Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس اور فیک نیوز، تحریر:عفیفہ راؤ

    پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس اور فیک نیوز، تحریر:عفیفہ راؤ

    پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس تو کھل چکا۔ لیکن اس وقت پنڈورا پیپرز کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا ایک بار پھر سے بہت چرچا ہو رہا ہے۔ وہی فیک نیوز جس کی ابھی تک کوئی ایک تعریف تو سامنے نہیں آسکی جسے سیاسی جماعتوں اور صحافیوں سمیت پوری قوم تسلیم کر سکے لیکن ہمارے سیاستدان خود فیک نیوز پھیلانے میں اب شامل ہو گئے ہیں تاکہ اتنے اہم معاملے کو غیر سنجیدہ کیا جا سکے۔پانامہ میں چار سو سے زائد لوگ تھے لیکن اب کی بار پنڈورا پیپرز میں سات سو سے زائد افراد ہیں۔ پانامہ کیس میں ہم نے دیکھا تھا کہ چار سو میں سے صرف ایک ہی خاندان تھا شریف خاندان جس کے خلاف کوئی خاطرخواہ کاروائی ہوئی تھی باقی شاید کسی کا نام بھی اب لوگوں کو یاد نہیں ہو گا کہ ان لیکس میں اور کون کون تھا۔اس پینڈورا پیپرز میں جس بات پر سب سے زیادہ خوشی منائی جا رہی ہے وہ یہ کہ اس میں عمران خان کا نام شامل نہیں ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں بہت سے ایسے لوگوں کے نام شامل ہیں جو کہ عمران خان کی حکومت میں ہیں اور ان کے بہت قریبی ہیں۔اس لئے ایک طرف تو یہ اس حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس ہے کہ عمران خان اب کس کس کے خلاف کاروائی کروائیں گے۔لیکن دوسری طرف بغیر کسی تحقیق کے ہمارے وفاقی وزیر شیخ رشید کہتے ہیں کہ یہ ٹائیں ٹائیں فش ہے اس میں سے کچھ نہیں نکلا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ مثال بھی دی کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔۔۔

    لیکن ایک بات جو پانامہ پیپرز میں اور پینڈورا پیپرز میں مختلف ہے وہ یہ کہ پانامہ کے ٹائم پر جن لوگوں کا اس میں نام آیا تھا وہ اس پر اپناResponseدیتے ہوئے بہت ہچکچاتے تھے۔ لیکن اب کی بار پینڈورا پیپرز میں جن کا بھی نام آیا ہے ان میں سے بہت سے لوگوں کاResponseبھی سامنے آ رہا ہے جس کی وجہ سے اب کی بار انLeaksکی وہ دہشت محسوس نہیں ہو رہی جو پہلے ہوئی تھی۔اس میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی یہ پینڈورا پیپرز سامنے آئے ہمارے اپنے وفاقی وزیر اور ایک مشیر نے فیک نیوز پھیلانا شروع کر دیں۔اور یہ وہی وزیر ہیں جو میڈیا کے حوالے سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک بل پیش کرنا چاہ رہے تھے تاکہ فیک نیوز کے پھیلاو کو روکا جا سکے۔ اور اب وہ خود ٹوئیٹر کے زریعے فیک نیوز پھیلا رہے ہیں جس پر بہت سے صحافی اور سوشل میڈیا فالوورز اب یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ فیک نیوز دینے والے صحافیوں کے خلاف جو جرمانے اور سزائیں ان وزیر صاحب کی طرف سے تجویز کی گئیں تھیں کیا اب فواد چوہدری اور شہباز گل کو وہی سزا نہیں ملنی چاہیے؟ کیا ان کے خلاف ویسی کاروائی اور جرمانے نہیں ہونے چاہیں جو کہ صحافیوں پر یہ لاگو کروانا چاہتے تھے؟
    دراصل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے سیاسی روابط شہباز گل نے دعوے کیے کہ پینڈورا پیپرز میں جن پاکستانیوں کے نام ہیں ان میں ایک نام مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا بھی ہے۔فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں یہاں تک بھی کہا کہ۔۔ علی ڈار جو نواز شریف کے داماد ہیں ان کے نام آف شور کمپنی کے بعد اب نئی اطلاعات یہ ہیں کہ مریم نوز کے بیٹے جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں ، اس خاندان کو کتنا پیسہ چاہئے؟شہباز گل نے جنید صفدر کے حوالے سے پی ٹی وی پر چلنے والی خبر کا سکرین شاٹ لگا کراپنی ٹوئیٹ میں مریم صفدر کو نشانہ بنایا اور یہ ٹوئیٹ کی کہ۔۔۔ کیا ایسے ہو سکتا ہے کسی چوری وغیرہ کی تحقیق ہو اور مریم باجی پیچھے رہ جائیں ؟ کبھی بھی نہیں۔اور یہ نہیں کہ ان دونوں حضرات نے صرف یہ خبر ٹوئیٹ کی تھی بلکہ شہباز گل نے اے آر وائی کے ایک پروگرام میں بھی پی ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنید صفدر کا نام ان دستاویزات میں شامل ہے اور فواد چوہدری نے ڈان ٹی وی کے پروگرام میں یہی بات دوہرائی۔جبکہ دو پاکستانی صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی جو اس تحقیق میں شامل رہے ہیں ان سے جب ایک چینل پر یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے صاف کہا کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔اس کے علاوہ پنڈورا لیکس کے نام کے ایک اکاونٹ سے بھی جنید صفدر کے بارے ٹوئیٹ سامنے آئیں کہ۔۔ ہماری تحقیق کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نواسے جنید صفدر کی تین شیل کمپنیاں اور دو آف شور کمپنیاں سی شیلز اور ورجن آئی لینڈ میں ہیں۔لیکن جب عمر چیمہ نے اس کی تردید کی اور اس اکاونٹ کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ جعلی ہے تو کچھ وقت کے بعد وہ اکاونٹ ڈیلیٹ ہو گیا لیکن فواد چوہدری اور شہباز گل کی ٹویٹس ابھی بھی موجود ہیں بلکہ ان کے اکاونٹس سے ایسی ٹوئیٹس کو بھی ری ٹوئیٹ کیا جا رہا ہے جو کہ ان کے بیانیے کے قریب ہیں۔

    لیکن میں آپ کو بتاوں کہ جنید صفدر کے حوالے سے یہ خبر صرف پی ٹی وی نے نہیں چلائی بلکہ پرائیوٹ نیوز چینل اے آر وائے نے بھی نشر کی تھی۔ جس پر مریم نواز نے کافی سخت رد عمل دیا اور اے آر وائے کو ٹیگ کرکے یہ ٹوئیٹ کی کہ اگر اے آر وائی نے فوری اس جعلی خبر پر معافی نہیں مانگی تو میں انہیں کورٹ لے کر جاؤں گی۔جس کے بعد اے آر وائے نے یہ خبر چلانا شروع کی کہ جنید صفدر والی خبر درست نہیں۔جس کے بعد مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ یہ کافی نہیں ہے۔ اے آر وائی کو بغیر کسی شک و شبہ کے معافی مانگنی ہوگی ۔۔۔ ورنہ وہ یہاں اور برطانیہ میں قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ اب کسی کو نہیں بخشا جائے گا بہت ہو گیا۔اے آر وائے نے تو پھر بھی تردید چلا دی لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز پی ٹی وی، فواد چوہدری اور شہباز گل کے خلاف بھی کوئی کاروائی کریں گی یا نہیں۔لیکنPandora papers VS fake news کی اس لڑائی سے حکومت کو ایک فائدہ یہ ضرور ہوا ہے کہ اس لڑائی کے چکر میں اتنی بڑی Investigation report کو Non serious issue بنا دیا گیا۔ یہ رپورٹ آنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن جن حکومتی عہدیداران کا اس میں نام آیا ہے وہ سب اپنے عہدوں سے استعفے دیتے عدالت کی طرف سے اس پر تحقیقات کروائی جائیں۔ جو بے قصور ثابت ہو اس کو دوبارہ عہدہ دے دیا جاتا اور جس کا قصور ثابت ہو جائے اس کو سزا دی جاتی کیونکہ عمران خان اسی احتساب کے نعرے کو لیکر حکومت میں آئے تھے۔ یہی ان کی جماعت کا سلوگن ہے کہ صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی۔۔۔خیر استعفے تو نہیں آئے لیکن اتنا ضرور ہو گیا ہے کہ اب ان کی طرف سےPrime minister inspection commissionکے تحت ایک اعلی سطحی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے کہ یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔ اور اس کی سربراہی خود وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔

    ہماری بھی یہی دعا ہے کہ قوم کے سامنے حقائق آئیں کیونکہ اس کام کی اس وقت ضرورت بھی ہے یہ رپورٹ اب صرف آف شور کمپنیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں جائیدادیں خریدنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ صرف نواز شریف یا مریم نواز نہیں ہیں جن کے فیلٹس کی منی ٹریل ابھی تک سامنے نہیں آ سکی بلکہ اور بہت سے پاکستانی ہیں جو یہاں سے پیسہ برطانیہ لے کر جاتے رہے ہیں اور وہاں جاکر جائیدادیں خریدتے رہے ہیں۔اور ان لوگوں میں صرف سیاستدان نہیں ہیں بلکہ بہت سے اور لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر اب تحقیقات ہونی چاہیں۔ ان میں سے جو لوگ ریٹائرڈ ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن جو اس وقت حکومتی عہدوں پر ہیں ان سے استعفے لینا بھی ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔اور اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قوم ان کو مان لے گی کہ پاکستان میں احتساب صرف سیاسی مقصد کے لئے نہیں ہوتے اور عوام کا اپنے انصاف کے نظام پر بھی اعتماد بحال ہو گا پھر کسی کو ہمت بھی نہیں ہوگی کہ وہ اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام کے پیسے پر ڈاکہ ڈالے۔اور اس کے ساتھ ساتھ فیک نیوز کے معاملےپر بھی غور کرلیں کہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ پھرجو کوئی بھی غلط خبر کو بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے آگے پھیلاتا ہے تو سب کے لئے ایک ہی سزا ہونی چاہیے۔ کیونکہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ جب انہیں کی ٹوئیٹس اور بیانات کو میڈیا اٹھا کر خبر بناتا ہے تو قصوروار صرف میڈیا تو نہیں ہو سکتا۔ صحافی ہوں یا سیاستدان سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
    @afeefarao

  • فیس بک میں خرابی: ’’ٹیلی گرام‘‘ پر ایک روز میں 7 کروڑ صارفین کا اضافہ

    فیس بک میں خرابی: ’’ٹیلی گرام‘‘ پر ایک روز میں 7 کروڑ صارفین کا اضافہ

    معروف میسیجنگ ایپ ’’ٹیلی گرام‘‘ پر ایک روز میں 7 کروڑ صارفین کا اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : فیس بک کی چند گھنٹے کی خرابی کے باعث ایک روز میں پراتنے سارے صارفین کا ایک ساتھ ٹیلی گرام پر رخ کرنے پر بانی پاول دروف نے فخر محسوس کیا ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دیگر پلیٹ فارمز سے آنے والے 7 کروڑ صارفین کو خوش آمدید کیا ہے۔

    سروسز متاثر ہونے کے بعد فیس بُک کواسٹاک مارکیٹ میں 50 ارب ڈالر کا نقصان

    انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم ہمشہ سے مشکل صورتحال کو بہترین طریقے سے سنبھالنے میں مہارت رکھتی ہے ٹیلی گرام حال ہی میں 1 ارب ڈاؤن لوڈز میں سرفہرست رہی ہے جبکہ اس ایپ کے سال کے شروع تک 500 ملین ماہانہ فعال صارفین تھے۔

    فیس بک انسٹاگرام اور واٹس ایپ 7 گھنٹوں بعد ، مارک زکر برگ کا کتنا نقصان ہوا؟

    سگنل ایپ جو ٹیلی گرام اور واٹس ایپ دونوں کے ساتھ مقابلہ میں ہے، نے بھی نئے صارفین کو ویلکم کہا ہے، ان کے آفیشل ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ “لاکھوں نئے صارفین” ایپ میں شامل ہوئے ہیں۔


    اس سے قبل مذکورہ دونوں ایپس نے اس سال کے شروع میں لاکھوں صارفین کو ویلکم کیا تھا جب واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

    فیس بک ہیک ہو گئی، ڈیڑھ ارب صارفین کا ڈیٹا ہیکرز فورمز پر فروخت کے لئے پیش روسی…

    فیس بک نے گزشتہ روز اپنی سروس میں خرابی کی وجہ سے بیک بون راؤٹرز پر کنفیگریشن تبدیلوں کو قرار دیا تھا فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز 4 اور 5 اکتوبر کی درمیانی شب دنیا بھر میں بند ہوگئی تھی جو 7 گھنٹے بعد بحال ہوئی اس سے قبل 2018 میں فیس بک کو 14 گھنٹے کے لیے بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ 2008 میں یہ بلیک آؤٹ پورے دن کا تھا۔

    واٹس ایپ،فیسبک، انسٹاگرام ڈاؤن: ٹوئٹر خوش، معروف کمپنیوں کے دلچسپ ٹوئٹس

    فیس بُک کمائی کیلئے پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے سابق…

  • یو اے ای کا اپنا اگلا خلائی مشن "وینس” پر روانہ کرنے کا اعلان

    یو اے ای کا اپنا اگلا خلائی مشن "وینس” پر روانہ کرنے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات وینس( زہرہ) پر اپنا خلائی مشن بھیجے گا-

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا کے مطابق ‘مشن ہوپ’ کی کامیابی کے بعد متحدہ عرب امارات نے اپنے اگلے مشن کو بھیجنے کا اعلان کیا یے جو مریخ اور مشتری کے درمیان سیارچوں کی بیلٹ کی تحقیق کرنے سے پہلے امارات وینس کا مشن مکمل کرے گا۔

    سیارچوں کا خصوصی مشن 2028 میں لانچ کیا جائے گا، جو 2030 تک مریخ اور مشتری کے درمیان پہنچے گا، اور سیارچے پر لینڈ کرے گا، اگر یہ مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو متحدہ عرب امارات یہ کارنامہ انجام دینے والا چوتھا ملک بن جائے گا-

    مشن کا بنیادی ہدف مریخ اور مشتری کے درمیان سیارچوں کی پٹی کی کھوج کرنا ہو گا ، جو زمین پر کئی طریقوں سے اثر اندازہوتے ہیں یہ 5 اعشایہ 2 بلین میل اور 5 سال پر مشتمل وقت پر مبنی طویل مشن ہو گا تاہم اس پر کتنی لاگت آئے گی اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔

    متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے منگل کے روز اس منصوبے کے بارے میں کہا کہ ان کی نظریں ستاروں پر ہیں کیونکہ ہماری ترقی اور ترقی کے سفر کی کوئی حد نہیں خلا میں ہر نئی ترقی کے ساتھ ، ہم یہاں زمین پر نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرتے ہیں-

    اگرچہ یہ پہلا ملک نہیں ہوگا جو زہرہ اور سیارچوں پر اپنے مشن بھیجے گا ، متحدہ عرب امارات اپنے بڑے کاموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ پہلے ہی دنیا کی سب سے اونچی عمارت ، سب سے گہرے سوئمنگ پول ، سب سے بڑا شاپنگ مال ، اور زندگی سے بڑے اہداف کی بظاہر نہ ختم ہونے والی فہرست ہے جو بین الاقوامی سطح پر اپنی شبیہ کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ 10 ملین کے ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کا خلائی مشن ہوپ 6 ماہ کے طویل خلائی سفر کے بعد کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل ہوا تھا۔ خلائی مشن ہوپ نے اس وقت تصویرلی جب وہ مریخ کے مدار میں داخل ہو رہا تھا فروری میں مریخ کے مدار میں بھیجے جانے والے خلائی مشن ہوپ نے پہلی تصویر بھیجی تھی۔

    خبر رساں ایجنسی نے متحدہ عرب امارات کی قومی اسپیس ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ تصویر مریخ کی سطح سے 24 ہزار 700 کلومیٹر بلندی سے لی گئی ‘ہوپ’ مشن سیارے کے ماحول اور اس کی تہوں کی مکمل تصویر فراہم کرنے والی پہلی تحقیق تھی۔

    زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

  • پاکستان کی سکیورٹی صورتحال .تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    پاکستان کی سکیورٹی صورتحال .تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد جنوبی ایشیاء کی سکیورٹی صورتحال یکسر مختلف ہوگئی ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد چین نے اپنے پنجے افغانستان میں جمانا شروع کر دیے ہیں اور اس کا ثبوت چائنا کی حکومت کے طالبان کی قیادت کے ساتھ بیچنگ میں کیے گئے مذاکرات ہیں۔ اسی مذاکرات کی خبروں کے نتیجے میں امریکہ نے چین کے خلاف ایک بلاک بنانے کا فیصلہ کیا جس کا اہم رکن بھارت ہوگا۔ بھارت چونکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف ہے اور پنجشیر میں احمد مسعود کی خفیہ طور پر مدد بھی کرتا رہا ہے اور لداخ کے بارڈر پر چین اور بھارت کی فوجیں کافی بار ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتی رہی ہیں تو ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد امریکہ نے بھارت کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

    افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے سرحدی علاقوں اور خصوصاً بلوچستان میں امن وامان کو تباہ کرنے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ گوادر میں ایف سی اہلکاروں پر جان لیوا حملے ہوں یا پھر کوئٹہ کا سریاب روڈ ہو، ہر طرف دشمن عناصر پاکستان کو ناتلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں گوادر میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بنائے گئے مجسمے کو ایک خودکش دھماکے کی صورت میں تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد پاکستانی قوم کے دل میں کافی غم و غصہ دیکھنے کو ملا۔ اس حملے سے دشمن نے پاکستانی قوم کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ہم کبھی بھی اور کسی وقت بھی بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی حملے کے فوراً بعد اگلے دن دہشتگردوں کی طرف سے ایک دفعہ پھر ایف سی سکیورٹی اہلکاروں کے اوپر حملہ کیا گیا اور اس خودکش حملے کے نتیجے میں متعدد ایف سی جوان اس مٹی کی حفاظت کی خاطر اپنی جان قربان کر گئے۔ ایف سی سکیورٹی فورسز بلوچستان میں چائنیز حکام کی سکیورٹی پر مامور ہونے کے علاوہ صوبہ بلوچستان کی سرحدوں کی حفاظت پر بھی مامور ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کو تقویت دینے کے لیے بھارت اور ایران اپنے ناپاک عزائم کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کے در پر ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان تمام دہشتگردانہ واقعات کے پیچھے اگر ہم ایران کے سازشی نظریات کو پرکھیں تو بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ ایران ہی وہ ملک ہے جو انڈیا کو پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے اپنی سر زمین مہیا کرتا ہے۔ کلبھوشن یادیو کا کیس ہو یا دہشتگردوں کی نقل و حمل کا مسئلہ ہو، ایران نے ہمیشہ بھارت کو ایک پل کا سہارا دیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں جو سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں ان میں سے متعدد حملہ آور ایران کے رستے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ چند مہینے پہلے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ میں متعدد سکولوں کو سیل کیا اور وہاں پر پڑھایا جانے والا لٹریچر اپنے قبضے میں لیا، وہ سکول پاکستان مخالف کاروائیوں کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے تھے اور ان کو تمام فنڈنگ ایران سے مل رہی تھی۔

    پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران کی سرحد کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے تاکہ دشمن کا وار ہر طرف سے ناکام ہو اور بلوچستان میں ترقی ہوتی ہوئی نظر آئے اور سی پیک کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکے۔ پاکستان زندہ باد!

    @anihachaudhry

  • سیارہ جہاں لوہے کی بارش ہوتی ہے

    سیارہ جہاں لوہے کی بارش ہوتی ہے

    امریکی سائنسدانوں نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جو اس قدر گرم ہے کہ اس پر پگھلے ہوئے لوہے کی بارش ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہماری زمین سے 640 نوری سال کے فاصلے پر موجود اس سیارے کا نام واسپ 76 رکھا گیا ہے ماہرین کا خیال ہے کہ سیارے کا درجہ حرارت 2500 سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ہے۔

    نیویارک کی کورونل یونیورسٹی کے ماہرین نے ہوائی میں نصب جیمنائی نارتھ ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اس سیارے کی سطح کا جائزہ لیا ہے ماہرین نے سیارے کی سطح پر آئونائزڈ کیلشیم کی موجودگی کی تصدیق کی ہے سیارے کا ایک حصہ 2500 سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ گرم ہے اس درجہ حرارت پر لوہا ، بخارات کی شکل میں تبدیل ہو کر فضا میں پہنچ جاتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سیارے کا دوسرا حصہ قدرے ٹھنڈا ہے جہاں پہنچ کر یہ پگھلا ہوا لوہا ٹھنڈا ہو کر بارش کی شکل میں اس کی سطح پر واپس آتا ہے یہ سیارہ ایک ایسے ستارے کے گرد گھومتا ہے جو حجم میں ہمارے نظام شمسی کے سورج سے آدھا ہےاس کی سطح کا درجہ حرارت 5500 سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے سیارے پر ہر وقت طوفانی ہواؤں کے جھکڑ چلتے رہتے ہیں-

    یہ رپورٹ اسپیس ڈاٹ کام جرنل میں شائع ہوئی-

  • جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکی حکومت کے خزانے کی سیکرٹری Janet Yellen نے کہا ہے کہ امریکی معیشت ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے۔ معیشت کے بارے میں اس طرح کے فقرے کسی پاکستانی کے لیے سننا ایک عام سی بات ہے، لیکن بحثیت امریکی اگر حکومت کا ایک بڑا عہدے دار یہ کہے کہ اس کی حکومت کے پاس دس دن کے بعد یعنی سولہ یا چودہ اکتوبر کو اپنے فوجیوں کو دینے کے لیے Pay checques. اپنے پچاس لاکھ ریٹائرڈ شہریوں کو دینے کے لیے Social security fund اور اپنے تیس لاکھ فیملیوں کو Monthly child tax credit دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو یہ کتنا بڑا دھماکہ ہے۔یہ دھماکہ صرف امریکیوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے جو اپنی تجارت ڈالر میں کر رہے ہیں اور Foreign reserve کی صورت میں کھربوں ڈالر اپنے بینکوں میں رکھے بیٹھے ہیں۔

    دنیا میں یہ تجارت کا اصول ہے کہ اگر ایک سال کے تجارتی اور قرضے کے بل کے لیے پیسے آپ کے اکاونٹ میں موجود نہیں ہیں تو آپ کی کریڈٹ ریٹنگ گر جاتی ہے اور آپ کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ایک تلوار کی طرح سر پر لٹکنے لگتا ہے۔ اس لیے ہر ملک اپنی تجارت اور قرضوں سمیت اپنے خزانے ڈالر سے بھر کر رکھتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ڈالر چھاپنے والا ملک یہ کہے کہ اس کے پاس ایک ہفتے بعد اپنے سرکاری ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہ نہیں ہے تو سوچیں یہ کتنا بڑا طوفان پیدا کر دے گا۔ کیونکہ امریکی فیڈرل گورنمنٹ کے ملازم ہونے سے زیادہ اور کون سی نوکری محفوظ ہو سکتی ہے، یہاں تو پاکستان کے سرکاری ملازم کا کوئی مان نہیں ہے۔ جو ایک دفعہ حکومت میں بھرتی ہونے کے بعد اس قوم کے داماد بن جاتے ہیں۔ نخرے سے کام کرتے ہیں اور پھر تمام تر سہولتوں کے بعد ساری زندگی قوم کے پیسے سے پینشن ملتی ہے۔ جوانی بھی محفوظ اور بڑھاپا بھی۔ بحرحال واپس آتے ہیں امریکی معیشت کی طرف۔کہ آخر یہ مسئلہ ہے کیا اور کیا امریکہ اس سے نکل جائے گا۔ اس وقت امریکہ اور پاکستان کی معیشت میں ایک بیماری مشترک ہے، اور وہ قرض کے پیسے سے حکموت چلانے کا فن۔ امریکہ نے دنیا پر اپنی بالادشتی قائم رکھنے کے لیے اپنے اخراجات کو بہت زیادہ بڑھا لیا ہے۔ جہاں امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے وہیں دنیا میں سب سے زیادہ قرضہ بھی امریکہ نے ہی لیا ہوا ہے جو
    28.3 trillion dollerبنتا ہے۔ چاہے کوئی عام سا شخص ہو یا بڑا ملک، معیشت کا ایک سادہ سا اصول ہے کہ اگر آپ کے اخراجات آپ کی آمدنی سے زیادہ ہیں تو اسے پورا کرنے کے لیے آپ کو قرضہ لینا پڑے گا، اور اس قرض پر سود آپ کے اخراجات میں مزید اضافہ کر دے گا۔ اور اسطرح قرض کی واپسی کے لیے مزید قرض
    Debt Trap میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اس وقت امریکہ اپنی GDP کا اٹھانوے فیصد لے چکا ہے اور اگر سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو اگلی دو دہائیوں میں اس کا قرضہ اس کی
    GDP کے 195% ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں کنگال پارٹی کو قرض دینے والوں میں بھی کمی آ جاتی ہے اورتباہی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ بحثیت انسان تو ہم نے دیکھا ہے کہ بہت دے لوگ خودکشی کر لیتے ہیں لیکن ممالک Desprate ہو کر ایسے کام کر بیٹھتے ہیں کہ تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

    اس وقت امریکہ کے آمدنی اور کمائی میں تین ٹریلین ڈالر کا فرق ہے حکومت چلانے کے لیے اسے ہر سال تین ہزار ارب ڈالر قرض لینا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنے ملازمیں کو وقت پر تنخوا دے دے سکیں اور حکومتی مشینری چلتی ہے۔گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر کی معیشتیں تاریخ کے بد ترین بحران سے گزری تھیں جس کے دوران ترقی یافتہ معیشتوں نے ہزاروں ارب ڈالر کے نوٹ چھاپ کر عوام کو گھر بیٹھے تقسیم کیے تھے تاکہ ممکنہ عوامی بغاوت کو ابھرنے سے روکا جا سکے۔ لیکن اب معیشتوں کی بحالی کے آغاز کا واویلا کیا جا رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ اب سرمایہ دارانہ نظام ریکوری کی جانب گامزن ہے۔ لیکن گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے واقعات نے اس ریکوری کے کھوکھلے پن کو عیاں کر دیا ہے اور یہ عندیہ دے دیا ہے کہ آنے والے عرصے میں ماضی کی نسبت کہیں گہرا اور وسیع عالمی مالیاتی بحران ممکن ہے جو پوری دنیا کی معیشتوں کو ڈبونے کا باعث بن سکتا ہے۔ دنیا بھر کے حکمران طبقات اس صورتحال میں شدید خوفزدہ ہیں اور اپنے نظام کو بچانے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں لیکن ایک بوسیدہ اور انہدام کے قریب پہنچی عمارت کی طرح اس نظام پر جتنا مرضی رنگ و روغن کر لیا جائے اس کی بنیادوں میں موجود خرابی کودرست نہیں کیا جا سکتا۔اس وقت امریکہ میں لڑائی یہ ہے کہ ہر ملک میں ایک Debt limit ہوتی ہے جس میں حکومت کو ایک حد تک قرض لینے کی لمٹ دی جاتی ہے اور حکومت کو بے مہار نہیں چھوڑا جاتا کہ وہ جتنے مرضی قرضے لے کر شہہ خرچیاں کرے۔ اس طرح امریکہ میں بھی ایک Debt limitہے اور امریکہ اپنی لمٹ سے کہیں زیادہ قرض پہلے ہی لے چکا ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ کی کانگریس قانون سازی کے زریعے یہ فیصلہ کرے گی کہ حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لیے مزیدDebt limitبڑھانی چاہیے یا نہیں، اس وقت کانگریس میں Republican اور Democrat کی تعداد برابر ہے۔ اور اس کے لیے مخالف پارٹی Republican کی سپورٹ کی ضرورت ہے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ جس طرح بائیڈن نے2 trillionڈالر کے
    Infrastructure planاناونس کیئے ہوئے ہیں اس کے لیے وہ کسی صورت Debt limitبڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بحرحال اس صورتحال کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا امریکہ میں یہ صورتحال 2011میں بھی پیش آگئی تھی ۔ لیکن اس وقت اس بحران کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے، امریکہ کی ایک بیمار گھوڑے جیسی صورتحال پوری دنیا کی ذہن سازی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے لوگ اب سونے سمیت دیگر کرنسیوں میں تجارت سمیت بہت سے آپشنز کو بڑا سیریس لینا شروع ہو گئے ہیں۔ جو امریکہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ کیسے اس کے لیے آپ کو یہ چھوٹی سے کہانی سننی پڑے گی۔

    اب ذرا یہ سوچیے کہ امریکی وزارت خزانہ محض ایک سال کی مدت میں کہاں سے تین ہزار پانچ سو ارب ڈالر کا خسارہ پورا کرنے کا اہتمام کرسکتی ہے؟ آخر ایسا کیا ہوگیا تھا کہ امریکہ مختصر میعاد کے قرضوں کی دلدل میں پھنس گیا؟ امریکی حکومت نے بھی وہی کیا جو بہت سے پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں کیا کرتی ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ نے قرض اتارنے کے لیے قرض لینے کی روایت پر عمل کیا۔ اندرونی قرضوں پر سود کا بوجھ کم کرنے کے لیے قرضے لیے جاتے رہے۔ بہت سے پرائیویٹ ادارے اسی روش کو اپناکر تباہی کی منزل تک پہنچے۔ امریکا سمیت دنیا بھر میں بہت سے بڑے ادارے اور حکومتیں قرضوں کو ادا کرنے کے بجائے ادائیگی ٹالنے کے جتن کرتی رہتی ہیں۔ جب تک خرابی مکمل طور پر واقع نہیں ہو جاتی! یہ طریق کار انسان، اداروں اور حکومتوں کو قرضوں پر قرضے لیتے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ قرض دینے والے جلد یا بدیر بیدار ہوکر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ قرض کی واپسی کا امکان کس حد تک ہے؟ اور جب ایسا ہوتا ہے تب خرابی تیزی سےپھیلنے لگتی ہے اور سود کی شرح بھی ہوش ربا رفتار سے بلند ہوتی جاتی ہے۔ پھر محفل اجڑنے لگتی ہے اور دیوالیہ قرار دیے جانے کی منزل آجاتی ہے۔ جب حکومتیں دیوالیہ ہوتی ہیں تو اسے ڈیفالٹ کہا جاتا ہے۔ کرنسی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے اور اس مارکیٹ میں سٹے بازی کرنے والے اندازے لگاتے رہتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت کب ڈیفالٹ کر جائے گی۔اگر کوئی ملک اپنے قلیل المیعاد قرضوں کو ایک سال میں ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اسے غیر معمولی سیکورٹی رسک سے تعبیر کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں بازار زر کے سٹے باز آپ کے بونڈ، سیکورٹی اور کرنسی کو نشانہ بنانے لگتے ہیں اور ڈیفالٹ کی راہ واقعی ہموار ہو جاتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گرین اسپین اور گوئیڈوٹی کے طے کردہ معیار کے مطابق امریکا کہاں کھڑا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ کسی بھی شخص یا ملک کو قرض دینے سے پہلے اس کے اثاثے یا جائیداد دیکھی جاتی ہے، اگر اس کے قرض اس کی جائیداد یا اثاثوں سے بڑھ جائیں تو وہ مقام اس کی تباہی کا مقام ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کی کرنسی کا طاقت کا اندازہ اس کے پاس سونے کے ذخائر سے ہوتا ہے، امریکہ کے پاس دنیا کا سب سے زیادہ سونا ہے۔ جو8133 tonبنتا ہے جس کی مالیت تقریبا پانچ سو بلین ڈالر بنتی ہے۔ جس کے مقابلے میں کہیں زیادہ وہ قرضہ لے چکا ہے۔ بھارت کے پاس 704 ton جبکہ پاکستان کے پاس یہ64 Tonہے۔ امریکا کے قلیل المیعاد بیرونی قرضے اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ امریکا پر قرضوں کا بوجھ اس قدر ہے کہ اب معیشت کی حقیقی بحالی کے بارے میں سوچنے والے احمق دکھائی دیں گے۔ قومی خزانے پر بوجھ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب اترتا دکھائی نہیں دیتا۔اب اگر امریکہ مزید ڈالر چھاپتا ہے جو کہ وہ پہلے ہی بہت چھاپ چکا ہے، سات بلین ڈالر سے زاہد کے چین، جاپان اور دیگر ممال نے امریکہ کے Treasury bill خریدے ہوئے ہیں۔اگر وہ اس صورتحال سے ڈالر کو چھوڑ کر سونا خریدنے پر لگ گئے تو صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔

    @shoaibsb1

  • ای سی بی کے بیان میں کوئی وزن نہیں ،دورہ پاکستان کی منسوخی پر مائیکل ہولڈنگ برہم

    ای سی بی کے بیان میں کوئی وزن نہیں ،دورہ پاکستان کی منسوخی پر مائیکل ہولڈنگ برہم

    لندن: جمیکا ویسٹ انڈیزسے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مائیکل ہولڈنگ نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کو گھمنڈی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر پاکستان کی جگہ بھارت ہوتا تو انگلینڈ کبھی بھی ایسا نہ کرتا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے "بی بی سی ” کے مطابق مائیکل ہولڈنگ نے کرکٹ رائٹرز کلب پیٹر اسمتھ ایوارڈ کی وصولی کے بعد کہا کہ کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ نے جیسا پاکستان کے ساتھ ایسا بھارت کے ساتھ اس لیے نہیں کرتا کہ وہ مضبوط اور امیر بورڈ ہے۔

    ویسٹ انڈیز کے اسٹار باؤلر نے کہا کہ انگلینڈ کو صرف چار دن پاکستان میں گزارنا تھے لیکن کھلاڑیوں کی ذہنی صحت کا بہانہ بنا کر دورے کو منسوخ کیا گیا۔

    اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے چئیرمین انگلش کرکٹ بورڈ

    تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی تیز رفتار باؤلنگ سے بلے بازوں کے لیے دہشت کی علامت سمجھے جانے والے مائیکل ہولڈنگ نے کہا کہ پاکستان نے مشکل وقت میں انگلینڈ کا دورہ کیا تھا اور ای سی بی کو بچانے کے لیے کرکٹ کھیلی تھی وقت تھا کہ ای سی بی پاکستان کے اس احسان کا قرض اتارتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

    مائیکل ہولڈنگ نے کہا کہ انگلش کرکٹ بورڈ نے ایک بیان دیا اوراس بیان کے پیچھے چھپ گیا کوئی بھی اس لیے سامنے آکر بات نہیں کررہا ہے کہ انہیں خوب معلوم ہے کہ غلط کیا ہے۔

    بھارتی چالوں سے دور رہتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرنے چاہیئے، آفریدی کا دیگر ممالک کو…

    انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ای سی بی کا بیان میری سمجھ سے بھی باہر ہے اور اس میں کوئی وزن بھی نہیں ہے، سب بیکار کی باتیں ہیں۔

    مائیکل ہولڈنگ کا کہنا تھا کہ ای سی بی کا رویہ اس مغربی گھمنڈ کی نشانی ہے کہ میں وہ کروں گا جو میری مرضی ہو گی اور دوسرے کیا سوچتے ہیں اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اس کی پرواہ ہے۔

    پاکستانی کرکٹرز کے اسٹائلز دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے آسٹریلوی کمنٹیٹر

  • فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی

    فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی

    تنگ جینز، چھوٹی قمیض، بکھرے بال، ایک ہاتھ میں سگریٹ دوسرے میں سمارٹ فون ، منہ میں گٹکا یا پان، اور ہونٹوں پر گندی گالی، یہ ہے آج کا عام پاکستانی نوجوان۔ جس کے پاس تعلیم بھی ہے اور شاید کسی حد تک ہنر بھی مگر کردار و اخلاق کا بری طرح سے فقدان ہے۔
    وہ نوجوان جو بیش قیمت اثاثہ ہوتے، جن پر ملک کے مستقبل کی اساس ہوتی، وہ بری طرح سے بگڑتے جارہے ہیں۔ فیشن پرستی کا وبال ہماری اقدار کو گھن کی طرح کھا رہا لیکن والدین، اساتذہ اور ارباب اختیار خاموشی سے تماشائی بنے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند مگر عمدہ اخلاق و کردار کے حامل نوجوان ہی کسی بھی ملک کا سرمایہ افتخار سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پرملک کی ترقی و تنزلی منحصر ہوتی مگر بدقسمتی سے پاکستانی نوجوان نسل بری طرح سے بے راہ روی کا شکار ہورہی۔ مشرقی اقدار جن پرکبھی ہم نازاں تھے یورپ کی اندھی تقلید میں کھو چکی ہیں۔ اور رہی بات اسلام کی تو وہ بس سوشل میڈیا کی پوسٹس یا اسلامیات کے پیپر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے عملی زندگی میں کہیں نام و نشان نہیں رہا۔ المیہ یہ ہے کہ نہ خوف خدا رہا ہے نہ شریعت کا کوئی لحاظ۔ بس ایک بھیڑ چال کی کیفیت ہے جس میں ہر کوئی بگٹٹ بھاگے چلا جا رہا۔
    وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نور
    لے اُڑی اس نکہتِ گل کا یہ تہذیب فرنگ

    آجکل کے زیادہ تر نوجوان لڑکے یا تو سارا دن پب جی کھیل رہے یا ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا رہے۔ چرس، ہیروئن اور پورن فلموں کے نشے میں ڈوبے اور اگر امتحان پاس کرنا ہو تو آئس کا نشہ کر کے وقتی طور پر دماغ روشن کر لیتے چاہے بعد میں پوری زندگی تاریکی میں ڈوب جائے۔
    اور رہی لڑکیاں تو ان کا حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ ہر بدلتا فیشن اپنانا ان کا فرض عظیم ہے چاہے وہ اسلامی و اخلاقی اقدار کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ فیشن کی دوڑ اور نمایاں و برتر نظر آنے کے چکر میں نت نئے برانڈز کی چاندی ہے۔ بات زیب و زینت سے بڑھ کر نمود و نمائش سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ رہی سہی کسر ماڈلز و اداکاراؤں کے طرز زندگی کی نقالی نے پوری کر دی ہے۔

    “اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیاہے جو تمہارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے، اور خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کرسکیں۔ “
    قرآن مجید کے اس واضح حکم کے باوجود ہم بغیر کسی پچھتاوے کے نفس کے اسیر بنے ہیں۔ فیشن پرستی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ فیشن اور فحاشی کا فرق مٹ گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو والدین اور بزرگوں کی صحبت اب آؤٹ ڈیٹڈ لگتی ہے۔ مخلوط محافل، فاسٹ فوڈ اور بیہودہ لباس کو جدت پسندی اور فیشن کے نام پر اپنایا جارہا۔فیشن پرستی اور مغرب کی اندھی تقلید ہمارے معاشرے کی جڑوں کو روزبروز کھوکھلا کر رہی اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ عریانی کو فروغ دیتے فیشن کی نہ تو مذہب اجازت دیتا نہ ہماری مشرقی اقدار۔
    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

    فیشن کچھ حدود و قیود میں کرنا قطعاً معیوب نہیں ہے۔ مگر فیشن پرستی کی آڑ میں اسلامی تعلیمات و تہذیب کو پس پشت ڈال کر اندھا دھند تقلید ہمارے نوجوانوں میں بری طرح بگاڑ کا سبب بن رہی اور ہمارے معاشرے کا اب یہ حال ہوچکا ہے کہ
    “کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا”

    @once_says

  • زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    ناسا نےنومبر میں ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق زمین کو خلا میں موجود کئی سیارچوں سے خطرات لاحق ہیں ناسا نے زمین کا دفاع کرنے کی حکمت عملی کے تحت مشن شروع کیا ہے ٹیم کے مطابق یہ مشن زمین کی طرف آتے سیارچوں سے بچنے کے لیے مستقبل کے مشنوں میں قیمتی ان پٹ فراہم کرے گا۔

    یکم اکتوبر کو ناسا نے اعلان کیا تھا کہ کیوب سیٹ جو ڈارٹ کے ساتھ روانہ کیا جائے گا تنصیب کے لیے تیار ہے کیوب سیٹ کا وزن 31 پاؤنڈ ہے جو کسی بازو کی لمبائی سے بھی چھوٹا ہے۔

    ڈارٹ ناسا کی سیارچوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی کا پہلا حصہ ہے ، جسے یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زمین کو خطرناک سیارچوں کے ممکنہ اثرات سے بچایا جا سکے۔

    اس مشن کے تحت پہلی دفعہ ناسا ڈارٹ خلائی جہاز 24 نومبر کو اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ سے ڈیڈیموس بائنری کی طرف بھیجے گاجو 2 اکتوبر 2022 کو 2 میں سے 1 سیارچے ‘ڈیڈیمون’ سے 13،500 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرا جائے گا۔

    اس کے ذریعے ناسا سیارچے کی رفتار کو ایک فیصد ہی کم کر سکے گا تاہم سائنسدانوں کو سیارچے کی معلومات حاصل کرتے ہوئے اس کے تبدیل شدہ مدار کی پیمائش کرنے کا موقع ملے گا۔

    ڈیڈیمون سیارچہ 2003 میں زمین کے 3.7 ملین میل کے فاصلے پر آیا تھا ناسا کے مطابق ماہرین کو زمین کے قریب 25 ہزار سے زائد اشیا دریافت ہوچکی ہیں، جبکہ مزید کی دریافت میں وقت درکار ہے۔

    160 میٹر چوڑائی پر ڈیڈیمون ایک بہت بڑی خلائی چٹان کے گرد چکر لگا رہا ہے جسے ڈیڈیموس کہا جاتا ہے جو تقریبا 780 میٹر بڑا ہے۔

    ناسا کے مطابق دو سیارچوں میں سے ڈیڈیمون کا زمین سے ٹکرانے کا زیادہ امکان ہے، اس وجہ سے کہ اس کے سائز سے زیادہ خلائی چٹانیں موجود ہیں جس کا ناسا اور سنٹر فار نیر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز نے ابھی تک مشاہدہ نہیں کیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن کے لیے ڈارٹ ٹیکنالوجی پہلی بار استعمال کی جائے گی، جس میں تیز رفتار خلائی جہاز کو خلا میں سیارچے سے مقابلے کے لیے بھیجا جائے گا۔

  • سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، محمد نعیم شہزاد

    سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، محمد نعیم شہزاد

    سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم

    محمد نعیم شہزاد

    جو پایہ علم سے پایا بشر نے
    فرشتوں نے بھی وہ پایہ نہ پایا

    آدمیت کی معراج علم سے ہے۔ علم وہ جوہر کامل ہے جو آدم خاکی کو ثریا کی بلندیوں تک لے جاتا ہے اور اسے مسجود ملائک کے منصب تک پہنچا دیتا ہے۔ مگر آدمی کو علم سیکھنے کے لیے شروع سے ہی کسی استاد کی حاجت رہی ہے۔ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے خود تعلیم دی اور انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ گویا ذات باری تعالیٰ اس کائنات کی سب سے پہلی استاد ٹھہری۔ اولین وحی الٰہی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَم یَعْلَم
    انسان کو وہ سکھایا جو اسے معلوم نہ تھا۔
    آدمیت کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا اور اس کی راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کا نزول ہوتا رہا۔
    اس الہامی مذہب اور اس کے پیغام کی اتباع کے بغیر انسانی معاشرہ تباہی کا شکار ہوا اور اس کی پیروی سے ہی ترقی کے زینے چڑھتا رہا۔

    حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی تھے انسانوں کا دائرہ کار محدود تھا اور ایک گھر اور ایک خاندان کی شکل میں الہامی علوم کی اشاعت و تبلیغ کا آغاز ہوا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا اپنے حجم میں کثیر اضافہ کر چکی تھی اور ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بار عظیم کو احسن طریقے سے سنبھالا اور چہار دانگ عالم اللہ تعالیٰ کی تکبیرات بلند کر دی۔

    تاریخ پر سرسری سی نگاہ بھی دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے معاشرے سے انسانیت معدوم ہو چکی تھی۔ لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے، جوئے اور شراب کے رسیا تھے اور حلال و حرام کی تمیز بھلا بیٹھے تھے۔ معاشرہ تہذیب و تمدن سے عاری تھا۔ الغرض معاشرہ ہر طرح کی خرابی کا مرقع تھا اور برائی پر تفاخر کیا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی عرق ریزی اور جانفشانی سے معاشرے کی تطہیر کا اہم فریضہ سر انجام دیا اور 23 برس کے مختصر عرصے میں ایک نئی دنیا بسا دی۔

    مخلوق کو مخلوق کے دام فریب سے نکالا، غلاموں کو آزادی اور محکموں کے حقوق متعین کیے۔ بیٹی کو اللہ کی نعمت قرار دیا اور عملی طور پر ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر رووپ میں عورت کی قدر منزلت واضح فرما دی۔ وحشیوں کو تہذیب و تمدن کا شاہکار بنایا اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسوں کو باہم شیر و شکر کر دیا۔

    آدمیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف و کرم اور احسان کی کا یہ عالم ہے کہ خود رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث کو مومنوں پر ایک احسان عظیم قرار دیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم انسان کی اخروی نجات کے لیے اس قدر فکر مند ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ کہف میں فرمایا

    فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّـفۡسَكَ عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ اِنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَسَفًا ۞

    ترجمہ:
    اگر یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہ لائے تو لگتا ہے کہ آپ فرط غم سے ان کے پیچھے جان دے دیں گے
    القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 6

    آج عالمی یوم اساتذہ #WorldTeachersDay کے موقع پر ہم معلم انسانیت کے مشکور ہیں جن کے دم سے ہم شرف آدمیت کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اکرم، معلم انسانیت پر ان گنت درود و سلام بھیجے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جس معاشرے کی اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے بنیاد رکھی تھی اس کا احیاء کریں تاکہ نسل انسانی محرومی اور نا انصافی سے بچ سکے اور آدمیت کی رفعت کو چھو سکے۔ آئیے ہم کوشش کریں کہ معاشرے میں پھیلی افراتفری اور ناانصافی پر کڑھنے کی بجائے اپنے حصے کی بھلائی پھیلائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بھلائی کا گہوارہ بن جائے۔

    محمد نعیم شہزاد
    @UstaadGe