیشک ، سکندر صدیوں میں ہی پیدا ہوا کرتے ہیں اور مستقبل قریب میں ایسا کوئی سیاسی لیڈر ، کم ازکم آزاد کشمیر میں تو موجود نہیں جو کہ سردار سکندر حیات خان صاحب کا متبادل ہو سکے – یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سردار سکندر حیات خان صاحب کی وفات ، ایک سیاسی کارکن یا لیڈر کی نہیں بلکہ سیاست کی ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی کی وفات ہے-

  • قومی المیہ تحریر۔محمد نسیم 

    قارئین گرامی ڈاکٹر عبدلقدیر خان صاحب کی رحلت کا علم ہوا تو سارا دن موبائل فون پر، سوشل میڈیا پر جہاں ایپ کھولتا یہ ہی خبر دیکھنے کو ملی لیکن پتہ نہیں کیوں دل مضطرب نہیں تھا آنکھوں میں آنسو نہیں اُتر سکے وہ غم و دکھ نہیں تھا جو کسی محسن کے جانے کا ہوتا ہے اور وہ شخص تو محسنِ پاکستان نہیں بلکہ محسنِ اسلام و مسلم اُمہ تھا اپنے اس عمل پر پیشمان بھی تھا اور نادم بھی مگر اس ندامت کے باوجود میرے پاس رونے کی کوئی وجہ نہیں تھی 

    کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوئی سلیبرٹی نہیں تھے اپنی ہوری جوانی کے دوران کبھی کبھار ہی انکا چہرہ ٹی وی پر دیکھنے کو ملا اور ملا بھی تو ایک مبہم سے تاریخی کردار کے طورپر جیسے کوئی غدار کہتا تو کوئی محسن پھرجب خود سے سوال کرتا کہ اگر وہ محسن پاکستان ہیں تو نظر بند کیوں ؟

    محسنوں کو تو پلکوں پر بٹھایا جاتا ہے 

    اس کی ہر راحت ہر خوشامد بجا لائی جاتی ہے اس کے چرچے کرتی دُنیا نہیں تھکتی 

    خیر قصہ مختصر کہ اسی کشمکش میں ان سے الفت نہ ہوپائی ۔

    مجھے ڈرامے کے ایک کردار "دانش” سے کافی اُلفت تھی بلکہ پورے پاکستان کو تھی اس کی ڈرامے کی غیر حقیقی موت پر بھی میرے سمیت ہر پاکستانی صدمے میں تھا اور ہر کسی کا دھاڑیں مار مار رونے کو دل کرتا تھا اور سوشل میڈیا پر ہم نے دیکھا سینکڑوں کی تعداد میں ویڈیوز آئیں جب دانش مررہا تھا اور ہفتہ بھر قوم سوگ میں رہی تھی

    مگر  ڈاکٹر عبدلاقدیر خان صاحب کی دفعہ میرے سمیت قوم کے جذبات ویسے نہ تھے ہر کوئی میری طرح اناللہ واناالیہ راجعون لکھ کر تعزیت تو کررہا تھا مگر دل پہ وہ چوٹ نہیں تھی وہ دکھ نہ تھا وہ درد نہ تھا وہ تڑپ نہ تھی جو دانش کے مرنے پر تھی 

    دانش تو ہم سب کا پیارا تھا اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئیے ڈرامے کورپیٹ کرتا اور ایک ہی قسط کو دو سے تین بار دیکھتا تھا

    مگر ڈاکٹر عبدلقدیر خان سے محبت الفت کیا ان سے ملاقات کی خواہش کبھی دل میں نہ آئی میں جیسے سلیبرٹیزکے ساتھ تصویریں کھنچوانے کے لئیے بے تاب رہتا تھا اور اپنے پسنددیدہ فنکاروں کے ساتھ باتیں کرنے ملنے کی جو چاہت میرے دل  تھی ڈاکٹر عبدالقدیر کے لئیے کبھی نہ ہوئی اور شاید آدھے سے زیادہ پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے 

    چنانچہ یہ سب سوچ کر میں نے اپنے اندر اُٹھنے والی ندامت کو کامیابی سے دبا دیا اور سوشل میڈیا کو چلانے لگا اچانک ایک مولانا کی ویڈیو سامنے آئی تو ان کو بھی دوسرے تجزیہ کاروں کی طرح سُن ہی لیا مولانا نے اس وڈیو میں اپنی ڈاکٹر قدیر خان سے ملاقات کا احوال بتایا کہ جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ چوُم لئیے جس پر ڈاکٹر صاحب بھی حیران ہوئے اور پوچھا کہ مولانا صاحب سفید داڑھی کے ساتھ ایسا کیوں ؟

    مولانا نے جواب میں بڑی کمال کی بات کی اور حدیث نبوی ﷺ  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو تیر بنائے جو تیر پہنچائے اور جو تیر چلائے دونوں کے لئیے جنت کی بشارت ہے لہذا مولانا صاحب نے فرمایا کہ او شیرا تو تا (تم نے) تو ایٹم بم بنایا ہے 

    مولانا کی اس بات نے عبدالقدیر صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ایک عجیب حیرت میں ڈال دیا کہ آج کے مولانا جن کی خدمتیں کرتی عوام نہیں تھکتی اور مذہبی خدمات کی وجہ سے جنکا الگ ہی پروٹوکول ہوتا جن کے ہاتھ چومتے لوگوں کے ماتھے تھکتے نہیں انہوں نے ماتھا جھکا کر ڈاکٹر عبدلقدیر صاحب کے ہاتھ کو چوُما ڈاکٹر صاحب کا یہ پروٹوکول مجھے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا سا لگا 

    چنانچہ دونوں باریش بھی نہ تھے تو کافی مماثلت بھی پیدا ہوگئی

    خیر رات ہوئی دن بھر کا تھکا ہارا پہلی فرصت بستر پر گرا اور رات کے پہلے حصے میں ہی نیند کی آغوش میں جاگرا 

    صبح صادق اُٹھا یہ صبح بھی دوسرے دنوں کی طرح نہایت پُرسکون تھی مگر موسم کی وجہ سے خنکی تھوڑی زیادہ تھی خیر نماز سے فارغ ہوکر قرآن پاک کی تلاوت کے لئیے قرآن پاک کو چُوم کر کھولا چُومنے سے ایک بار پھر مجھے مولانا کا ڈاکٹر عبدلقدیر کا ہاتھ چُُومنے والی بات یاد آگئی کہ عبدلقدیر صاحب نے ایٹم بم بنایا ہے اس لئیے ہاتھ چُومے تیروں والی حدیث بھی ذہن میں آگئی دماغ میں چلنے والی اس غیر ارادی افکار کی گھتیاں سلجھارہا تھا کہ تیر بنانے والا جنت میں کیوں جائیگا ؟

    ذرا غور کیا تو یہ ہی نتیجہ نکال پایا کہ تیر اندازوں کو تیرایجاد کرنے اور چلانے پر جنتی اعزاز سے نوازا گیا تھا بلکہ انکی خلاصی اور بخشش کی وجہ ان کے عالمِ اسلام کی سربلندی کے چلنے اور اُٹھنے والے ہاتھ تھے جب ڈاکٹر عبدلقدیر کے کام کو اس کسوٹی پر رکھا تو مولانا صاحب کے جملے پر دم بخود سا رہ گیا 

    "اوشیرا! تو تا ایٹم بم بنایا” یعنی کہ دورحاضر میں عالمِ اسلام کی اس خستہ حالی میں اسلام کو ایٹمی طاقت بناکر اسلام کا پرچم تا قیامت سر بلند کردیا 

    بس اسی سوچ کا دماغ میں آنا تھا کہ دماغ میں الجھی ساری گتھیاں سلجھ گئیں اپنے اندر کی ندامت جسے میں زبردستی بڑے زعم سے اپنے اندر چھپائے بیٹھا تھا آنسو بن کر رخساروں پر بہنے لگے اب مجھے اس ولی اللہ کے بچھڑنے کا غم منانے کی وجہ تھی 

    کہ آج ہم جس ملک پاکستان میں مذہبی آزادی کے ساتھ عبادات کرتے ہیں عیدیں مناتے ہیں ہماری داڑھیاں محفوظ ہیں اور آزادی کے ساتھ عید قرباں پر جانور اللہ کی راہ میں قرباں کرتے ہیں کیونکہ ہم دشمن کو اسی ایٹمی طاقت کی وجہ سے روکے ہوئے ہیں 

    لیکن پھر بھی اس ندامت اور نااہلی کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن ہائے افسوس!میری اس کوشش کے دوران بھی "آنسو ” آنکھوں کا دامن چھوڑ چکے تھے 

    جیسا کہ تحریر میں پہلے ذکر کرچکا کہ یہ سارا معاملہ تلاوت کلام پاک کے دوران پیش آیا میرے آنسو حلقہِ رخسار کو چھوڑ کر کلام الہی کے پاک صفحوں پر گرنے ہی والے تھے کہ خود کو سنبھالا دیا اور اپنے ان مجرمانہ آنسوؤں کو مجرمانہ دامن میں سمیٹ لئیے 

    سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے یہ برداشت نہ ہوا کہ میرے یہ گناہ گار آنسو کلام پاک کو چھونے کی جسارت کریں 

    آخر پر اتنا ہی کہوں گا کہ قوم اس پیارے ملک پاکستان کو بنانے والے بابائے قوم قائداعظم اور اس ملک پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدلقدیر کی احسان مند رہے گی 

    @Naseem_Khemy

  • پاکستان میں ٹریفک کا نظام تحریر: فرمان اللہ

    میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں کافی عرصے بعد کچھ دن پہلے پاکستان آیا ہوں۔ چونکہ ہم دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں تو ہمارے لیے آسان ہوتا ہے دوسرے ملکوں اور پاکستان کے نظام میں فرق کرنا۔ میں ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہوں تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ ان بنیادی مسائل کو اجاگر کروں گا جن کا تعلق صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام سے بھی ہو اور آج ان مسائل میں سے ایک اہم مسلہ ٹریفک کا نظام ہے۔

    اس آرٹیکل میں میں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے ٹریفک نظام کے حوالے سے لکھوں گا۔ ٹریفک قوانین عوام کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے اوپر ظلم کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے ذکر کروں گا ریڈ سنگل کا کراس کرنا۔ ریڈ سگنل کو ہماری عوام ایسے کراس کرتی ہے جیسے دنیا میں لوگ گرین سگنل کو کراس کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں ریڈ سگنل کراس کرنا ایک سنگین جرم ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ اسے جرم نہیں سمجھتے اور بہت سارے مقامات پر میں نے دیکھا ہے کہ ٹریفک پولیس بھی ریڈ سگنل کے کراس کرنے کو اتنی اہمیت نہیں دیتی جس کی وجہ سے عوام بغیر سوچے سمجھے ریڈ سگنل کراس کر لیتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔

    دوسرا سیٹ بیلٹ کا نہ باندھنا
    پاکستان میں لوگ سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر کرتے ہیں اور سیٹ بیلٹ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ہمارے حفاظت کرتا ہے لیکن شاید ٹریفک پولیس کی طرف سے اس کی اہمیت کو اتنا اجاگر نہیں کیا گیا اور نہ سختی کی گئی جس کی وجہ سے عوام سیٹ بیلٹ کا استعمال نہیں کرتی۔

    تیسرا یو ٹرن
    پوری دنیا میں یو ٹرین صرف ایک لائن سے کیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں دو دو تین تین لائنوں سے یو ٹرن کیا جاتا ہے جو ایک جرم بھی ہے اور ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

    راونڈ اباوٹ
    پوری دنیا میں راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے سے پہلے گاڑی روکی جاتی ہے دیکھا جاتا ہے کہ کیا راونڈ اباوٹ میں کوئی گاڑی تو نہیں اگر ہے تو اس کے گزرنے کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اس کے برعکس چلا جاتا ہے۔ راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے والا بغیر احتیاط کیے راونڈ اباوٹ میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ راونڈ اباوٹ میں گھومنے والی گاڑی اس کے لیے راونڈ اباوٹ کے اندر ہی رک جاتی ہے جو انتہائی غلط عمل ہے۔

    اس کے علاوہ بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن کا اگر میں زکر اس آرٹیکل میں کروں تو یہ آرٹیکل بہت لمبا ہو جائے گا میں نے کچھ اہم ایشوز کا زکر کیا ہے جن کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک کوتاہی روڈ مارکنگ کا نہ ہونا جس کی وجہ سے زیادہ تر ڈرائیور لائن کی پابندی نہیں کرتے۔ ہر روڈ پر روڈ مارکنگ ہونی چاہیے اس کے علاوہ بہت سارے سگنل کام نہیں کرتے جو ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو جائے۔

    شکریہ

    Article by: Farman Ullah
    Twitter ID: @ForIkPakistan

  • بھارت میں پاکستان کے خلاف کرکٹ کے حوالے سے نفرت انگیز مہم

    بھارت میں پاکستان کے خلاف کرکٹ کے حوالے سے نفرت انگیز مہم

    بھارتی انتہا پسند ہندو اور شر پسند میڈیا پاکستان کے خلاف بیان بازی کرنے اور نفرت مواد نشر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا-

    باغی ٹی وی : بھارتی انتہا پسند ہندو اور میڈیا آئے دن پاکستان کے خلاف کوئی نہ کوئی نفرت انگیز بیان جاری کرتا رہتا ہے اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرکے بین الاقوامی شطح پر پاکستان کی ساکھ خراب کرنے کے موقع کے تلاش میں رہتا ہے جبکپہ وہ سچ سامنے آنے پر خود ہی دنیا کے مذاق اور تنقید کا نشانہ بن جاتا ہے-

    بھارت: احتجاج کے دوران کسانوں پر گاڑی چڑھانے والاوزیر کا بیٹا گرفتار

    لیکن اس کے باوجود بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا بھارتی چینل اسٹارز سپورٹس نیٹ ورک کی جان سے بنائی گئی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں آئی سی سی ورلڈ کپ کے حوالے سے اشتہار دیا گیا ہے-


    ویڈیو کے مطابق دبئی کے ایک مال میں ویڈیو میں موجود پاکستانی کا روپ اپنائے ایک شخص آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دیکھنے کے لئے بڑی ایل سی ڈی دکھانے کا کہتا ہے اور پھر پاکستانی کرکٹر بابر اعظم اور رضوان کی اچھی پرفارمنس کے لئے امید کا اظہار کرتا ہے کہتا ہے کہ وہ دبئی سے ایسے چھکے ماریں گے کہ دہلی کے شیشے ٹوٹیں گے اور کپ چھین کر لیں گے-

    بھارت: مسلم خاندان پر ہندو انتہا پسندوں کا انسانیت سوز ظلم

    جس پر انڈین سکھ کا روپ اپنائے شخص اسے دو ٹی وی دیتا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آپ ہم سے پانچوں بار ہارے ہیں اس بار بھی پٹاخے پھوڑنے سے تو رہے کچھ تو پھوڑو گے ٹی وی ہی سہی-

    بھارت معاشی تباہی کی طرف گامزن:ایئرانڈیا کوٹاٹا کپمنی کے ہاتھوں بیچ دیا

  • واٹس ایپ کا اہم فیچر ختم کرنے کا فیصلہ

    واٹس ایپ کا اہم فیچر ختم کرنے کا فیصلہ

    دنیا بھر میں پیغام رسانی کی معروف ایپ وٹس ایپ آئے روز نئے فیچرز متعارف کراتا رہتا ہے لیکن اس بار کمپنی کی جانب سے فیچر ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وٹس ایپ انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ گوگل ڈرائیومیں لامحدود اسٹوریج کے آپشن کو ختم کر کے صارفین کو صرف 200 ایم بی کا آپشن دیا جائے اور وہ صرف اتنے ہی مسیج محفوظ رکھ سکیں گے۔

    گوگل ڈرائیو میں پیغامات کو محفوظ رکھنا نہ صرف آسان بلکہ موثر ترین طریقہ تصور کیا جاتا ہے خیال کیا رہا ہے کہ وٹس ایپ آنے والی اپ ڈیٹس کے اندر اس آپشن کو متعارف کرائے گا جویقینی طور پر صارفین کے لیے ایک اچھی خبر نہیں ہو گی۔

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    واضح رہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور اپلیکیشنز ہر چند ماہ بعد صارفین کی سہولت کے پیش نظر تبدیلیاں کرتی رہتی ہیں، اس مقصد کے لئے وہ مختلف قسم کے سرویز کراتی ہیں اور اپنے یوزر / صارفین سے آراء طلب کرتی ہیں کہ وہ کس قسم کے اپشن میں مزید بہتری چاہتے ہیں.

    سروس میں بندش پر واٹس کا وضاحتی بیان جاری

    گزشتہ ماہ خبریں تھیں کہ سماجی رابطوں کی اپلیکیشن ‘واٹس ایپ’ کی نئی آنے والے اپ ڈیٹ میں کچھ نئی تبدیلیوں کا امکان متوقع ہے جن میں سب سے بڑی تبدیلی، واٹس ایپ پہ ساتھی سے اپنا last seen چھپانا ہے، جبکہ وہ آپکی contact list میں بھی موجود ہو. واٹس ایپ کی موجودہ اپ ڈیٹ تک ایسا کوئی فیچر یا آپشن متعارف نہیں کرایا گیا تھا کہ آپ ایسے شخص سے اپنا last seen چھپا سکتے ہوں جو آپ کی contact list میں موجود ہو. آپ کو ایسا کرنے کے لئے یا تو اس کا نمبر ڈیلیٹ کرنا پڑتا تھا یا پھر دوسرا آپشن بلاک کی صورت میں دستیاب تھا. مگر اب آپ اپنے موبائل میں محفوظ کردہ نمبرز سے بھی اپنا last seen چھپا سکتے ہیں.

    "سافٹ بلاک” ٹوئٹر کا صارفین کے لئے نیا پرائیویسی فیچر

    واٹس ایپ کا یہ فیچر کافی لوگوں کے لئے مددگار ثابت ہو سکتا ہے. بالخصوص ان لوگوں کے لئے جن کو بہت سارے لوگوں کے نمبر اپنے پاس save محفوظ رکھنے ہوتے ہیں.

    انسٹاگرام میں نئے فیچر کی آزمائش

  • فیس بُک نے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو خوشخبری سنا دی

    فیس بُک نے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو خوشخبری سنا دی

    سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے لئے نئی پالیساں جاری کرنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فیس بک نے صحافیوں اورسماجی کارکنوں کو عوامی شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کو ہراسانی سے بچانے کے لیے پالیسیاں مزید سخت کردیں ہیں-

    اس ضمن میں فیس بک کے گلوبل سیفٹی چیف اینٹی گونے ڈیوس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو ہراسانی اور دھمکیوں سے بچانے کے لیے پالیسیاں سخت کی گئی ہیں جس کے تحت اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ بھی کیا جاسکے گا۔

    فیس بُک کمائی کیلئے پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے سابق مینجر کے تہلکہ خیز انکشاف

    عوامی اعداد و شمار کے قوانین میں اپنی تبدیلیوں کے علاوہ فیس بک نے نوجوان صارفین کو ایپ سے بریک لینے اور نقصان دہ مواد سے دور کرنے کیلئے نئے فیچر متعارف کروانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    فیس بک انتظامیہ کے مطابق عوامی شخصیت قرار دیئے گئے ریاست مخالفین کو نشانہ بنانے والے نیٹ ورکس کو بھی اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس سے محروم کیا جائے گا-

    جبکہ اس کے برعکس قبل ازیں فیس بک کی ایک سابقہ ملازمہ نے انکشاف کیا تھا کہ ہمیشہ عوامی بھلائی کے بجائے کمپنی کے مفادات کو اہمیت و اولیت دیتا ہے اور کمائی کی خاطر سوشل ویب سائٹ کا الگورتھم ہی اس انداز کا بنایا گیا ہے کہ وہ پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

    سروسز متاثر ہونے کے بعد فیس بُک کواسٹاک مارکیٹ میں 50 ارب ڈالر کا نقصان

    یس بک کی سابق ملازمہ فرانسس ہافن نے امریکی ٹی وی چینل ’سی بی ایس‘ کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک کو صارفین کی ذہنی صحت یا فلاح و بہبود سے کوئی غرض نہیں، وہ صرف اپنی کمائی کو اہمیت دیتا ہے-

    فرانسس ہافن کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فیس بک، تشدد اور نفرت انگیز مواد سمیت غلط معلومات پر مبنی پوسٹس کو ہذف کرتا ہے یا انہیں ہٹا دیتا ہے، تاہم ایسا نہیں ہے فیس بک صرف 5 فیصد تک نفرت انگیز جب کہ ایک فیصد سے بھی کم پرتشدد مواد کو ہٹاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ وہ رواں سال کے آغاز تک فیس بک کی ٹیم کا حصہ تھیں، بعد ازاں وہ ان سے الگ ہوگئیں اور ماضی میں وہ گوگل اور پنٹریسٹ جیسی ویب سائٹس کے ساتھ بھی کام کر چکی ہیں۔

    فیس بک انسٹاگرام اور واٹس ایپ 7 گھنٹوں بعد ، مارک زکر برگ کا کتنا نقصان ہوا؟

    انہوں نے گوگل اور پنٹریسٹ سے فیس بک کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک ان سے زیادہ خطرناک اور پرتشدد مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

    انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فیس بک کا الگورتھم اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ وہ مبہم اور غلط معلومات کو فروغ دیتا ہے، تاکہ لوگ کافی دیر تک ویب سائٹ پر چیزوں کو سرچ کرکے حقائق جاننے کی کوشش کریں، کیوں کہ ایسے عمل سے اس کی کمائی بڑھتی ہے۔

    واٹس ایپ،فیسبک، انسٹاگرام ڈاؤن: ٹوئٹر خوش، معروف کمپنیوں کے دلچسپ ٹوئٹس

  • استاد اور اس کی شفقت تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    میرا نام وسیم ریاض ہے میرا تعلق جھنگ  شہر سے ہے میں جھنگ میں اپنا ایک کلینک چلاتا ہوں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ میں اس مقام تک کیسے پہنچا اس مقام تک پہنچنے کے لیے استاذہ کرام اور میرے والدین کا کیا کردار تھا میں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے قریبی سکول تور ہائی سکول سے حاصل کی چوتھی کلاس تک تو بہت مزے سے زندگی گزر رہی تھی لیکن جیسے ہی پانچویں کلاس میں آئے تو سب بچوں کے منہ پر تھا کہ ہمارے نئے انچارج آئے ہیں جو کہ بہت ظالم ہے اور بہت مارتے ہیں لیکن میں اس بات کو مذاق سمجھتا رہا چند دن کلاس میں گزرے تو ایک روز میں سکول میں کام کرکے نہ گیا تو سر نے میرے ہاتھ پر دو ڈنڈے مارے زور سے جس کی مجھے بہت تکلیف ہوئی اس کے بعد میں سر کے ڈر سے ہمیشہ کام کرکے جاتا تھا ایک مرتبہ سر میں میتھ کا ٹیسٹ دیا وہ ہم سب تیار کرکے آئے اس ٹیسٹ میں میرے 40 میں سے 35 نمبر آئے  لیکن اس کے باوجود بھی سر نے مجھے پانچ ڈنڈے مارے تاکہ مجھے یہ یاد رہے تمہیں پانچ نمبر کیوں کاٹے اور میں آگے اس کی پانچ نمبروں کی بھی تیاری کرو تاکہ آنے والے امتحانوں میں میں پورے نمبر لے سکوں اس وقت بے شک یہ ایک ظلم لگتا تھا اردو ایسے لگتا تھا کہ میں کسی قید خانے میں آگیا ہوں صبح اسکول جانے کا دل نہیں کرتا تھا اور رات کو کام یاد کیے بغیر نیند نہیں آتی تھی یہ خوف اور یہ پڑھائی اس کا یہ صلاح ملا کے  پانچویں میں میرے 85% نمبر آئے جب میں نے اپنے نمبر دیکھیں تو مجھے وہ سب مارے ہیں وہ سب ظلم بھول گئے اور مجھے ایسے لگ نے اور مجھے ایسے لگ گیا کہ یہ سر نہیں یہ ایک فرشتہ ہے کہ انہوں نے مجھ جیسے ایک نالائق بچے کو بھی اس قابل بنا دیا کہ وہ اچھے نمبر حاصل کرسکتا ہے تھوڑی سی محنت اور توجہ سے لگن کے ساتھ ایسے ہی سلسلہ چلتا رہا اور میں اپنی تعلیم جاری رکھتا رہا اور بہت سے استادوں کی شفقت حاصل کرتا رہا آج اگر میں ڈاکٹر ہوں تو صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی محنت کی وجہ سے اگر وہ محنت نہ کرتے تو شاید میں آج اس مقام پر نہ ہوتا۔ آج اس بات کا فرق پتہ چلتا ہے کہ جن استادوں نے ہم پر محنت نہیں کی انہوں نے ہم پر کتنا ظلم کیا حقیقت میں۔ آج میں ڈاکٹر ہوں اپنے شہر میں ایک نام ہے ایک مقام ہے یہ صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہے جنہوں نے مجھ پر اتنی محنت کی مجھے پڑھایا تاکہ میں قابل انسان بن سکوں اور معاشرے کے لئے بہتری کا سبب بن سکوں کیونکہ بہترین انسان وہی ہے جس سے دوسرے انسان کو فائدہ پہنچے۔ بچپن میں ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے جو مارتے بھی نہیں تھے اور پڑھاتے بھی نہیں تھے گھر کے کام کرواتے تھے تو ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے دل کرتا تھا کے ساری زندگی ان استادوں کے پاس پڑھیں۔ لیکن حقیقت میں وہ ہماری زندگی تباہ کر رہے ہوتے تھے یہ بات اب سمجھ آتی ہے جب ہم کسی مقام پر پہنچے ہیں کا میری آپ سب لوگوں سے اپیل ہے اپنے بچوں کے لئے اچھا سوچیں اور اچھے سکول کا انتخاب کریں تاکہ وہ استاد کی شفقت سے محروم نہ رہے اور ان کو اصل معنی میں محنتی استاد ملے تاکہ وہ آپ کے بچوں پر محنت کرے اس تاکہ آپ کے بچے کا کوئی قابل انسان بن سکیں میرے آپ سب والدین  سے درخواست ہے کہ جب بچہ آپ کو آکر کہے کہ آج مجھے استاذہ کرام نے مارا ہے تو ان کو آگے سے جھڑکے اور کہیں کہ آپ سکول کا کام کر کے جاتے تو استاذہ کرام آپ کو نہ مارتے کیونکہ جب تک آپ بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے اس معاملے میں کہ آپ کو استاذہ  کرام نے کیوں مارا تب تک آپ کا بچہ نہیں پڑھے گا اور استاد بھی اصل معنی میں آپ کے بچے پر محنت نہیں کر سکیں گے اور جب کل کو آپ کا بچہ اچھے مقام پر نہیں پہنچ سکے گا تو آپ کو اس بات کا پچھتاوا ہو گا
    Twitter: @WaseemjuttMalik